گرین لیگیسی انیشیٹو: ایتھوپین سفارتخانے کا اسلام آباد میں شجرکاری مہم کا انعقاد، پاکستانی شہریوں کی بھرپور شرکت

منصور احمد, August 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اگست 2026ء

ایتھوپیا کے وزیراعظم ڈاکٹر ابی احمد کے تاریخی ‘گرین لیگیسی انیشیٹو’ کے تحت ایک ہی دن میں شجرکاری کی عالمی مہم میں پاکستانی شہریوں نے بھی روایتی جوش و جذبے کے ساتھ شرکت کی ہے۔

اسلام آباد میں قائم ایتھوپین سفارتخانے نے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے تعاون سے ایک خصوصی شجرکاری مہم کا اہتمام کیا، جس میں سفارتی برادری، تاجر برادری، میڈیا نمائندگان اور سول سوسائٹی کے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

پاکستان میں اس تقریب کا بنیادی مقصد ایتھوپیا کے اس عظیم الشان قومی ہدف کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار تھا جس کے تحت ایک ہی دن میں 80 کروڑ پودے لگائے جا رہے ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد میں ایتھوپین سفارتخانے کے چارج ڈی افیئرز مسٹر میلاؤ گیٹاچو نے گرین لیگیسی انیشیٹو کے ماحولیاتی اثرات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ اس فلیگ شپ پروگرام کے تحت ایتھوپیا اب تک 48 ارب سے زائد پودے لگا چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ “آج کی اس مہم کا مقصد ایتھوپیا میں اپنے بھائیوں اور بہنوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہونا اور 80 کروڑ پودے لگانے کے ان کے عظیم ہدف کی حمایت کرنا ہے۔” انہوں نے موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف جنگ میں ایتھوپیا کی عالمی قیادت پر بھی زور دیا اور بتایا کہ ادیس ابابا جلد ہی بین الاقوامی کلائمیٹ سمٹ کی میزبانی بھی کرے گا۔

اس موقع پر کلین اینڈ گرین موومنٹ اسلام آباد کے چیئرمین اور اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے سابق صدر ظفر بختاوری نے جنگلات کی بحالی کے لیے ایتھوپیا کی ان شاندار کاوشوں کو زبردست الفاظ میں سراہا۔

انہوں نے کہا کہ “گرین لیگیسی انیشیٹو کا وژن اسلام آباد کی ہماری ‘کلین اینڈ گرین موومنٹ’ کے اہداف سے مکمل طور پر مطابقت رکھتا ہے۔” انہوں نے زور دیا کہ گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر متحد ہو کر مشترکہ اقدامات کرنا وقت کا سب سے بڑا تقاضا ہے۔

این ڈی ایم اے کی جانب سے ملک کے بڑے دریاؤں اور ندی نالوں میں طغیانی کے حوالے سے نیا الرٹ جاری: 2 تا 4 اگست کے دوران پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافے کا امکان

کاشف عباسی , August 02,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) نے ملک بھر میں 2 سے 4 اگست کے دوران تمام بڑے دریاؤں، ندی نالوں اور آبی ذخائر میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اور غیر معمولی اضافے کا امکان ظاہر کرتے ہوئے نیا ہنگامی الرٹ جاری کر دیا ہے۔

این ڈی ایم اے کے میڈیا ونگ کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق اس وقت دریائے لہڑی میں ہیڈ گوگی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب جبکہ وزیر آباد کے قریب نالہ پلکھو میں درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسی طرح دریائے سندھ میں کالاباغ، چشمہ، گدو اور سکھر کے مقامات پر نچلے درجے کی طغیانی جاری ہے، جبکہ دریائے ناری میں ہیڈ ناری پر بھی نچلے درجے کا سیلاب ہے۔

این ای او سی کی تازہ پیشگوئی کے مطابق دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر اونچے درجے جبکہ خانکی اور قادر آباد کے مقامات پر نچلے سے درمیانے درجے کا بہاؤ متوقع ہے۔ اس کے علاوہ دریائے جہلم، راوی، کابل اور ان کے معاون ندی نالوں میں نچلے سے درمیانے درجے کے پانی کے بہاؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ اتھارٹی نے واضح کیا کہ راوی، جہلم اور چناب سے منسلک ندی نالوں میں شدید طغیانی آ سکتی ہے، جبکہ راوی اور ستلج میں مجموعی صورتحال کا انحصار بھارتی آبی ذخائر سے پانی کے متوقع اخراج پر ہوگا۔

این ڈی ایم اے نے مزید خبردار کیا ہے کہ ڈی جی خان اور راجن پور کے پہاڑی نالوں، وسطی و جنوبی خیبر پختونخوا اور شمالی بلوچستان کے ندی نالوں میں اچانک طوفانی سیلاب (فلیش فلڈنگ) کا شدید خطرہ موجود ہے۔ مزید برآں راولپنڈی، جہلم، گوجرانوالہ، لاہور، فیصل آباد، پشاور، مردان، نوشہرہ، حیدرآباد، بدین، ٹھٹھہ اور سندھ کے دیگر نشیبی شہری علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث اربن فلڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مون سون کے اس خطرناک اسپیل کے دوران غیر ضروری سفر اور پہاڑی علاقوں میں سیاحتی سرگرمیوں سے مکمل گریز کریں۔ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور ملبے کے ریلوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ این ڈی ایم اے نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ تیز بہاؤ والے سیلابی پانی کو پیدل یا گاڑی کے ذریعے عبور کرنے کی کوشش ہرگز نہ کریں کیونکہ کم گہرا پانی بھی شدید خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔ سفر کے دوران خشک خوراک، پینے کا پانی، پاور بینک اور ابتدائی طبی امداد کا سامان ساتھ رکھیں اور باخبر رہنے کے لیے ‘پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ’ ایپ استعمال کریں۔

شملہ پہاڑی نادرا سینٹر لاہور میں غیر معمولی تبدیلی: طویل انتظار کے خاتمے اور تیز تر سروس پر شہریوں کی جانب سے اطمینان کا اظہار

