نایاب ترین قسم کے پھیلاؤ کے لیے تاحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا علاج دستیاب نہیں؛ ہلاکتیں 754 تک پہنچ گئیں، عالمی ادارہ صحت کی تشویشناک رپورٹ

روزینہ اسماعیل, JULY 15,2026

کنشاسا (نیوز اینڈ نیوز) — 15 جولائی 2026ء

عالمی ادارہ صحت نے ہنگامی انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمہوریہ کانگو کے مشرقی علاقوں میں مہلک ایبولا وائرس کے 80 فیصد نئے کیسز ایسے پراسرار ذرائع سے سامنے آ رہے ہیں جن کی منتقلی کا سلسلہ معلوم کرنا تاحال ممکن نہیں ہو سکا۔ مقتدر طبی ماہرین کے مطابق، یہ تشویشناک صورتحال اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ مہلک ترین بیماری صحت کے حکام کی نگرانی اور رسائی سے کہیں زیادہ تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے، جو خطے کے لیے ایک بڑے انسانی المیے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔

اماراتی نیوز ایجنسی ‘وام’ کے مطابق، عالمی ادارہ صحت نے تزویراتی تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ جمہوریہ کانگو میں گزشتہ مئی سے ایبولا وائرس کی ایک انتہائی نایاب اور خطرناک قسم کی وبا پھیلی ہوئی ہے، جس کے تدارک کے لیے فی الحال دنیا میں کوئی بھی منظور شدہ سائنسی علاج یا ویکسین دستیاب نہیں ہے۔ افریقہ سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن نے بھی اس بحران کی سنگینی کی تصدیق کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ اب تک افریقی براعظم میں ریکارڈ کی جانے والی ایبولا کی تیز ترین اور بدترین ترین وبا بن چکی ہے۔

سرکاری سطح پر جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، کانگو میں اب تک ایبولا کے تصدیق شدہ کیسز کی مجموعی تعداد بڑھ کر 2,011 ہو چکی ہے، جبکہ اس موذی وائرس کے باعث اب تک 754 افراد اپنی قیمتی جانیں ہار چکے ہیں۔ ملک کے قومی ادارہ صحت نے اپنی تازہ ترین مقتدر رپورٹ میں تشویشناک انکشاف کیا ہے کہ صرف پیر کے روز اتوری ، شمالی کیوو اور اوت-اوئیلے کے صوبوں میں مزید 54 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جس نے مقامی طبی نظام کی کمزوریوں اور اس وبا کی ہولناکی کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

جنرل اسمبلی کے خصوصی اجلاس سے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد کا خطاب؛ سلامتی کونسل کی مستقل نشستوں میں اضافے کی مخالفت، عالمی مالیاتی نظام میں فوری اصلاحات پر زور

محمود احمد, JULY 15,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 15 جولائی 2026ء

پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ موجودہ اور ابھرتے ہوئے عالمی چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنے کا واحد راستہ کثیرالجہتی نظام کو مضبوط بنانا ہے۔ اس مقصد کے لیے پاکستان نے ایک ایسے مؤثر، نمائندہ، جمہوری، جوابدہ اور منصفانہ عالمی نظام اور اداروں کی تشکیل پر زور دیا ہے جو دنیا کے معاشی و سلامتی کے مسائل کا پائیدار حل فراہم کر سکیں۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے غیر رسمی اجلاس بعنوان “پیکٹ فار دی فیوچر کا جائزہ: مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کثیرالجہتی نظام” سے خطاب کرتے ہوئے، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے ‘پیکٹ فار دی فیوچر’ کے تحت کیے گئے عالمی وعدوں پر ان کی روح کے مطابق عمل درآمد کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے مقتدر خطاب میں واضح کیا کہ ایک فعال اور مضبوط جنرل اسمبلی ہی دراصل ایک مؤثر اقوامِ متحدہ کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت بین الاقوامی امن و سلامتی کے فروغ میں جنرل اسمبلی کے کلیدی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کے ساتھ ساتھ جنرل اسمبلی کو مصنوعی ذہانت ، خلائی سرگرمیوں اور عالمی مشترکہ وسائل جیسے جدید ترین اور ابھرتے ہوئے عالمی چیلنجز سے نمٹنے میں بھی مرکزی اور تزویراتی کردار ادا کرنا چاہیے۔

بین الاقوامی مالیاتی نظام میں اصلاحات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مستقل مندوب نے ایک منصفانہ اور جمہوری عالمی اقتصادی نظم و نسق کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ترقی پذیر ممالک کے لیے رعایتی مالی وسائل تک آسان رسائی، قرضوں کے بوجھ میں بامعنی ریلیف اور عالمی برادری کے کیے گئے وعدوں پر مؤثر عمل درآمد کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے ‘بورورز پلیٹ فارم’ کے قیام میں پاکستان کی بطور نائب چیئرمین خدمات کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے بین الاقوامی اقتصادی تعاون اور ہم آہنگی کے فروغ میں ای سی او ایس او سی کے چارٹر کے تحت حاصل اختیارات سے بھرپور استفادہ کرنے پر زور دیا۔

سلامتی کونسل میں اصلاحات کے حساس معاملے پر سفیر عاصم افتخار احمد نے پاکستان کے اصولی اور روایتی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ کونسل کو زیادہ نمائندہ، جمہوری، شفاف، جوابدہ اور مؤثر بنانے کے لیے جامع اصلاحات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ مستقل نشستوں میں اضافہ نہ تو سلامتی کونسل کو درپیش بنیادی مسائل کا حل ہے اور نہ ہی اسے اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک کی وسیع حمایت حاصل ہو سکتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اصلاحات کا مقصد بالخصوص ترقی پذیر اور چھوٹے ممالک سمیت پوری رکنیت کے اجتماعی مفادات کی بہتر عکاسی ہونا چاہیے، اور اس سلسلے میں بین الحکومتی مذاکرات ہی مناسب اور متفقہ فورم ہے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ اصل کامیابی کا معیار یہ ہوگا کہ آیا اقوامِ متحدہ کے ادارے مستقبل میں واقعی زیادہ نمائندہ، جوابدہ اور منصفانہ بن کر تمام رکن ممالک کی ضروریات پر پورا اترتے ہیں یا نہیں۔

اقوامِ متحدہ میں مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد کا سلامتی کونسل سے مقتدر خطاب؛ افریقہ کے ساتھ پاکستان کی ہمہ جہت شراکت داری اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جامع حکمتِ عملی پر زور

محمود احمد, JULY 15,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 15 جولائی 2026ء

