بھارت بوکھلاہٹ کا شکار، اقوام متحدہ میں جموں و کشمیر پر بھارتی نمائندے کے ریمارکس کا پاکستان کی طرف سے کرارا اور دوٹوک جواب، گل قیصر سروانی نے بھارتی مؤقف کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کشمیر کو بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تنازع قرار دے دیا

محمود احمد june 06,2026

اقوام متحدہ، نیویارک(نیوز اینڈ نیوز) — 06 جون 2026ء

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی سالانہ رپورٹ پر جنرل اسمبلی کے اہم ترین مباحثے کے دوران بھارتی نمائندے کی ہٹ دھرمی اور بے بنیاد ریمارکس کے جواب میں پاکستان نے انتہائی سخت اور دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر اور علاقائی سلامتی سے متعلق اپنے تمام ٹھوس دلائل ایک بار پھر عالمی برادری کے سامنے پیش کر دیے ہیں، نیویارک سے موصول ہونے والی سرکاری دستاویزات کے مطابق اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کے کونسلر اور پولیٹیکل کوآرڈینیٹر گل قیصر سرواَنی نے پاکستان کی طرف سے حاصل “حقِ جواب” کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے بھارتی مؤقف کو یکسر مسترد کیا اور کہا کہ بھارت ہمیشہ کی طرح اس بار بھی عالمی فورم پر حقائق کو مسخ کرنے اور دنیا کی توجہ اصل مظالم سے ہٹانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے، پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ سلامتی کونسل کی سالانہ رپورٹ کے تعارفی حصے کی حساس تیاری اور اسے تمام ملکوں کے اتفاقِ رائے سے منظور کرانے میں پاکستان کے مثبت اور مخلصانہ کردار کو عالمی سطح پر زبردست الفاظ میں سراہا گیا ہے، تاہم بھارتی نمائندے نے بوکھلاہٹ میں آ کر صرف ان اہم نکات پر منفی توجہ دی جو کشمیر تنازع سے متعلق سچے حقائق کو دنیا کے سامنے ظاہر کرتے ہیں، پاکستانی نمائندے نے سلامتی کونسل کے ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس سرکاری رپورٹ میں واضح طور پر درج ہے کہ رپورٹنگ کے مخصوص عرصے میں بھارت پاکستان سوال سے متعلق بیس سے زائد اہم ترین مراسلات سلامتی کونسل کے سامنے باقاعدہ پیش کیے گئے، جبکہ ۵ مئی ۲۰۲۵ کو اسی اہم ایجنڈا آئٹم پر ایک خصوصی بند کمرہ مشاورت بھی منعقد کی گئی تاکہ خطے کی نازک صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے، گل قیصر سروانی نے کشمیر تنازع پر پاکستان کا سخت اور اصولی مؤقف دہراتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ دیرینہ تنازع ہے جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر بدستور موجود ہے، اس لیے اسے کسی بھی طور پر بھارت کا کوئی ”اٹوٹ انگ“ قرار نہیں دیا جا سکتا، ان کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل کی پاس کردہ تاریخی قراردادوں کے تحت معصوم کشمیری عوام کو ان کا بنیادی حقِ خودارادیت دینا عالمی برادری پر لازمی ہے، تاہم انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ آٹھ دہائیوں کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود ان مسلمہ قراردادوں پر اب تک عملدرآمد نہیں ہو سکا، پاکستان نے مقبوضہ و بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں جاری بدترین ریاستی جبر، انسانی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزیوں، بے گناہ شہریوں کی گرفتاریوں، بنیادی آزادیوں پر عائد سخت پابندیوں اور وہاں مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے لیے کی جانے والی آبادیاتی تبدیلیوں کے خطرناک بھارتی الزامات و اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کی موجودہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے، اس سلسلے میں پاکستان نے اقوام متحدہ کے خصوصی طریقہ کار کی ۱۶ اکتوبر ۲۰۲۵ کی مشترکہ رپورٹ کا ناقابلِ تردید حوالہ بھی عالمی برادری کے سامنے رکھا، اپنے حقِ جواب کے دوران پاکستان نے بھارت پر جوابی الزامات کی بوچھاڑ کرتے ہوئے عالمی فورم پر بے نقاب کیا کہ نئی دہلی سرکار ناصرف پاکستان کے اندر دہشت گردی کی مبینہ طور پر مکمل سرپرستی کر رہی ہے اور بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں بدترین ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہے، بلکہ اب بھارت کے کینیڈا اور امریکہ جیسے بیرون ممالک میں بھی ٹارگٹ کلنگ، ماورائے عدالت قتل اور دیگر ملکوں کو غیر مستحکم کرنے کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے بھیانک کردار دنیا کے سامنے آ چکے ہیں، اس کے ساتھ ہی بھارت خطے کا امن تباہ کرنے کے لیے سندھ طاس جیسے اہم بین الاقوامی معاہدے کی خلاف ورزی کی مذموم کوششیں بھی کر رہا ہے، پاکستان نے واضح قانونی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت اقوام متحدہ کے منشور، خصوصاً آرٹیکل ۲۵ کے تحت سلامتی کونسل کی تمام قراردادوں پر مکمل عملدرآمد کرنے کا قانونی طور پر پابند ہے، لیکن وہ مسلسل ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ان بین الاقوامی ذمہ داریوں کو یکسر نظر انداز کر رہا ہے، اپنے اختتامی مؤقف میں پاکستانی مندوب نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ حقائق سے فرار اختیار کرنے اور الزامات کی سستی سیاست چمکانے سے یہ سنگین مسئلہ کبھی حل نہیں ہوگا، جموں و کشمیر کے اس دیرینہ تنازع کا واحد اور پرامن حل صرف اور صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں و خواہشات کے مطابق رائے شماری کرانے میں ہی ممکن ہے، انہوں نے پاکستان کے فولادی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد مظلوم کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو ہر عالمی فورم پر پوری قوت سے اجاگر کرتا رہے گا اور اس کے پرامن و منصفانہ حل کے لیے اپنی کوششوں سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔

سلامتی کونسل کی سالانہ رپورٹ میں کشمیر اور فلسطین کے دیرینہ تنازعات کی گونج، پاکستان کا اقوام متحدہ میں جموں و کشمیر کے منصفانہ حل اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے عزم کا اعادہ، سلامتی کونسل میں اصلاحات اور ویٹو پاور پر نظرثانی کا مطالبہ

محمود احمد june 06,2026

اقوام متحدہ، نیویارک(نیوز اینڈ نیوز) — 06 جون 2026ء

پاکستان نے عالمی فورم پر واضح کیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی سال ۲۲۰۵ کی سالانہ رپورٹ میں جموں و کشمیر اور فلسطین جیسے طویل عرصے سے لٹکے ہوئے دیرینہ تنازعات کی مسلسل اہمیت کو انتہائی واضح طور پر اجاگر کیا گیا ہے، جو عالمی اور علاقائی امن و سلامتی پر مسلسل گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں، نیویارک سے موصول ہونے والی سرکاری تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اہم اجلاس میں سلامتی کونسل کی یہ سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے صراحت سے کہا کہ یہ دونوں بڑے تنازعات طویل عرصے سے عالمی ادارے کے ایجنڈے کا حصہ چلے آ رہے ہیں اور ان کے منصفانہ حل کے بغیر دنیا میں پائیدار امن کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا، انہوں نے رپورٹنگ کے عرصے کے حوالے سے بتایا کہ بھارت پاکستان سوال پر بیس سے زائد اہم مراسلات سلامتی کونسل کی توجہ حاصل کرنے کے لیے باقاعدہ پیش کیے گئے، جبکہ مئی ۲۰۲۵ میں اس حساس موضوع پر ایک اہم بند کمرہ مشاورت بھی منعقد کی گئی، کشمیر تنازع پر پاکستان کا اصولی مؤقف پیش کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار نے زور دیا کہ جموں و کشمیر کا تنازعہ سات دہائیوں سے زائد عرصے سے حل طلب ہے اور سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر بدستور موجود ہے، پاکستان کے مطابق اس اہم مسئلے کا حتمی حل اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مظلوم کشمیری عوام کی امنگوں و خواہشات کے مطابق ہی ہونا چاہیے، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا یہ پختہ مؤقف ہے کہ خطے میں پائیدار امن و استحکام جموں و کشمیر کے منصفانہ حل سے ہی مشروط ہے اور اس کے لیے کشمیری عوام کو ان کا بنیادی حقِ خودارادیت دیا جانا ناگزیر ہے، پاکستانی مندوب نے اپنے خطاب کے دوران مقبوضہ فلسطینی علاقوں خصوصاً غزہ میں جاری سنگین انسانی بحران پر بھی ملک کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد ۲۸۰۳ اس سنگین مسئلے کے حل کے لیے ایک بڑی اور اہم پیش رفت ہے، تاہم اس پر اس کی روح کے مطابق مکمل عملدرآمد ہونا بے حد ضروری ہے، پاکستان نے اس موقع پر ایک بار پھر ایک آزاد، قابلِ عمل اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کے قیام کی اپنی روایتی اور مخلصانہ حمایت کا اعادہ کیا جس کا مستقل دارالحکومت القدس الشریف ہو، سلامتی کونسل کی مجموعی کارکردگی اور اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس رپورٹ میں افریقہ، مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور دنیا کے دیگر خطوں میں جاری مختلف تنازعات کے علاوہ کئی موضوعاتی مسائل جیسے معصوم شہریوں کا تحفظ اور مسائل کا پرامن حل بھی شامل کیا گیا ہے، انہوں نے پاکستان کی جانب سے پیش کردہ تاریخی قرارداد ۲۷۸۸ کا خاص حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ قرارداد تنازعات کے ہمیشہ پرامن حل کے لیے بین الاقوامی اتفاقِ رائے کی ایک بہترین عکاس ہے، سفیر عاصم افتخار احمد نے عالمی برادری کو بتایا کہ پاکستان نے جولائی ۲۰۲۵ میں سلامتی کونسل کی اپنی صدارت کے دوران اس رپورٹ کے تعارفی حصے کی تیاری اور اس کی حساس مسودہ سازی کی اہم ذمہ داری انتہائی احسن طریقے سے انجام دی تھی اور اس کا بنیادی مقصد ایک جامع، مکمل غیر جانبدار اور عالمی اتفاقِ رائے پر مبنی شفاف رپورٹ تیار کرنا تھا، ملاقات اور خطاب کے آخری حصے میں پاکستان نے سلامتی کونسل کے ڈھانچے میں فوری اصلاحات، کام میں شفافیت اور جوابدہی کی سخت ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بعض بڑی طاقتوں کی جانب سے ویٹو کے استعمال پر بھی اب سنجیدہ غور ہونا چاہیے، انہوں نے پاکستان کا اصولی اور تاریخی مؤقف دہراتے ہوئے واضح کیا کہ ہماری پالیسی ”سب کے لیے اصلاحات، کسی کے لیے خصوصی مراعات نہیں“ کے اصول پر مبنی ہے، اور سیکیورٹی کونسل کی یہ اصلاحات کسی ایک ملک کے بجائے اقوام متحدہ کی وسیع تر رکنیت اور پوری دنیا کے مفاد میں ہونی چاہئیں۔

