مصنوعی ذہانت کو اخلاقی اصولوں اور مضبوط گورننس کے ساتھ قومی ترقی کے نظام میں شامل کیا جائے، ماہرین کا زور

روزینہ اسماعیل, JULY 13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

ممتاز تعلیمی و صنعتی ماہرین نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو محض انفرادی سہولت یا پیداواری صلاحیت بڑھانے والے روایتی آلے کے طور پر نہیں بلکہ واضح اخلاقی اصولوں، مضبوط گورننس اور اعلیٰ ادارہ جاتی تیاری کے ساتھ قومی ترقی کے مجموعی نظام میں شامل کیا جانا چاہئے۔ اگر حکومتیں، جامعات، صنعتیں اور تجارتی ادارے اے آئی کو ذمہ دارانہ انداز میں اپنے انتظامی اور فیصلہ سازی کے ڈھانچے کا حصہ بنائیں تو یہ پائیدار معاشی ترقی، بہتر طرزِ حکمرانی، اعلیٰ تعلیم اور سائنسی تحقیق میں نمایاں اور تزویراتی تبدیلی لا سکتی ہے۔ انہوں نے یہ باتیں پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیرِ اہتمام مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی گورننس پر مبنی تین اہم کتابوں کی تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔ تقریب میں ملک بھر سے نامور ماہرین، اساتذہ، محققین اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اپنے استقبالیہ کلمات میں ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ اظہر ضیاء الرحمٰن عالمی سطح پر ممتاز محقق، مشیر اور مینجمنٹ سسٹمز کے ماہر کے طور پر ایک مستند اور مقتدر آواز بن چکے ہیں۔ انہوں نے اس حساس موضوع پر اعلیٰ معیار کی کتابیں تصنیف کی ہیں اور دنیا بھر میں حکومتوں اور مقتدر اداروں کو چوتھے صنعتی انقلاب اور مصنوعی ذہانت کو موثر انداز میں اپنانے کے لیے تزویراتی رہنمائی فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ تھنک ٹینکس اور تحقیقی اداروں پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کا استعمال پوری ذمہ داری اور اخلاقی اصولوں کے مطابق کریں۔ تقریب کا آغاز کرتے ہوئے ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر (ریسرچ) ڈاکٹر ساجد امین جاوید نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی حقیقی صلاحیت اسی وقت سامنے آئے گی جب ریاستی و نجی ادارے اپنی استعداد میں اضافہ کر کے اسے اپنے انتظامی نظام میں شامل کریں گے، اور جامعات کو اس کے ذمہ دارانہ استعمال کے بارے میں نوجوانوں کی فوری رہنمائی کرنی چاہیے۔

اپنی تصنیف کردہ کتابوں کا تعارف پیش کرتے ہوئے نامور مصنف اظہر ضیاء الرحمٰن نے بتایا کہ ٹیکنالوجی گورننس کے شعبے میں ان کا سفر تقریباً دس برس قبل اس تصور پر دنیا کی پہلی کتاب تحریر کرنے سے شروع ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی نئی کتابیں اداروں کو تمام جدید ٹیکنالوجیز کی منظم اور آسان انداز میں نگرانی اور نظم و نسق کے لیے عملی رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ یورپی یونین کے ‘اے آئی ایکٹ’ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ اس تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کے لیے اخلاقی اصولوں کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ سولوڈ انجینئرنگ ٹیکنالوجیز کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر ظفر اللہ قریشی نے کتاب میں یونیورسٹی گورننس اور تدریسی نظام کے حوالے سے پیش کیے گئے نکات کو نہایت مفید قرار دیا اور خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت کی کامیابی کا تمام تر انحصار معیاری ڈیٹا اور موثر ڈیٹا گورننس پر ہے۔ تقریب کے اختتام پر ایس ڈی پی آئی میں ماحولیاتی پائیداری کی سربراہ زینب نعیم نے مصنف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کی حتمی قیادت ہمیشہ انسان کے ہی ہاتھ میں رہنی چاہئے۔

او آئی سی خواتین کانفرنس: مسلم امہ اور پاکستان کی پائیدار ترقی خواتین کو بااختیار بنانے سے مشروط ہے، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا خطاب

منصور احمد, JULY 13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے واضح کیا ہے کہ مسلم امہ اور پاکستان کی پائیدار ترقی خواتین کو ہر سطح پر بااختیار بنانے اور انہیں زندگی کے تمام شعبوں میں مساوی مواقع فراہم کرنے سے مشروط ہے، کیونکہ دینِ اسلام خواتین کے حقوق کا سب سے بڑا ضامن ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے لیے ’اپنا روزگار پروگرام‘ ان کا ایک دیرینہ خواب ہے جس کی تکمیل سے ملک میں حقیقی معاشی انقلاب آئے گا۔ وہ پیر کے روز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں منعقدہ دو روزہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی نویں وزارتی کانفرنس برائے خواتین کے اہم سیشن سے خصوصی خطاب کر رہی تھیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے کانفرنس میں شریک 57 ممالک کے معزز مندوبین اور عالمی رہنماؤں کو پاکستان آمد پر والہانہ خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک پرامن ملک اور مہمان نواز قوم کی دھرتی ہے، اور او آئی سی کے اس مقتدر پلیٹ فارم سے خواتین کے حقوق پر آواز اٹھانا ان کے لیے باعثِ اعزاز ہے۔

اپنے تزویراتی خطاب میں مریم نواز نے حکومت کی جانب سے خواتین کی مالی شمولیت، اعلیٰ تعلیم اور کاروبار کے یکساں مواقع فراہم کرنے کے پختہ عزم کو دہرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت طالبات کے لیے اسکالرشپس اور لیپ ٹاپس کی شفاف فراہمی کو یقینی بنا رہی ہے تاکہ ہماری بیٹیاں جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ ہو کر ڈیجیٹل معیشت میں اپنا مؤثر اور مقتدر کردار ادا کر سکیں۔ انہوں نے صوبے میں جاری فلاحی اسکیموں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ’اپنی چھت، اپنا گھر‘ اسکیم سے غریب شہری تیزی سے مستفید ہو رہے ہیں، جبکہ خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنانے کے لیے ’اپنا روزگار پروگرام‘ پر ترجیحی بنیادوں پر کام جاری ہے جو کہ خواتین کی معاشی خودمختاری کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے مسلم دنیا میں خواتین کی سیاسی و سماجی قیادت کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہید بے نظیر بھٹو مسلم اُمہ کی پہلی خاتون وزیراعظم تھیں جنہوں نے مسلم دنیا میں خواتین کی سیاسی اور سماجی نمائندگی کے فروغ اور ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک تاریخی اور ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا۔ انہوں نے اس مقتدر عزم کا اعادہ کیا کہ حکومتِ پاکستان خواتین کے لیے محفوظ، سازگار اور مساوی ماحول کی فراہمی کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل رکھے ہوئے ہے کیونکہ خواتین کی ترقی کے بغیر کوئی بھی مہذب معاشرہ اور ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔

