پولیو کے خلاف جنگ میں پنجاب انسدادِ پولیو پروگرام اور گرل گائیڈز ایسوسی ایشن کا مشترکہ اقدام؛ 300 سے زائد رضاکاروں کو تربیت فراہم کر دی گئی

روزینہ اسماعیل, JULY 21,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

پنجاب انسدادِ پولیو پروگرام اور پاکستان گرل گائیڈز ایسوسی ایشن نے صوبے میں پولیو کے حوالے سے درست معلومات کے فروغ، ویکسین کے بارے میں پھیلائی جانے والی غلط معلومات کے مؤثر تدارک اور کمیونٹی سطح پر آگاہی بڑھانے کے لیے ایک مشترکہ انقلابی اقدام کا آغاز کر دیا ہے۔

اس نایاب شراکت داری کے پہلے مرحلے میں پنجاب بھر سے تقریباً 300 گرل گائیڈ رضاکاروں کو پولیو، ویکسین سے متعلق منفی پراپیگنڈے اور غلط فہمیوں کی نشاندہی، مستند معلومات کی فراہمی اور مؤثر کمیونٹی کمیونیکیشن کے حوالے سے جامع تربیت فراہم کر دی گئی ہے۔ یہ تربیت یافتہ گرل گائیڈز اپنے اپنے اسکولوں، کالجوں اور مقامی کمیونٹیز میں پولیو کے خلاف خصوصی سیشنز منعقد کریں گی تاکہ والدین بالخصوص ماؤں کو ہر قومی مہم کے دوران 5 سال سے کم عمر کے بچوں کو پولیو قطرے پلانے پر آمادہ کیا جا سکے۔

پنجاب انسدادِ پولیو پروگرام کے ترجمان کے مطابق، اس وقت صوبے سے حاصل ہونے والے تمام تر ماحولیاتی نمونے منفی آئے ہیں، جو جاری انسدادِ پولیو کوششوں کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ تاہم حکام نے واضح کیا کہ اس کامیابی کو برقرار رکھنے کے لیے ہر بچے کا ہر مہم میں قطرے پینا لازمی ہے۔

گرل گائیڈز ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ پولیو سے پاک پاکستان کے قومی مقصد کے لیے معاشرتی سفیر کا کردار نبھاتی رہیں گی، جبکہ پولیو پروگرام نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے تمام 5 سال سے کم عمر بچوں کو لازمی قطرے پلوائیں۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کا وسطی ایشیائی اور دوست ممالک کے طلبہ کے لیے علامہ محمد اقبال اسکالرشپ پروگرام کا مقتدر اعلان

روزینہ اسماعیل, JULY 20,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے پاکستان کے تزویراتی سفارتی و تعلیمی روابط کو فروغ دینے کے لیے وسطی ایشیائی اور دیگر دوست ممالک کے بین الاقوامی طلبہ کے لیے “علامہ محمد اقبال اسکالرشپ پروگرام” کے تحت پاکستان میں مکمل مالی معاونت کے ساتھ چار سالہ بی ایس ڈگری پروگرام میں داخلوں کے لیے باضابطہ مقتدر درخواستیں طلب کر لی ہیں. یہ اسکالرشپ پاکستان کی مقتدر اور عالمی معیار کی جامعات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند غیر ملکی طلبہ کو فراہم کی جائے گی.

ایچ ای سی کی جانب سے جاری کردہ تادیبی تفصیلات کے مطابق، اس اسکالرشپ کے تحت انجینئرنگ و ٹیکنالوجی، کمپیوٹر سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی، معاون طبی علوم ، کاروبار و معاشیات، زراعت، سماجی علوم، غذائی تحفظ ، بین الاقوامی تعلقات ، ذرائع ابلاغ اور مختلف زبانوں سمیت متعدد اہم شعبوں میں تعلیم کے وسیع مواقع دستیاب ہوں گے. اسکالرشپ پیکیج کے مقتدر نکات کے مطابق منتخب طلبہ کی مکمل ٹیوشن فیس، ہاسٹل میں رہائش، ماہانہ معقول وظیفہ، ڈگری پروگرام کے دوران ایک مرتبہ اپنے ملک سے پاکستان آمد و رفت کے ہوائی سفر کے اخراجات اور پاکستان میں ابتدائی آباد کاری کے لیے خصوصی یکمشت مالی معاونت شامل ہے.

اہلیت کے مروجہ معیار کے مطابق، بین الاقوامی امیدواروں کے لیے اے لیول یا اس کے مساوی تعلیمی قابلیت میں کم از کم 60 فیصد نمبر ہونا لازمی ہے، جبکہ انجینئرنگ پروگراموں میں داخلے کے خواہشمند طلبہ کے لیے 65 فیصد نمبروں کی تادیبی شرط رکھی گئی ہے. اس کے علاوہ منتخب امیدواروں کو پاکستان پہنچنے کے بعد انٹر بورڈ کمیٹی آف چیئرمینز (آئی بی سی سی) سے اپنی تعلیمی مساواتی سند بھی لازمی طور پر حاصل کرنا ہوگی. ہائر ایجوکیشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ اس مقتدر بین الاقوامی اسکالرشپ پروگرام کے لیے آن لائن درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 10 اگست 2026ء مقرر کی گئی ہے.

پنجاب بار کونسل کی تاریخ کی سب سے بڑی کارروائی؛ لا ڈگریوں کی تصدیق نہ کرانے والے 1133 وکلا کے لائسنس معطل

منصور احمد, JULY 19,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

پنجاب بار کونسل نے لا ڈگریوں کی تصدیق کے معاملے پر قانون کی بالادستی کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی اور مقتدر کارروائی عمل میں لائی ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن سے اپنی تعلیمی ڈگریوں کی تصدیق نہ کرانے والے 1133 وکلا کے لائسنس فوری طور پر معطل کر دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ شاہ عبداللطیف بھٹائی یونیورسٹی خیرپور سے ڈگریاں حاصل کرنے والے مزید 62 وکلا کے لائسنس بھی معطلی کی زد میں آئے ہیں۔ یہ مقتدر کارروائی چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی پنجاب بار کونسل فخر حیات اعوان کی باضابطہ منظوری سے کی گئی ہے۔

پنجاب بار کونسل کے سیکرٹری کی جانب سے جاری کردہ تادیبی اعلامیے کے مطابق، جنرل ہاؤس کے فیصلوں کی روشنی میں مختلف جامعات سے قانون کی ڈگری حاصل کرنے والے وکلا کو ایچ ای سی سے تصدیق شدہ دستاویزات جمع کرانے کے لیے نوٹسز جاری کیے گئے تھے اور انہیں 15 جولائی 2026ء تک کی آخری مہلت بھی دی گئی تھی۔ تاہم، مقررہ مدت گزرنے کے باوجود 1133 وکلا مطلوبہ تصدیق فراہم کرنے میں ناکام رہے، جس کے بعد ان کے لائسنس معطل کر دیے گئے۔ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ صرف 29 وکلا نے مقررہ وقت کے اندر اپنی ایچ ای سی سے تصدیق شدہ ڈگریاں جمع کروائیں، جبکہ 32 دیگر کیسز لائسنس کی بحالی کے لیے ایگزیکٹو کمیٹی کو بھجوا دیے گئے ہیں۔

