چکوال فائرنگ واقعہ: سی سی ڈی اہلکار کی غفلت سے 9 سالہ ہانیہ کی ہلاکت اور انکوائری رپورٹ کا منظرِ عام پر آنا

منصور احمد, August 20,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 20 اگست 2026ء

صوبہ پنجاب کے شہر چکوال میں 10 اور 11 جون کی درمیانی شب پیش آنے والے الم ناک فائرنگ کے واقعے سے متعلق انکوائری رپورٹ پراسیکیوٹر کے پاس جمع کروا دی گئی ہے، جس میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) پنجاب کے ایک اہلکار کو باضابطہ طور پر قصور وار قرار دے دیا گیا ہے۔ اس المناک حادثے میں پریتھ، آسٹریلیا سے آئے ہوئے ایک پاکستانی نژاد خاندان کی 9 سالہ بچی ہانیہ احمد جاں بحق جبکہ ان کے والد عدیل احمد اور 10 سالہ بھائی عفان احمد شدید زخمی ہوئے تھے۔

واقعات کے مطابق جون کی شروعات میں آسٹریلوی نژاد پاکستانی خاندان حج کی ادائیگی کے بعد چکوال میں اپنے عزیز و اقارب سے ملنے آیا ہوا تھا۔ حادثے کی شب جب خاندان اپنی کرائے کی گاڑی میں سی سی ڈی تھانے کی دیوار کے بالکل قریب پہنچا تو دو موٹر سائیکل سوار ڈاکوؤں نے اسلحے کے زور پر انہیں روک کر لوٹنے کی کوشش کی۔ اسی اثنا میں قریب موجود سی سی ڈی کے اہلکار موقع پر پہنچے اور صورتحال کا صحیح اندازہ لگائے بغیر بے دردی سے فائرنگ کر دی۔ پولیس نے بعد میں مؤقف اپنایا تھا کہ اہلکار نے غلط فہمی میں یہ سمجھتے ہوئے گاڑی پر فائر کر دیا کہ ملزمان اس میں فرار ہو رہے ہیں۔

واقعے کے فوری بعد آئی جی پنجاب پولیس اور سی سی ڈی سربراہ ایڈیشنل آئی جی سہیل ظفر چٹھہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے شفاف تحقیقات اور ایک ہفتے کے اندر رپورٹ مکمل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ تاہم تفصیلی چالان اور رپورٹ 28 جولائی کو پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ میں جمع کروائی گئی جس میں غلط فہمی، طاقت کے بےجا اور بے دریغ استعمال اور غیر پیشہ ورانہ رویے پر متعلقہ سی سی ڈی اہلکار کو واقعے کا مرکزی ذمہ دار قرار دیتے ہوئے قانونی کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔ دوسری جانب متاثرہ والد عدیل احمد نے کارروائی پر اپنے تحفظات ظاہر کرتے ہوئے مزید غیر جانبدارانہ اور سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے اندوہناک واقعات کا سدِ باب ہو سکے۔

پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید (نشانِ حیدر) کی 55ویں برسی: صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا عظیم قربانی پر خراجِ عقیدت

کاشف عباسی , August 20,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 20 اگست 2026ء

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید (نشانِ حیدر) کی 55ویں برسی کے موقع پر مادرِ وطن کی دفاع اور حرمت کے لیے ان کی بے مثال اور تاریخی قربانی کو بھرپور الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔

ایوانِ صدر کے پریس ونگ کی جانب سے جاری کردہ رسمی بیان میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید نے انتہائی کم عمری میں وطنِ عزیز کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے شجاعت، فرض شناسی اور حب الوطنی کی وہ لازوال مثال قائم کی ہے جو تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ چمکتی رہے گی۔

صدرِ مملکت نے مزید کہا کہ پاکستان کے سب سے کم عمر نشانِ حیدر حاصل کرنے والے راشد منہاس شہید کی عظیم اور بے لوث قربانی ہماری قومی تاریخ کا ایک روشن ترین باب ہے، جو آنے والی تمام نسلوں کو جرات، عزم، پختہ ارادے اور وطن سے لازوال وفاداری کا سبق دیتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پوری قوم اپنے اس عظیم سپوت، تمام شہدائے وطن اور ان کے خاندانوں کی قربانیوں کو ہمیشہ قدر، احترام اور فخر کی نظر سے دیکھتی ہے۔ صدرِ مملکت نے عزم ظاہر کیا کہ وطنِ عزیز کے دفاع کی خاطر اپنی جانیں نچھاور کرنے والے تمام ہیرو ہمارے سر کا تاج ہیں جن کی عظیم خدمات اور قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

سپریم کورٹ کا حکم نہ ماننے پر توہینِ عدالت ہوگی: سلمان اکرم راجہ کا پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران بڑا بیان

