شملہ پہاڑی نادرا سینٹر لاہور میں غیر معمولی تبدیلی: طویل انتظار کے خاتمے اور تیز تر سروس پر شہریوں کی جانب سے اطمینان کا اظہار

منصور احمد, August 02,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

ماضی میں شدید رش اور طویل قطاروں کے لیے معروف شملہ پہاڑی نادرا رجسٹریشن سینٹر لاہور میں ایک غیر معمولی اورمثالی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے، جہاں اب شہریوں کو تیز تر، موثر اور باوقار انداز میں عام خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔

یہ ڈرامائی اور مثبت تبدیلی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے شملہ پہاڑی میں قائم 24/7 نادرا سینٹر کے اچانک اور غیر اعلانیہ دورے کے دوران سامنے آئی، جہاں انہوں نے اپ گریڈ شدہ جدید سہولیات اور ہموار آپریشنز کا خود جائزہ لیا اور خوشگوار حیرت کا اظہار کیا۔ جہاں پہلے گھنٹوں کا انتظار اور لمبی قطاریں اس مرکز کی شناخت ہوا کرتی تھیں، وہاں اب شہری آرام دہ، مکمل ایئر کنڈیشنڈ ماحول میں چند منٹوں کے اندر شناختی کارڈ اور دیگر سرکاری دستاویزات کا حصول ممکن بنا رہے ہیں۔

دورے کے دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے مرکز میں موجود شہریوں سے بلا واسطہ گفتگو کی، رجسٹریشن کے عمل، وقت کی بچت اور سروس کے معیار کے حوالے سے استفسار کیا۔ شہریوں نے اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا کام بلا تاخیر محض چند منٹوں میں مکمل ہوا اور عملے کی پیشہ ورانہ مہارت و خوش اخلاقی قابلِ ستائش ہے۔ ایک بزرگ خاتون اور شہریوں نے بہترین و باعزت سلوک پر وزیر داخلہ اور نادرا عملے کے لیے دعائیں اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

محسن نقوی نے فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے آئے دو شہریوں کی درپیش مشکلات کا موقع پر ہی نوٹس لیتے ہوئے فوراً ازالے کی ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ شہریوں کو درکار دستاویزات کی درست رہنمائی فراہم کی جائے تاکہ کسی کو بلاوجہ کے چکر نہ کاٹنے پڑیں۔ مزید برآں، سینٹر کے باہر پارکنگ اٹینڈنٹس کی جانب سے زائد فیس وصولی کی عوامی شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے انہوں نے متعلقہ حکام کو فوری ایکشن لینے کی ہدایت کی۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “شہریوں کا اعتماد اور اطمینان ہی کسی سرکاری ادارے کی حقیقی کامیابی کا سب سے بڑا پیمانہ ہوتا ہے۔” انہوں نے اس مثالی تبدیلی اور اصلاحات کے نتائج پر چیئرمین نادرا اور ان کی پوری ٹیم کی لگن، محنت اور بہترین عوامی خدمات کی فراہمی پر ان کی کوششوں کو زبردست الفاظ میں سراہا۔

پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب کا دعویٰ: “میرپور کے بعد مظفرآباد اور مہاجرین کی نشستوں پر بھی شیر کامیاب ہوگا”

کاشف عباسی , August 02,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

پنجاب کی سینئر وزیر اور مسلم لیگ (ن) کی مرکزی رہنما مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں میرپور ڈویژن کے بعد اب مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں پر بھی مسلم لیگ (ن) شاندار اور تاریخی کامیابی حاصل کرے گی۔

اسلام آباد میں جاری کردہ اپنے ایک اہم ترین سیاسی بیان میں مریم اورنگزیب نے اپوزیشن اور سیاسی مخالفین کو آڑھے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ “آج الیکٹورل میدان میں شکست سے دوچار ہونے والی جماعت محض واویلا کر رہی ہے اور رو رہی ہے، جبکہ محض رونے یا الزامات تراشی سے نہ تو ووٹ ملتا ہے اور نہ ہی ووٹر گھروں سے باہر نکلتا ہے۔”

انہوں نے کہا کہ دھمکیاں دینے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی سیاست اب ختم ہو چکی ہے؛ عوام اور ووٹرز کو میدان میں لانے کے لیے عملی کارکردگی اور خدمات کی تاریخ دکھانی پڑتی ہے۔ مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ مظفرآباد سمیت پنجاب بھر میں قائم ن لیگ کے انتخابی کیمپوں میں ووٹرز اور کارکنوں کا غیر معمولی رش اور جوش و خروش صاف دکھائی دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب اور آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کا ووٹر مکمل طور پر چارج ہے اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کر رہا ہے جسے پورا پاکستان دیکھ رہا ہے۔

سینئر صوبائی وزیر نے مخالفین کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ “رونے والوں کے لیے ہمارا پیغام ہے کہ وہ ہمت کریں اور سیاسی میدان میں آ کر الیکٹورل مقابلہ کریں۔” انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ میرپور کی شاندار فتح کے تسلسل میں آج مظفرآباد اور پنجاب میں مقیم مہاجرین کی نشستوں پر بھی “شیر” ہی کامیابی کا پرچم لہرائے گا۔

اسلام آباد کیپیٹل پولیس بھرتی 2026ء: ایف نائن پارک اور پولیس لائنز ہیڈکوارٹرز میں فزیکل و رننگ ٹیسٹ کا سلسلہ جاری

کاشف عباسی , August 02,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

اسلام آباد کیپیٹل پولیس میں بھرتی 2026ء کے سلسلے میں امیدواروں کے رننگ اور فزیکل ٹیسٹ ایف نائن پارک اور پولیس لائنز ہیڈکوارٹرز کے ٹیسٹ سینٹرز میں باقاعدگی سے جاری ہیں۔

ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق ایف نائن پارک ٹیسٹ سینٹر میں ڈی آئی جی سیکیورٹی رانا عمر فاروق خود بھرتی کے تمام تر مراحل کی براہِ راست نگرانی کر رہے ہیں تاکہ تمام امیدواروں کو مساوی، شفاف اور منصفانہ مواقع فراہم کیے جا سکیں۔

دوسری جانب، پولیس لائنز ہیڈکوارٹرز ٹیسٹ سینٹر پر ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرز محمد جواد طارق کی زیرِ نگرانی فزیکل اور رننگ ٹیسٹ کے مراحل کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ ٹیسٹ سینٹرز پر سینئر افسران خود بھی بالمشافہ موجود رہ کر ہر مرحلے کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں تاکہ سیکیورٹی، نظم و ضبط اور تمام تر انتظامات کو شفافیت کے ساتھ یقینی بنایا جا سکے۔

