نئے صوبوں کی غیر متوقع تقسیم تباہی کا باعث بن سکتی ہے: لاڑکانہ میں مولانا فضل الرحمان کی میڈیا سے گفتگو

کاشف عباسی , August 31,2026

لاڑکانہ (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ملک میں نئے صوبوں کے قیام اور ان کی تقسیم کا سوال پہلے بھی اٹھتا رہا ہے، صوبے بنتے رہتے ہیں لیکن اس وقت پاکستان میں ایسا کوئی سازگار ماحول ہے اور نہ ہی انتظامی تیاری۔ اگر ماحول اور تیاری کے بغیر صوبوں کی تقسیم کی گئی تو اس کا نتیجہ شدید تباہی کی صورت میں نکلے گا۔

لاڑکانہ میں صحافیوں سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے جے یو آئی (ف) کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو جو مالی و انتظامی وسائل مل چکے ہیں، وہ کچھ حلقوں سے ہضم نہیں ہو رہے اور غیر سیاسی لوگوں سے ایسی باتیں کروائی جا رہی ہیں جن کی کوئی سیاسی یا آئینی حیثیت نہیں ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ 2018ء اور 2024ء کے عام انتخابات کے نتائج کو بالکل تسلیم نہیں کرتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی انتخابی عمل میں کسی بھی ادارے کی بالواسطہ یا بلاواسطہ مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاستدانوں نے ہمیشہ اپنا اقتدار بچانے کے لیے حالات کے ساتھ سمجھوتے کیے، اگر تمام سیاستدان اپنے اصولوں پر ڈٹے رہیں اور غیر سیاسی مداخلت کو مل کر روکیں تو وہ خود طاقتور ہو سکتے ہیں۔

ملک میں امن و امان کی سنگین صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بدامنی نے عام عوام کی زندگی کو فلج کر کے رکھ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف طاقت کا استعمال بدامنی کے مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہے، بلکہ تمام متعلقہ فریقوں کی باہمی مشاورت سے ہی اس کا حقیقی حل نکالا جا سکتا ہے۔

سیاسی رہنماؤں کی گرفتاریوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے مطالبہ کیا کہ وہ کسی بھی سیاسی رہنما کو جیل میں رکھنے کے حامی نہیں ہیں اور تمام سیاسی قیدیوں کو فوری طور پر رہا کیا جانا چاہیے، چاہے وہ شدید سیاسی مخالف ہی کیوں نہ ہو۔ انہوں نے سیاسی قیادت کو مشورہ دیا کہ کردار کشی کی سیاست کے بجائے مہذب انداز میں اختلافِ رائے کا اظہار کیا جائے۔

اپنی بات مکمل کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سیاست میں کوئی حتمی یا آخری حد نہیں ہوتی؛ ہم نے ماضی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف تاریخ کی سب سے بڑی تحریک بھی چلائی اور بعد میں ایم آر ڈی کے پلیٹ فارم سے ان کے ساتھ اتحادی کے طور پر بھی رہے۔

سندھ طاس معاہدے پر عالمی ثالثی عدالت کا متفقہ فیصلہ پاکستان کے اصولی و قانونی مؤقف کی تاریخی فتح ہے: ڈاکٹر طارق فضل چوہدری

منصور احمد, August 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ عالمی ثالثی عدالت کا متفقہ فیصلہ پاکستان کے اصولی، قانونی اور سفارتی مؤقف کی ایک بہت بڑی تاریخی کامیابی ہے، جس سے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل، ختم یا غیر مؤثر کرنے کی تمام تر کوششوں کو عالمی سطح پر واضح اور حتمی قانونی شکست ہوئی ہے۔

پیر کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے ایک اہم باضابطہ بیان میں وفاقی وزیر نے کہا کہ عالمی ثالثی عدالت نے اپنے فیصلے میں بالکل واضح کر دیا ہے کہ بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل، منسوخ یا غیر مؤثر نہیں بنا سکتا۔ انہوں نے اجاگر کیا کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور مکمل طور پر فعال و مؤثر ہے اور اس کی پاسداری پاکستان اور بھارت دونوں ممالک پر یکساں طور پر قانونی و بین الاقوامی لازمی ذمہ داری ہے۔

وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ بھارت کی جانب سے خودمختاری، مبینہ معاہداتی خلاف ورزی، دہشت گردی اور دیگر من گھڑت بنیادوں پر پیش کیے جانے والے تمام دلائل عالمی ثالثی عدالت کے سامنے مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئے۔ عدالت کے اس تاریخی فیصلے نے دنیا بھر پر ثابت کر دیا ہے کہ کوئی بھی ملک یکطرفہ طور پر اپنے طور پر طے شدہ بین الاقوامی معاہدوں سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ رتلے پن بجلی منصوبے سے متعلق عالمی ثالثی عدالت کے عبوری اقدامات پاکستان کے موقف کی ایک اور اہم ترین تائید ہیں۔ عدالت نے رتلے پن بجلی منصوبے کی مخصوص متنازع تعمیراتی سرگرمیوں پر باقاعدہ پابندیاں عائد کی ہیں، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان اپنے قانونی و آبی حقوق پر بلا کم و کاست ثابت قدم رہا اور عالمی عدالت نے ہمارے موقف کی مکمل توثیق کر دی ہے۔

ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے اپنے بیان کے اختتام پر زور دیا کہ یہ فیصلہ صرف پاکستان کی ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون اور عالمی معاہدوں کی پاسداری کی فتح ہے۔ سندھ طاس معاہدے کو کمزور کرنے کی تمام بھارتی کوششوں کو شدید ترین قانونی دھچکا لگا ہے اور پاکستان سفارتی محاذ پر مزید مضبوط ہو کر ابھرا ہے۔ انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ اپنی روایتی ہٹ دھرمی ترک کر کے عالمی قوانین، بین الاقوامی معاہدوں اور عدالت کے فیصلوں کا احترام کرے۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ترکیہ میں اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں: دو طرفہ دفاعی تعاون اور علاقائی سکیورٹی کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال

منصور احمد, August 31,2026

راولپنڈی/استنبول (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ترکیہ کے اہم سرکاری دورے کے دوران استنبول میں اعلیٰ ترین سطح کی سفارتی و عسکری ملاقاتیں کی ہیں۔ ان ملاقاتوں کے دوران باہمی دلچسپی کے اہم امور، دوطرفہ دفاعی و تکنیکی تعاون اور خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے قیام کے دوران سعودی عرب کے وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، ترکیہ کے وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان ، ترکیہ کے وزیرِ قومی دفاع یاسر گلر اور چیف آف ترک جنرل سٹاف جنرل سلچوک بایراکتار اوغلو سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کی ہیں۔ ان ملاقاتوں میں دفاعی پیداوار، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور علاقائی امن و امان سے متعلق سٹریٹجک امور پر گفتگو کی گئی۔

دورے کے دوران چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ کے تحت قائم کردہ ‘سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی’ کے اہم اجلاس میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی، جس میں پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب تینوں ممالک شامل ہیں۔ اجلاس کے دوران تینوں اسلامی برادر ممالک نے سٹریٹجک روابط اور دفاعی تعاون کو مزید ادارہ جاتی اور مضبوط بنانے کے لیے مختلف عملی اقدامات اور مستقبل کے امکانات کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔

ترجمان کے مطابق یہ اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں اور مشترکہ اجلاس پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان برادرانہ تعلقات اور تیزی سے بڑھتے ہوئے سٹریٹجک و دفاعی تعاون کی روشن عکاسی کرتے ہیں۔

19 ارب ڈالر کی ریکارڈ اسرائیلی دفاعی برآمدات کے دوران اہم پیش رفت؛ ترکی کے ساتھ کشیدگی کے پیشِ نظر یونان کا اپنے دفاعی نظام کو جدید بنانے کا فیصلہ

کاشف عباسی , August 31,2026

تل ابیب/ایتھنز (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

اسرائیل اور یونان کے درمیان ’اخیلس شیلڈ‘ نامی ایک تاریخی اور غیر معمولی دفاعی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اسرائیلی وزارتِ دفاع کے باضابطہ بیان کے مطابق اس معاہدے کے تحت یونان کو جدید ترین اسرائیلی ٹیکنالوجی پر مبنی ایک کثیر سطحی فضائی دفاعی نظام فراہم کیا جائے گا، جو بیلسٹک میزائلوں سے لے کر جدید ڈرونز اور دیگر فضائی خطرات کا مؤثر مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے اس معاہدے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور یونان کے مشترکہ تزویراتی مفادات ہیں اور دونوں ممالک کو خطے میں یکساں نوعیت کے سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔

یہ اہم دفاعی معاہدہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کی دفاعی برآمدات تاریخ کی بلند ترین اور ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال اسرائیل نے 19 ارب ڈالر سے زائد مالیت کا دفاعی سازوسامان اور عسکری ٹیکنالوجی برآمد کی، جو کہ 2024ء کے مقابلے میں تقریباً 30 فیصد زیادہ ہے۔ عسکری ماہرین کے مطابق دنیا کے متعدد ممالک اسرائیلی اسلحے اور دفاعی سسٹمز میں دلچسپی اس لیے رکھتے ہیں کیونکہ اسے عملی جنگی حالات میں آزمایا جا چکا ہے اور اس کی کارکردگی کا براہِ راست مشاہدہ کیا گیا ہے۔

یونان اور اسرائیل کے بڑھتے ہوئے دفاعی تعلقات:

اگرچہ اسرائیل اور یونان کے درمیان گزشتہ ایک دہائی کے دوران دفاعی اور تکنیکی تعاون میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، تاہم پیر کے روز طے پانے والا یہ سمجھوتہ دونوں ممالک کی تاریخ کا اب تک کا سب سے بڑا اور اہم دفاعی معاہدہ تصور کیا جا رہا ہے۔

یونان اپنی مسلح افواج کو جدید ترین تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے، جبکہ مشرقی بحیرہ روم میں سمندری حدود سے متعلق تنازعات کے باعث اس کا اپنے ہمسائے اور نیٹو اتحادی ملک ترکی کے ساتھ طویل عرصے سے کشیدگی اور اختلاف چلا آ رہا ہے۔ اس سے قبل بھی یونان نے اسرائیلی کمپنی ایلبٹ سسٹمز کے ساتھ 1.65 ارب ڈالر کے ایک بڑے معاہدے کے تحت فضائی تربیتی مرکز قائم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، جبکہ راکٹ لانچرز، اینٹی ٹینک میزائلوں اور ڈرونز کے حصول کے متعدد معاہدے بھی کیے جا چکے ہیں۔

یونانی وزیرِ دفاع نیکوس ڈینڈیاس نے معاہدے پر باقاعدہ دستخطوں کے بعد اپنے ردِعمل میں کہا کہ جدید دور کے تنازعات نے دفاع اور عسکری مزاحمت کے روایتی تصورات کو بالکل تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ ان کے مطابق جدید ٹیکنالوجی، بیلسٹک میزائل، سیٹلائٹ مواصلات، بغیر پائلٹ کے ڈرون سسٹمز، سائبر خطرات اور ہائبرڈ جنگ جیسے عوامل نے پرانے روایتی دفاعی نظریات کو مکمل طور پر غیرحقیقی بنا دیا ہے۔

اسرائیلی وزارتِ دفاع کے مطابق اس جامع معاہدے میں ‘ڈیوڈز سلنگ’ اور ‘سپائیڈر’ سمیت متعدد عالمی معیار کے فضائی دفاعی نظام اور ایک نیا قومی کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم شامل ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 30 ملین ڈالر مالیت کے ایک الگ معاہدے کے تحت رافیل ایڈوانسڈ ڈیفنس سسٹمز کے ‘ڈرون ڈوم’ سسٹمز بھی یونان کو فراہم کیے جائیں گے۔

اسرائیل دنیا کا ساتواں بڑا اسلحہ برآمد کنندہ:

سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی رواں سال جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیل عالمی اسلحہ برآمدات کی فہرست میں برطانیہ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کا ساتواں بڑا اسلحہ فراہم کرنے والا ملک بن گیا ہے۔ اسرائیلی دفاعی صنعت کی مجموعی عالمی برآمدات میں نصف سے زیادہ حصہ گائیڈڈ میزائلوں، راکٹوں اور جدید فضائی دفاعی نظاموں پر مشتمل ہے۔

پنجاب اسمبلی نے ‘انسدادِ دہشت گردی (پنجاب ترمیمی) بل 2026’ کثرتِ رائے سے منظور کر لیا

منصور احمد, August 31,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

پنجاب صوبائی اسمبلی نے انسدادِ دہشت گردی (پنجاب ترمیمی) بل 2026 باقاعدہ طور پر منظور کر لیا ہے۔ اس نئے قانون کے تحت دہشت گردی اور ہائی سیکیورٹی مقدمات کی سماعت کے دوران ججز، پراسیکیوٹرز، تفتیش کاروں، وکلاء اور گواہوں کی جان کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی حفاظتی انتظامات اور جدید ترین ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال کی راہ ہموار کی گئی ہے۔

یہ بل پارلیمانی سیکرٹری برائے پارلیمانی امور خالد محمود رانجھا نے ایوان میں پیش کیا۔ بل کی منظوری کے دوران اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی تمام ترامیم کثرتِ رائے سے مسترد کر دی گئیں۔ اپوزیشن ارکان نے کارروائی کے دوران ایوان سے واک آؤٹ کیا، جس کے باعث ان کی ترامیم بھی منظور نہ ہو سکیں اور ایوان نے بل کو اصل شکل میں پاس کر دیا۔

بل کے متن کے مطابق اس قانون کا بنیادی مقصد انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں میں زیرِ سماعت حساس مقدمات اور عدالتی کارروائیوں کو مکمل طور پر محفوظ بنانا اور ججز، وکلاء، پراسیکیوٹرز، پولیس افسران اور گواہوں کو درپیش سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے قانونی فریم ورک کو مضبوط کرنا ہے۔

اس قانون کے تحت انسدادِ دہشت گردی عدالتوں کو محفوظ ٹیکنالوجی، ویڈیو کانفرنسنگ اور الیکٹرانک لنکس کے ذریعے مقدمات کی سماعت اور دیگر عدالتی کارروائیاں انجام دینے کا کامل اختیار حاصل ہو گا۔ خصوصی سیکیورٹی اور لاجسٹک مسائل کی صورت میں مقدمات کی سماعت جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے کی جا سکے گی اور تمام عدالتی کارروائی کی آڈیو و ویڈیو ریکارڈنگ محفوظ کی جائے گی۔