کاشف عباسی , August 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے آرڈر کے تحت حکومت کے پاس کل تک کا وقت موجود ہے، اگر بانی پی ٹی آئی عمران خان کو فوری طور پر الشفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل نہ کیا گیا تو یہ سیدھی توہینِ عدالت تصور ہوگی۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ انہیں ایسا نہیں لگتا کہ حکومت کی نظرثانی درخواست اتنی جلدی کل تک سنی جا سکے گی، کیونکہ سپریم کورٹ میں جب بھی کوئی درخواست دائر ہوتی ہے تو اس کی ابتدائی پڑتال اور انتظامی کارروائی میں ہی چار سے چھ دن لگ جاتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عدالتی حکم پر آج یا کل تک عملدرآمد نہ ہونے کی کوئی قانونی جواز یا وجہ موجود نہیں ہے، اور عمران خان کو آئینی و عدالتی احکامات کے عین مطابق الشفاء انٹرنیشنل ہسپتال لازمی منتقل کیا جانا چاہیے۔

سلمان اکرم راجہ نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت نے اس واضح عدالتی حکم کی عدولی یا توہینِ عدالت کی تو پی ٹی آئی نہ صرف عدالتِ عظمیٰ میں توہینِ عدالت کی باضابطہ درخواست دائر کرے گی بلکہ عوام اور قوم کے سامنے بھی اس معاملے کو رکھے گی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد کی اپوزیشن لیڈر سے ملاقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یہ ایک محض خیرسگالی ملاقات تھی جس میں پی پی پی نے اپوزیشن کے ساتھ رابطے بحال کرنے اور انتخابی اصلاحات پر مکالمے کی خواہش ظاہر کی، تاہم سلمان اکرم راجہ نے واضح کر دیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے تفصیلی مشاورت کے بغیر کوئی بھی سیاسی یا پارلیمانی بات چیت آگے نہیں بڑھ سکتی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ملاقات کے دوران پی پی وفد نے عدالتی حکم کو سراہا جبکہ نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔

صومالیہ میں 10 پاکستانیوں کو یرغمال بنانے کا معاملہ: قومی اسمبلی میں طارق فضل چوہدری اور پیپلز پارٹی کے درمیان نوک جھونک، وفاقی وزیر کا چیلنج

کاشف عباسی , August 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صومالیہ کے بحری قزاقوں کی جانب سے 10 پاکستانیوں کو یرغمال بنائے جانے کے معاملے پر حزبِ اختلاف اور بالخصوص پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین کو سخت ردِعمل دیتے ہوئے چیلنج کیا ہے کہ اگر وہ اپنے موقف میں غلط ثابت ہوں تو عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے، ورنہ الزام تراشی کرنے والے اراکین استعفیٰ دیں۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اظہارِ خیال کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ صومالیہ میں 10 پاکستانی شہریوں کی قزاقوں کے قبضے میں موجودگی کا معاملہ ایوان میں بحث کے زیرِ غور آیا تھا۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کے اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ الزام لگانے سے قبل ایوان کی رسمی کارروائی کا ریکارڈ چیک کر لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ صومالیہ کے ساتھ پاکستان کے براہِ راست سفارتی تعلقات موجود نہیں ہیں، تاہم حکومتِ پاکستان اس سنگین مسئلے کو حل کرنے کے لیے جبوتی اور لندن میں واقع پاکستانی سفارت خانوں کے ذریعے مسلسل متحرک اور کوشاں ہے۔

وفاقی وزیرِ پارلیمانی امور نے ایوان کو آگاہ کیا کہ دفترِ خارجہ کے ذریعے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے تفصیلا ًبتایا کہ جس بحری جہاز کو اغوا کیا گیا ہے وہ اس وقت ایک ایسے سمندری علاقے میں موجود ہے جہاں صومالیہ حکومت کی عمل داری بالکل ختم ہے، جبکہ پلاؤ نامی ملک بھی اس جہاز کی مالکیت تسلیم (اون) نہیں کر رہا۔ طارق فضل چوہدری نے انکشاف کیا کہ صومالی قزاقوں کی جانب سے یرغمالیوں کی رہائی کے عوض 3 ملین ڈالر (30 لاکھ ڈالر) تاوان مانگا گیا ہے، تاہم تاوان کی ادائیگی سے اس نوعیت کے مجرمانہ واقعات میں مزید اضافے کا خطرہ ہے کیونکہ اس جہاز کے بعد 4 مزید بحری جہازوں کو بھی قزاقوں کی جانب سے اغوا کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت ہوا میں باتیں کرنے کے بجائے شہریوں کی محفوظ اور جلد رہائی کے لیے ہر ممکن سفارتی اور عملی ذریعہ استعمال کر رہی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کی قومی اسمبلی چیمبر میں قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی سے ملاقات، پارلیمانی کمیٹیوں اور انتخابی اصلاحات پر گفتگو

منصور احمد, August 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی کے اپوزیشن چیمبر میں قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس سے ایک اہم سیاسی ملاقات کی ہے، جس کا باضابطہ مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے۔

تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے ترجمان اخوندزادہ حسین یوسفزئی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اس اہم ملاقات میں اپوزیشن اور تحریکِ انصاف کی جانب سے سلمان اکرم راجہ، اسد قیصر، مصطفیٰ نواز کھوکھر، عامر ڈوگر، عادل بازئی اور اخوندزادہ حسین موجود تھے، جبکہ پیپلز پارٹی کے وفد میں بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ راجہ پرویز اشرف، شیری رحمان، نوید قمر اور ندیم افضل چن شامل تھے۔

ملاقات کے دوران ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور پارلیمانی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن قیادت سے درخواست کی کہ وہ تمام اہم پارلیمانی کمیٹیوں میں شامل ہو کر اپنا فعال اور مثبت کردار ادا کریں، جس پر اپوزیشن رہنماؤں نے جواب دیا کہ وہ اس معاملے پر بانی پی ٹی آئی عمران خان سے مشاورت کرنے کے بعد حتمی فیصلہ کریں گے۔ اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ دونوں فریقین نے پارلیمان کے اندر قانون سازی کے حوالے سے باہمی رابطوں کو مزید بڑھانے اور انتخابی اصلاحات میں متحرک کردار ادا کرنے پر اتفاق کیا۔ اس کے علاوہ پیپلز پارٹی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت بانی پی ٹی آئی عمران خان کی الشفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقلی اور علاج کی فراہمی کو خوش آئند قرار دیا۔

طبی آپریشنز سے قبل ایچ آئی وی سکریننگ لازمی قرار: وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت جوائنٹ ورکنگ گروپ کا اجلاس

روزینہ اسماعیل, August 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت وزارتِ صحت میں ایچ آئی وی/ایڈز سے متعلق جوائنٹ ورکنگ گروپ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک میں ایچ آئی وی کی مجموعی صورتحال، انسدادِ ایچ آئی وی پروگرام پر عملدرآمد، ڈیجیٹل ڈیٹا مینجمنٹ اور صوبائی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے ہدایت جاری کی کہ ملک بھر میں ہر بڑے یا معمولی آپریشن اور جلد کو چیرنے یا چھیدنے والے تمام طبی طریقہ کار سے قبل ایچ آئی وی سکریننگ کو لازمی طور پر یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ، پنجاب اور اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری میں جراحی کے عمل سے قبل ایچ آئی وی سکریننگ پہلے ہی جاری ہے، جبکہ بلوچستان، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کے متعلقہ حکام کو بھی اس کے نفاذ کے لیے فوری نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایت کی گئی۔

وزیرِ صحت نے تاکید کی کہ ایچ آئی وی سے متأثرہ بچوں کی دیکھ بھال صرف طبی علاج تک محدود رکھنے کے بجائے ان کے لیے غذائی، نفسیاتی اور فلاحی معاونت کو بھی یقینی بنایا جائے۔ اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹری وزارتِ صحت میجر جنرل (ر) اظہر محمود کیانی نے پنجاب حکومت کو ہدایت کی کہ صوبے کے ایچ آئی وی ڈیٹا کو قومی ایچ آئی وی مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے ساتھ جلد از جلد منسلک کیا جائے تاکہ ملک گیر سطح پر مربوط نگرانی ممکن ہو سکے۔

اجلاس میں ڈبلیو ایچ او ، یونیسف، یو این ڈی پی، یو این ایڈز ، گلوبل فنڈ کے نمائندگان اور تمام صوبوں و علاقوں کے سیکرٹریز صحت نے شرکت کی۔

ایتھوپیا اور پاکستان کا زراعت، لائیو سٹاک اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق

منصور احمد, August 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

پاکستان اور ایتھوپیا نے باہمی تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ، جدید زرعی ٹیکنالوجی کی منتقلی، غذائی تحفظ اور لائیو سٹاک کے شعبوں میں پیش رفت کے لیے زراعت میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔

اس سلسلے میں پاکستان میں ایتھوپیا کے سفیر ڈاکٹر عمر حسین اوبا نے وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین سے اسلام آباد میں ایک اہم ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے زرعی اداروں کے درمیان علم اور تجربات کے تبادلے کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے ایک جامع زرعی معاہدے کی تجویز سمیت دوطرفہ تعاون کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

سفیرِ ایتھوپیا نے اپنے ملک کی معیشت میں زراعت کی اہمیت اور حکومتِ ایتھوپیا کی جانب سے اس شعبے کو دی جانے والی ترجیح پر روشنی ڈالتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات کی نشاندہی کی۔ انہوں نے ایتھوپیا کے “گرین لیگیسی انیشی ایٹو” کو پائیدار ترقی، زرعی نمو اور غذائی تحفظ کا جامع پروگرام قرار دیتے ہوئے اس کا تجربہ پاکستان کے ساتھ شیئر کرنے کی پیشکش کی اور پاکستانی زرعی کاروباری شخصیات کو ایتھوپیا میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ اس کے علاوہ انہوں نے وفاقی وزیر کو 2027ء میں ادیس ابابا میں ہونے والی عالمی ماحولیاتی کانفرنس “کوپ 32” کی میزبانی سے متعلق تیاریوں سے بھی آگاہ کیا۔

وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے زرعی تحقیق، جدید کاشتکاری کی ٹیکنالوجی، زرعی مشینری، آبپاشی، لائیو سٹاک اور ایگرو پروسیسنگ کے شعبوں میں پاکستان کی مہارت کا ذکر کرتے ہوئے مکمل تکنیکی معاونت کی آمادگی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک فصلوں کی پیداواری صلاحیت، معیاری بیجوں کی تیاری، موسمیاتی اثرات سے محفوظ زراعت اور مشینی کاشتکاری میں تعاون کو نمایاں وسعت دے سکتے ہیں۔

انسانی ہمدردی کا عالمی دن: بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام مستحق خاندانوں کو سماجی تحفظ فراہم کرنے کے مشن پر گامزن ہے، سینیٹر روبینہ خالد

کاشف عباسی , August 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

چیئرپرسن بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) سینیٹر روبینہ خالد نے انسانی ہمدردی کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ انسانیت کی خدمت، دکھی انسانوں کا سہارا بننا اور ضرورت مندوں کی مدد کرنا ہم سب کی مشترکہ اخلاقی و قومی ذمہ داری ہے۔ بی آئی ایس پی حکومتِ پاکستان کی جانب سے ملک بھر کے مستحق خاندانوں کو مکمل سماجی تحفظ فراہم کرنے کے مشن پر پوری طرح گامزن ہے۔

سینیٹر روبینہ خالد نے اس بات پر زور دیا کہ انسانی ہمدردی صرف ایک جذبہ یا ہمدردی کے چند الفاظ نہیں بلکہ معاشرے کے تمام کمزور، محروم اور مستحق طبقات کی عملی مدد کرنے کا نام ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی اس وقت ملک کے لاکھوں مستحق اور غریب خاندانوں کو باقاعدہ مالی معاونت فراہم کر کے انہیں شدید معاشی مشکلات اور غربت سے نکالنے میں انتہائی اہم اور کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ معاشرے کے محروم اور کمزور طبقوں کو مشکل حالات میں کبھی تنہا نہیں چھوڑا جا سکتا۔ انسانی ہمدردی کا عالمی دن ہمیں یہی درس دیتا ہے کہ ہم دکھی انسانیت کی خدمت کے لیے آگے بڑھیں اور ضرورت مندوں کا ہاتھ تھامیں۔ انہوں نے قوم سے اپیل کی کہ آئیں آج ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ اپنے اردگرد موجود تمام ضرورت مند افراد کی مدد اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا مؤثر اور مثبت کردار ادا کریں گے۔

مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے کاروباری ترقی کے نئے مواقع: وزارتِ آئی ٹی اور میٹا کا چھوٹے کاروباری اداروں کے لیے خصوصی تربیتی پروگرام کا آغاز

روزینہ اسماعیل, August 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے فروغ سے کاروباری ترقی، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ اس سلسلے میں وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن نے عالمی ٹیکنالوجی کمپنی “میٹا” کے اشتراک سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے خصوصی تربیتی پروگرام کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔

اس مجوزہ تربیتی پروگرام کے تحت ملک کے 9 بڑے شہروں میں ایک ہزار سے زائد کاروباری افراد کو مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے موثر استعمال سے متعلق عملی تربیت فراہم کی جائے گی۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو قومی ڈیجیٹل معیشت سے منسلک کرنا اور ان کی آن لائن کاروباری استعداد کار میں نمایاں اضافہ کرنا ہے۔

یہ پروگرام میٹا کے ایشیا پیسیفک خطے کے 12 ممالک پر مشتمل “سمال بزنس ٹریننگ پروگرام” کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس کے ذریعے مقامی کاروباری افراد کو اے آئی ٹولز، جدید ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اپنے کاروبار کو علاقائی اور عالمی سطح پر وسعت دینے کے مواقع ملیں گے۔ وزارتِ آئی ٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل مہارتوں کا فروغ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اور عالمی کمپنیوں کے ساتھ اس نوعیت کی شراکت داری سے پاکستانی نوجوانوں اور تاجروں کے لیے نئے معاشی راستے کھلیں گے۔

واپڈا کی جانب سے دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کی تفصیلی رپورٹ جاری

منصور احمد, August 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے ملک بھر کے مختلف دریاؤں، بیراجوں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کے تازہ ترین اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔ بدھ کے روز جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق مختلف بیراجوں اور ڈیموں میں پانی کا بہاؤ اور ذخیرہ مستحکم سطح پر ریکارڈ کیا گیا ہے۔