اسلام آباد پولیس انتظامیہ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ تمام پروسیس کو شفاف اور منظم انداز میں مکمل کیا جائے گا اور امیدواروں کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

این ڈی ایم اے میں ایمرجنسی رسپانس کمیٹی کا 10واں اجلاس: وفاقی وزیر احسن اقبال کی صدارت میں ملک بھر میں مون سون اور ریلیف سرگرمیوں کا جائزہ

روزینہ اسماعیل, August 02,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت پر روزانہ کی بنیاد پر منعقد ہونے والے سلسلہ وار اجلاسوں کے تسلسل میں ایمرجنسی رسپانس کمیٹی کا 10واں اہم اجلاس نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) ہیڈکوارٹرز کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر میں منعقد ہوا۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات پروفیسر احسن اقبال نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس کی صدارت کی، جبکہ چیئرمین این ڈی ایم اے، وفاقی و صوبائی حکام اور مختلف متعلقہ اداروں کے نمائندگان نے بالمشافہ اور آن لائن شرکت کی۔

این ڈی ایم اے کے میڈیا ونگ کے مطابق چیئرمین این ڈی ایم اے اور این ای او سی کی پیشہ ورانہ ٹیم نے ملک بھر میں مون سون کی تازہ ترین صورتحال، بارشوں کے باعث ہونے والے جانی و مالی نقصانات، اور جاری امدادی و بحالی کی سرگرمیوں پر کمیٹی کو تفصیلی اور جامع بریفنگ دی۔ چیئرمین این ڈی ایم اے نے آگاہ کیا کہ متوقع بارشوں کے پیشِ نظر تمام ممکنہ متاثرہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور مقامی انتظامیہ کو صورتحال سے بروقت اور پیشگی باخبر کر دیا گیا ہے تاکہ ہر قسم کے خطرے سے نمٹا جا سکے۔

اجلاس کے دوران کمیٹی کو حال ہی میں ہونے والی شدید بارشوں اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال کے بعد وفاقی، صوبائی اور ضلعی اداروں کی جانب سے کیے گئے فوری اور بروقت امدادی اقدامات کے بارے میں بتایا گیا۔ این ای او سی نے پیشگوئی کی ہے کہ آئندہ چند دنوں میں ملک کے شمالی و وسطی علاقوں سمیت جنوب مشرقی سندھ کے بعض مقامات پر بھی مزید بارشوں کا قوی امکان موجود ہے۔

این ڈی ایم اے کی ٹیم نے بریفنگ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ حالیہ مون سون کے دوران ہونے والی زیادہ تر اموات کچے مکانات کے گرنے اور کمزور تعمیرات کو پہنچنے والے شدید نقصان کے باعث ہوئیں۔ اس کے علاوہ متاثرہ علاقوں میں قومی اور بین الاقوامی فلاحی و امدادی تنظیموں کے تعاون سے جاری ریلیف آپریشن پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس کے اختتام پر وفاقی وزارتوں، صوبائی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ کی ریسکیو اور ریلیف کاوشوں کو سراہا گیا، جبکہ ایمرجنسی رسپانس کمیٹی نے تمام متعلقہ اداروں کو آپس میں قریبی رابطہ برقرار رکھنے، پیشگی تیاری مکمل رکھنے اور متاثرین کی بحالی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی سخت ہدایت کی۔

خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کی معاونت سے امریکی کاروباری وفد کا کراچی کا دو روزہ دورہ: سندھ میں سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ

محمود احمد, August 02,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کی موثر سہولت کاری اور معاونت سے اعلیٰ سطحی امریکی کاروباری وفد نے کراچی کا دو روزہ دورہ مکمل کر لیا ہے۔ اپنے دورے کے دوسرے روز امریکی وفد نے صوبائی وزراء سے اہم ملاقاتیں کیں اور صوبہ سندھ میں سرمایہ کاری کے متعدد مواقع کا تفصیلی جائزہ لیا۔

ان ملاقاتوں کے دوران بن قاسم انڈسٹریل پارک، کراچی انڈسٹریل پارک اور دیگر اہم صنعتی منصوبوں میں امریکی سرمایہ کاری کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر امریکی وفد کو سندھ بزنس ون اسٹاپ شاپ، کیٹی بندر پورٹ، این ای ڈی ٹیک پارک اور مجوزہ سندھ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر سے متعلق جامع بریفنگ بھی دی گئی۔

بعد ازاں امریکی وفد نے پاکستان بزنس کونسل کے نمائندوں سے بھی اہم ملاقات کی، جس میں کیپٹل مارکیٹس، زراعت، ٹیکسٹائل، توانائی، معدنیات، صحت اور دیگر اہم شعبہ جات میں دوطرفہ سرمایہ کاری کے امکانات پر بات چیت کی گئی۔

امریکی کاروباری وفد نے پاکستان میں قائم سرمایہ کاری کے سازگار ماحول اور مختلف معاشی شعبوں میں موجود کاروباری مواقع میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ کاروباری رہنماؤں نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے، پالیسیوں کے تسلسل کو یقینی بنانے اور کاروبار کو آسان بنانے کے حوالے سے ایس آئی ایف سی کے کلیدی کردار کی بھرپور تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ ایس آئی ایف سی کی سہولت کاری سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں جس سے پاک امریکہ معاشی تعاون مزید مضبوط اور مستحکم ہوگا۔

اسلام آباد پولیس سٹی زون کی جولائی کے دوران بڑی کارروائی: 13 گینگ ارکان اور 86 اشتہاری مجرمان گرفتار

منصور احمد, August 02,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

اسلام آباد پولیس سٹی زون نے گزشتہ ماہ جولائی کے دوران جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت اور مسلسل کارروائیاں کرتے ہوئے 13 گینگ ارکان اور 86 اشتہاری مجرمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس نے گرفتار ملزمان کے قبضے سے ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد کا مالِ مسروقہ، طلائی زیورات، منشیات اور ناجائز اسلحہ برآمد کر لیا ہے۔

