براڈ پیک کا المناک حادثہ: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا معروف کوہ پیما نرمل پورجا اور سہیل ساقی سمیت 10 افراد کے جاں بحق ہونے پر افسوس

منصور احمد, August 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے گلگت بلتستان میں واقع دنیا کی بارہویں بلند ترین چوٹی ‘براڈ پیک’ کو سر کرنے کی مہم کے دوران برفانی تودہ گرنے کے افسوسناک اور المناک حادثے میں نیپال سے تعلق رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ کوہ پیما نرمل پورجا سمیت 10 کوہ پیماؤں کے جانی نقصان پر گہرے دکھ، صدمے اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

منگل کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر اپنے ایک باضابطہ اور اہم تعزیتی بیان میں نائب وزیراعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے تمام سوگوار خاندانوں کے ساتھ ساتھ چین، نیپال، عمان، برطانیہ اور امریکہ کی حکومتوں اور وہاں کے عوام سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔

نائب وزیراعظم نے پاکستان کے بہادر کوہ پیما ہنزہ سے تعلق رکھنے والے سہیل ساقی کے انتقال پر بھی گہرے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے بہادر فرزند سہیل ساقی کی رحلت پر سوگوار ہیں، جن کی جرات، غیر متزلزل عزم اور سر فلک پہاڑوں سے لازوال محبت کو پاکستان ہمیشہ فخر کے ساتھ یاد رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس المناک حادثے کا شکار ہونے والے تمام 10 کوہ پیماؤں نے اپنے عزم، ہمت اور اعلیٰ کارکردگی کے حصول کی لگن سے عالمی کوہ پیمائی کے حقیقی جذبے کی عکاسی کی، جو آنے والی نسلوں اور کوہ پیماؤں کے لیے ہمیشہ باعثِ تحسین اور مشعلِ راہ رہے گی۔

سینیٹر اسحاق ڈار نے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں مصروف اداروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ میں اپنے ریسکیو عملے کی انتھک اور بے مثال کوششوں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، جنہوں نے انتہائی دشوار گزار اور خطرناک کٹھن حالات میں اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت اور غیر معمولی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے اعادہ کیا کہ حکومتِ پاکستان متعلقہ تمام ممالک کے سفارت خانوں کے ساتھ مسلسل اور قریبی رابطے میں ہے اور جاری تلاش و ریسکیو کارروائیوں کی کامیابی کے لیے ہر ممکن تعاون کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مرحومین کے تمام پسماندگان اور سوگواروں سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے صبرِ جمیل کی دعا کی۔

خیبر پختونخوا میں ‘عزمِ استحکام’ وژن کے تحت انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن: لکی مروت میں متعدد خوارجی ہلاک، ٹھکانے تباہ

منصور احمد, August 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں سیکیورٹی فورسز نے قومی وژن ‘عزمِ استحکام’ کے تحت انتہائی موثر اور کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الخوارج کے متعدد دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا اور ان کے ٹھکانوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔

سیکیورٹی ذرائع کی جانب سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق لکی مروت کے مختلف علاقوں میں کی جانے والی ان ٹارگٹڈ کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے خوارج کے خفیہ اور مضبوط ٹھکانے تباہ کر دیے، جس کے نتیجے میں متعدد دہشت گرد ہلاک اور متعدد شدید زخمی ہوئے۔ آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے خوارجیوں کے تحویل سے بھاری مقدار میں جدید اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر جنگی سامان بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان تمام تر انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں کے دوران اس اہم بات کو ہر ممکن حد تک یقینی بنایا جا رہا ہے کہ مقامی شہری آبادی اور عوام کے جان و مال کا مکمل تحفظ رہے اور انہیں کسی بھی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔

ذرائع نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز خیبر پختونخوا میں پائیدار امن و استحکام کے قیام، عوام کے تحفظ اور ملک سے دہشت گردی کے ناطق اور مکمل خاتمے تک اپنی انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں بلا تعطل جاری رکھیں گی۔

لکی مروت انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا سیکیورٹی فورسز کو زبردست خراجِ تحسین

منصور احمد, August 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے داخلہ محسن نقوی نے خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں ‘عزمِ استحکام’ وژن کے تحت کی گئی ایک انتہائی موثر اور کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، جرات اور بر وقت اقدام کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

اپنے ایک باضابطہ اور اہم بیان میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان کے بہادر اور شجاع سپوتوں نے بروقت اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے لکی مروت میں دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو نہ صرف خاک میں ملایا بلکہ متعدد خوارجیوں کو جہنم واصل کر کے عبرت ناک انجام تک پہنچایا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پوری قوم خیبر پختونخوا میں امن و امان کے قیام، عوام کے تحفظ اور ملک کی دفاع کے لیے سیکیورٹی فورسز کی کامیابیوں اور لازوال قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

محسن نقوی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ‘فتنہ الخوارج’ اور ‘فتنہ ہندوستان’ کے مکمل خاتمے اور جڑ سے اکھاڑ پھینکنے تک انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی جانے والی یہ کارروائیاں بلا تعطل اور مسلسل جاری رہیں گی۔ وفاقی وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ پوری پاکستانی قوم دہشت گردی کی اس لعنت کے خاتمے کے لیے مکمل طور پر یکسو ہے اور اپنے بہادر سیکیورٹی اداروں اور پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

پاکستان اب بغیر کسی بیرونی امداد کے موٹرویز اور شاہراہوں کا نیٹ ورک پھیلا رہا ہے؛ گرو نانک ایکسپریس وے، سیالکوٹ-کھاریاں-راولپنڈی شاہراہ اور پر کام کی تیز رفتار پیش رفت کا اعلان

کاشف عباسی , August 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان نے انکشاف کیا ہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کا سالانہ ریونیو 64 ارب روپے سے دوگنا ہو کر 127 ارب روپے کی ریکارڈ سطح تک پہنچ چکا ہے۔ اس غیر معمولی مالی خودمختاری کی بدولت پاکستان اب کسی بیرونی امداد یا قرض کے بغیر اپنے ذاتی قومی وسائل کے ذریعے ملک بھر میں موٹرویز اور جدید شاہراہوں کا نیٹ ورک کامیابی سے پھیلا رہا ہے۔