واپڈا رپورٹ کے مطابق دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر پانی کی آمد 2 لاکھ 34 ہزار 400 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 33 ہزار 800 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر آمد و اخراج 30 ہزار 900 کیوسک اور خیرآباد پل پر آمد و اخراج 2 لاکھ 54 ہزار 100 کیوسک رہا۔ دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر پانی کی آمد 29 ہزار 800 کیوسک جبکہ اخراج 7 ہزار کیوسک رہا۔ دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر آمد 73 ہزار کیوسک اور اخراج 47 ہزار 800 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔

مختلف بیراجوں کے اعداد و شمار کے مطابق جناح بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 46 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 3 لاکھ 38 ہزار 400 کیوسک رہا۔ چشمہ بیراج پر آمد 3 لاکھ 11 ہزار کیوسک اور اخراج 3 لاکھ 2 ہزار 200 کیوسک، تونسہ بیراج پر آمد 3 لاکھ 36 ہزار 500 کیوسک اور اخراج 3 لاکھ 15 ہزار 900 کیوسک جبکہ گدو بیراج پر آمد 3 لاکھ 7 ہزار 100 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 68 ہزار 900 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ سکھر بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 22 ہزار 800 کیوسک اور اخراج ایک لاکھ 68 ہزار 900 کیوسک، کوٹری بیراج پر آمد ایک لاکھ 41 ہزار 600 کیوسک اور اخراج 98 ہزار 900 کیوسک رہا۔ اس کے علاوہ تریموں کے مقام پر آمد 37 ہزار 100 کیوسک اور اخراج 25 ہزار 100 کیوسک جبکہ پنجند پر آمد 45 ہزار 500 کیوسک اور اخراج 30 ہزار 900 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔

آبی ذخائر (ڈیموں) میں پانی کی سطح کی صورتحال درج ذیل ہے:

تربیلا ڈیم اپنی انتہائی سطح 1550 فٹ تک بھر چکا ہے اور اس میں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 5.580 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ تربیلا کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1402 فٹ ہے۔ منگلا ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح 1213.15 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ اس کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1050 فٹ اور انتہائی سطح 1242 فٹ ہے، جہاں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 5.105 ملین ایکڑ فٹ موجود ہے۔ اسی طرح چشمہ بیراج میں پانی کی موجودہ سطح 648.50 فٹ ہے (کم از کم لیول 638.15 فٹ اور انتہائی سطح 649 فٹ) اور یہاں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.285 ملین ایکڑ فٹ ریکارڈ کیا گیا۔

2027ء کے ایس سی او سربراہی اجلاس کی میزبانی: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی صدارت میں اعلیٰ سطح اجلاس، سی ڈی اے کو انتظامات وقت پر مکمل کرنے کی ہدایت

کاشف عباسی , August 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے سال 2027ء میں پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی ہے۔

دفترِ خارجہ کے مطابق اجلاس کے دوران چیئرمین کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے نائب وزیرِ اعظم کو دارالحکومت میں جاری مختلف بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) اور ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ اسحاق ڈار نے جاری تیاریوں کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو تمام تر انتظامات اور ترقیاتی کاموں کو مقررہ وقت پر مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان عالمی سطح کے اس اہم اجلاس کی کامیاب اور اعلیٰ ترین معیار پر میزبانی کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔

نائب وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سربراہی اجلاس کی کارروائی کو منظم، ہموار اور کامياب بنانے کے لیے تمام وزارتی و انتظامی اداروں کے درمیان مسلسل اور قریبی رابطہ ناگزیر ہے۔ اس اہم اجلاس میں وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی طارق باجوہ، سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ، سیکرٹری داخلہ احمد رضا سرور، چیئرمین سی ڈی اے، نیشنل کوآرڈینیٹر ایس سی او اور دیگر متعلقہ وزارتوں کے اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔

بلوچستان میں امن و ترقی کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتوں کا باہمی رابطہ ضروری ہے: صدر آصف علی زرداری

کاشف عباسی , August 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ بلوچستان میں پائیدار امن، تیز رفتار ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر روابط اور یکجہتی کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔ بدھ کے روز ایوانِ صدر کے پریس ونگ کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایوانِ صدر اسلام آباد میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے ایک اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران کیا۔

ملاقات کے دوران صدرِ مملکت کو بلوچستان کی مجموعی امن و امان کی صورتحال اور صوبے بھر میں جاری مختلف عوامی و معاشی ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ صدر آصف علی زرداری نے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہونے کے ناطے بلوچستان خصوصی توجہ اور وسائل کا پورا حقدار ہے۔ انہوں نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں سرگرم دہشت گردوں کی بلوچستان کی ترقی و خوشحالی میں رکاوٹ ڈالنے کی تمام تر ناپاک کوششوں کو ہر قیمت پر ناکام بنایا جائے گا، اور وہ دن دور نہیں جب صوبے سے دہشت گردی کا مکمل جڑ سے خاتمہ ہو جائے گا۔

