وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کی برسی کے موقع پر اپنے ایک خصوصی اور پرعزم پیغام میں کہا ہے کہ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی سچی دیانت، بے مثال اصول پسندی اور غیر متزلزل قومی عزم آج بھی ملک و قوم کی درست سمت میں رہنمائی کے لیے بنیادی سرچشمہ اور مشعلِ راہ ہیں۔
وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے بانیِ پاکستان کے یومِ وفات کی مناسبت سے جاری کردہ رسمی بیان میں وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے بابائے قوم کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بانیٔ پاکستان کی ان گنت خدمات، بصیرت اور تاریخی قربانیوں کو دنیا کی تاریخ ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ قائد اعظمؒ کا پیش کردہ تصورِ پاکستان ایک بنیادی طور پر مضبوط، خوددار، جدید، خودمختار، ہر شعبے میں ترقی یافتہ اور خوشحال ریاست کی کامل عکاسی کرتا تھا۔
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے بابائے قوم کی لازوال قیادت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے برصغیر کے منتشر مسلمانوں کو ایک واحد اور واضح مقصد کے پرچم تلے متحد کر کے آزادیِ ہند اور قیامِ پاکستان کی عظیم جدوجہد کو کامیابی اور کامرانی سے ہمکنار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بابائے قوم کا یومِ وفات پوری قوم کے لیے قائداعظمؒ کی لازوال قومی خدمات، تاریخی سرفروشی اور عظیم جدوجہد کو تازہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے دیے گئے بلند افکار و نظریات پر ازسرنو غور کرنے کا ایک انتہائی اہم موقع فراہم کرتا ہے۔
وفاقی وزیر نے ملک کو درپیش معاشی و انتظامی حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قائد اعظمؒ کے سنہری فرمودات پر روح کے مطابق عمل درآمد ہی اس وقت پاکستان کو درپیش تمام درپیش معاشی و سیاسی چیلنجز سے بحفاظت نکالنے میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قومی اتحاد، مضبوط نظم و ضبط اور قانون کی بلا تفریق پاسداری قائد اعظمؒ کے حقیقی پاکستان کی تعمیر کے سب سے بنیادی اور بنیادی اصول ہیں۔
رانا تنویر حسین نے اپنے پیغام کے اختتام پر تمام شہریوں پر زور دیا کہ تمام تر ذاتی، گروہی اور سیاسی مفادات سے یکسر بالاتر ہو کر قومی یکجہتی، سالمیت اور ملکی ترقی کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے خوابوں کی حقیقی تعبیر صرف اور صرف ایک مستحکم، معاشی طور پر خودمختار، مضبوط اور خوشحال پاکستان کی تشکیل کے ذریعے ہی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں رواں سال 15 اور 16 نومبر 2026ء کو منعقد ہونے والے اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے تاریخی کونسل آف منسٹرز اجلاس کی تیاریوں کا تفصیلی اور جامع جائزہ لیا گیا۔
جمعہ کے روز ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کو ای سی او کونسل آف منسٹرز کے متوقع اجلاس کی اب تک کی تیاریوں، مجوزہ ورکنگ پروگرام، اجلاس کے ایجنڈے، رکن ممالک کے وزرائے خارجہ و نمائندگان کی ممکنہ شرکت، لاجسٹکس اور دیگر تمام سفارتی و انتظامی انتظامات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ فراہم کی گئی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے آئندہ کونسل آف منسٹرز اجلاس کی انتظامی و سفارتی پیش رفت کا باریک بینی سے احاطہ کیا اور تمام اہم امور پر متعلقہ حکام کو فوری نوعیت کی ضروری ہدایات جاری کیں۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کی اہمیت کو اجاگر کیا اور خطے میں آزادانہ تجارت، مواصلاتی روابط، توانائی کے تعاون اور اقتصادی شراکت داری کے فروغ میں اس تنظیم کے متحرک کردار کو پاکستان کی جانب سے دی جانے والی ترجیحی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے وزارتِ خارجہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے حکام کو واضح طور پر ہدایت کی کہ پاکستان کی میزبان میں منعقد ہونے والے اس بین الاقوامی کونسل آف منسٹرز کے اجلاس کو ہر لحاظ سے نتیجہ خیز، بااثر اور کامیاب بنانے کے لیے تمام تر سیکیورٹی و لاجسٹک انتظامات وقت سے پہلے اور جامع انداز میں مکمل کیے جائیں۔
دفتر خارجہ میں منعقد ہونے والے اس اہم اجلاس میں سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ سمیت وزارتِ خارجہ کے تمام متعلقہ ڈائریکٹر جنرلز اور اعلیٰ سفارتی افسران نے شرکت کی اور نائب وزیراعظم کو تیاریوں کے مختلف مراحل سے آگاہ کیا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے فی ایکڑ زرعی پیداوار میں خاطر خواہ اضافے، زراعت کے روایتی شعبے میں جدت لانے، لائیو سٹاک کی جدید بنیادوں پر ترقی اور زرعی برآمدات کے فروغ کے لیے وفاق اور تمام صوبائی حکومتوں کے درمیان موثر رابطہ، یکسانیت اور مضبوط شراکت داری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی زرعی مصنوعات کے لیے عالمی منڈیوں میں رسائی بڑھانے اور نئی بین الاقوامی منڈیاں تلاش کرنے کے لیے مربوط اقدامات کیے جائیں۔