عوام کے لیے ریلیف، عالمی مارکیٹ کے تناظر میں پٹرول کی قیمت میں مزید ۴ روپے فی لیٹر کمی کا اعلان، ہائی اسپیڈ ڈیزل کے نرخ برقرار رکھنے کا فیصلہ

کاشف عباسی ,june 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 06 جون 2026ء

حکومتِ پاکستان نے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والے حالیہ رد و بدل کے بعد آئندہ ہفتے کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے، جس کے مطابق پٹرول کی قیمت میں ۴ روپے فی لیٹر کمی کی گئی ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت کو پرانے نرخوں پر برقرار رکھا گیا ہے، اسلام آباد سے جاری ہونے والے سرکاری اعلامیے کے مطابق پٹرول کی ایکس ڈپو قیمت میں ۴ روپے کمی کے بعد اب نئی قیمت ۳۷۷ روپے ۷۹ پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت ۳۸۰ روپے ۷۸ پیسے فی لیٹر پر ہی برقرار رہے گی، وزارتِ خزانہ کے حکام کے مطابق ڈیزل کی قیمت کو برقرار رکھنے کے لیے ٹیکس اور دیگر مالی ایڈجسٹمنٹس کی گئی ہیں، کیونکہ ڈیزل کو ملکی ٹرانسپورٹ اور مال برداری کے شعبے میں بنیادی حیثیت حاصل ہے اور اس کی قیمتوں میں اضافہ ملکی مہنگائی پر براہِ راست اور گہرا اثر ڈالتا ہے، پٹرولیم قیمتوں کے رجحان کے اعداد و شمار کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت رواں سال ۱۰ اپریل کو ۵۲۰ روپے ۳۵ پیسے فی لیٹر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی جو کہ اب کافی نیچے آ چکی ہے، حالیہ کمی کے بعد پٹرول کی قیمت میں مسلسل چوتھے ہفتے بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں اب تک مجموعی طور پر پٹرول تقریباً ۳۷ روپے فی لیٹر سستا ہو چکا ہے، معاشی ماہرین کے مطابق پٹرول کی قیمت میں اس مسلسل کمی سے عام صارفین اور موٹر سائیکل سواروں کو بڑا ریلیف ملے گا، جبکہ ٹرانسپورٹ اور سپلائی چین کے اخراجات میں بھی معمولی کمی کا امکان پیدا ہوتا ہے، تاہم ڈیزل کی قیمت تبدیل نہ ہونے اور اسے برقرار رکھنے سے مہنگائی کی مجموعی شرح پر پٹرول کی کمی کا اثر تھوڑا محدود رہ سکتا ہے، حکومتی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ آئندہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین عالمی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ اور ملکی زرمبادلہ کی صورتحال کو سامنے رکھ کر کیا جائے گا۔

آبنائے ہرمز میں جنگ کے بادل، امریکہ اور ایران کے درمیان سنگین عسکری و معاشی تصادم، خلیجی ریاستوں کو ایرانی وزیر خارجہ کی کھلی دھمکی، روس کی جانب سے پاکستان کی ثالثی کوششوں کی بھرپور حمایت

کاشف عباسی ,june 06,2026

واشنگٹن / تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 06 جون 2026ء

عالمی توانائی کی سب سے اہم شاہراہ، آبنائے ہرمز اور خلیجی پانیوں میں عسکری و سفارتی کشیدگی خطرناک ترین حد تک برقرار ہے، جہاں امریکہ اور ایران کے مابین الزامات کی بوچھاڑ، جوابی معاشی پابندیوں اور سمندری حدود میں جنگی سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، تہران اور واشنگٹن سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ان ایرانی دعووں کو مخلصانہ طور پر مسترد اور ان کی شدید تردید کر دی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ خلیج میں امریکی بحری ڈسٹرائرز پر ایران کی جانب سے ”انتباہی فائرنگ“ کی گئی ہے، سینٹکام کا مؤقف ہے کہ ایسی کوئی کارروائی یا فائرنگ سرے سے ہوئی ہی نہیں اور امریکی بحری افواج بین الاقوامی قوانین کے تحت خطے کے پانیوں میں اپنی معمول کی دفاعی سرگرمیاں پوری قوت سے جاری رکھے ہوئے ہیں، دوسری جانب سمندری صورتحال اس وقت مزید ابتر ہو گئی جب عمان کی ایک حساس بندرگاہ کے قریب مبینہ دھماکے کے بعد تیل کی لوڈنگ کا عمل عارضی طور پر معطل کرنا پڑا، تاہم بعد میں آئل آپریشنز کو دوبارہ معمول پر لایا گیا، لیکن اس خوفناک پیش رفت کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے، اسی دوران امریکی بحریہ نے بحرِ ہند میں ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے پابندیوں کے شکار ایک ایسے بڑے بحری ٹینکر کو روکنے کا باضابطہ اعلان کیا ہے جس پر ایرانی تیل کی غیر قانونی تجارت سے متعلق سنگین الزامات عائد تھے، اس امریکی کارروائی پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو آخری وارننگ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر خطے میں ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی عسکری جارحیت یا مہم جوئی کی گئی تو امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی کرنے والی تمام خلیجی ریاستیں ایران کے لیے ”جائز اہداف“ بن جائیں گی اور انہیں نشانہ بنایا جائے گا، انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ خطے کی موجودہ صورتحال انتہائی حساس مرحلے میں ہے اور یہاں طاقت کے توازن کو کسی بھی طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، کشیدگی کے اس ماحول میں امریکی محکمہ خزانہ نے بھی ایران پر دباؤ بڑھاتے ہوئے ایرانی تیل اور ایل پی جی (مائع پٹرولیم گیس) کی غیر قانونی تجارت میں مبینہ طور پر ملوث متعدد بااثر افراد، عالمی اداروں اور بحری ٹینکرز پر نئی اور سخت ترین معاشی پابندیاں عائد کر دی ہیں اور ان خفیہ نیٹ ورکس میں مختلف ممالک اور آف شور کمپنیوں کے تانے بانے بھی سامنے آئے ہیں، اس سنگین صورتحال کے سفارتی پہلو کا جائزہ لیا جائے تو روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اس نازک موڑ پر پاکستان کی مخلصانہ ثالثی میں ہونے والے امن مذاکرات کی کھل کر حمایت کا اظہار کیا ہے جبکہ دوسری جانب عالمی ادارہ برائے جوہری توانائی (آئی اے ای اے) کے سربراہ نے بھی امید ظاہر کی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری فریم ورک پر سفارتی پیش رفت متوقع ہے، دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز کی مجموعی صورتحال اب فہرست میں نہایت حساس اور فیصلہ کن دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں ایک طرف عسکری کشیدگی اور سخت معاشی پابندیاں عروج پر ہیں تو دوسری طرف پسِ پردہ سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں، تاہم خطے میں ہونے والی کسی بھی قسم کی چھوٹی سی عسکری چنگاری کا عالمی توانائی کی منڈی اور دنیا بھر کی معیشت پر براہِ راست اور تباہ کن اثر پڑ سکتا ہے۔

بجٹ 26-2025ء سے قبل وفاقی حکومت کا بڑا معاشی ایکشن، ای سی سی نے اربوں روپے کے اہم مالی اور ترقیاتی فیصلوں کی منظوری دے دی، پی ایس او کے لیے ۱۰۰ ارب روپے کی فنانسنگ سہولت اور ترقیاتی اسکیموں کے لیے اضافی فنڈز جاری کرنے کا فیصلہ

کاشف عباسی ,june 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 06 جون 2026ء

