امریکی بحری ناکہ بندی سے ایران کی درآمدات شدید متاثر، پیٹرول کی قلت کے باعث کوٹہ میں کمی اور قیمتوں میں اضافے کا قوی امکان

محمود احمد, August 29,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 29 اگست 2026ء

ریاستہائے متحدہ امریکہ کی جانب سے عائد کردہ سخت اور بین الاقوامی بحری ناکہ بندی کے نتیجے میں ایران کی بین الاقوامی تجارت اور ضروری سامان کی درآمدات کا عمل شدید ترین مشکلات اور رکاوٹوں کا شکار ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے ایرانی دارالحکومت تہران سمیت ملک بھر میں ایندھن، بالخصوص پیٹرول کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ (مجلس) کی اہم اقتصادی کمیٹی کے سینئر رکن جعفر قادری نے ملک کو درپیش اس سنگین معاشی صورتحال، ایندھن کے بحران اور بحری ناکہ بندی کے اثرات پر بات کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ایران اس وقت سنگین اقتصادی دباؤ کی زد میں ہے اور حکومت کے لیے پرانے نرخوں اور طریقہ کار پر پیٹرول کی بلاتعطل فراہمی جاری رکھنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کی اقتصادی کمیٹی کے رکن جعفر قادری کے فراہم کردہ اہم اور سنسنی خیز اعداد و شمار کے مطابق، ایران سالانہ بنیادوں پر جو مجموعی طور پر تقریباً 210 ملین (21 کروڑ) ٹن مختلف سامان و خام مال درآمد کرتا ہے، اس کی کل درآمدات کا تقریباً 83 فیصد حصہ جنوبی بحیرۂ چین اور متعلقہ بین الاقوامی بحری شاہراہوں کے راستے ایرانی بندرگاہوں تک پہنچتا ہے۔ تاہم، امریکی بحری جہازوں اور بحری ناکہ بندی کی وجہ سے اس سب سے اہم اور بنیادی تجارتی راستے میں شدید ترین رکاوٹیں کھڑی ہو چکی ہیں، جس کے باعث نہ صرف تیل کے ٹینکرز کی آمد و رفت منقطع ہوئی ہے بلکہ ایندھن کے دیگر بحری جہاز بھی ایرانی ساحلوں تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔

جعفر قادری نے ملک کے اندرونی ایندھن کے اعداد و شمار پر روشنی ڈالتے ہوئے انکشاف کیا کہ ایران کو اس وقت یومیہ (روزانہ) کی بنیاد پر تقریباً 15 سے 20 ملین (ڈیڑھ سے دو کروڑ) لیٹر پیٹرول کے بدترین خسارے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے معاشی حقیقت اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ موجودہ بین الاقوامی بحران اور کرنسی کے دباؤ میں بیرونِ ملک سے محض ایک لیٹر پیٹرول درآمد کرنے پر ایرانی حکومت کو تقریباً 1 امریکی ڈالر کے برابر خطیر رقم خرچ کرنا پڑتی ہے، جو ملکی معیشت اور خزانوں پر ایک بھاری بوجھ بن چکی ہے۔

ایرانی رکنِ پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ امریکی ناکہ بندی، غیر ملکی زرِ مبادلہ کی کمی اور موجودہ نازک ترین حالات میں ماضی کی طرح شہریوں کو بلا پابندی اور بے تحاشا سبسڈی والے نرخوں پر پیٹرول فراہم کرتے رہنا معاشی منطق کے تمام اصولوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس بحران کو مزید سنگین بنانے والی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ سستے پیٹرول کا ایک بڑا اور اہم حصہ منظم سمگلنگ کے ذریعے سرحد پار دوسرے ممالک میں چلا جاتا ہے، جس سے ایرانی عوام کے حق پر ڈاکہ پڑ رہا ہے۔

جعفر قادری نے تہران حکومت اور ایرانی انتظامیہ کے متوقع سخت فیصلے کے بارے میں اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اب پیٹرول کی ملکی طلب اور محدود دستیابی کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے لیے ہنگامی اور سخت قسم کے کنٹرولنگ اقدامات نافذ کرنا ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان متوقع اور اضطراری اقدامات میں شہریوں کے لیے ایندھن کے ماہانہ کوٹے میں نمایاں کمی کرنا یا پیٹرول کی سرکاری قیمتوں میں ردوبدل اور اضافہ شامل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ اس بحرانی وقت میں حکومت کے لیے انتہائی ضروری ہو چکا ہے کہ وہ دستیاب محدود قومی وسائل کا مؤثر اور محتاط استعمال یقینی بنائے، ایندھن کی بارڈر سمگلنگ کو ہر قیمت پر روکے، اور صرف اندرونِ ملک اور ہنگامی ضروریات کو ترجیح دے

بین الاقوامی فیڈریشن کے سربراہ ڈیوڈ فشر کا متاثرہ علاقوں کا جائزہ، ریڈ کراس کا عالمی امدادی نیٹ ورک متحرک، ہنگامی صورتحال کے پیش نظر امدادی کارروائیاں تیز کرنے کا اعلان

محمود احمد, August 29,2026

کھٹمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 29 اگست 2026ء

جنوبی ایشیائی ملک نیپال میں بدھ کے روز آنے والے قیامت خیز سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد اب ایک اور ممکنہ سیلابی ریلے کے شدید اور سنگین خطرات نے جنم لے لیا ہے، جس پر بین الاقوامی امدادی اداروں اور ریسکیو تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز کی بین الاقوامی فیڈریشن کے سربراہ ڈیوڈ فشر نے نیپال کی موجودہ نازک صورتحال اور موسمیاتی خطرات پر بات کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ان کا ادارہ ملک میں کسی بھی وقت دوبارہ آنے والے دوسرے سیلاب کے خطرے کے حوالے سے انتہائی فکر مند ہے اور تمام ٹیموں کو اعلیٰ الرٹ پر رکھ دیا گیا ہے۔

جمعی کے روز دارالحکومت کھٹمنڈو میں بین الاقوامی پریس کے نمائندوں اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈیوڈ فشر نے متاثرہ علاقوں کے زمینی حقائق اور اعداد و شمار سے آگاہ کیا۔ ان کے فراہم کردہ مستند ڈیٹا کے مطابق، بدھ کے روز گلیشیئر اور شدید بارشوں کے بعد آنے والی ہولناک قدرتی تباہی سے اب تک نیپال کے مختلف اضلاع میں تقریباً 93 ہزار سے زائد افراد براہِ راست اور شدید طور پر متاثر ہو چکے ہیں۔ ان متاثرین میں سے ہزاروں خاندان بے گھر ہو چکے ہیں اور کھلے آسمان تلے بنیادی انسانی ضروریات، بشمول ادویات، خوراک اور پینے کے صاف پانی سے محروم زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

اس ایمرجنسی اور انسانی بحران سے فوری طور پر نمٹنے کے لیے ریڈ کریسنٹ اور ریڈ کراس نے ہنگامی بنیادوں پر بین الاقوامی عطیہ دہندگان، این جی اوز اور عالمی برادری سے تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ سوئس فرانک —جو کہ امریکی ڈالر میں تقریباً 3 کروڑ 10 لاکھ ڈالر بنتے ہیں—فراہم کرنے کی باقاعدہ اپیل جاری کر دی ہے۔ ریڈ کریسنٹ کا کہنا ہے کہ اس خطیر رقم کا بنیادی اور اولین مقصد متاثرین کے لیے فوری جان بچانے والی ہنگامی امدادی کارروائیاں، عارضی پناہ گاہوں کا قیام، پینے کے صاف پانی کی فراہمی، اور ممکنہ دوسرے سیلاب کے پیشِ نظر پیشگی دفاعی اقدامات کو ممکن بنانا ہے۔

ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ فیڈریشن کی جانب سے جاری کردہ ایک اہم رسمی اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ نیپال میں درپیش ہنگامی صورتحال کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے ادارے کے تمام عالمی امدادی نیٹ ورک کو فوری طور پر متحرک کر دیا گیا ہے۔ عالمی ٹیمیں سامانِ زیست اور طبی امداد کے ہمراہ نیپال کے دور دراز اور کٹے ہوئے علاقوں میں پہنچ رہی ہیں۔ اعلامیے میں زور دیا گیا ہے کہ اگر دوسرے ممکنہ سیلاب کا خطرہ حقیقت بنتا ہے تو اس کے اثرات پہلے سے شدید متاثرہ 93 ہزار سے زائد آبادی کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں، جس کے لیے دنیا کو بلا تاخیر مالی و لاجسٹک مدد فراہم کرنا ہوگی۔

اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کا منشیات سمگلنگ کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن: ایک کروڑ 20 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی 75.57 کلوگرام منشیات برآمد، 3 ملزمان گرفتار

منصور احمد, August 29,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 29 اگست 2026ء