مون سون کے ممکنہ خطرات: وفاقی وزیر مصدق ملک کی تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے اور خیبر پختونخوا میں محفوظ سیاحت یقینی بنانے کی ہدایت

کاشف عباسی , JULY 13,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے مون سون کی حالیہ لہر کے تناظر میں تمام متعلقہ وفاقی و صوبائی اداروں کو ہائی الرٹ رہنے اور ضلعی و یونین کونسل کی سطح پر باہمی رابطہ کاری کو مزید مؤثر بنانے کی مقتدر ہدایت جاری کر دی ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی جانب سے پیر کے روز جاری کردہ تفصیلی اعلامیے کے مطابق، وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر این ڈی ایم اے اور حکومتِ خیبر پختونخوا کے درمیان مون سون 2026ء کی تیاریوں کا ایک اہم اور تزویراتی جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک کی زیر صدارت ہونے والے اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں چیئرمین این ڈی ایم اے، ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے خیبر پختونخوا اور دیگر متعلقہ مقتدر حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران پی ڈی ایم اے خیبر پختونخوا کے حکام نے مون سون کے دوران ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے صوبائی تیاریوں، ریسکیو آپریشنز کے پلان، ہنگامی منصوبہ بندی اور وسائل کی دستیابی کے حوالے سے شرکاء کو تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر صوبے میں سیلابی صورتحال، شہری و دریائی سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ (تودے گرنے) اور گلیشائی جھیلوں کے پھٹنے سے پیدا ہونے والے سیلاب کے خطرات اور ان کے تدارک کے لیے کیے گئے اب تک کے تزویراتی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وفاقی وزیر مصدق ملک نے زور دے کر کہا کہ مون سون کے اس سیزن کے دوران خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں محفوظ سیاحت کے فروغ اور سیاحوں کے لیے سفری سہولیات کی بلاتعطل فراہمی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر انتظامات کیے جائیں۔ انہوں نے حکام کو سخت ہدایات دیں کہ مون سون کی بارشوں اور ممکنہ خطرات سے بچاؤ کے لیے بڑے پیمانے پر عوامی آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ قیمتی انسانی جانوں اور املاک کو محفوظ رکھا جا سکے۔

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اور چینی ادارے کے درمیان تعلیمی و تکنیکی تعاون کا معاہدہ، لیٹر آف انٹینٹ پر دستخط

روزینہ اسماعیل, JULY 13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی (اے آئی او یو) اور چین کے معروف ادارے ‘ٹینگ چائنیز انٹرنیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹیکنالوجی’ کے درمیان تعلیمی و تکنیکی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک مقتدر لیٹر آف انٹینٹ پر دستخط کیے گئے ہیں۔ اس تزویراتی شراکت داری کے تحت دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ تعلیمی پروگرام، طلبہ و اساتذہ کے تبادلے، چینی زبان کے فروغ، مشترکہ تحقیق، جدید مہارتوں کی تربیت اور جامعات و صنعت (انڈسٹری) کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں گے۔ دستاویزات پر اوپن یونیورسٹی کی جانب سے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود جبکہ چینی ادارے کی جانب سے بانی سانگ جیاءنگ نے باقاعدہ دستخط کیے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور مہارتوں سے آراستہ نوجوان ہی مستقبل کی اصل طاقت ہیں، اس لیے جامعات کی ذمہ داری ہے کہ وہ طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیم اور عملی مہارتوں سے لیس کریں تاکہ وہ بدلتی ہوئی عالمی ضروریات کے مطابق مؤثر کردار ادا کر سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس شراکت داری کے تحت جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے مہارت پر مبنی تعلیمی پروگرام متعارف کرائے جائیں گے تاکہ باصلاحیت اور ہنر مند افرادی قوت تیار کی جا سکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس تعاون کے نتیجے میں جامعہ میں چینی زبان و ثقافت کا مرکز بھی قائم ہوگا، جبکہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں ترک، جاپانی اور روسی زبانوں کے مراکز پہلے ہی کامیابی سے کام کر رہے ہیں۔ وائس چانسلر نے مزید کہا کہ پاک چین دیرینہ دوستی وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہو رہی ہے اور تعلیم اس دوستی کو نئی نسل تک منتقل کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔

چینی ادارے کے بانی مسٹر سانگ جیاءنگ نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں ٹیکنالوجی اور مہارت پر مبنی تعلیم کے فروغ کے لیے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ایک بہترین اور مقتدر شراکت دار ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ یہ تعاون دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی، تحقیقی اور تکنیکی روابط کو نئی جہت دے گا اور نوجوانوں کو عالمی معیار کی ہنر مندی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس موقع پر کوالٹی انہانسمنٹ سیل کی ڈائریکٹر ڈاکٹر صائمہ ناصر نے کہا کہ یہ معاہدہ اوپن یونیورسٹی کی بین الاقوامی روابط کو وسعت دینے کی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے جس سے طلبہ اور اساتذہ کو بین الاقوامی معیار کے تعلیمی اور تحقیقی مواقع میسر آئیں گے۔ تقریب میں یونیورسٹی کے ڈینز، پروفیسرز، شعبہ جات کے سربراہان اور دیگر پرنسپل افسران نے بھی شرکت کی۔

فیفا ورلڈ کپ میں تاریخ رقم، پہلی بار سیمی فائنل میں دنیا کی چار ٹاپ رینکنگ ٹیمیں آمنے سامنے

محمود احمد, JULY 13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

فیفا ورلڈ کپ 2026 اپنے فیصلہ کن اور سنسنی خیز مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں پہلی مرتبہ عالمی فٹبال کی تاریخ میں سیمی فائنل کے مقابلے دنیا کی ان چار اعلیٰ ترین رینکنگ ٹیموں کے درمیان کھیلے جائیں گے جو فیفا کی آفیشل سائیڈ پر ہائیسٹ رینکنگ پر براجمان ہیں۔ اس مقتدر اور تاریخی مرحلے نے عالمی فٹبال شائقین کے دلوں کی دھڑکنیں تیز کر دی ہیں اور ماہرینِ کھیل کی جانب سے اسے ورلڈ کپ کی تاریخ کا مضبوط ترین اور ہائی پروفائل سیمی فائنل راؤنڈ قرار دیا جا رہا ہے، جس میں روایتی حریف فائنل میں جگہ بنانے کے لیے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیں گے۔

موقر تزویراتی شیڈول کے مطابق، سیمی فائنل کے پہلے معرکے میں سابق عالمی چیمپئن فرانس کا روایتی سامنا اسپین سے ہوگا، جبکہ دوسرے سیمی فائنل میں دفاعی چیمپئن ارجنٹینا اور مقتدر انگلینڈ کی ٹیمیں آمنے سامنے ہوں گی۔ یہ چاروں ٹیمیں فیفا کی عالمی درجہ بندی میں سرفہرست ممالک میں شامل ہیں جنہوں نے پورے ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی اور تکنیکی برتری کا مظاہرہ کرتے ہوئے آخری چار میں اپنی جگہ پکی کی ہے۔ فرانس نے اپنے مضبوط دفاع، برق رفتار حملوں اور بہترین اجتماعی کھیل کی بدولت حریفوں کو پے در پے شکست دی، جبکہ اسپین نے روایتی شارٹ پاسنگ (ٹیکی ٹاکا)، گیند پر مکمل کنٹرول اور جارحانہ تزویراتی انداز سے ہر مرحلے پر اپنی برتری ثابت کی ہے۔

