”اگر ہم نے فوری طور پر نیتن یاہو حکومت کو نہ بدلا تو اسرائیل کے خارجہ تعلقات مکمل طور پر تباہ ہو جائیں گے“، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی برہمی پر سابق اسرائیلی وزیرِ اعظم اور اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ کا کڑا ردعمل، امریکہ ایران امن معاہدے پر دونوں اتحادیوں میں سفارتی دراڑیں نمایاں

محمود احمد june 19,2026

واشنگٹن/تل ابیب (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

امریکہ اور ایران کے درمیان حال ہی میں طے پانے والی تاریخی مفاہمتی یادداشت اور جنگ بندی کے بعد واشنگٹن اور تل ابیب کے مابین سٹرٹیجک تلخی برقرار ہے، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے کڑی نکتہ چینی کے بعد اسرائیل کے سابق وزیرِ اعظم اور موجودہ اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ نے وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو کی حکومت کو سخت ترین الفاظ میں وارننگ جاری کر دی ہے، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے ایک مقتدر اور دوٹوک بیان میں یائر لیپڈ نے خبردار کیا ہے کہ ”پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران امریکی نائب صدر پریس کانفرنس میں اسرائیلی وزرا اسموٹریچ اور بین گویر پر شدید برہم ہوئے، جبکہ ہمارے وزیرِ خارجہ جدعون سار نے یورپی یونین کے وزیرِ خارجہ سے تعلقات منقطع کر لیے اور دوسری طرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی نیتن یاہو کو لبنان میں غیر ذمہ داری دکھانے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے؛ اگر ہم نے اس انتہا پسند حکومت کو فوری طور پر اقتدار سے نہ ہٹایا تو اسرائیل کے بین الاقوامی خارجہ تعلقات دنیا بھر میں یکسر مٹ جائیں گے۔“

یہ سنگین سفارتی تنازع اس وقت کھڑا ہوا جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران اسرائیلی کابینہ کے بعض ارکان کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نئی امریکی خارجہ پالیسی پر کی جانے والی ذاتی و تند و تیز تنقید کا انتہائی سخت اور کرارا جواب دیا، جے ڈی وینس نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ ”اگر میں خود اسرائیلی کابینہ کی کرسی پر بیٹھا ہوتا تو دنیا میں اپنے سب سے مخلص، طاقتور اور اہم ترین دفاعی اتحادی کو اس طرح سرِعام نشانہ بنانے کی حماقت کبھی نہ کرتا،“ انہوں نے اسرائیلی حکومت کو زمینی حقائق کا آئینہ دکھاتے ہوئے سنسنی خیز یاد دہانی کرائی کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران جاری رہنے والے ہولناک معرکوں میں اسرائیل کے دفاع اور سیکیورٹی میں استعمال ہونے والے کل ہتھیاروں کا دو تہائی حصہ خالصتاً امریکہ نے فراہم کیا ہے، جنہیں رات دن محنت کر کے امریکی ماہرین نے تیار کیا اور جس کے اربوں ڈالر کے فنڈز امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے ممکن بنائے گئے تھے۔

امریکی نائب صدر نے کڑے الفاظ میں کہا کہ بعض اسرائیلی وزرا کے بیانات انتہائی افسوسناک اور اسپورٹس مین اسپرٹ کے منافی ہیں، کیونکہ وہ ایک ایسے امریکی صدر کو بلاجواز تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں جو ہمیشہ سے اسرائیل کے لیے ہمدردانہ اور حفاظتی مؤقف رکھتا ہے، انہوں نے نیتن یاہو کے وزرا کو مقتدر مشورہ دیا کہ وہ خوابوں کی دنیا سے باہر نکلیں اور خطے کی نئی سٹرٹیجک تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک ذمہ دارانہ بین الاقوامی طرزِ عمل اختیار کریں، واضح رہے کہ اسرائیلی کابینہ کے بعض سخت گیر ارکان امریکہ اور ایران کے مابین پاکستان کی ثالثی سے ہونے والے امن معاہدے پر مسلسل آگ بگولا ہیں اور انہوں نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا، تاہم سابق وزیرِ اعظم یائر لیپڈ، نفتالی بینیٹ اور فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے نیتن یاہو کی پالیسیوں کو اسرائیل کے لیے عالمی سفارتی تنہائی کا سبب قرار دے دیا ہے۔

مہنگائی کے مارے عوام کے لیے ملکی تاریخ کا سب سے بڑا ریلیف، پٹرول 74 روپے اور ڈیژل کی قیمت میں 67 روپے فی لیٹر کی تاریخی کمی، وزیرِ اعظم نے حتمی منظوری دے دی، نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے ہوگا

منصور احمد june 19,2026

اسلام آباد (اقتصادی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

وزیرِ اعظم پاکستان نے قوم سے کیے گئے اپنے حالیہ وعدے کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ملکی تاریخ کے سب سے بڑے اور سنسنی خیز معاشی ریلیف کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے، وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ مقتدر نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 74 روپے کی ریکارڈ کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیژل کی قیمت میں بھی 67 روپے فی لیٹر کی بھاری کٹوتی کر دی گئی ہے، حکومت کے اس انقلابی اور عوامی فیصلے کے بعد پٹرول کی موجودہ فی لیٹر قیمت 373 روپے سے یکسر کم ہو کر 299 روپے کی سطح پر آگئی ہے، جبکہ ڈیژل کی قیمت بھی 378 روپے سے گھٹ کر 311 روپے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جس کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ملک بھر میں نافذ العمل ہوگا۔

وزارتِ خزانہ کے حکام کے مطابق اس مقتدر فیصلے کا بنیادی مقصد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والی تیز ترین گراوٹ کے براہِ راست اور حقیقی اثرات کو کسی بھی تاخیر کے بغیر غریب عوام کی دہلیز تک منتقل کرنا ہے، وزیرِ اعظم نے اس تاریخی ریلیف پیکج پر دستخط کرتے ہوئے اپنے خصوصی بیان میں واضح کیا ہے کہ عوام کو بڑھتی ہوئی مہنگائی کے شکنجے سے آزاد کرانا اور ان پر موجود شدید معاشی دباؤ کو کم کرنا موجودہ حکومت کی اولین ترین ترجیح اور اخلاقی ذمہ داری ہے، انہوں نے کڑا رخ اختیار کرتے ہوئے تمام صوبائی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ کو ہنگامی احکامات جاری کیے ہیں کہ پٹرول اور ڈیژل کی قیمتوں میں اس بھاری کمی کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور روزمرہ کی اشیائے ضروریہ (سبزی، پھل اور دالوں) کی قیمتوں میں بھی اسی تناسب سے فوری کمی لائی جائے تاکہ اس اسٹرٹیجک ریلیف کا فائدہ عام آدمی کو مل سکے۔

دوسری جانب معاشی ماہرین اور تجارتی حلقوں نے حکومت کے اس اقدام کو ملکی معیشت کے لیے ایک انتہائی خوش آئند اور پائیدار موڑ قرار دیا ہے، ماہرینِ معیشت کے مطابق پٹرولیم مصنوعات میں اتنی بڑی نوعیت کی کمی سے ٹرانسپورٹیشن اور لاجسٹکس کے اخراجات یکسر نیچے آئیں گے، جس کے نتیجے میں ملک میں جاری مہنگائی کی مجموعی شرح (Inflation) میں واضح اور بڑی کمی واقع ہوگی، عوامی حلقوں نے بھی پٹرول کی قیمت 300 روپے سے نیچے آنے پر شدید مسرت کا اظہار کیا ہے اور اسے مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والی حالیہ کامیاب جنگ بندی اور سفارت کاری کا پہلا بڑا اور حقیقی معاشی ثمر قرار دیا ہے۔

عالمی مارکیٹ میں مندی کے بعد پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 14,900 روپے کی تاریخی کمی، سونا 4 لاکھ 38 ہزار 036 روپے کی سطح پر آگیا، چاندی کی قیمتیں بھی یکایک گر گئیں، صرافہ مارکیٹ کی رپورٹ

روزینہ اسماعیل.june 19,2026

کراچی (اقتصادی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

بین الاقوامی بلین مارکیٹ اور مقامی صرافہ بازاروں میں پٹرولیم مصنوعات کے بعد اب سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بھی بڑے پیمانے پر غیر معمولی اور تاریخی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، آل پاکستان سپریم کونسل جیولرز ایسوسی ایشن اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 149 ڈالر کی زبردست مندی کے بعد 4,156 ڈالر کی سطح پر نیچے آگئی ہے، عالمی مارکیٹ میں ہونے والی اس بڑی گراوٹ کے براہِ راست اثرات مقامی مارکیٹ پر بھی مرتب ہوئے ہیں جس کے باعث پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت 14,900 روپے کی نمایاں کمی کے بعد 4 لاکھ 38 ؎ہزار 036 روپے کی سطح پر بند ہوئی۔

صرافہ مارکیٹ کے مقتدر ذرائع کے مطابق فی تولہ سونے کے ساتھ ساتھ 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 13,410 روپے کی بڑی کٹوتی دیکھی گئی ہے جس کے بعد مقامی بازاروں میں 10 گرام سونا گھٹ کر 3 لاکھ 74 ہزار 205 روپے کی سطح پر آگیا ہے، معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کے کامیاب معاہدے اور عالمی معیشت میں استحکام کی بحالی کے باعث سرمایہ کار اب سونے کی محفوظ پناہ گاہوں سے سرمایہ نکال کر دیگر تجارتی شعبوں میں لگا رہے ہیں، جس کی وجہ سے قیمتی دھاتوں کی قیمتیں تیزی سے نیچے آرہی ہیں اور عام خریداروں کے لیے ایک طویل عرصے بعد بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے۔

