سمندر میں گشت کے دوران سکیورٹی ڈیوٹی انجام دیتے ہوئے پاک بحریہ کے 2 اہلکار ہلاک

منصور احمد,September 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

پاک بحریہ کے شعبہ تعلقات عامہ (ڈی جی پی آر نیوی) کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق سمندری حدود میں معمول کے گشت اور سکیورٹی ڈیوٹی انجام دینے کے دوران پاک بحریہ کے دو جوان ہلاک ہو گئے ہیں۔

پاک بحریہ کے ترجمان کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق سمندر میں پیٹرولنگ اور وطنِ عزیز کی آبی سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی شناخت شعیب الرحمان اور غفران نثار کے ناموں سے ہوئی ہے۔

پاک بحریہ کے شعبہ تعلقات عامہ نے بدھ کے روز سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک مختصر بیان میں دونوں جوانوں کی ہلاکت کا باضابطہ اعلان کیا، تاہم اس المناک واقعے کے پیچھے پیش آنے والے حالات اور حتمی وجوہات کے حوالے سے فی الوقت مزید تفصیلی معلومات جاری نہیں کی گئی ہیں۔

ترجمان پاک بحریہ کی جانب سے جاری کی گئی باضابطہ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پاک بحریہ کے انتہائی سینئر بحری افسران اور جوانوں نے دونوں اہلکاروں کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔ ہلاک ہونے والے اہلکار شعیب الرحمان کی نمازِ جنازہ ان کے آبائی علاقے تلہ گنگ میں ادا کی گئی جبکہ غفران نثار کی نمازِ جنازہ ضلع بھمبر میں ادا کی گئی۔

نمازِ جنازہ کے ان روح پرور اجتماعات میں پاک بحریہ کے اعلیٰ افسران، جوانوں، شہداء کے لواحقین اور مقامی شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ بعد ازاں دونوں جوانوں کے جسدِ خاکی کو مکمل فوجی اعزاز، سلامی اور عقیدت کے ساتھ ان کے آبائی قبرستانوں میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں جدید تھیٹر ہال کا شاندار افتتاح

روزینہ اسماعیل, September 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے چیئرمین ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے مرکزی اکیڈمک کمپلیکس میں علم و ادب، ثقافتی اقدار اور تخلیقی سرگرمیوں کے ہمہ گیر فروغ کے لیے تمام جدید ترین سہولیات سے آراستہ ایک وسیع تھیٹر ہال کا باضابطہ افتتاح کر دیا ہے۔

افتتاح کیا جانے والا یہ جدید تھیٹر ہال یونیورسٹی کے لاکھوں طلبہ کو روایتی نصابی تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنے آزادانہ اظہارِ خیال، پوشیدہ تخلیقی صلاحیتوں، فنونِ لطیفہ اور متنوع ثقافتی سرگرمیوں کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایک بلاشبہ موثر اور جدید ترین قومی پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔ اس پروقار افتتاحی تقریب میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود، یونیورسٹی کے سرکردہ اساتذہ، اور شعبہ جات کے پرنسپل افسران کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اس نو تعمیر شدہ تھیٹر ہال میں پہلی علمی و ادبی تقریب کے طور پر پنجاب یونیورسٹی کی پروفیسر ایمریٹس اور ممتاز ترین ماہرِ تعلیم پروفیسر ڈاکٹر منور سلطانہ مرزا کی شہرہ آفاق کتاب “ٹیچر ایجوکیشن ان پاکستان” کی باقاعدہ رونمائی کی گئی، جس کی صدارت کا اعزاز چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے سنبھالا۔

تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے کہا کہ پاکستان کے اندر معیاری اور عالمی سطح کی تعلیم کا خواب شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے باصلاحیت، جدید تربیت یافتہ اور بلند کردار استاد کا ہونا بنیادی طور پر ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ استاد صرف کتابی معلومات کا امین یا ناقل نہیں ہوتا بلکہ اسے اپنے طلبہ، ان کے والدین اور پورے معاشرے کے لیے ایک عملی نمونہ اور حقیقی رول ماڈل ہونا چاہیے۔ دورِ حاضر کے بدلتے ہوئے عالمی اور تعلیمی تقاضوں کے پیشِ نظر انہوں نے اساتذہ کی علمی، تدریسی اور جدید پیشہ ورانہ تربیت پر بلا تعطل مسلسل توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ چیئرمین ایچ ای سی نے کہا کہ “ٹیچر ایجوکیشن ان پاکستان” ایک بلاشبہ معرکہ الآرا کتاب ہے جو اساتذہ کی جدید تعلیم و تربیت، ان کے معاشرتی کردار اور پیشہ ورانہ ترقی کے بنیادی پہلوؤں کو باریک بینی سے سمجھنے میں مشعلِ راہ ثابت ہوگی، جس کا تمام اساتذہ کو لازمی مطالعہ کرنا چاہیے۔

یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے مصنفہ پروفیسر ڈاکٹر منور سلطانہ مرزا کی دہائیوں پر محیط علمی و تدریسی خدمات کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر منور سلطانہ مرزا ملکی تعلیم و تدریس کے میدان میں ایک نہایت معتبر، صاحبِ بصیرت اور قابلِ فخر شخصیت ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تحریر کردہ کتاب ان کی سالہا سال کی فکری کاوش، عمیق تجربے اور سائنسی بصیرت کا بہترین مظہر ہے جو تعلیم کے شعبے سے وابستہ تمام افراد کے لیے ایک انمول تحفہ ہے۔

افتتاحی تقریب سے وفاقی وزارتِ تعلیم کے ایڈیشنل سیکرٹری حسن ثقلین، پارلیمانی سیکرٹری رابعہ نسیم، سابق وائس چانسلر و پروفیسر ایمریٹس پروفیسر ڈاکٹر محمود الحسن بٹ اور معروف ماہرِ تعلیم ڈاکٹر افشاں ہما نے بھی خطاب کیا۔ تمام مقررین نے اس کتاب کو ملک میں اساتذہ کی تربیت کے موضوع پر ایک انتہائی جامع اور بروقت تحقیقی کاوش قرار دیتے ہوئے مصنفہ کی گرانقدر خدمات کو سراہا۔

تارکینِ وطن ملک کا قیمتی اثاثہ، سفری دستاویزات کی فوری تصدیق کے لیے جدید ون ونڈو پورٹل قائم کرنے کی ہدایت: سینیٹر اعظم نذیر تارڑ

کاشف عباسی , September 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا ہے کہ بیرون ملک مقیم تمام پاکستانی ملک کا انتہائی قیمتی معاشی و قومی اثاثہ ہیں، اور موجودہ حکومت ان کی سفری دستاویزات اور پاسپورٹ سے متعلق مسائل کے فوری حل اور سہولیات کی فراہمی کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔

ترجمان وزارتِ قانون و انصاف کی طرف سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کی صدارت میں پاسپورٹ رولز کمیٹی کا ایک اہم اور اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ خارجہ، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پاسپورٹ اینڈ امیگریشن اور دیگر متعلقہ اداروں کے سینئر حکام اور نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران وفاقی وزیر قانون نے سفری دستاویزات اور دیگر ضروری کاغذات کی بروقت، شفاف اور بغیر کسی تاخیر کے تصدیق کو یقینی بنانے کے لیے ایک مربوط، جدید اور تیز رفتار ڈیجیٹل نظام وضع کرنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔ اعظم نذیر تارڑ نے حکام کو احکامات دیے کہ نادرست ریکارڈ کی تصدیق اور پاسپورٹس کے اجراء کے عمل کو سائلین کے لیے انتہائی آسان اور تیز بنایا جائے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ تمام انتظامی تصدیقی مراحل کے لیے ایک واضح اور محدود ٹائم لائن مقرر کی جائے تاکہ اوورسیز پاکستانیوں کو سفارت خانوں یا پاسپورٹ دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں اور نہ ہی غیر ضروری تاخیر کا سامنا کرنا پڑے۔

سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے وزارتِ داخلہ کی سطح پر فوری الیکٹرانک طریقہ کار مرتب کرنے اور تمام ضروری تصدیقی کارروائیوں کو آن لائن پلیٹ فارم پر منتقل کرنے کی تاکید کی۔ انہوں نے بیرون ملک مقیم شہریوں کے تمام مسائل اور کاغذات کی ایک ہی جگہ پر تصدیق کے لیے جدید ون ونڈو پورٹل متعارف کرانے کی تجویز پیش کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ پاسپورٹ قوانین اور قواعد و ضوابط میں مزید بہتری لانے کے لیے فوری سفارشات اور تجاویز تیار کریں۔

