جامعہ ہری پور میں مشترکہ شجرکاری مہم کا پروقار افتتاح؛ سرسبز اور صحت مند پاکستان کے عزم کا اعادہ

روزینہ اسماعیل, JULY 27,2026

ہری پور (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

محکمہ جنگلات خیبر پختونخوا، آر ای سی پی پاکستان اور یونیورسٹی آف ہری پور کے شعبہ ماحولیاتی سائنسز کے باہمی اشتراک سے پیر کے روز یونیورسٹی آف ہری پور میں ایک پروقار شجرکاری مہم کی افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس ماحول دوست پیش رفت کا بنیادی مقصد اجتماعی اور ہم آہنگ کوششوں، ماحولیاتی آگاهی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت کو بیدار کر کے سرسبز و شاداب مستقبل کی بنیا د رکھنا ہے۔ ترجمان یونیورسٹی کے مطابق تقریب سے ڈویژنل فارسٹ آفیسر ہری پور عقیل عباسی، انسپکٹر جنرل آف فارسٹس سید محمود ناصر اور سی ای او آر ای سی پی پاکستان ڈاکٹر ارشاد رامی نے خطاب کیا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عابد فرید نے اپنے کلیدی خطاب میں پائیدار ماحولیاتی توازن کے لیے درختوں کی افادیت پر زور دیتے ہوئے تینوں اداروں کے مشترکہ جذبے کو سراہا۔ تقریب کے اختتام پر معزز مہمانوں کو معلوماتی و انتظامی خدمات کے اعتراف میں شیلڈز پیش کی گئیں، جس کے بعد کیمپس میں یادگاری پودے لگائے گئے اور یادگاری گروپ فوٹو لی گئی۔

کیپٹن محمد سرور شہید (نشانِ حیدر) کے 78ویں یومِ شہادت کے موقع پر ملک بھر میں قرآن خوانی اور خراجِ عقیدت

کاشف عباسی , JULY 27,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

نشانِ حیدر حاصل کرنے والے ارضِ پاک کے پہلے شجاع سپوت، کیپٹن محمد سرور شہید کے 78ویں یومِ شہادت کی مناسبت سے ملک بھر کی مساجد میں قرآن خوانی کی محافل کا انعقاد کیا گیا، جن میں علماء کرام اور جلیل القدر مذہبی رہنماؤں نے شہدائے پاکستان کو زبردست الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ علماء کرام نے مختلف اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دفاعِ وطن کی خاطر جان کی قربانی دینے والے شہداء ہمارا حقیقی سرمایہ اور قوم کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ کیپٹن محمد سرور شہید جیسے قومی ہیروز کی لازوال خدمات اور جرات و بسالت کو اجاگر کرنا نئی نسل میں حب الوطنی، یکجہتی اور قومی ذمہ داری کے شعور کو بیدار کرنے کا باعث بنتا ہے۔ علماء نے واضح کیا کہ کیپٹن محمد سرور شہید کی تاریخی قربانی آج بھی جرات، وفاداری اور وطن عزیز سے بے لوث محبت کی روشن ترین علامت ہے۔

بشام خود کش حملہ کیس: 49 ملزمان کی ضمانت منسوخی درخواست کی سماعت 20 اگست تک ملتوی

منصور احمد, JULY 27,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 26 جولائی 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے بشام خود کش حملہ کیس میں نامزد 49 ملزمان کی ضمانت منسوخی کے حوالے سے دائر سرکاری اپیل کی سماعت 20 اگست تک ملتوی کر دی ہے۔ کیس کی سماعت جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں قائم دو رکنی بینچ نے کی۔ دورانِ سماعت عدالت عالیہ نے ملزمان کے ٹرائل کورٹ میں پیش ہونے اور وکیل کی عدم موجودگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ جب ایک شریک ملزم نے غریبی اور ریڑھی لگانے کا عذر پیش کرتے ہوئے وکیل کی عدم استطاعت کا بتایا تو جسٹس نعیم اختر افغان نے برہمی ظاہر کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ملزمان پر دہشت گردی اور سہولت کاری جیسے انتہائی سنگین الزامات عائد ہیں، جن میں سے ملزم نذیر کا سم کارڈ براہ راست خودکش حملہ آور کے زیرِ استعمال پایا گیا ہے۔ عدالت نے تمام ملزمان کو اگلی سماعت پر لازمی وکیل کے ساتھ پیش ہونے کا حتمی حکم دیا اور خبردار کیا کہ عدم تعمیل کی صورت میں ان کی ضمانتیں فوری منسوخ کر دی جائیں گی۔ یاد رہے کہ 26 مارچ 2024ء کو بشام میں ہونے والے خودکش حملے میں 5 چینی انجینئرز سمیت 6 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

واپڈا کی جانب سے دریاؤں، بیراجوں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کی تفصیلات جاری

کاشف عباسی , JULY 26,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 26 جولائی 2026ء

واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے ملک بھر کے دریاؤں، بیراجوں اور اہم آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کے روزانہ کی بنیاد پر تازہ اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر پانی کی آمد 2 لاکھ 87 ہزار 900 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 9 ہزار 100 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ بیراجوں کی صورتحال بتاتے ہوئے ترجمان نے بتایا کہ جناح بیراج پر آمد 3 لاکھ 38 ہزار 300 کیوسک، چشمہ بیراج پر آمد 3 لاکھ 52 ہزار 200 کیوسک، اور تونسہ بیراج پر 3 لاکھ 13 ہزار 500 کیوسک آمد ریکارڈ کی گئی، جبکہ گدو بیراج میں آمد 2 لاکھ 17 ہزار کیوسک اور سکھر بیراج پر 1 لاکھ 26 ہزار 400 کیوسک درج کی گئی۔ آبی ذخائر کے اعداد و شمار کے مطابق تربیلا ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح 1528.11 فٹ تک پہنچ گئی ہے جہاں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 4.354 ملین ایکڑ فٹ ہو چکا ہے، جبکہ منگلا ڈیم میں پانی کی سطح 1188.35 فٹ کے ساتھ ذخیرہ 3.542 ملین ایکڑ فٹ اور چشمہ بیراج میں 0.132 ملین ایکڑ فٹ قابلِ استعمال پانی موجود ہے۔

