مصنوعی ذہانت کے خطرات سے متعلق خدشات مبالغہ آمیز ہیں، امریکہ اے آئی میں چین پر برتری برقرار رکھے گا: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

محمود احمد, September 13,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 13 ستمبر 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت (AI) کی تیز رفتار پیش رفت اور اس کے ممکنہ خطرات کے حوالے سے عالمی سطح پر پائی جانے والی تشویش کو غیر ضروری اور مبالغہ آمیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بعض “انتہائی منفی قوتیں” ایسے فرضی خطرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہیں جن کے حقیقت بننے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

آئرلینڈ کے دورے کے موقع پر میڈیا نمائندگان اور صحافیوں سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ اس وقت امریکہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے میدان میں اپنے اہم ترین اقتصادی و سیکیورٹی حریف چین سے نمایاں طور پر آگے ہے، اور ان کی انتظامیہ کا بنیادی ہدف اس تکنیکی برتری کو ہر قیمت پر برقرار رکھنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو ملک عالمی سطح پر اے آئی کے میدان میں سبقت حاصل کرے گا، وہی مستقبل کی عالمی معیشت اور جغرافیائی سیاست میں فیصلہ کن حیثیت کا حامل ہوگا۔

جب امریکی صدر سے پوچھا گیا کہ کیا اے آئی کی غیر معمولی اور تیز رفتار ترقی کو سست کرنے یا اس پر کڑے بین الاقوامی قوانین لاگو کرنے کی ضرورت ہے، تو انہوں نے کہا کہ بنیادی اور بنیادی حفاظتی حدود (Safety Guardrails) مقرر کرنا ممکن ہے، لیکن ایسے سخت قوانین سے گریز کرنا ہوگا جو امریکی کمپنیوں کی ایجادات کی رفتار کو سست کریں اور چین کو آگے نکلنے کا موقع فراہم کریں۔

امریکی صدر کا یہ موقف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر اے آئی کی قومی سلامتی اور انسانی بقا پر اثرات کے حوالے سے سنجیدہ بحث جاری ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، معروف اے آئی تحقیقی ادارے ‘اینتھروپک’ (Anthropic) کے سائنس دانوں اور چیف ایگزیکٹو ڈاریو اموڈی نے حال ہی میں خبردار کیا تھا کہ مصنوعی ذہانت کی بے ہنگم ترقی مستقبل میں انسانی سیکیورٹی اور بقا کے لیے شدید خطرات جنم دے سکتی ہے، جس کے لیے کڑے بین الاقوامی قوانین اور احتیاطی تدابیر فوری طور پر اختیار کی جانی چاہئیں۔

ٹیکنالوجی ماہرین اور وائٹ ہاؤس کے درمیان یہ نظریاتی اختلاف اس بات کو واضح کرتا ہے کہ امریکہ میں مصنوعی ذہانت کی پیش رفت اب محض ایک سائنسی ایجاد کے بجائے قومی سلامتی، عالمی معاشی برتری اور چین کے ساتھ ٹیکنالوجیکل جنگ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر آئرلینڈ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے صحافیوں کو دیے گئے بیان اور عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹس کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ اے آئی کے خطرات کے “مبالغہ آمیز” ہونے کا دعویٰ صدر ٹرمپ کا اپنا سیاسی و معاشی نقطہ نظر ہے، جبکہ ٹیکنالوجی کے نامور ماہرین اور ‘اینتھروپک’ کے سائنس دان اس ٹیکنالوجی کی بین الاقوامی نگرانی کو ضروری سمجھتے ہیں۔

ماخذ: رائٹرز (Reuters)، وائٹ ہاؤس پریس پول، فوکس نیوز۔

یوکرینی حملوں کے باعث روس میں پیٹرول کی شدید قلت اور عالمی توانائی منڈیوں میں دباؤ؛ ٹرمپ نے حملے روکنے پر زور دے دیا

محمود احمد, September 13,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 13 ستمبر 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے صدر ولودی میر زیلینسکی پر زور دیا ہے کہ وہ روس کی آئل ریفائنریوں اور ڈیزل و ایندھن کی پیداوری تنصیبات پر دور مار ڈرون حملے فوری طور پر بند کریں۔

بین الاقوامی سفارتی اور دفاعی ذرائع کے مطابق، حالیہ مہینوں کے دوران یوکرین کی جانب سے روس کی سرحدی اور اندرونی توانائی تنصیبات پر کیے جانے والے طویل فاصلے کے ڈرون حملوں نے روسی ایندھن کی پیداواری صلاحیت کو شدید متاثر کیا ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں روس کے متعدد اضلاع اور شہروں میں پیٹرول اور ڈیزل کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرینی صدر کے ساتھ گفتگو کے دوران اس تشویش کا اظہار کیا کہ روسی آئل ریفائنریوں کو نشانہ بنانے کے نتیجے میں نہ صرف روس کے اندر شہری ایندھن کا بحران پیدا ہو رہا ہے، بلکہ اس سے عالمی توانائی کی منڈیوں میں خام تیل اور بنیادی ایندھن کی فراہمی اور قیمتوں پر شدید منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، یوکرین نے حالیہ مہینوں میں روس کی اقتصادی اور عسکری ایندھن سپلائی چین کو مفلوج کرنے کی حکمتِ عملی اپنا رکھی تھی تاکہ جنگ میں روس کی عسکری صلاحیت کو کمزور کیا جا سکے۔ تاہم، امریکہ کی جانب سے زیلینسکی انتظامیہ کو ان حملوں سے روکنے کی ہدایت ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب واشنگٹن عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں استحکام اور تنازع کے سفارتی حل کی کوشش کر رہا ہے۔

حکام کے مطابق، امریکی صدر کی اس ہدایت کے بعد یوکرینی حکومت یا ملٹری کمانڈ کی جانب سے روسی ریفائنریوں پر حملے معطل کرنے کے حوالے سے فی الوقت کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ آرٹیکل امریکی انتظامیہ اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی تازہ رپورٹس کی روشنی میں مرتب کیا گیا ہے۔ یوکرین کے ڈرون حملوں سے روس کے اندر پیٹرول کی قلت اور ٹرمپ کی زیلینسکی کو دی گئی ہدایت کا بنیادی مقصد عالمی مارکیٹ میں ایندھن کا بحران روکنا ہے۔ یوکرین کے دفاعی حکام کی جانب سے اس امریکی ہدایت پر حتمی عملدرآمد کی تصدیق باقی ہے۔

ماخذ: بین الاقوامی خبر رساں ادارے (روئٹرز/اے پی)، امریکی و یوکرینی سفارتی بیانات۔

عالمی توانائی کی سپلائی پر بڑا بحران: آبنائے ہرمز اور سعودی آئل پائپ لائن پر حملوں کے بعد خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں

محمود احمد, September 13,2026

دبئی (نیوز اینڈ نیوز) — 13 ستمبر 2026ء

تزویراتی سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر پر حملہ اور سعودی عرب کی اہم ترین ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کی بندش کے تازہ واقعات نے عالمی توانائی منڈیوں میں شدید تشویش اور بے چینی پیدا کر دی ہے، جس کے باعث خام تیل کی عالمی سپلائی میں بندش کا بڑا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

برطانوی بحری سیکیورٹی ایجنسی یو کے ایم ٹی او (UKMTO) کے مطابق، اتوار کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک تجارتی بحری جہاز کو نامعلوم سمت سے انے والے پروجیکٹائل نے نشانہ بنایا، جس سے جہاز میں ہولناک آگ بھڑک اٹھی اور امدادی حکام نے عملے کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کا عمل شروع کیا۔ واقعے میں جہاز کو پہنچنے والے تکنیکی نقصان کی حتمی رپورٹ جمع کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب، سعودی عرب نے ڈرون حملے کا نشانہ بننے کے بعد اپنی 1,200 کلومیٹر طویل ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کو عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔ یہ تزویراتی پائپ لائن آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر مشرقی علاقوں سے تیل بحیرہ احمر کی بندرگاہ ‘ینبع’ تک پہنچانے کا واحد بڑا ذریعہ ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، اس راستے سے روزانہ 40 لاکھ بیرل تیل منتقل ہو رہا تھا، جو عالمی سپلائی کا تقریباً 4 فیصد بنتا ہے۔