وزیراعظم آفس کے پریس ونگ سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ملک کے زرعی شعبے کی ترقی اور زرعی برآمدات میں اضافے کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ زرعی شعبہ پاکستان کی معاشی ترقی، خوراک کی خودمختاری اور مجموعی استحکام میں کلیدی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ فی ایکڑ پیداوار بڑھانے، زراعت میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کروانے اور لائیو سٹاک کو منافع بخش بنانے کے لیے صوبوں کے ساتھ مل کر کام کرنا ناگزیر ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ بیرونِ ملک تعینات تمام پاکستانی کمرشل افسران عالمی منڈیوں میں پاکستانی زرعی مصنوعات کا دائرہ کار وسیع کرنے کے لیے اپنا فعال اور موثر کردار ادا کریں۔ انہوں نے کسانوں کی سہولت کے لیے دستیاب موبائل ایپ سے متعلق آگاہی مہم چلانے اور برآمدات بڑھانے کے لیے مصنوعات میں ‘ویلیو ایڈیشن’ یقینی بنانے کا حکم دیا۔
اجلاس کو دی گئی تفصیلی بریفنگ میں بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان کی زرعی برآمدات کا حجم 5.18 ارب ڈالر رہا، جن میں چاول، فشریز، حلال گوشت، آلو، تل، تمباکو، آم اور مکئی نمایاں ترین برآمدی مصنوعات رہیں۔ اجلاس میں زرعی برآمدات کو پائیدار بنانے کے لیے مکمل ‘ویلیو چینز’ تشکیل دینے کی تجویز منظور کی گئی اور نشاندہی کی گئی کہ چین، سعودی عرب، ایران اور خلیجی ممالک پاکستانی زرعی برآمدات کے لیے سب سے اہم اور بڑی مارکیٹس ہیں۔
اجلاس کے دوران نیشنل ایگریکلچر اینڈ فوڈ سکیورٹی کونسل کو مکمل طور پر فعال کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس میں تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اپنے اپنے صوبوں کی باضابطہ نمائندگی کریں گے۔ اس کے علاوہ ملک گیر سطح پر ‘ڈیجیٹل فارمرز ڈائری-ایگری سٹیک’ کی تشکیل کی جدید تجویز پیش کی گئی، جس کے تحت ملک بھر کے تمام کسانوں، زرعی زمینوں کے ریکارڈز، مٹی اور پانی کی جانچ کی تفصیلات کو مکمل طور پر ڈیجیٹائز کیا جائے گا۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ بہتر زرعی نتائج اور عالمی معیار کی پابندی کے لیے ‘پاک-گیپ’
کا باقاعدہ نظام نافذ کیا جائے گا، جبکہ زرعی برآمد کنندگان کی ہمت افزائی کے لیے خصوصی زرعی فنانسنگ اور مالیاتی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔
اس اہم اعلیٰ سطحی اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ، مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، وزیر مملکت برائے قومی غذائی تحفظ ملک رشید احمد اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ڈولفن سکواڈ نے ایک موثر اور کامیاب سمارٹ آپریشن کے دوران شیخوپورہ، اوکاڑہ اور لاہور پولیس کو سالہا سال سے مطلوب 8 خطرناک اشتہاری اور مفرور ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق گرفتار کیے گئے یہ تمام 8 ملزمان گزشتہ 8 سال کی طویل مدت سے پنجاب کی مختلف عدالتوں میں زیرِ سماعت سنگین مقدمات میں مسلسل مفرور اور روپوش چلے آ رہے تھے۔
ڈولفن سکواڈ نے لاہور شہر کے مختلف اور حساس علاقوں میں خصوصی “سٹاپ اینڈ سرچ” ڈرائیو اور چیکنگ کارروائی کے دوران ان تمام مفرور ملزمان کو گھیر کر حراست میں لیا۔
لاہور پولیس کے باضابطہ ترجمان کے مطابق عدالتی مفرور اور اشتہاری ملزمان سہیل، سجاول، یاسین اور ان کے دیگر ساتھیوں کو فوری طور پر قانونی اور ضابطے کی مزید سخت کارروائی کے لیے متعلقہ تھانوں کے حوالے کر دیا گیا ہے، جہاں سے انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبر پختونخوا کے اہم ضلع کرم میں فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کے انتہائی کامیاب اور بروقت انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن پر فورسز کے جوانوں اور کمانڈرز کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع اور سرکاری رپورٹ کے مطابق ضلع کرم میں کی گئی اس کامیاب کارروائی کے دوران خطرناک افغان خارجی سمیت فتنہ الخوارج کے 4 ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا۔
اپنے ایک اہم مذمتی و تحسینی بیان میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سیکیورٹی فورسز کی اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت، ملٹری انٹیلی جنس اور بروقت و حتمی کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع میں پرامن فضا قائم کرنے اور امن و امان کی بحالی کے لیے ہماری پاک افواج اور سیکیورٹی فورسز کی لازوال قربانیاں اور پیہم کوششیں بلاشبہ لائقِ تحسین اور قابلِ فخر ہیں۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کے بہادر اور جری جوان پوری قوم کا حقیقی فخر ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا اور تمام سرحدی علاقوں سے دہشت گردی کے ناسور کے مکمل اور حتمی خاتمے تک تمام پاکستانی شہری اپنی بہادر افواج اور سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ مضبوطی سے کھڑے رہیں گے۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان ابھرتی ہوئی معاشی طاقتوں کی عالمی تنظیم برکس کے 18ویں سربراہی اجلاس میں باضابطہ شرکت کے لیے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی پہنچ گئے ہیں۔