دوسری جانب، ارجنٹینا نے کوارٹر فائنل کے انتہائی اہم مقابلے میں سوئٹزرلینڈ کو 3-1 سے عبرتناک شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنائی، جبکہ انگلینڈ نے اعصاب شکن مقابلے کے بعد ناروے کو 2-1 سے ہرا کر آخری چار ٹیموں میں اپنی نشست یقینی بنائی۔ فٹبال تجزیہ کاروں کے مطابق، فیفا رینکنگ کی ان چاروں بڑی طاقتوں کے سیمی فائنل تک پہنچنے سے اس بار عالمی ٹائٹل کی دوڑ غیر معمولی حد تک سخت اور دلچسپ ہو گئی ہے، کیونکہ ہر ٹیم کے پاس تجربہ کار اسٹار کھلاڑی، مضبوط بینچ اسٹرینتھ اور اعلیٰ معیار کی تکنیکی حکمت عملی موجود ہے، جس کے باعث فائنل سے قبل کسی بھی ایک ٹیم کو واضح فیورٹ قرار دینا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ یہ سیمی فائنل صرف چار ٹیموں کا مقابلہ نہیں بلکہ دنیا کے بہترین فٹبال فلسفوں اور جدید کھیل کی مہارت کا امتحان ہوگا، جس کے بعد جیتنے والی دو مقتدر ٹیمیں گرینڈ فائنل میں مدمقابل آئیں گی، جہاں دنیا کے نئے عالمی چیمپئن کا فیصلہ ہوگا۔

او آئی سی خواتین کانفرنس: اسلامی دنیا کی خوشحالی کے لیے خواتین کی ترقی اور معاشی شمولیت کو تزویراتی ضرورت قرار دے دیا گیا

روزینہ اسماعیل, JULY 13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جاری نویں او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین کی معزز مندوبین نے مسلم ممالک کے درمیان باہمی تعاون کو مضبوط بنانے اور تعلیم، اقتصادی ترقی اور قیادت میں خواتین کی شرکت کو بڑھانے کے لیے جامع پالیسیوں کو فروغ دینے کی اشد ضرورت پر زور دیا ہے۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے واضح کیا کہ خواتین کی مقتدر ترقی اسلامی دنیا میں پائیدار، جامع ترقی اور طویل مدتی معاشی خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔

موقر تفصیلات کے مطابق، نویں او آئی سی وزارتی کانفرنس کے اہم سیشن سے خطاب کرتے ہوئے خواتین کی ترقی کی تنظیم (ڈبلیو ڈی او) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سارہ الشورا نے رکن ممالک کے درمیان تزویراتی تعاون کو مضبوط بنانے اور تعلیم، اقتصادی ترقی اور فیصلہ سازی کی قیادت میں خواتین کی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے تنظیم کی جانب سے کی جانے والی مسلسل کوششوں اور فریم ورک پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ اسی طرح، آٹھویں او آئی سی وزارتی کانفرنس کی خواتین کی مشاورتی کونسل کی صدر، سفیر نائلہ گبر نے گزشتہ وزارتی کانفرنس کے بعد ہونے والی تزویراتی پیشرفت کا احاطہ کیا اور او آئی سی کے رکن ممالک کے درمیان مضبوط ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے اس رفتار کو مستقل برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے مسلم امہ میں خواتین کی تعلیم، معاشی بااختیار سازی اور قیادت میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کا پرزور مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کی ترقی کے بغیر اسلامی دنیا میں طویل مدتی خوشحالی کا خواب ادھورا ہے۔

کانفرنس سے مصر کی قومی کونسل برائے خواتین کی صدر امل عمار نے بھی مقتدر خطاب کیا، جس میں ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں قوموں کی حقیقی خوشحالی انسانوں، بالخصوص خواتین میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے ہی شروع ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ مسلم دنیا میں پائیدار ترقی، معاشی استحکام اور سماجی انصاف کے اہداف کے حصول کے لیے خواتین کو ہر سطح پر بااختیار بنانا اب محض ایک آپشن نہیں بلکہ ایک ناگزیر سٹریٹجک ضرورت بن چکی ہے جس پر تمام رکن ممالک کو مل کر ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔

وزیر اعظم شہباز شریف کا ایک روزہ دورۂ دوحہ، امیرِ قطر سے والد کے انتقال پر دلی تعزیت اور یکجہتی کا اظہار

کاشف عباسی , JULY 13,026

دوحہ (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے مقتدر ملاقات کر کے ان کے والد گرامی کے انتقال پر دلی تعزیت اور گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری کردہ تفصیلی اعلامیے کے مطابق، وزیر اعظم پیر کے روز ایک روزہ اہم دورے پر دوحہ پہنچے، جہاں انہوں نے ریاست قطر کے امیر کے والد شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کے انتقال پر حکومتِ پاکستان اور پاکستانی عوام کی جانب سے قطر کی اعلیٰ قیادت اور برادر عوام سے بالمشافہ تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ اس تزویراتی دورے میں سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف، نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی وزیر اعظم شہباز شریف کے ہمراہ موجود تھے۔

ملاقات کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے مرحوم امیرِ والد کی دوراندیش قیادت، مدبرانہ بصیرت اور قطر کی غیرمعمولی ترقی کے ساتھ ساتھ خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے فروغ کے لیے ان کی گراں قدر خدمات کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے پاکستان کے لیے مرحوم امیرِ والد کی گرمجوشی، شفقت اور دیرینہ محبت کو یاد کرتے ہوئے ان کے پاکستان کے متعدد یادگار دوروں کو بھی انتہائی قدر و منزلت سے یاد کیا۔ وزیر اعظم نے گہرے صدمے کی اس گھڑی میں قطر کی قیادت اور عوام کے ساتھ پاکستان کی غیرمتزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام اور شاہی خاندان سمیت قطر کے برادر عوام کو یہ ناقابلِ تلافی صدمہ صبر و حوصلے کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے وزیر اعظم محمد شہباز شریف، سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف، نائب وزیر اعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور پاکستانی وفد کا ذاتی طور پر دوحہ آ کر تعزیت کرنے پر صمیمِ قلب سے شکریہ ادا کیا اور اس مقتدر جذبے کو دونوں برادر ممالک اور عوام کے درمیان قائم گہرے اور تزویراتی برادرانہ تعلقات کا منہ بولتا مظہر قرار دیا۔

او آئی سی خواتین وزارتی کانفرنس: وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت (فوسپاہ) کی بھرپور شرکت اور اہم عالمی ملاقاتیں