ایس پی سٹی زون ڈاکٹر ایاز حسین کے مطابق سٹی زون پولیس نے جولائی کے مہینے میں جرائم پیشہ گروہوں کے 13 اہم ارکان کو حراست میں لیا۔ گرفتار ملزمان کے قبضے سے 1 کروڑ 50 لاکھ روپے سے زائد مالیت کا مسروقہ سامان برآمد کیا گیا، جس میں 90 لاکھ روپے سے زائد کے طلائی زیورات، 4 لاکھ روپے نقد رقم، 2 موٹر سائیکلیں، 13 قیمتی موبائل فونز، لیپ ٹاپس اور بیٹریز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ملزمان سے وارداتوں میں استعمال ہونے والا ناجائز اسلحہ اور ایمونیشن بھی برآمد کیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق اسی عرصے کے دوران مختلف سنگین جرائم میں ملوث 86 مجرمانِ اشتہاری اور سابقہ ریکارڈ یافتہ ملزمان کی گرفتاری بھی عمل میں لائی گئی ہے۔

ایس پی سٹی ڈاکٹر ایاز حسین نے بتایا کہ جرائم پیشہ عناصر کی نشاندہی اور گرفتاری میں جدید ٹیکنالوجی کا موثر استعمال کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ گرفتار ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان عدالتوں میں پیش کیے جائیں گے تاکہ انہیں قرار واقعی سزا دلائی جا سکے، جبکہ برآمد شدہ تمام سامان قانونی طریقہ کار کے تحت اصل مالکان کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

وفاقی حکومت کا کوہلو ترقیاتی پیکیج: 10 منصوبوں پر 7 ارب 91 کروڑ روپے سے زائد کی رقم خرچ

منصور احمد, August 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

وفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان کے ضلع کوہلو کی سماجی و معاشی حالت بدلنے کے لیے جاری کردہ ‘کوہلو ترقیاتی پیکیج’ کے تحت 10 اہم ترقیاتی منصوبوں پر مجموعی طور پر 7 ارب 91 کروڑ 50 لاکھ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، جبکہ ان تمام منصوبوں کی مجموعی منظور شدہ لاگت 7 ارب 95 کروڑ 80 لاکھ روپے ریکارڈ کی گئی ہے۔

‘ویلتھ پاکستان’ کو موصول ہونے والی باضابطہ سرکاری دستاویزات کے مطابق اس خصوصی ترقیاتی پیکیج میں سڑکوں کا نیٹ ورک، تعلیم، صحت، بجلی، پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور آبپاشی کے بنیادی شعبوں سے متعلق اہم منصوبے شامل ہیں۔

دستاویزات کے مطابق پیکیج کا سب سے بڑا اور اہم ترین منصوبہ سبی۔رکھنی روڈ کی تعمیر ہے، جو مائیوند کے راستے ٹلی۔کوہلو سیکشن (کلومیٹر 24 تا 164) پر مشتمل ہے۔ اس روڈ کے منصوبے کی منظور شدہ لاگت 6 ارب 54 کروڑ 50 لاکھ روپے ہے اور اس کی تمام تر رقم استعمال کی جا چکی ہے۔ اس کے علاوہ مختلف دیہات کو کوہلو شہر سے جوڑنے والی بلیک ٹاپ سڑکوں پر 22 کروڑ 22 لاکھ 45 ہزار روپے اور کوہلو بائی پاس روڈ کی تعمیر پر 19 کروڑ 78 لاکھ 60 ہزار روپے کی منظور شدہ رقم مکمل طور پر خرچ کی گئی ہے۔

تعلیم کے شعبے میں کوہلو کیڈٹ کالج کا قیام 21 کروڑ 87 لاکھ 54 ہزار روپے کی رقم سے مکمل کیا گیا، جبکہ گورنمنٹ انٹر گرلز کالج کوہلو کے 12 کروڑ 50 لاکھ روپے کے منصوبے پر اب تک 10 کروڑ 20 لاکھ 96 ہزار روپے صرف ہو چکے ہیں۔ صحت کے شعبے میں کوہلو میں 50 بستروں پر مشتمل جدید اسپتال کے قیام پر 22 کروڑ 57 لاکھ 4 ہزار روپے کی لاگت میں سے 20 کروڑ 50 لاکھ 94 ہزار روپے خرچ کیے گئے ہیں۔

انرجی کے شعبے میں کوہلو کے لیے 132 کے وی (kV) گرڈ اسٹیشن کی تعمیر پر 33 کروڑ 4 لاکھ 30 ہزار روپے اور مست توالکی تک 11 کے وی ٹمبو فیڈر کی تنصیب پر 1 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔ واٹر سپلائی اور زراعت کے لیے کوہلو واٹر سپلائی اسکیم پر 6 کروڑ 75 لاکھ 84 ہزار روپے جبکہ کہان آبپاشی اسکیم پر 1 کروڑ 64 لاکھ 34 ہزار روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔

سرکاری ریکارڈ کے مطابق پیکیج کے 10 میں سے 8 اہم ترین منصوبوں کی تمام رقم صد فیصد خرچ کی جا چکی ہے، جبکہ صرف اسپتال اور گرلز کالج کی دو اسکیموں میں مجموعی طور پر 4 کروڑ 35 لاکھ 14 ہزار روپے کی رقم کی بچت یا بقایا اخراجات باقی ہیں۔

رکنِ قومی اسمبلی ملک محمد اقبال چنڑ کے انتقال پر چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار

کاشف عباسی , August 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے رکنِ قومی اسمبلی ملک محمد اقبال چنڑ کے ناگہانی انتقال پر گہرے دکھ، رنج اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کی طویل پارلیمانی، سیاسی اور عوامی خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

سینیٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے ہفتہ کے روز جاری کردہ ایک رسمی تعزیتی بیانیے میں چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ملک محمد اقبال چنڑ کے انتقال سے ملک و قوم ایک مخلص، دردِ دل رکھنے والے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے کوشاں سچے نمائندے سے محروم ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم نے اپنے پورے سیاسی و پارلیمانی کیریئر میں جمہوری اقدار کے فروغ، پارلیمنٹ کی توقیر اور عوام کی خدمت کے لیے گراں قدر اور ناقابلِ فراموش خدمات سرانجام دیں۔

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر ملک ظہیر اقبال چنڑ سے ان کے والدِ گرامی کے انتقال پر دلی تعزیت اور سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے غم اور مشکل کی اس گھڑی میں سوگواران کے ساتھ کامل یکجہتی کا یقین دلایا۔

چیئرمین سینیٹ نے بارگاہِ الٰہی میں دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی روح کو جوارِ رحمت میں جگہ دے، ان کے درجات بلند فرمائے اور سوگوار خاندان کو یہ ناقابلِ تلافی نقصان اور عظیم صدمہ صبرِ جمیل کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

ریٹائر ہونے والے ملازمین کو پنشنری مراعات ریٹائرمنٹ کے وقت ہی فراہم کی جائیں: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحیٰ آفریدی کی سخت ہدایت

