علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں “پودے لگاؤ، ملک سنوارو” مون سون شجرکاری مہم کا آغاز: کیمپس کو سرسبز بنانے اور مصنوعی جنگل کے قیام کے عزم کا اعادہ

روزینہ اسماعیل, August 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اگست 2026ء

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت، ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کے سنگین چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی کیمپس کو ماحول دوست بنانے کے لیے ”پودے لگاؤ، ملک سنوارو“ کے عنوان سے مون سون شجرکاری مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔

یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے کوالٹی انہانسمنٹ سیل کی عمارت کے سامنے واقع مرکزی پارک میں ”کوریزیا“ کا پودا لگا کر اس مہم کا افتتاح کیا۔ افتتاح کے پروقار موقع پر یونیورسٹی کے تمام ڈینز، رجسٹرار، تمام پرنسپل افسران اور شعبہ ہارٹیکلچر کے حکام بھی موجود تھے۔ وائس چانسلر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ درخت لگانا صرف خوبصورتی کی سرگرمی نہیں بلکہ ہماری اجتماعی بقا اور صحت مند مستقبل کا ضامن ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے شجرکاری کو ہر شہری کے لیے قومی فرض کا درجہ دینا ہوگا۔

پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے شعبہ ہارٹیکلچر کو ہدایت جاری کی کہ یونیورسٹی کیمپس کے اندر ایک مصنوعی جنگل کے قیام کے لیے تمام ضروری انتظامات کو فوری طور پر حتمی شکل دی جائے تاکہ کیمپس کو جدید اور پائیدار ماحولیاتی ماڈل میں ڈھالا جا سکے۔

شعبہ زرعی سائنس کے ہارٹیکلچر آفیسر وجیح الحسن نے مہم کی تفصیلات بتاتے ہوئے آگاہ کیا کہ پہلے مرحلے میں کیمپس کے اندر ستر خوبصورت پھول دار پودے لگائے جا رہے ہیں، جبکہ اس پوری مون سون مہم کے لیے کل دو سو پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اسی دوران پروفیسر ڈاکٹر ارشاد احمد ارشد نے بتایا کہ اس مہم میں استعمال ہونے والے ستر فیصد پودے کسی باہر کی نرسری سے خریدنے کی بجائے یونیورسٹی میں پہلے سے موجود پودوں ہی سے تیار کیے گئے ہیں، جو کہ حکومتی و ادارے کے مالی وسائل کے انتہائی موثر اور پائیدار استعمال کا بہترین ثبوت ہے۔

تقریب کے اختتام پر تمام ڈینز اور سینئر افسران نے بھی پودے لگائے اور یونیورسٹی میں سبزہ زاروں کو وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس مہم کا بنیادی مقصد کیمپس کو خوبصورت بنانے کے ساتھ ساتھ اساتذہ، طلبہ اور ملازمین میں ماحولیاتی تحفظ اور شجرکاری کی اہمیت کا شعور بیدار کرنا ہے۔

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے تاریخ رقم کر دی: داخلوں کے ساتھ ہی طلبہ کو درسی کتب کی ترسیل کا آغاز

روزینہ اسماعیل, August 10,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 اگست 2026ء

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے طلبہ کو بروقت تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے عزم کو عملی جامہ پہناتے ہوئے ایک نئی مثال قائم کر دی ہے۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود کی خصوصی ہدایات پر سمسٹر خزاں 2026ء کے داخلوں کا عمل جاری رہتے ہی داخلہ لینے والے طلبہ کو درسی کتب کی ترسیل بھی شروع کر دی گئی ہے۔ یونیورسٹی کی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ داخلے جاری ہونے کے ساتھ ہی طلبہ کو درسی کتب کی فراہمی کا عمل بھی بیک وقت شروع کیا گیا ہے۔

وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے کہا کہ طلبہ کو کتب کے انتظار سے نجات دلانا اور بروقت تعلیمی مواد فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد طلبہ کو تعلیمی سفر کے آغاز ہی پر ضروری تعلیمی مواد فراہم کرنا اور فاصلاتی نظامِ تعلیم کو مزید مؤثر بنانا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ یونیورسٹی کے سالانہ تعلیمی کیلنڈر کے مطابق کتب کی ترسیل مقررہ نظام الاوقات کے تحت مکمل کی جائے اور ہر طالب علم کو اس کے داخل شدہ کورسز کے مطابق کتب کا مکمل سیٹ بروقت فراہم کیا جائے۔

پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے گزشتہ سمسٹر کے دوران طلبہ کو کتب کے نامکمل سیٹس موصول ہونے سے متعلق شکایات کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ رواں سمسٹر میں اس نوعیت کی شکایات سامنے نہیں آنی چاہئیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ہر طالب علم کے منتخب کردہ کورسز کے مطابق کتب کا مکمل پیکٹ انتہائی احتیاط سے تیار کیا جائے اور اس کی بروقت ترسیل یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کتب کی تیاری اور ترسیل کے عمل میں دستیاب افرادی قوت، وسائل اور انتظامی صلاحیتوں کو مؤثر انداز میں بروئے کار لایا جائے تاکہ طلبہ کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

شعبہ داخلہ کے ڈائریکٹر سید ضیاء الحسنین نے وائس چانسلر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پہلے مرحلے میں ایسوسی ایٹ ڈگری اِن آرٹس اور ایسوسی ایٹ ڈگری اِن کامرس کے طلبہ کو درسی کتب ارسال کی جا رہی ہیں جبکہ دیگر پروگرامز میں داخلہ لینے والے طلبہ کو بھی مرحلہ وار مقررہ نظام الاوقات کے مطابق کتب کی ترسیل جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ سمسٹر خزاں 2026ء میں داخلہ لینے والے تمام طلبہ کو درسی کتب کی ترسیل کا عمل 15 نومبر 2026ء تک مکمل کر لیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کتب کی ترسیل کے عمل کو داخلوں کے ساتھ مربوط کرنے سے طلبہ کو تعلیمی سرگرمیوں کے آغاز ہی سے اپنے متعلقہ کورسز کے مطالعاتی مواد تک رسائی حاصل ہوگی جس سے انہیں اپنی تعلیمی سرگرمیوں کی بروقت منصوبہ بندی اور مطالعے میں آسانی ہوگی۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا یہ اقدام محض کتب کی ترسیل کے نظام میں بہتری نہیں بلکہ طلبہ کے وقت کی قدر، تعلیمی تسلسل اور بروقت خدمات کی فراہمی کے عزم کا عملی اظہار ہے۔ داخلوں کے ساتھ ہی درسی کتب کی ترسیل کا آغاز فاصلاتی تعلیم کے طلبہ کے لیے ایک اہم سہولت ہے جو یونیورسٹی کی انتظامی کارکردگی، تعلیمی خدمات میں بہتری اور طلبہ مرکز پالیسیوں کے تسلسل کی عکاسی کرتا ہے۔