منگل کے روز نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس آڈیٹوریم اسلام آباد میں “یومِ شہدائے پولیس” کی پروقار تقریب سے بطور مہمانِ خاص خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے شجاع شہدا کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ 4 اگست ہماری قومی اور سیکیورٹی تاریخ کا انتہائی اہم اور درخشان دن ہے اور سی سی پی او پشاور صفوت غیور کی عظمت و شہادت تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ موٹروے پولیس کے 59 شہدا سمیت تمام شہدائے پولیس کی عظیم قربانیاں قوم کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ موٹروے پولیس کے پٹرولنگ افسران کے تحفظ، آرام اور طبی امداد کے لیے ٹول پلازوں کے قریب جدید پولیس اسٹیشنز، پارکنگ اور فوری ایمبولینس سروسز بھی قائم کی جا رہی ہیں۔

وفاقی وزیر نے ملک گیر بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کا احاطہ کرتے ہوئے بتایا کہ کرتار پور اور ننکانہ صاحب کے مقدس مقامات کو اپس میں جوڑنے کے لیے تاریخی “گرو نانک ایکسپریس وے” پر کام تیزی سے جاری ہے جس سے دنیا بھر کی سکھ برادری کے لیے مذہبی سیاحت کو شاندار فروغ ملے گا۔ اسی طرح سیالکوٹ-کھاریاں-راولپنڈی شاہراہ کی تعمیر سے اسلام آباد تا لاہور کے سفر میں 100 کلومیٹر فاصلے اور ایک گھنٹے کے قیمتی وقت کی بچت ہوگی۔

عبدالعلیم خان نے مزید بتایا کہ مری ایکسپریس وے کی مظفرآباد تک توسیع سے آزاد کشمیر کو عالمی معیار کی سفری سہولیات میسر آئیں گی، جبکہ جدید موٹروے شاہراہِ قراقرم کا بہترین متبادل بن کر چین کے ساتھ پاکستان کے اسٹریٹجک و تجارتی روابط کو ناقابلِ تسخیر بنائے گی۔

تجارت اور علاقائی ترسیل کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کراچی پورٹ سے تجارتی نقل و حمل کو تیز بنانے کے لیے M-10 اور لیاری ایکسپریس وے کو متحرک کر دیا گیا ہے، جبکہ M-6 موٹروے پر جلد باقاعدہ کام شروع ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ بلوچستان میں M-8 منصوبوں کی تکمیل سے برادر ملک ایران کے ساتھ سرحدی تجارت کو زبردست تقویت ملے گی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ گلگت کی سیاحتی سڑکوں پر کام جاری ہے جبکہ این-25 (N-25) شاہراہ کو اگلے سال تک مکمل کر لیا جائے گا۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن نے لاء ایڈمیشن ٹیسٹ کے نتائج کا اعلان کر دیا

روزینہ اسماعیل, August 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے لاء ایڈمیشن ٹیسٹ کے نتائج کا باضابطہ طور پر اعلان کر دیا ہے۔ ملک بھر سے ٹیسٹ میں شریک ہونے والے امیدوار اب ایچ ای سی کی ایجوکیشن ٹیسٹنگ کونسل (ای ٹی سی) کے آن لائن پورٹل کے ذریعے اپنے نتائج کا جائزہ لے سکتے ہیں۔

ایچ ای سی کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق تمام امیدوار اپنے رجسٹرڈ اکاؤنٹ کے ذریعے ای ٹی سی پورٹل پر لاگ ان کر کے اپنا نتیجہ اور اسکور کارڈ حاصل کر سکتے ہیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے تمام متعلقہ امیدواروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ نتائج اور دیگر تمام ضروری تفصیلات کے لیے محض ای ٹی سی کے آفیشل پورٹل پر رجوع کریں اور وہاں فراہم کردہ ہدایات کے مطابق اگلا مرحلہ مکمل کریں۔

پی ایس ڈی پی کے تحت پاکستان ٹیلی ویژن کی ری ویمپنگ اور ماسٹر کنٹرول رومز کو جدید بنانے پر اتفاق؛ گلگت بلتستان میں عالمی کھیلوں کے مقابلوں کی لائیو کوریج کے لیے مقامی براڈکاسٹنگ انفراسٹرکچر قائم کیا جائے گا

محمود احمد, August 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی، جس میں پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کی ری ویمپنگ اور اسے جدید تکنیکی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے منصوبے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پی ٹی وی کی اصلاحات اور ری ویمپنگ کے اس اہم منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے پی ایس ڈی پی کے تحت وزارتِ منصوبہ بندی کے مکمل تعاون کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ گلگت بلتستان جیسے اہمیت کے حامل خطے میں بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں کی براہِ راست (لائیو) نشریات کے لیے مقامی براڈکاسٹنگ انفراسٹرکچر کی اشد ضرورت ہے۔ اس وقت وہاں او بی وینز اسلام آباد سے بھیجنا پڑتی ہیں، جس کے باعث نہ صرف مالی اخراجات بڑھتے ہیں بلکہ شدید انتظامی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ پی ٹی وی کے ماسٹر کنٹرول رومز کو جدید ترین ٹیکنالوجی پر منتقل کرنا وقت کا تقاضا ہے تاکہ ہمارا قومی نشریاتی ادارہ عالمی معیار کے مطابق براڈکاسٹنگ کی سہولیات مہیا کر سکے۔

اس موقع پر وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال نے اپنے مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ پاکستان ٹیلی وژن ہمارا عظیم قومی اثاثہ ہے اور وفاقی حکومت اس ادارے کی بحالی اور اسے جدید سہولتوں سے آراستہ کرنے کے لیے تمام ممکنہ وسائل فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی وی نے ہمیشہ قومی شناخت، ثقافتی اقدار اور قومی وحدت و یکجہتی کے فروغ میں تاریخی اور کلیدی کردار ادا کیا ہے، لہٰذا اس ادارے کو جدید خطوط پر استوار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ملاقات کے اختتام پر پی ٹی وی کی مجموعی استعداد کار بڑھانے، براڈکاسٹنگ انفراسٹرکچر کی ڈرامائی بہتری اور قومی نشریاتی نظام کو جدید ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے کے لیے وزارتِ منصوبہ بندی اور وزارتِ اطلاعات کے درمیان قریبی باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے پر کامل اتفاق کیا گیا۔

وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کا بڑا انکشاف: پاکستان میں سولر پاور کی استعداد 38 ہزار میگاواٹ کے قریب پہنچ گئی

منصور احمد, August 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان اس وقت توانائی کے شعبے میں ایک تاریخی اور انقلابی تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے، جہاں ملک میں سولر پاور کی مجموعی پیداواری استعداد 38 ہزار میگاواٹ کے قریب جا پہنچی ہے۔

سولر، اسٹوریج اینڈ فلیکسیبلٹی کانفرنس سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی نے واضح کیا کہ پاکستان میں اب بجلی کی پیداوار کی کمی کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ سب سے بڑا چیلنج پیدا ہونے والی بجلی کا مؤثر استعمال اور اسے ذخیرہ (اسٹوریج) کرنا ہے۔ انہوں نے بتایاک ہ دن کے اوقات میں سولر کی وجہ سے بجلی کی اضافی پیداوار میسر ہوتی ہے جبکہ شام ہوتے ہی طلب میں یکدم نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے جس سے گرڈ پر دباؤ بڑھتا ہے۔

اویس لغاری نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز بجلی کی ترسیل کے نظام کی بہتری اور گرڈ کے استحکام کے لیے انتہائی ناگزیر ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقامی وسائل سے پیدا ہونے والی بجلی ملکی توانائی کی خودمختاری کو مضبوط بناتی ہے، جبکہ درآمدی ایندھن پر مسلسل انحصار پاکستان کی معیشت اور توانائی کی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ حال ہی میں قطر سے آر ایل این جی کی ترسیل متاثر ہونے پر ملک کو رات کے اوقات میں مجبورا ًلوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ دن کے وقت سولر کی وافر دستیابی کی وجہ سے صورتحال نسبتاً بہتر اور قابو میں رہی۔

وزیر توانائی نے اہم اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت پاکستان کی کل بجلی کی پیداوار میں صاف ستھری توانائی (کلین انرجی) کا حصہ 55 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جبکہ حکومت نے سال 2035ء تک اس حصے کو 90 فیصد تک لے جانے کا بڑا ہدف مقرر کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صرف سولر اور ونڈ پاور کے ذریعے یہ 90 فیصد کا ہدف حاصل نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ جدید بیٹری اسٹوریج کا نظام موجود نہ ہو۔

حکومتی ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے اویس لغاری نے اعلان کیا کہ پاکستان میں باہر سے بیٹریوں کی صرف درآمد پر انحصار نہیں کیا جائے گا بلکہ مقامی سطح پر مینوفیکچرنگ اور انڈسٹری کو فروغ دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) میں بیٹری انرجی اسٹوریج کے پائلٹ منصوبوں کی باقاعدہ منظوری دے دی گئی ہے، اور ان پائلٹ پروجیکٹس سے حاصل ہونے والا ڈیٹا اور نتائج مستقبل کی قومی ریگولیٹری پالیسی کی بنیادی بنیاد بنیں گے۔

تقریب کے اختتام پر وفاقی وزیر توانائی نے عالمی سرمایہ کاروں اور بین الاقوامی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو پاکستان کے توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی کھلی دعوت دی اور یقین دہانی کرائی کہ اس کانفرنس سے سامنے آنے والی تمام عملی سفارشات کو براہِ راست حکومتی پالیسی سازی کا حصہ بنایا جائے گا۔

بھارت میں اقلیتوں کی صورتحال پر تشویش: انتہا پسندانہ اقدامات اور مذہبی آزادی پر سوالات

منصور احمد, August 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

بھارت میں اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے انتہا پسندانہ اقدامات اور مذہبی آزادی کی مجموعی صورتحال پر ایک بار پھر عالمی و علاقائی سطح پر شدید سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔ ہندوتوا نظریے کو فروغ دینے والے متعدد عناصر کی جانب سے مسلمانوں کے مذہبی تشخص، تاریخی عبادت گاہوں اور مقدسات کو مسلسل نشانہ بنانے کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی متعدد ویڈیوز اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی ریاست اتراکھنڈ میں انتہا پسند ہندو تنظیم ‘بجرنگ دل’ کے کارکنوں نے مسلمانوں کی قدیم قبروں اور ایک تاریخی مزار کو شدید نقصان پہنچایا۔ اس کارروائی کے بعد متعدد انتہا پسندوں کی جانب سے جشن منانے کی مناظر بھی سامنے آئے، جبکہ اس مجرمانہ اقدام کو مبینہ طور پر ‘لینڈ جہاد’ کا بے بنیاد نام دے کر جواز فراہم کرنے کی کوشش کی گئی۔

اسی طرح کا ایک اور افسوسناک واقعہ بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے علاقے منڈاولی میں بھی سامنے آیا، جہاں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز کے مطابق ایک انتہا پسند گروپ کے سواروں نے مقامی مسلمانوں کو ان کی باقاعدہ نمازِ باجماعت کی ادائیگی سے زبردستی روکنے کی کوشش کی اور اشتعال انگیزی پھیلائی۔

تجزیہ کاروں اور معاشی و سیاسی مبصرین کے مطابق بھارت میں اقلیتوں، بالخصوص مسلم برادری کے خلاف تواتر کے ساتھ رونما ہونے والے یہ واقعات خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور سیکولر ریاست قرار دینے والے بھارتی دعوؤں اور بنیادی مذہبی آزادی کے اصولوں کا پول کھول رہے ہیں۔ انسانی حقوق کے عالمی و مقامی فعال کارکنوں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ تمام اقلیتوں کے مذہبی مقامات، عبادت کے بنیادی حق اور جان و مال کا تحفظ ہر مہذب ریاست کی آئینی و قانونی ذمہ داری ہے، جس میں بھارتی حکومت مکمل طور پر ناکام دکھائی دے رہی ہے۔