منصور احمد, August 02,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

ماضی میں شدید رش اور طویل قطاروں کے لیے معروف شملہ پہاڑی نادرا رجسٹریشن سینٹر لاہور میں ایک غیر معمولی اورمثالی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے، جہاں اب شہریوں کو تیز تر، موثر اور باوقار انداز میں عام خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔

یہ ڈرامائی اور مثبت تبدیلی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے شملہ پہاڑی میں قائم 24/7 نادرا سینٹر کے اچانک اور غیر اعلانیہ دورے کے دوران سامنے آئی، جہاں انہوں نے اپ گریڈ شدہ جدید سہولیات اور ہموار آپریشنز کا خود جائزہ لیا اور خوشگوار حیرت کا اظہار کیا۔ جہاں پہلے گھنٹوں کا انتظار اور لمبی قطاریں اس مرکز کی شناخت ہوا کرتی تھیں، وہاں اب شہری آرام دہ، مکمل ایئر کنڈیشنڈ ماحول میں چند منٹوں کے اندر شناختی کارڈ اور دیگر سرکاری دستاویزات کا حصول ممکن بنا رہے ہیں۔

دورے کے دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے مرکز میں موجود شہریوں سے بلا واسطہ گفتگو کی، رجسٹریشن کے عمل، وقت کی بچت اور سروس کے معیار کے حوالے سے استفسار کیا۔ شہریوں نے اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا کام بلا تاخیر محض چند منٹوں میں مکمل ہوا اور عملے کی پیشہ ورانہ مہارت و خوش اخلاقی قابلِ ستائش ہے۔ ایک بزرگ خاتون اور شہریوں نے بہترین و باعزت سلوک پر وزیر داخلہ اور نادرا عملے کے لیے دعائیں اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

محسن نقوی نے فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے آئے دو شہریوں کی درپیش مشکلات کا موقع پر ہی نوٹس لیتے ہوئے فوراً ازالے کی ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ شہریوں کو درکار دستاویزات کی درست رہنمائی فراہم کی جائے تاکہ کسی کو بلاوجہ کے چکر نہ کاٹنے پڑیں۔ مزید برآں، سینٹر کے باہر پارکنگ اٹینڈنٹس کی جانب سے زائد فیس وصولی کی عوامی شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے انہوں نے متعلقہ حکام کو فوری ایکشن لینے کی ہدایت کی۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “شہریوں کا اعتماد اور اطمینان ہی کسی سرکاری ادارے کی حقیقی کامیابی کا سب سے بڑا پیمانہ ہوتا ہے۔” انہوں نے اس مثالی تبدیلی اور اصلاحات کے نتائج پر چیئرمین نادرا اور ان کی پوری ٹیم کی لگن، محنت اور بہترین عوامی خدمات کی فراہمی پر ان کی کوششوں کو زبردست الفاظ میں سراہا۔

پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب کا دعویٰ: “میرپور کے بعد مظفرآباد اور مہاجرین کی نشستوں پر بھی شیر کامیاب ہوگا”

کاشف عباسی , August 02,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

پنجاب کی سینئر وزیر اور مسلم لیگ (ن) کی مرکزی رہنما مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں میرپور ڈویژن کے بعد اب مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں پر بھی مسلم لیگ (ن) شاندار اور تاریخی کامیابی حاصل کرے گی۔

اسلام آباد میں جاری کردہ اپنے ایک اہم ترین سیاسی بیان میں مریم اورنگزیب نے اپوزیشن اور سیاسی مخالفین کو آڑھے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ “آج الیکٹورل میدان میں شکست سے دوچار ہونے والی جماعت محض واویلا کر رہی ہے اور رو رہی ہے، جبکہ محض رونے یا الزامات تراشی سے نہ تو ووٹ ملتا ہے اور نہ ہی ووٹر گھروں سے باہر نکلتا ہے۔”

انہوں نے کہا کہ دھمکیاں دینے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی سیاست اب ختم ہو چکی ہے؛ عوام اور ووٹرز کو میدان میں لانے کے لیے عملی کارکردگی اور خدمات کی تاریخ دکھانی پڑتی ہے۔ مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ مظفرآباد سمیت پنجاب بھر میں قائم ن لیگ کے انتخابی کیمپوں میں ووٹرز اور کارکنوں کا غیر معمولی رش اور جوش و خروش صاف دکھائی دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب اور آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کا ووٹر مکمل طور پر چارج ہے اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کر رہا ہے جسے پورا پاکستان دیکھ رہا ہے۔

سینئر صوبائی وزیر نے مخالفین کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ “رونے والوں کے لیے ہمارا پیغام ہے کہ وہ ہمت کریں اور سیاسی میدان میں آ کر الیکٹورل مقابلہ کریں۔” انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ میرپور کی شاندار فتح کے تسلسل میں آج مظفرآباد اور پنجاب میں مقیم مہاجرین کی نشستوں پر بھی “شیر” ہی کامیابی کا پرچم لہرائے گا۔

اسلام آباد کیپیٹل پولیس بھرتی 2026ء: ایف نائن پارک اور پولیس لائنز ہیڈکوارٹرز میں فزیکل و رننگ ٹیسٹ کا سلسلہ جاری

کاشف عباسی , August 02,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

اسلام آباد کیپیٹل پولیس میں بھرتی 2026ء کے سلسلے میں امیدواروں کے رننگ اور فزیکل ٹیسٹ ایف نائن پارک اور پولیس لائنز ہیڈکوارٹرز کے ٹیسٹ سینٹرز میں باقاعدگی سے جاری ہیں۔

ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق ایف نائن پارک ٹیسٹ سینٹر میں ڈی آئی جی سیکیورٹی رانا عمر فاروق خود بھرتی کے تمام تر مراحل کی براہِ راست نگرانی کر رہے ہیں تاکہ تمام امیدواروں کو مساوی، شفاف اور منصفانہ مواقع فراہم کیے جا سکیں۔

دوسری جانب، پولیس لائنز ہیڈکوارٹرز ٹیسٹ سینٹر پر ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرز محمد جواد طارق کی زیرِ نگرانی فزیکل اور رننگ ٹیسٹ کے مراحل کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ ٹیسٹ سینٹرز پر سینئر افسران خود بھی بالمشافہ موجود رہ کر ہر مرحلے کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں تاکہ سیکیورٹی، نظم و ضبط اور تمام تر انتظامات کو شفافیت کے ساتھ یقینی بنایا جا سکے۔

