صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کوئٹہ کے نواحی علاقے سورنج میں کوئلے کی کان میں پیش آنے والے افسوسناک حادثے پر گہرے رنج و غم اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ صدر مملکت نے حادثے کے نتیجے میں ہونے والے قیمتی جانی ضیاع پر سوگوار خاندانوں کے ساتھ دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
ایوانِ صدر کے پریس ونگ کی جانب سے جمعہ کے روز جاری ہونے والے باضابطہ بیانیے کے مطابق، صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے مرحومین کی مغفرت، ان کے درجات کی بلندی اور غمزدہ لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی خصوصی دعا کی۔ انہوں نے متعلقہ اداروں اور ریسکیو حکام کو ہدایت کی کہ کان میں پھنسے تمام مزدوروں تک جلد از جلد رسائی کو یقینی بنایا جائے اور تمام زخمیوں کو فوری طور پر بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
صدرِ مملکت نے اس بات پر شدید زور دیا کہ کوئلہ کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی جانوں کے تحفظ کے لیے مقررہ حفاظتی ضوابط پر بلاامتیاز اور سختی سے عمل درآمد کروایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے دلخراش اور افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔ انہوں نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ وطنِ عزیز کی تعمیر و ترقی میں محنت کش طبقے کا کردار بے حد قابلِ قدر ہے اور ان کی جان و مال کی مکمل حفاظت کرنا ریاست کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کوئٹہ کے نواحی علاقے سورنج میں کوئلے کی کان میں پیش آنے والے دلخراش اور المناک حادثے میں محنت کش مزدوروں کی اموات پر گہرے دکھ، صدمے اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم نے سورنج کی کان میں خطرناک گیس بھر جانے کے باعث ہونے والے اس حادثے کو انتہائی دردناک قرار دیتے ہوئے جاں بحق ہونے والے محنت کشوں کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا کی ہے۔
وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جمعہ کے روز جاری ہونے والے باضابطہ بیانیے کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف نے پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) اور بلوچستان کے تمام متعلقہ امدادی اداروں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ ریسکیو اور ریلیف کارروائیوں کو بلا تعطل اور انتہائی مستعد انداز میں جاری رکھیں۔ انہوں نے کان میں پھنسے اور زخمی ہونے والے تمام مزدوروں کو بحفاظت نکالنے اور انہیں فوری بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے تمام تر وسائل بکارِ لانے کی بھی تاکید کی۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے غمزدہ خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی تعمیر و ترقی میں حصہ لینے والے محنت کش ہمارا انتہائی قیمتی اثاثہ ہیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام اور انتظامیہ کو سخت ہدایت جاری کی کہ کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی قیمتی جانوں کو محفوظ بنانے کے لیے مستقل اور فول پروف حفاظتی اقدامات فوری طور پر نافذ کیے جائیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے دلخراش واقعات کا سدِباب ممکن ہو سکے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے بانی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی ہسپتال منتقلی سے متعلق درخواست پر رجسٹرار آفس کی جانب سے عائد کردہ تمام اعتراضات کے خلاف دائر کی گئی چیمبر اپیل منظور کر لی ہے۔ اعلیٰ عدالت نے رجسٹرار آفس کے ابتدائی اعتراضات کو مکمل طور پر کالعدم قرار دیتے ہوئے درخواست کو باضابطہ کیس نمبر الاٹ کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے جمعہ کے روز اپنے چیمبر میں اس اہم اپیل کی باقاعدہ سماعت کی، جس کے دوران بانی پی ٹی آئی کے وکیل عذیر کرامت بھنڈاری عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے بانی پی ٹی آئی کے وکیل کو موکل کا دستخط شدہ قانونی وکالت نامہ جمع کرانے کی ہدایت جاری کی۔
سپریم کورٹ نے رجسٹرار آفس کو باضابطہ حکم دیا کہ بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی سے متعلق اس اپیل کو فوری طور پر نمبر الاٹ کیا جائے اور اسے پہلے سے زیرِ سماعت ‘عظمیٰ خان’ کے مقدمے کے ساتھ یکجا یعنی منسلک کر دیا جائے۔ مزید برآں، چیف جسٹس نے بانی پی ٹی آئی اور عظمیٰ خان کی درخواستوں کو اعلیٰ عدلیہ میں جلد از جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کی استدعا بھی منظور کر لی ہے۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پیٹرولیم مصنوعات کی جدید قیمتوں کا تعین کرتے ہوئے جمعہ (31 جولائی) کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب اضافے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ اور معاشی اشاریوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جزوی ترمیم کی گئی ہے۔
پٹرولیم ڈویژن اور اوگرا کے جاری کردہ نئے نرخوں کے مطابق، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 42 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 393 روپے 04 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ اسی طرح موٹر اسپرٹ (پیٹرول) کی قیمت میں 1 روپے 09 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے تحت پیٹرول کی نئی قیمت 336 روپے 15 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ ان نئی اور ترمیم شدہ قیمتوں کا اطلاق آج یعنی جمعرات (30 اور 31 جولائی کی درمیانی شب) رات 12 بجے سے ملک بھر میں یکساں طور پر نافذ العمل ہو جائے گا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بلوچستان کے ضلع خضدار میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے کیے جانے والے کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن پر پاک فوج اور تمام متعلقہ اداروں کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ وزیراعظم نے بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد تنظیم ‘فتنہ الہندوستان’ کے خلاف فوری اور فیصلہ کن کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ فورسز نے ایک بار پھر اپنی بے مثال صلاحیتوں اور دلیری سے ملک کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا ہے۔