منصور احمد, August 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحیٰ آفریدی نے سپریم کورٹ سمیت تمام متعلقہ شعبوں کو بروقت پنشنری مراعات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ریٹائر ہونے والے ملازمین کو ان کے تمام تر پنشنی حقوق ریٹائرمنٹ کے دن ہی فراہم کر دیے جانے چاہئیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ اپنی تمام تر زندگی ادارے کے لیے وقف کرنے والے افسران و ملازمین کو ان کے قانونی و آئینی حقوق بلا تاخیر اور بغیر کسی دشواری کے ملنے چاہئیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سپریم کورٹ کے ریٹائر ہونے والے سینئر اسسٹنٹ رجسٹرار حفظ الرحمٰن کے اعزاز میں منعقدہ ایک پروقار الوداعی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

تقریب کے دوران چیف جسٹس یحیٰ آفریدی نے حفظ الرحمٰن کو ان کی تمام پنشنری مراعات کا چیک موقع پر ہی پیش کیا اور اسٹیبلشمنٹ برانچ کو آئندہ کے لیے بھی پنشن سے متعلق تمام ضروری کاغذی و انتظامی کارروائیاں ملازم کی ریٹائرمنٹ سے قبل مکمل کرنے کا حکم دیا۔ چیف جسٹس نے زور دے کر کہا کہ سپریم کورٹ اپنے ملازمین کی فلاح و بہبود، ان کے حقوق کے تحفظ اور ایک مؤثر و شفاف انتظامی نظام کے فروغ کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ انتظامیہ ریٹائر ہونے والے ملازمین کے وقار اور ان کے حقوق کے بروقت تحفظ کو ہر صورت یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ تقریب میں رجسٹرار سپریم کورٹ، دیگر اعلیٰ افسران اور عملے نے بھی شرکت کی اور ریٹائر ہونے والے سینئر اسسٹنٹ رجسٹرار حفظ الرحمٰن کی ادارے کے لیے پیش کردہ طویل و پرخلوص خدمات کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ تقریب کے اختتام پر شرکاء نے حفظ الرحمٰن کے لیے صحت مند، خوشحال اور پرسکون ریٹائرڈ زندگی کے لیے نیک خواہشات اور تمناؤں کا اظہار کیا۔

ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کا روات میں چھاپہ: غیر قانونی فارماسیوٹیکل فیکٹری اور اسٹوریج سیل

کاشف عباسی , August 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے مین جی ٹی روڈ، روات میں واقع کھوکھر پلازہ کے مقابل ایک بڑی اور غیر قانونی فارماسیوٹیکل پروڈکشن اور اسٹوریج فیکلٹی پر اچانک چھاپہ مار کر احاطے کو مکمل طور پر سیل کر دیا ہے۔

ترجمان ایف آئی اے کے مطابق یہ کارروائی خفیہ اطلاع پر عمل میں لائی گئی۔ چھاپے کے دوران موقع سے 14,961 مختلف اقسام کی گولیاں، 500 انجیکشنز، مختلف برانڈز کے 20,900 سیرپ اور 4,630 مختلف کریمز برآمد کی گئیں۔ اس کے علاوہ غیر قانونی تیاری میں استعمال ہونے والے 15 لاکھ خالی ہارڈ جیلاٹن کیپسول شیلز، 1,072 کلوگرام خام مال، 66,258 خالی بوتلیں، ایکٹو فارماسیوٹیکل انگریڈیئنٹس ، نیوٹراسیوٹیکل خام مال، پیکنگ میٹریل، فزیشن سیمپلز اور دوا سازی کی جدید مینوفیکچرنگ و پیکنگ مشینری بھی بحقِ سرکار ضبط کر لی گئی۔

تفتیشی ٹیم کے موقع پر معائنے سے انکشاف ہوا کہ اس غیر قانونی فیکٹری میں ڈرگ ریگولیٹری قواعد و ضوابط، گڈ سٹوریج پریکٹسز اور گڈ ڈسٹری بیوشن پریکٹسز کی سنگین ورزیاں کی جا رہی تھیں۔ ادویات کی معیار، حفاظت اور افادیت کے لیے قانون کے مطابق درکار درجہ حرارت اور دیگر ضروری تکنیکی شرائط کا سرے سے کوئی اہتمام نہیں کیا گیا تھا۔

کارروائی کے دوران موجود فیڈرل ڈرگ انسپکٹر نے ڈرگ ایکٹ کے تحت موقع سے ادویات اور خام مال کے نمونے حاصل کر کے لیبارٹری تجزیے کے لیے ارسال کر دیے ہیں، جس کی حتمی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ملوث ملزمان کے خلاف ایف آئی اے کے ذریعے مزید قانونی اور سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ایف آئی اے حکام نے واضح کیا ہے کہ عوام الناس کی زندگیوں اور صحت سے کھیلنے والے جعلی ادویات کے مافیا کے خلاف اینٹی کرپشن سرکل کا بلاامتیاز کریک ڈاؤن آئندہ بھی بلا تعطل جاری رہے گا۔

آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے دوسرے مرحلے کے انتخابات: مظفرآباد ڈویژن میں پولنگ کل ہوگی

کاشف عباسی , August 01,2026

مظفرآباد/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

آزاد جموں و کشمیر میں عام انتخابات کے دوسرے مرحلے کے تحت مظفرآباد ڈویژن میں پولنگ کا معرکہ کل، 2 اگست بروز اتوار سجنے جا رہا ہے۔ اس مرحلے کے دوران مظفرآباد ڈویژن کے تمام عام انتخابی حلقوں کے ساتھ ساتھ مقیم پاکستان مہاجرین جموں و کشمیر کی 12 مخصوص نشستوں پر بھی کل ہی ووٹنگ کے ذریعے نمائندوں کا انتخاب کیا جائے گا۔

انتخابات کے موقع پر کالعدم ایکشن کمیٹی کے کور ممبر راجہ سعید امجد نے اپنے ایک خصوصی ویڈیو پیغام کے ذریعے مظفرآباد ڈویژن کی عوام سے انتخابی عمل میں بھرپور حصہ لینے کی اپیل کی ہے۔ راجہ سعید امجد کا اپنے ویڈیو پیغام میں کہنا تھا کہ وہ مظفرآباد ڈویژن کے غیرت مند عوام سے مخاطب ہیں کہ وہ 2 اگست کو پولنگ کے عمل میں بلا خوف و خطر اور بھرپور انداز میں حصہ لے کر اس اہم جمہوری عمل کا لازمی حصہ بنیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح میرپور ڈویژن کے غیور عوام نے پہلے مرحلے میں اپنا جمہوری حق استعمال کیا، بالکل اسی طرح مظفرآباد ڈویژن کے عوام بھی باہر نکلیں اور اپنے ووٹ کی طاقت سے اپنے نمائندوں کو منتخب کریں۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے پہلے مرحلے میں عوام کی ریکارڈ اور پرجوش شرکت اس بات کی واضح عکاس ہے کہ باشعور اور غیور کشمیری اپنے حقوق کے حصول کے لیے پرامن جمہوری عمل پر کامل یقین رکھتے ہیں۔

