پاکستان اور ایتھوپیا کے بڑھتے ہوئے تعلقات: اسلام آباد میں پہلے ’ایتھوپیئن کافی کیفے‘ کا باقاعدہ افتتاح

منصور احمد, August 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

پاکستان اور ایتھوپیا کے مابین تجارتی، ثقافتی اور عوامی روابط کے فروغ میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایتھوپیا کے سفیر ڈاکٹر عمر حسین اوبا نے گزشتہ روز اسلام آباد میں ملک کے پہلے اختصاصی ’ایتھوپیئن کافی کیفے‘ کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ دونوں برادر ممالک کے بڑھتے ہوئے دوطرفہ سفارتی تعلقات کے تناظر میں اسے ثقافتی پل کی تعمیر کی جانب ایک غیر معمولی اور اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

افتتاحی تقریب کے بعد روایتی ایتھوپیئن کافی کی مخصوص اور خوبصورت رسم بھی منعقد کی گئی، جس میں پاکستان میں مقیم ایتھوپیئن کمیونٹی، سفارتخانے کے اعلیٰ عملے، ممتاز شخصیات اور میڈیا کے نمائندگان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سفیر ڈاکٹر عمر حسین اوبا نے کہا کہ اس کیفے کا افتتاح پاکستان میں ایتھوپیئن کافی اور اس کی عظیم تاریخ کے باقاعدہ تعارف کی علامت ہے، جبکہ جڑواں شہروں (اسلام آباد و راولپنڈی) کی سطح پر یہ اپنی نوعیت کا پہلا اور منفرد ایتھوپیئن کافی ہاؤس ہے۔ انہوں نے اجاگر کیا کہ ایتھوپیا کو انسانیت کی جائے پیدائش اور دنیا کی بہترین ‘عربیکا کافی’ کا اصل وطن ہونے کے باعث بجا طور پر “لینڈ آف اوریجنز” کے نام سے پکارا جاتا ہے۔

ایتھوپیئن سفیر نے مزید بتایا کہ اس کیفے کا قیام اور اس کی ملکیت ایک ایتھوپیئن-پاکستانی جوڑے کے پاس ہونا اس اقدام کو عوامی سطح پر مزید دوآتشہ اور اہم بناتا ہے، جو دونوں ممالک کے عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت اور برادری کی روشن عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کیفے کا باضابطہ نام “حبیشہ” رکھا گیا ہے، جو کہ ایتھوپیا کا قدیم اور تاریخی نام ہے۔ یہ نام پاکستانی عوام کے لیے بھی خاص روحانی و تاریخی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ مسلمان حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ اور حبشہ کے منصف مزاج بادشاہ نجاشی سے گہری اور تاریخی عقیدت رکھتے ہیں، جنہوں نے ہجرتِ حبشہ کے کٹھن وقت میں ابتدائی مسلمانوں کو اپنے ملک میں پناہ فراہم کی تھی۔ سفیر نے دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ثقافتی تبادلوں میں اضافے پر زور دیا۔

کیفے کے مالکان میں شامل نعیم ہاشمی نے تقریب کے موقع پر میڈیا کو بتایا کہ “حبیشہ کیفے” کے قیام کا بنیادی مقصد پاکستان اور ایتھوپیا کو ایک دوسرے کے مزید قریب لانے کے لیے ایک ایسا فعال پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے جہاں دونوں ممالک کے لوگ ایک دوسرے کے آرٹ، ثقافت، روایتی موسیقی، رسم و رواج اور سیاحتی مقاصد سے آگاہی حاصل کر سکیں اور ان کا آزادانہ تبادلہ کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کیفے محض بہترین کافی پیش کرنے کا مرکز نہیں، بلکہ پاکستان اور ایتھوپیا کے درمیان مضبوط ثقافتی اور عوامی روابط کے فروغ کا ایک اہم زریعہ ثابت ہو گا۔

شاہ چارلس رواں ہفتے پاکستانی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم سے ملاقات کریں گے: بکنگھم پیلس نے تصدیق کر دی

محمود احمد, August 30,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

برطانیہ کے شاہی محل ’بکنگھم پیلس‘ نے باضابطہ تصدیق کی ہے کہ شاہ چارلس رواں ہفتے کے آخر میں انگلینڈ کے دورے پر موجود پاکستان کی قومی مردوں کی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں اور آفیشلز سے ایک خصوصی اور اہم ملاقات کریں گے۔ شاہی ترجمان کے مطابق اس تاریخی ملاقات کی منصوبہ بندی کرکٹ سیریز کے باقاعدہ آغاز سے قبل ہی حتمی طور پر طے کر لی گئی تھی۔

بکنگھم پیلس سے جاری کردہ ایک رسمی اور سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شاہ چارلس بحیثیت ’سربراہِ دولتِ مشترکہ‘ پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کا اپنی سرکاری رہائش گاہ ’کلیرنس ہاؤس‘ کے سرسبز باغات میں پرجوش استقبال کریں گے۔ یہ یادگار اور روایتی ملاقات انگلینڈ کے خلاف جاری انگلش سمر سیریز کے دوسرے اور تیسرے ٹیسٹ میچ کے درمیانی وقفے میں منعقد کی جائے گی۔

سفارتی اور سپورٹس ذرائع کے مطابق دولتِ مشترکہ کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے شاہ چارلس اس موقع پر پاکستانی کرکٹرز اور بورڈ آفیشلز کے لیے اعزازی استقبالیہ کا اہتمام کریں گے، جسے دونوں ممالک کے مابین کھیل، ثقافت اور بین الاقوامی تعلقات کو مزید فروغ دینے کی جانب ایک اہم اور خوش آئند پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ایران کا کاظم غریب آبادی کا بڑا اعلان: تہران اور مسقط کے درمیان آبنائے ہرمز میں عارضی سمندری راہداری پر اتفاق، مکمل بحالی امریکی اقدامات سے مشروط

محمود احمد, August 30,2026

تہران/مسقط/ابوظہبی (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے اعلان کیا ہے کہ تہران اور سلطنتِ عمان (مسقط) کے مابین سٹریٹجک آبنائے ہرمز کے بین الاقوامی سمندری راستے سے بحری جہازوں کی آمد و رفت کو ممکن بنانے کے لیے ایک عارضی سمندری راہداری کے قیام پر اتفاقِ رائے ہو گیا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران اس دنیا کی سب سے اہم آبی گزرگاہ کو اس وقت تک مکمل اور باضابطہ طور پر نہیں کھولے گا جب تک امریکہ کو اس کے سیکیورٹی و معاشی وعدوں اور ذمہ داریوں پر عمل درآمد کا پابند نہیں بنا لیا جاتا۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سخت موقف اپنائے ہوئے زور دے کر کہا کہ آبنائے ہرمز عالمی ٹریفک کے لیے بدستور بند ہے اور فی الوقت اگر کوئی تجارتی یا تیل بردار جہاز اس آبی راستے سے گزرتا ہے تو یہ صرف اور صرف ایران کی پیشگی اطلاع اور باضابطہ اجازت سے ہی ممکن ہو پاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عارضی راہداری کا مقصد صرف محدود انسانی اور ضروری مقاصد کی بحالی ہے، لیکن گزرگاہ کے مکمل تحفظ کا انحصار واشنگٹن کے رویے پر منحصر ہے۔

دوسری جانب، مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی معاشی پیش رفت کے تحت متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ملک میں قائم ’بینک مصر‘ کی تمام اماراتی شاخوں کا تفصیلی اور ہنگامی معائنہ مکمل کر لیا ہے۔ اماراتی مرکزی بینک کا یہ اقدام واشنگٹن کی جانب سے عائد کردہ تازہ ترین سخت اقتصادی پابندیوں کے بعد سامنے آیا ہے، جس کے تحت ‘بینک مصر’ کو امریکی ڈالر اور مالیاتی نظام سے منقطع کر دیا گیا ہے۔ امریکی مالیاتی حکام کے مطابق مصر کے اس مرکزی بینک پر پابندی کا فیصلہ ایران پر سیاسی و معاشی دباؤ کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کی وسیع تر عالمی پالیسی کا حصہ ہے۔

پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ترکی پہنچ گئے: مکہ دفاعی معاہدے کے پہلے تاریخی اجلاس میں شرکت متوقع