وفاقی وزیر قانون نے تمام متعلقہ اداروں کو احکامات دیے کہ وہ پاسپورٹ رولز کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں اس پورٹل اور آن لائن نظام کے حوالے سے ایک واضح اور قابلِ عمل لائحہ عمل پیش کریں تاکہ تمام تر کارروائی کو مکمل طور پر شفاف، موثر اور عوام دوست بنایا جا سکے۔

قانونی چارہ جوئی کے لیے مقررہ مدت کی پابندی بنیادی اصول ہے: وفاقی آئینی عدالت کا تفصیلی تحریری فیصلہ

منصور احمد,September 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

وفاقی آئینی عدالت نے اپنے ایک اہم اور تفصیلی تحریری فیصلے میں واضح کیا ہے کہ قانونی داد رسی اور چارہ جوئی کے لیے متعین کردہ مقررہ مدت پر عمل کرنا قانون کا بنیادی اور اہم ترین اصول ہے، اس لیے محض کسی معاملے کو بنیادی حقوق کا مسئلہ قرار دے کر غیر معمولی تاخیر سے دائر کی گئی آئینی درخواست کے ذریعے قانون میں طے شدہ مدت کو نظر انداز یا بائی پاس نہیں کیا جا سکتا۔

وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی تحریری فیصلے میں مذہبی لٹریچر، کتب اور مواد پر پابندی اور ان کی ضبطگی کے خلاف دائر کی گئی متعدد اپیلیں اور درخواستیں بلاجواز تاخیر کی بنیاد پر خارج کر دی گئی ہیں۔ عدالتِ عالیہ نے قرار دیا ہے کہ درخواستوں کی دائرگی میں بغیر کسی ٹھوس وجہ کے غیر معمولی تاخیر قانونی اصطلاح میں “لیشز” کا باعث بنتی ہے، اور آئینی درخواست کے ذریعے قانونی مدت سے بچنے کی ایسی تمام کاوشیں دراصل آئین اور قانون کے جائز عمل کا غلط استعمال ہیں۔

تفصیلی فیصلے میں عدالت نے نشاندہی کی کہ درخواست گزاروں کے پاس صوبائی حکومت کی جانب سے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 99 اے کے تحت کی گئی انتظامی کارروائی کے خلاف دفعہ 99 بی کے تحت ہائی کورٹ سے باضابطہ رجوع کرنے کا مؤثر اور متبادل قانونی راستہ موجود تھا۔ اس کے علاوہ متعلقہ آرڈیننس کے تحت بھی متفقہ طور پر اپیل کا حق میسر تھا، تاہم تمام تر درخواست گزاروں نے مقررہ قانونی مدت کے اندر یہ لازمی قانونی راستہ اختیار کرنے کے بجائے انتہائی تاخیر کا مظاہرہ کیا۔

وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں بنیادی قانونی نقطہ واضح کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی اختیارات کا ہر قسم کا استعمال قانون کے اندر موجود باضابطہ ماخذ سے منسلک ہونا ضروری ہے۔ محض یہ حقیقت کہ کوئی فیصلہ انتظامی افسر کی جانب سے ہوا ہے، اسے ازخود غیر قانونی یا محض صوابدیدی اختیار نہیں بنا دیتی، بلکہ بنیادی سوال یہ ہے کہ وہ اختیار کس بنیادی قانون کے تحت حاصل کیا گیا تھا اور اس کا ماخذ کیا ہے۔

عدالتی فیصلے میں مزید لکھا گیا ہے کہ بنیادی حقوق بلاشبہ آئین پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ اہم ترین ضمانتیں ہیں، تاہم ان حقوق کا استعمال ملکی قانون، عمومی پالیسی اور اخلاقیات کے واضح تابع ہوتا ہے۔ مذہبی آزادی سمیت آئین میں درج تمام بنیادی حقوق کو ہمیشہ وسیع تر عوامی مفاد، بین المذاہب ہم آہنگی اور امنِ عامہ کے ساتھ متوازن بنانا قانون کے لیے بے حد ضروری ہے۔

مقدمے کے پس منظر کے مطابق درخواست گزار محمد عبد القدوس نے پنجاب حکومت کے محکمہ داخلہ کی جانب سے 25 جون 2014 کو جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا تھا، جس کے تحت “روحانی خزائن” کی جلد اول سے 23 پر باضابطہ پابندی عائد کی گئی تھی اور تمام دستیاب نقول کو ضبط کرنے کے احکامات دیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ دیگر تمام درخواست گزاروں نے بھی مختلف دینی و دیگر لٹریچر اور متنازع مواد کے خلاف کی جانے والی حکومتی و انتظامی کارروائیوں کو عدالت عالیہ میں چیلنج کر رکھا تھا۔

عدالت نے حتمی طور پر قرار دیا کہ درخواست گزاروں نے وقت پر متبادل قانونی چارہ جوئی کا فورم اختیار کرنے کے بجائے برسوں کی تاخیر کے بعد براہِ راست آئینی درخواستیں دائر کی ہیں اور عدالت کے سامنے تاخیر کی کوئی معقول یا قابلِ قبول وجہ بھی پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ وفاقی آئینی عدالت نے ہائی کورٹ کے فیصلوں کو بحال رکھتے ہوئے قرار دیا کہ زیرِ نظر فیصلے میں کوئی قانونی یا دائرہ اختیار کی خامی موجود نہیں جس کی بنیاد پر مداخلت کی جائے، اور اسی بنا پر تمام درخواستیں خارج کرتے ہوئے زیر التوا متفرق متفرقات کو نمٹا دیا گیا۔

بلوچستان ایوی ایشن کمپنی کا چوتھا اعلیٰ سطحی اجلاس: وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی صدارت میں اہم فیصلے منظور

منصور احمد,September 09,2026

کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں بلوچستان ایوی ایشن کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چوتھے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی، جس میں کمپنی کے انتظامی، مالی، اور عملی (آپریشنل) امور کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے متعدد بنیادی فیصلوں اور تجاویز کی منظوری دی گئی، جبکہ گزشتہ بورڈ اجلاس کے فیصلے توثیق کر کے نافذ العمل بنا دیے گئے۔

اجلاس کے دوران بلوچستان ایوی ایشن کمپنی کی مجموعی کارکردگی، ادارے کے انتظامی ڈھانچے، ہوابازی کے عملی امور اور مستقبل کی جامع اسٹریٹجی پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر کمپنی کی کارکردگی کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے، انتظامی امور کو زیادہ منظم و فعال کرنے، اور کمپنی کی آپریشنل استعداد کار میں خاطر خواہ اضافے کے لیے مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔

وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے بورڈ حکام کو سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان ایوی ایشن کمپنی کو جدید دور کے تقاضوں سے مکمل طور پر ہم آہنگ کیا جائے اور اس کی انتظامی و آپریشنل صلاحیتوں میں ہر ممکن بہتری لائی جائے تاکہ یہ ادارہ وسیع الرقبہ صوبہ بلوچستان کے اندر اور باہر فضائی سفری سہولیات کی فراہمی میں اپنا کلیدی اور مثبت کردار ادا کر سکے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے متعلقہ حکام کو واضح احکامات دیے کہ کمپنی کے تمام مالی و انتظامی امور میں مکمل شفافیت، اعلیٰ درجے کے پیشہ ورانہ نظم و نسق، اور کڑی نگرانی کے نظام کو یقینی بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ہدایت کی کہ اجلاس میں منظور کیے گئے تمام اہم فیصلوں پر بلا تاخیر اور بروقت عمل درآمد کے لیے ایک موثر اور شفاف عملدرآمد میکنزم تیار کیا جائے۔

بورڈ کے اس اہم اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، سیکرٹری خزانہ جہانگیر خان، ڈائریکٹر جنرل بلوچستان ایوی ایشن کمپنی کیپٹن علی آزاد، اور کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے تمام اراکین سمیت متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور ادارے کی ترقی کے لیے تجاویز پیش کیں۔

پائیدار قومی ترقی اور پائیدار معاشی استحکام کے لیے خواتین کو مکمل طور پر بااختیار بنانا ناگزیر ہے: قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی

کاشف عباسی , September 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

قائم مقام صدر مملکت اور چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں پائیدار قومی، معاشی اور جمہوری ترقی اس وقت تک مکمل اور مستحکم نہیں ہو سکتی جب تک ملک کی نیمی آبادی یعنی خواتین کو تمام ریاستی اداروں، معیشت اور پالیسی سازی میں مساوی نمائندگی اور قیادت کے مکمل مواقع فراہم نہ کیے جائیں۔

اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے زیرِ اہتمام منعقدہ “پاکستان ویمن لیڈرشپ اینڈ پالیسی سمٹ 2026” کے عظیم الشان اور پروقار اجلاس سے بطور مہمانِ خصوصیہ خطاب کرتے ہوئے قائم مقام صدر نے چیمبر آف کامرس اور تمام دیگر شراکت داروں کی کاوشوں کو شاندار الفاظ میں سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کانفرنس دو انتہائی اہم اور ناگزیر قومی ترجیحات یعنی خواتین کی قائدانہ صلاحیتوں کی آبیاری اور موثر و عملی پالیسی سازی کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کرنے کا سبب بنی ہے۔

سید یوسف رضا گیلانی نے سمٹ میں موجود معاشی ماہرین، صنعتکاروں اور پالیسی سازوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی حقیقی معاشی طاقت کو بیدار کرنے کے لیے یہ یقینی بنانا ہوگا کہ خواتین صرف ترقی اور فوائد سے مستفید ہونے والی محض صارفین نہ ہوں، بلکہ وہ معاشی میدان میں بحیثیت کامیاب تاجر، صنعتکار، پیش ور ماہر، ڈیجیٹل جدت کار اور قائدانہ کردار ادا کرنے والی رہنما کے طور پر معیشت کی بنیادی محرک بنیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چاہے کسی بھی دور دراز علاقے یا پس منظر سے تعلق رکھنے والی خاتون ہو، اسے معیاری تعلیم، مالی وسائل، جدید ترین ٹیکنالوجی، بین الاقوامی مارکیٹوں اور اعلیٰ سطح کی فیصلہ سازی تک بلاامتیاز مساوی اور آسان رسائی میسر ہونی چاہیے۔

قائم مقام صدر مملکت نے اپنے خطاب میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے انقلابی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس عالمی سطح پر تسلیم شدہ پروگرام کے ذریعے مالی معاونت کی رقم براہِ راست مستحق خواتین کے ہاتھوں میں پہنچانے سے گھریلو نظام کے اندر معاشی فیصلہ سازوں کے طور پر ان کے وجود کو بے پناہ تقویت ملی ہے۔ ان کے مطابق یہ محض عارضی امداد نہیں بلکہ مالی انحصار سے خود مختاری اور باوقار بااختیاری کی جانب ایک اہم تاریخی تبدیلی کی علامت ہے۔

سید یوسف رضا گیلانی نے تمام بینکوں اور مالیاتی اداروں پر زور دیا کہ وہ خواتین کی زیرِ قیادت کام کرنے والے کاروباروں اور نئے اسٹارٹ اپس کے لیے مالی سرمائے اور قرضوں کی فراہمی کے عمل کو انتہائی آسان اور سہل بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں قومی سطح پر ایک ایسا شفاف ماحولیاتی نظام قائم کرنا ہوگا جہاں جب کسی خاتون کے پاس کوئی بھی تخلیقی یا تجارتی تصور ہو تو اسے سستے اور آسان مالی وسائل، منڈیوں تک رسائی، اور میرٹ کی بنیاد پر آگے بڑھنے کی تمام تر سہولیات بغیر کسی صنفی رکاوٹ کے فراہم کی جائیں۔

قائم مقام صدر نے پاکستان کی تاریخ کی ان عظیم اور جرات مند خواتین کو خراجِ عقیدت پیش کیا جنہوں نے تمام روایتی رکاوٹوں کو توڑ کر ملکی تاریخ کو نئی سمت دی۔ انہوں نے محترمہ فاطمہ جناح، بیگم رعنا لیاقت علی خان، بیگم شائستہ اکرام اللہ اور بالخصوص سابق وزیراعظم شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے ایک مسلم اکثریتی ملک کی پہلی منتخب خاتون وزیراعظم بن کر ایسی چٹانوں کو توڑا جنہیں تسخیر کرنا طویل عرصے تک ناممکن سمجھا جاتا تھا، اور ان کا وہ تاریخی سفر آج بھی خواتین کو عوامی زندگی میں آگے آنے اور قیادت سنبھالنے کی مسلسل ترغیب دیتا ہے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر قائم مقام صدر نے اعلان کیا کہ جب خواتین کی قیادت مضبوط ہوتی ہے تو خاندان خوشحال ہوتے ہیں، خواتین کی معاشی شمولیت سے قومیں ترقی کرتی ہیں اور جب خواتین پالیسی سازی میں شریک ہوتی ہیں تو جمہوریت زیادہ شفاف، منصفانہ اور پائیدار بنتی ہے۔ تقریب کے اختتام پر قائم مقام صدر نے اسلام آباد چیمبر کے نمایاں ارکان میں شیلڈز اور اسناد بھی تقسیم کیں، جبکہ چیمبرز کی قیادت کی جانب سے قائم مقام صدر کو یادگاری شیلڈ پیش کی گئی۔

ایران کا بڑا عسکری و بحری اقدام: ‘ممنوعہ سمندری علاقے’ کی حدود خلیجِ عمان اور بحیرہ عرب تک بڑھانے کا اعلان

محمود احمد, September 09,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے خلیج فارس اور بحیرہ عرب میں جاری شدید عسکری کشیدگی کے دوران بڑا دعویٰ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایران کی جانب سے طے کردہ ‘ممنوعہ سمندری علاقے’ کی جغرافیائی حدود کو مزید وسیع کر دیا گیا ہے، جس میں اب خلیجِ عمان اور بحیرۂ عرب کے انتہائی اہم اور حساس حصے بھی شامل ہوں گے۔

ایران کے پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے باضابطہ ترجمان حسین محبی نے تہران میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس نئے اور جدید توسیع شدہ ممنوعہ علاقے سے ایرانی حکومت یا بحریہ کی پیشگی اجازت کے بغیر گزرنے والے تمام ملکی و غیر ملکی تجارتی اور آئل ٹینکرز کے خلاف سخت ترین تعزیری ‘پابندیاں’ نافذ کی جائیں گی۔

ایرانی عسکری ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس توسیع شدہ ممنوعہ علاقے کی دقیق جغرافیائی حدود اور اس سے متعلقہ بین الاقوامی کوآرڈینیٹس کا باقاعدہ نقشہ اور تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی، تاہم ابتدائی طور پر یہ سمندری حد بندرگاہ چابہار کے علاقے سے شروع ہوتی ہے۔

حسین محبی نے انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ جو بحری جہاز ایران کی جانب سے مقررہ اور واضح کی گئی ممنوعہ حدود میں غیر قانونی طور پر داخل ہوں گے، انہیں بعد میں عالمی توانائی کی شاہ رگ سمجھی جانے والی آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی ایسے خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو بین الاقوامی قانونی، لاجسٹک، تکنیکی اور انشورنس کی خدمات کی فراہمی بھی روک دی جائے گی تاکہ ان کی آزادانہ آمدورفت ناممکن بنائی جا سکے۔

ایران کی جانب سے یہ غیر معمولی اور خطرناک اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے مابین خلیج فارس، بحیرہ عمان اور آبنائے ہرمز کے ارد گرد عسکری و بحری محاذ آرائی میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے، جس کے باعث خطے میں بین الاقوامی تجارتی جہازرانی اور خام تیل و ایل این جی کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے محدود سمندری زونز کی توسیع کا یہ اقدام حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز کے قریب کئی آئل ٹینکرز پر ہونے والے حملوں اور جوابی کارروائیوں کے تسلسل میں دیکھا جا رہا ہے۔

ایران اس سے قبل بھی آبنائے ہرمز کے باہر بحری حدود میں ایک نیا ‘محدود سمندری زون’ قائم کرنے کا باضابطہ اعلان کر چکا ہے، جس کا حتمی مقصد ان بین الاقوامی جہازوں کو روکنا اور تحویل میں لینا تھا جو ایرانی نگرانی، جانچ اور تجارتی پابندیوں کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ تہران کے اس تازہ ترین اعلان کے بعد خلیجِ عمان اور بحیرۂ عرب سے گزرنے والی بین الاقوامی بحری تجارت اور خصوصاً خلیجی ممالک سے عالمی منڈیوں کو ہونے والی توانائی کی فراہمی پر بلاواسطہ منفی اثرات اور معاشی خطرات کے شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

بلوچستان میں خواتین اور کمسن بچیوں پر تشدد، تیزاب گردی اور قتل کے واقعات پر شدید تشویش: حقوقِ نسواں کی تنظیموں کا حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ

روزینہ اسماعیل, September 09,2026

کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

ایواجی الائنس اور عورت فاؤنڈیشن نے بلوچستان میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران خواتین اور کمسن بچیوں کے خلاف مبینہ تشدد، بدترین قتل، تیزاب گردی، اور جنسی زیادتی کے واقعات میں اچانک ہونے والے خطرناک اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت اور تمام متعلقہ سیکیورٹی و قانون نافذ کرنے والے اداروں سے فوری، شفاف اور مؤثر اقدامات کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔

جاری کردہ مشترکہ پریس ریلیز میں دونوں معتبر حقوقِ نسواں کی تنظیموں نے کچلاک میں 15 سالہ کمسن لڑکی کے مبینہ قتل، مستونگ کے علاقے کلی ببری میں ایک خاتون پر تیزاب پھینکنے اور شدید تشدد، تربت کے علاقے سے ایک خاتون کی لاوارث لاش ملنے، اور ضلع نوشکی کے علاقے احمد وال میں 9 سالہ معصوم بچی کے مبینہ جنسی استحصال، بے دردی سے قتل اور لاش چھپانے کے دلخراش واقعات کو معاشرے اور ریاست کے لیے انتہائی تشویشناک اور شرمناک قرار دیا ہے۔

تنظیموں کے نمائندوں نے واضح کیا کہ خواتین اور بچوں کے خلاف ایسے سفاکانہ مظالم کا بڑھنا پورے معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے سنگین جرائم کے سدباب کے لیے صرف ابتدائی اطلاع یعنی مقدمات (ایف آئی آر) کا درج کر لینا ہی کافی نہیں ہوتا، بلکہ ملزمان کی فوری گرفتاری، سائنسی و جدید بنیادوں پر تفتیش، تیز ترین عدالت انصاف اور متاثرین کے تحفظ کے لیے ایک مضبوط اور قائم بالذات نظام تشکیل دینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ تنظیموں نے صوبائی حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان تمام واقعات کا سخت نوٹس لے کر ملزمان کو فوری کٹہرے میں لایا جائے۔

طبی اور فرانزک سہولیات کی عدم دستیابی پر گہری تشویش

ایواجی الائنس اور عورت فاؤنڈیشن نے صوبے بھر میں بنیادی طبی اور فرانزک سہولیات کی ناگفتہ بہ صورتحال پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ جاری کردہ رپورٹ کے مطابق سول ہسپتال نوشکی میں ضروری پوسٹ مارٹم کے لیے لیڈی سرجن یا ماہر ڈاکٹروں کی غیر موجودگی اور بلوچستان کے تمام دیگر اضلاع میں پولیس سرجنز کی شدید قلت ایسے حساس ترین اور سنگین مقدمات کی سائنسی تحقیقات اور مظلوموں کو انصاف کی فراہمی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ حقوقِ نسواں کی تنظیموں نے حکومتِ بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ تمام اضلاع، خصوصاً دور دراز علاقوں میں مناسب طبی، فرانزک، نفسیاتی اور قانونی سہولیات کی فراہمی فوری یقینی بنائی جائے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو بلا تاخیر انصاف مل سکے۔

متاثرین کے تحفظ اور بحالی کے لیے مربوط نظام کی ضرورت

مشترکہ اعلامیے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ خواتین اور بچیوں پر تشدد کے خلاف ایک ایسا جامع قانونی و انتظامی ردِعمل وقت کی اہم ضرورت ہے، جس میں متاثرین کا مکمل تحفظ، ان کی رازداری، مفت طبی علاج، نفسیاتی علاج، اور مکمل قانونی امداد شامل ہو۔ دونوں تنظیموں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان پولیس، محکمہ صحت، پراسیکیوشن، محکمہ سماجی بہبود، اور محکمہ حقوقِ نسواں کے درمیان ایک ایسا مضبوط آن لائن اور عملی رابطہ نظام قائم کیا جائے تاکہ حساس مقدمات کی کارروائی میں حائل رکاوٹیں ختم کی جا سکیں۔ پریس ریلیز کے اختتام میں واضح کیا گیا کہ خواتین اور بچوں کی حفاظت کے لیے نئی قانون سازی کے ساتھ ساتھ پہلے سے موجود قوانین پر بغیر کسی سیاسی و قبائلی مراعات کے، بلاامتیاز عمل درآمد یقینی بنانا ہو گا۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کالعدم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کو تین ماہ مکمل: کئی اضلاع میں شٹر ڈاؤن ہڑتال

محمود احمد, September 09,2026

مظفرآباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے پیش کردہ مطالبات اور احتجاجی تحریک کو مسلسل تین ماہ مکمل ہو گئے ہیں۔ تحریک کے نوے دن پورے ہونے پر خطے کے مختلف شہروں میں ایک بار پھر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی ہے جس سے عوامی و تجارتی زندگی شدید متاثر ہوئی ہے۔

ذرائع کے مطابق جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے حقوق اور چارٹر آف ڈیمانڈ کی منظوری کے لیے رواں برس 9 جون کو بھمبر کے مقام سے دارالحکومت مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا باقاعدہ آغاز کیا تھا، جسے آج 9 ستمبر کو پورے تین ماہ مکمل ہو چکے ہیں۔

اس طویل احتجاجی سلسلے کو مزید تیز کرنے کے لیے تنظیم کی اعلیٰ قیادت نے رواں ماہ کی 5 تاریخ کو اپنے مطالبات کے حق میں پورے خطے میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کرنے کا نیا اعلان کیا تھا۔

اس ہڑتال کی کال پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں جزوی شٹر ڈاؤن دیکھنے میں آ رہا ہے۔ شہر کے مرکزی تجارتی علاقے پلیٹ اپر اڈہ میں واقع تمام بڑی مارکیٹس اور دکانیں مکمل طور پر بند ہیں، جبکہ دوسری جانب بینک روڈ اور ٹالی منڈی کے علاقوں میں کاروباری مراکز اور دکانیں کھلی ہیں۔ اس کے برعکس ضلع باغ اور ضلع کوٹلی میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال جاری ہے جہاں تمام کاروباری سرگرمیاں معطل ہیں۔

احتجاج اور ہڑتال کے باعث خطے بھر میں سڑکوں پر عمومی ٹرانسپورٹ اور گاڑیوں کی روانی معمول کے مقابلے میں انتہائی کم ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے عام شہریوں اور مسافروں کو شديد دشواری کا سامنا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ضلع باغ میں مقامی ضلعی انتظامیہ نے ہڑتال کرنے اور دکانیں بند رکھنے والے متعدد تاجروں کے خلاف سخت انتظامی کارروائی کرتے ہوئے ان کی دکانوں کو سیل کر دیا ہے، جس کے بعد علاقے میں انتظامیہ اور تاجروں کے مابین کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

ایندھن کی قیمتوں میں ٹیکسوں کا بڑا حصہ: پٹرول پر 134 روپے اور ڈیزل پر 118 روپے سے زائد کے ٹیکس عائد ہونے کا انکشاف

کاشف عباسی , September 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کے دوران پاکستان میں ایندھن کی حتمی قیمتوں کا ایک بہت بڑا حصہ مختلف ٹیکسوں، لیوی، کسٹم ڈیوٹیز اور تجارتی مارجنز پر مشتمل ہونے کی تحریری دستاویزات سامنے آئی ہیں۔

ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ میں پیش کیے گئے مستند اعداد و شمار کے مطابق ایک لیٹر پٹرول پر پاکستانی عوام مجموعی طور پر 134 روپے 60 پیسے کا بھاری ٹیکس اور اضافی اخراجات ادا کر رہے ہیں، جبکہ فی الوقت پٹرول کی اصل قیمت 229 روپے 75 پیسے فی لیٹر بتائی گئی ہے۔

دستاویزات کی تفصیلات کے مطابق پٹرول پر فی لیٹر 80 روپے پٹرولیم لیوی اور 5 روپے کاربن لیوی عائد کی گئی ہے، جبکہ 21 روپے 15 پیسے کسٹم ڈیوٹی اور تقریباً 3 روپے پریمیم بھی فی لیٹر قیمت میں پہلے سے شامل کیے گئے ہیں۔ مزید برآں پٹرول کی حتمی فروخت کی رقم میں 7 روپے 60 پیسے ریفائنری و فریٹ مارجن، 7 روپے 87 پیسے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مقررہ منافع اور 9 روپے 98 پیسے پٹرول پمپ ڈیلرز کا مارجن شامل ہوتا ہے۔

دوسری جانب معیشت کی شاہ رگ سمجھے جانے والے ڈائریکٹ ڈیزل کی بات کی جائے تو ایک لیٹر ڈیزل پر مجموعی ٹیکسز اور اخراجات کی رقم 118 روپے 55 پیسے بتائی گئی ہے، جو کہ ڈیزل کی کل فروخت کی قیمت کا تقریباً 31 فیصد بنتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مارکیٹ میں ڈیزل کی اصل بنیادی قیمت 267 روپے 40 پیسے فی لیٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔

دستاویزات کے مطابق ڈیزل پر بھی حکومت کی جانب سے 80 روپے پٹرولیم لیوی اور 5 روپے کاربن لیوی وصول کی جا رہی ہے، جبکہ 15 روپے 68 پیسے کسٹم ڈیوٹی اور ایک روپیہ پریمیم کی مد میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 4 روپے 2 پیسے فریٹ مارجن، 7 روپے 87 پیسے آئل کمپنیوں کا منافع اور 9 روپے 98 پیسے ڈیلرز کا کمیشن و مارجن بھی شامل کیا جاتا ہے۔

معاشی ماہرین اور رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر پٹرولیم مصنوعات پر عائد یہ بھاری لیوی، کسٹم ڈیوٹیز، کمپنیوں کے منافع اور دیگر اخراجات ہی عوام کے لیے ایندھن کی حتمی مہنگی قیمت اور ملک میں افراطِ زر کا بنیادی سبب بن رہے ہیں۔

ٹیلی میڈیسن عوامی صحت کا اہم انقلابی منصوبہ، شہریوں کو علاج کی سہولیات دہلیز کے قریب ملیں گی: وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال

روزینہ اسماعیل, September 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

وفاقی وزیر برائے صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ٹیلی میڈیسن کا قیام ایک انتہائی اہم اور انقلابی قومی منصوبہ ہے، جس کے زبردست ثمرات کے ذریعے عام شہریوں کو ان کے گھروں اور دہلیز کے بالکل قریب جدید طبی سہولیات میسر آئیں گی اور معمولی عوارض یا بیماریوں کے علاج کے لیے انہیں دور دراز بڑے ہسپتالوں کا رخ نہیں کرنا پڑے گا۔

اسلام آباد میں جدید ٹیلی میڈیسن سینٹر کی پروقار افتتاحی تقریب سے بطور مہمانِ خصوصیہ خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے صحت نے واضح کیا کہ موجودہ حکومت عوام کو صحت کی بنیادی اور معیاری سہولیات ان کے اپنے علاقوں میں فراہم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان جدید ٹیلی میڈیسن سینٹرز کے ذریعے عام شہریوں کو ماہر ترین ڈاکٹروں اور طبی معالجین کی فوری مشاورت کی سہولت فراہم کی جائے گی، جس سے نہ صرف وقت اور پیسے کی بچت ہوگی بلکہ بڑے سرکاری و نجی ہسپتالوں پر مریضوں کا غیرضروری بوجھ اور رش بھی نمایاں طور پر کم ہو سکے گا۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران مصطفیٰ کمال نے ملک بھر کے تمام والدین سے پُرزور اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو جیسی موذی بیماری سے بچانے کے لیے ہر مہم میں قطرے لازمی پلوائیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہر نونہال کو پولیو سے محفوظ بنانا ہم سب کی اجتماعی اور قومی ذمہ داری ہے۔ وفاقی وزیر نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ حکومت نے بچوں کو 13 دیگر خطرناک اور مہلک بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے باقاعدہ حفاظتی ٹیکہ جات (ویکسینیشن) کی مفت اور موثر سہولت قائم کر رکھی ہے، اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ یہ یقینی بنائیں کہ ایک سے پانچ سال کی عمر کے کسی بچے کا بھی کوئی حفاظتی ٹیکہ کورس سے چھوٹ نہ جائے۔

وفاقی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ بیماریاں پھیلنے سے قبل ہی اگر بروقت، مناسب اور سائنسی احتیاطی تدابیر اختیار کر لی جائیں تو بچوں کو بعد میں شدید بیمار ہونے، ڈسپنسریوں یا ہسپتالوں کی ایمرجنسیز کا رخ کرنے کی ضرورت کافی حد تک ختم ہو سکتی ہے۔ ایک صحتمند اور فعال معاشرے کی تعمیر کے لیے بیماریوں سے پہلے ہی بچاؤ، باقاعدہ ویکسینیشن اور بروقت تدابیر بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔

مصطفیٰ کمال نے ٹیلی میڈیسن منصوبے کے پہلے مرحلے کے آخری اور مرکزی ہیلتھ سینٹر کے باضابطہ افتتاح اور اس ابتدائی فیز کی کامیاب تکمیل پر ڈاکٹر سارہ، ان کی پوری تکنیکی ٹیم، ڈی ایچ او اسلام آباد ڈاکٹر راشدہ انجم اور تمام متعلقہ انتظامی افسران اور ہیلتھ ورکرز کی انتھک محنت کو سراہتے ہوئے انہیں مبارکباد پیش کی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ٹیلی میڈیسن سینٹرز سے فائدہ اٹھانے والے غریب و مستحق مریضوں کی خدمت کرنا ایک عظیم انسانی اور دینی عمل ہے، جس کا اجر دنیا اور آخرت دونوں میں ملتا ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ عوامی بہبود اور بلا معاوضہ علاج کے اس سلسلے کو مستقبل میں ملک کے دیگر حصوں تک پھیلا کر مزید موثر اور وسیع بنایا جائے گا۔

برطانیہ کی پابندیوں پر اسرائیل کا شدید جوابی ایکشن: مشرقی یروشلم میں برطانوی قونصل خانہ بند کرنے کا باضابطہ اعلان

محمود احمد, September 09,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

برطانیہ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے خلاف تاریخی پابندیوں اور بستیوں سے آنے والی مصنوعات پر مکمل درآمدی قدغن کے اعلان کے جواب میں اسرائیل نے انتہائی سخت اور غیر معمولی سفارتی قدم اٹھاتے ہوئے مشرقی یروشلم میں واقع برطانوی قونصل خانے کو بند کرنے کا بڑا اعلان کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے گزشتہ روز پارلیمان کے ایوانِ زیریں میں حکومت کا تاریخی فیصلہ پیش کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ برطانیہ، مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم تمام غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے آنے والی اشیائے صرف اور مصنوعات کی درآمد پر مکمل پابندی عائد کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ ان پابندیوں کے تحت بستیوں کی تعمیری سرگرمیوں، انفراسٹرکچر، مالیاتی معاونت اور رئیل اسٹیٹ میں سہولت کاری فراہم کرنے والی مخصوص کمپنیوں اور افراد کے خلاف بھی سخت مالی و قانونی ایکشن لیا جائے گا۔

وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے واضح کیا تھا کہ یہ جامع فیصلہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کے غیر قانونی قبضے اور اس سے جڑے معاشی تعلقات کے حوالے سے برطانوی پالیسی میں ایک بنیادی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ برطانوی حکومت نے مغربی کنارے میں انتہا پسند آبادکاروں کے تشدد، فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور متنازع ای 1 سیٹلمنٹ منصوبے کے تحت نئی بستیوں کی تعمیر پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ برطانیہ سمیت 12 اتحادی ممالک نے مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ بستیوں کی مسلسل توسیع بند کرے اور دو ریاستی حل کے تمام سفارتی راستے مسدود کرنے سے گریز کرے۔

برطانیہ کے ان اقتصادی و سفارتی اقدامات پر اسرائیل نے نپٹا ہوا اور سخت ترین جوابی حملہ کیا ہے۔ اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈیون ساعر نے برطانوی فیصلے کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہوئے برطانوی وزیر خارجہ پر عالمی برادری میں “سنگین اور من گھڑت جھوٹ” پھیلانے کا براہِ راست الزام عائد کیا۔ اس کے ساتھ ہی اسرائیلی حکومت نے ردِعمل کے طور پر مشرقی یروشلم میں سالہا سال سے قائم برطانوی قونصل خانے کے دفتری آپریشنز کو مکمل طور پر بند کرنے اور سفارتی عملے کی سہولیات محدود کرنے سمیت متعدد جوابی اقدامات نافذ کر دیے ہیں۔

دوطرفہ سفارتی کشیدگی کا یہ نیا اور خوفناک دور ایک ایسے نازک لمحے پر شروع ہوا ہے جب اسرائیل نے مغربی کنارے کے انتہائی حساس علاقے ای 1 میں نئی بستیوں کی تعمیر کے لیے باضابطہ ٹینڈرز جاری کیے ہیں۔ برطانیہ اور یورپی یونین کے رکن ممالک اس منصوبے کی شدید مخالفت کر رہے ہیں کیونکہ ای 1 منصوبہ مقبوضہ مغربی کنارے کو مشرقی یروشلم سے جغرافیائی طور پر الگ تھلگ کر کے ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی تمام امیدوں کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دے گا۔ اسرائیل کے اس تازہ ترین جوابی قدم کے بعد برطانیہ اور تل ابیب کے درمیان سفارتی و تجارتی تعلقات بدترین تنزلی کا شکار ہو چکے ہیں۔