اس کے علاوہ ججز، پراسیکیوٹرز، پولیس افسران اور گواہوں کو درپیش سنگین خطرات کے پیشِ نظر ان کی شناخت اور چہرہ یا آواز خفیہ رکھنے کے لیے وائس موڈیفکیشن ٹیکنالوجی کے استعمال کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ بعض حساس مقدمات کی سماعت محفوظ اور مخصوص مقامات یعنی کیمرہ عدالتوں میں کی جا سکے گی اور وہاں رسائی صرف متعلقہ اور مجاز افراد تک محدود ہوگی۔

حکومت کا موقف ہے کہ دہشت گردی کے خلاف موجودہ قانونی فریم ورک ہائی سیکیورٹی مقدمات کی محفوظ سماعت کے لیے ناکافی تھا، اسی لیے جدید تقاضوں کے مطابق یہ نئی شقیں متعارف کرائی گئی ہیں۔ حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ان تمام تر حفاظتی اقدامات کے باوجود آئین کے تحت منصفانہ ٹرائل، انسانی وقار اور بنیادی شہری آزادیوں سے متعلق آئینی ضمانتیں برقرار رہیں گی۔

قانون کے تحت حکومت گریڈ 20 یا اس کے مساوی عہدے کے ایک افسر کو خصوصی سیکیورٹی مقدمات کے لیے نامزد کرے گی۔ یہ افسر لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے مشاورت کے بعد اس بات کا تعین کرے گا کہ کون سے مقدمات غیر معمولی حفاظتی اقدامات کے متقاضی ہیں۔ اس نامزد اتھارٹی کو متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ کاری اور قانون پر عملدرآمد یقینی بنانے کے مکمل اختیارات حاصل ہوں گے جبکہ اس افسر کی شناخت اور تفصیلات بھی مکمل طور پر خفیہ رکھی جائیں گی۔

بلوچستان اسمبلی میں تیزاب گردی کے خلاف سخت قانون سازی کی متفقہ قرارداد منظور

محمود احمد, August 31,2026

کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

بلوچستان صوبائی اسمبلی نے صوبے بھر میں تیزاب پھینکنے کے دلخراش واقعات کی روک تھام اور ملزمان کو کڑی سزائیں دینے کے لیے مؤثر و جامع قانون سازی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک اہم قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی ہے۔

یہ قرارداد خواتین پارلیمانی کاکس کی جانب سے ایوان میں پیش کی گئی، جسے تمام حکمران و اپوزیشن ارکان نے اتفاقِ رائے سے منظور کیا۔ قرارداد پیش کرتے ہوئے رکنِ صوبائی اسمبلی شاہدہ رؤف نے حال ہی میں ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر ہونے والے تیزاب حملے کے بہیمانہ واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی صرف ایک فرد یا خاتون پر حملہ نہیں بلکہ خواتین کے بنیادی انسانی حقوق، عزتِ نفس اور باوقار زندگی کے حق پر بھی سنگین اور ناقابلِ برداشت حملہ ہے۔

قرارداد کے متن میں نشاندہی کی گئی کہ بلوچستان میں خواتین کے خلاف تیزاب گردی جیسے سنگین اور روح فرسا جرائم وقتاً فوقتاً پیش آتے رہے ہیں، تاہم ان کے مکمل سدباب اور ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوانے کے لیے صوبائی سطح پر فی الوقت کوئی جامع اور مخصوص قانون موجود نہیں ہے۔ شاہدہ رؤف نے ایوان کو بتایا کہ یہی قانونی خلا ایسے گھناؤنے جرائم کے خاتمے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیزاب حملے متاثرہ افراد کی جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی صحت کے ساتھ ساتھ ان کی سماجی اور نجی زندگی پر بھی ناقابلِ تلافی اثرات مرتب کرتے ہیں، اس لیے فوری بنیادوں پر سخت قانون سازی ناگزیر ہو چکی ہے۔

قرارداد کے ذریعے بلوچستان حکومت سے باقاعدہ سفارش کی گئی ہے کہ وہ موجودہ قوانین کا باریک بینی سے جائزہ لے کر ضروری ترامیم تجویز کرے یا تیزاب حملوں کی مکمل روک تھام کے لیے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ایک نیا اور جامع قانون متعارف کرائے۔

استنبول میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا پہلا اجلاس: پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کا سٹریٹیجک و دفاعی شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق

منصور احمد, August 31,2026

استنبول/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

ترکی کے تاریخی شہر استنبول میں پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور مسلح افواج کے سربراہان کا ایک اہم اور اعلیٰ سطحی مشترکہ اجلاس منعقد ہوا ہے۔ یہ اجلاس تینوں برادر اسلامی ممالک کے مابین طے پانے والے ‘مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے’ کے تحت قائم کردہ ‘سٹریٹیجک سیاسی و دفاعی کمیٹی’ کا پہلا باقاعدہ اجلاس تھا۔

اجلاس کے اختتام پر جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے کے مطابق، تینوں ممالک نے مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا سمیت پورے خطے میں پائیدار امن، سلامتی اور استحکام کے قیام کے لیے مکہ معاہدے کے طے شدہ فریم ورک کے تحت مل کر کام جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان، ترکی اور سعودی عرب نے بین الاقوامی و علاقائی بحرانوں کے پرامن اور سفارتی حل کی حوصلہ افزائی کے لیے کشیدگی میں کمی اور فریقین کے مابین تحمل کے فروغ کی حمایت جاری رکھنے پر کامل اتفاق کیا ہے۔

اعلامیے کے مطابق، تینوں مسلم ممالک نے مکہ معاہدے کے تحت اپنے سہ فریقی تعاون کو مزید ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے اہم انتظامی اقدامات پر اتفاق کیا ہے۔ اس اہم پیش رفت کا بنیادی مقصد باہمی یکجہتی کو مضبوط بنانا، مشترکہ دفاعی صلاحیت کو زیادہ موثر و فعال بنانا اور علاقائی امن کی عالمی کوششوں میں مثبت کردار ادا کرنا ہے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے سعودی عرب میں ایک ‘مستقل سیکریٹریٹ’ قائم کیا جائے گا جس کی انتظامی سربراہی سیکریٹری جنرل کے پاس ہوگی۔ اعلامیے میں باضابطہ طور پر یہ اعلان کیا گیا ہے کہ ابتدائی تین برس کی مدت کے لیے سیکریٹری جنرل کا یہ بااثر عہدہ پاکستان کے پاس رہے گا۔

مشترکہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان، ترکی اور سعودی عرب دفاعی صنعت کے شعبے میں تعمیری تعاون، جدید ملٹری ٹیکنالوجی کی مشترکہ تیاری و پیداوار، اور مشترکہ جنگی مشقوں کے ذریعے اپنی دفاعی صلاحیتوں اور مسلح افواج کے باہمی رابطہ کار کو مزید مضبوط اور جدید بنائیں گے۔ اعلامیے کے اختتام پر واضح کیا گیا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے پر منظم عملدرآمد کے ذریعے یہ تینوں پیش پیش ممالک خطے میں پائیدار امن، عدم تشدد اور استحکام کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے رہیں گے۔