منصور احمد, August 30,2026

راولپنڈی/استنبول (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (ISPR) کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اپنے ایک اہم سرکاری دورے پر ترکی کے دارالحکومت انقرہ اور استنبول پہنچ گئے ہیں۔ آئی ایس پی آر نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے اس اعلیٰ سطحی عسکری دورے کی آمد کے علاوہ مزید تکنیکی تفصیلات باضابطہ طور پر جاری نہیں کی ہیں، تاہم عالمی دفاعی حلقوں میں اس دورے کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔

آرمی چیف کا یہ دورہ ایک ایسے اہم موڑ پر ہو رہا ہے جب ‘مکہ دفاعی معاہدے’ کے تحت تشکیل دی گئی سٹریٹجک کمیٹی کا پہلا تاریخی اجلاس کل ترکی میں منعقد ہونے جا رہا ہے۔ اس افتتاحی اجلاس میں معاہدے کے تمام رکن ممالک ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کے اعلیٰ ترین عسکری اور سیاسی نمائندوں کی شرکت کی مکمل توقع ہے۔ پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار بھی پہلے ہی سے ترکی کے دورے پر موجود ہیں اور وہاں مختلف اہم سفارتی مصروفیات، دوطرفہ میٹنگز اور اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ فی الوقت پاکستانی حکام نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورے کے مزید تفصیلات یا مکہ معاہدے کے اجلاس کے ایجنڈے کو خفیہ رکھا ہے۔

سفارتی و دفاعی ذرائع کے مطابق مکہ دفاعی معاہدے میں مستقبل کے اندر مزید اہم مسلم ممالک کی شمولیت کا امکان بھی زیرِ غور لایا جا رہا ہے اور اس تناظر میں عرب جمہوریہ مصر کا نام سرفہرست لیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب اس اتحاد میں اسلامی جمہوریہ ایران کا نام بھی بعض دفاعی خبروں میں سامنے آیا ہے، تاہم ایرانی وزارتِ خارجہ کے سرکاری ترجمان کے مطابق تہران کی جانب سے فی الحال اس تین ملکی سیکیورٹی اتحاد میں شمولیت اختیار کرنے کے لیے کوئی باضابطہ یا رسمی درخواست پیش نہیں کی گئی ہے۔

مکہ دفاعی معاہدے کے باضابطہ اعلان کے بعد سے ہی بین الاقوامی دفاعی ماہرین اور سیاسی تجزیہ کاروں کی جانب سے اس کی ساخت اور اہداف کے بارے میں متنوع آرا سامنے آ رہی ہیں۔ بعض عالمی ماہرین اس سہ فریقی بلاک کو ایک ’سنی اتحاد‘ یا ’اسلامی نیٹو‘ قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر کے نزدیک یہ دفاعی شراکت داری خطے کے اہم کھلاڑیوں یعنی ایران اور اسرائیل کے لیے ایک واضح سیاسی و سیکیورٹی پیغام فراہم کرتی ہے۔ کچھ بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ یہ معاہدہ بنیادی طور پر ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کی جانب سے اپنے سلامتی و دفاعی امور کے لیے امریکہ پر روایتی انحصار کم کرنے کی ایک وسیع تر اور خود مختار حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا پہلا تاریخی اجلاس کل استنبول میں منعقد ہو گا: ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کی عسکری و سفارتی قیادت متحرک

کاشف عباسی , August 30,2026

استنبول/انقرہ (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کے مابین طے پانے والے تاریخی ‘مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے’ کے تحت تشکیل دی گئی سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا پہلا افتتاحی اجلاس 31 اگست کو استنبول میں منعقد ہو رہا ہے۔ ترکی کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک اہم رسمی بیان کے مطابق، اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں تینوں دوست اور برادر اسلامی ممالک کی اعلیٰ ترین سیاسی، سفارتی اور عسکری قیادت ایک ہی میز پر جمع ہو کر خطے کی صورتحال اور مشترکہ دفاع پر تفصیلی غوروخوص کرے گی۔

ترک وزارت خارجہ کی تفصیلات کے مطابق اس تاریخی اجلاس میں ترکی کی جانب سے وزیر خارجہ ہاکان فیدان وزیر برائے قومی دفاع یاشار گولر اور ترک مسلح افواج کے سربراہ جنرل سلجوق بایراکتار اوغلو سمیت پاکستان اور سعودی عرب کے اعلیٰ حکام شرکت کریں گے۔ پاکستان کی نمائندگی کے لیے افواجِ پاکستان کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار پہلے ہی اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ استنبول پہنچ چکے ہیں۔

سرکاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ اجلاس مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم کردہ سہ فریقی تعاون کے فریم ورک کے عین مطابق منعقد کیا جا رہا ہے۔ اس اجلاس کے بنیادی ینڈے میں شریک ممالک کے درمیان سٹریٹجک، دفاعی، سیکیورٹی، انٹیلی جنس اور جیو پولیٹیکل امور پر باہمی مشاورت اور آپریشنل صلاحیتوں میں اضافہ شامل ہے۔

ترکی کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا یہ پہلا باضابطہ اجلاس ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی و سفارتی تعلقات کو نہ صرف ایک جدید اور مضبوط تر نہج پر استوار کرے گا بلکہ اسے مزید مستحکم بنانے کی جانب ایک انتہائی اہم اور سٹریٹجک قدم بھی ثابت ہو گا۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی استنبول میں ترک ہم منصب حاقان فیدان سے اہم ملاقات: دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال

محمود احمد, August 30,2026

استنبول/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے استنبول میں ترکی کے وزیر خارجہ حاقان فیدان سے ایک اعلیٰ سطحی اور اہم ملاقات کی ہے۔ دونوں رہنماؤں کے مابین ہونے والی اس ملاقات میں پاک ترکی دوطرفہ برادرانہ تعلقات کو مزید وسعت دینے، خطے کی تازہ ترین جیو پولیٹیکل صورتحال اور باہمی دلچسپی کے متعدد اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترکی کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک سرکاری بیان کے مطابق اس ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دفاعی، سفارتی اور معاشی شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر کامل اتفاق کیا گیا۔ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اس وقت ترکی کے اعلیٰ سطحی سرکاری دورے پر موجود ہیں، جہاں وہ تاریخی ‘مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے’ کے تحت تشکیل دی جانے والی سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے پہلے افتتاحی اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

اس اہم سٹریٹجک اجلاس کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے دفاعی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کے فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی اس اعلیٰ سطحی سیاسی و دفاعی اجلاس میں شرکت کے لیے ترکی پہنچ چکے ہیں۔ اس کمیٹی کے انعقاد کو پاکستان، ترکی اور دیگر اتحادی ممالک کے درمیان سیکیورٹی، مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے اور خطے میں امن و امان کے قیام کے لیے ایک غیر معمولی اور سنگِ میل پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکی سٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر کو وینزویلا کے تیل سے بھرنے کا اعلان: تیل کو امریکی عوام کے لیے ‘تحفہ’ قرار دے دیا