پنجشنبہ (جمعرات) کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف نے آپریشن کے دوران 4 خطرناک دہشت گردوں کو جہنم واصل کرنے اور بارودی مواد سے لدی 2 گاڑیوں کو بروقت تباہ کر کے دشمن کا بڑا دہشت گردانہ منصوبہ ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کی اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت، جرات اور بروقت اقدام کی شدید پذیرائی کی۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ بیرونی ایما پر پاکستان کا امن و امان تباہ کرنے اور دہشت گردی پھیلانے کی ہر مذموم کوشش کو اسی طرح خاک میں ملا دیا جائے گا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے پیغام میں پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ جب تک ارضِ پاک سے دہشت گردی اور غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی شرپسندی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا، سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا یہ بلاامتیاز آپریشن اور یکسو کارروائیاں پوری قوت سے جاری رہیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پوری پاکستانی قوم اپنی بہادر سکیورٹی فورسز کے پیچھے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے اور وطنِ عزیز کے امن، استحکام، خودمختاری اور سلامتی کے لیے ان کے افسران و جوانوں کی لازوال قربانیوں کو بے حد قدر اور احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے ملک کے قانونی اور عدالتی نظام میں فیصلوں کے حتمی ہونے اور ملازمین کے بنیادی حقوق کے حوالے سے ایک انتہائی اہم، تاریخی اور سنگِ میل فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ چیف جسٹس آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان، جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ پر مشتمل اعلیٰ سطحی تین رکنی بینچ نے ‘محمد اکرم بنام نیشنل بینک آف پاکستان’ کے اہم مقدمے کا محفوظ شدہ تفصیلی فیصلہ سناتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ بہاولپور بینچ کا فیصلہ مکمل طور پر کالعدم قرار دے دیا ہے۔ وفاقی آئینی عدالت نے اپنے اس فیصلے میں صراحت کے ساتھ قرار دیا ہے کہ قانون کے تحت مقررہ مدت گزر جانے کے بعد دائر کی گئی نظرثانی درخواست کو بنیاد بنا کر کسی بھی حتمی عدالتی فیصلے کو بالواسطہ طور پر چیلنج نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ قانون کسی بھی فریق کو اس بات کی اجازت ہرگز نہیں دیتا کہ وہ مقررہ وقت گزرنے کے بعد مختلف قانونی فورمز کے ذریعے کسی حتمی فیصلے کو غیر مؤثر بنانے یا ختم کرنے کی کوشش کرے۔
عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلہ کن حکم میں واضح کیا کہ لیبر کورٹ کا 18 اپریل 2008ء کا فیصلہ حتمی قانونی حیثیت اختیار کر چکا ہے، اس لیے اس میں دی گئی تمام تر ہدایات کو دوبارہ کھولا یا چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ وفاقی آئینی عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں پنشن کے بنیادی حقوق پر انتہائی اہم قانون سازی و تشریح کرتے ہوئے قرار دیا کہ پنشن اور ریٹائرمنٹ کے تمام مالی فوائد کسی بھی ریٹائرڈ ملازم کا ایک مستحکم، باقاعدہ قابلِ نفاذ اور بنیادی قانونی حق ہیں جنہیں کسی مجاز عدالت کے واضح حکم کے بغیر ہرگز نہیں روکا جا سکتا۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ پنشن کی ادائیگی میں کسی بھی قسم کی بلاجواز تاخیر یا غیر قانونی رکاوٹ ڈالنا نہ صرف ملازم کے قانونی حقوق کی شدید خلاف ورزی ہے بلکہ یہ اعلیٰ عدلیہ کے ثابت شدہ فیصلوں سے انحراف اور صریح توہینِ عدالت کے مترادف بھی ہو سکتی ہے۔
مقدمے کے قانونی حقائق کی تفصیلات پر روشنی ڈالتے ہوئے فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار کو 2008ء میں بحالی کا حکم دیا گیا تھا، تاہم اداروں کی جانب سے مختلف پیچیدہ قانونی کارروائیوں کے باعث وہ اپنے مکمل پنشن اور دیگر جائز ریٹائرمنٹ فوائد سے محروم رہا۔ عدالت نے تمام تر ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ درخواست گزار محمد اکرم کی 1992ء سے 2017ء تک کی تقریباً 25 سالہ طویل ملازمت پنشن کے لیے مکمل طور پر قابلِ شمار ہے اور اس کی سابقہ تمام سروس کو بھی پنشن کے حساب کتاب میں لازمی شامل کیا جائے گا۔ عدالت نے اہم قانونی اصول پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قانون کا مسلمہ اصول ہے کہ جو کام براہِ راست نہیں کیا جا سکتا، وہ بالواسطہ بھی نہیں کیا جا سکتا اور مقدمات و قانونی تنازعات کا کسی نہ کسی مرحلے پر اختتام پذیر ہونا قانون کا بنیادی مقصد ہے۔ وفاقی آئینی عدالت نے درخواست کو اپیل میں تبدیل کرتے ہوئے اسے منظور کر لیا اور لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے لیبر کورٹ کے 2008ء کے فیصلے پر فوراً عملدرآمد کا حکم جاری کر دیا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں پولیس چیک پوسٹ پر فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کی جانب سے کیے جانے والے مذموم اور بزدلانہ حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ وزیراعظم نے اس ناخوشگوار واقعے کے نتیجے میں فرض کی راہ میں جامِ شہادت نوش کرنے والے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) دیار خان سمیت تمام 9 پولیس اہلکاروں کی عظیم قربانی پر گہرے دکھ، صدمے اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے پنجشنبہ (جمعرات) کے روز جاری ہونے والے باضابطہ بیانیے کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف نے شہدائے پولیس کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا کی اور ان کے سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ان کے لیے صبرِ جمیل کی التجا کی ہے۔ وزیراعظم نے اس حملے میں شدید زخمی ہونے والے دیگر پولیس اہلکاروں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے ان کی جلد اور مکمل صحت یابی کی بھی دعا کی ہے۔
حملے کے فوری بعد پولیس کی بروقت اور جرات مندانہ جوابی کارروائی پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے خیبر پختونخوا پولیس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور بہادری کو شدید سراہا، جس کے نتیجے میں فتنہ الخوارج کے 15 سفاک دہشت گرد موقع پر ہی ہلاک کر دیے گئے۔ وزیراعظم نے خیبر پختونخوا پولیس کے جوانوں کی شجاعت کی پذیرائی کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کی لعنت کے خلاف جنگ میں ہماری پولیس فورس نے ہمیشہ ہراول دستے کا تاریخی اور بے مثال کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تمام تر چیلنجز کے باوجود حکومت اور تمام قومی ادارے ملک عزیز سے ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل، حتمی اور جذری خاتمے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں اور شہدا کی یہ عظیم قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی، اصلاحات و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے وزارتِ منصوبہ بندی کی ماہانہ ترقیاتی رپورٹ برائے جولائی 2026ء کے باضابطہ اجرا اور نئے مالی سال 2026-27 کے لیے اہداف و حکمتِ عملی کے آغاز پر میڈیا سے تفصیلی گفتگو کی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ غیر یقینی عالمی حالات، جغرافیائی کشیدگی، توانائی کی عالمی رسد میں رکاوٹوں اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود پاکستان معاشی استحکام کے سفر کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی اولین ترجیح مشکل فیصلوں سے حاصل ہونے والے معاشی استحکام کو ہر قیمت پر برقرار رکھتے ہوئے اسے پائیدار ترقی، سرمایہ کاری، روزگار اور عوامی خوشحالی میں تبدیل کرنا ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ موجودہ معاشی استحکام عوام کی قربانیوں، بہتر مالی نظم و ضبط اور مؤثر معاشی فیصلوں کا نتیجہ ہے، اور “اڑان پاکستان” کے تحت اس معاشی استحکام کو مشترکہ خوشحالی میں تبدیل کرنے کی رفتار مزید تیز کی جائے گی۔
