فیفا ورلڈکپ، لیونل میسی کو ریڈ کارڈ نہ ملنے پر شدید تنازع، ایونٹ کی شفافیت پر انگلیاں اٹھ گئیں

محمود احمد june 18,2026

میامی، امریکہ (انٹرنیشنل اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

جاری فیفا ورلڈکپ ۲۰۲۶ء میں ارجنٹینا اور الجزائر کے مابین کھیلے گئے میچ کے دوران ارجنٹائنی کپتان اور لیجنڈری فٹبالر لیونل میسی کو سنگین فاؤل پر ”ریڈ کارڈ“ نہ دیے جانے کے بعد عالمی ایونٹ کی شفافیت پر گہرے سوالات اٹھ گئے ہیں، میامی سے حاصل ہونے والی اسپورٹس تفصیلات کے مطابق ایک طرف جہاں مشتعل شائقین نے سوشل میڈیا پر فٹبال ورلڈکپ کو ہی باقاعدہ فکسڈ قرار دینا شروع کر دیا ہے، وہیں دوسری جانب معتبر فٹبال تجزیہ کاروں اور مبصرین نے بھی گراؤنڈ ریفری کے اس فیصلے کو سراسر غیر منصفانہ اور یکطرفہ قرار دیا ہے، مشہورِ زمانہ کھیلوں کے نشریاتی ادارے ”ای ایس پی این“ کے پینل مانیٹرنگ اور ماہرین کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے کہنا تھا کہ الجزائری دفاعی کھلاڑی کے پاؤں کے پچھلے حصے پر جان بوجھ کر اپنا بوٹ رکھ کر خطرناک انداز میں گرانے کی پاداش میں قانون کے مطابق لیونل میسی کو ۱۰۰ فیصد ریڈ کارڈ دکھا کر میدان سے باہر بھیجا جانا چاہیے تھا مگر ریفری نے اسے مکمل نظرانداز کیا۔

میچ کے سنسنی خیز ری پلے کو بار بار دیکھنے کے بعد دنیا بھر کے کھیلوں کے پنڈتوں اور فٹبال فینز کا متفقہ طور پر یہ ماننا ہے کہ اس انتہائی پرتشدد حرکت پر اسٹار کھلاڑی کو سخت ترین سزا دی جا سکتی تھی، تاہم پولینڈ سے تعلق رکھنے والے فیلڈ ریفری سزیمون نے اس ہولناک فاؤل پر میسی کو کوئی کارڈ تک نہ دکھایا اور سب سے زیادہ حیرت انگیز بات یہ رہی کہ اس دوران جدید ترین ٹیکنالوجی ”وی اے آر“ (فيديو اسسٹنٹ ریفری) کی جانب سے بھی کوئی واضح مداخلت یا ری ویو سامنے نہیں آیا، فٹبال کے دیوانوں اور صارفین نے سوشل میڈیا پر سنگین دعویٰ کیا ہے کہ ٹورنامنٹ کی ویلیو بڑھانے کے لیے فیفا کی جانب سے جان بوجھ کر اسٹار فٹبالر لیونل میسی کو ریڈ کارڈ کی پابندی سے بچایا جا رہا ہے کیونکہ انتظامیہ اور اسپاٹ لائٹ کمپنیاں ہر حال میں چاہتی ہیں کہ آگے چل کر ورلڈکپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں میسی اور کرسٹیانو رونالڈو کا ایک آخری بڑا تاریخی مقابلہ دیکھنے کو ملے اور اسی لالچ میں الجزائر کے خلاف کھلی ناانصافی کی گئی جس سے فیفا کی ساکھ کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔

آئی سی سی ون ڈے رینکنگ جاری، ڈیرل مچل سرفہرست، ابرار احمد بولرز میں دوسرے نمبر پر برقرار

منصور احمد june 18,2026

لاہور (اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے ون ڈے کرکٹ کی تازہ ترین آفیشل پلیئرز رینکنگ جاری کر دی گئی ہے جس کے مطابق نیوزی لینڈ کے مایہ ناز بیٹر ڈیرل مچل بدستور بیٹنگ فہرست میں دنیا کے پہلے نمبر کے بیٹر بنے ہوئے ہیں، لاہور سے حاصل ہونے والی اسپورٹس تفصیلات کے مطابق آئی سی سی کی نئی رینکنگ کے تحت بھارتی کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز بیٹر ویرات کوہلی دنیا کے دوسرے بہترین بیٹر کے طور پر اپنی پوزیشن پر مضبوطی سے براجمان ہیں جبکہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان بابر اعظم اس نئی ون ڈے رینکنگ میں چھٹے نمبر پر موجود ہیں، دوسری جانب اگر دنیا کے بہترین بولرز کی ون ڈے رینکنگ پر نظر ڈالی جائے تو وہاں افغانستان کے مایہ ناز لیگ اسپنر راشد خان نے شاندار انداز میں اپنی پہلی پوزیشن کو برقرار رکھا ہوا ہے جبکہ پاکستان کے جادوئی اسپنر ابرار احمد اپنی حالیہ بہترین کارکردگی کی بدولت عالمی بولرز کی فہرست میں دوسرے نمبر پر موجود ہیں، اسی طرح پاکستان کے مایہ ناز فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی نے بھی شاندار کارکردگی کے بل بوتے پر رینکنگ میں ایک درجہ ترقی حاصل کر لی ہے جس کے بعد وہ دنیا کے ٹاپ ٹین بولرز کی فہرست میں نویں پوزیشن سنبھالنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

ورلڈکپ میں کرسٹیانو رونالڈو کی مایوس کن کارکردگی، بڑھتی عمر اور گرتی فارم پر شدید تنقید

محمود احمد june 18,2026

ہیوسٹن، امریکہ (انٹرنیشنل اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

فیفا ورلڈکپ ۲۰۲۶ء کے اپنے افتتاحی میچ میں پرتگال کی ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو (ڈی آر کانگو) کے خلاف مایوس کن کارکردگی کے بعد مایہ ناز اسٹار فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو شدید تنقید کی زد میں آ گئے ہیں اور کھیلوں کے ماہرین نے ان کی بڑھتی عمر اور ٹیم میں موجودہ کردار پر گہرے سوالات اٹھانا شروع کر دیے ہیں، امریکہ کی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں کھیلے گئے اس سنسنی خیز میچ میں پرتگال نے ابتدا میں جواؤ نیویس کے بہترین ہیڈر کی بدولت برتری حاصل کر لی تھی اور وٹینیا، برونو فرنینڈس اور برنارڈو سلوا پر مشتمل مضبوط پرتگالی مڈفیلڈ نے کھیل پر مکمل کنٹرول برقرار رکھتے ہوئے حریف کے مقابلے میں زیادہ پاسز بھی کیے مگر اس کے باوجود ٹیم کو حتمی گول کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا رہا، میچ میں ۴۱ سالہ رونالڈو بطور مین اسٹرائیکر بالکل غیر مؤثر ثابت ہوئے اور پورے میچ میں ان کے پاؤں سے صرف ۲۵ بار گیند ٹچ ہوئی جبکہ وہ حریف ٹیم کے نیٹ پر ایک بھی ہدف کے مطابق شاٹ لگانے میں بری طرح ناکام رہے جس کے باعث یہ اہم میچ ۱-۱ سے برابر ختم ہوا اور ڈی آر کانگو نے ورلڈکپ کا ایک قیمتی پوائنٹ حاصل کر لیا۔

اعداد و شمار کے لحاظ سے ڈی آر کانگو نے پرتگال کے مقابلے میں زیادہ شاٹس مارے اور بہتر گولز پوزیشنز پیدا کیں جس سے پرتگالی اٹیک کی سنگین کمزوری واضح ہو گئی، رونالڈو اس میچ میں ۴۱ سال اور ۱۳۲ دن کی عمر کے ساتھ ورلڈکپ کی تاریخ کے معمر ترین آؤٹ فیلڈ کھلاڑی بن گئے ہیں مگر ناقدین کا کہنا ہے کہ عمر کے اثرات اب ان کی کارکردگی پر واضح ہو چکے ہیں اور ماضی کا یہ برق رفتار ونگر اب صرف سینٹر فارورڈ تک محدود ہو کر رہ گیا ہے، تشویشناک بات یہ ہے کہ رونالڈو اپنے حالیہ ورلڈکپس اور یورو کپ کے آخری میچز میں کوئی بھی گول اسکور نہیں کر سکے اور جب وہ الیون کا حصہ ہوتے ہیں تو پرتگال کی گول اوسط اوسطاً ۱.۹ ہوتی ہے جبکہ ان کی عدم موجودگی میں یہ اوسط بڑھ کر ۲.۸ گول تک پہنچ جاتی ہے، دوسری جانب پرتگال کے ہیڈ کوچ روبرٹو مارٹینز نے رونالڈو کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے کہا کہ فٹبال کی تاریخ کے سب سے بڑے اسکورر کو کٹھن میچ میں فیلڈ سے باہر نکالنا عقلمندی نہیں ہے، تاہم اس خراب آغاز کے بعد فٹبال کی دنیا میں یہ بحث اب عروج پر پہنچ چکی ہے کہ آیا رونالڈو پرتگال کی موجودہ ورلڈکپ مہم میں ایک مضبوط طاقت ثابت ہوں گے یا پھر ٹیم کے لیے سب سے کمزور کڑی بن جائیں گے۔

انگلینڈ میں ومبلڈن اوپن ٹینس کا میگا ایونٹ ۲۹ جون سے شروع ہو گا، انعامی رقم میں ریکارڈ اضافہ

