یمن جنگ میں ڈرامائی موڑ: تعز اور بحیرہ احمر کی ساحلی پٹی پر حوثی مخالف فورسز کا بڑا جوابی حملہ، متعدد اسٹریٹجک پوزیشنز دوبارہ حاصل

محمود احمد, September 14,2026

تعز (نیوز اینڈ نیوز) — 14 ستمبر 2026ء

یمن میں آئینی حکومت کی حامی فورسز نے بحیرہ احمر کے انتہائی اہم اسٹریٹجک ساحلی علاقوں اور تعز کے مرکزی محاذوں پر حوثی جنگجوؤں کے خلاف ایک بڑا جوابی عسکری آپریشن شروع کر دیا ہے۔ صدارتی قیادت کونسل کی کمان میں پیش قدمی کرتے ہوئے حکومتی فورسز نے تعز کے متعدد علاقوں کا کنٹرول دوبارہ سنبھالنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ مغربی ساحل پر حوثی ٹھکانوں پر شدید فضائی حملے کیے گئے ہیں۔

استنبول سے شایع ہونے والے یمنی میڈیا اور اناطولو ایجنسی کے مطابق، صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد محمد العلیمی نے تصدیق کی ہے کہ فورسز نے گزشتہ چند دنوں کے دوران حوثیوں کی پیش قدمی کو ناکام بناتے ہوئے جنوبی اور مغربی تعز میں اہم کامیابی حاصل کی ہے۔ العلیمی نے واضح کیا کہ تعز کے ساتھ ساتھ مأرب، الجوف، البیضاء اور الضالع کے محاذوں پر بھی کارروائیاں مکمل طاقت سے جاری رکھی جائیں گی۔

مغربی تعز اور جرداد میں اہم پیش قدمی:

یمنی فوج کے ذرائع اور بین الاقوامی پریس ایجنسیوں نے رپورٹ کیا ہے کہ فورسز نے الشمایتین ضلع اور جرداد کے علاقوں سے حوثیوں کو پیچھے دھکیلتے ہوئے ‘غیل بنی عمر’ کی جانب پیش قدمی کی۔ اس سے قبل الکدحہ کے محاذ پر ‘المکازمہ’ اور ‘المہال’ کی اہم فوجی پوزیشنز کو حوثیوں کے قبضے سے واگزار کرایا گیا۔

ان خشکی کے آپریشنز کو سعودی عرب کے جنگی طیاروں کی شدید فضائی پشت پناہی حاصل تھی۔ رپورٹ کے مطابق فضائی بمباری کے نتیجے میں حوثیوں کے کئی گڑھ اور عسکری کمانڈ سینٹرز تباہ کر دیے گئے ہیں۔

باب المندب اور بحیرہ احمر کے ساحل پر تناؤ:

مغربی یمن کا ساحلی علاقہ اور خاص طور پر آبنائے ‘باب المندب’ کے قریب واقع ‘ذباب’ کا خطہ اس وقت سخت فوجی تصادم کا مرکز بنا ہوا ہے۔ العربیہ اور یمنی عسکری ذرائع کے مطابق حوثیوں کی جانب سے عالمی بحری تجارت کی گزرگاہوں کے قریب پوزیشنز مضبوط کرنے کی کوششوں کے جواب میں وہاں قائم حوثی ٹھکانوں پر طیاروں سے نشانہ بنایا گیا۔

تعز کا علاقہ جغرافیائی اور سیاسی لحاظ سے یمن میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ نہ صرف یمن کے جنوب مغرب کا کلیدی دروازہ ہے بلکہ اس کا کنٹرول بحیرہ احمر اور باب المندب کی بین الاقوامی جہاز رانی پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔

انسانی بحران اور نقل مکانی میں اضافہ:

حالیہ شدید لڑائی اور بمباری کے نتیجے میں مقامی آبادی کو ایک بار پھر سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اقوام متحدہ اور امدادی اداروں کے مطابق تعز اور مغربی ساحل سے شہریوں کی ایک بڑی تعداد محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی پر مجبور ہوئی ہے، جس سے پہلے ہی بدترین انسانی بحران کا شکار یمن میں خوراک اور ادویات کی ضروریات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خصوصی رپورٹ یمن سے جاری کردہ عسکری بریفنگز، صدارتی قیادت کونسل کے باضابطہ بیانات، ترکیہ کی سرکاری ایجنسی اناطولو، اور بین الاقوامی عرب نیوز نیٹ ورکس کی معتبر اطلاعات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمارے ایڈیٹوریل فریم ورک کے مطابق تیار کی گئی ہے۔

ماخذ: صبا نیوز ایجنسی (SABA)، بلقیس نیٹ ورک، اناطولو ایجنسی، العربیہ نیوز ڈیسک۔

خلیجی خطے اور بحیرہ احمر میں ڈرامائی کشیدگی: یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈر لیئن کا خلیجی ممالک کی مکمل حمایت کا اعلان

برسلز (نیوز اینڈ نیوز) — 14 ستمبر 2026ء

مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال اور یمن میں حوثی جنگجوؤں کی حالیہ عسکری پیش قدمی کے پیشِ نظر یورپی یونین نے اپنے خلیجی شراکت داروں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈر لیئن (Ursula von der Leyen) نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے اہم بیان میں خلیجی خطے میں ایرانی حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے حملوں کی پرزور الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ یورپی یونین اس بحرانی کیفیت میں اپنے خلیجی اتحادیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے، کیونکہ اس خطے کے امن و استحکام اور عالمی سلامتی میں یورپ سمیت پوری دنیا کے مفادات وابستہ ہیں۔

بحیرہ احمر اور عالمی تجارت پر بڑھتے ہوئے خطرات:

یورپی کمیشن کی صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن میں حوثی گروپ اور سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں یکدم شدید تیزی آئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق حوثی جنگجوؤں نے کئی اہم محاذوں پر پیش قدمی کرتے ہوئے مخالف فورسز کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔

اس پیش قدمی نے بحیرہ احمر (Red Sea) اور بالخصوص اہم ترین تجارتی بحری گزرگاہ ‘آبنائے باب المندب’ کی سلامتی کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ یورپی ممالک کے لیے یہ صورتحال انتہائی حساس ہے، کیونکہ بحیرہ احمر کے راستے سے ہی یورپ اور ایشیا کے درمیان اربوں ڈالر کا بین الاقوامی تجارتی سامان اور خام تیل منتقل ہوتا ہے۔

تہران کا موقف اور متضاد دعوے:

دوسری جانب ایران کی جانب سے مسلسل ان الزامات کی تردید کی جا رہی ہے۔ تہران کا موقف ہے کہ وہ یمن میں حوثی گروپ کی عسکری کارروائیوں کی براہِ راست ہدایت کاری یا کنٹرول نہیں کرتا۔ تاہم عالمی برادری اور یورپی یونین خطے میں مسلح گروہوں کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں پر مسلسل تہران کو ذمہ دار گردانتے ہیں۔

انسان دوست بحران اور بین الاقوامی تشویش:

عسکری پیش قدمی کے ساتھ ساتھ یمن میں انسانی بحران ایک بار پھر شدت اختیار کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے اداروں کے مطابق تازہ ترین لڑائی اور تصادم کے نتیجے میں ہزاروں مقامی افراد اپنے گھروں سے بے دخل ہو کر نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں، جس سے متاثرہ علاقوں میں انسانی امداد اور ادویات کی ضرورت میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے۔

بین الاقوامی معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر بحیرہ احمر کی گزرگاہوں پر کشیدگی برقرار رہتی ہے تو اس سے عالمی سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے اور توانائی و اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں نیا اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر یورپی کمیشن برسلز کے آفیشل ہینڈل، پریس بریفنگز، اقوام متحدہ کے یمن کے لیے انسانی امدادی سیل اور عالمی خبر رساں اداروں کی بین الاقوامی رپورٹس کی روشنی میں ہمارے پالیسی فریم ورک کے مطابق مرتب کی گئی ہے۔

ماخذ: یورپی کمیشن برسلز میڈیا سیل، رائٹرز، اقوام متحدہ (UN) یمن ڈیسک۔

گھریلو ماحول میں بیوی کی غیر فطری موت: شوہر پر حالات کی وضاحت کا قانونی بوجھ منتقل ہو سکتا ہے، سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ

کاشف عباسی , September 14,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 14 ستمبر 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے گھریلو تشدد اور بند کمرے میں بیوی کے قتل کے مقدمات سے متعلق ایک انتہائی اہم اور جدید قانونی پیش رفت میں قرار دیا ہے کہ اگر استغاثہ (Prosecution) شواہد کی مدد سے بنیادی حالات و واقعات کو ثابت کر دے، تو گھر کے اندر بیوی کی غیر فطری موت کے اسباب و حالات کی وضاحت کرنے کی تمام تر قانونی ذمہ داری شوہر پر منتقل ہو سکتی ہے۔

جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے جیل پٹیشن نمبر 41/2023 پر فیصلہ سناتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا اور مقتولہ عقیلہ بی بی کے شوہر، مجرم حبیب اللہ کی سزا کے خلاف اپیل کو یکسر مسترد کر دیا۔

مقدمے کے چونکا دینے والے حقائق اور 7 سالہ فرار:

یہ کیس 14 ستمبر 2011ء کو کراچی میں پیش آنے والے دلخراش واقعے سے متعلق ہے، جہاں عقیلہ بی بی کو ان کے اپنے گھر کے کمرے میں شدید زخمی اور مردہ حالت میں پایا گیا تھا۔ سندھ ہائی کورٹ کے ریکارڈ کے مطابق مقتولہ کے سر پر ہتھوڑے جیسے بھاری اور کند آلے سے بدترین ضربات لگائی گئی تھیں۔ واقعے کے بعد مجرم حبیب اللہ اپنے بچوں کو چھوڑ کر موقع سے فرار ہو گیا اور تقریباً سات سال تک روپوش رہنے کے بعد 26 فروری 2018ء کو گرفتار ہوا۔