وفاقی وزیر نے معاشی حقائق پیش کرتے ہوئے بتایا کہ مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی معیشت نے مضبوط بحالی کا مظاہرہ کیا اور شرحِ نمو 3.2 فیصد سے بڑھ کر 3.7 فیصد تک پہنچ گئی۔ اس دوران زرعی شعبے کی شرحِ نمو 2.9 فیصد، صنعتی شعبے کی 3.5 فیصد جبکہ خدمات کے شعبے کی شرحِ نمو 4.1 فیصد رہی، جس سے مجموعی معاشی سرگرمیوں میں نمایاں بہتری آئی۔ جولائی تا مئی لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں 5.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ 22 میں سے 16 بڑے صنعتی شعبوں نے مثبت ترقی دکھائی اور گاڑیوں کی صنعت میں 58.8 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی قیمتوں کے دباؤ کے باوجود مہنگائی کی شرح مقررہ ہدف سے کم رہی، جبکہ ترسیلاتِ زر 8.6 فیصد اضافے کے ساتھ 41.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ اشیا و خدمات کی مجموعی برآمدات 40.9 ارب ڈالر رہیں اور جاری کھاتوں کا خسارہ صرف 139 ملین ڈالر تک محدود رہا۔ بین الاقوامی اداروں نے بھی پاکستان کی معاشی اصلاحات اور زرمبادلہ ذخائر میں بہتری کا اعتراف کیا ہے۔ مالی سال 2026-27 کے لیے شرحِ نمو کا ہدف 4 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ آئندہ معاشی ترقی کا انحصار پیداواری صلاحیت، برآمدات، سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی اور نجی شعبے کے فعال کردار پر ہوگا۔ حکومت قوتِ خرید کے تحفظ، غربت میں کمی، کمزور طبقات کی معاونت اور نوجوانوں کے لیے روزگار کی فراہمی کو اولیت دے رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اوگرا کی مقررہ قیمتوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا اور ناجائز منافع خوری و ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ مالیاتی محاذ پر ایف بی آر کی محصولات 11.7 کھرب روپے سے بڑھ کر 13 کھرب روپے ہو گئیں، جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے 15.2 کھرب روپے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران سی ڈی ڈبلیو پی کے 21 اجلاسوں میں 192 منصوبوں کی منظوری دی گئی جبکہ 96 ایکنک کو بھیجے گئے، جن سے تقریباً 2 لاکھ 89 ہزار براہِ راست اور 4 لاکھ 24 ہزار بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور جائزہ کاری سے قومی خزانے کو 12.6 ارب روپے کی بچت ہوئی۔
تعلیم، نوجوانوں اور بین الاقوامی تعاون پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کو صنعتی انقلابات 4.0 اور 5.0 کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے نصاب کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور “یو ایس-پاکستان نالج کوریڈور” کو دوبارہ فعال کیا جا رہا ہے۔ حالیہ دورۂ امریکہ کے دوران یونیورسٹی آف الینوائے نے پاکستان میں اپنا کیمپس قائم کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “اڑان پاکستان” کے تحت 2029ء تک قومی برآمدات کو 63 ارب ڈالر تک لے جانے کے ہدف پر کام جاری ہے، جبکہ پاکستان نے ترکیہ، ازبکستان اور ڈنمارک کے ساتھ زراعت، تعلیم، تجارت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے اختتام پر کہا کہ جو معیشت چند برس قبل دیوالیہ پن کے دہانے پر تھی، وہ آج پائیدار بحالی اور استحکام کی راہ پر گامزن ہے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف سے وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے ایک اعلیٰ سطحی اور اہم ملاقات کی، جس میں وزارتِ قومی صحت کے زیرِ انتظام چلنے والے مختلف ترقیاتی امور، عوامی بہتری کے پالیسی اقدامات اور درپیش چیلنجز پر تفصیل کے ساتھ گفتگو کی گئی۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے پنجشنبہ (جمعرات) کو جاری کردہ باضابطہ اور انتظامی اعلامیے کے مطابق، اس اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران وفاقی وزیر برائے قومی صحت نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کو وزارت کے تحت ملک بھر میں جاری صحت کے فلاحی و بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں اور عام شہریوں کو موثر طبی امداد کی فراہمی سے متعلق آگاہ کیا۔ ملاقات کے ماحول میں جہاں شعبہ صحت کی کارکردگی مرکزی نقطہ رہی، وہیں ملک کی مجموعی اور موجودہ سیاسی صورتِ حال اور حکومتی پالیسیوں پر بھی سیر حاصل گفتگو کی گئی۔
ملاقات کے دوران وفاقی وزیر سید مصطفیٰ کمال نے وزیراعظم کو وزارتِ قومی صحت کی جانب سے ملک بھر میں مختلف وبائی و شدید بیماریوں کی روک تھام اور ان کے تدارک کے لیے اٹھائے گئے خصوصی اور ہنگامی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ پیش کی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ وفاقی سطح پر صحت کے نظام میں جدید ٹیکنالوجی کی شمولیت، ہسپتالوں میں ادویات کی بلا تعطل فراہمی اور بنیادی مراکزی صحت کو بہتر بنانے کے لیے حکمتِ عملی پر کام جاری ہے۔ وزیراعظم نے ہیلتھ سیکٹر کی کارکردگی میں بہتری لانے اور بیماریوں کے کنٹرول کے لیے جاری اقدامات کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ عوام الناس کو معیاری، ارزاں اور جدید ترین طبی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی کسر نہ چھوڑی جائے اور تمام جاری منصوبوں کو وقتِ مقررہ پر مکمل کیا جائے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ملک کے فوجداری نظامِ عدل، تعزیراتِ پاکستان کی تشریح اور قتلِ عمد کے مقدمات کی درجہ بندی کے حوالے سے ایک انتہائی اہم، دور رس اور جامع قانونی اصول قائم کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے سنگِ میل فیصلے میں صراحت کے ساتھ قرار دیا ہے کہ اگر کسی بھی قتل کا ناخوشگوار واقعہ فریقین کے درمیان کسی دیرینہ و طویل دشمنی، سابقہ منصوبہ بندی یا ثابت شدہ قانونی و حتمی محرک کے بغیر محض موقع پر اچانک پیدا ہونے والی شدید اشتعال انگیزی یا کشیدگی کی کیفیت میں پیش آئے، تو ایسے مقدمے میں تعزیراتِ پاکستان کی سخت ترین دفعہ 302(بی) کے تحت سزا دینے کے بجائے نسبتاً معتدل اور حالات کی مطابقت رکھنے والی دفعہ 302(سی) کا قانونی اطلاق کیا جانا بالکل جائز اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس اہم طے شدہ قانونی اصول کا اطلاق کرتے ہوئے ایک نوعمر ملزم محمد ناصر حسین کی جانب سے دائر کردہ جیل پٹیشن کو باقاعدہ اپیل میں تبدیل کیا اور اسے جزوی طور پر منظور کر لیا۔ عدالتِ عظمیٰ نے لاہور ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ کی جانب سے ملزم کو سنائی گئی عمر قید کی سزا کو باضابطہ طور پر منسوخ اور ختم کرتے ہوئے اسے 14 سال قید با مشقت کی سزا میں تبدیل کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ سپریم کورٹ کے فاضل جج جسٹس ملک شہزاد احمد خان کی جانب سے تحریر کردہ اس اہم اور تفصیلی فیصلے میں کیس کے تمام شواہد، قانونی پہلوؤں اور استغاثہ کے دلائل کا نہایت باریک بینی سے جائزہ لیا گیا ہے۔