دنیا بھر میں 58 کروڑ سے زائد افراد ذیابیطس کا شکار، 25 کروڑ مریض اپنی بیماری سے بے خبر: ڈاکٹر سکندر اقبال

روزینہ اسماعیل, August 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 09 اگست 2026ء

دنیا بھر میں ذیابیطس (شوگر) کا مرض خطرناک حد تک پھیل چکا ہے اور اس وقت عالمی سطح پر تقریباً 58 کروڑ 90 لاکھ (589 ملین) بالغ افراد اس بیماری کا شکار ہیں، جبکہ 25 کروڑ 20 لاکھ (252 ملین) افراد ایسے ہیں جو ذیابیطس میں مبتلا ہونے کے باوجود اپنی اس طبی حالت سے مکمل بے خبر ہیں۔

معروف طبی ماہر ڈاکٹر سکندر اقبال نے اپنی ایک تحریری تجزیاتی رپورٹ میں عالمی ادارہ صحت اور انٹرنیشنل ڈائیبیٹیز فیڈریشن کی جاری کردہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ دنیا بھر میں موٹاپا، پری ذیابیطس ، ٹائپ ٹو ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، نان الکوحلک فیٹی لیور اور دل کے امراض ایک عالمی وبا کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کا شمار بھی ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں ذیابیطس کی شرح عالمی سطح پر بلند ترین حدود کو چھو رہی ہے۔ پاکستان میں شوگر کے مرض میں اس تیزی سے اضافے کی بنیادی وجوہات غیر متوازن اور پروسیسڈ غذاؤں کا استعمال، جسمانی سرگرمیوں اور ورزش کی شدید کمی، موٹاپا اور غیر صحت مند طرزِ زندگی ہیں۔

ڈاکٹر سکندر اقبال کا کہنا تھا کہ صرف ادویات کے سہارے اس خاموش قاتل بیماری پر قابو پانا ناممکن ہے، جب تک کہ طرزِ زندگی میں بنیادی تبدیلیاں نہ لائی جائیں۔ انہوں نے جدید طبی تحقیق کے حوالے سے بتایا کہ شوگر کی روک تھام اور بہتر شوگر لیول برقرار رکھنے کے لیے ادویات کے ساتھ ساتھ صحت مند لائف اسٹائل اپنانا ناگزیر ہے۔ اسی ضرورت کے پیشِ نظر اس وقت عالمی سطح پر ‘انٹرمٹنٹ فاسٹنگ’ وقتاً فوقتاً فاقہ یا روزے کا طریقہ) کا رجحان اور مقبولیت تیزی سے بڑھ رہی ہے، جو ذیابیطس کے کنٹرول اور موٹاپے کے خاتمے میں انتہائی مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔

انٹرنیشنل نیوکلیئر سائنس اولمپیاڈ 2026ء: پاکستان نے جدہ میں ایک گولڈ اور دو سلور میڈل جیت کر تاریخ رقم کر دی

محمود احمد, August 08,2026

جدہ / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 08 اگست 2026ء

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کی سرپرستی اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز کے زیرِ انتظام تربیت یافتہ پاکستانی ٹیم نے سعودی عرب کے شہر جدہ میں منعقدہ تیسرے انٹرنیشنل نیوکلیئر سائنس اولمپیاڈ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 1 گولڈ اور 2 سلور میڈلز اپنے نام کر لیے ہیں۔

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے تعاون سے 2 سے 8 اگست تک منعقد ہونے والے اس عالمی مقابلے میں چین، روس، جاپان، ترکیہ، ملائیشیا، انڈونیشیا اور سعودی عرب سمیت 19 ممالک کے تقریباً 120 باصلاحیت طلبہ اور سائنسی ماہرین نے شرکت کی۔

پاکستان کے لیے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے طالب علم محمد علی نے شاندار سائنسی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے طلائی تمغہ حاصل کیا۔ جبکہ ایف جی سر سید کالج راولپنڈی کے محمد عثمان اور نکسر کالج کراچی کی سیرت فاطمہ بھٹی نے چاندی کے تمغے جیتے۔ سندر سٹیم اسکول لاہور کے سید شجاع حیدر نے بھی مقابلے میں پاکستان کی نمائندگی کی۔

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے مطابق ان طلبہ کا انتخاب ‘پاکستان نیوکلیئر سائنس اولمپیاڈ’ کے ذریعے شفاف عمل سے کیا گیا، جس کے بعد ‘پیاس’ کے ممتاز پروفیسروں اور ایٹمی سائنس دانوں نے انہیں جدہ مقابلے کے لیے اعلیٰ ترین تربیت فراہم کی۔

پاکستان 2027ء میں چوتھے انٹرنیشنل نیوکلیئر سائنس اولمپیاڈ کی میزبانی کرے گا اس عظیم کامیابی کے ساتھ ساتھ پاکستان نے ایک اور عالمی اعزاز بھی اپنے نام کر لیا ہے۔ پاکستان کو سال 2027ء میں ہونے والے چوتھے انٹرنیشنل نیوکلیئر سائنس اولمپیاڈ کی میزبانی کے لیے منتخب کر لیا گیا ہے۔

اختتامی تقریب کے موقع پر پی اے ای سی کے ڈاکٹر محمد مقصود اور پیاس کے ڈاکٹر سجاد طاہر کو آئندہ سال کے میزبان ملک کے طور پر یادگاری سووینئر پیش کیا گیا۔ عالمی برادری کی جانب سے پاکستان کو میزبانی ملنا پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی، تعلیم اور سائنسی تعاون کے میدان میں پاکستان کے بین الاقوامی وقار کا اعتراف ہے۔

پاکستان کا سوڈان میں تعلیم کے تحفظ اور تنازع کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات پر زور

محمود احمد, August 08,2026

اقوام متحدہ / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 08 اگست 2026ء

پاکستان نے سوڈان میں جاری شدید مسلح تنازع کے پیشِ نظر بچوں کی تعلیم کے تحفظ، تعلیمی اداروں کی بحالی اور فوری بین الاقوامی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ سوڈان کی پائیدار بحالی، مستقبل کے استحکام اور دیرپا امن کے لیے بچوں کے تحفظ اور تعلیم تک ان کی بلا تعطل رسائی کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے زیر اہتمام “سوڈان میں تعلیم کا تحفظ: امن، بحالی اور استحکام میں سرمایہ کاری” کے عنوان سے منعقدہ ‘آریا فارمیولا’ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے فرسٹ سیکرٹری سید انصار شاہ نے بتایا کہ اپریل 2023ء میں تنازع کے آغاز سے اب تک سوڈان میں 17 ملین سے زائد بچوں کی تعلیم شدید متاثر ہوئی ہے، جبکہ تقریباً 8 ملین بچے اس وقت اسکولوں سے محروم ہو چکے ہیں۔