مون سون بارشوں سے ملک بھر میں سیلاب کا خطرہ شدید، این ڈی ایم اے کا فلیش فلڈنگ اور اربن فلڈنگ کا بڑا الرٹ جاری

روزینہ اسماعیل, JULY 25,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 جولائی 2026ء

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے مسلسل مون سون بارشوں کے باعث ملک کے مختلف حصوں میں سیلاب اور طغیانی کے شدید خطرات کا انتباہ جاری کیا ہے۔ نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سنٹر کے مطابق دریائے چناب کے مختلف مقامات بشمول خانکی، قادر آباد اور چنیوٹ پل پر درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران مرالہ، خانکی اور ترمو بیراج میں پانی کے بہاؤ میں مزید اضافے کی توقع ہے۔ اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ اگلے 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی نالوں، خیبر پختونخوا کے موسمی ندی نالوں اور شمالی بلوچستان میں شدید فلیش فلڈنگ (اچانک سیلاب) کا خطرہ ہے، جبکہ گوجرانوالہ، سیالکوٹ، نارووال، منڈی بہاؤالدین، فیصل آباد، سرگودھا، جھنگ، حافظ آباد، ملتان اور لاہور میں اربن فلڈنگ (شہری سیلاب) کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ این ڈی ایم اے نے مسافروں اور شہریوں کو سیلابی علاقوں اور پہاڑی راستوں پر غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، ندی نالوں کو عبور نہ کرنے اور لینڈ سلائیڈنگ والے حصوں سے دور رہنے کی اپیل کی ہے، جبکہ تمام ضلعی انتظامیہ اور ایمرجنسی ٹیموں کو ہائی الرٹ پر رہنے کی ہدایت دی ہے۔

ایف آئی اے کا ایجنٹ مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن جاری، لاہور میں 7 ایجنٹ گرفتار

منصور احمد, JULY 25,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 جولائی 2026ء

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) اینٹی کرپشن سرکل لاہور نے ایجنٹ مافیا کے خلاف کارروائیاں تیز کرتے ہوئے انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیشن (آئی بی سی سی) کے لاہور آفس کے باہر چھاپہ مار کر 7 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے لاہور زون کے مطابق گرفتار کیے گئے ملزمان میں وسیم سلیم، عدنان سلیم، عاصم سلیم، عبدالوحید، ندیم کلیم، عمار علی بھٹی اور بلال سعید شامل ہیں، جن کا تعلق لاہور کے مختلف علاقوں سے ہے۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ ملزمان شہریوں اور طلباء کو آئی بی سی سی کے ذریعے تعلیمی اسناد کی فوری تصدیق کروانے کا جھانسہ دے کر غیر قانونی طور پر اضافی اور من مانی رقم وصول کر رہے تھے۔ چھاپے کے دوران ایف آئی اے ٹیم نے ملزمان کے قبضے سے متعدد طلباء کی تعلیمی اسناد، لیپ ٹاپس اور اہم شواہد برآمد کر لیے ہیں۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق تمام گرفتار ملزمان کے خلاف کیس درج کر کے مزید تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ اس نیٹ ورک کے دیگر سہولت کاروں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

واپڈا نے ملک کے دریاؤں اور آبی ذخیروں میں پانی کی آمد و اخراج کی تازہ ترین رپورٹ جاری کر دی

کاشف عباسی , JULY 25,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 جولائی 2026ء

پاکستان واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے ملک کے مختلف دریاؤں، بیراجوں اور آبی ذخیروں میں پانی کی آمد، اخراج اور زِیرِ ذخیرہ حجم کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر پانی کی آمد 3 لاکھ 21 ہزار 100 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 42 ہزار 300 کیوسک ہے، جبکہ نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل اور خیرآباد پل پر بہاؤ معقول سطح پر برقرار ہے۔ دیگر اہم بیراجوں پر صورتحال کے مطابق جناح بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 33 ہزار 800 کیوسک اور اخراج 3 لاکھ 25 ہزار 500 کیوسک، چشمہ بیراج پر آمد 3 لاکھ 27 ہزار 700 کیوسک، اور تونسہ بیراج کے مقام پر آمد 3 لاکھ 13 ہزار 300 کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے۔ جنوبی اضلاع اور سندھ کے بیراجوں پر گدو بیراج میں پانی کی آمد ایک لاکھ 72 ہزار 700 کیوسک اور سکھر بیراج میں آمد ایک لاکھ 20 ہزار 100 کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے۔ ڈیموں کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو تربیلا ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح 1525.11 فٹ ہو چکی ہے جس میں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 4.199 ملین ایکڑ فٹ ہے، جبکہ منگلا ڈیم میں پانی کی سطح 1186.95 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے جہاں 3.465 ملین ایکڑ فٹ قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ موجود ہے۔

عمران خان پر عائد نشے کے تمام الزامات بے بنیاد ثابت ہوئے، وہ جیل میں تہجد اور تلاوت میں وقت گزارتے ہیں؛ شیر افضل مروت کا پوڈکاسٹ میں انکشاف