مقدمے کے باقاعدہ ریکارڈ اور استغاثہ کے مطابق یہ ناخوشگوار واقعہ سال 2018ء میں خانیوال کی تحصیل میان چنوں کی حدود میں پیش آیا تھا، جہاں ایک شدید گھریلو تنازع اور تکرار کے دوران اس وقت کے نوعمر و نابالغ ملزم نے چاقو کے دو پے در پے وار کر کے مقتول ظہور احمد کو شدید زخمی کر دیا تھا جو بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گیا تھا۔ واقعے کے بعد مقامی ٹرائل کورٹ نے تمام تر سماعت کے بعد ملزم محمد ناصر حسین کو تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302(بی) کے تحت قصوروار ٹھہراتے ہوئے عمر قید اور دو لاکھ روپے بطور ہرجانہ ادا کرنے کی سزا سنائی تھی۔ بعد ازاں اپیل دائر کیے جانے پر لاہور ہائیکورٹ نے بھی ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو بالکل درست قرار دیتے ہوئے عمر قید کی اس سزا کو برقرار رکھا تھا، جس کے خلاف ملزم نے جیل کے ذریعے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے فیصلے میں تفصیلی تجزیہ پیش کرتے ہوئے قرار دیا کہ اگرچہ عینی شاہدین کی گواہی اور طبی معائنے کی رپورٹس سے ملزم کی جانب سے چاقو کے مہلک وار کا ارتکاب ثابت ہوتا ہے، تاہم کیس کے مجموعی عدالتی ریکارڈ کا بغور مطالعہ کرنے سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں اور واضح ہے کہ فریقین کے مابین کوئی پرانی یا دیرینہ دشمنی سرے سے موجود ہی نہیں تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ استغاثہ اپنے پیش کردہ مبینہ محرک کو بھی معقول اور ٹھوس شواہد کے ذریعے ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے اور یہ واضح ہوتا ہے کہ پورا واقعہ اچانک پیدا ہونے والی شدید کشیدگی کے نتیجے میں رونما ہوا۔
عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلہ کن مشاہدے میں لکھا کہ ملزم، جو کہ جرم کے ارتکاب کے وقت قانونی طور پر نابالغ اور کم عمر تھا، اپنی والدہ کو مقتول کے ساتھ تلخ کلامی اور جھگڑتے ہوئے دیکھ کر شدید جذباتی و نفسیاتی صدمے اور اچانک اشتعال کا شکار ہو گیا۔ ملزم نے اس لمحے اپنا آپے سے باہر ہو کر ذہنی توازن کھو دیا اور کسی سابقہ سوچ یا منصوبہ بندی کے بغیر فوراً چاقو سے حملہ کر دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ یہ محض ایک اچانک حادثاتی کشیدگی کا نتیجہ ہے، لہٰذا یہ ‘قتلِ عمد’ کی وہ سخت ترین قانونی صورت نہیں بنتی جس پر دفعہ 302(بی) کا اطلاق کیا جا سکے۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ یہ مقدمہ قانوناً دفعہ 302(سی) کی تمام تر چاروں حدود و قیود میں پورا اترتا ہے، اسی بنا پر ملزم کی عمر قید کی سزا ختم کر کے 14 سال قید بامشقت تجویز کی جاتی ہے، جبکہ دو لاکھ روپے ہرجانہ، عدم ادائیگی پر اضافی قید اور ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 382-بی (جس کے تحت جیل میں گزاری گئی سابقہ مدت سزا میں شمار ہوتی ہے) کا فائد بحال رکھا گیا ہے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان سے گوجرانوالہ سمال چیمبر آف کامرس کے ایک اعلیٰ سطحی نمائندہ وفد نے اہم ملاقات کی، جس میں پاکستان کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے صنعتی و تجارتی اداروں قومی برآمدات کے مسلسل فروغ، مقامی صنعت کی عالمی مسابقت، سستی فنانسنگ تک رسائی اور صنعتی شعبے کو درپیش ریگولیٹری چیلنجز پر انتہائی باریک بینی کے ساتھ تفصیلی تبادلہِ خیال کیا گیا۔ ترجمان وزارتِ تجارت کی جانب سے جاری کردہ رسمی پریس ریلیز کے مطابق، وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایس ایم ایز پاکستان کے مینوفیکچرنگ اور صنعتی شعبے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ ادارے ملک میں نہ صرف لاکھوں افراد کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں بلکہ صنعتی ترقی کی رفتار بڑھانے اور بیرونی ملک برآمدات میں خاطر خواہ اضافے کے لیے بھی ایک مرکزی عنصر ثابت ہو رہے ہیں۔ وزیرِ تجارت نے اس بات پر زور دیا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو ہر ممکن سطح پر مضبوط بنانا، ان کے مسائل حل کرنا اور ان کی سرپرستی کرنا موجودہ حکومت کی بنیادی معاشی ترجیحات میں شامل ہے۔
ملاقات کے دوران گوجرانوالہ سمال چیمبر آف کامرس کے وفد نے وفاقی وزیر کے سامنے افریقی براعظم کی ابھرتی ہوئی منڈیوں میں پاکستانی تاجروں کے لیے بزنس ٹو بزنس میٹنگز، روڈ شوز اور تجارتی وفود کے بھیجنے اور ان کے انعقاد کے لیے حکومتی تعاون کی باقاعدہ درخواست پیش کی تاکہ پاکستانی تاجروں اور صنعت کاروں کو بین الاقوامی سطح پر مضبوط تجارتی روابط قائم کرنے میں مدد مل سکے۔ اس پر وفاقی وزیرِ تجارت نے مثبت ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افریقہ کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور وہاں مسابقتی قیمت والی مصنوعات کی مسلسل طلب پاکستان کے مختلف شعبوں بالخصوص انجینئرنگ، میٹل انڈسٹری، گھریلو الیکٹرانک آلات اور لائٹ مینوفیکچرنگ کے لیے سنہری اور اہم تجارتی مواقع فراہم کرتی ہے۔ اس اجلاس کے دوران تاجروں کو درپیش کاروبار کی بلند لاگت توانائی کی بھاری قیمتوں، ٹیکسز کے ڈھانچے، سستی مالیات اور ورکنگ کیپیٹل تک دشوار رسائی اور دہائیوں پرانی صنعتی مشینری کو جدید ٹیکنالوجی سے بدلنے کے چیلنجز پر بھی انتہائی تعمیری اور مفید بات چیت ہوئی۔
جام کمال خان نے گوجرانوالہ سے آئے ہوئے صنعتی وفد کو یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک میں صنعتی مسابقت کو عالمی معیارات کے مطابق بنانے، ٹیکنالوجی کی اپ گریڈیشن کو فروغ دینے اور فنانسنگ تک بہترین و آسان رسائی کے ذریعے صنعتوں کی جدید کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے جامع اصلاحات پر سرگرمی سے کام کر رہی ہے۔ ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف پاکستان کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے وزیرِ تجارت نے بتایا کہ حکومت ملکی برآمد کنندگان کی سہولت، تجارتی خطرات کو کم کرنے اور برآمدی سرگرمیوں کو بڑھانے کے لیے ایکسپورٹ فنانسنگ اور کریڈٹ گارنٹی کی سہولیات میں نمایاں تیزی لا رہی ہے۔ انہوں نے گوجرانوالہ کے تجارتی اور صنعتی اداروں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ایکسپورٹ امپورٹ بینک کی سپورٹ یافتہ فنانسنگ حاصل کرنے کے لیے تجارتی بینکوں سے فوری طور پر رجوع کریں اور انہیں یقین دہانی کرائی کہ وزارتِ تجارت ان سہولیات اور فنانسنگ کے عمل میں برآمد کنندگان کو پیش آنے والے تمام حقیقی مسائل و رکاوٹوں کو ترجیحی بنیادوں پر دور کرے گی۔
ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) پاکستان نے آزاد جموں و کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کو اپنے امتحانی مرکز کے طور پر منتخب کرنے والے طلبہ و طالبات کے لیے لاء ایڈمیشن ٹیسٹ کے انعقاد کی نئی اور حتمی تاریخ کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ ایچ ای سی کے شعبہ امتحانات اور ایجوکیشن ٹیسٹنگ کونسل کی جانب سے جاری کردہ رسمی اعلامیے کے مطابق، مظفرآباد میں منعقد ہونے والا لاء ایڈمیشن ٹیسٹ جو کہ پہلے معقول وجوہات اور انتظامی امور کے باعث 21 جون 2026ء بروز اتوار کو منعقد نہیں ہو سکا تھا، اب اس کا انعقاد 9 اگست 2026ء بروز اتوار کو کیا جائے گا۔ اس ٹیسٹ کے انعقاد سے آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے ہزاروں قانون کے ڈگری پروگرامز میں داخلے کے خواہش مند امیدوار اپنے تعلیمی سلسلے کو آگے بڑھا سکیں گے۔