محمود احمد, August 30,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم پالیسی بیان میں اعلان کیا ہے کہ وینزویلا سے حاصل ہونے والے خام تیل کو امریکہ کے خالی ہوتے ہوئے سٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو کو دوبارہ بھرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری کردہ ایک پیغام میں وینزویلا کے تیل کو امریکی عوام کے لیے ایک “تحفہ” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قومی سٹریٹجک تیل کے ذخائر کو ہنگامی بنیادوں پر دوبارہ بھرنے کا باقاعدہ عمل بہت جلد شروع کر دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ امریکہ کے سٹریٹجک تیل کے ذخائر حالیہ برسوں کے دوران عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی میں آنے والی شدید رکاوٹوں، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور ایندھن کی عالمی قیمتوں میں اضافے سے نمٹنے کے لیے ریکارڈ سطح پر استعمال کیے گئے ہیں، جس کے باعث ان کی مجموعی مقدار میں تاریخی کمی واقع ہوئی ہے۔ تازہ ترین سرکاری اعدادوشمار کے مطابق امریکی سٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو میں 21 اگست تک تیل کا ذخیرہ تقریباً 290 ملین بیرل تک گر گیا تھا، جو کہ گزشتہ 44 برسوں کی کم ترین سطحوں میں شمار ہوتا ہے۔ امریکہ نے یوکرین پر روس کے حملے اور ایران سے متعلق علاقائی کشیدگی کے دوران، جو بائیڈن اور ڈونلڈ ٹرمپ دونوں کے ادوارِ حکومت میں تجارتی اور معاشی استحکام کے لیے ذخائر سے بڑے پیمانے پر خام تیل مارکیٹ میں جاری کیا تھا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ جمعے کو یہ رسمی اعلان کیا تھا کہ وینزویلا کی طویل عرصے سے تباہ حال اور معاشی دباؤ کا شکار تیل کی صنعت کی بحالی و پیداوار کے لیے ایک تاریخی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ تاہم، توانائی کے بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے تحت وینزویلا سے امریکہ تک تیل کی فوری اور بڑی مقدار میں سپلائی اتنی آسان نہیں ہوگی۔ ماہرین کے مطابق وینزویلا میں تیل کی پیداوار کو مؤثر اور نمایاں سطح تک بڑھانے کے لیے جدید بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کی بحالی، ڈرلنگ ریگز اور وسیع مالیاتی سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہوگی۔

فی الوقت معاشی اور ایندھن کی مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بات مکمل طور پر واضح نہیں ہے کہ وینزویلا کے ساتھ طے پانے والا یہ نیا توانائی معاہدہ امریکی تیل کے ذخائر کو کتنی تیزی سے بھرنے میں مدد دے سکے گا اور آیا قلیل مدت کے دوران امریکی عوام کے لیے ایندھن اور پیٹرولیم مصنوعات کی مقامی قیمتوں پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان کا لاہور میں مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں سے خطاب: نوجوانوں کو ہنر مند بنانے اور روزگار کی فراہمی کے لیے بڑے اقدامات کا اعلان

کاشف عباسی , August 30,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما رانا مشہود احمد خان نے کہا ہے کہ پارٹی کے مخلص اور محنتی کارکنان ہماری جماعت کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کے روشن وژن کے تحت ملک بھر کے نوجوانوں کو معیارِ تعلیم، جدید فنی تربیت ، کاروبار، نجی سٹارٹ اپس اور روزگار کے وسیع مواقع فراہم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اپنے حلقے کے عوامی مسائل سے ہرگز غافل نہیں ہیں اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے دن رات کوشاں ہیں۔

اتوار کے روز لاہور کے صوبائی حلقہ پی پی 172 میں مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے رانا مشہود احمد خان نے بتایا کہ ہر یونین کونسل کی سطح پر پارٹی تنظیم، یوتھ ونگ، لیبر ونگ، لائرز ونگ، تاجر ونگ اور خواتین ونگ کو مکمل طور پر بااختیار بنایا گیا ہے، جبکہ مختلف سرکاری محکموں کے لیے مقرر کیے گئے کوآرڈینیٹرز کے ذریعے شہریوں کے مسائل کی نشاندہی اور ان کے فوری حل کے لیے مسلسل رابطہ کاری کا نظام قائم کر دیا گیا ہے۔

اپنے خطاب کے دوران انہوں نے عالمی اور علاقائی ماحولیاتی بحران کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تغیر اب پورے خطے کے لیے ایک سنگین اور حقیقی خطرہ بن چکا ہے۔ حالیہ شدید گرمی کی لہر، ہمالیائی گلیشیئرز کے پگھلنے، کلاڈ برسٹ اور غیر معمولی بارشوں نے عالمی سطح پر نئے اور درپیش چیلنجز پیدا کر دیے ہیں، جس کی حالیہ مثال چین اور نیپال کی سرحد پر آنے والے تباہ کن سیلابی ریلے ہیں۔ انہوں نے بجلی کی لوڈشیڈنگ اور ٹرانسفارمرز کی خرابی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گرمی میں اضافے سے سسٹم پر اضافی دباؤ آتا ہے، تاہم پی پی 172 میں تبدیل کیے جانے والے ٹرانسفارمرز کا مکمل ریکارڈ مرتب کیا جا رہا ہے اور بجلی سے متعلق مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جا رہا ہے۔

عوامی سہولیات اور بنیادی انفراسٹرکچر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یو سی 93 میں 146 سڑکوں کے سیوریج سسٹم کا کام مکمل ہونے کے بعد باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا ہے، جبکہ سڑکوں، گلیوں، بجلی اور سوئی گیس کی فراہمی کے منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ نوجوانوں کو جدید ہنر سکھانے کے لیے سبزہ زار میں قائم ٹیکنیکل ایجوکیشن کا ادارہ رواں سال دسمبر یا جنوری تک مکمل طور پر فعال کر دیا جائے گا۔ اس ادارے کے ذریعے وہ اپنے حلقے کے کم از کم 2,000 نوجوانوں کو چھ ماہ کے اندر مفت ٹریننگ دلا کر بیرونی ممالک میں روزگار کے مواقع فراہم کریں گے، جبکہ نجی تعاون سے کل 10,000 طلبہ و طالبات کو تربیت فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

صحت کے شعبے میں بڑے ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے رانا مشہود احمد خان نے سوڈیوال کے رانا عبدالرحیم ہسپتال میں 7 جبکہ حاجی ابراہیم ہسپتال میں مزید 4 ڈائیلاسز مشینیں فراہم کرنے کا اعادہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان ہسپتالوں میں نایاب ادویات کی فراہمی اور آئندہ دو ماہ کے اندر مریضوں کے تمام طبی ٹیسٹ بالکل مفت کرانے کا انتظام مکمل کر لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ گلشن راوی میں لاہور کے جدید ترین فلٹریشن پلانٹس میں سے ایک کا افتتاح آئندہ ہفتے کیا جائے گا۔

بین الاقوامی تعلیمی اور سفارتی کامیابیوں کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ چین کے حالیہ دورے کے دوران 50 چینی یونیورسٹیوں اور 70 ٹیکنیکل و میڈیکل اداروں کے ساتھ مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے، جبکہ امریکہ کے دورے میں 25 امریکی اور 13 میڈیکل یونیورسٹیوں کے ساتھ اہم معاہدے طے پائے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ روز لاہور میں منعقدہ بین الاقوامی ہیلتھ کانفرنس اور ایکسپو میں 21 ممالک کے سفیروں کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر مضبوط روابط قائم کر رہا ہے۔ رانا مشہود احمد خان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنے حلقے اور ملک کے نوجوانوں کی ترقی، تعلیم اور صحت کے لیے اپنے تمام سرکاری اور ذاتی وسائل کا استعمال جاری رکھیں گے۔

راسووا سیلاب کے بعد ملکی انفراسٹرکچر کی سب سے بڑی تباہی: 19 پل متاثر، 40 کلو میٹر طویل سڑک کو نقصان اور متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت

محمود احمد, August 30,2026

کاٹھمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

نیپال میں آنے والے تباہ کن اور اچانک سیلاب کے بعد شدید کٹاؤ کے باعث ملک کی انتہائی اہم اور مرکزی شاہراہ ‘پرتھوی ہائی وے’ کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے، جس سے اہم مواصلاتی رابطے منقطع ہو گئے ہیں۔ نیپال کے شعبہ روڈز (محکمہ سڑک جات) کے سربراہ و ڈائریکٹر جنرل وجے جائسی نے باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ راسووا کے علاقے میں آنے والے ہولناک سیلاب کے بعد یہ ملک کے سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے (شاہراہیں اور پل) کو پہنچنے والا سب سے بڑا اور سنگین ترین نقصان ہے۔

محکمے کے ڈائریکٹر جنرل وجے جائسی کے مطابق گذشتہ بدھ کے روز آنے والے تباہ کن سیلاب کے فوراً بعد دھاڈنگ ضلع کے علاقے ‘کرشنابھیر’ میں زمین اور سڑک کے کٹاؤ کا سلسلہ شروع ہوا تھا، جبکہ اتوار کی صبح پہاڑوں سے آنے والے ایک اور شدید سیلابی ریلے نے تباہی پھیلاتے ہوئے صورتحال کو مزید تشویشناک اور سنگین بنا دیا ہے۔ شدید کٹاؤ کے باعث مرکزی شاہراہ کا بڑا حصہ دریا میں بہہ چکا ہے اور گاڑیوں کی آمد و رفت مکمل طور پر معطل ہو گئی ہے۔

