نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے عہدے کی امیدوار کی ملاقات، پاکستان کے امن کردار کو سراہا

کاشف عباسی , JULY 14,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 14 جولائی 2026ء

نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے معزز عہدے کی امیدوار مشیل باشلیٹ جیریا نے ایک اہم اور مقتدر ملاقات کی ہے۔ منگل کے روز وزارتِ خارجہ سے جاری کردہ تفصیلی بیان کے مطابق، ملاقات میں عالمی و علاقائی سلامتی، کثیر الجہتی تعاون اور اقوامِ متحدہ کے مستقبل کے ڈھانچے پر تزویراتی تبادلہ خیال کیا گیا۔

موقر ملاقات کے دوران نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اقوامِ متحدہ کے منشور کے مقاصد و اصولوں کے فروغ، بین الاقوامی قانون کی بالادستی اور بین الاقوامی معاہدوں کے احترام کے لیے پاکستان کے دیرینہ اور غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے عالمی ترقیاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں اقوامِ متحدہ کے کلیدی کردار پر زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ اس عالمی ادارے کو اب ترقی پذیر ممالک کی مخصوص ضروریات، معاشی مسائل اور ترجیحات کے مطابق خود کو مؤثر اور جوابدہ بنانا ہوگا۔

سینیٹر اسحاق ڈار نے پائیدار عالمی امن کے قیام کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر ان کی روح کے مطابق مکمل اور دیانتدارانہ عمل درآمد پر زور دیا، تاکہ دیرینہ بین الاقوامی تنازعات کا پُرامن حل نکالا جا سکے۔ انہوں نے عالمی رہنما کے سامنے بالخصوص جموں و کشمیر اور فلسطین کے دیرینہ مسائل کے منصفانہ، پائیدار اور فوری حل کی اہمیت کو مقتدر انداز میں اجاگر کیا۔

سیکرٹری جنرل کے عہدے کی امیدوار مشیل باشلیٹ جیریا نے خطے میں امن و استحکام کے پائیدار فروغ کے لیے پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششوں کو زبردست الفاظ میں سراہا۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے امن مشنز اور دیگر عالمی اقدامات کے لیے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران پاکستان کی گراں قدر خدمات، قربانیوں اور نمایاں ترین کردار کی بھرپور تعریف کی اور پائیدار ترقی کے لیے پاکستان کے عزم کو سراہا۔

پمز کارڈیک سینٹر کی اپ گریڈیشن اور پلسڈ فیلڈ ایبلیشن پروگرام کا آغاز؛ وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کا اہم فلاحی اقدامات کا اعلان

روزینہ اسماعیل, JULY 14,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 14 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے واضح کیا ہے کہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) ملک کا سب سے بڑا ریفرل ہسپتال ہے جہاں روزانہ 7 سے 9 ہزار مریض علاج کے لیے آتے ہیں، جبکہ مریضوں اور تیمارداروں کی مجموعی آمد و رفت روزانہ 30 سے 40 ہزار تک پہنچ جاتی ہے۔ منگل کے روز جاری کردہ ایک مقتدر بیان میں وفاقی وزیرِ صحت نے بڑے ہسپتالوں پر مریضوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنے کے لیے حکومتی حکمتِ عملی کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ وفاقی حکومت اسلام آباد میں 28 بنیادی مراکزِ صحت کو فعال اور جدید بنانے پر ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہی ہے تاکہ عام بیماریوں کا علاج مقامی سطح پر ہی ممکن بنایا جا سکے اور پمز جیسے بڑے طبی اداروں پر بوجھ کم ہو۔

سید مصطفیٰ کمال نے وفاقی دارالحکومت کے باسیوں اور ملک بھر سے آنے والے مریضوں کے لیے بڑی خوشخبری سناتے ہوئے بتایا کہ پمز میں پاکستان کے پہلے سرکاری شعبے کے مقتدر ‘پلسڈ فیلڈ ایبلیشن پروگرام’ اور پمز کارڈیک سینٹر کی اپ گریڈیشن کے پہلے مرحلے کی تعمیری تکمیل کر دی گئی ہے، جبکہ ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں مریضوں کی رہنمائی کے لیے ‘پیشنٹ فیسلیٹیشن اسسٹنٹ سروس’ کا بھی باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پمز کارڈیک سینٹر کی توسیع کے منصوبے پر 7.2 ارب روپے لاگت آئی ہے جبکہ مزید 90 کروڑ روپے کی خطیر سرمایہ کاری سے اسے دنیا کی جدید ترین کارڈیک ٹیکنالوجی سے آراستہ کیا گیا ہے جہاں غریب اور مستحق مریضوں کو بالکل مفت علاج فراہم کیا جائے گا۔

وفاقی وزیرِ صحت نے مزید بتایا کہ اس جدید پروگرام کے تحت دل کے امراض (دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی) میں مبتلا 4 مریضوں کا دنیا کی جدید ترین کیتھیٹر ایبلیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے کامیاب علاج مکمل کر لیا گیا ہے، جن میں اسلام آباد، آزاد کشمیر اور مردان سے تعلق رکھنے والے مستحق افراد شامل تھے۔ پمز کے طبی ماہرین کے مطابق، پلسڈ فیلڈ ایبلیشن روایتی ریڈیو فریکوئنسی اور کریو ایبلیشن کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ محفوظ، موثر اور تیز رفتار طریقہ علاج ہے، جس میں دل کے اردگرد کے صحت مند ٹشوز کو کم سے کم نقصان پہنچتا ہے، پیچیدگیوں کا خطرہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور مریض انتہائی جلد صحت یاب ہو کر اپنے گھر منتقل ہو جاتا ہے۔

بلوچستان میں فتنہ الخوارج کے خلاف گھیرا تنگ: پاک فوج، ایف سی اور پولیس کا مشترکہ ‘آپریشن شعبان’ کامیابی سے جاری

منصور احمد, JULY 14,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 14 جولائی 2026ء

سیکیورٹی فورسز کی جانب سے بلوچستان میں دہشتگردوں اور شر پسند عناصر کے خلاف مقتدر کارروائیوں کا سلسلہ مزید تیز کر دیا گیا ہے۔ پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور پولیس کے زیرِ اہتمام شروع کیا گیا مشترکہ ’’آپریشن شعبان‘‘ اور دیگر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کامیابی سے جاری ہیں، جن کے نتیجے میں 5 جولائی سے اب تک مجموعی طور پر 121 خارجی دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا جا چکا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، سیکیورٹی فورسز کی فتنہ الخوارج کے خلاف علاقے میں موثر اور مربوط کارروائیاں مسلسل جاری ہیں جن کا مقصد صوبے میں پائیدار امن کا قیام ہے۔

موقر تفصیلات کے مطابق، سیکیورٹی فورسز کی جانب سے خارجیوں کے ٹھکانوں کو جدید زمینی اور فضائی کارروائیوں کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کی بدولت دہشتگردوں کے نیٹ ورک کو بھاری اور ناقابلِ تلافی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ حالیہ موثر کارروائیوں کے دوران مزید 4 خارجی دہشتگردوں کے جہنم واصل ہونے کی مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس کے بعد صرف ’’آپریشن شعبان‘‘ کے تحت مارے جانے والے دہشتگردوں کی مجموعی تعداد 83 ہو گئی ہے، جبکہ دیگر انٹیلی جنس آپریشنز کو ملا کر یہ تعداد 121 تک پہنچ چکی ہے۔ سیکیورٹی ذرائع نے اس مقتدر عزم کا اعادہ کیا ہے کہ بلوچستان کی دھرتی سے آخری دہشتگرد کے مکمل خاتمے تک آپریشن شعبان بلا تعطل جاری رہے گا۔

وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال کی یو این ڈی پی کے ایڈمنسٹریٹر الیگزینڈر ڈی کرو سے نیویارک میں ملاقات

محمود احمد, JULY 14,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 14 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات، پروفیسر احسن اقبال نے نیویارک میں واقع یو این ڈی پی کے مرکزی ہیڈ کوارٹر میں یو این ڈی پی کے ایڈمنسٹریٹر الیگزینڈر ڈی کرو سے ایک اہم اور تزویراتی ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات کے دوران پاکستان اور اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے مابین برسوں پر محیط دیرینہ شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا، جبکہ پاکستان کی کلیدی ترقیاتی ترجیحات بشمول ماحولیاتی لچک ، مصنوعی ذہانت کے لیے تیاری، گورننس میں اصلاحات، پائیدار ترقی کے اہداف کی لوکلائزیشن، ابتدائی بچپن کی نشوونما اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کو آگے بڑھانے پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی۔

موقر ملاقات کے دوران وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے اس بات پر زور دیا کہ ترقیاتی تعاون کو پاکستان کی قومی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگ کرنا، ادارہ جاتی استعداد کار کو مضبوط بنانا اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں تیزی لانے کے لیے جدید اور اختراعی شراکت داریوں کو متحرک کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے یو این ڈی پی کے ساتھ مل کر ان شعبوں میں مربوط حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت پر روشنی ڈالی جو پاکستان کے مستقبل کے معاشی و سماجی استحکام کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

اس موقع پر، وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے یو این ڈی پی کے ایڈمنسٹریٹر الیگزینڈر ڈی کرو کو پاکستان کا دورہ کرنے کی باضابطہ دعوت بھی دی۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور یو این ڈی پی کے مابین یہ تعاون مستقبل میں ملک کے ترقیاتی اہداف کو مزید مقتدر اور مستحکم بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

اقوامِ متحدہ میں قومی بیانیہ پیش؛ سب کے لیے ایک پائیدار، لچکدار اور منصفانہ مستقبل کی تعمیر کے لیے عالمی تعاون اور مشترکہ ذمہ داری کو ناگزیر قرار دے دیا

محمود احمد, JULY 14,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 14 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے اقوامِ متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں منعقدہ پائیدار ترقی سے متعلق مقتدر ‘اعلیٰ سطحی سیاسی فورم’ میں پاکستان کی بھرپور نمائندگی کی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے اس اہم فورم پر پاکستان کا قومی بیانیہ پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے پائیدار ترقی کے لیے اقوامِ متحدہ کے طے کردہ ‘ایجنڈا 2030’ پر پاکستان کے غیر متزلزل اور تزویراتی عزم کا اعادہ کیا۔

اپنے مقتدر خطاب کے دوران پروفیسر احسن اقبال نے جامع اور پائیدار قومی ترقی کے لیے حکومتِ پاکستان کے عزم کو تفصیلی طور پر اجاگر کیا۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ دنیا بھر میں ایک زیادہ پائیدار، لچکدار اور یکساں مواقع سے لیس منصفانہ مستقبل کی تعمیر کے لیے بین الاقوامی تعاون، باہمی اعتماد اور مشترکہ ذمہ داری کے اصولوں پر کاربند رہنا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے اس عزم کو دہرایا کہ پاکستان چیلنجز کے باوجود عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے ہر ممکن تزویراتی کوششیں جاری رکھے گا۔

نیویارک میں پاک-ناروے وزراء کی ملاقات: ماحولیاتی لچک، پائیدار ترقی اور تعلیم کے شعبوں میں تزویراتی تعاون بڑھانے پر اتفاق

محمود احمد, JULY 14,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 14 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات، پروفیسر احسن اقبال نے نیویارک میں ناروے کے وزیر برائے بین الاقوامی ترقی مسٹر آسمنڈ گروور آکرسٹ سے ایک مقتدر ملاقات کی ہے۔ اس اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ناروے کے مابین ماحولیاتی لچک (کلائمیٹ ریزیلینس)، پائیدار ترقی اور انسانی وسائل کی ترقی (ہیومن کیپیٹل ڈویلپمنٹ) کے شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید مستحکم اور نتیجہ خیز بنانے کے تزویراتی طریقوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

موقر ملاقات کے دوران وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے اس اہم حقیقت کو اجاگر کیا کہ عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 1 فیصد سے بھی کم حصہ ڈالنے کے باوجود پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے شدید ترین متاثر ہونے والے دنیا کے چند سرفہرست ممالک میں شامل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ماضی میں آنے والے تباہ کن سیلابوں نے پائیدار ترقی کے اہداف کی جانب پاکستان کی پیشرفت کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس نے موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے دوچار ممالک کی مدد کے لیے مخصوص عالمی مالیاتی میکانزم (گلوبل فنانسنگ میکانزم) کی اشد ضرورت کو مزید تقویت دی ہے۔

پروفیسر احسن اقبال نے ناروے کی سمندری مہارتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ‘بلیو اکانومی’ (آبی معیشت) کے شعبے میں شراکت داری کے نئے مواقع تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا، اور پاکستان کے تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے اور ابتدائی بچپن کی نشوونما کو آگے بڑھانے کے لیے بہترین طریقوں اور تجربات کے تبادلے پر بھی بات چیت کی۔ ناروے کے وزیر برائے بین الاقوامی ترقی نے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ مقتدر تعاون کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا اور جلد ہی پاکستان کا دورہ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا، جسے وفاقی وزیر احسن اقبال نے خوش آئند قرار دیا۔

یمن کی خودمختاری کا احترام اور سعودی عرب کی سلامتی ناگزیر ہے، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں پاکستان کا مقتدر مؤقف

محمود احمد, JULY 14,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 14 جولائی 2026ء

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ (یمن) کی انتہائی حساس صورتحال پر پاکستان کا مقتدر اور اصولی مؤقف پیش کر دیا گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے اجلاس سے تزویراتی خطاب کرتے ہوئے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل خالد خیاری اور قائم مقام اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل اندریکا رتواٹے کی تفصیلی بریفنگز پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان، اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے مقاصد اور اصولوں کے عین مطابق یمن کی خودمختاری، آزادی، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتا ہے۔

سفیر عثمان جدون نے اپنے مقتدر خطاب میں سب سے پہلے برادر ملک سعودی عرب کی سلامتی کو ہدف بنانے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان، مملکتِ سعودی عرب پر حوثیوں کی جانب سے کیے گئے حالیہ بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے برادر مملکت سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اسلام آباد کی غیر متزلزل حمایت کا عزم دہرایا۔ پاکستانی مندوب نے خبردار کیا کہ ایسے وقت میں جب یہ خطہ مسلسل بڑھتی ہوئی کشیدگی اور باہم مربوط متعدد بحرانوں سے دوچار ہے، تمام متعلقہ فریقوں کو اپنے اختلافات باہمی بات چیت، سفارت کاری اور کشیدگی میں کمی کے پختہ عزم کے ذریعے ہی حل کرنے ہوں گے۔