توانائی ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ اگر پائپ لائن کو جلد بحال نہ کیا گیا تو ینبع بندرگاہ پر موجود ذخائر صرف چند دنوں کی برآمدات کو برقرار رکھ سکیں گے۔ اس دوران، بحیرہ احمر اور باب المندب کی پٹی پر حوثیوں کی بڑھتی ہوئی پیش قدمی نے سمندری تجارتی راستوں کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔

ان سنگین واقعات کے باعث بین الاقوامی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمتیں 104.61 ڈالر فی بیرل اور امریکی WTI کی قیمت 100.05 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہیں۔ اگر آبنائے ہرمز، سعودی متبادل پائپ لائن اور باب المندب پر بیک وقت دباؤ برقرار رہا تو عالمی منڈی میں سپلائی کا بڑا بحران جنم لے سکتا ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر عالمی خبر رساں اداروں، برطانیہ کے بحری ادارے UKMTO اور انرجی مارکیٹ سے حاصل کردہ تازہ اعداد و شمار کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ سعودی پائپ لائن کی مرمت کی حتمی مدت اور متاثرہ بحری جہاز پر حملے کی ذمے داری سے متعلق تفصیلات تاحال باضابطہ طور پر عام نہیں کی گئی ہیں۔

ماخذ: رائٹرز (Reuters)، یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO)، بلومبرگ (Bloomberg)।

ایران نے جنگ شروع نہیں کی، امریکہ اور اسرائیل کے حملوں پر صرف دفاع کیا: برکس اجلاس میں صدر مسعود پزشکیان کا موقف

محمود احمد, September 13,2026

نئی دہلی (نیوز اینڈ نیوز) — 13 ستمبر 2026ء

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ موجودہ جنگ اور عسکری کشیدگی کا آغاز ایران نے نہیں کیا، بلکہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی جارحیت اور حملوں کے بعد تہران نے صرف اپنے دفاع اور قومی سلامتی کی خاطر مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔

نئی دہلی میں منعقدہ برکس (BRICS) سربراہ اجلاس کے موقع پر ایک خصوصی انٹرویو میں صدر مسعود پزشکیان نے تہران کے رسمی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کبھی بھی خطے میں جنگ کا خواہاں رہا ہے اور نہ ہی اس نے جاری تنازع کو پھیلاؤ دینے کی کوئی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت بیرونی جارحیت کا جواب دینا اور اپنی سرزمین کی حفاظت کرنا ایران کا بنیادی اور مسلمہ حق ہے۔

ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کے بنیادی ڈھانچے، سٹریٹیجک تنصیبات، عسکری کمانڈروں، ایٹمی سائنس دانوں اور عام شہریوں کو بیرونی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق تہران نے انہی مسلسل خلاف ورزیوں اور بین الاقوامی اصولوں کی پامالی کے جواب میں دفاعی کارروائیاں کیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران ایک طویل عرصے سے خطے میں پائیدار امن اور عدم تشدد کا حامی رہا ہے، تاہم اگر اس پر جارحیت اور عسکری دباؤ مسلط رکھا گیا تو وہ کسی صورت اپنے بنیادی دفاعی حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔

مسعود پزشکیان کا یہ اہم بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے اور سفارتی راستہ تلاش کرنے کے حوالے سے بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ ایرانی صدر نے اشارہ دیا کہ اگر امریکہ اپنے سابقہ مفاہمتی وعدوں پر واپس آتا ہے اور جارحانہ انداز ترک کرتا ہے، تو تہران بھی اس کے مطابق جواب دہ اقدامات کے لیے فوری تیار ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ خطے کے تمام بحرانوں کا پائیدار حل بیرونی مداخلت کے بجائے علاقائی ممالک کے باہمی تعاون اور مذاکرات میں ہی مضمر ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر نئی دہلی میں جاری برکس اجلاس کے موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے انٹرویو اور ایرانی سرکاری میڈیا میں شائع ہونے والے بیانات پر مبنی ہے۔ ایران کی جانب سے جنگ میں پیش قدمی نہ کرنے کا بیان ان کا اپنا سفارتی اور سیاسی موقّف ہے، جبکہ امریکہ اور اسرائیل ان حملوں کے پس منظر میں اپنے الگ تزویراتی مقاصد پیش کرتے ہیں۔

ماخذ: ارنا (IRNA)، پریس ٹی وی، برکس سمٹ پریس پول۔

یمن میں حوثیوں اور سعودی فورسز کے درمیان بمباری کی نئی لہر: تعز اور صعدہ پر سعودی فضائی حملوں کا دعویٰ

محمود احمد, September 13,2026

صنعاء (نیوز اینڈ نیوز) — 13 ستمبر 2026ء

یمن میں جاری شدید عسکری کشیدگی کے دوران حوثی گروپ کے باضابطہ میڈیا چینل ‘المسیرہ’ نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی جنگی طیاروں اور بمبار فورسز نے یمن کے دو اہم اضلاع تعز اور صعدہ میں متعدد فضائی و دفاعی حملے کیے ہیں۔

حوثی ٹیلی ویژن المسیرہ کی رپورٹ کے مطابق، سعودی جتھے اور جنگی طیاروں نے تعز کے ان مخصوص تزویراتی علاقوں کو بالخصوص نشانہ بنایا جہاں ایران کی حمایت یافتہ حوثی فورسز نے حالیہ چند ایام میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومتی فورسز کے خلاف اہم پیش رفت اور پیش قدمی کی تھی۔

بی بی سی فارسی کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے المسیرہ نے مزید انکشاف کیا کہ سعودی جیٹس نے شمالی یمن میں حوثی تحریک کے مرکزی گڑھ اور سیکیورٹی ہیڈکوارٹر سمجھے جانے والے صوبے ‘صعدہ’ میں بھی متعدد عسکری اہداف پر بمباری کی ہے۔ اس کے علاوہ صعدہ کے قریبی سرحدی علاقے ‘منبہ’ میں سعودی بارڈر فورسز کی جانب سے بھاری توپ خانے سے فائرنگ کی اطلاعات بھی فراہم کی گئی ہیں۔

یہ اطلاعات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب اس سے قبل حوثی افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے گروپ نے جنوبی سعودی عرب میں قائم اہم شرورہ فوجی اڈے پر بیلسٹک میزائلوں اور عسکری ڈرونز کی مدد سے بھاری حملہ کیا ہے۔

تاہم، سعودی عرب کے سرکاری حکام یا سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کی جانب سے حوثیوں کے اس مبینہ ڈرون و میزائل حملے یا یمن کے اضلاع تعز اور صعدہ پر کی جانے والی حالیہ بمباری کے دعوؤں کی فی الوقت آزادانہ طور پر یا باضابطہ تصدیق جاری نہیں کی گئی ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر حوثیوں کے زیرِ انتظام نشریاتی ادارے ‘المسیرہ’ اور عالمی میڈیا ہاؤسز کی ابتدائی اطلاعات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے। تعز اور صعدہ میں سعودی فضائی کارروائیوں اور سعودی ملٹری بیس پر حوثی حملوں کے دعوؤں کی تاحال سعودی حکام یا آزاد بین الاقوامی نگرانوں کی جانب سے باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

ماخذ: المسیرہ ٹی وی (Al-Masirah TV)، بی بی سی فارسی (BBC Persian)، بین الاقوامی خبر رساں ادارے (AFP)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نیا دعویٰ: ایران سے جنگ وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ختم ہو جائے گی، ایندھن کی قیمتوں میں فوری کمی آئے گی

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 13 ستمبر 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری عسکری کشیدگی اور جنگ نومبر 2026ء میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات (Midterm Elections) کے فوراً بعد ختم ہو جائے گی، اور جنگ بندی کے بعد امریکہ سمیت عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتیں انتہائی تیزی سے نیچے آئیں گی۔

آئرلینڈ کے دورے کے دوران صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ انہیں کامل توقع ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع رواں سال کے اختتام سے قبل حل ہو جائے گا، تاہم انہوں نے اس پیش رفت کو خاص طور پر 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد کے وقت سے مشروط کیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ “جیسے ہی یہ جنگ ختم ہوگی، پٹرول اور ایندھن کی قیمتیں غیر معمولی رفتار سے نیچے آئیں گی۔” انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ تہران اندرونی و بیرونی دباؤ کے باعث امریکہ کے ساتھ معاشی و سیکیورٹی معاہدہ کرنے کا خواہاں ہے۔

امریکی صدر کی جانب سے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز پر حملوں اور سعودی عرب کی اہم ایسٹ ویسٹ تیل پائپ لائن پر حالیہ ڈرون سٹرائیکس نے عالمی انرجی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ کی قیمتوں میں شدید ہلچل مچا رکھی ہے۔