حالات کی سنگینی کو مدِنظر رکھتے ہوئے وجے جائسی نے مسافروں، ڈرائیورز اور ٹرانسپورٹ آپریٹرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ سفر کے لیے فوری طور پر متبادل راستے اختیار کریں۔ محکمہ سڑک جات کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے محکمے کے 19 اہم پل متاثر یا تباہ ہوئے ہیں، جبکہ نواکوٹ سے سیافروبیسی اور رسووا گڑھی تک تقریباً 40 کلومیٹر طویل سڑک کا بنیادی ڈھانچہ بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ محکمے نے ہنگامی ٹیمیں تشکیل دے کر بحالی کا کام شروع کر دیا ہے تاہم مسلسل بارشوں کے باعث سڑک کھودنے اور بحال کرنے میں شدید دشواری پیش آ رہی ہے۔

ملکی ڈیموں میں قابلِ استعمال پانی کا مجموعی ذخیرہ 11.39 ملین ایکڑ فٹ سے تجاوز کر گیا، سکھر بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 98 ہزار کیوسک سے زائد ریکارڈ

روزینہ اسماعیل, August 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے ملک کے مختلف دریاؤں، اہم بیراجوں اور بنیادی آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج اور واٹر لیول سے متعلق تازہ ترین ہنگامی اعدادوشمار جاری کر دیے ہیں۔ واپڈا کی جانب سے جاری کردہ ڈیٹا کے مطابق ملک کے اہم ڈیموں میں پانی کی سطح میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ تربیلا ڈیم اپنی انتہائی ذخیرہ اندوزی کی حد کو چھو چکا ہے۔

واپڈا کے مطابق، دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر پانی کی آمد اور اخراج دونوں ایک لاکھ 82 ہزار 100 کیوسک ریکارڈ کیے گئے۔ دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانی کی آمد اور اخراج 22 ہزار 400 کیوسک رہا، جبکہ خیرآباد پل پر پانی کی آمد اور اخراج ایک لاکھ 95 ہزار 600 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے علاوہ دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر پانی کی آمد 19 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 7 ہزار 400 کیوسک رہا، جبکہ دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد 72 ہزار 100 کیوسک اور اخراج 50 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔

ملک کے اہم بیراجوں کی صورتحال کے مطابق جناح بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 37 ہزار 800 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 29 ہزار 500 کیوسک رہا۔ چشمہ بیراج پر آمد ایک لاکھ 98 ہزار 700 کیوسک اور اخراج ایک لاکھ 80 ہزار کیوسک، جبکہ تونسہ بیراج پر آمد ایک لاکھ 79 ہزار 700 کیوسک اور اخراج ایک لاکھ 58 ہزار 800 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ سندھ کے بیراجوں میں گدو بیراج پر آمد 2 لاکھ 44 ہزار 800 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 8 ہزار 800 کیوسک، سکھر بیراج پر آمد 2 لاکھ 98 ہزار 600 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 46 ہزار 200 کیوسک، اور کوٹری بیراج پر آمد ایک لاکھ 58 ہزار 400 کیوسک جبکہ اخراج ایک لاکھ 15 ہزار 700 کیوسک رہا۔ پنجاب میں تریموں بیراج پر آمد 28 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 17 ہزار 600 کیوسک، جبکہ پنجند بیراج پر آمد 46 ہزار کیوسک اور اخراج 31 ہزار 800 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔

آبی ذخائر کے اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ تربیلا ڈیم کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1402 فٹ ہے، جبکہ ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح اپنی انتہائی گنجائش یعنی 1550 فٹ تک پہنچ چکی ہے اور یہاں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 5.580 ملین ایکڑ فٹ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ منگلا ڈیم میں (جس کا کم از کم لیول 1050 فٹ اور انتہائی سطح 1242 فٹ ہے) پانی کی موجودہ سطح 1219.30 فٹ تک پہنچ گئی ہے جہاں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 5.534 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ اسی طرح چشمہ بیراج کے ذخیرے میں پانی کی موجودہ سطح 648.50 فٹ (انتہائی سطح 649 فٹ) ریکارڈ کی گئی ہے اور وہاں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.285 ملین ایکڑ فٹ موجود ہے۔

خواتین مسافروں کی طویل قطار پر اضافی سرچ کاؤنٹر کھولنے کا حکم، ڈراپ آف لین پر ٹریفک رش پر تشویش کا اظہار، توسیعی کام جلد مکمل کرنے کی ہدایت

منصور احمد, August 30,2026

اسلام آباد/لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے دفاع خواجہ محمد آصف نے لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا ایک اعلیٰ سطحی دورہ کیا، جہاں انہوں نے بین الاقوامی و اندرونِ ملک سفر کرنے والے مسافروں کے لیے کیے گئے سفری انتظامات کا باریک بینی سے معائنہ کیا اور ایئرپورٹ پر جاری اہم انفراسٹرکچر ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا موقع پر جائزہ لیا۔ ایئرپورٹ آمد پر قائم مقام چیف آپریٹنگ آفیسر و ایئرپورٹ منیجر اور دیگر اعلیٰ سول ایوی ایشن حکام نے وفاقی وزیر دفاع کا گرمجوشی سے استقبال کیا۔

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (PAA) کی جانب سے جاری کردہ ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق، دورے کے دوران وزیر دفاع نے ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس (ASF) کے سیکنڈ ہولڈ (انٹرنیشنل) ایریا کی چیکنگ کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر خواتین مسافروں کی طویل قطار کا فوری نوٹس لیتے ہوئے خواجہ آصف نے متعلقہ حکام کو کلیئرنس کے عمل کو تیز تر بنانے اور مسافروں کی سہولت کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اضافی سرچ کاؤنٹرز فوری طور پر کھول کر آپریشنل کرنے کی سخت ہدایت کی۔

وفاقی وزیر دفاع نے ایئرپورٹ پر نئے تعمیر شدہ امیگریشن ایریا کا بھی تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے امیگریشن کاؤنٹرز پر تعینات عملے کی کارکردگی اور وہاں جاری بقیہ تعمیراتی کام کی رفتار کا جائزہ لیا۔ دورے کے دوران قائم مقام چیف آپریٹنگ آفیسر و ایئرپورٹ منیجر نے وزیر دفاع کو جاری توسیعی و ترقیاتی کاموں، اور اس دوران مسافروں کی جلد پراسیسنگ اور دیگر سفری سہولیات کے لیے کیے گئے متبادل انتظامات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

خواجہ آصف نے انٹرنیشنل ڈپارچر کے جوائنٹ سرچ ایریا سمیت دیگر مسافر سہولیات کا بھی معائنہ کیا اور مجموعی انتظامات پر اپنے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ بین الاقوامی مسافروں کے لیے خدمات کے اعلیٰ معیار کو ہر صورت برقرار رکھا جائے۔

بعد ازاں، وفاقی وزیر دفاع نے زیرِ تعمیر ڈومیسٹک ڈپارچر ایریا کا بھی دورہ کیا، جہاں انہیں جاری سول ورکس، مجوزہ جدید سہولیات اور منصوبے کی مجموعی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ایئرپورٹ کے بیرونی حصے میں ڈپارچر ڈراپ آف لین پر گاڑیوں اور ٹریفک کے شدید رش پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خواجہ آصف نے ہدایت کی کہ مسافروں کی آسان اور محفوظ رسائی کو یقینی بنانے کے لیے اس لین کی نمایاں توسیع کا کام ترجیحی بنیادوں پر اور بلا تاخیر مکمل کیا جائے۔

کے پی ٹی کے تحت بھٹ آئی لینڈ کراچی میں 35 واں مفت میڈیکل کیمپ: 513 ساحلی رہائشیوں کو مفت طبی سہولیات، ادویات اور لیبارٹری ٹیسٹس کی فراہمی