پاکستانی نمائندے نے اسکولوں، طلبہ، اساتذہ اور تعلیمی عملے پر ہونے والے تمام تر حملوں کی شدید مذمت کی اور واضح کیا کہ تعلیمی اداروں کو کبھی بھی فوجی یا سیکیورٹی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی انسانی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہنگامی حالات میں بھی بچوں کے حقِ تعلیم کی ضامن بنے۔

سید انصار شاہ نے سوڈان کے لیے تین اہم ترجیحات پیش کیں: اسکولوں، بچوں، اساتذہ اور امدادی کارکنوں کی حفاظت کے ساتھ انسانی امداد تک محفوظ رسائی یقینی بنائی جائے۔ بے گھر اور پناہ گزین بچوں کے لیے ہنگامی تعلیمی سرگرمیوں، اسکولوں کی دوبارہ تعمیر اور اساتذہ کی مالی و فنی معاونت کو ترجیح دی جائے۔ سوڈان کے قومی تعلیمی نظام، امتحانات اور اسناد کی توثیق و منظوری کا مکمل تحفظ کیا جائے کیونکہ یہی بچے کل سوڈان کو سنبھالنے والے معمار بنیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اولین اور حتمی ترجیح سوڈان میں جاری جنگ کا فوری خاتمہ ہونا چاہیے۔ پاکستان سوڈان کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور ملک کو تقسیم کرنے والے کسی بھی متوازی حکومتی ڈھانچے کی مخالفت کرتا ہے۔ پاکستانی نمائندے نے تمام سوڈانی فریقین پر زور دیا کہ وہ تنازع کا راستہ ترک کر کے سفارتی حل اپنائیں۔

وزیر اعظم کی ہدایت: ایم ڈی کیٹ کا 16 اگست کو ہونے والا ٹیسٹ 20 ستمبر تک ملتوی

روزینہ اسماعیل, August 07,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 07 اگست 2026ء

وزیراعظم پاکستان کی خصوصی ہدایت کی روشنی میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے ملک بھر میں 16 اگست کو منعقد ہونے والا میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ (ایم ڈی کیٹ) ملتوی کرتے ہوئے امتحان کی نئی تاریخ کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

پی ایم ڈی سی کے شعبہ امتحانات کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق تمام والدین، امیدواروں، تعلیمی اداروں اور دیگر متعلقہ فریقین کو مطلع کیا جاتا ہے کہ وزیراعظم کی ہدایات کے تحت 16 اگست کو طے شدہ ایم ڈی کیٹ کا امتحان اب 20 ستمبر 2026ء کو منعقد ہوگا۔

کونسل کے مطابق امتحانی تاریخ میں اس تبدیلی کا بنیادی مقصد تمام طلبہ و طالبات کو داخلہ ٹیسٹ کی تیاری کے لیے مناسب اور اضافی وقت فراہم کرنا ہے تاکہ وہ بہتر طریقے سے اپنے امتحان کی تیاری مکمل کر سکیں۔

ڈبلیو ایچ او کا انکشاف: جمہوریہ کانگو میں ایبولا کی تاریخ کی سب سے بڑی وبا کا پھیلاؤ، پہلی ویکسین اور علاج کے لیے تحقیق میں پیش رفت جاری

محمود احمد, August 05,2026

جنیوا (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء

عالمی ادارہ صحت نے بتایا ہے کہ جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کی انتہائی خطرناک ‘بُنڈی بُگیو’ قسم کی تاریخ کی سب سے بڑی وبا کے دوران موثر علاج کی دریافت اور دنیا کی پہلی ویکسین کی تیاری کے لیے سائنسی تحقیق میں تیز رفتار پیش رفت جاری ہے، تاہم اس کے حتمی نتائج سامنے آنے میں ابھی کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔

اماراتی نیوز ایجنسی (وام) کے مطابق جنیوا میں عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ وبا کی سنگینی کو مدِنظر رکھتے ہوئے تحقیقی آزمائشیں ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی کے ساتھ شروع کی گئیں کیونکہ جامع تحقیقاتی منصوبے وبا کے باضابطہ اعلان سے پہلے ہی تیار کر لیے گئے تھے۔

ڈبلیو ایچ او کے قائمقام سربراہ برائے تحقیق و ترقی ڈاکٹر واسی مورتی نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ایبولا وائرس کی اس مخصوص بُنڈی بُگیو قسم کے لیے فی الوقت دنیا میں کوئی بھی محفوظ اور موثر علاج یا منظور شدہ ویکسین دستیاب نہیں ہے۔ تاہم، انہوں نے انکشاف کیا کہ برطانیہ میں 24 جولائی کو پہلے مرحلے کی ویکسین آزمائش کا کامیابی سے آغاز ہو چکا ہے، جبکہ کینیڈا میں بھی آئندہ چند دنوں کے اندر ایک اور ہنگامی کلینیکل ٹرائل شروع کیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر واسی مورتی کے مطابق ابتدائی طبی آزمائشیں فیریٹس اور بندروں پر کی جا رہی ہیں، جن سے حاصل ہونے والے نتائج اور ڈیٹا کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد عالمی ادارہ صحت انسانوں پر آزمائش اور اگلے مرحلے کا باضابطہ فیصلہ کرے گا۔

عالمی ادارہ صحت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق یکم اگست تک جمہوریہ کانگو میں ایبولا کی اس جان لیوا وبا کے 3,748 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں سے 1,657 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ 708 مریض علاج کے بعد صحت یاب ہوئے ہیں۔

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں مصنوعی ذہانت پر تربیتی نشست کا انعقاد: طلبہ کی غیر معمولی دلچسپی

روزینہ اسماعیل, August 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اگست 2026ء

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے طلبہ ترقی و تقرری مرکز (اسٹوڈنٹ ڈویلپمنٹ اینڈ پلیسمنٹ سینٹر) کے زیرِ اہتمام مصنوعی ذہانت (AI) کے جدید تقاضوں پر مبنی آن لائن تربیتی نشست کا انعقاد کیا گیا، جس میں یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات نے غیر معمولی اور والہانہ دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ اس خصوصی ورکشاپ کے لیے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے 293 طلبہ نے رجسٹریشن کروائی، جبکہ 116 طلبہ نے براہِ راست آن لائن سیشن میں مکمل طور پر شرکت کی۔

ورکشاپ کے دوران معروف کمپنی گوگل کے ماہر محمد عمر نذیر نے کلیدی سپیکر کے طور پر شرکت کی۔ انہوں نے شرکاء کو ‘گوگل ڈویلپر گروپس’ اور یونیورسٹی کیمپس میں قائم ‘گوگل ڈویلپر گروپس آن کیمپس’ کے آپریشنز اور فوائد کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ ان عالمی سطح کے پلیٹ فارمز سے متحرک طور پر وابستہ ہو کر اپنی فنی صلاحیتوں کو جلا بخشیں، مشترکہ طور پر جدید ٹیکنالوجی پروژیکٹس پر کام کریں، اپنے پیشہ ورانہ نیٹ ورک کو وسعت دیں اور موجودہ صنعتی تقاضوں سے خود کو ہم آہنگ کریں۔