ایرانی صدر کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق، صدر مسعود پزشکیان اپنے دورے کے دوران برکس کے مرکزی سربراہی اجلاس، بین الاقوامی اقتصادی سربراہی اجلاس اور برکس رہنماؤں کے اہم بند کمرہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔ ایرانی صدارتی دفتر نے بتایا کہ مسعود پزشکیان کے ان تمام خطابات کا بنیادی موضوع جامع عالمی طرزِ حکمرانی کی تشکیل، منصفانہ اقتصادی نظام کا فروغ اور کثیرالجہتی (ملٹی لیٹرل) بین الاقوامی نظام کو مزید مضبوط و فعال بنانا ہوگا۔
بھارت کی میزبان حکومت کی جانب سے نئی دہلی میں منعقد کیے جانے والے اس اہم برکس اجلاس میں شرکت کرنے والے دیگر ممتاز عالمی رہنماؤں میں روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور چین کے صدر شی جن پنگ بھی شامل ہیں، جس کے باعث اس عالمی فورم کی اہمیت میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے۔
نئی دہلی روانگی سے قبل تہران میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے دورے کا بنیادی مقصد واضح کرتے ہوئے کہا تھا کہ برکس بلاک میں ایران کی فعال شمولیت اور شرکت کا بنیادی مقصد دنیا بھر میں امریکہ کی یکطرفہ اور جارحانہ معاشی و سیاسی پالیسیوں کا موثر انداز میں مقابلہ کرنا اور ایک متوازن عالمی نظام قائم کرنا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے مطابق، نئے برکس بینک (نیو ڈویلپمنٹ بینک) کے دائرہ کار کے تحت آئندہ تمام تر مشترکہ بین الاقوامی سرمایہ کاری اور تجارتی مالیات کو امریکی ڈالر پر کسی بھی قسم کا انحصار کیے بغیر فروغ دیا جائے گا، تاکہ رکن ممالک کے اقتصادی و تجارتی مفادات کو عالمی معاشی دباؤ سے محفوظ رکھا جا سکے۔
صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی خصوصی اینٹی ریپ عدالت نے چھ سالہ معصوم بچی کے ساتھ جنسی استحصال اور ریپ کی کوشش کا جرم ثابت ہونے پر ملزم اصغر کو 14 سال قید با مشقت اور 50 ہزار روپے مالی جرمانے کا باضابطہ حکم سنا دیا ہے۔
یہ اہم اور عبرتناک فیصلہ خصوصی اینٹی ریپ عدالت کے فاضل ایڈیشنل سیشن جج ظفر یاب چدھڑ نے کیس کا مکمل ٹرائل اور دلائل مکمل ہونے کے بعد سنایا۔
اس افسوسناک واقعے کا باضابطہ مقدمہ 24 مارچ 2025ء کو لاہور کے تھانہ ساؤتھ کینٹ میں متاثرہ چھ سالہ بچی کے والد کی مدعیت میں نامزد ملزم اصغر کے خلاف درج کیا گیا تھا۔ پولیس میں درج کروائی گئی ایف آئی آر میں متاثرہ بچی کے والد نے موقف اختیار کیا تھا کہ 23 مارچ 2025ء کی شام جب وہ اپنے گھر پہنچے تو ان کی چھ سالہ بیٹی نے روتے ہوئے بتایا کہ ان کا ایک محلے دار اصغر اسے بہلا پھسلا کر اپنے گھر لے گیا اور وہاں اس کے ساتھ ریپ کرنے کی کوشش کی۔ تاہم معصوم بچی کے بروقت شور مچانے پر ملزم گھبرا کر بچی کو اپنے گھر میں ہی چھوڑ کر موقع سے فرار ہو گیا۔
لاہور پولیس نے اس مقدمے میں تعزیراتِ پاکستان کی سخت ترین دفعہ 377 بی شامل کی تھی، جو کہ 18 سال سے کم عمر بچوں کے ہر قسم کے جنسی استحصال اور زبردستی پر عائد کی جاتی ہے۔ یہ قانونی طور پر ایک سنگین اور ناقابلِ ضمانت جرم ہے جس میں قانون کے تحت کم از کم سزا 14 برس اور زیادہ سے زیادہ 20 سال قید مقرر ہے۔
کیس کی نوعیت کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے پولیس نے اس مقدمے کا مکمل چالان خصوصی اینٹی ریپ عدالت میں بھیجا، جہاں فاضل عدالت نے ملزم پر 7 جولائی 2025ء کو باضابطہ فردِ جرم عائد کی تھی۔ ٹرائل کے آغاز پر ملزم نے صحتِ جرم سے صاف انکار کیا تھا جس کے بعد عدالت نے باقاعدہ شہادتوں اور گوابان کی طلب کا سلسلہ شروع کیا۔
عدالتی کارروائی کے حوالے سے سینئر پراسیکیوٹر رضوان محمود نے بتایا کہ اس حساس کیس میں استغاثہ کی جانب سے کل 8 گواہان نے عدالت میں پیش ہو کر اپنے بیانات ریکارڈ کروائے اور سائنسی و طبی ثبوت کے طور پر میڈیکل رپورٹ بھی باقاعدہ مثلِ مقدمہ کا حصہ بنائی گئی۔
دورانِ سماعت عدالت عالیہ نے تمام گواہان کے بیانات، فورنسک و میڈیکل رپورٹس، دیگر ٹھوس شواہد اور پراسیکیوشن کی جانب سے دیے گئے حتمی دلائل کی روشنی میں ملزم اصغر کو بلا شبہ قصوروار قرار دیا اور اسے 14 سال قید با مشقت اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا کا فیصلہ سنا دیا۔
بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی برسی کے پروقار اور عقیدت مندانہ موقع پر گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبائی کابینہ کے اراکین کے ساتھ مزار قائد پر حاضری دی، پھولوں کی چادر چڑھائی اور ملک و قوم کی سلامتی و ترقی کے لیے باوقار فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر پاک فوج، پاک بحریہ اور پاک فضائیہ کے اعلیٰ نمائندگان نے بھی مزار قائد پر حاضر ہو کر پھولوں کے گلدستے رکھے اور قومی قائد کو سلامی پیش کی۔
