سانحہ ساہیوال مقدمہ: سپریم کورٹ نے درخواست گزار کے وکیل کو مزید تیاری اور دستاویزات پیش کرنے کی مہلت دے دی

منصور احمد, August 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ساہیوال میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے اہلکاروں کی جانب سے ایک ہی خاندان کے افراد کو قتل کیے جانے کے المناک واقعے سے متعلق دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے درخواست گزار کے وکیل ایڈووکیٹ ذوالفقار بھٹہ کو مزید تیاری اور متعلقہ ضروری دستاویزات جمع کرانے کے لیے مہلت دیتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی ہے۔

سپریم کورٹ کے فاضل جج جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں قائم بینچ نے منگل کے روز اس اہم مقدمے کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت درخواست گزار کے وکیل ذوالفقار بھٹہ نے موقف اختیار کیا کہ ساہیوال میں سی ٹی ڈی اہلکاروں نے مبینہ طور پر ایک بے گناہ خاندان کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا اور خاندان میں شامل معصوم بچوں کی لاشیں بھی جنگل میں پھینک دی گئی تھیں۔ انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ انسدادِ دہشت گردی عدالت کی جانب سے تمام ملزمان کو بری کیے جانے کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل اس وقت زیرِ سماعت ہے۔

وکیل نے عدالتِ عظمیٰ کو بتایا کہ انہوں نے لاہور ہائی کورٹ میں فریق بننے اور استغاثہ کی قانونی معاونت کے لیے باقاعدہ درخواست دائر کی تھی، تاہم ہائی کورٹ کے رجسٹرار نے اس پر اعتراضات عائد کیے اور بعد ازاں ہائی کورٹ نے بھی ان اعتراضات کو برقرار رکھا۔

سماعت کے دوران بینچ کے رکن جسٹس اشتیاق ابراہیم نے استفسار کیا کہ کیا اس وقت مقتولین کے ورثا میں سے بھی کوئی فرد عدالت میں موجود ہے؟ اس پر وکیل ذوالفقار بھٹہ نے جواب دیا کہ پنجاب کے موجودہ حالات میں متاثرہ خاندان کے لیے کھلے عام سامنے آنا انتہائی مشکل ہے کیونکہ وہاں لوگوں کو جھوٹے مقدمات میں بھی پھنسا دیا جاتا ہے۔ اس پر وکیل حسن رضا پاشا نے اعتراض اٹھایا کہ درخواست گزار کے وکیل نے پنجاب کے تمام وکلا کے خلاف بات کی ہے، جس پر ذوالفقار بھٹہ نے فوری وضاحت کی کہ انہوں نے وکلا کے خلاف کوئی بات نہیں کی بلکہ محض صوبہ پنجاب کے مجموعی حالات کا ذکر کیا تھا۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے آئینی پہلو پر سوال اٹھاتے ہوئے ریمارکس دیے کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد کیا سپریم کورٹ کے پاس براہِ راست ایسا اختیار موجود ہے؟ جس پر وکیل ذوالفقار بھٹہ نے استدعا کی کہ سپریم کورٹ آئین پاکستان کے آرٹیکل 187 کے تحت مکمل انصاف کی فراہمی کے لیے فیصلہ دے سکتی ہے۔

دورانِ کارروائی سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انہیں اس معاملے میں کسی قسم کی معاونت درکار نہیں۔ اس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ درخواست گزار کا موقف ہے کہ اس سنگین معاملے پر ان کے علاوہ آواز اٹھانے والا کوئی دوسرا موجود نہیں۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے ایڈووکیٹ ذوالفقار بھٹہ کی استدعا منظور کرتے ہوئے انہیں کیس کی مزید مکمل تیاری اور تمام ضروری دستاویزات ریکارڈ پر لانے کی مہلت فراہم کی اور کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔

ٹیکسٹائل ویلیو چین کے لیے بڑی پیش رفت: پاکستان نے کپاس کی 14 نئی اور جدید اقسام کی منظوری دے دی

منصور احمد, August 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

پاکستان نے ملک میں کپاس کی پیداوار، معیار اور ٹیکسٹائل ویلیو چین کو تقویت دینے کے لیے 2021ء سے 2025ء کے دوران کپاس کی 14 نئی اور جدید اقسام کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ یہ نئی اقسام اعلیٰ فائبر کوالٹی، زیادہ جننگ آؤٹ ٹرن شدید گرمی اور خشک سالی برداشت کرنے کی غیر معمولی صلاحیت اور مہلک گلابی سنڈی کے خلاف مضبوط مزاحمت سے لیس ہیں، جس سے ملک کے بیجوں کے ذخیرے کو تاریخی استحکام حاصل ہوگا۔

ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی اقسام ملک کے دو ممتاز زرعی تحقیقاتی اداروں، سینٹرل کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (CCRI) ملتان اور سینٹرل کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (CCRI) سکرنڈ، سندھ نے تیار کی ہیں۔ سی سی آر آئی ملتان نے 11 جبکہ سی سی آر آئی سکرنڈ نے 3 جدید اقسام تیار کی ہیں۔ سی سی آر آئی ملتان کی منظور شدہ اقسام میں بی ٹی سی آئی ایم-663، بی ٹی سی آئی ایم-678، بی ٹی سی آئی ایم-785، بی ٹی سائٹو-535، سائٹو-226، سی آئی ایم-775، سی آئی ایم-343، سائٹو-537، سائٹو-511، بی ٹی سی آئی ایم-775 اور بی ٹی سی آئی ایم-990 شامل ہیں۔ دوسری جانب سی سی آر آئی سکرنڈ کی جانب سے متعارف کروائی گئی اقسام میں بی ٹی کریس-682، بی ٹی کریس-674 اور کریس-644 شامل ہیں، جنہوں نے سندھ کے کردار کو کپاس کے قومی تحقیقی پروگرام میں مزید مستحکم کر دیا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان تمام نئی اقسام میں جننگ آؤٹ ٹرن 38.2 فیصد سے 42.3 فیصد، فائبر کی لمبائی 29.6 ملی میٹر تک اور فائبر کی مضبوطی 33.5 تک ریکارڈ کی گئی ہے۔ زرعی ماہرین کے مطابق کپاس کی معیار کا تعیّن محض مجموعی پیداوار سے نہیں بلکہ مائیکرونائر، فائبر کی مضبوطی اور جننگ آؤٹ ٹرن جیسے تکنیکی اشاریوں سے کیا جاتا ہے، جو ٹیکسٹائل ملوں، اسپننگ صنعت اور جننگ فیکٹریوں کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