نشست کے آخری مرحلے میں ایک فکر انگیز سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا جس میں طلبہ نے اپنے اپنے مخصوص تعلیمی شعبہ جات میں مصنوعی ذہانت کے عملی اطلاق سے متعلق سوالات کیے۔ محمد عمر نذیر نے ان کے جوابات دیتے ہوئے اس بات پر روشنی ڈالی کہ مصنوعی ذہانت اب صرف کمپیوٹر سائنس کے شعبے تک محدود نہیں رہی بلکہ نفسیات کے طلبہ اسے طبی و روئیاتی تحقیق میں، شعبہ صحت کے ماہرین بیماریاں کی تشخیص میں اور لاجسٹکس کے ادارے اپنے انتظامی امور کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کلیدی، اسٹریٹجک اور اہم فیصلوں میں انسانی سوچ اور نگرانی ہمیشہ ناگزیر رہے گی۔

ورکشاپ کے اختتام پر اسٹوڈنٹ ڈویلپمنٹ اینڈ پلیسمنٹ سینٹر کے انچارج ڈاکٹر عارف سلیم نے مہمانِ خصوصی محمد عمر نذیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس سیشن نے طلبہ کو مصنوعی ذہانت کے عملی فوائد اور ڈیجیٹل مہارتوں سے مستفید ہونے کا شاندار موقع فراہم کیا ہے۔ انہوں نے مستقبل میں گوگل کے ساتھ آن کیمپس مزید تربیتی پروگرامز کے انعقاد کی خواہش ظاہر کی اور کہا کہ ایسی سرگرمیاں طلبہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو عالمی منڈی کے معائیر کے مطابق ڈھالنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

ایچ ای سی کوالٹی اشورنس ایجنسی اور پی این کیو اے ایچ ای کے درمیان معاہدہ طے پا گیا: اعلیٰ تعلیم کے معیار کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق

روزینہ اسماعیل, August 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اگست 2026ء

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی کوالٹی اشورنس ایجنسی اور پاکستان نیٹ ورک آف کوالٹی اشورنس اِن ہائر ایجوکیشن کے درمیان پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی شعبے میں تعلیمی معیار کو مزید مستحکم بنانے اور جدید بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے ایک اہم مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔

اس مفاہمتی یادداشت کا بنیادی مقصد پاکستان بھر کی جامعات میں کوالٹی اشورنس کے موجودہ نظام کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنا، دونوں اداروں کے درمیان ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دینا اور اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں بہترین بین الاقوامی طریقہ کار کو رائج کرنا ہے۔

دستخط کی اس تقریب کے موقع پر دونوں اداروں کے اعلیٰ نمائندوں نے اپنے عزائم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس شراکت داری کے تحت اساتذہ اور انتظامی عملے کے لیے مشترکہ تربیتی پروگرامز، استعداد کار میں اضافے کی ورکشاپس، علمی و تحقیقی تعاون اور معیارِ تعلیم کی مسلسل بہتری کے لیے جامع اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

نمائندوں کا مزید کہنا تھا کہ یہ پائیدار شراکت داری نہ صرف اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں معیار کی یقین دہانی کے نظام کو مزید شفاف اور مؤثر بنائے گی بلکہ ملکی جامعات کی مجموعی کارکردگی اور عالمی رینکنگز کو بہتر بنانے میں بھی نچلی سطح پر اہم پیش رفت ثابت ہوگی۔

ملتان یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں ‘اسکول آف نرسنگ’ کا افتتاح: وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال کی عالمی معیار کی سہولیات کی فراہمی پر انتظامیہ کو مبارکباد

روزینہ اسماعیل, JULY 31,2026

ملتان (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ملتان یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں عالمی معیار کی سہولیات، جدید ٹیکنالوجی اور تحقیق پر مبنی بہترین تعلیمی ماحول انتہائی قابلِ تحسین ہے، ایسے ہی معیاری ادارے ملک میں مایوسی کے خاتمے اور نوجوان نسل میں امید کی نئی کرن پیدا کرنے کا بنیادی ذریعہ بنتے ہیں۔

یہ بات انہوں نے ملتان یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں ‘اسکول آف نرسنگ اینڈ الائیڈ ہیلتھ سائنسز’ کی پروقار افتتاحی تقریب سے بحیثیتِ مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وفاقی وزیر صحت نے یونیورسٹی انتظامیہ کو جدید شعبے کا کامیاب آغاز کرنے پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ اپنے منصب کی بدولت انہیں ملک بھر سے روزانہ مختلف معلومات موصول ہوتی رہتی ہیں، مگر جب کبھی ملک میں مایوسی کا تاثر ابھرے تو اس یونیورسٹی جیسے اداروں کا رخ کرنا چاہیے جہاں مثبت سوچ، محنت اور روشن مستقبل کا وژن صاف نظر آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی معیار کا ایسا شاندار انسٹیٹیوٹ قائم کرنے کے لیے غیر معمولی جنون اور نیت کی سچائی درکار ہوتی ہے۔

سید مصطفیٰ کمال نے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ ہیلتھ کیئر کا حقیقی مقصد صرف ہسپتالوں کی عمارتیں بنانا نہیں بلکہ انسانوں کو بیمار ہونے سے بچانا اور پیشگی علاج یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے ملک میں صحت کی تشویشناک صورتحال پر اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 6.7 ملین (67 لاکھ) بچوں کی پیدائش ہوتی ہے، جبکہ زچگی اور دورانِ حمل کی پیچیدگیوں کے باعث سالانہ تقریباً 11 ہزار خواتین جان کی بازی ہار جاتی ہیں، اور پانچ سال سے کم عمر بچوں کی اموات بھی ہمارے لیے بڑا چیلنج ہیں۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ ان کا محکمہ ایسی حکمتِ عملی پر کاربند ہے جس سے بیماریوں کی بروقت تشخیص اور بہتر طبی سہولیات عام شہری تک پہنچ سکیں۔

وفاقی وزیر صحت نے طلبہ و طالبات پر زور دیا کہ وہ یہاں سے محض کاغذی ڈگری لے کر نہ نکلیں بلکہ اپنے شعبے کے باصلاحیت اور ماہر پروفیشنل بن کر ملک کی خدمت کریں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دیگر متعلقہ حکام اور اعلیٰ شخصیات کو بھی ملتان یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے دورے کی ترغیب دیں گے تاکہ ملک بھر کی دیگر جامعات بھی اس ماڈل کو اپناتے ہوئے اپنے تعلیمی اور طبی معیار کو بلند کر سکیں۔

پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی میں انسٹیٹیوشنل کوالٹی سرکل بورڈ کے پہلے اجلاس کا انعقاد: اعلیٰ تعلیمی معیار، شفافیت اور تحقیقی اختراع پر زور