اینٹی نارکوٹکس فورس نے ملک بھر میں منشیات کی سمگلنگ اور غیر قانونی سپلائی کے نیٹ ورکس کے خلاف اپنی جاری وسیع پیمانے کی مہم اور کریک ڈاؤن کو تیز کرتے ہوئے متعدد کامیاب اور اہم کارروائیوں کے نتیجے میں ایک کروڑ 20 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی 75.57 کلوگرام سے زائد منشیات برآمد کر کے 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ اے این ایف ہیڈکوارٹرز کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق یہ کارروائیاں ملک کے مختلف بین الاقوامی ایئرپورٹس، سرحدی اضلاع اور کوریئر سروسز کے دفاتر میں انٹیلی جنس معلومات اور چیکنگ کے جدید نظام کی مدد سے انجام دی گئیں۔

ہفتے کے روز ترجمان اے این ایف کی جانب سے جاری ہونے والے ایک سرکاری بیان کے مطابق، پہلی کارروائی اسلام آباد کے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر عمل میں لائی گئی جہاں جدہ روانہ ہونے والے ایک مسافر کی مشکوک حرکات کا جائزہ لینے اور ابتدائی سکیننگ کے بعد اس کے پیٹ سے 126 گرام وزنی، کوکین سے بھرے 17 کیپسولز برآمد کیے گئے۔ دوسری کارروائی کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کی گئی، جہاں بحرین جانے والے مسافر کے سامان کی تلاشی کے دوران اس کے بیگ کی تہوں سے 627 گرام اعلیٰ کوالٹی کی ہیروئن برآمد ہوئی۔ بعد ازاں گرفتار مسافر کی فوری نشاندہی پر اے این ایف کی ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے اس کے ایک اور ساتھی اور نیٹ ورک کے ملزم کو گرفتار کر کے اس کے قبضہ سے 200 گرام آئس (میتھمفیٹامائن) برآمد کی۔

ترجمان اے این ایف نے مزید بتایا کہ اندرونِ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بھی اہم کارروائیاں کی گئی ہیں۔ اینٹی نارکوٹکس فورس نے ضلع چاغی کے علاقے دالبندین میں ایک مشکوک گاڑی کو روک کر تلاشی لی، جس کی خفیہ جگہوں میں چھپائی گئی 75 کلوگرام افیون برآمد کر کے منشیات کی بڑی کھیپ کو سمگل ہونے سے بچا لیا گیا۔ اس کے علاوہ، سپینی روڈ کوئٹہ میں واقع ایک کوریئر کمپنی کے دفتر میں بیرونِ ملک بھیجے جانے والے ایک پارسل کی باریک بینی سے تفتیش کے دوران کاسمیٹکس کی مصنوعات اور ڈبوں میں مہارت سے چھپائی گئی 1.4 کلوگرام چرس برآمد کی گئی۔

دریں اثناء، پشاور کے یونیورسٹی روڈ پر قائم کوریئر سروس کے دفتر میں بھی اے این ایف نے کامیاب سرچ آپریشن کیا۔ تفتیش کے دوران بیرونِ ملک ارسال کیے جانے والے ایک واٹر پمپ کے مکینیکل حصوں میں سے 35 گرام افیون اور 180 گرام وزنی ایکسٹیسی کی 260 گولیاں برآمد کی گئیں۔ ترجمان اے این ایف کا کہنا ہے کہ تمام گرفتار ملزمان، برآمد شدہ منشیات اور گاڑی کو قبضے میں لے کر انسدادِ منشیات ایکٹ 1997 کے تحت باقاعدہ مقدمات درج کر لیے گئے ہیں، جبکہ تمام نیٹ ورکس کے ماسٹر مائنڈز کا سراغ لگانے کے لیے اعلیٰ سطح کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک کی قدرتی آفات اور گلوبل وارمنگ کے خطرات پر اہم گفتگو: پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے مربوط پالیسیوں اور بین الاقوامی معاونت پر زور

کاشف عباسی , August 29,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 29 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے پاکستان کو لاحق موسمیاتی تبدیلی، شدید موسموں اور قدرتی آفات کے درپیش خطرات کے حوالے سے انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اس وقت پاکستان کی پائیدار بقا، زراعت اور قومی معیشت کے لیے ایک سب سے بڑا اور سنگین چیلنج بن چکی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کو بار بار آنے والے تباہ کن سیلابوں، گلیشیئرز پگھلنے کے واقعات، اور خشکسالی جیسے خطرات سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر ایک جامع، مربوط اور طویل المدتی حکمتِ عملی نافذ کرنا ہوگی۔

ہفتے کے روز دارالحکومت اسلام آباد میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب سے اپنے صدارتی خطاب کے دوران وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے پاکستان کی جغرافیائی نازکی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ گرین ہاؤس گیسوں کے عالمی اخراج میں پاکستان کا حصہ انتہائی معمولی اور 1 فیصد سے بھی کم ہے، تاہم اس کے باوجود پاکستان عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک کی فہرست میں نمایا ں اور پیش پیش ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس سنگین اور تباہ کن چیلنج سے نمٹنے کے لیے نہ صرف پاکستان کے اندر تمام متعلقہ وفاقی و صوبائی اداروں اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کو قریبی اور باہم مربوط طریقے سے کام کرنا ہوگا، بلکہ اس مقصد کے لیے عالمی تعاون، جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مالی وسائل کی ہنگامی فراہمی بھی بے حد ضروری ہے۔

وفاقی وزیر نے دنیا کے ترقی یافتہ اور باوسائل ممالک پر اپنے اخلاقی و عالمی فرائض کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے ہولناک اثرات کو کم کرنے اور ان سے بچاؤ کے لیے اجتماعی اور عالمی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جن عالمی طاقتوں اور خطوں کے پاس اس قدرتی بحران سے نمٹنے کی مالی صلاحیت، جدید انفراسٹرکچر اور وسائل موجود ہیں، انہیں عالمی ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے پاکستان جیسے متاثرہ ممالک کا ساتھ دینا چاہیے اور اس حوالے سے اپنا عملی کردار بلاتاخیر ادا کرنا چاہیے۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان عالمی سفارتی محاذ پر “موسمیاتی انصاف” کے حصول کے لیے اپنا مقدمہ انتہائی بھرپور، مضبوط اور دلائل کے ساتھ پیش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسماتی آفات کے نتیجے میں کھربوں روپے کے معاشی اور جانی نقصانات اٹھانے والے دنیا کے ترقی پذیر ممالک کو عالمی برادری، اقوام متحدہ اور عالمی مالیاتی اداروں کی بھرپور اور بلا مشروط مالی و تکنیکی معاونت درکار ہے تاکہ وہ قدرتی آفات کی شدت اور تباہ کاریوں سے اپنے بنیادی انفراسٹرکچر کا پائیدار تحفظ کر سکیں۔

اپنے خطاب کے دوران ڈاکٹر مصدق ملک نے ملک کے اندر ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی موافقت کو یقینی بنانے کے لیے ہمہ گیر مربوط پالیسیوں کی فوری تشکیل پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات کے بعد ہونے والے تباہ کن نقصانات میں کمی لانے کے لیے مقامی دیہی و شہری آبادیوں کی استعداد کار کو بڑھانا ہوگا، جبکہ آفت آنے سے قبل ہی پیشگی اطلاع کے جدید نظام اور باقاعدہ پیشگی تیاری و منصوبہ بندی کو قومی ترجیحات میں شامل کرنا اور یقینی بنانا ناگزیر ہے تاکہ معصوم انسانی جانوں کا ضیاع روکا جا سکے۔

وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے اپنے بیان کا اختتام اس عزم اور پیغام کے ساتھ کیا کہ موسمیاتی تبدیلی محض کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک مشترکہ اور انتہائی ہنگامی عالمی چیلنج ہے۔ اس خطرے پر قابو پانے کے لیے جہاں پاکستان کی سطح پر اندرونی طور پر ہنگامی بنیادوں پر اداروں کی اصلاحات اور شجرکاری جیسے اقدامات ضروری ہیں، وہی عالمی سطح پر بین الاقوامی تعاون، مالی وسائل کا تبادلہ اور اقوامِ عالم کی مشترکہ و مخلصانہ کوششوں کو فروغ دینا وقت کی سب سے بڑی اور اہم ضرورت ہے۔

حکومت ایکسپلوریشن اور ریفائننگ سیکٹر میں تاریخی اصلاحات، بانڈڈ اسٹوریج اور اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے: علی پرویز ملک کا کاروباری برادری سے خطاب

منصور احمد, August 29,2026

اسلام آباد/کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 29 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کراچی کے اپنے اہم ترین دورے کے دوران اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی قیادت اور پاکستان کے سب سے بڑے قومی ایندھن فراہم کنندہ ادارے پاکستان اسٹیٹ آئل کی اعلیٰ انتظامیہ سے الگ الگ اور تفصیلی ملاقاتیں کی ہیں۔ ان اہم اجلاسوں کے دوران ملک کی مجموعی توانائی سلامتی پیٹرولیم کے شعبے میں ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے نئے اور منافع بخش مواقع، ایندھن کی سپلائی چین کے استحکام، بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے اور حکومت کی جانب سے کی جانے والی جاری تزویراتی اصلاحات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔

اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دفتر کے دورے کے موقع پر وفاقی وزیر پیٹرولیم نے چیمبر کی سینئر قیادت، مختلف ملٹی نیشنل انڈسٹریز سے وابستہ نمایاں شخصیات، غیر ملکی سرمایہ کاروں کے نمائندگان اور میڈیا کے نمائندوں سے تفصیلی گفتگو کی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے شرکا کو وفاقی حکومت کی جانب سے ملک میں تیل و گیس کی تلاش ریفائنری کے بنیادی ڈھانچے کی جدید کاری اور پیٹرولیم شعبے میں سرمایہ کاری دوست ماحولیات کے قیام کے لیے کیے جانے والے ہمہ گیر اقدامات اور پالیسی ترامیم سے تفصیل سے آگاہ کیا۔ انہوں نے ملک کو درپیش توانائی کے چیلنجز کا تدارک کرنے کے لیے بانڈڈ اسٹوریج اور اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر کے قیام کی اہمیت اور ان پر پیش رفت کو خصوصی طور پر اجاگر کیا۔

وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے اجلاس کے تمام شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومتِ پاکستان کا بنیادی مقصد ایک ایسا جدید اور متحرک پیٹرولیم شعبہ تشکیل دینا ہے جو عالمی سطح پر زیادہ مسابقتی، سرمائے کی فراہمی کے لیے انتہائی سازگار اور ملک کی طویل المدتی و پائیدار توانائی ضروریات سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت اپ اسٹریم (ایکسپلوریشن)، مڈ اسٹریم (ریفائننگ) اور ڈاؤن اسٹریم مارکیٹس میں دور رس اصلاحات نافذ کر رہی ہے، جبکہ انڈسٹری سے وابستہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مسلسل اور پائیدار رابطے کے ذریعے عملی نوعیت کے درپیش مسائل حل کیے جا رہے ہیں تاکہ ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال اور مستحکم بنایا جا سکے۔

اجلاس کے دورانکے ارکان اور سینئر قیادت نے صنعت کے نقطہ نظر کو پیش کرتے ہوئے زور دیا کہ پالیسی، قوانین اور ٹیکس کے نظام میں مسلسل اور طویل المدتی تسلسل، مکمل شفافیت اور سرمایہ کاروں کو مناسب سیکیورٹی کی فراہمی وہ بنیادی عوامل ہیں جو عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد مضبوط بنا سکتے ہیں۔ کے صدر یوسف حسین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم کا شعبہ پاکستان کی معاشی سرگرمیوں، اقتصادی ترقی اور سرمایہ کاری کے ڈھانچے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے وفاقی وزیر کی جانب سے کاروباری برادری کے ساتھ اس مثبت اور مسلسل رابطے کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جاری مذاکرات صنعتی مسائل کے حل اور حکومت کے اصلاحاتی اہداف کے حصول میں اہم ثابت ہوں گے۔

اسی اجلاس میں کے چیف ایگزیکٹو اور سیکرٹری جنرل محمد عبدالعلیم نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے پیش گوئی کے قابل اور مستحکم ریگولیٹری ماحول کی اہمیت پر خصوصی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور انڈسٹری کے درمیان مسلسل دوطرفہ رابطوں اور زیر التوا معاشی و قانونی معاملات کے بروقت اور شفاف حل سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد مزید بڑھے گا جس سے پیٹرولیم انڈسٹری میں اربوں ڈالر کی نجی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ کی جانب سے حکومت کے ساتھ توانائی کی سلامتی اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے اس مثبت مکالمے کو آئندہ بھی جاری رکھنے کے مکمل عزم کا اعادہ کیا گیا۔

بعد ازاں، وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کراچی میں واقع پی ایس او ہاؤس کا دورہ کیا جہاں انہوں نے پاکستان اسٹیٹ آئل کی اعلیٰ انتظامیہ سے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران قومی توانائی سلامتی کے تحفظ، پیٹرولیم پروڈکٹس کی سپلائی چین کے مسلسل استحکام، اسٹریٹجک اسٹوریج کی گنجائش میں توسیعی منصوبوں، اور ادارے کی جدید ترین ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن سمیت متعدد بنیادی امور پر باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ اس کے علاوہ ملک میں ایندھن کی سپلائی کے لاجسٹک انفراسٹرکچر کو جدید بنانے اور ایندھن کی کارکردگی و پائیداری کو عالمی معیار پر لانے کے لیے بھی تجاویز زیرِ غور آئیں۔

وزیر داخلہ و پیٹرولیم کے اس دورے کے دوران علی پرویز ملک نے عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود ملک بھر میں پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل اور ہموار فراہمی کو یقینی بنانے پر پی ایس او کی پیشہ ورانہ کارکردگی کی بھرپور تعریف کی اور قومی پیٹرولیم سپلائی چین کے استحکام میں کمپنی کے کلیدی کردار کو سراہا۔ وفاقی وزیر نے اعادہ کیا کہ حکومت پیٹرولیم شعبے کو ری سائیکل کرنے، اسے جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنے اور انفراسٹرکچر کو وسعت دینے کے لیے ادارے کو اپنی مکمل اور بلا مشروط حمایت فراہم کرتی رہے گی۔ انہوں نے پی ایس او کی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ اسٹریٹجک ذخائر کی گنجائش بڑھانے کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، جدید مانیٹرنگ اور آٹومیشن سے بھرپور استفادہ کریں تاکہ ایندھن کی ترسیل کے وقت اور آپریشنل اخراجات میں نمایاں کمی لائی جا سکے۔

وینزویلا اور امریکہ کے مابین تاریخی تیل معاہدہ: عبوری صدر ڈیلسی رودریگیز کی توثیق، 100 ارب ڈالر سے زائد کی غیر ملکی سرمایہ کاری اور 209 ارب ڈالر ٹیکس آمدن کی پیش گوئی

کاشف عباسی , August 29,2026

کاراکاس/واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 29 اگست 2026ء

وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی رودریگیز نے ریاستہائے متحدہ امریکہ کے ساتھ طے پانے والے انتہائی اہم اور کثیر ارب ڈالر کے تیل کے معاہدے کی باضابطہ توثیق کرتے ہوئے اسے اپنے ملک کے لیے ایک ’تاریخی معاہدہ‘ قرار دیا ہے۔ وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس میں میڈیا اور حکام سے گفتگو کرتے ہوئے ڈیلسی رودریگیز نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ اس پیش رفت سے طویل عرصے سے معاشی زوال، اقتصادی پابندیوں اور مشکلات کا شکار وینزویلا کی قومی معیشت کی فوری بحالی میں بے مثال اور تاریخی پیش رفت متوقع ہے۔ ان کے فراہم کردہ محتاط اعداد و شمار کے مطابق، اس بین الاقوامی منصوبے کے ذریعے وینزویلا کے توانائی کے شعبے میں 100 ارب ڈالر سے زائد کی براہِ راست غیر ملکی نجی سرمایہ کاری آئے گی، جبکہ ملکی خزانے کو آئندہ سالوں میں 209 ارب ڈالر سے زیادہ کی ٹیکس آمدن حاصل ہونے کا قوی امکان ہے۔

عالمی توانائی بحران، ایندھن کی بلند قیمتیں اور امریکی سیاسی منظرنامہ

یہ غیر معمولی اور اہم معاہدہ ایسے نازک وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک طرف ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سنگین ملٹری کشیدگی اور جنگ کے باعث عالمی منڈیوں میں خام تیل کی رسد شدید دباؤ کا شکار ہو چکی ہے، جس سے دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ ہوا ہے۔ دوسری طرف، امریکہ میں نومبر کے وسط مدتی \ انتخابات قریب آ رہے ہیں اور پیٹرول کی بلند ہوتی ہوئی قیمتیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک بڑا سیاسی و معاشی چیلنج بنی ہوئی ہیں۔ اس تناظر میں وینزویلا جیسے وسیع ذخائر رکھنے والے ملک کا امریکی منڈیوں اور کمپنیوں کے لیے کھلنا عالمی اور امریکی دونوں سطحوں پر ایندھن کے بحران کو قابو کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