محمود احمد june 18,2026

لندن (اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

دنیائے ٹینس کے سب سے معتبر اور رواں سال کے تیسرے بڑے گرینڈ سلام ومبلڈن اوپن ٹینس ٹورنامنٹ کا ۱۳۹ واں ایڈیشن ۲۹ جون سے انگلینڈ کے تاریخی میدانوں میں شروع ہونے جا رہا ہے، لندن سے برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کے حوالے سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق ومبلڈن اوپن کی آرگنائزنگ کمیٹی نے تصدیق کی ہے کہ اس میگا ایونٹ کے کامیاب انعقاد کے لیے تمام تر تیاریاں اپنے عروج پر پہنچ چکی ہیں اور یہ شاندار عالمی ٹورنامنٹ روایتی طور پر آل انگلینڈ لان ٹینس اور کروکٹ کلب ومبلڈن کے مشہورِ زمانہ گراس کورٹ (گھاس کے میدان) پر کھیلا جائے گا جس میں دنیا کے نامور اور مایہ ناز ٹینس اسٹارز ٹائٹل کے حصول کے لیے کورٹ میں آمنے سامنے ہوں گے، انتظامیہ کے مطابق اس بار میگا ایونٹ میں مینز سنگلز، ویمنز سنگلز، مینز ڈبلز، ویمنز ڈبلز اور مکسڈ ڈبلز کے زبردست مقابلے دیکھنے کو ملیں گے، اس بار اٹلی کے نامور ٹینس سٹار جینک سنر مینز سنگلز مقابلوں میں اپنے چیمپیئن ہونے کے اعزاز کا دفاع کریں گے جبکہ خواتین کے سنگلز مقابلوں میں پولینڈ کی مایہ ناز کھلاڑی آئیگا سویٹیک اپنے اعزاز کی بقا کے لیے کورٹ میں اتریں گی جنہوں نے ۲۰۲۵ء کا ویمنز سنگلز ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔

دوسری جانب اگر ڈبلز مقابلوں کی بات کی جائے تو مینز ڈبلز میں جولین کیش اور لائیڈ گلاسپول پر مشتمل برطانوی جوڑی ایک بار پھر ہوم گراؤنڈ پر اپنے اعزاز کے دفاع کے لیے بھرپور کوشش کرے گی جبکہ ویمنز ڈبلز مقابلوں میں روس کی نامور ٹینس کھلاڑی ویرونیکا کدرمیٹووا اور ان کی بیلجیم کی مضبوط جوڑی دار ایلیس مرٹینز اپنے عالمی ٹائٹل کو بچانے کے لیے حریف کھلاڑیوں کے خلاف پنجہ آزمائی کرتی دکھائی دیں گی، شیڈول کے مطابق رواں سال کا یہ تیسرا بڑا گرینڈ سلام میگا ایونٹ ۲۹ جون سے باقاعدہ شروع ہو کر مسلسل ۱۴ دن تک جاری رہنے کے بعد ۱۲ جولائی کو اپنے شاندار اختتام کو پہنچے گا، ومبلڈن ٹورنامنٹ کی انتظامیہ نے دنیا بھر کے کھلاڑیوں کے لیے ایک اور بڑی خوشخبری سناتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اس بار ومبلڈن اوپن ٹینس کے لیے مجموعی طور پر ۶ کروڑ ۴۲ لاکھ پاؤنڈ کی خطیر انعامی رقم مختص کی گئی ہے جو کہ گزشتہ ۲۰۲۵ء کے ایڈیشن کے مقابلے میں پورے ۲۰ فیصد زیادہ ہے اور یہ خطیر رقم ٹورنامنٹ کی طویل تاریخ میں سال بہ سال ہونے والا سب سے بڑا اور تاریخی مالیاتی اضافہ ہے جس نے دنیا بھر کے کھلاڑیوں کا جوش و خروش مزید بڑھا دیا ہے۔

کیپ ورڈی کے اسٹار گول کیپر وزینا کی والدہ کا ویزا منظور، اتوار کو بیٹے کا میچ دیکھنے میامی اسٹیڈیم پہنچیں گی

محمود احمد june 18,2026

میامی، امریکہ (انٹرنیشنل اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

جاری فٹبال ورلڈکپ ۲۰۲۶ء میں اپنی جاندار پرفارمنس کی بدولت راتوں رات شہرت کی بلندیوں کو چھونے والے کیپ ورڈی کے مایہ ناز گول کیپر ”وزینا“ کی والدہ اب اپنے بیٹے کو ایکشن میں دیکھنے کے لیے امریکہ کے مشہورِ زمانہ میامی اسٹیڈیم میں موجود ہوں گی، اسپورٹس ذرائع کے مطابق وزینا کی والدہ اینا کانڈیڈہ بھاری امریکن ویزا فیس کی وجہ سے اب تک امریکہ نہیں جا سکی تھیں لیکن امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے خصوصی طور پر ان کی ویزا فیس معاف کر کے ان کے امریکہ پہنچنے کے ہنگامی انتظامات شروع کر دیے ہیں، یو ایس ہاؤس ڈیموکریٹک لیڈر حکیمی جیفریز نے سوشل میڈیا پر اس بڑی خوشخبری کو شیئر کرتے ہوئے دنیا کو بتایا کہ انہوں نے امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو سے اس اہم معاملے پر خصوصی بات چیت کی تھی کہ وہ اپنے صوابدیدی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے چالیس سالہ اسٹار گول کیپر کی بوڑھی والدہ کو میچ دیکھنے کے لیے امریکہ بلانے میں مدد کریں، حکیمی جیفریز کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ سرکاری اعلان کرتے ہوئے دلی خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ بھاری فیس کی وجہ سے رکی ہوئی وزینا کی والدہ اب اتوار کے روز کیپ ورڈی اور یوراگوئے کے مابین ہونے والا سنسنی خیز مقابلہ دیکھنے کے لیے میامی کے اسٹیڈیم میں موجود ہوں گی کیونکہ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے ان کا ویزا جاری کر کے ان کے فضائی سفر کے انتظامات بھی سنبھال لیے ہیں۔

امریکہ روانگی کی منظوری پر وزینا کی والدیہ اینا کانڈیڈہ نے گہرے جذباتی انداز میں خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت دنیا کی خوش قسمت ترین ماں ہیں اور اپنے بیٹے سے ملنے اور اسے اتنے بڑے عالمی اسٹیج پر کھیلتے ہوئے دیکھنے کے لیے شدید بے چین ہیں، واضح رہے کہ فٹبال ورلڈکپ ۲۰۲۶ء میں شریک کیپ ورڈی سمیت دنیا کے پانچ مخصوص ممالک کے شائقینِ فٹبال کے لیے سخت امریکی امیگریشن پالیسی کے تحت ناقابلِ واپسی ویزا فیس کی مد میں ۱۱ ہزار پاؤنڈ جمع کرانے کی کڑی شرط عائد تھی جو کہ رواں سال مئی کے مہینے میں تبدیل کی گئی تھی، اسی سخت قانون اور بھاری فیس کی وجہ سے وزینا کی فیملی امریکہ آنے سے قاصر تھی لیکن اب امریکی حکومت کے اس بڑے اور ہمدردانہ فیصلے کے بعد اسٹار گول کیپر کی والدہ اتوار کو اسٹیڈیم کے وی آئی پی اسٹینڈز میں بیٹھ کر اپنی ٹیم اور بیٹے کی حوصلہ افزائی کریں گی جس پر کیپ ورڈی کے فٹبال فینز نے امریکی حکام کا شکریہ ادا کیا ہے۔

امریکہ ایران جنگ کا باقاعدہ خاتمہ، وزیراعظم شہباز شریف نے بطور ثالث تاریخی ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ پر دستخط کر دیے

کاشف عباسی ,june 18,2026

اسلام آباد (قومی سرخی/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

امریکہ اور ایران کے مابین طویل عرصے سے جاری شدید ترین کشیدگی، معاشی محاصرے اور ہولناک جنگی صورتحال کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی مخلصانہ اور انتھک سفارتی کوششیں آخرکار رنگ لے آئی ہیں اور دونوں عالمی طاقتوں کو امن کی میز پر لانے کے بعد اب اس تاریخی امن دستاویز کو باقاعدہ ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ کا نام دے کر نافذ کر دیا گیا ہے، دارالحکومت اسلام آباد سے حاصل ہونے والی اعلیٰ سطحی سفارتی تفصیلات کے مطابق اس تاریخی بین الاقوامی معاہدے کی سب سے خاص اور اہم ترین بات یہ ہے کہ اس عظیم امن مشن کا مرکز، میزبان اور ضامن خود پاکستان بنا ہے، پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس تاریخی دستاویز پر بطور ثالث باقاعدہ اپنے دستخط ثبت کر دیے ہیں جو کہ عالمی منظرنامے پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ، جرات مندانہ پوزیشن اور امن پسند برادرانہ کردار کا ایک ناقابلِ تردید اور روشن ترین ثبوت ہے۔

سرکاری باوثوق ذرائع کے مطابق اس تاریخی امن یادداشت پر دونوں ممالک کی اعلیٰ ترین قیادت نے پہلے ہی اپنی حتمی رضامندی ظاہر کرتے ہوئے دستخط کے مراحل مکمل کر لیے تھے، ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے باقاعدہ دستخط موجود ہیں جس کے بعد اس انقلابی معاہدے کو دونوں حکومتوں کی اعلیٰ ترین سطح پر حتمی قانونی و بین الاقوامی حیثیت حاصل ہو گئی ہے، سفارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والا یہ سٹریٹجک معاہدہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور امن کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہو گا جس سے بند پڑی سمندری تجارتی گزرگاہیں ہمیشہ کے لیے بحال ہو جائیں گی اور اس تاریخی کامیابی سے عالمی سطح پر پاکستان کا وقار اور سفارتی قد کاٹھ آسمان کو چھونے لگا ہے جس پر عالمی برادری پاکستان کی اعلیٰ قیادت کو زبردست خراجِ تحسین پیش کر رہی ہے۔

انسانی ہمدردی کے اقدامات سخاوت نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہیں، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا دبنگ موقف