اردن میں امریکی اڈوں پر ایرانی حملہ: ڈونلڈ ٹرمپ کا شدید اور حتمی جوابی کارروائی کا اعلان

محمود احمد, August 31,2026

واشنگٹن/تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ امریکہ اردن میں قائم اپنے عسکری اڈوں پر ہونے والے حالیہ ایرانی حملوں کا انتہائی ’سخت اور موثر جواب‘ دے گا۔ خبر رساں ادارے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک ہنگامی ٹیلی فونک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ایرانی عسکری اقدام پر واشنگٹن چپ نہیں بیٹھے گا اور اس کا جواب بھرپور کارروائی کی صورت میں سامنے آئے گا۔

امریکی صدر کا یہ تند و تیز بیان پاسدارانِ انقلاب اسلامی کے اس باضابطہ دعوے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ امریکی عسکری حملوں کے ردِعمل میں ایران نے اردن میں واقع دو اہم امریکی ایئر بیسز—’شاہ حسین’ اور ‘الازرق’—کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ ہے کہ اس کارروائی میں وہاں موجود امریکی فوج کے ‘تکنیکی و دیکھ بھال کے بنیادی ڈھانچے اور جنگی لڑاکا طیاروں کو بھاری نقصان’ پہنچا ہے۔

انٹرویو کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی فضائی دفاعی نظام نے گزشتہ رات ایرانی میزائل حملے کے دوران ایک میزائل کو دانستہ طور پر گزرنے دیا کیونکہ وہ کسی امریکی ہدف کی سمت نہیں تھا اور اس سے کوئی خطرہ نہیں تھا، جبکہ دیگر تمام ایرانی میزائلوں کو فضا ہی میں کامیابی سے تباہ کر دیا گیا۔ دوسری جانب اردنی حکومت نے بھی اپنے بیان میں تصدیق کی ہے کہ اس کی اپنی فضائی دفاعی فورسز نے اردن کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے 8 ایرانی میزائلوں کو کامیابی سے ناکارہ بنایا۔

عسکری کشیدگی اور سخت بیانات کے باوجود امریکی صدر نے سفارتی حل کے امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ایرانی حکام واقعی ہم سے مذاکرات اور ملاقات کرنا چاہتے ہیں، لیکن میں نہیں جانتا کہ کسی پائیدار معاہدے تک پہنچنے کے لیے ان پر آئندہ کے لیے اعتماد کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔‘

اس کے فوراً بعد اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایک مفصل پوسٹ میں امریکی صدر نے ایرانی حکومت کو شدید ترین تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ ’ایران باضابطہ طور پر ایک بالکل ناکام ریاست بن چکا ہے اور اس کا وجود تقریباً ختم ہو چکا ہے! اس کے پاس اب نہ کوئی فعال بحریہ بچی ہے، نہ فضائیہ، اور نہ ہی کوئی معاشی قوت رکھنے والی کرنسی۔ وہ اپنے فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو تنخواہیں دینے سے بھی قاصر ہے۔ ملک میں مہنگائی 300 فیصد کی تاریخی سطح تک پہنچ چکی ہے، اور اس کی موجودہ قیادت مکمل انتشار کا شکار ہے جو ملک کی مناسب نمائندگی کی صلاحیت کھو چکی ہے۔‘

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان کے اختتام پر الزام عائد کیا کہ ’تہران حکومت کے پاس اب صرف امریکہ سے آنے والی فیک نیوز، اپنے ہی معصوم مظاہرین کو قتل کرنے کی سفاکانہ آمادگی (جس میں اب تک ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ان پر انسانیت کے خلاف جنگی جرائم کے تحت عالمی عدالتوں میں مقدمہ چلنا چاہیے!)، اور بے بنیاد عسکری دعووں کی ایک لمبی فہرست ہی باقی رہ گئی ہے۔‘

وزیراعظم شہباز شریف کی بشکیک میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے اہم ملاقات: دوطرفہ تعلقات، تجارتی تعاون اور علاقائی امن پر تفصیلی گفتگو

محمود احمد, August 31,2026

بشکیک/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ مملکت کے 25ویں اجلاس کے موقع پر ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ایک اہم اور اعلیٰ سطحی دوطرفہ ملاقات کی ہے۔

پاکستانی وزیراعظم آفس سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ایران کے درمیان دہائیوں پر محیط قریبی، تاریخی اور دیرینہ برادرانہ تعلقات کا اعادہ کرتے ہوئے باہمی تجارتی و معاشی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ ملاقات کے دوران رواں سال جون میں صدر مسعود پزشکیان کے دورۂ پاکستان کے موقع پر ہونے والے اہم فیصلوں اور معاہدوں پر جلد از جلد عملدرآمد کی ضرورت اور اہمیت پر زور دیا گیا۔ اس کے علاوہ دونوں رہنماؤں نے علاقائی روابط اور عوامی سطح پر تعلقات کے فروغ کے لیے جاری مختلف اقدامات کا تفصیلی جائزہ بھی لیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے قیام کے لیے اپنی تمام تر سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ اہم دورۂ تہران اور وہاں ایرانی اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت کے ساتھ ہونے والے مثبت رابطوں سے دونوں ممالک اور خطے کی سلامتی کے لیے انتہائی سازگار نتائج کی توقع ہے۔

وزیراعظم نے خطے میں امن کی بحالی کے لیے تمام فریقین کی جانب سے تحمل، بردباری اور مسلسل سفارتی رابطوں کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ کے تحت طے پانے والی پیش رفت کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔ دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے علاقائی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کے فعال اور مثبت سفارتی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات مشترکہ تاریخ، ثقافت اور گہرے مذہبی رشتوں پر قائم ہیں۔ انہوں نے تجارتی و توانائی کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے مسلم دنیا میں باہمی اتحاد اور یکجہتی پر زور دیا۔

ملاقات کے اختتام پر وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر کو پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی باقاعدہ دعوت دی، جبکہ صدر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم شہباز شریف کو دسمبر 2026ء میں تہران میں منعقد ہونے والے ‘اقتصادی تعاون تنظیم’ کے سربراہی اجلاس میں شرکت کی باضابطہ دعوت پیش کی۔

وزیر اعظم شہباز شریف شنگھائی تعاون تنظیم کے 25ویں سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک پہنچ گئے

محمود احمد, August 31,2026

بشکیک/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف شنگھائی تعاون تنظیم کے کونسل آف ہیڈز آف سٹیٹ کے 25ویں تاریخی سربراہی اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کے لیے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک پہنچ گئے ہیں۔

وزیر اعظم کے دفتر سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق بشکیک کے ماناس بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پہنچنے پر کرغزستان کی کابینہ کے چیئرمین (نائب وزیراعظم) عادلبیک قاسمالیف نے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کے اعلیٰ سطحی وفد کا گرمجوشی سے پرجوش استقبال کیا۔