صدر ٹرمپ اور مارکو روبیو کا مؤقف: تاریخ کا سب سے بڑا تیل کا معاہدہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل اس منصوبے کے خد و خال پر بات کرتے ہوئے کھلے عام یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ یہ باہمی سمجھوتہ واشنگٹن اور امریکی کمپنیوں کو وینزویلا کے 65 ارب بیرل کے ثابت شدہ تیل ذخائر تک نمایاں اور مستقیم رسائی فراہم کرے گا۔ صدر ٹرمپ نے اس پیش رفت کو ’دنیا کی پوری تاریخ کا سب سے بڑا تیل کا معاہدہ‘ بھی قرار دیا تھا۔ اسی حوالے سے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی اپنے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ اس معاہدے کے حتمی نفاذ کے نتیجے میں وینزویلا کی ایندھن انڈسٹری میں تقریباً 100 ارب ڈالر کی نجی سرمایہ کاری متوقع ہے، جو طویل عرصے سے زوال پذیر معیشت کی دوبارہ تعمیرِ نو اور وینزویلا کی توانائی کی صنعت کو جدید بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

آئل فیلڈز کی ملکیت، قانونی سوالات اور نجی کمپنیوں کا کردار

اگرچہ دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت نے اس معاہدے کی افادیت کو اجاگر کیا ہے، تاہم وینزویلا کے تیل کے ذخائر پر کنٹرول، انتظامی اختیارات اور ملکیت کی حتمی منتقلی سے متعلق تفصیلات تاحال مکمل طور پر واضح نہیں کی گئی ہیں۔ یونیورسٹی آف ٹیکساس انرجی انسٹی ٹیوٹ کے سینیئر ریسرچ فیلو جارج پنیون کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ معاہدے پر تکنیکی نقطہ نظر سے کئی اہم اور قانونی سوالات ابھی جواب طلب ہیں، جن میں بنیادی سوال یہ ہے کہ وینزویلا کے قومی ذخائر کی ملکیت کس قانونی طریقہ کار، شرائط اور کس ٹائم فریم کے تحت امریکی یا نجی کمپنیوں کو منتقل کی جائے گی۔

امریکی نیوز ویب سائٹ ‘ایگزیوس’ کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق، امریکہ اور وینزویلا کی ٹیمیں اس وقت وینزویلا کے 12 مختلف اور اہم آئل فیلڈز سے متعلق حتمی مذاکرات کر رہی ہیں، جن میں مجموعی طور پر تقریباً 90 ارب بیرل ثابت شدہ خام تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ متعدد عالمی اور امریکی نجی کمپنیاں ان وسائل سے فائدہ اٹھانے، نئے کنویں کھودنے اور پیداوار کو چند ماہ میں گنا بڑھانے کے لیے وینزویلا میں فوری طور پر اپنا انفراسٹرکچر قائم کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

چین سے سیلاب سے متعلق معلومات موصول ہو رہی ہیں: نیپالی وزیر خارجہ شیشیر خانال

منصور احمد, August 29,2026

کھٹمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 29 اگست 2026ء

نیپال کے وزیر خارجہ شیشیر خانال نے تصدیق کی ہے کہ نیپال اور چین کے درمیان حالیہ تباہ کن سیلابی صورتحال سے متعلق قریبی رابطہ، تبادلہ خیال اور اعلیٰ سطح پر ہم آہنگی کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ چینی حکام کی جانب سے متاثرہ علاقوں اور سرحد پار صورتحال کے حوالے سے ضروری معلومات اور ڈیٹا مسلسل موصول ہو رہا ہے۔

صحافیوں کی جانب سے اس سوال پر کہ بحران کے ابتدائی لمحات میں چین کی طرف سے بروقت معلومات اور الرٹ کیوں فراہم نہیں کیا گیا، وزیر خارجہ شیشیر خانال نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کی نوعیت انتہائی اچانک اور پیچیدہ تھی، جس کے باعث ممکن ہے کہ خود چینی حکام کے پاس بھی ابتدائی مرحلے میں مکمل، واضح اور مستند معلومات فوری طور پر موجود نہ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اب دونوں ممالک کے مابین رابطے مکمل طور پر بحال ہیں اور ضروری تفصیلات و اپ ڈیٹس چین کی جانب سے باقاعدگی سے موصول ہو رہی ہیں۔ ان کے مطابق، نیپال اس تباہ کن واقعہ کے فوری بعد سے مسلسل چینی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور دونوں ممالک سرحدی علاقوں میں صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک دوسرے سے مکمل تعاون کر رہے ہیں۔

وزیر خارجہ شیشیر خانال نے مزید بتایا کہ چینی حکام نہ صرف گلیشیئر ٹوٹنے کی جگہ اور اس کے نتیجے میں بننے والی جھیل کے پانی کی سطح کی جدید آلات کے ذریعے مسلسل نگرانی کر رہے ہیں، بلکہ ممکنہ خطرات، پانی کے بہاؤ اور کسی بھی نئے خطرے کے بارے میں پیشگی معلومات نیپال کو فراہم کر رہے ہیں۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ معلومات کی اس بروقت فراہمی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اگر کسی نئی ہنگامی صورتحال یا دوبارہ سیلابی ریلے کا خطرہ پیدا ہو، تو نیپالی انتظامیہ کو بروقت حفاظتی اور دفاعی اقدامات اٹھانے میں مدد مل سکے اور عام شہریوں کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔

نیپال اور تبت میں تباہ کن سیلاب کی تبا ہی: ہلاکتیں بڑھ کر 623 ہو گئیں، ہزاروں لاپتہ، اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی جانب سے ہنگامی امداد کا آغاز

محمود احمد, August 29,2026

کاٹھمنڈو/لھاسا/اقوام متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 29 اگست 2026ء

جنوبی ایشیا کے پہاڑی ملک نیپال اور اس کے ہمسائے تبت کے سرحدی خطے میں بدھ کے روز گلیشیئر انہدام اور شدید بارشوں کے بعد آنے والے تباہ کن سیلاب کی ہولناکی میں ہر گزرتے گھنٹے کے ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ سڑکوں، پلوں، اور درجنوں پہاڑی دیہاتوں کو بہا لے جانے والے اس ناگہانی قدرتی آفت کے نتیجے میں دونوں ممالک میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 623 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ نیپالی حدود میں 2,000 اور تبت میں 550 سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں، جس کے باعث ہلاکتوں میں مزید دردناک اضافے کا شدید خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ نیپال اور تبت میں ہنگامی حالت نافذ کر کے مقامی ریسکیو اداروں، افواج اور بین الاقوامی امدادی تنظیموں کی جانب سے وسیع پیمانے پر بحالی اور سرچ آپریشن جاری ہے۔

نیپال پولیس کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، نیپالی حدود میں سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے شہریوں کی تصدیق شدہ تعداد بڑھ کر 616 ہو گئی ہے۔ اس سے قبل نیپالی حکام نے ہلاکتوں کی تعداد 579 بتائی تھی، تاہم ملبے اور تباہ شدہ مکانات کی کھدائی کے دوران مزید لاشیں برآمد ہونے پر اعداد و شمار اپ ڈیٹ کر دیے گئے ہیں۔ دوسری جانب تبت کی سرحد پر چینی سرکاری میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ سرحدی دیہاتوں میں سیلاب کی زد میں آ کر ہلاک ہونے والے چینی شہریوں کی سرکاری تعداد بڑھ کر 7 ہو گئی ہے جبکہ 554 افراد تاحال بے نشان اور لاپتہ ہیں، جن کی تلاش کے لیے ڈرون اور ریسکیو کتوں کی مدد لی جا رہی ہے۔

سیلاب کے بعد پیدا ہونے والے اس انسانی بحران کے تناظر میں بین الاقوامی برادری اور مختلف عالمی ممالک نے نیپال کی مدد کے لیے ہنگامی کارروائیاں اور امداد کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان نے نیپار کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر 10 ہزار سے زائد خاندانوں کو خوراک، طبی امداد اور صاف پینے کے پانی کی شدید اور اضطراری ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کے مختلف ادارے متاثرین میں خیمے اور راشن کی تقیسم میں مصروف ہیں۔

دریں اثناء، یورپی یونین کینیڈا اور ریاستہائے متحدہ امریکہ سمیت دنیا کے متعدد اہم ممالک نے نیپال کے لیے کروڑوں ڈالر کے ہنگامی مالیاتی پیکج اور بنیادی امدادی سامان بھجوانے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ نیپالی حکومت کی جانب سے عالمی برادری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ دور دراز کے پہاڑی علاقوں میں مواصلاتی نظام درہم برہم ہونے اور سڑکیں تباہ ہو جانے کی وجہ سے ریسکیو کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، تاہم ہیلی کاپٹرز اور ڈرونز کے ذریعے لاپتہ 2,000 سے زائد افراد کی تلاش کے لیے دن رات آپریشن جاری رکھا جائے گا۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا دورہ، امیگریشن عمل کا جائزہ، سسٹم میں خرابی کا فوری نوٹس اور متبادل انتظامات کا حکم

محمود احمد, August 29,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 29 اگست 2026ء