نئے مالی سال چھبیس ستائیس (27-2026) کے وفاقی بجٹ کی پیشکشی سے عین قبل حکومت کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے جمعہ کے روز ایک اہم ترین اجلاس میں بڑے مالی اور ترقیاتی فیصلوں کی باضابطہ منظوری دے دی ہے، جس کے تحت چالیس ارب روپے سے زائد کی سپلیمنٹری گرانٹس اور شدید مالی بحران کے شکار ادارے پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے لیے سو ارب روپے کی ہنگامی فنانسنگ سہولت شامل ہے، اسلام آباد سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق یہ اعلٰی سطح کا اجلاس وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت منعقد ہوا جس میں ملک کے مختلف نازک مالی امور، سرکاری اداروں کی فوری ضروریات اور توانائی کے شعبے کو درپیش گردشی قرضوں کے سنگین مسائل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا، اجلاس میں ای سی سی نے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان اسٹیٹ آئل کے لیے سو ارب روپے کی خودمختار ضمانت یعنی سوورن گارنٹی پر مبنی فنانسنگ کی خصوصی منظوری دی، عسکری و حکومتی حکام کے مطابق پی ایس او کو اس وقت دیگر مختلف سرکاری اداروں سے نو سو ارب روپے سے زائد کی خطیر واجب الادا رقوم کی عدم وصولی کا سامنا ہے جس کے باعث ملک میں تیل کی سپلائی چین متاثر ہونے اور ایندھن کی قلت کے شدید خدشات پیدا ہو رہے تھے، کمیٹی نے اس بحران کو ٹالنے کے ساتھ ساتھ چالیس ارب روپے سے زائد کی اضافی گرانٹس کی بھی منظوری دی جبکہ ارکانِ پارلیمنٹ کی مختلف ترقیاتی اسکیموں کے لیے دس ارب روپے کی اضافی فنڈنگ جاری کرنے کی بھی باقاعدہ اجازت دی گئی ہے، مزید برآں پائیدار ترقیاتی اہداف پروگرام کے تحت جاری منصوبوں کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے سات اعشاریہ صفر دو چھ (7.026) ارب روپے کی تکنیکی سپلیمنٹری گرانٹ بھی منظور کی گئی ہے، ایک اور اہم فیصلے کے تحت ای سی سی نے مختلف وفاقی وزارتوں اور سرکاری محکموں میں ملازمین کے لیے خصوصی اعزازیہ کے دائرہ کار کو مزید وسعت دے دی ہے جس میں اب لا اینڈ جسٹس ڈویژن، کامرس ڈویژن اور اکاؤنٹنٹ جنرل آف پاکستان ریونیو کو بھی شامل کر لیا گیا ہے جبکہ یہ سہولت پہلے سے ہی وزارتِ خزانہ، ریونیو، پلاننگ، ایف بی آر، قومی اسمبلی، سینیٹ اور وزیراعظم آفس جیسے اعلٰی ترین اداروں کو حاصل تھی، اجلاس کے دوران گلگت بلتستان میں ہونے والے آئندہ انتخابات سے قبل وہاں کے لیے چار اعشاریہ تین اٹھ (4.38) ارب روپے کی خطیر خصوصی گرانٹ کی بھی فوری منظوری دی گئی، وزارتِ خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ تمام اہم ترین فیصلے جاری مالی سال کے اختتامی مرحلے میں ناگزیر حکومتی ضروریات کو پورا کرنے اور ملکی ترقیاتی کاموں کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے کیے گئے ہیں جبکہ دوسری جانب نئے بجٹ کی تیاریاں اب اپنے آخری اور حتمی مراحل میں داخل ہو چکی ہیں۔

جون کے بڑے احتجاج سے قبل آزاد کشمیر حکومت کا بڑا ایکشن، جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت کالعدم قرار دے دیا گیا، پورے خطے میں موبائل ڈیٹا اور انٹرنیٹ سروسز معطل، سیاحوں کو فوری علاقہ چھوڑنے کی ہدایت

کاشف عباسی ,june 06,2026

مظفرآباد (نیوز اینڈ نیوز) — 06 جون 2026ء

آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) حکومت نے نو جون کو ہونے والے مجوزہ بڑے اور ملک گیر احتجاج سے قبل ایک انتہائی بڑا اور تزویراتی فیصلہ کرتے ہوئے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کو انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت باقاعدہ طور پر کالعدم قرار دے دیا ہے، مظفرآباد سے موصول ہونے والی سرکاری تفصیلات کے مطابق یہ سخت ترین فیصلہ سیکیورٹی کے شدید خدشات اور خطے میں ممکنہ بدامنی و ہنگامہ آرائی کو روکنے کے پیشِ نظر کیا گیا ہے، جس کے فوری بعد پورے آزاد کشمیر میں سیکیورٹی کے انتظامات کو ہائی الرٹ کرتے ہوئے مزید سخت کر دیا گیا ہے، محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ نوٹیفکیشن کے مطابق جے اے اے سی کو “امن و امان کے لیے ایک بڑا خطرہ” قرار دیتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ اس تنظیم کی حالیہ سرگرمیاں معاشرے میں شدید انتشار، جلاؤ گھیراؤ اور عدم تحفظ پیدا کرنے کا باعث بن رہی ہیں، حکومت نے پبلک سیفٹی اور امنِ عامہ کو برقرار رکھنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر سخت ترین ہدایات جاری کی ہیں جن کے تحت سیاحوں کو اس پیک سیزن کے دوران بھی فوری طور پر آزاد کشمیر کا علاقہ چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ نئے آنے والے تمام ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو سختی سے مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے دورے بیس جون تک لازمی طور پر مؤخر کر دیں، مزید برآں انتظامیہ کو تمام ہوٹلوں کو فوری طور پر خالی کرانے کے سخت احکامات بھی جاری کر دیے گئے ہیں، سیکیورٹی خدشات کی اسی سنگین صورتحال کے باعث پورے خطے میں ہونے والے تعلیمی امتحانات کو بھی تا حکمِ ثانی ملتوی کر دیا گیا ہے جبکہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے حساس مقامات پر وفاقی اور مقامی اضافی سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے، اطلاعات کے مطابق آدھی رات کے وقت پورے آزاد کشمیر کے خطے میں موبائل ڈیٹا اور تیز رفتار انٹرنیٹ سروسز کو بھی مکمل طور پر معطل کر دیا گیا ہے جبکہ عام فون کال سروسز کو جزوی طور پر بحال رکھا گیا ہے تاکہ شرپسند عناصر سوشل میڈیا کا استعمال نہ کر سکیں، واضح رہے کہ جے اے اے سی کی جانب سے نو جون کو دی جانے والی اس مجوزہ احتجاجی تحریک کا اصل تنازع مہاجرین کی مخصوص نشستوں کے معاملے کے گرد گھومتا ہے، جس میں یہ تنظیم آزاد کشمیر اسمبلی کی بارہ مخصوص نشستوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کا بنیادی مطالبہ کر رہی ہے، تنظیم کا مؤقف ہے کہ یہ نشستیں خالصتاً سیاسی فائدے اور وفاداریاں تبدیل کرنے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں اور اس سے مقامی سیاست پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، تاہم آزاد کشمیر حکومت اور دیگر بڑے سیاسی حلقے اس مؤقف سے شدید اختلاف رکھتے ہیں، دوسری جانب اس حساس معاملے پر عدالتی پیش رفت کے تحت آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس پر تمام اہم اسٹیک ہولڈرز سے ان کی قانونی رائے طلب کر لی ہے جس کے بعد خطے کی سیاسی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے، حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ تمام سیکیورٹی ادارے صورتحال پر مسلسل کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال یا قانون ہاتھ میں لینے والے عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کے لیے تمام محکمے الرٹ ہیں۔

چھوٹے تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس آسان اسکیم کا اعلان، معاشی ترقی اور دستاویزی معیشت کے فروغ کے لیے حکومت کا نیا انقلابی ٹیکس نظام متعارف، آئندہ ہفتے مصنوعی ذہانت پر مبنی سسٹم لانے کا فیصلہ

کاشف عباسی ,june 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 06 جون 2026ء

حکومتِ پاکستان نے ملک بھر کے چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کو باقاعدہ ٹیکس نظام میں شامل کرنے اور ٹیکس ادائیگی کے پیچیدہ عمل کو انتہائی سادہ بنانے کے لیے ایک نئی اور تاریخی “فکسڈ ٹیکس آسان اسکیم” متعارف کرانے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے، اسلام آباد سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق یہ خصوصی ریلیف اسکیم سالانہ بیس کروڑ روپے تک کا کاروباری حجم یعنی ٹرن اوور رکھنے والے تمام چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کے لیے تیار کی گئی ہے، اس اہم ترین اسکیم کا باقاعدہ اعلان وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے رکن حامد عتیق سرور نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا، حکام نے اس موقع پر واضح کیا کہ یہ جدید ٹیکس نظام ملک بھر کی تمام بڑی تاجر تنظیموں اور چیمبرز کے نمائندوں سے تفصیلی مشاورت کے بعد تشکیل دیا گیا ہے تاکہ تاجر برادری کے تحفظات دور کرتے ہوئے ٹیکس ادائیگی کو آسان بنایا جا سکے اور زیادہ سے زیادہ غیر رجسٹرڈ تاجروں کو ٹیکس نیٹ کے دائرے میں شامل کیا جا سکے، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے جاری وسیع پیمانے پر ٹیکس اصلاحات کا بنیادی مقصد ملکی ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا، دستاویزی معیشت کو ہر سطح پر فروغ دینا اور پہلے سے ٹیکس دینے والے غریب و تنخواہ دار طبقے پر موجود اضافی ٹیکس بوجھ کو نمایاں طور پر کم کرنا ہے، ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت ایک مکمل طور پر منصفانہ، متوازن اور پائیدار ٹیکس نظام کی تشکیل کے لیے تمام ضروری اور ٹھوس اقدامات کر رہی ہے، انہوں نے ایک بڑی پیشرفت کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم کی براہِ راست نگرانی میں جاری اس ڈیجیٹل اصلاحاتی پروگرام کے تحت اب جدید ترین ٹیکنالوجی کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا جا رہا ہے، جس کے تحت آئندہ ہفتے پارلیمنٹ میں مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) پر مبنی ایک بالکل نئے، خودکار اور شفاف ٹیکس نظام سے متعلق انتہائی اہم اعلان بھی متوقع ہے، محمد اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے معاشی استحکام حاصل کرنے کے بعد اب تیز رفتار معاشی ترقی کی شاہراہ پر آگے بڑھنا ناگزیر ہو چکا ہے، جس کے لیے قومی آمدنی میں اضافہ اور ٹیکس چوری کا خاتمہ بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، عسکری و حکومتی حکام کے مطابق اس نئی فکسڈ ٹیکس آسان اسکیم کے نفاذ کے ذریعے چھوٹے تاجروں کے لیے ایف بی آر کے چکر کاٹنے اور فائلنگ کا عمل مزید آسان ہوگا، ملکی کاروباری سرگرمیوں کی دستاویز بندی میں واضح بہتری آئے گی اور مجموعی طور پر قومی معیشت کو مستحکم بنانے میں مدد ملے گی۔

لاہور میں پاکستانی اسپنر کا جادو چل گیا، ابرار احمد نے آسٹریلیا کے خلاف باؤلنگ میں چالیس سال پرانا قومی ریکارڈ برابر کر کے نئی تاریخ رقم کر دی، قذافی اسٹیڈیم میں آسٹریلوی بیٹنگ لائن تباہ