پنجاب بار کونسل نے شاہ عبداللطیف بھٹائی یونیورسٹی خیرپور (سندھ) سے متعلق جاری کڑی جانچ پڑتال کے دوران مزید 62 وکلا کے لائسنس معطل کیے ہیں، جبکہ گزشتہ ہفتے بھی اسی یونیورسٹی سے متعلقہ 125 وکلا کے لائسنس معطل کیے گئے تھے۔ اسی یونیورسٹی کی بنیاد پر پنجاب بار کونسل میں انٹی میشن جمع کرانے والے 128 افراد کو آخری موقع دیتے ہوئے ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ 25 جولائی 2026ء کو اصل تعلیمی دستاویزات، متعلقہ ثبوت اور سے تصدیق شدہ ڈگری کے ساتھ ذاتی طور پر پیش ہوں۔ مقررہ تاریخ پر ثبوت پیش نہ کرنے والوں کے خلاف مقدمات کے اندراج سمیت سخت قانون کارروائی کی جائے گی۔

چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی فخر حیات اعوان نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی وکیل نے جعلی یا بوگس تصدیقی سرٹیفکیٹ یا کوئی بھی غلط دستاویز پیش کی تو مروجہ قانون کے تحت سخت ترین تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جن وکلا کے لائسنس معطل ہوئے ہیں، وہ ایچ ای سی سے اپنی تصدیق کا عمل مکمل کرانے کے بعد ایگزیکٹو کمیٹی پنجاب بار کونسل سے رجوع کر سکتے ہیں، جہاں ان کے کیسز کو میرٹ اور قانون کے مطابق نمٹایا جائے گا۔ فخر حیات اعوان کا کہنا تھا کہ اس تزویراتی کارروائی کا بنیادی مقصد وکالت کے مقدس شعبے میں مکمل شفافیت، اعلیٰ پیشہ ورانہ معیار اور عدالتی نظام پر عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنا ہے، اور ڈگریوں کی جانچ پڑتال کا یہ عمل آئندہ بھی بلاتعطل جاری رہے گا۔

پاکستان میں 10 لاکھ سے زائد افراد ہیپاٹائٹس ڈیلٹا سے متاثر ہونے کا اندازہ؛ دوا کی جلد دستیابی کے لیے ڈریپ کو ترجیحی بنیادوں پر ریگولیٹری تقاضے پورے کرنے کی ہدایت

روزینہ اسماعیل, JULY 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

پاکستان میں ہیپاٹائٹس ڈیلٹا وائرس کے مریضوں کے لیے جدید ترین اور سستے علاج کی مقامی سطح پر فراہمی کے لیے مقتدر پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں وزیرِ اعظم کی ہدایت پر منعقدہ فارماسیوٹیکل کانفرنس کے تسلسل میں وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال سے چین کی نامور بائیوٹیک کمپنی “ہواہوائی ہیلتھ” کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) نے ایک اعلیٰ سطحی تزویراتی ملاقات کی ہے۔ وزارتِ قومی صحت کی جانب سے جاری کردہ آفیشل اعلامیہ کے مطابق، اس اہم بیٹھک میں وفاقی سیکرٹری ہیلتھ اسلم غوری، چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈریپ ڈاکٹر عبید ممتاز، ملک کے نامور ہیماٹولوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر سعید ایس حامد اور کلینیکل ریسرچ کے ممتاز ماہر سید منور علی بھی موجود تھے۔

ملاقات کے دوران پاکستان میں ہیپاٹائٹس ڈیلٹا وائرس کے غریب مریضوں کے علاج معالجے کے لیے جاری پیش رفت اور دونوں ممالک کی کمپنیوں کے مابین اشتراک کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ گزشتہ روز ہیپاٹائٹس ڈیلٹا کے علاج سے متعلق دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان تجارتی معاہدے پر کامیابی سے دستخط کیے گئے ہیں، جو پاکستان میں جدید اور مقامی سطح پر لائف سیونگ ادویات کی دستیابی کی جانب ایک اہم تاریخی سنگ میل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اور چین کے درمیان یہ مقتدر عسکری و معاشی تعاون ہیپاٹائٹس ڈیلٹا کے لاچار مریضوں کو نئی زندگی دینے کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگا۔

وفاقی وزیر نے تشویشناک اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں اس وقت اندازاً 10 لاکھ سے زائد افراد ہیپاٹائٹس ڈیلٹا کے موذی مرض سے متاثر ہو سکتے ہیں، جنہیں اس اقدام کے ذریعے اب انتہائی جدید، بین الاقوامی معیار کے اور مؤثر علاج تک براہِ راست رسائی حاصل ہوگی۔ اس تزویراتی تعاون سے جہاں پاکستانیوں کی جانیں بچیں گی، وہاں ملک کے دواسازی (فارماسیوٹیکل) کے شعبے میں جدید مینوفیکچرنگ کی استعداد کار اور بین الاقوامی ساکھ کو بھی زبردست فروغ ملے گا۔ مصطفیٰ کمال نے مریضوں کو خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) تمام قانونی اور ریگولیٹری تقاضے ہنگامی و ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنا رہی ہے تاکہ یہ انقلابی دوا جلد از جلد عام پاکستانی مریضوں کے لیے مارکیٹ میں دستیاب ہو سکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ہیپاٹائٹس ڈیلٹا وائرس کی اس دوا کی فیز ٹو کلینیکل اسٹڈی کے دوران انسانی صحت پر اس کی حفاظت اور بیماری کے خلاف مؤثریت کے انتہائی شاندار اور مثبت نتائج سامنے آ چکے ہیں۔

ڈی جی پی ایف اے راجہ منصور احمد کی ہدایت پر 22 فوڈ یونٹس کی چیکنگ، 2 یونٹس سیل اور 18 کو لاکھوں روپے جرمانہ؛ 2 مقدمات بھی درج

کاشف عباسی , JULY 17,026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 17 جولائی 2026ء

پنجاب فوڈ اتھارٹی (پی ایف اے) نے صوبے کے مختلف اضلاع میں ملاوٹ مافیا اور مضرِ صحت خوراک فروخت کرنے والوں کے خلاف ایک بڑا تزویراتی کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 1 ہزار 550 لیٹر ناقص و بدبودار آئل، 200 کلو گرام مضرِ صحت گوشت اور بھاری مقدار میں ممنوعہ اجزاء موقع پر ہی تلف کر دیے ہیں۔ ترجمان پی ایف اے کے مطابق، ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی راجہ منصور احمد کی خصوصی اور براہِ راست ہدایات پر فوڈ سیفٹی ٹیموں نے مہم کے دوران 22 اہم فوڈ یونٹس کا تفصیلی معائنہ کیا، جن میں سے سنگین خلاف ورزیوں پر 2 یونٹس کو فوری طور پر سیل (بند) کر دیا گیا، جبکہ 18 یونٹس کو مجموعی طور پر 4 لاکھ 56 ہزار روپے کے جرمانے عائد کیے گئے اور قانون کی سخت خلاف ورزی پر 2 دکان داروں کے خلاف مقدمات بھی درج کرائے گئے۔

