خاتونِ اول اور رکن قومی اسمبلی آصفہ بھٹو زرداری نے پاکستانی طالب علم جیانت کمار کو ہارورڈ کرمسن بزنس مقابلے میں عالمی چیمپئن بننے کے مقتدر اعزاز پر دلی مبارکباد پیش کی ہے۔ پیر کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے ایک تزویراتی پیغام میں خاتونِ اول نے کہا کہ اس شاندار اور بے مثال کامیابی سے نوجوان طالب علم نے عالمی سطح پر پاکستان کا نام فخر سے روشن کر دیا ہے۔
موقر تفصیلات کے مطابق، کراچی گرامر اسکول سے تعلق رکھنے والے مقتدر طالب علم جیانت کمار نے ہارورڈ کرمسن بزنس مقابلے میں عالمی چیمپئن کا اعزاز حاصل کیا ہے، جو دنیا کے معتبر ترین پری کالج بزنس مقابلوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس مقتدر مقابلے کے ججز پینل میں فارچیون 500 کمپنیوں کے اعلیٰ ترین انتظامی عہدیداران اور کاروباری ماہرین شامل ہوتے ہیں۔ دنیا بھر سے ایک ہزار سے زائد ماہر ٹیموں کے درمیان ہونے والے اس سخت ترین مقابلے میں، جہاں زیادہ تر عالمی ٹیمیں چار اراکین پر مشتمل تھیں، جیانت کمار نے کسی ٹیم کے بغیر بالکل اکیلے شرکت کرتے ہوئے یہ نمایاں اور تاریخی کامیابی حاصل کی ہے۔ وہ اس عالمی مقابلے کے گلوبل فائنل کے لیے نہ صرف کوالیفائی کرنے والے بلکہ اسے جیتنے والے پہلے پاکستانی طالب علم بن گئے ہیں، جسے ملکی تاریخ میں پاکستان کے لیے ایک بہت بڑا اور تاریخی اعزاز قرار دیا جا رہا ہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے عدالتی اور انتظامی امور میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے انصاف کی فراہمی کے نظام کو مزید موثر، شفاف اور عوام دوست بنانے کے لیے ڈیجیٹل تبدیلی کے پروگرام میں ایک تاریخی سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے تمام زیر التوا مقدمات کا ریکارڈ کامیابی سے ڈیجیٹلائز کر کے ایک جامع ڈیجیٹل عدالتی نظام کی بنیاد رکھ دی ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے پیر کے روز جاری کردہ مقتدر اعلامیے کے مطابق، عدالت نے 44 ہزار 995 زیر التوا مقدمات کی فائلیں سرچ ایبل او سی آر فارمیٹ میں سکین، بارکوڈ، ڈیجیٹل کیٹلاگ اور کیس انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم سے منسلک کر دی ہیں۔ اس تزویراتی عمل کے دوران معمول کی عدالتی کارروائیاں بھی بغیر کسی تعطل کے جاری رہیں اور ڈیجیٹلائز کیے گئے مقدمات میں سے 11 ہزار 999 مقدمات کے فیصلے بھی سنائے جا چکے ہیں۔
موقر اعلامیے کے مطابق، سپریم کورٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ تمام زیر التوا مقدمات کو معزز ججوں کی کمیٹی کے تیار کردہ منظم فریم ورک کے تحت دائرہ اختیار اور نوعیت کے مطابق درجہ بندی بھی مکمل کر لی گئی ہے۔ اس مقصد کے لیے قائم خصوصی کیٹیگرائزیشن سیل نے تمام مقدمات کی منظم درجہ بندی کی جس سے مقدمات کے موثر انتظام، اعداد و شمار پر مبنی منصوبہ بندی، بہتر سماعتی شیڈول اور عدالتی وسائل کی ترجیحی بنیادوں پر تقسیم ممکن ہو سکے گی۔ عدالتی ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن کے ساتھ ساتھ متعدد جدید ڈیجیٹل سہولیات بھی متعارف کرائی گئی ہیں جن میں ای فائلنگ، کیو آر کوڈ سے تصدیق شدہ مصدقہ نقول، عدالتی خدمات کے لیے آن لائن درخواستیں، وکلاء کی ڈیجیٹل انرولمنٹ، ون لنک اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعے عدالتی فیس کی الیکٹرانک ادائیگی، ویڈیو لنک کے ذریعے سماعتیں اور پبلک فیسیلی ٹیشن سینٹر کے تحت ایک مربوط آن لائن پلیٹ فارم پر 35 عوامی خدمات کی فراہمی شامل ہے۔
علاوہ ازیں، سپریم کورٹ کے انتظامی امور کو بھی حکومت کے ای آفس پلیٹ فارم پر منتقل کر دیا گیا ہے جس سے سرکاری کارروائی کاغذ سے پاک (پیپر لیس) نظام کے تحت انجام دی جا رہی ہے، جس سے انتظامی کارکردگی، شفافیت اور جوابدہی میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔ سپریم کورٹ کے مطابق یہ مقتدر اصلاحات روایتی کاغذی نظام سے مکمل ڈیجیٹل عدالتی نظام کی جانب ایک بنیادی تبدیلی کی عکاس ہیں جس سے مقدمات کے موثر انتظام، اعداد و شمار پر مبنی فیصلوں اور شہریوں کو بہتر عدالتی خدمات کی فراہمی ممکن ہوگی۔ اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ عدالت مستقبل میں خودکار کیس مینجمنٹ، عدالتی تجزیاتی نظام اور نئی ٹیکنالوجیز کے ذمہ دارانہ استعمال کے ذریعے انصاف کی فراہمی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
چین نے عالمی سطح پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تزویراتی معاملے کو مناسب اور ذمہ دارانہ طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔ چینی میڈیا گروپ سی جے ٹی این کے مطابق، یہ بات چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لِین جیان نے پیر کے روز بیجنگ میں منعقدہ یومیہ پریس کانفرنس کے دوران کہی۔ انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز ایک انتہائی اہم عالمی آبی گزرگاہ ہے جسے بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے، اس لیے اس حساس تجارتی گزرگاہ سے محفوظ اور آزاد آمد و رفت کی جلد بحالی تمام متعلقہ فریقین کے بہترین معاشی و تزویراتی مفاد میں ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق پیدا ہونے والے تمام معاملات کو انتہائی ذمہ دارانہ انداز میں حل کیا جانا چاہیے، جبکہ اس حوالے سے عالمی برادری کے وسیع تر خدشات کو بھی مناسب طریقے سے دور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے اس مقتدر عزم کا اظہار کیا کہ چین خطے کے امن اور سمندری تجارتی راستوں کے تحفظ کے لیے اس اہم معاملے پر متعلقہ ممالک اور عالمی برادری کے ساتھ قریبی و مسلسل تزویراتی رابطے برقرار رکھنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
