چھوٹے تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس آسان اسکیم کا اعلان، معاشی ترقی اور دستاویزی معیشت کے فروغ کے لیے حکومت کا نیا انقلابی ٹیکس نظام متعارف، آئندہ ہفتے مصنوعی ذہانت پر مبنی سسٹم لانے کا فیصلہ

کاشف عباسی ,june 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 06 جون 2026ء

حکومتِ پاکستان نے ملک بھر کے چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کو باقاعدہ ٹیکس نظام میں شامل کرنے اور ٹیکس ادائیگی کے پیچیدہ عمل کو انتہائی سادہ بنانے کے لیے ایک نئی اور تاریخی “فکسڈ ٹیکس آسان اسکیم” متعارف کرانے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے، اسلام آباد سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق یہ خصوصی ریلیف اسکیم سالانہ بیس کروڑ روپے تک کا کاروباری حجم یعنی ٹرن اوور رکھنے والے تمام چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کے لیے تیار کی گئی ہے، اس اہم ترین اسکیم کا باقاعدہ اعلان وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے رکن حامد عتیق سرور نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا، حکام نے اس موقع پر واضح کیا کہ یہ جدید ٹیکس نظام ملک بھر کی تمام بڑی تاجر تنظیموں اور چیمبرز کے نمائندوں سے تفصیلی مشاورت کے بعد تشکیل دیا گیا ہے تاکہ تاجر برادری کے تحفظات دور کرتے ہوئے ٹیکس ادائیگی کو آسان بنایا جا سکے اور زیادہ سے زیادہ غیر رجسٹرڈ تاجروں کو ٹیکس نیٹ کے دائرے میں شامل کیا جا سکے، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے جاری وسیع پیمانے پر ٹیکس اصلاحات کا بنیادی مقصد ملکی ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا، دستاویزی معیشت کو ہر سطح پر فروغ دینا اور پہلے سے ٹیکس دینے والے غریب و تنخواہ دار طبقے پر موجود اضافی ٹیکس بوجھ کو نمایاں طور پر کم کرنا ہے، ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت ایک مکمل طور پر منصفانہ، متوازن اور پائیدار ٹیکس نظام کی تشکیل کے لیے تمام ضروری اور ٹھوس اقدامات کر رہی ہے، انہوں نے ایک بڑی پیشرفت کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم کی براہِ راست نگرانی میں جاری اس ڈیجیٹل اصلاحاتی پروگرام کے تحت اب جدید ترین ٹیکنالوجی کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا جا رہا ہے، جس کے تحت آئندہ ہفتے پارلیمنٹ میں مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) پر مبنی ایک بالکل نئے، خودکار اور شفاف ٹیکس نظام سے متعلق انتہائی اہم اعلان بھی متوقع ہے، محمد اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے معاشی استحکام حاصل کرنے کے بعد اب تیز رفتار معاشی ترقی کی شاہراہ پر آگے بڑھنا ناگزیر ہو چکا ہے، جس کے لیے قومی آمدنی میں اضافہ اور ٹیکس چوری کا خاتمہ بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، عسکری و حکومتی حکام کے مطابق اس نئی فکسڈ ٹیکس آسان اسکیم کے نفاذ کے ذریعے چھوٹے تاجروں کے لیے ایف بی آر کے چکر کاٹنے اور فائلنگ کا عمل مزید آسان ہوگا، ملکی کاروباری سرگرمیوں کی دستاویز بندی میں واضح بہتری آئے گی اور مجموعی طور پر قومی معیشت کو مستحکم بنانے میں مدد ملے گی۔

افریقہ کے لیے پاکستان کا اہم سفارتی متبادل، ایتھوپیا اور پاکستان کے درمیان معاشی و تجارتی تعاون کے فروغ کے لیے پارلیمانی تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور سفیر ڈاکٹر عمر حسین اوبا کی ملاقات

منصور احمد june 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جون 2026ء

وفاقی جمہوریہ ایتھوپیا اور اسلامی جمہوریہ پاکستان نے باہمی تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، ہوا بازی (ایوی ایشن) اور ثقافتی شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو تیزی سے فروغ دینے کے لیے دونوں ممالک کے مابین پارلیمانی روابط کو مزید مضبوط اور فعال بنانے پر مکمل اتفاق کر لیا ہے، اسلام آباد سے جاری ہونے والی سرکاری تفصیلات کے مطابق یہ اہم ترین سفارتی اتفاقِ رائے جمعہ کے روز وفاقی دارالحکومت میں ایتھوپیا کے سفیر ڈاکٹر عمر حسین اوبا اور چیئرمین سینیٹ پاکستان سید یوسف رضا گیلانی کے درمیان ہونے والی ایک اعلٰی سطح کی ملاقات میں سامنے آیا، اس اہم ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے مختلف شعبوں میں وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتے ہوئے دوطرفہ سفارتی تعلقات کا تفصیلی جائزہ لیا، باہمی تعاون کے نئے امکانات پر گہرائی سے تبادلہ خیال کیا اور مستقبل میں تعلقات کو مزید وسعت دینے کے عزم کا مخلصانہ اعادہ کیا، ملاقات میں ایتھوپیا کے سفیر ڈاکٹر عمر حسین اوبا نے دونوں ممالک کے مابین تاریخی، ثقافتی اور باہمی اقدار پر مبنی دیرینہ تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے پاکستان کو ایک بڑی پیشکش کی کہ ایتھوپیا اس وقت افریقی یونین کا مرکزی ہیڈکوارٹر اور پورے افریقی براعظم کا ایک انتہائی اہم ترین تجارتی دروازہ ہے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان افریقہ میں اپنے سفارتی روابط، باہمی تجارت اور معاشی اثر و رسوخ کو مزید وسعت دے سکتا ہے، دوسری جانب چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے ایتھوپیا میں حالیہ برسوں کے دوران جاری رہنے والی تیز رفتار معاشی ترقی، اقتصادی نمو اور حکومت کے اصلاحاتی اقدامات کو زبردست الفاظ میں سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے عوام کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے لیے ثقافتی وفود کے تبادلے اور مذہبی سیاحت کو دوطرفہ تعلقات کا لازمی حصہ بنایا جانا چاہیے، انہوں نے پاکستان کی بہترین زرعی صلاحیتوں اور تجربے کا ذکر کرتے ہوئے زور دیا کہ ترقی اور خوشحالی کے مشترکہ اہداف کو حاصل کرنے کے لیے دونوں ممالک کو زراعت سمیت مختلف تکنیکی شعبوں میں اپنی مہارت اور تجربات کا مخلصانہ تبادلہ کرنا چاہیے، اس اہم بیٹھک کے اختتام پر دونوں فریقین نے پارلیمانی فرینڈشپ گروپس کے فوری قیام اور دونوں ممالک کے پارلیمانی وفود کے باقاعدہ تبادلوں پر بھی اتفاق کیا تاکہ ادارہ جاتی اور سفارتی تعلقات کو مزید پائیدار بنایا جا سکے، جبکہ دونوں ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا کہ باہمی تعاون کے فروغ کے ذریعے تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، ہوا بازی اور ثقافتی شعبوں میں تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچایا جائے گا۔

دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، پنجگور میں بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشن پر وزیراعظم شہباز شریف کا سکیورٹی فورسز کو زبردست خراجِ تحسین

کاشف عباسی ,june 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جون 2026ء

وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان کے ضلع پنجگور میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے کی جانے والی حالیہ کامیاب اور بڑی کارروائی پر فورسز کے جوانوں اور افسران کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے، وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری کردہ ایک باضابطہ اور اہم ترین بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے حب الوطنی اور جانفشانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پڑوسی ملک بھارت کی خفیہ سرپرستی اور حمایت میں کام کرنے والے خطرناک نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے چھ دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے، وزیراعظم نے اس اہم ترین انٹیلی جنس آپریشن میں حصہ لینے والے سکیورٹی اہلکاروں کی اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت، بے مثال جرات اور لازوال قومی خدمت کے جذبے کو دل کھول کر سراہا، ان کا کہنا تھا کہ ہماری بہادر سکیورٹی فورسز نے انتہائی چاق و چوبند انداز میں ایسے ملک دشمن اور وحشی دہشت گرد عناصر کے خلاف مؤثر زمینی کارروائی کی ہے جو معصوم، بے گناہ اور نہتے پاکستانی شہریوں کی جان و مال کو شدید نقصان پہنچانے کی مذموم و تخریب کارانہ سرگرمیوں میں مخلصانہ طور پر ملوث تھے، وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے عزم کو دہراتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان کی بہادر اور نڈر سکیورٹی فورسز وطنِ عزیز کے چپے چپے کے دفاع، ملکی امن و استحکام اور عوام کے تحفظ کے لیے دن رات ہر وقت الرٹ اور تیار ہیں اور دہشت گردی کی اس طویل جنگ کے خلاف ان کی دی جانے والی عظیم قربانیاں پوری غیور قوم کے لیے باعثِ فخر اور مشعلِ راہ ہیں، انہوں نے اس آہنی عزم کا اعادہ کیا کہ حکومتِ پاکستان ریاست کی رٹ کو برقرار رکھتے ہوئے ملک سے دہشت گردی کی آخری علامت کے مکمل خاتمے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے اور پاک وطن کے امن و امان کو نقصان پہنچانے والے ان تمام شرپسند عناصر کے خلاف ریاستی کارروائیاں پوری فوجی و انتظامی قوت کے ساتھ آخری دم تک جاری رکھی جائیں گی، واضح رہے کہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سکیورٹی فورسز نے پنجگور کے پسماندہ ضلع میں خفیہ اطلاع پر مبنی ایک گرینڈ آپریشن کے دوران چھ مبینہ دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا تھا، جبکہ عسکری کارروائی کے بعد ان کے خفیہ ٹھکانوں کی تلاشی کے دوران بھاری مقدار میں جدید خودکار اسلحہ، گولیوں کا ذخیرہ، گولہ بارود، دیسی ساختہ بم اور ایک گاڑی بھی قبضے میں لے کر دہشت گردی کا ایک بہت بڑا نیٹ ورک ناکام بنا دیا گیا ہے۔