کاشف عباسی ,june 05,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جون 2026ء

قومی کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز اور جادوگر اسپنر ابرار احمد نے آسٹریلیا کے خلاف کھیلے گئے تیسرے اور فیصلہ کن ایک روزہ بین الاقوامی (ون ڈے) میچ میں انتہائی شاندار اور جادوئی باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے چالیس سال پرانا قومی ریکارڈ برابر کر دیا ہے، لاہور کے تاریخی قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس اعصاب شکن اور اہم ترین میچ میں ابرار احمد نے اپنے مقررہ دس اوورز میں انتہائی کفایتی اور نپی تلی باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف انیس رنز دیے اور کینگروز کی دو اہم وکٹیں حاصل کیں، اس شاندار اسپیل کے دوران ان کا اکانومی ریٹ محض ایک اعشاریہ نو صفر رہا جو کہ آسٹریلیا کے خلاف کسی بھی پاکستانی باؤلر کی جانب سے اب تک کے بہترین اور یادگار باؤلنگ اسپیلز میں شمار ہوتا ہے، اس بے مثال اور تاریخی کارکردگی کے ساتھ ہی ستائیس سالہ اسپنر ابرار احمد نے آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے کرکٹ میں پاکستانی باؤلرز کے کفایتی ترین باؤلنگ اسپیل کا دیرینہ قومی ریکارڈ باقاعدہ طور پر برابر کر دیا ہے، کرکٹ ریکارڈز کی تفصیلات کے مطابق اس سے قبل سابق نامور آف اسپنر توصیف احمد نے سال انیس سو چھیاسی میں آسٹریلیا کے خلاف دس اوورز میں انیس رنز دے کر دو وکٹیں حاصل کی تھیں جبکہ جادوگر اسپنر سعید اجمل نے سال دو ہزار نو میں متحدہ عرب امارات کے شہر ابوظہبی میں کھیلے گئے ون ڈے میچ میں دس اوورز کے دوران انیس رنز دے کر دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا اور اب ابرار احمد نے بھی انیس رنز کے عوض دو شکار کر کے ان دونوں عظیم باؤلرز کا تاریخی اعزاز اپنے نام کر لیا ہے، میچ کے دوران ابرار احمد کی اس شاندار اور جکڑی ہوئی باؤلنگ نے مضبوط آسٹریلوی بیٹنگ لائن کو مسلسل شدید دباؤ میں رکھا جس نے میچ میں پاکستان کی شاندار کامیابی اور سیریز جیتنے میں سب سے اہم اور کلیدی کردار ادا کیا، یہی وجہ ہے کہ ان کی اس جرات مندانہ کارکردگی کو شائقینِ کرکٹ سمیت دنیا بھر کے نامور کرکٹ ماہرین کی جانب سے سوشل میڈیا اور ٹی وی چینلز پر بھرپور طریقے سے سراہا جا رہا ہے، واضح رہے کہ پاکستان نے اس تیسرے اور فیصلہ کن ون ڈے میچ میں آسٹریلیا کو عبرتناک شکست دے کر یہ ہوم سیریز باقاعدہ طور پر اپنے نام کر کے ملک کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔

افریقہ کے لیے پاکستان کا اہم سفارتی متبادل، ایتھوپیا اور پاکستان کے درمیان معاشی و تجارتی تعاون کے فروغ کے لیے پارلیمانی تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور سفیر ڈاکٹر عمر حسین اوبا کی ملاقات

منصور احمد june 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جون 2026ء

وفاقی جمہوریہ ایتھوپیا اور اسلامی جمہوریہ پاکستان نے باہمی تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، ہوا بازی (ایوی ایشن) اور ثقافتی شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو تیزی سے فروغ دینے کے لیے دونوں ممالک کے مابین پارلیمانی روابط کو مزید مضبوط اور فعال بنانے پر مکمل اتفاق کر لیا ہے، اسلام آباد سے جاری ہونے والی سرکاری تفصیلات کے مطابق یہ اہم ترین سفارتی اتفاقِ رائے جمعہ کے روز وفاقی دارالحکومت میں ایتھوپیا کے سفیر ڈاکٹر عمر حسین اوبا اور چیئرمین سینیٹ پاکستان سید یوسف رضا گیلانی کے درمیان ہونے والی ایک اعلٰی سطح کی ملاقات میں سامنے آیا، اس اہم ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے مختلف شعبوں میں وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتے ہوئے دوطرفہ سفارتی تعلقات کا تفصیلی جائزہ لیا، باہمی تعاون کے نئے امکانات پر گہرائی سے تبادلہ خیال کیا اور مستقبل میں تعلقات کو مزید وسعت دینے کے عزم کا مخلصانہ اعادہ کیا، ملاقات میں ایتھوپیا کے سفیر ڈاکٹر عمر حسین اوبا نے دونوں ممالک کے مابین تاریخی، ثقافتی اور باہمی اقدار پر مبنی دیرینہ تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے پاکستان کو ایک بڑی پیشکش کی کہ ایتھوپیا اس وقت افریقی یونین کا مرکزی ہیڈکوارٹر اور پورے افریقی براعظم کا ایک انتہائی اہم ترین تجارتی دروازہ ہے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان افریقہ میں اپنے سفارتی روابط، باہمی تجارت اور معاشی اثر و رسوخ کو مزید وسعت دے سکتا ہے، دوسری جانب چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے ایتھوپیا میں حالیہ برسوں کے دوران جاری رہنے والی تیز رفتار معاشی ترقی، اقتصادی نمو اور حکومت کے اصلاحاتی اقدامات کو زبردست الفاظ میں سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے عوام کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے لیے ثقافتی وفود کے تبادلے اور مذہبی سیاحت کو دوطرفہ تعلقات کا لازمی حصہ بنایا جانا چاہیے، انہوں نے پاکستان کی بہترین زرعی صلاحیتوں اور تجربے کا ذکر کرتے ہوئے زور دیا کہ ترقی اور خوشحالی کے مشترکہ اہداف کو حاصل کرنے کے لیے دونوں ممالک کو زراعت سمیت مختلف تکنیکی شعبوں میں اپنی مہارت اور تجربات کا مخلصانہ تبادلہ کرنا چاہیے، اس اہم بیٹھک کے اختتام پر دونوں فریقین نے پارلیمانی فرینڈشپ گروپس کے فوری قیام اور دونوں ممالک کے پارلیمانی وفود کے باقاعدہ تبادلوں پر بھی اتفاق کیا تاکہ ادارہ جاتی اور سفارتی تعلقات کو مزید پائیدار بنایا جا سکے، جبکہ دونوں ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا کہ باہمی تعاون کے فروغ کے ذریعے تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، ہوا بازی اور ثقافتی شعبوں میں تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچایا جائے گا۔

دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، پنجگور میں بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشن پر وزیراعظم شہباز شریف کا سکیورٹی فورسز کو زبردست خراجِ تحسین

کاشف عباسی ,june 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جون 2026ء

وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان کے ضلع پنجگور میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے کی جانے والی حالیہ کامیاب اور بڑی کارروائی پر فورسز کے جوانوں اور افسران کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے، وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری کردہ ایک باضابطہ اور اہم ترین بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے حب الوطنی اور جانفشانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پڑوسی ملک بھارت کی خفیہ سرپرستی اور حمایت میں کام کرنے والے خطرناک نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے چھ دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے، وزیراعظم نے اس اہم ترین انٹیلی جنس آپریشن میں حصہ لینے والے سکیورٹی اہلکاروں کی اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت، بے مثال جرات اور لازوال قومی خدمت کے جذبے کو دل کھول کر سراہا، ان کا کہنا تھا کہ ہماری بہادر سکیورٹی فورسز نے انتہائی چاق و چوبند انداز میں ایسے ملک دشمن اور وحشی دہشت گرد عناصر کے خلاف مؤثر زمینی کارروائی کی ہے جو معصوم، بے گناہ اور نہتے پاکستانی شہریوں کی جان و مال کو شدید نقصان پہنچانے کی مذموم و تخریب کارانہ سرگرمیوں میں مخلصانہ طور پر ملوث تھے، وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے عزم کو دہراتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان کی بہادر اور نڈر سکیورٹی فورسز وطنِ عزیز کے چپے چپے کے دفاع، ملکی امن و استحکام اور عوام کے تحفظ کے لیے دن رات ہر وقت الرٹ اور تیار ہیں اور دہشت گردی کی اس طویل جنگ کے خلاف ان کی دی جانے والی عظیم قربانیاں پوری غیور قوم کے لیے باعثِ فخر اور مشعلِ راہ ہیں، انہوں نے اس آہنی عزم کا اعادہ کیا کہ حکومتِ پاکستان ریاست کی رٹ کو برقرار رکھتے ہوئے ملک سے دہشت گردی کی آخری علامت کے مکمل خاتمے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے اور پاک وطن کے امن و امان کو نقصان پہنچانے والے ان تمام شرپسند عناصر کے خلاف ریاستی کارروائیاں پوری فوجی و انتظامی قوت کے ساتھ آخری دم تک جاری رکھی جائیں گی، واضح رہے کہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سکیورٹی فورسز نے پنجگور کے پسماندہ ضلع میں خفیہ اطلاع پر مبنی ایک گرینڈ آپریشن کے دوران چھ مبینہ دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا تھا، جبکہ عسکری کارروائی کے بعد ان کے خفیہ ٹھکانوں کی تلاشی کے دوران بھاری مقدار میں جدید خودکار اسلحہ، گولیوں کا ذخیرہ، گولہ بارود، دیسی ساختہ بم اور ایک گاڑی بھی قبضے میں لے کر دہشت گردی کا ایک بہت بڑا نیٹ ورک ناکام بنا دیا گیا ہے۔

غزہ میں سنگین غذائی بحران کا خاتمہ، سعودی عرب اور عالمی ادارہ صحت کے مابین ہسپتالوں میں غذائی خدمات کو مضبوط بنانے کا تاریخی معاہدہ طے پا گیا، لاکھوں فلسطینیوں کو فوری طبی ریلیف اور مفت کھانا فراہم کیا جائے گا

روزینہ اسماعیل.june 05,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جون 2026ء