ترجمان وزیراعظم کے مطابق اپنے اس اہم تین روزہ سرکاری دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے مرکزی سیشن سے خطاب کریں گے، جس میں علاقائی امن، سلامتی، تجارت، اور موسمیاتی تبدیلی جیسے اہم مسائل پر پاکستان کا موقف پیش کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ شہباز شریف اجلاس میں شرکت کرنے والے مختلف ممالک کے سربراہانِ مملکت اور حکومت کے ساتھ اعلیٰ سطحی دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔

اعلامیے کے مطابق ان اہم ملاقاتوں میں متعلقہ ممالک کے ساتھ پاکستان کے باہمی سفارتی تعلقات کی استواری، تجارت و سرمایہ کاری کے نئے مواقع، علاقائی تعاون اور مشترکہ دلچسپی کے اہم عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے 25ویں تاریخی سربراہی اجلاس کا آغاز: انڈین وزیراعظم نریندر مودی کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے اہم ملاقات

محمود احمد, August 31,2026

بشکیک (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے دو روزہ 25ویں سالگرہ کے تاریخی سربراہی اجلاس کے موقع پر انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ایک اہم اور اعلیٰ سطحی ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات، علاقائی سیکیورٹی اور تجارتی راہداریوں سمیت خطے کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی۔

کرغزستان میں منعقد ہونے والے اس 25ویں سالگرہ کے یادگار اجلاس میں چین کے صدر شی جن پنگ، روس کے صدر ولادیمیر پوتن، ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور ایک درجن سے زائد دیگر ممالک کے سربراہانِ مملکت و حکومت شرکت کر رہے ہیں۔ روس، چین، انڈیا، پاکستان، ایران، بیلاروس اور وسطی ایشیا کے چار ممالک اس اہم تنظیم کے باقاعدہ رکن ہیں، اور یہ سربراہی اجلاس ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب تنظیم اپنے قیام کا ربع صدی کا سفر مکمل کر رہی ہے۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن اور چینی صدر شی جن پنگ شنگھائی تعاون تنظیم کے اس ایونٹ کو کثیر قطبی عالمی نظامکے فروغ اور مغربی بلاک کے مقابلے میں خطے کے اتحاد کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

یہ اہم سربراہی اجلاس ایک ایسے انتہائی کشیدہ عالمی تناظر میں منعقد ہو رہا ہے جب روس کے یوکرین پر حملے کو ساڑھے چار سال کا طویل عرصہ بیت چکا ہے، جبکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری ہمہ گیر عسکری جنگ کو چھ ماہ مکمل ہو چکے ہیں۔ ایسے میں ایس سی او اجلاس کو عالمی جیو پولیٹکس میں ایک انتہائی حساس سفارتی موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔

پبلک سروس گاڑیوں میں اوور لوڈنگ، زائد کرائے اور خطرناک ڈرائیونگ پر کیو آر کوڈ کے ذریعے فوری رپورٹنگ کی سہولت متعارف

منصور احمد, August 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس نے شاہراہوں پر محفوظ سفر کو یقینی بنانے اور عوامی تعاون کے فروغ کے لیے ایک جدید اور اہم مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ اس مہم کا بنیادی مقصد شہریوں کو موٹرویز اور قومی شاہراہوں پر ٹریفک قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانے میں ایک مؤثر اور ذمہ دار شراکت دار بنانا ہے۔

اس مہم کے تحت دورانِ سفر عام شہری کسی بھی قسم کی ٹریفک خلاف ورزی، بالخصوص پبلک سروس گاڑیوں (بَسوں اور ویگنوں) میں گنجائش سے زائد مسافر یا سامان بھرنے (اوور لوڈنگ)، مسافروں سے مقررہ نرخوں سے زائد کرایہ وصول کرنے، تیز رفتاری اور خطرناک یا غیر محتاط ڈرائیونگ کی فوری اطلاع موٹروے پولیس کو دے سکیں گے۔

نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کے حکام کے مطابق شہریوں کے لیے شکایت درج کروانے کے عمل کو انتہائی آسان اور فوری بنایا گیا ہے۔ شاہراہوں پر سفر کرنے والے مسافر اور شہری پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیوں پر چسپاں موٹروے پولیس کے خصوصی اسٹیکرز پر درج ‘کیو آر کوڈ’ کو اپنے موبائل فون سے اسکین کر کے فوری طور پر متعلقہ پورٹل تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور ثبوت کے ساتھ اپنی شکایت درج کروا سکتے ہیں۔

موٹروے پولیس کا کہنا ہے کہ شہریوں کی بروقت اور ذمہ دارانہ اطلاع ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کی فوری روک تھام، موٹرویز پر ہونے والے خوفناک حادثات میں کمی اور قیمتی انسانی جانوں کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ ترجمان موٹروے پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ ایک بہتر ٹریفک نظام اور شاہراہوں پر قانون کی عملداری کے لیے مہم کا فعال حصہ بنیں اور سفر کے دوران نظر آنے والی کسی بھی خلاف ورزی کو نظر انداز کرنے کے بجائے فوری رپورٹ کریں۔

جرمنی نے اسپین کو شکست دے کر ہاکی ورلڈ کپ 2026 کا تاج اپنے سر سجا لیا: پاکستان کا 4 بار عالمی چیمپئن بننے کا دیرینہ ریکارڈ برابر

منصور احمد, August 31,2026

ویورے/وایرے، بیلجیم (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

بیلجیم کے شہر ویورے کے تاریخی ‘بیلفیئس ہاکی اسٹیڈیم’ میں کھیلے گئے سنسنی خیز اور ہائی وولٹیج فائنل میں جرمنی نے اسپین کو 0-1 سے شکست دے کر ‘ایف آئی ایچ مینز ہاکی ورلڈ کپ 2026’ کا تاج اپنے سر سجا لیا ہے۔ اس تاریخی اور یادگار کامیابی کے ساتھ ہی جرمنی نے چوتھی بار عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کر کے ہاکی کی تاریخ میں سب سے زیادہ ورلڈ کپ ٹائٹلز جیتنے کا پاکستان کا دہائیوں پر محیط دیرینہ ریکارڈ برابر کر دیا ہے۔

میچ کے ابتدائی پہلے اور دوسرے کوارٹر میں دونوں روایتی حریف ٹیموں نے ایک دوسرے پر شدید دباؤ برقرار رکھا لیکن کوئی بھی ٹیم گول کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی، جس کے باعث پہلا ہاف صفر صفر سے برابر رہا۔ تاہم، کھیل کے تیسرے کوارٹر میں جرمنی نے فیصلہ کن اور حتمی وار کیا۔ جرمن سٹار اسٹرائیکر مائیکل اسٹرٹ ہاف نے اسپین کے مضبوط دفاع کو توڑتے ہوئے ایک شاندار فیلڈ گول اسکور کیا جس نے جرمنی کو 0-1 کی اہم اور فائنل برتری دلا دی۔ چوتھے کوارٹر میں اسپین کی ٹیم نے کم بیک اور میچ برابر کرنے کے لیے تابڑ توڑ حملے کیے، لیکن جرمن گول کیپر اور ان کی چٹان جیسی دفاعی لائن نے اسپین کی تمام کوششوں کو ناکام بنا دیا۔