مظفرآباد انتخابی بے ضابطگیاں: سینیٹر شیری رحمان کا سخت ردعمل، الیکشن کمیشن سے فوری نوٹس کا مطالبہ

منصور احمد, August 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر اور سینیٹر شیری رحمان نے آزاد کشمیر انتخابات کے دوران مظفرآباد کے حلقہ ایل اے 27 اور یونین کونسل بھیری میں ہونے والی مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں اور دھاندلی پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان اور آزاد کشمیر کے الیکشن حکام سے فوری اور سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اپنے ایک باضابطہ اور اہم مذمتی بیان میں سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے روایتی اور مضبوط حلقوں میں مسلم لیگ (ن) ایک بار پھر انتخابی عمل کو متنازع، غیر شفاف اور مجروح کرنے کی مذموم کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ حلقہ ایل اے 27 میں سرکاری پولنگ عملہ بیلٹ پیپرز اور دیگر انتخابی مواد سمیت مسلم لیگ (ن) کے ایک مقامی حامی کے گھر سے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ہے، جو کہ انتخابی اصولوں کی شدید ترین خلاف ورزی ہے۔

شیری رحمان کا کہنا تھا کہ سرکاری انتخابی عملے کی کسی نجی گھر میں موجودگی اور وہاں بیلٹ پیپرز پر زبردستی ٹھپے لگانے کی موصول ہونے والی اطلاعات انتہائی تشویشناک اور قابلِ مذمت ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے کی جانے والی اس ننگی دھاندلی اور بے ضابطگیوں سے متعلق تمام تر ویڈیو شواہد اور ثبوت الیکشن حکام اور متعلقہ اداروں کے حوالے کر دیے گئے ہیں تاکہ حقیقت سچائی کے ساتھ سامنے آ سکے۔

انہوں نے مزید زور دے کر کہا کہ الیکشن کمیشن فوری طور پر انتظامی اور قانونی کارروائی عمل میں لاتے ہوئے عوام کا انتخابی عمل پر متزلزل ہوتا اعتماد بحال کرے۔ شیری رحمان کے مطابق اس نوعیت کے افسوسناک واقعات انتخابی شفافیت، الیکشن کی غیر جانبداری اور تمام متعلقہ اداروں کی ساکھ پر سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کا فوری ازخود نوٹس لیں اور ایک آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور اعلیٰ سطحی شفاف تحقیقات کو یقینی بنائیں۔

الیکشن کمیشن کی تمام سیاسی جماعتوں کو ہدایت: مالی سال 26-2025ء کے مالیاتی گوشوارے 29 اگست تک جمع کروانے کا حکم

محمود احمد, August 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اگست 2026ء

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے ملک کی تمام رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو آئینی و قانونی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کراتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ وہ الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 204 اور 210 اور الیکشن رولز 2017 کے قاعدہ 159 اور 160 کے تحت مالی سال 26-2025ء کے اپنے تمام مالیاتی و حسابی گوشوارے 29 اگست 2026ء تک یا اس سے قبل الیکشن کمیشن میں لازمی جمع کروائیں۔

الیکشن کمیشن کے ترجمان کی جانب سے جاری کیے گئے باضابطہ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 210 کے تحت تمام سیاسی جماعتوں پر فرض ہے کہ وہ مالی سال کے اختتام کے 60 دنوں کے اندر اندر اپنے تمام اکاؤنٹس کا مربوط گوشوارہ مخصوص ‘فارم-ڈی’ پر تیار کر کے کمیشن میں پیش کریں۔ اس میں سیاسی جماعت کے تمام اثاثوں، واجبات، آمدن کے ذرائع اور اخراجات کی مکمل و شفاف تفصیلات کا ہونا قانونی طور پر لازمی ہے۔

ترجمان نے مزید وضاحت کی کہ الیکشن کمیشن کو جمع کروائی جانے والی اس آڈٹ رپورٹ کی تیاری اور منظوری کسی مستند چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ سے ہونی چاہیے، جبکہ اس دائر کردہ رپورٹ پر پارٹی کے سربراہ یا ان کے مجاز نمائندے کے باضابطہ دستخط ہونا ضروری ہیں۔ اس کے علاوہ، پارٹی سربراہ کی جانب سے ایک تصدیقی بیان یا حلف نامہ بھی منسلک کیا جائے گا جس میں اس بات کی باضابطہ گواہی دی جائے گی کہ پارٹی کو الیکشن ایکٹ 2017 کے احکامات کے برعکس کسی بھی ممنوعہ یا غیر قانونی ذریعہ سے فنڈز حاصل نہیں ہوئے اور پیش کردہ گوشواروں میں پارٹی کے مالی امور کی بالکل درست اور حقیقی تصویر پیش کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے مقررہ وقت کے اندر تمام تر کاغذی کارروائی مکمل کر کے رپورٹ ای سی پی کے دفتر میں جمع کروائیں، تاکہ شفافیت اور گڈ گورننس کا معیار برقرار رکھا جا سکے۔

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں مصنوعی ذہانت پر تربیتی نشست کا انعقاد: طلبہ کی غیر معمولی دلچسپی

روزینہ اسماعیل, August 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اگست 2026ء

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے طلبہ ترقی و تقرری مرکز (اسٹوڈنٹ ڈویلپمنٹ اینڈ پلیسمنٹ سینٹر) کے زیرِ اہتمام مصنوعی ذہانت (AI) کے جدید تقاضوں پر مبنی آن لائن تربیتی نشست کا انعقاد کیا گیا، جس میں یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات نے غیر معمولی اور والہانہ دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ اس خصوصی ورکشاپ کے لیے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے 293 طلبہ نے رجسٹریشن کروائی، جبکہ 116 طلبہ نے براہِ راست آن لائن سیشن میں مکمل طور پر شرکت کی۔

ورکشاپ کے دوران معروف کمپنی گوگل کے ماہر محمد عمر نذیر نے کلیدی سپیکر کے طور پر شرکت کی۔ انہوں نے شرکاء کو ‘گوگل ڈویلپر گروپس’ اور یونیورسٹی کیمپس میں قائم ‘گوگل ڈویلپر گروپس آن کیمپس’ کے آپریشنز اور فوائد کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ ان عالمی سطح کے پلیٹ فارمز سے متحرک طور پر وابستہ ہو کر اپنی فنی صلاحیتوں کو جلا بخشیں، مشترکہ طور پر جدید ٹیکنالوجی پروژیکٹس پر کام کریں، اپنے پیشہ ورانہ نیٹ ورک کو وسعت دیں اور موجودہ صنعتی تقاضوں سے خود کو ہم آہنگ کریں۔