سعودی عرب اور عالمی ادارہ صحت نے جنگ زدہ غزہ کی پٹی میں بنیادی صحت کے مراکز اور ہسپتالوں کے اندر غذائی خدمات کو مستحکم و فعال بنانے کے لیے ایک مشترکہ ایگزیکٹو پروگرام پر باقاعدہ دستخط کر دیے ہیں، ریاض سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق یہ بڑا انسانی ہمدردی کا منصوبہ غزہ میں مظلوم فلسطینی عوام کی ہنگامی امداد کے لیے جاری سعودی عوامی مہم کا ایک اہم حصہ ہے جس کے تحت لاکھوں متاثرہ افراد کو مفت طبی اور غذائی سہولیات فراہم کی جائیں گی، اس دستخط شدہ منصوبے کے تحت تقریباً دو لاکھ اٹھاون ہزار دو سو تئیس فلسطینی براہِ راست مستفید ہوں گے جبکہ گیارہ لاکھ بہتر ہزار چار سو سڑسٹھ افراد کو بالواسطہ فائدہ پہنچے گا، پروگرام کا بنیادی اور تزویراتی مقصد غزہ میں صحت اور غذائیت کی گرتی ہوئی صورتحال کو ہنگامی بنیادوں پر بہتر بنانا ہے، خاص طور پر ایسے صدمہ زدہ مریضوں، خواتین اور معصوم بچوں پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی جو شدید غذائی قلت اور پیچیدہ طبی مسائل کا شکار ہیں، اس مہم کے لیے شدید غذائی قلت کے فوری علاج کے لیے خصوصی طبی کٹس فراہم کی جائیں گی اور ہسپتالوں سمیت تمام متحرک صحت مراکز کو غذائی سپلیمنٹس، ضروری وٹامنز، معدنیات، خصوصی غذائی مرکبات اور وریدی غذا یعنی بوتل کے ذریعے دی جانے والی غذائیت کے محلول کے ساتھ ساتھ دیگر تمام ضروری طبی سامان اور جدید آلات بھی وافر مقدار میں دستیاب کیے جائیں گے، یہ انقلابی منصوبہ شاہ سلمان امدادی مرکز اور عالمی ادارہ صحت کے باہمی تعاون سے جاری وسیع تر انسانی امدادی پروگراموں کا حصہ ہے جس کا اصل ہدف فلسطین میں تباہ حال صحت کے شعبے کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا، طبی خدمات کے گرتے ہوئے معیار کو بہتر بنانا اور غذائی بحران سے شدید متاثرہ خاندانوں کی بروقت مدد کرنا ہے، دوسری جانب سعودی حکام نے مزید بتایا کہ شاہ سلمان امدادی مرکز کے زیرِ نگرانی قائم مرکزی باورچی خانہ غزہ میں بے گھر اور شدید متاثرہ فلسطینی خاندانوں کے لیے روزانہ کی بنیاد پر تازہ اور گرم کھانوں کی مسلسل تقسیم کا سلسلہ بھی پوری تندہی سے جاری رکھے ہوئے ہے اور یہ سرگرمی بھی سعودی عرب کی جانب سے اپنے فلسطینی بھائیوں کی مخلصانہ امداد اور انسانی ہمدردی کی ان عظیم کوششوں کا تسلسل ہے جس کا واحد مقصد جنگ اور بدترین بحران سے متاثرہ بے گناہ شہریوں کو ان کی دہلیز پر فوری اور عملی ریلیف فراہم کرنا ہے۔

سیاسی نظام کی حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ ایک معاملے پر متفق نظر آتے ہیں کہ تحریک انصاف موجود نہیں ہونی چاہیے، سابق وفاق وزیر فواد چوہدری کا سنسنی خیز دعویٰ

کاشف عباسی ,june 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جون 2026ء

سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے ملک کے موجودہ سیاسی منظرنامے کے حوالے سے ایک انتہائی سنسنی خیز اور تزویراتی دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی چیئرمین عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ بظاہر ایک اہم معاملے پر مکمل متفق نظر آتے ہیں اور وہ نکتہ یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف موجود نہیں ہونی چاہیے، ایک نجی ٹی وی چینل کے معروف صحافتی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس پوزیشن کی تفصیل بتائی کہ ایک جانب اسٹیبلشمنٹ نے تحریک انصاف کے متعدد سینیئر رہنماؤں کو گرفتار کیا جبکہ دوسری جانب خود عمران خان نے پارٹی کے اندر ایسے متبادل اور غیر معروف افراد کو آگے لا کر اہم ذمہ داریاں سونپ دیں جن کے پاس کوئی سیاسی تجربہ، عوامی اثر و رسوخ یا مضبوط تنظیمی حیثیت سرے سے موجود ہی نہیں تھی، فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ان دونوں طرف کے فیصلوں اور حکمتِ عملی کے نتیجے میں پارٹی کی مجموعی تنظیمی طاقت شدید کمزور ہوئی اور تحریک انصاف کو ناقابلِ تلافی سیاسی نقصان پہنچا، انہوں نے موجودہ نازک صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ اب پارٹی اس پوزیشن میں بالکل نہیں رہی کہ وہ جیل میں بند عمران خان کی کوئی مؤثر سیاسی مدد یا ان کی رہائی کے لیے کوئی بڑا دبائو ڈال سکے، اس لیے اب عمران خان کو اپنے اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان موجود تمام تر سنگین اختلافات کو کسی تیسرے فریق کے بغیر خود براہِ راست حل کرنا ہوں گے، سابق وفاقی وزیر نے فوج اور ملکی سیاسی قیادت کے مابین تعلقات کے اصولوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ تعلقات میں بہتری لانے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ کوئی بھی رہنما اپنے بنیادی سیاسی مؤقف، نظریے یا بیانیے سے دستبردار ہو جائے، تاہم پاکستان کے موجودہ سیاسی نظام کی زمینی حقیقت اور طاقت کے توازن کو کسی بھی طور نظرانداز بھی نہیں کیا جا سکتا، انہوں نے بانی تحریک انصاف کو مخلصانہ مشورہ دیتے ہوئے زور دیا کہ عمران خان کو اب ملکی فوج کے ساتھ اپنے بگاڑے ہوئے تعلقات کو ہر حال میں بہتر بنانے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے اور ان تعلقات کی دوبارہ بحالی کا طریقہ کار اور فارمولا بھی خود عمران خان کو ہی طے کرنا ہوگا کیونکہ اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان دونوں کو ایک دوسرے کے لیے ملکی بقا کی خاطر سیاسی گنجائش پیدا کرنا ہوگی، انہوں نے خبردار کیا کہ یکطرفہ طرزِ عمل یا اکھڑ پن سے معاملات کبھی آگے نہیں بڑھ سکتے، اس لیے ملک میں پائیدار سیاسی و معاشی استحکام کی واپسی کے لیے بامقصد مکالمہ، سیاسی برداشت اور باہمی رابطہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے کیونکہ تصادم اور اداروں کے ساتھ لڑائی کی سیاست کسی بھی فریق یا ملک کے مفاد میں نہیں۔

بلوچستان میں بڑی کارروائی، پنجگور میں سکیورٹی فورسز کا خفیہ اطلاع پر مبنی گرینڈ آپریشن، بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے 6 دہشت گرد ہلاک، بھاری مقدار میں اسلحہ و بارود برآمد

منصور احمد june 05,2026

پنجگور (نیوز اینڈ نیوز) — 05 جون 2026ء

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع پنجگور میں ایک انتہائی اہم اور بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے تین اور چار جون کی درمیانی شب خفیہ اطلاع پر مبنی ایک گرینڈ آپریشن کے دوران چھ مبینہ دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا ہے، عسکری ذرائع کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق یہ ٹارگٹڈ کارروائی ایک ایسے مخصوص اور حساس مقام پر کی گئی جہاں مبینہ طور پر پڑوسی ملک بھارت کی براہِ راست سرپرستی میں کام کرنے والے انتہائی خطرناک دہشت گرد روپوش تھے اور ملک دشمن سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز کے چاق و چوبند دستوں نے جدید ہتھیاروں سے لیس دہشت گردوں کے متعدد خفیہ ٹھکانوں کو انتہائی مؤثر اور کمانڈو انداز میں نشانہ بنایا جس کے بعد دونوں اطراف سے شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور فورسز نے گھیراؤ سخت کرتے ہوئے چھ شرپسندوں کو موقع پر ہی ڈھیر کر دیا، کارروائی کی تفصیلات بتاتے ہوئے ترجمان نے مزید انکشاف کیا کہ ہلاک ہونے والے ان دہشت گردوں کے قبضے سے جدید خودکار اسلحہ، خطرناک گولہ بارود، دیسی ساختہ بم اور ایک گاڑی بھی برآمد کر لی گئی ہے جبکہ سکیورٹی حکام نے تصدیق کی ہے کہ مارے جانے والے تمام افراد پنجگور اور اس کے گردونواح کے علاقوں میں معصوم شہریوں پر حملوں، تخریب کاری اور دہشت گردی کی متعدد سنگین کارروائیوں میں مخلصانہ طور پر مطلوب اور ملوث تھے، آئی ایس پی آر نے موجودہ صورتحال کے حوالے سے بتایا کہ ضلع پنجگور کے اس پورے علاقے میں اب بھی سکیورٹی فورسز کا وسیع پیمانے پر کلیئرنس اور سرچ آپریشن پوری قوت سے جاری ہے تاکہ وہاں موجود کسی بھی دوسرے ممکنہ دہشت گرد یا ان کے سہولت کار کی موجودگی کا جڑ سے خاتمہ کیا جا سکے، اس کامیاب ترین مشن کے بعد سکیورٹی فورسز نے اپنے آہنی عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک عزیز کی خودمختاری، امن و استحکام اور معیشت کو نقصان پہنچانے والے ان شرپسند عناصر کے خلاف بلا تفریق کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی اور پاک وطن سے دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے کے لیے آخری گولی اور آخری خون کے قطرے تک تمام ضروری اور سخت ترین اقدامات کیے جائیں گے۔

موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے اب عالمی برادری کو زبانی دعووں سے نکل کر عملی اقدامات کرنا ہوں گے، عالمی یومِ ماحولیات پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا اہم ترین پیغام

محمود احمد june 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 05 جون 2026ء

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر اپنے ایک خصوصی، تفصیلی اور تزویراتی پیغام میں موسمیاتی بحران کے مقابلے کے لیے عالمی اور علاقائی سطح پر اجتماعی کوششوں کو مزید مضبوط بنانے کی اشد ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کرہ ارض کے تحفظ اور ماحولیاتی مسائل کے مؤثر مقابلے کے لیے تمام اجتماعی اقدامات کو ہر ممکن حد تک مضبوط بنانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے، انہوں نے عالمی فورمز پر پاکستان کا مقدمہ لڑتے ہوئے اس بات کو ایک بار پھر واضح طور پر اجاگر کیا کہ پاکستان عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں انتہائی کم حصے دار ہونے کے باوجود موسمیاتی تبدیلیوں اور ان کے تباہ کن اثرات سے دنیا بھر میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے خطوں اور ممالک کی فہرست میں شامل ہے، اس کے باوجود ملک مسلسل آنے والے ریکارڈ توڑ اور تباہ کن سیلابوں، شمالی علاقہ جات میں گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے عمل، زرعی زمینوں کو بنجر کرنے والی شدید خشک سالی، گرمیوں کے موسم میں ریکارڈ توڑ شدید گرمی کی لہروں (ہیٹ ویوز) اور ملک بھر میں پینے اور زراعت کے پانی کے بڑھتے ہوئے شدید دباؤ جیسے سنگین ترین وجودی چیلنجز کے مقابلے میں بے پناہ ثابت قدمی، ہمت اور قومی عزم کا مظاہرہ کر رہا ہے، سینیٹر محمد اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی، دنیا سے مختلف جانداروں اور حیاتیاتی تنوع میں خطرناک حد تک ہونے والی کمی اور مجموعی طور پر ماحولیاتی تنزلی جیسے باہم جڑے ہوئے پیچیدہ عالمی مسائل سے نمٹنے کے لیے اب روایتی طریقوں سے ہٹ کر بین الاقوامی تعاون اور مشترکہ فنڈنگ کو مزید وسعت دینا ناگزیر ہو چکا ہے اور اس عالمی مہم کے ضمن میں “مشترکہ مگر مختلف ذمہ داریوں اور متعلقہ صلاحیتوں” کے عالمی سطح پر مانے گئے اصول کو ہمیشہ مخلصانہ طور پر پیشِ نظر رکھا جانا چاہیے تاکہ متاثرہ ممالک کو ان کا جائز حق مل سکے، انہوں نے حکومت کی داخلی پالیسیوں کی تفصیل بتاتے ہوئے واضح کیا کہ قومی سطح پر حکومتِ پاکستان ماحولیاتی تحفظ اور شجرکاری کو اپنی تمام تر ریاستی اور وفاقی پالیسی ترجیحات کا ایک مرکزی اور لازمی جزو بنانے کے لیے مخلصانہ طور پر کوشاں ہے جہاں اس طویل المدتی منصوبے کے سلسلے میں موجودہ حکومت کا ایک اہم ترین اور تاریخی سنگِ میل یہ ہے کہ اب صاف, صحت مند اور پائیدار ماحول کے حق کو ملک کے ہر شہری کا بنیادی آئینی حق تسلیم کیا گیا ہے، نائب وزیراعظم نے حکومتی اقدامات کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے محفوظ اور ہم آہنگ رہائشی منصوبوں کی تعمیر، ماحول کو آلودگی سے بچانے کے لیے صاف و گرین توانائی کی جانب تیز تر منتقلی اور بڑے شہروں میں ماحول دوست و پائیدار تعمیراتی طریقوں کے فروغ کے لیے عملی اور ٹھوس زمینی اقدامات کر رہا ہے، تاہم موسمیاتی بحران کی روز بہ روز بڑھتی ہوئی سنگینی اس امر کی سختی سے متقاضی ہے کہ عالمی برادری محض بیانات تک محدود رہنے کے بجائے مشترکہ، مادی اور مؤثر اقدامات کو یقینی بنائے، اپنے اس تفصیلی پیغام کے آخر میں انہوں نے آذربائیجان کی حکومت کا عالمی یومِ ماحولیات دو ہزار چھبیس کی شاندار اور کامیاب میزبانی کرنے پر خصوصی اور مخلصانہ شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان عالمی ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کو یکجا کرنے، ماحولیاتی فنڈز کی منصفانہ تقسیم اور تعمیری عالمی مکالمے کے فروغ میں آذربائیجان کی موجودہ قائدانہ کاوشوں اور سفارتی کردار کو انتہائی قدر اور احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات آٹھ دہائیوں سے مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں، امریکی سفارتخانے میں ڈھائی سویں سالگرہ کی تقریب سے وزیراعظم شہباز شریف کا خطاب

محمود احمد june 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 جون 2026ء

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے مابین آٹھ دہائیوں پر محیط تاریخی تعلقات انسدادِ دہشت گردی، باہمی تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، تعلیم، صحت اور توانائی سمیت متعدد اہم شعبوں میں انتہائی مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں۔ اسلام آباد میں واقع امریکی سفارتخانے میں امریکہ کی ڈھائی سویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ ایک پروقار تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، امریکی انتظامیہ اور وہاں کے عوام کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی، جبکہ انہوں نے دونوں ممالک کے مابین تعلقات کی تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا کہ امریکہ دنیا کے ان اولین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے قیامِ پاکستان کے بعد اسے فوری طور پر تسلیم کیا تھا اور دونوں ممالک کے تعلقات ہمیشہ باہمی احترام، اعتماد اور اسٹریٹجک تعاون پر مبنی رہے ہیں، اسی طرح دونوں ممالک کے مابین تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط میں وقت کے ساتھ ساتھ مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جہاں دس لاکھ سے زائد پاکستانی نژاد امریکی شہری دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط بنانے میں ایک اہم اور متحرک پل کا کردار ادا کر رہے ہیں، انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت لگ بھگ اسی بڑی امریکی کمپنیاں پاکستان میں کامیابی سے کاروبار کر رہی ہیں جبکہ ہزاروں پاکستانیوں نے امریکی جامعات سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے اور وہ مختلف شعبوں میں اپنی بہترین خدمات انجام دے رہے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف نے جنوبی ایشیا کے خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے امریکی صدر کے مثبت کردار کو کھل کر سراہا اور کہا کہ پاکستان اور بھارت کے مابین شدید کشیدگی کے دوران جنگ بندی کرانے میں امریکی کوششوں کو پاکستان ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو عالمی تاریخ میں ہمیشہ امن کے ایک سچے داعی کے طور پر یاد رکھا جائے گا، سفارتی تعلقات کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ پاکستان اس وقت امریکہ اور ایران کے مابین ایک مخلص اور غیر جانبدار ثالث کے طور پر اپنا بھرپور سفارتی کردار ادا کر رہا ہے تاکہ خطے میں کسی بھی ممکنہ جنگ کو روک کر پائیدار امن قائم کیا جا سکے اور انہوں نے اس اہم ترین مشن اور علاقائی استحکام کے سلسلے میں سپہ سالار جنرل عاصم منیر کی انتھک سفارتی کوششوں کو بھی خصوصی طور پر سراہا اور عزم ظاہر کیا کہ علاقائی اور عالمی امن کے لیے پاکستان ہمیشہ اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا، وزیراعظم نے پاکستان کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں تربیلا ڈیم، زرعی ترقی کے منصوبوں، تعلیمی وظائف اور مختلف سماجی فلاحی پروگراموں میں امریکی مالی و تکنیکی تعاون کا مخلصانہ ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس طویل شراکت داری نے پاکستان کی مجموعی ترقی میں ہمیشہ ایک کلیدی کردار ادا کیا ہے اور انہوں نے قوی امید ظاہر کی کہ آنے والے برسوں میں پاکستان اور امریکہ کے باہمی تعلقات مزید گہرے ہوں گے اور دونوں ممالک مشترکہ تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے۔

عالمی سیاست میں بہت بڑی پیش رفت، امریکہ اور ایران تاریخی معاہدے کے انتہائی قریب پہنچ گئے، رواں ہفتے کے آخر تک حتمی اعلان متوقع، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا انکشاف