غزہ میں سنگین غذائی بحران کا خاتمہ، سعودی عرب اور عالمی ادارہ صحت کے مابین ہسپتالوں میں غذائی خدمات کو مضبوط بنانے کا تاریخی معاہدہ طے پا گیا، لاکھوں فلسطینیوں کو فوری طبی ریلیف اور مفت کھانا فراہم کیا جائے گا

روزینہ اسماعیل.june 05,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جون 2026ء

سعودی عرب اور عالمی ادارہ صحت نے جنگ زدہ غزہ کی پٹی میں بنیادی صحت کے مراکز اور ہسپتالوں کے اندر غذائی خدمات کو مستحکم و فعال بنانے کے لیے ایک مشترکہ ایگزیکٹو پروگرام پر باقاعدہ دستخط کر دیے ہیں، ریاض سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق یہ بڑا انسانی ہمدردی کا منصوبہ غزہ میں مظلوم فلسطینی عوام کی ہنگامی امداد کے لیے جاری سعودی عوامی مہم کا ایک اہم حصہ ہے جس کے تحت لاکھوں متاثرہ افراد کو مفت طبی اور غذائی سہولیات فراہم کی جائیں گی، اس دستخط شدہ منصوبے کے تحت تقریباً دو لاکھ اٹھاون ہزار دو سو تئیس فلسطینی براہِ راست مستفید ہوں گے جبکہ گیارہ لاکھ بہتر ہزار چار سو سڑسٹھ افراد کو بالواسطہ فائدہ پہنچے گا، پروگرام کا بنیادی اور تزویراتی مقصد غزہ میں صحت اور غذائیت کی گرتی ہوئی صورتحال کو ہنگامی بنیادوں پر بہتر بنانا ہے، خاص طور پر ایسے صدمہ زدہ مریضوں، خواتین اور معصوم بچوں پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی جو شدید غذائی قلت اور پیچیدہ طبی مسائل کا شکار ہیں، اس مہم کے لیے شدید غذائی قلت کے فوری علاج کے لیے خصوصی طبی کٹس فراہم کی جائیں گی اور ہسپتالوں سمیت تمام متحرک صحت مراکز کو غذائی سپلیمنٹس، ضروری وٹامنز، معدنیات، خصوصی غذائی مرکبات اور وریدی غذا یعنی بوتل کے ذریعے دی جانے والی غذائیت کے محلول کے ساتھ ساتھ دیگر تمام ضروری طبی سامان اور جدید آلات بھی وافر مقدار میں دستیاب کیے جائیں گے، یہ انقلابی منصوبہ شاہ سلمان امدادی مرکز اور عالمی ادارہ صحت کے باہمی تعاون سے جاری وسیع تر انسانی امدادی پروگراموں کا حصہ ہے جس کا اصل ہدف فلسطین میں تباہ حال صحت کے شعبے کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا، طبی خدمات کے گرتے ہوئے معیار کو بہتر بنانا اور غذائی بحران سے شدید متاثرہ خاندانوں کی بروقت مدد کرنا ہے، دوسری جانب سعودی حکام نے مزید بتایا کہ شاہ سلمان امدادی مرکز کے زیرِ نگرانی قائم مرکزی باورچی خانہ غزہ میں بے گھر اور شدید متاثرہ فلسطینی خاندانوں کے لیے روزانہ کی بنیاد پر تازہ اور گرم کھانوں کی مسلسل تقسیم کا سلسلہ بھی پوری تندہی سے جاری رکھے ہوئے ہے اور یہ سرگرمی بھی سعودی عرب کی جانب سے اپنے فلسطینی بھائیوں کی مخلصانہ امداد اور انسانی ہمدردی کی ان عظیم کوششوں کا تسلسل ہے جس کا واحد مقصد جنگ اور بدترین بحران سے متاثرہ بے گناہ شہریوں کو ان کی دہلیز پر فوری اور عملی ریلیف فراہم کرنا ہے۔

سیاسی نظام کی حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ ایک معاملے پر متفق نظر آتے ہیں کہ تحریک انصاف موجود نہیں ہونی چاہیے، سابق وفاق وزیر فواد چوہدری کا سنسنی خیز دعویٰ

کاشف عباسی ,june 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جون 2026ء

سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے ملک کے موجودہ سیاسی منظرنامے کے حوالے سے ایک انتہائی سنسنی خیز اور تزویراتی دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی چیئرمین عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ بظاہر ایک اہم معاملے پر مکمل متفق نظر آتے ہیں اور وہ نکتہ یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف موجود نہیں ہونی چاہیے، ایک نجی ٹی وی چینل کے معروف صحافتی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس پوزیشن کی تفصیل بتائی کہ ایک جانب اسٹیبلشمنٹ نے تحریک انصاف کے متعدد سینیئر رہنماؤں کو گرفتار کیا جبکہ دوسری جانب خود عمران خان نے پارٹی کے اندر ایسے متبادل اور غیر معروف افراد کو آگے لا کر اہم ذمہ داریاں سونپ دیں جن کے پاس کوئی سیاسی تجربہ، عوامی اثر و رسوخ یا مضبوط تنظیمی حیثیت سرے سے موجود ہی نہیں تھی، فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ان دونوں طرف کے فیصلوں اور حکمتِ عملی کے نتیجے میں پارٹی کی مجموعی تنظیمی طاقت شدید کمزور ہوئی اور تحریک انصاف کو ناقابلِ تلافی سیاسی نقصان پہنچا، انہوں نے موجودہ نازک صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ اب پارٹی اس پوزیشن میں بالکل نہیں رہی کہ وہ جیل میں بند عمران خان کی کوئی مؤثر سیاسی مدد یا ان کی رہائی کے لیے کوئی بڑا دبائو ڈال سکے، اس لیے اب عمران خان کو اپنے اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان موجود تمام تر سنگین اختلافات کو کسی تیسرے فریق کے بغیر خود براہِ راست حل کرنا ہوں گے، سابق وفاقی وزیر نے فوج اور ملکی سیاسی قیادت کے مابین تعلقات کے اصولوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ تعلقات میں بہتری لانے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ کوئی بھی رہنما اپنے بنیادی سیاسی مؤقف، نظریے یا بیانیے سے دستبردار ہو جائے، تاہم پاکستان کے موجودہ سیاسی نظام کی زمینی حقیقت اور طاقت کے توازن کو کسی بھی طور نظرانداز بھی نہیں کیا جا سکتا، انہوں نے بانی تحریک انصاف کو مخلصانہ مشورہ دیتے ہوئے زور دیا کہ عمران خان کو اب ملکی فوج کے ساتھ اپنے بگاڑے ہوئے تعلقات کو ہر حال میں بہتر بنانے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے اور ان تعلقات کی دوبارہ بحالی کا طریقہ کار اور فارمولا بھی خود عمران خان کو ہی طے کرنا ہوگا کیونکہ اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان دونوں کو ایک دوسرے کے لیے ملکی بقا کی خاطر سیاسی گنجائش پیدا کرنا ہوگی، انہوں نے خبردار کیا کہ یکطرفہ طرزِ عمل یا اکھڑ پن سے معاملات کبھی آگے نہیں بڑھ سکتے، اس لیے ملک میں پائیدار سیاسی و معاشی استحکام کی واپسی کے لیے بامقصد مکالمہ، سیاسی برداشت اور باہمی رابطہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے کیونکہ تصادم اور اداروں کے ساتھ لڑائی کی سیاست کسی بھی فریق یا ملک کے مفاد میں نہیں۔

بلوچستان میں بڑی کارروائی، پنجگور میں سکیورٹی فورسز کا خفیہ اطلاع پر مبنی گرینڈ آپریشن، بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے 6 دہشت گرد ہلاک، بھاری مقدار میں اسلحہ و بارود برآمد