پاکستان نے مغربی افریقہ اور ساحل خطے میں دیرپا امن، استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے اپنی مضبوط اور اصولی حمایت کا صریح اعادہ کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں مغربی افریقہ اور ساحل کے لیے اقوامِ متحدہ کے دفتر کی کارکردگی پر منعقدہ ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ خطے کو درپیش پیچیدہ سیاسی، سلامتی، انسانی اور سماجی و اقتصادی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قومی ملکیت، مضبوط علاقائی تعاون اور مستقل بین الاقوامی مالی و سیاسی حمایت ناگزیر ہے۔ انہوں نے یو این او واس کے خصوصی نمائندے کی جامع بریفنگ کی تعریف کی اور خطے میں احتیاطی سفارت کاری، جامع سیاسی مکالمے اور باہمی تعاون کے فروغ میں ادارے کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اس کے آئندہ آزادانہ اسٹریٹجک جائزے کا خیرمقدم کیا۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے خطے کے تمام ممالک کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل اور تاریخی عزم کو دہراتے ہوئے ریاستوں کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے بنیادی اصول پر سختی سے زور دیا۔ افریقہ کے ساتھ پاکستان کے گہرے تعلقات کا تزویراتی تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے فخر سے اجاگر کیا کہ پاکستانی امن دستوں نے پورے افریقی براعظم میں اقوامِ متحدہ کے پرچم تلے امن قائم کرنے اور امن کے استحکام کی مقتدر کوششوں میں ہمیشہ نمایاں اور امتیازی خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے کہا، “افریقہ کے ساتھ ہماری شراکت داری دیرینہ، مضبوط اور ہمہ جہت ہے اور پاکستان اس براعظم کی خوشحالی کو اپنی ترجیحات میں شامل سمجھتا ہے۔”

پاکستانی مستقل مندوب نے مغربی افریقہ اور ساحل کے علاقوں میں دہشت گردی اور پُرتشدد انتہا پسندی کے مسلسل بڑھتے ہوئے خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس لعنت کے مؤثر تدارک کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی سکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ محض عسکری کارروائیاں کافی نہیں، بلکہ اس مقصد کے لیے ایک ایسی جامع حکمتِ عملی درکار ہے جو مؤثر سکیورٹی اقدامات کے ساتھ ساتھ دہشت گردی اور انتہا پسندی کو جنم دینے والی بنیادی وجوہات اور معاشی محرومیوں کے خاتمے پر بھی یکساں توجہ دے۔ انہوں نے علاقائی تعاون کے فروغ کی اہمیت کے ضمن میں ایکوواس اور کنفیڈریشن آف ساحل اسٹیٹس کے درمیان جاری روابط کا خیرمقدم کیا اور باہمی اعتماد کی بحالی کے لیے مسلسل مکالمے کی حوصلہ افزائی کی۔

اپنے مقتدر خطاب کے آخر میں سفیر عاصم افتخار احمد نے امن، سلامتی اور پائیدار ترقی کے باہمی گہرے تعلق کو اجاگر کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خطے کو درپیش انسانی اور معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اپنی امداد اور سرمایہ کاری کی حمایت جاری رکھے، بالخصوص انسانی امدادی سرگرمیوں کے لیے درکار عالمی مالی وسائل کی مسلسل کمی کا فوری نوٹس لیا جائے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ “دیرپا امن اور سلامتی کا انحصار پائیدار ترقی، مضبوط اداروں اور نوجوانوں کے لیے بہتر معاشی مواقع کی فراہمی پر ہے”۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں امن، معاشی استحکام اور تعمیرِ نو کے فروغ کے لیے تمام مخلصانہ عالمی کوششوں کی حمایت جاری رکھنے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔

اب تک پھنس جانے والی 220 ڈولفنز کو کامیابی سے ریسکیو کیا جا چکا؛ جدید ایمبولینس 200 کلومیٹر کے علاقے میں خدمات انجام دے گی، وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک کا تقریب سے مقتدر خطاب

منصور احمد, JULY 14,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 14 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے انڈس بلائنڈ ڈولفن (اندھی ڈولفن) کی بقا اور تحفظ کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتوں سمیت تمام شراکت داروں کے مابین مربوط اور اجتماعی اقدامات پر زور دیا ہے۔ اسلام آباد میں ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایک مقتدر تقریب کے دوران انہوں نے جدید ترین ‘انڈس ڈولفن ریسکیو ایمبولینس’ کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ معدومیت کے شدید خطرے سے دوچار اس نایاب نسل کو بچانے کے لیے وفاقی حکومت، حکومتِ سندھ، حکومتِ پنجاب اور ڈبلیو ڈبلیو ایف نے مل کر غیر معمولی کام کیا ہے، جس کی بدولت اب تک دریا کے مختلف حصوں میں پھنس جانے والی 220 نایاب ڈولفنز کو کامیابی سے ریسکیو کیا جا چکا ہے۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے انڈس بلائنڈ ڈولفن کی تاریخی و ماحولیاتی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ منفرد آبی حیات دریائے سندھ کی قدیم ترین تاریخ کا حصہ ہے، جو یہاں آباد ہونے والی انسانی تہذیبوں سے بھی پہلے سے اس دریا کا مسکن ہے۔ انہوں نے اس غلط فہمی کو دور کیا کہ یہ ڈولفن کسی بیماری یا حادثے کی وجہ سے نابینا ہے، بلکہ قدرتی ارتقائی عمل کے تحت اس کی آنکھیں فعال نہیں ہیں اور یہ پانی میں راستہ تلاش کرنے اور شکار کرنے کے لیے آواز کی لہروں (ایکو لوکیشن) کا استعمال کرتی ہے۔ وفاقی وزیر نے اصرار کیا کہ یہ نایاب ڈولفن محض ایک جاندار نہیں بلکہ دریائے سندھ کے پورے ماحولیاتی نظام اور وادی سندھ کی عظیم تہذیبی وراثت کی ایک مقتدر علامت ہے۔

وفاقی وزیر نے ماضی کی سنگین صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ 1970ء کی دہائی میں انڈس ڈولفن کی تعداد تشویشناک حد تک کم ہو کر صرف 1200 کے لگ بھگ رہ گئی تھی، تاہم مشترکہ مہم اور بروقت تزویراتی فیصلوں نے اسے معدوم ہونے سے بچا لیا۔ انہوں نے چین کے دریائے یانگ زی کی ناپید ہو جانے والی ‘بائیجی ڈولفن’ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک نسل کو بچایا نہ جا سکا، مگر پاکستان نے اجتماعی عزم کا مظاہرہ کر کے اپنی نایاب ڈولفن کا تحفظ یقینی بنایا ہے۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے اعلان کیا کہ نو متعارف کرائی گئی جدید ریسکیو ایمبولینس دریائے سندھ کے تقریباً 200 کلومیٹر کے طویل ماحولیاتی علاقے میں چوبیس گھنٹے ہنگامی خدمات انجام دے گی، جبکہ اس پورے مشن میں دریا کے کناروں پر آباد 1500 سے زائد مقامی ماہی گیروں اور خاندانوں کو بھی شراکت دار بنایا جا رہا ہے۔

اپنے خطاب کے آخر میں ڈاکٹر مصدق ملک نے موسمیاتی تبدیلیوں کے شدید اثرات سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج، درجہ حرارت میں اضافہ اور گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا محض تقدیر کا فیصلہ نہیں بلکہ ہمارے اپنے فیصلوں کا نتیجہ ہیں، جس کی وجہ سے حالیہ برسوں کے تباہ کن سیلابوں میں 4 کروڑ سے زائد افراد متاثر اور ہزاروں لقمہ اجل بنے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ حکومت دریائے سندھ کو ‘لیونگ انڈس’ (زندہ دریائے سندھ) کے طور پر محفوظ رکھنے کے لیے پرعزم ہے اور عوام کو بھی اپنی قدرتی وراثت اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے اپنی اجتماعی ذمہ داریاں نبھانی ہوں گی۔

قومی ہاکی ٹیم کے ورلڈ کپ اسکواڈ کا انتخاب اب غیر ملکی کوچز کریں گے، پاکستان ہاکی فیڈریشن کا بڑا فیصلہ