روزینہ اسماعیل, JULY 13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

سیکرٹریٹ برائے وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت (فوسپاہ) نے جناح کنونشن سینٹر اسلام آباد میں منعقدہ دو روزہ نویں او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین میں بھرپور اور تزویراتی شرکت کی ہے۔ کانفرنس کے موقر موقع پر وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت فوزیہ وقار نے او آئی سی وومن ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (ڈبلیو ڈی او) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر، قونصلر سارہ اسماعیل الشورا سے ایک مقتدر ملاقات کی، جس میں مسلم ممالک میں خواتین کے حقوق کے تحفظ اور ہراسیت کے خاتمے کے اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ فوزیہ وقار نے کانفرنس میں شریک نامور پارلیمانی رہنماؤں اور حقوقِ نسواں کی نمایاں شخصیات سے بھی اہم ملاقاتیں کیں، جن میں شائستہ پرویز ملک، صائرہ ترار، نزہت صادق، صبا صادق، ڈاکٹر نفیسہ شاہ اور مہناز عزیز شامل ہیں۔ ان مقتدر ملاقاتوں نے ادارہ جاتی تعاون، پالیسی مکالمے اور خواتین کے حقوق و تحفظِ کار کے حوالے سے علاقائی رابطہ کاری کو مضبوط بنانے کے لیے فوسپاہ کے غیر متزلزل عزم کی عکاسی کی ہے۔

کانفرنس کے دوران فوسپاہ کی ٹیم نے مارکیٹ پلیس میں ایک مخصوص انفارمیشن ڈیسک بھی قائم رکھا، جہاں مقامی و بین الاقوامی وفود، معززین اور شرکا سے اہم ملاقاتیں کی گئیں۔ اس معلوماتی ڈیسک پر ٹیم نے فوسپاہ کے دائرہ اختیار اور مینڈیٹ سے متعلق تفصیلی معلومات فراہم کیں اور رکن ممالک میں صنفی انصاف اور تحفظِ کار کے فروغ کے لیے پیشہ ورانہ مکالمے کو کامیابی سے آگے بڑھایا۔ مزید برآں، فوسپاہ کے اعلیٰ حکام نے او آئی سی سیکرٹریٹ کی خواتین ٹیم، مختلف او آئی سی اداروں کے نمائندوں اور رکن ممالک کے سرکاری وفود سے وسیع پیمانے پر تزویراتی بات چیت کی۔ ان مربوط کاوشوں نے اہم ادارہ جاتی روابط کو مزید مستحکم کیا ہے اور عالمِ اسلام میں خواتین کے سماجی، اقتصادی اور سیاسی حقوق کے فروغ سے متعلق اجتماعی عزم اور مکالمے کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

پاکستان میں ریبیز کے خاتمے کے لیے بڑا فیصلہ: وفاقی وزیر صحت نے قومی فریم ورک کی تیاری کی اصولی منظوری دے دی

کاشف عباسی , JULY 13,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے قومی صحت مصطفیٰ کمال سے دی انڈس ہاسپٹل اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) ڈاکٹر عبدالباری خان نے ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ اہم ملاقات کی ہے۔ اس مقتدر ملاقات کے دوران پاکستان میں ریبیز (الکَلَب/باؤلے کتے کے کاٹنے کی بیماری) کی روک تھام اور اس کے مؤثر کنٹرول کے لیے قومی سطح پر فوری و تزویراتی اقدامات اٹھانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ انڈس ہاسپٹل کے وفد نے وفاقی وزیر کو ملک میں ریبیز کی موجودہ تشویشناک صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں اس وقت ریبیز کی نگرانی کا کوئی مؤثر قومی نظام موجود نہیں ہے، تاہم دستیاب اندازوں کے مطابق ملک میں ہر سال تقریباً 5 ہزار افراد ریبیز کے باعث اپنی جان کی بازی ہار جاتے ہیں جبکہ لاکھوں افراد سالانہ کتوں کے کاٹنے کا شکار ہوتے ہیں، جن میں بچوں، دیہی علاقوں کے مکینوں اور شہری مضافات کی محروم آبادی کا تناسب سب سے زیادہ ہے۔

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پاکستان میں ریبیز کے بڑھتے ہوئے اس بوجھ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے “قومی ریبیز پریوینشن اینڈ کنٹرول فریم ورک” کی تیاری کی اصولی منظوری دے دی ہے۔ انہوں نے مقتدر حکام کو ہدایت کی کہ اس مقصد کے لیے ملک میں جلد از جلد ایک “نیشنل ٹیکنیکل ورکنگ ایڈوائزری گروپ” تشکیل دیا جائے جو اس قومی فریم ورک کو مرتب کرنے کی قیادت کرے گا۔ وزیر صحت نے واضح کیا کہ ریبیز ایک مکمل طور پر قابلِ تدارک بیماری ہے اور عوام کو اس کے خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک جامع ملک گیر آگاہی مہم کا آغاز کیا جائے گا۔ انہوں نے بالخصوص وزیراعلیٰ سندھ کی قیادت میں جاری صوبہ بھر کی انسدادِ ریبیز مہم کو سراہا اور اس سلسلے میں دی انڈس ہاسپٹل اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کی تکنیکی معاونت کو قابلِ قدر قرار دیا۔ مصطفیٰ کمال نے عزم کا اظہار کیا کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں اور تمام تکنیکی شراکت دار باہمی تعاون سے پاکستان میں ریبیز سے ہونے والی ان اموات کے خاتمے کے لیے مؤثر تزویراتی اقدامات کریں گے۔

اس موقر موقع پر ڈاکٹر عبدالباری خان نے وفاقی وزیر کو (2024)” کی دستاویز پیش کی جو انڈس ہاسپٹل نیٹ ورک کی تکنیکی معاونت سے تیار کی گئی ہے۔ ملاقات کے اختتام پر وفاقی وزیر صحت نے نامور ماہرِ صحت مرحومہ پروفیسر نسیم صلاح الدین کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور ان کے اہلِ خانہ سے تعزیت کی۔ انہوں نے کہا کہ پروفیسر نسیم صلاح الدین کی ریبیز کی روک تھام اور پاکستان میں عوامی صحت (پبلک ہیلتھ) کے فروغ کے لیے انجام دی جانے والی گراں قدر اور مقتدر خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری کی پاکستانی طالب علم جیانت کمار کو ہارورڈ بزنس مقابلے میں عالمی چیمپئن بننے پر مبارکباد

کاشف عباسی , JULY 13,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

خاتونِ اول اور رکن قومی اسمبلی آصفہ بھٹو زرداری نے پاکستانی طالب علم جیانت کمار کو ہارورڈ کرمسن بزنس مقابلے میں عالمی چیمپئن بننے کے مقتدر اعزاز پر دلی مبارکباد پیش کی ہے۔ پیر کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے ایک تزویراتی پیغام میں خاتونِ اول نے کہا کہ اس شاندار اور بے مثال کامیابی سے نوجوان طالب علم نے عالمی سطح پر پاکستان کا نام فخر سے روشن کر دیا ہے۔