اروناچل پردیش میں بھارت اور چین کے اعلیٰ فوجی کمانڈروں کے درمیان دو روزہ مذاکرات

محمود احمد, September 09,2026

نئی دہلی (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

بھارت کی وزارتِ خارجہ نے باضابطہ تصدیق کی ہے کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) پر طویل عرصے سے جاری شدید عسکری کشیدگی کو کم کرنے کے تناظر میں بھارت اور چین کے اعلیٰ فوجی کمانڈروں کے درمیان اروناچل پردیش کے حساس سرحدی علاقے میں اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے دو دور کامیابی سے مکمل ہو گئے ہیں۔

بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے دہلی میں پریس بریفنگ کے دوران تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ اعلیٰ عسکری سطح کی پہلی فلیگ میٹنگ 6 ستمبر کو اروناچل پردیش میں بھارت کی جانب واقع واچا کے مقام پر ہوئی، جبکہ مذاکرات کی دوسری اہم ملاقات 7 ستمبر کو چین کی حدود میں واقع دامائی میں منعقد کی گئی۔ یہ مشرقی سیکٹر کی سرحد پر دونوں ایٹمی صلاحیت کے حامل ممالک کے درمیان پہلی باضابطہ کور کمانڈر سطح کی عسکری و سفارتی ملاقات تھی۔

وزارتِ خارجہ کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، دونوں ممالک کے کمانڈروں کے درمیان یہ اہم مذاکرات اپر سبانسری کے متنازع ٹاکسنگ علاقے میں حال ہی میں پیدا ہونے والی عسکری کشیدگی کے پس منظر میں منعقد کیے گئے۔ بھارتی حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ تمام ملاقاتیں اگست 2025 اور اگست 2026 میں دونوں ممالک کے خصوصی نمائندوں کے درمیان طے پانے والی اعلیٰ سطحی مفاہمت، نیز مئی اور اگست 2026 میں بیجنگ اور نئی دہلی میں منعقدہ ورکنک میکنزم فار کنسلٹیشن اینڈ کوآرڈینیشن کے فیصلوں کے تسلسل کے طور پر عمل میں لائی گئی ہیں۔

رندھیر جیسوال نے پریس کانفرنس کے دوران دو روزہ مذاکرات کے حتمی نتائج یا تفصیلی معاہدے کی فوری معلومات فراہم کرنے سے گریز کیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ مغربی سیکٹر میں بھی اعلیٰ فوجی کمانڈروں کے درمیان اسی نوعیت کا فعال اور مربوط رابطہ موجود ہے، جو سال 2020 میں وادیٔ گلوان میں ہونے والی خونریز عسکری جھڑپوں کے بعد قائم کیا گیا تھا۔

بھارت اور چین کے درمیان طویل مشترکہ سرحد پر سرحدی تنازع کے باعث ایل اے سی کے متعدد حساس حصوں پر فوج کی بھاری نفری تعینات رہی ہے۔ تاہم حالیہ مہینوں کے دوران دونوں ممالک نے باہمی عسکری و سفارتی رابطوں کو تیز کر کے کشیدگی میں کمی لانے اور سفارتی تعلقات کو استوار کرنے کی کاوشیں شروع کر رکھی ہیں۔ بھارتی ترجمان کے مطابق دوطرفہ تعلقات بتدریج مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ مذاکرات کا یہ تازہ اور اہم دور چینی صدر شی جن پنگ کے بھارت میں متوقع برکس سربراہی اجلاس کے اہم دورے سے محض چند روز قبل سامنے آیا ہے، جسے خطے میں طاقت کے توازن اور دوطرفہ تعلقات کی بہتری کی کوششوں میں انتہائی سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

بلوچستان میں پاک فوج اور سکیورٹی فورسز کے خوفناک آپریشنز: خاران اور واشک میں 11 شدت پسند ہلاک

کاشف عباسی , September 09,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے باضابطہ جاری کردہ اعلامیے میں دعویٰ کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے حساس اضلاع خاران اور واشک میں 6 اور 7 ستمبر کو کارروائیاں کرتے ہوئے 11 خطرناک شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

عسکری ترجمان آئی ایس پی آر کے باضابطہ بیان کے مطابق، شدت پسندوں کے ایک مسلح گروہ نے 6 ستمبر کو ضلع خاران کی مرکزی شاہراہ کو زبردستی بند کر کے ٹریفک کی عمومی روانی کو بری طرح متاثر کرنے اور خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی تھی۔ اطلاع ملتے ہی سکیورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر پیش قدمی کرتے ہوئے شدت پسندوں کو گھیر لیا، جہاں شدید فائرنگ کے تبادلے اور مقابلے کے نتیجے میں 8 شدت پسند موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔

آئی ایس پی آر کے بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ 7 ستمبر کو ضلع واشک کے پیچیدہ اور دور دراز علاقے میں شدت پسندوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاعات پر ان کے خفیہ ٹھکانے پر ہدف پر مبنی کارروائی کی گئی۔ سکیورٹی فورسز اور مسلح عناصر کے درمیان فائرنگ کے سخت تبادلے کے بعد مزید 3 شدت پسند انجام کو پہنچے۔

شعبہ تعلقات عامہ نے تصدیق کی ہے کہ ان دونوں کامیاب اور منظم کارروائیوں کے دوران شدت پسندوں کے تحویل سے 2.9 ٹن کی بڑی مقدار میں انتہائی حساس اور خطرناک بارودی مواد بھی برآمد کیا گیا ہے، جو دہشت گردانہ بم دھماکے اور آئی ای ڈیز تیار کرنے میں استعمال کیا جا رہا تھا۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے میں صفائی اور سرچ آپریشن مکمل کرتے ہوئے عزم ظاہر کیا ہے کہ بلوچستان میں امن کو تباہ کرنے والے عناصر کا بلا تفریق مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔

ستمبر کی ملک گیر ذیلی انسدادِ پولیو مہم کے دوران 3 کروڑ 10 لاکھ بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے؛ ورکرز کی حفاظت، عزت و وقار اور فلاح و بہبود کے لیے خصوصی اقدامات مکمل

منصور احمد,September 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

پاکستان انسدادِ پولیو پروگرام نے ستمبر میں منعقد ہونے والی آئندہ ذیلی قومی انسدادِ پولیو مہم سے قبل ملک بھر میں خدمات انجام دینے والے لاکھوں فرنٹ لائن ورکرز کے یومیہ معاوضے میں 28 فیصد کا بڑا اضافہ کرنے کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔

حکومتی شیڈول کے مطابق یہ اہم ذیلی مہم 21 سے 27 ستمبر 2026 تک جاری رہے گی، جس کے دوران بلوچستان، گلگت بلتستان، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، خیبر پختونخوا، پنجاب اور سندھ کے 115 مخصوص و حساس اضلاع میں پولیو ٹیمیں 3 کروڑ 10 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائیں گی۔

وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو محترمہ عائشہ رضا فاروق کی قیادت میں پاکستان انسدادِ پولیو پروگرام ملک بھر میں قطرے پلانے والی فرنٹ لائن ورک فورس کے لیے انتظامی و مالی معاونت کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔ معاوضے میں 28 فیصد اضافے کا یہ اہم ترین فیصلہ ملک بھر میں پولیو ورکرز کے ساتھ منعقد کیے گئے معلوماتی لسننگ سیشنز کے بعد کیا گیا، جن میں ورکرز نے پروگرام کی مرکزی قیادت سے براہِ راست بات چیت کرتے ہوئے فیلڈ کے تجربات، درپیش چیلنجز اور اپنی تجاویز پیش کی تھیں۔

پروگرام کی جانب سے پولیو ورکرز کی حفاظت، عزت و وقار اور فلاح و بہبود کے تحفظ کے لیے متعدد بنیاد کاری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان اقدامات میں منتخب علاقوں میں قائم فرنٹ لائن ورکرز سپورٹ سینٹرز میں بنیادی سہولیات کی بہتری، تمام ورکرز کو باضابطہ شناختی کارڈز کا اجراء، اور فیلڈ میں ان کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے نئی آپریشنل سیفٹی گائیڈ لائنز کی تیاری شامل ہے۔ یہ تمام تر پیش رفت وزیراعظم کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں کی جا رہی ہے تاکہ پولیو ورکرز کی قربانیوں کا اعتراف کیا جا سکے۔