جرمنی نے اس سے قبل 2002، 2006، اور 2023 میں عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا، اور اب 2026 کا ٹائٹل اپنے نام کر کے پاکستان کے ساتھ ہاکی تاریخ کی سب سے کامیاب ترین ٹیم ہونے کا شیئرڈ اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان نے یہ 4 عالمی ٹائٹلز 1971، 1978، 1982 اور 1994 میں جیتے تھے۔ اسپین کی ٹیم ورلڈ کپ کی تاریخ میں تیسری بار فائنل میں پہنچ کر سلور میڈل تک محدود رہی، اس سے قبل وہ 1971 اور 1998 میں بھی رنرز اپ رہی تھی۔

دوسری جانب، نیدرلینڈز میں کھیلے گئے ‘ویمنز ہاکی ورلڈ کپ’ کے فائنل میں ارجنٹائن نے بڑا اپ سیٹ کرتے ہوئے دفاعی چیمپئن نیدرلینڈز کو سخت مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ پر 1-3 سے ہرا کر تیسری بار ویمنز ورلڈ چیمپئن کا تاج پہن لیا۔

عالمی ہاکی فیڈریشن (FIH) کے صدر طیب اکرام نے دونوں ایونٹس کے فاتحین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ جرمنی کو ایک بار پھر مینز ورلڈ چیمپئن بننے پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ یہ شاندار کامیابی غیر معمولی ٹیلنٹ، ذہنی مضبوطی اور انتھک محنت کا ثبوت ہے۔ انہوں نے اسپین کو سلور اور ارجنٹائن کو برانز میڈل جیتنے پر بھی مبارکباد دی۔

پاکستان کا 20 سالہ بہترین فنش:

پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم نے پول ڈی میں انگلینڈ (1-4) اور بھارت (3-5) سے شکست اور ویلز سے (3-3) ڈرا کے بعد کلاسیفیکیشن راؤنڈز میں زبردست کم بیک کیا۔ 11ویں پوزیشن کے میچ میں پاکستان نے جنوبی افریقا کے خلاف 1-3 کے خسارے سے نکل کر میچ 4-4 سے برابر کیا اور پھر پینلٹی شوٹ آؤٹ پر 4-3 سے تاریخی فتح حاصل کر کے ٹورنامنٹ میں 11ویں پوزیشن حاصل کی، جو گزشتہ 20 سالوں میں پاکستان کا بہترین ورلڈ کپ فنش ہے۔

دیگر پوزیشنز میں مینز میں ارجنٹائن نے کامیابی حاصل کر کے برانز میڈل جیتا، جبکہ ویمنز میں بیلجیم نے آسٹریلیا کو 0-1 سے ہرا کر برانز میڈل اپنے نام کیا۔ آسٹریلیا نے انگلینڈ کو 0-2 سے ہرا کر پانچویں جبکہ بیلجیم نے بھارت کو شوٹ آؤٹ پر 3-4 سے ہرا کر ساتواں نمبر حاصل کیا۔

سی پیک کا شاہکار ساہیوال کول پاور پلانٹ: 1.912 ارب ڈالر کی لاگت، 1320 میگاواٹ بجلی اور پاک چین تکنیکی پیش رفت کی مکمل کہانی

منصور احمد, August 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت قائم کردہ ’ساہیوال کول پاور پلانٹ‘ نے پاکستان کے توانائی کے شعبے میں انقلاب برپا کرتے ہوئے ملک کی مجموعی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ قادرآباد، ضلع ساہیوال میں واقع اس عظیم الشان پاور پروجیکٹ کی مجموعی پیداواری صلاحیت 1,320 میگاواٹ ہے، جو کہ 660 میگاواٹ کے دو جدید یونٹس پر مشتمل ہے۔ سی پیک کے باضابطہ ریکارڈز کے مطابق اس منصوبے کی مجموعی لاگت تقریباً 1.912 ارب ڈالر ہے۔

ساہیوال کول پاور پلانٹ ایک ایسے کٹھن اور بحرانی وقت میں ریکارڈ مدت کے اندر مکمل ہوا جب پاکستان شدید ترین پاور کرائسز اور ہولناک لوڈشیڈنگ کا شکار تھا، اور بجلی کی عدم دستیابی ملک کی صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کی تباہی کا باعث بن رہی تھی۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد قومی گرڈ کو بڑے پیمانے پر بلاتعطل اور مسلسل بجلی فراہم کر کے ملک کی بنیادی معاشی ضروریات کو پورا کرنا تھا۔ یہ منصوبہ پاکستان میں جدید ’سپر کریٹیکل کوئلہ فائرڈ ٹیکنالوجی‘ کے استعمال کی پہلی اور سب سے بڑی مثال ہے۔ اس جدید ترین تکنیک اور نصب کیے گئے ماحولیاتی سسٹمز کے ذریعے پلانٹ کی ایندھن کارکردگی میں زبردست اضافہ ہوا جبکہ کاربن اور دیگر گیسوں کے اخراج کو عالمی معیار کے مطابق نمایاں حد تک کم رکھا گیا ہے۔

ساہیوال پاور پلانٹ کی اہمیت محض 1320 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے تک محدود نہیں، بلکہ اس منصوبے نے بڑے پیمانے کے توانائی پروجیکٹس کی منصوبہ بندی، تعمیر، آپریشنل مینجمنٹ اور پاک چین تکنیکی تعاون کے میدان میں گرانقدر تجربات فراہم کیے ہیں۔ ایسے دیو ہیکل بجلی گھر کو محفوظ انداز میں چلانے کے لیے انجینئرنگ، آپریشنز، مینٹیننس، فنانس، ماحولیاتی تحفظ اور سیکیورٹی سمیت تمام شعبوں کے درمیان مضبوط رابطہ کاری قائم کی گئی ہے، جو قومی گرڈ کی پائیداری کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔

یہ منصوبہ مقامی افرادی قوت کی فنی تربیت اور پاکستانی انجینئرز کی صلاحیتوں کو نکھارنے کا بڑا ذریعہ بنا۔ پاکستانی انجینئرز اور ٹیکنیشنز نے چینی ماہرین کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کام کرتے ہوئے جدید پاور جنریشن ٹیکنالوجی کو چلانے اور سنبھالنے کا عملی تجربہ حاصل کیا، جس سے ملکی توانائی کے شعبے کی تکنیکی استعداد کو غیر معمولی تقویت ملی۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کے توانائی کے مستقبل کے لیے شمسی، ہوائی اور پن بجلی کے ساتھ ساتھ ساہیوال پاور پلانٹ جیسی قابلِ اعتماد بیس لوڈ پاور کی موجودگی اشد ضروری ہے۔ یہ پروجیکٹ محض ایک بجلی گھر نہیں بلکہ سی پیک کے توانائی وژن، پائیدار بنیادی ڈھانچے اور پاکستان کی صنعتی و معاشی ترقی کا ایک تاریخی باب ہے۔

گوگل میپس کا بڑا اقدام: امریکی صارفین کے لیے جھیل اونٹاریو کا نام بدل کر ’’لیک امریکا‘‘ کر دیا گیا