منصور احمد, JULY 14,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 14 جولائی 2026ء

پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) نے ہاکی ورلڈ کپ کی تیاریوں کے سلسلے میں ایک انتہائی مقتدر اور تزویراتی فیصلہ کرتے ہوئے قومی ٹیم کے ورلڈ کپ اسکواڈ کے حتمی انتخاب کا تمام تر اختیار غیر ملکی کوچز کے سپرد کر دیا ہے۔ فیڈریشن نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ ورلڈ کپ جیسے بڑے اور معتبر عالمی ایونٹ کے لیے کھلاڑیوں کی فٹنس پر کسی بھی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق، غیر ملکی کوچز تربیتی کیمپ میں شریک تمام کھلاڑیوں کے سخت اور جدید فٹنس ٹیسٹ مکمل کرنے کے بعد ایک جامع تکنیکی رپورٹ مرتب کریں گے، اور اسی رپورٹ کی بنیاد پر موزوں ترین ورلڈ کپ اسکواڈ کا انتخاب عمل میں لایا جائے گا۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے مقتدر حکام کا مؤقف ہے کہ صرف وہی کھلاڑی قومی اسکواڈ کا حصہ بن پائیں گے جو مکمل طور پر فٹ ہوں گے اور غیر ملکی کوچز کے مقرر کردہ مطلوبہ جسمانی و تکنیکی معیار پر سو فیصد پورا اتریں گے۔

اس وقت اسلام آباد میں قومی ہاکی ٹیم کا اہم تربیتی کیمپ کامیابی سے جاری ہے، جہاں غیر ملکی کوچز روزانہ کی بنیاد پر دو سخت ترین سیشنز میں کھلاڑیوں کی فٹنس، تکنیک اور جسمانی استعداد کار کا تفصیلی اور مقتدر جائزہ لے رہے ہیں تاکہ ورلڈ کپ کے لیے ایک ناقابلِ شکست الیون تیار کی جا سکے۔

ملک کے بیشتر حصوں میں گرمی اور شدید حبس کا راج برقرار؛ آئندہ 24 گھنٹوں میں کشمیر، بالائی خیبرپختونخوا اور شمال مشرقی پنجاب میں بارش کا امکان

روزینہ اسماعیل, JULY 14,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 14 جولائی 2026ء

محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم شدید گرم اور حبس زدہ رہنے کی پیشگوئی کی ہے۔ تاہم، شام یا رات کے اوقات میں کشمیر، بالائی خیبرپختونخوا، شمال مشرقی پنجاب اور گلگت بلتستان میں چند مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ مقتدر موسمیاتی رپورٹ کے مطابق، موجودہ موسمی صورتحال کے پیشِ نظر بحیرۂ عرب سے مرطوب ہوائیں ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں داخل ہو رہی ہیں، جبکہ کمزور مغربی ہواؤں کا ایک سلسلہ ملک کے شمالی علاقوں پر موجود ہے۔ فی الوقت کسی قسم کا الرٹ یا انتباہ جاری نہیں کیا گیا ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے محکمہ موسمیات نے واضح کیا کہ ملک کے بیشتر حصوں میں موسم گرم اور مرطوب رہا، تاہم اسلام آباد، خطہ پوٹھوہار، جنوبی پنجاب، شمالی بلوچستان، بالائی خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں چند مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بادل برسے۔ گزشتہ روز سب سے زیادہ بارش پنجاب میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد (ایئرپورٹ 69 ملی میٹر) میں ریکارڈ کی گئی۔ اس کے علاوہ جوہرآباد میں 56، ملتان (ایئرپورٹ 49، سٹی 17)، قصور 40، سرگودھا سٹی 36، ڈیرہ غازی خان 20، کوٹ ادو 12، بہاولپور سٹی 03، منڈی بہاؤالدین 02، جبکہ چکوال، خانیوال اور بہاولپور ایئرپورٹ پر 01 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔ بلوچستان کے علاقے بارکھان میں 04، گلگت بلتستان کے علاقے گوپس میں 03، جبکہ خیبر پختونخوا کے تفریحی مقامات کالام اور کاکول میں 01 ملی میٹر بارش ہوئی۔

منگل کے روز ملک بھر میں ریکارڈ کیے گئے درجہ حرارت کے مطابق صوبہ بلوچستان کا شہر سبی 46 ڈگری سینٹی گریڈ کے ساتھ گرم ترین علاقہ رہا۔ اس کے علاوہ نوکنڈی اور دالبندین میں 44 ڈگری، جبکہ تربت، نور پور تھل، بھکر اور دادو میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 43 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ شہریوں کو شدید حبس اور گرمی کی لہر کے پیشِ نظر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور پانی کا استعمال زیادہ رکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔

51ویں بین الاقوامی سیرت النبی ﷺ کانفرنس آئندہ ماہ ربیع الاول میں شایانِ شان انداز میں منعقد کی جائے گی، وفاقی وزیر سردار محمد یوسف

منصور احمد, JULY 14,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 14 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف کی زیرِ صدارت منگل کے روز ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں 51ویں بین الاقوامی سیرت النبی ﷺ کانفرنس کی تیاریوں، انتظامات اور دیگر متعلقہ انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر سردار محمد یوسف نے اعلان کیا کہ آئندہ ماہِ ربیع الاول کے دوران 51ویں بین الاقوامی سیرت النبی ﷺ کانفرنس کا انعقاد انتہائی شایانِ شان اور مقتدر انداز میں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزارتِ مذہبی امور کو اس سال اس بابرکت کانفرنس کے انعقاد کا عظیم اعزاز حاصل ہو رہا ہے، جو نئی نسل کو اسلامی تعلیمات اور سیرتِ طیبہ ﷺ کی روشنی سے روشناس کرانے میں اہم ترین کردار ادا کرے گی۔

وفاقی وزیر نے تزویراتی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس مقتدر کانفرنس میں ملک بھر کے ممتاز و جید علماء کرام، مقتدر مذہبی شخصیات، محققین، سکالرز اور دنیا کے مختلف ممالک سے تشریف لانے والے معزز مندوبین شرکت کریں گے، جس سے بین الاقوامی سطح پر سیرت النبی ﷺ کے آفاقی پیغام کو فروغ ملے گا۔ اجلاس میں وزارتِ مذہبی امور کے ایڈیشنل سیکرٹری مرزا علی محسود سمیت دیگر اعلیٰ ترین مقتدر افسران نے بھی شرکت کی اور وفاقی وزیر کو کانفرنس کے سیکیورٹی اور انتظامی امور پر تفصیلی بریفنگ دی۔

دریں اثناء، وفاقی وزیرِ مذہبی امور سردار محمد یوسف نے حج 2027ء کی ڈیجیٹلائزیشن کے عمل پر مکمل اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اس ڈیجیٹل سسٹم کو عازمینِ حج کی سہولت کے لیے مزید مؤثر اور سہل بنایا جائے۔ انہوں نے لاہور حاجی کیمپ کی جاری تعمیراتی سرگرمیوں کو ہنگامی بنیادوں پر جلد از جلد مکمل کرنے پر بھی سخت زور دیا۔ مزید برآں، سردار محمد یوسف نے اسلام آباد حاجی کیمپ میں قائم قرآن ری سائیکلنگ پلانٹ کو مکمل طور پر فعال کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس حساس اور اہم ترین منصوبے کو فوری طور پر عملی طور پر مؤثر بنایا جائے تاکہ مقدس قرآنی اوراق کے شایانِ شان احترام کے ساتھ موزوں ترین سائنسی طریقے سے ری سائیکلنگ اور تلفی کو یقینی بنایا جا سکے۔