کارروائیوں کی تزویراتی تفصیلات بتاتے ہوئے ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی راجہ منصور احمد نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ لاہور کی بکر منڈی میں واقع ایک حویلی پر چھاپے کے دوران بھاری مقدار میں ناقص اور بیماریوں کا سبب بننے والا گوشت برآمد ہوا، جس پر جعلسازی اور عوامی صحت سے کھیلنے کے الزام میں ملوث عناصر کے خلاف فوری ایف آئی آر درج کرا دی گئی ہے۔ اسی طرح، سمسانی روڈ پر ایک بڑے آئل گودام کی چیکنگ کے دوران صفائی کے انتہائی ناقص انتظامات اور غیر معیاری سٹوریج پر مقدمہ درج کیا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جی ٹی روڈ پر واقع ایک معروف ریسٹورنٹ اور گھوڑے شاہ کے علاقے میں ایک غیر معیاری فوڈ یونٹ کو بھی سیل کیا گیا ہے۔ ان تمام کارروائیوں کے دوران صفائی کے ابتر حالات، فوڈ سیفٹی قوانین کی کھلی خلاف ورزیوں اور انتہائی بدبودار ماحول جیسے سنگین نقائص پائے گئے۔

راجہ منصور احمد نے صوبے بھر میں خوراک کا کاروبار کرنے والے تمام مالکان اور مینیجرز کو مقتدر تنبیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ اتھارٹی کے وضع کردہ مقررہ قوانین پر من و عن عملدرآمد کو یقینی بنائیں، کیونکہ عوامی صحت کا تحفظ اور شہریوں کو معیاری غذا کی فراہمی پنجاب فوڈ اتھارٹی کی اولین ترین ترجیح ہے۔ انہوں نے عزم دہرایا کہ صوبے بھر میں ملاوٹ اور ناقص اشیاء کی فروخت کے خلاف ‘زیرو ٹالرنس’ پالیسی کے تحت بلاامتیاز کارروائیاں آئندہ بھی پوری قوت کے ساتھ جاری رکھی جائیں گی۔

امریکہ کی حقیقی طاقت اس کی جامعات ہیں، پاکستان بھی علم پر مبنی معیشت کی بنیاد رکھ رہا ہے؛ احسن اقبال کا بوسٹن کا اہم دورہ

روزینہ اسماعیل, JULY 16,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 16 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے اپنے دورہ بوسٹن کے دوران امریکی تعلیمی اداروں، ممتاز محققین اور جدت طراز اداروں کے سربراہان سے اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد ہائی ٹیک تعلیم، موسمیاتی لچک، معاشی ترقی، پبلک پالیسی اور اختراع کے شعبوں میں پاک امریکہ ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دینا تھا۔ وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ پاکستان معیاری تعلیم، تحقیق اور جدید ایجادات میں سرمایہ کاری کے ذریعے علم پر مبنی معیشت کی بنیاد رکھ رہا ہے اور اس تزویراتی ہدف کے حصول کے لیے حکومت عالمی معیار کے اداروں کے ساتھ شراکت داری کو مزید وسعت دے گی۔

وزارتِ منصوبہ بندی کی جانب سے جمعرات کو جاری پریس ریلیز کے مطابق، پروفیسر احسن اقبال نے بوسٹن یونیورسٹی کا دورہ کیا جہاں انہوں نے عادل نجم اور ڈاکٹر کین لچن سے ملاقات کی۔ وفاقی وزیر نے حکومت کے فلیگ شپ منصوبے ‘امریکا پاکستان نالج کاریڈور’ پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ اس کے تحت 10 ہزار پاکستانی طلبہ کو دنیا کی بہترین جامعات سے پی ایچ ڈی کروانے کا ہدف ہے۔ انہوں نے ایک ایسے اشتراکی ماڈل کی تجویز پیش کی جس کے تحت پاکستانی محققین پاکستان کے ترقیاتی چیلنجز پر امریکی جامعات میں تحقیق کریں، جس میں تعلیمی اخراجات امریکی جامعات اور سفری و انتظامی اخراجات حکومتِ پاکستان برداشت کرے، جسے امریکی حکام نے بے حد سراہا۔ انہوں نے وفاقی سطح پر اعلیٰ تعلیم کے نصاب اور تدریس میں مصنوعی ذہانت کو مؤثر انداز میں شامل کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔ بعد ازاں، انہوں نے پائیدار ترقیاتی پالیسی مرکز کا دورہ کیا اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ تحقیق پر اتفاق کیا۔

پروفیسر احسن اقبال نے ہارورڈ کینیڈی اسکول کے ‘گروتھ لیب’ کا بھی دورہ کیا، جہاں ‘اڑان پاکستان’ کے تحت ملک کی طویل المدتی معاشی حکمتِ عملی اور ایک کھرب ڈالر کی معیشت کے ہدف پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ وفاقی وزیر نے گروتھ لیب کو پاکستان کی برآمدات کو 100 ارب ڈالر تک لے جانے، صنعتی ترقی اور پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے قابلِ عمل سفارشات فراہم کرنے اور قومی ترقیاتی حکمتِ عملی کی تشکیل میں شراکت داری کی دعوت دی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی آئندہ معاشی ترقی کی بنیاد صرف پیداواریت، اختراع اور برآمدات میں اضافہ پر ہوگی۔

وفاقی وزیر نے ہارورڈ یونیورسٹی اور میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے مشترکہ تحقیقی ادارے ‘جے پال’ کا بھی دورہ کیا اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر اقبال دھالیوال سے غربت میں کمی اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی پر تبادلہ خیال کیا۔ احسن اقبال نے یہاں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا آزادانہ جائزہ لینے کی تجویز پیش کی تاکہ اس کی افادیت کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ دورے کے آخری مرحلے میں انہوں نے کیمبرج انوویشن سینٹر اور وینچر کیفے کا دورہ کیا اور جامعات، صنعت اور سرمایہ کاروں کے مابین روابط کو پاکستانی معیشت کے لیے رول ماڈل بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

پاکستان عالمی مصنوعی ذہانت تعاون تنظیم کا بانی رکن بنے گا؛ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کل چین روانہ ہوں گے

منصور احمد, JULY 15,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 15 جولائی 2026ء

پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار عوامی جمہوریہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای کی خصوصی دعوت پر ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ 16 سے 17 جولائی تک شنگھائی (چین) کا تزویراتی دورہ کریں گے۔ اس دورے کے دوران دوطرفہ تزویراتی تعلقات، علاقائی تعاون کے فروغ اور باہمی دلچسپی کے دیگر اہم ترین امور پر تفصیلی بات چیت متوقع ہے۔

دفتر خارجہ کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ مقتدر تفصیلات کے مطابق، نائب وزیراعظم 16 جولائی کو ‘عالمی مصنوعی ذہانت تعاون تنظیم’ کے باقاعدہ قیام کی دستخطی تقریب میں خصوصی شرکت کریں گے اور پاکستان کی جانب سے بانی رکن کی حیثیت سے اس تاریخی بین الاقوامی معاہدے پر باقاعدہ دستخط کریں گے۔ اس کے بعد، وہ 17 جولائی کو شنگھائی میں منعقد ہونے والی ‘عالمی مصنوعی ذہانت کانفرنس’ کی افتتاحی تقریب اور مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی سے متعلق اعلیٰ سطح کے مقتدر اجلاس میں بھی شریک ہوں گے۔ اس اہم کانفرنس کے موقع پر نائب وزیراعظم کی چینی وزیر خارجہ وانگ ای سے ایک اہم دوطرفہ ملاقات طے ہے، جبکہ وہ وہاں موجود دیگر ممالک کے ہم منصبوں سے بھی باہمی تعاون بڑھانے کے لیے ملاقاتیں کریں گے۔