محمود احمد june 18,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

پاکستان نے عالمی برادری کو آئینہ دکھاتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دنیا اس وقت غیر معمولی وسعت اور پیچیدگی کے حامل سنگین ترین انسانی بحران سے دوچار ہے جہاں لاکھوں بے گناہ انسان مختلف جنگی تنازعات، غیر ملکی قبضے، موسمیاتی آفات، بدترین غربت اور غذائی عدم تحفظ کے باعث زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں، نیویارک سے موصولہ اعلیٰ سطحی سفارتی رپورٹ کے مطابق اقوامِ متحدہ کی اقتصادی و سماجی کونسل کے انسانی امور سے متعلق اجلاس کے عمومی مباحثے میں پاکستان کا ٹھوس موقف پیش کرتے ہوئے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ عالمی سطح پر انسانی امداد فراہم کرنا کوئی سخاوت، خیرات یا احسان کا عمل نہیں ہے بلکہ یہ انسانی ضمیر کا اولین تقاضا اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے تحت سب کی مشترکہ قانونی و اخلاقی ذمہ داری ہے، انہوں نے کہا کہ ہمارا اصل امتحان انتہائی سادہ ہے کہ کیا عالمی امداد دنیا میں کسی بھی تعصب اور بلا امتیاز، سیاسی مقاصد سے پاک ہو کر اور بغیر کسی تاخیر یا رکاوٹ کے ہر سچے ضرورت مند تک پہنچ رہی ہے یا نہیں، انہوں نے خبردار کیا کہ مستقل مالی قلت اور فنڈز کی کمی کے باعث مجبور امدادی اداروں کو مظلوموں کے لیے خوراک، رہائش، ادویات اور تحفظ جیسی بنیادی ترین انسانی ضروریات کے درمیان مشکل ترین فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں جو کہ عالمی برادری کے لیے ایک بڑا لمحہ فکریہ ہے۔

پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے عالمی انسانی امداد کے پورے نظام کو زیادہ مؤثر، شفاف اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے سلامتی کونسل اور دنیا کے سامنے پانچ اہم ترین تجاویز پیش کیں، انہوں نے سب سے پہلے اس بات پر زور دیا کہ دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی مسلح تنازعات اور جابرانہ غیر ملکی قبضے کی صورتحال ہے وہاں بین الاقوامی انسانی قوانین کا احترام ہر صورت یقینی بنایا جائے اور طاقتور ممالک کی جانب سے ان قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کو معمول سمجھنے، جواز پیش کرنے یا نظرانداز کرنے کا منافقانہ رویہ اب مستقل طور پر ترک کرنا ہوگا، انہوں نے دوسری تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہر جنگی صورتحال میں محصورین تک محفوظ، تیز رفتار، مستقل اور بلا رکاوٹ انسانی رسائی کو یقینی بنایا جائے، تیسری تجویز میں انہوں نے کہا کہ محدود وسائل کو بکھراؤ سے بچا کر براہِ راست ان مقامات پر پہنچایا جائے جہاں ضرورت سب سے زیادہ ہو، چوتھی تجویز کے تحت انہوں نے زور دیا کہ ہنگامی امداد عارضی طور پر جانیں تو بچاتی ہے لیکن طویل المدتی استحکام کے لیے اس امداد کو ترقیاتی منصوبہ بندی، موسمیاتی موافقت اور آفات سے بچاؤ کی قومی حکمت عملیوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنا لازمی ہے اور خصوصاً کمزور ممالک میں قبل از وقت انتباہی نظام (ارلی وارننگ سسٹم) کو مضبوط بنانا ہو گا، پانچویں تجویز میں انہوں نے واضح کیا کہ انسانی ضروریات میں مستقل کمی لانے کے لیے سیاسی عزم کے ذریعے طویل تنازعات کی بنیادی وجوہات کو حل کرنا ہو گا اور یہ حل اقوامِ متحدہ کے منشور اور سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے مطابق صرف مکالمے، سفارت کاری اور پرامن ذرائع سے ہی نکالا جا سکتا ہے، اپنے خطاب کے اختتام پر سفیر عاصم افتخار نے دنیا کو جرات مندانہ پیغام دیتے ہوئے کہا کہ آج کے اس بدترین انسانی بحران میں ہماری کامیابی کا حقیقی معیار ہمارے کاغذوں پر کیے گئے بڑے بڑے وعدے نہیں بلکہ زمین پر ہماری عملی کارکردگی ہو گی۔

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا بڑا بیان، امن فیصلوں کی میز پر خواتین کی موجودگی ناگزیر قرار

محمود احمد june 18,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

اسلامی جمہوریہ پاکستان نے خواتین کو امن کے قیام کے لیے ایک بنیادی اور اہم فریق قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کی فعال شمولیت کے بغیر قائم ہونے والا کوئی بھی امن کمزور بنیادوں پر استوار ہوتا ہے، اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز نیویارک سے حاصل ہونے والی اعلیٰ سطحی سفارتی تفصیلات کے مطابق اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل (سیکیورٹی کونسل) کے کھلے مباحثے برائے ”خواتین، امن اور سلامتی“ میں قومی بیان دیتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا کہ پائیدار امن کے لیے خواتین کی دانش، قیادت اور عملی تجربات ناگزیر ہیں اور ان کی جگہ فیصلہ سازی کے عمل کے حاشیوں پر نہیں بلکہ اس مرکزی میز پر ہونی چاہیے جہاں دنیا کے اہم ترین فیصلے کیے جاتے ہیں، انہوں نے کہا کہ یہ صرف انصاف یا مساوات کا مسئلہ نہیں بلکہ مؤثریت کا سوال بھی ہے کیونکہ جن امن معاہدوں میں خواتین شامل ہوتی ہیں وہ عموماً کمیونٹیز کی ضروریات کا بہتر احاطہ کرتے ہیں اور زیادہ دیرپا ثابت ہوتے ہیں، انہوں نے اس بات پر گہرے افسوس کا اظہار کیا کہ خواتین، امن اور سلامتی کا ایجنڈا سلامتی کونسل کے سب سے انقلابی وعدوں میں سے ایک ہونے کے باوجود تاحال سب سے نامکمل وعدوں میں شمار ہوتا ہے جس کے باعث خواتین آج بھی تنازعات، غیر ملکی قبضے، غربت اور جنسی تشدد کے سنگین نتائج بھگت رہی ہیں۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے اس اہم ایجنڈے کے فروغ کے لیے پاکستان کے اصولی عزم کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستانی خواتین نے سفارت کاری، سیاست، عوامی خدمت، قانون نافذ کرنے والے اداروں، سول سوسائٹی اور خاص طور پر اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں ہمیشہ اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور جرات کا لوہا منوایا ہے، پاکستان کے مستقل مندوب نے اس عالمی ایجنڈے کی کامیابی کے لیے چند کلیدی ترجیحات بھی دنیا کے سامنے رکھیں جن میں اقوامِ متحدہ اور علاقائی تنظیموں کی ثالثی ٹیموں اور مذاکراتی وفود میں خواتین کی منظم شمولیت کو یقینی بنانا شامل ہے، انہوں نے سیکیورٹی کونسل پر زور دیا کہ وہ خواتین امن سازوں، انسانی حقوق کی کارکنان اور خاتون صحافیوں کو آن لائن ہراسانی، دھمکیوں اور تشدد سے بچانے کے لیے قبل از وقت انتباہی نظام جیسے مؤثر اقدامات کرے، انہوں نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ خواتین کی سیاسی و سماجی شرکت کے لیے مستقل اور لچکدار فنڈز فراہم کریں اور تعمیرِ نو کے منصوبوں میں خواتین کی تعلیم، صحت، روزگار اور انصاف تک رسائی کو اولیت دیں، اپنے خطاب کے اختتام پر سفیر عاصم افتخار احمد نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ اگر دنیا حقیقی معنوں میں پائیدار امن چاہتی ہے تو خواتین کو ابتدا ہی سے تمام فیصلہ سازی کے عمل کا مستقل حصہ بنانا ہو گا کیونکہ وہ خاندانوں اور آنے والی نسلوں کے خدشات کو ان کمروں تک لے کر آتی ہیں جہاں اکثر طاقت کی سیاست غالب ہوتی ہے۔

موٹروے پولیس کی ایمانداری، 22 لاکھ روپے کے گمشدہ زیورات اصل مالک کو لوٹا دیے

منصور احمد june 18,2026

اسلام آباد (بیورو رپورٹ/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس نے ایمانداری، فرض شناسی اور عوامی خدمت کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے سڑک پر گرا ہوا تقریباً 22 لاکھ روپے مالیت کے سونے کے زیورات اور قیمتی سامان سے بھرا بیگ تلاش کر کے اس کے اصل مالک کے حوالے کر دیا ہے، موٹروے پولیس کی مرکزی پریس ریلیز کے مطابق گوادر کے قریب شاہراہ پر دورانِ پیٹرولنگ افسران کو ایک لاوارث بیگ ملا جس میں قیمتی سونا موجود تھا، موٹروے پولیس کے اہلکاروں نے فوری طور پر بیگ کو اپنی تحویل میں لے کر خفیہ طور پر مالک کی تلاش شروع کی، ابتدائی طور پر سراغ نہ ملنے پر پولیس نے بیگ کے اندر موجود سامان کی تفصیلات کو صیغہ راز میں رکھتے ہوئے سوشل میڈیا اور مقامی ذرائع پر گمشدہ بیگ کی تشہیر کی تاکہ کوئی جعلی شخص دعویٰ نہ کر سکے، اس مہم کے بعد اصل مالک نے پولیس سے رابطہ کر کے بیگ کی سو فیصد درست نشاندہی اور تمام قانونی ثبوت فراہم کیے جس پر سارا سامان بحفاظت ان کے سپرد کر دیا گیا۔

بیگ کے مالک نے قیمتی اثاثے کی واپسی پر انتہائی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ سفر کے دوران یہ بیگ نادانستہ طور پر سڑک پر گر گیا تھا جس کا انہیں علم بھی نہ ہو سکا، انہوں نے موٹروے پولیس کی بے مثال ایمانداری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو دل کھول کر خراجِ تحسین پیش کیا، اس عظیم الشان اور قابلِ ستائش کارکردگی پر ڈی آئی جی ویسٹ زون بلوچستان ڈاکٹر قریش خان نے ڈیوٹی پر مامور پولیس افسران کے لیے نقد انعام اور تعریفی اسناد دینے کا باقاعدہ اعلان کیا ہے، ڈی آئی جی ڈاکٹر قریش خان کا اس موقع پر کہنا تھا کہ موٹروے پولیس شاہراہوں پر عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ہمیشہ اپنی اولین ذمہ داری سمجھتی ہے اور ہمارے جرات مند افسران ہر حال میں قانون کی پاسداری، عوامی خدمت اور محکمہ جاتی اعتماد کے فروغ کے لیے اپنی یہ مقدس ذمہ داریاں اسی احسن انداز میں انجام دیتے رہیں گے۔