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کراچی میں واقع جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا ایک اہم اور تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے بین الاقوامی پروازوں کی روانگی اور آمد کے کاؤنٹرز پر امیگریشن کے مجموعی عمل، مسافروں کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور عملے کی کارکردگی کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ اپنے اس اچانک اور ہنگامی دورے کے دوران وزیر داخلہ نے بیرونی ممالک سفر کرنے والے عام مسافروں اور خاندانوں کے پاس جا کر ان سے خود ملاقات کی، اور ان سے امیگریشن پراسیس میں درپیش سہولیات، متوقع تاخیر اور عملے کے رویے سے متعلق تفصیلات دریافت کیں، جس پر مسافروں نے اپنے خدشات اور خیالات کا اظہار کیا۔

وزارتِ داخلہ کی جانب سے ہفتے کے روز اسلام آباد اور کراچی سے جاری ہونے والے ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے دورے کے عین دوران ایئرپورٹ کا مرکزی امیگریشن سسٹم اچانک تکنیکی خرابی کے باعث ڈاؤن ہو گیا۔ امیگریشن سسٹم بند ہوتے ہی لائنوں میں لگے مسافروں کی روانگی کا عمل سست روی کا شکار ہوا، جس پر وزیر داخلہ نے معاملے کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے تاخیر کا سخت نوٹس لیا اور فوری طور پر موقع پر سے ہی متعلقہ اعلیٰ حکام اور آئی ٹی ماہرین سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔ انہوں نے حکام کو سخت احکامات جاری کرتے ہوئے امیگریشن سسٹم میں پیدا ہونے والی اس تکنیکی خرابی اور نیٹ ورک سست روی کو فوری طور پر دور کرنے کی ہدایت کی۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے امیگریشن حکام اور ایئرپورٹ انتظامیہ کو واضح الفاظ میں ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ “سسٹم ڈاؤن ہونے یا کسی بھی غیر متوقع تکنیکی خرابی کی صورت میں ہنگامی بنیادوں پر متبادل طریقہ کار اور مینوئل پروسیسنگ کا بندوبست ہر وقت تیار رکھا جائے، کیونکہ بین الاقوامی مسافروں کی سہولت کے پیشِ نظر امیگریشن پراسیس کسی بھی صورت اور کسی بھی قیمت پر رکنا نہیں چاہیے”۔ انہوں نے انتظامیہ کو واضح کیا کہ مسافروں کا وقت اور ان کی عزتِ نفس نہایت محترم ہے اور سسٹم کی بحالی کے کام کو جنگی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔

دورے کے اختتام پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے امیگریشن کنٹرول اور فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے افسران کو ملک گیر سطح پر جعلسازی روکنے اور جعلی دستاویزات پر بیرونِ ملک سفر کرنے کی کوشش کرنے والے گینگ اور مسافروں کے خلاف فی الفور سخت ترین قانونی ایکشن لینے کا حکم دیا۔ محسن نقوی نے دو ٹوک موقف اپناتے ہوئے کہا کہ نامکمل، مشکوک اور بغیر تصدیق شدہ پاسپورٹ یا ویزا دستاویزات کے حامل کسی بھی فرد کو کسی صورت ایئرپورٹ سے سفر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اس سلسلے میں سیکیورٹی اور سکیننگ پر کوئی بھی سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔

سفیر عاصم افتخار احمد کا ہیٹی کی قیادت میں سکیورٹی کاوشوں کی حمایت اور دیرپا امن کے لیے عالمی برادری سے تعاون کا مطالبہ

محمود احمد, August 29,2026

اقوام متحدہ، نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اگست 2026ء

پاکستان نے کیریبین ملک ہیٹی کے علاقے کینسکوف میں مسلح گینگ کے حالیہ دلخراش اور سفاکانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہیٹی میں ہیٹی کی اپنی قیادت میں جاری سکیورٹی کاوشوں کی بھرپور معاونت کرے۔ پاکستان نے زور دیا ہے کہ گینگ سپریشن فورس کی بروقت، مؤثر اور مکمل تعیناتی کے لیے درپیش تمام انتظامی، مالی اور لاجسٹک رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کیا جائے تاکہ متاثرہ عوام کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

ہیٹی کی کی تشویشناک سکیورٹی صورتحال کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک ہنگامی اور اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ حالیہ ہولناک حملے ہیٹی کے عوام کو درپیش طویل عرصے سے جاری، ابتر اور نہایت تشویشناک سکیورٹی صورتِ حال کی ایک سنگین اور تلخ یاد دہانی ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں کی بین الاقوامی کوششوں کے باوجود وہاں کے حالات میں کوئی خاطر خواہ یا پائیدار بہتری نہیں آ سکی، جس سے عام شہریوں کی روزمرہ زندگی مکمل طور پر معطل ہو کر رہ گئی ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے سامنے ہیٹی کے معصوم شہریوں کی تکالیف کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ “حالیہ واقعہ ہیٹی کے عوام کو درپیش طویل اور سنگین سکیورٹی صورتِ حال کی ایک تلخ اور واضح یاد دہانی ہے۔ گینگ کی جانب سے شہریوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنا کر کیے جانے والے یہ ہولناک اور پرتشدد حملے خواتین اور معصوم بچوں کو غیر متناسب طور پر اور سب سے زیادہ متاثر کر رہے ہیں، جس کا عالمی برادری کو فوری نوٹس لینا ہوگا”۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے گزشتہ برس ہیٹی کے حکام کی مدد کے لیے منظور کی جانے والی \ کی تعیناتی کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستانی مندوب نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ اس فورس کی بلا تاخیر اور مکمل تعیناتی کے ساتھ ساتھ ہیٹی میں غیر قانونی اسلحے، بارود اور ہتھیاروں کی ترسیل کو روکنے کے لیے عالمی سطح پر انتہائی مربوط اور مؤثر اقدامات اٹھانا بے حد ناگزیر ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ غیر قانونی اسلحے کی رسد کا خاتمہ کیے بغیر گینگ تشدد کی مؤثر روک تھام اور عوام میں سکیورٹی و تحفظ کا بنیادی احساس بحال کرنا ممکن نہیں ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے اس مشکل اور نازک وقت میں ہیٹی کے عوام اور حکومت کی معاونت کے لیے عالمی برادری کے باہمی تعاون کو مزید مضبوط اور وسیع بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہیٹی کے بحران کے ایک پائیدار، دیرپا اور جامع حل کے لیے وہاں جاری عدم استحکام کے بنیادی، کثیرالجہتی اور تاریخی اسباب سے نمٹنا انتہائی ضروری ہے، اور اس مقصد کے حصول کے لیے کوئی بھی ایسا لائحہ عمل تبھی کامیاب ہو سکتا ہے جو ‘ہیٹی کی قیادت میں اور ہیٹی کی ملکیت’ پر مبنی ہو۔

پاکستان کے مستقل مندوب نے اپنے خطاب کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ “ہم کی عملی کارروائیوں کے لیے عالمی معاونت کو متحرک کرنے اور ہیٹی میں جاری طویل المدت تشدد کی بنیادی وجوہات کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے جامع تخفیفِ اسلحہ، عدم مسلح کاری اور بحالیِ نو کی حکمتِ عملی کو آگے بڑھانے کے سلسلے میں شراکت داروں کے ‘اسٹینڈنگ گروپ’ کی کاوشوں اور اقدامات کا کھلے دل سے خیرمقدم کرتے ہیں”۔

بیان کے اختتام پر پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے ہیٹی کے مظلوم عوام کے ساتھ پاکستان کی مکمل اور غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کیا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پاکستان ہیٹی میں دیرپا امن کی بحالی، سکیورٹی کے قیام، استحکام، تعمیرِ نو، اور ترقی و خوشحالی کے اہداف کے حصول کے لیے بین الاقوامی برادری، اقوام متحدہ اور ہیٹی کی قیادت کے ساتھ مل کر اپنا مثبت، فعال اور تعمیری کردار مسلسل ادا کرتا رہے گا۔

پمز ہسپتال میں نومولود بچوں کی ہلاکت کا سانحہ: وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے ذمہ داری قبول کر لی، پارلیمنٹ میں بڑا اعلان

کاشف عباسی , August 28,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے قومی صحت، خدمات، ضوابط و رابطہ سید مصطفیٰ کمال نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) ہسپتال اسلام آباد میں نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے کے دلخراش واقعہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پارلیمان کے سامنے پوری ذمہ داری قبول کی ہے۔ جمعہ کے روز ایوان بالا (سینیٹ) کے اجلاس میں اس دردناک سانحے پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ اس سے زیادہ اندوہناک واقعہ نہیں ہو سکتا، معصوم بچے اپنی جانوں سے چلے گئے اور اس پر کوئی بھی تسلی بخش وضاحت پیش نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے واضح اور سخت الفاظ میں اعلان کیا کہ اس معاملے پر کسی بھی شخص کو بچایا نہیں جائے گا، نہ ہی کوئی رپورٹ چھپائی جائے گی؛ جو بھی ذمہ دار ہوگا، “ایک آدمی بھی سپیئر (معاف) نہیں ہوگا”۔