روزینہ اسماعیل, JULY 30,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی کے ڈائریکٹوریٹ آف کوالٹی انہانسمنٹ کے زیرِ اہتمام ‘انسٹیٹیوشنل کوالٹی سرکل بورڈ’ کا پہلا باضابطہ اجلاس وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قمر الزمان کی زیرِ صدارت انعقاد پذیر ہوا۔ اس اہم انتظامی و تدریسی اجلاس میں یونیورسٹی کے تمام ڈینز، ڈائریکٹرز، مختلف شعبہ جات کے چیئرمینز، انتظامی سربراہان اور اکیڈمک و ایڈوانسڈ سٹڈیز کے نمائندگان نے شرکت کی۔

اجلاس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قمر الزمان نے کہا کہ اعلیٰ تعلیمی معیار کے فروغ کے لیے مسلسل بہتری، شفافیت، کلیدی کارکردگی اشاریوں کے ذریعے کارکردگی کا مؤثر جائزہ، تحقیق، اختراع اور ادارہ جاتی اشتراک کا فروغ ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ یونیورسٹی کو قومی و بین الاقوامی معیار کے مطابق ایک مثالی اعلیٰ تعلیمی ادارہ بنانے کے لیے معیار کی بہتری کے تمام ضروری اقدامات کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جائے گا۔

اجلاس کے دوران تعلیمی و معیاری یقین دہانی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے، تدریسی و انتظامی کارکردگی میں بہتری، تدریس و تعلیم کے نتائج کو مؤثر بنانے اور ہائر ایجوکیشن کمیشن سمیت دیگر منظور شدہ ایکریڈیٹیشن اداروں کے مقرر کردہ معیارات پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنانے کے حوالے سے مختلف حکمت عملیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈائریکٹر کوالٹی انہانسمنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد جاوید اسد نے شرکاء کو اجلاس کے ایجنڈے پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس کے اختتام پر متعدد قابلِ عمل سفارشات کی منظوری دی گئی اور اقدامات کی مسلسل نگرانی کے لیے فالو اپ میکنزم بھی منظور کیا گیا۔

ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کا مظفرآباد سینٹر کے امیدواروں کے لیے لاء ایڈمیشن ٹیسٹ کی نئی تاریخ کا باقاعدہ اعلان: پرچہ 9 اگست 2026ء کو منعقد ہو گا

روزینہ اسماعیل, JULY 30,2026

ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) پاکستان نے آزاد جموں و کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کو اپنے امتحانی مرکز کے طور پر منتخب کرنے والے طلبہ و طالبات کے لیے لاء ایڈمیشن ٹیسٹ کے انعقاد کی نئی اور حتمی تاریخ کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ ایچ ای سی کے شعبہ امتحانات اور ایجوکیشن ٹیسٹنگ کونسل کی جانب سے جاری کردہ رسمی اعلامیے کے مطابق، مظفرآباد میں منعقد ہونے والا لاء ایڈمیشن ٹیسٹ جو کہ پہلے معقول وجوہات اور انتظامی امور کے باعث 21 جون 2026ء بروز اتوار کو منعقد نہیں ہو سکا تھا، اب اس کا انعقاد 9 اگست 2026ء بروز اتوار کو کیا جائے گا۔ اس ٹیسٹ کے انعقاد سے آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے ہزاروں قانون کے ڈگری پروگرامز میں داخلے کے خواہش مند امیدوار اپنے تعلیمی سلسلے کو آگے بڑھا سکیں گے۔

ایچ ای سی ترجمان کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق مظفرآباد سینٹر کے تمام امیدواروں کی رول نمبر سلپس کل یعنی 31 جولائی 2026ء بروز جمعہ ایچ ای سی کی ٹیسٹنگ ایجنسی ایجوکیشن ٹیسٹنگ کونسل کے رسمی آن لائن پورٹل پر اپ لوڈ کر دی جائیں گی۔ تمام متعلقہ امیدوار پورٹل پر جا کر اپنے متعلقہ آن لائن پروفائل میں لاگ ان ہو کر اپنی اپنی رول نمبر سلپس باآسانی ڈاؤن لوڈ کر سکیں گے، جن پر امتحانی مرکز کا مکمل پتہ، وقت اور دیگر ضروری ہدایات درج ہوں گی۔ ایچ ای سی نے تمام امیدواروں کو خصوصی ہدایت کی ہے کہ وہ امتحانی روز کسی بھی قسم کی زحمت اور پریشانی سے بچنے کے لیے امتحان کی مقررہ تاریخ سے قبل بروقت اپنی رول نمبر سلپس پرنٹ کر لیں اور کسی بھی نئی اطلاع، ہدایات یا جدول میں تبدیلی سے آگاہ رہنے کے لیے ای ٹی سی پورٹل کا باقاعدگی سے معائنہ کرتے رہیں۔

وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سے امریکی کانگریسی وفد کی اعلیٰ سطحی ملاقات: سائبر سیکیورٹی، سٹیم اور تعلیمی تبادلوں کے فروغ کے لیے وسیع تر تعاون کا عزم

کاشف عباسی , JULY 27,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلیمی اور عسکری و ٹیکنالوجی روابط کو مزید مستحکم کرنے کی سمت ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے امریکہ کی ریاست واشنگٹن کے نمائندے کانگریس مین مائیکل جیمز بامگارٹنر اور ریاست مونٹانا سے منتخب ہونے والے سابق امریکی وزیرِ داخلہ و کانگریس مین ریان کیتھ زنکے سے ایک اعلیٰ سطحی دوطرفہ ملاقات کی ہے۔ اس موقع پر وزیرِ مملکت برائے وفاقی تعلیم وجیہہ قمر، چیئرمین نیوٹیک قمرالاسلام راجہ، سیکرٹری تعلیم اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ ملاقات میں سائبر سیکیورٹی، جدید تکنیکی مہارتوں اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے میدان میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی اور نتیجہ خیز تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ دور میں درپیش ڈیجیٹل سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پاکستانی طلبہ اور پیشہ ور افراد کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کی ضرورت ہے، جس کے لیے سائبر سیکیورٹی کے خصوصی کورسز اور سرٹیفیکیشن پروگرامز فوری طور پر تیار کیے جائیں گے۔ دونوں فریقوں نے دونوں ممالک کے تعلیمی اداروں کے مابین جدید نصاب کی تیاری، مشترکہ تحقیق، فیکلٹی کے تبادلے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی و فن ٹیک کے شعبوں میں قریبی علمی شراکت داری استوار کرنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔

وفاقی وزیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے امریکی کانگریسی وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ پارلیمانی اور تعلیمی وفود کی اس طرح کی باقاعدہ آمد سے پاک امریکہ دیرینہ اور متعدد الجہتی تعلقات کو مزید تقویت ملے گی۔ حکومتِ پاکستان کے عزم کو دہراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ مضبوط تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم اور کلیدی ستون ہیں اور دونوں ممالک کے روابط مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ اعلیٰ سطحی رابطوں کے تسلسل کو برقرار رکھا جائے گا تاکہ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، معدنیات، صحت، زراعت اور تعلیم جیسے باہمی دلچسپی کے اہم شعبوں میں تعاو ن کی نئی راہداریاں کھولی جا سکیں۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے امریکی حکومت کی جانب سے چلائے جانے والے فل برائٹ پروگرام اور دیگر تعلیمی تبادلے کے پروگراموں کے اثرات کو سراہتے ہوئے بتایا کہ اب تک 44 ہزار سے زائد پاکستانی ان میرٹ پر مبنی پروگراموں سے مستفید ہو چکے ہیں، جو انسانی وسائل کی تعمیر میں ایک عظیم سرمایہ کاری ہے۔ انہوں نے پاکستان کے تمام صوبوں سے ان توانائی، پانی، ماحولیات، صحت اور موسمیاتی تبدیلی جیسے حیاتیاتی موضوعات پر ریسرچ میں شمولیت کی حوصلہ افزائی کی تاکہ مشترکہ چیلنجز سے احسن طریقے سے نمٹا جا سکے۔

اس اہم ملاقات کے دوران بین الاقوامی امیگریشن، ویزا پالیسیوں اور حساس ٹیکنالوجیز کے تحفظ کے موجودہ تناظر پر بھی تعمیری گفتگو ہوئی، جس پر وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ امریکی جامعات اور انڈسٹریز آج بھی عالمی سطح پر ‘سٹیم’ صلاحیتوں کی معترف ہیں اور پاکستان آئی ٹی، فن ٹیک، اور ایگری ٹیک کے میدان میں واشنگٹن کا ایک انتھائی قابلِ اعتماد، باصلاحیت اور متحرک شراکت دار بننے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ دونوں فریقین نے قلیل مدتی تحقیقی تبادلوں، ورچوئل لیبارٹریز، دوہری ڈگری پروگرامز اور اساتذہ کی تربیت کے لیے مشترکہ مراکز کے قیام کے امکانات کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ دونوں ممالک کے نمائندوں نے اس بات پر حتمی اتفاق کیا کہ تعلیم، تحقیقی ویزہ سہولیات اور تکنیکی جدت طرازی ہی وہ بنیادی ذرائع ہیں جو دونوں اقوام کے درمیان اعتماد، افہام و تفہیم اور معاشی خوشحالی کو طویل عرصے تک یقینی بنا سکتے ہیں، جبکہ وفاقی وزارتِ تعلیم نے اس اہم شراکت داری کو مزید نئی بلندیوں تک لے جانے کے اپنے اٹل عزم کا اعادہ کیا۔

سی پیک یونیورسٹی کنسورشیم: ایچ ای سی نے پاکستانی اور آزاد کشمیر کے ایم ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی سکالرز کے لیے چین میں 6 ماہ کی ریسرچ فیلوشپ کا اعلان کر دیا

روزینہ اسماعیل, JULY 27,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) یونیورسٹی کنسورشیم کے فریم ورک کے تحت پاکستان اور آزاد کشمیر کی تسلیم شدہ جامعات میں زیرِ تعلیم ایم ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی سکالرز کے لیے چین کی بہترین جامعات و تحقیقاتی اداروں میں چھ ماہ کی باوقار تحقیقی فیلوشپ کے لیے آن لائن درخواستیں طلب کر لی ہیں۔ ایچ ای سی کے سرکاری بیان کے مطابق، اس فلیگ شپ پروگرام کا بنیادی مقصد پاکستان اور چین کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے درمیان دیرپا تعلیمی و سائنسی تعاون کو استوار کرنا، مشترکہ تحقیق کے دائرہ کار کو وسعت دینا اور قومی ترجیحات سے منسلک جدید ترین موضوعات پر اعلیٰ معیار کی تحقیق کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ اس فیلوشپ کے تحت پاکستانی محققین کو چین کے جدید ترین لیبارٹری انفراسٹرکچر، ماہرین کی سرپرستی اور عالمی معیار کے تحقیقاتی ماحول سے استفادہ کرنے کا موقع ملے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیانی تعلیمی اور معاشی روابط مزید مضبوط ہوں گے۔

کمیشن کی جانب سے جاری کردہ اہلیت کے معیار کے مطابق، اس فیلوشپ پروگرام کے لیے صرف وہی پاکستانی یا آزاد کشمیر کے شہری اپلائی کر سکتے ہیں جو کسی بھی منظور شدہ پاکستانی جامعہ میں کل وقتی ایم ایس، ایم فل یا پی ایچ ڈی کے طالب علم ہوں اور سلیکشن کے وقت بھی انہی ڈگری پروگرامز میں باقاعدہ رجسٹرڈ ہوں۔ پی ایچ ڈی کے امیدواروں کے لیے لازمی ہے کہ انہوں نے اپنا کورس ورک مکمل کر لیا ہو، ان کی رجسٹریشن کو کم از کم 18 ماہ ہو چکے ہوں اور ان کا تحقیقی پروپوزل باضابطہ طور پر منظور شدہ ہو۔ اسی طرح ایم ایس اور ایم فل کے طلبا کے لیے کم از کم 18 کریڈٹ آورز کی تکمیل اور تھیسز یا تحقیقی مرحلے میں داخل ہونا بنیادی شرط قرار دیا گیا ہے۔ مزید برآں، امیدواروں کا مجوزہ تحقیقی منصوبہ ایسا ہونا چاہیے جو چین میں زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کی مدت میں مکمل کیا جا سکے اور اس کا براہِ راست تعلق ان کے بنیادی تھیسز سے ہو، جبکہ چین کی جس میزبان جامعہ یا لیب کا قبولیت نامہ پیش کیا جائے، اس کا سی پیک یونیورسٹی کنسورشیم کا باقاعدہ رکن ہونا ضروری ہے۔

یہ فیلوشپ پروگرام وقت کی جدید ضروریات اور پاکستان کے قومی و اقتصادی چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ ایچ ای سی کے مطابق اس پروگرام میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس ، مشین لرننگ، سائبر سکیورٹی، روبوٹکس، قابلِ تجدید توانائی، گرین ٹیکنالوجی، زراعت، غذائی تحفظ، بائیوٹیکنالوجی، واٹر مینجمنٹ، ماحولیاتی سائنسز اور موسمیاتی تبدیلی جیسے جدید سائنسی شعبوں کو شامل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹیشن، صحتِ عامہ، بائیو میڈیکل سائنسز، معاشیات، عالمی تجارت اور سی پیک سٹڈیز جیسے اسٹریٹجک موضوعات پر تحقیق کرنے والے سکالرز بھی اس موقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ایچ ای سی نے تمام اہل اور پرعزم سکالرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ مکمل دستاویزات کے ساتھ اپنے آن لائن فارمز ایچ ای سی کے پورٹل پر جمع کروائیں، جس کے لیے آخری تاریخ 14 اگست 2026ء مقرر کی گئی ہے۔