تاہم، عالمی توانائی کے ماہرین اور آزاد حقیقت اور تجزیاتی ادارے FactCheck.org کے مطابق جنگ ختم ہونے کے باجود پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فوری اور یکدم کمی کا ہونا یقینی نہیں ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں کا انحصار صرف جنگ بندی پر نہیں بلکہ آبنائے ہرمز کے بحری راستوں کی مکمل بحالی، عالمی آئل سپلائی، ریفائنریوں کی پیداواری صلاحیت اور بین الاقوامی مارکیٹ کے ردِعمل جیسے متعدد پیچیدہ عوامل پر ہوتا ہے۔

اس سے قبل بھی ایرانی حکام کی جانب سے امریکی صدر کے مذاکرات سے متعلق بعض دعووں کی بارہا تردید کی جا چکی ہے، جس کے باعث سفارتی تجزیہ کار ان بیانات کو حتمی پیش رفت کے بجائے صدر ٹرمپ کا اپنا سیاسی مؤقف قرار دے رہے ہیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر آئرلینڈ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میڈیا گفتگو اور امریکی و عالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹنگ کی روشنی میں مرتب کی گئی ہے۔ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کی تاریخ اور ایندھن کی قیمتوں میں کمی کے دعوے کا انحصار صدر ٹرمپ کی ذاتی پیش گوئی پر ہے، جبکہ معاشی ماہرین اور تہران کے بیانات اس سے مختلف امکانات کی نشاندہی کرتے ہیں۔

ماخذ: وائٹ ہاؤس پریس پول، فوکس نیوز، FactCheck.org، آن لائن نیوز ایجنسیز۔

پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے مجوزہ مارچ کا تناظر: راولپنڈی اڈیالہ جیل میں عمران خان سے اہم شخصیت کی رات گئے ملاقات کا سنسنی خیز دعویٰ

منصور احمد,September 13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 ستمبر 2026ء

صحافی اور وی لاگر اسد طور نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 27 ستمبر کو متوقع احتجاجی مارچ کے پیشِ نظر طاقتور حلقے متحرک ہو چکے ہیں، اور اسی سلسلے میں ایک انتہائی اہم شخصیت نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی اور سابق وزیراعظم عمران خان سے خصوصی ملاقات کی ہے۔

اپنے ایک تازہ ترین بیانیے میں اسد طور نے دعویٰ کیا کہ یہ انتہائی حساس ملاقات رات گئے اڈیالہ جیل کے اندر ہوئی، جو تقریباً رات 1:30 بجے سے شروع ہو کر صبح 4:00 بجے تک جاری رہی۔ ان کے مطابق متعلقہ ادارے کا ایک اعلیٰ افسر ایک اہم شخصیت کے ہمراہ بغیر کسی بڑے روایتی پروٹوکول کے خاموشی سے جیل پہنچا، جہاں انہوں نے عمران خان کے ساتھ سیاسی امور اور موجودہ تناؤ پر طویل تبادلہ خیال کیا۔

صحافی نے مؤقف اختیار کیا کہ 27 ستمبر کے مجوزہ پی ٹی آئی اسلام آباد مارچ کی کال نے اقتدار کے ایوانوں میں سیاسی دباؤ اور بے چینی میں اضافہ کیا ہے، جس کے باعث بیک ڈور رابطوں کا سلسلہ تیز ہوا ہے۔ تاہم، انہوں نے اپنے اس وی لاگ یا گفتگو کے دوران ملاقات کے لیے آنے والی مبینہ اہم شخصیت کا نام عام کرنے سے گریز کیا۔

اسد طور کے مطابق حالیہ دنوں میں حکومت اور اپوزیشن کے مختلف رہنماؤں کے درمیان بھی رابطوں کے اشارے ملے ہیں اور خود پی ٹی آئی قیادت نے حکومتی فریقین کے ساتھ بعض رابطوں کا اشارہ دیا ہے، تا ہم ان پس پردہ مذاکرات کے حتمی نتائج اور نوعیت ابھی تک منظرِ عام پر نہیں آ سکی ہے۔

تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے احتجاج کے اعلان کے بعد ملک کا سیاسی درجہ حرارت پہلے ہی خاصا بلند ہے۔ اس تناظر میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ کسی ممکنہ سیاسی راستے، درمیانی حل یا مفاہمت کے امکانات سے متعلق یہ دعویٰ خاصی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

تاہم، اس مبینہ ملاقات، اس کے وقت اور مندرجات کے حوالے سے اڈیالہ جیل انتظامیہ، وفاقی حکومت، تحریک انصاف کی باضابطہ قیادت يا عمران خان کے وکلاء کی جانب سے کوئی سرکاری یا باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر مکمل طور پر صحافی و وی لاگر اسد طور کی جانب سے کیے گئے دعوے پر مبنی ہے۔ اڈیالہ جیل میں رات گئے کسی ملاقات، اس میں شریک شخصیت یا طے پانے والے امور کی تاحال کسی بھی سرکاری، عدالتی یا باضابطہ ذرائع سے آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے، اس لیے اسے حتمی حقیقت کے بجائے ایک منسوب دعوے کے طور پر شائع کیا جا رہا ہے۔

ماخذ: اردو پوائنٹ، صحافی اسد طور کے بیانات/وی لاگ۔

سیاست چھوڑنے کے لیے 2023 کا دباؤ اپنی جگہ، مگر فیصلہ دباؤ سے 2 سال قبل کا تھا؛ کاشف عباسی سمیت دوستوں سے پہلے ہی ذکر کر چکا تھا: سابق وفاقی وزیر

کاشف عباسی , September 13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 ستمبر 2026ء

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق سیکرٹری جنرل اور سابق وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے عملی سیاست کو خیرباد کہنے کا بنیادی فیصلہ نومبر 2023ء میں نہیں بلکہ اگست 2021ء میں ہی کر لیا تھا، تاہم اس فیصلے کو عملی طور پر نافذ کرنے میں دو سال سے زائد کا عرصہ لگا۔

ایک حالیہ تفصیلی پوڈکاسٹ کے دوران اپنے سیاسی سفر اور فیصلوں پر گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر نے بتایا کہ عمومی طور پر یہی تاثر پایا جاتا ہے کہ انہوں نے نومبر 2023ء میں پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے بعد یکدم سیاست چھوڑنے کا فیصلہ کیا، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگست 2021ء میں وہ اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ وہ اب مزید عملی سیاست کا حصہ نہیں رہنا چاہتے اور اس فیصلے کا تذکرہ انہوں نے معروف صحافی کاشف عباسی سمیت اپنے انتہائی قابلِ اعتماد قریبی دوستوں سے بھی کیا تھا۔

اسد عمر نے پوڈکاسٹ کے دوران نومبر 2023ء کے واقعات اور اپنے استعفے کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے اعتراف کیا کہ اس وقت کے سیاسی حالات میں ان پر تحریک انصاف کو چھوڑنے کے لیے براہِ راست شدید سیاسی دباؤ موجود تھا، تاہم ان کے مطابق سیاست چھوڑنے کی بنیادی وجہ یا سوچ وہ دباؤ نہیں تھی کیونکہ وہ یہ ارادہ دو سال پہلے ہی مکمل کر چکے تھے۔

یاد رہے کہ اسد عمر تحریک انصاف کے مرکزی نظریاتی رہنماؤں میں شمار کیے جاتے تھے۔ وہ عمران خان کے دورِ حکومت میں ملک کے وفاقی وزیر برائے اسد عمر کے علاوہ وزیرِ خزانہ بھی رہے، اور بعد ازاں پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل کے اہم ترین عہدے پر فائز رہے۔ 9 مئی کے واقعات کے بعد انہوں نے نومبر 2023ء میں ایک پریس کانفرنس کے ذریعے تحریک انصاف کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دیتے ہوئے عملی سیاست سے مکمل کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔

سابق وفاقی وزیر نے اپنی گفتگو کے آخر میں کہا کہ نومبر 2023ء محض ان کے اس فیصلے کی باضابطہ اور عملی شکل تھی جس کی بنیاد 2021ء میں ہی رکھی جا چکی تھی۔ انہوں نے اس موقع پر پی ٹی آئی رہنماؤں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات اور ملکی سیاسی صورتحال پر بھی تفصیلی خیالات کا اظہار کیا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر سابق وفاقی وزیر اسد عمر کے حالیہ پوڈکاسٹ کے دوران دیے گئے بیانات اور ذاتی انکشافات کی روشنی میں مرتب کی گئی ہے۔ نومبر 2023ء میں ان کی جانب سے سیاست چھوڑنے کا اعلان ایک آن ریکارڈ عوامی واقعہ ہے، اور اس خبر میں ان کے مؤقف اور سابقہ فیصلوں سے متعلق بیانات کو انہی سے منسوب کر کے پیش کیا گیا ہے۔

ماخذ: پوڈکاسٹ انٹرویو (اسد عمر)، اردو پوائنٹ، دی نیشن۔

چین اعلیٰ سطحی کھلے پن کو وسعت دیتا رہے گا، گلوبل ساؤتھ کو مضبوط بنانے پر زور: شی جن پنگ

محمود احمد, September 13,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 13 ستمبر 2026ء

چینی صدر شی جن پنگ نے عالمی سطح پر یکطرفہ پالیسیوں اور ناہمواری کے مقابلے میں اعلیٰ سطحی معاشی کھلے پن کو وسعت دینے، گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو (GDI) پر تیز رفتار عملدرآمد اور اعلیٰ معیار کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI) کے تحت کثیرالجہتی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں جاری 18ویں برکس (BRICS) سربراہی اجلاس کے دوسرے مرحلے کے سیشن سے ویڈیو لنک اور باضابطہ خطاب کے دوران چینی صدر نے کہا کہ موجودہ دور میں عالمی معیشت، سیکیورٹی اور جغرافیائی سیاست کو خطرناک چیلنجز اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔ ان پیچیدہ عالمی مسائل کا حل نکالنے کے لیے برکس ممالک اور ‘گلوبل ساؤتھ’ (ترقی پذیر و ابھرتی ہوئی معیشتوں) کے درمیان اتحاد اور باہمی تعاون کا مضبوط ہونا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

شی جن پنگ نے اپنے خطاب میں بین الاقوامی قانون کی حکمرانی اور عالمی آئین کی پاسداری کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ برکس ممالک کو گلوبل ساؤتھ کی آواز بن کر تمام ریاستوں کی سلامتی، خودمختاری، مساوات اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے بنیادی اصولوں کی حفاظت کرنی ہوگی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ تنازعات کو جنگ کے بجائے صرف اور صرف پرامن سفارتی ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے۔

چینی صدر نے عالمی برادری میں بلاک پولیٹکس اور دوہرے معیارات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی قوانین، معاشی ضوابط اور انسان دوست اصولوں کا تمام ممالک پر یکساں اور بغیر کسی امتیازی سلوک کے اطلاق ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق عالمی مالیاتی اور سیاسی نظام میں انصاف، شفافیت اور مساوات لانے کے لیے ترقی پذیر ممالک کی یکجہتی کلیدی کردار ادا کرے گی۔

انہوں نے “گریٹر برکس تعاون” (Greater BRICS Cooperation) کے نئے فریم ورک کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اقتصادی، معاشی اور تجارتی شعبوں میں عملی شراکت داری کو بنیاد بنایا جائے۔ شی جن پنگ کے مطابق چین کی مسلسل معاشی پیش رفت اور کھلا پن دنیا کے دیگر تمام ممالک کے لیے ترقی کے مساوی اور نفع بخش مواقع فراہم کرتا رہے گا، جس کا مقصد گلوبل ساؤتھ میں پائیدار خوشحالی اور خود انحصاری کی نئی راہ بنانا ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ آرٹیکل نئی دہلی میں منعقدہ 18ویں برکس سربراہی اجلاس کے حاشیے پر چینی صدر شی جن پنگ کی کی گئی تقریر اور چینی وزارتِ خارجہ و سرکاری ذرائع ابلاغ کی جاری کردہ پریس ریلیز کی روشنی میں مرتب کیا گیا ہے۔ آرٹیکل میں پیش کردہ بیانات چینی حکومت کا باضابطہ سفارتی موقف ہیں۔

ماخذ:

چینی سرکاری خبر رساں ادارہ Xinhua، چینی وزارتِ خارجہ پریس ریلیز، عالمی خبر رساں ادارے

شہباز شریف اور محمد بن سلمان کا رابطہ، خطے میں امن کیلئے کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق

محمود احمد, September 13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 ستمبر 2026ء

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور سعودی عرب کے ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ٹیلی فون پر اہم گفتگو ہوئی ہے، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی درپیش سنگین صورتحال، بین الاقوامی سیکیورٹی خدشات اور خطے میں امن کے قیام کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم آفس اور سعودی سرکاری پریس ایجنسی کی تفصیلات کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کی شہری اور معاشی تنصیبات پر حوثی گروپ کی جانب سے کیے جانے والے حالیہ ڈرون اور بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب کی سیکیورٹی، معاشی بنیادی ڈھانچے اور خود مختاری پر ہونے والے یہ غیر ذمہ دارانہ حملے پورے خطے کے امن، استحکام اور عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔

گفتگو کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کے عوام اور حکومت کی جانب سے سعودی قیادت اور سعودی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں تناؤ کو کم کرنے اور جنگ کے خطرات کو ٹالنے کے لیے عسکری و سفارتی سطح پر مسلسل رابطہ کاری کر رہا ہے، اور اس سلسلے میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور عسکری قیادت بھی بین الاقوامی و علاقائی فریقین کے ساتھ متحرک ہیں۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کی بحالی اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی مسلسل سفارتی حمایت اور کردار کو سراہا۔ دونوں رہنماؤں نے تزویراتی شراکت داری اور دوطرفہ دفاعی معاہدو ں کے تناظر میں قریبی رابطے میں رہنے اور جلد بالمشافہ ملاقات کرنے پر بھی اتفاق کیا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد کے درمیان 13 ستمبر 2026ء کو ہونے والے ٹیلیفونک رابطے کے باضابطہ بیانات کی روشنی میں تیار کی گئی ہے۔ دونوں ممالک کے دفاعی و سفارتی دفاتر کشیدگی کے تدارک کے لیے مسلسل رابطے میں ہیں۔

ماخذ:

وزیراعظم آفس پاکستان (PMO)، سعودی پریس ایجنسی (SPA)، جیو نیوز پریس ریلیز

کم آمدن طبقے کے لیے بڑا معاشی ریلیف: حکومت کا موٹرسائیکلوں، رکشوں اور چھوٹی گاڑیوں کے لیے پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر سبسڈی کا اعلان

کاشف عباسی , September 13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 ستمبر 2026ء

حکومتِ پاکستان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیشِ نظر کم آمدن والے شہریوں، موٹرسائیکل مالکان، رکشہ ڈرائیوروں اور چھوٹی گاڑیوں کے استعمال کنندگان کے لیے پیٹرولیم مصنوعات پر 100 روپے فی لیٹر کے تاریخی اور بھاری مالی ریلیف پیکیج کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔

حکومتی ترجمان اور اقتصادی رابطہ کمیٹی کے حکام کے مطابق اس ‘ٹارگیٹڈ پیٹرول ریلیف پیکیج’ کا بنیادی مقصد ملک میں عام شہریوں، دیہاڑی داروں اور متوسط طبقے پر بڑھتے ہوئے معاشی بوجھ کو کم کرنا ہے۔ اس منصوبے کے تحت موٹرسائیکل سواروں، تھری ویلر رکشوں اور 800 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کو فی لیٹر پیٹرول کی موجودہ قیمت پر 100 روپے کی براہِ راست رعایت دی جائے گی۔

اس ریلیف پیکیج کے طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے مالیاتی حکام نے بتایا کہ اس رعایت کو شفاف بنانے اور امیر طبقے کے ناجائز فائدے کو روکنے کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے ڈیٹا بیس اور نادرا کے ڈیجیٹل سسٹم کو یکجا کیا گیا ہے۔ ریلیف حاصل کرنے کے لیے موٹرسائیکل اور رکشہ مالکان کو اپنے رجسٹرڈ موبائل نمبر سے ایک مخصوص ایس ایم ایس یا کیو آر کوڈ کے ذریعے پیٹرول پمپ پر سبسڈی کی سہولت فراہم کی جائے گی۔