اپنی ان تمام اہم سفارتی مصروفیات کے دوران نائب وزیراعظم ٹیکنالوجی کے شعبے میں، بالخصوص ترقی پذیر ممالک کی ترجیحات اور ترقیاتی ضروریات پر مبنی پاکستان کا اصولی موقف پیش کریں گے۔ وہ دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں موجود تفاوت کو کم کرنے، اس جدید ٹیکنالوجی تک تمام ممالک کی منصفانہ رسائی کو فروغ دینے اور استعداد کار میں اضافے پر زور دیں گے۔ اسحاق ڈار اس مقتدر امر کو بھی اجاگر کریں گے کہ کس طرح مصنوعی ذہانت کے ثمرات کو دنیا بھر میں پائیدار ترقی، معاشی خوشحالی اور سب کے لیے مشترکہ فائدے کے لیے مؤثر طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ٹیکنالوجی کی دنیا میں نیا انقلاب: اوپن اے آئی کا بغیر اسکرین والا انوکھا گھریلو کمپیوٹر متعارف کرانے کا فیصلہ

روزینہ اسماعیل, JULY 15,2026

سان فرانسسکو (نیوز اینڈ نیوز) — 15 جولائی 2026ء

مصنوعی ذہانت کے شعبے میں کام کرنے والی دنیا کی معروف کمپنی ‘اوپن اے آئی’ صارفین کے لیے ایک انتہائی جدید اور منفرد ٹیکنالوجی متعارف کرانے کی تیاری کر رہی ہے، جس میں اسکرین کے بغیر کام کرنے والا موبائل اسمارٹ اسپیکر شامل ہے۔ ٹیکنالوجی کے ماہرین کی جانب سے اس انوکھی ایجاد کو مصنوعی ذہانت کے نئے دور کا ایک جدید گھریلو کمپیوٹر قرار دیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی معاشی جریدے ‘بلوم برگ’ کی رپورٹ کے مطابق، یہ جدید ترین آلہ اس وقت تیاری کے مراحل میں ہے اور اسے گھروں میں ایک ایسے انسان نما مصنوعی ذہانت کے ساتھی کے طور پر استعمال کیا جا سکے گا جو روزمرہ کے کاموں میں مدد فراہم کرے گا۔

رپورٹ کے مطابق، یہ جدید ترین اسمارٹ اسپیکر گھر میں موجود دیگر تمام اسمارٹ برقی آلات کو کنٹرول کرنے کی حیرت انگیز صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ، اس کی مدد سے مختلف قسم کی آڈیوز اور دیگر میڈیا فائلز چلائی جا سکیں گی۔ یہ مقتدر آلہ صارفین کے پوچھے گئے پیچیدہ سوالات کے فوری جوابات دینے، ان کے اہم پیغامات کا جواب بھیجنے اور مشہورِ زمانہ ‘چیٹ جی پی ٹی’ کی گفتگو کرنے کی جدید ترین صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی مکمل سہولت فراہم کرے گا، جس سے صارفین کو ایک بالکل نیا اور انوکھا تجربہ حاصل ہوگا۔

پمز کارڈیک سینٹر کی اپ گریڈیشن اور پلسڈ فیلڈ ایبلیشن پروگرام کا آغاز؛ وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کا اہم فلاحی اقدامات کا اعلان

روزینہ اسماعیل, JULY 14,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 14 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے واضح کیا ہے کہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) ملک کا سب سے بڑا ریفرل ہسپتال ہے جہاں روزانہ 7 سے 9 ہزار مریض علاج کے لیے آتے ہیں، جبکہ مریضوں اور تیمارداروں کی مجموعی آمد و رفت روزانہ 30 سے 40 ہزار تک پہنچ جاتی ہے۔ منگل کے روز جاری کردہ ایک مقتدر بیان میں وفاقی وزیرِ صحت نے بڑے ہسپتالوں پر مریضوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنے کے لیے حکومتی حکمتِ عملی کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ وفاقی حکومت اسلام آباد میں 28 بنیادی مراکزِ صحت کو فعال اور جدید بنانے پر ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہی ہے تاکہ عام بیماریوں کا علاج مقامی سطح پر ہی ممکن بنایا جا سکے اور پمز جیسے بڑے طبی اداروں پر بوجھ کم ہو۔

سید مصطفیٰ کمال نے وفاقی دارالحکومت کے باسیوں اور ملک بھر سے آنے والے مریضوں کے لیے بڑی خوشخبری سناتے ہوئے بتایا کہ پمز میں پاکستان کے پہلے سرکاری شعبے کے مقتدر ‘پلسڈ فیلڈ ایبلیشن پروگرام’ اور پمز کارڈیک سینٹر کی اپ گریڈیشن کے پہلے مرحلے کی تعمیری تکمیل کر دی گئی ہے، جبکہ ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں مریضوں کی رہنمائی کے لیے ‘پیشنٹ فیسلیٹیشن اسسٹنٹ سروس’ کا بھی باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پمز کارڈیک سینٹر کی توسیع کے منصوبے پر 7.2 ارب روپے لاگت آئی ہے جبکہ مزید 90 کروڑ روپے کی خطیر سرمایہ کاری سے اسے دنیا کی جدید ترین کارڈیک ٹیکنالوجی سے آراستہ کیا گیا ہے جہاں غریب اور مستحق مریضوں کو بالکل مفت علاج فراہم کیا جائے گا۔

وفاقی وزیرِ صحت نے مزید بتایا کہ اس جدید پروگرام کے تحت دل کے امراض (دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی) میں مبتلا 4 مریضوں کا دنیا کی جدید ترین کیتھیٹر ایبلیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے کامیاب علاج مکمل کر لیا گیا ہے، جن میں اسلام آباد، آزاد کشمیر اور مردان سے تعلق رکھنے والے مستحق افراد شامل تھے۔ پمز کے طبی ماہرین کے مطابق، پلسڈ فیلڈ ایبلیشن روایتی ریڈیو فریکوئنسی اور کریو ایبلیشن کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ محفوظ، موثر اور تیز رفتار طریقہ علاج ہے، جس میں دل کے اردگرد کے صحت مند ٹشوز کو کم سے کم نقصان پہنچتا ہے، پیچیدگیوں کا خطرہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور مریض انتہائی جلد صحت یاب ہو کر اپنے گھر منتقل ہو جاتا ہے۔

مصنوعی ذہانت کو اخلاقی اصولوں اور مضبوط گورننس کے ساتھ قومی ترقی کے نظام میں شامل کیا جائے، ماہرین کا زور