فیفا ورلڈکپ، آسٹریا کی اردن کو شکست، ارجنٹینا اور ناروے کی بھی شاندار فتوحات

محمود احمد june 17,2026

ویانا (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 17 جون 2026ء

بین الاقوامی فٹبال ورلڈکپ ۲۰۲۶ء کے ایک انتہائی اہم اور سنسنی خیز میچ میں آسٹریا نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اردن کی ٹیم کو ۱ کے مقابلے میں ۳ گول سے شکست دے دی ہے، ویانا سے حاصل ہونے والی اسپورٹس رپورٹس کے مطابق میچ کے آغاز سے ہی آسٹریا کے فارورڈز نے اردن کے دفاعی حصار پر تابڑ توڑ حملے کیے، آسٹریا کی جانب سے پہلا گول اسکمڈ نے اسکور کر کے ٹیم کو برتری دلائی جبکہ دوسرا گول یزان العرب اور تیسرا فیصلہ کن گول مارکو نے نیٹ میں پہنچا کر اپنی ٹیم کی جیت کو یقینی بنا دیا، دوسری طرف اردن کی فٹبال ٹیم میچ میں وہ جاندار کارکردگی نہ دکھا سکی جس کی ان سے امید تھی اور ان کی جانب سے میچ کا واحد اور تسلی بخش گول علی الوان نے اسکور کیا، آسٹریا کے مضبوط دفاع کے باعث اردن کے کھلاڑی مزید کوئی گول کرنے میں ناکام رہے اور یوں آسٹریا نے یہ میچ آسانی سے اپنے نام کر لیا۔

عالمی کپ کے سلسلے میں کھیلے گئے دیگر میچز کی تفصیلات کے مطابق فٹبال کی دنیا کی سب سے مقبول ٹیم ارجنٹینا نے اپنے ایک یکطرفہ مقابلے میں الجزائر کی ٹیم کو ۰-۳ کے واضح فرق سے دھول چٹا دی ہے، ارجنٹینا کی اس فتح میں ان کے مایہ ناز کپتان اور لیجنڈری فٹبالر لیونل میسی نے روایتی جادوئی کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے تینوں گول خود اسکور کیے اور میدان میں شاندار ہیٹرک مکمل کر کے اپنی ٹیم کو اہم کامیابی دلائی، اسی طرح ورلڈکپ کے ایک اور میچ میں ناروے کی ٹیم نے اسٹار فٹبالر ایرلنگ ہالینڈ کی طوفانی کارکردگی کی بدولت عراق کی ٹیم کو ۱ کے مقابلے میں ۴ گول کے بھاری مارجن سے عبرتناک شکست سے دوچار کیا ہے، ناروے کی اس بڑی جیت میں ایرلنگ ہالینڈ نے انفرادی طور پر ۲ شاندار گول داغ کر اپنی ٹیم کی پوزیشن کو مستحکم کیا جس کے سامنے عراقی دفاع بالکل ریت کی دیوار ثابت ہوا اور وہ پورے میچ میں صرف ایک ہی گول اسکور کر پائے۔

بلائنڈ کرکٹ سپر لیگ میں خیبرپختونخوا کی فتح، پنجاب اور بلوچستان کا میچ بے نتیجہ

محمود احمد june 17,2026

لاہور (اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 17 جون 2026ء

پاکستان بلائنڈ کرکٹ کونسل (پی بی سی سی) کے زیرِ اہتمام ایبٹ آباد میں جاری نویں ٹی ٹونٹی بلائنڈ کرکٹ سپر لیگ کے تیسرے روز کھیلے گئے پانچویں اہم میچ میں خیبرپختونخوا نے سندھ کی ٹیم کو ۵۵ رنز سے عبرتناک شکست دے دی ہے، اسپورٹس ذرائع کے مطابق سندھ کی ٹیم نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا جو کہ سودمند ثابت نہ ہوا اور خیبرپختونخوا نے مقررہ ۲۰ اوورز میں صرف ایک وکٹ کے نقصان پر ۲۷۹ رنز کا ہمالیہ جیسا بڑا اسکور کھڑا کر دیا، خیبرپختونخوا کی جانب سے بدر منیر نے شاندار اور طوفانی بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے محض ۶۷ گیندوں پر ۱۹ چوکوں اور ۵ چھکوں کی مدد سے ۱۴۷ رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلی جبکہ اکمل حیات ناصر نے ۵۷ گیندوں پر ۷۷ رنز بنا کر ان کا بھرپور ساتھ دیا، ان دونوں اوپنرز نے پہلی وکٹ کی شراکت میں ۲۶۸ رنز کی ریکارڈ پارٹنرشپ قائم کی، ۲۸۰ رنز کے ہدف کے تعاقب میں سندھ کی ٹیم نے بھرپور مزاحمت تو کی لیکن وہ مقررہ ۲۰ اوورز میں ۶ وکٹوں پر ۲۲۴ رنز ہی بنا سکی، سندھ کی طرف سے محمد صفدر نے ۸۴ اور ظفر اقبال نے ۵۲ رنز کی اننگز کھیلی جبکہ خیبرپختونخوا کے بولر محمد ادریس سلیم نے ۳ اور جنید خان نے ۲ وکٹیں حاصل کیں، بدر منیر کو ان کی شاندار سنچری پر میچ کا بہترین کھلاڑی (پلیئر آف دی میچ) قرار دیا گیا۔

ایبٹ آباد میں کھیلے گئے دن کے دوسرے میچ میں پنجاب اور بلوچستان کے مابین سنسنی خیز مقابلہ شدید اور اچانک شروع ہونے والی بارش کے باعث بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گیا ہے، اس میچ میں بلوچستان نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا تھا جس پر پنجاب کی ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ ۲۰ اوورز میں ۳ وکٹوں کے نقصان پر ۲۰۳ رنز کا جاندار اسکور بنایا، پنجاب کی جانب سے نثار علی نے ۵۸ گیندوں پر ۸۰ رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلی جبکہ مطیع اللہ نے ۳۲ گیندوں پر ۶۳ رنز کی تیز رفتار اننگز سے ٹیم پوزیشن کو مضبوط کیا، بلوچستان کی طرف سے بولنگ میں محمد نعمان اور اسرار الحسن نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا، پنجاب کی اننگز جیسے ہی مکمل ہوئی تو ایبٹ آباد کا موسم اچانک تبدیل ہو گیا اور اتنی تیز موصلادھار بارش شروع ہو گئی کہ بلوچستان کی ٹیم اپنی اننگز کا آغاز بھی نہ کر سکی، کافی دیر انتظار کے بعد بھی جب موسم بہتر نہ ہوا اور گراؤنڈ کھیلنے کے قابل نہ رہا تو امپائرز نے میچ کو باقاعدہ منسوخ کرتے ہوئے ڈرا قرار دے دیا اور دونوں ٹیموں کو برابر پوائنٹس مل گئے۔

بلوچستان سے سندھ ایرانی تیل کی خطرناک سمگلنگ، پچاس ڈگری گرمی اور عسکری تنازعے کے سائے

کاشف عباسی ,june 17,2026

مستونگ (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

پاکستان کے رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے اور غریب ترین صوبے بلوچستان میں روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہونے کے باعث لاکھوں نوجوان پچاس ڈگری سینٹی گریڈ کی ہولناک گرمی اور مسلح تنازعات کے سائے میں ایران سے پیٹرولیم مصنوعات کی خطرناک سمگلنگ کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں، مستونگ اور کوئٹہ کے سرحدی ذرائع سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق حالیہ مہینوں میں ایران کے خلاف امریکہ و اسرائیل کی جنگ کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی سپلائی شدید متاثر ہوئی ہے جس سے عالمی مارکیٹ میں ایندھن مہنگا ہو گیا ہے اور اس سنگین صورتحال نے پاکستان میں سستے ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کی طلب میں ریکارڈ اضافہ کر دیا ہے، بلوچستان کے ہزاروں سمگلروں کی طرح ”مزار“ نامی ایک مقامی موٹر سائیکل سوار (جس کا اصل نام سکیورٹی وجوہات پر پوشیدہ رکھا گیا ہے) نے بتایا کہ وہ اپنے بڑے خاندان کا واحد کفیل ہے اور شدید خشک سالی کے باعث کھیتی باڑی تباہ ہونے پر وہ مجبوراً اس جان لیوا کام کا حصہ بنا ہے، مزار نے مستونگ کے کھلے بازار سے اپنی خستہ حال موٹر سائیکل پر ۷۰ لیٹر پیٹرول سے بھرے پانچ بڑے پلاسٹک کے ڈبے خطرناک انداز میں لاد رکھے ہیں جن کا مجموعی وزن لگ بھگ ۲۷۲ کلوگرام بنتا ہے اور وہ اب یہ سستا ایندھن بیچنے کے لیے ۲۱۸ میل طویل سفر طے کر کے صوبہ سندھ کی غیر رسمی مارکیٹوں کی طرف روانہ ہو رہا ہے۔

یہ طویل سفر انتہائی ہولناک اور جان لیوا خطرات سے گھرا ہوا ہے کیونکہ موسم گرما میں بلوچستان کا درجہ حرارت اکثر ۵۰ ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے جس کی شدید تپش اور حرارت کی وجہ سے پلاسٹک کے یہ بڑے کنٹینرز پھول کر پھٹ جاتے ہیں اور تیل کے رساؤ سے ہونے والے دھماکوں میں کئی سمگلر زندہ جل کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، اس کے علاوہ یہ پورا علاقہ گذشتہ کئی دہائیوں سے پاکستانی فورسز اور علیحدگی پسند مسلح گروہوں کے مابین شدید جھڑپوں کی زد میں ہے جس کے باعث سڑکوں پر ہر وقت عسکری تنازعے کا خوف رہتا ہے، جاپانی خبر رساں ادارے ”نکئی ایشیا“ کے مطابق پاکستان کی انٹیلیجنس ایجنسیوں کی ایک لیک رپورٹ کے مطابق ہر سال تقریباً ایک ارب ڈالر مالیت کا ایندھن ایران سے پاکستان سمگل کیا جاتا ہے اور بلوچستان کے لگ بھگ ۲۴ لاکھ افراد براہِ راست اس غیر قانونی کاروبار سے جڑے ہوئے ہیں، رواں سال مئی میں پاکستان کی پانچ بڑی آئل ریفائنریوں اور آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل نے حکومت کو ہنگامی خطوط لکھ کر آگاہ کیا تھا کہ اس اندھا دھند سمگلنگ کے باعث ملک میں قانونی ایندھن کی فروخت گزشتہ ۲۷ برس کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے جس سے ملکی معیشت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔

اگرچہ پاکستان میں ایندھن کی یہ سمگلنگ سراسر غیر قانونی ہے جس کی سزا بھاری جرمانے، گاڑیوں کی ضبطی اور طویل قید ہے، تاہم کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر فدا حسین دشتی کا کہنا ہے کہ یہ سرگرمی اس پسماندہ خطے کی معیشت کے لیے اب ناگزیر بن چکی ہے کیونکہ یہاں روزگار کے متبادل مواقع بالکل ختم ہو چکے ہیں، انہوں نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان پاکستان کے کل رقبے کا ۴۴ فیصد ہونے اور معدنی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود دنیا کے غریب ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے جس کی وجہ سے شدید عوامی غم و غصہ پایا جاتا ہے، فدا حسین دشتی کے مطابق یہاں ایم اے کی ڈگری رکھنے والا تعلیم یافتہ نوجوان بھی نوکری نہ ملنے پر آخرکار موٹر سائیکل پر تیل کی سمگلنگ کے اسی پرخطر کاروبار کا حصہ بننے پر مجبور ہے کیونکہ ان کے پاس زندہ رہنے کا کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں بچا۔

امریکہ ایران معاہدے پر نیتن یاہو مایوس، صدر ٹرمپ کا اسرائیل کو دانشمندی برتنے کا مشورہ


کاشف عباسی ,june 17,2026

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 17 جون 2026ء
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے تاریخی معاہدے پر اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کو شدید مایوسی ہوئی ہے، جی سیون سمٹ کے موقع پر ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے واضح الفاظ میں کہا کہ اب اسرائیل کو چاہیے کہ وہ لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے ساتھ بہتر برتاؤ کرے اور کوئی بھی اگلا فیصلہ کرتے ہوئے انتہائی دانشمندی کا مظاہرہ کرے، انہوں نے عالمی برادری کو مائیک پر بتایا کہ اس خطے میں امن کی بحالی اور اس تاریخی کامیابی کے پیچھے پاکستان اور قطر کا بہت بڑا ہاتھ ہے، پاکستانی وزیراعظم نے انہیں پہلے ہی بتا دیا تھا کہ ایک ایسا بڑا کام ہونے جا رہا ہے جس پر کسی کو یقین نہیں آئے گا، صدر ٹرمپ نے اس عظیم ترین امن مشن اور سفارتی مذاکرات کے کامیاب انعقاد پر پاکستان، قطر اور سعودی عرب کے کلیدی کردار کو سراہتے ہوئے اپنے تمام بین الاقوامی شراکت داروں کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کو بڑی خوشخبری سناتے ہوئے اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ حتمی اور باقاعدہ معاہدہ رواں اتوار تک مکمل ہو جائے گا جس کے فوراً بعد خطے کے تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی ہو جائے گی اور بند پڑی آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے ہمیشہ کے لیے کھول دیا جائے گا، انہوں نے صاف کہا کہ اگر امریکہ ایران کے ساتھ یہ ڈیل نہ کرتا تو آبنائے ہرمز کا کھلنا ناممکن تھا، صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران اس بات پر مکمل راضی ہو چکا ہے کہ وہ مستقبل میں نہ تو کبھی ایٹم بم بنائے گا اور نہ ہی اسے حاصل کرنے کی کوشش کرے گا جبکہ امریکی سیٹلائٹ کے ذریعے ایران کی تمام جوہری تنصیبات اور یورینیم کے ذخائر کی چوبیس گھنٹے کڑی نگرانی کی جا رہی ہے اور ہم ان کے جوہری مواد کا سراغ لگا لیں گے، انہوں نے ایرانی حکام کو سخت اور زیرک مذاکرات کار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگلے مرحلے میں ایرانی میزائل پروگرام اور اس سے وابستہ دیگر مسلح گروہوں کے معاملے پر بھی تفصیلی بات چیت ہو گی، پریس کانفرنس کے دوران روس یوکرین جنگ پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یوکرین سے زیادہ اس وقت روس اپنے فوجیوں سے محروم ہو رہا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ یوکرین اور روس دونوں ہی یہ نہیں جانتے کہ آپس میں امن ڈیل کیسے کی جاتی ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی معاہدہ طے، 14 اہم نکات منظرِ عام پر آگئے

محمود احمد june 17,2026

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 17 جون 2026ء

امریکی میڈیا اور معتبر جریدے بلومبرگ نے امریکہ اور ایران کے مابین طے پانے والے اہم ترین ایم او یو فریم ورک کے 14 خفیہ اور انقلابی نکات کی مکمل تفصیلات جاری کر دی ہیں جس کے تحت لبنان سمیت تمام علاقائی محاذوں پر فوری جنگ بندی کی جائے گی اور حتمی معاہدے کے تحت ایران کے افزودہ جوہری مواد کے حوالے سے کڑی شقیں شامل کی جائیں گی، واشنگٹن سے حاصل ہونے والی عالمی سفارتی تفصیلات کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان آئندہ ۶۰ روز کے اندر ایک بڑے حتمی معاہدے تک پہنچنے پر مکمل اتفاق ہو گیا ہے اور دونوں ممالک نے جوہری امور سمیت طویل عرصے سے عائد اقتصادی پابندیوں کے خاتمے پر ابتدائی رضامندی ظاہر کر دی ہے، طے پانے والے نکات کے مطابق خطے کے تمام فریقین ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں کسی بھی قسم کی مداخلت نہیں کریں گے جبکہ اگلے 30 دنوں کے اندر سمندری حدود اور تجارتی راستوں پر لگی بحری ناکہ بندی کا مکمل طور پر خاتمہ کر دیا جائے گا اور دفاعی توازن برقرار رکھنے کے لیے سٹریٹجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز میں امریکی افواج کی تعداد میں مزید کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا، امریکہ نے تہران سے تمام معاشی پابندیاں مرحلہ وار اٹھانے کا پکا وعدہ کیا ہے جس کے بعد ایران کے منجمد اثاثے بحال ہو جائیں گے اور اسے عالمی مارکیٹ میں اپنے تیل کی برآمدات کی سو فیصد اجازت ہو گی جبکہ تجارت اور توانائی کے تمام بند روٹس بھی بحال کر دیے جائیں گے، امریکی نشریاتی ادارے سی این این کا دعویٰ ہے کہ امریکہ ایران کی معاشی بحالی کے لیے 300 ارب ڈالر کے خطیر مالیاتی پیکج کا اعلان بھی کرے گا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جی سیون سمٹ کے اہم موقع پر متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے ایک خصوصی ملاقات کی ہے، واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہمارا بنیادی مقصد شروع دن سے ایران کو خطرناک جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے روکنا تھا جسے ہم نے کامیابی سے حاصل کر لیا ہے، انہوں نے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز جمعے کے روز تک بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر کھول دی جائے گی، ایران خود یہ مذاکرات چاہتا ہے تاکہ دنیا میں ایک نارمل اور پرامن ملک کی طرح رہ سکے، صدر ٹرمپ نے ایرانی محاصرے کو کامیاب قرار دیتے ہوئے امریکی بحریہ کو مبارکباد دی اور کہا کہ ایران ابراہم اکارڈ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھا مگر اب امید ہے کہ اس امن معاہدے میں مزید اسلامی ممالک بھی شامل ہوں گے، انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ ایران کو کوئی زبردستی کی رقم ادا کرنے کا پابند نہیں ہے بلکہ وہ بہت جلد ایک بڑی پریس کانفرنس میں اس تاریخی معاہدے کا ایک ایک لفظ میڈیا کے سامنے لائیں گے تاکہ درست کوریج ہو سکے اور قوی امید ہے کہ ایران کے ساتھ اس ڈیل کا دوسرا مرحلہ بھی جلد ہی کامیابی سے مکمل ہو جائے گا۔

آئی سی سی ٹی ٹونٹی رینکنگ جاری، پاکستانی بلے بازوں اور بولرز کی بڑی تنزلی

منصور احمد june 17,2026

دبئی (اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 17 جون 2026ء

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے بدھ کے روز جاری کردہ تازہ ترین ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل رینکنگ میں پاکستانی کرکٹرز کو شدید تنزلی کا سامنا کرنا پڑا ہے، دبئی سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق بلے بازوں کی فہرست میں اوپنر صاحبزادہ فرحان ٹاپ تھری میں اپنی پوزیشن برقرار رکھنے والے واحد پاکستانی بلے باز ہیں جو بدستور تیسرے نمبر پر براجمان ہیں جبکہ ان کے علاوہ پاکستان کے باقی تمام نمایاں بلے بازوں کی رینکنگ گر گئی ہے، تازہ ترین اپ ڈیٹ کے مطابق صائم ایوب دو درجے گر کر ۳۶ ویں سے ۳۸ ویں نمبر پر پہنچ گئے ہیں، سابق کپتان بابر اعظم بھی تین درجے تنزلی کے بعد ۴۱ ویں نمبر پر چلے گئے ہیں جبکہ ٹی ٹونٹی ٹیم کے موجودہ کپتان سلمان علی آغا دو درجے گر کر ۴۳ ویں پوزیشن پر آ گئے ہیں، اسی طرح جارح مزاج بیٹر فخر زمان بھی ایک پوزیشن سے محروم ہو کر ۷۲ ویں نمبر پر چلے گئے ہیں، بیٹنگ رینکنگ میں بھارت کے ابھیشیک شرما پہلے اور ایشان کشن دوسرے نمبر پر موجود ہیں۔