ایچ ای سی ترجمان کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق مظفرآباد سینٹر کے تمام امیدواروں کی رول نمبر سلپس کل یعنی 31 جولائی 2026ء بروز جمعہ ایچ ای سی کی ٹیسٹنگ ایجنسی ایجوکیشن ٹیسٹنگ کونسل کے رسمی آن لائن پورٹل پر اپ لوڈ کر دی جائیں گی۔ تمام متعلقہ امیدوار پورٹل پر جا کر اپنے متعلقہ آن لائن پروفائل میں لاگ ان ہو کر اپنی اپنی رول نمبر سلپس باآسانی ڈاؤن لوڈ کر سکیں گے، جن پر امتحانی مرکز کا مکمل پتہ، وقت اور دیگر ضروری ہدایات درج ہوں گی۔ ایچ ای سی نے تمام امیدواروں کو خصوصی ہدایت کی ہے کہ وہ امتحانی روز کسی بھی قسم کی زحمت اور پریشانی سے بچنے کے لیے امتحان کی مقررہ تاریخ سے قبل بروقت اپنی رول نمبر سلپس پرنٹ کر لیں اور کسی بھی نئی اطلاع، ہدایات یا جدول میں تبدیلی سے آگاہ رہنے کے لیے ای ٹی سی پورٹل کا باقاعدگی سے معائنہ کرتے رہیں۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے ایک انتہائی اہم، تاریخی اور آئینی اصولوں پر مبنی فیصلے میں واضح اور حتمی طور پر قرار دیا ہے کہ ملک کی کوئی بھی عدالت یا کوئی بھی قانونی ٹریبونل اپنے عطا کردہ قانونی و آئینی دائرۂ اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے ازخود (سوموٹو) کارروائی کا آغاز نہیں کر سکتا اور نہ ہی زیرِ سماعت درخواست میں شامل نہ ہونے والے زائد معاملات پر اپنے فیصلے جاری کرنے کا مجاز ہے۔ اعلیٰ عدلیہ نے واضح کیا کہ آئین اور قانون کے دائرے سے باہر نکل کر فیصلے صادر کرنا قانون کی حکمرانی کو متاثر کرتا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ کے فاضل جج جسٹس محمد علی مظہر اور فاضل خاتون جج جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے خیبر پختونخوا میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز (ایم ٹی آئی) اپیلیٹ ٹریبونل کے ایک متنازع فیصلے کے خلاف دائر کی گئی تمام اپیلیں باقاعدہ منظور کرتے ہوئے یہ اہم اور آئینی فیصلہ صادر کیا۔ سپریم کورٹ نے اپنے جامع فیصلے میں صراحت کے ساتھ قرار دیا کہ ایم ٹی آئی اپیلیٹ ٹریبونل نے اپنے تفویض کردہ قانونی اختیارات اور حدود سے واضح تجاوز کیا ہے، کیونکہ قانون کے مطابق اس کے پاس ازخود (سوموٹو) اختیارات استعمال کرنے کا کوئی قانونی و انتظامی اختیار سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔
سپریم کورٹ نے اپنے اہم فیصلے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایم ٹی آئی اپیلیٹ ٹریبونل نے دو ڈاکٹروں کی جانب سے دائر کی گئی اپیلیں قانونی بنیادوں پر مسترد کر دینے کے باوجود ایک عجیب طریقہ اپنایا۔ ٹریبونل نے درخواستیں خارج کرنے کے ساتھ ہی 2015ء سے لے کر اب تک ہونے والی تمام تر ترقیوں (پروموشنز) کی تفصیلی جانچ پڑتال کرنے، متعدد دیرینہ ملازمین و افسران کو اچانک تنزلی (ڈیمووٹ) کرنے اور حکومت کی جانب سے ترمیم شدہ پروموشن پالیسی کو مکمل طور پر کالعدم قرار دینے جیسے انتہائی سنگین احکامات جاری کر دیے تھے۔ سپریم کورٹ نے اس پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ تمام تر معاملات اور پالیسی سے متعلقہ امور اصلاً اپیل کنندگان کی بنیادی درخواستوں کا حصہ ہی نہیں تھے اور نہ ہی متاثر ہونے والے درجنوں ملازمین کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ متاثرہ فریق کو سنے بغیر ان کے خلاف یکطرفہ فیصلہ سنانا آئین کے تحت منصفانہ ٹرائل، قدرتی انصاف اور انسان کے بنیادی حقوق کے شدید خلاف ہے۔
عدالتِ عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں آئینی شق کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 175(2) کے تحت کوئی بھی عدالت یا قانونی ٹریبونل صرف اور صرف وہی محدود اختیارات استعمال کرنے کی پابند ہے جو اسے آئین یا متعلقہ قانون و ایکٹ کے تحت فراہم کیے گئے ہوں۔ عدالت نے تشریح کی کہ پالیسی سازی، انتظامی ڈھانچہ تشکیل دینا اور اداروں کے اندرونی قواعد و ضوابط بنانا صرف اور صرف متعلقہ انتظامی اداروں اور حکومتی محکموں کا صوابدیدی اختیار ہے، جس میں ٹریبونلز کا بلا جواز مداخلا درست نہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپیلیٹ ٹریبونل کا 22 مئی 2025ء کو دیا گیا فیصلہ مکمل طور پر کالعدم قرار دیتے ہوئے کیس واپس متعلقہ حکام کو بھیج دیا اور ہدایت کی کہ ڈاکٹر یاسر رحمان خٹک اور ڈاکٹر نسرین کشور اپنی ترقی کے لیے نئے سرے سے باقاعدہ درخواست دیں، جن پر متعلقہ ادارہ تمام قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بلا تاخیر قانون کے مطابق شفاف فیصلہ صادر کرے۔
واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے ملک کے تمام اہم دریاؤں کی بہاؤ کی تازہ صورتِ حال اور تربیلا، منگلا اور چشمہ کے آبی ذخائر (ڈیموں) میں پانی کی موجودہ سطح کے حوالے سے روزانہ کی بنیاد پر باضابطہ اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔ ترجمان واپڈا کے مطابق ملک کے آبی بنیادی ڈھانچے اور دریاؤں میں پانی کی آمد و اخراج کے عمل کو متوازن انداز میں مانیٹر کیا جا رہا ہے تاکہ زراعت اور ایندھن کی پیداوار کی ضروریات کو احسن طریقے سے پورا کیا جا سکے۔ تازہ رپورٹ کے مطابق ملک کے سب سے بڑے ڈیم تربیلا کے مقام پر دریائے سندھ میں پانی کی آمد 2 لاکھ 43 ہزار 900 کیوسک جبکہ پانی کا اخراج 2 لاکھ 15 ہزار 200 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسی طرح دریائے سندھ پر قائم دوسرے اہم مقام یعنی چشمہ بیراج پر پانی کی مجموعی آمد 2 لاکھ 42 ہزار 900 کیوسک درج کی گئی ہے، جبکہ وہاں سے پانی کا اخراج 2 لاکھ 20 ہزار 400 کیوسک جاری ہے۔
دیگر اہم دریاؤں کے اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو منگلا کے مقام پر دریائے جہلم میں اس وقت پانی کی آمد 51 ہزار 700 کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ وہاں سے اخراج کو کنٹرول کرتے ہوئے محض 8 ہزار کیوسک رکھا گیا ہے تاکہ منگلا ریزروائر کو بھرنے کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔ سیالکوٹ کے قریب ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی آمد 95 ہزار 300 کیوسک اور اخراج 83 ہزار 300 کیوسک ریکارڈ ہوا ہے۔ مزید برآں، پختونخوا کے اہم ترین آبی گزرگاہ یعنی نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل میں پانی کی آمد اور اخراج یکساں طور پر 41 ہزار 700 کیوسک کی سطح پر برقرار ہے۔ تمام دریاؤں میں پانی کے اس مسلسل اور مستحکم بہاؤ سے ملک کے نہری نظام کو مسلسل پانی کی فراہمی ممکن بنائی جا رہی ہے، جس سے آنے والی فصلوں اور زراعت کے شعبے کو شدید فائدہ پہنچنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