چین کے اہم قمری تحقیقاتی مشن “چانگ ای-7” کے لیے تیار کیا گیا راکٹ “لانگ مارچ-5 وائی 14” ملک کے جنوبی صوبے ہائنان میں واقع وین چانگ خلائی لانچ مرکز پر پہنچا دیا گیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق، چین کی قومی خلائی انتظامیہ (سی این ایس اے) نے اس تزویراتی پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ راکٹ کو اب لانچنگ سائٹ پر پہلے سے موجود چانگ ای-7 قمری تحقیقاتی خلائی جہاز کے ساتھ جوڑنے کا عمل شروع کیا جائے گا، جس کے بعد اس خلائی مشن کی روانگی سے قبل مختلف تکنیکی آزمائشیں اور حتمی معائنے مکمل کیے جائیں گے۔
آسٹریلیا کی ریاست کوئینزلینڈ میں ایک اسکول کے اندر مبینہ طور پر چاقو سے حملہ کر کے اپنے ہی ساتھی طالب علم کو شدید زخمی کرنے والے 15 سالہ لڑکے کو پولیس نے تزویراتی کارروائی کرتے ہوئے گرفتار کر لیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق، ریاستی کوئینزلینڈ کی پولیس نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ افسوسناک واقعہ پیر کے روز کیرنز شہر کے ایک اسکول میں پیش آیا، جہاں دوپہر سے کچھ دیر قبل پولیس کو ہنگامی اطلاع موصول ہوئی کہ ایک 15 سالہ طالب علم کے پیٹ پر اسکول کے اندر ہی چاقو سے وار کیا گیا ہے۔
موقر تفصیلات کے مطابق، زخمی ہونے والے طالب علم کو حملے کے فوری بعد طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں کے مطابق اس کی حالت اب مکمل طور پر خطرے سے باہر بتائی گئی ہے۔ ہولناک واقعے کے بعد مبینہ حملہ آور طالب علم، جس کی عمر بھی 15 سال ہے، جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا، تاہم پولیس نے تندہی سے تعاقب کرتے ہوئے واردات کے تقریباً 30 منٹ بعد ہی اسے قریبی علاقے سے دھر دبوچا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار لڑکے کو حراست میں لے کر تفتیش کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے، جبکہ علاقے میں امن و امان کی صورتحال قابو میں ہے اور عوام کے لیے اب کسی قسم کے مزید خطرے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے ایک بڑا تزویراتی فیصلہ سناتے ہوئے جون 2024ء میں سپریم کورٹ کی جانب سے اسلام آباد کے مشہورِ زمانہ ‘مونال ریسٹورنٹ’ کو ختم کرنے کا دیا گیا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔ آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کے دو سال پرانے فیصلے کو برقرار رکھنے والے حکمِ امتناعی کو باقاعدہ ختم کرتے ہوئے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور میٹرو پولیٹن کارپوریشن کی اپیلیں منظور کر لی ہیں۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 11 جون 2024ء کو مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں واقع مونال سمیت تمام ریستورانوں کو تین ماہ کے اندر مکمل طور پر بند اور ختم کرنے کا حکم دیا تھا، جس کے بعد ستمبر 2024ء میں مونال ریسٹورنٹ کو باقاعدہ ختم کر دیا گیا تھا۔
کیس کی سماعت کے دوران وفاقی آئینی عدالت کے مقتدر جج جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے میں بہت سے اہم قانونی نکات کو مدِنظر نہیں رکھا گیا تھا۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ جب انہوں نے سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھا تو انہیں اندازہ ہوا کہ اس میں بہت کچھ ایسا لکھا گیا جو عدالتی کارروائی کا حصہ ہی نہیں تھا، اور فیصلے میں وہ باتیں شامل کی گئیں جن کا اصل واقعاتی فسانہ میں کوئی ذکر تک نہ تھا۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے مقتدر لہجے میں واضح کیا کہ عدالت کوئی جذباتی فیصلہ نہیں کرے گی اور ہم اپنے فیصلے میں الف لیلیٰ کی کہانیاں تحریر نہیں کریں گے۔ دورانِ سماعت جب وکیل احسن بھون نے آئینی عدالت کے ریمارکس پر تعریف کرنا چاہی تو جسٹس حسن اظہر رضوی نے انہیں ٹوکتے ہوئے کہا کہ عدالت میں ہماری تعریفیں نہ کی جائیں، جو باقاعدہ سماعت ہوئی ہے اسی کے مطابق میرٹ پر حکم جاری کیا جائے گا۔
اسلام آباد ٹریفک پولیس (آئی ٹی پی) نے 13 سے 19 جولائی تک موبائل فیسلی ٹیشن وینز اور پولیس اسٹیشن آن وہیلز کا نیا ہفتہ وار شیڈول جاری کر دیا ہے، جس کے ذریعے وفاقی دارالحکومت کے مختلف مقامات پر شہری پولیس اور ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق تمام بنیادی خدمات حاصل کر سکیں گے۔ آئی ٹی پی کے ترجمان نے اتوار کے روز موقر تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ یہ تمام فیسلی ٹیشن یونٹس روزانہ صبح 8:30 بجے سے شام 4:30 بجے تک مقررہ مقامات پر دستیاب رہیں گے اور ان موبائل یونٹس کے ذریعے شہریوں کو لرنر ڈرائیونگ پرمٹ کا اجراء، ڈرائیونگ لائسنس کی تجدید، ڈپلیکیٹ ڈرائیونگ لائسنس، پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ اور گمشدہ دستاویزات کی رپورٹس کے اندراج جیسی اہم خدمات فراہم کی جائیں گی۔