روزینہ اسماعیل, JULY 13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

ممتاز تعلیمی و صنعتی ماہرین نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو محض انفرادی سہولت یا پیداواری صلاحیت بڑھانے والے روایتی آلے کے طور پر نہیں بلکہ واضح اخلاقی اصولوں، مضبوط گورننس اور اعلیٰ ادارہ جاتی تیاری کے ساتھ قومی ترقی کے مجموعی نظام میں شامل کیا جانا چاہئے۔ اگر حکومتیں، جامعات، صنعتیں اور تجارتی ادارے اے آئی کو ذمہ دارانہ انداز میں اپنے انتظامی اور فیصلہ سازی کے ڈھانچے کا حصہ بنائیں تو یہ پائیدار معاشی ترقی، بہتر طرزِ حکمرانی، اعلیٰ تعلیم اور سائنسی تحقیق میں نمایاں اور تزویراتی تبدیلی لا سکتی ہے۔ انہوں نے یہ باتیں پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیرِ اہتمام مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی گورننس پر مبنی تین اہم کتابوں کی تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔ تقریب میں ملک بھر سے نامور ماہرین، اساتذہ، محققین اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اپنے استقبالیہ کلمات میں ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ اظہر ضیاء الرحمٰن عالمی سطح پر ممتاز محقق، مشیر اور مینجمنٹ سسٹمز کے ماہر کے طور پر ایک مستند اور مقتدر آواز بن چکے ہیں۔ انہوں نے اس حساس موضوع پر اعلیٰ معیار کی کتابیں تصنیف کی ہیں اور دنیا بھر میں حکومتوں اور مقتدر اداروں کو چوتھے صنعتی انقلاب اور مصنوعی ذہانت کو موثر انداز میں اپنانے کے لیے تزویراتی رہنمائی فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ تھنک ٹینکس اور تحقیقی اداروں پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کا استعمال پوری ذمہ داری اور اخلاقی اصولوں کے مطابق کریں۔ تقریب کا آغاز کرتے ہوئے ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر (ریسرچ) ڈاکٹر ساجد امین جاوید نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی حقیقی صلاحیت اسی وقت سامنے آئے گی جب ریاستی و نجی ادارے اپنی استعداد میں اضافہ کر کے اسے اپنے انتظامی نظام میں شامل کریں گے، اور جامعات کو اس کے ذمہ دارانہ استعمال کے بارے میں نوجوانوں کی فوری رہنمائی کرنی چاہیے۔

اپنی تصنیف کردہ کتابوں کا تعارف پیش کرتے ہوئے نامور مصنف اظہر ضیاء الرحمٰن نے بتایا کہ ٹیکنالوجی گورننس کے شعبے میں ان کا سفر تقریباً دس برس قبل اس تصور پر دنیا کی پہلی کتاب تحریر کرنے سے شروع ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی نئی کتابیں اداروں کو تمام جدید ٹیکنالوجیز کی منظم اور آسان انداز میں نگرانی اور نظم و نسق کے لیے عملی رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ یورپی یونین کے ‘اے آئی ایکٹ’ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ اس تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کے لیے اخلاقی اصولوں کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ سولوڈ انجینئرنگ ٹیکنالوجیز کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر ظفر اللہ قریشی نے کتاب میں یونیورسٹی گورننس اور تدریسی نظام کے حوالے سے پیش کیے گئے نکات کو نہایت مفید قرار دیا اور خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت کی کامیابی کا تمام تر انحصار معیاری ڈیٹا اور موثر ڈیٹا گورننس پر ہے۔ تقریب کے اختتام پر ایس ڈی پی آئی میں ماحولیاتی پائیداری کی سربراہ زینب نعیم نے مصنف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کی حتمی قیادت ہمیشہ انسان کے ہی ہاتھ میں رہنی چاہئے۔

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اور چینی ادارے کے درمیان تعلیمی و تکنیکی تعاون کا معاہدہ، لیٹر آف انٹینٹ پر دستخط

روزینہ اسماعیل, JULY 13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی (اے آئی او یو) اور چین کے معروف ادارے ‘ٹینگ چائنیز انٹرنیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹیکنالوجی’ کے درمیان تعلیمی و تکنیکی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک مقتدر لیٹر آف انٹینٹ پر دستخط کیے گئے ہیں۔ اس تزویراتی شراکت داری کے تحت دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ تعلیمی پروگرام، طلبہ و اساتذہ کے تبادلے، چینی زبان کے فروغ، مشترکہ تحقیق، جدید مہارتوں کی تربیت اور جامعات و صنعت (انڈسٹری) کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں گے۔ دستاویزات پر اوپن یونیورسٹی کی جانب سے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود جبکہ چینی ادارے کی جانب سے بانی سانگ جیاءنگ نے باقاعدہ دستخط کیے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور مہارتوں سے آراستہ نوجوان ہی مستقبل کی اصل طاقت ہیں، اس لیے جامعات کی ذمہ داری ہے کہ وہ طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیم اور عملی مہارتوں سے لیس کریں تاکہ وہ بدلتی ہوئی عالمی ضروریات کے مطابق مؤثر کردار ادا کر سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس شراکت داری کے تحت جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے مہارت پر مبنی تعلیمی پروگرام متعارف کرائے جائیں گے تاکہ باصلاحیت اور ہنر مند افرادی قوت تیار کی جا سکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس تعاون کے نتیجے میں جامعہ میں چینی زبان و ثقافت کا مرکز بھی قائم ہوگا، جبکہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں ترک، جاپانی اور روسی زبانوں کے مراکز پہلے ہی کامیابی سے کام کر رہے ہیں۔ وائس چانسلر نے مزید کہا کہ پاک چین دیرینہ دوستی وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہو رہی ہے اور تعلیم اس دوستی کو نئی نسل تک منتقل کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔

چینی ادارے کے بانی مسٹر سانگ جیاءنگ نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں ٹیکنالوجی اور مہارت پر مبنی تعلیم کے فروغ کے لیے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ایک بہترین اور مقتدر شراکت دار ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ یہ تعاون دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی، تحقیقی اور تکنیکی روابط کو نئی جہت دے گا اور نوجوانوں کو عالمی معیار کی ہنر مندی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس موقع پر کوالٹی انہانسمنٹ سیل کی ڈائریکٹر ڈاکٹر صائمہ ناصر نے کہا کہ یہ معاہدہ اوپن یونیورسٹی کی بین الاقوامی روابط کو وسعت دینے کی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے جس سے طلبہ اور اساتذہ کو بین الاقوامی معیار کے تعلیمی اور تحقیقی مواقع میسر آئیں گے۔ تقریب میں یونیورسٹی کے ڈینز، پروفیسرز، شعبہ جات کے سربراہان اور دیگر پرنسپل افسران نے بھی شرکت کی۔

آسٹریلیا کے اسکول میں چاقو زنی کی لرزہ خیز واردات، ساتھی کو زخمی کرنے والا 15 سالہ طالب علم گرفتار

روزینہ اسماعیل, JULY 13,2026

کینبرا (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

آسٹریلیا کی ریاست کوئینزلینڈ میں ایک اسکول کے اندر مبینہ طور پر چاقو سے حملہ کر کے اپنے ہی ساتھی طالب علم کو شدید زخمی کرنے والے 15 سالہ لڑکے کو پولیس نے تزویراتی کارروائی کرتے ہوئے گرفتار کر لیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق، ریاستی کوئینزلینڈ کی پولیس نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ افسوسناک واقعہ پیر کے روز کیرنز شہر کے ایک اسکول میں پیش آیا، جہاں دوپہر سے کچھ دیر قبل پولیس کو ہنگامی اطلاع موصول ہوئی کہ ایک 15 سالہ طالب علم کے پیٹ پر اسکول کے اندر ہی چاقو سے وار کیا گیا ہے۔

موقر تفصیلات کے مطابق، زخمی ہونے والے طالب علم کو حملے کے فوری بعد طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں کے مطابق اس کی حالت اب مکمل طور پر خطرے سے باہر بتائی گئی ہے۔ ہولناک واقعے کے بعد مبینہ حملہ آور طالب علم، جس کی عمر بھی 15 سال ہے، جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا، تاہم پولیس نے تندہی سے تعاقب کرتے ہوئے واردات کے تقریباً 30 منٹ بعد ہی اسے قریبی علاقے سے دھر دبوچا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار لڑکے کو حراست میں لے کر تفتیش کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے، جبکہ علاقے میں امن و امان کی صورتحال قابو میں ہے اور عوام کے لیے اب کسی قسم کے مزید خطرے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