موقر تفصیلات کے مطابق، کراچی گرامر اسکول سے تعلق رکھنے والے مقتدر طالب علم جیانت کمار نے ہارورڈ کرمسن بزنس مقابلے میں عالمی چیمپئن کا اعزاز حاصل کیا ہے، جو دنیا کے معتبر ترین پری کالج بزنس مقابلوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس مقتدر مقابلے کے ججز پینل میں فارچیون 500 کمپنیوں کے اعلیٰ ترین انتظامی عہدیداران اور کاروباری ماہرین شامل ہوتے ہیں۔ دنیا بھر سے ایک ہزار سے زائد ماہر ٹیموں کے درمیان ہونے والے اس سخت ترین مقابلے میں، جہاں زیادہ تر عالمی ٹیمیں چار اراکین پر مشتمل تھیں، جیانت کمار نے کسی ٹیم کے بغیر بالکل اکیلے شرکت کرتے ہوئے یہ نمایاں اور تاریخی کامیابی حاصل کی ہے۔ وہ اس عالمی مقابلے کے گلوبل فائنل کے لیے نہ صرف کوالیفائی کرنے والے بلکہ اسے جیتنے والے پہلے پاکستانی طالب علم بن گئے ہیں، جسے ملکی تاریخ میں پاکستان کے لیے ایک بہت بڑا اور تاریخی اعزاز قرار دیا جا رہا ہے۔

عدلیہ میں ڈیجیٹل انقلاب: سپریم کورٹ نے تمام زیر التوا مقدمات کا ریکارڈ کامیابی سے ڈیجیٹلائز کر دیا

منصور احمد, JULY 13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے عدالتی اور انتظامی امور میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے انصاف کی فراہمی کے نظام کو مزید موثر، شفاف اور عوام دوست بنانے کے لیے ڈیجیٹل تبدیلی کے پروگرام میں ایک تاریخی سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے تمام زیر التوا مقدمات کا ریکارڈ کامیابی سے ڈیجیٹلائز کر کے ایک جامع ڈیجیٹل عدالتی نظام کی بنیاد رکھ دی ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے پیر کے روز جاری کردہ مقتدر اعلامیے کے مطابق، عدالت نے 44 ہزار 995 زیر التوا مقدمات کی فائلیں سرچ ایبل او سی آر فارمیٹ میں سکین، بارکوڈ، ڈیجیٹل کیٹلاگ اور کیس انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم سے منسلک کر دی ہیں۔ اس تزویراتی عمل کے دوران معمول کی عدالتی کارروائیاں بھی بغیر کسی تعطل کے جاری رہیں اور ڈیجیٹلائز کیے گئے مقدمات میں سے 11 ہزار 999 مقدمات کے فیصلے بھی سنائے جا چکے ہیں۔

موقر اعلامیے کے مطابق، سپریم کورٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ تمام زیر التوا مقدمات کو معزز ججوں کی کمیٹی کے تیار کردہ منظم فریم ورک کے تحت دائرہ اختیار اور نوعیت کے مطابق درجہ بندی بھی مکمل کر لی گئی ہے۔ اس مقصد کے لیے قائم خصوصی کیٹیگرائزیشن سیل نے تمام مقدمات کی منظم درجہ بندی کی جس سے مقدمات کے موثر انتظام، اعداد و شمار پر مبنی منصوبہ بندی، بہتر سماعتی شیڈول اور عدالتی وسائل کی ترجیحی بنیادوں پر تقسیم ممکن ہو سکے گی۔ عدالتی ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن کے ساتھ ساتھ متعدد جدید ڈیجیٹل سہولیات بھی متعارف کرائی گئی ہیں جن میں ای فائلنگ، کیو آر کوڈ سے تصدیق شدہ مصدقہ نقول، عدالتی خدمات کے لیے آن لائن درخواستیں، وکلاء کی ڈیجیٹل انرولمنٹ، ون لنک اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعے عدالتی فیس کی الیکٹرانک ادائیگی، ویڈیو لنک کے ذریعے سماعتیں اور پبلک فیسیلی ٹیشن سینٹر کے تحت ایک مربوط آن لائن پلیٹ فارم پر 35 عوامی خدمات کی فراہمی شامل ہے۔

علاوہ ازیں، سپریم کورٹ کے انتظامی امور کو بھی حکومت کے ای آفس پلیٹ فارم پر منتقل کر دیا گیا ہے جس سے سرکاری کارروائی کاغذ سے پاک (پیپر لیس) نظام کے تحت انجام دی جا رہی ہے، جس سے انتظامی کارکردگی، شفافیت اور جوابدہی میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔ سپریم کورٹ کے مطابق یہ مقتدر اصلاحات روایتی کاغذی نظام سے مکمل ڈیجیٹل عدالتی نظام کی جانب ایک بنیادی تبدیلی کی عکاس ہیں جس سے مقدمات کے موثر انتظام، اعداد و شمار پر مبنی فیصلوں اور شہریوں کو بہتر عدالتی خدمات کی فراہمی ممکن ہوگی۔ اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ عدالت مستقبل میں خودکار کیس مینجمنٹ، عدالتی تجزیاتی نظام اور نئی ٹیکنالوجیز کے ذمہ دارانہ استعمال کے ذریعے انصاف کی فراہمی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

آبنائے ہرمز بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے ایک اہم ترین آبی گزرگاہ ہے؛ محفوظ اور آزاد آمد و رفت کی بحالی تمام فریقین کے مفاد میں ہے

محمود احمد, JULY 13,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

چین نے عالمی سطح پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تزویراتی معاملے کو مناسب اور ذمہ دارانہ طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔ چینی میڈیا گروپ سی جے ٹی این کے مطابق، یہ بات چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لِین جیان نے پیر کے روز بیجنگ میں منعقدہ یومیہ پریس کانفرنس کے دوران کہی۔ انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز ایک انتہائی اہم عالمی آبی گزرگاہ ہے جسے بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے، اس لیے اس حساس تجارتی گزرگاہ سے محفوظ اور آزاد آمد و رفت کی جلد بحالی تمام متعلقہ فریقین کے بہترین معاشی و تزویراتی مفاد میں ہے۔

چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق پیدا ہونے والے تمام معاملات کو انتہائی ذمہ دارانہ انداز میں حل کیا جانا چاہیے، جبکہ اس حوالے سے عالمی برادری کے وسیع تر خدشات کو بھی مناسب طریقے سے دور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے اس مقتدر عزم کا اظہار کیا کہ چین خطے کے امن اور سمندری تجارتی راستوں کے تحفظ کے لیے اس اہم معاملے پر متعلقہ ممالک اور عالمی برادری کے ساتھ قریبی و مسلسل تزویراتی رابطے برقرار رکھنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

چین کا خلائی مشن: چانگ ای-7 کے لیے لانگ مارچ-5 راکٹ خلائی مرکز پہنچ گیا

محمود احمد, JULY 13,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

چین کے اہم قمری تحقیقاتی مشن “چانگ ای-7” کے لیے تیار کیا گیا راکٹ “لانگ مارچ-5 وائی 14” ملک کے جنوبی صوبے ہائنان میں واقع وین چانگ خلائی لانچ مرکز پر پہنچا دیا گیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق، چین کی قومی خلائی انتظامیہ (سی این ایس اے) نے اس تزویراتی پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ راکٹ کو اب لانچنگ سائٹ پر پہلے سے موجود چانگ ای-7 قمری تحقیقاتی خلائی جہاز کے ساتھ جوڑنے کا عمل شروع کیا جائے گا، جس کے بعد اس خلائی مشن کی روانگی سے قبل مختلف تکنیکی آزمائشیں اور حتمی معائنے مکمل کیے جائیں گے۔