روزینہ اسماعیل, August 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے ملک کی بین الاقوامی بندرگاہوں کو روزگار کے مواقع، ٹیکس محصولات کی جمع آوری، لاجسٹکس سپلائی چین، صنعتی و تجارتی سرگرمیوں، اور واٹر فرنٹ کی جدید تخلیقِ نو کے ذریعے بندرگاہی شہروں کی پائیدار ترقی میں فعال کردار ادا کرنے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بندرگاہیں اور ساحلی شہر تاریخی و معاشی طور پر ایک دوسرے کے لازمی جزو ہیں، اور اس باہمی رشتے کو مزید مضبوط کرنے کی شدید ضرورت ہے۔

وزارتِ بحری امور کی جانب سے جاری کردہ ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق، وفاقی وزیر نے اس بات کی نشاندہی کی کہ بندرگاہی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والے اقتصادی فوائد کا دائرہ کار اکثر پورٹ کی حدوں سے نکل کر پورے ملک تک پھیل جاتا ہے، جبکہ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ماحولیاتی اور سماجی اثرات عموماً پورٹ کے قریبی شہروں اور آبادیوں پر ہی مرتکز رہتے ہیں۔ شہری اقتصادی ترقی میں بندرگاہوں کے کلیدی کردار پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے آس پاس کی مقامی ساحلی کمیونٹیز کو صحت، تعلیم اور بنیادی سہولیات کی فراہمی میں پورٹ اتھارٹیز کے روایتی کردار کو فعال طریقے سے بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری کے “ہیلتھ کیئر بیونڈ باؤنڈریز” (حدود سے پار صحت کی سہولیات) کے وژن پر عملدرآمد کرتے ہوئے، کراچی پورٹ ٹرسٹ نے کراچی کے سمندری جزیرے ‘بھٹ آئی لینڈ’ میں اپنے 35 ویں مفت طبی کیمپ کا انعقاد کیا۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ساحلی و جزیراتی آبادیوں تک معیاری طبی علاج کی رسائی کو ممکن بنانا تھا۔ کیمپ کے دوران کی ماہر طبی ٹیم نے جزیرے کے 513 غریب رہائشیوں کا تفصیلی معائنہ کیا اور انہیں مفت ادویات کے ساتھ ساتھ لیبارٹری ٹیسٹس کی سہولیات بھی فراہم کیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ بھٹ آئی لینڈ کا میڈیکل کیمپ حکومتِ پاکستان کے اس جامع وژن کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کے جوار میں مقیم کمزور آبادیوں کو پائیدار قومی ترقی کے فوائد میں برابر کا حصہ دار بنایا جا رہا ہے۔ پورٹ حکام کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، طبی کیمپ سے مستفید ہونے والوں میں 202 مرد، 201 خواتین اور 110 بچے شامل تھے، جبکہ موقع پر ہی 70 کے قریب ضروری لیبارٹری ٹیسٹ بھی سرانجام دیے گئے۔

طبی معائنے کے دوران ہیپاٹائٹس بی اور سی کی بروقت تشخیص کے لیے ایک خصوصی سکریننگ ڈرائیو بھی چلائی گئی تاکہ جزیرے کی پسماندہ آبادی میں متعدی بیماریوں کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔ کیمپ کے اعداد و شمار کے مطابق، رپورٹ ہونے والے تقریباً 70 فیصد کیسز جلد سے متعلق بیماریوں سے متعلق تھے، جبکہ سانس کی تکالیف، معدے کی شکایات، ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس کے دائمی مریض بھی پائے گئے۔ اس کے علاوہ کے سپیچ تھراپسٹ نے ماؤں کے لیے بچوں میں اعصابی عوارض اور بولنے کی تاخیر پر شعور بیدار کرنے کے سیشنز منعقد کیے، جس میں ابتدائی تشخیص اور تھراپی کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے کے پی ٹی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ ساحلی جزائر کے رہائشیوں کو ان کے گھر کی دہلیز پر صحت کی سہولیات فراہم کرنے کی مہم کو بلاتعطل جاری رکھے۔

نیپال سیلاب کے 2 روز بعد ملبے تلے دبے رہنے والی 5 سالہ بچی کے معجزانہ ریسکیو کی کہانی: ہسپتال میں والدین سے ملاقات، منیشا کی حالت اب مستحکم

محمود احمد, August 30,2026

کھٹمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

نیپال میں آنے والے قیامت خیز اور اچانک سیلاب و لینڈ سلائیڈنگ کے دو روز بعد ملبے کے نیچے سے معجزانہ طور پر زندہ نکالی جانے والی پانچ سالہ بچی بالآخر دارالحکومت کے ہسپتال میں اپنے والدین سے جا ملی ہے۔ ہسپتال کے ڈاکٹروں اور انتظامیہ کے مطابق ‘منیشا’ نامی بچی کی جسمانی و طبی حالت اب بالکل مستحکم ہے اور وہ کھٹمنڈو کے معروف ‘ٹیچنگ ہسپتال’ کے شعبۂ اطفال میں زیرِ علاج رہتے ہوئے تیزی سے صحت یاب ہو رہی ہے۔

سنسنی خیز اور معجزانہ ریسکیو آپریشن کے حوالے سے نیپال کی آرمڈ پولیس فورس کے اہلکار سنجو کھتری نے بتایا کہ ان کی ٹیم ضلع راسووا کے دشوار گزار علاقے ‘سیابروبیسی’ کے قریب سیلاب اور مٹی کے تودوں کی زد میں آنے والے تباہ شدہ مکانات کے ملبے میں زندہ بچ جانے والے شہریوں کی تلاش میں مصروف تھی۔ اس دوران سرچ ٹیم کو ملبے کے گہرے حصے سے کسی بلی کے پھنسے ہونے کی باریک اور مدہم آواز سنائی دی۔ امدادی ٹیموں نے جب شک کی بنیاد پر اس خاص حصے کی باریک بینی سے تلاشی لی اور وزنی ملبہ ہٹانا شروع کیا تو وہ وہاں معصوم منیشا کو ملبے تلے دبا دیکھ کر حیران رہ گئے۔ بچی کو محفوظ طریقے سے باہر نکالنے کی اس نازک کارروائی میں مسلسل دو گھنٹے لگے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو کے وقت منیشا شدید نڈھال تھی اور بمشکل ہی کسی سوال کا جواب دے پا رہی تھی۔ امدادی کارکنوں نے فوراً اسے ہیلی کاپٹر سے منتقل کرنے کی کوشش کی، تاہم خطے میں بادلوں اور خراب موسم کے باعث ہیلی کاپٹر کی اڑان ممکن نہ ہو سکی۔ جس کے بعد اسے قریبی ریسکیو کیمپ منتقل کر کے ابتدائی طبی امداد اور پانی دیا گیا۔ کچھ دیر بعد ہوش سنبھالنے پر اس کی نقاہت دور کرنے کے لیے چاول کا ابلا ہوا پانی پلایا گیا۔ شدید ذہنی صدمے کا شکار ہونے کے باوجود سنیچر کی دوپہر موسم بہتر ہوتے ہی اسے ایئر لفٹ کر کے کھٹمنڈو کے ٹیچنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ہسپتال کی جانب سے اتوار کو جاری کردہ تازہ ترین طبی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ منیشا کی صحت میں واضح بہتری آ رہی ہے اور وہ خطرے سے باہر ہے۔

آئی بی ایف ہیوی ویٹ عالمی ٹائٹل فائٹ: فلپ ہرگووچ نے موسس اٹاؤما کو شکست دے کر ورلڈ چیمپئن شپ جیت لی

محمود احمد, August 30,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

کروشیا کے 34 سالہ تجربہ کار باکسر فلپ ہرگووچ نے دنیا کے ابھرتے ہوئے برطانوی ہیوی ویٹ باکسر موسس اٹاؤما کو ایک سنسنی خیز اور سخت مقابلے کے بعد 9ویں راؤنڈ میں شکست دے کر آئی بی ایف ہیوی ویٹ عالمی ٹائٹل اپنے نام کر لیا ہے۔ لندن کے مشہور او ٹو ایرینا میں کھیلے گئے اس عالمی مقابلے میں فلپ ہرگووچ نے اپنے تجربے کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے حریف کو ہرایا، جس کے ساتھ ہی 21 سالہ برطانوی فائٹر موسس اٹاؤما کے مسلسل 14 فتح مند مقابلوں کا سلسلہ ٹوٹ گیا اور انہیں اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کی پہلی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