جناب صدر کو مخاطب کرتے ہوئے سفیر عثمان جدون نے زور دیا کہ یمن میں جامع، شمولیتی اور پائیدار امن صرف ایک ایسے سیاسی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے جو یمنیوں کی اپنی قیادت اور ملکیت میں ہو، اور جسے اقوامِ متحدہ کی مکمل معاونت حاصل ہو۔ انہوں نے رواں سال کے اوائل میں قیدیوں کے تبادلے سے متعلق ہونے والے معاہدے کو ایک مثبت تزویراتی پیش رفت قرار دیا اور کہا کہ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی مذاکرات ٹھوس نتائج دے سکتے ہیں، اس لیے تمام فریقوں کو اب ملک گیر پائیدار جنگ بندی اور جامع سیاسی تصفیے کے لیے تعمیری مذاکرات جاری رکھنے چاہئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یمن کے عوام کئی برسوں سے تنازع، معاشی تنگی اور بنیادی خدمات کے مسمار ہونے کا سامنا کر رہے ہیں، اور کشیدگی میں مزید اضافہ صرف انسانی مصائب بڑھانے کا سبب بنے گا۔

پاکستانی مندوب نے حوثیوں کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے عملے، انسانی ہمدردی کے اہلکاروں اور سفارتی عملے کی مسلسل من مانی حراست اور اقوامِ متحدہ کے دفاتر و اثاثوں پر غیر قانونی قبضے کی بھی شدید مذمت کی۔ انہوں نے ان اقدامات کو بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے تمام زیرِ حراست بین الاقوامی اہلکاروں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا اور زور دیا کہ اقوامِ متحدہ کے عملے، تنصیبات اور اثاثوں کے مراعات و استثنیٰ کا ہر حال میں مکمل احترام کیا جائے۔ آخر میں، انہوں نے اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام، مکالمے اور باہمی افہام و تفہیم کے فروغ کے لیے کی جانے والی تمام مخلصانہ کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

ملکی آبادی 25 کروڑ 72 لاکھ تک پہنچ گئی، ایک تہائی نوجوان آبادی؛ 76 فیصد نوجوان پرامید لیکن 53 فیصد معاشی مشکلات اور عدم مساوات کے باعث پریشان، یو این ایف پی اے کی رپورٹ

منصور احمد, JULY 14,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 14 جولائی 2026ء

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے آبادی (یو این ایف پی اے) نے عالمی یومِ آبادی کے موقع پر پاکستان کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور تزویراتی رپورٹ جاری کی ہے جس میں زور دیا گیا ہے کہ پاکستان کو اپنے مستحکم اور روشن مستقبل کے لیے نوجوان نسل کو ترقی کے مرکز میں رکھنا ہوگا۔ مقتدر رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی مجموعی آبادی اس وقت تقریباً 25 کروڑ 72 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جس میں سے ایک تہائی (تقریباً 33 فیصد) آبادی 10 سے 24 سال کے نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ رپورٹ میں ایک مثبت پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے 76 فیصد نوجوانوں نے تمام تر چیلنجز کے باوجود اپنے روشن مستقبل کے حوالے سے گہری امید کا اظہار کیا ہے۔

تاہم، رپورٹ کے تشویشناک پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ملک کے 53 فیصد نوجوان سلامتی (سیکیورٹی)، معاشی تنگی، روزگار کی کمی اور معاشرتی عدم مساوات کے باعث شدید ذہنی و نفسیاتی پریشانی کا شکار ہیں۔ رپورٹ میں بالخصوص دیہی علاقوں کے نوجوانوں اور لڑکیوں کا ذکر کیا گیا ہے جو انٹرنیٹ اور جدید ڈیجیٹل سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث اپنے خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے سے قاصر ہیں۔ اس کے علاوہ، مقتدر رپورٹ میں پاکستان میں کم عمری کی شادیوں کے سنگین مسئلے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس فرسودہ رسم کے مکمل خاتمے کے لیے قومی سطح پر فوری اور مؤثر قانونی اقدامات اٹھانے کی تزویراتی سفارش کی گئی ہے۔

اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یو این ایف پی اے کے پاکستان میں مقتدر نمائندے ڈاکٹر لوائے شبانے نے واضح کیا کہ پاکستان کے پائیدار استحکام کے لیے تعلیم، بنیادی صحت، بہتر غذائیت اور نوجوانوں کی فلاح و بہبود میں سرمایہ کاری اب ناگزیر ہو چکی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ نوجوانوں کو جدید ہنر سکھانے اور عالمی بیرونی منڈیوں (گلوبل مارکیٹس) تک ان کی رسائی کو یقینی بنانے سے نہ صرف ان کی ذاتی آمدنی اور بچت میں اضافہ ہوگا، بلکہ اس سے ملک کا معیارِ زندگی اور مجموعی خوشحالی بھی بہتر ہوگی۔ ڈاکٹر لوائے شبانے کا کہنا تھا کہ تعلیم ہی پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور مضبوط مستقبل کی اصل بنیاد ہے، اور انسانی وسائل (ہیومن ریسورس) کی مقتدر ترقی اور نوجوانوں کو اپنی پوشیدہ صلاحیتیں بروئے کار لانے کے یکساں مواقع فراہم کرنا ہی پاکستان کے روشن اور مستحکم مستقبل کی واحد ضمانت ہے۔

مذہبی مکالمے اور مسلم امہ کے مسائل کے حل کے لیے مسلم ورلڈ لیگ کا کردار انتہائی اہم ہے، وزیر اعظم شہباز شریف

کاشف عباسی , JULY 13,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے مسلم دنیا کو درپیش معاصر چیلنجز اور تزویراتی مسائل سے نمٹنے کے لیے مذہبی مکالمے کے حوالے سے مسلم ورلڈ لیگ (رابطہ عالمِ اسلامی) کی مقتدر کوششوں کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری کردہ تفصیلی بیان کے مطابق، مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل شیخ ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسیٰ نے وزیر اعظم ہاؤس اسلام آباد میں وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے ایک اعلیٰ سطحی ملاقات کی۔ اس مقتدر موقع پر نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، ارکین قومی اسمبلی فرح ناز اکبر، زیب جعفر اور سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ بھی موجود تھیں۔ سیکرٹری جنرل کے ہمراہ پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف سعید المالکی بھی وفد میں شامل تھے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے ڈاکٹر العیسیٰ کا مقتدر سطح پر پرتپاک خیرمقدم کیا اور وفاقی دارالحکومت میں منعقدہ خواتین سے متعلق نویں او آئی سی وزارتی کانفرنس میں شرکت پر ان کا صمیمِ قلب سے شکریہ ادا کیا۔ وزیر اعظم نے دینِ اسلام کے حقیقی، امن پسند اور معتدل تشخص کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے، امتِ مسلمہ میں اتحاد و یگانگت کو فروغ دینے اور دنیا بھر میں رواداری، اخوت اور بین المذاہب ہم آہنگی کا پیغام عام کرنے میں مسلم ورلڈ لیگ کے گراں قدر کردار کو زبردست الفاظ میں سراہا۔ انہوں نے تنظیم کے تزویراتی اقدامات کے لیے پاکستان کی مسلسل اور غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مسلم دنیا کو درپیش موجودہ مسائل، بالخصوص ایران اور خلیجی برادر ممالک کے مابین علاقائی صورتحال، غزہ میں فلسطینیوں پر جاری مظالم اور دنیا بھر میں مسلم برادریوں کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مسلم ورلڈ لیگ کا پلیٹ فارم انتہائی ناگزیر ہے۔

