تاریخی اصول پر اُردو لغت کے نظرثانی شدہ ایڈیشن کی پہلی 3 جلدوں کی رونمائی؛ تمام 22 جلدوں کی اشاعت کے لیے ایم او یو پر دستخط

منصور احمد, JULY 22,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے ‘تاریخی اصول پر اُردو لغت’ کے نظرثانی شدہ ایڈیشن کی پہلی تین جلدوں کی باقاعدہ رونمائی کرتے ہوئے اُردو زبان کے فروغ اور پاکستان کے لسانی و ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے حکومت کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا ہے۔

وزارت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، نیشنل لینگویج پروموشن ڈیپارٹمنٹ (این ایل پی ڈی) کے زیرِ اہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ خوبصورت نستعلیق رسم الخط میں شائع ہونے والا یہ جدید ایڈیشن اُردو زبان کی ارتقاء کا مظہر اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی علمی سرمایہ ہے۔ اس موقع پر انہوں نے ممتاز ماہرِ لسانیات اور برکاتی فاؤنڈیشن کے بانی ڈاکٹر حاجی محمد رفیق پردیسی کی مالی و علمی کاوشوں کو سراہتے ہوئے انہیں پاکستان کے اعلیٰ ترین سول اعزاز کے لیے نامزد کرنے کا باضابطہ اعلان کیا۔

تقریب کے دوران لغت کی تمام 22 جلدوں کی مکمل اشاعت کے لیے وفاقی حکومت اور برکاتی فاؤنڈیشن کے درمیان ایک اہم مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط بھی کیے گئے۔ وفاقی سیکرٹری برائے قومی ورثہ و ثقافت اسد رحمان گیلانی اور ڈی جی این ایل پی ڈی پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ تحقیقی معیار کے اعتبار سے یہ تاریخی لغت عالمی سطح کی ممتاز لغات کے ہم پلہ ہے، جس کی باقی ماندہ جلدوں پر کام اب مزید تیز رفتاری سے مکمل کیا جائے گا۔

تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر حاجی محمد رفیق پردیسی نے وفاقی وزیر کو لغت کی شائع شدہ جلدیں اور تبرکات پیش کیے، جبکہ وفاقی وزیر نے انہیں گراں قدر لسانی خدمات کے اعتراف میں تعریفی سند سے نوازا۔

المیزان فاؤنڈیشن میں مالیاتی نظم و ضبط اور ڈیجیٹل تبدیلی میں نمایاں پیش رفت؛ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی ایڈوائزری بورڈ کے اجلاس کی صدارت

کاشف عباسی , JULY 22,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ المیزان فاؤنڈیشن میں ادارہ جاتی اصلاحات، مالیاتی نظم و ضبط، ڈیجیٹل تبدیلی اور فلاحی خدمات کی فراہمی کے شعبوں میں نمایاں اور مثبت پیش رفت حاصل ہوئی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز سپریم کورٹ آف پاکستان میں المیزان فاؤنڈیشن کے ایڈوائزری بورڈ کے سالانہ جنرل اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اعلیٰ سطحی اجلاس میں ملک بھر کی تمام ہائی کورٹس کے معزز چیف جسٹس صاحبان نے شرکت کی۔ بورڈ نے سابقہ فیصلوں پر عمل درآمد، واجبات کی وصولی، ریکارڈ مینجمنٹ اور جدید طرزِ حکمرانی کے اقدامات کا جائزہ لیا اور ان کی کارکردگی کو سراہا۔

اجلاس کے دوران المیزان فاؤنڈیشن کے 2025ء تا 2030ء کے پانچ سالہ اسٹریٹجک اہداف اور مالی سال 2026-27ء کے سالانہ بجٹ کی باقاعدہ منظوری دی گئی۔ اس کے علاوہ فاؤنڈیشن کے قواعد و ضوابط، مالی اختیارات کے شیڈول، اینڈومنٹ و انویسٹمنٹ فنڈ رولز، ویلفیئر پالیسی اور گورننس اینڈ ایڈمنسٹریشن پالیسی 2026ء کا جدید ترین اصلاحاتی پیکیج بھی منظور کر لیا گیا۔

بورڈ نے اسلامی انٹرنیشنل میڈیکل کالج ٹرسٹ کے ساتھ مزید 25 سالہ تعاون کے معاہدے کی توثیق کا خیرمقدم کیا، جس کے تحت فاؤنڈیشن کو 148 فیصد زائد رائلٹی، میڈیکل پروگراموں میں سالانہ 43 وظائف اور جدید طبی سہولیات میسر آئیں گی۔ علاوہ ازیں المیزان فاؤنڈیشن کی حدود میں مجوزہ میڈیکل کمپلیکس کے قیام اور گزشتہ سالوں کے بیرونی مالیاتی آڈٹ کی منظوری دیتے ہوئے شفافیت کو مزید یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

راول ڈیم کو آلودگی سے بچانے کے لیے ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ نصب کیا جا رہا ہے؛ چیف آفیسر ایم سی آئی ڈاکٹر انعم کی شہریوں سے نالوں میں کچرا نہ پھینکنے کی اپیل، پریس ریلیز

منصور احمد, JULY 22,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

چیئرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام آباد کی خصوصی ہدایات پر کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد (ایم سی آئی) نے معروف ادارے ‘جاز ورلڈ’ کے اشتراک سے راول ڈیم میں ایک کامیاب صفائی مہم کا انعقاد کیا۔