سونے کے ساتھ ساتھ ملکی صرافہ بازاروں میں چاندی کی قیمتوں کو بھی بڑا بریک لگا ہے، اعداد و شمار کے مطابق فی تولہ چاندی کی قیمت 413 روپے کی نمایاں کمی کے بعد 6,946 روپے کی سطح پر آگئی ہے، جبکہ 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 373 روپے کی بڑی گراوٹ کے ساتھ مارکیٹ میں 5,895 روپے کی سطح پر بند ہوئی، صرافہ ڈیلرز کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اس غیر معمولی اتار چڑھاؤ کے باعث مارکیٹ میں خریداروں کا رش بڑھنے کا امکان ہے، تاہم آنے والے دنوں میں عالمی حالات کے مطابق قیمتوں میں مزید استحکام یا کمی متوقع ہے۔

امریکہ ایران جنگ بندی اور عالمی امن اعزاز پر پوری قوم اور عسکری و سیاسی قیادت مبارکباد کی مستحق ہے، پاکستان نے دنیا میں ذمہ دار اور پرامن ریاست کے طور پر لوہا منوایا، سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان کا مقتدر بیان، بجٹ کو عوام دوست بنانے اور پٹرولیم قیمتوں میں فوری ریلیف دینے کا مطالبہ

روزینہ اسماعیل.june 19,2026

کراچی (اسٹاف رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی اور عالمی سطح پر امن کے فروغ سے متعلق پاکستان کو ملنے والے عظیم الشان “عالمی امن اعزاز” کے حصول پر ملک کی عسکری و سیاسی قیادت سمیت پوری پاکستانی قوم کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی ہے، پریس ریلیز کے مطابق کراچی سے جاری اپنے ایک مقتدر بیان میں سابق گورنر سندھ نے فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر، وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف، نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار اور پوری قوم کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاریخی کامیابی اجتماعی قومی کوششوں اور انتہائی مؤثر و دور اندیش سفارتی حکمتِ عملی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

ڈاکٹر عشرت العباد خان نے ایران اور امریکہ کے درمیان پاکستان کی کامیاب ثالثی کے نتیجے میں بہتر ہوتے سفارتی روابط اور اس تاریخی مفاہمت کو دنیا میں امن اور استحکام کے ایک نئے سنہری دور کی علامت قرار دیا، انہوں نے فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے طویل ترین مشکل حالات، لازوال قربانیوں اور مسلسل سفارتی جدوجہد کے ذریعے بین الاقوامی برادری میں خود کو ایک انتہائی ذمہ دار اور پرامن ریاست کے طور پر منوایا ہے، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان آج عالمی سفارتکاری میں ایک مقتدر اور مؤثر ترین کھلاڑی کا کردار ادا کر رہا ہے جو کہ 24 کروڑ عوام کے لیے باعثِ فخر ہے۔

سابق گورنر سندھ نے حکومتی معاشی پالیسیوں پر بات کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ ان بین الاقوامی سٹرٹیجک کامیابیوں کے براہِ راست معاشی اثرات عام شہریوں کی دہلیز تک بھی لازمی پہنچنے چاہئیں، انہوں نے مطالبہ کیا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل سستا ہونے کے بعد ملک میں مہنگائی میں واضح کمی لائی جائے اور پٹرول، ڈیژل، گیس کی قیمتوں میں فوری و خاطر خواہ ریلیف سمیت توانائی کے شعبے میں مثبت تبدیلیاں لائی جائیں، ڈاکٹر عشرت العباد خان نے زیرِ بحث وفاقی بجٹ پر کڑا زور دیتے ہوئے کہا کہ بجٹ کو ہر صورت عوام دوست بنایا جائے اور اس میں پارلیمنٹ کی تجویز کردہ ضروری ترامیم کے بعد ہی اسے منظور کیا جائے تاکہ تنخواہ دار اور غریب مزدور طبقے کو حقیقی معاشی ریلیف مل سکے۔

اپنے بیان کے آخر میں انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ پاکستان کی پائیدار ترقی صرف اور صرف سیاسی ہم آہنگی، ادارہ جاتی تعاون اور فولادی قومی اتحاد سے ہی ممکن ہے، جبکہ خطے میں درپیش بیرونی چیلنجز بالخصوص پاکستان کو نشانہ بنانے والی بھارتی پراکسی سرگرمیوں کو کچلنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر مؤثر قومی حکمتِ عملی اختیار کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان اسی درست سمت میں پیش رفت جاری رکھتا ہے تو ملک خطے میں ایک مضبوط، معاشی طور پر مستحکم اور پرامن ایٹمی ریاست کے طور پر مزید نمایاں ہو کر ابھرے گا۔

فائبرائزیشن کی آڑ میں ٹیلی کام کمپنیوں کو شہریوں کے گھروں تک رسائی نہیں دی جا سکتی، متنازع بل کو کسی صورت منظور نہیں ہونے دیں گے، پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان کا کڑا مؤقف، بل میں کنفیوژن موجود ہے، گنجائش ہوئی تو تبدیلی کریں گے، وفاقی وزیر شزا فاطمہ کی وضاحت

کاشف عباسی ,june 19,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی مقتدر سینیٹر پلوشہ خان نے انٹرنیٹ انفراسٹرکچر اور فائبرائزیشن کے نام پر لائے جانے والے نئے قانون پر سخت ترین سٹرٹیجک مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کنیکٹیوٹی اور ڈیجیٹلائزیشن کی آڑ لے کر نجی یا سرکاری ٹیلی کام کمپنیوں کو عام شہریوں کے گھروں اور نجی املاک تک رسائی کا بلاجواز اختیار کسی صورت نہیں دیا جا سکتا، اسلام آباد سے جاری اپنے ایک اہم ترین بیان میں سینیٹر پلوشہ خان نے دوٹوک الفاظ میں تہران نما عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ شکل میں اس متنازع بل کو سینیٹ سے کسی صورت منظور نہیں ہونے دیا جائے گا کیونکہ آئینِ پاکستان اور شہریوں کے بنیادی حقوق سے متصادم کوئی بھی قانون سازی کرنا ناممکن ہے، ان کا کہنا تھا کہ کنیکٹیوٹی کی مد میں معصوم عوام کا معاشی یا آئینی استحصال نہیں کیا جا سکتا اور مقتدر ماہرینِ قانون و ٹیکنالوجی کی حتمی رائے کے بغیر اس بل کا پاس ہونا قطعی ناممکن ہے۔

سینیٹر پلوشہ خان نے سیاسی منظرنامے کی صراحت کرتے ہوئے سنسنی خیز انکشاف کیا کہ ”ہو سکتا ہے کہ کسی مخصوص سیاسی وجہ یا دباؤ کے باعث یہ بل قومی اسمبلی سے باآسانی نکل گیا ہو، مگر سینیٹ (ایوانِ بالا) میں اسے پیپلز پارٹی نے ہی سٹرٹیجک بنیادوں پر روکا ہے،“ انہوں نے مطلع کیا کہ پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوامی تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے سینیٹ میں ”پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل“ کو سخت مزاحمت کر کے رکوایا ہے، دوسری جانب اس بڑے سیاسی و عوامی دباؤ کے بعد وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ نے بھی حکومت کا پوزیشن واضح کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا ہے کہ ”پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن ترمیمی بل 2026“ میں اگر عوامی مفاد یا قانونی ویزا کے تحت کسی بھی تبدیلی کی گنجائش ہوئی تو حکومت اپوزیشن کی مشاورت سے وہ تبدیلیاں ضرور کرے گی۔

ایک نجی ٹی وی چینل کے مقتدر پروگرام میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر شزا فاطمہ نے اعتراف کیا کہ بل پر مزید تفصیلی وضاحتوں کی کڑی ضرورت ہے اور اس حوالے سے ضروری ترامیم لائی جائیں گی، ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کا یہ اعتراض بالکل ٹھیک ہے کہ زمین کے اوپر ٹیلی کام انفراسٹرکچر (ٹاورز اور تاروں) کی تنصیب اور نجی املاک کے حوالے سے بل کے مسودے میں کچھ سنگین کنفیوژن موجود ہے، جسے پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے ضرور دور کیا جائے گا، وفاقی وزیر برائے آئی ٹی نے بل میں موجود بھاری جرمانوں کے حوالے سے اصرار کیا کہ قانون میں درج 5 کروڑ روپے تک کا جرمانہ صرف اور صرف اسی مخصوص صورت میں عائد ہوگا جب زمین یا جائیداد کے مالک اور ٹیلی کام کمپنی کے درمیان باہمی رضامندی سے باقاعدہ معاہدہ طے پا چکا ہو اور بعد میں مالکِ مکان کی جانب سے اس قانونی معاہدے کی صریح خلاف ورزی کی جائے، حکومت اس بل کے ذریعے کسی کے حقوق پامال نہیں کرنا چاہتی۔

محرم الحرام کے دوران ضلع وہاڑی میں سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات، 1913 پولیس افسران و اہلکار ڈیوٹی پر تعینات، ڈرون اور سی سی ٹی وی کیمروں سے مجالس اور جلوسوں کی مانیٹرنگ، ڈی پی او تصور اقبال کی شہریوں سے تعاون کی اپیل

محمود احمد june 19,2026

وہاڑی (خصوصی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء محرم الحرام کے مقدس اور حساس مہینے کے موقع پر ضلع وہاڑی میں امن و امان کی فضا کو برقرار رکھنے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی کے انتہائی سخت اور غیر معمولی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، سرکاری خبر رساں ایجنسی (اے پی پی) کے مطابق ضلعی پولیس انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ جامع سیکیورٹی پلان کے تحت ضلع بھر میں محرم الحرام کی تمام مجالس اور عزاداری کے جلوسوں کی حفاظت کے لیے مجموعی طور پر 1,913 اعلیٰ پولیس افسران، لیڈیز پولیس اور جوانوں کو سیکیورٹی ڈیوٹی پر ہائی الرٹ تعینات کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کا سدِباب کیا جا سکے۔