ملاقات کے دوران تعلیم، بین المذاہب مکالمے اور انتہا پسندی و اسلامو فوبیا کے تدارک کے شعبوں میں پاکستان اور مسلم ورلڈ لیگ کے درمیان جاری تعاون پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ سیکرٹری جنرل ڈاکٹر العیسیٰ نے اپنے اور وفد کی شاندار مہمان نوازی پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے عالمِ اسلام میں پاکستان کے قائدانہ و تزویراتی کردار کی تعریف کی اور پاکستان کے ساتھ تعلیمی اور انسانی امور میں تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ڈاکٹر العیسیٰ نے خطے میں امن کی حالیہ کوششوں میں وزیر اعظم کے کلیدی کردار کو سراہتے ہوئے ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ پر دستخط کے سلسلے میں نائب وزیر اعظم محمد اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی انتھک تزویراتی کوششوں اور گراں قدر خدمات کو بھی بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا۔ دونوں رہنماؤں نے مشترکہ ترجیحات اور پاک-مسلم ورلڈ لیگ مشترکہ منصوبوں کی جلد تکمیل پر قریبی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

صنفی ڈیجیٹل فرق کے خاتمے میں پاکستان دنیا کا تیز ترین ملک بن گیا، وفاقی وزیرِ آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ کا او آئی سی کانفرنس سے مقتدر خطاب

منصور احمد, JULY 13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے واضح کیا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی)، سائبر سکیورٹی، پبلک ڈیٹا سسٹمز اور ڈیجیٹل ریگولیشن کی ترقی میں خواتین کو فیصلہ سازی کے عمل میں بامعنی مقام ملنا چاہیے۔ وزارتِ انسانی حقوق کے زیرِ اہتمام وفاقی دارالحکومت میں جاری خواتین سے متعلق نویں او آئی سی وزارتی کانفرنس کے اہم سیشن سے تزویراتی خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان نے موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں صنفی ڈیجیٹل فرق (مردوں اور عورتوں کے درمیان فرق) کو کم کرنے میں دنیا بھر میں تیز ترین ترقی ریکارڈ کی ہے۔ جی ایس ایم اے کی مقتدر رپورٹ کے مطابق، پاکستان نے ڈیجیٹل شمولیت، خاص طور پر موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں دنیا کی سب سے بڑی اور تاریخی بہتری ریکارڈ کی ہے۔

وفاقی وزیر نے تزویراتی اعداد و شمار کا احاطہ کرتے ہوئے بتایا کہ جب انہوں نے عہدہ سنبھالا تو پاکستان میں صنفی ڈیجیٹل فرق 35 فیصد تھا، جو 2025ء میں کم ہو کر 25 فیصد رہ گیا اور اب 2026ء کی حالیہ مقتدر رپورٹ میں مزید گر کر صرف 8 فیصد پر آ گیا ہے۔ اس غیر معمولی پیشرفت نے پاکستان کو موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں صنفی فرق کو ختم کرنے والا دنیا کا تیز ترین ملک بنا دیا ہے، جہاں گزشتہ دو سالوں کے دوران خواتین میں موبائل انٹرنیٹ اپنانے کی شرح 33 فیصد سے بڑھ کر 45 فیصد ہو گئی ہے۔ شزا فاطمہ خواجہ نے زور دے کر کہا کہ صرف انٹرنیٹ تک رسائی (کنیکٹیویٹی) ہی کافی نہیں ہے، بلکہ کامیابی کا اصل معیار یہ ہے کہ آیا دور دراز اور دیہی علاقوں میں رہنے والی خواتین ٹیکنالوجی کا استعمال سیکھنے، کمانے، ڈیجیٹل ادائیگیاں حاصل کرنے اور کامیاب کاروباری شخصیت (انٹرپرینیور) بننے کے لیے کر رہی ہیں یا نہیں۔

وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ حکومت کے ڈیجیٹل تبدیلی کے اقدامات نے کم آمدنی والے خاندانوں کی خواتین کو ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم کے ذریعے باعزت طریقے سے مالی امداد فراہم کر کے بااختیار بنایا ہے۔ رمضان سبسڈی پروگرام کو وزیر اعظم کی ہدایت پر ڈیجیٹل ادائیگیوں پر منتقل کیا گیا، جس کے تحت سب سے کم آمدنی والی آبادی میں ایک ماہ کے اندر 8 لاکھ ڈیجیٹل والٹس بنائے گئے اور اس سال مزید 9 لاکھ خواتین ڈیجیٹل مالیاتی نظام کا حصہ بنی ہیں۔ حکومت نے نجی شعبے کے تعاون سے ملک بھر میں خواتین کو 10 ملین (ایک کروڑ) مفت سم کارڈز بھی تقسیم کیے ہیں تاکہ وہ ڈیجیٹل معیشت میں سرگرم حصہ دار بن سکیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر خواتین کے پاس سستا انٹرنیٹ، ڈیجیٹل مہارت یا آن لائن ہراساں کیے جانے سے تحفظ نہ ہو تو ٹیکنالوجی عدم مساوات کو گہرا بھی کر سکتی ہے، اس لیے مشین لرننگ ماڈلز اور اے آئی الگورتھم میں خواتین کے تجربات کی عکاسی ہونی چاہیے تاکہ ان کی محرومی کو روکا جا سکے۔

پاکستانی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر آئی ٹی نے محترمہ فاطمہ جناح، سابق وزیر اعظم محترمہ بینظیر بھٹو شہید، بیگم کلثوم نواز اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو ان کی جرات اور ترقیاتی قیادت پر زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے او آئی سی کے برادر ممالک پر زور دیا کہ وہ ان خواتین کی حوصلہ افزائی کریں جو ٹیکنالوجی میں رکاوٹوں کو توڑ رہی ہیں، اور عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنے تجربات کا تبادلہ کرنے اور خواتین کو ڈیجیٹل بااختیار بنانے کے لیے عملی شراکت داری قائم کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

لینڈ سلائیڈنگ اور طغیانی کا خطرہ: محکمہ موسمیات کا بالائی علاقوں کے لیے ہائی الرٹ اور شدید بارشوں کا انتباہ

روزینہ اسماعیل, JULY 13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں جاری حالیہ موسمی تبدیلیوں کے پیشِ نظر ایک مقتدر انتباہ جاری کیا ہے، جس کے مطابق پیر اور منگل کے روز ہونے والی موسلادھار بارشوں کے باعث بالائی خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر کے حساس پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ (تودے گرنے) اور مقامی و برساتی ندی نالوں میں شدید طغیانی کا سنگین خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کی تزویراتی رپورٹ کے مطابق، موجودہ صورتحال میں بحیرۂ عرب سے آنے والی مضبوط مرطوب ہوائیں مسلسل ملک کے بالائی اور زیریں علاقوں میں داخل ہو رہی ہیں، جبکہ اسی دوران ایک طاقتور مغربی لہر بھی ملک کے مختلف حصوں پر اثر انداز ہو رہی ہے۔