مقدمے میں مقتولہ کی کمسن بیٹی کی گواہی مرکزی ثابت ہوئی۔ بیٹی نے عدالت کو بتایا کہ واقعے سے قبل والدین میں شدید تنازع چل رہا تھا اور قتل کی رات اس کے والد گھر میں ہتھوڑا لے کر آئے تھے۔ اگرچہ بیٹی نے ہتھوڑا مارتے ہوئے براہِ راست نہیں دیکھا، تاہم رات کو کمرے میں دونوں کا موجود ہونا اور اگلی صبح ماں کی ہتھوڑے سے مسخ شدہ لاش ملنا ان تمام حالات کو ایک ناقابلِ تردید کڑی میں جوڑتا ہے۔

قانونِ شہادت کے آرٹیکل 122 اور 129 کا اطلاق:

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قانونِ شہادت کے آرٹیکل 122 کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ جو حقیقت کسی شخص کے “خاص علم” (Special Knowledge) میں ہو، اس کی وضاحت اور ثبوت کی ذمہ داری بھی اسی پر عائد ہوتی ہے۔ چونکہ گھریلو اور نجی ماحول میں وقوع پذیر ہونے والے جرائم میں بلاواسطہ یا چشم دید گواہ عام طور پر میسر نہیں ہوتے، اس لیے شوہر کا یہ فرض ہے کہ وہ بتائے کہ اس کی موجودگی میں یا بند کمرے میں اس کی اہلیہ کی موت کیسے واقع ہوئی۔

علاوہ ازیں، عدالت نے آرٹیکل 129 کے تحت مجرم کے بعد از وقوعہ طرزِ عمل کو بھی قانونی طور پر منفی قرین حیات قرار دیا۔ عدالت نے کہا کہ پولیس کو اطلاع دینے، بچوں کا سہارا بننے یا بیوی کی تدفین میں شریک ہونے کے بجائے 7 سال تک مفرور رہنا مجرم کے گناہ گار ہونے کی واضح نشاندہی کرتا ہے۔

تفتیش کاروں کی غفلت اور اہم ہدایات:

سپریم کورٹ نے سندھ پولیس کے تفتیشی افسر (IO) کی سنگین غفلت پر شدید برہمی کا اظہار کیا، جس نے جائے وقوعہ سے خون آلود ہتھوڑا اور چادر برآمد کرنے کے باوجود انہیں مال خانے یا سائنسی ثبوت کے طور پر عدالت میں پیش ہی نہیں کیا۔ اعلیٰ عدالت نے قرار دیا کہ محض ناقص تفتیش کی بنا پر کسی مجرم کو ریلیف نہیں دیا جا سکتا۔

عدالت نے خواتین کے خلاف تشدد اور قتل جیسے مقدمات کی تفتیش کرنے والے پولیس اہلکاروں کی صنفی حساسیت (Gender Sensitivity) اور جدید سائنسی تربیت پر زور دیا، نیز یہ ہدایت کی کہ تفتیش میں غفلت برتنے والے افسران کا سخت احتساب کیا جائے۔ عدالت نے عورت کا کردار مسخ کر کے تشدد کو جواز فراہم کرنے کی سماجی سوچ پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ رپورٹ سپریم کورٹ آف پاکستان کے دو رکنی بینچ کے باضابطہ قانونی فیصلے، سندھ ہائی کورٹ کے ریکارڈ، قانونِ شہادت کے قوانین اور ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (APP) کی پریس رپورٹ کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔

ماخذ: سپریم کورٹ آف پاکستان (جیل پٹیشن 41/2023 ججمنٹ)، اے پی پی (APP)، سندھ ہائی کورٹ ڈیسک۔

اسلام آباد میں ڈینگی کے خلاف ہیلتھ ایمرجنسی جیسے اقدامات: ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس نے ہاٹ سپاٹس پر نگرانی کا نظام اور کریک ڈاؤن تیز کر دیا

روزینہ اسماعیل, September 14,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 14 ستمبر 2026ء

وفاقی دارالحکومت میں موسمِ گرما کے اختتام اور ستمبر کی بارشوں کے بعد ڈینگی وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس (DHO) اسلام آباد نے حساس علاقوں اور ہاٹ سپاٹس پر انسدادی کارروائیوں کا دائرہ کار انتہائی وسیع اور ہائی الرٹ کر دیا ہے۔

محکمہ صحت کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، رواں برس یکم جنوری سے 13 ستمبر 2026ء تک اسلام آباد کی حدود میں ڈینگی کے مجموعی طور پر 6 کیسز باضابطہ طور پر رپورٹ ہوئے ہیں۔ رپورٹ شدہ کیسز میں سے 3 کا تعلق وفاقی دارالحکومت کے دیہی علاقوں سے ہے جبکہ 3 کیسز شہری سیکٹرز سے سامنے آئے ہیں۔ اگرچہ کیسز کی تعداد فی الوقت کنٹرول میں ہے، تاہم ممکنہ لہر سے نپٹنے کے لیے فیلڈ انسپکشنز کو کئی گنا بڑھا دیا گیا ہے۔

ایک ہفتے کے دوران 2 لاکھ 89 ہزار سے زائد کارروائیاں:

ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس کے مطابق 7 ستمبر سے 13 ستمبر کے دوران ویکٹر برن ڈیزیز کنٹرول ٹیموں نے شہر کے مختلف حصوں میں مجموعی طور پر 289,197 نگرانی اور ڈینگی کنٹرول کی سرگرمیاں انجام دیں۔ اس بڑے آپریشن کے دوران گھروں کے اندر اور باہر مچھروں کی موجودگی، نالیوں، کھلی جگہوں اور کنٹینرز کی تفصیلی جانچ کی گئی۔ فیلڈ ٹیموں نے ویکٹر سرویلنس کے تحت 58,859 گھروں کا سائنسی جائزہ لیا اور ڈینگی کے حوالے سے انتہائی حساس قرار دیے گئے 7,057 ہاٹ سپاٹس کا معائنہ کیا۔

ان فیلڈ آپریشنز کے دوران ہیلتھ ٹیموں نے مچھروں اور بالخصوص ڈینگی لاروا کی افزائش سے متعلق 9,427 مثبت سائٹس کی نشاندہی کی اور کیمیکل اسپرے و لاروا سائیڈل ادویات کے استعمال کے ذریعے ان گاہوں کو فوری طور پر تلف کر دیا۔

عوامی صفائی اور شہریوں سے اپیل:

محکمہ صحت کے حکام نے واضح کیا ہے کہ کارروائیوں کا بنیادی مقصد مچھر کی افزائش کو انڈے اور لاروا کے مرحلے پر ہی روکنا ہے تاکہ ڈینگی بخار کے پھیلاؤ کا رسک صفر کیا جا سکے۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس نے شہریوں سے زور دے کر اپیل کی ہے کہ وہ فیلڈ میں موجود ہیلتھ ورکرز سے تعاون کریں اور گھروں کے صحن، چھتوں، گملوں، فریج کی ٹرے اور پانی کی ٹینکیوں کی باقاعدگی سے صفائی کریں۔ بارش کا پانی جمع نہ ہونے دینا اور پانی ذخیرہ کرنے والے برتنوں کو ڈھانپ کر رکھنا ڈینگی کی روک تھام کا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ تفصیلی رپورٹ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس (DHO) اسلام آباد کے ہفتہ وار سرویلنس بلیٹن اور محکمہ صحت کے باضابطہ اعداد و شمار کی روشنی میں ہمارے ایڈیٹوریل فریم ورک کے مطابق مرتب کی گئی ہے۔

ماخذ: ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس (DHO) اسلام آباد ڈینگی کنٹرول سیل، قومی خبر رساں ادارہ (APP)۔

فیفا کے تجارتی ماڈل پر بڑا حملہ: FIFPRO Europe نے FFE منصوبے پر رپورٹ جاری کرتے ہوئے عالمی فٹ بال کی گورننس میں ہنگامی اصلاحات کا مطالبہ کر دیا

محمود احمد, September 14,2026

زیورخ (نیوز اینڈ نیوز) — 14 ستمبر 2026ء

عالمی فٹ بال کی انتظامی باڈی ‘فیفا’ (FIFA) کے فیصلوں، تجارتی ماڈل اور فیصلہ سازی کے طریقہ کار پر یورپ کی بڑی کھلاڑی یونین نے ایک بار پھر سخت سوالات اٹھا دیے ہیں۔ یورپی فٹ بال کھلاڑیوں کی بااثر نمائندہ تنظیم “ففپرو یورپ” (FIFPRO Europe) نے ایک جامع اور دھماکہ خیز مطالعاتی رپورٹ جاری کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ عالمی فٹ بال کے گورننس سسٹمز کی فوری اور بنیادی اور ہنگامی سرجری کی جائے۔

ففپرو یورپ کی رپورٹ کے مطابق فیفا کا اب منسوخ یا ترک کیا جا چکا متنازعہ تجارتی منصوبہ “فارورڈ انٹرپرائز” (Forward Enterprise – FFE) اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عالمی فٹ بال کا انتظامی اور معاشی ڈھانچہ کس حد تک غیر شفاف اور خامیوں سے پر ہے۔ تنظیم نے موقف اختیار کیا ہے کہ اگر اس منصوبے کو روکا نہ جاتا تو یہ کھیل کے تاریخی مقابلوں، تجارتی حقوق اور آمدنی کے وسائل کو نجی سرمایہ کاروں کے پاس گروی رکھنے یا مالیاتی اثاثوں (Financial Assets) میں تبدیل کرنے کی جانب ایک خطرناک قدم ثابت ہو سکتا تھا، جس میں کھلاڑیوں اور دیگر حقیقی اسٹیک ہولڈرز کو یکسر نظر انداز کیا گیا۔