سیکیورٹی پلان کی جدید اسٹرٹیجی کے مطابق تمام امام بارگاہوں، مجالس کے مقامات اور جلوسوں کے روایتی راستوں کی کڑی نگرانی کے لیے جدید ترین سی سی ٹی وی ( کیمروں، ڈرون کیمروں اور متحرک ڈیجیٹل سرویلنس وینز کا سہارا لیا جا رہا ہے، اس کے علاوہ سیکیورٹی انتظامات کو فول پروف بنانے اور فیلڈ میں مستعدی جانچنے کے لیے 6 مقتدر ویجیلنس ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو چوبیس گھنٹے مسلسل مانیٹرنگ پر مامور رہیں گی، عسکری نوعیت کی حفاظتی تدابیر کے تحت حساس ترین مقامات اور جلوس کے راستوں میں آنے والی بلند عمارتوں پر ‘روف ٹاپ’ (چھتوں پر) ماہر نشانہ باز اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ شرپسند عناصر پر کڑی نظر رکھنے کے لیے سادہ لباس میں ملبوس اسپیشل برانچ کے اہلکار بھی عزاداروں کے روپ میں گراؤنڈ پر موجود رہیں گے۔

ڈی پی او وہاڑی تصور اقبال نے سیکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ مجالس اور جلوسوں کے راستوں پر واک تھرو گیٹس اور میٹل ڈیٹیکٹرز کے ذریعے تلاشی کا نظام لازمی بنایا گیا ہے، جبکہ زائرین اور عام شہریوں کی سہولت کے لیے ٹریفک کی بلا تعطل روانی برقرار رکھنے کی خاطر ٹریفک پولیس کی جانب سے متبادل روٹس (راستے) بھی مقرر کر دیے گئے ہیں، ڈی پی او وہاڑی نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی پلان پر 100 فیصد عملدرآمد کو یقینی بنایا جا رہا ہے اور انہوں نے تمام مکاتبِ فکر کے علمائے کرام، منتظمین اور عام شہریوں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ ملک و ملت کی سلامتی اور امن و امان کے قیام کے لیے مقامی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔

لاہور ہائیکورٹ نے رہائشی علاقے میں قائم پلاسٹک فیکٹری کے خلاف پیرا کی کارروائی کو درست قرار دے دیا، فیکٹری ختم کرنے کا حکم برقرار، پیر کے روز فورس کی موجودگی میں آپریشن کرنے کی ہدایت

کاشف عباسی ,june 19,2026

لاہور (قانونی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

لاہور ہائیکورٹ نے ایک اہم ترین فیصلے میں رہائشی علاقے میں قائم غیر قانونی پلاسٹک فیکٹری کے خلاف پنجاب انوائرمنٹل ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) کی کارروائی کو سو فیصد درست اور قانونی قرار دیتے ہوئے فیکٹری کو فی الفور ختم کرنے کا حکم برقرار رکھا ہے، سرکاری خبر رساں ایجنسی (اے پی پی) کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے معزز جج جسٹس جاوید اقبال وینس نے نجی پلاسٹک فیکٹری کے مالک کی جانب سے دائر کردہ اپیل پر تفصیلی سماعت کی، کارروائی کے دوران چیف پراسیکیوٹر پیرا بیرسٹر مدثر اسحاق اپنے قانونی معاونین کے ہمراہ عدالتِ عالیہ میں پیش ہوئے۔

دورانِ سماعت پیرا کے مقتدر وکیل بیرسٹر مدثر اسحاق نے ٹھوس شواہد پیش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ رہائشی علاقے میں زہریلا دھواں اور ماحولیاتی آلودگی پھیلانے والی فیکٹری کے خلاف عوامی شکایات موصول ہوئی تھیں، جن کی بنیاد پر کی جانے والی یہ کارروائی پیرا کے قانونی دائرہ اختیار اور ایکٹ کے تحت بالکل آئینی ہے، دوسری جانب فیکٹری کے وکیل نے دفاعی استدلال پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ فیکٹری کو مستقل بند کرانا یا اس کا وجود ختم کرانا پیرا فورس کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا بلکہ یہ مخصوص معاملہ خالصتاً محکمہ ماحولیات کا ہے اس لیے اتھارٹی کی کارروائی کو کالعدم قرار دیا جائے۔

عدالتِ عالیہ نے فریقین کے مقتدر دلائل اور سٹرٹیجک قوانین کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد فیکٹری انتظامیہ کی درخواست کو یکسر مسترد کر دیا، لاہور ہائیکورٹ نے پیرا فورس کے ایکشن کو قانون کے مطابق قرار دیتے ہوئے کڑا حکم جاری کیا کہ پیر کے روز پیرا فورس کی بھاری نفری کی موجودگی میں رہائشی علاقے سے اس پلاسٹک فیکٹری کو مکمل طور پر ختم کر کے رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے۔

کامیاب سفارت کاری سے پاکستان کا عالمی وقار بلند ہوا، معاشی ترقی کے لیے زراعت اور صنعت میں ہنگامی سرمایہ کاری ناگزیر ہے، آئی ایم ایف پر انحصار ختم کرنے کے لیے برآمدات بڑھائی جائیں، قومی اسمبلی میں بجٹ بحث کے دوران پیپلز پارٹی کی رہنما ڈاکٹر نفیسہ شاہ کا مقتدر خطاب

منصور احمد june 19,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی مرکزی رہنما اور رکنِ قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے ملک کی حالیہ خارجہ پالیسی، سٹرٹیجک فیصلوں اور خطے میں ہونی والی عظیم سفارتی کامیابیوں پر ملک کی سیاسی و عسکری قیادت کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے، سرکاری خبر رساں ایجنسی (اے پی پی) کے مطابق قومی اسمبلی کے اہم ترین اجلاس میں جمعہ کے روز وفاقی بجٹ پر جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے ایم این اے ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ پاکستان نے اپنی بہترین، دور اندیش اور مخلصانہ سفارت کاری کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ کے بحران میں امن کو جتوایا ہے، جس کی بدولت عالمی سطح پر ملک کا سفارتی وقار حد سے زیادہ بلند ہوا ہے اور جنگ و انتہا پسندی کے نظریات کو عبرتناک شکست ہوئی ہے، انہوں نے واضح کیا کہ خلیجی ممالک (جی سی سی) کے ساتھ پاکستان کے موجودہ برادرانہ و اقتصادی تعلقات قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کے تاریخی وژن کا تسلسل ہیں جو ملکی معیشت کو نئی اور پائیدار راہ پر گامزن کریں گے۔

ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے ملکی معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے کڑے شکنجے سے مستقل نجات حاصل کرنے کے لیے پارلیمنٹ اور حکومت کے سامنے مقتدر تجاویز پیش کیں، انہوں نے اصرار کیا کہ پاکستان جیسے کثیر الآبادی والے ملک کی تیز رفتار معاشی ترقی کے لیے زراعت اور صنعت (انڈسٹری) کے شعبوں میں ہنگامی بنیادوں پر بھاری سرمایہ کاری کی جائے اور ملکی ترقی کے لیے وضع کردہ ’’اڑان پاکستان‘‘ وژن کے تحت تمام معاشی اہداف کو بروقت حاصل کیا جائے، پیپلز پارٹی کی رہنما نے قومی اسمبلی کے فلور پر کڑا زور دیا کہ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے اور ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے ملکی برآمدات (ایکسپورٹس) کے راستے میں حائل تمام بیوروکریٹک اور ٹیکس رکاوٹوں کو فی الفور دور کیا جائے۔

انہوں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ ملکی معیشت کی حقیقی ریڑھ کی ہڈی یعنی کسانوں اور زمینداروں کو کھاد، بیج اور بجلی پر زیادہ سے زیادہ ریلیف اور جدید سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ملکی زرعی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ ممکن ہو سکے، ڈاکٹر نفیسہ شاہ کا کہنا تھا کہ کسان خوشحال ہوگا تو پاکستان معاشی طور پر مضبوط اور خودکفیل بنیادوں پر استوار ہو سکے گا، انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ موجودہ سٹرٹیجک بجٹ میں ان کی پیش کردہ تجاویز کو شامل کر کے ملک کو معاشی خود مختاری کی طرف لے جایا جائے گا۔

”وزیرِ اعظم صاحب! پٹرول کی قیمت میں 10، 20 روپے کی کمی سے عوام کو نہ ٹرخائیں، ‘خاطر خواہ کمی’ وہی ہوگی جو جنگ سے پہلے تھی“، سینئر صحافی غریدہ فاروقی کا ایکس (X) پر کڑا بیان، جنگ بندی کے بعد پٹرولیم قیمتوں میں ریلیف کے حکومتی دعووں پر اپوزیشن اور میڈیا کا ردعمل

منصور احمد june 19,2026

اسلام آباد (خصوصی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

امریکہ اور ایران کے مابین پاکستان کی کامیاب ترین ثالثی اور تاریخی جنگ بندی کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں ہونی والی تیز ترین کمی کا فائدہ غریب عوام تک پہنچانے کے حکومتی دعووں پر ملک کے مقتدر صحافتی و سیاسی حلقوں نے کڑا رخ اختیار کر لیا ہے، تفصیلات کے مطابق ملک کی معروف اور سینئر اینکر پرسن و صحافی غریدہ فاروقی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر اپنے ایک انتہائی سخت اور سٹرٹیجک بیان میں وزیرِ اعظم پاکستان کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ”وزیرِ اعظم صاحب! پٹرول کی ملکی قیمت میں ‘خاطر خواہ کمی’ صرف اور صرف وہی تسلیم کی جائے گی کہ پٹرول کی فی لیٹر قیمت کو یکسر اسی سطح پر واپس لایا جائے جو مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ جنگ چھڑنے سے قبل ملک میں رائج تھی،“ غریدہ فاروقی نے حکومتی معاشی پالیسیوں کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کڑے الفاظ میں کہا کہ محض 10، 20 یا 50 روپے وغیرہ کی اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر کمی کر کے حکومت پپسے ہوئے عوام کو ٹرخانے کی کوشش نہ کرے اور آئی ایم ایف کے دباؤ یا اپنے ریونیو کے خسارے کو پورا کرنے کے لیے غریب عوام کی جیبوں پر مزید ڈاکا ڈالنا بند کرے۔