اس خصوصی صفائی مہم کا بنیادی مقصد ماحول کے تحفظ کو یقینی بنانا اور شہریوں میں صفائی ستھرائی سے متعلق شعور اجاگر کرنا تھا۔ مہم کی قیادت چیف آفیسر ایم سی آئی ڈاکٹر انعم نے کی، جبکہ جاز ورلڈ کے نمائندوں، سی ڈی اے، ایم سی آئی، مختلف غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز)، تعلیمی اداروں کے طلبہ اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے 200 سے زائد رضاکاروں نے اس میں بھرپور حصہ لیا۔ آپریشن کے دوران رضاکاروں نے 80 سے زائد تھیلے کوڑا کرکٹ جمع کر کے راول ڈیم کے اطراف سے تقریباً 2 ٹن ٹھوس کچرا ہٹایا۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چیف آفیسر ایم سی آئی ڈاکٹر انعم نے کہا کہ ماحول کا تحفظ اور کچرے کی ذمہ دارانہ تلفی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سی ڈی اے اور ایم سی آئی، حکومتِ پنجاب اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر راول ڈیم کو آلودگی سے پاک رکھنے کے لیے جامع اقدامات کر رہے ہیں، جن میں آلودہ پانی کو ڈیم میں گرنے سے روکنے کے لیے ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ (ایس ٹی پی) کی تنصیب بھی شامل ہے۔

انہوں نے بالخصوص بھارہ کہو اور مری کی جانب سے آنے والے نالوں کے قریب رہنے والے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ نالوں میں کچرا پھینکنے سے مکمل گریز کریں، کیونکہ یہ نالے ڈیم کی آلودگی کا بڑا ذریعہ بن رہے ہیں۔ تقریب کے اختتام پر جاز ورلڈ اور تمام رضاکاروں کا شکریہ ادا کیا گیا اور اسلام آباد کو مزید صاف اور سرسبز بنانے کے لیے نجی و سرکاری شراکت داری کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

پاکستان اور مصر کا تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق؛ اسحاق ڈار کی مصری ہم منصب ڈاکٹر بدر عبدالعاطی سے ملاقات

کاشف عباسی , JULY 22,026

منیلا/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں منعقدہ ‘آسیان ریجنل فورم’ (اے آر ایف) کے موقع پر مصر کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی کی جانب سے دیے گئے خصوصی عشائیے میں شرکت کے دوران ان سے اہم ملاقات کی ہے۔

وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق، دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان پاکستان اور مصر کے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔ اس گفتگو میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت، دوطرفہ سرمایہ کاری، اقتصادی تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے اور کثیر الجہتی بین الاقوامی فورمز پر باہمی اشتراک کو فروغ دینے کے امور شامل تھے۔

مشرقِ وسطیٰ کی تازہ ترین اور حساس صورتِ حال کا جائزہ لیتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے خطے میں جاری کشیدگی میں کمی لانے اور مسائل کے حل کے لیے سفارتی مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا، جبکہ تمام ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا۔ انہوں نے اس امر پر تشویش ظاہر کی کہ علاقائی عدم استحکام عالمی بحری تجارت، توانائی کے تحفظ اور مجموعی عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔

دونوں رہنماؤں نے فلسطین کی تشویشناک صورتِ حال پر بھی مفصل گفتگو کی اور شہری آبادی کے خلاف تشدد کے واقعات اور مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی آبادکاری کی سرگرمیوں کو باضابطہ مسترد کرنے کے اپنے اصولی مؤقف کا اعادہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے قاہرہ میں منعقدہ حالیہ مشاورتی اجلاس کے نتائج کا جائزہ لیتے ہوئے خطے میں پائیدار امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے مشترکہ عزم کو دہرایا۔

ای سی او ممالک موسمیاتی تبدیلی اور خوراک و توانائی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سائنسی تعاون مضبوط کریں؛ خالد حسین مگسی کا خطاب

منصور احمد, JULY 22,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی نے اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت کے شعبوں میں علاقائی تعاون کو مزید مضبوط بنائیں تاکہ موسمیاتی تبدیلی، پانی و خوراک کے عدم تحفظ، توانائی کی منتقلی، صحتِ عامہ اور نوجوانوں کی بے روزگاری جیسے مشترکہ چیلنجز سے موثر انداز میں نمٹا جا سکے۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار بدھ کو اسلام آباد میں اقتصادی تعاون تنظیم سائنس فاؤنڈیشن (ای سی او ایس ایف) کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے 6 ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر برائے سائنس، تحقیق و ٹیکنالوجی حسین سیمائی سراف، وفاقی سیکرٹری سائنس و ٹیکنالوجی شاہد اقبال بلوچ، ای سی او کے سیکرٹری جنرل سفیر اسد مجید خان، ای سی او سائنس فاؤنڈیشن کے صدر پروفیسر سید کمال طیبی اور رکن ممالک کے اعلیٰ نمائندوں نے بالمشافہ اور آن لائن شرکت کی۔

وفاقی وزیر خالد حسین مگسی نے معزز مندوبین کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اس اہم اجلاس کی میزبانی پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول اور صنعتی پیداوار میں اضافے کے لیے سائنسی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ وفاقی وزیر نے ان ممالک پر بھی زور دیا جنہوں نے تاحال فاؤنڈیشن کے چارٹر کی توثیق نہیں کی کہ وہ جلد از جلد اپنی قومی کارروائی مکمل کریں اور بروقت مالی معاونت فراہم کریں۔

اس موقع پر ایران کے وزیر برائے سائنس حسین سیمائی سراف نے سائنسی تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ایران فاؤنڈیشن کو درپیش مالی مشکلات کے حل کے لیے اپنا مالی حصہ ادا کرے گا اور ادارے کی مالی پائیداری کے لیے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

خالد حسین مگسی نے اختتامی کلمات میں امید ظاہر کی کہ فاؤنڈیشن کے فیصلے اور سفارشات خطے میں سائنسی تعاون، جدت اور پائیدار معاشی ترقی کے فروغ میں سنگِ میل ثابت ہوں گے۔