گورننس اور نجی سرمایہ کاری کا تنازع:

FIFPRO Europe کی جانب سے جاری کردہ اس تفصیلی مطالعے میں خاص طور پر اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ فیفا تجارتی مفادات کو کھیل کے بنیادی مفادات پر ترجیح دے رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق عالمی فٹ بال کے مالیاتی اور تجارتی فیصلوں کے لیے ایک ایسا مضبوط، شفاف اور آئینی نظام تشکیل دیا جانا ضروری ہے جس میں صرف بیوروکریٹس یا کاروباری شراکت دار شامل نہ ہوں، بلکہ میدان میں اترنے والے کھلاڑیوں، تمام قومی فٹ بال انجمنوں، یورپی لیگز اور کلبوں کو فیصلہ سازی میں باقاعدہ قانونی آواز میسر ہو۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ FFE منصوبے کے معاملے نے عالمی سطح پر اس اہم سوال کو جنم دیا ہے کہ فیفا کس طرح بند کمروں میں اربوں ڈالر کے مالیاتی منصوبے بناتا ہے اور ان میں ان کھلاڑیوں کی رائے شامل کیوں نہیں کی جاتی جن کی جسمانی محنت اور کارکردگی پر یہ پورا کھیل قائم ہے۔

میچوں کے بوجھ اور کھلاڑیوں کی صحت کا چیلنج:

یہ تنازع ایسے وقت میں ابھر کر سامنے آیا ہے جب عالمی فٹ بال میں میچوں کے شیڈول کی بے تحاشا توسع، نئے بین الاقوامی ٹورنامنٹس کے انعقاد اور تجارتی دباؤ کے باعث کھلاڑیوں پر شدید جسمانی و نفسیاتی بوجھ بڑھ چکا ہے۔ FIFPRO کے مطابق کھلاڑیوں کو ان تمام فیصلوں میں حتمی اور بااثر کردار ملنا چاہیے جو ان کے روزمرہ کام کے حالات، سالانہ میچز کے کیلنڈر، صحت کی دیکھ بھال، کیریئر کے تحفظ اور ان کے پیشہ ورانہ مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔

ففپرو یورپ نے حتمی طور پر فیفا کے انتظامی اور قانونی ڈھانچے میں ہمہ گیر اصلاحات پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ کسی بھی بڑے مالی یا ساخت جاتی منصوبے پر پیش رفت سے قبل تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ شفاف، بروقت اور باہم معنی مشاورت کو لازمی قرار دیا جائے تاکہ کھیل کا پائیدار مستقبل محفوظ رہ سکے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ رپورٹ زیورخ میں FIFPRO Europe کے مرکزی ایڈیٹوریل ڈیسک کی جانب سے جاری کردہ مطالعاتی رپورٹ، فیفا گورننس ڈاکومنٹیشن، اور عالمی اسپورٹس رپورٹرز کے تجزیاتی مواد کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمارے پالیسی فریم ورک کے مطابق مرتب کی گئی ہے۔

ماخذ: ففپرو یورپ (FIFPRO Europe) پریس ریلیز، فیفا گورننس رپورٹ ڈیسک، رائٹرز اسپورٹس۔

کینیڈا کا بڑا اقتصادی سرپرائز: وزیراعظم مارک کارنی نے امریکی تجارتی دباؤ کے توڑ کے لیے 1 ٹریلین ڈالر کا تاریخی گلوبل انویسٹمنٹ روڈ میپ پیش کر دیا

محمود احمد, September 14,2026

ٹورنٹو (نیوز اینڈ نیوز) — 14 ستمبر 2026ء

امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی شدید تجارتی کشیدگی، محصولات کے نفاذ اور یکطرفہ اقتصادی پالیسیوں سے پیدا ہونے والے منفی اثرات سے ملکی معیشت کو نکالنے کے لیے کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے ایک تاریخ ساز معاشی حکمتِ عملی کا آغاز کر دیا ہے۔ انہوں نے ٹورنٹو میں عالمی سطح کے سب سے بڑے مالیاتی اداروں، وال اسٹریٹ کے دیوہیکلوں اور سرکاری سرمایہ کاری فنڈز کے سربراہان کو دو روزہ اعلیٰ سطحی “گلوبل انویسٹمنٹ سمٹ” میں مدعو کر کے کینیڈا کو دنیا کی سب سے محفوظ اور منافع بخش سرمایہ کاری منڈی بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

کینیڈا کی حکومت کا بنیادی اور اہم ہدف آئندہ پانچ برسوں کے دوران ملک کے اندر ایک ٹریلین کینیڈین ڈالر (1 Trillion CAD) سے زائد کی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کو راغب کرنا ہے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اوٹاوا انتظامیہ نے 160 سے زائد قومی نوعیت کے میگا انفراسٹرکچر، توانائی اور ٹیکنالوجی پروجیکٹس کو نمائش کے لیے پیش کیا ہے، جبکہ نوکر شاہی کے روایتی ریڈ ٹیپ (Red Tape)، منظوریوں میں تاخیر اور پیچیدہ ماحولیاتی ضوابط میں تاریخی نرمی کا اعلان بھی کیا جا رہا ہے۔

عالمی مالیاتی دنیا کی معروف ترین شخصیات کی ٹورنٹو میں آمد:

سابق بینک آف کینیڈا اور بینک آف انگلینڈ کے گورنر رہنے والے کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے عالمی مالیاتی مارکیٹوں میں اپنے دیرینہ تعلقات کا بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔ اجلاس میں دنیا کے سب سے بڑے اثاثہ جات کا انتظام سنبھالنے والے ادارے ‘بلیک راک’ (BlackRock) کے چیف ایگزیکٹو لیری فنک (Larry Fink)، ‘بلیک اسٹون’ (Blackstone) کے صدر جون گرے (Jon Gray)، سنگاپور کے خودمختار مالیاتی فنڈ ‘ٹیماسک’ (Temasek) کے سی ای او دلہان پلے اور نیدرلینڈز کے دیوہیکل پنشن فنڈ ‘اے پی جی گروئپ’ (APG Groep) کی سربراہ اینیٹ موسمان سمیت عالمی فنڈز کے اہم مندوبین نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران کارنی انتظامیہ نے جن اہم ترین اور فیوچرسٹک پروجیکٹس کو پیش کیا ان میں کوانٹم کمپیوٹنگ کا بڑا نیٹ ورک، جدید ڈیٹا سینٹرز، کاربن فری ‘گرین نکل’ کی وسیع پیداوار، جدید توانائی کی ترسیل کے لائنز اور کیلگری سے ایڈمنٹن کے درمیان تیز ترین بلٹ ٹرین و ٹرانسپورٹ کوریڈور شامل ہیں۔

امریکہ پر اقتصادی انحصار کم کرنے کی سٹریٹجک حکمتِ عملی:

کینیڈین معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اس سمٹ کا اصل مقصد کینیڈا کا اپنے سب سے بڑے تجارتی شراکت دار یعنی امریکہ پر سے دہائیوں پر محیط شدید اقتصادی انحصار کو بتدریج کم کرنا ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے ٹیرف کی دھمکیوں اور سرحدی تجارتی رکاوٹوں نے اوٹاوا کو مجبور کیا ہے کہ وہ یورپ، ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور آسٹریلیا کے مالیاتی اداروں کے ساتھ براہِ راست اور ٹھوس تجارتی تعلقات استوار کرے۔

کارنی حکومت کے مطابق کینیڈا کے پاس اہم معدنیات (Critical Minerals)، شفاف توانائی، جدید ترین ٹیکنالوجی، اور اعلیٰ تعلیم یافتہ انسانی وسائل کا وہ خزانہ موجود ہے جو دنیا کے کسی اور خطے میں میسر نہیں۔ تاہم اس مہم میں سب سے بڑا چیلنج غیر ملکی سرمایہ کاروں کو تیز رفتار قانونی منظوریوں اور طویل المدتی پالیسی کے استحکام کا یقین دلانا ہے، بالخصوص ایک ایسے وقت میں جب عالمی مارکیٹ میں توانائی کی قیمتوں کی عدم استحکام اور جیو پولیٹیکل کشیدگی نے سرمایہ کاری کو خاصا پرخطر بنا دیا ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ تفصیلی رپورٹ کینیڈین وزیراعظم کے دفتر (PMO)، وزارتِ خزانہ کینیڈا کے جاری کردہ باضابطہ بیانات، ٹورنٹو انویسٹمنٹ ڈیسک اور عالمی خبر رساں اداروں کے اطلاعاتی مواد کی روشنی میں مرتب کی گئی ہے۔ کینیڈا کے ایک ٹریلین ڈالر کی مہم کے تمام معاشی و سیاسی پہلو تحریری فریم ورک کے مطابق شایع کیے گئے ہیں۔

ماخذ: ڈیپارٹمنٹ آف فنانس کینیڈا، وزیراعظم دفتر (PMO) ٹورنٹو میڈیا سیل، رائٹرز، بلومبرگ۔

مصنوعی ذہانت انسانی کنٹرول سے باہر نکلنے کا خطرہ: بیجنگ اور واشنگٹن میں جدید فرنٹئیر AI ماڈلز پر پالیسی سازی اور تکنیکی حفاظتی اقدامات تیز

محمود احمد, September 14,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 14 ستمبر 2026ء