امریکی یونیورسٹی میں داخلے اور جعلی ایچ ای سی اسکالرشپ کے نام پر لاکھوں ڈالر بٹورنے والا انسانی سمگلر گرفتار؛ ایف آئی اے کی سیالکوٹ میں بڑی کارروائی

روزینہ اسماعیل, JULY 24,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 24 جولائی 2026ء

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل اسلام آباد نے سیالکوٹ سے ایک منظم ایجنٹ اور انسانی سمگلر محمد زوہیب ولد محمد ذوالفقار بھٹی کو گرفتار کر لیا ہے۔

ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ملزم سیالکوٹ میں “براڈوے کنسلٹنسی” کے نام سے ایک ایجنسی چلا رہا تھا۔ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزم نے متعدد طلباء اور درخواست گزاروں کو امریکہ کی یونیورسٹی آف نیواڈا رینو میں داخلے اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) سے فنڈڈ پی ایچ ڈی اسکالرشپس کا جھانسہ دے کر فی کس 10 ہزار امریکی ڈالر ہتھیا لیے۔

ملزم نے متاثرہ طلباء کو ایچ ای سی پاکستان کے نام پر جعلی اور من گھڑت دستاویزات فراہم کیں، جن کی ایچ ای سی نے تصدیق کے دوران مکمل طور پر جعلی ہونے کی تصدیق کی۔ ملزم کے خلاف ایف آئی آر نمبر 188/26 کے تحت دفعات 420، 468 اور 109 تعزیراتِ پاکستان کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

یہ کامیاب کارروائی اسسٹنٹ ڈائریکٹر انویسٹی گیشن محمد نعمان کی سربراہی میں اے ایس آئی مظہر شاہ اور ایف آئی اے کی ٹیم نے انجام دی۔

پاکستان میں نرسنگ شو بے کی ڈیجیٹائزیشن اور مقامی ویکسین پروڈکشن میں تیزی لانے کا فیصلہ؛ وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال کا اجلاس

منصور احمد, JULY 23,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 23 جولائی 2026ء

وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ملک میں تربیت یافتہ نرسنگ افرادی قوت کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو پورا کرنے اور طبی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے تمام مؤثر اور بروقت اقدامات کو یقینی بنایا جائے گا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزارتِ صحت میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے نمائندوں، فیڈرل سیکرٹری صحت، چیف انفارمیشن آفیسر وزارتِ صحت اور ڈریپ کے سی آئی او نے شرکت کی۔ اس موقع پر ای ڈی بی کے وفد نے پاکستان میں مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری اور پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل کی ڈیجیٹائزیشن پر بریفنگ دی۔

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے ہدایت کی کہ ملک کو ویکسین کی پیداوار میں خود کفیل بنانے کے لیے مقامی پروڈکشن کے منصوبے پر پیش رفت کو تیز کیا جائے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو تمام ریگولیٹری، قانونی اور تکنیکی تقاضے جلد از جلد مکمل کرنے کی تاکید کی۔

نرسنگ کے شعبے میں بنیادی اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے وزیرِ صحت نے پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹائز کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ کونسل کو بین الاقوامی معیار کے مطابق جدید خطوط پر استوار کیا جائے تاکہ نرسنگ کے شعبے میں پیشہ ورانہ معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

اجلاس کے دوران ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے نمائندوں نے پاکستان کے صحت کے شعبے کو جدید بنانے، تکنیکی معاونت اور پائیدار شراکت داری جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ وفاقی وزیر نے ای ڈی بی کی مسلسل معاونت کو سراہتے ہوئے اسے پاکستان کے صحت کے نظام کی مضبوطی کے لیے انتہائی اہم قرار دیا۔

ایچ ای سی ریویو پینل کا ویمن یونیورسٹی ملتان کا دورہ؛ کمپیوٹر سائنس اور آئی ٹی پروگرامز کے معیار کا جامع جائزہ

روزینہ اسماعیل, JULY 23,2026

ملتان (نیوز اینڈ نیوز) — 23 جولائی 2026ء

ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ایک اعلیٰ سطحی ریویو پینل نے ویمن یونیورسٹی ملتان کا تفصیلی دورہ مکمل کرتے ہوئے انسٹی ٹیوٹ آف کمپیوٹر سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تدریسی، تحقیقی اور انتظامی معیار کا جامع معائنہ کیا ہے۔

اس دورے کا بنیادی مقصد کمپیوٹنگ پروگرامز میں نئے داخلوں پر عائد عارضی پابندی سے متعلق تحفظات کا جائزہ لینا، یونیورسٹی کی جانب سے کیے گئے اصلاحی اقدامات کا معائنہ کرنا اور ایچ ای سی کے مقررہ معیارات کی روشنی میں تفصیلی رپورٹ مرتب کرنا تھا۔

ریویو پینل کی قیادت وائس چانسلر تھل یونیورسٹی بھکر، پروفیسر ڈاکٹر سعید احمد بزدار نے بطور کنوینر کی، جبکہ پینل کے دیگر ارکان میں ڈاکٹر عدیل انجم، ڈاکٹر مریم اکبر، ڈاکٹر محمد ارشد اعوان اور سید محمد علی عباس شامل تھے۔ یونیورسٹی آمد پر وفد کا استقبال رجسٹرار ڈاکٹر سارہ مصدق اور ڈائریکٹر آئی ٹی ڈاکٹر خدیجہ کنول نے کیا۔

رجسٹرار ڈاکٹر سارہ مصدق اور ڈاکٹر خدیجہ کنول نے پینل کو بتایا کہ ویمن یونیورسٹی ملتان اعلیٰ تعلیم، جدید لیبارٹریز، فیکلٹی ڈویلپمنٹ اور آؤٹ کم بیسڈ ایجوکیشن کے فروغ کے لیے ایچ ای سی کی پالیسیوں پر مکمل عمل پیرا ہے اور طالبات کو ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کے مطابق تعلیم فراہم کی جا رہی ہے۔

ریویو پینل نے دورے کے دوران کمپیوٹر لیبارٹریز، کلاس رومز، فیکلٹی پروفائلز، جدید نصاب، امتحانی نظام، کیریئر کونسلنگ اور گزشتہ تین سالہ تعلیمی و انتظامی ریکارڈ کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ وفد نے یونیورسٹی کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ حاصل شدہ مشاہدات کی بنیاد پر جامع سفارشات ایچ ای سی کو ارسال کی جائیں گی، جس کی روشنی میں آئندہ داخلوں سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

ای سی او ممالک موسمیاتی تبدیلی اور خوراک و توانائی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سائنسی تعاون مضبوط کریں؛ خالد حسین مگسی کا خطاب