دوسری جانب وزیرِ اعظم پاکستان نے قوم سے اپنے ایک مقتدر اور تاریخی خطاب میں مہنگائی کے مارے عوام کو خوشخبری سناتے ہوئے سنسنی خیز اعلان کیا ہے کہ آج پٹرول اور ڈیژل کی ہفتہ وار قیمتوں کا باقاعدہ جائزہ لیا جا رہا ہے اور حکومت عوام کو ریلیف دینے کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بڑی اور “خاطر خواہ کمی” کا باضابطہ اعلان کرنے جا رہی ہے، وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ آج سے ٹھیک 3 مہینے قبل جب خطے میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہولناک جنگ چھڑی تھی تو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں کو یکایک آگ لگ گئی تھی جس کا براہِ راست بوجھ پاکستان پر بھی پڑا، لیکن پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کے نتیجے میں ہونے والی تاریخی جنگ بندی کے بعد اب بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بہت تیزی سے نیچے آرہی ہیں اور یقیناً آنے والے دنوں میں اس میں مزید بڑی کمی واقع ہوگی، انہوں نے پُرعزم انداز میں کہا کہ اس تاریخی جنگ بندی سے اب پورے خطے میں معاشی خوشحالی کا ایک نیا دور شروع ہوگا، تیل کی قیمتیں مسلسل نیچے آرہی ہیں اور مہنگائی کی وہ سیاہ رات اب ہمیشہ کے لیے ختم ہونے کو ہے جس نے محدود وسائل کے باعث ہماری معیشت کو جکڑ رکھا تھا۔

وزیرِ اعظم نے عالمی محاذ پر ملنے والی اس سٹرٹیجک کامیابی پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کی بدولت پوری دنیا میں ملک کا نام انتہائی عزت و وقار سے گونج رہا ہے اور دنیا کے ہر خطے میں پاکستان کا سفارتی وقار بلند ہوا ہے، انہوں نے انکشاف کیا کہ ”کل شام میری ایران کے صدر سے تفصیلی فون پر بات چیت ہوئی، جس کے دوران ایرانی صدر نے اس بحران کو ٹالنے اور جنگ بندی کرانے پر بار بار پاکستان کی حکومت اور مسلح افواج کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا، اور انہوں نے خواہش ظاہر کی ہے کہ وہ بہت جلد خود پاکستان کا باضابطہ دورہ کر کے یہاں کے غیور عوام کا شکریہ ادا کریں گے،“ وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ اس نازک قومی و بین الاقوامی معاملے پر ہماری پوری سیاسی و عسکری قیادت اور قومی وحدت ایک پیج پر ہے، انہوں نے اس کامیابی میں بھرپور حصہ ڈالنے پر نائب وزیرِ اعظم، وزیرِ داخلہ محسن نقوی (جنہوں نے ایران کے حوالے سے اپنا پورا کلیدی سفارتی کردار ادا کیا) اور قائدِ حزبِ اختلاف (اپوزیشن لیڈر) کا خصوصی شکریہ ادا کیا، اپنے خطاب کے آخر میں وزیرِ اعظم نے دوٹوک الفاظ میں اعتراف کیا کہ خطے کو اس ہولناک جنگ سے بچانے اور اس عظیم عالمی کامیابی کو ممکن بنانے میں سب سے زیادہ کلیدی اور سٹرٹیجک کردار فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کا ہے، وزیرِ اعظم نے واضح کیا کہ ہمیں اس کامیابی کا کوئی ذاتی کریڈٹ لینے کا شوق نہیں ہے بلکہ پوری قوم کو عالمی سطح پر کریڈٹ دلوانے کا ایک جوش اور جذبہ ہمارے ذہنوں پر سوار تھا جو خدا کے فضل سے پورا ہو گیا۔

ایرانی فٹبال فیڈریشن کا سفری پابندیوں کے خلاف فیفا سے رجوع کرنے کا اعلان، میکسیکو سے لاس اینجلس روانگی کی اجازت نہ ملنے پر شدید احتجاج، ورلڈکپ شیڈول متاثر

محمود احمد june 19,2026

میامی، امریکہ (انٹرنیشنل اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

جاری فیفا فٹبال ورلڈکپ 2026 کے دوران کھیل کے میدان سے باہر ایک نیا بڑا سفارتی اور انتظامی تنازع کھڑا ہو گیا ہے، جہاں ایرانی فٹبال فیڈریشن نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ عالمی کپ کے دوران اپنی ٹیم پر عائد کی جانے والی مبینہ سفری پابندیوں اور ویزا و سفری رکاوٹوں کے خلاف فٹبال کی عالمی گورننگ باڈی “فیفا” سے باضابطہ رجوع کر رہی ہے، بین الاقوامی اسپورٹس رپورٹس کے مطابق ایرانی فٹبال فیڈریشن نے امریکی انتظامیہ کے رویے پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ امریکہ میں عائد ان غیر لچکدار سفری پابندیوں کے باعث ایرانی نیشنل ٹیم کے کوچنگ اسٹاف کے سٹرٹیجک منصوبے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں اور عالمی کپ جیسے بڑے ایونٹ کی تیاریوں میں جان بوجھ کر غیر ضروری رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔

ایرانی فٹبال فیڈریشن کے مقتدر حکام نے تفصیلات سے مطلع کرتے ہوئے سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ میکسیکو میں قائم ایرانی ٹیم کے بین الاقوامی تربیتی کیمپ سے اتوار کے روز ٹیم کو لاس اینجلس (امریکہ) روانگی کی باقاعدہ اجازت دینے سے صاف انکار کر دیا گیا، جس کی وجہ سے نہ صرف کھلاڑیوں کا سفری شیڈول بری طرح پامال ہوا بلکہ ٹیم کے تمام انتظامی امور اور لاجسٹکس بھی شدید متاثر ہوئے ہیں، ایرانی فیڈریشن نے فیفا کے قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے کڑا مؤقف اختیار کیا ہے کہ فیفا ورلڈکپ جیسے عظیم اور عالمی یکجہتی کے ایونٹ میں شریک دنیا کی تمام پوزیشن ہولڈر ٹیموں کو بین الاقوامی قوانین کے تحت مساوی سفری سہولیات، پروٹوکول اور آزادانہ نقل و حرکت فراہم کی جانی چاہیے اور کسی بھی میزبان ملک کو اس میں سیاست چمکانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، اس سنگین معاملے پر ایرانی وفد فیفا سے فوری، ہنگامی اور مؤثر مداخلت کی درخواست کرے گا۔

واضح رہے کہ تاریخ کے اس سب سے بڑے فیفا ورلڈکپ 2026 کی مشترکہ میزبانی امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا مل کر کر رہے ہیں، لیکن امریکہ اور ایران کے مابین دیرینہ سیاسی کھچاؤ اور حال ہی میں طے پانے والے نازک امن معاہدے کے نفاذ کے ابتدائی مراحل کے دوران اس اسپورٹس ویزا تنازع نے فٹبال ورلڈکپ کے پرامن انعقاد اور امریکی انتظامیہ کے اسپورٹس مین اسپرٹ کے دعووں پر ایک بڑا سیکیورٹی و انتظامی سوالیہ نشان لگا دیا ہے جس پر فیفا کا ردعمل آنا ابھی باقی ہے۔

پاکستان میں 9000 افراد کے بینک اکاؤنٹس میں 750 ارب روپے موجود ہونے کا سنسنی خیز انکشاف، اتنی بھاری رقم کے باوجود انکم ٹیکس صفر ظاہر کیا گیا، 98.9 فیصد ٹیکس فائلرز آمدن چھپاتے ہیں، چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ

کاشف عباسی ,june 19,2026

اسلام آباد (اقتصادی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین راشد لنگڑیال نے ملکی تاریخ میں ٹیکس چوری اور معاشی بے ضابطگیوں کے حوالے سے ایک انتہائی چونکا دینے والا اور سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں صرف 9000 امیر ترین افراد کے بینک اکاؤنٹس میں اس وقت مجموعی طور پر 750 ارب روپے کے بھاری اموال اور بینک ڈپازٹس موجود ہیں، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اہم ترین اجلاس میں مقتدر بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے انکشاف کیا کہ ان 9000 کھرب پتی افراد نے اتنی بڑی دولت رکھنے کے باوجود اپنے انکم ٹیکس گوشواروں (ریٹرنز) میں اپنی آمدنی کو بالکل صفر ظاہر کر رکھا ہے جو کہ ملکی معیشت کے ساتھ ایک سنگین مذاق ہے۔

قائمہ کمیٹی کے سامنے ٹیکس چوروں کا کڑا کٹھ چٹھا کھولتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر نے مزید بتایا کہ پاکستان میں ٹیکس کا نظام کس قدر پامال ہو چکا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ملک کے 98.9 فیصد ٹیکس ریٹرن فائلرز جان بوجھ کر اپنی حقیقی آمدن کو قانون سے چھپاتے اور حد سے زیادہ کم ظاہر کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ یہ کڑوا سچ اس بات کی واضح نشاندہی کرتا ہے کہ ہمارے ٹیکسیشن کے پورے ڈھانچے میں بڑے پیمانے پر سٹرٹیجک بے ضابطگیاں اور خامیاں موجود ہیں جن کا فائدہ اٹھا کر بااثر اشرافیہ ٹیکس نیٹ سے صاف بچ نکلتی ہے اور سارا بوجھ غریب عوام پر آ گرتا ہے۔