وزیرِ اعظم کی ہدایات پر خیبر پختونخوا کی جامعات میں کمپیوٹنگ پروگراموں کا کوالٹی اشورنس جائزہ مکمل؛ ایچ ای سی نے رپورٹ جاری کر دی

روزینہ اسماعیل, JULY 22,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے وزیرِ اعظم پاکستان کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں خیبر پختونخوا کی مختلف سرکاری و نجی جامعات میں کمپیوٹنگ کے تعلیمی پروگراموں کا جامع کوالٹی اشورنس جائزہ مکمل کر لیا ہے، جس کا مقصد ملک میں اعلیٰ تعلیم کے معیار، افادیت اور جدید صنعتی تقاضوں سے ہم آہنگی کو مزید بہتر بنانا ہے۔

ایچ ای سی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، اس جائزے کے دوران صوبے کی 15 سے زائد نمایاں جامعات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جن میں یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی نوشہرہ، عبدالولی خان یونیورسٹی مردان، یونیورسٹی آف بونیر، یونیورسٹی آف صوابی، سرحد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ آئی ٹی، زرعی یونیورسٹی پشاور، شہید بے نظیر بھٹو ویمن یونیورسٹی، گومل یونیورسٹی، خوشحال خان خٹک یونیورسٹی اور فاٹا یونیورسٹی سمیت دیگر ادارے شامل ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ ماہرین پر مشتمل جائزہ ٹیموں نے 8 بنیادی معیارات کا تفصیلی معائنہ کیا، جن میں نصاب کی ترتیب، تجربہ گاہوں (لیبز) اور دیگر سہولیات، تدریسی عملے کی اہلیت، انتظامی فریم ورک اور طلبہ کی رہنمائی کا نظام شامل ہے۔ اس کے علاوہ جامعات کی انتظامیہ، اساتذہ اور طلبہ سے تفصیلی ملاقاتیں بھی کی گئیں۔

ایچ ای سی نے رپورٹ میں اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کی جامعات کمپیوٹنگ تعلیم کا معیار بہتر بنانے اور اپنے پروگراموں کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مثبت پیش رفت کر رہی ہیں۔ کمیشن کے مطابق اس جائزے کی سفارشات سے نتائج پر مبنی تعلیم ، انڈسٹری لنکجز اور تعلیمی وسائل کی پائیدار ترقی میں مدد ملے گی۔

مختلف یونیورسٹیوں کے طلبہ و طالبات کا ٹریفک پولیس ہیڈکوارٹرز کا دورہ؛ ٹریفک قوانین اور پولیس آپریشنز سے متعلق آگاہی فراہم کی گئی

کاشف عباسی , JULY 22,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

مختلف یونیورسٹیوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ و طالبات کے ایک وفد نے اسلام آباد ٹریفک پولیس ہیڈکوارٹرز کا تعلیمی دورہ کیا۔

ترجمان پولیس کے مطابق دورے کے دوران اسلام آباد ٹریفک پولیس ایجوکیشن ونگ کی ٹیم نے طلبہ کو پولیس کے مختلف شعبہ جات کی کارکردگی، روڈ سیفٹی اور ٹریفک کے قوانین سے متعلق تفصیلی آگاہی فراہم کی۔

اس موقع پر چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) اسلام آباد کائنات اظہر خان نے طلبہ کو اسلام آباد ٹریفک پولیس کی جانب سے شہریوں کی سہولت اور دارالحکومت میں ٹریفک کے نظام کو جدید بنانے کے لیے شروع کیے گئے عوام دوست پولیسنگ کے منصوبوں سے متعلق جامع معلومات فراہم کیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹریفک قوانین کی پاسداری اور روڈ سیفٹی سے متعلق آگاہی کا فروغ ہماری ترجیحات میں شامل ہے اور اس حوالے سے نوجوان بالخصوص طلبہ و طالبات کا کردار انتہائی اہم ہے۔

پاسپورٹ کی فوری تیاری کے نام پر شہریوں کو لوٹنے والا ایجنٹ مافیا اور نیٹ ورک بے نقاب؛ ایف آئی اے کی جی ٹین پاسپورٹ آفس کے باہر کارروائی

منصور احمد, JULY 22,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے جی ٹین پاسپورٹ آفس کے باہر ایجنٹ مافیا کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے ایمرجنسی اور ترجیحی بنیادوں پر پاسپورٹ کی سہولت کے نام پر شہریوں کو لوٹنے والے منظم نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا ہے۔

ترجمان کے مطابق مصدقہ اطلاعات اور مجاز حکام کی منظوری کے بعد پاسپورٹ آفس کے باہر کارروائی کی گئی، جس کے دوران مرکزی ملزم محمد مزمل کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا۔ ابتدائی تفتیش سے انکشاف ہوا کہ ملزم خاص طور پر خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو اسلام آباد کے جعلی رہائشی پتے دکھا کر ترجیحی بنیادوں پر پاسپورٹ بنوانے کے عوض فی کیس 20 ہزار روپے وصول کرتا تھا۔

گرفتار ملزم کی نشان دہی پر دو مزید سہولت کاروں نصیر احمد اور محمد تصور کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔ گرفتار ملزمان کے موبائل فونز کے جائزے سے ثابت ہوا کہ ملزم نصیر احمد آن لائن پیغامات کے ذریعے شہریوں کے ٹوکن نمبرز پاسپورٹ آفس کے ایک اہلکار رضا کو بھجواتا تھا جو جواب میں خصوصی نمبرز فراہم کر کے ترجیحی کلیرنس ممکن بناتا تھا۔ تفتیش میں سامنے آیا کہ پاسپورٹ اہلکار رضا فی کیس بھاری رقوم آن لائن رقم کی منتقلی کے ذریعے حاصل کرتا رہا، جس سے اس کا مجرمانہ نیٹ ورک سے براہِ راست تعلق ثابت کرنے والے واضح ثبوت قائم ہو چکے ہیں۔