دوسری جانب اگر بولنگ رینکنگ کی بات کی جائے تو وہاں بھی زیادہ تر پاکستانی بولرز کا گراف نیچے گرا ہے، جہاں اسپنر محمد نواز ۱۱ ویں اور سلمان مرزا ۲۰ ویں نمبر پر برقرار ہیں، وہی مایہ ناز فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی ایک درجہ تنزلی کے بعد ۳۱ ویں پوزیشن پر چلے گئے ہیں، اسپنر عثمان طارق دو درجے گر کر ۶۱ ویں اور سفیان مقیم ایک درجہ تنزلی کے ساتھ ۶۸ ویں نمبر پر پہنچ گئے ہیں جبکہ صائم ایوب اور شاداب خان بالترتیب ۷۲ ویں اور ۷۴ ویں نمبر پر موجود ہیں، پاکستانی بولرز میں صرف حارث رؤف واحد کھلاڑی رہے جن کی رینکنگ میں بہتری آئی اور وہ ایک درجہ ترقی پا کر ۸۹ ویں نمبر پر پہنچ گئے ہیں، بولنگ کی عالمی رینکنگ میں افغانستان کے راشد خان پہلے اور بھارت کے ورون چکرا ورتھی دوسرے نمبر پر ہیں جبکہ پاکستان کے مسٹری اسپنر ابرار احمد بدستور تیسری پوزیشن پر مضبوطی سے براجمان ہیں۔

کلمہ طیبہ کے تقدس اور احترام کا شاندار عالمی مظاہرہ، فٹبال کی سب سے بڑی تنظیم فیفا نے سعودی عرب کے قومی پرچم کے لیے منفرد اور الگ پروٹوکول اختیار کر لیا، ورلڈکپ ۲۰۲۶ء کے دوران دیگر ممالک کے جھنڈوں کی طرح میدان کی گھاس پر بچھانے کے بجائے خصوصی طور پر بلند مقام پر آویزاں کرنے کا تاریخی فیصلہ، میامی اسٹیڈیم میں مسلم امہ کے جذبات کی لاج رکھ لی گئی، یوراگوئے اور سعودی عرب کے مابین سنسنی خیز مقابلہ ایک ایک گول سے برابر

منصور احمد june 17,2026

میامی، امریکہ (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 17 جون 2026ء

بین الاقوامی فٹبال ورلڈکپ ۲۰۲۶ء کے میدانوں سے مسلم امہ اور دنیا بھر کے شائقین کے لیے ایک انتہائی خوبصورت اور ایمان افروز خبر سامنے آئی ہے جہاں فٹبال کی سب سے بڑی عالمی تنظیم (فیفا) نے کلمہ طیبہ کے غیر معمولی احترام اور تقدس کو مدنظر رکھتے ہوئے سعودی عرب کے قومی پرچم کے لیے اپنا دہائیوں پرانا روایتی پری میچ پروٹوکول یکسر تبدیل کر دیا ہے، امریکہ کے شہر میامی سے حاصل ہونے والی خصوصی کھیلوں کی تفصیلات کے مطابق فیفا فٹبال ورلڈکپ ۲۰۲۶ء کے گروپ میچز کے دوران سعودی عرب کے قومی پرچم کو دیگر تمام ممالک کے جھنڈوں کی طرح میچ شروع ہونے سے قبل اسٹیڈیم کے گراؤنڈ پر بچھانے یا پھیلانے کے بجائے خصوصی طور پر ایک انتہائی بلند اور محترم مقام پر آویزاں کیا گیا جس نے دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں اور کھیلوں کے شائقین کی توجہ اور دل جیت لیے ہیں، عام طور پر فیفا کے مروجہ انٹرنیشنل پری میچ پروٹوکول کے تحت میچ شروع ہونے سے قبل دونوں شریک ممالک کے دیو ہیکل پرچموں کو گراؤنڈ کی گھاس پر چٹائی کی طرح پھیلایا جاتا ہے تاہم سعودی عرب کے پرچم کے معاملے میں اس بار ایک بالکل منفرد، معزز اور مختلف طرزِ عمل اختیار کیا گیا جو کہ عالمی سطح پر مذہبی رواداری کی ایک بہترین مثال ہے۔

کھیلوں کے بین الاقوامی مبصرین کے مطابق فیفا کی جانب سے اس تاریخی تبدیلی کی بنیادی اور اصل وجہ سعودی عرب کے قومی پرچم پر درج مقدس ”کلمہ طیبہ“ ہے جو کہ دینِ اسلام کے بنیادی ترین عقیدے اور توحید و رسالت کی نمائندگی کرتا ہے، سعودی عرب کے ملکی قوانین، اسلامی شعائر اور دیرینہ مذہبی روایات کے مطابق کلمہ طیبہ والے اس قومی پرچم کو کسی بھی صورت زمین پر رکھنا، اس کے اوپر سے گزرنا، پاؤں لگانا یا اسے کسی بھی ایسے انداز میں استعمال کرنا جس سے ذرا سا بھی بے حرمتی یا بے توقیری کا تاثر پیدا ہو، انتہائی نامناسب اور سخت ممنوع سمجھا جاتا ہے، اسی شدید مذہبی حساسیت اور مسلمانوں کے پاک جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹورنامنٹ کی مرکزی انتظامیہ اور فیفا حکام نے اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سعودی پرچم کو زمین کی مٹی یا گھاس پر رکھنے کے بجائے اسٹیڈیم میں ایک مخصوص، معزز اور بلند مقام پر نصب کیا تاکہ اس کے تقدس، حرمت اور احترام کو سو فیصد برقرار رکھا جا سکے۔

دوسری جانب اگر میدان کے اندر کھیل کے مابین ہونے والے جوڑ کی بات کی جائے تو فیفا فٹبال ورلڈکپ ۲۰۲۶ء کے اس انتہائی اہم میچ میں سعودی عرب اور عالمی شہرت یافتہ ٹیم یوراگوئے کے درمیان کھیلا گیا معرکہ سخت مقابلے کے بعد ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ہی ڈرا ہو گیا ہے، امریکہ کے مشہورِ زمانہ میامی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے فیفا ورلڈکپ ۲۰۲۶ء کے گروپ ”ایچ“ کے اس اعصاب شکن اور سنسنی خیز میچ میں یوراگوئے اور سعودی عرب کے کھلاڑیوں نے ایک دوسرے کے گول پوسٹ پر تابڑ توڑ حملے کیے تاہم مقررہ وقت کے خاتمے تک دونوں ٹیموں کے درمیان مقابلہ ۱-۱ گول سے برابر رہا اور دونوں ممالک کو ایک ایک پوائنٹ پر ہی اکتفا کرنا پڑا، اسٹیڈیم میں موجود ہزاروں تماشائیوں نے جہاں سعودی فٹبال ٹیم کی جاندار پرفارمنس کو سراہا، وہی پرچم کے احترام میں فیفا کے اس بڑے فیصلے کی بھی کھل کر تعریف کی ہے۔

ریاستِ قطر نے غیر ملکی تارکینِ وطن کے لیے ویزہ اور اقامہ قوانین میں اچانک بڑی اور سخت تبدیلیاں کر دیں، پاکستانیوں سمیت تمام غیر ملکیوں کے لیے اقامہ منسوخی کے بعد قطر میں رکنے کی رعایتی مدت تیس دن سے گھٹا کر صرف چودہ دن مقرر، مقررہ وقت پر ملک نہ چھوڑنے پر روزانہ کے حساب سے بھاری جرمانے عائد، وزٹ ویزہ کی خلاف ورزی پر دو سو قطری ریال روزانہ فائن کا اعلان، نوزائیدہ بچوں کی رجسٹریشن اور سفری دستاویزات کے لیے بھی کڑی شرائط جاری

محمود احمد june 17,2026

دوحہ (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 17 جون 2026ء

خلیجی ملک قطر میں مقیم لاکھوں غیر ملکی تارکینِ وطن اور وہاں سیر و تفریح کے لیے جانے والے سیاحوں کے لیے قطری حکومت نے ریذیڈنسی پرمٹ (اقامہ) کی منسوخی کے بعد ملک میں قانونی قیام کی رعایتی مدت کو آدھا کرتے ہوئے نئے اور بھاری جرمانے عائد کر دیے ہیں، دوحہ سے حاصل ہونے والی خلیجی میڈیا رپورٹس اور روزنامہ گلف ٹائمز کے مطابق قطری وزارتِ داخلہ کے پبلک ریلیشنز ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے محفوظ سفری طریقہ کار پر منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کے ویبنار کے دوران ایئرپورٹ پاسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کے مقتدر افسر کیپٹن علی احمد علی الکواری نے ویزہ اور اقامہ قوانین میں کی جانے والی ان بڑی اور دوررس تبدیلیوں کا باقاعدہ اور سرکاری اعلان کیا ہے، انہوں نے واشگاف الفاظ میں واضح کیا کہ قطر کی حکومت نے اقامہ منسوخی کے حوالے سے رائج پرانے قوانین کو یکسر تبدیل کر دیا ہے، پرانے ملکی قانون کے تحت جن غیر ملکی ملازمین کے اقامے یا ریذیڈنسی پرمٹ منسوخ یا منقطع کر دیے جاتے تھے انہیں نیا روزگار ڈھونڈنے یا واپسی کی تیاری کے لیے ملک میں رہنے کی ۳۰ دن کی رعایتی مہلت دی جاتی تھی لیکن اب اس مدت کو فوراً کم کر کے صرف ۱۴ دن کر دیا گیا ہے، یعنی جن تارکینِ وطن کے اقامے اب منسوخ ہوں گے انہیں ہر صورت دو ہفتوں کے اندر اندر قطر کی سرزمین چھوڑنی ہو گی، اگر کوئی شخص اس مقررہ ۱۴ دن کی مدت گزرنے کے بعد بھی قطر میں غیر قانونی طور پر روپوش یا قیام پذیر رہے گا تو اسے روزانہ کی بنیاد پر ۱۰ قطری ریال کا مالی جرمانہ ادا کرنا ہو گا۔