جاری کردہ باقاعدہ شیڈول کے تحت پیر 13 جولائی کو ہاسٹل سٹی پارک روڈ، ترامڑی چوک، میڈیا ٹاؤن اور ٹریفک آفس فیض آباد میں خدمات دستیاب ہوں گی، جبکہ منگل 14 جولائی کو جی نائن مرکز، نیول ہیڈ کوارٹرز ای ایٹ اور بحریہ ٹاؤن فیز ٹو میں وینز موجود رہیں گی۔ اسی طرح بدھ 15 جولائی کو ای الیون مرکز، اسلام آباد چیمبر آف کامرس جی ایٹ، ڈی ایچ اے فیز ٹو اور ٹریفک آفس فیض آباد جبکہ جمعرات 16 جولائی کو کری روڈ ایکسپریس وے، پی ڈبلیو ڈی تندوری ریسٹورنٹ، کیبنٹ بلاک پاک سیکریٹریٹ اور فارن آفس میں یہ سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ جمعہ 17 جولائی کو جی ایٹ مرکز، جی الیون ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن، پی ڈبلیو ڈی ایکسپریس وے اور ٹریفک آفس فیض آباد جبکہ ہفتہ 18 جولائی کو رحمان انکلیو لہتراڑ روڈ، آبپارہ مارکیٹ، آئی ایٹ مرکز اور راول ٹاؤن میں فیسلی ٹیشن پوائنٹس قائم ہوں گے، اور اتوار 19 جولائی کو ایف نائن پارک، ٹریفک آفس راول ٹاؤن، پولیس لائنز ایچ الیون اور اسلام آباد کلب میں وینز موجود رہیں گی۔ ٹریفک پولیس حکام نے شہریوں سے مقتدر اپیل کی ہے کہ وہ اپنے قریبی فیسلی ٹیشن پوائنٹ سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور کسی بھی قسم کی رہنمائی یا مزید معلومات کے لیے آئی ٹی پی کی ہیلپ لائن 1915 پر رابطہ کریں۔
اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی نویں خواتین وزارتی کانفرنس اتوار کے روز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تکنیکی سطح کے اجلاسوں کے آغاز کے ساتھ شروع ہو گئی ہے۔ اس دو روزہ موقر کانفرنس میں او آئی سی کے 57 رکن ممالک سے تقریباً 190 اہم نمائندے شریک ہیں، جن میں وزراء، اعلیٰ حکومتی افسران اور سفارت کار شامل ہیں۔ کانفرنس کے دوران مسلم امہ میں خواتین کی سماجی، معاشی اور سیاسی شرکت کو بڑھانے اور رکن ممالک کے درمیان باہمی تعاون کو مضبوط کرنے کے تزویراتی طریقوں پر تفصیلی مباحثہ کیا جائے گا۔
موقر تفصیلات کے مطابق، یہ کانفرنس “او آئی سی ممالک میں خواتین کی سماجی، معاشی اور سیاسی بااختیار سازی: چیلنجز اور آگے کا راستہ” کے اہم موضوع پر منعقد ہو رہی ہے۔ کانفرنس کا بنیادی فوکس خواتین کی تعلیم، صحت، روزگار، انٹرپرینیورشپ، مالیاتی خدمات، ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل مواقع تک رسائی کو وسعت دینے کے ساتھ ساتھ عوامی زندگی میں ان کی مکمل شرکت کی راہ میں حائل تزویراتی رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔ افتتاحی دن تکنیکی ماہرین اور اعلیٰ افسران کے تیاری کے سیشنز منعقد ہو رہے ہیں تاکہ پیر کے روز ہونے والے وزرا اجلاس کے لیے سفارشات کو حتمی شکل دی جا سکے۔
وزیر اعظم شہباز شریف پیر کے روز وزارتی سیشن کا باقاعدہ افتتاح کریں گے، جس کے ساتھ ہی پاکستان آئندہ دو سال کے لیے مصر سے او آئی سی خواتین وزارتی کانفرنس کی چیئرمین شپ باقاعدہ طور پر سنبھال لے گا۔ کانفرنس سے متعدد اعلیٰ پاکستانی رہنما خطاب کریں گے، جن میں پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف، وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن شیزہ فاطمہ خواجہ، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ اور قومی اسمبلی کی اراکین وجیہہ قمر اور صبا صادق شامل ہیں۔ یہ رہنما پاکستان کی خواتین کو بااختیار بنانے، تعلیم، معاشی شمولیت اور قیادت کو فروغ دینے کے لیے حکومتی اقدامات کو عالمی سطح پر اجاگر کریں گے۔ کانفرنس کا اختتام ’’اسلام آباد اعلامیہ‘‘ کی منظوری کے ساتھ متوقع ہے، جس میں مسلم ممالک میں خواتین کی پائیدار ترقی کے لیے ایک مشترکہ فریم ورک پیش کیا جائے گا۔
پنجاب کے مختلف اضلاع میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مون سون بارشوں کا سلسلہ تواتر کے ساتھ جاری رہا، جس میں سب سے زیادہ 51 ملی میٹر بارش نارووال میں ریکارڈ کی گئی ہے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی جانب سے جاری کردہ مقتدر رپورٹ کے مطابق، حالیہ بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی اور نچلے علاقوں میں پانی جمع ہونے کے خدشات کے پیشِ نظر تمام متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
پی ڈی ایم اے کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق، گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران راولپنڈی کے مختلف مقتدر علاقوں میں بھی بادل جم کر برسے، جہاں گوالمنڈی میں 36 ملی میٹر، نیو کٹاریاں میں 35 ملی میٹر، شمس آباد میں 23 ملی میٹر، کچہری میں 21 ملی میٹر اور پیرودھائی میں 19 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ اس کے علاوہ گجرات میں 28 ملی میٹر، سیالکوٹ میں 24 ملی میٹر، مری اور اٹک میں 19، 19 ملی میٹر، چکوال میں 4 ملی میٹر، جبکہ صوبائی دارالحکومت لاہور میں 3 ملی میٹر اور منڈی بہاؤالدین میں 2 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے اس تزویراتی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی خصوصی اور مقتدر ہدایات کے پیشِ نظر صوبے بھر کے کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز (ڈیسیوز) اور واسا سمیت تمام متعلقہ نکاسیٔ آب کے اداروں کو فیلڈ میں الرٹ رہنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری نمٹا جا سکے۔ انہوں نے شہریوں سے بھی مقتدر اپیل کی ہے کہ وہ آسمانی بجلی کی گرج چمک اور تیز طوفان کے دوران محفوظ مقامات پر رہیں، بجلی کے کھمبوں سے دور رہیں اور کسی بھی ہنگامی تزویراتی صورتحال کی صورت میں پی ڈی ایم اے کی آفیشل ہیلپ لائن 1129 پر فوری کال کریں۔