میچ کے آغاز میں 21 سالہ موسس اٹاؤما نے انتہائی تیز رفتار اور پراعتماد باکسنگ کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے ابتدائی راؤنڈز میں اپنے بائیں ہاتھ کے طاقتور اور درست وار سے فلپ ہرگووچ کو مسلسل دباؤ میں رکھا اور متعدد ابتدائی راؤنڈز میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ تاہم جیسے جیسے فائٹ آگے بڑھتی گئی، موسس اٹاؤما کی جسمانی رفتار میں کمی آتی گئی، ان کی سانسیں پھولنے لگیں اور رنگ میں ان کی ٹانگوں کی پھرتی برقرار نہ رہ سکی۔

دوسری جانب 34 سالہ کروشین فائٹر فلپ ہرگووچ نے مسلسل صبر اور تجربے کا مظاہرہ کرتے ہوئے حریف پر دباؤ بنائے رکھا اور ان کی تھکن کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ مقابلے کے 9ویں راؤنڈ میں جب اٹاؤما شدید تھکن اور دباؤ کا شکار تھے، ان کے کونے (کارنر) کی ٹیم نے رنگ میں تولیہ پھینک دیا، جس پر ریفری نے فوری طور پر فائٹ روک کر فلپ ہرگووچ کو ٹیکنیکل ناک آؤٹ کی بنیاد پر فاتح قرار دے دیا۔

فائٹ کے اختتام پر شدید تھکن اور ٹانگ پر چوٹ لگنے کے باعث موسس اٹاؤما کو سٹریچر پر رنگ سے باہر لے جایا گیا اور احتیاطی تدابیر کے طور پر طبی معائنے کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ان کے معروف پروموٹر فرینک وارن نے تصدیق کی کہ اٹاؤما کی صحت کو یقینی بنانے اور ٹانگ کی چوٹ کے معائنے کے لیے انہیں ہسپتال پہنچایا گیا ہے۔

باکسنگ کے ماہرین کے مطابق اس شکست کے باوجود موسس اٹاؤما کی صلاحیتوں پر کوئی سوالیہ نشان نہیں لگا ہے، بلکہ اس مقابلے نے یہ واضح کر دیا کہ ایک باصلاحیت فائٹر ہونے اور 12 راؤنڈز کی عالمی ٹائٹل فائٹ کے لیے درکار جسمانی فٹنس، تجربے اور حکمتِ عملی کے درمیان کتنا بڑا فرق ہوتا ہے۔ موسس اٹاؤما نے اپنی رفتار اور تکنیک سے ثابت کیا کہ وہ مستقبل کے ہیوی ویٹ ڈویژن کے سپر سٹار ہیں، تاہم فلپ ہرگووچ کے خلاف یہ فائٹ ان کے کیریئر کے لیے ایک انتہائی اہم اور سبق آموز پیش رفت ثابت ہوگی۔

نیپال میں سیلاب سے ہلاکتیں 734 ہو گئیں: 2,400 سے زائد افراد لاپتہ، 2,498 شہریوں کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا

محمود احمد, August 30,2026

کھٹمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

جنوبی ایشیائی ملک نیپال میں تباہ کن سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے (لینڈ سلائیڈنگ) کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ نیپال کے ‘نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی’ کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، اس قدرتی آفت کے باعث جاں بحق ہونے والے شہریوں کی کل تعداد بڑھ کر 734 ہو گئی ہے، جبکہ 2,400 سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن جاری ہے۔

ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام نے بتایا کہ شدید متاثرہ اور کٹے ہوئے علاقوں سے ریسکیو ٹیموں نے اب تک 2,498 افراد کو بحفاظت نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ، سیلابی ریلوں اور ملبے کی زد میں آ کر 219 افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں مختلف فیلڈ ہسپتالوں اور طبی مراکز میں علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

نیپال کی دفاعی و پولیس فورسز اور امدادی ادارے متاثرہ علاقوں میں لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق، تباہ شدہ سڑکوں اور پلوں کے باعث دور دراز دیہات تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، تاہم ریسکیو ٹیمیں ہیلی کاپٹرز اور سائنسی آلات کی مدد سے آپریشن کو تیز تر بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

ونسٹن سیلم اوپن ٹینس: اگناسیو بشے نے آرتھر فیری کو ہرا کر ٹائٹل جیت لیا، آرتھر فیری شکست کے باوجود برطانیہ کے نمبر ون ٹینس پلیئر بن گئے

روزینہ اسماعیل, August 30,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

برطانیہ کے ابھرتے ہوئے 24 سالہ ٹینس سٹار آرتھر فیری ونسٹن سیلم اوپن ٹینس ٹورنامنٹ کے فائنل میں پیرو کے نمائندہ کھلاڑی اگناسیو بشے کے ہاتھوں سٹریٹ سیٹس میں شکست کے بعد اپنے کیریئر کا پہلا اے ٹی پی ٹور ٹائٹل جیتنے کا خواب پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ نارتھ کیرولائنا، امریکہ میں کھیلے گئے اے ٹی پی 250 ایونٹ کے مردوں کے سنگلز کے فائنل مقابلے میں اگناسیو بشے نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے آرتھر فیری کو 3-6 اور 2-6 کے اسکور سے شکست دے کر فائنل مقابلہ اپنے نام کیا۔

جولائی میں تاریخی ومبلڈن اوپن کے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کر کے عالمی ٹینس کی دنیا میں تہلکہ مچانے والے آرتھر فیری کو ونسٹن سیلم اوپن کے اہم ترین مقابلے میں 0-2 سیٹس سے ناظرین کے سامنے ہار ماننا پڑی۔ اس شاندار اور یکطرفہ فتح کے بعد پیرو کے 22 سالہ کھلاڑی اگناسیو بشے نے اپنے پروفیشنل کیریئر کا دوسرا اے ٹی پی ٹائٹل اپنے نام کر لیا ہے، جبکہ اس فتح کے ساتھ ہی وہ ونسٹن سیلم اوپن کی تاریخ کے سب سے کم عمر چیمپئن بننے کا اعزاز بھی حاصل کر چکے ہیں۔ اس سے قبل اگناسیو بشے نے مئی میں ہیمبرگ میں کھیلے گئے ایونٹ میں امریکہ کے اسٹار پلیئر ٹامی پال کو شکست دے کر اے ٹی پی 500 ٹائٹل جیتا تھا۔

فائنل میں شکست کے باوجود نارتھ کیرولائنا کے اس اے ٹی پی 250 ٹورنامنٹ کے فائنل تک پہنچنے کا کارنامہ انجام دینے والے پہلے برطانوی کھلاڑی بننے کی بدولت آرتھر فیری کی عالمی رینکنگ میں زبردست پیش رفت ہوئی ہے۔ اس تاریخی کارکردگی کی بدولت آرتھر فیری عالمی رینکنگ میں 33 ویں نمبر پر پہنچ جائیں گے اور اپنے تجربہ کار ہم وطن کیمرون نوری کو پیچھے چھوڑتے ہوئے برطانیہ کے باضابطہ نمبر ون ٹینس کھلاڑی بن جائیں گے۔

اس ایونٹ کے اختتام کے فوراً بعد اب آرتھر فیری سال کے آخری گرینڈ سلیم ’یو ایس اوپن‘ میں شرکت کے لیے نیویارک روانہ ہوں گے، جہاں فلشنگ میڈوز کے مین ڈرا میں اپنے پہلے راؤنڈ کے میچ میں ان کا مقابلہ اٹلی کے 13ویں سیڈ لورینزو موسیٹی سے ہو گا۔ واضح رہے کہ آرتھر فیری یو ایس اوپن کے مین ڈرا میں شامل نو برطانوی ٹینس کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں، جبکہ برطانیہ کے اہم اسٹارز جیک ڈریپر اور ایما راڈوکانو فٹنس مسائل اور انجری کے باعث رواں سال اس میگا ایونٹ کا حصہ نہیں بن سکے ہیں۔