کاشف عباسی , JULY 24,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 24 جولائی 2026ء

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شیر افضل خان مروت نے انکشاف کیا ہے کہ عمران خان کے متعلق منفی تاثر قائم کرنے کے لیے انہیں ہمیشہ مذہب سے دور، ‘پلے بوائے’ اور نشئی کے طور پر پیش کیا گیا، لیکن جیل میں ان سے ملاقاتوں اور قیدیوں کے بیانات نے اس پروپیگنڈے کا پول کھول دیا۔ ایک نجی پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے بتایا کہ 2022ء میں جب اسلام آباد میں ان کی قانونی پریکٹس عروج پر تھی، تو عمران خان نے انہیں بنی گالہ بلا کر فوجداری کیسز کی ذمہ داری سونپی، جس کے بعد وہ ان کے معتمدِ خاص بن گئے۔ انہوں نے کہا کہ جب اٹک جیل میں پہلی بار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے سب سے پہلے جائے نماز اور قرآن پاک فراہم کرنے کی درخواست کی، جبکہ جیل کے قیدی بتاتے تھے کہ عمران خان اپنا زیادہ تر وقت تہجد کی نماز اور قرآن پاک کی تلاوت میں گزارتے ہیں۔ شیر افضل مروت کا مزید کہنا تھا کہ مخالفین کو توقع تھی کہ جیل میں عمران خان کوکین یا نشہ نہ ملنے پر چیخ و پکار کریں گے، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان پر عائد تمام الزامات سراسر بے بنیاد تھے۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی کرغزستان میں چینی ہم منصب وانگ ای سے اہم ملاقات؛ دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تفصیلی گفتگو

محمود احمد, JULY 24,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 24 جولائی 2026ء

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کرغزستان کے شہر چولپون آتا میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کے موقع پر چین کے وزیر خارجہ وانگ ای سے ایک اہم اور پرتوپاک ملاقات کی ہے۔ دفترِ خارجہ کے مطابق دونوں رہنمائوں نے پاک-چین دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور کثیرالجہتی فورمز میں باہمی تعاون سے متعلق تمام اہم امور پر نہایت خوشگوار اور نتیجہ خیز تبادلہ خیال کیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے چینی وزیر خارجہ وانگ ای کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے شنگھائی تعاون تنظیم کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس سے اپنے خطاب میں علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششوں کو کھل کر سراہا۔ اس موقع پر چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے شنگھائی تعاون تنظیم کی کونسل آف ہیڈز آف سٹیٹ کی آئندہ چیئرمین شپ سنبھالنے اور 2027ء میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کی میزبانی کے لیے پاکستان کی قیادت کے لیے نیک تمنائوں کا اظہار کیا۔

نیب مقدمات میں دوسری اپیل اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو حاصل ہے؛ سپریم کورٹ کا 30 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری

منصور احمد, JULY 24,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 24 جولائی 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے قومی احتساب بیورو (نیب) مقدمات میں اپیلی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب (ترمیمی) ایکٹ 2026ء اور آئین میں ستائیسویں ترمیم کے بعد نیب مقدمات میں دوسری اپیل، ضمانت، سزا معطلی اور دیگر تمام متعلقہ درخواستوں کی سماعت کا اختیار اب صرف وفاقی آئینی عدالت (ایف سی سی) کو حاصل ہے، جبکہ سپریم کورٹ اب ایسے معاملات میں اپیلی فورم نہیں رہی۔ جسٹس محمد علی مظہر نے جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن کے ہمراہ 30 صفحات پر مشتمل یہ تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں عدالت نے واضح کیا کہ آئین کے آرٹیکل 175 ایف اور نیب آرڈیننس کے نئے سیکشن 32 اے کو یکجا پڑھنے سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ قانون ساز نے احتساب مقدمات کے لیے وفاقی آئینی عدالت کو ہی اپیلی فورم مقرر کیا ہے۔ فیصلے میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ ضمانت، سزا معطلی اور دیگر عبوری درخواستیں مرکزی اپیل سے منسلک ضمنی اختیارات کا حصہ ہوتی ہیں، لہٰذا جب بنیادی اپیل کا اختیار منتقل ہو چکا ہے تو سپریم کورٹ ان ضمنی معاملات میں بھی مداخلت کا اختیار نہیں رکھتی۔ عدالت نے قرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل 175 کے تحت کوئی بھی عدالت صرف وہی اختیار استعمال کر سکتی ہے جو قانون اسے عطا کرے، اور نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اے کے تحت دوسری اپیل کا حق ایک مستقل قانونی حق ہے جسے براہ راست وفاقی آئینی عدالت میں استعمال کیا جائے گا۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ قانون ایک ہی وقت میں متوازی اپیلی فورمز کی اجازت نہیں دیتا اور “فورم شاپنگ” کی حوصلہ شکنی کرتا ہے، اس لیے یہ ممکن نہیں کہ ضمانت کی درخواستیں سپریم کورٹ سنے اور مرکزی اپیل وفاقی آئینی عدالت میں چلی جائے۔ سپریم کورٹ نے اپنے اس فیصلے میں ہدایت کی کہ نیب مقدمات سے متعلق تمام زیر التواء اپیلیں، ضمانت کی درخواستیں اور دیگر کارروائیاں فوری طور پر وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کی جائیں تاکہ انہیں قانون کے مطابق وہاں نمٹایا جا سکے۔