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ اور ملکی سطح پر افراطِ زر کے باعث عام شہری کی قوتِ خرید شدید متاثر ہوئی ہے۔ تاہم، ناقدین اور معاشی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اتنی بڑی رعایت فراہم کرنے سے قومی خزانے پر ماہانہ اربوں روپے کا اضافی مالیاتی بوجھ پڑے گا، جس کو سنبھالنا حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہو گا۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ اس ریلیف پروگرام کے لیے فنڈز کی فراہمی بڑی گاڑیوں اور پرتعیش ایندھن کے استعمال کنندگان پر معمولی لیوی یا کراس سبسڈی کے ذریعے پوری کی جائے گی تاکہ عام آدمی کو بلاواسطہ ریلیف فراہم کیا جا سکے اور عام ٹرانسپورٹ کے کرائیوں میں بھی کمی لائی جا سکے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ آرٹیکل حکومتِ پاکستان کی جانب سے موٹرسائیکلوں اور چھوٹی گاڑیوں کے لیے پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر کی مجوزہ کراس سبسڈی کے اعلان سے متعلق ابتدائی تفصیلات کی روشنی میں تیار کیا گیا ہے۔ پیکیج کی حتمی تاریخِ نفاذ اور پمپ لیول پر عملدرآمد کے انتظامی طریقہ کار کے لیے وزارتی نوٹیفکیشن کا انتظار ہے۔

ماخذ: حکومتِ پاکستان کی پریس ریلیز، وزارتِ خزانہ پاکستان، قومی ذرائع ابلاغ کی ابتدائی اطلاعات

آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہاز کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا، آگ بھڑک اٹھی

محمود احمد, September 13,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 13 ستمبر 2026ء

آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک تجارتی بحری جہاز کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنائے جانے کے بعد جہاز میں شدید آگ بھڑک اٹھی، جبکہ حکام کی جانب سے عملے کے انخلا کی کارروائی کی گئی۔ واقعے نے خطے میں پہلے سے موجود بحری سکیورٹی خدشات کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO) کے مطابق اسے ہفتے کی رات ایک ایسے واقعے کی اطلاع ملی جس میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک تجارتی جہاز کو نامعلوم پروجیکٹائل لگا۔ اس کے نتیجے میں جہاز میں آگ بھڑک اٹھی اور مقامی حکام نے عملے کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کی کارروائی کی۔ واقعے میں جہاز کو پہنچنے والے نقصان اور ممکنہ ماحولیاتی اثرات کی مکمل تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔

واقعے کے ذمہ دار فریق کی فوری طور پر شناخت نہیں ہو سکی۔ اس لیے کسی ملک یا گروہ کو حملے کا ذمہ دار قرار دینا اس مرحلے پر قبل از وقت ہوگا۔ واقعے سے متعلق مزید تحقیقات اور سرکاری معلومات سامنے آنے کے بعد صورتحال زیادہ واضح ہو سکتی ہے۔

آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملانے والی انتہائی اہم بین الاقوامی سمندری گزرگاہ ہے۔ اس راستے کی اہمیت صرف علاقائی تجارت تک محدود نہیں بلکہ عالمی توانائی کی ترسیل اور سمندری تجارت کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔ اسی وجہ سے یہاں پیش آنے والا کوئی بڑا سکیورٹی واقعہ بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں، توانائی کی منڈیوں اور عالمی تجارتی سرگرمیوں کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔

بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن (IMO) بھی آبنائے ہرمز کی صورتحال کو مسلسل مانیٹر کر رہی ہے۔ تنظیم کے مطابق خطے میں جاری عدم استحکام نے ہزاروں بحری کارکنوں اور تجارتی جہازوں کی سلامتی کو متاثر کیا ہے۔ IMO نے آبنائے ہرمز میں محفوظ اور بلا رکاوٹ بحری آمدورفت کی اہمیت پر بھی زور دیا ہے۔

یہ تازہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ کئی ماہ کے دوران آبنائے ہرمز اور اس کے اردگرد تجارتی جہازوں کو متعدد سکیورٹی واقعات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ IMO کے مطابق 10 ستمبر 2026ء تک خطے میں متعدد تصدیق شدہ بحری واقعات ریکارڈ کیے جا چکے تھے، جن میں جہازوں کو نقصان اور بحری عملے کی ہلاکتیں بھی شامل ہیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر BBC News کی رپورٹ کی بنیاد پر اردو قارئین کے لیے مرتب اور ایڈیٹ کی گئی ہے۔ خبر کو مزید واضح بنانے کے لیے متعلقہ میری ٹائم معلومات اور دستیاب سرکاری حوالوں کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔ حملے کے ذمہ دار فریق، جہاز کو پہنچنے والے نقصان اور ممکنہ ماحولیاتی اثرات سے متعلق مزید مصدقہ معلومات سامنے آنے پر خبر کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔

ماخذ: BBC News، UKMTO، IMO

یمن میں جھڑپوں میں شدت، نیشنز شیلڈ فورسز کا 5 حوثی ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ

محمود احمد, September 13,2026

صنعاء (نیوز اینڈ نیوز) — 13 ستمبر 2026ء

یمن میں حکومتی فورسز اور حوثی گروپ کے درمیان جاری لڑائی میں شدت کے دوران نیشنز شیلڈ فورسز نے پانچ حوثی ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ حکومتی فورسز کی جانب سے حوثی ٹھکانوں اور عسکری تنصیبات کے خلاف فضائی کارروائیوں کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

تازہ اطلاعات کے مطابق نیشنز شیلڈ فورسز کی چھٹی بریگیڈ نے بتایا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے مغربی تعز کے علاقے الغبرہ میں جاری جھڑپوں کے دوران حوثی گروپ کے پانچ ڈرونز کو مار گرایا۔ یہ علاقہ الوازیعیہ محاذ کے قریب واقع ہے، جہاں حالیہ دنوں میں حکومتی فورسز اور حوثیوں کے درمیان لڑائی میں اضافہ ہوا ہے۔

یمنی حکومتی ذرائع کے مطابق اسی دوران فوجی طیاروں نے جنوب مغربی تعز کے الذباب محاذ پر واقع التبۃ السوداء اور جبل المنعم کے علاقوں میں حوثی پوزیشنوں اور بیرکوں کو بھی نشانہ بنایا۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائیوں میں عسکری سازوسامان اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا، جبکہ بعض حوثی جنگجوؤں کے ہلاک ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ تاہم ہلاکتوں کی حتمی تعداد جاری نہیں کی گئی۔

نیشنز شیلڈ فورسز کی جانب سے ڈرونز مار گرائے جانے کا دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن کے مختلف محاذوں پر کئی ہفتوں سے دوبارہ شدید لڑائی جاری ہے۔ حالیہ کشیدگی میں خاص طور پر مغربی ساحلی علاقوں اور تعز کے محاذوں کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔

یمن کی موجودہ صورتحال کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ مغربی ساحل کا علاقہ باب المندب کے قریب واقع ہے۔ باب المندب بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے درمیان ایک اہم بین الاقوامی بحری گزرگاہ ہے، اس لیے اس علاقے میں طویل عرصے تک جاری رہنے والی فوجی کشیدگی صرف یمن تک محدود نہیں رہتی بلکہ علاقائی سلامتی اور بین الاقوامی بحری تجارت کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔

یمن میں حالیہ لڑائی کے دوران دونوں جانب سے عسکری کارروائیوں اور علاقائی پیش قدمیوں کے دعوے سامنے آ رہے ہیں۔ نیشنز شیلڈ فورسز کی جانب سے پانچ ڈرونز مار گرائے جانے کے دعوے کے حوالے سے حوثی گروپ کا فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر دستیاب اطلاعات اور Anadolu Agency کی رپورٹ کی بنیاد پر اردو قارئین کے لیے مرتب اور ایڈیٹ کی گئی ہے۔ خبر میں مختلف فریقوں کے دعووں کو ان کے متعلقہ ذرائع سے منسوب کیا گیا ہے۔ عسکری کارروائیوں اور نقصانات سے متعلق مزید مصدقہ معلومات سامنے آنے پر خبر کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔

ماخذ: Anadolu Agency، یمنی حکومتی عسکری ذرائع

نئی دہلی میں بریکس اجلاس کے موقع پر ایران، روس، چین، مصر، انڈونیشیا اور قازقستان کے وزرائے خارجہ کی اہم ملاقات