اسلام آباد پولیس انتظامیہ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ تمام پروسیس کو شفاف اور منظم انداز میں مکمل کیا جائے گا اور امیدواروں کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

این ڈی ایم اے میں ایمرجنسی رسپانس کمیٹی کا 10واں اجلاس: وفاقی وزیر احسن اقبال کی صدارت میں ملک بھر میں مون سون اور ریلیف سرگرمیوں کا جائزہ

روزینہ اسماعیل, August 02,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت پر روزانہ کی بنیاد پر منعقد ہونے والے سلسلہ وار اجلاسوں کے تسلسل میں ایمرجنسی رسپانس کمیٹی کا 10واں اہم اجلاس نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) ہیڈکوارٹرز کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر میں منعقد ہوا۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات پروفیسر احسن اقبال نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس کی صدارت کی، جبکہ چیئرمین این ڈی ایم اے، وفاقی و صوبائی حکام اور مختلف متعلقہ اداروں کے نمائندگان نے بالمشافہ اور آن لائن شرکت کی۔

این ڈی ایم اے کے میڈیا ونگ کے مطابق چیئرمین این ڈی ایم اے اور این ای او سی کی پیشہ ورانہ ٹیم نے ملک بھر میں مون سون کی تازہ ترین صورتحال، بارشوں کے باعث ہونے والے جانی و مالی نقصانات، اور جاری امدادی و بحالی کی سرگرمیوں پر کمیٹی کو تفصیلی اور جامع بریفنگ دی۔ چیئرمین این ڈی ایم اے نے آگاہ کیا کہ متوقع بارشوں کے پیشِ نظر تمام ممکنہ متاثرہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور مقامی انتظامیہ کو صورتحال سے بروقت اور پیشگی باخبر کر دیا گیا ہے تاکہ ہر قسم کے خطرے سے نمٹا جا سکے۔

اجلاس کے دوران کمیٹی کو حال ہی میں ہونے والی شدید بارشوں اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال کے بعد وفاقی، صوبائی اور ضلعی اداروں کی جانب سے کیے گئے فوری اور بروقت امدادی اقدامات کے بارے میں بتایا گیا۔ این ای او سی نے پیشگوئی کی ہے کہ آئندہ چند دنوں میں ملک کے شمالی و وسطی علاقوں سمیت جنوب مشرقی سندھ کے بعض مقامات پر بھی مزید بارشوں کا قوی امکان موجود ہے۔

این ڈی ایم اے کی ٹیم نے بریفنگ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ حالیہ مون سون کے دوران ہونے والی زیادہ تر اموات کچے مکانات کے گرنے اور کمزور تعمیرات کو پہنچنے والے شدید نقصان کے باعث ہوئیں۔ اس کے علاوہ متاثرہ علاقوں میں قومی اور بین الاقوامی فلاحی و امدادی تنظیموں کے تعاون سے جاری ریلیف آپریشن پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس کے اختتام پر وفاقی وزارتوں، صوبائی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ کی ریسکیو اور ریلیف کاوشوں کو سراہا گیا، جبکہ ایمرجنسی رسپانس کمیٹی نے تمام متعلقہ اداروں کو آپس میں قریبی رابطہ برقرار رکھنے، پیشگی تیاری مکمل رکھنے اور متاثرین کی بحالی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی سخت ہدایت کی۔

خلیجی تنازعات اور امریکی تجارتی دباؤ: مودی حکومت کی توانائی پالیسی اور غیر متوازن خارجہ حکمتِ عملی شدید مشکلات کا شکار

محمود احمد, August 02,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

خلیجی خطے میں جاری کشیدگی اور امریکی تجارتی دباؤ کے پیشِ نظر مودی حکومت کی توانائی پالیسی اور غیر متوازن خارجہ حکمتِ عملی شدید مشکلات و کڑی آزمائش کا شکار ہو چکی ہے۔ عالمی منظرنامے میں تیزی سے ہونے والی تبدیلیوں کے باعث بھارت کو شدید معاشی اور سفارتی چیلنجز کا سامنا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے الجزیرہ کی رپورٹس اور عالمی نشریاتی جائزوں کے مطابق امریکی سینیٹ میں پیش کیے گئے ایک مسودہ قانون کے تحت روسی توانائی کے بڑے خریدار ممالک پر 100 فیصد تک کا بھاری تجارتی ٹیرف عائد ہونے کا خطرہ بھارتی معیشت پر منڈلا رہا ہے۔ عالمی پابندیوں کی پروا کیے بغیر روس سے سستا خام تیل خریدنے کی پالیسی اب بھارت کے لیے گلے کا طوق بن چکی ہے اور مودی حکومت توانائی کے تحفظ اور امریکی ٹیرف کے خطرات کے درمیان توازن قائم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ امریکی سینیٹر رچرڈ بلومن تھال اور دیگر قانون سازوں کی جانب سے متعارف کروائے گئے اس بل کے بعد مودی کی ناکام خارجہ پالیسی کے سبب بھارت امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والا سب سے نمایاں ملک بن چکا ہے۔

دوسری جانب، بھارتی جریدے ‘وی آن نیوز’ کے مطابق بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے بھی بدلتے ہوئے عالمگیر حالات کے تناظر میں روسی تیل پر شدید انحصار اور اس کے نتیجے میں درپیش سفارتی و معاشی اثرات کے حوالے سے تحفظات پر ردِعمل دیتے ہوئے صورتحال کی سنگینی کی تائید کی ہے۔

اس کے علاوہ، بھارت کے معروف توانائی اور تیل و گیس کے ماہر کیرت پاریکھ سمیت معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے باعث بھارتی روپے پر مسلسل شدید دباؤ بڑھ رہا ہے، جس سے ملک کے اندر مہنگائی میں سنگین اور غیر معمولی اضافے کا خدشہ پیدا ہو چکا ہے اور اس کا براہِ راست بوجھ عام بھارتی عوام پر پڑ رہا ہے۔

خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کی معاونت سے امریکی کاروباری وفد کا کراچی کا دو روزہ دورہ: سندھ میں سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ

محمود احمد, August 02,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کی موثر سہولت کاری اور معاونت سے اعلیٰ سطحی امریکی کاروباری وفد نے کراچی کا دو روزہ دورہ مکمل کر لیا ہے۔ اپنے دورے کے دوسرے روز امریکی وفد نے صوبائی وزراء سے اہم ملاقاتیں کیں اور صوبہ سندھ میں سرمایہ کاری کے متعدد مواقع کا تفصیلی جائزہ لیا۔

ان ملاقاتوں کے دوران بن قاسم انڈسٹریل پارک، کراچی انڈسٹریل پارک اور دیگر اہم صنعتی منصوبوں میں امریکی سرمایہ کاری کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر امریکی وفد کو سندھ بزنس ون اسٹاپ شاپ، کیٹی بندر پورٹ، این ای ڈی ٹیک پارک اور مجوزہ سندھ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر سے متعلق جامع بریفنگ بھی دی گئی۔

بعد ازاں امریکی وفد نے پاکستان بزنس کونسل کے نمائندوں سے بھی اہم ملاقات کی، جس میں کیپٹل مارکیٹس، زراعت، ٹیکسٹائل، توانائی، معدنیات، صحت اور دیگر اہم شعبہ جات میں دوطرفہ سرمایہ کاری کے امکانات پر بات چیت کی گئی۔

امریکی کاروباری وفد نے پاکستان میں قائم سرمایہ کاری کے سازگار ماحول اور مختلف معاشی شعبوں میں موجود کاروباری مواقع میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ کاروباری رہنماؤں نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے، پالیسیوں کے تسلسل کو یقینی بنانے اور کاروبار کو آسان بنانے کے حوالے سے ایس آئی ایف سی کے کلیدی کردار کی بھرپور تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ ایس آئی ایف سی کی سہولت کاری سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں جس سے پاک امریکہ معاشی تعاون مزید مضبوط اور مستحکم ہوگا۔

حریت رہنما میرواعظ عمر فاروق کی کالعدم ایکشن کمیٹی کی جانب سے کشمیری مہاجرین کے حقوق غصب کرنے کی کوشش پر شدید تنقید

کاشف عباسی , August 02,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

کالعدم ایکشن کمیٹی کی جانب سے کشمیری مہاجرین کے بنیادی حقوق غصب کرنے کی کوششوں پر مقبوضہ کشمیر اور لائن آف کنٹرول کی دوسری جانب سے بھی شدید تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔

سینئر حریت رہنما میرواعظ عمر فاروق نے کالعدم ایکشن کمیٹی کے موقف کو آڑھے ہاتھوں لیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں مقیم لاکھوں مہاجرینِ کشمیر کا حقِ رائے دہی ان کا ایک مسلمہ، آئینی اور جمہوری حق ہے، جسے کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری مہاجرین کے حقوق پوری ریاست جموں و کشمیر کے عوام کے اجتماعی حقوق کا لازمی حصہ ہیں اور وہ مساوی احترام و تحفظ کے مستحق ہیں۔

حریت رہنما میرواعظ عمر فاروق نے اپنے بیان میں زور دے کر کہا کہ کشمیریوں کی جاری جدوجہد کی کامیابی جموں و کشمیر کے ہر خطے کے باشندوں کے حقوق کی بلا تفریق نمائندگی سے مشروط ہے، اور کسی ایک طبقے کے مفاد یا حقوق کی خاطر دوسرے طبقے کے آئینی اور جمہوری حقوق کو کسی طور فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اجتماعی حقوق کا تحفظ صرف مساوات، انصاف اور باہمی احترام کے اصولوں پر عمل پیرا ہو کر ہی ممکن ہے۔

میرواعظ عمر فاروق نے معاملے کے حل کے لیے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ آپس میں مل بیٹھ کر باہمی مشاورت اور افہام و تفہیم کے ذریعے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں اور ایک ایسا متوازن، مقبول اور پائیدار حل تلاش کریں جو تمام فریقوں کے لیے قابلِ قبول ہو۔ حریت قیادت کے اس ردِعمل سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی عوام کی نمائندگی کے بجائے کشمیری مہاجرین کے حقوق غصب کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

اسلام آباد پولیس سٹی زون کی جولائی کے دوران بڑی کارروائی: 13 گینگ ارکان اور 86 اشتہاری مجرمان گرفتار

منصور احمد, August 02,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

اسلام آباد پولیس سٹی زون نے گزشتہ ماہ جولائی کے دوران جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت اور مسلسل کارروائیاں کرتے ہوئے 13 گینگ ارکان اور 86 اشتہاری مجرمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس نے گرفتار ملزمان کے قبضے سے ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد کا مالِ مسروقہ، طلائی زیورات، منشیات اور ناجائز اسلحہ برآمد کر لیا ہے۔

ایس پی سٹی زون ڈاکٹر ایاز حسین کے مطابق سٹی زون پولیس نے جولائی کے مہینے میں جرائم پیشہ گروہوں کے 13 اہم ارکان کو حراست میں لیا۔ گرفتار ملزمان کے قبضے سے 1 کروڑ 50 لاکھ روپے سے زائد مالیت کا مسروقہ سامان برآمد کیا گیا، جس میں 90 لاکھ روپے سے زائد کے طلائی زیورات، 4 لاکھ روپے نقد رقم، 2 موٹر سائیکلیں، 13 قیمتی موبائل فونز، لیپ ٹاپس اور بیٹریز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ملزمان سے وارداتوں میں استعمال ہونے والا ناجائز اسلحہ اور ایمونیشن بھی برآمد کیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق اسی عرصے کے دوران مختلف سنگین جرائم میں ملوث 86 مجرمانِ اشتہاری اور سابقہ ریکارڈ یافتہ ملزمان کی گرفتاری بھی عمل میں لائی گئی ہے۔