ان تمام اقسام کی تفصیلات کے مطابق سی سی آر آئی ملتان کی تیار کردہ قسم سی آئی ایم-775 نے 42.3 فیصد کے ساتھ سب سے زیادہ جننگ آؤٹ ٹرن ریکارڈ کیا ہے اور اسے کاٹن لیف کرل وائرس کے خلاف انتہائی مزاحم قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح بی ٹی سائٹو-535 نے 41.5 فیصد اور سائٹو-537 نے 41 فیصد جی او ٹی حاصل کیا ہے۔ ریشے کی لمبائی کے اعتبار سے سائٹو-226 نے تمام نئی اقسام میں سب سے زیادہ 29.6 ملی میٹر فائبر کی لمبائی ریکارڈ کی ہے جو اعلیٰ معیار کے کپڑے کی تیاری کے لیے بہترین سمجھی جاتی ہے۔

فائبر کی پائیداری کے حوالے سے سی آئی ایم-343 نے تمام جدید اقسام میں سب سے زیادہ 33.5 فائبر اسٹرینتھ ریکارڈ کی ہے جبکہ یہ قسم خشک سالی اور گلابی سنڈی کے خلاف بھی مکمل موثر ثابت ہوئی ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں اور کیڑوں کا مقابلہ کرنے کے لیے بی ٹی سی آئی ایم-663 اور بی ٹی سی آئی ایم-678 شدید گرمی برداشت کرنے اور جلد پکنے والی اقسام ہیں، جبکہ بی ٹی سی آئی ایم-785 میں گرمی اور گلابی سنڈی دونوں کے خلاف مزاحمت یکجا کی گئی ہے۔ سکرنڈ کی تیار کردہ بی ٹی کریس-682 اور بی ٹی کریس-674 کا جی او ٹی 38.5 فیصد رہا، جبکہ نان بی ٹی قسم کریس-644 نے 40.5 فیصد جی او ٹی کے ساتھ زیادہ پیداواری صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ ان تمام اقسام کا مائیکرونائر 3.5 سے 4.9 کی مثالی حد کے اندر ہے، جو اسپننگ ملز میں بہترین دھاگے کی تیاری کو یقینی بناتا ہے۔

سابق اہلیہ کی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے کا کیس: سپریم کورٹ کا شدید برہم کا اظہار، ملزم صفدر عرفان کی ضمانت کی درخواست واپس

کاشف عباسی , August 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق اہلیہ کی نجی اور غیر اخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے کے سنگین الزام میں گرفتار ملزم صفدر عرفان کی درخواستِ ضمانت پر سماعت کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ایسے انتہائی غیر اخلاقی اور قبیح فعل میں ملوث ملزم کو کسی صورت ضمانت نہیں دی جا سکتی، جس کے بعد عدالت کے سخت رویے کو دیکھتے ہوئے ملزم کے وکیل نے درخواستِ ضمانت باضابطہ طور پر واپس لے لی۔

سپریم کورٹ کے فاضل جج جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے منگل کے روز اس درخواست کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت مقدمے کی تفصیلات کا جائزہ لیتے ہوئے جسٹس ہاشم کاکڑ نے انتہائی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ “کیا اس ایف آئی آر کے مندرجات کو عام لوگوں میں پڑھنے کی بھی ہمت ہے؟” انہوں نے شدید الفاظ میں کہا کہ ملزم نے اس مذموم حرکت سے متاثرہ خاتون کو ملک میں سر اٹھا کر رہنے کے قابل نہیں چھوڑا، جبکہ ایک خاتون کی شائستگی، حیا اور عزت ہی اس کا اصل پردہ ہوتی ہے۔ فاضل جج نے مزید کہا کہ ملزم نے شادی کے ایک مقدس اور پاکیزہ رشتے کو برے طریقے سے پامال کیا ہے۔

سماعت کے دوران بينچ کے رکن جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ ملزم نے کسی اور کی نہیں بلکہ اپنی ہی سابقہ اہلیہ کی تصاویر کو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیا۔ بینچ کے تیسرے فاضل جج جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ ملزم نے انتہائی غیر اخلاقی کارروائی کی ہے اور طلاق کا بدلہ لینے کی خاطر اپنی سابقہ بیوی کے خلاف یہ تمام مکروہ اقدام کیا۔

دورانِ کارروائی ملزم کے وکیل نے صفائی میں مؤقف اختیار کیا کہ متاثرہ خاتون اس وقت دبئی میں مقیم ہیں جبکہ ان کا موکل (ملزم صفدر عرفان) گزشتہ چھ ماہ سے جیل میں قید ہے۔ اس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کو تو اس کے کرتوتوں کی بنیاد پر ساری زندگی جیل کے اندر ہی رہنا چاہیے، اس نے آخر کون سا اچھا یا قابلِ رحم کام کیا ہے؟

عدالتِ عظمیٰ نے واضح قرار دیا کہ ملزم کے قبضے سے وہ موبائل فون بھی برآمد ہو چکا ہے جس کے ذریعے یہ غیر اخلاقی مواد شیئر کیا گیا، لہٰذا اس نوعیت کے ملزم کو کسی بھی طور پر ضمانت پر رہا نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ کے بینچ کی جانب سے درخواستِ ضمانت قطعی طور پر مسترد کیے جانے کے واضح اور حتمی عندیے پر ملزم کے وکیل نے فوراً درخواست واپس لینے کی استدعا کی، جس پر عدالت نے کارروائی کو باضابطہ طور پر نمٹا دیا۔

براڈ پیک کا المناک حادثہ: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا معروف کوہ پیما نرمل پورجا اور سہیل ساقی سمیت 10 افراد کے جاں بحق ہونے پر افسوس

منصور احمد, August 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے گلگت بلتستان میں واقع دنیا کی بارہویں بلند ترین چوٹی ‘براڈ پیک’ کو سر کرنے کی مہم کے دوران برفانی تودہ گرنے کے افسوسناک اور المناک حادثے میں نیپال سے تعلق رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ کوہ پیما نرمل پورجا سمیت 10 کوہ پیماؤں کے جانی نقصان پر گہرے دکھ، صدمے اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

منگل کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر اپنے ایک باضابطہ اور اہم تعزیتی بیان میں نائب وزیراعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے تمام سوگوار خاندانوں کے ساتھ ساتھ چین، نیپال، عمان، برطانیہ اور امریکہ کی حکومتوں اور وہاں کے عوام سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔

نائب وزیراعظم نے پاکستان کے بہادر کوہ پیما ہنزہ سے تعلق رکھنے والے سہیل ساقی کے انتقال پر بھی گہرے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے بہادر فرزند سہیل ساقی کی رحلت پر سوگوار ہیں، جن کی جرات، غیر متزلزل عزم اور سر فلک پہاڑوں سے لازوال محبت کو پاکستان ہمیشہ فخر کے ساتھ یاد رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس المناک حادثے کا شکار ہونے والے تمام 10 کوہ پیماؤں نے اپنے عزم، ہمت اور اعلیٰ کارکردگی کے حصول کی لگن سے عالمی کوہ پیمائی کے حقیقی جذبے کی عکاسی کی، جو آنے والی نسلوں اور کوہ پیماؤں کے لیے ہمیشہ باعثِ تحسین اور مشعلِ راہ رہے گی۔

سینیٹر اسحاق ڈار نے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں مصروف اداروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ میں اپنے ریسکیو عملے کی انتھک اور بے مثال کوششوں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، جنہوں نے انتہائی دشوار گزار اور خطرناک کٹھن حالات میں اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت اور غیر معمولی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے اعادہ کیا کہ حکومتِ پاکستان متعلقہ تمام ممالک کے سفارت خانوں کے ساتھ مسلسل اور قریبی رابطے میں ہے اور جاری تلاش و ریسکیو کارروائیوں کی کامیابی کے لیے ہر ممکن تعاون کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مرحومین کے تمام پسماندگان اور سوگواروں سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے صبرِ جمیل کی دعا کی۔

خیبر پختونخوا میں ‘عزمِ استحکام’ وژن کے تحت انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن: لکی مروت میں متعدد خوارجی ہلاک، ٹھکانے تباہ

منصور احمد, August 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں سیکیورٹی فورسز نے قومی وژن ‘عزمِ استحکام’ کے تحت انتہائی موثر اور کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الخوارج کے متعدد دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا اور ان کے ٹھکانوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔

سیکیورٹی ذرائع کی جانب سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق لکی مروت کے مختلف علاقوں میں کی جانے والی ان ٹارگٹڈ کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے خوارج کے خفیہ اور مضبوط ٹھکانے تباہ کر دیے، جس کے نتیجے میں متعدد دہشت گرد ہلاک اور متعدد شدید زخمی ہوئے۔ آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے خوارجیوں کے تحویل سے بھاری مقدار میں جدید اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر جنگی سامان بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان تمام تر انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں کے دوران اس اہم بات کو ہر ممکن حد تک یقینی بنایا جا رہا ہے کہ مقامی شہری آبادی اور عوام کے جان و مال کا مکمل تحفظ رہے اور انہیں کسی بھی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔

ذرائع نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز خیبر پختونخوا میں پائیدار امن و استحکام کے قیام، عوام کے تحفظ اور ملک سے دہشت گردی کے ناطق اور مکمل خاتمے تک اپنی انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں بلا تعطل جاری رکھیں گی۔

لکی مروت انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا سیکیورٹی فورسز کو زبردست خراجِ تحسین

منصور احمد, August 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے داخلہ محسن نقوی نے خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں ‘عزمِ استحکام’ وژن کے تحت کی گئی ایک انتہائی موثر اور کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، جرات اور بر وقت اقدام کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

اپنے ایک باضابطہ اور اہم بیان میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان کے بہادر اور شجاع سپوتوں نے بروقت اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے لکی مروت میں دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو نہ صرف خاک میں ملایا بلکہ متعدد خوارجیوں کو جہنم واصل کر کے عبرت ناک انجام تک پہنچایا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پوری قوم خیبر پختونخوا میں امن و امان کے قیام، عوام کے تحفظ اور ملک کی دفاع کے لیے سیکیورٹی فورسز کی کامیابیوں اور لازوال قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

محسن نقوی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ‘فتنہ الخوارج’ اور ‘فتنہ ہندوستان’ کے مکمل خاتمے اور جڑ سے اکھاڑ پھینکنے تک انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی جانے والی یہ کارروائیاں بلا تعطل اور مسلسل جاری رہیں گی۔ وفاقی وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ پوری پاکستانی قوم دہشت گردی کی اس لعنت کے خاتمے کے لیے مکمل طور پر یکسو ہے اور اپنے بہادر سیکیورٹی اداروں اور پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

پاکستان اب بغیر کسی بیرونی امداد کے موٹرویز اور شاہراہوں کا نیٹ ورک پھیلا رہا ہے؛ گرو نانک ایکسپریس وے، سیالکوٹ-کھاریاں-راولپنڈی شاہراہ اور پر کام کی تیز رفتار پیش رفت کا اعلان

کاشف عباسی , August 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان نے انکشاف کیا ہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کا سالانہ ریونیو 64 ارب روپے سے دوگنا ہو کر 127 ارب روپے کی ریکارڈ سطح تک پہنچ چکا ہے۔ اس غیر معمولی مالی خودمختاری کی بدولت پاکستان اب کسی بیرونی امداد یا قرض کے بغیر اپنے ذاتی قومی وسائل کے ذریعے ملک بھر میں موٹرویز اور جدید شاہراہوں کا نیٹ ورک کامیابی سے پھیلا رہا ہے۔

منگل کے روز نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس آڈیٹوریم اسلام آباد میں “یومِ شہدائے پولیس” کی پروقار تقریب سے بطور مہمانِ خاص خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے شجاع شہدا کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ 4 اگست ہماری قومی اور سیکیورٹی تاریخ کا انتہائی اہم اور درخشان دن ہے اور سی سی پی او پشاور صفوت غیور کی عظمت و شہادت تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ موٹروے پولیس کے 59 شہدا سمیت تمام شہدائے پولیس کی عظیم قربانیاں قوم کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ موٹروے پولیس کے پٹرولنگ افسران کے تحفظ، آرام اور طبی امداد کے لیے ٹول پلازوں کے قریب جدید پولیس اسٹیشنز، پارکنگ اور فوری ایمبولینس سروسز بھی قائم کی جا رہی ہیں۔

وفاقی وزیر نے ملک گیر بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کا احاطہ کرتے ہوئے بتایا کہ کرتار پور اور ننکانہ صاحب کے مقدس مقامات کو اپس میں جوڑنے کے لیے تاریخی “گرو نانک ایکسپریس وے” پر کام تیزی سے جاری ہے جس سے دنیا بھر کی سکھ برادری کے لیے مذہبی سیاحت کو شاندار فروغ ملے گا۔ اسی طرح سیالکوٹ-کھاریاں-راولپنڈی شاہراہ کی تعمیر سے اسلام آباد تا لاہور کے سفر میں 100 کلومیٹر فاصلے اور ایک گھنٹے کے قیمتی وقت کی بچت ہوگی۔