راولپنڈی اور اسلام آباد میں موسلادھار بارش سے نشیبی علاقے زیرِ آب، بہارہ کہو ڈوب گیا؛ نالہ لئی میں پانی کی سطح بلند، راولپنڈی میں پری الرٹ نافذ

منصور احمد, August 01,2026

راولپنڈی/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد میں موسلادھار بارشوں کے بعد شدید طغیانی اور ندی نالوں میں ابال آنے سے بیشتر نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں۔ اسلام آباد کا مضافاتی علاقہ بہارہ کہو بارشی پانی میں مکمل ڈوب گیا ہے، جبکہ راولپنڈی کے متعدد تجارتی و رہائشی علاقوں میں ندی نالوں کا پانی جمع ہونے سے شہریوں اور تاجروں کو شدید مشکلات اور مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بہارہ کہو میں نکاسیِ آب کا موثر اور بروقت انتظام نہ ہونے کے باعث بارشی پانی گھروں اور دکانوں میں داخل ہو گیا جس سے شہریوں کا قیمتی سامان تباہ ہو گیا اور تمام اہم شاہراہیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگی ہیں۔ دوسری جانب راولپنڈی کی مصریال روڈ فرینڈز کالونی میں ایک انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک بچہ تیز بارشی پانی میں ڈوب گیا۔ اس کے علاوہ راولپنڈی کے مشہور راجہ بازار کے ماڈل بازار میں پانی جمع ہو گیا اور دکانوں کے اندر پانی داخل ہونے سے تاجر برادری کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

نالہ لئی میں پانی کی سطح میں مسلسل اور تیز رفتاری سے اضافہ ہو رہا ہے۔ فلڈ کنٹرول روم کی رپورٹ کے مطابق راولپنڈی کٹاریاں کے مقام پر پانی کی سطح 10 فٹ جبکہ گوالمنڈی کے مقام پر 9 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے باعث گوالمنڈی کے مقام پر باقاعدہ ‘پری الرٹ’ (Pre-Alert) نافذ کر دیا گیا ہے، واضح رہے کہ کٹاریاں پر پری الرٹ لیول 11.4 فٹ مقرر ہے۔

محکمہ موسمیات اور فلڈ کنٹرول روم کے مطابق نالہ لئی بیسن میں اوسط بارش 54.51 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔ سب سے زیادہ بارش کچہری چکلالہ میں 103 ملی میٹر ریکارڈ ہوئی، جبکہ شمس آباد میں 71، سیدپور ویلیج میں 67، پی ایم ڈی (ایچ ایٹ) میں 63، پیرودھائی میں 60، نیو کٹاریاں میں 58، گولڑہ میں 51 اور بوکھڑا کے مقام پر 41 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ متعلقہ انتظامیہ اور ریسکیو ادارے نالہ لئی اور تمام حساس نشیبی علاقوں میں صورتحال کی 24 گھنٹے مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔

وفاقی دارالحکومت میں موسلادھار بارشیں: پانی کی سطح 1748.30 فٹ تک پہنچنے پر راول ڈیم کے سپل ویز کھول دیے گئے

منصور احمد, August 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور ملحقہ علاقوں میں جاری موسلادھار بارشوں کے بعد راول ڈیم میں پانی کی آمد میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے پیشِ نظر ڈیم کی انتظامیہ نے راول ڈیم کے سپل ویز باقاعدہ طور پر کھول دیے ہیں۔ ڈیم میں پانی کی سطح خطرناک حد کے قریب یعنی 1748.30 فٹ تک پہنچنے کے بعد یہ اقدام اٹھایا گیا۔

تفصیلات کے مطابق آج صبح 6 بجے راول ڈیم اسلام آباد کے سپل ویز کھولے گئے تاکہ ڈیم میں پانی کی سطح کو کنٹرول کرتے ہوئے 1748.30 فٹ سے کم کر کے محفوظ سطح یعنی 1747 فٹ پر لایا جا سکے۔ سپل ویز کھولنے سے قبل باقاعدہ سائرن بجا کر ڈیم کے اطراف اور نچلی آبادیوں کو الرٹ کیا گیا۔ ڈیم کے سب ڈویژنل آفیسر اعجاز احمد کھٹانہ کے مطابق سپل ویز کے ذریعے 6 ہزار 283 کیوسک پانی ڈیم سے خارج کیا گیا ہے، جس سے پانی کی سطح میں 2 فٹ تک کمی لائی گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سپل ویز کھولنے کے اس آپریشن سے پہلے ہی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے تمام متعلقہ اداروں اور انتظامیہ کو پیشگی اطلاع فراہم کر دی تھی۔

کورنگ نالے میں پانی کے تیز بہاؤ اور طغیانی کے خدشے کے پیشِ نظر ملحقہ آبادیوں کے مکینوں کو انتہائی محتاط رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ انتظامیہ نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ کورنگ نالے اور اس پر بنے عارضی پلوں کو پار کرنے سے مکمل گریز کریں۔

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور ضلعی انتظامیہ نے تمام متعلقہ اداروں اور ریسکیو سروسز کو 24 گھنٹے ہائی الرٹ رہنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت رسپانس یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔ ڈی سی اسلام آباد نے شہریوں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ بارشوں کے دوران ندی نالوں، برساتی نالوں اور پانی کے تیز بہاؤ والی جگہوں سے دور رہیں اور غیر ضروری طور پر ڈیم یا نالوں کے قریب جانے سے گریز کریں۔ ضلعی انتظامیہ نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے یا ہنگامی مدد کی صورت میں فوری طور پر ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن یا ریسکیو اداروں سے رابطہ قائم کریں۔

مون سون بارشوں کے پیشِ نظر راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ میں ہائی الرٹ جاری: ایمرجنسی اسٹاف کی تمام چھٹیاں منسوخ

کاشف عباسی , JULY 31,026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

مون سون کی متوقع شدید بارشوں اور ندی نالوں میں طغیانی کے ممکنہ خطرات کو مدِنظر رکھتے ہوئے راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ نے کنٹونمنٹ کے تمام علاقوں میں ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ ایگزیکٹو آفیسر عامر رشید کی خصوصی ہدایت پر ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے ایمرجنسی اسٹاف اور صفائی کے عملے کی تمام تعطیلات فوری طور پر منسوخ کر دی گئی ہیں، جبکہ نالوں کے قریب اور نشیبی علاقوں میں مقیم شہریوں کو بھی آگاہی اور الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