اس اہم ملاقات کے موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی خواتین ونگ کی صدر فریال تالپور اور بلوچستان کے سابق صوبائی وزیر میر علی حسن زہری بھی موجود تھے۔

وفاقی دارالحکومت میں موسلا دھار بارش: اسلام آباد ٹریفک پولیس کی جانب سے شہریوں اور ڈرائیورز کے لیے اہم سفر ایڈوائزری جاری

منصور احمد, August 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

اسلام آباد میں جاری موسلا دھار بارش کے پیشِ نظر اسلام آباد ٹریفک پولیس نے وفاقی دارالحکومت میں سفر کرنے والے شہریوں، ڈرائیورز اور موٹر سائیکل سواروں کے لیے خصوصی احتیاطی تدابیر اور ٹریفک ایڈوائزری جاری کر دی ہے تاکہ حادثات سے بچا جا سکے اور سڑکوں پر روانگی برقرار رہے۔

ترجمان اسلام آباد ٹریفک پولیس کی جانب سے جاری کردہ ہدایات میں ڈرائیورز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بارش کے دوران گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی رفتار دھیمی رکھیں اور آگے چلنے والی گاڑیوں سے مناسب فاصلہ برقرار رکھیں۔ ترجمان نے زور دیا کہ سفر کے دوران فوگ لائٹس کا استعمال یقینی بنایا جائے اور ڈرائیورز اپنی لین پر پابند رہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دورانِ ڈرائیونگ سائیڈ شیشوں، انڈیکیٹرز اور سیٹ بیلٹ کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے۔ موٹر سائیکل سواروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سڑک کی انتہائی بائیں جانب کی لین میں چلیں اور ہیلمٹ لازمی پہنیں۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ اسلام آباد ٹریفک پولیس کے افسران اور اہلکار سڑکوں پر موجود ہیں تاکہ شہریوں کی مدد کی جا سکے اور ٹریفک کو رواں دواں رکھا جا سکے۔ شہری تازہ ترین ٹریفک اپ ڈیٹس کے لیے اسلام آباد ٹریفک پولیس کے آفیشل واٹس ایپ چینل، سوشل میڈیا پیجز اور آئی ٹی پی ایف ایم 92.4 سے مکمل رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔

قومی اسمبلی کا اجلاس معمول کا ایجنڈا مکمل کرنے کے بعد بدھ، 19 اگست کی دوپہر تک ملتوی کر دیا گیا۔

کاشف عباسی , August 18,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اگست 2026ء

اجلاس کے دوران ایوان کی کارروائی ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی سید غلام مصطفیٰ شاہ کی زیرِ صدارت ہوئی۔ معمول کے ایجنڈے پر کارروائی مکمل ہونے کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے قومی اسمبلی کا اجلاس بدھ کی دوپہر 2 بج کر 30 منٹ تک ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔

قومی اسمبلی کی کارروائی کے دوران مختلف امور ایوان کے ایجنڈے کا حصہ رہے۔ اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی اسپیکر نے آئندہ نشست کے لیے مقررہ وقت کا اعلان کیا، جس کے بعد ایوان کی کارروائی ملتوی کر دی گئی۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کا دوبارہ انعقاد بدھ، 19 اگست 2026ء کو دوپہر 2 بج کر 30 منٹ پر ہوگا، جہاں ایوان کے معمول کے پارلیمانی امور اور دیگر اہم معاملات پر کارروائی جاری رہنے کا امکان ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ خبر 18 اگست 2026ء کو قومی اسمبلی کی کارروائی کے اختتام اور اجلاس کے اگلے روز تک ملتوی کیے جانے سے متعلق ہے۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق معمول کا ایجنڈا مکمل ہونے کے بعد ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ نے اجلاس بدھ کی دوپہر اڑھائی بجے تک ملتوی کیا۔

ماخذ: قومی اسمبلی کی کارروائی، اے پی پی/اردو پوائنٹ

نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی: وزیراعظم شہباز شریف کا نوجوانوں بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے یوتھ کے لیے روزگار کے مواقع کی فراہمی پر زور

کاشف عباسی , August 18,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اگست 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہنر مند اور باصلاحیت نوجوانوں کو باعزت روزگار کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کے تحت ملک کے طول و عرض، بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے نوجوانوں اور خواتین کو روزگار کے نئے مواقع فراہم کرنے اور انہیں جدید فنی ہنر سے آراستہ کرنے کے لیے مربوط اقدامات یقینی بنائے جائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز اسلام آباد میں پالیسی پر عملدرآمد کے حوالے سے منعقدہ ایک اعلیٰ سطح جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