سعودی عرب پر حملے قابلِ مذمت اور علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی ہیں، وزیر اعظم محمد شہباز شریف کا سخت ردِعمل

کاشف عباسی , JULY 14,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 14 جولائی 2026ء

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے سعودی عرب پر کیے گئے حالیہ حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے برادر ملک کی سلامتی اور خودمختاری کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل اور تزویراتی حمایت کا صریح اعادہ کیا ہے۔ منگل کے روز سماجی رابطے کی مقتدر ویب سائٹ ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کردہ اپنے ایک خصوصی اور اہم بیان میں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان گزشتہ رات برادر ملک مملکتِ سعودی عرب پر کیے گئے صریح حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔

وزیر اعظم نے اپنے تزویراتی بیان میں واضح کیا کہ ایسے بزدلانہ اور قابلِ مذمت اقدامات مملکتِ سعودی عرب کی خودمختاری، خود مختار حیثیت اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں، اور ان سے خطے کے پہلے سے نازک امن و استحکام کو مزید شدید نقصان پہنچنے کا سنگین خدشہ ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان برادر ملک سعودی عرب کی سلامتی اور دفاع کے لیے اپنی اصولی اور غیر متزلزل حمایت کا عزم دہراتا ہے اور اس انتہائی نازک وقت میں اپنے سعودی بھائیوں کے ساتھ مکمل اور بے لوث یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے اپنے مقتدر پیغام کا اختتام کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ اور وسیع تر خطے میں امن، استحکام، دیرپا سلامتی اور باہمی افہام و تفہیم کے فروغ کے لیے کی جانے والی تمام مخلصانہ، تعمیری اور سفارتی کوششوں کی بھرپور مقتدر حمایت جاری رکھے گا، کیونکہ سعودی عرب کا امن درحقیقت پورے خطے کے امن و سلامتی سے جڑا ہوا ہے۔

وی اے آر کا متنازع استعمال اور جانبداری کے الزامات: فیفا ورلڈ کپ میں ریفرینگ پر بحران شدت اختیار کر گیا، سابق ریفری کرسٹینا انکل کے تحفظات

محمود احمد, JULY 14,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 14 جولائی 2026ء

فیفا ورلڈ کپ میں ریفری کے متنازع فیصلوں اور ویڈیو اسسٹنٹ ریفری (وی اے آر) کے غیر متوقع استعمال پر جاری عالمی تنازع نے ایک نیا تزویراتی موڑ اختیار کر لیا ہے، جہاں سابق نامور فیفا ریفری کرسٹینا انکل نے نئے ریفرینگ پروٹوکول پر اپنے گہرے اور مقتدر تحفظات کا اظہار کر دیا ہے۔ ارجنٹائن کی سیمی فائنل تک رسائی کے سفر کے دوران مختلف میچز میں ریفرینگ کے فیصلوں پر حریف ٹیموں اور ان کے مینیجرز نے شدید ترین اعتراضات اٹھائے ہیں، جس کے بعد سوشل میڈیا پر یہ تاثر بھی تیزی سے گردش کر رہا ہے کہ ٹورنامنٹ میں لیونل میسی کی ٹیم (ارجنٹائن) کو منظم طریقے سے فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔

موقر تفصیلات کے مطابق، کوارٹر فائنل کے ایک انتہائی اہم اور سنسنی خیز مقابلے میں سوئٹزرلینڈ کے مقتدر فارورڈ بریل ایمبولو کو مبینہ ڈائیونگ کی پاداش میں دوسرا پیلا کارڈ (یلو کارڈ) دکھا کر میدان سے باہر بھیجنے کے متنازع ترین فیصلے نے دنیا بھر کے ماہرین کو حیران کر دیا ہے۔ سوئس کوچ مرات یاکین نے اس فیصلے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے مکمل طور پر ‘ناقابلِ قبول’ قرار دیا ہے۔ اس حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے سابق ریفری کرسٹینا انکل نے واضح کیا کہ نئے وی اے آر پروٹوکول کے تحت فیلڈ ریفری کے بنیادی اور تزویراتی فیصلے تک تبدیل کیے جا رہے ہیں، جو کہ وی اے آر ٹیکنالوجی کے اصل مقصد اور حقیقی روح سے صریحاً انحراف ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس انتہائی پیچیدہ نظام کو مکمل اور جامع آزمائش (ٹرائل) کے بغیر ورلڈ کپ جیسے بڑے اسٹیج پر نافذ کرنے کی وجہ سے شائقینِ فٹ بال اور تجزیہ کاروں کے شکوک و شبہات میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ دوسری جانب، فیفا کے اعلیٰ حکام نے جانبداری اور ارجنٹائن کی حمایت کے تمام تر الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اپنے مقتدر ریفری سربراہ پیئرلوئیجی کولینا کے سابقہ پالیسی بیان کا حوالہ دیا ہے جس میں فیصلوں کی شفافیت پر زور دیا گیا تھا۔ کرسٹینا انکل کا ماننا ہے کہ اگرچہ ٹورنامنٹ کے بیشتر فیصلے تکنیکی طور پر درست محسوس ہوئے، تاہم حالیہ پے در پے تنازعات اور مختلف کھلاڑیوں کے خلاف اپنائی گئی متضاد سزاؤں کی روش نے فیفا کے پورے امپائرنگ نظام پر شائقین کا اعتماد بری طرح متاثر کیا ہے۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے عہدے کی امیدوار کی ملاقات، پاکستان کے امن کردار کو سراہا

کاشف عباسی , JULY 14,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 14 جولائی 2026ء

نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے معزز عہدے کی امیدوار مشیل باشلیٹ جیریا نے ایک اہم اور مقتدر ملاقات کی ہے۔ منگل کے روز وزارتِ خارجہ سے جاری کردہ تفصیلی بیان کے مطابق، ملاقات میں عالمی و علاقائی سلامتی، کثیر الجہتی تعاون اور اقوامِ متحدہ کے مستقبل کے ڈھانچے پر تزویراتی تبادلہ خیال کیا گیا۔

موقر ملاقات کے دوران نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اقوامِ متحدہ کے منشور کے مقاصد و اصولوں کے فروغ، بین الاقوامی قانون کی بالادستی اور بین الاقوامی معاہدوں کے احترام کے لیے پاکستان کے دیرینہ اور غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے عالمی ترقیاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں اقوامِ متحدہ کے کلیدی کردار پر زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ اس عالمی ادارے کو اب ترقی پذیر ممالک کی مخصوص ضروریات، معاشی مسائل اور ترجیحات کے مطابق خود کو مؤثر اور جوابدہ بنانا ہوگا۔

سینیٹر اسحاق ڈار نے پائیدار عالمی امن کے قیام کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر ان کی روح کے مطابق مکمل اور دیانتدارانہ عمل درآمد پر زور دیا، تاکہ دیرینہ بین الاقوامی تنازعات کا پُرامن حل نکالا جا سکے۔ انہوں نے عالمی رہنما کے سامنے بالخصوص جموں و کشمیر اور فلسطین کے دیرینہ مسائل کے منصفانہ، پائیدار اور فوری حل کی اہمیت کو مقتدر انداز میں اجاگر کیا۔