آپریشن بنیانٌ مرصوص کی کامیابی، تزویراتی استحکام اور سفارتی فتوحات ملک کے روشن مستقبل کی بنیاد ہیں؛ رائس یونیورسٹی اور جناح لائبریری ہیوسٹن میں خطاب

روزینہ اسماعیل, JULY 11,2026

ہیوسٹن / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے پاکستان کی تزویراتی تبدیلی کو اجاگر کرتے ہوئے ’’اڑان پاکستان‘‘ کو ایک کھرب ڈالر کی معیشت کے حصول کا قومی روڈ میپ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ معاشی بحالی، قومی استحکام اور سفارتی کامیابیاں ملک کے روشن مستقبل کی مضبوط بنیاد بن چکی ہیں۔ وزارت کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق، وفاقی وزیر احسن اقبال نے امریکا کی رائس یونیورسٹی میں طلبہ، اساتذہ، محققین اور پاکستانی برادری سے تزویراتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تین اہم قومی سنگ میل عبور کرنے کے بعد ترقی اور مواقع کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ‘آپریشن بنیانٌ مرصوص’ کی کامیاب تکمیل نے پاکستان کی تزویراتی بصیرت، قومی یکجہتی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کا بھرپور مظاہرہ کیا، جس سے ملک کے استحکام پر قومی اور بین الاقوامی اعتماد مزید مضبوط ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقتدر کارروائی نے عالمی برادری کے سامنے بھارت کی جارحیت کو بے نقاب کیا، جبکہ پاکستان نے خطے میں امن، ذمہ داری اور تحمل پر مبنی اپنے مؤقف کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا۔ پروفیسر احسن اقبال نے سنگاپور، جنوبی کوریا، چین اور خلیجی ممالک کی ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پائیدار معاشی ترقی سیاسی استحکام اور پالیسیوں کے تسلسل سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے حکومت کے اس مقتدر عزم کا اعادہ کیا کہ 2035ء تک پاکستان کو ایک کھرب ڈالر کی معیشت بنایا جائے گا۔

بعد ازاں، وفاقی وزیر نے ہیوسٹن میں جناح لائبریری میں پاکستانی نژاد امریکی برادری کے ہمراہ قائدِ اعظم محمد علی جناح اور شاعرِ مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی 150 ویں یومِ پیدائش کی مقتدر تقریبات میں شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان نے سال 2026ء کو ‘سالِ قائدِ اعظم’ قرار دیا ہے تاکہ بانیانِ پاکستان کی 150 ویں سالگرہ قومی و عالمی سطح پر شایانِ شان انداز میں منائی جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اڑان پاکستان کے ذریعے حکومت بانیانِ پاکستان کے وژن کو عملی شکل دے رہی ہے، جو علم پر مبنی معیشت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر مرکوز ہے۔ اس موقع پر قائداعظم اکیڈمی نے قومی خدمات کے اعتراف میں وفاقی وزیر احسن اقبال کو اپنا اعلیٰ ترین اعزاز “جناح کیپ” پیش کیا۔ اپنے دورے کے دوران وفاقی وزیر نے ابنِ سینا فاؤنڈیشن کے چیئرمین نصرالدین روپانی سے بھی ایک اہم تزویراتی ملاقات کی، جس میں زچہ و بچہ کی صحت اور انسانی ترقی کے اشاریوں کو بہتر بنانے کے لیے باہمی تعاون کے امکانات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

پاکستان-بنگلہ دیش نالج کوریڈور: ایچ ای سی نے بنگلہ دیشی طلبہ کے لیے علامہ اقبال اسکالرشپ ٹیسٹ کا کامیاب انعقاد کر دیا

روزینہ اسماعیل, JULY 10,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 جولائی 2026ء

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے پاکستان-بنگلہ دیش نالج کوریڈور کے تحت بنگلہ دیشی طلبہ کے لیے علامہ محمد اقبال اسکالرشپس کے دوسرے بیچ کے امیدواروں کا اسکالرشپ انٹری ٹیسٹ کامیابی سے منعقد کر لیا ہے۔ ایچ ای سی کی جانب سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، بنگلہ دیش کے مقتدر شہروں سلہٹ، رنگ پور اور بریسال میں بیک وقت منعقدہ انٹری ٹیسٹ میں تقریباً 500 امیدواروں نے شرکت کی۔ امیدواروں کی یہ بڑی تعداد اس بات کی واضح عکاس ہے کہ بنگلہ دیشی طلبہ میں پاکستان کی جامعات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے مواقع سے استفادہ کرنے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، جبکہ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی تعاون اور تزویراتی روابط کو مزید مستحکم کرنے میں بھی معاون ثابت ہو گا۔

ایچ ای سی نے اپنے اعلامیے میں واضح کیا کہ علامہ محمد اقبال اسکالرشپ پروگرام پاکستان-بنگلہ دیش نالج کوریڈور کا ایک اہم ترین حصہ ہے جس کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان علمی، تعلیمی اور تحقیقی تعاون کو فروغ دینا اور نوجوانوں کو معیاری اعلیٰ تعلیم کے بہترین مواقع فراہم کرنا ہے۔ کمیشن نے اس اہم امتحان کے شفاف، منظم اور کامیاب انعقاد میں بنگلہ دیش میں قائم پاکستان کے ہائی کمیشن کے مقتدر تعاون کو سراہتے ہوئے ان کی سفارتی خدمات پر گہرے تشکر کا اظہار کیا۔

ایچ ای سی کے مطابق، یہ اسکالرشپ پروگرام دونوں برادر ممالک کے درمیان عوامی روابط (پبلک ٹو پبلک کانٹیکٹ)، تعلیمی تبادلوں اور باہمی تزویراتی اعتماد کو مزید فروغ دینے میں ایک کلیدی اور مقتدر کردار ادا کرے گا، جس سے خطے میں علمی ترقی کے نئے راستے کھلیں گے۔

اقراء یونیورسٹی اور سرسید یونیورسٹی کے مابین تعلیمی، تحقیقی اور اختراعی شعبوں میں باہمی تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط

روزینہ اسماعیل, JULY 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 جولائی 2026ء

اقراء یونیورسٹی اور سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی نے اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ایک مقتدر تزویراتی پیش رفت کرتے ہوئے اپنے اپنے دفاتر برائے تحقیق، جدت اور تجارتی روابط کے ذریعے ایک اہم مفاہمتی یادداشت پر باقاعدہ دستخط کر دیے ہیں۔ اس مقتدر معاہدے کے تحت دونوں نامور جامعات کے درمیان تعلیمی، تحقیقی اور اختراعی شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ جاری کردہ آفیشل پریس ریلیز کے مطابق، اس شراکت داری کا بنیادی تزویراتی مقصد دونوں اعلیٰ تعلیمی اداروں کے درمیان مشترکہ تحقیق، جدید جدت طرازی، علم کے تبادلے، صلاحیت سازی اور صنعت و جامعہ کے روابط کو مزید پائیدار اور مضبوط بنانا ہے۔

