آزاد کشمیر انتخابات میں ن لیگ کو سادہ اکثریت حاصل: رانا ثناء اللہ اور امیر مقام کی مشترکہ پریس کانفرنس

منصور احمد, August 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اگست 2026ء

وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ اور وفاقی وزیر امورِ کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں دو مراحل کے تحت الیکشن کا پرامن، شفاف اور منصفانہ انعقاد دراصل جمہوریت، کشمیری عوام اور ریاست کی عملداری کی بڑی کامیابی ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ دوسرے مرحلے کے دوران آزاد کشمیر اور مہاجرین کے 20 حلقوں میں انتخابی عمل کامیابی کے ساتھ مکمل ہوا، جس میں مسلم لیگ (ن) نے 23 نشستوں پر کامیابی حاصل کر کے آزاد کشمیر میں سادہ اکثریت حاصل کر لی ہے۔ میرپور ڈویژن کی 9 اور مظفرآباد ڈویژن کی 7 میں سے 4 نشستوں پر مسلم لیگ (ن) جبکہ 3 پر پیپلز پارٹی کامیا ب ہوئی، جبکہ مہاجرین کی 12 میں سے 10 نشستیں ن لیگ کے حصے میں آئیں۔

رانا ثناء اللہ نے پیپلز پارٹی کے رویے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “پیپلز پارٹی نے شکست سامنے دیکھ کر گزشتہ روز سے ہی دھاندلی کا بیانیہ بنانا شروع کر دیا تھا۔ ابتدا میں 13 حلقوں میں دھاندلی کا الزام لگایا گیا جو شواہد مانگنے پر پہلے 4 اور پھر 2 حلقوں تک محدود ہو گیا۔” انہوں نے بلاول بھٹو زرداری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کا نوٹس لیں کیونکہ عوامی مینڈیٹ کو تسلیم نہ کرنا میثاقِ جمہوریت کی روح کے منافی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سندھ سے آئے ہوئے ایک ایم این اے پولیس اہلکاروں کی معیت میں گاڑیوں کے قافلے لے کر پولنگ اسٹیشنوں پر خوف و ہراس پھیلاتے رہے۔

وفاقی وزیر امورِ کشمیر انجینئر امیر مقام نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر کی تاریخ کے اس انتہائی شفاف اور منصفانہ الیکشن کے انعقاد پر الیکشن کمیشن، مقامی انتظامیہ، پولیس اور سیکیورٹی ادارے مبارکباد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے گزشتہ دو سال سے انتخابی میدان میں مسلسل محنت کی ہے، اور پیپلز پارٹی کے مقامی رہنماؤں نے اپنی اعلیٰ قیادت کو غلط گائیڈ کیا۔

پریس کانفرنس کے دوران دونوں رہنماؤں نے دھرنا دینے والی تنظیموں اور کشمیری رہنماؤں کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دی اور کہا کہ احتجاج اور دھرنوں سے مسائل حل نہیں ہوتے، چند ہزار افراد لاکھوں ووٹرز کے مقدر کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آزاد کشمیر انتخابات کا آخری مرحلہ مکمل ہوتے ہی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلا کر حکومت سازی کا عمل مکمل کیا جائے گا اور قائد میاں محمد نواز شریف کے وعدوں کے مطابق آزاد کشمیر میں تعمیر و ترقی کا نیا دور شروع ہوگا۔

ایچ ای سی کا سری لنکا میں انڈرگریجویٹ سکالرشپ کا اعلان: پاکستانی طلبہ سے درخواستیں طلب

روزینہ اسماعیل, August 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اگست 2026ء

ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے سری لنکا کے معروف تعلیمی ادارے ‘سری لنکا انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی’ میں ستمبر اور اکتوبر 2026ء کے تعلیمی سیشن کے لیے ایک انڈرگریجویٹ سکالرشپ کا باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے اہل اور خواہش مند پاکستانی طلبہ سے درخواستیں طلب کر لی ہیں۔

ایچ ای سی حکام کے مطابق یہ سکالرشپ سری لنکا میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے خواہش مند پاکستانی طلبہ کو بین الاقوامی سطح پر جدید تعلیمی مواقع فراہم کرنے کے مقصد کے تحت پیش کی جا رہی ہے۔

کوائف اور اہلیت کے معیار کے حوالے سے ایچ ای سی نے واضح کیا ہے کہ تمام خواہشمند امیدوار مقررہ طریقہ کار کے مطابق آن لائن درخواست جمع کرا سکتے ہیں۔ پروگرام سے متعلق تمام تر بنیادی اہلیت، درخواست دینے کے مرحلہ وار طریقہ کار اور دیگر ضروری شرائط و ضوابط کی مکمل تفصیلات ایچ ای سی کی آفیشل ویب سائٹ پر آن لائن فراہم کر دی گئی ہیں۔

ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے اس بات کی بھی پیشگی وضاحت کی ہے کہ مذکورہ سکالرشپ میں صرف ٹیوشن فیس یا تعلیمی اخراجات شامل ہوں گے، جبکہ رہائش، کھانے پینے، فضائی سفر کے ٹکٹ، یومیہ جیب خرچ، طبی بیمہ، ویزا فیس، ویزا کی تجدید اور دیگر تمام شخصی اخراجات منتخب ہونے والے طلبہ کو خود برداشت کرنا ہوں گے۔

ایچ ای سی انتظامیہ نے تمام دلچسپی رکھنے والے امیدواروں کو سخت ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی درخواستیں جمع کرانے سے قبل اہلیت کے تمام معائر اور گائیڈ لائنز کا بغور مطالعہ کریں اور آخری تاریخ سے قبل اپنی درخواستوں کی مکمل اور درست فراہمی کو یقینی بنائیں۔

وفاقی حکومت کی بڑی پیش رفت: چار آکوپیشنل گروپس کے 75 فیصد سول سرونٹس کا سروس ریکارڈ ڈیجیٹلائز کر دیا گیا

کاشف عباسی , August 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اگست 2026ء

وفاقی حکومت نے سول سروس میں انسانی وسائل کے انتظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور کاغذی ریکارڈ پر انحصار ختم کرنے کے لیے چار اہم آکوپیشنل گروپس سے تعلق رکھنے والے وفاقی سرکاری افسران کا تقریباً 75 فیصد سروس ریکارڈ ڈیجیٹلائز کر دیا ہے۔