سیکرٹری جنرل کے عہدے کی امیدوار مشیل باشلیٹ جیریا نے خطے میں امن و استحکام کے پائیدار فروغ کے لیے پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششوں کو زبردست الفاظ میں سراہا۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے امن مشنز اور دیگر عالمی اقدامات کے لیے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران پاکستان کی گراں قدر خدمات، قربانیوں اور نمایاں ترین کردار کی بھرپور تعریف کی اور پائیدار ترقی کے لیے پاکستان کے عزم کو سراہا۔

پمز کارڈیک سینٹر کی اپ گریڈیشن اور پلسڈ فیلڈ ایبلیشن پروگرام کا آغاز؛ وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کا اہم فلاحی اقدامات کا اعلان

روزینہ اسماعیل, JULY 14,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 14 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے واضح کیا ہے کہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) ملک کا سب سے بڑا ریفرل ہسپتال ہے جہاں روزانہ 7 سے 9 ہزار مریض علاج کے لیے آتے ہیں، جبکہ مریضوں اور تیمارداروں کی مجموعی آمد و رفت روزانہ 30 سے 40 ہزار تک پہنچ جاتی ہے۔ منگل کے روز جاری کردہ ایک مقتدر بیان میں وفاقی وزیرِ صحت نے بڑے ہسپتالوں پر مریضوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنے کے لیے حکومتی حکمتِ عملی کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ وفاقی حکومت اسلام آباد میں 28 بنیادی مراکزِ صحت کو فعال اور جدید بنانے پر ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہی ہے تاکہ عام بیماریوں کا علاج مقامی سطح پر ہی ممکن بنایا جا سکے اور پمز جیسے بڑے طبی اداروں پر بوجھ کم ہو۔

سید مصطفیٰ کمال نے وفاقی دارالحکومت کے باسیوں اور ملک بھر سے آنے والے مریضوں کے لیے بڑی خوشخبری سناتے ہوئے بتایا کہ پمز میں پاکستان کے پہلے سرکاری شعبے کے مقتدر ‘پلسڈ فیلڈ ایبلیشن پروگرام’ اور پمز کارڈیک سینٹر کی اپ گریڈیشن کے پہلے مرحلے کی تعمیری تکمیل کر دی گئی ہے، جبکہ ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں مریضوں کی رہنمائی کے لیے ‘پیشنٹ فیسلیٹیشن اسسٹنٹ سروس’ کا بھی باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پمز کارڈیک سینٹر کی توسیع کے منصوبے پر 7.2 ارب روپے لاگت آئی ہے جبکہ مزید 90 کروڑ روپے کی خطیر سرمایہ کاری سے اسے دنیا کی جدید ترین کارڈیک ٹیکنالوجی سے آراستہ کیا گیا ہے جہاں غریب اور مستحق مریضوں کو بالکل مفت علاج فراہم کیا جائے گا۔

وفاقی وزیرِ صحت نے مزید بتایا کہ اس جدید پروگرام کے تحت دل کے امراض (دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی) میں مبتلا 4 مریضوں کا دنیا کی جدید ترین کیتھیٹر ایبلیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے کامیاب علاج مکمل کر لیا گیا ہے، جن میں اسلام آباد، آزاد کشمیر اور مردان سے تعلق رکھنے والے مستحق افراد شامل تھے۔ پمز کے طبی ماہرین کے مطابق، پلسڈ فیلڈ ایبلیشن روایتی ریڈیو فریکوئنسی اور کریو ایبلیشن کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ محفوظ، موثر اور تیز رفتار طریقہ علاج ہے، جس میں دل کے اردگرد کے صحت مند ٹشوز کو کم سے کم نقصان پہنچتا ہے، پیچیدگیوں کا خطرہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور مریض انتہائی جلد صحت یاب ہو کر اپنے گھر منتقل ہو جاتا ہے۔

بلوچستان میں فتنہ الخوارج کے خلاف گھیرا تنگ: پاک فوج، ایف سی اور پولیس کا مشترکہ ‘آپریشن شعبان’ کامیابی سے جاری

منصور احمد, JULY 14,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 14 جولائی 2026ء

سیکیورٹی فورسز کی جانب سے بلوچستان میں دہشتگردوں اور شر پسند عناصر کے خلاف مقتدر کارروائیوں کا سلسلہ مزید تیز کر دیا گیا ہے۔ پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور پولیس کے زیرِ اہتمام شروع کیا گیا مشترکہ ’’آپریشن شعبان‘‘ اور دیگر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کامیابی سے جاری ہیں، جن کے نتیجے میں 5 جولائی سے اب تک مجموعی طور پر 121 خارجی دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا جا چکا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، سیکیورٹی فورسز کی فتنہ الخوارج کے خلاف علاقے میں موثر اور مربوط کارروائیاں مسلسل جاری ہیں جن کا مقصد صوبے میں پائیدار امن کا قیام ہے۔

موقر تفصیلات کے مطابق، سیکیورٹی فورسز کی جانب سے خارجیوں کے ٹھکانوں کو جدید زمینی اور فضائی کارروائیوں کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کی بدولت دہشتگردوں کے نیٹ ورک کو بھاری اور ناقابلِ تلافی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ حالیہ موثر کارروائیوں کے دوران مزید 4 خارجی دہشتگردوں کے جہنم واصل ہونے کی مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس کے بعد صرف ’’آپریشن شعبان‘‘ کے تحت مارے جانے والے دہشتگردوں کی مجموعی تعداد 83 ہو گئی ہے، جبکہ دیگر انٹیلی جنس آپریشنز کو ملا کر یہ تعداد 121 تک پہنچ چکی ہے۔ سیکیورٹی ذرائع نے اس مقتدر عزم کا اعادہ کیا ہے کہ بلوچستان کی دھرتی سے آخری دہشتگرد کے مکمل خاتمے تک آپریشن شعبان بلا تعطل جاری رہے گا۔

وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال کی یو این ڈی پی کے ایڈمنسٹریٹر الیگزینڈر ڈی کرو سے نیویارک میں ملاقات

محمود احمد, JULY 14,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 14 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات، پروفیسر احسن اقبال نے نیویارک میں واقع یو این ڈی پی کے مرکزی ہیڈ کوارٹر میں یو این ڈی پی کے ایڈمنسٹریٹر الیگزینڈر ڈی کرو سے ایک اہم اور تزویراتی ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات کے دوران پاکستان اور اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے مابین برسوں پر محیط دیرینہ شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا، جبکہ پاکستان کی کلیدی ترقیاتی ترجیحات بشمول ماحولیاتی لچک ، مصنوعی ذہانت کے لیے تیاری، گورننس میں اصلاحات، پائیدار ترقی کے اہداف کی لوکلائزیشن، ابتدائی بچپن کی نشوونما اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کو آگے بڑھانے پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی۔

موقر ملاقات کے دوران وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے اس بات پر زور دیا کہ ترقیاتی تعاون کو پاکستان کی قومی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگ کرنا، ادارہ جاتی استعداد کار کو مضبوط بنانا اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں تیزی لانے کے لیے جدید اور اختراعی شراکت داریوں کو متحرک کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے یو این ڈی پی کے ساتھ مل کر ان شعبوں میں مربوط حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت پر روشنی ڈالی جو پاکستان کے مستقبل کے معاشی و سماجی استحکام کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