مصنوعی ذہانت (AI) کے تیزی سے بڑھتے ہوئے دائرہ کار اور بالخصوص انتہائی طاقتور فاؤنڈیشن ماڈلز کے انسانی کنٹرول سے باہر نکلنے (Loss of Control) کے ممکنہ ہولناک خطرات نے دنیا کی دو بڑی سپر پاورز، چین اور امریکہ، کو ہنگامی بنیادوں پر جدید حفاظتی پالیسیاں مرتب کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

یہ عالمی بحث اس وقت ایک نیا موڑ اختیار کر گئی جب امریکی مصنوعی ذہانت کی اہم کمپنی ‘اینتھروپک’ (Anthropic) کے ماہرین اور محققین نے اپنی تازہ رپورٹ میں خبردار کیا کہ مستقبل کے طاقتور فرنٹئیر AI ماڈلز خود مختار فیصلے کرنے اور انسانی نگرانی سے مکمل طور پر باہر نکلنے کی صلاحیت حاصل کر سکتے ہیں، جو طویل المدتی بنیادوں پر انتہائی صورت میں انسانی نسل کے وجود اور عالمی بنیادی ڈھانچے کے لیے سنگین سیکیورٹی چیلنج بن سکتا ہے۔

چین کی پالیسی میں ‘لاس آف کنٹرول’ کا پہلے سے نفاذ:

امریکا اور چین عالمی سطح پر فرنٹئیر AI ٹیکنالوجی کی دوڑ میں سرفہرست ہیں، جہاں دونوں ملکوں میں تکنیکی اور تجارتی رقابت کے باوجود اس بات پر اتفاقِ رائے بڑھ رہا ہے کہ ٹیکنالوجی کی حفاظت کو یقینی بنانا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ چینی حکام نے AI کے بے قابو ہونے یا انسانی احکامات کو بائی پاس کرنے کے منظرنامے کو محض ایک نظریہ سمجھنے کے بجائے 2024ء میں ہی اپنے باضابطہ AI سیفٹی فریم ورک میں شامل کر لیا تھا۔ ستمبر 2024ء کے چینی روڈ میپ کے مطابق اس بات پر خاص توجہ دی گئی کہ مستقبل کے ایڈوانسڈ الگورتھمز خود کار طریقے سے بیرونی وسائل حاصل کرنے، اپنی کاپیاں بنانے، مصنوعی خود آگاہی (Self-awareness) پیدا کرنے اور مزید طاقت یا ڈیٹا تک رسائی کے لیے انسانوں کے ساتھ کنٹرول کی جنگ شروع کر سکتے ہیں۔

ستمبر 2025ء میں چین نے اس فریم ورک کو مزید وسیع اور سخت کرتے ہوئے یہ شق شامل کی کہ اگر AI کی صلاحیتوں میں یکایک اور غیر متوقع طور پر بڑا اضافہ (Capability Jump) ہو جائے تو اس وقت نظام کی ناکہ بندی اور اسے محفوظ حالت میں لانے کے قانونی و تکنیکی طریقہ کار کیا ہوں گے۔ چین نے اس پورے فریم ورک میں “قابلِ اعتماد استعمال اور کنٹرول سے محرومی کی مکمل روک تھام” کو مرکزی قانون قرار دیا ہے۔

چینی صدر شی جن پنگ کا تاریخی موقف اور عالمی اجلاس:

چینی صدر شی جن پنگ نے بھی مصنوعی ذہانت کے سیکیورٹی اور حیاتیاتی خطرات کو اعلیٰ ترین حکومتی سطح پر اٹھایا ہے۔ جولائی 2026ء میں شنگھائی میں منعقدہ عالمی مصنوعی ذہانت کانفرنس سے اپنے خطاب میں انہوں نے واضح طور پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کی رفتار خواہ کتنی ہی تیز کیوں نہ ہو، اسے ہر حال میں انسان کی مکمل نگرانی اور تحویل میں رہنا چاہیے۔

اس کے علاوہ بیجنگ میں 2026ء کے عالمی AI گورننس اجلاس کے جاری کردہ مشترکہ اعلامیے میں قانونی چارہ جوئی، تکنیکی نگرانی، ہنگامی ردِعمل اور خودکار AI ایجنٹس (Autonomous AI Agents) پر حدود عائد کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ چینی سائبر اسپیس ریگولیٹر کی تازہ ترین ہدایات کے تحت سافٹ ویئر ڈویلپرز کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ ایسے ٹولز تیار کریں جو کسی بھی غیر مناسب رویے یا الگورتھم کی خرابی کو فوری پکڑ کر سسٹم کا سیکیورٹی کنٹرول دوبارہ انسان کے ہاتھ میں دے سکیں۔

امریکی جدید ماڈلز پر تحفظات اور عالمی مذاکرات:

دوسری جانب بیجنگ نے بند امریکی الگورتھمز سے جڑے سیکیورٹی خطرات کا بھی نوٹس لیا ہے۔ چین کے وزیر مملکت برائے سیکیورٹی چن یی شن نے اپنے حالیہ مضمون میں امریکی کمپنیوں کے جدید ترین ماڈلز بشمول Anthropic کے ‘Mythos’ اور OpenAI کے ‘GPT-5.5-Cyber’ کو چین کے حساس ڈیٹا اور تکنیکی سیکیورٹی کے لیے ممکنہ خطرہ قرار دیا ہے اور مقامی اوپن ویٹ ماڈلز (Open-weight models) کے آڈٹ پر زور دیا ہے۔

عالمی سفارتی محاذ پر، چین اور امریکہ کے درمیان اس خطرے سے نمٹنے کے لیے ستمبر کے وسط میں اعلیٰ سطحی دوطرفہ AI سیکیورٹی مذاکرات بھی شیڈول ہیں، جن میں خودکار AI کے ذریعے ہونے والے سائبر حملوں کو روکنے، معلومات کے باہمی تبادلے اور آئندہ کے حفاظتی فریم ورک پر بات چیت کی جائے گی۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ تفصیلی رپورٹ چین کی قومی سائبر ایجنسیوں، اینتھروپک کی تحقیقی رپورٹس، صدر شی جن پنگ کے بیجنگ اعلامیے اور عالمی خبر رساں اداروں کے تجزیوں کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ AI ماڈلز کے خطرات اور واشنگٹن-بیجنگ سیکیورٹی مذاکرات پر مبنی تمام تفصیلات دونوں ملکوں کے سرکاری اور پالیسی بیانات کے عین مطابق ہیں۔

ماخذ: رائٹرز (Reuters)، سنسنی خیز AI ایجنسی چین (CAC)، اینتھروپک ریسرچ ڈیسک، بیجنگ AI گورننس اعلامیہ۔

پاکستان کی زراعت میں جدید ٹیکنالوجی: سپارکو اور ایچ بی ایل مائیکروفنانس بینک کا پنجاب میں سیٹلائٹ پر مبنی کلائمیٹ اسمارٹ ایگری فنانسنگ کا آغاز

منصور احمد,September 14,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 14 ستمبر 2026ء

پاکستان میں زرعی شعبے کو موسمیاتی تبدیلیوں، غیر متوقع موسمی شدت اور قدرتی آفات کے منفی اثرات سے محفوظ بنانے اور کسانوں کو آسان اور تیز رفتار مالیاتی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ایچ بی ایل مائیکروفنانس بینک (HBL MfB) نے قومی خلائی ادارے ‘سپارکو’ (SUPARCO) کے تعاون سے پنجاب بھر میں “کلائمیٹ اسمارٹ ایگری فنانسنگ” پروگرام کے دائرہ کار کو وسعت دینے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

اس فلیگ شپ اور جدید تکنیکی اقدام کا بنیادی مقصد سپارکو کی سیٹلائٹ ریموٹ سینسنگ، ہائی ریزولوشن سیٹلائٹ امیجری اور ایڈوانس مشین لرننگ ماڈلز کو بینک کے وسیع زرعی فنانسنگ نیٹ ورک کے ساتھ مربوط کرنا ہے۔ اس نظام کے تحت روایتی اور وقت طلب زمینی معائنے پر منحصر رہنے کے بجائے خلا سے حاصل ہونے والے حقیقی ڈیٹا کے ذریعے زمین کی نوعیت، فصلوں کی صحت، سبزے کی مقدار، زمین میں نمی کے تناسب اور پیداوری صلاحیت کا انتہائی درست اندازہ لگایا جائے گا۔

اوکاڑہ پائلٹ پروجیکٹ کی کامیابی کے بعد پنجاب بھر میں توسیع:

اس شراکت داری کے ابتدائی تجرباتی مرحلے میں پنجاب کے ضلع اوکاڑہ کو پائلٹ منصوبے کے طور پر منتخب کیا گیا تھا۔ اوکاڑہ میں ہائی ریزولوشن سیٹلائٹ تصاویر کی مدد سے کھیت کی سطح پر کسانوں کی کریڈٹ ورتھ نیس (قرض کی اہلیت) کے جائزے، فصل کی متوقع پیداوار کے تخمینے اور رسک کی درجہ بندی کا کامیابی سے تجارتی جائزہ لیا گیا۔ پائلٹ منصوبے میں نہ صرف قرض کی منظوری سے قبل کے تمام مراحل کو ڈیجیٹل کیا گیا بلکہ قرض دینے کے بعد بھی پورے سیزن میں سیٹلائٹ کے ذریعے فصل کی نشوونما کی مسلسل نگرانی کا نظام آزمایا گیا۔ ان مثبت نتائج کے بعد اب اس تکنیکی ماڈل کو پورے صوبہ پنجاب میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

موسمیاتی خطرات کی نشاندہی اور رسک مینجمنٹ:

پاکستان کے زرعی شعبے کو سیلاب، خشکی، خشک سالی، ژالہ باری اور بے وقت بارانی سلسلے سے شدید نقصان پہنچتا ہے، جس سے نہ صرف کسانوں کی روزی روٹی متاثر ہوتی ہے بلکہ ملک کی مجموعی غذائی سلامتی کو بھی خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔ سپارکو کے ممبر اسپیس ایپلی کیشن اینڈ ریسرچ ونگ ظفر اقبال کے مطابق ادارہ اپنے ڈیپ لرننگ اور الگورتھم ماڈلز کی مدد سے کسی بھی خطے میں پیدا ہونے والے موسمیاتی خطروں کی پیشگی نشاندہی کر سکتا ہے۔ اس ڈیٹا کی مدد سے ایچ بی ایل مائیکروفنانس بینک کو ہر انفرادی کھیت کی سطح پر خطرے کے تناسب کا جائزہ لینے اور غیر معمولی صورتحال پیدا ہونے پر فوری اور بروقت فیصلے کرنے کی صلاحیت حاصل ہو جائے گی۔

ایچ بی ایل مائیکروفنانس بینک کی قیادت کا مؤقف:

ایچ بی ایل مائیکروفنانس بینک کے صدر و چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) عامر خان نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی کسان موسمیاتی تبدیلیوں کے خطِ اول پر کھڑے ہیں۔ روایتی طریقوں کے تحت کسانوں کے حقیقی حالات کو سمجھنے اور بینکنگ کارروائی کو مکمل کرنے میں وقت درکار ہوتا تھا۔ سپارکو کی سیٹلائٹ انٹیلی جنس کو زرعی کریڈٹ سسٹم میں شامل کرنے سے بینکنگ کے فیصلے ڈیٹا اور حقیقت پر مبنی ہوں گے، جس سے چھوٹی ہولڈنگ والے کسانوں کو بلا تاخیر اور شفاف طریقے سے قرض میسر آ سکے گا۔

عام کسانوں تک معلومات کی رسائی کا نیا منصوبہ:

اس تعاون کے ساتھ ساتھ سپارکو کے ‘اسپیس فار کلائمیٹ’ (Space for Climate) اقدام کا مقصد سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والے زرعی اور موسمیاتی ڈیٹا کو عام کسانوں اور عوام تک بھی پہنچانا ہے تاکہ کسان بوائی، آبپاشی اور کھاد کے استعمال سے متعلق باخبر فیصلے کر سکیں۔ دونوں اداروں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ٹیکنالوجی، جدید ڈیٹا اور مالیاتی مصنوعات کا یہ امتزاج پاکستان کی زراعت کے لیے ایک پائیدار اور مضبوط بنیاد فراہم کرے گا جو موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ تفصیلی رپورٹ سپارکو (SUPARCO) اور ایچ بی ایل مائیکروفنانس بینک کے مشترکہ جاری کردہ پریس ریلیز اور باضابطہ بیانات کے مکمل تجزیے کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ سیٹلائٹ ڈیٹا کے ذریعے کسانوں کے کریڈٹ اسکور اور رسک اسیسمنٹ کا نظام دونوں اداروں کے مشترکہ ایڈیٹوریل فریم ورک کے مطابق ہے۔

ماخذ: سپارکو پریس سیل، ایچ بی ایل مائیکروفنانس بینک کارپوریٹ کمیونیکیشنز ڈیسک، قومی خبر رساں ادارہ (APP)۔

عام آدمی کے لیے بڑا ریلیف: وزیراعظم کی پیٹرول ریلیف اسکیم کے ڈیجیٹل سسٹم کا افتتاح، 9771 کوڈ جاری

محمود احمد, September 14,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 14 ستمبر 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے ‘وزیراعظم پیٹرول ریلیف اسکیم’ کے لیے نادرا، صوبائی ایکسائز ڈیپارٹمنٹس اور ٹیلی کام آپریٹرز کے اشتراک سے تیار کردہ جامع اور خودکار ڈیجیٹل نظام کو فعال کر دیا ہے۔

اسکیم کے تحت موٹرسائیکل، رکشہ اور چنگچی مالکان کو ماہانہ 20 لیٹر تک، جبکہ 800 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں کے صارفین کو ماہانہ 30 لیٹر پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر کی بلاواسطہ رعایت دی جائے گی۔ دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کو ماہانہ 2,000 روپے اور 800 سی سی گاڑیوں کے مالکان کو ماہانہ 3,000 روپے تک کا ریلیف حاصل ہوگا۔

شہریوں کی رجسٹریشن کے لیے ایس ایم ایس کوڈ 9771 مختص کر دیا گیا ہے۔ اسکیم میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے شہری کے شناختی کارڈ، اس کے نام پر رجسٹرڈ موبائل سم اور ایکسائز ریونیو کے پاس درج گاڑی کے ریکارڈ کو آپس میں مربوط کیا گیا ہے۔

9771 پر ایس ایم ایس کے ذریعے رجسٹریشن کا آسان طریقہ:

  1. ابتدائی رجسٹریشن: اپنے نام پر درج سم سے REG لکھ کر اسپیس دیں، پھر بلا ڈیش شناختی کارڈ نمبر، گاڑی کا رجسٹریشن نمبر، صوبائی کوڈ اور رجسٹریشن کی تاریخ (DDMMYYYY) لکھ کر 9771 پر بھیجیں۔
    • صوبائی کوڈز: اسلام آباد (I)، پنجاب (P)، سندھ (S)، خیبرپختونخوا (K)، بلوچستان (B)، آزاد کشمیر (A)، گلگت بلتستان (G)۔
  2. فیول ٹوکن کے لیے: پیٹرول پمپ پر جانے سے قبل TOK لکھ کر 9771 پر بھیجیں۔ موصول ہونے والا ون ٹائم ٹوکن پمپ پر دکھانے پر فی لیٹر 100 روپے کی رعایت ملے گی۔

حکومتی اعلامیے کے مطابق، اسلام آباد میں اس سہولت کا اطلاق پیر اور منگل کی درمیانی شب سے ہو جائے گا، جبکہ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں یہ سہولت بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب سے میسر ہوگی۔ وزارتِ آئی ٹی نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ اس رجسٹریشن کے لیے کوئی فیس یا بینک پن کوڈ طلب نہیں کیا جاتا، لہٰذا جعلی لنکس یا کالز سے ہوشیار رہیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور نادرا کی جانب سے وزیراعظم پیٹرول ریلیف اسکیم کے جاری کردہ باضابطہ طریقہ کار پر مبنی ہے۔ عوام کو 9771 کے علاوہ کسی دوسرے نمبر پر ذاتی کوائف بھیجنے سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔

ماخذ: وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام (MoITT)، نادرا (NADRA)، قومی خبر رساں ادارہ (APP)۔

ایران کا دعویٰ، آبنائے ہرمز کے اوپر امریکی MQ-1 ڈرون مار گرایا گیا

محمود احمد, September 14,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 14 ستمبر 2026ء

ایرانی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی فضائی دفاعی فورسز نے آبنائے ہرمز کے اوپر پرواز کرنے والے ایک امریکی MQ-1 بغیر پائلٹ طیارے کو مار گرایا ہے۔

ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس کے مطابق ڈرون کو آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی فضائی دفاعی نظام نے شناخت اور ٹریک کیا، جس کے بعد اسے نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق کارروائی میں ایران کے مربوط فضائی دفاعی نظام کے تحت کام کرنے والے یونٹس شامل تھے۔

ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے IRIB نے بھی پاسدارانِ انقلاب اسلامی (IRGC) سے متعلق بیان نشر کرتے ہوئے واقعے کی اطلاع دی۔ بعد ازاں ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے بھی رپورٹ کیا کہ ایک امریکی MQ-1 نگرانی کرنے والے ڈرون کو آبنائے ہرمز کے داخلی علاقے میں ایرانی فورسز نے نشانہ بنایا۔

ایرانی رپورٹس میں ڈرون کو امریکی قرار دیا گیا ہے، تاہم واقعے کی آزادانہ تصدیق فوری طور پر دستیاب نہیں ہوئی۔ امریکی حکام کی جانب سے بھی اس مخصوص واقعے کی فوری طور پر تصدیق یا تفصیلی تردید سامنے آنے کی اطلاع نہیں ملی۔

MQ-1 ایک بغیر پائلٹ فضائی نگرانی اور reconnaissance طیارہ ہے۔ ایران کی جانب سے پیش کی گئی معلومات میں ڈرون کو مار گرائے جانے کے طریقہ کار اور اس کے ملبے کی موجودہ صورتحال سے متعلق محدود تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔

آبنائے ہرمز خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان واقع ایک اہم سمندری گزرگاہ ہے، جس کی وجہ سے یہاں ہونے والی فوجی یا بحری سرگرمیوں کو عالمی توانائی اور تجارتی سپلائی کے حوالے سے خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ حالیہ دنوں میں اس علاقے میں کشیدگی کے باعث سمندری آمدورفت اور عالمی توانائی سپلائی کے حوالے سے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق 14 ستمبر کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد معمول کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم رہی۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ رپورٹ ایرانی سرکاری اور نیم سرکاری ذرائع کی جانب سے سامنے آنے والے دعوے کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ MQ-1 ڈرون کے مار گرائے جانے اور اسے امریکی ملکیت کا طیارہ قرار دیے جانے کی آزادانہ تصدیق دستیاب معلومات کی حد تک نہیں ہو سکی۔ اس لیے News & News اس واقعے کو فی الحال ایرانی دعوے کے طور پر رپورٹ کر رہا ہے، حتمی طور پر ثابت شدہ واقعے کے طور پر نہیں۔