محمود احمد june 04,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 04 جون 2026ء
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حیران کن اور تزویراتی انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری اعلٰی سطح کے مذاکرات اب فیصلہ کن اور آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور قوی امکان ہے کہ رواں ہفتے کے اختتام (ویک اینڈ) تک دونوں ممالک کے مابین ایک تاریخی معاہدہ طے پا جائے۔ وائٹ ہاؤس میں میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے بتایا کہ دونوں ممالک طویل کشیدگی کے بعد اب معاہدے کے بالکل قریب ہیں اور ان کی دلی خواہش ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید تناؤ کا خاتمہ صرف اور صرف سفارتی اور سیاسی طریقے سے ہی ممکن بنایا جائے۔
آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایرانی جوہری پروگرام پر سخت شرائط
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ممکنہ معاہدے کے چیدہ چیدہ نکات پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا کہ:
بحری آمدورفت کی بحالی: اس ممکنہ معاہدے کے فوری بعد عالمی تجارتی شاہراہ ‘آبنائے ہرمز’ میں بین الاقوامی بحری جہازوں کی آمدورفت اور تیل کی ترسیل مکمل طور پر معمول پر آ سکے گی۔
جوہری ہتھیاروں پر پابندی: انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں اعادہ کیا کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
سخت نگرانی: ایران کی تمام تر جوہری سرگرمیوں سے متعلق معاملات اور ان کی سخت نگرانی اس نئے معاہدے کا سب سے اہم اور مرکزی حصہ ہیں۔
سفارت کاری کو ترجیح: خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے قیام کے لیے فوجی کارروائی کے بجائے سفارتی حل کو ہی اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔
لبنان کی صورتحال اور حزب اللہ کی جانب سے یقین دہانی کا دعویٰ
امریکی صدر نے مشرقِ وسطیٰ کے دیگر بحرانوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے بھرپور کوشش کی جا رہی ہے کہ لبنان کے داخلی حالات اور آبنائے ہرمز کے معاملات کو ایک دوسرے سے بالکل الگ تھلگ رکھا جائے تاکہ مختلف نوعیت کے بین الاقوامی تنازعات کے حل میں کوئی نئی پیچیدگی پیدا نہ ہو۔ انہوں نے ایک بڑا دعویٰ بھی کیا کہ لبنانی عسکری تنظیم حزب اللہ کی جانب سے یہ اہم یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ وہ فی الحال اسرائیل پر کوئی بڑا حملہ نہیں کرے گی، جس کے بعد خطے میں جنگ کے بادل چھٹنے اور کشیدگی کم کرنے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔
امریکی کانگریس میں بحث اور ٹرمپ کی کڑی تنقید
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ایوانِ نمائندگان (کانگریس) میں ان کی انتظامیہ کے خلاف پیش کی جانے والی اس حالیہ قرارداد پر کڑی تنقید کی جس میں ایران کے خلاف صدر کے جنگی اختیارات کو محدود کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے مخالفین کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ: واشنگٹن کے بعض مخصوص سیاسی حلقے ملکی مفاد کو پسِ پشت ڈال کر صرف ذاتی مفاد کے لیے ان کی کامیاب خارجہ پالیسیوں کی بلاوجہ مخالفت کر رہے ہیں۔
امریکہ کو کسی بھی نئی اور لاحاصل جنگ میں دھکیلنے کے بجائے سفارت کاری اور پرامن مذاکرات کو ایک موقع دیا جانا چاہیے۔
ان کی موجودہ انتظامیہ دن رات صرف مذاکرات کے ذریعے ہی دیرینہ عالمی تنازعات کے پرامن خاتمے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے۔
ممکنہ معاہدے پر دنیا بھر کی نظریں
امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے اس متوقع معاہدے پر اس وقت عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے کیونکہ اس تاریخی پیش رفت کے براہِ راست اثرات مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سلامتی، عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں (توانائی منڈیوں) اور بین الاقوامی سفارت کاری پر مرتب ہوں گے۔ اگر یہ معاہدہ اگلے دو روز میں طے پا جاتا ہے تو یہ دونوں ممالک کے مابین دہائیوں پر محیط حالیہ کشیدگی کے بعد تاریخ کی سب سے بڑی اور اہم سفارتی پیش رفت تصور کی جائے گی۔

حکومت ملی تو گلگت بلتستان میں سستی ترین بجلی بنا کر پورے پاکستان کو دیں گے، بلاول بھٹو زرداری کا غذر کے بڑے انتخابی جلسے میں اعلان

کاشف عباسی ,june 04,2026

غذر، گلگت بلتستان (نیوز اینڈ نیوز) — 4 جون 2026ء
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایک بڑے عوامی اور انتخابی معرکے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات میں عوام نے پیپلز پارٹی کو حکومت بنانے کا موقع دیا، تو یہاں پانی سے بھاری مقدار میں بجلی پیدا کر کے پورے پاکستان کو سب سے کم اور سستے نرخوں پر فراہم کی جائے گی۔ غذر میں ایک بہت بڑے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ ماضی کی تحقیقات کے مطابق گلگت بلتستان میں تقریباً پچاس ہزار میگاواٹ پن بجلی پیدا کرنے کی قدرتی صلاحیت موجود ہے، جسے عوامی و نجی شعبے کی مشترکہ شراکت داری (پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ) کے ذریعے کامیابی سے بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔
گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں آئینی صوبہ بنانے کا تاریخی وعدہ
بلاول بھٹو زرداری نے جلسے کے شرکا سے وعدہ کیا کہ اقتدار میں آنے کے بعد وہ خود اسلام آباد جا کر وفاق سے یہ زوردار مطالبہ کریں گے کہ گلگت بلتستان کو باقاعدہ طور پر پاکستان کا پانچواں آئینی صوبہ تسلیم کیا جائے تاکہ یہاں کے غیور عوام کو مکمل آئینی حقوق، نمائندگی اور حقِ حکمرانی حاصل ہو سکے۔ انہوں نے خطے کے حوالے سے درج ذیل اہم نکات کا اعادہ کیا:
آئینی شناخت: گلگت بلتستان کے چپے چپے کو ملک کے دیگر صوبوں کی طرح مکمل آئینی شناخت دی جائے گی۔
حقِ ملکیت: مقامی آبادی کے حقِ ملکیت پر بغیر کسی دباؤ کے سو فیصد عملدرآمد کرایا جائے گا۔
زمینوں کے حقوق: یہاں کے مقامی عوام کو ان کی آبائی زمینوں کے قانونی اور مالکانہ حقوق دیے جائیں گے۔
حقوق کی جنگ: پیپلز پارٹی خطے کے مظلوم عوام کو ان کے حقوق دلانے کے لیے اپنی سیاسی جدوجہد آخری دم تک جاری رکھے گی۔
نوجوانوں کے لیے روزگار اور مفت ہاؤسنگ منصوبوں کا اعلان
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ خطے کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو باعزت روزگار فراہم کرنا ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور حکومت بننے کی صورت میں کسی سفارش کے بغیر، خالص میرٹ پر ہزاروں سرکاری ملازمتوں کے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔ انہوں نے صوبہ سندھ کے کامیاب ماڈل کی طرز پر یہاں بھی ‘جی بی پیپلز ہاؤسنگ انیشیٹو’ کے نام سے غریبوں کے لیے مفت گھروں کے منصوبے کا اعلان کیا اور کہا کہ اس فلاحی اسکیم کا باقاعدہ آغاز غذر کی سرزمین سے کیا جائے گا۔
صحت اور تعلیم کے شعبے میں انقلابی اقدامات کا وعدہ
بلاول بھٹو زرداری نے سندھ میں صحت کے شعبے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح کراچی اور سندھ کے دیگر شہروں میں امراضِ قلب اور گردہ و جگر کے بڑے ہسپتالوں کے ذریعے عوام کو اربوں روپے کا مفت علاج فراہم کیا جا رہا ہے، بالکل اسی طرز کے جدید اور عالمی معیار کے طبی ادارے گلگت بلتستان میں بھی قائم کیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ
خطے کے تمام چھوٹے بڑے ہسپتالوں کی حالتِ زار کو ہنگامی بنیادوں پر بہتر بنایا جائے گا۔
دیہی علاقوں کے لیے ماں اور بچے کی صحت کے خصوصی ہیلتھ پروگرام متعارف کرائے جائیں گے۔
تمام جدید طبی سہولیات اور مفت ادویات عام آدمی کی دہلیز تک پہنچائی جائیں گی۔
انفراسٹرکچر، سڑکوں اور تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی
خطے کی پسماندگی کا ذکر کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے سڑکوں اور انٹرنیٹ کے سنگین مسائل کو تسلیم کیا۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ جدید ترین سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے جی بی کے دور دراز علاقوں میں تیز رفتار انٹرنیٹ کے مواصلاتی رابطوں کو بحال کیا جائے گا، جبکہ علاقائی تجارتی راستوں کی تعمیر اور سیاحتی منصوبوں پر اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ انہوں نے جلسے کے آخر میں تمام کارکنوں اور عوام سے پرزور اپیل کی کہ وہ 7 جون کو ہونے والے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنائیں تاکہ ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح کے ان تمام وعدوں کو عملی شکل دی جا سکے۔

جماعت اسلامی کا پٹرول، بجلی اور مہنگائی کے خلاف ملک گیر عوامی تحریک چلانے کا اعلان، حافظ نعیم الرحمن کی کارکنوں کو بڑی مہم کی تیاری کی ہدایت

منصور احمد june 04,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 4 جون 2026ء

جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے پٹرولیم مصنوعات، بجلی کی قیمتوں میں ہوش رُبا اضافے اور کمر توڑ مہنگائی کے خلاف آنے والے دنوں میں ملک گیر سطح پر ایک بڑی عوامی تحریک چلانے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ مرکزِ منصورہ سے ملک بھر کے جماعتی ذمہ داران اور تنظیمی عہدیداروں کے ایک اہم ترین آن لائن اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امیرِ جماعت اسلامی نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی خالصتاً عوامی حمایت کے ذریعے ملکی نظام کی تبدیلی چاہتی ہے اور وہ کسی بھی قسم کی پسِ پردہ سازش یا غیر جمہوری طریقے سے اقتدار حاصل کرنے پر رتی بھر یقین نہیں رکھتی۔

لاکھوں نئے ارکان کی شمولیت: رکنیت سازی مہم تیز کرنے کی سخت ہدایت حافظ نعیم الرحمن نے ملک بھر کے کارکنان اور ذمہ داران کو خصوصی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ کے دس روز کو مکمل طور پر رکنیت سازی مہم کے لیے وقف کر دیا جائے اور مقررہ اہداف کے فوری حصول کے لیے تمام تر توانائیاں بروئے کار لائی جائیں۔ انہوں نے مہم کے اہداف کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا:

پچھلا مرحلہ: رکنیت سازی کے گزشتہ مرحلے میں ملک بھر سے تقریباً اٹھارہ سے بیس لاکھ افراد نے جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کی۔
موجودہ ہدف: اس موجودہ مرحلے میں بھی پندرہ سے بیس لاکھ نئے ارکان کو شامل کرنے کا بڑا ہدف آسانی سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
بڑے شہروں پر فوکس: کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے تمام بڑے شہروں پر خصوصی توجہ مرکوز کر کے ہر علاقے اور گلی محلے کو اس مہم میں کور کیا جائے۔

مہنگائی اور عوامی مسائل پر دو ٹوک موقف امیرِ جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بجلی کے بھاری بلوں اور پٹرول کی قیمتوں نے غریب عوام کو زندہ درگور اور شدید ترین مشکلات سے دوچار کر دیا ہے، ایسی صورتحال میں جماعت اسلامی مظلوم عوام کی توانا آواز بنے گی۔ انہوں نے سوشل میڈیا اور پیغام رسانی کی ڈیجیٹل ایپلی کیشنز کے استعمال پر زور دیتے ہوئے کارکنوں کو ہدایت کی کہ