اس موقع پر، وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے یو این ڈی پی کے ایڈمنسٹریٹر الیگزینڈر ڈی کرو کو پاکستان کا دورہ کرنے کی باضابطہ دعوت بھی دی۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور یو این ڈی پی کے مابین یہ تعاون مستقبل میں ملک کے ترقیاتی اہداف کو مزید مقتدر اور مستحکم بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

اقوامِ متحدہ میں قومی بیانیہ پیش؛ سب کے لیے ایک پائیدار، لچکدار اور منصفانہ مستقبل کی تعمیر کے لیے عالمی تعاون اور مشترکہ ذمہ داری کو ناگزیر قرار دے دیا

محمود احمد, JULY 14,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 14 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے اقوامِ متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں منعقدہ پائیدار ترقی سے متعلق مقتدر ‘اعلیٰ سطحی سیاسی فورم’ میں پاکستان کی بھرپور نمائندگی کی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے اس اہم فورم پر پاکستان کا قومی بیانیہ پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے پائیدار ترقی کے لیے اقوامِ متحدہ کے طے کردہ ‘ایجنڈا 2030’ پر پاکستان کے غیر متزلزل اور تزویراتی عزم کا اعادہ کیا۔

اپنے مقتدر خطاب کے دوران پروفیسر احسن اقبال نے جامع اور پائیدار قومی ترقی کے لیے حکومتِ پاکستان کے عزم کو تفصیلی طور پر اجاگر کیا۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ دنیا بھر میں ایک زیادہ پائیدار، لچکدار اور یکساں مواقع سے لیس منصفانہ مستقبل کی تعمیر کے لیے بین الاقوامی تعاون، باہمی اعتماد اور مشترکہ ذمہ داری کے اصولوں پر کاربند رہنا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے اس عزم کو دہرایا کہ پاکستان چیلنجز کے باوجود عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے ہر ممکن تزویراتی کوششیں جاری رکھے گا۔

نیویارک میں پاک-ناروے وزراء کی ملاقات: ماحولیاتی لچک، پائیدار ترقی اور تعلیم کے شعبوں میں تزویراتی تعاون بڑھانے پر اتفاق

محمود احمد, JULY 14,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 14 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات، پروفیسر احسن اقبال نے نیویارک میں ناروے کے وزیر برائے بین الاقوامی ترقی مسٹر آسمنڈ گروور آکرسٹ سے ایک مقتدر ملاقات کی ہے۔ اس اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ناروے کے مابین ماحولیاتی لچک (کلائمیٹ ریزیلینس)، پائیدار ترقی اور انسانی وسائل کی ترقی (ہیومن کیپیٹل ڈویلپمنٹ) کے شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید مستحکم اور نتیجہ خیز بنانے کے تزویراتی طریقوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

موقر ملاقات کے دوران وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے اس اہم حقیقت کو اجاگر کیا کہ عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 1 فیصد سے بھی کم حصہ ڈالنے کے باوجود پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے شدید ترین متاثر ہونے والے دنیا کے چند سرفہرست ممالک میں شامل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ماضی میں آنے والے تباہ کن سیلابوں نے پائیدار ترقی کے اہداف کی جانب پاکستان کی پیشرفت کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس نے موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے دوچار ممالک کی مدد کے لیے مخصوص عالمی مالیاتی میکانزم (گلوبل فنانسنگ میکانزم) کی اشد ضرورت کو مزید تقویت دی ہے۔

پروفیسر احسن اقبال نے ناروے کی سمندری مہارتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ‘بلیو اکانومی’ (آبی معیشت) کے شعبے میں شراکت داری کے نئے مواقع تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا، اور پاکستان کے تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے اور ابتدائی بچپن کی نشوونما کو آگے بڑھانے کے لیے بہترین طریقوں اور تجربات کے تبادلے پر بھی بات چیت کی۔ ناروے کے وزیر برائے بین الاقوامی ترقی نے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ مقتدر تعاون کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا اور جلد ہی پاکستان کا دورہ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا، جسے وفاقی وزیر احسن اقبال نے خوش آئند قرار دیا۔

یمن کی خودمختاری کا احترام اور سعودی عرب کی سلامتی ناگزیر ہے، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں پاکستان کا مقتدر مؤقف

محمود احمد, JULY 14,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 14 جولائی 2026ء

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ (یمن) کی انتہائی حساس صورتحال پر پاکستان کا مقتدر اور اصولی مؤقف پیش کر دیا گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے اجلاس سے تزویراتی خطاب کرتے ہوئے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل خالد خیاری اور قائم مقام اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل اندریکا رتواٹے کی تفصیلی بریفنگز پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان، اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے مقاصد اور اصولوں کے عین مطابق یمن کی خودمختاری، آزادی، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتا ہے۔

سفیر عثمان جدون نے اپنے مقتدر خطاب میں سب سے پہلے برادر ملک سعودی عرب کی سلامتی کو ہدف بنانے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان، مملکتِ سعودی عرب پر حوثیوں کی جانب سے کیے گئے حالیہ بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے برادر مملکت سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اسلام آباد کی غیر متزلزل حمایت کا عزم دہرایا۔ پاکستانی مندوب نے خبردار کیا کہ ایسے وقت میں جب یہ خطہ مسلسل بڑھتی ہوئی کشیدگی اور باہم مربوط متعدد بحرانوں سے دوچار ہے، تمام متعلقہ فریقوں کو اپنے اختلافات باہمی بات چیت، سفارت کاری اور کشیدگی میں کمی کے پختہ عزم کے ذریعے ہی حل کرنے ہوں گے۔

جناب صدر کو مخاطب کرتے ہوئے سفیر عثمان جدون نے زور دیا کہ یمن میں جامع، شمولیتی اور پائیدار امن صرف ایک ایسے سیاسی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے جو یمنیوں کی اپنی قیادت اور ملکیت میں ہو، اور جسے اقوامِ متحدہ کی مکمل معاونت حاصل ہو۔ انہوں نے رواں سال کے اوائل میں قیدیوں کے تبادلے سے متعلق ہونے والے معاہدے کو ایک مثبت تزویراتی پیش رفت قرار دیا اور کہا کہ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی مذاکرات ٹھوس نتائج دے سکتے ہیں، اس لیے تمام فریقوں کو اب ملک گیر پائیدار جنگ بندی اور جامع سیاسی تصفیے کے لیے تعمیری مذاکرات جاری رکھنے چاہئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یمن کے عوام کئی برسوں سے تنازع، معاشی تنگی اور بنیادی خدمات کے مسمار ہونے کا سامنا کر رہے ہیں، اور کشیدگی میں مزید اضافہ صرف انسانی مصائب بڑھانے کا سبب بنے گا۔

پاکستانی مندوب نے حوثیوں کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے عملے، انسانی ہمدردی کے اہلکاروں اور سفارتی عملے کی مسلسل من مانی حراست اور اقوامِ متحدہ کے دفاتر و اثاثوں پر غیر قانونی قبضے کی بھی شدید مذمت کی۔ انہوں نے ان اقدامات کو بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے تمام زیرِ حراست بین الاقوامی اہلکاروں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا اور زور دیا کہ اقوامِ متحدہ کے عملے، تنصیبات اور اثاثوں کے مراعات و استثنیٰ کا ہر حال میں مکمل احترام کیا جائے۔ آخر میں، انہوں نے اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام، مکالمے اور باہمی افہام و تفہیم کے فروغ کے لیے کی جانے والی تمام مخلصانہ کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