ایف آئی اے نے ملزمان کے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت مقدمہ درج کر کے انہیں عدالت میں پیش کیا، جہاں سے مزید تفتیش کے لیے ملزمان کا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا گیا ہے۔ پاسپورٹ آفس کے ملوث اہلکار اور دیگر افراد کا حتمی کردار تفتیش کے دوران متعین کیا جائے گا۔

ایف آئی اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی سرکاری خدمت کے حصول کے لیے ایجنٹوں سے رابطہ کرنے کے بجائے متعلقہ ادارے سے براہِ راست رجوع کریں اور ایسی کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر ادارے کو فراہم کریں۔

امریکہ کے ساتھ 200 ارب ڈالر کے 7 سٹریٹجک معاہدے طے پا گئے؛ ڈیزل اور مٹی کے تیل میں خود کفالت حاصل، عراقی وزیرِ تیل باسم محمد خضیر کی گفتگو، پریس ریلیز

کاشف عباسی , JULY 22,026

بغداد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

عراق کے وزیرِ تیل باسم محمد خضیر نے اعلان کیا ہے کہ ملک کی مجموعی تیل پیدا کرنے کی صلاحیت یومیہ 48 لاکھ بیرل سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ حکومت 2030ء تک قدرتی گیس کے شعبے میں مکمل خود کفالت حاصل کرنے کے ہدف پر گامزن ہے۔

سرکاری ٹی وی کے ایک خصوصی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عراقی وزیرِ تیل نے بتایا کہ وزیراعظم علی الزیدی کے حالیہ دورۂ امریکہ کے دوران توانائی کے شعبے سے متعلق 7 اہم اور بڑے سٹریٹجک معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ان معاہدوں اور منصوبوں کی مجموعی مالیت تقریباً 200 ارب امریکی ڈالر ہے، جن سے عراق میں تیل و گیس کے ذخائر اور پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوگا، روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے اور طلبہ کے لیے تعلیمی وظائف جیسے سماجی منصوبے بھی شروع کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت 22 بین الاقوامی کمپنیاں عراق کے تیل کے شعبوں میں فعال انداز میں کام کر رہی ہیں۔

عراقی وزیرِ تیل نے بتایا کہ ملک نے ڈیزل اور مٹی کے تیل کی پیداوار میں مکمل خود کفالت حاصل کر لی ہے، جبکہ اس وقت ملک میں یومیہ 3 کروڑ لیٹر پٹرول پیدا کیا جا رہا ہے۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ ایندھن کی تقسیم کے نظام میں اب بھی بعض انتظامی چیلنجز موجود ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ عراقی حکومت پیٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم ‘اوپیک’ کے ساتھ مسلسل تعمیری مذاکرات کر رہی ہے تاکہ عراق کے تیل برآمد کرنے کے کوٹے میں اضافہ ممکن ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ عراق ماضی کی جنگوں اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کے بعد اپنا جائز اور منصفانہ برآمدی حصہ حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

کانگریس سے منظور شدہ فنڈز کی منتقلی نئے امریکی صدر کے منصب سنبھالنے تک معطل؛ امریکی سینیٹر ڈک ڈربن کا اپروپری ایشنز کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف

محمود احمد, JULY 22,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

امریکی انتظامیہ نے یوکرین کے لیے امریکی کانگریس کی جانب سے منظور شدہ 400 ملین ڈالر کی اضافی فوجی امداد کی فوری منتقلی روک دی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق، امریکی سینیٹر ڈک ڈربن نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی انتظامیہ نے کانگریس سے منظور شدہ 400 ملین ڈالر کے یہ فوجی فنڈز یوکرین کو فوری منتقل کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

الینوائے سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر ڈک ڈربن نے سینیٹ کی اپروپری ایشنز کمیٹی کے اہم اجلاس کے دوران اعلیٰ امریکی عسکری حکام سے سوال کیا کہ کیا انہیں اس بات کی خبر ہے کہ انتظامیہ نے فنڈز کو فی الحال روک دیا ہے اور یہ رقم اگلے امریکی صدر کے منصب سنبھالنے تک دستیاب نہیں ہوگی۔ سینیٹر ڈربن کے اس سوال پر اجلاس میں موجود عسکری قیادت نے معاملے سے لاعلمی کا اظہار کیا۔

سینیٹر ڈربن کا مزید کہنا تھا کہ اخراجات کے موجودہ منصوبے کے تحت اس رقم کے استعمال کی تیاری مالی سال 2029ء کے لیے کی جائے گی اور اس امداد کی بحالی یا منتقلی سے متعلق حتمی فیصلہ آنے والا نیا امریکی صدر ہی کرے گا۔ سینیٹ کی کمیٹی کے اس اہم اجلاس میں امریکی دفاعی حکام اور وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ بھی موجود تھے۔

اسرائیلی آبادکاروں کے زیرِ قبضہ فلسطینی علاقوں سے تمام اشیاء کی درآمدات پر پابندی کا اعلان؛ نیدرلینڈز کا 22 ستمبر سے فیصلہ نافذ کرنے کا فیصلہ