بلوچستان میں امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کے جڑ سے خاتمے کے لیے پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور پولیس کا مشترکہ تزویراتی ’’آپریشن شعبان‘‘ پوری قوت کے ساتھ جاری ہے۔ سکیورٹی فورسز کی جانب سے فتنہ الخوارج کے خلاف کی جانے والی تازہ ہوائی اور زمینی کارروائیوں کے دوران مزید 3 خارجی دہشت گردوں کو کامیابی سے جہنم واصل کر دیا گیا ہے۔ معتبر سکیورٹی ذرائع کے مطابق، ان تازہ ترین کارروائیوں کے بعد اتوار کے روز تک صرف ‘آپریشن شعبان’ کے تحت ہلاک ہونے والے خوارج کی مجموعی تعداد 67 ہو چکی ہے۔
سکیورٹی ذرائع کی جانب سے فراہم کردہ مقتدر تفصیلات کے مطابق، 5 جولائی سے اب تک صوبے کے مختلف حصوں میں جاری آپریشن شعبان اور دیگر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں مجموعی طور پر فتنہ الخوارج کے 105 خارجی دہشت گرد جہنم واصل کیے جا چکے ہیں۔ سکیورٹی حکام نے عزمِ صمیم کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بلوچستان کی دھرتی سے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے سکیورٹی فورسز کی یہ مربوط کارروائیاں بلا مقتدر تعطل جاری رہیں گی اور صوبے میں آخری دہشت گرد کے مکمل خاتمے تک آپریشن شعبان پوری تزویراتی قوت کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔
دفاعی عالمی چیمپئن ارجنٹینا نے فٹ بال ورلڈ کپ 2026 کے ایک انتہائی سنسنی خیز، اعصاب شکن اور ڈرامائی کوارٹر فائنل مقابلے میں سخت مزاحمت کرنے والی سوئٹزرلینڈ کی ٹیم کو اضافی وقت میں 1-3 سے شکست دے کر مسلسل دوسری مرتبہ فیفا ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں رسائی حاصل کر لی ہے۔ کینساس سٹی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس ہائی وولٹیج مقتدر مقابلے میں مقررہ 90 منٹ تک دونوں ٹیمیں 1-1 سے برابر رہیں، تاہم سوئس اسٹرائیکر کو ملنے والے ریڈ کارڈ اور اضافی وقت میں ارجنٹائن کے شاندار حملوں نے میچ کا پاسا پلٹ دیا۔ سیمی فائنل میں اب ارجنٹینا کا تزویراتی ٹکراؤ روایتی حریف انگلینڈ سے ہوگا، جبکہ پہلے سیمی فائنل میں فرانس اور اسپین کی مقتدر ٹیمیں آمنے سامنے ہوں گی۔
پہلا ہاف: الیکسس میک ایلسٹر کا شاندار آغاز میچ کا آغاز ہوتے ہی دفاعی چیمپئن ارجنٹینا نے اپنے روایتی تزویراتی انداز میں جارحانہ کھیل پیش کیا۔ میچ کے محض 10ویں منٹ میں ارجنٹائن کے کپتان اور لیجنڈ فٹ بالر لیونل میسی نے ایک بہترین کارنر کک لی، جس پر الیکسس میک ایلسٹر نے ہوا میں اچھلتے ہوئے شاندار ہیڈر کے ذریعے گیند کو سوئس جال کی راہ دکھا کر اپنی ٹیم کو 0-1 کی مقتدر برتری دلا دی۔ اس ابتدائی دھچکے کے بعد بھی ارجنٹائن نے دباؤ برقرار رکھا، تاہم سوئٹزرلینڈ کے مقتدر گول کیپر گریگور کوبل چٹان بن گئے اور انہوں نے ارجنٹائن کے کئی یقینی گولز کے حملوں کو ناکام بنا کر پہلے ہاف میں اسکور مزید بڑھنے نہ دیا۔
دوسرا ہاف: سوئٹزرلینڈ کا کم بیک اور کارڈز کی برسات دوسرے ہاف میں سوئس ٹیم نے حکمتِ عملی تبدیل کی اور ارجنٹائن کے دفاع پر جوابی حملے شروع کیے۔ میچ کے 67ویں منٹ میں ریکارڈو روڈریگیز کے ایک پکے ہوئے پاس پر ڈین نڈوئے نے کوئی غلطی نہ کی اور گیند کو گول پوسٹ میں ڈال کر مقابلہ 1-1 سے برابر کر دیا۔ اس گول کے بعد کھیل میں تپش بڑھ گئی اور دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کے درمیان میدان میں شدید جسمانی ٹکراؤ دیکھنے کو ملا۔ ریفری کو کھیل پر کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے متعدد مرتبہ کارڈز کا استعمال کرنا پڑا۔ میچ کے دوران سخت ٹیکلز اور فاؤلز پر ارجنٹائن اور سوئٹزرلینڈ کے متعدد کھلاڑیوں کو تادیبی کارروائی کے طور پر ییلو کارڈز (انتباہی کارڈ) دکھائے گئے۔
میچ کا سب سے متنازع لمحہ: بریل ایمبولو کا اخراج میچ کا سب سے بڑا تزویراتی موڑ اس وقت آیا جب سوئٹزرلینڈ کے اسٹار اسٹرائیکر بریل ایمبولو کو ڈیفنس ایریا میں ڈائیونگ کرنے پر ریفری نے دوسرا ییلو کارڈ دکھا دیا۔ چونکہ انہیں میچ میں پہلے بھی ایک ییلو کارڈ مل چکا تھا، اس لیے دوسرے ییلو کارڈ کے فوری بعد ریفری نے انہیں ریڈ کارڈ دکھا کر میدان سے باہر بھیج دیا۔ وی اے آر کے جائزے کے بعد بھی اس فیصلے کو برقرار رکھا گیا، جس پر سوئس کھلاڑیوں اور ان کے ہیڈ کوچ نے شدید مقتدر احتجاج کیا۔ اس ریڈ کارڈ کے باعث سوئٹزرلینڈ کی ٹیم میچ کے نازک ترین موڑ پر صرف 10 کھلاڑیوں تک محدود ہو گئی اور یہی چیز ان کی شکست کی سب سے بڑی وجہ بنی۔
اضافی وقت: جولیان الواریز اور لاوتارو مارٹینیز کا فیصلہ کن وار مقررہ 90 منٹ تک اسکور 1-1 رہنے کے بعد میچ اضافی وقت میں داخل ہوا۔ ایک کھلاڑی کی برتری کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ارجنٹینا نے تزویراتی حملے تیز کیے۔ میچ کے 112ویں منٹ میں جولیان الواریز نے ڈی باکس کے باہر سے ایک ناقابلِ یقین لانگ رینج شاٹ مارا، جو سوئس گول کیپر گریگور کوبل کو چھکاتے ہوئے سیدھا نیٹ میں جا گھسا اور ارجنٹینا کو 1-2 کی برتری مل گئی۔ سوئٹزرلینڈ نے 10 کھلاڑیوں کے باوجود آخری لمحات میں برابری کے لیے پورا زور لگا دیا، لیکن میچ کے بالکل آخری لمحات (120+ منٹ) میں لاوتارو مارٹینیز نے ایک شاندار کاؤنٹر اٹیک پر ارجنٹائن کی جانب سے تیسرا گول اسکور کر کے سوئٹزرلینڈ کا عالمی کپ کا سفر تمام کر دیا اور ارجنٹینا کی 1-3 سے فتح پر مہر ثبت کر دی۔