راشد لنگڑیال نے اس سنگین صورتحال سے نمٹنے اور کڑی مانیٹرنگ کے لیے ایف بی آر کے نئے انقلابی اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اب ملک میں روایتی نظام کو یکسر بدل کر ایک جدید اور خودکار “فیس لیس ٹیکسیشن سسٹم” متعارف کرانے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے، اس ڈیجیٹل نظام کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہوگی کہ اس میں ٹیکس افسر اور ٹیکس دہندہ (اسیسٹی) کے درمیان کسی بھی قسم کا کوئی براہِ راست رابطہ یا ملاقات نہیں ہو سکے گی جس سے رشوت ستانی اور ملی بھگت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو جائے گا۔ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں ارکان کو مطلع کیا گیا کہ جدید ترین آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے اب ٹیکس نیٹ کو ہر صورت مؤثر اور وسیع بنانے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں تاکہ معاشی نظام میں شفافیت کو 100 فیصد یقینی بنا کر اربوں روپے کی ہونی والی اس منظم ٹیکس چوری کو آہنی ہاتھوں سے روکا جا سکے۔

لندن میراتھن 2027 میں پہلی بار 2 روزہ تاریخی ایونٹ کے طور پر منعقد ہوگی، ریکارڈ 13 لاکھ سے زائد درخواستیں موصول، 1 لاکھ رنرز روایتی راستے پر دوڑیں گے، معیشت کو 400 ملین پاؤنڈ کے فائدے کی توقع

منصور احمد june 19,2026

لندن (انٹرنیشنل اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

لندن میراتھن کے منتظمین نے کھیلوں کی دنیا کا ایک انتہائی منفرد اور بڑا اعلان کرتے ہوئے مطلع کیا ہے کہ سال 2027 میں یہ عالمی شہرت یافتہ تاریخی دوڑ خصوصی طور پر 2 روز تک جاری رہے گی، سرکاری خبر رساں ایجنسی (اے پی پی) اور برطانوی میڈیا ’بی بی سی‘ کی رپورٹس کے مطابق اس نئے انقلابی فارمیٹ کے تحت 24 اور 25 اپریل 2027 کو مجموعی طور پر ریکارڈ 100,000 شرکا کو اس عالمی ایونٹ میں باقاعدہ حصہ لینے کا سنہری موقع ملے گا، منتظمین کی جانب سے یہ تاریخی فیصلہ اس وقت کیا گیا جب 2027 کی لندن میراتھن میں شرکت کے لیے دنیا بھر سے ریکارڈ 1,338,544 درخواستیں موصول ہوئیں، جو کہ گزشتہ برس کی ریکارڈ 1,133,813 درخواستوں سے بھی کہیں زیادہ ہیں، نئے فارمیٹ کے نفاذ کے بعد اب عام شرکا کے بیلٹ (قرعہ اندازی) کے ذریعے انتخاب کے امکانات تقریباً 2 گنا ہو جائیں گے۔

لندن میراتھن ایونٹس کے چیف ایگزیکٹو ہیو براشر کے مطابق اس 2 روزہ میراتھن کے انعقاد سے مختلف عالمی خیراتی اداروں (Charities) کے لیے 150 ملین پاؤنڈ سے زائد کے خطیر فنڈز جمع ہونے کی قوی توقع ہے، جبکہ برطانوی معیشت کو اس میگا ایونٹ کی بدولت مجموعی طور پر 400 ملین پاؤنڈ کا زبردست سماجی اور معاشی فائدہ پہنچے گا، انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ لندن میراتھن کی طویل تاریخ میں ایک منفرد اور غیر معمولی قدم ہے، جس کا بنیادی مقصد زیادہ سے زیادہ پُرجوش افراد، خیراتی اداروں اور مقامی برادریوں کو اس عالمی ہیلتھ ایونٹ کا حصہ بنانا ہے، دوسری جانب لندن کے مقبول میئر صادق خان نے بھی اس شاندار فیصلے کا بھرپور خیرمقدم کرتے ہوئے پُرعزم الفاظ میں کہا کہ لندن دنیا بھر میں کھیلوں کا حقیقی دارالحکومت ہے اور 2027 میں 1 سال کے لیے میراتھن کا یہ 2 روزہ خصوصی انعقاد ہمارے شہر کے لیے ایک بہت بڑا اعزاز کی بات ہے۔

کھیلوں کے منتظمین کے مطابق تمام 100,000 خوش قسمت شرکا لندن کے اسی تاریخی اور روایتی راستے پر دوڑیں گے، جو گرین وچ کے خوبصورت مقام سے شروع ہو کر ویسٹ منسٹر پر اختتام پذیر ہوتا ہے، اس کے علاوہ مستقبل کے معماروں کے لیے 20,000 سے زائد بچوں کی شرکت کے ساتھ ’منی لندن میراتھن‘ 23 اپریل کو شیڈول کے مطابق منعقد کی جائے گی، واضح رہے کہ حالیہ لندن میراتھن 2026 میں ریکارڈ 59,830 رنرز نے کامیابی سے اپنی دوڑ مکمل کی تھی، جبکہ ان شرکا نے دنیا بھر میں انسانیت اور خیراتی مقاصد کے لیے 90 ملین پاؤنڈ سے زائد کی خطیر رقم جمع کر کے کھیل کی تاریخ کا ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا جو اب 2027 میں ٹوٹنے کے قریب ہے۔

بھارت کی ہندوتوا حکومت اپنی کشمیر دشمن اور ظالمانہ پالیسیوں کے ذریعے تنازعۂ کشمیر کی حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتی، جموں و کشمیر کے بارے میں بھارتی ہٹ دھرمی عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ ہے، کل جماعتی حریت کانفرنس کا اسلام آباد سے مشترکہ اعلامیہ جاری

منصور احمد june 19,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر شاخ کے سینئر ترین رہنماؤں نے مودی حکومت کی فاشسٹ پالیسیوں کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ بھارت کی متعصب ہندوتوا حکومت اپنے تمام تر ظلم و ستم، سفاکانہ کشمیر دشمن ہتھکنڈوں اور ظالمانہ پالیسیوں کے باوجود عالمی سطح پر تسلیم شدہ تنازعۂ کشمیر کی تاریخی و قانونی حقیقت کو کسی صورت تبدیل نہیں کر سکتی، سرکاری خبر رساں ایجنسی (اے پی پی) کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے مقتدر سینیئر رہنماؤں محمد فاروق رحمانی، حاجی سلطان بٹ اور چودھری شاہین اقبال نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے ایک اہم ترین مشترکہ ترین بیان جاری کرتے ہوئے دیرینہ تنازعۂ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی پاس کردہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنے پر کڑا زور دیا ہے، حریت قیادت کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر کے حوالے سے نئی دہلی کی ہٹ دھرمی اور ہٹلر شاہی پر مبنی جابرانہ پالیسی اب صرف جنوبی ایشیا کے خطے کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے عالمی امن و سلامتی کے لیے ایک ہولناک اور سنگین خطرہ بن چکی ہے۔

حریت رہنماؤں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی تازہ ترین زمینی صورتحال پر گہرے افسوس اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ سفاک بھارتی افواج نے وادی میں کشمیری عوام کی حق پر مبنی اور پرامن جدوجہدِ آزادی کو بندوق کے زور پر دبانے کے لیے وحشیانہ ظلم و تشدد، چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے گھروں پر آدھی رات کو چھاپوں، فوجی محاصروں اور تلاشی کی نام نہاد کارروائیوں سمیت جبری گرفتاریوں اور سیاسی انتقام کا کڑا سلسلہ حد سے زیادہ تیز کر دیا ہے، کشمیری قیادت نے جابر بھارتی انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر کے حوالے سے اپنی نوآبادیاتی اور غاصبانہ پالیسی کو فی الفور ترک کرے اور کشمیری عوام کو ان کا بنیادی اور ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت فراہم کرتے ہوئے اس دیرینہ مسئلے کے پرامن، منصفانہ اور دیرپا حل کے لیے سفارتی راہ ہموار کرے، انہوں نے عالمی برادری کو مطلع کیا کہ بھارت نے حریت کی صفِ اول کی قیادت سمیت ہزاروں معصوم کشمیری نوجوانوں کو کالے قوانین کے تحت جھوٹے، من گھڑت اور بے بنیاد مقدمات میں ملوث کر کے تہاڑ جیل سمیت دیگر بدنام زمانہ بھارتی عقوبت خانوں اور جیلوں میں غیر قانونی طور پر قید کر رکھا ہے، لیکن ان تمام تر جابرانہ ہتھکنڈوں کے باوجود کشمیری عوام کے لازوال جذبۂ حریت اور آزادی کی تڑپ کو ذرہ برابر بھی کمزور نہیں کیا جا سکا۔

مشترکہ اعلامیے میں حریت رہنماؤں نے اس فولادی عزم کا اعادہ کیا کہ مقبوضہ وادی کے چپے چپے پر گرنے والا کشمیری شہداء کا پاک خون اور ان کی عظیم قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی اور مظلوم کشمیری عوام اپنی اس منصفانہ جدوجہدِ آزادی کو اس کے منطقی انجام اور مکمل آزادی تک پہنچانے کے لیے ہر محاذ پر پرعزم ہیں، انہوں نے اقوامِ متحدہ ، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور بااثر عالمی برادری سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قابض افواج کے بدترین مظالم، ماورائے عدالت قتل، انسانی حقوق کی سنگین ترین پامالیوں اور کشمیریوں کے سیاسی جبر کا فوری اور کڑا نوٹس لے، اور بھارت پر سفارتی و اقتصادی دباؤ ڈال کر تنازعۂ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کرانے میں اپنا مؤثر اور تاریخی کردار ادا کرے تاکہ خطے کو مستقل تباہی سے بچایا جا سکے۔

جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملوں میں ۱۶ افراد ہلاک، ایران کا معاہدہ شکنی پر سخت ردعمل کا انتباہ، محمد باقر قالیباف کا واشنگٹن اور تل ابیب کو کڑا پیغام

کاشف عباسی ,june 19,2026

بیروت/تہران (بین الاقوامی امور کے ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