ویلتھ پاکستان کو دستیاب ہونے والی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ میں پیش کی گئی سرکاری دستاویزات کے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ہیومن ریسورس مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے نفاذ کے ذریعے اس پروسیس میں غیر معمولی اور نمایاں پیش رفت کی ہے۔ ایچ آر ایم آئی ایس ایک ویب بیسڈ اور مرکزی ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے، جس پر پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس ، پولیس سروس آف پاکستان ، آفس مینجمنٹ گروپ اور سیکریٹریٹ گروپ کے افسران کے تمام سروس ریکارڈز کو محفوظ کیا جا رہا ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو دی جانے والی بریفنگ کے مطابق، 75 فیصد ڈیٹا کی کامیاب انٹری کے بعد باقی ماندہ ریکارڈ کو بھی ہنگامی بنیادوں پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس دوران اسٹیبلشمنٹ ڈویژن ریکارڈ کی سخت جانچ، تصدیق اور درستگی کے مرحلے کو بھی جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ سسٹم میں شامل تمام تر معلومات سو فیصد مستند اور بلا غلطی رہیں۔ اس جدید پلیٹ فارم میں افسران کے ذاتی ڈیٹا، تقرریوں، ترجیحی سنیارٹی، تعلیمی اسناد، تربیت، رخصت کی تفصیلات، پرفارمنس ایویلیوایشن رپورٹس اور سروس ہسٹری کا مکمل ڈیٹا مرتب کیا گیا ہے۔

افسران کو یہ سہولت بھی دی گئی ہے کہ وہ اپنے لاگ ان کے ذریعے اپنے پورٹل کا خود جائزہ لے سکیں اور اگر کہیں غلطی ہو تو تصحیح کی درخواستیں جمع کروا سکیں، جنہیں چھان بین کے بعد نفاذ کا حصہ بنایا جاتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے سینیٹ کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ پرانے ریکارڈ کی وجہ سے کام میں کوئی التوا نہیں آ رہا اور تمام تر توجہ ڈیٹا کی مکمل اور مستند انٹری پر مرکوز کی گئی ہے۔

مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد ایچ آر ایم آئی ایس وفاقی افسران کی سروس سے متعلق تمام امور بشمول ترقیوں، تبادلوں اور تربیتی مراحل کے لیے واحد مستند اور مرکزی ذریعہ ثابت ہوگا، جس سے گڈ گورننس، شفافیت اور میرٹ کی بالادستی کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔

ادارہ شماریا ت کا دعویٰ: جولائی 2026ء میں مہنگائی کی سالانہ شرح سنگل ڈیجٹ میں آ گئی، شرح 9.2 فیصد تک محدود

منصور احمد, August 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اگست 2026ء

وفاقی ادارۂ شماریات نے نئے مالی سال کے پہلے ماہ یعنی جولائی 2026ء کے لیے مہنگائی سے متعلق سالانہ و ماہانہ اعداد و شمار کی تفصیلی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح کم ہو کر سنگل ڈیجٹ یعنی 9.2 فیصد تک آ گئی ہے۔

وفاقی ادارۂ شماریات کے ترجمان اور جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، جون 2026ء میں مہنگائی کی سالانہ شرح 11.1 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی، جبکہ اس کے برعکس گزشتہ مالی سال کے اسی پہلے مہینے یعنی جولائی 2025ء میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی 4.1 فیصد کی سطح پر تھی۔ تمام تر سالانہ کمی کے باوجود، اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ماہانہ بنیادوں پر جولائی کے دوران جون کے مقابلے میں مہنگائی میں 1.19 فیصد کا مزید اضافہ درج کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں شہری اور دیہی معیشت کے علاحدہ اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ دیہی علاقوں میں مہنگائی کی شدت نسبتاً زیادہ رہی۔ جولائی 2026ء کے دوران دیہی علاقوں میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 9.93 فیصد جبکہ شہری علاقوں میں 8.72 فیصد رہی۔

ماہانہ بنیادوں کے تقابل کے لحاظ سے دیکھا جائے تو جولائی میں دیہی علاقوں کے اندر اشیائے ضروریہ اور سروسز کی قیمتوں میں 1.23 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ دوسری جانب شہری علاقوں میں ماہانہ بنیادوں پر یہ اضافہ 1.16 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔

ملک کے بڑے دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کی تازہ ترین صورتحال: واپڈا نے اعداد و شمار جاری کر دیے

منصور احمد, August 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اگست 2026ء

واپڈا (واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی) کے ترجمان کے مطابق ملک کے تمام بڑے دریاؤں اور اہم آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج اور واٹر لیول کی تازہ ترین صورتحال پر مبنی رپورٹس جاری کر دی گئی ہیں۔

ترجمان واپڈا کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق تربیلا کے مقام پر دریائے سندھ میں پانی کی آمد 2 لاکھ 50 ہزار 700 کیوسک جبکہ اخراج 1 لاکھ 91 ہزار 900 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ منگلا کے مقام پر دریائے جہلم میں پانی کی آمد 44 ہزار 700 کیوسک جبکہ اخراج 7 ہزار کیوسک رہا۔ اسی طرح چشمہ بیراج کے مقام پر پانی کی آمد 2 لاکھ 52 ہزار کیوسک جبکہ اخراج 2 لاکھ 43 ہزار 700 کیوسک درج کیا گیا ہے۔

دیگر اہم مقامات کی صورتحال کے مطابق ہیڈ مرالہ پر دریائے چناب میں پانی کی آمد 85 ہزار 900 کیوسک اور اخراج 69 ہزار 900 کیوسک رہا، جبکہ نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل میں پانی کی آمد اور اخراج دونوں یکساں طور پر 43 ہزار 700 کیوسک ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

آبی ذخائر (ریزروائرز) میں پانی کی موجودگی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ تربیلا ریزروائر میں اس وقت پانی کی سطح 1543 فٹ اور ذخیرہ 51 لاکھ 78 ہزار ایکڑ فٹ ہے، جبکہ منگلا ریزروائر میں پانی کی سطح 1199.35 فٹ اور ذخیرہ 41 لاکھ 93 ہزار ایکڑ فٹ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مزید برآں چشمہ ریزروائر میں پانی کی سطح 648.50 فٹ اور قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 2 لاکھ 85 ہزار ایکڑ فٹ ہو چکا ہے۔ اس طرح تینوں بڑے ریزروائرز میں قابلِ استعمال پانی کا مجموعی ذخیرہ اس وقت 96 لاکھ 56 ہزار ایکڑ فٹ تک پہنچ چکا ہے۔