فٹ بال کے سب سے بڑے تزویراتی میلے، 23ویں فیفا ورلڈ کپ 2026 کے ایک انتہائی سنسنی خیز اور اعصاب شکن کوارٹر فائنل مقابلے میں انگلینڈ نے ناروے کو اضافی وقت میں 1-2 سے شکست دے کر سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے۔ میامی کے مقتدر ہارڈ راک اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس تاریخی میچ میں انگلش ٹیم کی فتح کے حقیقی ہیرو اسٹار مڈفیلڈر جوڈ بیلنگھم رہے، جنہوں نے اپنے شاندار کھیل اور دو یادگار گولز کی بدولت ٹیم کی کشتی کو پار لگایا۔
میچ کا آغاز دونوں ٹیموں کی جانب سے جارحانہ انداز میں ہوا، تاہم ناروے نے تزویراتی برتری حاصل کرتے ہوئے 36ویں منٹ میں آندریاس شیلڈروپ کے ایک خوبصورت گول کی بدولت 0-1 کی برتری حاصل کر کے اسٹیڈیم میں موجود انگلش مداحوں کو سکتے میں ڈال دیا۔ اس دباؤ کے باوجود انگلینڈ نے ہمت نہ ہاری اور اپنے حملے تیز کر دیے۔ پہلے ہاف کے اضافی وقت میں جوڈ بیلنگھم نے حریف ٹیم کے دفاع کو توڑتے ہوئے ایک شاندار گول داغ کر مقابلہ 1-1 سے برابر کر دیا۔ دوسرے ہاف میں دونوں مقتدر ٹیموں نے برتری حاصل کرنے کے لیے کئی خطرناک مووز بنائیں، لیکن دونوں جانب کا دفاع مضبوط ثابت ہوا اور مقررہ وقت تک اسکور 1-1 رہا، جس کے باعث میچ اضافی وقت میں داخل ہوگیا۔
اضافی وقت کے آغاز میں ہی، یعنی 93ویں منٹ میں، جوڈ بیلنگھم نے ایک مرتبہ پھر اپنی عالمی کلاس کا مظاہرہ کیا اور حریف گول کیپر کو چکمہ دیتے ہوئے گیند کو جال کی راہ دکھا کر انگلینڈ کو 1-2 کی فیصلہ کن برتری دلا دی۔ ناروے کی جانب سے دنیا کے بہترین اسٹرائیکرز میں شمار ہونے والے ارلنگ ہالینڈ پورے میچ میں انگلش دفاع کے لیے خطرہ بنے رہے، تاہم انگلینڈ کے تزویراتی بیک لائن نے انہیں گول کرنے کا کوئی واضح موقع نہ دیا۔ میچ کے آخری لمحات میں ناروے کا ایک ممکنہ گول بھی ہوا، لیکن وی اے آر کی مداخلت کے بعد اسے فاؤل قرار دے کر مسترد کر دیا گیا۔ اس فتح کے بعد اب سیمی فائنل میں انگلینڈ کا روایتی حریف ارجنٹینا سے بڑا تزویراتی ٹکراؤ ہوگا، جس پر دنیا بھر کے فٹ بال شائقین کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔
یورپی یونین کے مالی تعاون اور مقتدر اشتراک سے 12 لاکھ یورو مالیت کا ایک نیا انقلابی منصوبہ ’’منزل‘‘ کامیابی سے شروع کر دیا گیا ہے، جس کا بنیادی مقصد پاکستانی نوجوانوں کو روزگار، کاروباری مواقع، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی تزویراتی صلاحیت اور کمیونٹی قیادت کے لیے جامع طور پر بااختیار بنانا ہے۔ لاہور اور کراچی میں باقاعدہ طور پر شروع کیے گئے اس تزویراتی منصوبے کے تحت راولپنڈی، لاہور، میرپورخاص اور سانگھڑ میں تقریباً 4 ہزار مستحق نوجوان خواتین و مردوں کو براہِ راست معاشی و تکنیکی معاونت فراہم کی جائے گی، جبکہ 40 نوجوانوں کی قیادت میں قائم مقامی تنظیموں کی استعداد کار (کیپیسٹی بلڈنگ) بھی بڑھائی جائے گی۔
جاری کردہ مقتدر تفصیلات کے مطابق، اس اہم منصوبے پر عملدرآمد ناروین چرچ ایڈ ، سول سوسائٹی سپورٹ پروگرام اور شراکت فاؤنڈیشن کے باہمی اشتراک سے کیا جا رہا ہے، جبکہ اس کی مکمل مالی معاونت یورپی یونین فراہم کر رہی ہے۔ منصوبے کا تزویراتی مقصد نوجوانوں کو صرف ترقیاتی پروگراموں کے روایتی مستفید افراد کے بجائے کامیاب کاروباری شخصیات، موسمیاتی تحفظ کے علمبردار، کمیونٹی رہنما اور مقامی طرزِ حکمرانی میں فعال شراکت دار بنانا ہے۔ اس پروگرام کے تحت نوجوانوں کو مارکیٹ کی جدید ضروریات سے ہم آہنگ مہارتیں، روزگار و کاروبار کے مواقع، قائدانہ صلاحیتوں کی تربیت اور مقامی سطح پر موسمیاتی مسائل کے پائیدار حل تیار کرنے میں مدد دی جائے گی۔ منصوبے میں خواتین، خصوصی افراد، خواجہ سرا برادری، مذہبی اقلیتوں اور معاشرتی طور پر محروم طبقات سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی شمولیت پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یورپی یونین کے پاکستان میں قائم وفد کے قائم مقام سربراہ برائے تعاون ڈاکٹر سباستین لوریون نے کہا کہ یورپی یونین کو اس مقتدر منصوبے کی حمایت پر فخر ہے، کیونکہ جب نوجوانوں کو آواز، مواقع اور شناخت ملتی ہے تو معاشرے زیادہ مضبوط، جدید اور منصفانہ بنتے ہیں۔ ناروین چرچ ایڈ کے کنٹری ڈائریکٹر اسٹیفن کینٹ نے اپنے مقتدر خطاب میں کہا کہ “منزل” اس پختہ یقین پر مبنی ہے کہ نوجوان صرف ترقیاتی منصوبوں کے مستفید نہیں بلکہ تبدیلی کے حقیقی رہنما، اختراع کار اور دیرپا حل کے تزویراتی شراکت دار ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ نوجوانوں کی مہارتوں، تنظیموں اور سرکاری اداروں کے ساتھ روابط کو مضبوط بنا کر ایسے پائیدار حل میں سرمایہ کاری کی جا رہی ہے جن کے فوائد منصوبے کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی مقامی آبادی کو مستقل حاصل ہوتے رہیں گے۔
سکیورٹی فورسز نے فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے خلاف مقتدر کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے علاقے میں تازہ تزویراتی آپریشنز کے دوران مزید 5 خارجیوں کو جہنم واصل کر دیا ہے۔ معتبر سکیورٹی ذرائع کے مطابق، ‘آپریشن شعبان’ کے تحت ہفتہ کی شام تک کی جانے والی مؤثر کارروائیوں میں جہنم واصل ہونے والے اب تک کے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 57 ہو گئی ہے۔