مزار قائد کے احاطے میں صحافیوں و میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی نے کہا کہ پاکستان کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بانیِ پاکستان قائد اعظم کے رہنما اصولوں اور افکار کی روشنی میں متحد و متفق رہنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ قائد اعظم نے قیامِ پاکستان کے لیے اپنا آرام، وقت اور تمام ذاتی مفادات قربان کر دیے تھے، اس لیے اب ہماری بھی ذمہ داری ہے کہ ملک کے اہم فیصلوں کو باہمی مشاورت، افہام و تفہیم اور اتفاقِ رائے سے آگے بڑھائیں۔
پراُمن احتجاج سے متعلق ایک سوال پر گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ آئین کے تحت پرامن احتجاج ہر شہری کا جمہوری اور بنیادی حق ہے، تاہم احتجاجی سیاست کے دوران عام شہریوں، ہسپتال جانے والے مریضوں اور سکول و کالج جانے والے طلبہ و طالبات کو درپیش مشکلات کو ملحوظِ خاطر رکھنا لازمی ہے۔ بانیِ پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاملہ کلی طور پر آزاد عدلیہ کے اختیارات میں آتا ہے، اگر عدالت عالیہ یا عظمٰی انہیں بے گناہ قرار دیتی ہے تو انہیں باقاعدہ قانونی ریلیف مل جائے گا، جبکہ حکومتِ وقت عدالتی کارروائی اور فیصلوں میں قطعی مداخلت نہیں کر سکتی۔ نہال ہاشمی نے مزید کہا کہ وہ سندھ کی ترقی، خوشحالی اور عوامی فلاح کے لیے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نئے صوبوں کے قیام اور صوبائی حدود کے بارے میں واضح کیا کہ صوبائی حدود میں تبدیلی آئینی راستے کے بغیر ناممکن ہے۔ آئینِ پاکستان میں درج طریقہ کار کے مطابق اس کے لیے اسمبلی سے دو تہائی اکثریت کے ساتھ باقاعدہ قرارداد کی منظوری ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک جمہوری اور آزاد معاشرے میں ہر شہری کو سندھ میں نئے صوبے کے قیام کی بات کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن عملی اور قانونی قدم اٹھانے کے لیے آئینی طریقہ کار پر پورا اترنا پڑے گا۔
مراد علی شاہ نے نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وفاق اور تمام صوبوں کے درمیان جون کے مہینے میں این ایف سی ایوارڈ پر پہلے ہی کامل اتفاقِ رائے ہو چکا ہے اور یہ این ایف سی ایوارڈ آئین کے مطابق جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو اتحاد کی ضرورت ہے اور علامہ اقبال کے خواب کی تعبیر اس ملک کو تمام صوبوں کے مشترکہ تعاون سے مضبوط اور خوشحال بنانا ہے۔
گورنر سندھ اور وزیراعلیٰ سندھ دونوں رہنماؤں نے خیبر پختونخوا میں دہشت گرد عناصر کے خلاف پاک فوج اور سیکیورٹی فورسز کے حال ہی میں کیے گئے کامیاب آپریشنز پر فورسز کے بہادر جوانوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم دہشت گردی کے ناسو سے مکمل پاکیزگی اور خاتمے تک اپنی سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ گورنر سندھ نہال ہاشمی نے بتایا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بھی ان سے بالمشافہ ملاقات کر کے گورنر سندھ کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے یمن اور خطے میں پیدا ہونے والی تشویشناک صورتحال پر سلامتی کونسل کے بلائے گئے ہنگامی اجلاس سے باضابطہ خطاب کرتے ہوئے مملکتِ سعودی عرب کے مختلف شہروں بالخصوص ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں حوثی گروپ کی جانب سے شہری آبادی اور معاشی اہداف پر کیے گئے فضائی و میزائل حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔
پاکستانی مندوب نے سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرونڈبرگ کی جانب سے یمن کی تازہ ترین صورتحال پر دی گئی تفصیلی بریفنگ کو سراہا اور اجلاس میں مملکتِ سعودی عرب اور یمن کے معزز مستقل نمائندگان کی شرکت کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی سرحدوں اور معاشی تنصیبات پر حوثیوں کے یہ غیر قانونی اقدامات سعودی عرب کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی ہیں، جس سے یمن کے تنازع کو پرامن اور پائیدار سفارتی راستے سے حل کرنے کی تمام تر جاری کوششوں کو شدید ترین دھچکا پہنچ رہا ہے۔ سفیر عاصم افتخار احمد نے وزیراعظم پاکستان کے جامع موقف کا اعادہ کرتے ہوئے زور دیا کہ اس نوعیت کے تمام بزدلانہ حملے بے گناہ انسانی جانوں کے اتلاف کے ساتھ ساتھ پورے خطے کے امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے پاکستان کی جانب سے برادر ملک سعودی عرب کی خود مختاری، علاقائی سالمیت، سیکیورٹی اور پائیدار خوشحالی کے لیے غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے سعودی قیادت، حکومت اور عوام کے ساتھ کامل یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں واضح کیا کہ پاکستان سعودی عرب کو اپنے علاقے، شہریوں اور وہاں مقیم افراد کے تحفظ کے ساتھ ساتھ کسی بھی بیرونی عسکری خطرے کے مقابلے میں اپنے تمام قومی اثاثوں کا دفاع کرنے کے جائز اور قانونی حق کی مکمل تائید کرتا ہے۔
پاکستان نے سلامتی کونسل کو خبردار کیا کہ یمن کی موجودہ صورتحال انتہائی تشویشناک اور خطرناک موڑ پر پہنچ چکی ہے۔ مختلف محاذوں پر جاری عسکری کارروائیوں میں اضافہ، بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حوثیوں کے پیہم حملے، سعودی عرب میں شہری تنصیبات پر بمباری اور یمن کے اندر بگڑتا ہوا انسانی بحران عالمی برادری کے لیے گہرے تحفظات کا باعث ہے۔ پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ ان پیش رفت کے پورے خطے پر دور رس منفی اثرات مرتب ہوں گے، اس لیے مزید تباہی کو روکنے کے لیے سفارت کاری کو فوراً متحرک کرنا ہوگا تاکہ 2022ء سے برقرار قائم شدہ نسبتاً پرسکون صورتحال کو دوبارہ بکھرنے سے بچایا جا سکے۔