ترجمان واپڈا نے مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ تربیلا، چشمہ، نوشہرہ اور منگلا کے مقامات پر پانی کی آمد و اخراج سے متعلق اعداد و شمار گزشتہ 24 گھنٹوں کے اوسط بہاؤ کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں، جبکہ ہیڈ مرالہ سمیت دیگر مقامات کے اعداد و شمار آج صبح 6 بجے کی تازہ ترین صورتحال کے مطابق جاری کیے گئے ہیں۔

گرین لیگیسی انیشیٹو: ایتھوپین سفارتخانے کا اسلام آباد میں شجرکاری مہم کا انعقاد، پاکستانی شہریوں کی بھرپور شرکت

منصور احمد, August 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اگست 2026ء

ایتھوپیا کے وزیراعظم ڈاکٹر ابی احمد کے تاریخی ‘گرین لیگیسی انیشیٹو’ کے تحت ایک ہی دن میں شجرکاری کی عالمی مہم میں پاکستانی شہریوں نے بھی روایتی جوش و جذبے کے ساتھ شرکت کی ہے۔

اسلام آباد میں قائم ایتھوپین سفارتخانے نے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے تعاون سے ایک خصوصی شجرکاری مہم کا اہتمام کیا، جس میں سفارتی برادری، تاجر برادری، میڈیا نمائندگان اور سول سوسائٹی کے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

پاکستان میں اس تقریب کا بنیادی مقصد ایتھوپیا کے اس عظیم الشان قومی ہدف کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار تھا جس کے تحت ایک ہی دن میں 80 کروڑ پودے لگائے جا رہے ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد میں ایتھوپین سفارتخانے کے چارج ڈی افیئرز مسٹر میلاؤ گیٹاچو نے گرین لیگیسی انیشیٹو کے ماحولیاتی اثرات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ اس فلیگ شپ پروگرام کے تحت ایتھوپیا اب تک 48 ارب سے زائد پودے لگا چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ “آج کی اس مہم کا مقصد ایتھوپیا میں اپنے بھائیوں اور بہنوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہونا اور 80 کروڑ پودے لگانے کے ان کے عظیم ہدف کی حمایت کرنا ہے۔” انہوں نے موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف جنگ میں ایتھوپیا کی عالمی قیادت پر بھی زور دیا اور بتایا کہ ادیس ابابا جلد ہی بین الاقوامی کلائمیٹ سمٹ کی میزبانی بھی کرے گا۔

اس موقع پر کلین اینڈ گرین موومنٹ اسلام آباد کے چیئرمین اور اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے سابق صدر ظفر بختاوری نے جنگلات کی بحالی کے لیے ایتھوپیا کی ان شاندار کاوشوں کو زبردست الفاظ میں سراہا۔

انہوں نے کہا کہ “گرین لیگیسی انیشیٹو کا وژن اسلام آباد کی ہماری ‘کلین اینڈ گرین موومنٹ’ کے اہداف سے مکمل طور پر مطابقت رکھتا ہے۔” انہوں نے زور دیا کہ گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر متحد ہو کر مشترکہ اقدامات کرنا وقت کا سب سے بڑا تقاضا ہے۔

این ڈی ایم اے کی جانب سے ملک کے بڑے دریاؤں اور ندی نالوں میں طغیانی کے حوالے سے نیا الرٹ جاری: 2 تا 4 اگست کے دوران پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافے کا امکان

کاشف عباسی , August 02,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) نے ملک بھر میں 2 سے 4 اگست کے دوران تمام بڑے دریاؤں، ندی نالوں اور آبی ذخائر میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اور غیر معمولی اضافے کا امکان ظاہر کرتے ہوئے نیا ہنگامی الرٹ جاری کر دیا ہے۔

این ڈی ایم اے کے میڈیا ونگ کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق اس وقت دریائے لہڑی میں ہیڈ گوگی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب جبکہ وزیر آباد کے قریب نالہ پلکھو میں درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسی طرح دریائے سندھ میں کالاباغ، چشمہ، گدو اور سکھر کے مقامات پر نچلے درجے کی طغیانی جاری ہے، جبکہ دریائے ناری میں ہیڈ ناری پر بھی نچلے درجے کا سیلاب ہے۔

این ای او سی کی تازہ پیشگوئی کے مطابق دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر اونچے درجے جبکہ خانکی اور قادر آباد کے مقامات پر نچلے سے درمیانے درجے کا بہاؤ متوقع ہے۔ اس کے علاوہ دریائے جہلم، راوی، کابل اور ان کے معاون ندی نالوں میں نچلے سے درمیانے درجے کے پانی کے بہاؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ اتھارٹی نے واضح کیا کہ راوی، جہلم اور چناب سے منسلک ندی نالوں میں شدید طغیانی آ سکتی ہے، جبکہ راوی اور ستلج میں مجموعی صورتحال کا انحصار بھارتی آبی ذخائر سے پانی کے متوقع اخراج پر ہوگا۔

این ڈی ایم اے نے مزید خبردار کیا ہے کہ ڈی جی خان اور راجن پور کے پہاڑی نالوں، وسطی و جنوبی خیبر پختونخوا اور شمالی بلوچستان کے ندی نالوں میں اچانک طوفانی سیلاب (فلیش فلڈنگ) کا شدید خطرہ موجود ہے۔ مزید برآں راولپنڈی، جہلم، گوجرانوالہ، لاہور، فیصل آباد، پشاور، مردان، نوشہرہ، حیدرآباد، بدین، ٹھٹھہ اور سندھ کے دیگر نشیبی شہری علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث اربن فلڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مون سون کے اس خطرناک اسپیل کے دوران غیر ضروری سفر اور پہاڑی علاقوں میں سیاحتی سرگرمیوں سے مکمل گریز کریں۔ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور ملبے کے ریلوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ این ڈی ایم اے نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ تیز بہاؤ والے سیلابی پانی کو پیدل یا گاڑی کے ذریعے عبور کرنے کی کوشش ہرگز نہ کریں کیونکہ کم گہرا پانی بھی شدید خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔ سفر کے دوران خشک خوراک، پینے کا پانی، پاور بینک اور ابتدائی طبی امداد کا سامان ساتھ رکھیں اور باخبر رہنے کے لیے ‘پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ’ ایپ استعمال کریں۔