محمود احمد, JULY 22,2026

ایمسٹرڈیم (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

نیدرلینڈز کی حکومت نے باضابطہ اعلان کیا ہے کہ وہ رواں سال 22 ستمبر سے اسرائیلی آبادکاروں کے زیرِ قبضہ فلسطینی علاقوں سے ہر قسم کی سامان اور مصنوعات کی درآمد پر مکمل پابندی عائد کر دے گی۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، یورپی یونین میں شامل آئرلینڈ، بیلجیئم اور سپین کے بعد نیدرلینڈز بھی ان اہم یورپی ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جنہوں نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم غیر قانونی اسرائیلی آبادیوں سے تجارتی روابط ختم کرنے کے لیے باقاعدہ اقدامات کیے ہیں۔ غزہ پر اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور مقبوضہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد میں مسلسل اضافے کے بعد 27 رکنی یورپی یونین پر اس قسم کی سخت پابندیوں کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔

ڈچ وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ “ان اقدامات کے ذریعے نیدرلینڈز اس غیر قانونی صورتِ حال اور قبضہ داری کا حصہ نہ بننے کی اپنی بین الاقوامی اور قانونی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے عزم کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔” وزارت نے واضح کیا کہ اس نئی پابندی کا اطلاق مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم غیر قانونی اسرائیلی آبادیوں میں تیار ہونے والی تمام اشیاء کی خرید و فروخت اور درآمد پر ہو گا۔

فلسطینی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ‘گلوبل ایکو’ کے مطابق، غیر قانونی اسرائیلی آبادیوں سے کی جانے والی مجموعی زرعی برآمدات کا ایک تہائی حصہ اکیلے نیدرلینڈز کو بھیجا جاتا تھا، جبکہ کل تجارتی برآمدات کا تقریباً آدھا حصہ یورپی یونین کی مارکیٹوں میں جاتا تھا، جس پر اب شدید اثرات مرتب ہوں گے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی پر اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش کی گہری تشویش؛ فوری جنگ بندی کا مطالبہ

محمود احمد, JULY 22,2026

اقوامِ متحدہ/نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری اور مسلسل بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر تمام فوجی کارروائیاں روکنے اور سفارتی حل کی تلاش کے لیے کوششیں تیز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، اقوامِ متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے ایک پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ سیکرٹری جنرل بالخصوص ایران میں اہم شہری اور بنیادی تنصیبات پر ہونے والے حملوں پر شدید مضطرب ہیں، جن میں زیرِ تعمیر ایٹمی بجلی گھر اور سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے والے اہم پلانٹس شامل ہیں۔ ترجمان نے واضح کیا کہ خطے کے کسی بھی حصے میں بجلی گھروں اور پانی کی فراہمی جیسے عوامی منصوبوں پر حملے بالکل نا قابلِ قبول ہیں اور ان کا سلسلہ فوراً بند ہونا چاہیے۔

ترجمان کے مطابق، ہسپتالوں، پینے کے پانی کے فراہمی کے نظام اور بنیادی انسانی ضروریات کی تنصیبات کا ہر صورت تحفظ کیا جانا چاہیے۔ سیکرٹری جنرل نے جنگ میں شامل تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی انسانی قوانین اور عام شہریوں کی حفاظت کے بنیادی اصولوں کی مکمل پاسداری کریں۔

اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اس فوجی بحران کے اثرات خطے کے دیگر ممالک تک پھیل رہے ہیں، جس کی وجہ سے بین الاقوامی تجارت، انسانی امداد کی نقل و حمل، بحری جہاز رانی کے اخراجات اور ایندھن سمیت روزمرہ کی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر شدید دباؤ بڑھ رہا ہے۔

سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے ایک بار پھر واضح کیا کہ اس تنازع کا کوئی بھی ملٹری یا فوجی حل موجود نہیں ہے اور خطے میں پائیدار امن کے لیے سیاسی و سفارتی کاوشوں کو آگے بڑھانا ہی واحد راستہ ہے۔

سعودی عرب کی وزارتِ تجارت کا ‘ڈسکاؤنٹ سیزن 2026’ کا اعلان؛ یکم اگست سے 31 اکتوبر تک رعایت فراہم کی جائے گی

منصور احمد, JULY 22,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

سعودی عرب کی وزارتِ تجارت نے مملکت میں باقاعدہ ‘ڈسکاؤنٹ سیزن 2026ء’ کا اعلان کر دیا ہے جو یکم اگست سے شروع ہو کر 31 اکتوبر تک جاری رہے گا۔

سعودی ذرائع ابلاغ کے مطابق، وزارتِ تجارت نے واضح کیا ہے کہ تمام تجارتی اداروں اور دکانداروں کو سامان رعایت پر فروخت کرنے کے لیے باقاعدہ طور پر عدم اعتراض کا سرٹیفکیٹ (اجازت نامہ) حاصل کرنا لازم ہوگا۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ یہ ڈسکاؤنٹ سیزن ایک خاص بنیاد پر شروع کیا جا رہا ہے جس سے دیگر روایتی سیزن جیسے کہ رمضان المبارک اور عیدین کی سیل متاثر نہیں ہوں گی۔

وزارتِ تجارت کے مطابق تاجر اور دکاندار اپنے ادارے کے لیے مخصوص آن لائن پورٹل کے ذریعے سیلز پرمٹ آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں۔ خریداروں اور صارفین کی سہولت کے لیے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خریداری کے مقام پر موجود بارکوڈ کو اپنے موبائل سے سکین کر کے یہ تصدیق کر سکتے ہیں کہ آیا اس ادارے کے پاس باقاعدہ سرکاری اجازت نامہ موجود ہے یا نہیں، نیز سیل سے قبل اور بعد کے نرخوں کے بارے میں بھی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔

واضح رہے کہ سعودی قوانین کے تحت کوئی بھی دکاندار یا کمپنی وزارتِ تجارت کی باضابطہ منظوری کے بغیر ‘سیل’ کا اشتہار یا نوٹس نہیں لگا سکتی۔ اجازت نامے کے حصول کے لیے اشیاء کے پرانے اور نئے رعایتی نرخوں کا مکمل اندراج کروانا ضروری ہوتا ہے۔

پاکستان اور بنگلہ دیش کا دوطرفہ تعلقات اور باہمی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ؛ اسحاق ڈار کی خلیل الرحمٰن سے اہم ملاقات

محمود احمد, JULY 22,2026

منیلا/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں منعقدہ 33 ویں ‘آسیان ریجنل فورم’ (اے آر ایف) کے وزارتی اجلاس کے موقع پر بنگلہ دیش کے وزیرِ خارجہ اور اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے نومنتخب صدر خلیل الرحمٰن سے ایک اہم ملاقات کی ہے۔

ترجمان دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے ملاقات کے دوران پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں ہونے والی حالیہ مثبت پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے گزشتہ سال نائب وزیرِ اعظم کے دورۂ بنگلہ دیش کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سیاسی و سفارتی پیش رفت اور دوطرفہ تعلقات کی نئی رفتار کو سراہا اور باہمی روابط کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے دونوں برادر ممالک کے مابین بڑھتے ہوئے تجارتی و ثقافتی تعلقات، عوامی سطح پر رابطوں کی بحالی اور جاری سال کے دوران پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان براہِ راست پروازوں کے باقاعدہ آغاز کا خصوصی خیرمقدم کیا، جس سے باہمی سفر اور مواصلات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

دونوں وزرائے خارجہ نے اس مثبت پیش رفت کو آئندہ بھی جاری رکھنے پر اتفاق کیا اور باہمی دلچسپی کے علاقائی، بین الاقوامی اور سفارتی امور پر تفصیلی گفتگو کی۔

پاکستان کو موبائل فونز کی تیاری اور برآمدات کا علاقائی مرکز بنانے کی پیشکش؛ وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان کی سام سنگ کے وفد سے اہم ملاقات

کاشف عباسی , JULY 22,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان نے معروف عالمی ٹیکنالوجی کمپنی ‘سام سنگ’ کو پاکستان میں تیار ہونے والے اسمارٹ فونز کی برآمدات بڑھانے اور پاکستان کو موبائل فون سازی، مرمت و تجدید (ریفربشمنٹ) اور برآمدات کا علاقائی مرکز بنانے کی باضابطہ دعوت دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت برآمدات، صنعتی ترقی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مکمل تعاون فراہم کرے گی۔

وزارتِ تجارت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، بدھ کے روز سام سنگ پاکستان کے سربراہ نے ایک اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ وفاقی وزیرِ تجارت سے وزارتِ تجارت میں تفصیلی ملاقات کی۔ وفاقی وزیر نے سام سنگ کی انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ صرف پاکستان کی مقامی مارکیٹ تک محدود رہنے کے بجائے یہاں سے تیار کردہ موبائل فونز کو افریقی ممالک اور دیگر عالمی منڈیوں میں برآمد کر کے عالمی سپلائی چین کا حصہ بنے۔

جام کمال خان نے پاکستان میں اصل کمپنی کے زیرِ انتظام تصدیق شدہ موبائل فون مرمت و تجدید کے مراکز قائم کرنے کی تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس نظام سے معیاری اور وارنٹی والے فونز مارکیٹ میں آئیں گے، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور ٹیکنالوجی کی منتقلی ممکن ہو سکے گی۔

ملاقات کے دوران سام سنگ کے وفد نے پاکستان میں اپنی سرمایہ کاری اور مقامی پیداوار کی پیش رفت سے آگاہ کیا، جبکہ ٹیکس ڈھانچے اور استعمال شدہ موبائل فونز کی بیرونی درآمدات پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ مقامی صنعت کو تحفظ دینے کے لیے مناسب کسٹم ڈیوٹی کا فرق برقرار رکھا جائے۔

وفاقی وزیرِ تجارت نے صنعت کی جانب سے ٹیکس تحفظات کا نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی کہ کمپنی ریفربشمنٹ، برآمدات اور نئی سرمایہ کاری سے متعلق تفصیلی تجاویز پیش کرے تاکہ انہیں آئندہ موبائل فون مینوفیکچرنگ پالیسی میں شامل کیا جا سکے۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ حکومت پاکستان کو عالمی ٹیکنالوجی اداروں کے لیے ایک پرکشش اور منافع بخش مرکز بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

پاکستان میں توانائی، معدنیات، آئی ٹی اور زراعت کے شعبوں میں امریکی سرمایہ کاری کی خواہش؛ وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی واشنگٹن میں ڈی ایف سی کے حکام سے ملاقات

محمود احمد, JULY 22,2026

اسلام آباد/واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے واشنگٹن ڈی سی میں امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقیاتی مالیات (ڈی ایف سی) کے اعلیٰ سطح کے نمائندوں سے اہم ملاقات کی، جس دوران پاکستان کے توانائی، معلومات و مواصلات (آئی ٹی)، بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر)، معدنیات، خوراک اور زراعت جیسے اہم ترین ترجیحی شعبوں میں ادارے کے بھرپور تعاون اور شراکت داری کی خواہش کا اظہار کیا۔

فنانس ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، ملاقات کے دوران وزیرِ خزانہ نے کہا کہ حکومت پاکستان ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے ان تمام شعبوں کو خصوصی اہمیت دے رہی ہے۔ انہوں نے امریکی ادارے کی جانب سے بندرگاہوں، مواصلات، آئی ٹی، توانائی، معدنیات، ادویات سازی، صنعتی پیداوار اور فراہمی کا نظام (سپلائی چین) بہتر بنانے جیسے اہم شعبوں پر خصوصی توجہ دینے کے اقدام کا پرخلوص خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ امریکی ادارے کا یہ عمل حکومتِ پاکستان کی قومی ترقیاتی ترجیحات سے کامل مطابقت رکھتا ہے۔