منصور احمد june 05,2026

پنجگور (نیوز اینڈ نیوز) — 05 جون 2026ء

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع پنجگور میں ایک انتہائی اہم اور بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے تین اور چار جون کی درمیانی شب خفیہ اطلاع پر مبنی ایک گرینڈ آپریشن کے دوران چھ مبینہ دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا ہے، عسکری ذرائع کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق یہ ٹارگٹڈ کارروائی ایک ایسے مخصوص اور حساس مقام پر کی گئی جہاں مبینہ طور پر پڑوسی ملک بھارت کی براہِ راست سرپرستی میں کام کرنے والے انتہائی خطرناک دہشت گرد روپوش تھے اور ملک دشمن سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز کے چاق و چوبند دستوں نے جدید ہتھیاروں سے لیس دہشت گردوں کے متعدد خفیہ ٹھکانوں کو انتہائی مؤثر اور کمانڈو انداز میں نشانہ بنایا جس کے بعد دونوں اطراف سے شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور فورسز نے گھیراؤ سخت کرتے ہوئے چھ شرپسندوں کو موقع پر ہی ڈھیر کر دیا، کارروائی کی تفصیلات بتاتے ہوئے ترجمان نے مزید انکشاف کیا کہ ہلاک ہونے والے ان دہشت گردوں کے قبضے سے جدید خودکار اسلحہ، خطرناک گولہ بارود، دیسی ساختہ بم اور ایک گاڑی بھی برآمد کر لی گئی ہے جبکہ سکیورٹی حکام نے تصدیق کی ہے کہ مارے جانے والے تمام افراد پنجگور اور اس کے گردونواح کے علاقوں میں معصوم شہریوں پر حملوں، تخریب کاری اور دہشت گردی کی متعدد سنگین کارروائیوں میں مخلصانہ طور پر مطلوب اور ملوث تھے، آئی ایس پی آر نے موجودہ صورتحال کے حوالے سے بتایا کہ ضلع پنجگور کے اس پورے علاقے میں اب بھی سکیورٹی فورسز کا وسیع پیمانے پر کلیئرنس اور سرچ آپریشن پوری قوت سے جاری ہے تاکہ وہاں موجود کسی بھی دوسرے ممکنہ دہشت گرد یا ان کے سہولت کار کی موجودگی کا جڑ سے خاتمہ کیا جا سکے، اس کامیاب ترین مشن کے بعد سکیورٹی فورسز نے اپنے آہنی عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک عزیز کی خودمختاری، امن و استحکام اور معیشت کو نقصان پہنچانے والے ان شرپسند عناصر کے خلاف بلا تفریق کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی اور پاک وطن سے دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے کے لیے آخری گولی اور آخری خون کے قطرے تک تمام ضروری اور سخت ترین اقدامات کیے جائیں گے۔

موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے اب عالمی برادری کو زبانی دعووں سے نکل کر عملی اقدامات کرنا ہوں گے، عالمی یومِ ماحولیات پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا اہم ترین پیغام

محمود احمد june 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 05 جون 2026ء

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر اپنے ایک خصوصی، تفصیلی اور تزویراتی پیغام میں موسمیاتی بحران کے مقابلے کے لیے عالمی اور علاقائی سطح پر اجتماعی کوششوں کو مزید مضبوط بنانے کی اشد ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کرہ ارض کے تحفظ اور ماحولیاتی مسائل کے مؤثر مقابلے کے لیے تمام اجتماعی اقدامات کو ہر ممکن حد تک مضبوط بنانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے، انہوں نے عالمی فورمز پر پاکستان کا مقدمہ لڑتے ہوئے اس بات کو ایک بار پھر واضح طور پر اجاگر کیا کہ پاکستان عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں انتہائی کم حصے دار ہونے کے باوجود موسمیاتی تبدیلیوں اور ان کے تباہ کن اثرات سے دنیا بھر میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے خطوں اور ممالک کی فہرست میں شامل ہے، اس کے باوجود ملک مسلسل آنے والے ریکارڈ توڑ اور تباہ کن سیلابوں، شمالی علاقہ جات میں گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے عمل، زرعی زمینوں کو بنجر کرنے والی شدید خشک سالی، گرمیوں کے موسم میں ریکارڈ توڑ شدید گرمی کی لہروں (ہیٹ ویوز) اور ملک بھر میں پینے اور زراعت کے پانی کے بڑھتے ہوئے شدید دباؤ جیسے سنگین ترین وجودی چیلنجز کے مقابلے میں بے پناہ ثابت قدمی، ہمت اور قومی عزم کا مظاہرہ کر رہا ہے، سینیٹر محمد اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی، دنیا سے مختلف جانداروں اور حیاتیاتی تنوع میں خطرناک حد تک ہونے والی کمی اور مجموعی طور پر ماحولیاتی تنزلی جیسے باہم جڑے ہوئے پیچیدہ عالمی مسائل سے نمٹنے کے لیے اب روایتی طریقوں سے ہٹ کر بین الاقوامی تعاون اور مشترکہ فنڈنگ کو مزید وسعت دینا ناگزیر ہو چکا ہے اور اس عالمی مہم کے ضمن میں “مشترکہ مگر مختلف ذمہ داریوں اور متعلقہ صلاحیتوں” کے عالمی سطح پر مانے گئے اصول کو ہمیشہ مخلصانہ طور پر پیشِ نظر رکھا جانا چاہیے تاکہ متاثرہ ممالک کو ان کا جائز حق مل سکے، انہوں نے حکومت کی داخلی پالیسیوں کی تفصیل بتاتے ہوئے واضح کیا کہ قومی سطح پر حکومتِ پاکستان ماحولیاتی تحفظ اور شجرکاری کو اپنی تمام تر ریاستی اور وفاقی پالیسی ترجیحات کا ایک مرکزی اور لازمی جزو بنانے کے لیے مخلصانہ طور پر کوشاں ہے جہاں اس طویل المدتی منصوبے کے سلسلے میں موجودہ حکومت کا ایک اہم ترین اور تاریخی سنگِ میل یہ ہے کہ اب صاف, صحت مند اور پائیدار ماحول کے حق کو ملک کے ہر شہری کا بنیادی آئینی حق تسلیم کیا گیا ہے، نائب وزیراعظم نے حکومتی اقدامات کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے محفوظ اور ہم آہنگ رہائشی منصوبوں کی تعمیر، ماحول کو آلودگی سے بچانے کے لیے صاف و گرین توانائی کی جانب تیز تر منتقلی اور بڑے شہروں میں ماحول دوست و پائیدار تعمیراتی طریقوں کے فروغ کے لیے عملی اور ٹھوس زمینی اقدامات کر رہا ہے، تاہم موسمیاتی بحران کی روز بہ روز بڑھتی ہوئی سنگینی اس امر کی سختی سے متقاضی ہے کہ عالمی برادری محض بیانات تک محدود رہنے کے بجائے مشترکہ، مادی اور مؤثر اقدامات کو یقینی بنائے، اپنے اس تفصیلی پیغام کے آخر میں انہوں نے آذربائیجان کی حکومت کا عالمی یومِ ماحولیات دو ہزار چھبیس کی شاندار اور کامیاب میزبانی کرنے پر خصوصی اور مخلصانہ شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان عالمی ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کو یکجا کرنے، ماحولیاتی فنڈز کی منصفانہ تقسیم اور تعمیری عالمی مکالمے کے فروغ میں آذربائیجان کی موجودہ قائدانہ کاوشوں اور سفارتی کردار کو انتہائی قدر اور احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات آٹھ دہائیوں سے مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں، امریکی سفارتخانے میں ڈھائی سویں سالگرہ کی تقریب سے وزیراعظم شہباز شریف کا خطاب

محمود احمد june 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 جون 2026ء

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے مابین آٹھ دہائیوں پر محیط تاریخی تعلقات انسدادِ دہشت گردی، باہمی تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، تعلیم، صحت اور توانائی سمیت متعدد اہم شعبوں میں انتہائی مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں۔ اسلام آباد میں واقع امریکی سفارتخانے میں امریکہ کی ڈھائی سویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ ایک پروقار تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، امریکی انتظامیہ اور وہاں کے عوام کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی، جبکہ انہوں نے دونوں ممالک کے مابین تعلقات کی تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا کہ امریکہ دنیا کے ان اولین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے قیامِ پاکستان کے بعد اسے فوری طور پر تسلیم کیا تھا اور دونوں ممالک کے تعلقات ہمیشہ باہمی احترام، اعتماد اور اسٹریٹجک تعاون پر مبنی رہے ہیں، اسی طرح دونوں ممالک کے مابین تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط میں وقت کے ساتھ ساتھ مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جہاں دس لاکھ سے زائد پاکستانی نژاد امریکی شہری دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط بنانے میں ایک اہم اور متحرک پل کا کردار ادا کر رہے ہیں، انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت لگ بھگ اسی بڑی امریکی کمپنیاں پاکستان میں کامیابی سے کاروبار کر رہی ہیں جبکہ ہزاروں پاکستانیوں نے امریکی جامعات سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے اور وہ مختلف شعبوں میں اپنی بہترین خدمات انجام دے رہے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف نے جنوبی ایشیا کے خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے امریکی صدر کے مثبت کردار کو کھل کر سراہا اور کہا کہ پاکستان اور بھارت کے مابین شدید کشیدگی کے دوران جنگ بندی کرانے میں امریکی کوششوں کو پاکستان ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو عالمی تاریخ میں ہمیشہ امن کے ایک سچے داعی کے طور پر یاد رکھا جائے گا، سفارتی تعلقات کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ پاکستان اس وقت امریکہ اور ایران کے مابین ایک مخلص اور غیر جانبدار ثالث کے طور پر اپنا بھرپور سفارتی کردار ادا کر رہا ہے تاکہ خطے میں کسی بھی ممکنہ جنگ کو روک کر پائیدار امن قائم کیا جا سکے اور انہوں نے اس اہم ترین مشن اور علاقائی استحکام کے سلسلے میں سپہ سالار جنرل عاصم منیر کی انتھک سفارتی کوششوں کو بھی خصوصی طور پر سراہا اور عزم ظاہر کیا کہ علاقائی اور عالمی امن کے لیے پاکستان ہمیشہ اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا، وزیراعظم نے پاکستان کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں تربیلا ڈیم، زرعی ترقی کے منصوبوں، تعلیمی وظائف اور مختلف سماجی فلاحی پروگراموں میں امریکی مالی و تکنیکی تعاون کا مخلصانہ ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس طویل شراکت داری نے پاکستان کی مجموعی ترقی میں ہمیشہ ایک کلیدی کردار ادا کیا ہے اور انہوں نے قوی امید ظاہر کی کہ آنے والے برسوں میں پاکستان اور امریکہ کے باہمی تعلقات مزید گہرے ہوں گے اور دونوں ممالک مشترکہ تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے۔