انڈس راس ایکسپو 2026ء انتہائی کامیاب رہی؛ عالمی مسابقت کے لیے روایتی صنعتوں کو مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس سے ہم آہنگ کرنا ہوگا، وفاقی وزیرِ آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ

محمود احمد, JULY 24,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 24 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ عالمی معیشت میں اپنی جگہ برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کو روایتی صنعتوں کو جدید آٹومیشن، مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظاموں سے آراستہ کرنا ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے راس (روبوٹکس اور خودمختار نظاموں) ایکسپو 2026ء کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ انڈس راس ایکسپو 2026ء انتہائی کامیاب رہی، جس میں 20 ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی۔ ایکسپو میں اوپن انویٹیشن کے ذریعے موصول ہونے والی 500 سے زائد درخواستوں میں سے 54 کمپنیوں اور 10 اسٹارٹ اپس کو اپنی جدید مصنوعات اور ٹیکنالوجی پیش کرنے کا موقع فراہم کیا گیا۔

شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ دنیا صنعتی معیشت سے نالج اکانومی کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ معیشت کی مضبوطی کے لیے صرف ٹیکسوں میں کمی یا سستی بجلی کافی نہیں ہوگی، بلکہ قومی صنعت کو جدید آٹومیشن اپنائی ہوگی۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر ملک بھر میں روڈ شوز منعقد کیے جائیں گے تاکہ صنعتکاروں کو جدید ٹیکنالوجی کی افادیت سے آگاہ کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ حکومت ایسے خصوصی سمولیٹرز بھی تیار کرے گی جہاں صنعتکار اپنی پیداواری لائنوں میں آٹومیشن کے اثرات کا عملی جائزہ لے سکیں گے۔

وفاقی وزیر نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ آٹومیشن سے روزگار کے مواقع ختم ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کے انضمام سے صرف ملازمتوں کی نوعیت تبدیل ہوگی اور مستقبل میں مصنوعی ذہانت، پروگرامنگ اور الیکٹریکل انجینئرنگ میں مہارت رکھنے والے افراد کامیاب ہوں گے۔

دو روزہ ایکسپو کے دوران روبوٹکس، دفاعی ٹیکنالوجی، صنعتی آٹومیشن اور پالیسی ڈائیلاگز پر مبنی متعدد سیمینارز اور تربیتی سیشنز بھی منعقد کیے گئے۔

منی لانڈرنگ ملکی معیشت کے لیے سنگین خطرہ ہے، انسدادِ بدعنوانی ایکٹ 2010ء پر سختی سے عمل درآمد ناگزیر؛ چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد

محمود احمد, JULY 23,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 23 جولائی 2026ء

چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے کہا ہے کہ منی لانڈرنگ ملکی معیشت کے استحکام، شفافیت اور عوامی جوابدہی کے نظام کے لیے ایک سنگین اور بڑا خطرہ ہے۔ اس سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان قریبی تعاون اور انسدادِ منی لانڈرنگ ایکٹ 2010ء پر سختی سے عمل درآمد وقت کی اہم ضرورت ہے۔

وہ پاکستان اینٹی کرپشن اکیڈمی کے زیرِ اہتمام اسلام آباد کی ضلعی عدلیہ کے ججوں کے لیے منی لانڈرنگ کے مقدمات کی تفتیش، قانونی چارہ جوئی اور عالمی فریم ورک کے موضوع پر منعقدہ چوتھی ایک روزہ تعارفی نشست سے بطورِ مہمانِ گرامی خطاب کر رہے تھے۔

چیئرمین نیب نے واضح کیا کہ ان معلوماتی و تعارفی نشستوں کا بنیادی مقصد پاکستان کے انسدادِ منی لانڈرنگ فریم ورک سے متعلق آگاہی میں اضافہ کرنا اور عدلیہ، تفتیشی اداروں، پراسیکیوٹرز اور مالیاتی و ریگولیٹری اداروں کے درمیان باہمی تعاون کے رشتے کو مزید مضبوط و فعال بنانا ہے۔

اختتامی تقریب میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے فاضل جج، جسٹس محمد اعظم خان نے بطورِ مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ انہوں نے اس اہم اور بروقت تعارفی نشست کے انعقاد پر نیب اور پاکا کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پیچیدہ مالیاتی شواہد اور فارنزک جائزوں کا موثر احاطہ کرنے اور قانون کی حکمرانی کو قائم رکھنے میں عدلیہ کا کردار انتہائی کلیدی نوعیت کا حامل ہے۔

تقریب سے ڈپٹی چیئرمین نیب ناصر سہیل، ڈائریکٹر جنرل نیب محمد طاہر اور نور السحر نے بھی خطاب کیا جبکہ ڈائریکٹر جنرل پاکا غلام صفدر شاہ نے خیرمقدمی کلمات پیش کرتے ہوئے پاکا کو انسدادِ بدعنوانی کے شعبے کا ایک بہترین سینٹر آف ایکسی لینس قرار دیا۔ تقریب کے اختتام پر شریک ججوں میں اسناد تقسیم کی گئیں اور مہمانوں کو یادگاری شیلڈز پیش کی گئیں۔

راول ڈیم کو آلودگی سے بچانے کے لیے ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ نصب کیا جا رہا ہے؛ چیف آفیسر ایم سی آئی ڈاکٹر انعم کی شہریوں سے نالوں میں کچرا نہ پھینکنے کی اپیل، پریس ریلیز

منصور احمد, JULY 22,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

چیئرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام آباد کی خصوصی ہدایات پر کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد (ایم سی آئی) نے معروف ادارے ‘جاز ورلڈ’ کے اشتراک سے راول ڈیم میں ایک کامیاب صفائی مہم کا انعقاد کیا۔