قطری وزارتِ داخلہ کے عہدیدار نے وزٹ ویزہ پر قطر آنے والے دنیا بھر کے سیاحوں اور مسافروں کو بھی ایک سخت اور آخری وارننگ جاری کی ہے کہ وہ دوحہ ایئرپورٹ پر اپنے پاسپورٹ پر لگی ویزہ کی مہر پر درج شدہ ویزہ کی میعاد اور قطر میں قیام کی حتمی تاریخ کو اچھی طرح اور باریک بینی سے چیک کر لیں، کیونکہ اگر کوئی وزٹ ویزہ ہولڈر اپنے مقررہ ویزے کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی ایک دن کے لیے قطر میں رکا رہا تو اسے ۲۰۰ قطری ریال روزانہ کے حساب سے انتہائی بھاری جرمانہ بھرنا پڑے گا جس میں کوئی رعایت نہیں دی جائے گی، اسی طرح قطر میں مقیم غیر ملکی فیملیز کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کے سفر اور اقامے کے حوالے سے بھی کیپٹن الکواری نے نئی اور اہم شرائط سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ قطر میں پیدا ہونے والے نوزائیدہ بچوں کی پیدائش کی فوری اطلاع پاسپورٹ حکام کو دینا قانوناً لازمی ہے، والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے متعلقہ ملک کے سفارتخانے سے بچے کا نیا پاسپورٹ اور ضروری دستاویزات حاصل کرنے کے بعد بچے کا ریذیڈنسی پرمٹ اپنے والد کی اسپانسرشپ یعنی کفالت کے تحت فوری بنوائیں، اگر قطر میں پیدا ہونے والے نوزائیدہ بچے کا اقامہ وقت پر نہیں بنوایا جاتا اور وہ بچہ ایک بار ملک سے باہر چلا جاتا ہے تو اقامے کی قانونی مہر کے بغیر وہ معصوم بچہ دوبارہ کسی صورت قطر کی حدود میں داخل نہیں ہو سکے گا۔

وزارتِ داخلہ کے سینیئر عہدیدار نے تمام مسافروں کو قطر سے کسی دوسرے ملک روانگی یا سفر سے پہلے اپنے تمام تر معاملات اور واجبات کلیئر کرنے کی سخت ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایئرپورٹ آنے سے قبل اپنے موبائل فون پر قطر حکومت کی آفیشل ”میٹراش“ موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے اپنا موجودہ سفارتی اسٹیٹس لازمی چیک کریں، مسافر ایپ پر یہ سو فیصد یقینی بنائیں کہ ان کے نام پر کوئی ٹریفک جرمانہ، اوور اسٹے کا فائن یا حکومت کا کوئی دوسرا واجب الادا ٹیکس باقی تو نہیں ہے کیونکہ یہ بقایا جات ایئرپورٹ پر ان کے سفری طریقہ کار کو بری طرح متاثر کر سکتے ہیں اور انہیں پرواز سے روکا جا سکتا ہے، اس کے علاوہ قطری حکام نے یہ سہولت بھی دی ہے کہ نئے پاسپورٹ پر پرانے اقامے کو ٹرانسفر کرنے کا سارا عمل بھی اب اسی موبائل ایپ کے ذریعے گھر بیٹھے آسانی سے مکمل کیا جا سکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کا بحرالکاہل میں اپنی سب سے بڑی فوجی کمان کا نام دوبارہ تبدیل کرنے کا حیران کن فیصلہ، آٹھ سال بعد ”انڈو پیسیفک“ کا لفظ خارج کر کے پرانا نام ”یو ایس پیسیفک کمانڈ“ بحال کر دیا گیا، نام کی اس تبدیلی پر نئی دہلی کے سفارتی اور دفاعی حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی، انڈین میڈیا کا امریکی فوجی نقشے میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کو پاکستان کا حصہ دکھانے پر بھی واویلا، کیا امریکہ کو اب خطے میں انڈیا کی ضرورت نہیں رہی؟ عالمی منظرنامے پر نئی بحث چھڑ گئی

محمود احمد june 17,2026

واشنگٹن/نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 17 جون 2026ء

امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی انتظامیہ کی جانب سے بحر الکاہل (پیسیفک) کے اسٹریٹجک خطے میں قائم اپنی سب سے بڑی اور اہم ترین عسکری کمان کا نام ایک بار پھر تبدیل کیے جانے کے غیر معمولی فیصلے نے پڑوسی ملک انڈیا کے دفاعی اور سیاسی ایوانوں میں زلزلہ برپا کر دیا ہے اور نئی دہلی میں اس معاملے پر شدید خدشات اور بحث کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے سنہ ۲۰۱۸ء میں اپنے پہلے دورِ حکومت کے دوران اس فوجی کمان کا نام تبدیل کر کے ”انڈو پیسیفک کمانڈ“ رکھا تھا جس کا مقصد نئی دہلی کو عالمی سطح پر بڑی اہمیت دینا تھا، تاہم اب ٹھیک آٹھ سال بعد امریکی حکومت نے اس نام سے ”انڈو“ کا لفظ مکمل طور پر خارج کرتے ہوئے اس کا پرانا نام یعنی ”یو ایس پیسیفک کمانڈ“ باضابطہ طور پر بحال کر دیا ہے، اگرچہ واشنگٹن کے بقول اس کمان کا پرانا نام بحال کرنے کا واحد مقصد اس کے ستر سالہ تاریخی ورثے کو شاندار خراجِ تحسین پیش کرنا ہے لیکن اس اچانک فیصلے پر انڈین دفاعی ماہرین اور میڈیا میں یہ گہرے تحفظات اور خطرے کی گھنٹیاں بج رہی ہیں کہ آیا دفاعی تعاون اور چین کا راستہ روکنے کے شعبے میں امریکہ نے اب انڈیا سے دوریاں اختیار کرنا شروع کر دی ہیں اور خطے میں اس کی ضرورت کم ہو گئی ہے۔

اس سنسنی خیز دفاعی تبدیلی کے ساتھ ہی انڈین میڈیا میں اس حوالے سے بھی شدید واویلا مچایا جا رہا ہے کہ یو ایس پیسیفک کمانڈ کی ازسرِنو تشکیل کے بعد اس کے زیرِ اثر علاقوں کے حوالے سے جو سرکاری اور عسکری نقشہ جاری کیا گیا ہے اس میں پینٹاگون نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کو باقاعدہ طور پر پاکستان کا ہی حصہ ظاہر کیا ہے، اگرچہ اس امریکی فوجی نقشے میں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کو بھی انڈیا کے حصے کے طور پر ہی دکھایا گیا ہے لیکن پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کو گرین زون میں دکھانا نئی دہلی کے لیے ایک بڑا سفارتی دھچکا تصور کیا جا رہا ہے، دوسری جانب امریکی محکمۂ دفاع (پینٹاگون) نے باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے اس نام کی تبدیلی کی تصدیق کی اور بتایا کہ یہ عظیم عسکری کمانڈ ستر برس قبل امریکی صدر ہیری ٹرومین نے قائم کی تھی جو کہ امریکہ کی تمام مشترکہ جنگی کمانڈز میں سب سے قدیم اور رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑی ہے، محکمۂ دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یو ایس پیسیفک کمانڈ کا نام بحال کرنے کا مقصد اِس کمانڈ کے تاریخی عسکری ورثے کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے کیونکہ یہ نام بحرالکاہل میں خدمات انجام دینے والے تمام امریکی فوجیوں میں فخر اور اجتماعی جذبے کو فروغ دیتا ہے۔

امریکی پینٹاگون کے جاری کردہ وضاحتی بیان کے مطابق دوسری عالمی جنگ کے بعد علاقائی سکیورٹی کے مضبوط ڈھانچے کے قیام میں اس کمانڈ کے اہم ترین کردار سے لے کر کورین جنگ، ویتنام جنگ اور بے شمار انسانی ہمدردی پر مبنی بین الاقوامی کارروائیوں میں مشترکہ افواج کی بہترین ہم آہنگی تک یو ایس پیسیفک کمانڈ کا یہ تاریخی نام دہائیوں پر مشتمل عسکری ورثے اور دیرپا علاقائی شراکت داریوں کی بھرپور نمائندگی کرتا ہے، پیسیفک کمانڈ کی کلیدی ذمہ داریوں اور اس کی جغرافیائی حدود کے بارے میں محکمۂ دفاع نے واضح کیا کہ امریکہ کے مغربی ساحل کے قریب موجود سمندری پانیوں سے لے کر انڈیا کی مغربی سرحد تک کے تمام تر وسیع ترین علاقے بدستور اسی کمان کے زیرِ اثر اور کنٹرول میں رہیں گے اور اس نام کی تبدیلی کے باوجود اس کے زیرِ اثر علاقوں کی حدود میں کوئی عسکری تبدیلی نہیں کی جا رہی، امریکہ نے انڈیا کے خدشات کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہوئے مزید کہا ہے کہ کمانڈ کا بنیادی مشن اور علاقائی اتحادیوں و شراکت داروں کے ساتھ خطے کو آزاد اور کھلا برقرار رکھنے کے لیے اس کا غیر متزلزل عزم بالکل تبدیل نہیں ہوا، تاہم دفاعی مبصرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کا یہ قدم اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ اب واشنگٹن اپنی خارجہ اور فوجی پالیسی میں انڈیا کو پہلے جیسی غیر معمولی اور زبردستی کی غیر مشروط اہمیت دینے کے موڈ میں دکھائی نہیں دیتا۔

پنجاب حکومت نے نئے بجٹ میں تعلیم اور صحت جیسے بنیادی شعبوں پر چھری پھیر دی، مجموعی طور پر ۲۳۲ ارب روپے کی ہوش رُبا کٹوتی، تعلیم کے شعبے میں ترقیاتی فنڈز کو ۵۸ فیصد تک کم کر دیا گیا، تعلیمی و طبی ترقیاتی بجٹ ۱۸۱ ارب سے گھٹ کر صرف ۷۶ ارب ۳۰ کروڑ روپے پر آگیا، اتنی بڑی کٹوتیوں کے باوجود لاہور میں ۱۶۹ ارب روپے کی خطیر لاگت سے نواز شریف میڈیکل ڈسٹرکٹ سمیت ڈی جی خان، بہاولپور اور ملتان کے ہسپتالوں کے لیے اربوں روپے کے نئے منصوبوں کا اعلان