مصطفیٰ کمال نے ایوان کو بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جس کی ابتدائی رپورٹ 24 گھنٹوں میں متوقع ہے۔ انہوں نے کمیٹی کی مدت 40 دن سے آگے تک کھلی رکھنے کی تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس تحقیقات کو محض چند دنوں کی رسمی کارروائی تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ جب تک تمام ادارے اور ماہرین آئندہ ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے قابلِ عمل لائحہ عمل پر متفق نہ ہوں، کام جاری رہنا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ وزارتِ صحت کے پاس گزشتہ 14 ماہ کا مکمل ریکارڈ اور معلومات موجود ہیں جو تحقیقاتی کمیٹی کو فراہم کی جائیں گی اور تمام متعلقہ افسران و عملے کو کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا تاکہ تمام حقائق قوم کے سامنے آ سکیں۔

وفاقی وزیر نے پمز کے اس سانحے کو ہیلتھ کیئر سسٹم میں موجود سنگین خامیوں کی نشاندہی کا ایک اہم موقع قرار دیا۔ انہوں نے افسوسناک اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں ہر سال پانچ سال تک کی عمر کے تقریباً چار لاکھ بچے اور ہزاروں مائیں زچگی کے دوران ایسے اسباب سے جاں بحق ہو جاتی ہیں جن کی جانیں بروقت اور بہتر علاج سے بچائی جا سکتی ہیں۔ سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ حکومت کا مقصد صرف پمز کے موجودہ واقعے کے ذمہ داروں کا تعین کر کے سزا دینا نہیں، بلکہ صحت کے پورے نظام میں بنیادی اور پائیدار اصلاحات لانا ہے تاکہ آئندہ کسی بھی بچے یا ماں کی جان محض انتظامی غفلت یا نظام کی کمزوری کی وجہ سے ضائع نہ ہو۔

نیپال اور تبت میں خوفناک سیلاب: ہلاکتیں 547 ہو گئیں، 450 غیرملکیوں سمیت 977 افراد لاپتہ، ریسکیو آپریشن جاری

منصور احمد, August 28,2026

کاٹھمنڈو / لھاسا (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اگست 2026ء

نیپال اور چین کے سرحدی علاقے تبت میں بدھ کے روز آنے والے تباہ کن سیلاب کے باعث ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 547 ہو گئی ہے، جبکہ 450 سے زائد غیرملکی سیاحوں سمیت کم از کم 977 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ تباہ شدہ علاقوں میں ریسکیو ٹیموں کی جانب سے وسیع پیمانے پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے تاکہ ملبے اور سیلابی ملبے تلے دبے افراد کی تلاش ممکن بنائی جا سکے۔ سیلاب کے باعث کئی پہاڑی دیہات اور سیاحتی مقام مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے امدادی کاموں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

دوسری جانب، تبت کی سرحد پر چینی حکام کا کہنا ہے کہ اس ناگہانی سیلاب کے نتیجے میں تبتی حدود میں بھی 5 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 558 افراد لاپتہ ہیں۔ نیپالی حکومت اور سیکیورٹی اداروں کی جانب سے ہیلی کاپٹروں اور جدید ڈرونز کے ذریعے متاثرہ علاقوں کا سروے کیا جا رہا ہے تاکہ پھنسے ہوئے مقامی افراد اور غیرملکیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا سکے۔ نیپالی حکام کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ بیشتر لاپتہ افراد سے رابطہ نہیں ہو پا رہا ہے۔

نوجوان تاجر میر رضا قتل کیس: جوڈیشل کمیشن کے دو پولیس اہلکاروں، ایدھی ڈرائیور اور ڈاکٹر اسامہ کو نوٹسز، سماعت 1 ستمبر تک ملتوی

محمود احمد, August 28,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اگست 2026ء

کراچی میں وافلکس کے 25 سالہ شریک مالک میر رضا علی کی پراسرار ہلاکت کی تحقیقات کرنے والے سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عمر سیال پر مشتمل ون مین جوڈیشل کمیشن نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے جائے وقوعہ پر پہنچنے والے دو پولیس اہلکاروں، لاش جناح ہسپتال منتقل کرنے والے ایدھی کے ڈرائیور اور ابتدائی پوسٹ مارٹم کرنے والے ایم ایل او ڈاکٹر اسامہ کو باضابطہ نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔ جمعے کے روز جوڈیشل کمیشن کے آغاز پر میر رضا کے والد، والدہ اور ہمشیرہ پیش ہوئے جبکہ قانون دان جبران ناصر بھی کمیشن کے روبرو پیش ہوئے۔ یاد رہے کہ نوجوان تاجر میر رضا 28 جولائی کو گھر سے نکلے تھے اور بعد ازاں ان کی لاش گلستانِ جوہر بلاک 1 میں شاہی قلعہ گراؤنڈ کے قریب جھاڑیوں سے ملی تھی، جس کے ابتدائی پوسٹ مارٹم پر سنگین سوالات اٹھنے کے بعد قبر کشائی کر کے دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا گیا تھا۔ کمیشن نے کیس کی مزید سماعت یکم ستمبر 2026ء تک ملتوی کر دی ہے۔

سماعت کے دوران وکیل جبران ناصر نے کمیشن کو بتایا کہ سابقہ انویسٹیگیشن ٹیم نے کیس میں مجرمانہ غفلت برتی، جبکہ 29 جولائی کو بااثر افراد یا پولیس افسران کے پہنچنے سے قبل دوپہر سوا 12 بجے نرسری کے ایک ملازم کی اطلاع پر محض دو پولیس اہلکار جائے وقوعہ پر آئے تھے، جس کے بعد لاش ایدھی ایمبولینس کے ذریعے جناح ہسپتال منتقل کی گئی جہاں ڈاکٹر اسامہ نے متنازعہ پوسٹ مارٹم کیا۔ کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال نے حکم دیا کہ سندھ حکومت اردو، انگریزی اور سندھی اخبارات میں اشتہار شائع کرائے جس میں میر رضا کیس سے متعلق معلومات دینے والے شخص کے لیے ایک لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا جائے، نیز سندھ حکومت کو متعلقہ پولیس افسران، ڈاکٹرز کی فہرست، گواہوں کے بیانات اور تمام اصل میڈیکل ریکارڈز جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔

کارروائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جبران ناصر نے فیروز آباد پولیس کی جانب سے انصاف کے لیے احتجاج کرنے والے پرامن شہریوں اور نوجوانوں پر مقدمات درج کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ 29 دن گزرنے کے باوجود اصل قاتلوں کا تعاقب نہیں کیا جا سکا۔ انہوں نے بتایا کہ جسٹس عمر سیال نے جوڈیشل کمیشن کی کارروائی مکمل شفافیت کے لیے عوام کے لیے کھلی رکھی ہے اور واضح کیا ہے کہ کمیشن کا کام حقائق تلاش کرنا ہے جبکہ ملزمان کی گرفتاری اور چالان عدالت میں پیش کرنا تفتیشی پولیس کی ذمہ داری ہے۔

ملک کی 5 بڑی آئل ریفائنریوں میں 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا بریک تھرو: ریفائنری اپ گریڈیشن پالیسی پر علی پرویز ملک کی اہم پیش رفت

کاشف عباسی , August 28,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک نے پاکستان کی پانچ بڑی آئل ریفائنریوں—پاک عرب ریفائنری لمیٹڈ، پاکستان ریفائنری لمیٹڈ ، نیشنل ریفائنری لمیٹڈ ، سائنرجیکو اور اٹک ریفائنری لمیٹڈ کی اعلیٰ انتظامیہ سے الگ الگ اور اہم ملاقاتیں کی ہیں۔ ان ملاقاتوں میں براؤن فیلڈ ریفائنری اپ گریڈیشن پالیسی پر عملدرآمد، ریفائنریوں کی مالی و آپریشنل کارکردگی اور ملکی توانائی کے تحفظ کو مستحکم بنانے کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ تمام پانچوں ریفائنریوں کی انتظامیہ نے پالیسی کے تحت اپ گریڈیشن معاہدوں پر دستخط کرنے کے لیے اپنی مکمل آمادگی کا اعادہ کر دیا ہے۔ ان معاہدوں پر ستمبر 2026ء کے آغاز میں باضابطہ دستخط متوقع ہیں، جس کے نتیجے میں پاکستان کے ریفائننگ سیکٹر میں تقریباً 6 ارب ڈالر کی خطیر غیر ملکی و ملکی سرمایہ کاری آئے گی۔

وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے اس پیش رفت کو ملکی توانائی کے تحفظ کے لیے میل پتھر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریفائنریوں کی جدید کاری سے پاکستان میں یورو فائیو معیار کی پٹرولیم مصنوعات کی مقامی پیداوار ممکن ہو سکے گی۔ اس اقدام سے پٹرول اور ڈیزل کی مہنگی درآمدات پر پاکستان کا انحصار نمایاں حد تک کم ہوگا اور مقامی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی کمی اور استحکام آئے گا۔ وفاقی وزیر نے پارکو اور پی آر ایل کی جانب سے حال ہی میں آبنائے ہرمز کے بحران کے دوران بلا تعطل پٹرولیم سپلائی کا سلسہ برقرار رکھنے پر ان کی آپریشنل کارکردگی کو سراہا اور حب میں مجوزہ اسٹریٹجک ‘آئل سٹی’ اور اسٹوریج کمپلیکس منصوبے کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا، جو ملک کی ایندھن کی ذخیرہ اندوزی اور سپلائی چین کو پائیدار بنائے گا۔

ملاقاتوں کے دوران اٹک ریفائنری، سائنرجیکو اور نیشنل ریفائنری کے منیجنگ ڈائریکٹرز نے پالیسی کے لیے اپنی مطلوبہ تیاریاں مکمل ہونے کی تصدیق کی اور پٹرولیم ڈویژن کی اصلاحاتی کوششوں کو سراہا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وفاقی حکومت ریفائننگ انڈسٹری کو درپیش قانونی اور آپریشنل مسائل کے حل اور 6 ارب ڈالر کے اس میگا اپ گریڈیشن پروگرام پر بروقت عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن سہولت کاری اور تعاون فراہم کرتی رہے گی۔

لاہور میں زیرِ زمین پانی کی کمی کا توڑ: 31 ارب روپے کی لاگت سے نہری پانی کو صاف کرنے کا سرفیس واٹر منصوبہ تیار

منصور احمد, August 28,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اگست 2026ء

پنجاب حکومت نے صوبائی دارالحکومت لاہور میں پانی کی شدید قلت اور زیرِ زمین آبی ذخائر میں مسلسل کمی پر قابو پانے کے لیے 31 ارب روپے کا ایک عظیم الشان سرفیس واٹر ٹریٹمنٹ منصوبہ تیار کیا ہے، جس کے تحت شہر کا پینے کے پانی کے لیے زیرِ زمین پانی پر 99 فیصد انحصار کم کر کے سطحی پانی کی طرف منتقل کیا جائے گا۔ منصوبے کے پہلے مرحلے کے تحت بی آر بی کینال سے روزانہ 54 ملین گیلن پانی حاصل کر کے اسے جدید پلانٹ کے ذریعے صاف کر کے شہریوں کو پینے کے لیے فراہم کیا جائے گا۔ واٹر اینڈ سینی ٹیشن ایجنسی (واسا) لاہور اس وقت شہر بھر میں 594 گہرے ٹیوب ویل چلا رہی ہے جن کے ذریعے روزانہ 329 ملین گیلن زیرِ زمین پانی نکال کر فراہم کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے شہر میں زیرِ زمین پانی کی سطح سالانہ تین سے پانچ فٹ تک تیزی سے گر رہی ہے۔ واسا حکام کے مطابق سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی نے منصوبے کے PC-I کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد اب حتمی منظوری کے لیے دستاویزات قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) کو پیش کی جائیں گی۔

واسا لاہور کے وائس چیئرمین اور رکن پنجاب اسمبلی چوہدری شہباز احمد نے بتایا کہ حتمی منظوری ملتے ہی منصوبے پر عملی کام کا آغاز کر دیا جائے گا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ بھینی روڈ کے قریب قائم کیے جانے والے سرفیس واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کی ابتدائی صلاحیت 100 کیوسک یعنی 54 ملین گیلن یومیہ ہوگی، جسے بعد میں مرحلہ وار بڑھا کر 1,000 کیوسک یعنی 540 ملین گیلن یومیہ تک توسیع دی جائے گی۔ یہ پراجیکٹ ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی مالی معاونت سے جاری 23 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے ‘لاہور واٹر اینڈ ویسٹ واٹر مینجمنٹ پراجیکٹ’ کا ایک بنیادی حصہ ہے، جس میں لاریچ کالونی سے گلشنِ راوی تک ٹرینچ لیس ٹیکنالوجی کے ذریعے جدید ٹرنک سیور بچھانا بھی شامل ہے تاکہ وسطی لاہور میں برساتی نالوں اور سیوریج پر بوجھ کم کیا جا سکے۔

ایریگیشن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ پنجاب کے ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام ذاکر حسن سیال نے اس منصوبے کو لاہور کے پائیدار مستقبل کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی اور اسلام آباد کی طرح لاہور کو بھی سطحی پانی کے منصوبوں پر منتقل ہونا ہوگا کیونکہ ہمارا زیرِ زمین واٹر بجٹ اس وقت منفی ہو چکا ہے جہاں ری چارجنگ کی نسبت پانی نکالنے کی شرح کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ نہری پانی کی صفائی اور سپلائی سے جہاں واٹر ٹیبل پر دباؤ کم ہوگا، وہی واسا کو بارش کا پانی ذخیرہ کرنے کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے تاکہ پارکوں اور شجرکاری کے لیے زیرِ زمین پانی کا بلاجواز استعمال روکا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ اس پر ابتدائی سرمایہ کاری بڑی ہے، تاہم لاہور کے پینے کے پانی کی پائیدار فراہمی کے لیے اس کے طویل مدتی فوائد کہیں زیادہ ہوں گے۔

شاہراہوں پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا نفاذ: ایکسل لوڈ کی خلاف ورزی پر فیکٹریوں کو جرمانے اور قوانین میں ایک ہفتے میں ترمیم کا حکم

منصور احمد, August 28,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان نے ملک بھر میں ایکسل لوڈ کنٹرول رجیم کے مستقل اور پائیدار حل کے لیے حائل تمام قانونی اور آپریشنل رکاوٹیں دور کرنے کی غرض سے این ایچ اے (نیشنل ہائی وے اتھارٹی) کے قانونی فریم ورک میں ایک ہفتے کے اندر ضروری ترامیم لانے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔ اسلام آباد میں ایکسل لوڈ کنٹرول رجیم سے متعلق ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ قومی شاہراہوں اور موٹرویز کو زیادہ وزن لادنے کی وجہ سے ہونے والی تباہی سے بچانے کے لیے فیکٹریوں پر بھاری جرمانوں کا نفاذ کیا جائے گا، جبکہ جدید ترین کیمروں اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے مکمل خودکار (آٹومیٹڈ) نظام نافذ کیا جائے گا۔ اس اجلاس میں وفاقی سیکرٹری مواصلات، چیئرمین این ایچ اے، آئی جی موٹروے پولیس، ڈی جی این ایل سی اور ڈی جی ایف ڈبلیو او سمیت تمام متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور روڈ انفراسٹرکچر کی تحفظ سے متعلق بریفنگ پیش کی۔

وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے واضح کیا کہ ٹرکوں پر حد سے زیادہ سامان اور وزن لادنے کا سبب بننے والی صنعتی فیکٹریوں کی باقاعدہ نشاندہی کر کے اب ان پر بھی سخت قانونی کارروائی اور جرمانے عائد کیے جائیں گے۔ انہوں نے ٹرانسپورٹرز کو گاڑیوں کے باڈی سٹرکچر پر واضح رہنمائی فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ٹرکوں اور مال بردار گاڑیوں پر ایسے غیر ضروری و بھاری آرائشی سامان کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کی جائے جو گاڑی کا بنیادی وزن بڑھاتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ملک بھر کے تمام وے سٹیشنز کو 100 فیصد خودکار بنانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ تمام مال بردار گاڑیوں کا ان کاٹا پوائنٹس سے گزرنا لازمی ہوگا تاکہ گاڑیوں کی قطاروں اور ٹرانسپورٹرز کے وقت کے ضیاع کو روکا جا سکے، جبکہ موٹرویز کی طرز پر جی ٹی روڈز پر بھی نئے جدید وے سٹیشنز قائم کیے جائیں گے۔

اجلاس کے دوران وفاقی وزیر نے کراچی پورٹ پر این ایچ اے، این ایل سی اور ایف ڈبلیو او کو مشترکہ حکمتِ عملی اپنانے اور خلاف ورزی کرنے والی گاڑیوں کی آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور کیمروں کے ذریعے ٹریکنگ کا نظام بنانے کا حکم دیا۔ بریفنگ میں حکام نے انکشاف کیا کہ اسلام آباد کے قریب سنگجانی کے مقام پر بین الاقوامی معیار کا جدید ماڈل وے اسٹیشن جلد مکمل کر لیا جائے گا، جبکہ گزشتہ 6 ماہ میں ایکسل لوڈ کی 30 ہزار سے زائد سنگین خلاف ورزیاں سامنے آئی ہیں جن کے باعث قومی سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کو اربوں روپے کا شدید نقصان پہنچا۔ عبدالعلیم خان نے ہدایت کی کہ ہر منصوبہ آئندہ 20 سال کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر بنایا جائے اور اعلان کیا کہ وہ ایکسل لوڈ رجیم کے عملی نفاذ کا خود معائنہ کرنے کے لیے موٹرویز کے 10 مختلف پوائنٹس کا سرپرائز ہنگامی دورہ کریں گے۔