قذافی اسٹیڈیم میں پاکستان کی تاریخی فتح، تیسرے ون ڈے میں آسٹریلیا کو دھول چٹا کر ایک روزہ میچوں کی سیریز اپنے نام کر لی

محمود احمد june 04,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 04 جون 2026ء

قومی کرکٹ ٹیم نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے تیسرے اور فیصلہ کن ایک روزہ بین الاقوامی میچ میں مہمان آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کو چار وکٹوں سے عبرتناک شکست دے دی ہے۔ اس فتح کے ساتھ ہی پاکستان نے تین میچوں پر مشتمل یہ اہم ترین بین الاقوامی سیریز ایک کے مقابلے میں دو میچوں سے اپنے نام کر کے ملک بھر کے شائقینِ کرکٹ کو جشن کا ایک شاندار تحفہ پیش کر دیا ہے۔

آسٹریلیا کی بیٹنگ لائن ریت کی دیوار ثابت، پوری ٹیم 157 پر ڈھیر لاہور کے تاریخی قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس معرکے میں آسٹریلوی کپتان جوش انگلس نے ٹاس جیت کر پہلے خود بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم پاکستانی بولرز کی تباہ کن اور منظم کارکردگی کے سامنے مہمان ٹیم کا کوئی بھی بڑا بلے باز جم کر نہ کھیل سکا اور پوری آسٹریلوی ٹیم محض 157 رنز پر ہی ڈھیر ہو گئی۔ آسٹریلیا کی جانب سے کپتان جوش انگلس 65 رنز بنا کر سب سے نمایاں رہے، جبکہ مارنس لبوشین اور الیکس کیری صرف 19، 19 رنز ہی جوڑ سکے۔

قومی بولرز کی نپی تلی اور تباہ کن بولنگ پاکستان کی جانب سے فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی نے حریف ٹیم کی بیٹنگ لائن کے پرخچے اڑاتے ہوئے 3 اہم وکٹیں حاصل کیں۔ ان کے ہمراہ اسپنر ابرار احمد اور شاداب خان نے بہترین تال میل کا مظاہرہ کرتے ہوئے 2، 2 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی، جبکہ حارث رؤف بھی 1 وکٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

ہدف کا کامیاب تعاقب اور فیصلہ کن شراکت داری آسٹریلیا کی جانب سے دیے گئے 158 رنز کے آسان ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی شروعات اگرچہ کچھ مشکلات کا شکار رہیں، تاہم قومی بلے بازوں نے ذمہ دارانہ کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے 42 ویں اوور میں 6 وکٹوں کے نقصان پر مطلوبہ ہدف حاصل کر لیا۔ پاکستان کی جانب سے مایہ ناز بلے باز بابر اعظم 40 رنز بنا کر نمایاں رہے جبکہ معاذ صداقت نے 27 رنز کی اننگز کھیلی۔ میچ کے نازک موڑ پر عبدالصمد اور شاداب خان نے شاندار اعصاب کا مظاہرہ کیا اور ساتویں وکٹ کے لیے 49 رنز کی انتہائی اہم اور ناقابلِ شکست شراکت قائم کر کے ٹیم کو فتح کی دہلیز تک پہنچایا۔

یادگار فتح اور اسٹیڈیم میں جشن کا سماں اس تزویراتی کامیابی کے بعد قذافی اسٹیڈیم لاہور میں موجود ہزاروں شائقینِ کرکٹ نے ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالے اور قومی پرچم لہرا کر پاکستان زندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگائے۔ مبصرین کے مطابق، قومی ٹیم کی اس تاریخی کامیابی میں بولرز کی غیر معمولی کارکردگی اور درمیانی لائن کے بلے بازوں کی ذمہ دارانہ بلے بازی نے سب سے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔

قومی ہاکی ٹیم کی شاندار کامیابی، پاکستان جونیئر ہاکی ایشیا کپ کے سیمی فائنل میں داخل، روایتی حریف بھارت سے ٹاکرا 5 جون کو ہو گا

محمود احمد june 03,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جون 2026ء

سرزمینِ جاپان میں کھیلے جانے والے اٹھارہ سال سے کم عمر کھلاڑیوں کے ہاکی ایشیا کپ میں پاکستان نے انتہائی شاندار اور تاریخی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیمی فائنل مرحلے کے لیے کامیابی سے کوالیفائی کر لیا ہے۔ گروپ مرحلے کے ایک انتہائی اہم اور فیصلہ کن میچ میں پاکستان نے بنگلادیش کو دو کے مقابلے میں پانچ گول سے عبرتناک شکست دے کر ٹورنامنٹ میں اپنی فتوحات کا سلسلہ برقرار رکھا۔

پاکستانی ٹیم کا جارحانہ کھیل اور گولز کی تفصیل جاپان کے خوبصورت شہر کاکامیگاہارا میں کھیلے گئے اس سنسنی خیز میچ میں پاکستانی نوجوانوں نے کھیل کے آغاز ہی سے انتہائی جارحانہ انداز اپنایا اور حریف بنگلادیشی دفاعی لائن پر مسلسل دباؤ برقرار رکھا۔ پاکستان کی فتح میں عبداللہ نے شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے دو گول اسکور کیے، جبکہ عدیل، آسام اور محمد یحییٰ نے ایک ایک گول کر کے ٹیم کی پوزیشن کو ناقابلِ شکست بنا دیا۔ دوسری جانب بنگلادیش کی طرف سے تیرک اسلام اور منا اسلام ہی صرف ایک ایک گول اسکور کرنے میں کامیاب ہو سکے۔

میچ کا بہترین کھلاڑی اور ٹیم کی مجموعی کارکردگی پورے میچ کے دوران میدان میں غیر معمولی اور دلکش کھیل کا مظاہرہ کرنے پر نوجوان پاکستانی اسٹار محمد یحییٰ کو ‘میچ کا بہترین کھلاڑی’ قرار دیا گیا۔ مبصرین کے مطابق، پاکستانی فارورڈ لائن نے ملنے والے تمام مواقع کا بھرپور فائدہ اٹھایا، جبکہ مڈفیلڈ اور دفاعی پوزیشن پر موجود کھلاڑیوں نے بھی بہترین تال میل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پورے کھیل کے دوران اپنی برتری کو کم نہیں ہونے دیا۔ اس فیصلہ کن کامیابی کے بعد پاکستان اب ٹورنامنٹ جیتنے کے لیے سب سے مضبوط امیدوار بن کر ابھرا ہے۔

سیمی فائنل میں روایتی حریف بھارت کا سامنا اب دنیا بھر کے ہاکی شائقین کی نظریں 5 جون کو ہونے والے سیمی فائنل پر جم گئی ہیں، جہاں پاکستان کا مقابلہ اپنے روایتی حریف بھارت سے ہوگا، جس کا شائقینِ کھیل بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر کی مبارکباد اور نیک تمنائیں پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر محی الدین احمد وانی نے قومی جونیئر ٹیم اور تمام انتظامیہ (مینجمنٹ) کو اس شاندار کامیابی پر دلی مبارکباد پیش کی ہے۔ اپنے خصوصی پیغام میں انہوں نے کہا کہ یہ بڑی کامیابی تمام کھلاڑیوں، کوچز اور معاون عملے (سپورٹ اسٹاف) کی انتھک محنت اور لگن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے قومی ٹیم سے امید ظاہر کی کہ وہ سیمی فائنل کے اس بڑے معرکے میں بھی اپنی بہترین کارکردگی کا تسلسل برقرار رکھتے ہوئے فائنل تک رسائی حاصل کرے گی اور ملک میں ہاکی کے روشن مستقبل کی بنیاد کو مزید مضبوط بنائے گی۔

شہریوں کے لیے بڑی خوشخبری، سفری دستاویزات کے دفاتر کے چکر ختم، گھر پر ترسیل کی سروس کا باقاعدہ اعلان

کاشف عباسی ,june 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جون 2026ء

حکومتِ پاکستان نے عام شہریوں کی سہولت کے لیے ایک انقلابی اور بڑا فیصلہ کیا ہے۔ محکمہ تارکینِ وطن و سفری دستاویزات (امیگریشن اینڈ پاسپورٹ) کے ناظمِ اعلیٰ (ڈائریکٹر جنرل) محمد علی رندھاوا نے سرکاری خدمات میں ایک بہت بڑی اور تاریخی تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یکم جولائی سے شہریوں کو اپنی تیار شدہ سفری دستاویز (پاسپورٹ) حاصل کرنے کے لیے سرکاری دفاتر کے دھکے کھانے کی بالکل ضرورت نہیں ہو گی۔

شہریوں کے مسائل پر ناظمِ اعلیٰ کا ہنگامی دورہ اور اصلاحات تفصیلات کے مطابق، ناظمِ اعلیٰ نے وفاقی دارالحکومت میں سفری دستاویزات کے مختلف انتظامی شعبوں (سیکشنز) کا اچانک اور تفصیلی دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران انہوں نے وہاں موجود عام شہریوں سے ملاقاتیں کیں اور سفری دستاویز کے حصول میں پیش آنے والے ان کے سنگین مسائل اور شکایات کو خود سنا۔ شہریوں کی مشکلات کا فوری نوٹس لیتے ہوئے انہوں نے نظام میں ہنگامی اصلاحات نافذ کرنے کا حتمی فیصلہ کیا۔