آسٹریلیا کے اسکول میں چاقو زنی کی لرزہ خیز واردات، ساتھی کو زخمی کرنے والا 15 سالہ طالب علم گرفتار

روزینہ اسماعیل, JULY 13,2026

کینبرا (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

آسٹریلیا کی ریاست کوئینزلینڈ میں ایک اسکول کے اندر مبینہ طور پر چاقو سے حملہ کر کے اپنے ہی ساتھی طالب علم کو شدید زخمی کرنے والے 15 سالہ لڑکے کو پولیس نے تزویراتی کارروائی کرتے ہوئے گرفتار کر لیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق، ریاستی کوئینزلینڈ کی پولیس نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ افسوسناک واقعہ پیر کے روز کیرنز شہر کے ایک اسکول میں پیش آیا، جہاں دوپہر سے کچھ دیر قبل پولیس کو ہنگامی اطلاع موصول ہوئی کہ ایک 15 سالہ طالب علم کے پیٹ پر اسکول کے اندر ہی چاقو سے وار کیا گیا ہے۔

موقر تفصیلات کے مطابق، زخمی ہونے والے طالب علم کو حملے کے فوری بعد طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں کے مطابق اس کی حالت اب مکمل طور پر خطرے سے باہر بتائی گئی ہے۔ ہولناک واقعے کے بعد مبینہ حملہ آور طالب علم، جس کی عمر بھی 15 سال ہے، جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا، تاہم پولیس نے تندہی سے تعاقب کرتے ہوئے واردات کے تقریباً 30 منٹ بعد ہی اسے قریبی علاقے سے دھر دبوچا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار لڑکے کو حراست میں لے کر تفتیش کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے، جبکہ علاقے میں امن و امان کی صورتحال قابو میں ہے اور عوام کے لیے اب کسی قسم کے مزید خطرے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

وفاقی آئینی عدالت کا بڑا فیصلہ: سپریم کورٹ کا مونال ریسٹورنٹ ختم کرنے کا حکم کالعدم قرار

منصور احمد, JULY 13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

وفاقی آئینی عدالت نے ایک بڑا تزویراتی فیصلہ سناتے ہوئے جون 2024ء میں سپریم کورٹ کی جانب سے اسلام آباد کے مشہورِ زمانہ ‘مونال ریسٹورنٹ’ کو ختم کرنے کا دیا گیا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔ آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کے دو سال پرانے فیصلے کو برقرار رکھنے والے حکمِ امتناعی کو باقاعدہ ختم کرتے ہوئے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور میٹرو پولیٹن کارپوریشن کی اپیلیں منظور کر لی ہیں۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 11 جون 2024ء کو مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں واقع مونال سمیت تمام ریستورانوں کو تین ماہ کے اندر مکمل طور پر بند اور ختم کرنے کا حکم دیا تھا، جس کے بعد ستمبر 2024ء میں مونال ریسٹورنٹ کو باقاعدہ ختم کر دیا گیا تھا۔

کیس کی سماعت کے دوران وفاقی آئینی عدالت کے مقتدر جج جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے میں بہت سے اہم قانونی نکات کو مدِنظر نہیں رکھا گیا تھا۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ جب انہوں نے سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھا تو انہیں اندازہ ہوا کہ اس میں بہت کچھ ایسا لکھا گیا جو عدالتی کارروائی کا حصہ ہی نہیں تھا، اور فیصلے میں وہ باتیں شامل کی گئیں جن کا اصل واقعاتی فسانہ میں کوئی ذکر تک نہ تھا۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے مقتدر لہجے میں واضح کیا کہ عدالت کوئی جذباتی فیصلہ نہیں کرے گی اور ہم اپنے فیصلے میں الف لیلیٰ کی کہانیاں تحریر نہیں کریں گے۔ دورانِ سماعت جب وکیل احسن بھون نے آئینی عدالت کے ریمارکس پر تعریف کرنا چاہی تو جسٹس حسن اظہر رضوی نے انہیں ٹوکتے ہوئے کہا کہ عدالت میں ہماری تعریفیں نہ کی جائیں، جو باقاعدہ سماعت ہوئی ہے اسی کے مطابق میرٹ پر حکم جاری کیا جائے گا۔

اسلام آباد ٹریفک پولیس نے موبائل فیسلی ٹیشن وینز اور پولیس اسٹیشن آن وہیلز کا نیا ہفتہ وار شیڈول جاری کر دیا

کاشف عباسی , JULY 12,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 12 جولائی 2026ء

اسلام آباد ٹریفک پولیس (آئی ٹی پی) نے 13 سے 19 جولائی تک موبائل فیسلی ٹیشن وینز اور پولیس اسٹیشن آن وہیلز کا نیا ہفتہ وار شیڈول جاری کر دیا ہے، جس کے ذریعے وفاقی دارالحکومت کے مختلف مقامات پر شہری پولیس اور ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق تمام بنیادی خدمات حاصل کر سکیں گے۔ آئی ٹی پی کے ترجمان نے اتوار کے روز موقر تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ یہ تمام فیسلی ٹیشن یونٹس روزانہ صبح 8:30 بجے سے شام 4:30 بجے تک مقررہ مقامات پر دستیاب رہیں گے اور ان موبائل یونٹس کے ذریعے شہریوں کو لرنر ڈرائیونگ پرمٹ کا اجراء، ڈرائیونگ لائسنس کی تجدید، ڈپلیکیٹ ڈرائیونگ لائسنس، پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ اور گمشدہ دستاویزات کی رپورٹس کے اندراج جیسی اہم خدمات فراہم کی جائیں گی۔

جاری کردہ باقاعدہ شیڈول کے تحت پیر 13 جولائی کو ہاسٹل سٹی پارک روڈ، ترامڑی چوک، میڈیا ٹاؤن اور ٹریفک آفس فیض آباد میں خدمات دستیاب ہوں گی، جبکہ منگل 14 جولائی کو جی نائن مرکز، نیول ہیڈ کوارٹرز ای ایٹ اور بحریہ ٹاؤن فیز ٹو میں وینز موجود رہیں گی۔ اسی طرح بدھ 15 جولائی کو ای الیون مرکز، اسلام آباد چیمبر آف کامرس جی ایٹ، ڈی ایچ اے فیز ٹو اور ٹریفک آفس فیض آباد جبکہ جمعرات 16 جولائی کو کری روڈ ایکسپریس وے، پی ڈبلیو ڈی تندوری ریسٹورنٹ، کیبنٹ بلاک پاک سیکریٹریٹ اور فارن آفس میں یہ سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ جمعہ 17 جولائی کو جی ایٹ مرکز، جی الیون ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن، پی ڈبلیو ڈی ایکسپریس وے اور ٹریفک آفس فیض آباد جبکہ ہفتہ 18 جولائی کو رحمان انکلیو لہتراڑ روڈ، آبپارہ مارکیٹ، آئی ایٹ مرکز اور راول ٹاؤن میں فیسلی ٹیشن پوائنٹس قائم ہوں گے، اور اتوار 19 جولائی کو ایف نائن پارک، ٹریفک آفس راول ٹاؤن، پولیس لائنز ایچ الیون اور اسلام آباد کلب میں وینز موجود رہیں گی۔ ٹریفک پولیس حکام نے شہریوں سے مقتدر اپیل کی ہے کہ وہ اپنے قریبی فیسلی ٹیشن پوائنٹ سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور کسی بھی قسم کی رہنمائی یا مزید معلومات کے لیے آئی ٹی پی کی ہیلپ لائن 1915 پر رابطہ کریں۔