موقر پیشگوئی کے مطابق، آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم عام طور پر گرم اور مرطوب رہنے کی توقع ہے، تاہم کشمیر، بالائی خیبر پختونخوا، جنوب مشرقی پنجاب، بالائی سندھ اور گلگت بلتستان میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ مزید بارش کا امکان ہے۔ کل بروز منگل بھی ملک کے بیشتر حصوں میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا، جبکہ کشمیر، بالائی خیبر پختونخوا، شمال مشرقی پنجاب اور گلگت بلتستان میں چند مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ مقتدر حکام نے پہاڑی علاقوں کے مکینوں اور سیاحوں کو سفری احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے موسمی احوال کا احاطہ کرتے ہوئے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ بالائی پنجاب، بلوچستان، بالائی خیبر پختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان میں تیز ہواؤں کے ساتھ چند مقامات پر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ دیگر علاقوں میں موسم گرم رہا۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق، سب سے زیادہ بارش پنجاب کے علاقے اوکاڑہ میں 29 ملی میٹر، سیالکوٹ (ایئرپورٹ) میں 01 ملی میٹر، بلوچستان کے علاقے بارکھان میں 13 ملی میٹر، ژوب اور خضدار میں 02 ملی میٹر، گلگت بلتستان کے علاقے بابوسر میں 08 ملی میٹر، گوپس میں 04 ملی میٹر، بنجی میں 03 ملی میٹر، سکردو اور چلاس میں 02 ملی میٹر، استور میں 01 ملی میٹر، آزاد کشمیر کے علاقے گڑھی دوپٹہ میں 05 ملی میٹر، جبکہ خیبر پختونخوا کے علاقے مالم جبہ میں 02 ملی میٹر اور کالام میں 01 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔

مصنوعی ذہانت کو اخلاقی اصولوں اور مضبوط گورننس کے ساتھ قومی ترقی کے نظام میں شامل کیا جائے، ماہرین کا زور

روزینہ اسماعیل, JULY 13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

ممتاز تعلیمی و صنعتی ماہرین نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو محض انفرادی سہولت یا پیداواری صلاحیت بڑھانے والے روایتی آلے کے طور پر نہیں بلکہ واضح اخلاقی اصولوں، مضبوط گورننس اور اعلیٰ ادارہ جاتی تیاری کے ساتھ قومی ترقی کے مجموعی نظام میں شامل کیا جانا چاہئے۔ اگر حکومتیں، جامعات، صنعتیں اور تجارتی ادارے اے آئی کو ذمہ دارانہ انداز میں اپنے انتظامی اور فیصلہ سازی کے ڈھانچے کا حصہ بنائیں تو یہ پائیدار معاشی ترقی، بہتر طرزِ حکمرانی، اعلیٰ تعلیم اور سائنسی تحقیق میں نمایاں اور تزویراتی تبدیلی لا سکتی ہے۔ انہوں نے یہ باتیں پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیرِ اہتمام مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی گورننس پر مبنی تین اہم کتابوں کی تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔ تقریب میں ملک بھر سے نامور ماہرین، اساتذہ، محققین اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اپنے استقبالیہ کلمات میں ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ اظہر ضیاء الرحمٰن عالمی سطح پر ممتاز محقق، مشیر اور مینجمنٹ سسٹمز کے ماہر کے طور پر ایک مستند اور مقتدر آواز بن چکے ہیں۔ انہوں نے اس حساس موضوع پر اعلیٰ معیار کی کتابیں تصنیف کی ہیں اور دنیا بھر میں حکومتوں اور مقتدر اداروں کو چوتھے صنعتی انقلاب اور مصنوعی ذہانت کو موثر انداز میں اپنانے کے لیے تزویراتی رہنمائی فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ تھنک ٹینکس اور تحقیقی اداروں پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کا استعمال پوری ذمہ داری اور اخلاقی اصولوں کے مطابق کریں۔ تقریب کا آغاز کرتے ہوئے ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر (ریسرچ) ڈاکٹر ساجد امین جاوید نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی حقیقی صلاحیت اسی وقت سامنے آئے گی جب ریاستی و نجی ادارے اپنی استعداد میں اضافہ کر کے اسے اپنے انتظامی نظام میں شامل کریں گے، اور جامعات کو اس کے ذمہ دارانہ استعمال کے بارے میں نوجوانوں کی فوری رہنمائی کرنی چاہیے۔

اپنی تصنیف کردہ کتابوں کا تعارف پیش کرتے ہوئے نامور مصنف اظہر ضیاء الرحمٰن نے بتایا کہ ٹیکنالوجی گورننس کے شعبے میں ان کا سفر تقریباً دس برس قبل اس تصور پر دنیا کی پہلی کتاب تحریر کرنے سے شروع ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی نئی کتابیں اداروں کو تمام جدید ٹیکنالوجیز کی منظم اور آسان انداز میں نگرانی اور نظم و نسق کے لیے عملی رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ یورپی یونین کے ‘اے آئی ایکٹ’ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ اس تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کے لیے اخلاقی اصولوں کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ سولوڈ انجینئرنگ ٹیکنالوجیز کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر ظفر اللہ قریشی نے کتاب میں یونیورسٹی گورننس اور تدریسی نظام کے حوالے سے پیش کیے گئے نکات کو نہایت مفید قرار دیا اور خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت کی کامیابی کا تمام تر انحصار معیاری ڈیٹا اور موثر ڈیٹا گورننس پر ہے۔ تقریب کے اختتام پر ایس ڈی پی آئی میں ماحولیاتی پائیداری کی سربراہ زینب نعیم نے مصنف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کی حتمی قیادت ہمیشہ انسان کے ہی ہاتھ میں رہنی چاہئے۔

او آئی سی خواتین کانفرنس: مسلم امہ اور پاکستان کی پائیدار ترقی خواتین کو بااختیار بنانے سے مشروط ہے، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا خطاب

منصور احمد, JULY 13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے واضح کیا ہے کہ مسلم امہ اور پاکستان کی پائیدار ترقی خواتین کو ہر سطح پر بااختیار بنانے اور انہیں زندگی کے تمام شعبوں میں مساوی مواقع فراہم کرنے سے مشروط ہے، کیونکہ دینِ اسلام خواتین کے حقوق کا سب سے بڑا ضامن ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے لیے ’اپنا روزگار پروگرام‘ ان کا ایک دیرینہ خواب ہے جس کی تکمیل سے ملک میں حقیقی معاشی انقلاب آئے گا۔ وہ پیر کے روز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں منعقدہ دو روزہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی نویں وزارتی کانفرنس برائے خواتین کے اہم سیشن سے خصوصی خطاب کر رہی تھیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے کانفرنس میں شریک 57 ممالک کے معزز مندوبین اور عالمی رہنماؤں کو پاکستان آمد پر والہانہ خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک پرامن ملک اور مہمان نواز قوم کی دھرتی ہے، اور او آئی سی کے اس مقتدر پلیٹ فارم سے خواتین کے حقوق پر آواز اٹھانا ان کے لیے باعثِ اعزاز ہے۔