اس خصوصی صفائی مہم کا بنیادی مقصد ماحول کے تحفظ کو یقینی بنانا اور شہریوں میں صفائی ستھرائی سے متعلق شعور اجاگر کرنا تھا۔ مہم کی قیادت چیف آفیسر ایم سی آئی ڈاکٹر انعم نے کی، جبکہ جاز ورلڈ کے نمائندوں، سی ڈی اے، ایم سی آئی، مختلف غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز)، تعلیمی اداروں کے طلبہ اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے 200 سے زائد رضاکاروں نے اس میں بھرپور حصہ لیا۔ آپریشن کے دوران رضاکاروں نے 80 سے زائد تھیلے کوڑا کرکٹ جمع کر کے راول ڈیم کے اطراف سے تقریباً 2 ٹن ٹھوس کچرا ہٹایا۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چیف آفیسر ایم سی آئی ڈاکٹر انعم نے کہا کہ ماحول کا تحفظ اور کچرے کی ذمہ دارانہ تلفی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سی ڈی اے اور ایم سی آئی، حکومتِ پنجاب اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر راول ڈیم کو آلودگی سے پاک رکھنے کے لیے جامع اقدامات کر رہے ہیں، جن میں آلودہ پانی کو ڈیم میں گرنے سے روکنے کے لیے ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ (ایس ٹی پی) کی تنصیب بھی شامل ہے۔

انہوں نے بالخصوص بھارہ کہو اور مری کی جانب سے آنے والے نالوں کے قریب رہنے والے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ نالوں میں کچرا پھینکنے سے مکمل گریز کریں، کیونکہ یہ نالے ڈیم کی آلودگی کا بڑا ذریعہ بن رہے ہیں۔ تقریب کے اختتام پر جاز ورلڈ اور تمام رضاکاروں کا شکریہ ادا کیا گیا اور اسلام آباد کو مزید صاف اور سرسبز بنانے کے لیے نجی و سرکاری شراکت داری کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

پاسپورٹ کی فوری تیاری کے نام پر شہریوں کو لوٹنے والا ایجنٹ مافیا اور نیٹ ورک بے نقاب؛ ایف آئی اے کی جی ٹین پاسپورٹ آفس کے باہر کارروائی

منصور احمد, JULY 22,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے جی ٹین پاسپورٹ آفس کے باہر ایجنٹ مافیا کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے ایمرجنسی اور ترجیحی بنیادوں پر پاسپورٹ کی سہولت کے نام پر شہریوں کو لوٹنے والے منظم نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا ہے۔

ترجمان کے مطابق مصدقہ اطلاعات اور مجاز حکام کی منظوری کے بعد پاسپورٹ آفس کے باہر کارروائی کی گئی، جس کے دوران مرکزی ملزم محمد مزمل کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا۔ ابتدائی تفتیش سے انکشاف ہوا کہ ملزم خاص طور پر خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو اسلام آباد کے جعلی رہائشی پتے دکھا کر ترجیحی بنیادوں پر پاسپورٹ بنوانے کے عوض فی کیس 20 ہزار روپے وصول کرتا تھا۔

گرفتار ملزم کی نشان دہی پر دو مزید سہولت کاروں نصیر احمد اور محمد تصور کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔ گرفتار ملزمان کے موبائل فونز کے جائزے سے ثابت ہوا کہ ملزم نصیر احمد آن لائن پیغامات کے ذریعے شہریوں کے ٹوکن نمبرز پاسپورٹ آفس کے ایک اہلکار رضا کو بھجواتا تھا جو جواب میں خصوصی نمبرز فراہم کر کے ترجیحی کلیرنس ممکن بناتا تھا۔ تفتیش میں سامنے آیا کہ پاسپورٹ اہلکار رضا فی کیس بھاری رقوم آن لائن رقم کی منتقلی کے ذریعے حاصل کرتا رہا، جس سے اس کا مجرمانہ نیٹ ورک سے براہِ راست تعلق ثابت کرنے والے واضح ثبوت قائم ہو چکے ہیں۔

ایف آئی اے نے ملزمان کے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت مقدمہ درج کر کے انہیں عدالت میں پیش کیا، جہاں سے مزید تفتیش کے لیے ملزمان کا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا گیا ہے۔ پاسپورٹ آفس کے ملوث اہلکار اور دیگر افراد کا حتمی کردار تفتیش کے دوران متعین کیا جائے گا۔

ایف آئی اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی سرکاری خدمت کے حصول کے لیے ایجنٹوں سے رابطہ کرنے کے بجائے متعلقہ ادارے سے براہِ راست رجوع کریں اور ایسی کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر ادارے کو فراہم کریں۔

دریائے چناب اور جہلم میں اونچے درجے کے سیلاب کا امکان؛ شمالی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ جبکہ بڑے شہروں میں اربن فلڈنگ کا شدید خطرہ، تمام امدادی ادارے ہائی الرٹ

منصور احمد, JULY 21,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ملک بھر میں مون سون کے شدید اسپیل کے پیشِ نظر 24 جولائی تک سیلابی صورتِ حال، طغیانی اور لینڈ سلائیڈنگ کا ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ این ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق، شمالی علاقوں کے ندی نالوں میں طغیانی، پہاڑی شاہراہوں پر لینڈ سلائیڈنگ، پنجاب کے دریاؤں میں اونچے درجے کے سیلاب اور بڑے شہروں میں اربن فلڈنگ کا شدید خطرہ موجود ہے۔