ترجمان راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کے مطابق بارشوں کے دوران پانی کی فوری اور موثر نکاسی کو یقینی بنانے کے لیے فیلڈ افسران، آپریشنل مشینری اور عملہ مکمل طور پر مستعد ہے۔ مون سون سیزن کے آغاز سے قبل شروع کی گئی خصوصی صفائی مہم کے تحت ٹینچ بھاٹہ، جان کالونی، اسلم مارکیٹ، حبیب کالونی، فرینڈز کالونی، شالے ویلی، رینج روڈ، رینج روڈ کالونی، ڈھوک بنارس، غازی آباد، کامران مارکیٹ، فیصل کالونی اور آڈرا 22 نمبر جیسے تمام حساس اور اہم نالوں کی صفائی کا کام تقریباً مکمل کیا جا چکا ہے اور ان مقامات کی چوبیس گھنٹے نگرانی کی جا رہی ہے۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری اور موثر انداز میں نمٹنے کے لیے بھاری اور ہلکی مشینری (بشمول سیکشن پمپنگ مشینری) کو ہائی الرٹ اور فیلڈ کے لیے تیار رکھا گیا ہے۔ کنٹونمنٹ انتظامیہ نے شہریوں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ نالوں اور نالیوں میں کچرا، ملبہ یا دیگر فضلا ہرگز نہ پھینکیں کیونکہ اس سے پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ شہریوں سے انتظامیہ کے ساتھ تعاون کرنے اور کسی بھی شکایت یا ہنگامی مدد کی صورت میں فوری متعلقہ حکام سے رابطے کی استدعا کی گئی ہے۔

چاروں صوبوں کو نارتھ ، سینٹرل اور ساؤتھ کے نام سے مزید 3، 3 انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنے کی تجویز: عبدالعلیم خان کی انتظامی اصلاحات کی پرزور حمایت

منصور احمد, JULY 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے مواصلات اور استحکامِ پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے صدر عبدالعلیم خان نے ملک میں وسیع پیمانے پر انتظامی اصلاحات کی پرزور حمایت کرتے ہوئے پاکستان کے چاروں صوبوں کو مزید تین تین نئے صوبائی و انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنے کی ایک بڑی اور اہم تجویز پیش کر دی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کردہ اپنے اہم بیانیے میں عبدالعلیم خان نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے انتظامی اصلاحات سے متعلق کی گئی باتیں انتہائی غور طلب اور وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور جدید انتظامی ضروریات کے پیشِ نظر اب چاروں صوبوں—پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان—کو ‘نارتھ’ (شمالی)، ‘سینٹرل’ (مرکزی) اور ‘ساؤتھ’ (جنوبی) کے نام سے تین تین حصوں میں تقسیم کر دینا چاہیے تاکہ کل 12 انتظامی یونٹس قائم ہو سکیں۔

صدر آئی پی پی عبدالعلیم خان نے وضاحت کی کہ اس جغرافیائی و انتظامی فریم ورک کی بدولت کسی بھی صوبے کا نام تبدیل کرنے کی ضرورت پیش آئے گی اور نہ ہی علاقوں کی تاریخی یا ثقافتی شناخت متاثر ہوگی، بلکہ تمام خطوں کی ثقافتی پہچان مکمل طور پر برقرار رہے گی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ موجودہ نظام کے تحت عام شہریوں کو اپنے بنیادی مسائل اور چھوٹے کاموں کے لیے بھی سینکڑوں کلومیٹر کا طویل و دشوار سفر طے کر کے صوبائی دارالحکومتوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر مسائل عوام کی دہلیز پر حل ہوں اور نئے صوبے بن جائیں تو اس سے براہِ راست عوام کا فائدہ ہوگا، تاہم اگر اس اقدام سے کسی کی ذاتی یا سیاسی ‘بادشاہت’ پر حرف آتا ہے تو وہ الگ بات ہے، کیونکہ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے جہاں بادشاہت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ کئی دہائیوں سے نئے صوبوں کی تشکیل کی باتیں محض سیاسی نعروں اور بیانات تک محدود رہیں لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ تمام سیاسی قیادت بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک پیج پر آئے اور اس وژن کو عملی شکل دے۔ انہوں نے زور دیا کہ نئے صوبوں کی تشکیل سے ملک میں چیف سیکرٹریز، آئی جیز اور ہائی کورٹس عوام کو زیادہ مؤثر اور فوری خدمات فراہم کر سکیں گے جس سے معیشت مستحکم، ترقی متوازن اور قومی یکجہتی مزید مضبوط ہوگی۔

بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی کی درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات کالعدم: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے چیمبر اپیل منظور کر لی

کاشف عباسی , JULY 31,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے بانی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی ہسپتال منتقلی سے متعلق درخواست پر رجسٹرار آفس کی جانب سے عائد کردہ تمام اعتراضات کے خلاف دائر کی گئی چیمبر اپیل منظور کر لی ہے۔ اعلیٰ عدالت نے رجسٹرار آفس کے ابتدائی اعتراضات کو مکمل طور پر کالعدم قرار دیتے ہوئے درخواست کو باضابطہ کیس نمبر الاٹ کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے جمعہ کے روز اپنے چیمبر میں اس اہم اپیل کی باقاعدہ سماعت کی، جس کے دوران بانی پی ٹی آئی کے وکیل عذیر کرامت بھنڈاری عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے بانی پی ٹی آئی کے وکیل کو موکل کا دستخط شدہ قانونی وکالت نامہ جمع کرانے کی ہدایت جاری کی۔

سپریم کورٹ نے رجسٹرار آفس کو باضابطہ حکم دیا کہ بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی سے متعلق اس اپیل کو فوری طور پر نمبر الاٹ کیا جائے اور اسے پہلے سے زیرِ سماعت ‘عظمیٰ خان’ کے مقدمے کے ساتھ یکجا یعنی منسلک کر دیا جائے۔ مزید برآں، چیف جسٹس نے بانی پی ٹی آئی اور عظمیٰ خان کی درخواستوں کو اعلیٰ عدلیہ میں جلد از جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کی استدعا بھی منظور کر لی ہے۔

سکیورٹی فورسز کا ضلع خضدار میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن: بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان کی بارود سے بھری دو گاڑیاں تباہ، 4 دہشت گرد ہلاک