معاہدے کی تفصیلات کے مطابق، اس مقتدر شراکت داری کے تحت دونوں جامعات کے اساتذہ، محققین اور طلبہ کے لیے مشترکہ تحقیقی منصوبوں، جدید تربیتی پروگراموں، ورکشاپس، سیمینارز اور دیگر علمی و فکری سرگرمیوں کے انعقاد کے وسیع مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ یہ مفاہمتی یادداشت دونوں جامعات کے درمیان ایک مضبوط اور دیرپا تعلیمی شراکت داری کا آغاز ہے، جس کے ذریعے اعلیٰ سطح پر تحقیق، اختراع اور تجارتی سرگرمیوں کو فعال فروغ حاصل ہو گا۔ مقتدر حکام کا کہنا ہے کہ اس تزویراتی اشتراکِ عمل سے نہ صرف دونوں اداروں میں اعلیٰ تعلیم کے معیار میں نمایاں بہتری آئے گی بلکہ ملک میں جدید ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت اور قومی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے ایک نئی راہ ہموار ہو گی۔

قائداعظم یونیورسٹی اور یولرن کے مابین تعلیمی ٹیکنالوجی کے شعبے میں باہمی تعاون بڑھانے پر غور

روزینہ اسماعیل, JULY 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 جولائی 2026ء

قائد اعظم یونیورسٹی کے نو تعینات وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظفر نواز جسپال سے یولرن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) وسیم احمد نے ایک مقتدر ملاقات کی ہے، جس میں تعلیمی ٹیکنالوجی کے شعبے میں باہمی تعاون کے وسیع امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ قائد اعظم یونیورسٹی کی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق، اس مقتدر ملاقات کے دوران دونوں جانب سے یونیورسٹی میں ڈیجیٹل تعلیم کے جدید فروغ اور ٹیکنالوجی سے مربوط تدریسی نظام کو مزید مؤثر و پائیدار بنانے کے لیے مشترکہ تزویراتی اقدامات پر غور کیا گیا۔

اس موقع پر تعلیمی ٹیکنالوجی، جدید ڈیجیٹل لرننگ پلیٹ فارمز اور جامعات کی تدریسی و تحقیقی سرگرمیوں میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو تیز تر کرنے کے امکانات کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظفر نواز جسپال نے مقتدر الفاظ میں کہا کہ قائد اعظم یونیورسٹی اپنے طلبہ کو بین الاقوامی معیار اور جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیم کی فراہمی کے لیے پوری طرح پرعزم ہے، جبکہ تعلیمی ٹیکنالوجی کے شعبے میں کسی بھی مقتدر ادارے کے ساتھ مؤثر شراکت داری اس اعلیٰ مقصد کے حصول میں انتہائی کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقین نے اس پختہ عزم کا اظہار کیا کہ تعلیمی ٹیکنالوجی کے شعبے میں باہمی تعاون کو فروغ دے کر طلبہ کے لیے جدید ڈیجیٹل تعلیمی مواقع فراہم کیے جائیں گے اور مستقبل میں اس تزویراتی اشتراک کے مختلف پہلوؤں پر پیش رفت مستقل جاری رکھی جائے گی۔

محققین، اساتذہ، طلبہ اور لائبریرینز کو تحقیقی مواد تک رسائی کی جدید حکمت عملیوں سے آگاہ کیا جائے گا؛ مکمل شرکت پر سرٹیفکیٹ بھی ملے گا

روزینہ اسماعیل, JULY 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 جولائی 2026ء

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) پاکستان کے زیر اہتمام محققین، اساتذہ، طلبہ اور لائبریرینز کے لیے ’’پاور یوزر اِن لوکیٹنگ ٹیکنیکل ریسورسز: این اِن ڈیپتھ ڈائیو ود آئی ای ای ای ایکسپلور ڈیجیٹل لائبریری‘‘ کے عنوان سے ایک خصوصی و مقتدر ویبینار ۱۴ جولائی ۲۰۲۶ء کو دوپہر ۲ بجے منعقد ہو گا۔ ایچ ای سی کی جانب سے جاری کردہ آفیشل اعلامیے کے مطابق، اس آن لائن سیشن کا بنیادی تزویراتی مقصد تمام شرکا کو اعلیٰ معیار کے تحقیقی مضامین، تکنیکی لٹریچر، بین الاقوامی معیارات (سٹینڈرڈز) اور دیگر علمی و تحقیقی مواد تک مؤثر اور تیز ترین انداز میں رسائی حاصل کرنے کی جدید حکمت عملیوں سے تفصیلی طور پر آگاہ کرنا ہے۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ اس مقتدر ویبینار کے دوران آئی ای ای ای ایکسپلور ڈیجیٹل لائبریری کے مؤثر استعمال، مطلوبہ تحقیقی مواد کی درست تلاش، جدید ترین سرچ تکنیکوں اور محققین کی انفرادی و مقتدر تحقیقی صلاحیتوں میں بہتری لانے کے حوالے سے ماہرین کی جانب سے تفصیلی رہنمائی فراہم کی جائے گی۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ملک بھر کے محققین، جامعات کے اساتذہ، طلبہ اور لائبریری کے شعبے سے وابستہ پیشہ ور افراد کو اس معلوماتی ویبینار میں بھرپور شرکت کی مقتدر دعوت دی ہے۔ ایچ ای سی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس پورے آن لائن سیشن میں مکمل وقت کے لیے شریک ہونے والے تمام رجسٹرڈ شرکا کو ادارے کی جانب سے باقاعدہ شرکت کا مقتدر سرٹیفکیٹ بھی جاری کیا جائے گا۔

پی ایم ہیپاٹائٹس سی پروگرام حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور ملک کو اس مرض سے پاک کرنا ہمارا قومی عزم ہے، وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال

روزینہ اسماعیل, JULY 08,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 8 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے صحت مصطفیٰ کمال نے واضح کیا ہے کہ وزیراعظم پروگرام برائے ہیپاٹائٹس سی حکومت کی اولین اور مقتدر ترجیحات میں شامل ہے اور ملک کو اس موذی مرض سے پاک کرنا ہمارا پختہ قومی عزم ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ محض صحت کا ایک عام منصوبہ نہیں بلکہ ہماری قوم کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی ایک جامع مہم ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعظم پروگرام برائے ہیپاٹائٹس سی کے حوالے سے منعقدہ ایک اہم اور تزویراتی جائزہ اجلاس کے دوران کیا۔ اس مقتدر اجلاس میں ہیپاٹائٹس کے قومی تکنیکی مشاورتی گروپ کے سربراہ پروفیسر سعید اختر، ایڈیشنل سیکرٹری صحت، پراجیکٹ ڈائریکٹر ہیپاٹائٹس سی پروگرام، پمز اور پولی کلینک ہسپتالوں کے سربراہان اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) اسلام آباد نے خصوصی شرکت کی۔

اجلاس کے دوران پراجیکٹ ڈائریکٹر نے وفاقی وزیر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہیپاٹائٹس سی اسکریننگ کے پائلٹ مرحلے کی پیش رفت اور اب تک کے نتائج پر تفصیلی بریفنگ دی اور مقتدر اعداد و شمار پیش کیے۔ وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے بریفنگ کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں پائلٹ مرحلہ شروع کرنے کا بنیادی مقصد عملی طور پر نظام میں درپیش آنے والے مسائل اور رکاوٹوں کی تزویراتی نشاندہی کرنا تھا، اور اب ان تمام مسائل کا انتہائی مؤثر حل نکال کر آئندہ ۱۵ دنوں کے اندر اس پورے اسکریننگ نظام کو مکمل طور پر فعال اور مستحکم کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کی بروقت تشخیص اور فوری علاج کے ذریعے اس بیماری کے پھیلاؤ کو مقتدر انداز میں روکا جا سکتا ہے۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں اس وقت ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کی مجموعی تعداد ایک کروڑ سے زائد ہو چکی ہے، اسی لیے اس بیماری کا جڑ سے خاتمہ اب ایک قومی ترجیح اور ناگزیر مقصد بن چکا ہے۔

مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں اس مقتدر پروگرام کی کامیابی میں پمز اور پولی کلینک ہسپتال کلیدی اور تزویراتی کردار ادا کریں گے، جبکہ عوامی آگاہی مہم کو میڈیا کے ذریعے مزید مؤثر بنایا جائے گا تاکہ ہر شہری اپنی قومی ذمہ داری سمجھتے ہوئے ہیپاٹائٹس سی کا ٹیسٹ لازمی کروائے۔ وفاقی وزیرِ نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ ہیپاٹائٹس سی ایک مکمل طور پر قابلِ علاج بیماری ہے، تاہم اس کے حتمی خاتمے کے لیے حکومت کے ساتھ ساتھ پوری قوم کی مشترکہ اور مخلصانہ کوششیں ناگزیر ہیں۔ انہوں نے اسلام آباد کے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اس قومی مہم میں بھرپور حصہ لیں۔ وزیرِ صحت نے مقتدر اعلان کیا کہ حکومت شہریوں کو مفت اسکریننگ اور مفت علاج کی جدید سہولت فراہم کر رہی ہے، اور جن افراد میں بھی ہیپاٹائٹس سی کی تشخیص ہوگی، ریاست ان کے علاج معالجے کے تمام تر اخراجات خود برداشت کرے گی۔

وفاقی سروس ٹریبونل کا پورا نظام ڈیجیٹل؛ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ’ای-اپیل مینجمنٹ سسٹم‘ کا باقاعدہ افتتاح کر دیا

روزینہ اسماعیل, JULY 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ وفاقی سروس ٹریبونل (ایف ایس ٹی) کی تزویراتی ڈیجیٹل تبدیلی سے عدالتی کارروائیوں میں روایتی تاخیر کا مکمل خاتمہ ہوگا، جس سے ملک میں انصاف کا مجموعی نظام مزید شفاف، موثر اور شہری دوست بن کر ابھرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز وفاقی سروس ٹریبونل کے لیے جدید ترین ’ای-اپیل مینجمنٹ سسٹم‘ (ای اے ایم ایس)، پبلک انٹرفیس، مینجمنٹ ڈیش بورڈ اور مقدمات کی آن لائن سماعت کے لیے ویڈیو لنک کی مقتدر سہولت کا باقاعدہ افتتاح کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے عزم دہرایا کہ موجودہ حکومت انصاف کی فوری فراہمی کو جدید ترین ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ بنانے کے لیے ہر ممکن عملی اقدامات اٹھا رہی ہے۔

وفاقی وزیر قانون نے اپنے خصوصی خطاب میں واضح کیا کہ عدالتی نظام کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن حکومت کے مقتدر اصلاحاتی ایجنڈے کا ایک انتہائی اہم حصہ ہے، جس کا بنیادی مقصد عام عوام کو تیز ترین اور موثر انصاف کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی سروس ٹریبونل میں اس جدید نظام کے نفاذ سے سائلین، قانون دانوں اور عدالتی عملے کو بہترین سہولیات میسر آئیں گی اور مقدمات کے مقتدر انتظام میں نمایاں بہتری دیکھنے کو ملے گی۔ وزارتِ قانون و انصاف کے ڈویلپمنٹ ونگ کی جانب سے تیار کردہ یہ ویب بیسڈ ڈیجیٹل سسٹم وفاقی سروس ٹریبونل کے چیئرمین جسٹس (ر) روح الامین خان کی براہِ راست نگرانی میں مکمل کیا گیا ہے، جسے اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ سمیت ٹریبونل کے تمام صوبائی بینچز پر بیک وقت نافذ العمل کر دیا گیا ہے۔

اس تزویراتی نظام کے تحت اب کسی بھی اپیل کو دائر کرنے سے لے کر اس کے حتمی فیصلے کے اجراء تک کے تمام پیچیدہ مراحل ایک ہی مربوط ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر شفاف طریقے سے انجام دیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ متعارف کرایا گیا پبلک انٹرفیس اور ڈیش بورڈ سائلین اور وکلاء کو ان کے مقدمات کی تازہ ترین معلومات تک فوری اور آسان رسائی فراہم کرے گا۔ مزید برآں، ٹریبونل کے تمام بینچز کو ہائی ٹیک ویڈیو لنک کی سہولت سے جوڑ دیا گیا ہے، جس کے ذریعے دور دراز علاقوں کے مقدمات کی آن لائن سماعت ممکن ہوگی۔ وزارتِ قانون کے مطابق، اس انقلابی اقدام سے سائلین کی سفری مشکلات اور عدالتی تاخیر میں واضح کمی آئے گی جبکہ وقت اور سرکاری وسائل کا زیادہ موثر استعمال ممکن ہو سکے گا۔ تقریب کے دوران ڈائریکٹر پلاننگ محمد جاوید نے سسٹم پر تفصیلی پریذنٹیشن دی، جبکہ تقریب میں ٹریبونل کے اراکین، جوائنٹ سیکرٹریز، ڈپٹی و اسسٹنٹ اٹارنی جنرلز اور وکلاء برادری کے مقتدر نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ بائیو کیمسٹری نے داخلوں کا اعلان کر دیا؛ بی ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگراموں کے لیے درخواستیں مطلوب

روزینہ اسماعیل, JULY 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

قائدِاعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ بائیو کیمسٹری نے تعلیمی سال دو ہزار چھبیس کے لیے بی ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگراموں میں نئے داخلوں کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ مقتدر تعلیمی اعلامیہ کے مطابق، داخلوں کے خواہشمند تمام پاکستانی اور غیر ملکی طلبہ مقررہ تاریخ تک اپنی درخواستیں آن لائن پورٹل کے ذریعے جمع کرا سکتے ہیں۔

جامعہ انتظامیہ کے مطابق، تمام تعلیمی پروگراموں میں داخلہ درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 10 اگست 2026ء مقرر کی گئی ہے۔ اس سال بی ایس پروگرام میں داخلے کے لیے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے تحت ہونے والے انڈر گریجویٹ اسٹڈیز ایڈمیشن ٹیسٹ کا پاس ہونا لازمی شرط قرار دیا گیا ہے۔ تمام امیدواروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس ٹیسٹ کی رجسٹریشن اور داخلہ فارم کے لیے ایچ ای سی کے ایجوکیشن ٹیسٹنگ کونسل پورٹل سے فوری رجوع کریں۔

داخلوں کے خواہشمند طلبہ سے کہا گیا ہے کہ وہ تعلیمی اہلیت، داخلہ پالیسی، مطلوبہ دستاویزات کی فہرست اور درخواست کے تفصیلی طریقہ کار سمیت تمام مقتدر معلومات حاصل کرنے کے لیے قائدِاعظم یونیورسٹی کی دفتری ویب سائٹ اور ایچ ای سی کے کونسل پورٹل سے رہنمائی حاصل کریں۔ جامعہ انتظامیہ نے طلبہ کو مخلصانہ مشورہ دیا ہے کہ وہ آخری تاریخ کا انتظار کیے بغیر اپنی درخواستیں بروقت جمع کرائیں تاکہ آخری دنوں میں انٹرنیٹ یا کسی بھی قسم کی تکنیکی یا انتظامی دشواری سے بچا جا سکے۔