اپنے تزویراتی خطاب میں مریم نواز نے حکومت کی جانب سے خواتین کی مالی شمولیت، اعلیٰ تعلیم اور کاروبار کے یکساں مواقع فراہم کرنے کے پختہ عزم کو دہرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت طالبات کے لیے اسکالرشپس اور لیپ ٹاپس کی شفاف فراہمی کو یقینی بنا رہی ہے تاکہ ہماری بیٹیاں جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ ہو کر ڈیجیٹل معیشت میں اپنا مؤثر اور مقتدر کردار ادا کر سکیں۔ انہوں نے صوبے میں جاری فلاحی اسکیموں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ’اپنی چھت، اپنا گھر‘ اسکیم سے غریب شہری تیزی سے مستفید ہو رہے ہیں، جبکہ خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنانے کے لیے ’اپنا روزگار پروگرام‘ پر ترجیحی بنیادوں پر کام جاری ہے جو کہ خواتین کی معاشی خودمختاری کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے مسلم دنیا میں خواتین کی سیاسی و سماجی قیادت کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہید بے نظیر بھٹو مسلم اُمہ کی پہلی خاتون وزیراعظم تھیں جنہوں نے مسلم دنیا میں خواتین کی سیاسی اور سماجی نمائندگی کے فروغ اور ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک تاریخی اور ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا۔ انہوں نے اس مقتدر عزم کا اعادہ کیا کہ حکومتِ پاکستان خواتین کے لیے محفوظ، سازگار اور مساوی ماحول کی فراہمی کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل رکھے ہوئے ہے کیونکہ خواتین کی ترقی کے بغیر کوئی بھی مہذب معاشرہ اور ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔

مون سون کے ممکنہ خطرات: وفاقی وزیر مصدق ملک کی تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے اور خیبر پختونخوا میں محفوظ سیاحت یقینی بنانے کی ہدایت

کاشف عباسی , JULY 13,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے مون سون کی حالیہ لہر کے تناظر میں تمام متعلقہ وفاقی و صوبائی اداروں کو ہائی الرٹ رہنے اور ضلعی و یونین کونسل کی سطح پر باہمی رابطہ کاری کو مزید مؤثر بنانے کی مقتدر ہدایت جاری کر دی ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی جانب سے پیر کے روز جاری کردہ تفصیلی اعلامیے کے مطابق، وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر این ڈی ایم اے اور حکومتِ خیبر پختونخوا کے درمیان مون سون 2026ء کی تیاریوں کا ایک اہم اور تزویراتی جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک کی زیر صدارت ہونے والے اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں چیئرمین این ڈی ایم اے، ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے خیبر پختونخوا اور دیگر متعلقہ مقتدر حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران پی ڈی ایم اے خیبر پختونخوا کے حکام نے مون سون کے دوران ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے صوبائی تیاریوں، ریسکیو آپریشنز کے پلان، ہنگامی منصوبہ بندی اور وسائل کی دستیابی کے حوالے سے شرکاء کو تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر صوبے میں سیلابی صورتحال، شہری و دریائی سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ (تودے گرنے) اور گلیشائی جھیلوں کے پھٹنے سے پیدا ہونے والے سیلاب کے خطرات اور ان کے تدارک کے لیے کیے گئے اب تک کے تزویراتی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وفاقی وزیر مصدق ملک نے زور دے کر کہا کہ مون سون کے اس سیزن کے دوران خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں محفوظ سیاحت کے فروغ اور سیاحوں کے لیے سفری سہولیات کی بلاتعطل فراہمی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر انتظامات کیے جائیں۔ انہوں نے حکام کو سخت ہدایات دیں کہ مون سون کی بارشوں اور ممکنہ خطرات سے بچاؤ کے لیے بڑے پیمانے پر عوامی آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ قیمتی انسانی جانوں اور املاک کو محفوظ رکھا جا سکے۔

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اور چینی ادارے کے درمیان تعلیمی و تکنیکی تعاون کا معاہدہ، لیٹر آف انٹینٹ پر دستخط

روزینہ اسماعیل, JULY 13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی (اے آئی او یو) اور چین کے معروف ادارے ‘ٹینگ چائنیز انٹرنیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹیکنالوجی’ کے درمیان تعلیمی و تکنیکی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک مقتدر لیٹر آف انٹینٹ پر دستخط کیے گئے ہیں۔ اس تزویراتی شراکت داری کے تحت دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ تعلیمی پروگرام، طلبہ و اساتذہ کے تبادلے، چینی زبان کے فروغ، مشترکہ تحقیق، جدید مہارتوں کی تربیت اور جامعات و صنعت (انڈسٹری) کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں گے۔ دستاویزات پر اوپن یونیورسٹی کی جانب سے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود جبکہ چینی ادارے کی جانب سے بانی سانگ جیاءنگ نے باقاعدہ دستخط کیے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور مہارتوں سے آراستہ نوجوان ہی مستقبل کی اصل طاقت ہیں، اس لیے جامعات کی ذمہ داری ہے کہ وہ طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیم اور عملی مہارتوں سے لیس کریں تاکہ وہ بدلتی ہوئی عالمی ضروریات کے مطابق مؤثر کردار ادا کر سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس شراکت داری کے تحت جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے مہارت پر مبنی تعلیمی پروگرام متعارف کرائے جائیں گے تاکہ باصلاحیت اور ہنر مند افرادی قوت تیار کی جا سکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس تعاون کے نتیجے میں جامعہ میں چینی زبان و ثقافت کا مرکز بھی قائم ہوگا، جبکہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں ترک، جاپانی اور روسی زبانوں کے مراکز پہلے ہی کامیابی سے کام کر رہے ہیں۔ وائس چانسلر نے مزید کہا کہ پاک چین دیرینہ دوستی وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہو رہی ہے اور تعلیم اس دوستی کو نئی نسل تک منتقل کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔

چینی ادارے کے بانی مسٹر سانگ جیاءنگ نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں ٹیکنالوجی اور مہارت پر مبنی تعلیم کے فروغ کے لیے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ایک بہترین اور مقتدر شراکت دار ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ یہ تعاون دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی، تحقیقی اور تکنیکی روابط کو نئی جہت دے گا اور نوجوانوں کو عالمی معیار کی ہنر مندی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس موقع پر کوالٹی انہانسمنٹ سیل کی ڈائریکٹر ڈاکٹر صائمہ ناصر نے کہا کہ یہ معاہدہ اوپن یونیورسٹی کی بین الاقوامی روابط کو وسعت دینے کی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے جس سے طلبہ اور اساتذہ کو بین الاقوامی معیار کے تعلیمی اور تحقیقی مواقع میسر آئیں گے۔ تقریب میں یونیورسٹی کے ڈینز، پروفیسرز، شعبہ جات کے سربراہان اور دیگر پرنسپل افسران نے بھی شرکت کی۔

فیفا ورلڈ کپ میں تاریخ رقم، پہلی بار سیمی فائنل میں دنیا کی چار ٹاپ رینکنگ ٹیمیں آمنے سامنے