ملکی آبادی 25 کروڑ 72 لاکھ تک پہنچ گئی، ایک تہائی نوجوان آبادی؛ 76 فیصد نوجوان پرامید لیکن 53 فیصد معاشی مشکلات اور عدم مساوات کے باعث پریشان، یو این ایف پی اے کی رپورٹ

منصور احمد, JULY 14,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 14 جولائی 2026ء

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے آبادی (یو این ایف پی اے) نے عالمی یومِ آبادی کے موقع پر پاکستان کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور تزویراتی رپورٹ جاری کی ہے جس میں زور دیا گیا ہے کہ پاکستان کو اپنے مستحکم اور روشن مستقبل کے لیے نوجوان نسل کو ترقی کے مرکز میں رکھنا ہوگا۔ مقتدر رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی مجموعی آبادی اس وقت تقریباً 25 کروڑ 72 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جس میں سے ایک تہائی (تقریباً 33 فیصد) آبادی 10 سے 24 سال کے نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ رپورٹ میں ایک مثبت پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے 76 فیصد نوجوانوں نے تمام تر چیلنجز کے باوجود اپنے روشن مستقبل کے حوالے سے گہری امید کا اظہار کیا ہے۔

تاہم، رپورٹ کے تشویشناک پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ملک کے 53 فیصد نوجوان سلامتی (سیکیورٹی)، معاشی تنگی، روزگار کی کمی اور معاشرتی عدم مساوات کے باعث شدید ذہنی و نفسیاتی پریشانی کا شکار ہیں۔ رپورٹ میں بالخصوص دیہی علاقوں کے نوجوانوں اور لڑکیوں کا ذکر کیا گیا ہے جو انٹرنیٹ اور جدید ڈیجیٹل سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث اپنے خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے سے قاصر ہیں۔ اس کے علاوہ، مقتدر رپورٹ میں پاکستان میں کم عمری کی شادیوں کے سنگین مسئلے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس فرسودہ رسم کے مکمل خاتمے کے لیے قومی سطح پر فوری اور مؤثر قانونی اقدامات اٹھانے کی تزویراتی سفارش کی گئی ہے۔

اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یو این ایف پی اے کے پاکستان میں مقتدر نمائندے ڈاکٹر لوائے شبانے نے واضح کیا کہ پاکستان کے پائیدار استحکام کے لیے تعلیم، بنیادی صحت، بہتر غذائیت اور نوجوانوں کی فلاح و بہبود میں سرمایہ کاری اب ناگزیر ہو چکی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ نوجوانوں کو جدید ہنر سکھانے اور عالمی بیرونی منڈیوں (گلوبل مارکیٹس) تک ان کی رسائی کو یقینی بنانے سے نہ صرف ان کی ذاتی آمدنی اور بچت میں اضافہ ہوگا، بلکہ اس سے ملک کا معیارِ زندگی اور مجموعی خوشحالی بھی بہتر ہوگی۔ ڈاکٹر لوائے شبانے کا کہنا تھا کہ تعلیم ہی پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور مضبوط مستقبل کی اصل بنیاد ہے، اور انسانی وسائل (ہیومن ریسورس) کی مقتدر ترقی اور نوجوانوں کو اپنی پوشیدہ صلاحیتیں بروئے کار لانے کے یکساں مواقع فراہم کرنا ہی پاکستان کے روشن اور مستحکم مستقبل کی واحد ضمانت ہے۔

مذہبی مکالمے اور مسلم امہ کے مسائل کے حل کے لیے مسلم ورلڈ لیگ کا کردار انتہائی اہم ہے، وزیر اعظم شہباز شریف

کاشف عباسی , JULY 13,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے مسلم دنیا کو درپیش معاصر چیلنجز اور تزویراتی مسائل سے نمٹنے کے لیے مذہبی مکالمے کے حوالے سے مسلم ورلڈ لیگ (رابطہ عالمِ اسلامی) کی مقتدر کوششوں کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری کردہ تفصیلی بیان کے مطابق، مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل شیخ ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسیٰ نے وزیر اعظم ہاؤس اسلام آباد میں وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے ایک اعلیٰ سطحی ملاقات کی۔ اس مقتدر موقع پر نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، ارکین قومی اسمبلی فرح ناز اکبر، زیب جعفر اور سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ بھی موجود تھیں۔ سیکرٹری جنرل کے ہمراہ پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف سعید المالکی بھی وفد میں شامل تھے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے ڈاکٹر العیسیٰ کا مقتدر سطح پر پرتپاک خیرمقدم کیا اور وفاقی دارالحکومت میں منعقدہ خواتین سے متعلق نویں او آئی سی وزارتی کانفرنس میں شرکت پر ان کا صمیمِ قلب سے شکریہ ادا کیا۔ وزیر اعظم نے دینِ اسلام کے حقیقی، امن پسند اور معتدل تشخص کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے، امتِ مسلمہ میں اتحاد و یگانگت کو فروغ دینے اور دنیا بھر میں رواداری، اخوت اور بین المذاہب ہم آہنگی کا پیغام عام کرنے میں مسلم ورلڈ لیگ کے گراں قدر کردار کو زبردست الفاظ میں سراہا۔ انہوں نے تنظیم کے تزویراتی اقدامات کے لیے پاکستان کی مسلسل اور غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مسلم دنیا کو درپیش موجودہ مسائل، بالخصوص ایران اور خلیجی برادر ممالک کے مابین علاقائی صورتحال، غزہ میں فلسطینیوں پر جاری مظالم اور دنیا بھر میں مسلم برادریوں کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مسلم ورلڈ لیگ کا پلیٹ فارم انتہائی ناگزیر ہے۔

ملاقات کے دوران تعلیم، بین المذاہب مکالمے اور انتہا پسندی و اسلامو فوبیا کے تدارک کے شعبوں میں پاکستان اور مسلم ورلڈ لیگ کے درمیان جاری تعاون پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ سیکرٹری جنرل ڈاکٹر العیسیٰ نے اپنے اور وفد کی شاندار مہمان نوازی پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے عالمِ اسلام میں پاکستان کے قائدانہ و تزویراتی کردار کی تعریف کی اور پاکستان کے ساتھ تعلیمی اور انسانی امور میں تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ڈاکٹر العیسیٰ نے خطے میں امن کی حالیہ کوششوں میں وزیر اعظم کے کلیدی کردار کو سراہتے ہوئے ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ پر دستخط کے سلسلے میں نائب وزیر اعظم محمد اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی انتھک تزویراتی کوششوں اور گراں قدر خدمات کو بھی بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا۔ دونوں رہنماؤں نے مشترکہ ترجیحات اور پاک-مسلم ورلڈ لیگ مشترکہ منصوبوں کی جلد تکمیل پر قریبی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

صنفی ڈیجیٹل فرق کے خاتمے میں پاکستان دنیا کا تیز ترین ملک بن گیا، وفاقی وزیرِ آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ کا او آئی سی کانفرنس سے مقتدر خطاب