امریکہ اور ایران کے مابین تاریخی مفاہمتی یادداشت کے نفاذ کے فوری بعد مشرقِ وسطیٰ کے امن کو سبوتاژ کرنے کی بڑی کوشش سامنے آئی ہے جہاں جنوبی لبنان پر جابرانہ اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم ۱۶ لبنانی شہری ہلاک اور درجنوں شدید زخمی ہو گئے ہیں، جبکہ دوسری جانب اسلامی جمہوریہ ایران نے واشنگٹن اور تل ابیب کو کڑی وارننگ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اسلام آباد معاہدے کی ذرہ برابر بھی خلاف ورزی کی گئی یا تہران پر کوئی بھی غیر معمولی مطالبات مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو ایران سخت اور تباہ کن جواب دینے میں ایک سیکنڈ کی ہچکچاہٹ بھی محسوس نہیں کرے گا، بیروت سے موصولہ تازہ ترین عسکری و سفارتی رپورٹس کے مطابق جنوبی لبنان کے مختلف رہائشی علاقوں میں اسرائیلی فورسز کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں بھاری جانی و مالی نقصان ہوا ہے جس کے بعد خطے میں ایک بار پھر شدید جنگی کشیدگی بڑھنے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے، لبنانی وزارتِ صحت کے ذرائع کے مطابق ملبے تلے دبے زخمیوں کو نکالنے کے لیے امدادی سرگرمیاں تاحال جاری ہیں۔

اس ہنگامی صورتحال اور جنیوا میں ہونے والے تکنیکی مذاکرات کے تناظر میں امریکہ کے ساتھ مذاکراتی عمل میں ایرانی اعلیٰ وفد کی قیادت کرنے والے ایرانی پارلیمان کے مقتدر اسپیکر محمد باقر قالیباف نے انتہائی سخت اور جارحانہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران بین الاقوامی امن، تجارتی بحری راستوں کی آزادی اور سفارتی حل کا خواہاں ضرور ہے، تاہم اگر کوئی بھی فریق (امریکہ یا اس کے اتحادی) اس امن معاہدے کی روح کے خلاف کوئی قدم اٹھاتا ہے یا ایران پر بلاجواز معاشی و فوجی دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے تو ایران اپنی دفاعی طاقت کے بل بوتے پر بھرپور اور کاری ضرب لگانے کا پورا حق محفوظ رکھتا ہے، محمد باقر قالیباف نے سپریم لیڈر رہبرِ معظم کے فیصلے کی روشنی میں دوٹوک الفاظ میں کہا:

”اگر دوسرے فریق کی جانب سے معاہدہ شکنی کی گئی یا حد سے زیادہ مطالبات مسلط کرنے کی کوشش کی گئی، تو ایران اس کا ایسا تباہ کن جواب دے گا جس کی دشمن نے کبھی توقع بھی نہیں کی ہوگی اور ہم اس میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔“

بین الاقوامی سیاسی و عسکری مبصرین کے مطابق ایک ایسے نازک وقت میں جب پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے مابین طے پانے والے تاریخی ”اسلام آباد میمورنڈم“ پر باقاعدہ عملدرآمد کا ۶۰ روزہ حساس دورانیہ شروع ہو چکا ہے اور سوئٹزرلینڈ کے مقام برگن شٹاخ میں تکنیکی وفود کے مذاکرات متوقع ہیں، جنوبی لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیاں عالمی امن کوششوں کے لیے ایک بہت بڑا اور کٹھن امتحان ثابت ہوسکتی ہیں، ادھر لبنانی حکام اور قطر سمیت دیگر علاقائی مبصرین نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری مداخلت کرے اور اسرائیل کو اس جارحیت سے روکے تاکہ خطے کو کسی نئی ہولناک جنگ اور ممکنہ جوہری تصادم سے بچایا جا سکے۔

فیفا ورلڈکپ، امریکہ میں سیکیورٹی کی سنگین ناکامی، ڈیلاس اسٹیڈیم میں متعدد برطانوی شائقین بغیر ٹکٹ اور تلاشی کے اندر گھس گئے، مہنگے ٹکٹ خریدنے والے فینز کا شدید احتجاج

محمود احمد june 19,2026

ڈیلاس، امریکہ (انٹرنیشنل اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں جاری فیفا فٹبال ورلڈکپ ۲۰۲۶ء کے دوران سیکیورٹی کے حوالے سے ایک انتہائی سنگین اور حیران کن ناکامی سامنے آئی ہے جہاں ڈیلاس کے اسٹیڈیم میں کھیلے گئے ایک بڑے میچ کے دوران متعدد شائقین بغیر ٹکٹ اور بغیر کسی سیکیورٹی چیکنگ کے اسٹیڈیم کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے، برطانوی میڈیا کی جانب سے جاری کردہ ایک تہلکہ خیز رپورٹ کے مطابق ڈیلاس میں انگلینڈ اور کروشیا کے مابین کھیلے گئے ہائی وولٹیج میچ کے دوران سیکیورٹی انتظامات کے اس وقت پرخچے اڑ گئے جب بڑی تعداد میں انگلش شائقین (فینز) انتظامیہ کو چکمہ دیتے ہوئے اسٹیڈیم کی حدود میں داخل ہو گئے، عینی شاہدین اور اسٹیڈیم میں موجود پُرامن شہریوں نے میڈیا کو بتایا کہ متعدد افراد باقاعدہ سیکیورٹی چیکس اور ٹکٹ اسکیننگ بیریئرز سے بچتے ہوئے باآسانی اسٹینڈز تک پہنچ گئے جس نے امریکہ کے بڑے سیکیورٹی دعووں کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔

میچ دیکھنے کے لیے خطیر رقم خرچ کر کے باقاعدہ قانونی ٹکٹ خریدنے والے ایک برطانوی مداح نے اسٹیڈیم کے باہر کی صورتحال کو انتہائی مضحکہ خیز اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے سنسنی خیز انکشاف کیا کہ اسٹیڈیم کی ٹکٹ چیکنگ بیریئرز کے اطراف میں بڑے بڑے خلا (گیپس) موجود تھے جہاں سے بغیر ٹکٹ والے لوگ آرام سے پیدل اندر داخل ہو رہے تھے، عینی شاہد کا مزید کہنا تھا کہ وہاں چیکنگ پر موجود زیادہ تر رضاکار معمر خواتین تھیں جو رش کے باعث کسی کو بھی اندر جانے سے نہیں روک پا رہی تھیں، اس نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ”میں نے لائن میں لگ کر اپنا ٹکٹ تو اسکین کروایا لیکن حیرت انگیز طور پر کسی بھی اہلکار نے میرے جھنڈے یا ہاتھ میں موجود ورلڈکپ ٹرافی کی نقل (ریپلیکا) تک کو چیک کرنا گوارا نہیں کیا جس سے واضح ہوتا ہے کہ تلاشی کا نظام کتنا کمزور تھا،“ عینی شاہدین کے مطابق کچھ افراد تو بغیر ٹکٹ اسکین کیے ہی سیدھے راستے سے اندر داخل ہو گئے جبکہ بعض منچلوں نے لوہے کی رکاوٹیں پھلانگ کر اندر جانے کی کوشش کی۔

واضح رہے کہ اس ہائی پروفائل میچ کے لیے امریکی انتظامیہ کی جانب سے انتہائی سخت عسکری سیکیورٹی انتظامات کا دعویٰ کیا گیا تھا جس کے تحت اسٹیڈیم کی چھتوں اور اہم مقامات پر ماہر اسنائپرز (نشانہ باز) بھی تعینات کیے گئے تھے، جبکہ ڈیلاس پولیس حکام نے بھی فخر سے کہا تھا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے خصوصی تربیت یافتہ کمانڈوز اور جدید ترین اہلکار گراؤنڈ میں موجود ہیں تاہم اس کے باوجود اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا بغیر تلاشی کے وی آئی پی زون میں داخل ہو جانا ورلڈکپ کے بقیہ میچز کے لیے ایک تشویشناک اور سنگین سوالیہ نشان بن گیا ہے، دوسری جانب اس بڑے اسکینڈل پر پوزیشن واضح کرتے ہوئے فیفا کے مرکزی ترجمان نے روایتی دفاعی انداز اپنایا ہے اور کہا ہے کہ فی الحال انہیں کسی بھی شخص کے بغیر ٹکٹ داخل ہونے کے کوئی ٹھوس شواہد نہیں ملے جبکہ مقامی پولیس نے بھی اس پورے واقعے سے یکسر لاعلمی کا اظہار کیا ہے، تاہم سوشل میڈیا پر ویڈیوز وائرل ہونے اور برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے بعد مہنگے ترین ٹکٹ خرید کر میچ دیکھنے والے دنیا بھر کے شائقین میں امریکی انتظامیہ کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔

فیفا ورلڈکپ، سوئٹزرلینڈ اور کینیڈا کی شاندار فتوحات، بوسنیا اور قطر کو عبرتناک شکست، کینیڈا کا قطر کے خلاف 0-6 سے تاریخی معرکہ

محمود احمد june 19,2026

گواڈالاجارا/ٹورنٹو (بین الاقوامی اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

فیفا فٹبال ورلڈکپ ۲۰۲۶ء کے گروپ ’بی‘ کے اہم ترین میچز میں سوئٹزرلینڈ اور کینیڈا نے سحر انگیز اور شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے اپنے حریفوں کو بڑے مارجن سے شکست دے کر عالمی کپ میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، ٹورنٹو اور میکسیکو سے حاصل ہونے والی اسپورٹس رپورٹس کے مطابق گروپ ’بی‘ کے پہلے یکطرفہ مقابلے میں سوئٹزرلینڈ نے بوسنیا اینڈ ہرزیگووینا کے خلاف جارحانہ کھیل پیش کرتے ہوئے ۱-۴ سے ایک بڑی کامیابی حاصل کی، سوئس فارورڈز نے میچ کے آغاز ہی سے سٹرٹیجک اور تیز رفتار حملوں کے ذریعے بوسنیا کے دفاع (ڈیفنس) کو مسلسل شدید دباؤ میں رکھا جس کے باعث بوسنیا کی ٹیم پورے میچ میں بے بس نظر آئی اور صرف ایک ہی گول اسکور کر سکی، جبکہ سوئٹزرلینڈ نے یکے بعد دیگرے چار گول داغ کر پوزیشن مستحکم کی اور اہم ترین ۳ پوائنٹس اپنے نام کر لیے۔