شملہ پہاڑی نادرا سینٹر لاہور میں غیر معمولی تبدیلی: طویل انتظار کے خاتمے اور تیز تر سروس پر شہریوں کی جانب سے اطمینان کا اظہار

منصور احمد, August 02,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

ماضی میں شدید رش اور طویل قطاروں کے لیے معروف شملہ پہاڑی نادرا رجسٹریشن سینٹر لاہور میں ایک غیر معمولی اورمثالی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے، جہاں اب شہریوں کو تیز تر، موثر اور باوقار انداز میں عام خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔

یہ ڈرامائی اور مثبت تبدیلی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے شملہ پہاڑی میں قائم 24/7 نادرا سینٹر کے اچانک اور غیر اعلانیہ دورے کے دوران سامنے آئی، جہاں انہوں نے اپ گریڈ شدہ جدید سہولیات اور ہموار آپریشنز کا خود جائزہ لیا اور خوشگوار حیرت کا اظہار کیا۔ جہاں پہلے گھنٹوں کا انتظار اور لمبی قطاریں اس مرکز کی شناخت ہوا کرتی تھیں، وہاں اب شہری آرام دہ، مکمل ایئر کنڈیشنڈ ماحول میں چند منٹوں کے اندر شناختی کارڈ اور دیگر سرکاری دستاویزات کا حصول ممکن بنا رہے ہیں۔

دورے کے دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے مرکز میں موجود شہریوں سے بلا واسطہ گفتگو کی، رجسٹریشن کے عمل، وقت کی بچت اور سروس کے معیار کے حوالے سے استفسار کیا۔ شہریوں نے اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا کام بلا تاخیر محض چند منٹوں میں مکمل ہوا اور عملے کی پیشہ ورانہ مہارت و خوش اخلاقی قابلِ ستائش ہے۔ ایک بزرگ خاتون اور شہریوں نے بہترین و باعزت سلوک پر وزیر داخلہ اور نادرا عملے کے لیے دعائیں اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

محسن نقوی نے فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے آئے دو شہریوں کی درپیش مشکلات کا موقع پر ہی نوٹس لیتے ہوئے فوراً ازالے کی ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ شہریوں کو درکار دستاویزات کی درست رہنمائی فراہم کی جائے تاکہ کسی کو بلاوجہ کے چکر نہ کاٹنے پڑیں۔ مزید برآں، سینٹر کے باہر پارکنگ اٹینڈنٹس کی جانب سے زائد فیس وصولی کی عوامی شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے انہوں نے متعلقہ حکام کو فوری ایکشن لینے کی ہدایت کی۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “شہریوں کا اعتماد اور اطمینان ہی کسی سرکاری ادارے کی حقیقی کامیابی کا سب سے بڑا پیمانہ ہوتا ہے۔” انہوں نے اس مثالی تبدیلی اور اصلاحات کے نتائج پر چیئرمین نادرا اور ان کی پوری ٹیم کی لگن، محنت اور بہترین عوامی خدمات کی فراہمی پر ان کی کوششوں کو زبردست الفاظ میں سراہا۔

پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب کا دعویٰ: “میرپور کے بعد مظفرآباد اور مہاجرین کی نشستوں پر بھی شیر کامیاب ہوگا”

کاشف عباسی , August 02,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

پنجاب کی سینئر وزیر اور مسلم لیگ (ن) کی مرکزی رہنما مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں میرپور ڈویژن کے بعد اب مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں پر بھی مسلم لیگ (ن) شاندار اور تاریخی کامیابی حاصل کرے گی۔

اسلام آباد میں جاری کردہ اپنے ایک اہم ترین سیاسی بیان میں مریم اورنگزیب نے اپوزیشن اور سیاسی مخالفین کو آڑھے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ “آج الیکٹورل میدان میں شکست سے دوچار ہونے والی جماعت محض واویلا کر رہی ہے اور رو رہی ہے، جبکہ محض رونے یا الزامات تراشی سے نہ تو ووٹ ملتا ہے اور نہ ہی ووٹر گھروں سے باہر نکلتا ہے۔”

انہوں نے کہا کہ دھمکیاں دینے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی سیاست اب ختم ہو چکی ہے؛ عوام اور ووٹرز کو میدان میں لانے کے لیے عملی کارکردگی اور خدمات کی تاریخ دکھانی پڑتی ہے۔ مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ مظفرآباد سمیت پنجاب بھر میں قائم ن لیگ کے انتخابی کیمپوں میں ووٹرز اور کارکنوں کا غیر معمولی رش اور جوش و خروش صاف دکھائی دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب اور آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کا ووٹر مکمل طور پر چارج ہے اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کر رہا ہے جسے پورا پاکستان دیکھ رہا ہے۔

سینئر صوبائی وزیر نے مخالفین کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ “رونے والوں کے لیے ہمارا پیغام ہے کہ وہ ہمت کریں اور سیاسی میدان میں آ کر الیکٹورل مقابلہ کریں۔” انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ میرپور کی شاندار فتح کے تسلسل میں آج مظفرآباد اور پنجاب میں مقیم مہاجرین کی نشستوں پر بھی “شیر” ہی کامیابی کا پرچم لہرائے گا۔

جائے وقوعہ سے خودکش حملہ آور کا سر برآمد؛ پولیس اور ریسکیو 1122 کی جانب سے ایمرجنسی آپریشن جاری، علاقہ ناکابندی کے بعد سیل،