واپڈا ترجمان کی جانب سے ملکی ڈیموں اور ریزروائرز میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش کے متعلق بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تربیلا ریزروائر میں اس وقت پانی کی سطح 1535 فٹ تک پہنچ چکی ہے اور اس میں پانی کا مجموعی ذخیرہ 47 لاکھ 28 ہزار ایکڑ فٹ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دوسرے بڑے ڈیم منگلا ریزروائر میں پانی کی سطح 1194.30 فٹ درج کی گئی ہے، جہاں پانی کی ذخیرہ شدہ مقدار 38 لاکھ 91 ہزار ایکڑ فٹ ہے، جبکہ چشمہ ریزروائر میں پانی کی سطح 648.50 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے اور وہاں 2 لاکھ 85 ہزار ایکڑ فٹ پانی کا ذخیرہ موجود ہے۔ ترجمان واپڈا نے واضح کیا کہ ان تینوں مرکزی آبی ذخائر میں اس وقت قابلِ استعمال پانی کا مجموعی ذخیرہ 89 لاکھ 4 ہزار ایکڑ فٹ ہو چکا ہے۔ آبی ماہرین کا ماننا ہے کہ مانسون کے موسم اور پگھلتے ہوئے گلیشیئرز کے باعث ڈیموں میں پانی کا یہ خاطر خواہ اضافہ ملک میں توانائی کی پیداوار اور زرعی پانی کے مسائل کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت کابینہ کمیٹی برائے توانائی کا ایک انتہائی اعلیٰ سطحی اور اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک کے توانائی کے شعبے کو جدید ترجیحات کے مطابق ڈھالنے کے لیے ‘پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023’ میں کی گئی اہم ترامیم کی باقاعدہ منظوری دے دی گئی۔ وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہونے والے اس خصوصی اجلاس میں وفاقی وزرا احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، علی پرویز ملک، پروفیسراحسن اقبال کے علاوہ متعلقہ وزارتی وفاقی سیکرٹریز اور توانائی انڈسٹری کے اعلیٰ ترین سرکاری حکام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اجلاس میں ملک کے اندر آئل ریفائنریز کی موجودہ کارکردگی، توانائی کی پیداوری صلاحیت، براؤن فیلڈ ریفائنریز کے بنیادی ڈھانچے اور آئل سیکٹر میں متوقع عالمی سرمایہ کاری سے متعلق امور کا تفصیلی اور باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔
اجلاس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس بات پر شدید زور دیا کہ پاکستان میں موجود تمام آئل ریفائنریز کی جدید ترین تکنیکی بنیادوں پر اپ گریڈیشن اب کوئی اختیاری معاملہ نہیں بلکہ وقت کی شدید اور عاجلانہ ضرورت بن چکی ہے۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ جدید تقاضوں اور عالمی معیار سے ہم آہنگ ریفائنریز پاکستان کے پائیدار توانائی تحفظ کے جامع نظام کا ایک مرکزی اور اہم ترین ستون ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اصلاحات پر مبنی یہ اقدام نہ صرف ملک کی مجموعی توانائی کی ضروریات کو زیادہ مؤثر، مستحکم اور بہتر انداز میں پورا کرے گا بلکہ گرانقدر غیر ملکی زرِ مبادلہ کا خرچ کم کر کے درآمدی ایندھن پر پاکستان کا انحصار نمایاں طور پر گھٹانے میں مدددگار ثابت ہوگا۔ مزید برآں، اس سے ملک بھر میں ماحول دوست اور اعلیٰ معیار کا صاف ایندھن فراہم کرنے کا دیرینہ مقصد بھی حاصل کیا جا سکے گا، جس سے ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
اجلاس میں شریک اعلیٰ حکام نے وزیراعظم اور کمیٹی کے دیگر اراکین کو پاکستان میں توانائی کی صورتِ حال پر تفصیلی بریفنگ پیش کی، جس میں بتایا گیا کہ ملک کی موجودہ ریفائنریز کی پیداواری گنجائش کو بڑھانے اور فرنس آئل جیسی کم معیار کی ایندھن مصنوعات کو بتدریج ختم کرنے کے لیے ان کی اپ گریڈیشن ناگزیر ہو چکی ہے۔ بریفنگ میں اس بات کو اجاگر کیا گیا کہ ترامیم کے تحت اب یورو-4 اور بالخصوص اعلیٰ ترین یورو-5 معیار کے پٹرول اور ڈیزل کی مقامی سطح پر پیداوار کو یقینی بنایا جائے گا۔ یہ اقدام پاکستان کے عالمی ماحولیاتی معاہدوں اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق بین الاقوامی وعدوں کی تکمیل کے لیے انتہائی ضروری ہے، جس سے ملک میں جان لیوا اور شدید فضائی آلودگی میں نمایاں کمی لائی جا سکے گی اور عام عوام کو بین الاقوامی معیار کا ایندھن میسر آئے گا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے توانائی کے نگران ادارے اویل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی مجموعی کارکردگی کو بین الاقوامی سانچے میں ڈھالنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ مارکیٹ کی فوری اور حقیقی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اوگرا میں بنیادی نوعیت کی انتظامی و قانونی اصلاحات متعارف کرائی جائیں۔ اس کا بنیادی مقصد آئل اینڈ گیس کے شعبے میں تجارتی مسابقت، شفافیت اور غیر ملکی و مقامی سرمایہ کاری کے لیے ماحول کو مکمل طور پر سازگار بنانا ہے۔ وزیراعظم نے واضح اور سخت احکامات جاری کیے کہ نئی آئل ریفائننگ پالیسی کی منظوری کے بعد اس کے ہر شق پر فوری، مؤثر اور طے شدہ وقت کے اندر عملدرآمد کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور اس سلسلے میں کسی بھی وزارت، ادارے یا انتظامی افسر کی طرف سے کسی بھی قسم کی غفلت، سستی یا تاخیر کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے تمام تمام سٹیک ہولڈرز کو قریبی رابطہ اور باہمی مشاورت کے ذریعے اصلاحاتی عمل تیز کرنے کا پابند کیا۔
مستقبل کی اسٹریٹجک ضروریات اور سرمایہ کاری کے حجم کو وسیع کرنے کے لیے، وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے براؤن فیلڈ ریفائنریز کے حوالے سے اس ترمیمی پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023 کی تشہیر اور آگاہی کے لیے قطر، برادر اسلامی ملک سعودی عرب اور دیگر اہم خلیجی ممالک میں خصوصی روڈ شوز منعقد کرنے کے واضح احکامات دیے۔ وزیراعظم نے اس موقع پر براؤن فیلڈ ریفائنریز میں معاشی و تکنیکی اصلاحات متعارف کروانے پر وفاقی وزیر برائے پٹرولیم اور ان کی پوری ماہر ٹیم کی دن رات کی محنت اور شاندار کارکردگی کو کھلے دل سے سراہا۔ اپنے خطاب کے اختتام پر وزیراعظم نے وزارتِ پٹرولیم اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ ہنگامی صورتِ حال یا عالمی بحران سے نمٹنے کے لیے ملک کے اندر پٹرولیم مصنوعات کے اسٹریٹجک ذخائر کا حجم جلد از جلد بڑھانے کے لیے جامع عمل درآمدی منصوبہ بندی تشکیل دیں تاکہ ملک کو توانائی کے کسی بھی غیر متوقع بحران سے محفوظ رکھا جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسلام آباد کا دورہ کر کے وہاں 200 بیڈز پر مشتمل زیرِ تعمیر جدید اور سٹیٹ آف دی آرٹ ایمرجنسی سینٹر کے ترقیاتی کاموں کا تفصیلی معائنہ کیا، جو اس وقت اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ دورے کے دوران پمز ہسپتال کی سینئر انتظامیہ اور انجینئرنگ ٹیموں نے وفاقی وزیر کو منصوبے کی موجودہ پیش رفت، فنی امور، جدید طبی آلات اور دستیاب سہولیات پر مفصل بریفنگ دی۔ وفاقی وزیر صحت نے ہدایت کی کہ ایمرجنسی بلاک کی عمارت کی فنشنگ، صفائی ستھرائی اور تمام تر درپیش تکنیکی امور کو بین الاقوامی معیار کے مطابق جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ اسے عوام الناس کے علاج معالجے کے لیے بلا تاخیر کھولا جا سکے۔ انہوں نے انتظامیہ کو منصوبے کا پی سی-فور کا عمل بھی تیز کرنے کی سخت تاکید کی۔ سید مصطفیٰ کمال نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پمز پر جڑواں شہروں اور گردونواح کے اضلاع سے آنے والے مریضوں کا شدید بوجھ ہے، اس لیے اس جدید ایمرجنسی سینٹر کا فعال ہونا وقت کی سب سے بڑی اور عاجلانہ ضرورت ہے۔