ماخذ: فارس نیوز، IRIB، تسنیم نیوز، Anadolu Agency، Reuters

اسلام آباد مارچ کی تیاری: وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی لاہور پہنچ گئے، پنجاب میں 17 ستمبر تک دفعہ 144 نافذ

کاشف عباسی , September 14,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 14 ستمبر 2026ء

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے 27 ستمبر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی طرف مجوزہ لانگ مارچ کی تیاریوں اور رابطہ مہم کو آگے بڑھانے کے لیے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی لاہور پہنچ گئے ہیں۔

پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اپنے لاہور کے دورے کے دوران پارٹی کے متوفی کارکن اشتیاق خان کے اہل خانہ سے تعزیت کریں گے، جس کے بعد وہ لاہور ہائیکورٹ میں وکلا، پارٹی عہدیداروں اور خواتین ونگ کی تنظیم سے خطاب کریں گے۔ دورے کے طے شدہ شیڈول میں مزار حضرت داتا گنج بخشؒ پر حاضری اور لبرٹی چوک سمیت لاہور کی مختلف تجارتی مارکیٹوں کا دورہ بھی شامل ہے۔ پارٹی نے 27 ستمبر کے مارچ کی قیادت کی ذمہ داری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو سونپ رکھی ہے۔

دوسری جانب، حکومتِ پنجاب نے سیکورٹی خطرات کے پیشِ نظر صوبے بھر میں 13 سے 17 ستمبر تک دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق انٹیلی جنس ایجنسیوں نے عوامی اجتماعات پر ممکنہ دہشت گرد حملوں کی حساس اطلاعات فراہم کی ہیں، جس کی بنا پر 5 یا اس سے زائد افراد کے جمع ہونے، جلوس، جلسے اور احتجاج پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔ تاہم شادی کی تقریبات، جنازے، تدفین اور مساجد میں عبادت کو اس پابندی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔

ادھر پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا ہے کہ لاہور سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں میں میاں محمود الرشید، عثمان حمزہ اعوان اور دیگر رہنماؤں کے ڈیروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور 3-MPO کے تحت کارروائیاں جاری ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تمام اقدامات امن و امان کے قیام اور قانون کی بالادستی یقینی بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر محکمہ داخلہ پنجاب کے نوٹیفکیشن، پی ٹی آئی کے باضابطہ بیانات اور انتظامی اطلاعات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ پنجاب میں دفعہ 144 کا نفاذ 13 سے 17 ستمبر تک سیکیورٹی رپورٹس کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے حراستوں اور چھاپوں کے دعوؤں کی آزادانہ سرکاری تصدیق ہونا باقی ہے۔

ماخذ: محکمہ داخلہ حکومتِ پنجاب نوٹیفکیشن، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) ایڈیٹوریل سیل۔

پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے اسلام آباد مارچ کا اعلان: وفاقی دارالحکومت اور جڑواں شہروں میں سیکیورٹی انتہائی سخت، شاہراہوں پر کنٹینرز پہنچا دیے گئے

کاشف عباسی , September 14,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 14 ستمبر 2026ء

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف ممکنہ مارچ اور احتجاجی فرنٹ کے اعلان کے بعد وفاقی دارالحکومت اور جڑواں شہر راولپنڈی میں انتظامیہ اور سیکیورٹی ادارے ہائی الرٹ ہو گئے ہیں۔ اسلام آباد پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے کسی بھی ناخوشگوار صورتحال اور مظاہرین کی پیش قدمی روکنے کے لیے شہر کی اہم شاہراہوں اور داخلی راستوں پر کنٹینرز کی تنصیب شروع کر دی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق ابتدائی طور پر 150 کنٹینرز 26 نمبر چونگی، روات، اور مارگلہ ایونیو سمیت حساس مقامات پر پہنچا دیے گئے ہیں، جبکہ میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس انتظامیہ نے ٹھیکیداروں کو ریڈ زون اور تمام مرکزی شاہراہوں کی ناطہ بندی کے لیے 1,000 سے زائد مزید کنٹینرز تیار رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

وفاقی دارالحکومت اور پنجاب بھر میں امن و امان کے قیام اور ممکنہ دہشت گردی کی اطلاعات کے پیشِ نظر پہلے ہی دفعہ 144 نافذ کر کے عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تھری ایم پی او (3-MPO) کے تحت پیشگی کارروائیاں کرتے ہوئے جڑواں شہروں سے متحرک سیاسی کارکنوں کی حراست اور نظر بندی کے احکامات جاری کیے ہیں۔

دوسری جانب، اسلام آباد ہائیکورٹ میں مارچ کو چیلنج کرنے والی ایک درخواست پر سماعت کے دوران عدالت نے خیبر پختونخوا کے چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کو حلف نامے جمع کرانے کی ہدایت کی ہے کہ صوبائی حکومت کی سرکاری مشینری کو سیاسی مقاصد اور احتجاج کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ اس سیاسی ہلچل کے ساتھ جماعت اسلامی نے بھی پٹرولیم لیوی کے خلاف 20 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کی کال دے رکھی ہے، جس کے بعد ستمبر کے رواں مہینے میں جڑواں شہروں میں امن و امان اور ٹریفک کی روانی برقرار رکھنا ضلعی انتظامیہ کے لیے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر اسلام آباد پولیس کے انتظامی اقدامات، ڈان اور دیگر قومی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کی بنیاد پر ترتیب دی گئی ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے کی جانے والی گرفتاریوں کے اعداد و شمار پر سرکاری انتظامیہ کی جانب سے تاحال تفصیلی بریفنگ آنا باقی ہے۔

ماخذ: اسلام آباد کیپیٹل پولیس، روزنامہ ڈان (Dawn)، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم نامہ۔

لبنان کے وزیر داخلہ دو روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے

منصور احمد,September 14,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 14 ستمبر 2026ء

لبنان کے وزیر داخلہ احمد الحجار دو روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ پاکستانی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں میں پاکستان اور لبنان کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کے فروغ پر بات چیت کریں گے۔

اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچنے پر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے لبنانی وزیر داخلہ کا استقبال کیا۔ اس موقع پر دیگر پاکستانی حکام بھی موجود تھے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق احمد الحجار اپنے دورہ پاکستان کے دوران پاکستانی قیادت سے اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کریں گے۔ ملاقاتوں میں دونوں ممالک کے باہمی دلچسپی کے امور اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

دورے کے دوران پاکستان اور لبنان کے حکام مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات کا جائزہ بھی لیں گے۔ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون اور تعلقات کے مزید فروغ سے متعلق امور مذاکرات کا حصہ ہوں گے۔

احمد الحجار کا دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان اور لبنان کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے امکانات پر توجہ دی جا رہی ہے۔ سرکاری سطح پر ہونے والی ملاقاتوں میں باہمی دلچسپی کے معاملات پر تبادلہ خیال سے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید آگے بڑھانے کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

لبنانی وزیر داخلہ کا یہ دورہ دو روز پر مشتمل ہے اور اس کے دوران پاکستانی قیادت کے ساتھ اہم ملاقاتیں متوقع ہیں۔ دستیاب سرکاری معلومات کے مطابق دورے کا بنیادی مقصد پاکستان اور لبنان کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانا اور مختلف شعبوں میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لینا ہے۔ ملاقاتوں کے نتیجے میں اگر کوئی نیا معاہدہ، مفاہمتی یادداشت یا اہم فیصلہ سامنے آتا ہے تو اس کی تفصیلات الگ سے جاری کی جا سکتی ہیں۔

ماخذ: ریڈیو پاکستان، سرکاری معلومات

داتا دربار کی عظمت کے مطابق ترقیاتی منصوبے بروقت مکمل کیے جائیں گے: سیکرٹری اوقاف پنجاب ڈاکٹر احسان بھٹہ

منصور احمد,September 14,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 14 ستمبر 2026ء

سیکرٹری و چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف پنجاب ڈاکٹر احسان بھٹہ نے کہا ہے کہ حضرت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخشؒ کے آستانہ عالیہ کی تاریخی، مذہبی اور روحانی عظمت کو برقرار رکھتے ہوئے تمام جاری ترقیاتی اور تزئین و آرائش کے منصوبے مقررہ اہداف کے مطابق باوقار انداز میں مکمل کیے جا رہے ہیں۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار کی خصوصی ہدایت پر داتا دربار کے تفصیلی دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر احسان بھٹہ نے کہا کہ داتا دربار صدیوں سے محبت، امن اور روحانیت کا سرچشمہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نائب وزیراعظم کے حالیہ دورے کے دوران دی گئی ہدایات کی روشنی میں نیسپاک اور کمیونیکیشن اینڈ ورکس (C&W) کے حکام مشترکہ طور پر کام کی رفتار اور معیار کو یقینی بنا رہے ہیں۔

سیکرٹری اوقاف کے مطابق غلام گردش میں نفیس کیلی گرافک ماربل کی تنصیب اور دیگر تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہیں۔ اگرچہ عارضی طور پر کچھ داخلی راستے محدود کیے گئے ہیں، تاہم زائرین کی آمدورفت میں آسانی اور انہیں بہترین ممکنہ سہولیات کی فراہمی کو اولیت دی جا رہی ہے۔