پاکستانی سفیر نے اقوام متحدہ کی سرپرستی میں ایک جامع، یمنی قیادت میں اور یمنی ملکیت پر مبنی سیاسی عمل کو بحال کرنے کی حمایت کی۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ یمن میں سنگین انسانی بحران پر قابو پانے کے لیے فوری طور پر انسانی امداد اور مالی وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہ سکیں۔
اس موقع پر پاکستان نے اقوام متحدہ کے عملے، انسانی امدادی کارکنوں اور سفارتی اہلکاروں کو حوثیوں کی جانب سے من مانے طریقے سے حراست میں رکھنے کے عمل کی بھی شدید مذمت کی اور ان تمام افراد کی فوری، غیر مشروط اور محفوظ رہائی کا پرزور مطالبہ کیا۔ پاکستان نے اپنے خطاب کے اختتام پر سلامتی کونسل اور عالمی برادری سے یکجا ہو کر خطے میں پائیدار امن، استحکام اور پرامن سیاسی تصفیے کے لیے متحد رہنے کا مطالبہ کیا۔
جرمنی کے بااختیار وفاقی مالیاتی نگران ادارے بافن نے ایران کے سرکردہ سرکاری بینک “بینک سپہ” کی جرمنی کے تجارتی مرکز فرینکفرٹ میں قائم باضابطہ شاخ کو اپنے تمام مالیاتی قرضوں اور دیگر تمام انتظامی و تجارتی ذمہ داریاں پوری کرنے سے یکسر قاصر قرار دے دیا ہے۔
جرمنی کے وفاقی مالیاتی نگران ادارے کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ ہنگامی بیان کے مطابق فرینکفرٹ میں قائم بینک سپہ کی یہ جرمن شاخ اب اپنے کھاتے داروں اور تجارتی صارفین کی جمع شدہ کروڑوں یورو کی رقوم واپس کرنے کی عملی و قانونی پوزیشن میں بالکل نہیں رہی ہے۔
ادارے کی جانب سے جاری کیے گئے اس سخت قانونی نوٹس کے بعد جرمنی کی بینکاری دنیا میں ہلچل مچ گئی ہے۔ واضح رہے کہ ایران کے بینک سپہ کی اہم جرمن شاخ یورو زون کے سب سے اہم اور بنیادی مالیاتی مرکز فرینکفرٹ میں واقع ہے، جو نہ صرف جرمنی کا معاشی حب ہے بلکہ جہاں یورپی مرکزی بینک (ای سی بی) کا مرکزی دفتر بھی قائم ہے۔
ایران کے اس بینک کی جرمن سرگرمیاں اور تجارتی لین دین اس سے قبل بھی جرمن مالیاتی نگران ادارے کی خصوصی توجہ اور کڑی نگرانی کا مرکز رہے ہیں۔ بافن نے اس سے قبل نومبر 2017ء کے دوران بھی فرینکفرٹ میں قائم بینک سپہ کی اس شاخ کو اگلے حکمِ ثانی تک صارفین یا تجارتی کمپنیوں کو نئے قرضے جاری کرنے سے سخت قانونی حکم کے تحت روک دیا تھا۔
اس وقت بافن کی جانب سے عائد کی جانے والی اس پابندی کی حتمی یا تفصیلی وجوہات میڈیا کے سامنے عام نہیں کی گئی تھیں اور یہ بھی واضح نہیں ہو سکا تھا کہ نگران ادارے کے شدید تحفظات بینک کی طرف سے دیے گئے مجموعی قرضوں کے حجم پر تھے یا صارفین کے قرضوں کی واپسی سے متعلق معاہدوں اور قانونی طریقہ کار پر مرکوز تھے۔
جرمن مالیاتی اتھارٹی کے موجودہ حتمی فیصلے اور بینک کو نااہل قرار دیے جانے سے جرمنی میں ایران کے سرکاری بینک سپہ کی مالیاتی صورتحال، بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ اور صارفین کے کروڑوں روپے کے واجبات کی بحفاظت ادائیگی کی صلاحیت پر انتہائی سنجیدہ عالمی اور قانونی سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔
چین کی وزارت خارجہ نے باضابطہ تصدیق کر دی ہے کہ صدر شی جن پنگ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی خاص دعوت پر 12 اور 13 ستمبر کو بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کا اہم دورہ کریں گے، جہاں وہ 18ویں برکس سربراہی اجلاس میں چین کی نمائندگی کرتے ہوئے شرکت کریں گے۔
بیجنگ کی جانب سے چینی صدر شی جن پنگ کے اس اہم دورۂ بھارت کو چین اور بھارت کے مابین اعلیٰ سطحی سفارتی رابطوں کی بحالی اور برکس بلاک کے تمام رکن ممالک کے باہمی معاشی و سیاسی تعاون کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ چین کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری باضابطہ بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر شی جن پنگ 18ویں برکس سربراہی اجلاس میں عالمی معاشی صورتحال، کثیر قطبی نظام اور علاقائی تحفظ سے متعلق چینی پالیسی کا حتمی خاکہ پیش کریں گے۔
سینیئر چینی قیادت کی آمد اور عالمی رہنماؤں کے تحفظ کے پیش نظر بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں سیکیورٹی کے بے مثال اور انتہائی سخت انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق دہلی پولیس کے اعلیٰ حکام نے بتایا ہے کہ حساس علاقوں بالخصوص تغلق روڈ کے پورے زون میں تقریباً 500 جدید ترین سی سی ٹی وی کیمرے اور خودکار سینسرز نصب کر دیے گئے ہیں تاکہ تمام تر رفت و آمد، سیکیورٹی اور سمارٹ نگرانی کے انتظامات کو فول پروف اور انتہائی موثر بنایا جا سکے۔
واضح رہے کہ برکس دنیا کی تیز ترین اور ابھرتی ہوئی بڑی ملکی معیشتوں کے درمیان قائم اقتصادی و تجارتی تعاون کا ایک معتبر عالمی پلیٹ فارم ہے۔ اس اہم اتحاد کا نام ابتدائی طور پر اس کے بانی ممالک یعنی برازیل، روس، انڈیا، چین اور جنوبی افریقہ کے انگریزی ناموں کے پہلے حروف کے ملاپ سے تشکیل پایا تھا، جس میں بعد ازاں دیگر اہم معیشتیں بھی شامل کی گئی ہیں۔