یکم جولائی سے گھر پر ترسیل کی سہولت کا باقاعدہ آغاز سرکاری اعلان کے مطابق، اب شہریوں کی تیار شدہ سفری دستاویزات براہِ راست ان کے فراہم کردہ پتے پر یعنی سیدھی ان کے گھر پہنچائی جائیں گی۔ گھر پر ترسیل کی یہ جدید ترین سروس (ہوم ڈیلیوری) ملک بھر میں یکم جولائی سے باقاعدہ اور قانونی طور پر شروع کر دی جائے گی، جس کے بعد شہریوں کو لائنوں میں لگنے سے نجات مل جائے گی۔

دفاتر میں رش کا خاتمہ اور نجی ڈاک رساں اداروں کو سخت احکامات محکمے کے ناظمِ اعلیٰ نے میڈیا کو بتایا کہ اس بڑے اقدام کا اصل مقصد سرکاری دفاتر میں ہونے والے غیر ضروری رش، سارا سارا دن لگی رہنے والی لمبی لائنوں اور معصوم شہریوں کی روزمرہ مشکلات کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کرنا ہے۔ انہوں نے اس منصوبے کے لیے معاہدہ کرنے والے متعلقہ نجی ڈاک رساں اداروں (کورئیر کمپنیوں) کو سخت ترین ہدایات جاری کرتے ہوئے تاکید کی ہے کہ وہ شہریوں کی ان انتہائی حساس اور اہم سفری دستاویزات کی بروقت، امانت دارانہ اور محفوظ ترسیل کو ہر قیمت پر یقینی بنائیں۔

سروسز میں شفافیت اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اعلیٰ سرکاری حکام کے مطابق، اس نئے اور عوامی فلاحی اقدام سے سفری دستاویزات کی فراہمی کا پورا سرکاری نظام پہلے سے کہیں زیادہ تیز رفتار، مکمل طور پر شفاف اور جدید خطوط پر استوار ہو جائے گا، جس سے نہ صرف بدعنوانی کا خاتمہ ہو گا بلکہ دور دراز علاقوں سے آنے والے غریب عوام کو بھی سفری اخراجات اور وقت کی بچت کی شکل میں بڑی سہولت میسر آئے گی۔

ایران کے ساتھ حتمی معاہدے کا وقت آ گیا ہے، پینتالیس سالہ رویہ اب مزید برداشت نہیں ہو گا: امریکی سربراہِ مملکت

محمود احمد june 03,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جون 2026ء

امریکی سربراہِ مملکت (صدر) ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ سنگین صورتحال پر اپنا ایک اور بڑا اور تاریخی موقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب ایران کے ساتھ ایک حتمی اور مستقل تجارتی و سیاسی معاہدہ کرنے کا وقت آ پہنچا ہے۔ انہوں نے واضح اور کڑے الفاظ میں انتباہ جاری کیا کہ گزشتہ سینتالیس (47) سال سے جاری ایرانی حکومت کا جارحانہ رویہ اب واشنگٹن کے لیے مزید کسی صورت برداشت کے قابل نہیں رہا۔

صوتی مکالمے میں اہم ترین اعتراف اور عسکری کارروائیاں انٹرنیٹ پر نشر ہونے والے ایک خصوصی صوتی مکالمے (پوڈکاسٹ انٹرویو) میں تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے امریکی سربراہِ مملکت نے دعویٰ کیا کہ اگر حالیہ دنوں میں ایران کی فوجی تنصیبات پر براہِ راست حملے نہ کیے جاتے، تو وہ محض چند ہی ہفتوں کے اندر خطرناک ترین جوہری ہتھیار (ایٹم بم) تیار کرنے میں مکمل طور پر کامیاب ہو سکتا تھا۔ ان کے مطابق، حالیہ امریکی و اتحادی عسکری کارروائیوں کے بعد تہران کی قیادت کو ایک انتہائی واضح اور دوٹوک پیغام پہنچا دیا گیا ہے۔

بدلتے معاشی و عسکری حالات اور سیاسی حکمتِ عملی ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کی موجودہ خارجہ پالیسیوں پر ہونے والی داخلی اور خارجی تنقید کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سیاست کے حالات ہمیشہ انتہائی تیزی سے بدلتے ہیں اور اسی بدلتی ہوئی صورتحال کے مطابق مقتدر حکومتوں کے فیصلے بھی تبدیل ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی سیاست میں بعض اوقات اپنے سب سے بڑے دشمن کو الجھن اور غیریقینی صورتحال میں رکھنا بھی ایک گہری اور کامیاب جنگی حکمتِ عملی کا بنیادی حصہ ہوتا ہے۔

جوہری صلاحیت کی روک تھام کا بڑا دعویٰ انہوں نے پریس کے سامنے ایک بار پھر یہ دعویٰ دہرایا کہ ایران خفیہ طور پر مکمل جوہری صلاحیت حاصل کرنے کے بالکل قریب پہنچ چکا تھا، تاہم وقت پر کیے جانے والے امریکی اقدامات اور سخت فیصلوں کے باعث ہی اس کی اس ایٹمی پیش رفت کو کامیابی سے روکا گیا ہے۔

ایرانی قیادت سے ملاقات اور حتمی معاہدے کا امکان امریکی سربراہِ مملکت نے مستقبل کے حوالے سے ایک بڑا اشارہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ ان تمام تر عسکری تلخیوں کے باوجود ایران کے ساتھ کسی نہ کسی شکل میں ایک جامع اور حتمی امن معاہدہ اب بھی ممکن ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مستقبل میں ایرانی اعلیٰ قیادت کے ساتھ ان کی براہِ راست ملاقات کا واضح امکان بھی موجود ہے۔

ان کے مطابق، ایرانی حکومت کو اب ہر حال میں اپنے دیرینہ علاقائی رویے اور عسکری پالیسیوں پر سنجیدگی سے نظرثانی کرنی ہو گی کیونکہ موجودہ نازک صورتحال میں مشرقِ وسطیٰ کے پورے خطے میں جاری جنگی کشیدگی کو کم کرنا عالمی برادری اور خود ایران کے لیے بے حد ضروری ہو چکا ہے۔

دو سو کلوگرام چرس برآمدگی کا مقدمہ، عدالتِ عظمیٰ نے ملزم رضا خان کو بری کرنے کا حکم دے دیا

منصور احمد june 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جون 2026ء: پاکستان کی سب سے بڑی عدالت، عدالتِ عظمیٰ (سپریم کورٹ) نے دو سو (200) کلوگرام چرس برآمدگی کے سنگین مقدمے میں نامزد ملزم رضا خان کی بریت کی باقاعدہ اپیل منظور کرتے ہوئے اسے جیل سے فوری بری کرنے کا تاریخی حکم جاری کر دیا ہے۔

تین رکنی عدالتی پینل کے سامنے اہم سماعت عدالتِ عظمیٰ کے مایہ ناز جج، جناب جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں قائم تین رکنی اعلیٰ عدالتی پینل (بینچ) نے اس اہم مقدمے کی تفصیلی سماعت کی۔ دورانِ سماعت ملزم کے صفائی کے قانون دان (وکیلِ صفائی) نے عدالت کے سامنے مضبوط مؤقف اختیار کیا کہ ان کے بے گناہ مؤکل کو ایک ایسے جھوٹے مقدمے میں سزا سنائی گئی ہے جس کا اصل تعلق مبینہ طور پر کسی دوسرے مفرور ملزم سے تھا۔

شواہد کا سائنسی تجزیہ اور ساڑھے چار ماہ کی تاخیر صفائی کے قانون دان نے عدالت کو اہم قانونی نقطے سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ مبینہ منشیات کی برآمدگی کے پورے چار ماہ اور اٹھارہ (18) دن گزر جانے کے بعد اس کا سائنسی و طبی تجزیہ (فرانزک لیب ٹیسٹ) کروایا گیا، اتنے طویل ترین وقفے سے سرکاری شواہد کی شفافیت اور سچائی انتہائی مشکوک ہو جاتی ہے۔ انہوں نے مزید دلیل دی کہ ملزم پر پولیس نے یہ من گھڑت الزام بھی عائد کیا تھا کہ وہ منشیات سے بھرا ٹرک چلا رہا تھا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنی شدید جسمانی معذوری کے باعث کوئی بھی بھاری گاڑی یا ٹرک چلانے کے قابل ہی نہیں۔

عدالتِ عظمیٰ کے جج کے اہم ریمارکس اور شواہد پر سوالات سماعت کے دوران معزز جج جناب جسٹس ہاشم کاکڑ نے پولیس کارروائی پر سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ برآمدگی اور سائنسی معائنے کے درمیان اس طویل وقفے پر بہت بڑا سوالیہ نشان اٹھتا ہے۔ اعلیٰ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ منشیات کے اس نوعیت کے سنگین مقدمات میں شواہد کو سنبھالنے اور ان کی جانچ پڑتال کرنے میں قانون کے مطابق سخت ترین احتیاط برتنا بے حد ضروری ہے۔

ماتحت عدالتوں اور بلوچستان عدالتِ عالیہ کا فیصلہ مسترد صفائی کے قانون دان نے معزز ججوں کو ماضی کے فیصلوں کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل خضدار کے اضافی ضلعی جج (ایڈیشنل سیشن جج) نے ملزم کو دس (10) سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی تھی، جس کے بعد صوبائی عدالتِ عالیہ (بلوچستان ہائی کورٹ) نے بھی ماتحت عدالت کی اس سزا کو برقرار رکھا تھا۔ تاہم، اب ملک کی سب سے بڑی عدالت نے ان تمام فیصلوں کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔

بعد ازاں، عدالتِ عظمیٰ نے دونوں جانب سے دلائل مکمل ہونے کے بعد ملزم رضا خان کی جانب سے دائر اپیل کو باقاعدہ منظور کر لیا اور پولیس و جیل انتظامیہ کو حکم دیا کہ اگر ملزم کسی دوسرے مقدمے میں مطلوب نہیں ہے تو اسے فی الفور رہا کیا جائے۔

عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ تعاون قابلِ ستائش، افرادی قوت کو جدید معاشی تقاضوں کے مطابق تیار کرنا ضروری ہے: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

کاشف عباسی ,june 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جون 2026ء

وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات اور رکنِ ایوانِ بالا (سینیٹر) محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے (ورلڈ بینک) کی جانب سے پاکستان کے ساتھ طویل اور پائیدار معاشی تعاون انتہائی قابلِ ستائش ہے، تاہم اب پاکستان کی افرادی قوت کو دنیا کی تیزی سے بدلتی ہوئی عالمی معیشت کے جدید تقاضوں کے مطابق تیار کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت اور ناگزیر ہے۔

عالمی مالیاتی ادارے کے اعلیٰ سطحی وفد کی اسلام آباد آمد وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے یہ اہم باتیں عالمی مالیاتی ادارے کے ایک اعلیٰ سطحی وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہیں، جس نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ان سے خصوصی ملاقات کی۔ اس معزز وفد کی قیادت عالمی ادارے میں انسانی ترقی کے شعبے کی نائب صدر کر رہی تھیں، جبکہ ان کے ہمراہ ادارے کے دیگر سینیئر حکام بھی اس اہم بیٹھک میں شامل تھے۔

نوجوان آبادی پاکستان کے لیے قیمتی اثاثہ ہے وزیر خزانہ نے گفتگو کے دوران واضح کیا کہ پاکستان کی بہت بڑی اور نوجوان آبادی ملک کی معاشی ترقی کے لیے ایک بہترین اور سنہری موقع ہے۔ اس انسانی سرمائے سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے ملک میں انسانی ترقی کے اشاریوں کو بہتر بنانا بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو جدید ترین مہارتوں سے آراستہ کرنا اور انہیں ملکی و بین الاقوامی مزدوروں کی منڈی (لیبر مارکیٹ) کی ضروریات کے مطابق فنی تربیت دینا موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات کا حصہ ہے۔

صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ پر ٹارگٹڈ سرمایہ کاری محمد اورنگزیب نے وفد کو بتایا کہ حکومت ملک بھر میں عام شہریوں کی صحت، تعلیم، سماجی تحفظ اور روزگار کے نئے مواقع بہتر بنانے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر براہِ راست اور ہدف کے مطابق سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر کڑا زور دیا کہ ملک میں مستقل اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے اقتصادی اصلاحات کے ساتھ ساتھ کارخانوں اور زرعی شعبے کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنا بھی بہت ضروری ہے۔

زچہ و بچہ کی صحت اور ابتدائی تعلیم پر تفصیلی غور اس اہم ملاقات کے دوران پاکستان میں انسانی ترقی کے بنیادی لائحہ عمل (ایجنڈے) پر تفصیلی اور باریک بینی سے گفتگو ہوئی، جس میں ماں اور بچے کی صحت، غذائیت کی کمی کو دور کرنے، ابتدائی بنیادی تعلیم کی فراہمی اور آبادی میں اضافے جیسے سنگین مسائل پر قابو پانے کے امور شامل تھے۔

عالمی تجربات سے فائدہ اٹھانے اور نجی شعبے کی شمولیت پر اتفاق عالمی مالیاتی ادارے کے وفد نے بھی پاکستان میں نوجوانوں کی مہارتوں کی ترقی، جدید ایجادات و معلومات کے استعمال اور معاشی عمل میں نجی شعبے کی شمولیت کو ملکی بقا کے لیے اہم قرار دیا۔ وفد کے ارکان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں عوامی خدمات کی بہتری کے لیے دنیا کے دیگر کامیاب ممالک کے بین الاقوامی تجربات سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

ملاقات کے اختتام پر پاکستان کے انسانی سرمائے کو مزید مضبوط و توانا بنانے، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے اور ملکی معیشت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عالمی مالیاتی ادارے اور حکومتِ پاکستان کے درمیان مشترکہ معاشی تعاون کو مستقبل میں بھی جاری رکھنے پر مکمل اتفاق کیا گیا۔

لبنان میں شفا خانوں پر حملے جاری، خواتین اور لڑکیاں شدید ترین انسانی بحران کا شکار: اقوامِ متحدہ کی ہنگامی رپورٹ

محمود احمد june 03,2026

بیروت / نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جون 2026ء

اقوامِ متحدہ کے آبادی سے متعلق ذیلی ادارے نے دنیا بھر کو شدید خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے ملک لبنان میں خواتین اور کم عمر لڑکیاں اس وقت ایک ہولناک اور بڑھتے ہوئے انسانی بحران کا سامنا کر رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، خطے میں عارضی جنگ بندی کے دعوؤں کے باوجود وہاں کے مقامی طبی مراکز اور علاج گاہوں پر حملوں کا سلسلہ تھم نہیں سکا ہے۔

خوف و بے یقینی کا ماحول اور کمزور طبقے شدید مشکلات میں عالمی ادارے کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی رپورٹ کے مطابق، پورے لبنان میں اس وقت شدید خوف، معاشی و سیاسی بے یقینی اور عسکری کشیدگی کی سنگین صورتحال برقرار ہے، جس کے باعث ملک کے عام شہری اور خصوصاً خواتین، نوزائیدہ بچے اور لڑکیاں شدید ترین مشکلات اور ذہنی دباؤ سے دوچار ہیں۔

مقدس طبی مراکز اور محفوظ پناہ گاہوں کی تباہی رپورٹ میں اس لرزہ خیز حقیقت کا انکشاف کیا گیا ہے کہ حالیہ فضائی و زمینی حملوں میں عام شہریوں کی جان بچانے والے طبی مراکز اور خواتین کے لیے قائم کردہ ان محفوظ مقامات کو شدید ترین نقصان پہنچایا گیا ہے، جو براہِ راست اقوامِ متحدہ کے مالی اور انتظامی تعاون سے چلائے جا رہے تھے۔ جنوبی لبنان کے اضلاع میں خواتین کے لیے زچگی کی طبی سہولیات پہلے ہی انتہائی محدود تھیں اور اب ان شفا خانوں پر ہونے والے تازہ حملوں سے صورتحال خطرناک حد تک خراب ہو چکی ہے۔

حاملہ خواتین اور نوزائیدہ بچوں کی زندگیاں داؤ پر اقوامِ متحدہ کے ماہرین کے مطابق، زچگی کے مخصوص کمروں اور شفا خانوں کی تباہی کے باعث حاملہ خواتین اور پیدا ہونے والے نوزائیدہ بچوں کی قیمتی زندگیاں شدید ترین خطرے میں آ گئی ہیں۔ جنگ کی ہولناکی کے باعث اس وقت ہزاروں کی تعداد میں حاملہ خواتین اپنے گھر بار چھوڑ کر کھلے آسمان تلے بے گھر ہو چکی ہیں اور وہ زچگی کے دوران ملنے والی بنیادی طبی سہولیات اور ادویات سے بھی مکمل طور پر محروم ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کی تصدیق اور نظامِ صحت کا مفلوج ہونا دوسری جانب، عالمی ادارہ صحت نے بھی اس ابتر صورتحال کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں طبی مراکز اور ڈاکٹروں پر ہونے والے مسلسل حملوں کے باعث لبنان کا پورا مقامی نظامِ صحت اس وقت شدید ترین دباؤ کا شکار ہے۔ ملک کے بہت سے بڑے شفا خانے اب انتہائی محدود وسائل اور بجلی و ادویات کی شدید قلت کے ساتھ کام کرنے پر مجبور ہیں۔

اقوامِ متحدہ نے دنیا کی بڑی طاقتوں اور عالمی برادری سے اس انسانی المیے پر فوری توجہ دینے اور مداخلت کرنے کی درد مندانہ اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ حملے فوری طور پر نہ روکے گئے، تو لبنان میں جاری یہ انسانی بحران آنے والے دنوں میں مزید سنگین اور بے قابو ہو سکتا ہے۔

کاروباری برادری کا ساتھ دینے پر حکومت کا شکریہ، ملکی ترقی نجی شعبے کے تعاون سے ہی ممکن ہے: وزیراعظم شہباز شریف

کاشف عباسی ,june 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جون 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مشکل ترین معاشی حالات میں حکومتی پالیسیوں کا بھرپور ساتھ دینے پر ملک کی تاجر اور کاروباری برادری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اور نجی شعبے کے درمیان مضبوط شراکت داری ہی پاکستان کی اصل معاشی ترقی کی ضامن ہے۔

آئندہ مالی سال کے سالانہ گوشوارے پر صنعتکاروں سے مشاورت تفصیلات کے مطابق، وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملک کی معروف صنعتکار اور کاروباری شخصیات پر مشتمل ایک اعلیٰ سطح کے وفد نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں خصوصی ملاقات کی۔ یہ ملاقات حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال کے سالانہ مالیاتی گوشوارے (بجلی اور آمدنی کے تخمینے) کے حوالے سے جاری ملک گیر مشاورت کا حصہ تھی۔ اس اہم بیٹھک میں ملک کی مجموعی معاشی صورتحال، نئی سرمایہ کاری کے فروغ اور صنعتی ترقی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