کاشف عباسی , JULY 30,026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع خضدار میں ایک بڑی اور تیز رفتار کارروائی انجام دیتے ہوئے بھارتی پراکسی ‘فتنہ الہندوستان’ سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے شوم منصوبے کو ناکام بنا دیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے پنجشنبہ (جمعرات) کو جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق، خضدار میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کیے گئے اس خصوص آپریشن کے دوران بارودی مواد سے لدی دو گاڑیاں کامیابی سے تباہ کر دی گئیں جبکہ 4 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے ترجمان نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز کو علاقے میں بارودی مواد سے بھری گاڑیوں کے ساتھ خطرناک خوارجی و بھارتی حمایت یافتہ عناصر کی نقل و حرکت کی مصدقہ اطلاع ملی تھی۔ فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ان گاڑیوں کو روکنے کی کوشش کی اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں گاڑیوں سمیت ان کے ڈرائیورز اور ساتھی 4 دہشت گرد موقع پر ہی مارے گئے۔ سکیورٹی فورسز نے دونوں بارودی گاڑیوں کو بروقت نشانہ بنا کر کسی بھی بڑے تباہ کن حادثے اور ممکنہ نقصان سے علاقے کو محفوظ کر لیا ہے۔ فی الوقت علاقے میں چھپے کسی بھی دوسرے ہدف یا بھارتی سرپرستی میں فعال دہشت گرد کے مکمل خاتمے کے لیے کلیئرنس اور سرچ آپریشن پوری قوت سے جاری ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے اپنے بیان میں عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وفاقی ایپکس کمیٹی برائے نیشنل ایکشن پلان کی منظوری سے شروع کیے گئے وژن ‘عزمِ استحکام’ کے تحت پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک بھر سے بلاامتیاز دہشت گردی کے خلاف برسرِ پیکار رہیں گے۔ آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ بیرونِ ملک خصوصاً بھارت کی سرپرستی، معاونت اور مالی امداد سے پاکستان میں بے گناہ شہریوں اور سکیورٹی اداروں پر حملہ کرنے والے ان تمام عناصر اور ناسور کا مکمل قلع قمع کیا جائے گا۔

وفاقی آئینی عدالت کا تاریخی و اہم قانونی فیصلہ: مقررہ مدت گزرنے کے بعد دائر نظرثانی درخواست کو بنیاد بنا کر حتمی عدالتی فیصلے کو بالواسطہ چیلنج نہیں کیا جا سکتا

منصور احمد, JULY 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

وفاقی آئینی عدالت نے ملک کے قانونی اور عدالتی نظام میں فیصلوں کے حتمی ہونے اور ملازمین کے بنیادی حقوق کے حوالے سے ایک انتہائی اہم، تاریخی اور سنگِ میل فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ چیف جسٹس آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان، جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ پر مشتمل اعلیٰ سطحی تین رکنی بینچ نے ‘محمد اکرم بنام نیشنل بینک آف پاکستان’ کے اہم مقدمے کا محفوظ شدہ تفصیلی فیصلہ سناتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ بہاولپور بینچ کا فیصلہ مکمل طور پر کالعدم قرار دے دیا ہے۔ وفاقی آئینی عدالت نے اپنے اس فیصلے میں صراحت کے ساتھ قرار دیا ہے کہ قانون کے تحت مقررہ مدت گزر جانے کے بعد دائر کی گئی نظرثانی درخواست کو بنیاد بنا کر کسی بھی حتمی عدالتی فیصلے کو بالواسطہ طور پر چیلنج نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ قانون کسی بھی فریق کو اس بات کی اجازت ہرگز نہیں دیتا کہ وہ مقررہ وقت گزرنے کے بعد مختلف قانونی فورمز کے ذریعے کسی حتمی فیصلے کو غیر مؤثر بنانے یا ختم کرنے کی کوشش کرے۔

عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلہ کن حکم میں واضح کیا کہ لیبر کورٹ کا 18 اپریل 2008ء کا فیصلہ حتمی قانونی حیثیت اختیار کر چکا ہے، اس لیے اس میں دی گئی تمام تر ہدایات کو دوبارہ کھولا یا چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ وفاقی آئینی عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں پنشن کے بنیادی حقوق پر انتہائی اہم قانون سازی و تشریح کرتے ہوئے قرار دیا کہ پنشن اور ریٹائرمنٹ کے تمام مالی فوائد کسی بھی ریٹائرڈ ملازم کا ایک مستحکم، باقاعدہ قابلِ نفاذ اور بنیادی قانونی حق ہیں جنہیں کسی مجاز عدالت کے واضح حکم کے بغیر ہرگز نہیں روکا جا سکتا۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ پنشن کی ادائیگی میں کسی بھی قسم کی بلاجواز تاخیر یا غیر قانونی رکاوٹ ڈالنا نہ صرف ملازم کے قانونی حقوق کی شدید خلاف ورزی ہے بلکہ یہ اعلیٰ عدلیہ کے ثابت شدہ فیصلوں سے انحراف اور صریح توہینِ عدالت کے مترادف بھی ہو سکتی ہے۔

مقدمے کے قانونی حقائق کی تفصیلات پر روشنی ڈالتے ہوئے فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار کو 2008ء میں بحالی کا حکم دیا گیا تھا، تاہم اداروں کی جانب سے مختلف پیچیدہ قانونی کارروائیوں کے باعث وہ اپنے مکمل پنشن اور دیگر جائز ریٹائرمنٹ فوائد سے محروم رہا۔ عدالت نے تمام تر ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ درخواست گزار محمد اکرم کی 1992ء سے 2017ء تک کی تقریباً 25 سالہ طویل ملازمت پنشن کے لیے مکمل طور پر قابلِ شمار ہے اور اس کی سابقہ تمام سروس کو بھی پنشن کے حساب کتاب میں لازمی شامل کیا جائے گا۔ عدالت نے اہم قانونی اصول پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قانون کا مسلمہ اصول ہے کہ جو کام براہِ راست نہیں کیا جا سکتا، وہ بالواسطہ بھی نہیں کیا جا سکتا اور مقدمات و قانونی تنازعات کا کسی نہ کسی مرحلے پر اختتام پذیر ہونا قانون کا بنیادی مقصد ہے۔ وفاقی آئینی عدالت نے درخواست کو اپیل میں تبدیل کرتے ہوئے اسے منظور کر لیا اور لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے لیبر کورٹ کے 2008ء کے فیصلے پر فوراً عملدرآمد کا حکم جاری کر دیا۔