محمود احمد, JULY 13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

فیفا ورلڈ کپ 2026 اپنے فیصلہ کن اور سنسنی خیز مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں پہلی مرتبہ عالمی فٹبال کی تاریخ میں سیمی فائنل کے مقابلے دنیا کی ان چار اعلیٰ ترین رینکنگ ٹیموں کے درمیان کھیلے جائیں گے جو فیفا کی آفیشل سائیڈ پر ہائیسٹ رینکنگ پر براجمان ہیں۔ اس مقتدر اور تاریخی مرحلے نے عالمی فٹبال شائقین کے دلوں کی دھڑکنیں تیز کر دی ہیں اور ماہرینِ کھیل کی جانب سے اسے ورلڈ کپ کی تاریخ کا مضبوط ترین اور ہائی پروفائل سیمی فائنل راؤنڈ قرار دیا جا رہا ہے، جس میں روایتی حریف فائنل میں جگہ بنانے کے لیے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیں گے۔

موقر تزویراتی شیڈول کے مطابق، سیمی فائنل کے پہلے معرکے میں سابق عالمی چیمپئن فرانس کا روایتی سامنا اسپین سے ہوگا، جبکہ دوسرے سیمی فائنل میں دفاعی چیمپئن ارجنٹینا اور مقتدر انگلینڈ کی ٹیمیں آمنے سامنے ہوں گی۔ یہ چاروں ٹیمیں فیفا کی عالمی درجہ بندی میں سرفہرست ممالک میں شامل ہیں جنہوں نے پورے ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی اور تکنیکی برتری کا مظاہرہ کرتے ہوئے آخری چار میں اپنی جگہ پکی کی ہے۔ فرانس نے اپنے مضبوط دفاع، برق رفتار حملوں اور بہترین اجتماعی کھیل کی بدولت حریفوں کو پے در پے شکست دی، جبکہ اسپین نے روایتی شارٹ پاسنگ (ٹیکی ٹاکا)، گیند پر مکمل کنٹرول اور جارحانہ تزویراتی انداز سے ہر مرحلے پر اپنی برتری ثابت کی ہے۔

دوسری جانب، ارجنٹینا نے کوارٹر فائنل کے انتہائی اہم مقابلے میں سوئٹزرلینڈ کو 3-1 سے عبرتناک شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنائی، جبکہ انگلینڈ نے اعصاب شکن مقابلے کے بعد ناروے کو 2-1 سے ہرا کر آخری چار ٹیموں میں اپنی نشست یقینی بنائی۔ فٹبال تجزیہ کاروں کے مطابق، فیفا رینکنگ کی ان چاروں بڑی طاقتوں کے سیمی فائنل تک پہنچنے سے اس بار عالمی ٹائٹل کی دوڑ غیر معمولی حد تک سخت اور دلچسپ ہو گئی ہے، کیونکہ ہر ٹیم کے پاس تجربہ کار اسٹار کھلاڑی، مضبوط بینچ اسٹرینتھ اور اعلیٰ معیار کی تکنیکی حکمت عملی موجود ہے، جس کے باعث فائنل سے قبل کسی بھی ایک ٹیم کو واضح فیورٹ قرار دینا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ یہ سیمی فائنل صرف چار ٹیموں کا مقابلہ نہیں بلکہ دنیا کے بہترین فٹبال فلسفوں اور جدید کھیل کی مہارت کا امتحان ہوگا، جس کے بعد جیتنے والی دو مقتدر ٹیمیں گرینڈ فائنل میں مدمقابل آئیں گی، جہاں دنیا کے نئے عالمی چیمپئن کا فیصلہ ہوگا۔

او آئی سی خواتین کانفرنس: اسلامی دنیا کی خوشحالی کے لیے خواتین کی ترقی اور معاشی شمولیت کو تزویراتی ضرورت قرار دے دیا گیا

روزینہ اسماعیل, JULY 13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جاری نویں او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین کی معزز مندوبین نے مسلم ممالک کے درمیان باہمی تعاون کو مضبوط بنانے اور تعلیم، اقتصادی ترقی اور قیادت میں خواتین کی شرکت کو بڑھانے کے لیے جامع پالیسیوں کو فروغ دینے کی اشد ضرورت پر زور دیا ہے۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے واضح کیا کہ خواتین کی مقتدر ترقی اسلامی دنیا میں پائیدار، جامع ترقی اور طویل مدتی معاشی خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔

موقر تفصیلات کے مطابق، نویں او آئی سی وزارتی کانفرنس کے اہم سیشن سے خطاب کرتے ہوئے خواتین کی ترقی کی تنظیم (ڈبلیو ڈی او) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سارہ الشورا نے رکن ممالک کے درمیان تزویراتی تعاون کو مضبوط بنانے اور تعلیم، اقتصادی ترقی اور فیصلہ سازی کی قیادت میں خواتین کی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے تنظیم کی جانب سے کی جانے والی مسلسل کوششوں اور فریم ورک پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ اسی طرح، آٹھویں او آئی سی وزارتی کانفرنس کی خواتین کی مشاورتی کونسل کی صدر، سفیر نائلہ گبر نے گزشتہ وزارتی کانفرنس کے بعد ہونے والی تزویراتی پیشرفت کا احاطہ کیا اور او آئی سی کے رکن ممالک کے درمیان مضبوط ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے اس رفتار کو مستقل برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے مسلم امہ میں خواتین کی تعلیم، معاشی بااختیار سازی اور قیادت میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کا پرزور مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کی ترقی کے بغیر اسلامی دنیا میں طویل مدتی خوشحالی کا خواب ادھورا ہے۔

کانفرنس سے مصر کی قومی کونسل برائے خواتین کی صدر امل عمار نے بھی مقتدر خطاب کیا، جس میں ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں قوموں کی حقیقی خوشحالی انسانوں، بالخصوص خواتین میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے ہی شروع ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ مسلم دنیا میں پائیدار ترقی، معاشی استحکام اور سماجی انصاف کے اہداف کے حصول کے لیے خواتین کو ہر سطح پر بااختیار بنانا اب محض ایک آپشن نہیں بلکہ ایک ناگزیر سٹریٹجک ضرورت بن چکی ہے جس پر تمام رکن ممالک کو مل کر ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔

وزیر اعظم شہباز شریف کا ایک روزہ دورۂ دوحہ، امیرِ قطر سے والد کے انتقال پر دلی تعزیت اور یکجہتی کا اظہار

کاشف عباسی , JULY 13,026

دوحہ (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے مقتدر ملاقات کر کے ان کے والد گرامی کے انتقال پر دلی تعزیت اور گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری کردہ تفصیلی اعلامیے کے مطابق، وزیر اعظم پیر کے روز ایک روزہ اہم دورے پر دوحہ پہنچے، جہاں انہوں نے ریاست قطر کے امیر کے والد شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کے انتقال پر حکومتِ پاکستان اور پاکستانی عوام کی جانب سے قطر کی اعلیٰ قیادت اور برادر عوام سے بالمشافہ تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ اس تزویراتی دورے میں سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف، نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی وزیر اعظم شہباز شریف کے ہمراہ موجود تھے۔