سعودی عرب کے صوبے نجران سے 18 لاکھ برس قدیم انسانی آبادی کے تاریخی آثار دریافت

کاشف عباسی , August 30,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

سعودی عرب کے جنوبی صوبے نجران کے تاریخی علاقے ‘شعب دحضہ’ سے تقریباً 18 لاکھ (1.8 ملین) برس قدیم انسانی آبادی کے نادر اور انتہائی اہم آثارِ قدیمہ دریافت ہوئے ہیں۔ سعودی ہیریٹیج کمیشن نے ان دریافت ہونے والے آثار کو جنوبی عرب کے خطے میں انسانوں کی ابتدائی آبادی اور براعظموں کے درمیان ان کی تاریخی ہجرت کے ابتدائی ادوار کا ایک نہایت اہم اور مستند سائنسی ثبوت قرار دیا ہے۔ کمیشن کے مطابق یہاں سے ملنے والے پتھر کے اوزار اور دیگر شواہد ابتدائی حجری دور کے ہیں، جن کی قدامت 12 لاکھ سے 18 لاکھ سال پرانی بتائی گئی ہے۔

سعودی ہیریٹیج کمیشن اور ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی تفصیلات کے مطابق، سنہ 1980ء میں وادی کے علاقے میں کیے جانے والے ایک ابتدائي سروے کے دوران ایک بلند سطح سے چکم دار اور سخت ‘کوارٹزائٹ’ کے پتھروں سے بنے 34 اوزاروں کا ایک قدیم مجموعہ حاصل ہوا تھا۔ ان اوزاروں میں مختلف نوعیت کے کٹر، کھرچنی، تیز دھار بلیڈ اور ہتھوڑے شامل ہیں، جنہیں اس دور کا قدیم انسان شکار کیے گئے جانوروں کا گوشت کاٹنے، ان کی ہڈیاں توڑنے، اور کھال اتار کر لباس یا عارضی پناہ گاہ بنانے جیسے روزمرہ کاموں کے لیے انتہائی مہارت سے استعمال کرتا تھا۔

سعودی ہیریٹیج کمیشن کے شعبہ آثارِ قدیمہ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر العتیبی نے اس غیر معمولی دریافت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شعب دحضہ کا یہ مقام جزیرہ نمائے عرب میں انسانی موجودگی، آبادی کی ابتدا اور اس کے ارتقائی دور کے بارے میں تاریخ دانوں کو اہم اور نئی سائنسی معلومات فراہم کرتا ہے۔ اسی حوالے سے ‘نجران سوسائٹی فار ہسٹری اینڈ آرکیالوجی’ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ دریافت ہونے والے اوزار اور ہتھیار اس بات کا روشن ثبوت ہیں کہ لاکھوں سال پہلے اس خطے میں رہنے والا قدیم انسان مقامی قدرتی وسائل کو اپنے مقصد کے لیے ڈھالنے میں بے پناہ مہارت، بصیرت اور ذہانت رکھتا تھا۔

ریو پارٹی کے قریب فائرنگ کے بعد سیکورٹی فورسز کا علاقے میں وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن، فوج کے ہیلی کاپٹرز اور بکتر بند گاڑیاں بھی کارروائی میں شامل

محمود احمد, August 30,2026

آؤراؤ/زیورخ (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

سوئٹزرلینڈ کے شمالی علاقے آؤراؤ میں ایک میوزک تقریب کے دوران رات گئے اچانک فائرنگ کا ہولناک واقعہ پیش آیا ہے، جس کے نتیجے میں ایک شخص موقع پر ہلاک جبکہ پانچ افراد شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ واقعہ کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ مقامی پولیس اور سیکورٹی اداروں نے فرار ہونے والے نامعلوم مسلح حملہ آور کی گرفتاری کے لیے وسیع پیمانے پر آپریشن شروع کر دیا ہے۔ آؤرگاؤ کینٹونل پولیس کی جانب سے جاری کردہ ایک ہنگامی بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ نامعلوم ملزم کی تلاش اور اس کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن تیزی سے جاری ہے۔

پولیس ترجمان کے مطابق فائرنگ کے بنیادی محرکات اور واقعے کے درست اور حتمی حالات فی الحال واضح نہیں ہو سکے ہیں اور تفتیشی ٹیمیں تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہیں۔ سوئس میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے پولیس حکام نے کہا کہ فائرنگ کا یہ ہولناک واقعہ آؤراؤ کے علاقے شاخن میں گھوڑوں کی دوڑ کے میدان کے قریب پیش آیا، جو سوئٹزرلینڈ کے معروف شہر زیورخ سے تقریباً 46 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔ اس مقام پر ہفتے کی رات سے شروع ہونے والی ایک ’ریو‘ پارٹیک منعقد کی جا رہی تھی جو اتوار کی صبح تک جاری رہنا تھی۔

واقعے کے فوراً بعد سیکورٹی فورسز نے گھوڑوں کی دوڑ کے میدان، شہر کے سوئمنگ پول اور ملحقہ کھیل کے میدان کے اطراف کے پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر سیل کر دیا ہے اور عام شہریوں کو حفاظتی تدابیر کے تحت وہاں جانے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ پولیس کے مطابق احتیاطی تدابیر اور ملزم کے فرار کو روکنے کے لیے آؤراؤ شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر بھی پولیس کی بھاری نفری اور ناظرین تعینات کر دیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی پولیس انتظامیہ نے واقعے کے وقت موجود عینی شاہدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے موبائل فونز سے بنائی گئی تصاویر اور ویڈیوز تفتیش کی پیش رفت کے لیے حکام کے ساتھ شیئر کریں۔

اتوار کی صبح سامنے آنے والی المناک تصاویر اور مناظر میں علاقے میں پولیس، ایمبولینسز اور سیکورٹی اداروں کی بھاری نفری کو پیش رفت کرتے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ ایک بکتر بند گاڑی کے ذریعے مرکزی سڑک کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ سوئس نشریاتی ادارے ایس آر ایف کے مطابق پولیس اور فائر بریگیڈ کے اہلکاروں کے ساتھ ساتھ علاقائی ڈیزاسٹر رسپانس یونٹ کو بھی ہنگامی کارروائی میں شامل کر لیا گیا ہے، جبکہ علی الصبح سوئس فوج کے ایک ہیلی کاپٹر نے بھی مفرور ملزم کی نشاندہی کے لیے علاقے کا فضائی جائزہ لیا۔

سخت سفری اور میڈیا پابندیوں کے باعث تبت میں 546 لاپتہ شہریوں اور 226 غیر ملکی زائرین کی صورتحال پر پراسرار پردہ، سی سی ٹی وی کی محدود رپورٹس پر انحصار

منصور احمد, August 30,2026

پیکنگ/لھاسا (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

چین کا ہمالیائی خطہ تبت ایک بار پھر شدید قدرتی آفت، سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث عالمی توجہ کا مرکز بن چکا ہے، تاہم چینی ریاست کے سخت ترین کنٹرول، میڈیا سنسرشپ اور معلومات کی رسائی پر عائد کڑی پابندیوں کی وجہ سے وہاں ہونے والی ہلاکتوں اور تباہی کا حقیقی اندازہ لگانا انتہائی دشوار ہو گیا ہے۔ تبت چین کے ان حساس ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے جہاں سنہ 1950ء کی دہائی میں چین کا کنٹرول قائم ہونے کے بعد سے ہی ریاستی اور انتظامی سطح پر انتہائی سخت سیاسی و سیکیورٹی کنٹرول نافذ ہے۔

تبت کے عوام طویل عرصے سے خطے کی مذہبی، ثقافتی اور سیاسی خودمختاری کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں، جس کے باعث چینی حکومت وہاں کسی بھی قسم کے عوامی احتجاج، تنظیم سازی یا بدامنی کو روکنے کے حوالے سے انتہائی محتاط اور سخت رویہ رکھتی ہے۔ اسی سیاسی و سیکیورٹی حساسیت اور ممکنہ بے چینی کے پیشِ نظر حالیہ ہولناک قدرتی آفت کے فوراً بعد چینی صدر شی جن پنگ نے خود آگے بڑھ کر ریسکیو اور ہنگامی امدادی کارروائیوں کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، چین کے وزیراعظم لی چیانگ بھی جمعرات کے روز خود متاثرہ تبت کے دشوار گزار خطے میں پہنچے۔ کسی بھی بڑی قدرتی آفت کے بعد چینی اعلیٰ قیادت کا اتنا فوری اور بلا تاخیر دورہ عالمی اور سیاسی تجزیہ کاروں کے نزدیک ایک انتہائی غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے خطے میں پیدا ہونے والی انتظامی تشویش کا اندازہ ہوتا ہے۔