ایس پی سٹی ڈاکٹر ایاز حسین نے بتایا کہ جرائم پیشہ عناصر کی نشاندہی اور گرفتاری میں جدید ٹیکنالوجی کا موثر استعمال کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ گرفتار ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان عدالتوں میں پیش کیے جائیں گے تاکہ انہیں قرار واقعی سزا دلائی جا سکے، جبکہ برآمد شدہ تمام سامان قانونی طریقہ کار کے تحت اصل مالکان کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا خودمختار ویلتھ فنڈز کے لیے جامع قانون سازی اور احتساب پر زور

محمود احمد, August 02,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے دنیا بھر میں خودمختار ویلتھ فنڈز کی موثر کارکردگی اور قومی سرمایہ کاری کی حفاظت کے لیے واضح، شفاف اور جامع قانون سازی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

آئی ایم ایف کی جانب سے شائع کردہ ایک بلاگ کے مطابق عالمگیر سطح پر مختلف ممالک کے خودمختار ویلتھ فنڈز بین الاقوامی مالیاتی شعبے میں انتہائی کلیدی اور اہم حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ سال 2008ء میں جہاں دنیا بھر کے ویلتھ فنڈز کے اثاثہ جات کی مجموعی مالیت صرف 3 ٹریلین ڈالر تھی، وہیں اب ان کا حجم غیر معمولی حد تک بڑھ کر 16 ٹریلین امریکی ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔

آئی ایم ایف نے اپنے جریدے میں واضح کیا ہے کہ خودمختار ویلتھ فنڈز نہ صرف پبلک ہیلتھ کی بہتری، سماجی و صنعتی ترقی کے لیے بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں بلکہ آئندہ آنے والی نسلوں کے محفوظ معاشی مستقبل کے لیے بھی ان کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ فنڈز کے حجم میں مسلسل اضافے کی بدولت اب ان کا کردار صرف حکومتی بجٹس تک محدود نہیں رہا بلکہ بین الاقوامی بچتوں، انفراسٹرکچر اور قومی ترقی کی اسکیموں تک پھیل چکا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق موجودہ تیزی سے بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال کے تناظر میں ان فنڈز کو مزید لچک دار بنانے کی شدید ضرورت ہے۔

مالیاتی ادارے نے زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ جامع اور مضبوط قانون سازی کے ذریعے کوئی بھی ملک اپنی قومی دولت کو محفوظ بنانے کے ساتھ ساتھ اقتصادی و قومی ترقی کے مقررہ اہداف کا بااسانی حصول یقینی بنا سکتا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق موجودہ قوانین میں خامیاں اور سخت احتسابی نظام کی عدم موجودگی ایسے عوامل ہیں جو ان فنڈز کی حقیقی کارکردگی اور شفافیت کو شدید متاثر کرتے ہیں۔

دفترِ خارجہ: پاکستان کا غزہ امن منصوبے اور ‘بورڈ آف پیس’ کے تحت پیش رفت کا خیرمقدم

محمود احمد, August 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

پاکستان نے غزہ امن منصوبے پر عملدرآمد کی جانب ہونے والی مثبت اور اہم پیش رفت کا گرم جوشی سے خیرمقدم کیا ہے۔

دفترِ خارجہ کی جانب سے ہفتہ کے روز جاری کردہ باضابطہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان غزہ امن منصوبے پر موثر عملدرآمد کے سلسلے میں ‘بورڈ آف پیس’ کے تحت ہونے والی پیش رفت کو ایک خوش آئند اور مثبت قدم سمجھتا ہے۔ اعلامیے کے مطابق پاکستان اس خطے میں پائیدار امن کے لیے امریکہ، مصر، قطر اور ترکیہ سمیت تمام ثالثی کرنے والے ممالک کی مسلسل اور انتھک سفارتی کاوشوں کو شاندار الفاظ میں سراہتا ہے اور امید ظاہر کرتا ہے کہ یہ پیش رفت غزہ امن منصوبے کے تحت طے پانے والے تمام معاہدوں اور وعدوں پر مکمل عملدرآمد کی راہ ہموار کرے گی۔

ترجمان دفترِ خارجہ نے اپنے بیان میں اس یقین کا اظہار کیا کہ یہ بین الاقوامی کوششیں بین الاقوامی قانون، عالمی جواز اور اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے عین مطابق ایک قابلِ اعتماد اور مقررہ مدت پر مبنی سیاسی عمل کے ذریعے مظلوم فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کے ناقابلِ تنسیخ حق کے حصول میں انتہائی معاون ثابت ہوں گی۔

بیان کے اختتام پر پاکستان کے دیرینہ اور اصولی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ سیاسی عمل بالآخر 1967ء سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک ایسی آزاد، خودمختار، جغرافیائی طور پر متصل اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام پر منتج ہونا چاہیے جس کا دارالحکومت ‘القدس الشریف’ ہو۔

ریٹائر ہونے والے ملازمین کو پنشنری مراعات ریٹائرمنٹ کے وقت ہی فراہم کی جائیں: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحیٰ آفریدی کی سخت ہدایت

منصور احمد, August 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحیٰ آفریدی نے سپریم کورٹ سمیت تمام متعلقہ شعبوں کو بروقت پنشنری مراعات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ریٹائر ہونے والے ملازمین کو ان کے تمام تر پنشنی حقوق ریٹائرمنٹ کے دن ہی فراہم کر دیے جانے چاہئیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ اپنی تمام تر زندگی ادارے کے لیے وقف کرنے والے افسران و ملازمین کو ان کے قانونی و آئینی حقوق بلا تاخیر اور بغیر کسی دشواری کے ملنے چاہئیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سپریم کورٹ کے ریٹائر ہونے والے سینئر اسسٹنٹ رجسٹرار حفظ الرحمٰن کے اعزاز میں منعقدہ ایک پروقار الوداعی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