ملاقات کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے مرحوم امیرِ والد کی دوراندیش قیادت، مدبرانہ بصیرت اور قطر کی غیرمعمولی ترقی کے ساتھ ساتھ خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے فروغ کے لیے ان کی گراں قدر خدمات کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے پاکستان کے لیے مرحوم امیرِ والد کی گرمجوشی، شفقت اور دیرینہ محبت کو یاد کرتے ہوئے ان کے پاکستان کے متعدد یادگار دوروں کو بھی انتہائی قدر و منزلت سے یاد کیا۔ وزیر اعظم نے گہرے صدمے کی اس گھڑی میں قطر کی قیادت اور عوام کے ساتھ پاکستان کی غیرمتزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام اور شاہی خاندان سمیت قطر کے برادر عوام کو یہ ناقابلِ تلافی صدمہ صبر و حوصلے کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے وزیر اعظم محمد شہباز شریف، سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف، نائب وزیر اعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور پاکستانی وفد کا ذاتی طور پر دوحہ آ کر تعزیت کرنے پر صمیمِ قلب سے شکریہ ادا کیا اور اس مقتدر جذبے کو دونوں برادر ممالک اور عوام کے درمیان قائم گہرے اور تزویراتی برادرانہ تعلقات کا منہ بولتا مظہر قرار دیا۔

او آئی سی خواتین وزارتی کانفرنس: وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت (فوسپاہ) کی بھرپور شرکت اور اہم عالمی ملاقاتیں

روزینہ اسماعیل, JULY 13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

سیکرٹریٹ برائے وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت (فوسپاہ) نے جناح کنونشن سینٹر اسلام آباد میں منعقدہ دو روزہ نویں او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین میں بھرپور اور تزویراتی شرکت کی ہے۔ کانفرنس کے موقر موقع پر وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت فوزیہ وقار نے او آئی سی وومن ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (ڈبلیو ڈی او) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر، قونصلر سارہ اسماعیل الشورا سے ایک مقتدر ملاقات کی، جس میں مسلم ممالک میں خواتین کے حقوق کے تحفظ اور ہراسیت کے خاتمے کے اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ فوزیہ وقار نے کانفرنس میں شریک نامور پارلیمانی رہنماؤں اور حقوقِ نسواں کی نمایاں شخصیات سے بھی اہم ملاقاتیں کیں، جن میں شائستہ پرویز ملک، صائرہ ترار، نزہت صادق، صبا صادق، ڈاکٹر نفیسہ شاہ اور مہناز عزیز شامل ہیں۔ ان مقتدر ملاقاتوں نے ادارہ جاتی تعاون، پالیسی مکالمے اور خواتین کے حقوق و تحفظِ کار کے حوالے سے علاقائی رابطہ کاری کو مضبوط بنانے کے لیے فوسپاہ کے غیر متزلزل عزم کی عکاسی کی ہے۔

کانفرنس کے دوران فوسپاہ کی ٹیم نے مارکیٹ پلیس میں ایک مخصوص انفارمیشن ڈیسک بھی قائم رکھا، جہاں مقامی و بین الاقوامی وفود، معززین اور شرکا سے اہم ملاقاتیں کی گئیں۔ اس معلوماتی ڈیسک پر ٹیم نے فوسپاہ کے دائرہ اختیار اور مینڈیٹ سے متعلق تفصیلی معلومات فراہم کیں اور رکن ممالک میں صنفی انصاف اور تحفظِ کار کے فروغ کے لیے پیشہ ورانہ مکالمے کو کامیابی سے آگے بڑھایا۔ مزید برآں، فوسپاہ کے اعلیٰ حکام نے او آئی سی سیکرٹریٹ کی خواتین ٹیم، مختلف او آئی سی اداروں کے نمائندوں اور رکن ممالک کے سرکاری وفود سے وسیع پیمانے پر تزویراتی بات چیت کی۔ ان مربوط کاوشوں نے اہم ادارہ جاتی روابط کو مزید مستحکم کیا ہے اور عالمِ اسلام میں خواتین کے سماجی، اقتصادی اور سیاسی حقوق کے فروغ سے متعلق اجتماعی عزم اور مکالمے کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

پاکستان میں ریبیز کے خاتمے کے لیے بڑا فیصلہ: وفاقی وزیر صحت نے قومی فریم ورک کی تیاری کی اصولی منظوری دے دی

کاشف عباسی , JULY 13,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے قومی صحت مصطفیٰ کمال سے دی انڈس ہاسپٹل اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) ڈاکٹر عبدالباری خان نے ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ اہم ملاقات کی ہے۔ اس مقتدر ملاقات کے دوران پاکستان میں ریبیز (الکَلَب/باؤلے کتے کے کاٹنے کی بیماری) کی روک تھام اور اس کے مؤثر کنٹرول کے لیے قومی سطح پر فوری و تزویراتی اقدامات اٹھانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ انڈس ہاسپٹل کے وفد نے وفاقی وزیر کو ملک میں ریبیز کی موجودہ تشویشناک صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں اس وقت ریبیز کی نگرانی کا کوئی مؤثر قومی نظام موجود نہیں ہے، تاہم دستیاب اندازوں کے مطابق ملک میں ہر سال تقریباً 5 ہزار افراد ریبیز کے باعث اپنی جان کی بازی ہار جاتے ہیں جبکہ لاکھوں افراد سالانہ کتوں کے کاٹنے کا شکار ہوتے ہیں، جن میں بچوں، دیہی علاقوں کے مکینوں اور شہری مضافات کی محروم آبادی کا تناسب سب سے زیادہ ہے۔

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پاکستان میں ریبیز کے بڑھتے ہوئے اس بوجھ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے “قومی ریبیز پریوینشن اینڈ کنٹرول فریم ورک” کی تیاری کی اصولی منظوری دے دی ہے۔ انہوں نے مقتدر حکام کو ہدایت کی کہ اس مقصد کے لیے ملک میں جلد از جلد ایک “نیشنل ٹیکنیکل ورکنگ ایڈوائزری گروپ” تشکیل دیا جائے جو اس قومی فریم ورک کو مرتب کرنے کی قیادت کرے گا۔ وزیر صحت نے واضح کیا کہ ریبیز ایک مکمل طور پر قابلِ تدارک بیماری ہے اور عوام کو اس کے خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک جامع ملک گیر آگاہی مہم کا آغاز کیا جائے گا۔ انہوں نے بالخصوص وزیراعلیٰ سندھ کی قیادت میں جاری صوبہ بھر کی انسدادِ ریبیز مہم کو سراہا اور اس سلسلے میں دی انڈس ہاسپٹل اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کی تکنیکی معاونت کو قابلِ قدر قرار دیا۔ مصطفیٰ کمال نے عزم کا اظہار کیا کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں اور تمام تکنیکی شراکت دار باہمی تعاون سے پاکستان میں ریبیز سے ہونے والی ان اموات کے خاتمے کے لیے مؤثر تزویراتی اقدامات کریں گے۔

اس موقر موقع پر ڈاکٹر عبدالباری خان نے وفاقی وزیر کو (2024)” کی دستاویز پیش کی جو انڈس ہاسپٹل نیٹ ورک کی تکنیکی معاونت سے تیار کی گئی ہے۔ ملاقات کے اختتام پر وفاقی وزیر صحت نے نامور ماہرِ صحت مرحومہ پروفیسر نسیم صلاح الدین کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور ان کے اہلِ خانہ سے تعزیت کی۔ انہوں نے کہا کہ پروفیسر نسیم صلاح الدین کی ریبیز کی روک تھام اور پاکستان میں عوامی صحت (پبلک ہیلتھ) کے فروغ کے لیے انجام دی جانے والی گراں قدر اور مقتدر خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