پیپلز پارٹی کے الزامات بے بنیاد اور سیاسی مایوسی کا مظہر ہیں: وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے اطلاعات بیرسٹر دانیال چوہدری

منصور احمد, JULY 27,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے اطلاعات و نشریات بیرسٹر دانیال چوہدری نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینئر رہنماؤں ندیم افضل چن اور سعید غنی کی مشترکہ پریس کانفرنس پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے اسے حقائق کے منافی، بے بنیاد الزامات اور سیاسی مایوسی کا مظہر قرار دیا ہے۔ اپنے اہم ترین سیاسی بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی وفاقی و صوبائی حکومتیں نعروں کے بجائے عوامی خدمت، بنیادی ترقیاتی منصوبوں اور پائیدار معاشی استحکام پر کامل یقین رکھتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ندیم افضل چن کی جانب سے حکومتی کارکردگی، گرین بس منصوبے، گندم کی خریدو فروخت اور مون سون بارشوں کے انتظامی امور پر لگائے گئے تمام تر الزامات محض سیاسی پوائنٹ سکورنگ کا حصہ ہیں اور پیپلز پارٹی کو چاہیے کہ وہ اپنی مسلسل سیاسی ناکامیوں کا ملبہ دوسروں پر ڈالنے کی بجائے اپنی کارکردگی کا خود جائزہ لے۔

بیرسٹر دانیال چوہدری نے آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے تناظر میں سعید غنی کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے ن لیگ کے امیدوار پر فائرنگ کے تمام دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا، تاہم انہوں نے کارکن مختیار یونس کے جاں بحق ہونے پر دلی افسوس کا اظہار کیا اور لواحقین سے تعزیت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں تمام تر انتخابات آئین اور قانون کے عین مطابق، بالکل آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انداز میں منعقد ہو رہے ہیں، اور ممکنہ شکست کے شدید خوف کے باعث قبل از وقت دھاندلی کا شور مچانا پیپلز پارٹی کی ہمیشہ سے پرانی روایت رہی ہے۔ وفاقی پارلیمانی سیکرٹری نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی شاندار کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ گرین بس منصوبہ صوبے کے شہریوں کو جدید، محفوظ، باوقار اور ماحول دوست سفری سہولیات فراہم کر رہا ہے جس سے روزانہ ہزاروں افراد مستفید ہو رہے ہیں، جبکہ سکولوں میں آئی ٹی لیبز، فرنیچر اور سمارٹ کلاس رومز کی فراہمی کے کام تیزی سے جاری ہیں۔

کسانوں اور زراعت کے حوالے سے ندیم افضل چن کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ پنجاب حکومت کے لیے زراعت اور کسانوں کی فلاح و بہبود اولین ترجیح ہے اور گندم کی خریداری سمیت تمام قومی فیصلے مکمل شفافیت کے ساتھ کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مون سون بارشوں کے حوالے سے “آدھا پنجاب ڈوبنے” کی باتوں کو حقیقت کے برعکس قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کی براہِ راست ہدایات پر انتظامیہ نے بروقت کارروائی کر کے محض دو سے تین گھنٹوں کے اندر تمام متاثرہ شہروں سے بارشی پانی کا مکمل انخلا یقینی بنایا۔ بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی بصیرت افروز قیادت میں وفاقی حکومت نے مہنگائی میں واضح کمی، سرمایہ کاری کے فروغ اور عوامی ریلیف کے لیے ٹھوس اور معاشی اقدامات کیے ہیں جن کے مثبت نتائج اب عوام کے سامنے آ رہے ہیں۔

وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال کا پمز ہسپتال کا دورہ: 200 بیڈز پر مشتمل زیرِ تکمیل جدید ایمرجنسی بلاک کا جائزہ، جلد فعال کرنے کا حکم

روزینہ اسماعیل, JULY 27,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسلام آباد کا دورہ کر کے وہاں 200 بیڈز پر مشتمل زیرِ تعمیر جدید اور سٹیٹ آف دی آرٹ ایمرجنسی سینٹر کے ترقیاتی کاموں کا تفصیلی معائنہ کیا، جو اس وقت اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ دورے کے دوران پمز ہسپتال کی سینئر انتظامیہ اور انجینئرنگ ٹیموں نے وفاقی وزیر کو منصوبے کی موجودہ پیش رفت، فنی امور، جدید طبی آلات اور دستیاب سہولیات پر مفصل بریفنگ دی۔ وفاقی وزیر صحت نے ہدایت کی کہ ایمرجنسی بلاک کی عمارت کی فنشنگ، صفائی ستھرائی اور تمام تر درپیش تکنیکی امور کو بین الاقوامی معیار کے مطابق جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ اسے عوام الناس کے علاج معالجے کے لیے بلا تاخیر کھولا جا سکے۔ انہوں نے انتظامیہ کو منصوبے کا پی سی-فور کا عمل بھی تیز کرنے کی سخت تاکید کی۔ سید مصطفیٰ کمال نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پمز پر جڑواں شہروں اور گردونواح کے اضلاع سے آنے والے مریضوں کا شدید بوجھ ہے، اس لیے اس جدید ایمرجنسی سینٹر کا فعال ہونا وقت کی سب سے بڑی اور عاجلانہ ضرورت ہے۔

بریفنگ کے دوران وفاقی وزیر کو بتایا گیا کہ اس جدید ایمرجنسی بلاک میں شدید زخمی اور تشویشناک حالت کے مریضوں کے لیے 30 بیڈز پر مشتمل جدید ترین سرجیکل آئی سی یو10 بیڈز پر مشتمل میڈیکل آئی سی یو، دو بڑے اور جدید آپریشن تھیٹرز جبکہ دو مائنر آپریشن تھیٹرز قائم کیے گئے ہیں جو ہنگامی بنیادوں پر بہترین طبی نگہداشت فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ اس کے بعد وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے چائلڈ لائف فاؤنڈیشن کے تعاون سے پمز میں قائم کردہ پیڈیاٹرک (بچوں کے) ایمرجنسی سینٹر کا بھی معائنہ کیا اور وہاں زیرِ علاج بچوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، ادویات اور دیکھ بھال کے معیار کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ انہوں نے واضح اور سخت الفاظ میں ہدایت کی کہ معصوم بچوں کے علاج معالجے میں کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور حکومت ہر ممکن وسائل فراہم کر رہی ہے۔ وفاقی وزیر صحت نے اس عزم کو دہرایا کہ وزارتِ صحت تمام سرکاری ہسپتالوں کی کارکردگی اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے تمام ضروری اقدامات مسلسل جاری رکھے گی۔