کاشف عباسی ,june 17,2026

لاہور (بیورو رپورٹ/نیوز اینڈ نیوز) — 17 جون 2026ء

پنجاب کے نئے مالی سال 2026/2027ء کے سالانہ بجٹ میں صوبائی حکومت نے عوام کو بڑا معاشی جھٹکا دیتے ہوئے صحت اور تعلیم جیسے بنیادی و اہم ترین شعبوں کے بجٹ میں اضافے کے بجائے نمایاں کمی کر دی ہے، روزنامہ دنیا اخبار میں سجاد کاظمی اور بلال چودھری کی شائع کردہ تفصیلی رپورٹ کے مطابق پنجاب حکومت نے نئے بجٹ میں صوبے کے دو سب سے اہم شعبوں کو شدید مالی دھچکا پہنچایا ہے، جہاں ایک طرف محکمہ صحت کے لیے ۵۰۰ ارب ۶۲ کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے جو صوبے کے مجموعی بجٹ کا ۱۰ فیصد سے زائد بنتا ہے، لیکن اس کے باوجود پچھلے مالی سال کے تقابل میں ایجوکیشن اور ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے بجٹ میں مجموعی طور پر ۲۳۲ ارب روپے کی بھاری کٹوتی کر دی گئی ہے، بجٹ دستاویزات کے اعداد و شمار کے مطابق تعلیم کے شعبے میں ترقیاتی فنڈز کو ۵۸ فیصد تک کم کر کے صرف ۶۳ ارب ۳۰ کروڑ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے، جو تعلیمی ترقیاتی بجٹ پہلے ۱۸۱ ارب روپے تھا اسے اب بے دردی سے کم کر کے صرف ۷۶ ارب ۳۰ کروڑ روپے تک محدود کر دیا گیا ہے یعنی اس مد میں ۱۰۴ ارب ۷۰ کروڑ روپے کی بہت بڑی کٹوتی کی گئی ہے، اس کے علاوہ تعلیم اور صحت کے غیر ترقیاتی بجٹ کو بھی نہیں بخشا گیا اور اسے ۴۵۰ ارب سے کم کر کے ۴۲۴ ارب ۳۲ کروڑ روپے مختص کیا گیا ہے جس میں تقریباً ۲۶ ارب روپے کی بڑی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

بجٹ میں اتنی بڑی کٹوتیوں اور معاشی جھٹکوں کے باوجود حکومت نے صوبے بھر کے لیے کئی نئے ہیلتھ منصوبوں کا اعلان بھی کیا ہے جن کے تحت صوبائی دارالحکومت لاہور میں ۱۶۹ ارب روپے کی خطیر لاگت سے اسٹیٹ آف دی آرٹ ”نواز شریف میڈیکل ڈسٹرکٹ“ شروع کیا جائے گا جس کے اندر چلڈرن ہسپتال، آرتھوپیڈک، برن اور سرجیکل یونٹس قائم کیے جائیں گے، اس کے ساتھ ہی کلثوم نواز کینسر ہسپتال ڈیرہ غازی خان کے لیے ۱۵ ارب ۲۱ کروڑ روپے، بہاولپور چلڈرن ہسپتال کے لیے ۲۳ ارب ۳۷ کروڑ روپے اور انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ کے لیے ۲۰ ارب روپے کے فنڈز مختص کیے گئے ہیں، مزید برآں لاہور اور سرگودھا کے کارڈیالوجی منصوبوں کے لیے ۲۸ ارب ۹۴ کروڑ روپے رکھے گئے ہیں جبکہ صوبے بھر میں ۱۵ نئے کارڈیایک سرجری یونٹس کے قیام پر ۹ ارب ۳۰ کروڑ روپے خرچ ہوں گے، وزیراعلیٰ ہارٹ سرجری پروگرام کے لیے ۲۱ ارب ۳ کروڑ روپے اور ٹیچنگ ہسپتالوں میں جدید ترین ایم آر آئی مشینوں کی فراہمی کے لیے ۸ ارب ۳۱ کروڑ روپے اور نیورو کیتھ لیبز کے لیے ۱ ارب ۷۵ کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں اس بجٹ پر مکسڈ ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے کیونکہ ایک طرف فنڈز کاٹے گئے ہیں تو دوسری طرف اس نئے ہیلتھ فریم ورک کے تحت ۴۳۴ بنیادی مراکزِ صحت (بی ایچ یو) کی مکمل بحالی اور اپ گریڈیشن کے لیے ۹ ارب ۶۰ کروڑ روپے، جبکہ غریب مریضوں کو معیاری ادویات کی مفت فراہمی کے لیے ۱۵ ارب ۲۱ کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، گردوں کے مریضوں کے لیے ڈائیلسز پروگرام کی مد میں ۶۶ ارب ۳ کروڑ روپے اور شوگر کے مریضوں کے لیے انسولین اور ضروری ادویات پر ۵ ارب روپے خرچ کیے جائیں گے، حکومت نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ کی بحالی کے لیے ۲ ارب ۴۵ کروڑ روپے، نشتر ہسپتال ملتان کی اپ گریڈیشن کے لیے ۵ ارب ۱۴ کروڑ روپے اور ایمرجنسی سروسز (Rescue 1122) کی توسیع و استعداد کار بڑھانے کے لیے تقریباً ۵ ارب روپے تجویز کیے ہیں، اب دیکھنا یہ ہے کہ سینیٹ اور صوبائی اسمبلی میں اس کٹوتی پر اپوزیشن کا ردعمل کیا سامنے آتا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے نئے مالی سال کے لیے ۳.۵۶۲ کھرب روپے کا شاندار صوبائی بجٹ پیش کر دیا، سندھ کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں ۷ فیصد کا بڑا اضافہ، محنت کشوں کی کم از کم ماہانہ اجرت بڑھا کر ۴۳ ہزار روپے مقرر، مشکل معاشی حالات کے باوجود صوبے کے عوام اور تاجر برادری پر کوئی بھی نیا ٹیکس عائد نہ کرنے کا تاریخی اعلان، ایڈہاک ریلیف الاؤنسز بنیادی تنخواہ میں ضم

محمود احمد june 17,2026

کراچی (بیورو رپورٹ/نیوز اینڈ نیوز) — 17 جون 2026ء

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ اسمبلی کے خصوصی اور ہنگامی اجلاس میں نئے مالی سال کا سالانہ بجٹ پیش کر دیا ہے، جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں، ریٹائرڈ افراد کی پنشن اور غریب مزدوروں کی کم از کم ماہانہ اجرت میں نمایاں اضافے سمیت عوامی و کاروباری طبقے کے لیے انتہائی اہم اور انقلابی ریلیف اعلانات کیے گئے ہیں، کراچی سے حاصل ہونے والی صوبائی بجٹ کی تفصیلی دستاویزات کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سندھ اسمبلی کے پروقار بجٹ اجلاس میں مالی سال 2026/2027ء کے لیے صوبے کا کل بجٹ پیش کیا، بجٹ تقریر کے دوران وزیراعلیٰ نے صوبے کے عوام، سرکاری ملازمین اور تاجر برادری کے لیے بڑے ریلیف اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے صوبائی معیشت اور ٹیکسوں کے حوالے سے اپنی حکومت کی عوام دوست پالیسی کو بالکل واضح کر دیا، معلوم ہوا ہے کہ نئے مالی سال کے لیے سندھ کے کل بجٹ کا مجموعی حجم ۳.۵۶۲ کھرب روپے فکس رکھا گیا ہے جبکہ صوبے کے غریب عوام اور کاروباری طبقے کے لیے اس نئے بجٹ میں کسی بھی قسم کا نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا جو کہ ایک بہت بڑی سفارتی و معاشی کامیابی ہے، وزیراعلیٰ سندھ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہماری حکومت مشکل ترین ملکی معاشی حالات میں بھی عوام اور تاجر برادری کو ہر ممکن ریلیف فراہم کرنے کے لیے دن رات کوشاں ہے۔

صوبائی حکومت نے مہنگائی کے اس دور میں سندھ کے سرکاری ملازمین اور ریٹائرڈ افراد کی بڑی دلی مراد پوری کرتے ہوئے صوبے کے تمام سرکاری ملازمین کی ماہانہ تنخواہوں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں ۷ فیصد یکمشت اضافے کا باقاعدہ اعلان کیا ہے، اس کے ساتھ ہی ملازمین کی بنیادی تنخواہوں کے ڈھانچے اور اسٹرکچر کو مستقل بنیادوں پر بہتر بنانے کے لیے پرانے ایڈہاک ریلیف الاؤنس ۲۰۲۲ء اور ایڈہاک ریلیف الاؤنس ۲۰۲۵ء کو ہمیشہ کے لیے بنیادی تنخواہ (بیسک پے) کے اندر ہی ضم کرنے کا بھی ایک بڑا اور تاریخی فیصلہ کیا گیا ہے جس سے سرکاری ملازمین کو الاؤنسز کی مد میں مزید مالی فائدہ حاصل ہو گا، اس کے علاوہ صوبے کے غریب دیہاڑی دار اور نجی شعبے کے مزدور طبقے کو بڑی خوشخبری سناتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے اعلان کیا کہ سندھ بھر میں کسی بھی مزدور کی کم از کم ماہانہ اجرت کو اب ۴۰ ہزار روپے سے بڑھا کر ۴۳ ہزار روپے مقرر کر دیا گیا ہے، جس پر صوبے کے تمام نجی کارخانوں، فیکٹریوں اور سرکاری اداروں کو سختی سے عمل کرنا ہوگا اور خلاف ورزی پر قانونی کارروائی ہو گی، سندھ اسمبلی میں یہ بھاری بجٹ پیش کیے جانے کے بعد اب اس پر اپوزیشن اور حکومتی اراکینِ اسمبلی کی جانب سے تفصیلی بحث اور شق وار منظوری کا باقاعدہ عمل شروع کیا جائے گا۔