برکس فورم کا بنیادی مقصد رکن ممالک کے درمیان معاشی، تجارتی، تکنیکی، سیاسی اور مالیاتی شعبوں میں مضبوط تعاون کو فروغ دینا اور دنیا کے سامنے مغرب کے اثر و رسوخ کے مقابلے میں ابھرتی ہوئی معیشتوں کے مرکزی کردار اور خودمختاری کو موثر انداز میں مضبوط کرنا ہے۔
یمن کے حوثی عسکری گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران یمن کے مختلف تزویراتی (اسٹریٹجک) اور ساحلی علاقوں میں تقریباً 40 سے زائد شدید فضائی حملے کیے ہیں۔ یہ سنسنی خیز دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز کے درمیان سرحد کے دونوں جانب حملوں اور زمینی جھڑپوں میں یکبارگی غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
حوثی انتظامیہ سے وابستہ سرکاری خبر رساں ادارے سبأ کے مطابق سعودی طیاروں نے تعز، الحدیدہ، الجوف اور مأرب کے اہم صوبوں میں قائم عسکری اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے تقریباً 40 فضائی حملے کیے، تاہم ان شدید حملوں سے متعلق حوثیوں کے اس دعوے کی کسی بھی غیر جانبدار یا آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
علاقائی ذرائع کے مطابق یہ خطرناک پیش رفت سعودی عرب کے سرحدی و جنوبی علاقوں پر حوثیوں کے حالیہ تباہ کن میزائل اور ڈرون حملوں کے فوری بعد سامنے آئی ہے۔ سعودی قیادت میں قائم قائم ملٹری اتحاد کے باضابطہ بیانات کے مطابق حوثیوں نے سعودی عرب کے گنجان آباد جنوبی شہروں ابہا، خمیس مشیط اور جازان کو نشانہ بنانے کے لیے متعدد جدید بیلسٹک میزائل اور خودکش ڈرون داغے تھے۔
یمنی دفاعی رپورٹس کے مطابق یمن میں دوبارہ سے ابھرنے والی اس بدترین عسکری کشیدگی نے سال 2022ء کے دوران فریقین کے مابین قائم ہونے والے نازک اور تاریخی معاہدے کو انتہائی شدید دباؤ اور داؤ پر لگا دیا ہے، جبکہ حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز کے درمیان چند انتہائی اہم صوبوں اور تیل پیدا کرنے والے علاقوں پر قبضہ برقرار رکھنے کی لڑائی بار دیگر شدت اختیار کر چکی ہے۔
دریں اثنا، بحیرہ احمر کی عالمی اہمیت کی حامل باب المندب کی آبنائے کے اطراف بھی سیکورٹی کی صورتحال انتہائی حساس اور نازک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق حوثی جنگجو بحیرہ احمر کے انتہائی اہم ساحلی علاقوں اور چوکیوں پر اپنی حتمی پوزیشنز مضبوط کرتے ہوئے اس عالمی اہمیت کی حامل تجارتی بحری گزرگاہ کے بالکل قریب تک پہنچ چکے ہیں۔ واضح رہے کہ باب المندب بحیرہ احمر اور خلیج عدن کو باہم جوڑنے والا دنیا کا وہ اہم ترین سمندری راستہ ہے جہاں سے روزانہ کی بنیاد پر عالمی تجارت اور خام تیل و توانائی کا ایک بڑا اور اہم حصہ دوسرے براعظموں کو منتقل ہوتا ہے۔
سندھ کے صوبائی وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے میر رضا علی کی پُراسرار اور حساس موت کی تحقیقات کے لیے قائم شدہ عدالتی کمیشن کے سامنے خود پیش ہو کر حکومتِ سندھ کی جانب سے کامل، منصفانہ، آزادانہ اور مکمل شفاف انکوائری میں مکمل تعاون فراہم کرنے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ حکومتِ سندھ اس عدالتی کمیشن کی کارروائی، تحقیقات اور قانونی طریقہ کار میں کسی بھی قسم کی مداخلت ہرگز نہیں چاہتی اور کمیشن کے پاس تمام اختیارات موجود ہیں کہ وہ بلا خوف و خطر اپنی تحقیقات کو آگے بڑھائے۔
سندھ ہائی کورٹ میں جمعرات کے روز کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال کے روبرو پیشی کے موقع پر صوبائی وزیر داخلہ نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سماعت کے دوران ایک غلط فہمی جنم لے گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتِ سندھ کی جانب سے کمیشن کو کارروائی کے طریقہ کار سے متعلق کسی قسم کی ہدایت جاری نہیں کی گئی تھی اور نہ ہی متوفی میر رضا علی کے رنجیدہ اہلخانہ کے اٹھائے گئے قانونی سوالات کے جوابات دینے کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی کوئی بات کی گئی تھی۔
بعد ازاں کمیشن کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ تحریری حکم نامے میں صوبائی وزیر داخلہ کی اس فوری اور واضح وضاحت اور حکومتِ سندھ کے مسلسل اور مکمل تعاون کی فراہم کردہ یقین دہانی کو سراہا گیا۔ میر رضا علی کے متاثرہ خاندان کے نامور وکیل جبران ناصر نے بھی عدالتی فورم پر استدعا کی کہ صوبائی وزیر داخلہ کی جانب سے پیش کی گئی وضاحت اور کمیشن کے ساتھ مکمل تعاون کی اس یقین دہانی کو باقاعدہ عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے۔ اس پیش رفت کے بعد ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور کمیشن کے فاضل سربراہ کے درمیان پیدا ہونے والی غلط فہمی اور تحفظات کا یکسر خاتمہ ہو گیا۔