منصور احمد, JULY 13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے واضح کیا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی)، سائبر سکیورٹی، پبلک ڈیٹا سسٹمز اور ڈیجیٹل ریگولیشن کی ترقی میں خواتین کو فیصلہ سازی کے عمل میں بامعنی مقام ملنا چاہیے۔ وزارتِ انسانی حقوق کے زیرِ اہتمام وفاقی دارالحکومت میں جاری خواتین سے متعلق نویں او آئی سی وزارتی کانفرنس کے اہم سیشن سے تزویراتی خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان نے موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں صنفی ڈیجیٹل فرق (مردوں اور عورتوں کے درمیان فرق) کو کم کرنے میں دنیا بھر میں تیز ترین ترقی ریکارڈ کی ہے۔ جی ایس ایم اے کی مقتدر رپورٹ کے مطابق، پاکستان نے ڈیجیٹل شمولیت، خاص طور پر موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں دنیا کی سب سے بڑی اور تاریخی بہتری ریکارڈ کی ہے۔

وفاقی وزیر نے تزویراتی اعداد و شمار کا احاطہ کرتے ہوئے بتایا کہ جب انہوں نے عہدہ سنبھالا تو پاکستان میں صنفی ڈیجیٹل فرق 35 فیصد تھا، جو 2025ء میں کم ہو کر 25 فیصد رہ گیا اور اب 2026ء کی حالیہ مقتدر رپورٹ میں مزید گر کر صرف 8 فیصد پر آ گیا ہے۔ اس غیر معمولی پیشرفت نے پاکستان کو موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں صنفی فرق کو ختم کرنے والا دنیا کا تیز ترین ملک بنا دیا ہے، جہاں گزشتہ دو سالوں کے دوران خواتین میں موبائل انٹرنیٹ اپنانے کی شرح 33 فیصد سے بڑھ کر 45 فیصد ہو گئی ہے۔ شزا فاطمہ خواجہ نے زور دے کر کہا کہ صرف انٹرنیٹ تک رسائی (کنیکٹیویٹی) ہی کافی نہیں ہے، بلکہ کامیابی کا اصل معیار یہ ہے کہ آیا دور دراز اور دیہی علاقوں میں رہنے والی خواتین ٹیکنالوجی کا استعمال سیکھنے، کمانے، ڈیجیٹل ادائیگیاں حاصل کرنے اور کامیاب کاروباری شخصیت (انٹرپرینیور) بننے کے لیے کر رہی ہیں یا نہیں۔

وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ حکومت کے ڈیجیٹل تبدیلی کے اقدامات نے کم آمدنی والے خاندانوں کی خواتین کو ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم کے ذریعے باعزت طریقے سے مالی امداد فراہم کر کے بااختیار بنایا ہے۔ رمضان سبسڈی پروگرام کو وزیر اعظم کی ہدایت پر ڈیجیٹل ادائیگیوں پر منتقل کیا گیا، جس کے تحت سب سے کم آمدنی والی آبادی میں ایک ماہ کے اندر 8 لاکھ ڈیجیٹل والٹس بنائے گئے اور اس سال مزید 9 لاکھ خواتین ڈیجیٹل مالیاتی نظام کا حصہ بنی ہیں۔ حکومت نے نجی شعبے کے تعاون سے ملک بھر میں خواتین کو 10 ملین (ایک کروڑ) مفت سم کارڈز بھی تقسیم کیے ہیں تاکہ وہ ڈیجیٹل معیشت میں سرگرم حصہ دار بن سکیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر خواتین کے پاس سستا انٹرنیٹ، ڈیجیٹل مہارت یا آن لائن ہراساں کیے جانے سے تحفظ نہ ہو تو ٹیکنالوجی عدم مساوات کو گہرا بھی کر سکتی ہے، اس لیے مشین لرننگ ماڈلز اور اے آئی الگورتھم میں خواتین کے تجربات کی عکاسی ہونی چاہیے تاکہ ان کی محرومی کو روکا جا سکے۔

پاکستانی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر آئی ٹی نے محترمہ فاطمہ جناح، سابق وزیر اعظم محترمہ بینظیر بھٹو شہید، بیگم کلثوم نواز اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو ان کی جرات اور ترقیاتی قیادت پر زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے او آئی سی کے برادر ممالک پر زور دیا کہ وہ ان خواتین کی حوصلہ افزائی کریں جو ٹیکنالوجی میں رکاوٹوں کو توڑ رہی ہیں، اور عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنے تجربات کا تبادلہ کرنے اور خواتین کو ڈیجیٹل بااختیار بنانے کے لیے عملی شراکت داری قائم کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

لینڈ سلائیڈنگ اور طغیانی کا خطرہ: محکمہ موسمیات کا بالائی علاقوں کے لیے ہائی الرٹ اور شدید بارشوں کا انتباہ

روزینہ اسماعیل, JULY 13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں جاری حالیہ موسمی تبدیلیوں کے پیشِ نظر ایک مقتدر انتباہ جاری کیا ہے، جس کے مطابق پیر اور منگل کے روز ہونے والی موسلادھار بارشوں کے باعث بالائی خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر کے حساس پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ (تودے گرنے) اور مقامی و برساتی ندی نالوں میں شدید طغیانی کا سنگین خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کی تزویراتی رپورٹ کے مطابق، موجودہ صورتحال میں بحیرۂ عرب سے آنے والی مضبوط مرطوب ہوائیں مسلسل ملک کے بالائی اور زیریں علاقوں میں داخل ہو رہی ہیں، جبکہ اسی دوران ایک طاقتور مغربی لہر بھی ملک کے مختلف حصوں پر اثر انداز ہو رہی ہے۔

موقر پیشگوئی کے مطابق، آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم عام طور پر گرم اور مرطوب رہنے کی توقع ہے، تاہم کشمیر، بالائی خیبر پختونخوا، جنوب مشرقی پنجاب، بالائی سندھ اور گلگت بلتستان میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ مزید بارش کا امکان ہے۔ کل بروز منگل بھی ملک کے بیشتر حصوں میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا، جبکہ کشمیر، بالائی خیبر پختونخوا، شمال مشرقی پنجاب اور گلگت بلتستان میں چند مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ مقتدر حکام نے پہاڑی علاقوں کے مکینوں اور سیاحوں کو سفری احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے موسمی احوال کا احاطہ کرتے ہوئے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ بالائی پنجاب، بلوچستان، بالائی خیبر پختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان میں تیز ہواؤں کے ساتھ چند مقامات پر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ دیگر علاقوں میں موسم گرم رہا۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق، سب سے زیادہ بارش پنجاب کے علاقے اوکاڑہ میں 29 ملی میٹر، سیالکوٹ (ایئرپورٹ) میں 01 ملی میٹر، بلوچستان کے علاقے بارکھان میں 13 ملی میٹر، ژوب اور خضدار میں 02 ملی میٹر، گلگت بلتستان کے علاقے بابوسر میں 08 ملی میٹر، گوپس میں 04 ملی میٹر، بنجی میں 03 ملی میٹر، سکردو اور چلاس میں 02 ملی میٹر، استور میں 01 ملی میٹر، آزاد کشمیر کے علاقے گڑھی دوپٹہ میں 05 ملی میٹر، جبکہ خیبر پختونخوا کے علاقے مالم جبہ میں 02 ملی میٹر اور کالام میں 01 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