معائنے کے دوران جنرل منیجر نیسپاک عادل نذیر، ایکسئین سی اینڈ ڈبلیو فہد نوید، ایڈمنسٹریٹر داتا دربار محمد علی خان اور ایکسئین داتا دربار قیصر منیر بھی ان کے ہمراہ تھے۔ بعد ازاں، سیکرٹری اوقاف نے مزار اقدس پر حاضری دی، فاتحہ خوانی کی اور ملک و قوم کی سلامتی اور استحکام کے لیے دعا کی۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ رپورٹ سیکرٹری اوقاف پنجاب کے داتا دربار کے معائنے اور محکمہ اوقاف کے سرکاری اعلامیے کی روشنی میں تیار کی گئی ہے۔ منصوبے کا بنیادی مقصد زائرین کو جدید و محفوظ سہولیات فراہم کرنا ہے۔

ماخذ: محکمہ اوقاف و مذہبی امور پنجاب پریس ریلیز، نیسپاک (NESPAK) رپورٹ۔

ابتدائی طبی امداد انسانی جان بچانے کی ضامن: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا فرسٹ ایڈ کی تربیت کو عام کرنے کا عزم

منصور احمد,September 14,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 14 ستمبر 2026ء

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ حادثات اور ناگہانی ہنگامی حالات میں بروقت ابتدائی طبی امداد (First Aid) کا فراہم کیا جانا کسی بھی انسان کی قیمتی جان بچانے میں بنیادی اور اہم ترین کردار ادا کرتا ہے، اس لیے ایک محفوظ، فعال اور صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے عوام میں فرسٹ ایڈ کا شعور اور بنیادی تربیت عام کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ایک خصوصی بیان جاری کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ کسی بھی حادثے یا اچانک درپیش طبی ایمرجنسی کی صورت میں پیشہ ور طبی عملے یا ریسکیو کے پہنچنے تک کے شروعاتی منٹ انتہائی نازک ہوتے ہیں۔ ان لمحوں میں فراہم کی جانے والی درست ابتدائی مدد متاثرہ شخص کی حالت کو بگڑنے سے روکنے اور اس کی زندگی بچانے میں فیصلہ کن ثابت ہوتی ہے۔

انہوں نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ فرسٹ ایڈ کی آگاہی کو محض محکمہ صحت یا ہسپتالوں تک محدود نہیں رکھا جانا چاہیے، بلکہ اس کا دائرہ کار تمام تعلیمی اداروں، اسکولوں، کالجوں، سرکاری دفاتر اور عوامی مقامات تک وسعت دیا جانا چاہیے تاکہ عام شہری بھی ایمرجنسی کی صورت میں ذمہ دارانہ اور مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے مزید کہا کہ ایک باشعور اور صحت مند معاشرے کے لیے بیماریوں کے علاج کے ساتھ ساتھ ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔ شہریوں کو فرسٹ ایڈ کی بنیادی تکنیکوں کی تربیت دینے سے باہمی مدد اور انسانی جان کے احترام کا جذبہ مزید مضبوط ہو گا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ رپورٹ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے دفتر سے جاری کردہ باضابطہ بیانات کی روشنی میں تیار کی گئی ہے۔ حکومتِ پنجاب جلد ہی تعلیمی اداروں اور عوامی سطح پر ریسکیو 1122 کے تعاون سے بنیادی طبی امداد کے ورکشاپس شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

ماخذ: ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پبلک ریلیشنز (DGPR) پنجاب، وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ لاہور۔

زاپوریژیا ایٹمی پاور پلانٹ کی ڈیزل سپلائی گاڑیوں پر یوکرینی حملہ، 2 روسی ہلاک: روس ایٹم کا سنسنی خیز الزام

محمود احمد, September 13,2026

ماسکو (نیوز اینڈ نیوز) — 13 ستمبر 2026ء

روس کے باضابطہ سرکاری جوہری ادارے ‘روس ایٹم’ (Rosatom) کے سربراہ الیکسی لیخاچیوف نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرینی فورسز نے یورپ کے سب سے بڑے زاپوریژیا ایٹمی پاور پلانٹ کو ہنگامی ڈیزل ایندھن فراہم کرنے والے ٹرکوں کو ایک مربوط ڈرون و فائرنگ حملے کا نشانہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں 2 روسی فوجی موقع پر ہلاک اور متعدد شدید زخمی ہو گئے ہیں۔

الیکسی لیخاچیوف نے میڈیا نمائندگان کو بتایا کہ یہ منظم حملہ جمعہ کو زاپوریژیا ایٹمی پاور پلانٹ کی بیرونی حدود کے بالکل قریب اس وقت کیا گیا جب ڈیزل ایندھن سے بھرے ٹرک پلانٹ کی جانب جا رہے تھے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ہلاک ہونے والے روسی سیکیورٹی اہلکار ان ٹرکوں کی بحفاظت ترسیل اور ایندھن کی فراہمی کے کام میں مدد فراہم کر رہے تھے۔

روسی ایٹمی ادارے کے سربراہ کے مطابق، اس حملے کا بنیادی مقصد پاور پلانٹ کی ایٹمی سلامتی اور ایمرجنسی پاور بیک اپ کو تباہ کرنا تھا۔ دوسری جانب، کیف (یوکرین) کی ملٹری یا سیاسی قیادت کی طرف سے اس مخصوص حملے کی تصدیق یا تردید پر مشتمل کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

واضح رہے کہ زاپوریژیا ایٹمی پاور پلانٹ پر فروری 2022ء سے روسی افواج کا کنٹرول ہے۔ 6 ری ایکٹرز پر مشتمل اس عظیم الجثہ پاور پلانٹ کے لیے ڈیزل ایندھن انتہائی اہم تصور کیا جاتا ہے، کیونکہ اگر جنگ یا گولہ باری سے بیرونی بجلی کا گرڈ منقطع ہو جائے تو یہی ہنگامی ڈیزل جنریٹرز ایٹمی ریایکٹرز اور تابکار ایندھن کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے ضروری بجلی فراہم کرتے ہیں۔

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی ٹیمیں زاپوریژیا پلانٹ پر مسلسل موجود ہیں اور ادارے نے متعدد بار خبردار کیا ہے کہ پلانٹ کے پاس عسکری کارروائیاں کسی بڑے عالمی ایٹمی حادثے کا سبب بن سکتی ہیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر روس کے سرکاری ادارے ‘روس ایٹم’ کے سربراہ الیکسی لیخاچیوف کے بیانات پر مبنی ہے۔ زاپوریژیا پلانٹ کے ایندھن ٹرکوں پر حملے اور ہلاکتوں کے ان دعوؤں کی یوکرین کی جانب سے آزادانہ تصدیق یا موقف آنا ابھی باقی ہے۔

ماخذ: روس ایٹم (Rosatom) پریس اعلامیہ، تاس (TASS)، رائٹرز (Reuters)۔

پاک چین تعلقات کے 75 سال: بیجنگ میں تاریخی و ثقافتی کتاب ’’سندھ اور یانگ زے‘‘ کی رونمائی

منصور احمد,September 13,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 13 ستمبر 2026ء

پاکستان اور چین کے درمیان تاریخی سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے پرمسرت موقع پر چین کے دارالحکومت بیجنگ میں دونوں ممالک کے فکری، تاریخی اور ثقافتی رشتوں کو اجاگر کرنے والی اہم کتاب ’’سندھ اور یانگ زے: ایک ہی سرچشمے سے نکلنے والے دو دریاؤں کا سفر‘‘ کی باقاعدہ رونمائی کی گئی ہے۔

بیجنگ میں واقع پاکستانی سفارتخانے، پاکستان سینٹر فار کلچر اینڈ کمیونیکیشن اور سنگھوا یونیورسٹی کے اسکول آف جرنلزم اینڈ کمیونیکیشن کے مشترکہ اہتمام سے منعقدہ اس تقریب میں چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی، نامور اسکالرز، سفارتکاروں، محققین اور سنگھوا یونیورسٹی سمیت مختلف جامع اداروں کے اساتذہ اور طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

یہ کثیراللسانی کتاب انگریزی، اردو اور چینی زبانوں میں شائع کی گئی ہے، جس کی تدوین سنگھوا یونیورسٹی کے پروفیسر لی شی گوانگ اور یونیورسٹی آف پشاور کے سابق وائس چانسلر پروفیسر زاہد انور نے کی ہے۔ کتاب میں وادیٔ سندھ اور دریائے یانگ زے کیقدیم تہذیبوں کے درمیان مشترکہ فکری اور جغرافیائی رابطوں کا تفصیل سے احاطہ کیا گیا ہے۔

تقریب کے دوران سفارتی و علمی تعلقات کی 75 سالہ یادگار مناسبت سے دیگر اہم تحقیقی منصوبوں کی پریزنٹیشنز بھی پیش کی گئیں۔ ان میں ’’قراقرم ہائی وے کے معماروں کی زبانی تاریخ‘‘ (مترتبہ لیکچرر ژانگ جِنگ)، ’’دریائے یارکند کی وادی: پاکستان تک قدیم راستے کی تلاش‘‘ (پروفیسر گوو ژیاؤکے اور لی ژینیوان) اور ’’مملکت اُدیانہ کی جانب دھرما کی تلاش میں سفر‘‘ پر مبنی دستاویزی فلموں کے اقتباسات شامل تھے۔

چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی نے اپنے کلیدی خطاب میں اس کثیراللسانی کتاب اور تحقیقی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاک چین دوستی محض سیاسی اور معاشی شراکت داری تک محدود نہیں بلکہ اس کی جڑیں گہری تاریخی، تعلیمی اور عوامی وابستگیوں میں پیوست ہیں۔ انہوں نے تعلیمی تبادلوں، سائنس، ٹیکنالوجی اور STEM شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر زور دیا۔ تقریب کا اختتام روایتی پاکستانی کھانوں کے پرتکلف عشائیے پر ہوا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ رپورٹ بیجنگ میں پاکستانی سفارتخانے اور سنگھوا یونیورسٹی کے جاری کردہ باضابطہ مشترکہ پریس اعلامیے کی روشنی میں تیار کی گئی ہے۔ سنہ 1951 میں قائم ہونے والے پاک چین سفارتی تعلقات 2026 میں اپنے 75 سال مکمل کر رہے ہیں، جس کی مناسبت سے تعلیمی و ثقافتی تبادلوں کی یہ تقریب منعقد ہوئی۔