منصور احمد, JULY 22,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی نے اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت کے شعبوں میں علاقائی تعاون کو مزید مضبوط بنائیں تاکہ موسمیاتی تبدیلی، پانی و خوراک کے عدم تحفظ، توانائی کی منتقلی، صحتِ عامہ اور نوجوانوں کی بے روزگاری جیسے مشترکہ چیلنجز سے موثر انداز میں نمٹا جا سکے۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار بدھ کو اسلام آباد میں اقتصادی تعاون تنظیم سائنس فاؤنڈیشن (ای سی او ایس ایف) کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے 6 ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر برائے سائنس، تحقیق و ٹیکنالوجی حسین سیمائی سراف، وفاقی سیکرٹری سائنس و ٹیکنالوجی شاہد اقبال بلوچ، ای سی او کے سیکرٹری جنرل سفیر اسد مجید خان، ای سی او سائنس فاؤنڈیشن کے صدر پروفیسر سید کمال طیبی اور رکن ممالک کے اعلیٰ نمائندوں نے بالمشافہ اور آن لائن شرکت کی۔

وفاقی وزیر خالد حسین مگسی نے معزز مندوبین کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اس اہم اجلاس کی میزبانی پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول اور صنعتی پیداوار میں اضافے کے لیے سائنسی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ وفاقی وزیر نے ان ممالک پر بھی زور دیا جنہوں نے تاحال فاؤنڈیشن کے چارٹر کی توثیق نہیں کی کہ وہ جلد از جلد اپنی قومی کارروائی مکمل کریں اور بروقت مالی معاونت فراہم کریں۔

اس موقع پر ایران کے وزیر برائے سائنس حسین سیمائی سراف نے سائنسی تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ایران فاؤنڈیشن کو درپیش مالی مشکلات کے حل کے لیے اپنا مالی حصہ ادا کرے گا اور ادارے کی مالی پائیداری کے لیے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

خالد حسین مگسی نے اختتامی کلمات میں امید ظاہر کی کہ فاؤنڈیشن کے فیصلے اور سفارشات خطے میں سائنسی تعاون، جدت اور پائیدار معاشی ترقی کے فروغ میں سنگِ میل ثابت ہوں گے۔

وزیرِ اعظم کی ہدایات پر خیبر پختونخوا کی جامعات میں کمپیوٹنگ پروگراموں کا کوالٹی اشورنس جائزہ مکمل؛ ایچ ای سی نے رپورٹ جاری کر دی

روزینہ اسماعیل, JULY 22,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے وزیرِ اعظم پاکستان کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں خیبر پختونخوا کی مختلف سرکاری و نجی جامعات میں کمپیوٹنگ کے تعلیمی پروگراموں کا جامع کوالٹی اشورنس جائزہ مکمل کر لیا ہے، جس کا مقصد ملک میں اعلیٰ تعلیم کے معیار، افادیت اور جدید صنعتی تقاضوں سے ہم آہنگی کو مزید بہتر بنانا ہے۔

ایچ ای سی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، اس جائزے کے دوران صوبے کی 15 سے زائد نمایاں جامعات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جن میں یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی نوشہرہ، عبدالولی خان یونیورسٹی مردان، یونیورسٹی آف بونیر، یونیورسٹی آف صوابی، سرحد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ آئی ٹی، زرعی یونیورسٹی پشاور، شہید بے نظیر بھٹو ویمن یونیورسٹی، گومل یونیورسٹی، خوشحال خان خٹک یونیورسٹی اور فاٹا یونیورسٹی سمیت دیگر ادارے شامل ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ ماہرین پر مشتمل جائزہ ٹیموں نے 8 بنیادی معیارات کا تفصیلی معائنہ کیا، جن میں نصاب کی ترتیب، تجربہ گاہوں (لیبز) اور دیگر سہولیات، تدریسی عملے کی اہلیت، انتظامی فریم ورک اور طلبہ کی رہنمائی کا نظام شامل ہے۔ اس کے علاوہ جامعات کی انتظامیہ، اساتذہ اور طلبہ سے تفصیلی ملاقاتیں بھی کی گئیں۔

ایچ ای سی نے رپورٹ میں اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کی جامعات کمپیوٹنگ تعلیم کا معیار بہتر بنانے اور اپنے پروگراموں کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مثبت پیش رفت کر رہی ہیں۔ کمیشن کے مطابق اس جائزے کی سفارشات سے نتائج پر مبنی تعلیم ، انڈسٹری لنکجز اور تعلیمی وسائل کی پائیدار ترقی میں مدد ملے گی۔

پاکستان کی پہلی قومی ویکسین پالیسی تیار؛ پاک چین ہیلتھ کانفرنس میں ایک ارب 40 کروڑ ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کے معاہدے طے پا گئے

منصور احمد, JULY 22,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

وفاقی وزیرِ قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاک چین بزنس ٹو بزنس فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر انویسٹمنٹ کانفرنس میں فارماسیوٹیکل سیکٹر کے چھ اہم ذیلی شعبوں پر خصوصی توجہ دی گئی، جس کا بنیادی مقصد پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی صنعت کو فروغ دینا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے انکشاف کیا کہ پاکستان میں اس وقت استعمال ہونے والی تمام 13 بنیادی ویکسینز مکمل طور پر بیرونِ ملک سے درآمد کی جاتی ہیں، تاہم موجودہ حکومت نے ملک کی تاریخ کی پہلی ‘قومی ویکسین پالیسی’ تیار کر لی ہے، جو جلد ہی مقامی سطح پر ویکسینز کی تیاری اور پیداوار کی راہ ہموار کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان اپنی ضرورت کی 85 فیصد ادویات خود تیار کرتا ہے، تاہم ان ادویات کی تیاری میں استعمال ہونے والا 95 فیصد خام مال باہر سے منگوانا پڑتا ہے۔

مصطفیٰ کمال نے دو روزہ پاک چین کانفرنس کے کامیابی سے انعقاد کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وزارتِ صحت کی ٹیم نے پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان مؤثر روابط قائم کروائے، جس کے نتیجے میں کانفرنس میں 240 وفود اور 140 چینی کمپنیوں نے شرکت کی اور 340 دوطرفہ کاروباری ملاقاتیں ہوئیں۔ اس موقع پر 22 کمپنیوں نے 629.5 ملین امریکی ڈالر مالیت کے حتمی تجارتی معاہدوں پر دستخط کیے، جبکہ 800 ملین امریکی ڈالر مالیت کی مفاہمتی یادداشتوں پر بھی دستخط ہوئے۔ وزیرِ اعظم کی موجودگی میں 9 اہم ترین معاہدوں پر باقاعدہ دستخط کروائے گئے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی آبادی 26 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے اور ہر سال ملک میں نیوزی لینڈ کی کل آبادی کے برابر نئے افراد کا اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث صحت کا شعبہ مستقل ترقی پذیر ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان اس وقت دنیا کے 52 ممالک کو ادویات برآمد کر رہا ہے۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ) میں اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیکل ڈیوائسز کی رجسٹریشن کا عمل ڈیجیٹل کر دیا گیا ہے اور آئندہ ایک سال کے اندر ڈریپ کے پورے نظام کو 100 فیصد ڈیجیٹلائز کر دیا جائے گا۔