دوسری جانب ٹورنٹو میں کھیلے گئے گروپ ’بی‘ کے دوسرے بڑے معرکے میں میزبان کینیڈا نے قطر کی فٹبال ٹیم کو مٹی میں ملا دیا اور کینگروز نے قطر کو ۰-۶ کے انتہائی عبرتناک مارجن سے شکست دے کر جاری ٹورنامنٹ کی اب تک کی سب سے بڑی اور تاریخی فتوحات میں سے ایک اپنے نام کر لی ہے، میچ کے دوران کینیڈین کھلاڑیوں نے شاندار ٹیم ورک، بہترین پاسنگ اور طوفانی حملوں کے ذریعے قطر کے کمزور ڈیفنس کو مکمل طور پر بے بس کر دیا اور قطری گول کیپر کو سنبھلنے کا موقع بھی نہ دیا، اس تاریخی اور شاندار کامیابی کے بعد میزبان کینیڈا نے گروپ ’بی‘ کے پوائنٹس ٹیبل پر اپنی پوزیشن کو حد سے زیادہ مضبوط اور مستحکم کر لیا ہے جبکہ قطر کو ٹورنامنٹ میں مسلسل دوسری عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کے بعد اس کے اگلے مرحلے میں جانے کے امکانات معدوم ہو چکے ہیں، اس وقت گروپ ’بی‘ کی صورتحال انتہائی دلچسپ ہو چکی ہے جہاں سوئٹزرلینڈ اور کینیڈا کے درمیان ہونے والا اگلا ٹاکرا سب سے اہم تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ جو بھی ٹیم وہ میچ جیتے گی وہ گروپ میں پہلی پوزیشن حاصل کر کے اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی کرے گی۔

فیفا ورلڈکپ، میکسیکو جنوبی کوریا کو شکست دے کر ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچنے والی دنیا کی پہلی ٹیم بن گئی، لوئس رومو کا فیصلہ کن گول، راؤنڈ آف 32 میں جگہ محفوظ

محمود احمد june 19,2026

گواڈالاجارہ، میکسیکو (بین الاقوامی اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

جاری فیفا فٹبال ورلڈکپ ۲۰۲۶ء کے گروپ مرحلے کے ایک انتہائی سنسنی خیز اور اہم ترین مقابلے میں میزبان ملک میکسیکو نے جنوبی کوریا کو اعصاب شکن مقابلے کے بعد شکست دے دی ہے، گواڈالاجارہ کے کھچا کھچ بھرے اسٹیڈیم سے موصولہ بین الاقوامی اسپورٹس رپورٹس کے مطابق ہوم گراؤنڈ پر کھیلے گئے اس میچ میں میزبان میکسیکو نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنوبی کوریا کی مضبوط ٹیم کو ۱-۰ سے مات دے دی، میچ کا واحد اور فیصلہ کن گول میکسیکو کے اسٹار کھلاڑی لوئس رومو نے کھیل کے ۵۰ویں منٹ میں حریف ٹیم کے دفاع کو پامال کرتے ہوئے انتہائی خوبصورت انداز میں نیٹ کی زینت بنایا، جنوبی کوریا کے فارورڈز نے میچ میں واپسی کے لیے آخری لمحات تک سرتوڑ کوششیں کیں تاہم میکسیکو کے مضبوط دفاع اور گول کیپر نے حریف ٹیم کے تمام حملوں کو ناکام بنا کر برتری برقرار رکھی۔

اس شاندار اور فیصلہ کن فتح کے ساتھ ہی ہوم ٹیم میکسیکو جاری فیفا ورلڈکپ ۲۰۲۶ء کے اگلے اہم ترین ناک آؤٹ مرحلے (راؤنڈ آف 32) میں کوالیفائی کرنے والی دنیا کی پہلی ٹیم بن گئی ہے جس نے باقاعدہ طور پر اپنی پوزیشن محفوظ کر لی ہے، اس وقت ورلڈکپ کے گروپ ’اے‘ کے پوائنٹس ٹیبل پر نظر ڈالی جائے تو میزبان میکسیکو اپنے دونوں ابتدائی میچز جیت کر مجموعی طور پر ۶ پوائنٹس کے ساتھ گروپ میں پوزیشن کے لحاظ سے سب سے سرفہرست اور مضبوط ترین پوزیشن پر موجود ہے جبکہ اس تاریخی کامیابی پر میکسیکو بھر میں فٹبال کے دیوانے شائقین سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور جشن منا رہے ہیں۔

۱۵ سالہ ویبھو سوریاونشی کے ساتھ والدین کیوں سفر کریں گے؟ بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے تاریخی فیصلے کی اہم وجہ بتا دی

منصور احمد june 19,2026

ممبئی (انٹرنیشنل اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

بھارتی کرکٹ کے نئے ابھرتے ہوئے ۱۵ سالہ سنسنی خیز بیٹر ویبھو سوریاونشی کے ہمراہ غیر ملکی دورے پر ان کے والدین کے بھی ساتھ سفر کرنے کے انوکھے فیصلے پر پائے جانے والے تجسس کے بعد بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے باقاعدہ طور پر اپنی سٹرٹیجک وضاحت پیش کر دی ہے، اسپورٹس رپورٹس کے مطابق بی سی سی آئی نے جون اور جولائی ۲۰۲۶ء میں شیڈول بھارتی کرکٹ ٹیم کے دورۂ آئرلینڈ اور دورۂ انگلینڈ کے لیے خصوصی طور پر ۱۵ سالہ کم عمر کھلاڑی ویبھو سوریاونشی کے ساتھ ان کے والدین کو بھی سرکاری خرچے پر ٹیم کے ساتھ سفر کرنے اور ہوٹل میں قیام کرنے کی باضابطہ اجازت دے رکھی ہے، اس غیر معمولی اور اپنی نوعیت کے پہلے اقدام پر دنیا بھر کے کرکٹ حلقوں میں ہونی والی بحث کے بعد بی سی سی آئی کے جوائنٹ سیکرٹری دیواجیت سائیکیا نے میڈیا کے سامنے آ کر اس معاملے کی اصل سچائی اور وجوہات واضح کی ہیں۔

بی سی سی آئی کے اعلیٰ عہدیدار دیواجیت سائیکیا نے بورڈ کی پالیسی پر روشنی ڈالتے ہوئے سنسنی خیز انکشاف کیا کہ موجودہ جدید دور میں سینئر لیول پر دنیا کی کسی بھی انٹرنیشنل یا نیشنل کرکٹ ٹیم میں کوئی بھی ۱۴ یا ۱۵ سال کا کم عمر بچہ شامل نہیں ہوتا کیونکہ یہ انتہائی سخت اور دباؤ کا ماحول ہوتا ہے، لیکن کئی دہائیوں کے طویل انتظار کے بعد ہمیں ویبھو سوریاونشی جیسا غیر معمولی اور گوڈ گفٹڈ ٹیلنٹ ملا ہے، انہوں نے ماضی کی یاد تازہ کرتے ہوئے کہا کہ کرکٹ کی تاریخ میں ایک ایسا وقت تھا جب بالکل اسی چھوٹی عمر میں عظیم سچن ٹینڈولکر نے انڈین نیشنل ٹیم میں جگہ بنائی تھی اور اب ویبھو سوریاونشی اسی نقشِ قدم پر چل رہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کا انتہائی چھوٹا بچہ جب اچانک انٹرنیشنل لیول پر سینئر نیشنل ٹیم کے ڈریسنگ روم کا حصہ بنتا ہے تو اس کی ذہنی نشوونما اور روزمرہ کی روٹین کے حوالے سے کئی پیچیدہ مسائل اور چیلنجز سامنے آ سکتے ہیں۔

دیواجیت سائیکیا نے مزید وضاحت کی کہ بی سی سی آئی نے یہ تاریخی فیصلہ صرف اور صرف سوریاونشی کو غیر ملکی دوروں کے دوران ہوم سکنس سے بچانے، ڈریسنگ روم میں خود کو مکمل طور پر پرسکون و آرام دہ محسوس کرانے اور سینئر بین الاقوامی کھلاڑیوں کے سخت عسکری و پیشہ ورانہ ماحول سے ہم آہنگ کرنے میں مدد دینے کے لیے کیا ہے تاکہ والدین کی موجودگی میں وہ کسی بھی قسم کے ذہنی دباؤ کا شکار نہ ہوں، بورڈ کا پختہ ماننا ہے کہ اس اچھوتے اور مخلصانہ اقدام کی بدولت کم عمر ویبھو سوریاونشی کے بین الاقوامی کیریئر کے آغاز میں سامنے آنے والے سیکیورٹی، نظم و ضبط اور نفسیاتی مسائل کو بڑی حد تک کم کرنے میں مدد ملے گی اور وہ پوری یکسوئی کے ساتھ آئرلینڈ اور انگلینڈ کی پچوں پر بھارت کے لیے بہترین پرفارمنس کا مظاہرہ کر سکیں گے۔

متحدہ عرب امارات کا علاقائی حالات سے متاثرہ اوور اسٹے مسافروں کے لیے ۳۰ روزہ رعایتی ویزا مدت کا اعلان، بغیر جرمانے ملک چھوڑنے یا اسٹیٹس درست کرنے کی بڑی سہولت، ۱۰ جون سے ۹ جولائی ۲۰۲۶ء تک مہلت، وفاقی اتھارٹی کا بیان