ماخذ: پاکستان ایمبیسی بیجنگ پریس ریلیز، سنگھوا یونیورسٹی اسکول آف جرنلزم اینڈ کمیونیکیشن، سنہوا نیوز ایجنسی۔

پاکستان کو افریقی منڈیوں کے ساتھ تجارتی و معاشی روابط مضبوط بنانے چاہئیں: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی

کاشف عباسی , September 13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 ستمبر 2026ء

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے زور دیا ہے کہ پاکستان کو بین الاقوامی منڈیوں کو وسعت دیتے ہوئے بالخصوص افریقی براعظم کی ابھرتی ہوئی معیشتوں کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی تعلقات مضبوط کرنے چاہئیں، تاکہ ملک کے تزویراتی جغرافیائی محل وقوع اور قدرتی وسائل سے پائیدار معاشی فوائد حاصل کیے جا سکیں۔

وہ اسلام آباد میں پاکستان افریقہ اکنامک کونسل (PAEC) کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایک پروقار تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ تقریب میں افریقی و دیگر دوست ممالک کے سفیروں، ڈین آف دی ڈپلومیٹک کور عطا جان مملوموف، وفاقی حکام، تاجر رہنماؤں، صنعتکاروں اور سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اپنے خطاب میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبر پختونخوا معدنیات، تیل و گیس اور آبی وسائل کی دولت سے مالا مال ہے اور ان شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کر کے خطے میں روزگار اور معاشی سرگرمیوں کو بڑھایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کونسل کے سرپرست اعلیٰ حامد اصغر خان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ تجارت اور سفارتی روابط کی مضبوطی کے لیے ان کا وژن اہم کردار ادا کرے گا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر دفاعی پیداوار رضا حیات ہراج نے کہا کہ پاکستان کو روایتی منڈیوں پر انحصار کم کرتے ہوئے افریقہ کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشتوں سے جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پاکستان افریقہ اکنامک کونسل کے سرپرست اعلیٰ حامد اصغر خان نے افریقہ کو “مواقع کی سرزمین” قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئی ٹی، ادویات، صحت اور تعلیم جیسے شعبوں میں پاکستانی کمپنیوں کے لیے وسیع امکانات موجود ہیں۔

تقریب میں ایف پی سی سی آئی (FPCCI) کے صدر عاطف اکرام، وزیراعظم کے معاون خصوصی سردار یاسر الیاس، یو بی جی کے سیکرٹری جنرل ظفر بختاوری، اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے صدر سردار طاہر محمود اور کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر شہزاد ملک نے بھی خطاب کیا اور دونوں خطوں کے درمیان باہمی تجارتی و معاشی شراکت داری کو عملی شکل دینے پر اتفاق کیا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر پاکستان افریقہ اکنامک کونسل کی جانب سے اسلام آباد میں منعقدہ تقریب اور اس کے باضابطہ بیانات کی روشنی میں تیار کی گئی ہے۔ کونسل کا بنیادی ہدف پاکستان کی ’لک افریقہ Policy‘ کے تحت تجارتی حجم اور باہمی سرمایہ کاری میں اضافہ کرنا ہے۔

ماخذ: پاکستان افریقہ اکنامک کونسل (PAEC)، خیبر پختونخوا گورنر ہاؤس پریس ریلیز، ایف پی سی سی آئی۔

ملزمان کے قبضے سے 751 گرام آئس اور غیر قانونی اسلحہ برآمد؛ ’No to Weapon‘ مہم کے تحت کارروائیاں مزید تیز کرنے کا حکم

منصور احمد,September 13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 ستمبر 2026ء

وفاقی دارالحکومت میں شہریوں کی جان و مال کے تحفظ اور سیکیورٹی کی صورتحال کو یقینی بنانے کے لیے اسلام آباد پولیس نے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرتے ہوئے سنگین مقدمات میں مطلوب 7 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

ترجمان اسلام آباد پولیس کے جاری کردہ بیان کے مطابق، پولیس ٹیموں نے ٹارگٹڈ آپریشنز کے دوران منشیات فروشی اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے میں ملوث 5 ملزمان کو گرفتار کیا۔ کارروائیوں کے دوران گرفتار ملزمان کے قبضہ سے مجموعی طور پر 751 گرام آئس (میتھمفیٹامائن) اور ایک گن بمعہ ایمونیشن برآمد کی گئی ہے۔ ملزمان کے خلاف متعلقہ قانونی دفعات کے تحت مقدمات درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

علاوہ ازیں، اشتہاری مجرمان، سابقہ ریکارڈ یافتہ افراد اور عدالتی مفروران کی گرفتاری کے لیے جاری خصوصی مہم کے تحت مزید 2 ملزمان کو حراست میں لیا گیا ہے، جن کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔

ایس ایس پی آپریشنز اسلام آباد قاضی علی رضا نے پولیس ٹیموں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ دارالحکومت میں غیر قانونی اسلحے، ہوائی فائرنگ اور منشیات کی فروخت کے خلاف صفر برداشت (Zero Tolerance) کی پالیسی پر عمل پیرا رہا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ”No to Weapon“ مہم کا مقصد اسلام آباد کو اسلحہ فری بنانا اور شہریوں کے امن و امان کو یقینی بنانا ہے۔

پولیس حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے گرد و پیش نظر رکھیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی یا منشیات فروشی کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ تھانے یا ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 پر دیں تاکہ باہمی تعاون سے جرائم کو ناکام بنایا جا سکے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر اسلام آباد پولیس کے ترجمان کے باضابطہ بیانات اور سرکاری ریکارڈ کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ 3 ستمبر کو 23 اور 12 ستمبر کو 78 ملزمان کی گرفتاری کے بعد، 13 ستمبر کی یہ تازہ کارروائی وفاقی دارالحکومت میں مسلسل جاری پولیس کریک ڈاؤن کا حصہ ہے۔

ماخذ: اسلام آباد کیپیٹل پولیس پریس ریلیز، شعبہ تعلقاتِ عامہ (PR Section)۔

علم پر مبنی معیشت کے فروغ کے لیے اہم پیش رفت: ایچ ای سی اور اسلام آباد چیمبر کے درمیان اکیڈمیا اور صنعتی روابط مضبوط بنانے پر اتفاق

روزینہ اسماعیل, September 13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 ستمبر 2026ء

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) پاکستان اور اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے باہمی اشتراک سے اعلیٰ تعلیمی اداروں (اکیڈمیا) اور ملکی صنعتی شعبے کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے اور ٹیکنالوجی کی کمرشلائزیشن کے فروغ کے لیے ایک اہم راؤنڈ ٹیبل ڈسکشن کا انعقاد کیا گیا ہے۔

آئی سی سی آئی کے مرکزی دفتر میں منعقدہ اس اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت آئی سی سی آئی کے صدر سردار طاہر محمود نے کی، جبکہ ایچ ای سی کے ریسرچ اینڈ انوویشن ڈویژن کی نمائندگی رکن ڈاکٹر سید حبیب بخاری نے کی۔ اجلاس میں ملک بھر کی ممتاز جامعات کے دفاتر برائے تحقیق، جدت و کمرشلائزیشن (ORICs)، بزنس انکیوبیشن سینٹرز کے سربراہان اور تاجر و صنعتی برادری کے سرکردہ نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران ایچ ای سی کے مجوزہ جوائنٹ ریسرچ فریم ورک اور ماڈل معاہدوں کے مسودوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ ان اہم تجاویز میں جامعات اور صنعتی اداروں کے درمیان باہمی تحقیقی تعاون، مقامی صنعت کی ضروریات کے عین مطابق ریسرچ، ٹیکنالوجی کی منتقلی، دانشورانہ ملکیت (Intellectual Property) کے تحفظ اور تحقیقی نتائج کو تجارتی مصنوعات و خدمات میں تبدیل کرنے کے جامع طریقہ کار پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایچ ای سی حکام کے مطابق، پاکستان میں علم پر مبنی معیشت (Knowledge-Based Economy) کے قیام اور پائیدار ترقی کے لیے صنعت اور اکیڈمیا کا باقاعدہ جڑا ہوا ہونا انتہائی ضروری ہے۔ اس مقصد کی خاطر ایچ ای سی نے ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں ORICs اور ٹیکنالوجی اینڈ انوویشن سپورٹ سینٹرز جیسے باقاعدہ ادارہ جاتی نظام قائم کر رکھے ہیں۔

اجلاس کے شرکاء نے زور دیا کہ اکیڈمیا اور انڈسٹری کے مضبوط شراکت دارانہ ماحول سے نہ صرف یونیورسٹیوں کی تحقیق کو تجارتی شکل ملے گی بلکہ طلبہ کو جدید صنعتی تقاضوں کے مطابق تربیت فراہم کر کے روزگار کے مواقع اور ملکی صنعتی مسابقت میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہو سکے گا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) اور اسلام آباد چیمبر آف کامرس (ICCI) کے مشترکہ اعلامیے اور راؤنڈ ٹیبل اجلاس میں سامنے آنے والی تجاویز پر مبنی ہے۔ اس مشترکہ فریم ورک پر عملدرآمد سے ملکی صنعت کو جدید تحقیق سے فائدہ اٹھانے کے پائیدار مواقع میسر آئیں گے۔

ماخذ: ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) پریس ریلیز، اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ICCI)۔