سکیورٹی ذرائع کی جانب سے فراہم کردہ تزویراتی تفصیلات کے مطابق، 5 جولائی سے اب تک جاری رہنے والے آپریشن شعبان اور دیگر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں مجموعی طور پر فتنہ الخوارج کے 95 خارجی دہشت گردوں کو کامیابی سے جہنم واصل کیا جا چکا ہے۔ سکیورٹی حکام نے اس مقتدر عزم کا اعادہ کیا ہے کہ صوبہ بلوچستان کے امن و استحکام کو سبوتاژ کرنے والے عناصر کے خلاف یہ کارروائیاں بلا امتیاز جاری رکھی جائیں گی اور ملک سے آخری دہشت گرد کے مکمل خاتمے تک بلوچستان میں ‘آپریشن شعبان’ پوری تزویراتی قوت کے ساتھ جاری رہے گا۔
چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) سینیٹر روبینہ خالد نے سوات کے علاقے بری کوٹ میں بی آئی ایس پی تحصیل آفس کا دورہ کیا ہے۔ انہوں نے وہاں موجود مستحق خواتین سے تفصیلی ملاقات کی، ان کے مسائل سنے اور ان کے فوری تزویراتی حل کی یقین دہانی کرائی۔ اس موقع پر چیئرپرسن نے خواتین کو ڈیجیٹل والٹ کے محفوظ استعمال، مکمل ادائیگی وصول کرنے اور کسی بھی قسم کی غیر قانونی کٹوتی سے محفوظ رہنے کے حوالے سے خصوصی طور پر آگاہ کیا۔
مقتدر تفصیلات کے مطابق، سینیٹر روبینہ خالد نے خواتین بینیفشریز کو بتایا کہ والٹ ایکٹیویشن فیس 280 روپے ہے۔ انہوں نے خواتین کو تسلی دیتے ہوئے واضح کیا کہ آپ کی امدادی رقم آپ کے ڈیجیٹل والٹ میں مکمل طور پر محفوظ رہتی ہے، اس لیے رقم نکالنے میں کسی قسم کی جلد بازی کی ضرورت نہیں۔ مستحق خواتین اپنی سہولت کے مطابق کسی بھی وقت متعلقہ بینک کے کسی بھی مجاز ریٹیلر سے اپنی مکمل رقم حاصل کر سکتی ہیں۔
سینیٹر روبینہ خالد نے دورے کے دوران ‘بینظیر فری سم’ کی تقسیم کے عمل کا بھی باریک بین جائزہ لیا اور عملے کو سخت تزویراتی ہدایات جاری کیں کہ تمام مستحق خواتین کو شفاف، باعزت اور بروقت خدمات فراہم کی جائیں اور ان کے وقار کا خاص خیال رکھا جائے۔ اس مقتدر موقع پر ڈائریکٹر جنرل بی آئی ایس پی خیبر پختونخوا الف جان آفریدی بھی ان کے ہمراہ موجود تھے اور انہوں نے انتظامی امور پر بریفنگ دی۔
وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کے ترجمان اور ماحولیاتی پالیسی کے نامور ماہر محمد سلیم شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان میں آبادی میں تیز رفتار اضافہ ماحولیاتی پائیداری اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی قومی صلاحیت کے لیے ایک بڑا تزویراتی چیلنج بن چکا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے آبادی کے مؤثر انتظام کو موسمیاتی موافقت (کلائمیٹ ایڈاپٹیشن) اور پائیدار ترقی کی حکمتِ عملی کا لازمی حصہ بنانا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی یومِ آبادی کے موقع پر کیا، جو ہر سال 11 جولائی کو تولیدی صحت، صنفی مساوات، انسانی حقوق اور پائیدار ترقی جیسے اہم موضوعات پر شعور اجاگر کرنے کے لیے منایا جاتا ہے۔
محمد سلیم شیخ نے مقتدر تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ اقوامِ متحدہ نے سال 2026ء کے لیے ’’آج اور مستقبل میں نوجوانوں کی امیدوں اور امنگوں کو حقیقت کا روپ دینا‘‘ کو عالمی موضوع قرار دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی مجموعی آبادی اب تقریباً 25 کروڑ 90 لاکھ ہو چکی ہے اور سالانہ شرحِ اضافہ 2.55 فیصد ہے، جبکہ یہاں ہر سال تقریباً 67 لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں۔ ترجمان نے خبردار کیا کہ اگر یہ موجودہ رجحان برقرار رہا تو آئندہ پانچ برسوں میں ملکی آبادی 30 کروڑ سے تجاوز کر جائے گی، جس سے پانی، صحت، تعلیم، رہائش، روزگار اور بنیادی شہری ڈھانچے پر غیر معمولی دباؤ بڑھے گا۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی آبادی میں اضافے، شہری توسیع اور موسمیاتی تبدیلی کو پائیدار ترقی کے لیے بڑے چیلنجز قرار دے چکے ہیں۔
ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان میں شرحِ پیدائش 3.6 بچے فی خاتون ہے جو پورے جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ ہے، جبکہ آبادی میں یہ بے ہنگم اضافہ پانی کی قلت، جنگلات کی کٹائی، زمینی انحطاط، حیاتیاتی تنوع میں کمی اور فضائی آلودگی کا باعث بن رہا ہے۔ محمد سلیم شیخ نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ موسمیاتی لچک (کلائمیٹ ریزیلینس) صرف شجرکاری یا سیلاب سے بچاؤ کے منصوبوں سے حاصل نہیں ہو سکتی، بلکہ اس کے لیے تعلیم، خواتین کی بااختیاری، خاندانی منصوبہ بندی، تولیدی صحت اور پائیدار شہری منصوبہ بندی میں تزویراتی سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ موجودہ حکومت تمام متعلقہ اداروں کے مقتدر تعاون سے ایسی مربوط پالیسیاں تشکیل دے رہی ہے جو ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار معاشی ترقی کو یقینی بنا سکیں۔
ہیوسٹن / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 جولائی 2026ء