نشست کے آخری مرحلے میں ایک فکر انگیز سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا جس میں طلبہ نے اپنے اپنے مخصوص تعلیمی شعبہ جات میں مصنوعی ذہانت کے عملی اطلاق سے متعلق سوالات کیے۔ محمد عمر نذیر نے ان کے جوابات دیتے ہوئے اس بات پر روشنی ڈالی کہ مصنوعی ذہانت اب صرف کمپیوٹر سائنس کے شعبے تک محدود نہیں رہی بلکہ نفسیات کے طلبہ اسے طبی و روئیاتی تحقیق میں، شعبہ صحت کے ماہرین بیماریاں کی تشخیص میں اور لاجسٹکس کے ادارے اپنے انتظامی امور کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کلیدی، اسٹریٹجک اور اہم فیصلوں میں انسانی سوچ اور نگرانی ہمیشہ ناگزیر رہے گی۔

ورکشاپ کے اختتام پر اسٹوڈنٹ ڈویلپمنٹ اینڈ پلیسمنٹ سینٹر کے انچارج ڈاکٹر عارف سلیم نے مہمانِ خصوصی محمد عمر نذیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس سیشن نے طلبہ کو مصنوعی ذہانت کے عملی فوائد اور ڈیجیٹل مہارتوں سے مستفید ہونے کا شاندار موقع فراہم کیا ہے۔ انہوں نے مستقبل میں گوگل کے ساتھ آن کیمپس مزید تربیتی پروگرامز کے انعقاد کی خواہش ظاہر کی اور کہا کہ ایسی سرگرمیاں طلبہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو عالمی منڈی کے معائیر کے مطابق ڈھالنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن نے سال 27-2026ء کے ایونٹس کیلنڈر کا باضابطہ اعلان کر دیا

محمود احمد, August 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اگست 2026ء

پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن (پی سی ایف) نے مالی سال 27-2026ء کے لیے اپنا تفصیلی ایونٹس کیلنڈر جاری کر دیا ہے، جس کے تحت جولائی 2026ء سے جون 2027ء تک متعدد قومی و بین الاقوامی سائیکلنگ مقابلے، کورسز اور چیمپئن شپس منعقد کی جائیں گی۔

فیڈریشن کی جانب سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق، جولائی 2026ء میں اسلام آباد کے اندر کمیسائر کورس اور 14 اگست کو تمام صوبائی ہیڈکوارٹرز میں یومِ آزادی کے حوالے سے سائیکل ریسز منعقد ہوں گی۔ اگست میں اسلام آباد میں کوچنگ کورس کے بعد، 19 تا 27 ستمبر کو کینیڈا کے شہر مونٹریال میں یو سی آئی روڈ ورلڈ چیمپئن شپ منعقد ہوگی۔ اکتوبر میں لاہور کے اندر دسویں روڈ سائیکلنگ چیمپئن شپ، جبکہ 6 تا 8 نومبر کو لاہور ہی میں 71ویں ٹریک چیمپئن شپ (سینئر و جونیئر) طے کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں، کراچی تا حیدرآباد سائیکل ریس نومبر میں اور دسمبر میں ‘ٹور آف اسلام آباد’ اور قائد اعظم ڈے ریسز ہوں گی۔

سال 2027ء کی شروعات میں جنوری میں ‘ٹور دے پشاور’ اور ایم ٹی بی چیمپئن شپ، فروری میں پشاور کے مقام پر 11ویں روڈ سائیکلنگ چیمپئن شپ اور مارچ میں لاہور میں انٹر پروونشل ٹریک چیمپئن شپ سمیت اسلام آباد میں ساؤتھ ایشین روڈ سائیکلنگ چیمپئن شپ کا انعقاد کیا جائے گا۔ اپریل 2027ء میں ‘ٹور دے گلیات’ اور ایشین کانٹینینٹل چیمپئن شپ کا انعقاد ہوگا جبکہ مئی و جون 2027ء میں اورڈوس (چین) میں ایشین روڈ سائیکلنگ چیمپئن شپ، گلگت میں ‘ٹور دی خنجراب’ اور جون 2027ء میں ناران ایم ٹی بی ریس طے کی گئی ہے۔

پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن کے صدر سید اظہر علی شاہ نے نمائندے کو بتایا کہ ایونٹس کی حتمی منظوری فنڈز کی دستیابی سے مشروط ہوگی، جبکہ قومی ٹیم کا انتخاب میرٹ کی بنیاد پر طے شدہ چیمپئن شپس میں کھلاڑیوں کی کارکردگی کو مدنظر رکھ کر کیا جائے گا۔ منتخب سائیکلسٹس کی جدید بنیادوں پر تربیت کے لیے خصوصی قومی کیمپ بھی لگائے جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے سائیکلسٹس میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے، اور پچھلی دو سے تین ایشین چیمپئن شپس میں میڈلز جیت کر پاکستانی ایتھلیٹس نے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر انہیں معیاری سهولیات اور بین الاقوامی ایکسپوژر ملتا رہے تو وہ عالمی سطح پر ملک کا نام مزید روشن کر سکتے ہیں۔

ایچ ای سی کوالٹی اشورنس ایجنسی اور پی این کیو اے ایچ ای کے درمیان معاہدہ طے پا گیا: اعلیٰ تعلیم کے معیار کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق

روزینہ اسماعیل, August 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اگست 2026ء

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی کوالٹی اشورنس ایجنسی اور پاکستان نیٹ ورک آف کوالٹی اشورنس اِن ہائر ایجوکیشن کے درمیان پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی شعبے میں تعلیمی معیار کو مزید مستحکم بنانے اور جدید بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے ایک اہم مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔

اس مفاہمتی یادداشت کا بنیادی مقصد پاکستان بھر کی جامعات میں کوالٹی اشورنس کے موجودہ نظام کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنا، دونوں اداروں کے درمیان ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دینا اور اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں بہترین بین الاقوامی طریقہ کار کو رائج کرنا ہے۔

دستخط کی اس تقریب کے موقع پر دونوں اداروں کے اعلیٰ نمائندوں نے اپنے عزائم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس شراکت داری کے تحت اساتذہ اور انتظامی عملے کے لیے مشترکہ تربیتی پروگرامز، استعداد کار میں اضافے کی ورکشاپس، علمی و تحقیقی تعاون اور معیارِ تعلیم کی مسلسل بہتری کے لیے جامع اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

نمائندوں کا مزید کہنا تھا کہ یہ پائیدار شراکت داری نہ صرف اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں معیار کی یقین دہانی کے نظام کو مزید شفاف اور مؤثر بنائے گی بلکہ ملکی جامعات کی مجموعی کارکردگی اور عالمی رینکنگز کو بہتر بنانے میں بھی نچلی سطح پر اہم پیش رفت ثابت ہوگی۔

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے سابق برطانوی مشیر کبیر صابر کی ملاقات: تجارت اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال

کاشف عباسی , August 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اگست 2026ء

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے برطانیہ کے سابق مشیر اور لندن سے پارلیمانی امیدوار کبیر صابر نے ایک اہم ملاقات کی، جس میں باہمی تعاون، تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ سے متعلق تفصیلی گفتگو کی گئی۔

گورنر آفس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں کی اس ملاقات کے دوران خیبر پختونخوا میں تجارتی سرگرمیوں، غیر ملکی و مقامی سرمایہ کاری کے مواقع، انسانی وسائل کی جدید انداز میں تربیت اور صلاحیتوں کی فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا بے پناہ قدرتی وسائل، صلاحیتوں سے مالا مال نڈر اور باصلاحیت نوجوان افرادی قوت اور وسیع تجارتی و معاشی مواقع سے لیس ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ دنیا بھر میں مقیم تارکینِ وطن (اوورسیز پاکستانی) اور بین الاقوامی سرمایہ کار خیبر پختونخوا کے بنیادی ڈھانچے اور معاشی بہتری میں کلیدی اور تاریخی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اس موقع پر کبیر صابر نے بھی صوبے کی معاشی و انسانی ترقی کے لیے تجاویز پیش کیں اور بین الاقوامی سطح پر تعاون کے نئے راستے ہموار کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

آزاد کشمیر انتخابات میں ن لیگ کو سادہ اکثریت حاصل: رانا ثناء اللہ اور امیر مقام کی مشترکہ پریس کانفرنس

منصور احمد, August 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اگست 2026ء

وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ اور وفاقی وزیر امورِ کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں دو مراحل کے تحت الیکشن کا پرامن، شفاف اور منصفانہ انعقاد دراصل جمہوریت، کشمیری عوام اور ریاست کی عملداری کی بڑی کامیابی ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ دوسرے مرحلے کے دوران آزاد کشمیر اور مہاجرین کے 20 حلقوں میں انتخابی عمل کامیابی کے ساتھ مکمل ہوا، جس میں مسلم لیگ (ن) نے 23 نشستوں پر کامیابی حاصل کر کے آزاد کشمیر میں سادہ اکثریت حاصل کر لی ہے۔ میرپور ڈویژن کی 9 اور مظفرآباد ڈویژن کی 7 میں سے 4 نشستوں پر مسلم لیگ (ن) جبکہ 3 پر پیپلز پارٹی کامیا ب ہوئی، جبکہ مہاجرین کی 12 میں سے 10 نشستیں ن لیگ کے حصے میں آئیں۔

رانا ثناء اللہ نے پیپلز پارٹی کے رویے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “پیپلز پارٹی نے شکست سامنے دیکھ کر گزشتہ روز سے ہی دھاندلی کا بیانیہ بنانا شروع کر دیا تھا۔ ابتدا میں 13 حلقوں میں دھاندلی کا الزام لگایا گیا جو شواہد مانگنے پر پہلے 4 اور پھر 2 حلقوں تک محدود ہو گیا۔” انہوں نے بلاول بھٹو زرداری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کا نوٹس لیں کیونکہ عوامی مینڈیٹ کو تسلیم نہ کرنا میثاقِ جمہوریت کی روح کے منافی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سندھ سے آئے ہوئے ایک ایم این اے پولیس اہلکاروں کی معیت میں گاڑیوں کے قافلے لے کر پولنگ اسٹیشنوں پر خوف و ہراس پھیلاتے رہے۔

وفاقی وزیر امورِ کشمیر انجینئر امیر مقام نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر کی تاریخ کے اس انتہائی شفاف اور منصفانہ الیکشن کے انعقاد پر الیکشن کمیشن، مقامی انتظامیہ، پولیس اور سیکیورٹی ادارے مبارکباد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے گزشتہ دو سال سے انتخابی میدان میں مسلسل محنت کی ہے، اور پیپلز پارٹی کے مقامی رہنماؤں نے اپنی اعلیٰ قیادت کو غلط گائیڈ کیا۔

پریس کانفرنس کے دوران دونوں رہنماؤں نے دھرنا دینے والی تنظیموں اور کشمیری رہنماؤں کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دی اور کہا کہ احتجاج اور دھرنوں سے مسائل حل نہیں ہوتے، چند ہزار افراد لاکھوں ووٹرز کے مقدر کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آزاد کشمیر انتخابات کا آخری مرحلہ مکمل ہوتے ہی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلا کر حکومت سازی کا عمل مکمل کیا جائے گا اور قائد میاں محمد نواز شریف کے وعدوں کے مطابق آزاد کشمیر میں تعمیر و ترقی کا نیا دور شروع ہوگا۔

ایچ ای سی کا سری لنکا میں انڈرگریجویٹ سکالرشپ کا اعلان: پاکستانی طلبہ سے درخواستیں طلب

روزینہ اسماعیل, August 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اگست 2026ء

ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے سری لنکا کے معروف تعلیمی ادارے ‘سری لنکا انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی’ میں ستمبر اور اکتوبر 2026ء کے تعلیمی سیشن کے لیے ایک انڈرگریجویٹ سکالرشپ کا باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے اہل اور خواہش مند پاکستانی طلبہ سے درخواستیں طلب کر لی ہیں۔

ایچ ای سی حکام کے مطابق یہ سکالرشپ سری لنکا میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے خواہش مند پاکستانی طلبہ کو بین الاقوامی سطح پر جدید تعلیمی مواقع فراہم کرنے کے مقصد کے تحت پیش کی جا رہی ہے۔

کوائف اور اہلیت کے معیار کے حوالے سے ایچ ای سی نے واضح کیا ہے کہ تمام خواہشمند امیدوار مقررہ طریقہ کار کے مطابق آن لائن درخواست جمع کرا سکتے ہیں۔ پروگرام سے متعلق تمام تر بنیادی اہلیت، درخواست دینے کے مرحلہ وار طریقہ کار اور دیگر ضروری شرائط و ضوابط کی مکمل تفصیلات ایچ ای سی کی آفیشل ویب سائٹ پر آن لائن فراہم کر دی گئی ہیں۔

ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے اس بات کی بھی پیشگی وضاحت کی ہے کہ مذکورہ سکالرشپ میں صرف ٹیوشن فیس یا تعلیمی اخراجات شامل ہوں گے، جبکہ رہائش، کھانے پینے، فضائی سفر کے ٹکٹ، یومیہ جیب خرچ، طبی بیمہ، ویزا فیس، ویزا کی تجدید اور دیگر تمام شخصی اخراجات منتخب ہونے والے طلبہ کو خود برداشت کرنا ہوں گے۔

ایچ ای سی انتظامیہ نے تمام دلچسپی رکھنے والے امیدواروں کو سخت ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی درخواستیں جمع کرانے سے قبل اہلیت کے تمام معائر اور گائیڈ لائنز کا بغور مطالعہ کریں اور آخری تاریخ سے قبل اپنی درخواستوں کی مکمل اور درست فراہمی کو یقینی بنائیں۔

وفاقی حکومت کی بڑی پیش رفت: چار آکوپیشنل گروپس کے 75 فیصد سول سرونٹس کا سروس ریکارڈ ڈیجیٹلائز کر دیا گیا

کاشف عباسی , August 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اگست 2026ء

وفاقی حکومت نے سول سروس میں انسانی وسائل کے انتظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور کاغذی ریکارڈ پر انحصار ختم کرنے کے لیے چار اہم آکوپیشنل گروپس سے تعلق رکھنے والے وفاقی سرکاری افسران کا تقریباً 75 فیصد سروس ریکارڈ ڈیجیٹلائز کر دیا ہے۔

ویلتھ پاکستان کو دستیاب ہونے والی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ میں پیش کی گئی سرکاری دستاویزات کے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ہیومن ریسورس مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے نفاذ کے ذریعے اس پروسیس میں غیر معمولی اور نمایاں پیش رفت کی ہے۔ ایچ آر ایم آئی ایس ایک ویب بیسڈ اور مرکزی ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے، جس پر پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس ، پولیس سروس آف پاکستان ، آفس مینجمنٹ گروپ اور سیکریٹریٹ گروپ کے افسران کے تمام سروس ریکارڈز کو محفوظ کیا جا رہا ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو دی جانے والی بریفنگ کے مطابق، 75 فیصد ڈیٹا کی کامیاب انٹری کے بعد باقی ماندہ ریکارڈ کو بھی ہنگامی بنیادوں پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس دوران اسٹیبلشمنٹ ڈویژن ریکارڈ کی سخت جانچ، تصدیق اور درستگی کے مرحلے کو بھی جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ سسٹم میں شامل تمام تر معلومات سو فیصد مستند اور بلا غلطی رہیں۔ اس جدید پلیٹ فارم میں افسران کے ذاتی ڈیٹا، تقرریوں، ترجیحی سنیارٹی، تعلیمی اسناد، تربیت، رخصت کی تفصیلات، پرفارمنس ایویلیوایشن رپورٹس اور سروس ہسٹری کا مکمل ڈیٹا مرتب کیا گیا ہے۔

افسران کو یہ سہولت بھی دی گئی ہے کہ وہ اپنے لاگ ان کے ذریعے اپنے پورٹل کا خود جائزہ لے سکیں اور اگر کہیں غلطی ہو تو تصحیح کی درخواستیں جمع کروا سکیں، جنہیں چھان بین کے بعد نفاذ کا حصہ بنایا جاتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے سینیٹ کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ پرانے ریکارڈ کی وجہ سے کام میں کوئی التوا نہیں آ رہا اور تمام تر توجہ ڈیٹا کی مکمل اور مستند انٹری پر مرکوز کی گئی ہے۔

مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد ایچ آر ایم آئی ایس وفاقی افسران کی سروس سے متعلق تمام امور بشمول ترقیوں، تبادلوں اور تربیتی مراحل کے لیے واحد مستند اور مرکزی ذریعہ ثابت ہوگا، جس سے گڈ گورننس، شفافیت اور میرٹ کی بالادستی کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔

ادارہ شماریا ت کا دعویٰ: جولائی 2026ء میں مہنگائی کی سالانہ شرح سنگل ڈیجٹ میں آ گئی، شرح 9.2 فیصد تک محدود

منصور احمد, August 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اگست 2026ء

وفاقی ادارۂ شماریات نے نئے مالی سال کے پہلے ماہ یعنی جولائی 2026ء کے لیے مہنگائی سے متعلق سالانہ و ماہانہ اعداد و شمار کی تفصیلی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح کم ہو کر سنگل ڈیجٹ یعنی 9.2 فیصد تک آ گئی ہے۔

وفاقی ادارۂ شماریات کے ترجمان اور جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، جون 2026ء میں مہنگائی کی سالانہ شرح 11.1 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی، جبکہ اس کے برعکس گزشتہ مالی سال کے اسی پہلے مہینے یعنی جولائی 2025ء میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی 4.1 فیصد کی سطح پر تھی۔ تمام تر سالانہ کمی کے باوجود، اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ماہانہ بنیادوں پر جولائی کے دوران جون کے مقابلے میں مہنگائی میں 1.19 فیصد کا مزید اضافہ درج کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں شہری اور دیہی معیشت کے علاحدہ اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ دیہی علاقوں میں مہنگائی کی شدت نسبتاً زیادہ رہی۔ جولائی 2026ء کے دوران دیہی علاقوں میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 9.93 فیصد جبکہ شہری علاقوں میں 8.72 فیصد رہی۔