این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ الرٹ کے مطابق، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا کے دریاؤں اور مقامی ندی نالوں میں طغیانی کے علاوہ اچانک سیلابی ریلوں کا شدید خدشہ ہے۔ 21 سے 23 جولائی کے دوران چترال، ہنزہ، نگر اور اسکردو روڈ سمیت شمالی علاقوں کی اہم ترین اور تزویراتی شاہراہوں پر لینڈ سلائیڈنگ اور پہاڑوں سے پتھر گرنے کے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں، جس سے مواصلاتی نظام متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔

آبی صورتِ حال کی تفصیلات بتاتے ہوئے این ڈی ایم اے نے انتباہ کیا ہے کہ دریائے چناب اور دریائے جہلم میں اونچے درجے کے سیلاب کا امکان ہے، جبکہ بھارت کے ڈیموں سے اضافی پانی چھوڑے جانے کے پیشِ نظر دریائے راوی اور دریائے ستلج میں بھی پانی کے بہاؤ میں غیر معمولی اضافہ ہو سکتا ہے۔ مزید برآں، راولپنڈی، لاہور، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ سمیت پنجاب کے اہم بڑے شہروں میں اربن فلڈنگ کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ ڈیرہ غازی خان اور بلوچستان کے برساتی نالوں میں بھی طغیانی کا شدید اندیشہ ہے۔

این ڈی ایم اے نے کسی بھی ناگہانی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے ملک بھر کی تمام ضلعی انتظامیہ، ریسکیو اداروں اور متعلقہ شعبوں کو ہمہ وقت ہائی الرٹ رہنے کی سخت ہدایت کی ہے اور شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور ندی نالوں کے قریب جانے میں احتیاط برتیں۔

سنگین مقدمات کی تفتیش اور اشتہاری مجرمان کے خلاف بلاامتیاز کارروائیوں کی ہدایت؛ سیف سٹی اور جدید ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال یقینی بنانے کا حکم

منصور احمد, JULY 20,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے انسپکٹر جنرل (آئی جی) اسلام آباد پولیس سید علی ناصر رضوی کی زیرِ صدارت پیر کے روز ایک مقتدر اور اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔ اس تزویراتی اجلاس میں ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرز محمد عتیق طاہر، ڈی جی سیف سٹی محمد ہارون جوئیہ، ڈی آئی جی اسلام آباد محمد جواد طارق، ڈی آئی جی سکیورٹی رانا عمر فاروق اور دیگر سینئر پولیس افسران نے شرکت کی۔

ترجمان اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری کردہ آفیشل اعلامیے کے مطابق، اجلاس کے دوران وفاقی دارالحکومت میں امن و امان کے قیام، جرائم کے خاتمے کے لیے جاری اقدامات، سنگین مقدمات میں تفتیشی پیش رفت، اشتہاری و عادی مجرمان کے خلاف جاری تادیبی کارروائیوں، خفیہ اطلاعات پر مبنی پولیسنگ، جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال، سیف سٹی کیمروں کے ذریعے نگرانی کے نظام، فوری جوابی کارروائی، مختلف شعبوں کے مابین رابطہ کاری اور شہریوں کو بروقت خدمات کی فراہمی جیسے اہم امور کا گہرائی سے جائزہ لیا گیا۔

اس موقع پر آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی نے تمام افسران کو سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی دارالحکومت کا امن ہر صورت برقرار رکھا جائے اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں میں مزید تیزی لائی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اشتہاری مجرمان اور عادی ملزمان کے خلاف بلاامتیاز تادیبی کارروائیاں کی جائیں، اور تمام زیرِ تفتیش مقدمات کو مکمل طور پر میرٹ پر یکسو کرتے ہوئے مضبوط شواہد کے ساتھ چالان عدالتوں میں پیش کیے جائیں تاکہ ملزمان کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دلائی جا سکے۔ انہوں نے مزید تاکید کی کہ جدید ٹیکنالوجی اور سیف سٹی کے جدید نگرانی کے نظام سے بھرپور فائدہ اٹھا کر جرائم کی روک تھام کو یقینی بنایا جائے۔ آئی جی اسلام آباد کا کہنا تھا کہ شفاف تحقیقات، مؤثر پولیسنگ، کڑا احتساب، قانون کی بلاامتیاز عملداری اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اسلام آباد پولیس کی اولین اور مقتدر ترجیحات میں شامل ہے۔

پاکستانی نوجوانوں کے لیے بڑی خوشخبری؛ چین ہر سال 3 لاکھ فری لانسرز کو ڈیجیٹل اسکلز کی تربیت فراہم کرے گا، احسن اقبال

کاشف عباسی , JULY 19,026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

ملک میں ٹیکنالوجی اور نالج اکانومی کے مقتدر فروغ کے لیے پاک چین تعاون کے حوالے سے ایک انتہائی تزویراتی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے انکشاف کیا ہے کہ دوست ملک چین ہر سال 3 لاکھ پاکستانی نوجوانوں کو جدید ڈیجیٹل اسکلز کی بین الاقوامی معیار کی تربیت فراہم کرے گا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے زیرِ اہتمام منعقدہ “تیسرے آئی ٹی فری لانسنگ ایوارڈز 2026ء” کی مقتدر تقریب کے دوران صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمٰن سہگل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس باوقار تقریب میں پنجاب کے وزیرِ خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمٰن سمیت آئی ٹی شعبے کی مقتدر شخصیات نے شرکت کی۔