او آئی سی کی نویں خواتین وزارتی کانفرنس اسلام آباد میں شروع، پاکستان آئندہ دو سال کے لیے چیئرمین شپ سنبھالے گا

روزینہ اسماعیل, JULY 12,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 12 جولائی 2026ء

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی نویں خواتین وزارتی کانفرنس اتوار کے روز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تکنیکی سطح کے اجلاسوں کے آغاز کے ساتھ شروع ہو گئی ہے۔ اس دو روزہ موقر کانفرنس میں او آئی سی کے 57 رکن ممالک سے تقریباً 190 اہم نمائندے شریک ہیں، جن میں وزراء، اعلیٰ حکومتی افسران اور سفارت کار شامل ہیں۔ کانفرنس کے دوران مسلم امہ میں خواتین کی سماجی، معاشی اور سیاسی شرکت کو بڑھانے اور رکن ممالک کے درمیان باہمی تعاون کو مضبوط کرنے کے تزویراتی طریقوں پر تفصیلی مباحثہ کیا جائے گا۔

موقر تفصیلات کے مطابق، یہ کانفرنس “او آئی سی ممالک میں خواتین کی سماجی، معاشی اور سیاسی بااختیار سازی: چیلنجز اور آگے کا راستہ” کے اہم موضوع پر منعقد ہو رہی ہے۔ کانفرنس کا بنیادی فوکس خواتین کی تعلیم، صحت، روزگار، انٹرپرینیورشپ، مالیاتی خدمات، ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل مواقع تک رسائی کو وسعت دینے کے ساتھ ساتھ عوامی زندگی میں ان کی مکمل شرکت کی راہ میں حائل تزویراتی رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔ افتتاحی دن تکنیکی ماہرین اور اعلیٰ افسران کے تیاری کے سیشنز منعقد ہو رہے ہیں تاکہ پیر کے روز ہونے والے وزرا اجلاس کے لیے سفارشات کو حتمی شکل دی جا سکے۔

وزیر اعظم شہباز شریف پیر کے روز وزارتی سیشن کا باقاعدہ افتتاح کریں گے، جس کے ساتھ ہی پاکستان آئندہ دو سال کے لیے مصر سے او آئی سی خواتین وزارتی کانفرنس کی چیئرمین شپ باقاعدہ طور پر سنبھال لے گا۔ کانفرنس سے متعدد اعلیٰ پاکستانی رہنما خطاب کریں گے، جن میں پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف، وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن شیزہ فاطمہ خواجہ، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ اور قومی اسمبلی کی اراکین وجیہہ قمر اور صبا صادق شامل ہیں۔ یہ رہنما پاکستان کی خواتین کو بااختیار بنانے، تعلیم، معاشی شمولیت اور قیادت کو فروغ دینے کے لیے حکومتی اقدامات کو عالمی سطح پر اجاگر کریں گے۔ کانفرنس کا اختتام ’’اسلام آباد اعلامیہ‘‘ کی منظوری کے ساتھ متوقع ہے، جس میں مسلم ممالک میں خواتین کی پائیدار ترقی کے لیے ایک مشترکہ فریم ورک پیش کیا جائے گا۔

راولپنڈی، گجرات اور سیالکوٹ سمیت مختلف شہروں میں موسلا دھار برسات؛ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر انتظامیہ متحرک، شہریوں کو محتاط رہنے کی اپیل

روزینہ اسماعیل, JULY 12,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 12 جولائی 2026ء

پنجاب کے مختلف اضلاع میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مون سون بارشوں کا سلسلہ تواتر کے ساتھ جاری رہا، جس میں سب سے زیادہ 51 ملی میٹر بارش نارووال میں ریکارڈ کی گئی ہے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی جانب سے جاری کردہ مقتدر رپورٹ کے مطابق، حالیہ بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی اور نچلے علاقوں میں پانی جمع ہونے کے خدشات کے پیشِ نظر تمام متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

پی ڈی ایم اے کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق، گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران راولپنڈی کے مختلف مقتدر علاقوں میں بھی بادل جم کر برسے، جہاں گوالمنڈی میں 36 ملی میٹر، نیو کٹاریاں میں 35 ملی میٹر، شمس آباد میں 23 ملی میٹر، کچہری میں 21 ملی میٹر اور پیرودھائی میں 19 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ اس کے علاوہ گجرات میں 28 ملی میٹر، سیالکوٹ میں 24 ملی میٹر، مری اور اٹک میں 19، 19 ملی میٹر، چکوال میں 4 ملی میٹر، جبکہ صوبائی دارالحکومت لاہور میں 3 ملی میٹر اور منڈی بہاؤالدین میں 2 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے نے اس تزویراتی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی خصوصی اور مقتدر ہدایات کے پیشِ نظر صوبے بھر کے کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز (ڈیسیوز) اور واسا سمیت تمام متعلقہ نکاسیٔ آب کے اداروں کو فیلڈ میں الرٹ رہنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری نمٹا جا سکے۔ انہوں نے شہریوں سے بھی مقتدر اپیل کی ہے کہ وہ آسمانی بجلی کی گرج چمک اور تیز طوفان کے دوران محفوظ مقامات پر رہیں، بجلی کے کھمبوں سے دور رہیں اور کسی بھی ہنگامی تزویراتی صورتحال کی صورت میں پی ڈی ایم اے کی آفیشل ہیلپ لائن 1129 پر فوری کال کریں۔

پاک فوج، ایف سی اور پولیس کی ہوائی و زمینی کارروائیاں؛ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں ہلاک خوارج کی مجموعی تعداد 105 تک پہنچ گئی

منصور احمد, JULY 12,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 12 جولائی 2026ء

بلوچستان میں امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کے جڑ سے خاتمے کے لیے پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور پولیس کا مشترکہ تزویراتی ’’آپریشن شعبان‘‘ پوری قوت کے ساتھ جاری ہے۔ سکیورٹی فورسز کی جانب سے فتنہ الخوارج کے خلاف کی جانے والی تازہ ہوائی اور زمینی کارروائیوں کے دوران مزید 3 خارجی دہشت گردوں کو کامیابی سے جہنم واصل کر دیا گیا ہے۔ معتبر سکیورٹی ذرائع کے مطابق، ان تازہ ترین کارروائیوں کے بعد اتوار کے روز تک صرف ‘آپریشن شعبان’ کے تحت ہلاک ہونے والے خوارج کی مجموعی تعداد 67 ہو چکی ہے۔