وزیرِ اعظم نے اعلان کیا کہ نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی پر پیشرفت کا باقاعدگی سے جائزہ لینے کے لیے ہر ماہ اجلاس منعقد ہوگا تاکہ بین الوزارتی تعاون اور جامع حکمتِ عملی کے ذریعے اہداف کا حصول ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ ملکی ہنر مند افرادی قوت کو اندرون و بیرونِ ملک صنعتی اور کاروباری ضروریات کے مطابق ڈھالنے کے لیے نیوٹک اور سمیڈا میں بنیادی ادارہ جاتی اصلاحات کی گئی ہیں۔ وزیرِ اعظم نے نوجوانوں میں اس پالیسی سے متعلق شعور اجاگر کرنے کے لیے بھرپور آگاہی مہم چلانے کی بھی ہدایات جاری کیں۔

اجلاس کے دوران بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل یوتھ ہب کے ذریعے نوجوانوں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر ملکی اور بین الاقوامی روزگار کے مواقع کی معلومات دی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ تمام تعلیمی اداروں میں “یوتھ ڈویلپمنٹ سیلز” قائم کیے جا رہے ہیں جو طلبہ کو کیریئر کونسلنگ اور ہنرمندی کے مواقع سے آگاہ کریں گے۔ اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزراء احسن اقبال، احد چیمہ، عطا اللہ تارڑ، مصدق ملک، شزا فاطمہ خواجہ اور چیئرمین پی ایم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف سے وزیرِ مذہبی امور سردار محمد یوسف کی ملاقات، آئندہ حج کے بہترین انتظامات کی ہدایت

کاشف عباسی , August 18,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اگست 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف نے اسلام آباد میں اہم ملاقات کی، جس کے دوران انہوں نے وزیرِ اعظم کو آئندہ حج کی تیاریوں، انتظامی امور اور وزارت کی جانب سے اٹھائے گئے مختلف اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔

وزیرِ اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری کردہ بیان کے مطابق، ملاقات کے دوران وفاقی وزیر نے حج انتظامات کی پیش رفت اور عازمینِ حج کو دی جانے والی سہولیات کے فریم ورک سے آگاہ کیا۔ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ہدایت کی کہ آئندہ حج کے موقع پر تمام پاکستانی عازمین کو بہترین اور معیار کے مطابق سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے تمام متعلقہ اداروں اور وزارتِ مذہبی امور کو تاکید کی کہ حج آپریشنز سے متعلق تمام ضروری اور انتظامی اقدامات کو وقت سے پہلے اور بااحسن طریقہ مکمل کیا جائے تاکہ عازمین کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

شور پرود کے پہاڑی سلسلے میں 10 دہشت گردوں کی ہلاکت: وزیراعظم شہباز شریف کا سیکیورٹی فورسز کو کامیاب آپریشن پر خراجِ تحسین

کاشف عباسی , August 15,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 15 اگست 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے شور پرود کے پہاڑی سلسلے میں فتنہ الخوارج کے خلاف انتہائی کامیاب اور مؤثر آپریشن کرنے پر سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو زبردست الفاظ میں سراہتے ہوئے خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ اس کامیاب کارروائی کے دوران 10 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

وزیرِ اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری کردہ سرکاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ انسانیت کے دشمن اور ملک کا امن تباہ کرنے والے دہشت گردوں کے خلاف یہ کامیاب آپریشن ہماری سیکیورٹی فورسز کی اعلیٰ تدبیر، جرات اور بہترین جنگی مہارت کا واضع مظہر ہے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم دہشت گردی کی اس لعنت کے خلاف جنگ میں اپنے باہمت اور جری سیکیورٹی اداروں کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور سیکیورٹی ادارے ملکِ پاکستان سے ہر قسم کی دہشت گردی اور انتہا پسندی کے مکمل خاتمے کے لیے پور خلوص اور عزم کے ساتھ کوشاں ہیں اور پاک دھرتی سے آخری دہشت گرد کے خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی۔

پاکستان کی تاریخ فوجی اتحادوں سے بھری پڑی ہے، بیرونی سرپرستی نے ہمیشہ آمریت کو تقویت دی: افراسیاب خٹک

منصور احمد, August 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 09 اگست 2026ء

عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق سینیٹر افراسیاب خٹک نے کہا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں کسی غیر ملکی دفاعی یا فوجی معاہدے کا حصہ بننا کوئی نئی بات نہیں، بلکہ ملک ماضی میں بھی مختلف عالمی عسکری بلاکس کا اہم رکن رہ چکا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کردہ اپنے ایک تحریری بیان میں افراسیاب خٹک نے ملکی خارجہ و دفاعی پالیسی کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ماضی میں سیٹو اور سینٹو جیسے معاہدو ں کا باقاعدہ رکن رہا ہے، جبکہ بعد میں امریکہ کی جانب سے ‘نان نیٹو اتحادی’ کا درجہ بھی حاصل رہا۔ لہٰذا عسکری اتحادوں میں شمولیت پاکستان کی تاریخ میں پہلے بھی متعدد بار دیکھی جا چکی ہے۔