وفاقی وزیر احسن اقبال نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان اس وقت فری لانسنگ کے شعبے میں دنیا کا چوتھا بڑا ملک بن چکا ہے اور ہمارے نوجوانوں کی ہنرمندی ملکی ڈیجیٹل معیشت اور برآمدات میں اضافے کا سب سے اہم تادیبی ذریعہ ہے۔ انہوں نے فری لانسرز اور آئی ٹی پروفیشنلز پر زور دیا کہ وہ عالمی منڈی میں اپنی مسابقت برقرار رکھنے کے لیے خود کو مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجیز سے ہم آہنگ کریں کیونکہ جدید دور میں کامیابی کے لیے بڑے دفاتر نہیں بلکہ علم اور ہنر ہی اصل سرمایہ ہے۔ اس موقع پر صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمٰن سہگل نے کہا کہ حکومت اور نجی شعبہ باہمی اشتراک سے پاکستان کو خطے کا مضبوط ڈیجیٹل اکانومی ہب بنا سکتے ہیں اور “اڑان پاکستان” وژن کو حقیقت میں بدلنے کے لیے ہمارے فری لانسرز مقتدر صلاحیت رکھتے ہیں۔

پنجاب کے وزیرِ خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے اپنے خطاب میں لاہور چیمبر کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ فری لانسنگ اب متبادل پیشہ نہیں بلکہ پاکستان کی ڈیجیٹل اکانومی کا ایک مضبوط اور اہم ستون بن چکی ہے، جو ہر سال کروڑوں ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ ملک میں لا کر قومی معیشت کو مستحکم کر رہی ہے۔ انہوں نے فری لانسرز کو ملک کا “ڈیجیٹل سفیر” قرار دیا۔ صوبائی وزیرِ خزانہ نے مقتدر یقین دہانی کرائی کہ پنجاب حکومت فری لانسرز کو بین الاقوامی ادائیگیوں میں درپیش رکاوٹیں دور کرنے اور عالمی معیار کا ادائیگی نظام فراہم کرنے کے لیے وفاق اور اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی متحرک قیادت میں صوبے میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی پارکس اور آئی ٹی زونز کے قیام پر بھرپور سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ پنجاب پاکستان کا پہلا صوبہ بن گیا ہے جس نے بڑے پیمانے پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس اقدامات کا آغاز کیا ہے تاکہ نوجوانوں کو صرف فری لانسر نہیں بلکہ اے آئی ڈویلپرز اور عالمی سطح کے ٹیکنالوجی لیڈرز بنایا جا سکے۔

آئیسکو کا 104 ملین روپے سے زائد کا کرپشن کیس؛ ایف آئی اے کی مؤثر پیروی پر 5 افسران کو 17، 17 سال قیدِ بامشقت کی سزا

کاشف عباسی , JULY 19,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے سرکاری محکموں میں کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف ایک اور بڑی تزویراتی کامیابی حاصل کی ہے۔ اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کے 104.75 ملین روپے کے بھاری رشوت کیس میں ملوث 5 اعلیٰ اہلکاروں کو مجموعی طور پر 17، 17 سال قیدِ بامشقت کی سخت سزا سنا دی گئی ہے، جبکہ خصوصی عدالت نے ملزمان سے برآمد ہونے والی تمام رقم کو فوری طور پر قومی خزانے میں ضبطگی کے بعد جمع کرانے کا مقتدر حکم جاری کیا ہے۔

ایف آئی اے کے ایک اعلیٰ اہلکار نے اتوار کے روز میڈیا کو تادیبی حقائق سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ہائی پروفائل کیس 30 اگست 2024ء کو ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد کے ایک انتہائی کامیاب اور خفیہ چھاپے سے شروع ہوا تھا، جس کے دوران آئیسکو کے تین ڈویژنل اکاؤنٹس افسران اور دو آڈٹ افسران کو رشوت کا لین دین کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتار ملزمان کے قبضے سے 104.75 ملین روپے کی خطیر نقد رقم برآمد کی گئی تھی، جو کہ ملزمان کی جانب سے مبینہ طور پر سال 2019ء سے 2024ء تک کے طویل عرصے کے لیے اپنے حق میں سازگار آڈٹ رپورٹس تیار کروانے کے عوض بیرونی آڈٹ افسران کو رشوت کے طور پر ادا کی جا رہی تھی۔ اس کامیاب کارروائی کے بعد ملزمان کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی مختلف دفعات اور انسدادِ بدعنوانی ایکٹ 1947ء کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

کیس کی تفصیلی سماعتیں مکمل ہونے کے بعد، 17 جولائی 2026ء کو سپیشل جج سینٹرل راولپنڈی عبدالرحمان محمد عارف نے جرم ثابت ہونے پر نامزد ملزمان ذیشان علی اکبر، نذر حسین، اشتیاق احمد، جہانگیر احمد اور ثاقب ظہیر کو 17، 17 سال قیدِ بامشقت کی تاریخی سزا کا فیصلہ سنایا۔ ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ یہ تاریخی سزا تفتیشی ٹیم کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر زوہیب نیازی کی پیشہ ورانہ تفتیش اور استغاثہ کی جانب سے اسسٹنٹ ڈائریکٹر صلاح الدین کی عدالت میں مؤثر ترین پیروی کے باعث ممکن ہو سکی ہے، جس سے محکمے میں احتساب کی مقتدر مثال قائم ہوئی ہے۔

بلوچستان کے چیلنجز کا آئینی دائرہ کار میں حل؛ نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار سے نیشنل پارٹی کے صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی اہم ملاقات