عدالتی کمیشن نے کیس کی تمام تر کارروائی آئندہ پیر 14 ستمبر 2026ء کو صبح 11 بجے سے دوبارہ شروع کرنے کا باضابطہ فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید اور متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او عدیل افضل کو مقررہ تاریخ پر تمام ضروری دستاویزی ریکارڈ سمیت پیش ہونے کے لیے باقاعدہ نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں۔ دوسری جانب کمیشن کو ڈاکٹر اسامہ کی جانب سے جاری کردہ شوکاز نوٹس کا موصول ہونے والا جواب نامکمل، غیر تسلی بخش اور مبہم قرار دیتے ہوئے کمیشن نے ڈاکٹر اسامہ کو 15 ستمبر کو ذاتی طور پر پیش ہو کر اپنے جواب کی تفصیلی وضاحت پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
سماعت کے دوران فاضل جج جسٹس عمر سیال نے صوبائی وزیر داخلہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ متوفی کے غم زدہ اہلخانہ کے اعتماد کو مکمل طور پر بحال رکھنا اس قانونی انکوائری کا سب سے اہم اور بنیادی پہلو ہے۔ انہوں نے کہا کہ اہلخانہ کے ذہنوں میں بہت سے پیچیدہ سوالات موجود ہیں اور حکومتِ سندھ و وزیراعلیٰ کی جانب سے شفاف تحقیقات کی یقین دہانی بلاشبہ قابلِ تعریف ہے، تاہم خاندان کا اعتماد متاثر ہونے کے باعث کمیشن کے لیے یہ ایک بے حد مشکل اور حساس ذمہ داری ہے۔
جسٹس عمر سیال نے مزید واضح کیا کہ متوفی کے خاندان کے وکیل کو تمام ضروری سوالات اٹھانے کی قانون کے مطابق مکمل اجازت حاصل ہے اور گزشتہ سماعت پر سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل کے اپنائے گئے رویے پر کمیشن نے اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی وزیر داخلہ کو طلب کرنے کا بنيادی مقصد حکومتِ سندھ کے موقف اور کامل تعاون کے بارے میں عام عوام اور متاثرہ خاندان کا اعتماد بحال کرنا تھا۔
صوبائی وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے کمیشن کے سربراہ کو یقین دلایا کہ حکومتِ سندھ اس باوقار کمیشن کی ہر بات پر پورا اعتماد رکھتی ہے اور یہ تحقیقات جس سمت بھی جائیں، حکومت اصل ملزمان تک پہنچنے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے اپنا مکمل تعاون جاری رکھے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ کمیشن کو یہ کامل اختیار حاصل ہے کہ وہ جس بھی ذمہ دار یا شخص سے چاہے سوال کرے۔ انہوں نے اہلخانہ کے دکھ اور جذبات کا احترام کرتے ہوئے پچھلی سماعت کی صورتحال پر کمیشن سے معذرت بھی کی۔
دوسری جانب میر رضا علی کے خاندان کے وکیل جبران ناصر نے متوفی کے بزنس پارٹنر احمد سے متعلق سامنے آنے والے بعض سنگین الزامات اور ان کے وکیل کی طرف سے موصولہ معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے کمیشن سے استدعا کی کہ احمد کو دوبارہ کمیشن کے سامنے طلب کیا جائے تاکہ وہ اگر کوئی مزید موقف یا معلومات دینا چاہیں تو ریکارڈ پر لا سکیں۔ کمیشن نے جبران ناصر کو ہدایت کی کہ اس نقطے پر باضابطہ تحریری درخواست جمع کرائی جائے، جس پر وکیل صفائی نے جلد درخواست دائر کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے گزشتہ شب ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان سے ٹیلی فون پر تفصیلی گفتگو کی، جس کے دوران دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات، باہمی دلچسپی کے امور اور مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال کا احاطہ کیا۔
جمعرات کے روز دفتر خارجہ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے پاکستان اور ترکیہ کے مابین موجودہ باہمی تعلقات کی پیش رفت اور علاقائی سیکیورٹی کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ گفتگو کے دوران سینیٹر اسحاق ڈار اور حاقان فیدان نے مسئلہ فلسطین پر دونوں برادر اسلامی ممالک کے تاریخی و مشترکہ مؤقف کا اعادہ کیا اور مظلوم فلسطینیوں کی سفارتی تائید کا عزم دہرایا۔
اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماؤں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے درآمدات پر پابندی اور ایسی بستیوں سے منسلک خدمات و کمپنیوں پر قدغنیں عائد کرنے کے برطانوی فیصلے کی تحسین کی اور اس ضمن میں آٹھ عرب و اسلامی ممالک کی جانب سے جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے کی مکمل حمایت کی۔ اس کے علاوہ دونوں وزرائے خارجہ نے برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک کی جانب سے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور دو ریاستی حل سے متعلق سامنے آنے والے مشترکہ اعلانات کا خیرمقدم کیا۔
ٹیلی فونک گفتگو کے دوران دونوں سفارتی رہنماؤں نے خطے کے دیگر اہم ممالک بالخصوص سعودی عرب اور مصر کے ساتھ اہم علاقائی مسائل پر مسلسل اور قریبی سیاسی و سفارتی مشاورت جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے چار ملکی ‘ریجنل فور’ (R4) فریم ورک کے ذریعے باہمی مشاورت اور مربوط حکمت عملی کو مزید آگے بڑھانے کا عزم ظاہر کیا۔