محمود احمد, September 13,2026

نئی دہلی (نیوز اینڈ نیوز) — 13 ستمبر 2026ء

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں جاری 18ویں بریکس سربراہی اجلاس کے موقع پر ایران، روس، چین، مصر، انڈونیشیا اور قازقستان کے وزرائے خارجہ نے اہم گروپ ملاقات میں شرکت کی، جس میں عالمی و علاقائی صورتحال، اقتصادی تعاون اور بین الاقوامی سطح پر کثیرالجہتی سفارت کاری کے فروغ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایرانی ذرائع کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے نئی دہلی میں بریکس اجلاس کے دوران مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ متعدد ملاقاتیں اور مشاورت کی۔ ان رابطوں میں چین کے وزیر خارجہ وانگ یی اور مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی سمیت دیگر اہم سفارتی شخصیات کے ساتھ بات چیت شامل رہی۔

وزرائے خارجہ کی سطح پر ہونے والی یہ سفارتی سرگرمیاں ایسے وقت میں اہمیت رکھتی ہیں جب بریکس ممالک عالمی سیاسی اور اقتصادی نظام میں ابھرتی ہوئی معیشتوں کے کردار کو بڑھانے، کثیرالجہتی تعاون کو مضبوط کرنے اور بین الاقوامی اداروں میں اصلاحات کی حمایت پر زور دے رہے ہیں۔

18واں بریکس سربراہی اجلاس 12 اور 13 ستمبر 2026ء کو نئی دہلی میں منعقد ہو رہا ہے۔ بھارت رواں سال بریکس کی صدارت کر رہا ہے اور اجلاس کا مرکزی موضوع لچک، جدت، تعاون اور پائیدار ترقی کے ذریعے جامع عالمی ترقی کو فروغ دینا ہے۔

بریکس اب پہلے کے مقابلے میں ایک زیادہ وسیع پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ موجودہ مکمل رکن ممالک میں برازیل، روس، بھارت، چین، جنوبی افریقہ، مصر، ایتھوپیا، ایران، انڈونیشیا، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ قازقستان سمیت متعدد ممالک بریکس کے شراکت دار ممالک کے طور پر اس کے اجلاسوں میں شریک ہوتے ہیں۔

نئی دہلی اجلاس میں عالمی حکمرانی، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، خوراکی تحفظ، سپلائی چینز اور بین الاقوامی مالیاتی نظام سمیت متعدد اہم موضوعات زیر بحث ہیں۔ عالمی سطح پر جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث بریکس پلیٹ فارم پر ہونے والی سفارتی ملاقاتیں خاص اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔

اجلاس کے دوران بریکس رہنماؤں نے عالمی تنازعات کے سفارتی حل، کثیرالجہتی تعاون اور عالمی اداروں میں اصلاحات کے حوالے سے بھی اپنی ترجیحات کا اظہار کیا ہے۔ 12 ستمبر کو منظور کیے گئے نئی دہلی اعلامیے میں مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ تحمل اور سفارتی طریقہ کار پر زور دیا گیا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر دستیاب ایرانی اور بین الاقوامی رپورٹس کی بنیاد پر اردو قارئین کے لیے مرتب اور ایڈیٹ کی گئی ہے۔ خبر میں بریکس کے موجودہ رکن ممالک، شراکت دار ممالک اور نئی دہلی اجلاس کے اہم موضوعات کا پس منظر بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ قارئین کو سفارتی ملاقات کی اہمیت کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ مزید سرکاری معلومات سامنے آنے پر خبر کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔

ماخذ: ایرانی ذرائع، Anadolu Agency، بین الاقوامی رپورٹس

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ایران متحرک، عراق اور ترکی کے وزرائے خارجہ سے عراقچی کے اہم رابطے

منصور احمد,September 13,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 13 ستمبر 2026ء

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور علاقائی صورتحال کے تناظر میں ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان اور عراقی وزیر خارجہ فؤاد حسین سے الگ الگ ٹیلیفونک رابطے کیے ہیں۔ بات چیت میں دوطرفہ تعلقات، خطے کی تازہ صورتحال اور کشیدگی کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایرانی وزیر خارجہ اور ترک ہم منصب ہاکان فیدان کے درمیان ہونے والی گفتگو میں خطے کی تازہ صورتحال، جاری سفارتی رابطوں اور کشیدگی کو کم کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ دونوں جانب سے علاقائی بحران کے مزید پھیلاؤ کو روکنے اور سفارتی مشاورت جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

ترکی اور ایران کے درمیان یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب آبنائے ہرمز کی صورتحال، خطے میں جاری تنازع اور مختلف فریقوں کے درمیان سفارتی مذاکرات بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ ترک ذرائع کے مطابق فیدان اور عراقچی نے آبنائے ہرمز سے متعلق جاری رابطوں، خطے میں تنازع روکنے کے لیے مذاکرات اور سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے حملوں سمیت علاقائی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

دوسری جانب عباس عراقچی نے عراقی وزیر خارجہ فؤاد حسین سے بھی ٹیلیفون پر گفتگو کی۔ دونوں وزرائے خارجہ نے ایران اور عراق کے باہمی تعلقات، علاقائی صورتحال اور دونوں ممالک کی مشترکہ سرحد پر امن و استحکام سے متعلق امور کا جائزہ لیا۔

رپورٹس کے مطابق ایرانی اور عراقی وزرائے خارجہ نے مشترکہ سرحد پر سکیورٹی اور استحکام برقرار رکھنے کے لیے رابطہ کاری جاری رکھنے پر زور دیا۔ دونوں جانب سے علاقائی صورتحال کے حوالے سے ذمہ دارانہ مؤقف اختیار کرنے اور کشیدگی میں مزید اضافے اور تنازعات کے پھیلاؤ کو روکنے کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا گیا۔

ایران، عراق اور ترکی کے درمیان ہونے والی یہ سفارتی سرگرمیاں خطے میں بڑھتے ہوئے بحران کے دوران اہمیت رکھتی ہیں۔ عراق کی جغرافیائی حیثیت ایران، خلیجی خطے اور شام کے درمیان رابطے کے حوالے سے اہم ہے، جبکہ ترکی بھی علاقائی تنازعات کے سیاسی اور سفارتی حل کے لیے مختلف فریقوں سے رابطے میں ہے۔

تہران کی جانب سے انقرہ اور بغداد کے ساتھ بیک وقت سفارتی رابطوں کو خطے میں کشیدگی کو محدود رکھنے کی کوششوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم ان رابطوں کے نتیجے میں کسی فوری معاہدے یا بحران کے خاتمے کا اعلان نہیں کیا گیا، اس لیے ان سفارتی کوششوں کے عملی نتائج کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا ابھی قبل از وقت ہوگا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر دستیاب ایرانی، عراقی اور ترک ذرائع اور بین الاقوامی رپورٹس کی بنیاد پر اردو قارئین کے لیے مرتب اور ایڈیٹ کی گئی ہے۔ خبر میں مختلف فریقوں کے مؤقف کو ان کے متعلقہ ذرائع سے منسوب کیا گیا ہے۔ خطے کی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، اس لیے مزید سرکاری معلومات سامنے آنے پر خبر کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔

ماخذ: ایرانی و عراقی حکام، ترک سفارتی ذرائع، Anadolu Agency

حوثیوں کا سعودی عرب میں شرورہ فوجی اڈے پر میزائل اور ڈرون حملے کا دعویٰ

منصور احمد,September 13,2026

صنعاء (نیوز اینڈ نیوز) — 13 ستمبر 2026ء

یمن کے حوثی گروپ نے سعودی عرب کے جنوبی علاقے نجران میں واقع شرورہ فوجی تنصیب کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ حوثی فورسز کے مطابق کارروائی میں فوجی تنصیب کے اندر موجود بعض اہم اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

حوثی فوجی ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ کارروائی کے دوران بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کیا گیا۔ ان کے مطابق حملے کا ہدف شرورہ فوجی اڈے میں موجود عسکری تنصیبات اور دیگر اہم مقامات تھے۔

حوثی ترجمان نے مزید دعویٰ کیا کہ داغے گئے میزائل اور ڈرونز اپنے مقررہ اہداف تک پہنچے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی اور یہ بھی واضح نہیں کہ حملے سے فوجی تنصیب کو کس حد تک نقصان پہنچا۔

حوثیوں نے اپنے بیان میں اس کارروائی کو یمن میں جاری فوجی کارروائیوں کے ردعمل سے بھی منسلک کیا اور سعودی عرب کو مزید حملوں کی دھمکی دی۔ تاہم سعودی حکام کی جانب سے اس مخصوص حملے کے بارے میں کوئی ایسی آزادانہ تفصیل سامنے نہیں آئی جس سے حوثیوں کے دعوے کی مکمل تصدیق ہو سکے۔