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے پاکستان کی تزویراتی تبدیلی کو اجاگر کرتے ہوئے ’’اڑان پاکستان‘‘ کو ایک کھرب ڈالر کی معیشت کے حصول کا قومی روڈ میپ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ معاشی بحالی، قومی استحکام اور سفارتی کامیابیاں ملک کے روشن مستقبل کی مضبوط بنیاد بن چکی ہیں۔ وزارت کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق، وفاقی وزیر احسن اقبال نے امریکا کی رائس یونیورسٹی میں طلبہ، اساتذہ، محققین اور پاکستانی برادری سے تزویراتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تین اہم قومی سنگ میل عبور کرنے کے بعد ترقی اور مواقع کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ‘آپریشن بنیانٌ مرصوص’ کی کامیاب تکمیل نے پاکستان کی تزویراتی بصیرت، قومی یکجہتی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کا بھرپور مظاہرہ کیا، جس سے ملک کے استحکام پر قومی اور بین الاقوامی اعتماد مزید مضبوط ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقتدر کارروائی نے عالمی برادری کے سامنے بھارت کی جارحیت کو بے نقاب کیا، جبکہ پاکستان نے خطے میں امن، ذمہ داری اور تحمل پر مبنی اپنے مؤقف کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا۔ پروفیسر احسن اقبال نے سنگاپور، جنوبی کوریا، چین اور خلیجی ممالک کی ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پائیدار معاشی ترقی سیاسی استحکام اور پالیسیوں کے تسلسل سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے حکومت کے اس مقتدر عزم کا اعادہ کیا کہ 2035ء تک پاکستان کو ایک کھرب ڈالر کی معیشت بنایا جائے گا۔
بعد ازاں، وفاقی وزیر نے ہیوسٹن میں جناح لائبریری میں پاکستانی نژاد امریکی برادری کے ہمراہ قائدِ اعظم محمد علی جناح اور شاعرِ مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی 150 ویں یومِ پیدائش کی مقتدر تقریبات میں شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان نے سال 2026ء کو ‘سالِ قائدِ اعظم’ قرار دیا ہے تاکہ بانیانِ پاکستان کی 150 ویں سالگرہ قومی و عالمی سطح پر شایانِ شان انداز میں منائی جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اڑان پاکستان کے ذریعے حکومت بانیانِ پاکستان کے وژن کو عملی شکل دے رہی ہے، جو علم پر مبنی معیشت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر مرکوز ہے۔ اس موقع پر قائداعظم اکیڈمی نے قومی خدمات کے اعتراف میں وفاقی وزیر احسن اقبال کو اپنا اعلیٰ ترین اعزاز “جناح کیپ” پیش کیا۔ اپنے دورے کے دوران وفاقی وزیر نے ابنِ سینا فاؤنڈیشن کے چیئرمین نصرالدین روپانی سے بھی ایک اہم تزویراتی ملاقات کی، جس میں زچہ و بچہ کی صحت اور انسانی ترقی کے اشاریوں کو بہتر بنانے کے لیے باہمی تعاون کے امکانات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی مقتدر نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ملک کی معیشت، محدود وسائل اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ایک سنگین تزویراتی چیلنج ہے، جس سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اور ہم آہنگ اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ عالمی یومِ آبادی (ورلڈ پاپولیشن ڈے) کے موقع پر جاری کردہ اپنے ایک تزویراتی پیغام میں انہوں نے بتایا کہ عالمی آبادی 8 ارب 20 کروڑ جبکہ پاکستان کی آبادی تقریباً 25 کروڑ 90 لاکھ ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے پاکستان دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن چکا ہے۔
سینیٹر شیری رحمان نے واضح کیا کہ پاکستان کی سالانہ آبادی کی شرحِ نمو 2.55 فیصد ہے جبکہ ملک میں فرٹیلیٹی کی شرح 3.6 تک پہنچ گئی ہے، جو بدقسمتی سے پورے جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آبادی میں اضافے کا موجودہ رجحان اسی طرح جاری رہا تو 2050ء تک پاکستان کی مجموعی آبادی تقریباً 39 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے، اس لیے بروقت اور مقتدر منصوبہ بندی انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تیز رفتار اضافہ پانی کے وسائل، غذائی تحفظ، صحت، تعلیم، رہائش اور روزگار کے مواقع پر شدید دباؤ کا باعث بن رہا ہے، لہٰذا حکومت خاندانی منصوبہ بندی کو قومی بجٹ، معاشی منصوبہ بندی اور ترقیاتی پالیسیوں کا لازمی حصہ بنائے۔
سماجی و معاشی چیلنجز کی نشاندہی کرتے ہوئے پی پی پی کی مقتدر رہنما نے انکشاف کیا کہ پاکستان میں 5 سال سے کم عمر کے تقریباً 40 فیصد بچے غذائی کمی کی وجہ سے نشوونما میں رکاوٹ (اسٹنٹنگ) کا شکار ہیں، جبکہ ملک کی تقریباً 42 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ اس کے علاوہ، سال 2025ء کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 1 کروڑ 10 لاکھ پاکستانیوں کو شدید غذائی قلت کا سامنا رہا ہے اور غیر کنٹرول شدہ آبادی اس صورتحال کو مزید سنگین بنا دے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ آبادی کی نمو صرف خواتین کا مسئلہ نہیں بلکہ ہر خاندان اور پوری قوم کی فکر ہے۔
اپنے مقتدر پیغام کے اختتام پر سینیٹر شیری رحمان نے تاکید کی کہ آبادی کی نمو کو منظم کرنا موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت اور غذائی تحفظ کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے پارلیمان، صوبائی حکومتوں، مذہبی علماء، اساتذہ، ڈاکٹروں اور سول سوسائٹی سے پرزور اپیل کی کہ وہ مل کر عوامی شعور اجاگر کرنے کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کریں، کیونکہ درست پالیسی سازی اور انسانی وسائل پر سرمایہ کاری کے ذریعے ہی اس آبادی کو بوجھ کے بجائے ایک حقیقی قومی تزویراتی طاقت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے قائم مقام صدر طاہر ایوب نے کہا ہے کہ پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی نوجوان آبادی ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے، جسے معیاری تعلیم، فنی و پیشہ ورانہ تربیت، جدید مہارتوں اور باعزت روزگار کے مواقع فراہم کر کے قومی ترقی اور معاشی استحکام کا ضامن بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ آبادی میں اضافے کو چیلنج کے بجائے معاشی مواقع میں تبدیل کرنے کے لیے ایک جامع قومی حکمتِ عملی اختیار کی جائے تاکہ پاکستان اپنی آبادیاتی صلاحیت سے بھرپور استفادہ کر سکے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو عالمی یومِ آبادی کے موقع پر چیمبر ہاؤس میں مختلف کاروباری وفود سے تزویراتی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ طاہر ایوب نے کہا کہ عالمی یومِ آبادی اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ پائیدار ترقی کے لیے آبادی میں اضافے، انسانی وسائل کی ترقی اور معاشی منصوبہ بندی کے درمیان متوازن ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ کسی بھی قوم کی حقیقی طاقت صرف اس کی آبادی کی تعداد میں نہیں بلکہ اس بات میں مضمر ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو تعلیم، ہنر اور مواقع فراہم کر کے قومی ترقی میں کس حد تک مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نوجوان آبادی کے لحاظ سے دنیا کے اہم ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے، جو ملکی معیشت کے لیے ایک غیر معمولی موقع فراہم کرتی ہے، تاہم اگر انسانی وسائل کی ترقی پر بروقت سرمایہ کاری نہ کی گئی تو یہی آبادی معاشی اور سماجی مسائل میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نجی شعبہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ، نوجوانوں میں کاروباری رجحان پیدا کرنے اور افرادی قوت کی استعداد بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ قائم مقام صدر آئی سی سی آئی نے اس بات پر زور دیا کہ پالیسیوں کا تسلسل، معاشی استحکام اور کاروبار دوست ماحول ہی سرمایہ کاری میں اضافے اور روزگار کے وسیع مواقع پیدا کرنے کی بنیاد ہیں۔ انہوں نے صنعتی شعبے، انفارمیشن ٹیکنالوجی، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں اور برآمدات پر مبنی صنعتوں کی مقتدر سرپرستی پر زور دیا۔
اس تزویراتی موقع پر آئی سی سی آئی کے نائب صدر محمد عرفان چوہدری نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو فنی تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت، ڈیجیٹل مہارتوں اور کاروباری صلاحیتوں سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط اور فعال ایس ایم ای سیکٹر، سازگار حکومتی پالیسیوں اور آسان مالیاتی سہولیات کی بدولت لاکھوں نئے روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں، جو ملک میں جامع اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔
اقوامِ متحدہ میں چین کے نائب مستقل مندوب سن لی نے یوکرین تنازع میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور فوجی کارروائیوں کے پھیلاؤ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر تحمل کا مظاہرہ کریں، جنگی شدت میں کمی لائیں اور جلد از جلد امن مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کریں۔ چینی خبر رساں ادارے ‘شنہوا’ کے مطابق، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اہم اور تزویراتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سن لی نے کہا کہ حالیہ عرصے میں دونوں فریقوں کی جانب سے زیادہ شدت اور بڑے دائرۂ کار میں فوجی حملے کیے جا رہے ہیں، جن کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کا زیاں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
چینی مندوب نے واضح کیا کہ چین شہریوں اور سویلین تنصیبات پر ہونے والے ہر قسم کے حملوں کی مقتدر الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور تمام متعلقہ فریقوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ فوری طور پر ایسے حملے بند کریں۔ انہوں نے واشگاف کیا کہ حالیہ دنوں میں فریقین فوجی محاذ آرائی اور جوابی کارروائیوں کے ایک خطرناک چکر میں پھنس چکے ہیں، جس سے نہ صرف عام شہری شدید مشکلات کا شکار ہو رہے ہیں بلکہ نفرت اور کشیدگی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث امن مذاکرات کی راہ مزید دشوار بنتی جا رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام فریق بین الاقوامی انسانی قانون کی مکمل پاسداری کریں۔
سن لی نے اپنے خطاب میں کہا کہ فریقین کو سیاسی عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے جلد از جلد مذاکرات بحال کرنے چاہییں اور ایک جامع، دیرپا اور قابلِ عمل امن معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ چونکہ دونوں فریقوں کو اپنے اپنے سکیورٹی خدشات لاحق ہیں، اس لیے اقوامِ متحدہ کے منشور کے اصولوں کے مطابق ایک ایسا مشترکہ تزویراتی حل تلاش کیا جانا چاہیے جو دونوں جانب کے سکیورٹی مفادات کا احترام کرے اور خطے میں متوازن، مؤثر اور پائیدار سکیورٹی نظام کے قیام کو یقینی بنائے۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ چین یوکرین بحران کے سیاسی حل کے لیے اپنے غیر جانبدار اور منصفانہ مؤقف پر قائم ہے اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر اس بحران کے جلد حل کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