منصور احمد, August 02,2026

سوات (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کے علاقے کبل میں پولیس اسٹیشن کے مرکزی گیٹ کے قریب ایک شدید اور زور دار دھماکہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں اور عام شہریوں سمیت متعدد افراد شدید زخمی ہو گئے ہیں جبکہ کئی ہلاکتوں کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ابتدائی اطلاعات اور عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے وقت پولیس اسٹیشن کے قریب مقامی نوجوانوں کا امن و امان کے حوالے سے ‘امن پاسون’ کا احتجاجی مظاہرہ جاری تھا، جس کے باعث موقع پر شہریوں، مظاہرین اور پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اچانک ہونے والے اس خوفناک دھماکے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس اور بھگدڑ مچ گئی۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) سوات نے واقعے کے حوالے سے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات اور شواہد کی روشنی میں دھماکہ مبینہ طور پر خودکش حملہ معلوم ہوتا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق جائے وقوعہ سے ایک انسانی سر بھی برآمد ہوا ہے، جو ممکنہ طور پر خودکش حملہ آور کا ہو سکتا ہے۔ سیکیورٹی فورسز اور کرائم سین انویسٹی گیشن ٹیموں نے فرانزک شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے اور واقعے کی تمام تر پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔

ریسکیو 1122 کے ذرائع کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی میڈیکل ٹیمیں اور متعدد ایمبولینسز فوری طور پر جائے وقوعہ کی طرف روانہ کر دی گئیں۔ امدادی اہلکاروں نے زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرتے ہوئے فوری طور پر قریبی تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال اور سیدو شریف ہسپتال منتقل کر دیا ہے۔ ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر 10 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ حتمی جانی و مالی نقصانات کا اندازہ ریسکیو آپریشن مکمل ہونے کے بعد لگایا جائے گا۔

واقعے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سنگین ترین دستوں نے کبل اور اس کے گردونواح کے تمام راستوں کو سیل کر کے علاقے کا محاصرہ کر لیا ہے اور سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

فواد چوہدری کا داؤ: “موجودہ نظام بالکل ناکام ہو چکا، سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ میں عمران خان کے بغیر مذاکرات ممکن نہیں”

منصور احمد, August 02,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ موجودہ حکومتی نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے اور حکومت عملی طور پر فارغ ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں پائیدار سیاسی و معاشی استحکام کے لیے سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ڈائیلاگ کا آغاز ہونا ضروری ہے، تاہم تحریکِ انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کے بغیر ایسا کوئی بھی مذاکراتی عمل ہرگز مکمل نہیں ہو سکتا۔

لاہور میں گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے حکومت کو آڑھے ہاتھوں لیا اور کہا کہ تین وفاقی وزراء خود وزیراعظم کی حیثیت پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیانیے اور عدم اعتماد کی تحریک کے وقت ہم نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ موجودہ سیٹ اپ ملک نہیں چلا سکتا۔

پنجاب کی ممکنہ تقسیم کے موضوع پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اصلاحات صرف پنجاب تک محدود نہیں ہونی چاہئیں کیونکہ اصل مسائل دیگر صوبوں میں ہیں۔ پاکستان چند بلوچ اور سندھی وڈیروں کی منشا کے مطابق نہیں چلایا جا سکتا اور بلوچستان کو 1970ء سے پہلے والی اصل سیاسی و انتظامی بنیادوں پر بحال کرنے کی ضرورت ہے۔

فواد چوہدری نے زور دے کر کہا کہ موجودہ نظام اپنی افادیت پوری طرح کھو چکا ہے اور اب اس میں متبادل اصلاحات پر بات ہونا وقت کا سب سے بڑا تقاضا ہے۔ نئے صوبے، بلدیاتی نظام اور ذیلی انتظامی حدود جیسے موضوعات پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے کیونکہ پرانے طرزِ حکمرانی کو زبردستی جاری رکھنا اب ممکن نہیں رہا۔

حکومتی اخراجات اور وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شاہانہ اخراجات کی ایسی مثالیں ماضی میں بھی نہیں ملتی۔ اربوں روپے کے جہاز کی خریداری، مختلف تقاریب کے بے دریغ اخراجات، وکلاء و صحافیوں میں مبینہ فنڈز کی تقسیم اور بیوروکریسی کے لیے اربوں روپے جاری کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ عوامی وسائل کا بے دردی سے زیاں کیا جا رہا ہے۔

علیمہ خان کا کوہاٹ میں کارکنوں سے خطاب: “ریاست 24 کروڑ عوام ہیں، تصادم نہیں اتحاد کی ضرورت ہے”

کاشف عباسی , August 02,2026

کوہاٹ (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ اب نہ کسی نے گولیاں کھانی ہیں اور نہ ہی کسی نے گولیاں مارنی ہیں کیونکہ سپاہی اور فوجی بھی ہمارے اپنے ہی بچے ہیں، اور شہادتیں عوام و سپاہیوں دونوں کی ہو رہی ہیں، اس لیے وقت کا تقاضا تصادم کے بجائے اتحاد اور امن ہے۔

کوہاٹ میں پی ٹی آئی کارکنوں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے علیمہ خان نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی حالیہ گفتگو کے تناظر میں کہا کہ عوام کے ٹیکسوں سے چلنے والے ادارے خود کو ریاست قرار دیتے ہیں، حالانکہ ریاست تنخواہ دار ادارے نہیں بلکہ وہ 24 کروڑ عوام ہیں جو اپنی جیب سے ٹیکس ادا کر کے ان اداروں کو چلاتے ہیں۔ ملک کے مختلف علاقوں کے غیور عوام کو غدار یا دہشت گرد قرار دینا انتہائی غیر مناسب طرزِ عمل ہے۔

عمران خان کی صحت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے علیمہ خان نے بتایا کہ گردش کرنے والی خبروں میں کہا جا رہا ہے کہ عمران خان کو بلڈ پریشر کا مسئلہ درپیش ہے، حالانکہ انہیں پہلے ایسا کوئی عارضہ لاحق نہیں تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کا فوری طور پر ہسپتال میں مکمل طبی معائنہ کرایا جائے، مناسب علاج فراہم کیا جائے اور ان کی آنکھ میں خون کا لوتھڑا آنے کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔

علیمہ خان نے پی ٹی آئی کے بنیادی مطالبات دہراتے ہوئے کہا کہ عدالتی احکامات کے مطابق ہر ہفتے 18 افراد کو عمران خان سے جیل میں ملاقات کی اجازت دی جائے کیونکہ ملاقاتیں بند کر کے انہیں قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے جس کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ مزید برآں، عمران خان کے تمام مقدمات جلد سماعت کے لیے مقرر کیے جائیں تاکہ انہیں قانون کے مطابق انصاف مل سکے۔ انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ اپنے حقوق کے لیے پرامن انداز میں آواز بلند کریں اور متحد رہیں۔

خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام اور بدامنی کا خاتمہ صرف اور صرف عمران خان کی رہائی سے ہی ممکن ہے۔ عمران خان کے دورِ حکومت میں معیشت بہتر تھی اور جی ڈی پی کی شرح نمو 6 فیصد پر تھی، جبکہ کورونا وبا کے باوجود ملک کو کامیابی سے چلایا گیا، تاہم بعد میں ایک سازش کے تحت حکومت ختم کر کے ملک کو سنگین بحرانوں میں دھکیلا گیا۔

اسلام آباد کیپیٹل پولیس بھرتی 2026ء: ایف نائن پارک اور پولیس لائنز ہیڈکوارٹرز میں فزیکل و رننگ ٹیسٹ کا سلسلہ جاری

کاشف عباسی , August 02,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

اسلام آباد کیپیٹل پولیس میں بھرتی 2026ء کے سلسلے میں امیدواروں کے رننگ اور فزیکل ٹیسٹ ایف نائن پارک اور پولیس لائنز ہیڈکوارٹرز کے ٹیسٹ سینٹرز میں باقاعدگی سے جاری ہیں۔

ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق ایف نائن پارک ٹیسٹ سینٹر میں ڈی آئی جی سیکیورٹی رانا عمر فاروق خود بھرتی کے تمام تر مراحل کی براہِ راست نگرانی کر رہے ہیں تاکہ تمام امیدواروں کو مساوی، شفاف اور منصفانہ مواقع فراہم کیے جا سکیں۔

دوسری جانب، پولیس لائنز ہیڈکوارٹرز ٹیسٹ سینٹر پر ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرز محمد جواد طارق کی زیرِ نگرانی فزیکل اور رننگ ٹیسٹ کے مراحل کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ ٹیسٹ سینٹرز پر سینئر افسران خود بھی بالمشافہ موجود رہ کر ہر مرحلے کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں تاکہ سیکیورٹی، نظم و ضبط اور تمام تر انتظامات کو شفافیت کے ساتھ یقینی بنایا جا سکے۔

اسلام آباد پولیس انتظامیہ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ تمام پروسیس کو شفاف اور منظم انداز میں مکمل کیا جائے گا اور امیدواروں کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

خیبرپختونخوا میں ‘آپریشن گرج 11’ کے تحت سیکیورٹی فورسز کی انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں جاری: متعدد خوارج ہلاک، ٹھکانے تباہ

منصور احمد, August 02,2026

باجوڑ (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

خیبرپختونخوا میں گزشتہ دو ماہ کے دوران سیکیورٹی فورسز کی جانب سے “آپریشن گرج 11” کے تحت موثر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز مسلسل جاری ہیں۔ ان کارروائیوں کے دوران فورسز نے متعدد خوارج کو جہنم واصل کرتے ہوئے ان کے خفیہ ٹھکانے کامیابی سے تباہ کر دیے ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشنز کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے متعدد سہولت کاروں کو حراست میں لیا ہے جبکہ ان کے قبضے سے بھاری مقدار میں جدید اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے۔ باجوڑ کے علاقے شاکرو میں کی گئی ایک مخصوص انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز نے خوارج کے ٹھکانوں کو انتہائی موثر اور نشانہ انداز میں تباہ کیا۔

باجوڑ میں کی جانے والی ان کامیاب پیش قدمیوں کے دوران متعدد خوارج کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ سیکیورٹی فورسز نے “آپریشن گرج 11” کے دوران خوارجین کے زیرِ استعمال دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد اور بموں کو بھی موقع پر ہی ناکارہ بنا کر تباہ کر دیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ زمینی افواج اور کواڈ کاپٹر ٹیکنالوجی کے امتزاج سے کی جانے والی ان سرجیکل کارروائیوں کے ذریعے دہشت گردوں کو مقامی آبادی سے فرار ہونے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ تمام عملیات میں اس بات کو خاص طور پر یقینی بنایا جا رہا ہے کہ عام شہریوں کے جان و مال کا مکمل تحفظ رہے اور مقامی آبادی کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔ سیکیورٹی فورسز نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور خیبرپختونخوا میں دیرپا امن کے قیام تک یہ کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔

این ڈی ایم اے میں ایمرجنسی رسپانس کمیٹی کا 10واں اجلاس: وفاقی وزیر احسن اقبال کی صدارت میں ملک بھر میں مون سون اور ریلیف سرگرمیوں کا جائزہ

روزینہ اسماعیل, August 02,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت پر روزانہ کی بنیاد پر منعقد ہونے والے سلسلہ وار اجلاسوں کے تسلسل میں ایمرجنسی رسپانس کمیٹی کا 10واں اہم اجلاس نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) ہیڈکوارٹرز کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر میں منعقد ہوا۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات پروفیسر احسن اقبال نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس کی صدارت کی، جبکہ چیئرمین این ڈی ایم اے، وفاقی و صوبائی حکام اور مختلف متعلقہ اداروں کے نمائندگان نے بالمشافہ اور آن لائن شرکت کی۔

این ڈی ایم اے کے میڈیا ونگ کے مطابق چیئرمین این ڈی ایم اے اور این ای او سی کی پیشہ ورانہ ٹیم نے ملک بھر میں مون سون کی تازہ ترین صورتحال، بارشوں کے باعث ہونے والے جانی و مالی نقصانات، اور جاری امدادی و بحالی کی سرگرمیوں پر کمیٹی کو تفصیلی اور جامع بریفنگ دی۔ چیئرمین این ڈی ایم اے نے آگاہ کیا کہ متوقع بارشوں کے پیشِ نظر تمام ممکنہ متاثرہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور مقامی انتظامیہ کو صورتحال سے بروقت اور پیشگی باخبر کر دیا گیا ہے تاکہ ہر قسم کے خطرے سے نمٹا جا سکے۔

اجلاس کے دوران کمیٹی کو حال ہی میں ہونے والی شدید بارشوں اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال کے بعد وفاقی، صوبائی اور ضلعی اداروں کی جانب سے کیے گئے فوری اور بروقت امدادی اقدامات کے بارے میں بتایا گیا۔ این ای او سی نے پیشگوئی کی ہے کہ آئندہ چند دنوں میں ملک کے شمالی و وسطی علاقوں سمیت جنوب مشرقی سندھ کے بعض مقامات پر بھی مزید بارشوں کا قوی امکان موجود ہے۔