سکیورٹی ذرائع کی جانب سے فراہم کردہ مقتدر تفصیلات کے مطابق، 5 جولائی سے اب تک صوبے کے مختلف حصوں میں جاری آپریشن شعبان اور دیگر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں مجموعی طور پر فتنہ الخوارج کے 105 خارجی دہشت گرد جہنم واصل کیے جا چکے ہیں۔ سکیورٹی حکام نے عزمِ صمیم کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بلوچستان کی دھرتی سے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے سکیورٹی فورسز کی یہ مربوط کارروائیاں بلا مقتدر تعطل جاری رہیں گی اور صوبے میں آخری دہشت گرد کے مکمل خاتمے تک آپریشن شعبان پوری تزویراتی قوت کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔

فیفا ورلڈ کپ: سوئس دیوار پاش پاش، دفاعی چیمپئن ارجنٹینا نے سوئٹزرلینڈ کو اعصاب شکن مقابلے کے بعد ہرا کر سیمی فائنل کا ٹکٹ کٹا لیا

محمود احمد, JULY 12,2026

کینساس سٹی (نیوز اینڈ نیوز) — 12 جولائی 2026ء

دفاعی عالمی چیمپئن ارجنٹینا نے فٹ بال ورلڈ کپ 2026 کے ایک انتہائی سنسنی خیز، اعصاب شکن اور ڈرامائی کوارٹر فائنل مقابلے میں سخت مزاحمت کرنے والی سوئٹزرلینڈ کی ٹیم کو اضافی وقت میں 1-3 سے شکست دے کر مسلسل دوسری مرتبہ فیفا ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں رسائی حاصل کر لی ہے۔ کینساس سٹی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس ہائی وولٹیج مقتدر مقابلے میں مقررہ 90 منٹ تک دونوں ٹیمیں 1-1 سے برابر رہیں، تاہم سوئس اسٹرائیکر کو ملنے والے ریڈ کارڈ اور اضافی وقت میں ارجنٹائن کے شاندار حملوں نے میچ کا پاسا پلٹ دیا۔ سیمی فائنل میں اب ارجنٹینا کا تزویراتی ٹکراؤ روایتی حریف انگلینڈ سے ہوگا، جبکہ پہلے سیمی فائنل میں فرانس اور اسپین کی مقتدر ٹیمیں آمنے سامنے ہوں گی۔

پہلا ہاف: الیکسس میک ایلسٹر کا شاندار آغاز میچ کا آغاز ہوتے ہی دفاعی چیمپئن ارجنٹینا نے اپنے روایتی تزویراتی انداز میں جارحانہ کھیل پیش کیا۔ میچ کے محض 10ویں منٹ میں ارجنٹائن کے کپتان اور لیجنڈ فٹ بالر لیونل میسی نے ایک بہترین کارنر کک لی، جس پر الیکسس میک ایلسٹر نے ہوا میں اچھلتے ہوئے شاندار ہیڈر کے ذریعے گیند کو سوئس جال کی راہ دکھا کر اپنی ٹیم کو 0-1 کی مقتدر برتری دلا دی۔ اس ابتدائی دھچکے کے بعد بھی ارجنٹائن نے دباؤ برقرار رکھا، تاہم سوئٹزرلینڈ کے مقتدر گول کیپر گریگور کوبل چٹان بن گئے اور انہوں نے ارجنٹائن کے کئی یقینی گولز کے حملوں کو ناکام بنا کر پہلے ہاف میں اسکور مزید بڑھنے نہ دیا۔

دوسرا ہاف: سوئٹزرلینڈ کا کم بیک اور کارڈز کی برسات دوسرے ہاف میں سوئس ٹیم نے حکمتِ عملی تبدیل کی اور ارجنٹائن کے دفاع پر جوابی حملے شروع کیے۔ میچ کے 67ویں منٹ میں ریکارڈو روڈریگیز کے ایک پکے ہوئے پاس پر ڈین نڈوئے نے کوئی غلطی نہ کی اور گیند کو گول پوسٹ میں ڈال کر مقابلہ 1-1 سے برابر کر دیا۔ اس گول کے بعد کھیل میں تپش بڑھ گئی اور دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کے درمیان میدان میں شدید جسمانی ٹکراؤ دیکھنے کو ملا۔ ریفری کو کھیل پر کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے متعدد مرتبہ کارڈز کا استعمال کرنا پڑا۔ میچ کے دوران سخت ٹیکلز اور فاؤلز پر ارجنٹائن اور سوئٹزرلینڈ کے متعدد کھلاڑیوں کو تادیبی کارروائی کے طور پر ییلو کارڈز (انتباہی کارڈ) دکھائے گئے۔

میچ کا سب سے متنازع لمحہ: بریل ایمبولو کا اخراج میچ کا سب سے بڑا تزویراتی موڑ اس وقت آیا جب سوئٹزرلینڈ کے اسٹار اسٹرائیکر بریل ایمبولو کو ڈیفنس ایریا میں ڈائیونگ کرنے پر ریفری نے دوسرا ییلو کارڈ دکھا دیا۔ چونکہ انہیں میچ میں پہلے بھی ایک ییلو کارڈ مل چکا تھا، اس لیے دوسرے ییلو کارڈ کے فوری بعد ریفری نے انہیں ریڈ کارڈ دکھا کر میدان سے باہر بھیج دیا۔ وی اے آر کے جائزے کے بعد بھی اس فیصلے کو برقرار رکھا گیا، جس پر سوئس کھلاڑیوں اور ان کے ہیڈ کوچ نے شدید مقتدر احتجاج کیا۔ اس ریڈ کارڈ کے باعث سوئٹزرلینڈ کی ٹیم میچ کے نازک ترین موڑ پر صرف 10 کھلاڑیوں تک محدود ہو گئی اور یہی چیز ان کی شکست کی سب سے بڑی وجہ بنی۔

اضافی وقت: جولیان الواریز اور لاوتارو مارٹینیز کا فیصلہ کن وار مقررہ 90 منٹ تک اسکور 1-1 رہنے کے بعد میچ اضافی وقت میں داخل ہوا۔ ایک کھلاڑی کی برتری کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ارجنٹینا نے تزویراتی حملے تیز کیے۔ میچ کے 112ویں منٹ میں جولیان الواریز نے ڈی باکس کے باہر سے ایک ناقابلِ یقین لانگ رینج شاٹ مارا، جو سوئس گول کیپر گریگور کوبل کو چھکاتے ہوئے سیدھا نیٹ میں جا گھسا اور ارجنٹینا کو 1-2 کی برتری مل گئی۔ سوئٹزرلینڈ نے 10 کھلاڑیوں کے باوجود آخری لمحات میں برابری کے لیے پورا زور لگا دیا، لیکن میچ کے بالکل آخری لمحات (120+ منٹ) میں لاوتارو مارٹینیز نے ایک شاندار کاؤنٹر اٹیک پر ارجنٹائن کی جانب سے تیسرا گول اسکور کر کے سوئٹزرلینڈ کا عالمی کپ کا سفر تمام کر دیا اور ارجنٹینا کی 1-3 سے فتح پر مہر ثبت کر دی۔