کاشف عباسی , JULY 19,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

ملک کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کو درپیش مختلف نوعیت کے چیلنجز سے نمٹنے اور وہاں کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے وفاقی دارالحکومت میں ایک اہم ترین تزویراتی سیاسی بیٹھک ہوئی ہے۔ نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے نیشنل پارٹی کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اپنے ایک اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفد کے ہمراہ ملاقات کی، جس کے دوران بلوچستان کے موجودہ سیاسی و معاشی چیلنجز اور دیگر اہم قومی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اتوار کے روز ڈپٹی پی ایم آفس سے جاری کردہ مقتدر پریس ریلیز کے مطابق، اس اہم ملاقات میں وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ رانا ثناء اللہ خان اور وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی طارق باجوہ بھی خصوصی طور پر شریک تھے۔

ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیرِ اعظم محمد اسحاق ڈار نے وفاقی حکومت کے مقتدر عزم کا اعادہ کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا کہ وفاقی حکومت آئینِ پاکستان کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے بلوچستان کے غیور عوام کو درپیش تمام جائز چیلنجز اور دیرینہ مسائل حل کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت صوبے میں اقتصادی خوشحالی، روزگار کے مواقع اور پائیدار ترقی کے لیے وہاں کے شہریوں کی جائز امنگوں کو ہر صورت پورا کرنے کے لیے پرعزم ہے اور اس سلسلے میں تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

نیشنل پارٹی کے صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے وفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان کے مسائل میں گہری دلچسپی لینے پر محمد اسحاق ڈار کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل پارٹی صوبے کے عوام کی زندگیوں میں بہتری اور ان کی سماجی و معاشی فلاح و بہبود کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کرنے کا مضبوط تزویراتی جذبہ رکھتی ہے۔ انہوں نے صوبے کی سیکیورٹی صورتحال پر دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے اس بات پر سخت زور دیا کہ بلوچستان میں سرگرم اور امن کو سبوتاژ کرنے والے شرپسند عناصر کو بلوچستان کے غیور عوام کی کوئی حمایت یا ہمدردی حاصل نہیں ہے اور نہ ہی ان کی پرتشدد کارروائیوں کا کوئی اخلاقی یا قانونی جواز پیش کیا جا سکتا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے صوبے کی پائیدار ترقی کے لیے باہمی روابط جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

کیپٹل ایمرجنسی سروس کی فرضی مشق؛ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا رات گئے اچانک معائنہ، 8 منٹ کا رسپانس ٹائم سراہا

منصور احمد, JULY 18,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 18 جولائی 2026ء

وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے ہفتے کی رات دیر گئے اسلام آباد میں کیپٹل ایمرجنسی سروس کی جانب سے منعقد کی گئی ایک ہنگامی فرضی فائر مشق کا موقع پر پہنچ کر تفصیلی جائزہ لیا۔ اس تادیبی مشق کا آغاز اس وقت ہوا جب قائم مقام ڈپٹی کمشنر صاحبزادہ یوسف نے ریسکیو 1122 کنٹرول روم پر فرضی آگ لگنے کی اطلاع دی، جس کے جواب میں فائر بریگیڈ اور ایمبولینس کی ٹیمیں الرٹ موصول ہونے کے ریکارڈ صرف 8 منٹ کے اندر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ وزیرِ داخلہ نے اس تیز ترین اور بروقت رسپانس کو سراہتے ہوئے اسے کیپٹل ایمرجنسی سروس کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور بہترین آپریشنل تیاری کا منہ بولتا ثبوت قرار دیا۔

فرضی مشق کے اختتام پر محسن نقوی نے فائر فائٹرز اور ایمرجنسی اہلکاروں سے ذاتی طور پر ملاقات کر کے ان کے عزم کو خراجِ تحسین پیش کیا اور دورانِ ڈیوٹی درپیش مسائل سنے۔ وزیرِ داخلہ نے محدود وسائل اور پرانے آلات کے باوجود عملے کی کارکردگی کو قابلِ ستائش قرار دیا، تاہم معائنے کے دوران اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ کیپٹل ایمرجنسی سروس کی گاڑیاں اور آپریشنل آلات 2009ء کے بعد سے تبدیل ہی نہیں کیے گئے۔ بریفنگ کے دوران انہیں بتایا گیا کہ موجودہ فلیٹ کو محنت سے فعال تو رکھا گیا ہے، لیکن بعض فائر ٹینڈرز 1993ء کے ماڈل کے ہیں جو اب بھی استعمال ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ افسوسناک انکشاف بھی ہوا کہ ایمرجنسی اہلکاروں کو کئی برسوں سے کوئی جدید ریفریشر کورس یا باقاعدہ تربیت فراہم نہیں کی گئی۔

وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے صورتحال کا فوری نوٹس لیتے ہوئے چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) سہیل اشرف کو سخت ہدایت جاری کی کہ وہ 7 روز کے اندر کیپٹل ایمرجنسی سروس کی مکمل اپ گریڈیشن کا ایک تزویراتی و جامع منصوبہ پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس منصوبے میں نئی فائر بریگیڈ گاڑیوں، جدید ایمبولینسز، جدید ترین ریسکیو آلات کی خریداری اور اہلکاروں کے لیے عالمی معیار کے تربیتی کورسز کو لازمی شامل کیا جائے تاکہ وفاقی دارالحکومت کے شہریوں کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی حقیقی حادثے میں فوری ردعمل ہی انسانی جانوں کو بچانے کا ضامن ہوتا ہے، اس لیے حکومت وسائل کی فراہمی میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔ اس موقع پر چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف اور قائم مقام ڈپٹی کمشنر صاحبزادہ یوسف بھی وزیرِ داخلہ کے ہمراہ موجود تھے۔