ایران اور عمان کا آبنائے ہرمز میں عارضی بحری راہداری کھولنے پر اتفاق: تہران کا اہم اعلان

منصور احمد, August 28,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اگست 2026ء

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی نے تہران میں ایک اہم اور خوش آئند اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان عالمی تجارتی اور بحری نقطہ نظر سے انتہائی اہم اور حساس گزرگاہ آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے ایک عارضی بحری راہداری کھولنے پر حتمی اتفاق ہو گیا ہے۔ ایرانی دفاعی و سکیورٹی قیادت کی جانب سے سامنے آنے والے اس بیان کو خطے میں بحری سفر، تیل کی ترسیل اور عالمی تجارت کو درپیش مشکلات و کشیدگی میں کمی کی جانب ایک انتہائی کلیدی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

میجر جنرل محسن رضائی کے مطابق ایران اور سلطنتِ عمان کی باہمی مشاورت اور سفارتی و سکیورٹی کاوشوں کے نتیجے میں قائم کی جانے والی یہ نئی بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کے بالکل وسط میں واقع ہوگی۔ اس مخصوص راہداری کے ذریعے مختلف ممالک کے تجارتی و مال بردار بحری جہازوں کی بحفاظت آمد و رفت ممکن بنائی جا سکے گی، جس سے عالمی منڈیوں کو تجارتی سامان اور توانائی کی رسد کو بلا تعطل برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے عارضی بحری راہداری کے باقاعدہ قیام کو آبنائے ہرمز جیسے دنیا کے انتہائی اہم سمندری راستے میں تجارتی جہاز رانی کو دوبارہ معمول پر لانے کی جانب ایک غیر معمولی اور اہم پیش رفت سے تعبیر کیا۔

اگرچہ ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری نے اس مفاہمت اور عارضی راہداری کے بنیادی فریم ورک کی تصدیق کر دی ہے، تاہم اس نئی بحری گزرگاہ کے عملی آغاز کی حتمی تاریخ، بحری جہازوں کے اس راستے کو استعمال کرنے کے مخصوص طریقے اور اس عارضی منصوبے کی کل مدت سے متعلق مزید تفصیلات فوری طور پر عام نہیں کی گئی ہیں۔ سفارتی و معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ تہران اور مسقط کے درمیان یہ اتفاقِ رائے خطے کی کشیدہ صورتحال میں توازن پیدا کرنے اور عالمی بحری راستوں کی تحفظ و سلامتی کو یقینی بنانے میں اہم میل پتھر ثابت ہوگا۔

نیپال اور تبت کی سرحد پر تباہ کن سیلاب: ہلاکتیں 489 ہو گئیں، سینکڑوں لاپتہ، جھیل پھٹنے کا نیا خطرہ

محمود احمد, August 28,2026

کھٹمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اگست 2026ء

نیپال اور تبت کے سرحدی خطے میں گلیشیئر انہدام اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد آنے والے تباہ کن سیلاب نے وسیع پیمانے پر ہولناک تباہی مچا دی ہے، جس میں سڑکیں زیرِ آب آ چکی ہیں، پل بہہ گئے ہیں اور درجنوں مکانات ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔ نیپالی حکام اور پولیس کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین معلومات کے مطابق سیلاب کی تباہ کاریوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد بڑھ کر 489 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ سینکڑوں افراد اب بھی لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے رشتہ دار اور امدادی ٹیمیں سرگرم ہیں۔ متاثرہ اضلاع میں فوج، پولیس اور ہنگامی امدادی ادارے ملبہ ہٹانے اور بند سڑکوں کو کھولنے کی کوششوں میں مصروف ہیں تاکہ دور دراز کے علاقوں تک ریسکیو کارروائیاں پہنچائی جا سکیں۔

صورتحال کو مزید سنگین بناتے ہوئے حکام نے ایک نئے تباہ کن سیلابی ریلے کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔ خطرہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بدھ کے روز لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے پہاڑی علاقے میں بننے والی عارضی جھیل کسی بھی وقت پھٹ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں نشیبی علاقوں کی جانب نیا سیلابی ریلہ آئے گا۔ اس خدشے کے پیشِ نظر ہنگامی طور پر لوگوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کو تیز کر دیا گیا ہے اور امدادی ادارے کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہائی الرٹ پر ہیں۔ متاثرین کھلے آسمان تلے اپنے پیاروں کی تلاش اور بنیادی انسانی امداد کی فراہمی کے منتظر ہیں۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کا شام کی خودمختاری کا اعادہ، اسرائیلی حملوں کی مذمت اور سیاسی حل پر زور

محمود احمد, August 28,2026

اقوام متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اگست 2026ء

پاکستان نے شام کی صورتحال میں رونما ہونے والی مثبت پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنازع، تقسیم اور انسانی بحران کے برسوں کے بعد اب شام کو استحکام، بحالی اور معمول کی جانب واپسی کے لیے ایک حقیقی موقع میسر آیا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کی انسانی اور سیاسی صورتحال پر بریفنگ کے دوران اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے زور دیا کہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ اسے محفوظ اور برقرار رکھنے اور عالمی برادری کی جانب سے اس کی بھرپور حمایت کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ سفیر عثمان جدون نے شامی ریاست اور اس کے اداروں کے استحکام کو مستحکم بنانے کی اہمیت اجاگر کی اور شامی ڈیموکریٹک فورسز کو ریاستی ڈھانچے میں ضم کرنے کی جانب پیش رفت کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے جامع، شامی ملکیت اور شامی قیادت میں ایسے سیاسی عمل پر زور دیا جو قومی یکجہتی کو مضبوط کرے۔

شام کے وزیر خارجہ کے حالیہ دورۂ پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ دورہ دونوں برادر ممالک کے دیرینہ تعلقات میں نئی تحریک کا مظہر ہے۔ انہوں نے شام پر عائد معاشی پابندیوں بالخصوص امریکی پابندیوں کے خاتمے، اور خطے میں شام کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعاون اور سرمایہ کاری کا خیرمقدم کیا، تاہم یہ بھی واضح کیا کہ شام میں انسانی صورتحال تاحال تشویشناک ہے اور تعمیرِ نو کے ساتھ امداد کا سلسلہ برقرار رہنا چاہیے۔ انہوں نے دہشت گردی اور داعش جیسے گروہوں کو ابھرتے استحکام کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے مربوط کوششوں پر زور دیا۔ دوسری جانب، شام کے خلاف اسرائیلی فوجی کشیدگی اور ابو الضہور ایئربیس پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے سفیر عثمان جدون نے 1974 کے علیحدگی کے معاہدے کے احترام اور مقبوضہ شامی گولان سمیت تمام علاقوں سے اسرائیلی انخلا کا مطالبہ کیا، اور شام کی خودمختاری و سالمیت کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔

قطری وزیرِ خارجہ کی تہران میں ایرانی ہم منصب سے ملاقات: پاکستان کے بعد قطر کا سفارتی تحرک تیز

کاشف عباسی , August 27,2026

تہران/دوحہ (نیوز اینڈ نیوز) — 27 اگست 2026ء

قطر کے وزیرِ خارجہ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے جمعرات کے روز ایران کے دارالحکومت تہران میں اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ایک اہم اور اعلیٰ سطحی ملاقات کی ہے۔ اگرچہ اس ملاقات کی باضابطہ اور تفصیلی جزیات فوری طور پر عام نہیں کی گئیں، تاہم خطے میں جاری کشیدگی اور سفارتی تحرک کے تناظر میں اسے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ قطری وزیرِ خارجہ کا یہ اہم دورہ پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورۂ تہران کے تمام تر مثبت نتائج اور دو روز بعد سامنے آیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں امن قائم کرنے کے لیے اہم مسلم ممالک متحرک ہو چکے ہیں۔ واضح رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کرنے اور ثالثی کا کردار ادا کرنے والے مرکزی ممالک میں قطر اور پاکستان سرفہرست شامل ہیں۔

اس دورے کے حوالے سے ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے گزشتہ روز اعلان کرتے ہوئے بتایا تھا کہ قطری وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اپنے دورۂ ایران کے دوران تہران کے اعلیٰ حکام کے ساتھ قطر کی جانب سے جاری ثالثی کی کوششوں، سیکیورٹی امور، کشیدگی میں کمی اور خطے میں ہونے والی حالیہ اہم سیاسی و سفارتی پیش رفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔ سفارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان اور قطر کا یکے بعد دیگرے تہران کے ساتھ یہ اعلیٰ سطحی رابطہ امریکہ اور ایران کے مابین درپیش جیو پولیٹیکل مسائل اور مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے جاری کوششوں کو آگے بڑھانے میں انتہائی کلیدی پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