محترمہ عائشہ رضا فاروق نے اپنے بیان میں کہا کہ ہمارے فرنٹ لائن ورکرز پاکستان کو پولیو سے پاک بنانے کی جدوجہد میں ہراول دستے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ ہر روز ہر بچے تک پہنچنے اور کمیونٹیز کی مدد کے لیے انتہائی مشکل حالات میں اپنی ذمہ داریوں سے بڑھ کر کام کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یومیہ معاوضے میں 28 فیصد اضافہ ورکرز کی انتھک محنت، لگن اور عظیم خدمات کا اعتراف ہے اور حکومت اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ ہر ورکر فیلڈ میں خود کو محفوظ اور معزز محسوس کرے۔

فرنٹ لائن ورکرز کی انتھک خدمات اور سائنسی حکمتِ عملی کی بدولت پاکستان نے پولیو کے خاتمے میں تاریخی پیش رفت کی ہے۔ 1990ء کی دہائی کے اوائل میں جہاں سالانہ اندازاً 20,000 پولیو کیسز سامنے آتے تھے، وہیں ملک میں پولیو کیسز میں 99.8 فیصد کی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ کیسز کی تعداد کم ہو کر سال 2025 میں 31 اور سال 2026 میں اب تک صرف 3 کیسز تک محدود رہ گئی ہے۔

پاکستان انسدادِ پولیو پروگرام نے تمام والدین، سرپرستوں، دینی علماء، اور سول سوسائٹی سے اپیل کی ہے کہ وہ ستمبر کی مہم میں ان پولیو ٹیموں کا اپنے گھروں میں احترام کے ساتھ استقبال کریں اور پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے دو قطرے لازمی پلوائیں۔ پولیو پروگرام نے اس مشن میں گلوبل پولیو ایریڈیکیشن انیشی ایٹو (جی پی ای آئی) کے شراکت داروں کے مسلسل تعاون پر بھی ان کا شکریہ ادا کیا۔

ڈیجیٹل سیکیورٹی اور فراڈ کی روک تھام کے لیے پی ٹی اے کا بڑا اقدام: غیر فعال سمز پر چلنے والے واٹس ایپ اکاؤنٹس بلاک کرنے کا حتمی فیصلہ

منصور احمد,September 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ملک بھر میں سائبر سیکیورٹی کو مضبوط بنانے اور مالیاتی و ڈیجیٹل فراڈ کی روک تھام کے لیے غیر فعال، منسوخ شدہ اور طویل عرصے سے زیرِ استعمال نہ رہنے والی سمز سے منسلک واٹس ایپ اکاؤنٹس کو فوری طور پر بلاک کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔

پی ٹی اے کے اعلیٰ حکام کے مطابق، موبائل آپریٹرز کی جانب سے منسوخ یا بند کی جانے والی سمز کے نمبرز پر پہلے سے بنے ہوئے واٹس ایپ اکاؤنٹس اکثر ناپسندیدہ اور غیر قانونی سرگرمیوں، آن لائن مالیاتی فراڈ، اور دھوکہ دہی کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اس سیکیورٹی روزن کو بند کرنے اور صارفین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پی ٹی اے نے ان تمام اکاؤنٹس کو مکمل طور پر بلاک کرنے کی پالیسی مرتب کی ہے۔

پی ٹی اے حکام نے خبردار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ غیر فعال سمز سے منسلک واٹس ایپ اکاؤنٹس کے خلاف کسی بھی وقت بلاکنگ کی کارروائی شروع کی جا سکتی ہے۔ اتھارٹی نے تمام موبائل صارفین کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے واٹس ایپ اکاؤنٹس کو فوری طور پر اپنے موجودہ، فعال اور ذاتی نام پر رجسٹرڈ موبائل نمبرز کے ساتھ منسلک کریں تاکہ ان کا اکاؤنٹ بغیر کسی پریشانی کے فعال رہے۔

ترجمان پی ٹی اے کے مطابق جو صارفین اپنا پرانا موبائل نمبر تبدیل کر چکے ہیں یا ان کی سم غیر فعال ہو چکی ہے، وہ واٹس ایپ کی ترتیبات میں جا کر “چینج نمبر” کا آپشن فوری استعمال کریں۔ بروقت نمبر تبدیل کرنے سے صارفین اپنے واٹس ایپ اکاؤنٹس کا کنٹرول بحال رکھ سکیں گے اور ان کے ڈیٹا کا تحفظ بھی یقینی ہو سکے گا۔

پی ٹی اے نے صارفین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے نام پر درج سمز کی موجودہ حیثیت کی باقاعدگی سے تصدیق کریں اور غیر فعال نمبرز کی صورت میں وقت ضائع کیے بغیر ضروری قانونی و انتظامی اقدامات مکمل کریں۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا بنیادی اور حتمی مقصد سائبر کرائمز پر قابو پانا، جعلی و گمراہ کن پیغامات کا سدباب کرنا اور ملکی ڈیجیٹل سیکیورٹی کے فریم ورک کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

دفترِ خارجہ کا سعودی عرب پر حوثی حملوں پر شدید تشویش کا اظہار: یمن تنازع کے سیاسی و پُرامن حل کے لیے خطرہ قرار

منصور احمد,September 08,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے سعودی عرب کے متعدد جنوبی شہروں ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں آبادی اور اہم اقتصادی تنصیبات پر یمن کے حوثی جنگجوؤں کے متواتر حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام یمن تنازع کے پُرامن، سیاسی اور دیرپا حل کے لیے کی جانے والی عالمی و علاقائی کوششوں کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔

ترجمان وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ عام شہریوں اور معاشی مراکز کو نشانہ بنانے والے حوثی جنگجوؤں کے یہ بزدلانہ حملے برادر اسلامی ملک سعودی عرب کی جغرافیائی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی اور سنگین خلاف ورزی ہیں۔ دفترِ خارجہ نے زور دے کر کہا کہ اس طرح کے اشتعال انگیز اقدام پوری مشرقِ وسطیٰ کے امن، توازن اور پائیدار استحکام کے لیے گہرا خطرہ بن رہے ہیں۔

ترجمان نے پرزور الفاظ میں اعادہ کیا کہ پاکستان اس مشکل گھڑی میں اپنے برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے اور اس کی سیکورٹی و سلامتی کے لیے اپنی مکمل اور غیر مشروط حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔

وزارتِ خارجہ کے بیان میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان، اقوامِ متحدہ کے چارٹر (منشور) اور تسلیم شدہ بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں سعودی عرب کے اپنے علاقے، عوام اور معاشی اثاثوں کے دفاع کے لیے اٹھائے جانے والے تمام تر ضروری اقدامات اور اس کے جائز عسکری و دفاعی حق کی مکمل طور پر پرزور حمایت کرتا ہے۔

ترجمانِ دفترِ خارجہ نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ حکومتِ پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے، پائیدار امن کی بحالی اور دیرپا استحکام کے حصول کے لیے ہر ممکن سفارتی کوششیں اور اپنا کلیدی کردار مسلسل جاری رکھے گی تاکہ خطہ مزید تصادم اور بے چینی سے محفوظ رہ سکے۔

برطانیہ کا مقبوضہ مغربی کنارے کی غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے مصنوعات کی درآمد پر مکمل پابندی کا تاریخی اعلان

محمود احمد, September 08,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

برطانیہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات اور اشیائے صرف کی درامد پر باضابطہ طور پر مکمل پابندی عائد کرنے سمیت بستیوں کی غیر قانونی توسیع اور پھیلاؤ کے خلاف متعدد سخت اقدامات کا بڑا اعلان کر دیا ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے منگل کے روز پارلیمان کے ایوانِ زیریں میں خطاط کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت ایک انتہائی جامع اور سخت پابندیوں کا بین الاقوامی نظام متعارف کرانے جا رہی ہے۔ ان کے مطابق اس پابندی کا بنیادی ہدف صرف غیر قانونی طور پر قائم کی گئی اسرائیلی بستیاں اور ان کے پھیلاؤ کو روکنا ہے، جبکہ اس کا مقصد اسرائیل کے ساتھ مجموعی یا عمومی دوطرفہ تجارت کو نقصان پہنچانا ہرگز نہیں ہے۔