وزیرِ خزانہ نے ڈی ایف سی کی ماہرین پر مشتمل ٹیم کو باقاعدہ دورۂ پاکستان کی دعوت دی تاکہ ملک میں فوری سرمایہ کاری کے قابل عملی منصوبوں کی نشاندہی کی جا سکے اور مقامی و بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر تجارتی بنیادوں پر کام شروع کیا جا سکے۔

ملاقات کے دوران پاکستان کے اندر امریکی ادارے ڈی ایف سی کا مستقل نمائندہ دفتر قائم کرنے کے امکانات اور مستقبل میں امریکی کانگریس کے اعلیٰ سطح کے وفود کے ساتھ دوطرفہ معاشی روابط کو مزید وسعت دینے سے متعلق اہم امور پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

پاک ایران ریلوے تعاون اور باہمی تجارت کے فروغ کا عزم؛ اسلام آباد، تہران، استنبول مال بردار ٹرین سروس کی بحالی پر تبادلۂ خیال

منصور احمد, JULY 22,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

وفاقی وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی سے ایران کے وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی نے ایک اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ اہم ملاقات کی، جس میں پاکستان میں ایران کے سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران دونوں برادر ممالک کے درمیان ریلوے تعاون، سرحد پار رابطوں اور باہمی تجارت کے فروغ پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر ‘اسلام آباد-تہران-استنبول’ مال بردار ٹرین سروس کی بحالی پر گفتگو کے ساتھ ساتھ 1959ء کے دوطرفہ ریلوے معاہدے اور 2025ء کے تعاون کے فریم ورک کے تحت تکنیکی و تجارتی روابط کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

وفاقی وزیرِ ریلوے حنیف عباسی نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ‘مین لائن تھری’ پاکستان اور ایران کے درمیان ریلوے رابطے کا بنیادی کوریڈور ہے۔ اس اہم ریلوے لائن کی اپ گریڈیشن کا کام اسی مالی سال کے دوران شروع ہونے کی توقع ہے جو دسمبر 2029ء تک مکمل ہوگا، جس سے علاقائی تجارت کو غیر معمولی فروغ حاصل ہوگا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایرانی ریلوے کی درخواست پر تفتان ریلوے اسٹیشن کو باقاعدہ طور پر ‘کسٹمز کلیئرنس اسٹیشن’ کا درجہ دے دیا گیا ہے تاکہ سرحد پار مال برداری کا عمل آسان بنایا جا سکے۔

حنیف عباسی نے زاہدان سے تفتان کے ریلوے سیکشن کی بحالی پر ایرانی اقدامات کو سراہا اور حالیہ چیلنجز کے دوران ایرانی قوم اور قیادت کی استقامت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

ایرانی وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی نے گرمجوش میزبانی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاک ایران تعلقات تاریخی، مضبوط اور انتہائی گہرے ہیں جو گزشتہ دو سالوں میں مثالی سطح تک پہنچے ہیں۔ انہوں نے حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان کی غیر متزلزل حمایت، بالخصوص وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی مؤثر سفارتی کاوشوں اور مخلصانہ کوششوں کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ ایرانی وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ مشکل وقت میں پاکستان کے اس برادرانہ اور مخلصانہ کردار کو ایرانی قوم ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھے گی اور یاد رکھے گی۔

پاکستان کی پہلی قومی ویکسین پالیسی تیار؛ پاک چین ہیلتھ کانفرنس میں ایک ارب 40 کروڑ ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کے معاہدے طے پا گئے

منصور احمد, JULY 22,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

وفاقی وزیرِ قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاک چین بزنس ٹو بزنس فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر انویسٹمنٹ کانفرنس میں فارماسیوٹیکل سیکٹر کے چھ اہم ذیلی شعبوں پر خصوصی توجہ دی گئی، جس کا بنیادی مقصد پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی صنعت کو فروغ دینا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے انکشاف کیا کہ پاکستان میں اس وقت استعمال ہونے والی تمام 13 بنیادی ویکسینز مکمل طور پر بیرونِ ملک سے درآمد کی جاتی ہیں، تاہم موجودہ حکومت نے ملک کی تاریخ کی پہلی ‘قومی ویکسین پالیسی’ تیار کر لی ہے، جو جلد ہی مقامی سطح پر ویکسینز کی تیاری اور پیداوار کی راہ ہموار کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان اپنی ضرورت کی 85 فیصد ادویات خود تیار کرتا ہے، تاہم ان ادویات کی تیاری میں استعمال ہونے والا 95 فیصد خام مال باہر سے منگوانا پڑتا ہے۔

مصطفیٰ کمال نے دو روزہ پاک چین کانفرنس کے کامیابی سے انعقاد کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وزارتِ صحت کی ٹیم نے پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان مؤثر روابط قائم کروائے، جس کے نتیجے میں کانفرنس میں 240 وفود اور 140 چینی کمپنیوں نے شرکت کی اور 340 دوطرفہ کاروباری ملاقاتیں ہوئیں۔ اس موقع پر 22 کمپنیوں نے 629.5 ملین امریکی ڈالر مالیت کے حتمی تجارتی معاہدوں پر دستخط کیے، جبکہ 800 ملین امریکی ڈالر مالیت کی مفاہمتی یادداشتوں پر بھی دستخط ہوئے۔ وزیرِ اعظم کی موجودگی میں 9 اہم ترین معاہدوں پر باقاعدہ دستخط کروائے گئے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی آبادی 26 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے اور ہر سال ملک میں نیوزی لینڈ کی کل آبادی کے برابر نئے افراد کا اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث صحت کا شعبہ مستقل ترقی پذیر ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان اس وقت دنیا کے 52 ممالک کو ادویات برآمد کر رہا ہے۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ) میں اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیکل ڈیوائسز کی رجسٹریشن کا عمل ڈیجیٹل کر دیا گیا ہے اور آئندہ ایک سال کے اندر ڈریپ کے پورے نظام کو 100 فیصد ڈیجیٹلائز کر دیا جائے گا۔