منصور احمد june 19,2026

دبئی (بین الاقوامی امور کے ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی حکومت نے مشرقِ وسطیٰ کے حالیہ غیر معمولی علاقائی حالات اور فضائی آپریشنز کی معطلی کے باعث امارات میں پھنس جانے والے اوور اسٹے غیر ملکیوں کے لیے ایک بڑے معاشی و قانونی ریلیف پیکیج کا باضابطہ اعلان کیا ہے، اماراتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یو اے ای کی وفاقی اتھارٹی برائے شناخت، شہریت، کسٹمز اور بندرگاہی سیکیورٹی (آئی سی پی) نے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے غیر معمولی علاقائی سیکیورٹی صورتحال سے متاثرہ افراد کے لیے ۳۰ روزہ ویزا رعایتی مدت دینے کا اعلان کیا ہے جس کے دوران ایسے تمام غیر ملکی اماراتی قوانین کے تحت اپنا قانونی اسٹیٹس درست کر سکتے ہیں یا پھر بھاری جرمانوں کی ادائیگی کے بغیر انتہائی عزت و احترام کے ساتھ ملک سے اپنے وطن واپس روانہ ہو سکتے ہیں، وفاقی اتھارٹی کے مطابق یہ خصوصی رعایتی مدت ۱۰ جون ۲۰۲۶ء سے باقاعدہ نافذ العمل ہو چکی ہے جو ۹ جولائی ۲۰۲۶ء تک نافذ رہے گی اور اس مہلت کا اطلاق ان تمام وزٹ اور رہائشی ویزا ہولڈرز پر ہوگا جو پہلے اوور اسٹے جرمانوں سے مستثنیٰ قرار دیے گئے تھے مگر فلائٹس کینسل ہونے یا دیگر علاقائی حالات کی وجہ سے مقررہ وقت پر یو اے ای چھوڑنے میں ناکام رہے تھے۔

آئی سی پی نے اپنے آفیشل سٹرٹیجک بیان میں واضح کیا ہے کہ اس اہم ترین انسانی اقدام کا بنیادی مقصد اماراتی امیگریشن قوانین پر عملدرآمد کو شفاف بنانا اور خطے کے بحران سے متاثرہ بے قصور افراد کو اپنی قانونی حیثیت درست کرنے کا ایک آخری سنہری موقع فراہم کرنا ہے، اس ۳۰ روزہ مہلت کے دوران جو غیر ملکی افراد متحدہ عرب امارات میں مزید قیام کرنے یا نوکری کرنے کے خواہشمند ہیں، وہ اماراتی لیبر مارکیٹ کے قواعد کے مطابق اپنے رہائشی (رذیڈنس ویزا) یا روزگار کے نئے کاغذات اور اسپانسر شپ فوری اپ ڈیٹ کر سکتے ہیں جبکہ اپنے ملکوں کو واپس جانے والے مسافر ایئرپورٹ پر کسی بھی قسم کا اوور اسٹے جرمانہ یا اضافی تادیبی کارروائی بھگتے بغیر بحفاظت روانہ ہو سکتے ہیں، اتھارٹی نے اپنے مقتدر بیان میں مزید صراحت کی کہ ماضی میں پھنسے ہوئے مسافروں کو دی گئی تمام چھوٹ خالصتاً انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھی جو ہنگامی سفری صورتحال میں مسافروں اور مقیم رہائشیوں کو ریلیف دینے کے لیے نافذ کی گئی تھی، تاہم اب امریکہ ایران معاہدے کے بعد چونکہ خطے میں مجموعی فضائی و زمینی حالات تیزی سے معمول پر آ رہے ہیں، اس لیے اب یہ پرانا استثنیٰ مستقل طور پر ختم کیا جا رہا ہے، آئی سی پی نے تمام اماراتی شہریوں اور وہاں مقیم غیر ملکیوں کو سخت ہدایت دی ہے کہ وہ سوشل میڈیا کی افواہوں پر کان دھرنے کے بجائے صرف اور صرف حکومت کے تصدیق شدہ سرکاری ذرائع اور آئی سی پی کے پورٹل سے ہی ویزا معلومات حاصل کریں۔

وفاق کے ۵۰ سے زائد اداروں میں ملازمین کو بنیادی تنخواہ سے دگنی مراعات دینے کا سنسنی خیز انکشاف، بعض افسران کی تنخواہیں عام محکموں کے مقابلے میں ۲ سے ۳ گنا زیادہ ہونے کا انکشاف، وزارتِ خزانہ کے یکساں تنخواہ کے نظام کا اصول بری طرح متاثر

منصور احمد june 19,2026

اسلام آباد (خصوصی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

وفاقی حکومت کے ۵۰ سے زائد اہم ترین اداروں اور خودمختار سٹرٹیجک محکموں میں ملازمین اور اعلیٰ افسران کو ان کی بنیادی تنخواہ سے ۱۰۰ فیصد یعنی دگنی سے بھی زائد اضافی مراعات اور پرکشش الاؤنسز دیے جانے کا سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے، وفاقی دارالحکومت کے معتبر سرکاری ذرائع اور سینئر صحافی انصار عباسی کی بیوروکریسی کے حوالے سے تیار کردہ ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق تنخواہوں کے سرکاری ڈھانچے سے مکمل واقفیت رکھنے والے اعلیٰ مقتدر حکام نے تصدیق کی ہے کہ ان مخصوص اداروں میں مجموعی ماہانہ تنخواہیں عام سرکاری وزارتوں اور محکموں میں کام کرنے والے بالکل اِسی گریڈ کے افسران کے مقابلے میں ۲ سے ۳ گنا تک کہیں زیادہ ہیں جس کے باعث سول سروس کے اندر شدید بے چینی اور مایوسی پھیل رہی ہے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ان غیر معمولی مراعات اور بھاری الاؤنسز حاصل کرنے والے بااثر ترین محکموں میں صدر سیکرٹریٹ، وزیرِ اعظم آفس ، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ، سینیٹ سیکرٹریٹ، سپریم کورٹ سمیت تمام اعلیٰ عدالتیں (حائی کورٹس)، قومی احتساب بیورو (نیب)، وفاقی انٹیلی جنس ادارے، ایف بی آر کے ٹیکس حکام اور مختلف خصوصی ٹربیونلز اور وفاقی عدالتوں کے ملازمین شامل ہیں، اعلیٰ سطح کے ان آئینی عہدوں اور انفورسمنٹ ایجنسیوں کے علاوہ زیادہ مراعات پانے والے دیگر اداروں میں وفاق کے زیرِ انتظام خصوصی تعلیمی، بحالی اور صحت کے بڑے ادارے، بینکنگ ٹربیونلز، وفاقی پولیس تنظیمیں (ایف آئی اے و موٹروے پولیس) اور دیگر خودمختار ریگولیٹری ادارے بھی شامل ہیں جنہیں خزانے سے اربوں روپے اضافی دیے جا رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ کئی برسوں سے وفاقی حکومت مختلف سیاسی و انتظامی وجوہات کی بنیاد پر منتخب من پسند اداروں کو خصوصی الاؤنسز کی منظوری دیتی رہی ہے جن میں کارکردگی کی ترغیبات، فیلڈ کی عملی ضروریات اور اعلیٰ ہنر مند عملے کو سرکاری ملازمت میں برقرار رکھنا شامل بتایا جاتا ہے لیکن اس کا بھیانک اور منفی نتیجہ ایک ہی حکومتی ڈھانچے اور ایک ہی ملک کے اندر متعدد متوازی تنخواہی نظاموں کی صورت میں نکلا ہے، صورتحال اس قدر سنگین ہے کہ ایک عام وزارت یا اٹیچڈ محکمہ میں دن رات کام کرنے والا گریڈ ۲۰ کا سینیئر افسر اُس افسر کے مقابلے میں آدھی سے بھی کم تنخواہ حاصل کرتا ہے جو بالکل اِسی گریڈ ۲۰ میں کسی ایسے بااثر ادارے میں تعینات ہو جہاں کارکردگی یا خصوصی سیکیورٹی الاؤنسز دیے جاتے ہیں، مالیاتی ناقدین اور سینیئر بیوروکریٹس کا کہنا ہے کہ اس امتیازی پالیسی سے ملک کے یکساں بنیادی تنخواہ کے نظام کا بنیادی آئینی اصول بری طرح متاثر ہوا ہے اور وفاق میں ایک ایسی عجیب صورتحال پیدا ہوگئی ہے جسے کئی مقتدر بیوروکریٹس ”حکومت کے اندر ایک الگ حکومت“ قرار دے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ چند سال قبل وزارتِ خزانہ نے اس بڑے معاشی فرق کو دور کرنے کے لیے صرف وفاقی سیکرٹریٹ کے اُن غریب ملازمین کے لیے ۱۵ سے ۲۵ فیصد تک ”ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس“ (DRA) متعارف کرایا تھا جو معمول کی پرانی تنخواہیں لے رہے تھے، اگرچہ یہ اقدام اس سرکاری اعتراف کا واضح ثبوت تھا کہ مختلف محکموں کے مابین تنخواہوں کا فرق حد سے زیادہ اور غیر منصفانہ حد تک بڑھ چکا ہے لیکن وفاقی سیکرٹریٹ کے باہر کام کرنے والے لاکھوں دیگر سرکاری ملازمین کو اس الاؤنس سے یکسر محروم رکھا گیا، حکومت نے اس وقت وفاقی سیکرٹریٹ کے ان افسران کو اضافی معاوضہ دے کر (جنہیں پہلے کوئی خصوصی مراعات حاصل نہیں تھیں) سول سروس میں بڑھتی ہوئی شدید بے چینی اور ہڑتالوں کو وقتی طور پر کم کرنے کی کوشش کی تھی تاہم زمینی حقائق یہ ہیں کہ وفاق کے بااثر اور طاقتور ادارے اب بھی حکومت اور وزارتِ خزانہ پر دباؤ ڈال کر اپنے ملازمین کے لیے نئے نئے ناموں سے مزید الاؤنسز اور شاہانہ مراعات حاصل کرتے جا رہے ہیں جس سے غریب ملک کے خزانے پر بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