کاروباری برادری ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے وزیراعظم نے معزز وفد کا وزیراعظم ہاؤس میں خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ کاروباری برادری پاکستان کی معیشت کی مضبوطی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور یہ تاجر برادری ملک کے اصل سفیر ہیں جو پوری دنیا میں پاکستان کی تجارتی پہچان بناتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ حکومت ملکی برآمدات میں اضافے پر مبنی معاشی ترقی کی پالیسی پر گامزن ہے اور اسی لیے پالیسی سازی کے ہر عمل میں نجی شعبے کی مشاورت کو بنیادی اور کلیدی اہمیت دی جا رہی ہے۔

غیر دستاویزی معیشت کو سرکاری دائرے میں لانے کا عزم وزیر اعظم نے کہا کہ ملک کی غیر دستاویزی (غیر رسمی) معیشت کو سرکاری محصولاتی دائرے (ٹیکس نیٹ) میں لانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ کاروبار دوست پالیسیوں کے باعث اب ملکی معیشت میں واضح استحکام آ رہا ہے اور بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کا اصل مقصد ایسی صنعتوں کا فروغ ہے جن سے ملکی پیداوار میں اضافہ ہو، برآمدات بڑھیں اور ملک سے بے روزگاری کا خاتمہ ہو سکے۔

صنعت، زراعت اور جدید معلوماتی ٹیکنالوجی پر خصوصی توجہ وزیراعظم نے مزید کہا کہ ملک میں صنعت، زراعت اور جدید معلوماتی ٹیکنالوجی (انفارمیشن ٹیکنالوجی) کے شعبوں کی ترقی کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے جبکہ ملک کے نوجوانوں کے لیے مختلف تکنیکی اور فنی تربیت کے پروگرام بھی جاری ہیں تاکہ انہیں روزگار کے بہتر اور جدید مواقع میسر آ سکیں۔

خصوصی تجارتی عدالتوں کا قیام اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری اس اہم ملاقات کے دوران وفد کو حکومت کی جانب سے کیے جانے والے معاشی اقدامات پر تفصیلی آگاہی دی گئی جس میں بتایا گیا کہ سرکاری محصولات کے دیرینہ مقدمات کے جلد فیصلوں کے لیے قانونی اصلاحات کی گئی ہیں اور ملک میں خصوصی تجارتی (کمرشل) عدالتوں کے قیام پر کام تیزی سے جاری ہے۔ اس کے علاوہ، کراچی کی بندرگاہوں سے ملک کے اندرونی حصوں تک رسائی کو آسان اور تیز بنانے کے منصوبے بھی آخری مراحل میں ہیں۔

تجارتی سامان کی ترسیل اور مصنوعی ذہانت کا قومی منصوبہ سرکاری حکام کی جانب سے دی گئی معلومات کے مطابق، ریلوے اور شاہراہوں (موٹرویز) کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری سے تجارتی سامان کی اندرون و بیرون ملک ترسیل میں نمایاں بہتری آئے گی، جبکہ حکومت ملک میں ‘مصنوعی ذہانت’ (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) پر مبنی ایک قومی منصوبہ بھی تشکیل دے رہی ہے تاکہ مختلف پیداواری شعبوں میں جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھا کر لاگت کو کم کیا جا سکے Industrial cost۔

حکومتی معاشی پالیسیوں پر تاجر برادری کا بھرپور اعتماد ملاقات میں موجود کاروباری وفد نے موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت اب بالکل درست سمت میں گامزن ہے۔ کاروباری رہنماؤں نے صنعتوں کے لیے بجلی کے نرخوں میں کمی، محصولاتی اصلاحات، برآمدی ترقیاتی اقدامات اور جمع شدہ سرکاری واجبات (ٹیکس ریفنڈز) کی بروقت ادائیگیوں کے حکومتی اقدامات کو دل کھول کر سراہا۔

کاروباری برادری نے حکومت کے ساتھ ہر سطح پر مکمل تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں صنعتی ترقی، برآمدات میں ریکارڈ اضافے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے وزیراعظم کے اقدامات قابلِ تحسین ہیں۔ اس اہم ترین ملاقات میں وفاقی وزراء اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام نے بھی شرکت کی۔

بابر اعظم ایک روزہ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے پاکستان کے دس بہترین بلے بازوں میں شامل

منصور احمد june 03,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 03 جون 2026ء

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور مایہ ناز بلے باز بابر اعظم نے بین الاقوامی کرکٹ میں ایک اور تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ وہ پاکستان کی جانب سے ایک روزہ میچوں (او ڈی آئی) کی تاریخ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے دس (10) چوٹی کے بلے بازوں کی باوقار فہرست میں شامل ہو گئے ہیں۔

سابق مایہ ناز بلے باز اعجاز احمد کا ریکارڈ توڑ دیا آسٹریلیا کے خلاف کھیلی گئی حالیہ سیریز کے دوران بابر اعظم نے شاندار بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کے سابق نامور کھلاڑی اعجاز احمد کو رنز کی دوڑ میں پیچھے چھوڑا اور مایہ ناز دس کھلاڑیوں کی فہرست میں اپنی جگہ پکی کی۔ اعجاز احمد طویل عرصے سے اس فہرست کا حصہ تھے، جن کا ریکارڈ اب سابق کپتان نے اپنے نام کر لیا ہے۔

مستقل مزاجی اور عالمی معیار کا شاندار ریکارڈ بابر اعظم نے اب تک کھیلے گئے ایک سو بیالیس (142) ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں ترپن اعشاریہ چوون (53.54) کی شاندار اور جاندار اوسط کے ساتھ مجموعی طور پر چھ ہزار پانچ سو چھیاسی (6586) رنز اسکور کیے ہیں۔ ان کی ان یادگار اننگز میں بیس (20) شاندار سنچریاں (سو رنز) اور اڑتیس (38) نصف سنچریاں (پچاس رنز) شامل ہیں، جو عالمی کرکٹ میں ان کی لاجواب مستقل مزاجی اور بہترین تکنیک کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

انضمام الحق بدستور پہلے نمبر پر براجمان پاکستان کی جانب سے ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا ورلڈ ریکارڈ اب بھی سابق جارح مزاج کپتان انضمام الحق کے پاس محفوظ ہے، جنہوں نے اپنے طویل دورِ کھیل میں گیارہ ہزار سات سو ایک (11701) رنز بنائے۔

پاکستان کے دیگر نامور بلے باز پاکستان کرکٹ کی تاریخ کے دیگر نمایاں اور مایہ ناز بلے بازوں میں محمد یوسف، سعید انور، شاہد آفریدی، شعیب ملک، جاوید میانداد، یونس خان، سلیم ملک اور محمد حفیظ شامل ہیں، جو طویل عرصے تک قومی ٹیم کی بلے بازی کی بنیادی ریڑھ کی ہڈی رہے ہیں اور اب بابر اعظم بھی اسی صفِ اول کے کھلاڑیوں میں شمار ہو چکے ہیں۔

کھیل کے ماہرین کی جانب سے بھرپور خراجِ تحسین کرکٹ کے ماہرین اور سابق کھلاڑیوں کے مطابق، بابر اعظم کا اتنی کم عمری اور کم میچوں میں یہ عظیم سنگِ میل عبور کرنا ان کے مستقل اعلیٰ معیار، محنت اور پاکستان کرکٹ میں ان کے مضبوط اور ناقابلِ تسخیر مقام کی عکاسی کرتا ہے۔ ماہرین نے امید ظاہر کی ہے کہ وہ مستقبل میں پاکستان کے لیے مزید کئی بڑے ریکارڈز اپنے نام کریں گے۔

امریکہ نے پاکستان سمیت دنیا کے ساٹھ ممالک پر نئے تجارتی ٹیکس عائد کر دیے، عالمی معیشت میں ہلچل

محمود احمد june 03,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جون 2026ء

امریکی حکومت نے ایک بہت بڑا معاشی فیصلہ کرتے ہوئے پاکستان اور بھارت سمیت دنیا کے ساٹھ (60) اہم تجارتی شراکت دار ممالک سے آنے والے سامان پر دس (10) سے ساڑھے بارہ (12.5) فیصد تک نئے درآمدی ٹیکس (ٹیرف) نافذ کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے اس غیر متوقع فیصلے کو عالمی تجارت اور معاشی نظام کے لیے ایک انتہائی سخت اور دور رس قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

جبری مشقت کے قوانین پر عملدرآمد میں ناکامی کا الزام امریکی حکام کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، یہ سخت معاشی فیصلہ ایک طویل تحقیقاتی عمل کے بعد کیا گیا ہے۔ امریکی مقتدر حلقوں نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ مذکورہ ساٹھ ممالک اپنے ہاں جبری مشقت (مزدوروں سے زبردستی کام لینے) کے مروجہ طریقوں سے تیار ہونے والی مصنوعات کی روک تھام کے لیے مؤثر قوانین بنانے اور ان پر سختی سے عملدرآمد کروانے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔ اسی بنیاد پر ان ممالک سے امریکہ آنے والی تمام برآمدات پر اضافی درآمدی ڈیوٹی اور ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔

پاکستان، برطانیہ اور یورپی یونین سمیت بڑے شراکت دار ہدف پر رپورٹ کے مطابق، امریکہ کی اس نئی اور کڑی تجارتی پالیسی کی زد میں آنے والے ساٹھ ممالک میں پاکستان، بھارت، برطانیہ، یورپی یونین کے رکن ممالک، کینیڈا اور جاپان جیسے امریکہ کے سب سے بڑے اور مستقل تجارتی شراکت دار شامل ہیں۔ یہ تمام ممالک ہر سال امریکہ کو مجموعی طور پر اربوں ڈالرز مالیت کی اشیاء برآمد کرتے ہیں، جس کے باعث عالمی ماہرینِ معیشت کی جانب سے یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس نئی پالیسی سے پورے عالمی تجارتی نظام پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