جدید مواصلاتی ذرائع کے گروپس کے ذریعے جماعت کا منشور اور اصلاحی پیغام گھر گھر پہنچایا جائے۔
عوامی مسائل کو انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مؤثر اور بھرپور انداز میں اجاگر کیا جائے۔
نچلی سطح تک تنظیمی رابطوں اور نیٹ ورک کو مزید مضبوط اور فعال بنایا جائے۔

بجٹ کے تناظر میں ملک گیر احتجاجی تحریک کا عندیہ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ آنے والے وفاقی بجٹ اور عوامی مشکلات کے تناظر میں جماعت اسلامی کسی بھی وقت ملک گیر احتجاج یا بڑی عوامی تحریک کی حتمی کال دے سکتی ہے، جس کے لیے ملک بھر کے کارکنان کو ذہنی اور تنظیمی طور پر ہر وقت مکمل تیار رہنا چاہیے۔

نوجوان نسل کو تباہی سے بچانے اور سماجی اصلاحات پر زور اپنے خطاب کے آخر میں انہوں نے نوجوانوں میں منشیات کے بڑھتے ہوئے خطرناک رجحان کو ایک سنگین قومی بحران قرار دیا۔ انہوں نے اساتذہ، علمائے کرام، ڈاکٹروں، انجینئرز اور دیگر بااثر سماجی شخصیات کو ساتھ ملا کر ایک منظم اور ملک گیر آگاہی مہم چلانے کی ضرورت پر زور دیا۔ حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی صرف ایک روایتی سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک دینی و اصلاحی تحریک ہے جو معاشرتی بہتری، بلا تفریق عوامی خدمت اور اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے کوشاں ہے۔

قذافی اسٹیڈیم میں پاکستان کی تاریخی فتح، تیسرے ون ڈے میں آسٹریلیا کو دھول چٹا کر ایک روزہ میچوں کی سیریز اپنے نام کر لی

محمود احمد june 04,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 04 جون 2026ء

قومی کرکٹ ٹیم نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے تیسرے اور فیصلہ کن ایک روزہ بین الاقوامی میچ میں مہمان آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کو چار وکٹوں سے عبرتناک شکست دے دی ہے۔ اس فتح کے ساتھ ہی پاکستان نے تین میچوں پر مشتمل یہ اہم ترین بین الاقوامی سیریز ایک کے مقابلے میں دو میچوں سے اپنے نام کر کے ملک بھر کے شائقینِ کرکٹ کو جشن کا ایک شاندار تحفہ پیش کر دیا ہے۔

آسٹریلیا کی بیٹنگ لائن ریت کی دیوار ثابت، پوری ٹیم 157 پر ڈھیر لاہور کے تاریخی قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس معرکے میں آسٹریلوی کپتان جوش انگلس نے ٹاس جیت کر پہلے خود بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم پاکستانی بولرز کی تباہ کن اور منظم کارکردگی کے سامنے مہمان ٹیم کا کوئی بھی بڑا بلے باز جم کر نہ کھیل سکا اور پوری آسٹریلوی ٹیم محض 157 رنز پر ہی ڈھیر ہو گئی۔ آسٹریلیا کی جانب سے کپتان جوش انگلس 65 رنز بنا کر سب سے نمایاں رہے، جبکہ مارنس لبوشین اور الیکس کیری صرف 19، 19 رنز ہی جوڑ سکے۔

قومی بولرز کی نپی تلی اور تباہ کن بولنگ پاکستان کی جانب سے فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی نے حریف ٹیم کی بیٹنگ لائن کے پرخچے اڑاتے ہوئے 3 اہم وکٹیں حاصل کیں۔ ان کے ہمراہ اسپنر ابرار احمد اور شاداب خان نے بہترین تال میل کا مظاہرہ کرتے ہوئے 2، 2 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی، جبکہ حارث رؤف بھی 1 وکٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

ہدف کا کامیاب تعاقب اور فیصلہ کن شراکت داری آسٹریلیا کی جانب سے دیے گئے 158 رنز کے آسان ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی شروعات اگرچہ کچھ مشکلات کا شکار رہیں، تاہم قومی بلے بازوں نے ذمہ دارانہ کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے 42 ویں اوور میں 6 وکٹوں کے نقصان پر مطلوبہ ہدف حاصل کر لیا۔ پاکستان کی جانب سے مایہ ناز بلے باز بابر اعظم 40 رنز بنا کر نمایاں رہے جبکہ معاذ صداقت نے 27 رنز کی اننگز کھیلی۔ میچ کے نازک موڑ پر عبدالصمد اور شاداب خان نے شاندار اعصاب کا مظاہرہ کیا اور ساتویں وکٹ کے لیے 49 رنز کی انتہائی اہم اور ناقابلِ شکست شراکت قائم کر کے ٹیم کو فتح کی دہلیز تک پہنچایا۔

یادگار فتح اور اسٹیڈیم میں جشن کا سماں اس تزویراتی کامیابی کے بعد قذافی اسٹیڈیم لاہور میں موجود ہزاروں شائقینِ کرکٹ نے ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالے اور قومی پرچم لہرا کر پاکستان زندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگائے۔ مبصرین کے مطابق، قومی ٹیم کی اس تاریخی کامیابی میں بولرز کی غیر معمولی کارکردگی اور درمیانی لائن کے بلے بازوں کی ذمہ دارانہ بلے بازی نے سب سے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔

شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے عالمی تعاون بڑھایا جائے، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا تنظیم برائے انسدادِ کیمیائی ہتھیار کے فریم ورک کے تحت استعدادِ کار میں اضافے پر زور

محمود احمد june 04,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 4 جون 2026ء

پاکستان نے دنیا کے کسی بھی خطے، کسی بھی فرد، کسی بھی جگہ اور کسی بھی صورت میں مہلک کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی سخت ترین الفاظ میں مخالفت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کا بین الاقوامی کنونشن عالمی تخفیفِ اسلحہ اور پائیدار امن کے نظام کا ایک بنیادی ستون ہے۔

پاکستان کا اصولی موقف اور شامی حکومت کے عزم کی تعریف مشرقِ وسطیٰ اور بالخصوص شام میں کیمیائی ہتھیاروں کی صورتحال سے متعلق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک خصوصی بریفنگ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے نائب مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے کہا کہ پاکستان اس عالمی کنونشن کی عالمگیریت اور اس کے مکمل، مؤثر اور بغیر کسی امتیاز کے نفاذ کے لیے کیے جانے والے تمام اقدامات کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے شام کی حکومت کی جانب سے تنظیم برائے انسدادِ کیمیائی ہتھیار کے ساتھ مکمل تعاون کے عزم کو سراہا اور کہا کہ یہ تعاون کیمیائی ہتھیاروں کے ممکنہ باقیات کے خاتمے کے عمل کو تیز کرنے میں انتہائی معاون ثابت ہو رہا ہے۔

زیرِ التوا امور، سکیورٹی چیلنجز اور رکاوٹیں سفیر عثمان جدون نے تنظیم برائے انسدادِ کیمیائی ہتھیار کے ڈائریکٹر جنرل کی حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیا، جس میں بتایا گیا ہے کہ چھبیس میں سے انیس زیرِ التوا امور اب بھی حل طلب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنیکل سیکرٹریٹ ان مقامات کی نشاندہی کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے جو کنونشن کے تحت قابلِ اعلامیہ ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سیکرٹریٹ نے ضروریات اور خلا کے جائزے کے تحت ان کمزوریوں کی ایک غیر حتمی فہرست بھی تیار کی ہے جو شامی حکام کی فراہمی اور ان کی دستیاب استعداد کے درمیان موجود ہیں۔ تاہم، پاکستانی مندوب نے خبردار کیا کہ شام کی موجودہ سکیورٹی صورتحال اور بعض اہم علاقوں پر دیگر قوتوں کے قبضے کی کیفیت اس عمل کے بروقت اور مؤثر نفاذ میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہے۔

شامی حکام کی استعدادِ کار میں اضافے کا مطالبہ اپنے خطاب کے دوران انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا:

“یہ امر انتہائی ضروری ہے کہ شامی حکام کو درپیش زمینی رکاوٹوں اور اندرونی چیلنجوں پر قابو پانے کے لیے ان کی انتظامی و عسکری استعدادِ کار میں اضافہ کیا جائے اور ان کے ساتھ عالمی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے۔”

انہوں نے واضح کیا کہ یہ تعاون کئی بڑے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے انتہائی اہم ہے، جن میں مشتبہ مقامات کی نوعیت، ادارہ جاتی محدودیتیں، اور شامی قومی ٹیموں کی کیمیائی گولہ بارود کو سنبھالنے، ان کی نقل و حمل اور انہیں محفوظ طریقے سے ذخیرہ کرنے سے متعلق محدود تکنیکی صلاحیت اور تجربہ شامل ہیں۔

برادر ممالک ترکیہ اور قطر کی کوششوں کی تعریف نائب مستقل مندوب نے ان تمام عالمی فریقین کی بھی کھل کر تعریف کی جو شامی حکام کی استعداد بڑھانے اور ادارہ جاتی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں اپنا تکنیکی تعاون فراہم کر رہے ہیں۔ اس اہم ترین مہم کے حوالے سے انہوں نے برادر مسلم ممالک ترکیہ اور قطر کی سفارتی اور تزویراتی کوششوں کو خصوصی طور پر سراہا۔

اخری میں انہوں نے ٹیکنیکل سیکرٹریٹ پر زور دیا کہ وہ کنونشن کے مطابق اپنی آزادانہ تصدیقی ذمہ داریاں پوری دیانت داری سے جاری رکھے تاکہ شام میں موجود مشتبہ کیمیائی ہتھیاروں اور ان کے پھیلاؤ کے کسی بھی ممکنہ خطرے کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کیا جا سکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں فریقین کے درمیان جاری مثبت روابط مزید مضبوط بنیاد فراہم کریں گے تاکہ تمام حل طلب امور جلد از جلد نمٹائے جا سکیں اور اس اہم فائل کو ہمیشہ کے لیے بند کیا جا سکے۔