سعودی عرب کا جنوبی علاقہ یمن کی سرحد سے متصل ہونے کی وجہ سے طویل عرصے سے دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی صورتحال میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ ماضی میں بھی یمن کے تنازع کے دوران سعودی سرزمین پر میزائل اور ڈرون حملوں کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، جس کے باعث سرحدی علاقوں اور اہم تنصیبات کی سکیورٹی ایک اہم علاقائی مسئلہ رہی ہے۔

حالیہ صورتحال میں کسی بھی نئے میزائل یا ڈرون حملے کی اطلاع نہ صرف سعودی عرب اور یمن بلکہ وسیع تر خلیجی خطے کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔ تاہم کسی حملے کے حجم، نقصان یا اس کے نتائج کے بارے میں حتمی معلومات کے لیے متعلقہ حکام یا قابل اعتماد آزاد ذرائع کی تصدیق ضروری ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر حوثی فوجی ترجمان کے بیان اور دستیاب بین الاقوامی رپورٹس کی بنیاد پر اردو قارئین کے لیے مرتب اور ایڈیٹ کی گئی ہے۔ خبر میں حوثی گروپ کے دعووں کو واضح طور پر دعوے کے طور پر پیش کیا گیا ہے کیونکہ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں۔ سعودی حکام کی جانب سے مزید معلومات سامنے آنے پر خبر کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔

ماخذ: حوثی فوجی ترجمان کا بیان، بین الاقوامی رپورٹس

امریکہ میں پہلی بار خصوصی دہشت گردی امیگریشن عدالت کے ذریعے افغان خاتون ملک بدر

محمود احمد, September 13,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 13 ستمبر 2026ء

امریکہ نے 1996ء میں قائم کی گئی خصوصی ایلین ٹیررسٹ ریموول کورٹ (Alien Terrorist Removal Court) کے ذریعے پہلی مرتبہ ایک مقدمہ نمٹاتے ہوئے افغان شہری اور امریکی مستقل رہائشی نظیرہ حاجی زادہ کو ملک بدر کر دیا ہے۔ تقریباً تین دہائیوں قبل قائم ہونے والی اس خصوصی عدالت کے ذریعے یہ پہلا کیس ہے جس میں عملی طور پر ملک بدری کی کارروائی مکمل ہوئی ہے۔

امریکی حکام کے مطابق 47 سالہ نظیرہ حاجی زادہ قانونی مستقل رہائشی، یعنی گرین کارڈ ہولڈر تھیں۔ حکومت نے ان پر داعش سے وابستگی اور اپنے خاندان کے بعض افراد کو شدت پسندانہ نظریات کی طرف مائل کرنے سے متعلق الزامات عائد کیے تھے، تاہم ان کے خلاف عام فوجداری مقدمے میں دہشت گردی کا الزام عائد نہیں کیا گیا تھا۔

یہ مقدمہ اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ ایلین ٹیررسٹ ریموول کورٹ تقریباً 30 سال تک کسی مقدمے کی سماعت کے بغیر موجود رہی۔ عدالت کو 1996ء میں ایسے غیر ملکی شہریوں کی ملک بدری کے معاملات سے نمٹنے کے لیے قائم کیا گیا تھا جن کے بارے میں امریکی حکومت دہشت گردی یا قومی سلامتی سے متعلق حساس شواہد پیش کرنا چاہتی ہو۔

اس عدالت کے طریقہ کار میں خفیہ یا classified معلومات کا استعمال ایک اہم قانونی مسئلہ ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ بعض حساس معلومات کو عوامی سطح پر یا ملزم کے سامنے مکمل طور پر ظاہر نہیں کیا جا سکتا، جبکہ دفاعی وکلاء نے مؤثر دفاع کے حق اور خفیہ شواہد تک رسائی کے حوالے سے سوالات اٹھائے ہیں۔ اسی وجہ سے یہ مقدمہ امیگریشن قانون کے ساتھ ساتھ آئینی اور due process کے مباحث کا بھی مرکز بن گیا ہے۔

مقدمے سے متعلق دستیاب معلومات کے مطابق امریکی حکومت نے حاجی زادہ کے خاندان کے بعض افراد کو داعش سے متاثر منصوبے سے جوڑا ہے۔ حکام کے مطابق ان کے بیٹے اور داماد پر 2024ء کے امریکی صدارتی انتخابات کے روز ایک پرتشدد حملے کی منصوبہ بندی سے متعلق مقدمہ چلا اور انہیں سزا سنائی گئی۔ تاہم حاجی زادہ کے اپنے خلاف الزامات کی نوعیت فوجداری سزا کے بجائے امیگریشن اور قومی سلامتی کے قانونی دائرے میں رہی۔

دفاعی وکلاء نے عدالت کے طریقہ کار پر اعتراض کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی مؤکلہ کے خلاف پیش کیے گئے بعض شواہد مکمل طور پر دستیاب نہیں تھے۔ ان کے مطابق خفیہ شواہد پر مبنی کارروائی میں مؤثر دفاع کے آئینی حق سے متعلق اہم سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی عدالت کے دوبارہ فعال ہونے اور classified evidence کے استعمال کے حوالے سے due process کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔

اس مقدمے کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ اس نے تقریباً تین دہائیوں سے غیر فعال خصوصی عدالت کو عملی طور پر دوبارہ توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ آئندہ اس عدالت کے طریقہ کار اور خفیہ شواہد کے استعمال سے متعلق قانونی فیصلے امریکہ میں قومی سلامتی اور تارکین وطن کے آئینی حقوق کے درمیان توازن کے حوالے سے اہم مثال بن سکتے ہیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر امریکی حکام کے بیانات اور دستیاب بین الاقوامی و قانونی رپورٹس کی بنیاد پر اردو قارئین کے لیے مرتب اور ایڈیٹ کی گئی ہے۔ خبر میں امریکی حکومت کے الزامات کو حتمی عدالتی طور پر ثابت شدہ حقائق کے طور پر پیش نہیں کیا گیا اور دفاعی وکلاء کے قانونی اعتراضات کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ معاملے کا دونوں پہلوؤں سے متوازن پس منظر سامنے آ سکے۔

ماخذ: امریکی حکام، Lawfare، Human Rights Watch اور بین الاقوامی رپورٹس

ایرانی عہدیدار کی امریکہ کو آبنائے ہرمز سے متعلق سخت تنبیہ، امریکی بحری جہازوں کو خبردار کرنے کا دعویٰ

محمود احمد, September 13,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 13 ستمبر 2026ء

ایران کی پاسدارانِ انقلاب اسلامی (IRGC) سے وابستہ ایک سینیئر بحری عہدیدار نے امریکہ کو آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں ممکنہ فوجی نقل و حرکت کے حوالے سے سخت تنبیہ کی ہے۔ ایرانی عہدیدار کے مطابق اگر امریکی بحری جہاز ایرانی ساحلی حدود کے قریب آنے کی کوشش کرتے ہیں تو ایران اس کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔

ایرانی میڈیا میں نشر ہونے والی اطلاعات کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے نائب سیاسی افسر علی محمدی نے مشہد میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے امریکی حکومت کو آبنائے ہرمز کے معاملے پر خبردار کیا۔ انہوں نے امریکی بحری جہازوں کی ایرانی ساحلی حدود کے قریب ممکنہ موجودگی کو ایران کے لیے حساس معاملہ قرار دیا۔

علی محمدی نے اپنے خطاب میں دعویٰ کیا کہ امریکی فوجی قیادت ایران کی جانب سے کسی بھی ممکنہ ردعمل سے آگاہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حالیہ دنوں میں خطے میں بعض واقعات ایران کی عسکری صلاحیت اور نگرانی کی صلاحیت کا عملی مظاہرہ کر چکے ہیں، تاہم انہوں نے ان دعوؤں کے حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

ایرانی عہدیدار نے خلیج فارس، بحیرہ عمان اور آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت کے حوالے سے بھی سخت مؤقف اختیار کیا۔ ان کے مطابق ایران خطے میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھتا ہے اور ممکنہ خلاف ورزیوں کی صورت میں متعلقہ قواعد کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کویت اور بحرین کی بندرگاہوں سے روانہ ہونے والے بحری جہازوں کی نگرانی سے متعلق بھی دعویٰ کیا۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہو سکی، اس لیے انہیں ایرانی عہدیدار کے بیان کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔

آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے۔ یہ خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے اور عالمی توانائی کی ترسیل میں اس کا اہم کردار ہے۔ اسی وجہ سے اس علاقے میں ایران اور امریکہ کے درمیان کسی بھی فوجی کشیدگی سے عالمی شپنگ، توانائی کی قیمتوں اور علاقائی سکیورٹی پر وسیع اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے سخت بیانات ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں جب خطے میں بحری سکیورٹی اور فوجی نقل و حرکت پہلے ہی بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ تاہم ایرانی عہدیدار کے بیان سے کسی نئی فوجی کارروائی یا امریکی بحری جہاز کے خلاف عملی اقدام کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر ایرانی ذرائع میں شائع ہونے والے بیانات کی بنیاد پر اردو قارئین کے لیے مرتب اور ایڈیٹ کی گئی ہے۔ خبر میں ایرانی عہدیدار کے دعووں کو واضح طور پر ان کے بیان کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور جن معلومات کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں، انہیں حتمی حقیقت کے طور پر بیان نہیں کیا گیا۔ خطے کی صورتحال میں مزید پیش رفت سامنے آنے پر خبر کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔

ماخذ: ایرانی میڈیا رپورٹس

کراچی ایئرپورٹ سے عمرہ زائرین کے لیے ڈیجیٹل ویکسینیشن سرٹیفکیٹ لازمی قرار

محمود احمد, September 12,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 12 ستمبر 2026ء

کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب جانے والے مسافروں کے لیے نادرا کا ڈیجیٹل ویکسینیشن سرٹیفکیٹ لازمی قرار دیا گیا ہے۔ متعلقہ حکام کے مطابق نئی شرط کا اطلاق 14 ستمبر 2026ء سے عمرہ زائرین پر ہوگا۔

فیڈرل ایئرپورٹ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے فوکل پرسن ڈاکٹر سید مرتضیٰ شاہ بخاری نے ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کراچی ایئرپورٹ سے عمرہ کے لیے روانہ ہونے والے مسافروں کو مطلوبہ ویکسینیشن کا نادرا سے جاری کردہ ڈیجیٹل سرٹیفکیٹ پیش کرنا ہوگا۔

حکام کے مطابق عمرہ زائرین کے لیے پولیو، گردن توڑ بخار (میننجائٹس)، یلو فیور اور انفلوئنزا سے متعلق ویکسینیشن کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ فیڈرل گورنمنٹ سول ڈسپنسری کو ان ویکسینیشن سہولیات کے لیے مجاز مرکز مقرر کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر مرتضیٰ شاہ نے وضاحت کی کہ اس شرط کو تمام بین الاقوامی مسافروں پر عائد عمومی پابندی سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق موجودہ ہدایات کا تعلق خاص طور پر عمرہ زائرین سے ہے، جبکہ دیگر بین الاقوامی مسافروں کے لیے ویکسینیشن کی شرائط ان کے سفر کے ملک اور متعلقہ صحت کے ضوابط کے مطابق مختلف ہو سکتی ہیں۔

حکام کے مطابق کراچی کے بعد اس نظام کو مرحلہ وار ملک کے دیگر بڑے ہوائی اڈوں، جن میں پشاور، اسلام آباد اور لاہور شامل ہیں، تک توسیع دی جا سکتی ہے۔ عمرہ زائرین کے بعد حج پر جانے والے مسافروں کے لیے بھی ویکسینیشن اور سرٹیفکیٹ سے متعلق ضوابط نافذ کیے جانے کی بات کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ یلو فیور سے متعلق بھی مخصوص سفری تقاضے موجود ہیں۔ حکام کے مطابق افریقہ، وسطی اور جنوبی امریکہ کے بعض ممالک سے پاکستان آنے والے، یا ان علاقوں میں طویل ٹرانزٹ کرنے والے مسافروں کو پاکستان میں داخلے کے وقت یلو فیور ویکسینیشن کا سرٹیفکیٹ پیش کرنا پڑ سکتا ہے۔

حکام نے ایسے عمرہ زائرین کو بھی پیشگی تیاری کی ہدایت کی ہے جن کے پاس مطلوبہ سرٹیفکیٹ موجود نہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق ایسے مسافروں کے لیے ایئرپورٹ پر ہیلتھ کاؤنٹرز کے ذریعے ویکسینیشن کی سہولت فراہم کرنے کا انتظام کیا جا رہا ہے، تاہم مسافروں کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ سفر سے پہلے اپنی مطلوبہ ویکسینیشن اور سرٹیفکیٹ کی ضروریات مکمل طور پر چیک کر لیں۔

ایئرپورٹ حکام کی جانب سے ایئر لائنز اور متعلقہ ٹریول ایجنٹس کو بھی نئی ہدایات سے آگاہ کیے جانے کی اطلاعات ہیں تاکہ عمرہ زائرین کے سفری دستاویزات اور صحت سے متعلق تقاضوں کی بروقت جانچ کی جا سکے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر فیڈرل ایئرپورٹ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے فوکل پرسن کے بیان اور دستیاب میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر اردو قارئین کے لیے مرتب اور ایڈیٹ کی گئی ہے۔ چونکہ سفری اور ویکسینیشن کے ضوابط وقتاً فوقتاً تبدیل ہو سکتے ہیں، مسافروں کو روانگی سے قبل متعلقہ حکام، ایئر لائن اور ٹریول ایجنسی سے تازہ ترین تقاضوں کی تصدیق کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔

ماخذ: فیڈرل ایئرپورٹ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ، میڈیا رپورٹس

ہم قائد اعظم کے پاکستان میں آئے تھے، بھٹو کے پاکستان میں دھکیل دیا گیا: کراچی میں خالد مقبول صدیقی کا پرزور خطاب

محمود احمد, September 12,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 12 ستمبر 2026ء

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ ان کے آباؤ اجداد ہجرت کر کے بابائے قوم قائد اعظم کے تصور کردہ پاکستان میں آئے تھے، تاہم بدقسمتی سے انہیں بھٹو کے نفاذ کردہ پاکستان میں دھکیل دیا گیا۔

ہفتے کے روز کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان خالد مقبول صدیقی نے واضح کیا کہ ہماری دھرتی ماں صرف اور صرف پاکستان ہے، جبکہ صوبے محض اور محض انتظامی یونٹس کی حیثیت رکھتے ہیں اور اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ صوبوں کی انتظامی تقسیم کو غداری قرار دینا خود سب سے بڑی غداری کے مترادف ہے، اور آج ملک کی دیگر تمام سیاسی جماعتیں بھی ان کے اس مؤقف سے آواز ملا رہی ہیں۔

خالد مقبول صدیقی نے سندھ کے شہری علاقوں کے معاشی و سیاسی استحصال کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (اے پی ایم ایس او) کے بنیادی منشور میں جن انتظامی صوبوں کا تذکرہ کیا گیا تھا، آج وہ پکار پورے ملک کی مشترکہ آواز بن چکی ہے۔ انہوں نے ایم کیو ایم کے اولین مطالبے کو دہراتے ہوئے کہا کہ پورے پاکستان میں آبادی کے تناسب سے نئے انتظامی صوبے تشکیل دیے جانے چاہئیں۔

انہوں نے حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے شہری علاقوں کے لیے الگ صوبہ قائم کر دیا جائے، مقامی حکومتوں سے متعلق آئین کا آرٹیکل 140 اے ایم کیو ایم خود نافذ کر کے دکھا دے گی۔ انہوں نے گلہ کیا کہ سندھ اسمبلی میں انہیں ‘سندھو دیش’ کے خلاف باقاعدہ قرارداد پیش نہیں کرنے دی گئی، حالانکہ موجودہ دور میں نئے انتظامی صوبوں کی ضرورت کو ثابت کرنے کے لیے کسی لمبی اور پیچیدہ دلیل کی حاجت نہیں رہی۔

شفاف مردم شماری کے مطالبات کا ذکر کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ریاست پہلے شفاف مردم شماری مکمل کروائے اور اس کی روشنی میں ایمانداری پر مبنی ووٹر فہرستیں تیار کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ آج اکیلے کراچی کی حقیقی آبادی 2 کروڑ سے کہیں زائد ہے، اور طنزاً کہا کہ جو ریاست درست مردم شماری نہ کرا سکے وہ کم از کم مردم شناسی کا عمل ہی مکمل کر لے۔