ایڈ ملی بینڈ نے اپنے سخت ترین موقف کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ برطانوی عوام یہ پسند کریں گے کہ ملک کی مارکیٹوں اور دکانوں میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں واقع غیر قانونی بستیوں کی مصنوعات بیچ کر فلسطینی سرزمین پر قبضے اور تسلط کی مالی حمایت کی جائے۔ برطانیہ، فرانس اور کینیڈا نے بھی مشترکہ اور قومی سطح پر مغربی کنارے کی ان بستیوں کی اشیا پر پابندیاں نافذ کرنے کا باقاعدہ اعادہ کیا ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ کے مطابق ان نئے قانونی اقدامات میں مناسب اور مخصوص مذہبی استثنا بھی شامل رکھا جائے گا، تاہم جو افراد، کمپنیاں یا ادارے ان غیر قانونی بستیوں کی تعمیر یا توسیع میں سہولت کاری فراہم کریں گے، انہیں برطانیہ کی جانب سے انتہائی شدید اقتصادی و سفارتی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ برطانیہ کے اندر مقبوضہ مغربی کنارے کی بستیوں اور ان سے منسلک کاروباری اشتہارات کی نمائش پر بھی مکمل طور پر پابندی عائد کی جا رہی ہے۔

برطانوی حکومت کی جانب سے پارلیمان میں دہرایا گیا کہ بین الاقوامی قانون کی نظر میں مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیاں غیر قانونی ہیں اور متنازع ای 1 سیٹلمنٹ منصوبے سمیت بستیوں کی یہ مسلسل توسیع دو ریاستی حل کے تمام سفارتی امکانات کو تباہ کر رہی ہے۔ وزیر خارجہ نے پارلیمان میں برطانوی موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ لندن حکومت مغربی کنارے میں فلسطینی باشندوں کی مسلسل جبری بے دخلی اور خطے کے بگڑتے حالات کو ‘نسلی صفائی’ کے مترادف سمجھتی ہے۔

برطانیہ کے اس فیصلے پر تل ابیب کے حکام کی جانب سے شدید اور تلخ ردِعمل سامنے آیا ہے، جبکہ واشنگٹن نے بھی برطانوی اقدامات پر تنقید کی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کا کہنا ہے کہ اس حتمی فیصلے کے بعد برطانیہ اور اسرائیل کے دوطرفہ تعلقات میں مزید بگاڑ اور شدید سفارتی کشیدگی پیدا ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں عسکری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں کئی ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں


Brent oil prices rise

محمود احمد, September 08,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

سعودی عرب کی انتہائی حساس توانائی تنصیبات پر یمن کے حوثی جنگجوؤں کے تباہ کن ڈرون و میزائل حملوں اور خلیج فارس میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سنگین ‘اقتصادی اور عسکری جنگ’ کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں متعدد ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ اس شدید جیو پولیٹیکل بحران کے باعث بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی سپلائی معطل ہونے کے خطرات گہرے ہو گئے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق منگل کو تجارتی سیشن کے دوران برینٹ خام تیل کے بین الاقوامی سودے 1.39 ڈالر یعنی 1.43 فیصد کے نمایاں اضافے کے بعد 98.39 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ ہوتے رہے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت میں بھی 2.25 ڈالر یعنی 2.46 فیصد کا بڑا اضافہ ہوا اور یہ 93.73 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی۔

اس سے قبل منڈی میں خرید و فروخت کے دوران برینٹ خام تیل کی اعلیٰ ترین قیمت 99.46 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی تھی، جو کہ 24 جولائی کے بعد سے اب تک کا بلند ترین ریکارڈ ہے۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت دورانِ تجارت بڑھ کر 94.73 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی، جو 8 جون کے بعد کی بلند ترین قیمت شمار کی جا رہی ہے۔

عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں میں اچانک اس بڑے اور غیر معمولی اضافے کی بنیادی وجہ سعودی عرب میں حوثیوں کی طرف سے حال ہی میں کیے گئے مربوط عسکری حملے ہیں۔ سعودی حکومت کے باضابطہ بیانات کے مطابق ابہا، خمیس مشیط، جیزان اور نجران میں بنیادی انفراسٹرکچر اور اہم توانائی کی تنصیبات ان حملوں کی زد میں آئی ہیں، جن میں خواتین اور بچوں سمیت 73 افراد شدید زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ان حملوں کے باعث خطے کے کئی پیدواری یونٹس اور توانائی کی تنصیبات کی سرگرمیاں وقتی طور پر معطل یا متاثر ہو چکی ہیں۔

دوسری طرف ایران اور امریکہ کے مابین بڑھتی ہوئی باہمی عسکری و معاشی محاذ آرائی نے عالمی تیل کی مارکیٹ کو بری طرح جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ تہران کی طرف سے امریکی بحری ناکہ بندی اور کارروائیوں کے جواب میں شدید ردِعمل دینے اور خلیج فارس میں ‘ممنوعہ بحری زون’ قائم کرنے کی دھمکی سے عالمی سرمایہ کاروں میں تیل اور گیس کی عالمی ترسیل بند ہونے کا شدید خوف پیدا ہو چکا ہے۔

عالمی ایندھن کے اعداد و شمار کے مطابق، آبنائے ہرمز کے انتہائی حساس سمندری راستے سے اِس وقت آئل ٹینکرز کی نقل و حرکت معمول کے حجم سے کافی کم ہو چکی ہے۔ دنیا بھر میں استعمال ہونے والے خام تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی کل فراہمی کا تقریباً پانچواں حصہ اسی آبنائے ہرمز کے بحری راستے سے ہو کر دنیا بھر کے ممالک تک پہنچتا ہے۔ پینٹاگون کی سینٹرل کمانڈ اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے درمیان ایک دوسرے کے تیل بردار جہازوں اور عسکری ہدف پر حملوں نے حالات کو بے حد سنجیدہ بنا دیا ہے۔ معاشی ماہرین کا خبردار کرتے ہوئے کہنا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں یہ عسکری ٹکراؤ اور کشیدگی طویل ہوئی تو خام تیل کی فی بیرل قیمت بہت جلد 100 ڈالر کا ہدف عبور کر جائے گی، جس سے عالمی معیشت اور افراطِ زر پر شدید دباؤ آئے گا۔

پاکستان کی سعودی عرب میں شہری تنصیبات پر حوثی حملوں کی شدید مذمت: وزیراعظم شہباز شریف کا کامل یکجہتی کا اظہار

کاشف عباسی , September 08,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

پاکستان نے سعودی عرب کی حدود میں شہری علاقوں اور اہم توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حوثی جنگجوؤں کے حالیہ ڈرون و بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اسلام آباد نے واضح کیا ہے کہ بے گناہ شہریوں پر ایسے بزدلانہ حملے نہ صرف معصوم انسانی جانوں کے لیے شدید خطرہ ہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے نازک امن اور سلامتی کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے سماجی رابطے کی بین الاقوامی ویب سائٹ “ایکس” پر جاری کردہ اپنے خاص اور باضابطہ بیان میں سعودی عرب کے جنوبی شہروں میں شہری اور اقتصادی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے اس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔

وزیراعظم نے اپنے بیان میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان شریر حملوں کے نتیجے میں متعدد بے گناہ افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے خادم الحرمین الشریفین، سعودی قیادت اور برادر سعودی عوام کے ساتھ پاکستان کی جانب سے کامل اور غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی پرتشدد عسکری کارروائیاں عام انسانی آبادی کو خطرے میں ڈالنے کے ساتھ ساتھ علاقائی توازن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔

شہباز شریف نے پرزور انداز میں اعادہ کیا کہ پاکستان ہمیشہ کی طرح سعودی عرب کی جغرافیائی خودمختاری، ملک گیر سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے اپنے مضبوط، تاریخی اور اصولی موقف پر قائم ہے۔ انہوں نے ان حملوں میں زخمی ہونے والے تمام افراد کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار اور خصوصی دعا بھی کی ہے۔

پاکستان کی جانب سے یہ اہم سفارتی بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی حکام کے مطابق یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے ابہا، خمیس مشیط، جیزان اور نجران میں کیے گئے حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 73 افراد شدید زخمی ہوئے ہیں اور بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ان حملوں سے کچھ توانائی کی تنصیبات کا آپریشن بھی متاثر ہوا ہے۔

دوسری طرف حوثی عسکری ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے یمن پر ہونے والے حالیہ سعودی فضائی حملوں کے جواب میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کا استعمال کرتے ہوئے سعودی عرب کے اقتصادی و عسکری مراکز پر جوابی حملہ کیا ہے۔ سرحد کے دونوں اطراف سے بڑھتی ہوئی اس شدید عسکری کشیدگی نے بین الاقوامی تجارتی راستوں اور عالمی توانائی کی منڈیوں کی سلامتی پر شدید تشویش کے بادل پھیلا دیے ہیں۔