عبدالعلیم خان نے مزید بتایا کہ مری ایکسپریس وے کی مظفرآباد تک توسیع سے آزاد کشمیر کو عالمی معیار کی سفری سہولیات میسر آئیں گی، جبکہ جدید موٹروے شاہراہِ قراقرم کا بہترین متبادل بن کر چین کے ساتھ پاکستان کے اسٹریٹجک و تجارتی روابط کو ناقابلِ تسخیر بنائے گی۔

تجارت اور علاقائی ترسیل کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کراچی پورٹ سے تجارتی نقل و حمل کو تیز بنانے کے لیے M-10 اور لیاری ایکسپریس وے کو متحرک کر دیا گیا ہے، جبکہ M-6 موٹروے پر جلد باقاعدہ کام شروع ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ بلوچستان میں M-8 منصوبوں کی تکمیل سے برادر ملک ایران کے ساتھ سرحدی تجارت کو زبردست تقویت ملے گی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ گلگت کی سیاحتی سڑکوں پر کام جاری ہے جبکہ این-25 (N-25) شاہراہ کو اگلے سال تک مکمل کر لیا جائے گا۔

خیبر پختونخوا میں امن و امان کے قیام کے لیے پولیس کی قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں؛ شہدا کے اہل خانہ کی فلاح و بہبود اور فورس کی استعداد کار کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رہے گا

کاشف عباسی , August 04,2026

سوات (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر و گلگت بلتستان اور پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا کے صدر انجینئر امیر مقام نے یومِ شہدائے پولیس کے موقع پر پولیس لائن سوات میں واقع یادگارِ شہدا کا خاص دورہ کیا، جہاں انہوں نے وطنِ عزیز کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شجاع شہدا کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا، یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور ان کے بلندیِ درجات کے لیے فاتحہ خوانی کی۔

اس موقع پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) سوات سمیت پولیس کے دیگر اعلیٰ و سینئر افسران بھی موجود تھے۔ ڈی پی او سوات نے وفاقی وزیر کو ضلع سوات میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، سیکیورٹی انتظامات اور پولیس فورس کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔

وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے پولیس کے شہدا کی بے مثال قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک میں امن و استحکام اور قانون کی حاکمیت کے قیام کے لیے پولیس فورس کی خدمات اور عظیم قربانیاں تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی اور انہیں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت شہدا کے غمیزدہ اہل خانہ کی فلاح و بہبود اور پولیس فورس کی پیشہ ورانہ استعداد کار میں اضافے کے لیے ہر ممکن تعاون اور وسائل کی فراہمی جاری رکھے گی۔

تقریب میں سابق صوبائی وزیر و ن لیگ سوات ڈویژن کے صدر واجد علی خان، سابق صوبائی وزیر و سیکرٹری جنرل محمد علی شاہ خان، ضلعی صدر قوی خان، سٹی مینگورہ صدر حاجی عمران خان، سیکرٹری جنرل نور خان، وزیراعظم یوتھ کوآرڈینیٹر سید صادق عزیز باچا، سابق رکن صوبائی اسمبلی فضل اللہ خان سمیت مسلم لیگ (ن) کے متعدد مرکزی و مقامی عہدیداران اور ذمہ داران بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن نے لاء ایڈمیشن ٹیسٹ کے نتائج کا اعلان کر دیا

روزینہ اسماعیل, August 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے لاء ایڈمیشن ٹیسٹ کے نتائج کا باضابطہ طور پر اعلان کر دیا ہے۔ ملک بھر سے ٹیسٹ میں شریک ہونے والے امیدوار اب ایچ ای سی کی ایجوکیشن ٹیسٹنگ کونسل (ای ٹی سی) کے آن لائن پورٹل کے ذریعے اپنے نتائج کا جائزہ لے سکتے ہیں۔

ایچ ای سی کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق تمام امیدوار اپنے رجسٹرڈ اکاؤنٹ کے ذریعے ای ٹی سی پورٹل پر لاگ ان کر کے اپنا نتیجہ اور اسکور کارڈ حاصل کر سکتے ہیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے تمام متعلقہ امیدواروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ نتائج اور دیگر تمام ضروری تفصیلات کے لیے محض ای ٹی سی کے آفیشل پورٹل پر رجوع کریں اور وہاں فراہم کردہ ہدایات کے مطابق اگلا مرحلہ مکمل کریں۔

پی ایس ڈی پی کے تحت پاکستان ٹیلی ویژن کی ری ویمپنگ اور ماسٹر کنٹرول رومز کو جدید بنانے پر اتفاق؛ گلگت بلتستان میں عالمی کھیلوں کے مقابلوں کی لائیو کوریج کے لیے مقامی براڈکاسٹنگ انفراسٹرکچر قائم کیا جائے گا

محمود احمد, August 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی، جس میں پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کی ری ویمپنگ اور اسے جدید تکنیکی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے منصوبے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پی ٹی وی کی اصلاحات اور ری ویمپنگ کے اس اہم منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے پی ایس ڈی پی کے تحت وزارتِ منصوبہ بندی کے مکمل تعاون کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ گلگت بلتستان جیسے اہمیت کے حامل خطے میں بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں کی براہِ راست (لائیو) نشریات کے لیے مقامی براڈکاسٹنگ انفراسٹرکچر کی اشد ضرورت ہے۔ اس وقت وہاں او بی وینز اسلام آباد سے بھیجنا پڑتی ہیں، جس کے باعث نہ صرف مالی اخراجات بڑھتے ہیں بلکہ شدید انتظامی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ پی ٹی وی کے ماسٹر کنٹرول رومز کو جدید ترین ٹیکنالوجی پر منتقل کرنا وقت کا تقاضا ہے تاکہ ہمارا قومی نشریاتی ادارہ عالمی معیار کے مطابق براڈکاسٹنگ کی سہولیات مہیا کر سکے۔

اس موقع پر وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال نے اپنے مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ پاکستان ٹیلی وژن ہمارا عظیم قومی اثاثہ ہے اور وفاقی حکومت اس ادارے کی بحالی اور اسے جدید سہولتوں سے آراستہ کرنے کے لیے تمام ممکنہ وسائل فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی وی نے ہمیشہ قومی شناخت، ثقافتی اقدار اور قومی وحدت و یکجہتی کے فروغ میں تاریخی اور کلیدی کردار ادا کیا ہے، لہٰذا اس ادارے کو جدید خطوط پر استوار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ملاقات کے اختتام پر پی ٹی وی کی مجموعی استعداد کار بڑھانے، براڈکاسٹنگ انفراسٹرکچر کی ڈرامائی بہتری اور قومی نشریاتی نظام کو جدید ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے کے لیے وزارتِ منصوبہ بندی اور وزارتِ اطلاعات کے درمیان قریبی باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے پر کامل اتفاق کیا گیا۔

وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کا بڑا انکشاف: پاکستان میں سولر پاور کی استعداد 38 ہزار میگاواٹ کے قریب پہنچ گئی

منصور احمد, August 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان اس وقت توانائی کے شعبے میں ایک تاریخی اور انقلابی تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے، جہاں ملک میں سولر پاور کی مجموعی پیداواری استعداد 38 ہزار میگاواٹ کے قریب جا پہنچی ہے۔

سولر، اسٹوریج اینڈ فلیکسیبلٹی کانفرنس سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی نے واضح کیا کہ پاکستان میں اب بجلی کی پیداوار کی کمی کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ سب سے بڑا چیلنج پیدا ہونے والی بجلی کا مؤثر استعمال اور اسے ذخیرہ (اسٹوریج) کرنا ہے۔ انہوں نے بتایاک ہ دن کے اوقات میں سولر کی وجہ سے بجلی کی اضافی پیداوار میسر ہوتی ہے جبکہ شام ہوتے ہی طلب میں یکدم نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے جس سے گرڈ پر دباؤ بڑھتا ہے۔

اویس لغاری نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز بجلی کی ترسیل کے نظام کی بہتری اور گرڈ کے استحکام کے لیے انتہائی ناگزیر ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقامی وسائل سے پیدا ہونے والی بجلی ملکی توانائی کی خودمختاری کو مضبوط بناتی ہے، جبکہ درآمدی ایندھن پر مسلسل انحصار پاکستان کی معیشت اور توانائی کی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ حال ہی میں قطر سے آر ایل این جی کی ترسیل متاثر ہونے پر ملک کو رات کے اوقات میں مجبورا ًلوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ دن کے وقت سولر کی وافر دستیابی کی وجہ سے صورتحال نسبتاً بہتر اور قابو میں رہی۔

وزیر توانائی نے اہم اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت پاکستان کی کل بجلی کی پیداوار میں صاف ستھری توانائی (کلین انرجی) کا حصہ 55 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جبکہ حکومت نے سال 2035ء تک اس حصے کو 90 فیصد تک لے جانے کا بڑا ہدف مقرر کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صرف سولر اور ونڈ پاور کے ذریعے یہ 90 فیصد کا ہدف حاصل نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ جدید بیٹری اسٹوریج کا نظام موجود نہ ہو۔

حکومتی ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے اویس لغاری نے اعلان کیا کہ پاکستان میں باہر سے بیٹریوں کی صرف درآمد پر انحصار نہیں کیا جائے گا بلکہ مقامی سطح پر مینوفیکچرنگ اور انڈسٹری کو فروغ دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) میں بیٹری انرجی اسٹوریج کے پائلٹ منصوبوں کی باقاعدہ منظوری دے دی گئی ہے، اور ان پائلٹ پروجیکٹس سے حاصل ہونے والا ڈیٹا اور نتائج مستقبل کی قومی ریگولیٹری پالیسی کی بنیادی بنیاد بنیں گے۔

تقریب کے اختتام پر وفاقی وزیر توانائی نے عالمی سرمایہ کاروں اور بین الاقوامی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو پاکستان کے توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی کھلی دعوت دی اور یقین دہانی کرائی کہ اس کانفرنس سے سامنے آنے والی تمام عملی سفارشات کو براہِ راست حکومتی پالیسی سازی کا حصہ بنایا جائے گا۔

بھارت میں اقلیتوں کی صورتحال پر تشویش: انتہا پسندانہ اقدامات اور مذہبی آزادی پر سوالات

منصور احمد, August 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

بھارت میں اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے انتہا پسندانہ اقدامات اور مذہبی آزادی کی مجموعی صورتحال پر ایک بار پھر عالمی و علاقائی سطح پر شدید سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔ ہندوتوا نظریے کو فروغ دینے والے متعدد عناصر کی جانب سے مسلمانوں کے مذہبی تشخص، تاریخی عبادت گاہوں اور مقدسات کو مسلسل نشانہ بنانے کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی متعدد ویڈیوز اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی ریاست اتراکھنڈ میں انتہا پسند ہندو تنظیم ‘بجرنگ دل’ کے کارکنوں نے مسلمانوں کی قدیم قبروں اور ایک تاریخی مزار کو شدید نقصان پہنچایا۔ اس کارروائی کے بعد متعدد انتہا پسندوں کی جانب سے جشن منانے کی مناظر بھی سامنے آئے، جبکہ اس مجرمانہ اقدام کو مبینہ طور پر ‘لینڈ جہاد’ کا بے بنیاد نام دے کر جواز فراہم کرنے کی کوشش کی گئی۔

اسی طرح کا ایک اور افسوسناک واقعہ بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے علاقے منڈاولی میں بھی سامنے آیا، جہاں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز کے مطابق ایک انتہا پسند گروپ کے سواروں نے مقامی مسلمانوں کو ان کی باقاعدہ نمازِ باجماعت کی ادائیگی سے زبردستی روکنے کی کوشش کی اور اشتعال انگیزی پھیلائی۔

تجزیہ کاروں اور معاشی و سیاسی مبصرین کے مطابق بھارت میں اقلیتوں، بالخصوص مسلم برادری کے خلاف تواتر کے ساتھ رونما ہونے والے یہ واقعات خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور سیکولر ریاست قرار دینے والے بھارتی دعوؤں اور بنیادی مذہبی آزادی کے اصولوں کا پول کھول رہے ہیں۔ انسانی حقوق کے عالمی و مقامی فعال کارکنوں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ تمام اقلیتوں کے مذہبی مقامات، عبادت کے بنیادی حق اور جان و مال کا تحفظ ہر مہذب ریاست کی آئینی و قانونی ذمہ داری ہے، جس میں بھارتی حکومت مکمل طور پر ناکام دکھائی دے رہی ہے۔

مظفرآباد انتخابی بے ضابطگیاں: سینیٹر شیری رحمان کا سخت ردعمل، الیکشن کمیشن سے فوری نوٹس کا مطالبہ

منصور احمد, August 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر اور سینیٹر شیری رحمان نے آزاد کشمیر انتخابات کے دوران مظفرآباد کے حلقہ ایل اے 27 اور یونین کونسل بھیری میں ہونے والی مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں اور دھاندلی پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان اور آزاد کشمیر کے الیکشن حکام سے فوری اور سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اپنے ایک باضابطہ اور اہم مذمتی بیان میں سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے روایتی اور مضبوط حلقوں میں مسلم لیگ (ن) ایک بار پھر انتخابی عمل کو متنازع، غیر شفاف اور مجروح کرنے کی مذموم کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ حلقہ ایل اے 27 میں سرکاری پولنگ عملہ بیلٹ پیپرز اور دیگر انتخابی مواد سمیت مسلم لیگ (ن) کے ایک مقامی حامی کے گھر سے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ہے، جو کہ انتخابی اصولوں کی شدید ترین خلاف ورزی ہے۔