تبت کی جغرافیائی اور سیاسی سرحدیں بیرونی دنیا کے لیے تقریباً بند ہیں۔ وہاں غیر ملکی شہریوں، سیاحوں اور بین الاقوامی امدادی اداروں کے داخلے کے لیے عام چینی ویزے کے علاوہ متعدد خصوصی اجازت نامے درکار ہوتے ہیں۔ غیر ملکی صحافیوں اور بین الاقوامی میڈیا کی تبت تک رسائی مکمل طور پر ممنوع یا انتہائی محدود ہے اور مقامی تبت شہریوں سے کسی بھی قسم کا رابطہ قائم کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ یہاں تک کہ نیپال کے راستے ہندوؤں اور بدھ مت پیروکاروں کے مقدس پہاڑ ‘کلاس پربت’ کی زیارت کے لیے جانے والے مذہبی زائرین کو بھی تبت میں داخلے کے لیے چار مختلف نوعیت کے الگ الگ اجازت نامے حاصل کرنا پڑتے ہیں، جن میں چینی فوج کی حاصل کردہ ملٹری کلیرنس بھی شامل ہے۔ اس کڑی ناکہ بندی کی وجہ سے تبت کے اندر آنے والے سیلاب کی اصل شدت اور نقصانات جاننے کے لیے دنیا کو صرف چینی سرکاری نشریاتی ادارے ‘سی سی ٹی وی’ کی محتاط رپورٹس پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔

چین کے سرکاری میڈیا سی سی ٹی وی کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، سنیچر کی شام تک تبت میں مٹی کے تودے گرنے اور سیلاب کے باعث جاں بحق ہونے والے افراد کی باضابطہ تعداد 16 ہو چکی ہے، جبکہ 546 افراد تاحال لاپتہ ہیں، جن میں مقدس مقامات کی زیارت اور ٹریکنگ کے لیے آئے ہوئے 226 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔ لاپتہ شہریوں کی اتنی بڑی تعداد کے باوجود تبتی علاقوں میں اطلاعات کا شدید قحط ہے۔

نیپال اور تبت میں سیلابی ریلوں اور تباہ کاریوں کے مناظر سے چین کے عام عوام کی لاعلمی کا بنیادی سبب چین کا انتہائی مربوط اور طاقتور ڈیجیٹل و میڈیا سنسرشپ کا نظام ہے، جسے ‘دی گریٹ فائر وال آف چائنا’ کہا جاتا ہے۔ چین میں عالمی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز مکمل طور پر بلاک ہیں اور مقامی ایپس پر تبت کے سیلاب، لاپتہ افراد یا مقامی شہریوں کی جانب سے بنائی گئی ویڈیوز کو الگورتھم کی مدد سے فوری حذف کر دیا جاتا ہے تاکہ ریاست کا مثبت امیج متاثر نہ ہو۔ اس کے علاوہ، چین میں کسی بھی قدرتی آفت کے وقت خبروں کو صرف سرکاری اداروں کے فلٹر شدہ بیانیے کے تحت جاری کیا جاتا ہے، جہاں تمام تر توجہ تباہی کے المناک مناظر کی بجائے حکومتی و عسکری امدادی کارروائیوں اور وزیراعظم کے دورے کو اجاگر کرنے پر ہوتی ہے۔ ساتھ ہی، تبت میں ہنگامی حالات کے دوران انٹرنیٹ سروسز کو مقامی سطح پر معطل یا انتہائی سست کر دیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے مقامی باشندے اپنے رشتہ داروں یا دیگر صوبوں میں موجود شہریوں کو تصویریں اور ویڈیوز بھیجنے سے قاصر رہتے ہیں اور عام لوگ اصل حقائق سے بے خبر رہتے ہیں۔

نیپال اور تبت میں سیلاب کے بعد شدید خطرات: ماہرین کی اہم انتباہی رپورٹ، نئی مصنوعی جھیلوں کے پھٹنے کا خدشہ اور چین و نیپال کے درمیان فوری ڈیٹا شیئرنگ پر زور

محمود احمد, August 30,2026

کاٹھمنڈو/لھاسا (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

نیپال اور تبت کے سرحد پار علاقوں میں تباہ کن سیلاب کے بعد عالمی سطح پر سیلاب اور قدرتی آفات کے ماہرین نے انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ خطے میں فوری تشویش کی بات یہ ہے کہ اچانک آنے والے سیلاب نے اب نئے اور غیر متوقع خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق پہلی لہر کے بعد لینڈ سلائیڈنگ اور پہاڑی ملبے کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال آئندہ دنوں میں کسی بڑی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے، جس کے لیے دونوں ممالک کو فوری طور پر مشترکہ اور ہنگامی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

یونیورسٹی آف ریڈنگ میں سیلاب کی پیشگی وارننگ اور آفات کے خطرات پر تحقیق کرنے والے معروف بین الاقوامی ماہر جیف ڈا کوستا نے عالمی ابلاغی ادارے کو بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ قدرتی آفت کے نتیجے میں پہاڑوں سے بہہ کر آنے والے مٹی، پتھروں اور گلیشیائی ملبے نے کئی مقامات پر قدرتی دریاؤں کا راستہ روک دیا ہے۔ راستہ بلاک ہونے کی وجہ سے بالائی اور پہاڑی علاقوں میں پانی کے عارضی ذخائر اور نئی جھیلیں بن چکی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ان جھیلوں کے اچانک پھٹنے کی صورت میں آنے والا دوسرا سیلاب اگرچہ حجم میں پہلے جتنا بڑا نہ بھی ہو، تب بھی وہ نیچے بستیوں پر انتہائی سنگین اور تباہ کن اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

جیف ڈا کوستا نے سائنسی نقطہ نظر سے آئندہ کے لائحہ عمل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اب اس بات کی 24 گھنٹے مانیٹرنگ اور نگرانی کرنا انتہائی اہم اور ناگزیر ہو چکا ہے کہ علاقے میں بننے والی ان نئی جھیلوں اور پانی کو روکنے والی عارضی رکاوٹوں میں کس طرح کی تبدیلیاں آ رہی ہیں اور پانی کا دباؤ کس مقام پر سب سے زیادہ ہے تاکہ یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ وہ کہاں پھٹ سکتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت چین اور نیپال دونوں ممالک کے لیے بے حد ضروری ہے کہ وہ گلیشیئرز اور جھیلوں کی نگرانی سے متعلق حاصل ہونے والی تمام تر سیٹلائٹ اور زمینی معلومات ایک دوسرے کے ساتھ بلا تاخیر شیئر کریں۔

ماہرِ سیلاب ڈا کوستا کا کہنا تھا کہ ہمالیائی بالائی علاقوں میں پیدا ہونے والی کوئی بھی سیکیورٹی یا سیلابی صورتحال سرحد کے دوسری جانب نشیب میں رہنے والے لوگوں کو چند منٹوں میں انتہائی تیزی سے متاثر کر سکتی ہے۔ اس لیے جس رفتار سے پانی نیچے کی طرف بہتا ہے، معلومات اور الرٹس بھی اسی رفتار سے دونوں ملکوں کے درمیان منتقل ہونے چاہئیں تاکہ مقامی انتظامیہ اور آبادی زمینی سطح پر بروقت، درست اور عملی فیصلے کر کے انسانی جانوں کا تحفظ کر سکے۔

اپنی سائنسی تفتیش کو آگے بڑھاتے ہوئے ڈا کوستا نے اشارہ دیا کہ موسمیاتی تبدیلی بھی اس قدرتی آفت کے پس منظر میں ایک اہم اور کلیدی عنصر کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ کرۂ ارض کا بڑھتا ہوا درجہ حرارت ہمالیہ کے پورے سلسلے میں گلیشیئرز، ہزاروں سال سے جمی ہوئی برفانی زمین اور پہاڑی ڈھلوانوں کے قدرتی استحکام کو شدید متاثر کر رہا ہے جس سے مٹی کے تودے گرنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بات بھی واضح کی کہ مزید سائنسی تحقیق اور تفصیلی تجزیے کے بغیر اس آفت کو سو فیصد اور براہِ راست صرف موسمیاتی تبدیلی سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