این ڈی ایم اے کی ٹیم نے بریفنگ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ حالیہ مون سون کے دوران ہونے والی زیادہ تر اموات کچے مکانات کے گرنے اور کمزور تعمیرات کو پہنچنے والے شدید نقصان کے باعث ہوئیں۔ اس کے علاوہ متاثرہ علاقوں میں قومی اور بین الاقوامی فلاحی و امدادی تنظیموں کے تعاون سے جاری ریلیف آپریشن پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس کے اختتام پر وفاقی وزارتوں، صوبائی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ کی ریسکیو اور ریلیف کاوشوں کو سراہا گیا، جبکہ ایمرجنسی رسپانس کمیٹی نے تمام متعلقہ اداروں کو آپس میں قریبی رابطہ برقرار رکھنے، پیشگی تیاری مکمل رکھنے اور متاثرین کی بحالی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی سخت ہدایت کی۔

امریکی ریاست ایڈاہو میں فائرنگ کا افسوسناک واقعہ: ان-این-آؤٹ ریسٹورنٹ میں اندھا دھند فائرنگ سے متعدد افراد ہلاک و زخمی

محمود احمد, August 02,2026

ٹوئن فالس، ایڈاہو (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

امریکی ریاست ایڈاہو کے شہر ٹوئن فالس میں واقع معروف فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ ‘ان-این-آؤٹ’ میں ایک مسلح شخص نے اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور شدید زخمی ہو گئے ہیں۔

مقامی پولیس حکام اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فائرنگ کا یہ دردناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب ریسٹورنٹ میں شہریوں اور صارفین کا شدید رش تھا۔ اچانک ایک مسلح حملہ آور نے داخل ہو کر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی، جس سے وہاں موجود لوگوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور بھگدڑ مچ گئی۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، سوات ٹیموں اور ہنگامی امدادی اہلکاروں نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر علاقے کا محاصرہ کر لیا۔ پولیس حکام نے تصدیق کی ہے کہ سیکیورٹی فورسز اور مسلح حملہ آور کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں مشتبہ شوٹر موقع پر ہی مارا گیا ہے۔

مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تمام زخمیوں کو فوری طبی امداد کی فراہمی کے لیے قریب ترین ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں بعض افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ واقعے کے بعد پولیس نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن اور باریک بینی سے تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے تاکہ فائرنگ کی وجوہات اور ملزم کے دوافع کا پتہ لگایا جا سکے۔

خلیجی تنازعات اور امریکی تجارتی دباؤ: مودی حکومت کی توانائی پالیسی اور غیر متوازن خارجہ حکمتِ عملی شدید مشکلات کا شکار

محمود احمد, August 02,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

خلیجی خطے میں جاری کشیدگی اور امریکی تجارتی دباؤ کے پیشِ نظر مودی حکومت کی توانائی پالیسی اور غیر متوازن خارجہ حکمتِ عملی شدید مشکلات و کڑی آزمائش کا شکار ہو چکی ہے۔ عالمی منظرنامے میں تیزی سے ہونے والی تبدیلیوں کے باعث بھارت کو شدید معاشی اور سفارتی چیلنجز کا سامنا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے الجزیرہ کی رپورٹس اور عالمی نشریاتی جائزوں کے مطابق امریکی سینیٹ میں پیش کیے گئے ایک مسودہ قانون کے تحت روسی توانائی کے بڑے خریدار ممالک پر 100 فیصد تک کا بھاری تجارتی ٹیرف عائد ہونے کا خطرہ بھارتی معیشت پر منڈلا رہا ہے۔ عالمی پابندیوں کی پروا کیے بغیر روس سے سستا خام تیل خریدنے کی پالیسی اب بھارت کے لیے گلے کا طوق بن چکی ہے اور مودی حکومت توانائی کے تحفظ اور امریکی ٹیرف کے خطرات کے درمیان توازن قائم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ امریکی سینیٹر رچرڈ بلومن تھال اور دیگر قانون سازوں کی جانب سے متعارف کروائے گئے اس بل کے بعد مودی کی ناکام خارجہ پالیسی کے سبب بھارت امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والا سب سے نمایاں ملک بن چکا ہے۔

دوسری جانب، بھارتی جریدے ‘وی آن نیوز’ کے مطابق بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے بھی بدلتے ہوئے عالمگیر حالات کے تناظر میں روسی تیل پر شدید انحصار اور اس کے نتیجے میں درپیش سفارتی و معاشی اثرات کے حوالے سے تحفظات پر ردِعمل دیتے ہوئے صورتحال کی سنگینی کی تائید کی ہے۔

اس کے علاوہ، بھارت کے معروف توانائی اور تیل و گیس کے ماہر کیرت پاریکھ سمیت معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے باعث بھارتی روپے پر مسلسل شدید دباؤ بڑھ رہا ہے، جس سے ملک کے اندر مہنگائی میں سنگین اور غیر معمولی اضافے کا خدشہ پیدا ہو چکا ہے اور اس کا براہِ راست بوجھ عام بھارتی عوام پر پڑ رہا ہے۔

آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات 2026ء: لاہور اور گردونواح میں مہاجرین کی 2 نشستوں پر پولنگ کا عمل جاری

کاشف عباسی , August 02,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے جنرل انتخابات 2026ء کے دوسرے مرحلے میں مہاجرین کی دو اہم نشستوں ایل اے-34 جموں-I اور ایل اے-41 ویلی کے لیے لاہور اور اس کے گردونواح میں مقیم کشمیری مہاجرین اپنا آئینی و جمہوری حقِ رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔

حلقہ ایل اے-34 جموں-I کے لیے لاہور میں مجموعی طور پر 15 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، جن میں 1 مردانہ، 1 زنانہ اور 13 مشترکہ پولنگ اسٹیشن شامل ہیں۔ اس حلقے میں رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد 5 ہزار 965 ہے، جن میں 3 ہزار 175 مرد اور 2 ہزار 790 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔ شفاف اور بلا تعطل ووٹنگ کے لیے مجموعی طور پر 30 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں۔ اس نشست پر 17 امیدوار مدِ مقابل ہیں، جن میں استحکام پاکستان پارٹی کے بلال مختار بٹ، پاکستان پیپلز پارٹی کے چوہدری عبدالقادر چوہان، جماعت اسلامی کے راجہ محمد سہیل اور مسلم لیگ (ن) کے ناصر حسین ڈار کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔

دوسری جانب، ایل اے-41 ویلی کی نشست کے لیے مجموعی طور پر 6 ہزار 410 رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔ ان میں سے لاہور کے 5 ہزار 708، شیخوپورہ کے 583، ننکانہ صاحب کے 117 اور قصور کے 2 ووٹرز شامل ہیں۔ اس حلقے کے لیے مجموعی طور پر 19 پولنگ اسٹیشن بنائے گئے ہیں جن میں سے 13 لاہور، 4 شیخوپورہ جبکہ ننکانہ صاحب اور قصور میں 1، 1 پولنگ اسٹیشن شامل ہے۔ قصور کی ضلع میں صرف دو رجسٹرڈ ووٹرز کی سہولت کے لیے بھی مکمل پولنگ اسٹیشن قائم کر کے مثال قائم کی گئی ہے۔ ایل اے-41 میں 9 امیدوار انتخابی میدان میں ہیں، جن میں مسلم لیگ (ن) کے محمد عامر شاہ، تحریک انصاف کی حمایت یافتہ آزاد امیدوار صبا دیوان، پاکستان پیپلز پارٹی کے غلام عباس میر اور استحکام پاکستان پارٹی کے سعید احمد دار نمایاں ہیں۔

واضح رہے کہ 1947ء میں تقسیمِ برصغیر اور قیامِ پاکستان کے وقت آزاد کشمیر سے ہجرت کر کے پاکستان کے مختلف شہروں میں آباد ہونے والے کشمیری مہاجرین کی نمائندگی کے لیے قانون ساز اسمبلی میں خصوصی اور مخصوص نشستوں پر باقاعدگی سے انتخابات منعقد کیے جاتے ہیں۔

خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کی معاونت سے امریکی کاروباری وفد کا کراچی کا دو روزہ دورہ: سندھ میں سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ

محمود احمد, August 02,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کی موثر سہولت کاری اور معاونت سے اعلیٰ سطحی امریکی کاروباری وفد نے کراچی کا دو روزہ دورہ مکمل کر لیا ہے۔ اپنے دورے کے دوسرے روز امریکی وفد نے صوبائی وزراء سے اہم ملاقاتیں کیں اور صوبہ سندھ میں سرمایہ کاری کے متعدد مواقع کا تفصیلی جائزہ لیا۔

ان ملاقاتوں کے دوران بن قاسم انڈسٹریل پارک، کراچی انڈسٹریل پارک اور دیگر اہم صنعتی منصوبوں میں امریکی سرمایہ کاری کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر امریکی وفد کو سندھ بزنس ون اسٹاپ شاپ، کیٹی بندر پورٹ، این ای ڈی ٹیک پارک اور مجوزہ سندھ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر سے متعلق جامع بریفنگ بھی دی گئی۔

بعد ازاں امریکی وفد نے پاکستان بزنس کونسل کے نمائندوں سے بھی اہم ملاقات کی، جس میں کیپٹل مارکیٹس، زراعت، ٹیکسٹائل، توانائی، معدنیات، صحت اور دیگر اہم شعبہ جات میں دوطرفہ سرمایہ کاری کے امکانات پر بات چیت کی گئی۔

امریکی کاروباری وفد نے پاکستان میں قائم سرمایہ کاری کے سازگار ماحول اور مختلف معاشی شعبوں میں موجود کاروباری مواقع میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ کاروباری رہنماؤں نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے، پالیسیوں کے تسلسل کو یقینی بنانے اور کاروبار کو آسان بنانے کے حوالے سے ایس آئی ایف سی کے کلیدی کردار کی بھرپور تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ ایس آئی ایف سی کی سہولت کاری سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں جس سے پاک امریکہ معاشی تعاون مزید مضبوط اور مستحکم ہوگا۔

حریت رہنما میرواعظ عمر فاروق کی کالعدم ایکشن کمیٹی کی جانب سے کشمیری مہاجرین کے حقوق غصب کرنے کی کوشش پر شدید تنقید

کاشف عباسی , August 02,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

کالعدم ایکشن کمیٹی کی جانب سے کشمیری مہاجرین کے بنیادی حقوق غصب کرنے کی کوششوں پر مقبوضہ کشمیر اور لائن آف کنٹرول کی دوسری جانب سے بھی شدید تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔

سینئر حریت رہنما میرواعظ عمر فاروق نے کالعدم ایکشن کمیٹی کے موقف کو آڑھے ہاتھوں لیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں مقیم لاکھوں مہاجرینِ کشمیر کا حقِ رائے دہی ان کا ایک مسلمہ، آئینی اور جمہوری حق ہے، جسے کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری مہاجرین کے حقوق پوری ریاست جموں و کشمیر کے عوام کے اجتماعی حقوق کا لازمی حصہ ہیں اور وہ مساوی احترام و تحفظ کے مستحق ہیں۔

حریت رہنما میرواعظ عمر فاروق نے اپنے بیان میں زور دے کر کہا کہ کشمیریوں کی جاری جدوجہد کی کامیابی جموں و کشمیر کے ہر خطے کے باشندوں کے حقوق کی بلا تفریق نمائندگی سے مشروط ہے، اور کسی ایک طبقے کے مفاد یا حقوق کی خاطر دوسرے طبقے کے آئینی اور جمہوری حقوق کو کسی طور فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اجتماعی حقوق کا تحفظ صرف مساوات، انصاف اور باہمی احترام کے اصولوں پر عمل پیرا ہو کر ہی ممکن ہے۔

میرواعظ عمر فاروق نے معاملے کے حل کے لیے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ آپس میں مل بیٹھ کر باہمی مشاورت اور افہام و تفہیم کے ذریعے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں اور ایک ایسا متوازن، مقبول اور پائیدار حل تلاش کریں جو تمام فریقوں کے لیے قابلِ قبول ہو۔ حریت قیادت کے اس ردِعمل سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی عوام کی نمائندگی کے بجائے کشمیری مہاجرین کے حقوق غصب کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