شیری رحمان کا کہنا تھا کہ سرکاری انتخابی عملے کی کسی نجی گھر میں موجودگی اور وہاں بیلٹ پیپرز پر زبردستی ٹھپے لگانے کی موصول ہونے والی اطلاعات انتہائی تشویشناک اور قابلِ مذمت ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے کی جانے والی اس ننگی دھاندلی اور بے ضابطگیوں سے متعلق تمام تر ویڈیو شواہد اور ثبوت الیکشن حکام اور متعلقہ اداروں کے حوالے کر دیے گئے ہیں تاکہ حقیقت سچائی کے ساتھ سامنے آ سکے۔

انہوں نے مزید زور دے کر کہا کہ الیکشن کمیشن فوری طور پر انتظامی اور قانونی کارروائی عمل میں لاتے ہوئے عوام کا انتخابی عمل پر متزلزل ہوتا اعتماد بحال کرے۔ شیری رحمان کے مطابق اس نوعیت کے افسوسناک واقعات انتخابی شفافیت، الیکشن کی غیر جانبداری اور تمام متعلقہ اداروں کی ساکھ پر سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کا فوری ازخود نوٹس لیں اور ایک آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور اعلیٰ سطحی شفاف تحقیقات کو یقینی بنائیں۔

الیکشن کمیشن کی تمام سیاسی جماعتوں کو ہدایت: مالی سال 26-2025ء کے مالیاتی گوشوارے 29 اگست تک جمع کروانے کا حکم

محمود احمد, August 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اگست 2026ء

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے ملک کی تمام رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو آئینی و قانونی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کراتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ وہ الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 204 اور 210 اور الیکشن رولز 2017 کے قاعدہ 159 اور 160 کے تحت مالی سال 26-2025ء کے اپنے تمام مالیاتی و حسابی گوشوارے 29 اگست 2026ء تک یا اس سے قبل الیکشن کمیشن میں لازمی جمع کروائیں۔

الیکشن کمیشن کے ترجمان کی جانب سے جاری کیے گئے باضابطہ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 210 کے تحت تمام سیاسی جماعتوں پر فرض ہے کہ وہ مالی سال کے اختتام کے 60 دنوں کے اندر اندر اپنے تمام اکاؤنٹس کا مربوط گوشوارہ مخصوص ‘فارم-ڈی’ پر تیار کر کے کمیشن میں پیش کریں۔ اس میں سیاسی جماعت کے تمام اثاثوں، واجبات، آمدن کے ذرائع اور اخراجات کی مکمل و شفاف تفصیلات کا ہونا قانونی طور پر لازمی ہے۔

ترجمان نے مزید وضاحت کی کہ الیکشن کمیشن کو جمع کروائی جانے والی اس آڈٹ رپورٹ کی تیاری اور منظوری کسی مستند چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ سے ہونی چاہیے، جبکہ اس دائر کردہ رپورٹ پر پارٹی کے سربراہ یا ان کے مجاز نمائندے کے باضابطہ دستخط ہونا ضروری ہیں۔ اس کے علاوہ، پارٹی سربراہ کی جانب سے ایک تصدیقی بیان یا حلف نامہ بھی منسلک کیا جائے گا جس میں اس بات کی باضابطہ گواہی دی جائے گی کہ پارٹی کو الیکشن ایکٹ 2017 کے احکامات کے برعکس کسی بھی ممنوعہ یا غیر قانونی ذریعہ سے فنڈز حاصل نہیں ہوئے اور پیش کردہ گوشواروں میں پارٹی کے مالی امور کی بالکل درست اور حقیقی تصویر پیش کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے مقررہ وقت کے اندر تمام تر کاغذی کارروائی مکمل کر کے رپورٹ ای سی پی کے دفتر میں جمع کروائیں، تاکہ شفافیت اور گڈ گورننس کا معیار برقرار رکھا جا سکے۔

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں مصنوعی ذہانت پر تربیتی نشست کا انعقاد: طلبہ کی غیر معمولی دلچسپی

روزینہ اسماعیل, August 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اگست 2026ء

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے طلبہ ترقی و تقرری مرکز (اسٹوڈنٹ ڈویلپمنٹ اینڈ پلیسمنٹ سینٹر) کے زیرِ اہتمام مصنوعی ذہانت (AI) کے جدید تقاضوں پر مبنی آن لائن تربیتی نشست کا انعقاد کیا گیا، جس میں یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات نے غیر معمولی اور والہانہ دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ اس خصوصی ورکشاپ کے لیے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے 293 طلبہ نے رجسٹریشن کروائی، جبکہ 116 طلبہ نے براہِ راست آن لائن سیشن میں مکمل طور پر شرکت کی۔

ورکشاپ کے دوران معروف کمپنی گوگل کے ماہر محمد عمر نذیر نے کلیدی سپیکر کے طور پر شرکت کی۔ انہوں نے شرکاء کو ‘گوگل ڈویلپر گروپس’ اور یونیورسٹی کیمپس میں قائم ‘گوگل ڈویلپر گروپس آن کیمپس’ کے آپریشنز اور فوائد کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ ان عالمی سطح کے پلیٹ فارمز سے متحرک طور پر وابستہ ہو کر اپنی فنی صلاحیتوں کو جلا بخشیں، مشترکہ طور پر جدید ٹیکنالوجی پروژیکٹس پر کام کریں، اپنے پیشہ ورانہ نیٹ ورک کو وسعت دیں اور موجودہ صنعتی تقاضوں سے خود کو ہم آہنگ کریں۔

نشست کے آخری مرحلے میں ایک فکر انگیز سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا جس میں طلبہ نے اپنے اپنے مخصوص تعلیمی شعبہ جات میں مصنوعی ذہانت کے عملی اطلاق سے متعلق سوالات کیے۔ محمد عمر نذیر نے ان کے جوابات دیتے ہوئے اس بات پر روشنی ڈالی کہ مصنوعی ذہانت اب صرف کمپیوٹر سائنس کے شعبے تک محدود نہیں رہی بلکہ نفسیات کے طلبہ اسے طبی و روئیاتی تحقیق میں، شعبہ صحت کے ماہرین بیماریاں کی تشخیص میں اور لاجسٹکس کے ادارے اپنے انتظامی امور کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کلیدی، اسٹریٹجک اور اہم فیصلوں میں انسانی سوچ اور نگرانی ہمیشہ ناگزیر رہے گی۔