امریکی مارکیٹ میں منصفانہ مسابقت اور مزدوروں کا تحفظ امریکی محکمہ تجارت نے اپنے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ یہ ہنگامی اقدام امریکی مارکیٹ میں منصفانہ کاروباری مسابقت کو یقینی بنانے اور جبری مشقت کے خلاف عالمی سطح پر دباؤ بڑھانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایسے ممالک کے ساتھ آزادانہ تجارت جاری رکھنا جو مزدوروں کے حقوق پر مؤثر اقدامات نہیں کرتے، خود امریکی معیشت، مقامی کارخانوں اور امریکی محنت کشوں کے مفادات کے لیے شدید نقصان دہ ہے۔

عالمی تجارتی نظام میں شفافیت لانے کا دعویٰ امریکی نمائندہ برائے تجارت نے بھی واشنگٹن کے اس بڑے اقدام کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس معاشی ٹیکس کا اصل مقصد عالمی تجارتی نظام میں شفافیت، برابری اور انصاف کو فروغ دینا ہے تاکہ امریکی مصنوعات اور وہاں کے مقامی محنت کشوں کو بین الاقوامی سطح پر ہونے والے غیر منصفانہ مقابلے سے مستقل تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

برآمدی صنعتوں پر دباؤ اور عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کا خطرہ دوسری جانب، بین الاقوامی معاشی مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق، امریکہ کے اس یکطرفہ فیصلے سے عالمی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ، غیریقینی صورتحال اور مختلف بلاکس کے درمیان تجارتی کشیدگی میں بے پناہ اضافہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس فیصلے کے بعد پاکستان سمیت تمام متاثرہ ممالک کی مقامی برآمدی صنعتوں پر مالی دباؤ بڑھے گا اور ان کے لیے امریکی مارکیٹ میں اپنی مصنوعات سستے داموں بیچنا اب ممکن نہیں رہے گا۔

بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابیاں، مختلف اضلاع میں 17 دہشت گرد ہلاک

منصور احمد june 02,2026

راولپنڈی / کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جون 2026ء

پاک فوج اور سکیورٹی فورسز نے صوبہ بلوچستان کے مختلف اضلاع میں دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر ہنگامی اور کامیاب کارروائیاں کرتے ہوئے سترہ (17) اہم دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا ہے۔ پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق، یہ تمام کارروائیاں صوبے کے حساس اضلاع مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے مختلف خفیہ ٹھکانوں پر کی گئیں۔

خفیہ اطلاعات پر مربوط آپریشنز اور شدید فائرنگ کا تبادلہ فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ عسکری بیان کے مطابق، بلوچستان کے مختلف مقامات پر بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشت گردوں کی موجودگی کی انتہائی معتبر اور خفیہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔ ان معلومات پر سکیورٹی فورسز نے انتہائی مربوط اور منظم آپریشنز کا آغاز کیا۔ کارروائیوں کے دوران گھیرے میں آئے دہشت گردوں اور فورسز کے درمیان آمنے سامنے شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں سترہ (17) شرپسند دہشت گرد مارے گئے۔

شہریوں پر حملوں میں ملوث ہونا اور بھاری اسلحے کی برآمدگی سرکاری عسکری بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے یہ تمام دہشت گرد طویل عرصے سے سکیورٹی فورسز پر حملوں، تخریب کاری اور معصوم شہریوں کے خلاف مختلف گھناؤنی دہشت گردانہ کارروائیوں میں براہِ راست ملوث اور مطلوب تھے۔ کامیاب کارروائی کے بعد فورسز نے دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانوں پر قبضے کے بعد وہاں سے بھاری مقدار میں جدید ترین خودکار اسلحہ، گولہ بارود اور دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (بارودی مواد) برآمد کر کے قبضے میں لے لیے ہیں۔

متاثرہ علاقوں میں کلیئرنس آپریشن اور عزمِ استحکام عسکری حکام کے مطابق، دہشت گردوں کی ہلاکت کے بعد ان تمام متاثرہ علاقوں میں فوج کا خصوصی سرچ اور کلیئرنس آپریشن بدستور جاری ہے تاکہ وہاں موجود کسی بھی دوسرے ممکنہ خطرے یا مفرور ساتھی کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے اور پورے خطے کو دہشت گرد عناصر سے پاک کر کے پائیدار امن قائم کیا جا سکے۔

بیان میں مزید عزم ظاہر کیا گیا کہ قومی پالیسی ‘عزمِ استحکام’ کے تحت ملک بھر سے دہشت گردی کے جڑ سے خاتمے کے لیے یہ ٹارگٹڈ کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی اور پاکستان میں بیرونی ممالک کی سرپرستی اور فنڈنگ سے ہونے والی ہر قسم کی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔

سکیورٹی فورسز نے اپنے مشترکہ بیان کے اختتام پر اس فولادی عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک کے امن، سلامتی، ملکی استحکام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ پوری قومی قوت، یکسوئی اور عسکری طاقت کے ساتھ آخری حد تک جاری رکھی جائے گی۔

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اکیاسی ویں اجلاس کے صدر کا تاریخی انتخاب، بنگلہ دیش کے سفارتکار خلیل الرحمان کامیاب

محمود احمد june 02,2026

نیویارک / ڈھاکہ (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جون 2026ء

عالمی سفارت کاری کے میدان میں جنوبی ایشیا کے لیے بڑی کامیابی سامنے آئی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اکیاسی ویں (81ویں) سالانہ اجلاس کے صدر کے معرکہ آرا انتخاب میں بنگلہ دیش کے سینیئر اور مایہ ناز سفارتکار خلیل الرحمان حتمی طور پر کامیاب قرار پائے ہیں۔ وہ ستمبر 2026ء سے لے کر ستمبر 2027ء تک قائم رہنے والے اس اہم ترین عالمی اجلاس کے صدر کے طور پر اپنی خدمات سرانجام دیں گے۔

جنرل اسمبلی میں ریکارڈ رائے شماری اور سو فیصد حاضری اقوامِ متحدہ کے ہیڈ کوارٹر نیویارک میں جنرل اسمبلی کے صدر کے منصب کے لیے ہونے والی اس ہنگامی رائے شماری کے دوران دنیا بھر کے ممالک کی جانب سے مجموعی طور پر ایک سو نوے (190) ووٹ ڈالے گئے۔ اس تاریخی انتخاب کی سب سے خاص بات یہ رہی کہ دنیا کا کوئی بھی رکن ملک اس اہم ووٹنگ کے عمل سے نہ تو غیر حاضر رہا اور نہ ہی کسی نے غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا، بلکہ تمام ممالک نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔

انتخابی نتائج اور دونوں امیدواروں کے ووٹوں کا موازنہ دنیا کے اس سب سے بڑے سفارتی ادارے کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ انتخابی نتائج کے مطابق، دونوں ممالک کے مابین سخت جوڑ پڑا جس کی تفصیل درج ذیل ہے:

خلیل الرحمان (بنگلہ دیش): 99 ووٹ حاصل کیے
اینڈریاس کاکوریس (قبرص): 91 ووٹ حاصل کیے

    اقوامِ متحدہ کے قوانین کے مطابق، صدارت کی کرسی حاصل کرنے کے لیے امیدوار کو سادہ اکثریت کے تحت کم از کم چھیانوے (96) ووٹ درکار تھے، جس کے مقابلے میں بنگلہ دیش کے خلیل الرحمان نے ننانوے (99) ووٹ حاصل کر کے میدان مار لیا۔ بین الاقوامی سیاسی ماہرین اس انتخاب کو اس لحاظ سے انتہائی سنسنی خیز اور اہم قرار دے رہے ہیں کہ دونوں امیدواروں کے درمیان مقابلہ غیر معمولی طور پر سخت رہا اور ہار جیت کا فیصلہ محض آٹھ (8) ووٹوں کے معمولی فرق سے ہوا۔

    نئے صدر کی آئینی ذمہ داریاں اور عالمی منصب بنگلہ دیشی سفارتکار خلیل الرحمان رواں سال ستمبر 2026ء میں شیڈول کے مطابق جنرل اسمبلی کے اکیاسی ویں اجلاس کی صدارت کا باقاعدہ حلف اٹھا کر چارج سنبھالیں گے اور پورے ایک سال تک اس معتبر عالمی منصب پر فائز رہیں گے۔ ان کی کلیدی ذمہ داریوں میں جنرل اسمبلی کے تمام اہم ترین اجلاسوں کی صدارت کرنا، کائنات کے مختلف خطوں میں جاری جنگوں اور بحرانوں کے خاتمے کے لیے رکن ممالک کے درمیان قریبی سفارتی مشاورت کو فروغ دینا اور نازک عالمی امور پر عالمی برادری کے اندر اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں اپنا فعال کردار ادا کرنا شامل ہوگا۔

    اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی عالمی حیثیت واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی اس وقت کرہ ارض کے تقریباً تمام خودمختار اور آزاد ممالک پر مشتمل دنیا کا سب سے بڑا اور معتبر ترین عالمی فورم ہے۔ یہ وہ تاریخی پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر میں پائیدار امن کے قیام، علاقائی سلامتی کے تحفظ، موسمیاتی و پائیدار ترقی، انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکنے اور بین الاقوامی برادری کے درمیان باہمی معاشی و عسکری تعاون سمیت تمام بڑے اور سنگین عالمی معاملات پر تفصیلی غور و خوض کے بعد مشترکہ فیصلے کیے جاتے ہیں۔