ماہانہ بنیادوں کے تقابل کے لحاظ سے دیکھا جائے تو جولائی میں دیہی علاقوں کے اندر اشیائے ضروریہ اور سروسز کی قیمتوں میں 1.23 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ دوسری جانب شہری علاقوں میں ماہانہ بنیادوں پر یہ اضافہ 1.16 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔

ملک کے بڑے دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کی تازہ ترین صورتحال: واپڈا نے اعداد و شمار جاری کر دیے

منصور احمد, August 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اگست 2026ء

واپڈا (واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی) کے ترجمان کے مطابق ملک کے تمام بڑے دریاؤں اور اہم آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج اور واٹر لیول کی تازہ ترین صورتحال پر مبنی رپورٹس جاری کر دی گئی ہیں۔

ترجمان واپڈا کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق تربیلا کے مقام پر دریائے سندھ میں پانی کی آمد 2 لاکھ 50 ہزار 700 کیوسک جبکہ اخراج 1 لاکھ 91 ہزار 900 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ منگلا کے مقام پر دریائے جہلم میں پانی کی آمد 44 ہزار 700 کیوسک جبکہ اخراج 7 ہزار کیوسک رہا۔ اسی طرح چشمہ بیراج کے مقام پر پانی کی آمد 2 لاکھ 52 ہزار کیوسک جبکہ اخراج 2 لاکھ 43 ہزار 700 کیوسک درج کیا گیا ہے۔

دیگر اہم مقامات کی صورتحال کے مطابق ہیڈ مرالہ پر دریائے چناب میں پانی کی آمد 85 ہزار 900 کیوسک اور اخراج 69 ہزار 900 کیوسک رہا، جبکہ نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل میں پانی کی آمد اور اخراج دونوں یکساں طور پر 43 ہزار 700 کیوسک ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

آبی ذخائر (ریزروائرز) میں پانی کی موجودگی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ تربیلا ریزروائر میں اس وقت پانی کی سطح 1543 فٹ اور ذخیرہ 51 لاکھ 78 ہزار ایکڑ فٹ ہے، جبکہ منگلا ریزروائر میں پانی کی سطح 1199.35 فٹ اور ذخیرہ 41 لاکھ 93 ہزار ایکڑ فٹ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مزید برآں چشمہ ریزروائر میں پانی کی سطح 648.50 فٹ اور قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 2 لاکھ 85 ہزار ایکڑ فٹ ہو چکا ہے۔ اس طرح تینوں بڑے ریزروائرز میں قابلِ استعمال پانی کا مجموعی ذخیرہ اس وقت 96 لاکھ 56 ہزار ایکڑ فٹ تک پہنچ چکا ہے۔

ترجمان واپڈا نے مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ تربیلا، چشمہ، نوشہرہ اور منگلا کے مقامات پر پانی کی آمد و اخراج سے متعلق اعداد و شمار گزشتہ 24 گھنٹوں کے اوسط بہاؤ کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں، جبکہ ہیڈ مرالہ سمیت دیگر مقامات کے اعداد و شمار آج صبح 6 بجے کی تازہ ترین صورتحال کے مطابق جاری کیے گئے ہیں۔

گرین لیگیسی انیشیٹو: ایتھوپین سفارتخانے کا اسلام آباد میں شجرکاری مہم کا انعقاد، پاکستانی شہریوں کی بھرپور شرکت

منصور احمد, August 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اگست 2026ء

ایتھوپیا کے وزیراعظم ڈاکٹر ابی احمد کے تاریخی ‘گرین لیگیسی انیشیٹو’ کے تحت ایک ہی دن میں شجرکاری کی عالمی مہم میں پاکستانی شہریوں نے بھی روایتی جوش و جذبے کے ساتھ شرکت کی ہے۔

اسلام آباد میں قائم ایتھوپین سفارتخانے نے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے تعاون سے ایک خصوصی شجرکاری مہم کا اہتمام کیا، جس میں سفارتی برادری، تاجر برادری، میڈیا نمائندگان اور سول سوسائٹی کے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

پاکستان میں اس تقریب کا بنیادی مقصد ایتھوپیا کے اس عظیم الشان قومی ہدف کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار تھا جس کے تحت ایک ہی دن میں 80 کروڑ پودے لگائے جا رہے ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد میں ایتھوپین سفارتخانے کے چارج ڈی افیئرز مسٹر میلاؤ گیٹاچو نے گرین لیگیسی انیشیٹو کے ماحولیاتی اثرات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ اس فلیگ شپ پروگرام کے تحت ایتھوپیا اب تک 48 ارب سے زائد پودے لگا چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ “آج کی اس مہم کا مقصد ایتھوپیا میں اپنے بھائیوں اور بہنوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہونا اور 80 کروڑ پودے لگانے کے ان کے عظیم ہدف کی حمایت کرنا ہے۔” انہوں نے موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف جنگ میں ایتھوپیا کی عالمی قیادت پر بھی زور دیا اور بتایا کہ ادیس ابابا جلد ہی بین الاقوامی کلائمیٹ سمٹ کی میزبانی بھی کرے گا۔

اس موقع پر کلین اینڈ گرین موومنٹ اسلام آباد کے چیئرمین اور اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے سابق صدر ظفر بختاوری نے جنگلات کی بحالی کے لیے ایتھوپیا کی ان شاندار کاوشوں کو زبردست الفاظ میں سراہا۔

انہوں نے کہا کہ “گرین لیگیسی انیشیٹو کا وژن اسلام آباد کی ہماری ‘کلین اینڈ گرین موومنٹ’ کے اہداف سے مکمل طور پر مطابقت رکھتا ہے۔” انہوں نے زور دیا کہ گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر متحد ہو کر مشترکہ اقدامات کرنا وقت کا سب سے بڑا تقاضا ہے۔