ورکشاپ کے اختتام پر اسٹوڈنٹ ڈویلپمنٹ اینڈ پلیسمنٹ سینٹر کے انچارج ڈاکٹر عارف سلیم نے مہمانِ خصوصی محمد عمر نذیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس سیشن نے طلبہ کو مصنوعی ذہانت کے عملی فوائد اور ڈیجیٹل مہارتوں سے مستفید ہونے کا شاندار موقع فراہم کیا ہے۔ انہوں نے مستقبل میں گوگل کے ساتھ آن کیمپس مزید تربیتی پروگرامز کے انعقاد کی خواہش ظاہر کی اور کہا کہ ایسی سرگرمیاں طلبہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو عالمی منڈی کے معائیر کے مطابق ڈھالنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

آزاد کشمیر انتخابات: میرپور کے بعد مظفرآباد اور پنجاب کی تمام مہاجرین نشستوں پر ن لیگ کی فتح، مریم اورنگزیب کا کشمیری عوام کا شکریہ

منصور احمد, August 03,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اگست 2026ء

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات اور پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں میرپور ڈویژن کے بعد مظفرآباد ڈویژن اور پنجاب میں مقیم مہاجرین کی نشستوں پر پارٹی کی شاندار کامیابی پر کشمیری عوام کا تہِ دل سے شکریہ ادا کیا ہے۔ اپنے ایک خصصی بیان میں انہوں نے کہا کہ عوام نے ووٹ کی طاقت کے ذریعے قائد مسلم لیگ (ن) محمد نواز شریف کے بیانیے اور جماعت کی بے مثال کارکردگی پر اپنے کامل اعتماد کا اظہار کر دیا ہے۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ وہ میرپور کے بعد مظفرآباد ڈویژن کے عوام کی بے حد شکر گزار ہیں جنہوں نے کسی قسم کے دباؤ، دھمکی یا جھوٹے پروپیگنڈے میں آئے بغیر اپنے ووٹ کے آئینی اور جمہوری حق کو استعمال کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے حق میں اپنا فیصلہ سنایا ہے۔ انہوں نے بالخصوص نشاندہی کی کہ پنجاب میں آزاد کشمیر کے مہاجرین کی تمام کی تمام 10 نشستوں پر مسلم لیگ (ن) کی تاریخی کامیابی وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی انتھک محنت، بہترین کارکردگی اور روز مرہ عوامی خدمت کے مشن پر کشمیری ووٹرز کے غیر متزلزل اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پنجاب میں مقیم کشمیریوں نے اپنے ووٹ کے ذریعے مریم نواز کی قیادت اور ان کے ترقیاتی ماڈل کے حق میں اپنا واضح فیصلہ دیا ہے۔

سیکرٹری اطلاعات نے ان تمام کشمیری مہاجرین اور کارکنان کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے قائد مسلم لیگ (ن) محمد نواز شریف، وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کی اکثریت سے حکومت قائم ہوتے ہی وہاں بھی پاکستان اور پنجاب کی طرز پر ترقی، خوشحالی اور حقیقی عوامی خدمت کے ایک نئے اور مثالی دور کا آغاز کیا جائے گا۔

مریم اورنگزیب نے آئندہ مرحلے کا ذکر کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پونچھ ڈویژن میں بھی مسلم لیگ (ن) ایسی ہی شاندار کامیابی حاصل کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی پونچھ ڈویژن میں ہونے والے انتخابات کے لیے مکمل طور پر فعال اور تیار ہے اور انہیں پورا یقین ہے کہ وہاں کے غیور عوام بھی ترقی کے نشان شیر پر مہر لگا کر مسلم لیگ (ن) کو ہی اپنا نمائندہ منتخب کریں گے۔

سوات خودکش حملے کے خلاف علماء و مشائخ کا مشترکہ اعلامیہ: پیغامِ امن کمیٹی نے واقعے کو اسلامی تعلیمات کے منافی اور حرام قرار دے دیا

منصور احمد, August 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اگست 2026ء

قومی پیغامِ امن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے تمام مکاتبِ فکر کے جید علماء کرام اور مشائخ عظام نے سوات میں ہونے والے خودکش حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے اسلامی تعلیمات کے سراسر منافی اور گھناؤنا فعل قرار دیا ہے۔

علماء کرام نے اپنے مشترکہ بیان میں اس افسوسناک اور دل خراش واقعے پر شدید رنج و غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے شہدا کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی عاجلانہ صحت یابی اور غم زدہ خاندانوں کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔ یہ مشترکہ بیان حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر راغب حسین نعیمی، مفتی عبدالرحیم، علامہ عارف واحدی، علامہ سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، پیر نقیب الرحمن، ڈاکٹر آصف میر، مفتی محمد کریم خان، علامہ توفیق عباس، علامہ محمد حسین اکبر، مولانا مفتی نعمان نعیم، مولانا حافظ مقبول احمد، مولانا زبیر فہیم، مولانا مفتی عبداللطیف، مولانا محمد یوسف کشمیری، مولانا زاہد منصور، مولانا انوار الحق اور مولانا حافظ محمد طارق محمود کی جانب سے جاری کیا گیا۔

بیان میں جید علماء نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اسلام امن، اعتدال اور سلامتی کا دین ہے۔ انہوں نے قرآنِ کریم کی آیات اور احادیثِ مبارکہ کے حوالہ جات پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ انسان کی جان کا تحفظ دینِ اسلام کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے۔ متفقہ طور پر منظور شدہ ‘پیغامِ پاکستان’ کے فتویٰ کی روشنی میں کمیٹی نے ایک بار پھر واضح کیا کہ خودکش حملے، دہشت گردی اور بے گناہ انسانوں کا قتل اسلامی شریعت کی رو سے قطعی طور پر حرام ہے۔

قومی پیغامِ امن کمیٹی نے زور دے کر کہا کہ ایسے مظالم میں ملوث عناصر فتنۂ خوارج کے نظریات پر عمل پیرا ہیں اور دشمن قوتوں کے آلے کے طور پر ملک میں عدم استحکام اور بدامنی پھیلا رہے ہیں۔ علماء نے کہا کہ شریعت کے اصولوں کے تحت دہشت گردی کے خاتمے، امن عامہ کے قیام اور شہریوں کی حفاظت کے لیے مسلح افواج، خیبر پختونخوا پولیس اور تمام سیکیورٹی اداروں کا ساتھ دینا قومی اور شرعی فریضہ ہے۔