سابق سینیٹر نے تاریخ کے تلخ حقائق اور نتائج پر بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ ماضی کے تمام تجربات اس بات کے گواہ ہیں کہ بیرونی طاقتوں کے تعاون اور عسکری سرپرستی نے پاکستان میں جمہوریت کو فائدہ پہنچانے کے بجائے ہمیشہ غیر جمہوری عناصر اور آمریت کو تقویت بخشی۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ محض بیرونی امداد یا دفاعی معاہدے کسی بھی ملک کے عوام کو حقیقی طور پر بااختیار نہیں بنا سکتے۔ ریاست کے پائیدار استحکام اور عوام کو سیاسی اختیار دینے کے لیے ملک کے اندرونی جمہوری نظام کا مضبوط ہونا اور آئین و قانون کی پاسداری ہونا بنیادی شرط ہے۔

افراسیاب خٹک نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ پاکستان میں عوامی اختیار اور حقیقی جمہوریت کے قیام کے لیے قانون کی حکمرانی، آزادانہ احتساب اور اداروں کی آئینی حدود میں کارکردگی ہی واحد راستہ ہے، جس سے ملک کو بحرانوں سے نکالا جا سکتا ہے۔

سندھ میں ہندو طلبہ کے لیے مذہبی نصابی کتب کی منظوری، تیسری سے پانچویں جماعت تک پڑھائی جائیں گی

روزینہ اسماعیل, April 30,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اپریل 2026ء

سندھ کے محکمۂ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی نے صوبے کے سرکاری اسکولوں میں زیرِ تعلیم ہندو طلبہ کے لیے مذہبی تعلیم کی درسی کتب متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں جماعت سوم سے پنجم تک کے ہندو طلبہ کے لیے تین مذہبی کتب تیار اور شائع کی جائیں گی، جنہیں تعلیمی سال 2026-27 کے دوران استعمال کیا جائے گا۔

محکمۂ تعلیم کی جانب سے 29 اپریل کو سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے چیئرمین کو بھیجے گئے خط میں تین مذہبی کتابوں کی اشاعت اور تقسیم کے لیے اقدامات کرنے کی درخواست کی گئی۔ یہ فیصلہ سندھ کریکولم کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے 20 اپریل کو ہونے والے اجلاس میں کیا گیا تھا۔

حکام کے مطابق رواں تعلیمی سال میں ان کتابوں کی اشاعت کے اخراجات کراچی کی سماجی فلاحی تنظیم پریم ساگر سنستھا برداشت کرے گی، جبکہ کتابوں کی تقسیم سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے ذریعے کی جائے گی۔ محکمۂ تعلیم نے سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کو آئندہ تعلیمی سال سے ان مذہبی کتب کی اشاعت کے لیے بجٹ مختص یا ایڈجسٹ کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔

اس اقدام کا مقصد سرکاری اسکولوں میں زیرِ تعلیم ہندو طلبہ کو ان کے مذہب سے متعلق باقاعدہ تعلیمی مواد فراہم کرنا اور تعلیمی نظام میں مذہبی اقلیتوں کی شمولیت کو بہتر بنانا بتایا گیا ہے۔ سندھ کے وزیرِ تعلیم سید سردار علی شاہ کے مطابق مختلف مذہبی برادریوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کو ان کے اپنے مذہب کے مطابق تعلیم کا حق فراہم کرنا رواداری اور اقلیتی حقوق کے تحفظ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

دستیاب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سندھ کے سرکاری اسکولوں میں جماعت سوم سے پنجم تک 129,119 ہندو طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ تعداد ضلع تھرپارکر میں 26,642 جبکہ عمرکوٹ میں 21,584 طلبہ کی ہے۔ ابتدائی مرحلے میں مذہبی کتب انہی جماعتوں کے طلبہ کے لیے فراہم کی جائیں گی۔

یہ فیصلہ پاکستان میں اقلیتی طلبہ کے لیے مذہبی تعلیم کے حوالے سے جاری پالیسی اقدامات کے تناظر میں بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ وفاقی سطح پر بھی اقلیتی مذاہب سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے لیے مذہبی تعلیمی کتب کی منظوری سے متعلق اقدامات کیے جا چکے ہیں، تاہم ان اقدامات پر عمل درآمد مختلف علاقوں میں مختلف سطح پر رہا ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
سندھ حکومت کا موجودہ فیصلہ ابتدائی طور پر جماعت سوم سے پنجم تک ہندو طلبہ کے لیے تین مذہبی کتب کی تیاری، اشاعت اور تقسیم سے متعلق ہے۔ کتابوں کی اشاعت کے لیے رواں سال فلاحی ادارے کی معاونت اور آئندہ سال سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے بجٹ سے انتظام کرنے کی بات کی گئی ہے۔ اس لیے اسے فی الحال پورے صوبے کے تمام درجات میں مذہبی نصاب کی مکمل تبدیلی کے طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا۔

ماخذ: سندھ محکمۂ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی، سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ سے متعلق سرکاری مراسلت، Dawn، Pakistan Today اور دیگر رپورٹس۔