محمود احمد, August 31,2026

واشنگٹن/اوٹاوا (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

عالمی ٹیک کمپنی گوگل نے امریکی صارفین کے لیے اپنی مشہور زمانہ سروس ‘گوگل میپس’ پر کینیڈا اور امریکہ کی مشترکہ سرحد پر واقع تاریخی جھیل ‘اونٹاریو’ کا باقاعدہ نام تبدیل کرکے ’’لیک امریکا‘‘ کر دیا ہے۔ خبر رساں ادارے اے پی پی اور بنگلہ دیش کی سرکاری نیوز ایجنسی بی ایس ایس کے مطابق، جغرافیائی نام میں یہ غیر معمولی تبدیلی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جھیل کا نام تبدیل کرنے کے حالیہ باضابطہ اعلان کے بعد کی گئی ہے۔

گوگل کی جانب سے جاری کردہ وضاحت میں بتایا گیا ہے کہ کینیڈا میں موجود صارفین کو ان کے موبائل فونز، ٹیبلیٹس اور کمپیوٹرز پر یہ جھیل بدستور اپنے روایتی نام ’’لیک اونٹاریو‘‘ کے نام سے ہی دکھائی دے گی۔ ماہرین کے مطابق یہ نام 17ویں صدی سے مسلسل استعمال ہو رہا ہے اور اس کی تاریخی جڑیں خطے کی مقامی آبادی کی قدیم زبان اور تاریخ سے گہری جڑی ہوئی ہیں۔ تاہم امریکہ کے اندر گوگل میپس استعمال کرنے والے صارفین کو اب یہ جھیل “لیک امریکا” کے نام سے نظر آئے گی، جبکہ امریکہ اور کینیڈا سے باہر دنیا بھر کے دیگر ممالک کے صارفین کو دونوں نام بیک وقت دکھائی دیں گے۔ ٹیک کمپنی کا کہنا ہے کہ امریکہ میں جغرافیائی ناموں کی اپڈیٹ کے لیے وفاقی حکومت کے سرکاری ڈیٹا بیس ’’یو ایس جیوگرافک نیمز انفارمیشن سسٹم‘‘ کے ڈیٹا کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ دوسری جانب ٹیک کمپنی ‘ایپل’ نے اپنی ‘ایپل میپس’ ایپ پر جھیل کا اصل نام ’’لیک اونٹاریو‘‘ ہی برقرار رکھا ہوا ہے۔

جھیل کے نام کی اس اچانک تبدیلی پر کینیڈین حکام اور اعلیٰ قیادت نے شدید غم و غصے اور ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ کینیڈا کے اہم صوبے اونٹاریو کے وزیرِاعلیٰ ڈگ فورڈ نے امریکہ اور کینیڈا کے درمیان حالیہ دنوں میں بڑھتی ہوئی شدید سفارتی اور تجارتی کشیدگی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس صورتحال کو ’’انتہائی افسوسناک‘‘ اور دونوں اتحادی ممالک کو ’’الٹی سمت میں لے جانے‘‘ کے مترادف قرار دیا ہے۔

یہ جغرافیائی اور سفارتی تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور کینیڈا کے درمیان معاشی اور تجارتی جنگ اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے اور دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی درآمدی و برآمدی مصنوعات پر بھاری جوابی محصولات عائد کر رکھے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز کینیڈا کی آٹو انڈسٹری کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ اب کینیڈا کی ساختہ گاڑیاں، آٹو پارٹس یا کسی بھی قسم کی کینیڈین پروڈکٹس نہیں خریدنا چاہتا۔

صوبہ اونٹاریو کے وزیراعلیٰ ڈگ فورڈ نے ٹرمپ کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ تجارتی جنگ دونوں ممالک کے لیے انتہائی تباہ کن ہوگی، لیکن اس کے منفی اثرات امریکہ پر کہیں زیادہ شدید پڑ سکتے ہیں کیونکہ کینیڈا امریکی گاڑیوں اور سپیئر پارٹس کا سب سے بڑا اور بنیادی خریدار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کینیڈا نے امریکی گاڑیوں کا بائیکاٹ کیا تو امریکی آٹو فیکٹریاں بند ہونے کے دہانے پر پہنچ جائیں گی، اور کینیڈین مصنوعات پر ٹیرف لگانا دراصل امریکی عوام کی جیبوں پر ٹیکس کا اضافی بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔

واضح رہے کہ ‘جھیل اونٹاریو’ شمالی امریکہ کی پانچ عظیم جھیلوں میں رقبے کے لحاظ سے سب سے چھوٹی جھیل شمار کی جاتی ہے اور یہ جغرافیائی طور پر کینیڈا کے صوبے اونٹاریو اور امریکی ریاست نیویارک کی سرحدوں کے درمیان واقع ہے۔

ایران کا متحدہ عرب امارات میں المنہاد ایئر بیس کو نشانہ بنانے کا دعویٰ: صدر مسعود پزشکیان کی خطے میں بدامنی پر سخت تنبیہ

محمود احمد, August 31,2026

تہران/ابوظہبی (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

ایران کی مسلح افواج نے جاری علاقائی کشیدگی کے دوران ایک اور بڑی عسکری کارروائی کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اردن میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملے کے بعد اب متحدہ عرب امارات میں واقع ‘المنہاد ایئر بیس’ پر موجود امریکی ہیلی کاپٹروں، دفاعی آلات اور فوجی اہلکاروں کی موجودگی کے مخصوص ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔

ایرانی فوجی ذرائع کے مطابق المنہاد ایئر بیس پر یہ کارروائی ڈرونز اور گائیڈڈ راکٹس کے ذریعے کی گئی، جس کا مقصد خطے میں امریکی فورسز کی لاجسٹک اور عسکری نقل و حرکت کو مفلوج کرنا ہے۔ دوسری جانب، اس کارروائی کے فوراً بعد ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اپنے ایک اہم بیان میں خطے کی تشویشناک صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’خطے میں عدم استحکام، جنگ کی شدت اور بدامنی کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں ہے اور یہ صورتحال بلا تفریق تمام ممالک کے لیے سنگین مشکلات اور معاشی بحران پیدا کرے گی۔‘

واضح رہے کہ خلیجی خطے میں ایران، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مابین جاری عسکری کشیدگی اب انتہائی خطرناک موڑ پر داخل ہو چکی ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات اور اردن میں امریکی اڈوں پر مسلسل پاسدارانِ انقلاب اور ایرانی افواج کے دعووں سے مشرقِ وسطیٰ میں ہمہ گیر جنگ کی لپیٹ میں آنے کے خدشات شدت اختیار کر گئے ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ: نجی ہسپتال میں علاج کے لیے دائر اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں کی درخواستیں مسترد

منصور احمد, August 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

اسلام آباد ہائی کورٹ نے نجی ہسپتال میں علاج معالجے کی سہولت حاصل کرنے اور جیل سے بیرونِ ملک ٹیلی فونک رابطوں کی اجازت کے لیے دائر کی گئی اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں کی درخواستوں کو باضابطہ طور پر مسترد کر دیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے نامور جج جسٹس محمد آصف نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد محفوظ کیا گیا اہم فیصلہ جاری کیا۔ عدالتی فیصلے کے مطابق قیدیوں کو قانون اور جیل مینول کے مطابق ہی طبی و دیگر سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں، جس کے تحت نجی ہسپتال منتقل کرنے کا کوئی قانونی جواز فراہم نہیں کیا گیا۔

راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ان تینوں قیدیوں نے اپنے وکلاء کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں آئینی درخواستیں دائر کی تھیں، جن میں استدعا کی گئی تھی کہ انہیں علاج معالجے کے لیے جیل سے باہر کسی نجی ہسپتال منتقل کیا جائے اور بیرونِ ملک مقیم اپنے اہلخانہ یا متعلقہ افراد سے ٹیلی فون پر بات چیت کرنے کی خصوصی سہولت فراہم کی جائے۔ تاہم، عدالتِ عالیہ نے ان تمام استدعاؤں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے درخواستوں کو باقاعدہ ڈسمس (مسترد) کر دیا۔

چین نے تباہ کن سیلاب کی ویڈیوز کی مبینہ سینسرشپ کا الزام مسترد کر دیا: معلومات ‘شفاف اور بروقت’ جاری کرنے کا دعویٰ

روزینہ اسماعیل, August 31,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

چین نے تبت کے سرحدی علاقوں میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد معلومات کی شفافیت سے متعلق اٹھنے والے بین الاقوامی سوالات کے جواب میں کہا ہے کہ حکومت آفت کی صورتحال سے متعلق تمام تر معلومات ’کھلے، شفاف اور بروقت انداز میں‘ عوام اور میڈیا کو جاری کر رہی ہے۔

اس سے قبل گزشتہ سنیچر کے روز برطانوی خبر رساں ادارے (بی بی سی) نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ نیپال اور تبت کے درمیان اہم ترین مرکزی سرحدی گزرگاہوں میں سے ایک ‘گییرونگ پورٹ’ میں پانی کے تیز اور تباہ کن بہاؤ سے ہونے والی تباہی کی ڈرامائی اور خوفناک ویڈیو کلپس کو چین کے اندر سوشل میڈیا سے ہٹایا اور سینسر کیا جا رہا ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق اب تک چین کے مرکزی سرکاری ٹیلی ویژن کے اہم نیوز بلیٹن میں اس ہولناک واقعے کی صرف ایک ہی تصویر نشر کی گئی ہے۔

پیر کے روز بیجنگ میں ایک پریس بریفنگ کے دوران جب صحافیوں نے ویڈیو کی مبینہ سینسرشپ اور خبریں چھپانے کے حوالے سے سوال کیا تو چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ‘گو جیاکون’ نے سينسرشپ پر براہِ راست تبصرے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ’آفت سے نمٹنے اور امدادی کارروائیاں ہنگامی بنیادوں پر لیکن انتہائی منظم انداز میں جاری ہیں۔‘

چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے عالمی میڈیا اور ناقدین پر سخت تنقید کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’چین کو بدنام کرنے یا قدرتی آفت کو بنیاد بنا کر صورتحال کو سنسنی خیز بنانے کی کسی بھی کوشش کو عوامی سطح پر کوئی حمایت حاصل نہیں ہوگی۔‘ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔

امریکی افواج کا جزیرہ لارک پر بڑا حملہ: ایران کے دو راکٹ لانچرز تباہ، جولائی کے بعد پہلا براہِ راست امریکی اقدام

محمود احمد, August 31,2026

واشنگٹن/تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اتوار کی شب امریکی مسلح افواج کی جانب سے خلیجِ فارس میں واقع سٹریٹجک ‘جزیرہ لارک’ پر ایرانی فوج کے دو بڑے لانچرز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ جولائی کے اواخر کے بعد سے یہ ایران کی سرزمین پر امریکہ کی جانب سے کیا جانے والا پہلا براہِ راست اور شدید ترین عسکری حملہ ہے۔

امریکی افواج کی یہ سرجیکل کارروائی ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب حالیہ چند ہفتوں کے دوران ایران اور امریکہ کے مابین جاری براہِ راست عسکری تصادم کی شدت میں کچھ کمی آئی تھی اور دونوں فورسز کے درمیان جنگ ایک طرح کے تعطل کی کیفیت اختیار کر چکی تھی۔ ایک نامعلوم اعلیٰ امریکی فوجی عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ انٹیلی جنس بیسڈ حملہ اس وقت کیا گیا جب پاسدارانِ انقلاب کے اہلکار آبنائے ہرمز کے سمندری راستوں کی جانب بحری بارودی سرنگیں لے جانے والے گائیڈڈ راکٹ داغنے کی آخری تیاریوں میں المصروف تھے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ایک بیان میں اعلان کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کے بین الاقوامی پانیوں میں ایرانی فورسز کی جانب سے بچھائی گئی تمام بارودی سرنگیں یا تو مکمل طور پر ناکارہ بنا دی گئی ہیں یا امریکی بحریہ کے قبضے میں لے لی گئی ہیں۔ امریکی صدر نے ایران کو سخت ترین الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں کوئی بھی جہاز، کشتی یا نجی ڈرون جو نئی بارودی سرنگ بچھانے کی کوشش کرے گا، اسے امریکی فورسز فوری طور پر تباہ کر دیں گی۔

واضح رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان اس ہمہ گیر اور تباہ کن جنگ کو شروع ہوئے اب چھ ماہ کا طویل عرصہ بیت چکا ہے، جبکہ دنیا کی سب سے اہم تیل بردار گزرگاہ ‘آبنائے ہرمز’ کے عملی کنٹرول اور اسے بین الاقوامی بحری آمد و رفت کے لیے کھلا رکھنے کے معاملے پر واشنگٹن اور تہران کے درمیان شدید ترین تنازع اور عسکری کشیدگی بدستور جاری ہے۔

ایران کا جزیرہ لارک پر حملے کے بعد شدید ردِعمل: امریکی و اسرائیلی اقدامات کا ’تباہ کن، تکلیف دہ اور سبق آموز‘ جواب دینے کا عزم

محمود احمد, August 31,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

ایران کی پارلیمان کی اہم اور سٹریٹجک ‘قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی’ کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے سٹریٹجک جزیرہ لارک پر ہونے والے حالیہ حملے پر انتہائی سخت اور تند و تیز ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس جارحانہ کارروائی کا تہران کی جانب سے حتمی اور لازمی جواب دیا جائے گا۔

ابراہیم عزیزی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کردہ اپنے ایک اہم بیان میں طاقتور لہجہ اپناتے ہوئے لکھا کہ “ہماری دفاعی قوتِ ارادی کو دوبارہ آزمانے” کی دشمنوں کی کوئی بھی نئی کوشش امریکہ اور اسرائیل کی ناکامیوں اور معاشی و جیو پولیٹیکل نقصان کی قیمت کو مزید شدید اور بھاری کر دے گی۔ انہوں نے واضح انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریہ اسلامی ایران اس جارحیت کا انتہائی “تباہ کن، تکلیف دہ اور عبرت ناک سبق آموز” جواب فراہم کرے گا۔

ایرانی رہنما کی جانب سے یہ سخت بیانات ایک ایسے کشیدہ وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران کی پاسدارانِ انقلاب اسلامی نے خلیجِ فارس میں واقع جزیرہ لارک پر ہونے والے حملے کے نتیجے میں اپنے متعدد عسکری اہلکاروں اور عام شہریوں کی شہادت اور زخمی ہونے کی باضابطہ تصدیق کی ہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے بھی واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے حملے کے منصوبہ سازوں اور حملہ آوروں کے خلاف فوری اور بھرپور جوابی کارروائی کرنے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