بریفنگ کے دوران وفاقی وزیر کو بتایا گیا کہ اس جدید ایمرجنسی بلاک میں شدید زخمی اور تشویشناک حالت کے مریضوں کے لیے 30 بیڈز پر مشتمل جدید ترین سرجیکل آئی سی یو10 بیڈز پر مشتمل میڈیکل آئی سی یو، دو بڑے اور جدید آپریشن تھیٹرز جبکہ دو مائنر آپریشن تھیٹرز قائم کیے گئے ہیں جو ہنگامی بنیادوں پر بہترین طبی نگہداشت فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ اس کے بعد وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے چائلڈ لائف فاؤنڈیشن کے تعاون سے پمز میں قائم کردہ پیڈیاٹرک (بچوں کے) ایمرجنسی سینٹر کا بھی معائنہ کیا اور وہاں زیرِ علاج بچوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، ادویات اور دیکھ بھال کے معیار کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ انہوں نے واضح اور سخت الفاظ میں ہدایت کی کہ معصوم بچوں کے علاج معالجے میں کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور حکومت ہر ممکن وسائل فراہم کر رہی ہے۔ وفاقی وزیر صحت نے اس عزم کو دہرایا کہ وزارتِ صحت تمام سرکاری ہسپتالوں کی کارکردگی اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے تمام ضروری اقدامات مسلسل جاری رکھے گی۔
پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلیمی اور عسکری و ٹیکنالوجی روابط کو مزید مستحکم کرنے کی سمت ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے امریکہ کی ریاست واشنگٹن کے نمائندے کانگریس مین مائیکل جیمز بامگارٹنر اور ریاست مونٹانا سے منتخب ہونے والے سابق امریکی وزیرِ داخلہ و کانگریس مین ریان کیتھ زنکے سے ایک اعلیٰ سطحی دوطرفہ ملاقات کی ہے۔ اس موقع پر وزیرِ مملکت برائے وفاقی تعلیم وجیہہ قمر، چیئرمین نیوٹیک قمرالاسلام راجہ، سیکرٹری تعلیم اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ ملاقات میں سائبر سیکیورٹی، جدید تکنیکی مہارتوں اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے میدان میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی اور نتیجہ خیز تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ دور میں درپیش ڈیجیٹل سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پاکستانی طلبہ اور پیشہ ور افراد کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کی ضرورت ہے، جس کے لیے سائبر سیکیورٹی کے خصوصی کورسز اور سرٹیفیکیشن پروگرامز فوری طور پر تیار کیے جائیں گے۔ دونوں فریقوں نے دونوں ممالک کے تعلیمی اداروں کے مابین جدید نصاب کی تیاری، مشترکہ تحقیق، فیکلٹی کے تبادلے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی و فن ٹیک کے شعبوں میں قریبی علمی شراکت داری استوار کرنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔
وفاقی وزیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے امریکی کانگریسی وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ پارلیمانی اور تعلیمی وفود کی اس طرح کی باقاعدہ آمد سے پاک امریکہ دیرینہ اور متعدد الجہتی تعلقات کو مزید تقویت ملے گی۔ حکومتِ پاکستان کے عزم کو دہراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ مضبوط تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم اور کلیدی ستون ہیں اور دونوں ممالک کے روابط مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ اعلیٰ سطحی رابطوں کے تسلسل کو برقرار رکھا جائے گا تاکہ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، معدنیات، صحت، زراعت اور تعلیم جیسے باہمی دلچسپی کے اہم شعبوں میں تعاو ن کی نئی راہداریاں کھولی جا سکیں۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے امریکی حکومت کی جانب سے چلائے جانے والے فل برائٹ پروگرام اور دیگر تعلیمی تبادلے کے پروگراموں کے اثرات کو سراہتے ہوئے بتایا کہ اب تک 44 ہزار سے زائد پاکستانی ان میرٹ پر مبنی پروگراموں سے مستفید ہو چکے ہیں، جو انسانی وسائل کی تعمیر میں ایک عظیم سرمایہ کاری ہے۔ انہوں نے پاکستان کے تمام صوبوں سے ان توانائی، پانی، ماحولیات، صحت اور موسمیاتی تبدیلی جیسے حیاتیاتی موضوعات پر ریسرچ میں شمولیت کی حوصلہ افزائی کی تاکہ مشترکہ چیلنجز سے احسن طریقے سے نمٹا جا سکے۔
اس اہم ملاقات کے دوران بین الاقوامی امیگریشن، ویزا پالیسیوں اور حساس ٹیکنالوجیز کے تحفظ کے موجودہ تناظر پر بھی تعمیری گفتگو ہوئی، جس پر وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ امریکی جامعات اور انڈسٹریز آج بھی عالمی سطح پر ‘سٹیم’ صلاحیتوں کی معترف ہیں اور پاکستان آئی ٹی، فن ٹیک، اور ایگری ٹیک کے میدان میں واشنگٹن کا ایک انتھائی قابلِ اعتماد، باصلاحیت اور متحرک شراکت دار بننے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ دونوں فریقین نے قلیل مدتی تحقیقی تبادلوں، ورچوئل لیبارٹریز، دوہری ڈگری پروگرامز اور اساتذہ کی تربیت کے لیے مشترکہ مراکز کے قیام کے امکانات کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ دونوں ممالک کے نمائندوں نے اس بات پر حتمی اتفاق کیا کہ تعلیم، تحقیقی ویزہ سہولیات اور تکنیکی جدت طرازی ہی وہ بنیادی ذرائع ہیں جو دونوں اقوام کے درمیان اعتماد، افہام و تفہیم اور معاشی خوشحالی کو طویل عرصے تک یقینی بنا سکتے ہیں، جبکہ وفاقی وزارتِ تعلیم نے اس اہم شراکت داری کو مزید نئی بلندیوں تک لے جانے کے اپنے اٹل عزم کا اعادہ کیا۔
چین کی معروف اور پیش رو سپلائی چین کمپنی ‘یوزونگھے (ہوبئی)’ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) ونس ما کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی اور کثیر الجہتی چینی تاجر وفد نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کا باضابطہ دورہ کیا، جس کا بنیادی مقصد پاکستان میں فارماسیوٹیکل، ہیلتھ کیئر، میڈیکل ٹیکنالوجی اور سپلائی چین کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع اور نئے مواقع کا گہرائی سے جائزہ لینا تھا تاکہ دونوں دوست ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارتی و صنعتی تعاون کو مزید بلندیوں تک پہنچایا جا سکے۔ دورے کے دوران ہونے والے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چینی وفد کے قائد ونس ما نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ان کی کمپنی اور چینی سرمایہ کار پاکستان کو ایک ابھرتی ہوئی، متحرک اور انتہائی پرکشش مارکیٹ کی نظر سے دیکھتے ہیں اور وہ یہاں محض تجارت ہی نہیں بلکہ براہِ راست سرمایہ کاری، جدید چینی ٹیکنالوجی کی پاکستان منتقل اور مقامی کمپنیوں کے ساتھ مل کر جوائنٹ وینچرز (مشترکہ منصوبے) قائم کرنے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ چینی اور پاکستانی کمپنیوں کے درمیان یہ قریبی اور مضبوط صنعتی تعاون جہاں ایک طرف پاکستان میں صحت کی بنیادی سہولیات کے معیار کو بلند کرنے اور فارماسیوٹیکل سپلائی چین کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے میں مددگار ثابت ہوگا، وہی دوسری جانب جدید ترین ٹیکنالوجی، مہارت اور تحقیق کے تبادلے سے دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے لیے تجارت اور سرمائے کے نئے افق کھولے گا۔ ونس ما نے اس توقع کا اظہار بھی کیا کہ اسلام آباد چیمبر میں ہونے والی بی ٹو بی یعنی تاجر سے تاجر کی سطح پر مذاکراتی ملاقاتیں دونوں ممالک کی تجارتی برادری کے درمیان دیرپا اور پائیدار معاشی تعلقات کی مضبوط بنیاد ثابت ہوں گی۔