کمیٹی نے دہشت گردی کے خلاف برسرِ پیکار مسلح افواج اور پولیس کی قربانیوں، شجاعت اور عزم کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پوری قوم اپنے سیکیورٹی اداروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن نے سال 27-2026ء کے ایونٹس کیلنڈر کا باضابطہ اعلان کر دیا

محمود احمد, August 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اگست 2026ء

پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن (پی سی ایف) نے مالی سال 27-2026ء کے لیے اپنا تفصیلی ایونٹس کیلنڈر جاری کر دیا ہے، جس کے تحت جولائی 2026ء سے جون 2027ء تک متعدد قومی و بین الاقوامی سائیکلنگ مقابلے، کورسز اور چیمپئن شپس منعقد کی جائیں گی۔

فیڈریشن کی جانب سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق، جولائی 2026ء میں اسلام آباد کے اندر کمیسائر کورس اور 14 اگست کو تمام صوبائی ہیڈکوارٹرز میں یومِ آزادی کے حوالے سے سائیکل ریسز منعقد ہوں گی۔ اگست میں اسلام آباد میں کوچنگ کورس کے بعد، 19 تا 27 ستمبر کو کینیڈا کے شہر مونٹریال میں یو سی آئی روڈ ورلڈ چیمپئن شپ منعقد ہوگی۔ اکتوبر میں لاہور کے اندر دسویں روڈ سائیکلنگ چیمپئن شپ، جبکہ 6 تا 8 نومبر کو لاہور ہی میں 71ویں ٹریک چیمپئن شپ (سینئر و جونیئر) طے کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں، کراچی تا حیدرآباد سائیکل ریس نومبر میں اور دسمبر میں ‘ٹور آف اسلام آباد’ اور قائد اعظم ڈے ریسز ہوں گی۔

سال 2027ء کی شروعات میں جنوری میں ‘ٹور دے پشاور’ اور ایم ٹی بی چیمپئن شپ، فروری میں پشاور کے مقام پر 11ویں روڈ سائیکلنگ چیمپئن شپ اور مارچ میں لاہور میں انٹر پروونشل ٹریک چیمپئن شپ سمیت اسلام آباد میں ساؤتھ ایشین روڈ سائیکلنگ چیمپئن شپ کا انعقاد کیا جائے گا۔ اپریل 2027ء میں ‘ٹور دے گلیات’ اور ایشین کانٹینینٹل چیمپئن شپ کا انعقاد ہوگا جبکہ مئی و جون 2027ء میں اورڈوس (چین) میں ایشین روڈ سائیکلنگ چیمپئن شپ، گلگت میں ‘ٹور دی خنجراب’ اور جون 2027ء میں ناران ایم ٹی بی ریس طے کی گئی ہے۔

پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن کے صدر سید اظہر علی شاہ نے نمائندے کو بتایا کہ ایونٹس کی حتمی منظوری فنڈز کی دستیابی سے مشروط ہوگی، جبکہ قومی ٹیم کا انتخاب میرٹ کی بنیاد پر طے شدہ چیمپئن شپس میں کھلاڑیوں کی کارکردگی کو مدنظر رکھ کر کیا جائے گا۔ منتخب سائیکلسٹس کی جدید بنیادوں پر تربیت کے لیے خصوصی قومی کیمپ بھی لگائے جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے سائیکلسٹس میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے، اور پچھلی دو سے تین ایشین چیمپئن شپس میں میڈلز جیت کر پاکستانی ایتھلیٹس نے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر انہیں معیاری سهولیات اور بین الاقوامی ایکسپوژر ملتا رہے تو وہ عالمی سطح پر ملک کا نام مزید روشن کر سکتے ہیں۔

ایچ ای سی کوالٹی اشورنس ایجنسی اور پی این کیو اے ایچ ای کے درمیان معاہدہ طے پا گیا: اعلیٰ تعلیم کے معیار کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق

روزینہ اسماعیل, August 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اگست 2026ء

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی کوالٹی اشورنس ایجنسی اور پاکستان نیٹ ورک آف کوالٹی اشورنس اِن ہائر ایجوکیشن کے درمیان پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی شعبے میں تعلیمی معیار کو مزید مستحکم بنانے اور جدید بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے ایک اہم مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔

اس مفاہمتی یادداشت کا بنیادی مقصد پاکستان بھر کی جامعات میں کوالٹی اشورنس کے موجودہ نظام کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنا، دونوں اداروں کے درمیان ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دینا اور اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں بہترین بین الاقوامی طریقہ کار کو رائج کرنا ہے۔

دستخط کی اس تقریب کے موقع پر دونوں اداروں کے اعلیٰ نمائندوں نے اپنے عزائم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس شراکت داری کے تحت اساتذہ اور انتظامی عملے کے لیے مشترکہ تربیتی پروگرامز، استعداد کار میں اضافے کی ورکشاپس، علمی و تحقیقی تعاون اور معیارِ تعلیم کی مسلسل بہتری کے لیے جامع اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

نمائندوں کا مزید کہنا تھا کہ یہ پائیدار شراکت داری نہ صرف اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں معیار کی یقین دہانی کے نظام کو مزید شفاف اور مؤثر بنائے گی بلکہ ملکی جامعات کی مجموعی کارکردگی اور عالمی رینکنگز کو بہتر بنانے میں بھی نچلی سطح پر اہم پیش رفت ثابت ہوگی۔

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے سابق برطانوی مشیر کبیر صابر کی ملاقات: تجارت اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال

کاشف عباسی , August 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اگست 2026ء

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے برطانیہ کے سابق مشیر اور لندن سے پارلیمانی امیدوار کبیر صابر نے ایک اہم ملاقات کی، جس میں باہمی تعاون، تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ سے متعلق تفصیلی گفتگو کی گئی۔

گورنر آفس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں کی اس ملاقات کے دوران خیبر پختونخوا میں تجارتی سرگرمیوں، غیر ملکی و مقامی سرمایہ کاری کے مواقع، انسانی وسائل کی جدید انداز میں تربیت اور صلاحیتوں کی فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا بے پناہ قدرتی وسائل، صلاحیتوں سے مالا مال نڈر اور باصلاحیت نوجوان افرادی قوت اور وسیع تجارتی و معاشی مواقع سے لیس ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ دنیا بھر میں مقیم تارکینِ وطن (اوورسیز پاکستانی) اور بین الاقوامی سرمایہ کار خیبر پختونخوا کے بنیادی ڈھانچے اور معاشی بہتری میں کلیدی اور تاریخی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اس موقع پر کبیر صابر نے بھی صوبے کی معاشی و انسانی ترقی کے لیے تجاویز پیش کیں اور بین الاقوامی سطح پر تعاون کے نئے راستے ہموار کرنے کی یقین دہانی کرائی۔