تقریب کے دوران چیف جسٹس یحیٰ آفریدی نے حفظ الرحمٰن کو ان کی تمام پنشنری مراعات کا چیک موقع پر ہی پیش کیا اور اسٹیبلشمنٹ برانچ کو آئندہ کے لیے بھی پنشن سے متعلق تمام ضروری کاغذی و انتظامی کارروائیاں ملازم کی ریٹائرمنٹ سے قبل مکمل کرنے کا حکم دیا۔ چیف جسٹس نے زور دے کر کہا کہ سپریم کورٹ اپنے ملازمین کی فلاح و بہبود، ان کے حقوق کے تحفظ اور ایک مؤثر و شفاف انتظامی نظام کے فروغ کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ انتظامیہ ریٹائر ہونے والے ملازمین کے وقار اور ان کے حقوق کے بروقت تحفظ کو ہر صورت یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ تقریب میں رجسٹرار سپریم کورٹ، دیگر اعلیٰ افسران اور عملے نے بھی شرکت کی اور ریٹائر ہونے والے سینئر اسسٹنٹ رجسٹرار حفظ الرحمٰن کی ادارے کے لیے پیش کردہ طویل و پرخلوص خدمات کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ تقریب کے اختتام پر شرکاء نے حفظ الرحمٰن کے لیے صحت مند، خوشحال اور پرسکون ریٹائرڈ زندگی کے لیے نیک خواہشات اور تمناؤں کا اظہار کیا۔

ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کا روات میں چھاپہ: غیر قانونی فارماسیوٹیکل فیکٹری اور اسٹوریج سیل

کاشف عباسی , August 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے مین جی ٹی روڈ، روات میں واقع کھوکھر پلازہ کے مقابل ایک بڑی اور غیر قانونی فارماسیوٹیکل پروڈکشن اور اسٹوریج فیکلٹی پر اچانک چھاپہ مار کر احاطے کو مکمل طور پر سیل کر دیا ہے۔

ترجمان ایف آئی اے کے مطابق یہ کارروائی خفیہ اطلاع پر عمل میں لائی گئی۔ چھاپے کے دوران موقع سے 14,961 مختلف اقسام کی گولیاں، 500 انجیکشنز، مختلف برانڈز کے 20,900 سیرپ اور 4,630 مختلف کریمز برآمد کی گئیں۔ اس کے علاوہ غیر قانونی تیاری میں استعمال ہونے والے 15 لاکھ خالی ہارڈ جیلاٹن کیپسول شیلز، 1,072 کلوگرام خام مال، 66,258 خالی بوتلیں، ایکٹو فارماسیوٹیکل انگریڈیئنٹس ، نیوٹراسیوٹیکل خام مال، پیکنگ میٹریل، فزیشن سیمپلز اور دوا سازی کی جدید مینوفیکچرنگ و پیکنگ مشینری بھی بحقِ سرکار ضبط کر لی گئی۔

تفتیشی ٹیم کے موقع پر معائنے سے انکشاف ہوا کہ اس غیر قانونی فیکٹری میں ڈرگ ریگولیٹری قواعد و ضوابط، گڈ سٹوریج پریکٹسز اور گڈ ڈسٹری بیوشن پریکٹسز کی سنگین ورزیاں کی جا رہی تھیں۔ ادویات کی معیار، حفاظت اور افادیت کے لیے قانون کے مطابق درکار درجہ حرارت اور دیگر ضروری تکنیکی شرائط کا سرے سے کوئی اہتمام نہیں کیا گیا تھا۔

کارروائی کے دوران موجود فیڈرل ڈرگ انسپکٹر نے ڈرگ ایکٹ کے تحت موقع سے ادویات اور خام مال کے نمونے حاصل کر کے لیبارٹری تجزیے کے لیے ارسال کر دیے ہیں، جس کی حتمی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ملوث ملزمان کے خلاف ایف آئی اے کے ذریعے مزید قانونی اور سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ایف آئی اے حکام نے واضح کیا ہے کہ عوام الناس کی زندگیوں اور صحت سے کھیلنے والے جعلی ادویات کے مافیا کے خلاف اینٹی کرپشن سرکل کا بلاامتیاز کریک ڈاؤن آئندہ بھی بلا تعطل جاری رہے گا۔

رکنِ قومی اسمبلی ملک محمد اقبال چنڑ کے انتقال پر وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کا گہرے دکھ کا اظہار

کاشف عباسی , August 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور رکنِ قومی اسمبلی ملک محمد اقبال چنڑ کے ناگہانی انتقال پر گہرے دکھ، رنج اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے تعزیتی بیانیے میں وفاقی وزیر نے کہا کہ مرحوم نے اپنی پوری سیاسی زندگی میں بے لوث عوامی خدمت، پاکستان مسلم لیگ (ن) سے لازوال وفاداری اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے انتہائی گراں قدر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک محمد اقبال چنڑ کا انتقال پارٹی بالخصوص ملکی سیاست کے لیے ایک بہت بڑا نا وہ پورا ہونے والا نقصان ہے۔

ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے اپنی پوسٹ کے ذریعے مرحوم کے سوگوار اہلِ خانہ، بالخصوص ان کے صاحبزادے اور ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک ظہیر اقبال چنڑ اور تمام متعلقین سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے ربّ العزت کے حضور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کے بلند درجات فرمائے، ان کی مغفرت کرے اور لواحقین کو یہ صدمہ صبر و حوصلے سے برداشت کرنے کی ہمت عطا فرمائے۔

سیلاب متاثرین کی امداد کے دوران جامِ شہادت نوش کرنے والے 6 شہداء کی عظیم قربانی؛ پاک فوج عوام کی خدمت اور دفاعِ وطن کے لیے ہمیشہ پیش پیش

کاشف عباسی , August 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

پاک فوج کی عوام کے لیے کی جانے والی بے لوث خدمات سے تاریخ بھری پڑی ہے، چاہے جنگ کی صورتحال ہو یا ناگہانی آفت، مسلح افواج نے قوم کو کبھی مایوس کیا اور نہ ہی تنہا چھوڑا ہے۔ عوامی خدمت کی ایسی ہی لازوال اور بے لوث مثال 2022ء کی تباہ کن سیلابی صورتحال کے دوران قائم کی گئی تھی۔

آج یکم اگست 2026ء کو کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی شہید اور ان کے ساتھیوں کی چوتھی برسی منائی جا رہی ہے۔ یکم اگست 2022ء کو لسبیلہ میں سیلاب متاثرین کی امدادی سرگرمیوں کا خود جائزہ لینے کے لیے ریسکیو مشن کی قیادت کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی کا ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہو گیا تھا، جس میں انہوں نے اپنے دیگر 5 رفقائے کار کے ساتھ جامِ شہادت نوش کیا۔