چینی وفد کا گرمجوشی سے پرخلوص خیرمقدم کرتے ہوئے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر سردار طاہر محمود نے اپنے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ اس اعلیٰ سطحی چینی وفد کا دورہ پاکستان اور چین کے درمیان تیزی سے فروغ پاتے ہوئے معاشی اور صنعتی تعلقات کا ایک روشن مظہر ہے، جو خاص طور پر دواسازی، صحتِ عامہ اور سپلائی چین مینجمنٹ کے شعبوں میں ایک نئے سنہری باب کا آغاز ثابت ہوگا۔ انہوں نے وفد کو بتایا کہ اسلام آباد اور اس کے گردونواح کے تمام تر صنعتی خطے کو پاکستان کا سب سے اہم فارماسیوٹیکل، سرجیکل اور ہیلتھ کیئر حب تسلیم کیا جاتا ہے، جہاں چینی کمپنیاں مشترکہ منصوبوں، نجی سرمائے کی فراہمی، پروسیسنگ ٹیکنالوجی اور صنعتی سہولیات کے ذریعے وسیع فائس حاصل کر سکتی ہیں۔ انہوں نے آئی سی سی آئی کی طرف سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ چیمبر چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں قابلِ اعتماد اور بااعتماد تجارتی شراکت داروں سے جوڑنے اور تمام تر درکار سہولیات کی فراہمی کے لیے اپنا فعال اور کلیدی کردار ادا کرتا رہے گا۔
تقریب سے گفتگو کرتے ہوئے آئی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر طاہر ایوب نے دونوں ممالک کے جیو پولیٹیکل اور اقتصادی پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ فارماسیوٹیکل مینوفیکچرنگ، بائیوٹیکنالوجی، ہیلتھ کیئر میں ہونے والی جدید جدت طرازیوں اور جدید ترین سپلائی چین کے شعبوں میں چین کی عالمی سطح پر مسلمہ مہارت اور دوسری طرف پاکستان کی اسٹریٹجک جغرافیائی حیثیت و روز بروز پھیلتی ہوئی صارفین کی مارکیٹ، دونوں اقوام کے لیے باہمی مفاد پر مبنی معاشی تعاون کا ایک مثالی ماحول فراہم کرتی ہیں۔ مزید برآں، آئی سی سی آئی کے نائب صدر محمد عرفان چوہدری نے اس امید کا اظہار کیا کہ ان تعمری ملاقاتوں سے پاکستان کی دواسازی کی صنعت کو چین کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی ملے گی اور نئی تجارتی راہداریاں کھلیں گی۔ اس اہم موقع پر چینی وفد کے دیگر ارکان جن میں لیو ہی شامل تھے، کے ساتھ ساتھ اسلام آباد چیمبر کے ایگزیکٹو ممبران ذوالقرنین عباسی، وسیم چوہدری، عمران منہاس، روحیل انور بٹ، سابق سینئر نائب صدر خالد چوہدری، اور آئی سی سی آئی کے دیگر اراکین اسرار مشوانی، عظمیٰ شیراز اور وفاقی دارالحکومت کی جید کاروباری و صنعتی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور دوطرفہ اقتصادی روابط کو جلد از جلد عملی شکل دینے کے عزم کو دہرایا۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) یونیورسٹی کنسورشیم کے فریم ورک کے تحت پاکستان اور آزاد کشمیر کی تسلیم شدہ جامعات میں زیرِ تعلیم ایم ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی سکالرز کے لیے چین کی بہترین جامعات و تحقیقاتی اداروں میں چھ ماہ کی باوقار تحقیقی فیلوشپ کے لیے آن لائن درخواستیں طلب کر لی ہیں۔ ایچ ای سی کے سرکاری بیان کے مطابق، اس فلیگ شپ پروگرام کا بنیادی مقصد پاکستان اور چین کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے درمیان دیرپا تعلیمی و سائنسی تعاون کو استوار کرنا، مشترکہ تحقیق کے دائرہ کار کو وسعت دینا اور قومی ترجیحات سے منسلک جدید ترین موضوعات پر اعلیٰ معیار کی تحقیق کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ اس فیلوشپ کے تحت پاکستانی محققین کو چین کے جدید ترین لیبارٹری انفراسٹرکچر، ماہرین کی سرپرستی اور عالمی معیار کے تحقیقاتی ماحول سے استفادہ کرنے کا موقع ملے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیانی تعلیمی اور معاشی روابط مزید مضبوط ہوں گے۔
کمیشن کی جانب سے جاری کردہ اہلیت کے معیار کے مطابق، اس فیلوشپ پروگرام کے لیے صرف وہی پاکستانی یا آزاد کشمیر کے شہری اپلائی کر سکتے ہیں جو کسی بھی منظور شدہ پاکستانی جامعہ میں کل وقتی ایم ایس، ایم فل یا پی ایچ ڈی کے طالب علم ہوں اور سلیکشن کے وقت بھی انہی ڈگری پروگرامز میں باقاعدہ رجسٹرڈ ہوں۔ پی ایچ ڈی کے امیدواروں کے لیے لازمی ہے کہ انہوں نے اپنا کورس ورک مکمل کر لیا ہو، ان کی رجسٹریشن کو کم از کم 18 ماہ ہو چکے ہوں اور ان کا تحقیقی پروپوزل باضابطہ طور پر منظور شدہ ہو۔ اسی طرح ایم ایس اور ایم فل کے طلبا کے لیے کم از کم 18 کریڈٹ آورز کی تکمیل اور تھیسز یا تحقیقی مرحلے میں داخل ہونا بنیادی شرط قرار دیا گیا ہے۔ مزید برآں، امیدواروں کا مجوزہ تحقیقی منصوبہ ایسا ہونا چاہیے جو چین میں زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کی مدت میں مکمل کیا جا سکے اور اس کا براہِ راست تعلق ان کے بنیادی تھیسز سے ہو، جبکہ چین کی جس میزبان جامعہ یا لیب کا قبولیت نامہ پیش کیا جائے، اس کا سی پیک یونیورسٹی کنسورشیم کا باقاعدہ رکن ہونا ضروری ہے۔
یہ فیلوشپ پروگرام وقت کی جدید ضروریات اور پاکستان کے قومی و اقتصادی چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ ایچ ای سی کے مطابق اس پروگرام میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس ، مشین لرننگ، سائبر سکیورٹی، روبوٹکس، قابلِ تجدید توانائی، گرین ٹیکنالوجی، زراعت، غذائی تحفظ، بائیوٹیکنالوجی، واٹر مینجمنٹ، ماحولیاتی سائنسز اور موسمیاتی تبدیلی جیسے جدید سائنسی شعبوں کو شامل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹیشن، صحتِ عامہ، بائیو میڈیکل سائنسز، معاشیات، عالمی تجارت اور سی پیک سٹڈیز جیسے اسٹریٹجک موضوعات پر تحقیق کرنے والے سکالرز بھی اس موقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ایچ ای سی نے تمام اہل اور پرعزم سکالرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ مکمل دستاویزات کے ساتھ اپنے آن لائن فارمز ایچ ای سی کے پورٹل پر جمع کروائیں، جس کے لیے آخری تاریخ 14 اگست 2026ء مقرر کی گئی ہے۔
اسلام آباد کیپٹل پولیس کے خدمت مراکز نے رواں سال (یکم جنوری 2026ء سے 26 جولائی 2026ء تک) کی کارکردگی رپورٹ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو 21 ہزار سے زائد کریکٹر سرٹیفکیٹس جاری کیے ہیں۔ ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں قائم تمام خدمت مراکز شہریوں کو جدید، شفاف اور آسان ماحول میں معیاری سہولیات فراہم کرنے کا سلسلہ بلا تعطل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پولیس ترجمان نے شہریوں کو آگاہ کیا کہ وہ بغیر کسی دشواری یا طویل انتظار کے خدمات حاصل کرنے کے لیے اسلام آباد پولیس کی آفیشل ویب سائٹ کے ذریعے “آن لائن اپائنٹمنٹ” کا آپشن استعمال کر سکتے ہیں۔