پاکستان کا شام میں شامی قیادت میں عبوری انصاف اور قومی مفاہمت کی حمایت کا اعادہ

محمود احمد, JULY 22,2026

اقوامِ متحدہ/نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

پاکستان نے شام میں عبوری انصاف کے لیے شامی قیادت اور شامی ملکیت پر مبنی عمل کی بھرپور حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ قومی ملکیت، مفاہمت اور جامع ادارے ہی شام میں پائیدار امن و استحکام کے قیام کی اصل بنیاد ہیں۔

شام میں عبوری انصاف اور لاپتا افراد سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے شامی حکومت کی جانب سے عبوری انصاف اور لاپتا افراد سے متعلق قومی کمیشنوں کے قیام اور عبوری انصاف سے متعلق مجوزہ قانون کی تیاری جیسے مثبت اقدامات کا خیرمقدم کیا۔

پاکستان کے مستقل مندوب نے اس بات پر زور دیا کہ شامی قومی اداروں اور متعلقہ بین الاقوامی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون، شامی قیادت میں جاری کوششوں کا مددگار ہونا چاہیے، جبکہ شام کی خودمختاری اور قومی ملکیت کا مکمل احترام بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عبوری انصاف قومی مفاہمت کے فروغ، باہمی اعتماد کی بحالی، سماجی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے اور متاثرین اور ان کے اہلِ خانہ کی جائز توقعات پوری کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے شام کے لیے پاکستان کی مستقل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو شامی حکومت اور عوام کی دیرپا امن، استحکام، قومی مفاہمت اور تعمیرِ نو کی کوششوں میں بھرپور معاونت فراہم کرنی چاہیے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان ایک پرامن اور خوشحال مستقبل کے حصول کے لیے شام کی حکومت اور عوام کے ساتھ اپنی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔

تجارتی سرگرمیوں میں تاریخی اضافے کے بعد پورٹس پر رش کم کرنے کے لیے پاکستان کسٹمز کے تاریخی اقدامات؛ کراچی ٹرمینلز پر کام تیز

محمود احمد, JULY 21,2026

اسلام آباد — 21 جولائی 2026ء

پاکستان کسٹمز نے کراچی کے دونوں بڑے کنٹینر ٹرمینلز پر تجارتی رش اور ازدحام کو واضح طور پر کم کرنے اور پورٹ آپریشنز کو تیز تر بنانے کے لیے کئی فیصلہ کن اور تاریخی اقدامات کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

کسٹمز حکام کے مطابق، جولائی کے دوران عالمی معاشی صورتحال میں بہتری اور خلیج فارس میں سیکیورٹی کشیدگی میں کمی کے باعث پاکستان کی بحری تجارت میں غیر معمولی اور ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، یکم جولائی سے 25 جولائی کے دوران دونوں بڑے ٹرمینلز پر مجموعی طور پر 56 بحری جہازوں نے لنگرانداز کیا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے 49 جہازوں کے مقابلے میں 14.3 فیصد زیادہ ہے۔ صرف جنوبی ایشیا ٹرمینل پر کنٹینرز کی نقل و حرکت 12 فیصد اضافے کے ساتھ 52 ہزار سے زائد کنٹینرز تک جا پہنچی ہے۔

اس تجارتی دباؤ سے نمٹنے کے لیے پاکستان کسٹمز نے اپنے سامان کی تلاشی اور کلیرنس کے آپریشنز کی رفتار میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ جولائی میں معائنہ شدہ سامان کی تعداد 4,298 تک پہنچ گئی جو گزشتہ سال 4,007 تھی۔ اس کے علاوہ معائنے کے لیے نشان زد نئے شعبوں اور کوڈز میں تقریباً 20 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو تجارتی حجم کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔

پاکستان کسٹمز کے اعلیٰ حکام نے بتایا کہ تمام پورٹس پر عملے کی حاضری سو فیصد یقینی بنائی گئی ہے اور سامان کی بروقت کلیرنس کے لیے تمام پورٹس پر اتوار کو بھی باقاعدگی سے کام جاری رکھا جا رہا ہے۔ کسٹمز حکام روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ رواں ہفتے کے اختتام تک تمام رش کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔

بحری ٹاسک فورس کے تحت پاکستان کسٹمز نے پورٹ پر برسوں سے پھنسے 2,000 سے زائد طویل المدتی کنٹینرز کو پورٹ سے باہر نجی گوداموں میں منتقل کر دیا ہے جس سے ٹرمینلز پر وسیع جگہ خالی ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ تمام پورٹس پر جدید سکینرز کی تنصیب کی گئی ہے جس سے بغیر کسی جسمانی مداخلت اور رکاوٹ کے تیز ترین جائزہ ممکن ہو رہا ہے۔ بلا تاخیر جائزے کے جدید نظام نے پورٹ پر سامان کی کلیرنس کا وقت اور تاجروں کے لیے کاروبار کی لاگت کو نمایاں حد تک کم کر دیا ہے۔ کسٹمز حکام ‘تنگنائے ہرمز’ کی تازہ ترین بحری صورتحال پر بھی مسلسل کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوراً نمٹا جا سکے۔