اس المناک حادثے میں بریگیڈیئر امجد حنیف (جو حادثے سے کچھ عرصہ قبل ہی میجر جنرل کے عہدے پر ترقی پا چکے تھے)، بریگیڈیئر محمد خالد، پائلٹ میجر سعید احمد، میجر محمد طلحہ اور نائیک مدثر فیاض بھی ملک و قوم کی خدمت کرتے ہوئے شہید ہو گئے تھے۔ اس دردناک حادثے نے پوری قوم کی آنکھیں اشکبار کر دی تھیں اور ملک کی فضا کئی روز تک شدید سوگوار رہی۔

کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی شہید ایک انتہائی پیشہ ور، باصلاحیت اور نڈر آفیسر تھے جنہوں نے پاک فوج میں اہم ترین عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ انہیں نومبر 2020ء میں تھری سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی جبکہ دسمبر 2020ء میں انہیں کور کمانڈر کوئٹہ تعینات کیا گیا تھا۔ پاک فوج ہر مشکل گھڑی میں اپنے ہم وطنوں کی مدد اور ملک و قوم کے دفاع کے لیے ہمیشہ تپش و قربانی کے جذبے سے شارشار رہی ہے اور آئندہ بھی کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔

وفاقی دارالحکومت میں موسلادھار بارشیں: پانی کی سطح 1748.30 فٹ تک پہنچنے پر راول ڈیم کے سپل ویز کھول دیے گئے

منصور احمد, August 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور ملحقہ علاقوں میں جاری موسلادھار بارشوں کے بعد راول ڈیم میں پانی کی آمد میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے پیشِ نظر ڈیم کی انتظامیہ نے راول ڈیم کے سپل ویز باقاعدہ طور پر کھول دیے ہیں۔ ڈیم میں پانی کی سطح خطرناک حد کے قریب یعنی 1748.30 فٹ تک پہنچنے کے بعد یہ اقدام اٹھایا گیا۔

تفصیلات کے مطابق آج صبح 6 بجے راول ڈیم اسلام آباد کے سپل ویز کھولے گئے تاکہ ڈیم میں پانی کی سطح کو کنٹرول کرتے ہوئے 1748.30 فٹ سے کم کر کے محفوظ سطح یعنی 1747 فٹ پر لایا جا سکے۔ سپل ویز کھولنے سے قبل باقاعدہ سائرن بجا کر ڈیم کے اطراف اور نچلی آبادیوں کو الرٹ کیا گیا۔ ڈیم کے سب ڈویژنل آفیسر اعجاز احمد کھٹانہ کے مطابق سپل ویز کے ذریعے 6 ہزار 283 کیوسک پانی ڈیم سے خارج کیا گیا ہے، جس سے پانی کی سطح میں 2 فٹ تک کمی لائی گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سپل ویز کھولنے کے اس آپریشن سے پہلے ہی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے تمام متعلقہ اداروں اور انتظامیہ کو پیشگی اطلاع فراہم کر دی تھی۔

کورنگ نالے میں پانی کے تیز بہاؤ اور طغیانی کے خدشے کے پیشِ نظر ملحقہ آبادیوں کے مکینوں کو انتہائی محتاط رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ انتظامیہ نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ کورنگ نالے اور اس پر بنے عارضی پلوں کو پار کرنے سے مکمل گریز کریں۔

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور ضلعی انتظامیہ نے تمام متعلقہ اداروں اور ریسکیو سروسز کو 24 گھنٹے ہائی الرٹ رہنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت رسپانس یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔ ڈی سی اسلام آباد نے شہریوں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ بارشوں کے دوران ندی نالوں، برساتی نالوں اور پانی کے تیز بہاؤ والی جگہوں سے دور رہیں اور غیر ضروری طور پر ڈیم یا نالوں کے قریب جانے سے گریز کریں۔ ضلعی انتظامیہ نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے یا ہنگامی مدد کی صورت میں فوری طور پر ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن یا ریسکیو اداروں سے رابطہ قائم کریں۔

آرٹیکل 370 اور 35 کی منسوخی کے 7 سال: مقبوضہ کشمیر میں امن و ترقی کے بھارتی دعوے زمینی حقائق کے برعکس نکلے

منصور احمد, JULY 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

غیر قانونی زیرِ تسلط مقبوضہ جموں و کشمیر میں اگست 2019ء کے دوران بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35کی یکطرفہ و غیر قانونی منسوخی کے بعد سے اب تک وادی میں امن، ترقی اور خوشحالی سے متعلق بھارتی حکومت کے تمام تر ادعا اور دعوے مکمل طور پر کھوکھلے ثابت ہوئے ہیں۔ سیاسی اور دفاعی تجزیہ کاروں کی جانب سے پیش کردہ ایک جامع رپورٹ کے مطابق، گزشتہ سات سال کے دوران مقبوضہ خطے کو معاشی تباہی، سیاسی بے چینی اور انسانی حقوق کے شدید ترین چیلنجز کا سامنا رہا ہے جو نئی دہلی کے سرکاری بیانیے کو بے نقاب کرتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت نے آئینی حیثیت کے خاتمے کو وادی کے انضمام اور ترقی کے منصوبے کے طور پر پیش کیا تھا، تاہم سات سال کے بعد بھی بے روزگاری، شدید عسکریت، جبری نظر بندیاں اور آبادی کی تناسب کو بدلنے کی ناپاک کوششیں عروج پر ہیں۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ بھارتی حکومت سیاحوں کی تعداد کو معمول کی زندگی کا ثبوت بنا کر پیش کرتی ہے، تاہم 2019ء کی پابندیوں اور 2025ء کے پہلگام حملے کے بعد وادی کا شعبۂ سیاحت مکمل طور پر سیکورٹی فورسز کے رحم و کرم پر ہے جس سے مقامی ہاتھ کے کاریگر، تاجر اور سیاحت سے وابستہ ہزاروں کشمیری شدید معاشی بحران کا شکار ہیں۔ اس کے علاوہ سیب کی صنعت، باغبانی اور درمیانے درجے کے تمام کاروبار نئے ٹیکسوں، متنازعہ زمینی پالیسیوں اور کاروباری بندشوں کی وجہ سے تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق تعلیم کا شعبہ مسلسل انٹرنیٹ کی بندش، طویل سیکورٹی پابندیوں اور اساتذہ کی شدید کمی سے متاثر ہے، جس سے پوری وادی کے نوجوان خوف، شدید ذہنی دباؤ اور غیر یقینی صورتحال میں مبتلا ہیں۔ دوسری جانب زمین، ڈومیسائل اور انتظامی قوانین میں جابرانہ ترمیم کے ذریعے مقبوضہ وادی کی مسلم اکثریتی آبادیاتی ساخت کو ہندو اکثریت میں بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی ورزی ہے۔ مذہبی قیادت پر پابندیوں اور اسلامی اداروں میں مداخلت نے کشمیریوں میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔

جولائی 2026ء میں وادی کے اندر ‘ریاستی حیثیت کی بحالی’ کی تحریک نے مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور مذہبی قیادت کو ایک بار پھر ایک پیج پر متحد کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئینی حقوق کی بحالی، تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی اور سچی جمہوریت کا قیام ہی حل ہے۔ رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ وادی میں پائیدار امن تبھی ممکن ہے جب جموں و کشمیر کے تنازع کو بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات و امنگوں کے مطابق حل کیا جائے۔

مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کے 133ویں یومِ پیدائش پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا شاندار خراجِ عقیدت

کاشف عباسی , JULY 31,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کو ان کے 133ویں یومِ پیدائش کے پروقار موقع پر شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ صدرِ مملکت نے اپنے پیغام میں انہیں تحریکِ آزادی کی عظیم رہنما اور بانیِ پاکستان کی انتہائی بااعتماد ساتھی قرار دیا ہے۔

ایوانِ صدر کی جانب سے جمعہ کے روز جاری ہونے والے باضابطہ اعلامیے کے مطابق، صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح قائدِاعظم محمد علی جناح کی نہ صرف بااعتماد رفیقِ کار تھیں بلکہ وہ تحریکِ پاکستان کی ایک ممتاز رہنما اور عظیم جمہوری اقدار کی توانا علمبردار بھی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ مادرِ ملت نے برصغیر کی خواتین کو قومی زندگی اور تحریکِ آزادی کی جدوجہد میں اپنا مؤثر اور بھرپور کردار ادا کرنے کی ترغیب دی، جس کی بدولت ان کی یہ عظیم جدوجہد آج بھی پوری پاکستانی قوم بالخصوص خواتین کے لیے ایک روشن مشعلِ راہ ہے۔

صدرِ مملکت نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ پوری قوم مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کی عظیم قومی، سیاسی، جمہوری اور بے لوث سماجی خدمات کو ہمیشہ انتہائی قدر اور گہرے احترام کی نگاہ سے یاد رکھے گی۔ انہوں نے اپنے پیغام کے اختتام پر خصوصی دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کے درجات بلند فرمائے اور انہیں اپنے جوارِ رحمت میں اعلیٰ و ارفع مقام عطا فرمائے۔

چاروں صوبوں کو نارتھ ، سینٹرل اور ساؤتھ کے نام سے مزید 3، 3 انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنے کی تجویز: عبدالعلیم خان کی انتظامی اصلاحات کی پرزور حمایت

منصور احمد, JULY 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے مواصلات اور استحکامِ پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے صدر عبدالعلیم خان نے ملک میں وسیع پیمانے پر انتظامی اصلاحات کی پرزور حمایت کرتے ہوئے پاکستان کے چاروں صوبوں کو مزید تین تین نئے صوبائی و انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنے کی ایک بڑی اور اہم تجویز پیش کر دی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کردہ اپنے اہم بیانیے میں عبدالعلیم خان نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے انتظامی اصلاحات سے متعلق کی گئی باتیں انتہائی غور طلب اور وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور جدید انتظامی ضروریات کے پیشِ نظر اب چاروں صوبوں—پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان—کو ‘نارتھ’ (شمالی)، ‘سینٹرل’ (مرکزی) اور ‘ساؤتھ’ (جنوبی) کے نام سے تین تین حصوں میں تقسیم کر دینا چاہیے تاکہ کل 12 انتظامی یونٹس قائم ہو سکیں۔

صدر آئی پی پی عبدالعلیم خان نے وضاحت کی کہ اس جغرافیائی و انتظامی فریم ورک کی بدولت کسی بھی صوبے کا نام تبدیل کرنے کی ضرورت پیش آئے گی اور نہ ہی علاقوں کی تاریخی یا ثقافتی شناخت متاثر ہوگی، بلکہ تمام خطوں کی ثقافتی پہچان مکمل طور پر برقرار رہے گی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ موجودہ نظام کے تحت عام شہریوں کو اپنے بنیادی مسائل اور چھوٹے کاموں کے لیے بھی سینکڑوں کلومیٹر کا طویل و دشوار سفر طے کر کے صوبائی دارالحکومتوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر مسائل عوام کی دہلیز پر حل ہوں اور نئے صوبے بن جائیں تو اس سے براہِ راست عوام کا فائدہ ہوگا، تاہم اگر اس اقدام سے کسی کی ذاتی یا سیاسی ‘بادشاہت’ پر حرف آتا ہے تو وہ الگ بات ہے، کیونکہ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے جہاں بادشاہت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ کئی دہائیوں سے نئے صوبوں کی تشکیل کی باتیں محض سیاسی نعروں اور بیانات تک محدود رہیں لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ تمام سیاسی قیادت بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک پیج پر آئے اور اس وژن کو عملی شکل دے۔ انہوں نے زور دیا کہ نئے صوبوں کی تشکیل سے ملک میں چیف سیکرٹریز، آئی جیز اور ہائی کورٹس عوام کو زیادہ مؤثر اور فوری خدمات فراہم کر سکیں گے جس سے معیشت مستحکم، ترقی متوازن اور قومی یکجہتی مزید مضبوط ہوگی۔