بیان کے اختتام پر بتایا گیا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان نے امریکی شہر نیویارک میں منعقد ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے آئندہ سالانہ اجلاس کے موقع پر آمنے سامنے تفصیلی ملاقات کرنے اور باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کو تیز رفتار، پائیدار اور مستحکم معاشی ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے کے لیے روایتی طرزِ حکمرانی اور پرانے معاشی طریقہ کار سے نکل کر جدید ڈیجیٹل معیشت کی جانب تیزی سے منتقل ہونا پڑے گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ بنیادی ٹیکس اصلاحات، قومی وسائل میں خاطر خواہ اضافہ اور معیشت کی کامل ڈیجیٹلائزیشن ‘اڑان پاکستان’ کے طے شدہ اہداف کے حصول کے لیے بنیادی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
قومی اقتصادی مشن، ٹیکس اصلاحات اور معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن سے متعلق منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ ٹیکس اصلاحات اور وسائل میں اضافہ کا اہم مشن ‘اڑان پاکستان’ کے تحت قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کی جانب سے منظور کیے گئے 11 قومی اقتصادی مشنز میں کلیدی مقام رکھتا ہے، اور یہی مشن درحقیقت پورے معاشی اصلاحاتی پروگرام کے لیے بنیادی مالیاتی انجن کی حیثیت رکھتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ قابلِ اعتماد اور پائیدار ذرائع سے ملکی آمدن میں اضافہ کیے بغیر دیگر 10 قومی اقتصادی مشنز کو کامیابی سے چلانے کے لیے درکار مالی وسائل کی فراہمی ممکن نہیں بنائی جا سکتی۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ قومی اقتصادی کونسل نے جن 11 قومی اقتصادی مشنز کی منظوری دی ہے، ان کا بنیادی اور حتمی مقصد پاکستان کو سال 2035ء تک 1 ٹریلین (ایک کھرب) ڈالر کی دیوہیکل معیشت بنانا ہے۔
احسن اقبال نے اپنے خطاب میں کہا کہ ‘اڑان پاکستان’ کے تمام تر معاشی اہداف مکمل طور پر قابلِ حصول ہیں، تاہم ان کو حاصل کرنے کے لیے معیشت کے ہر چھوٹے بڑے شعبے میں بنیادی تبدیلی، کڑی اصلاحات اور نفاذ درکار ہے۔ موجودہ روایتی نظام کو برقرار رکھتے ہوئے 1 ٹریلین ڈالر کی معیشت کا ہدف حاصل کرنا انتہائی مشکل ہوگا، اسی لیے معمول کے سست روی والے طریقہ کار سے ہٹ کر تیز رفتار معاشی و ساختار تبدیلی لانا پڑے گی۔
انہوں نے واضح الفاظ میں ہدایت کی کہ پاکستان کو اب معاشی میدان میں ’’کچھوے کی رفتار‘‘ کے بجائے ’’ڈیجیٹل رفتار‘‘ سے آگے بڑھنا ہوگا۔ پائیدار معاشی ترقی کے لیے ملک کو پرانے تکنیکی طریقہ کار سے مکمل طور پر نکل کر ایک تیز رفتار، جدید ترین ٹیکنالوجی پر مبنی اور شفاف ڈیجیٹل معیشت کی طرف منتقل ہونا پڑے گا۔
وفاقی وزیر نے معاشی صورتحال کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ حکومت نے ملک میں بنیادی معاشی استحکام حاصل کر لیا ہے، لیکن صرف اس موجودہ سطح کا استحکام طویل المیعاد پائیدار ترقی کے لیے ہرگز کافی نہیں ہے۔ معاشی ترقی کی رفتار کو عالمی سطح پر معتبر بنانے کے لیے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں اضافہ اور عوامی ترقیاتی سرگرمیوں (پی ایس ڈی پی) کے لیے مطلوبہ مالی وسائل کی فراہمی بلاشبہ سب سے لازمی جزو ہے۔
انہوں نے ماضی سے موازنہ کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ سال 2018ء میں پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار کے مقابلے میں ترقیاتی بجٹ کا تناسب کافی زیادہ تھا، جبکہ موجودہ صورتحال میں ترقیاتی بجٹ کی سطح نمایاں طور پر سکڑ کر کم ہو چکی ہے۔ تقریباً دو ہزار ارب روپے کے محدود ترقیاتی بجٹ کے ذریعے حاصل ہونے والے ظاہری استحکام کو ہم کبھی بھی مکمل یا حتمی معاشی استحکام قرار نہیں دے سکتے۔
پروفیسر احسن اقبال نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا قومی ترقیاتی بجٹ مسلسل سکڑ رہا ہے، اور بجٹ کا موجودہ روایتی ڈھانچہ نئے ترقیاتی اخراجات کے لیے گنجائش پیدا کرنے میں بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر زیرِ التوا اور جاری ترقیاتی منصوبوں کو وقت پر فنڈز فراہم کر کے مکمل نہیں کیا جا سکتا تو نئے مفادِ عامہ کے منصوبوں کا آغاز کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ اس تشویشناک صورتحال سے نمٹنے کے لیے معیشت میں نئے وسائل پیدا کرنے اور موجودہ وسائل کو زیادہ موثر اور شفاف انداز میں متحرک کرنے کی اشد ضرورت ہے، جس کے لیے ملک کے ٹیکس نظام میں انقلابی اور بنیادی اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی ذاتی کاوشوں اور خصوصی دلچسپی سے گزشتہ دو برس کے دوران ملک میں ٹیکس وصولیوں اور ریونیو کی جمع آوری میں نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے، لیکن اب اصل چیلنج عوام اور صنعتوں پر ٹیکس کی شرح میں کمی لاتے ہوئے ٹیکس نیٹ کا دائرہ کار وسیع کرنا اور مجموعی وصولیوں میں اضافہ کرنا ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ عام شہری اور تاجر پر سے ٹیکس کا اضافی بوجھ کم کرنا اور باقاعدہ ٹیکس ادا کرنے والوں کی تعداد بڑھانا ہماری ملکی معاشی پالیسی کی پہلی اور اہم ترین ترجیح ہونی چاہیے۔ ٹیکس اصلاحات اور معیشت کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے ملکی وسائل بڑھانے کے ساتھ ساتھ غیر رسمی معیشت کو زیادہ سے زیادہ دستاویزات کے دائرے میں لانا ہوگا۔
احسن اقبال نے برآمدات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تیز رفتار معاشی بحالی اور ترقی کے لیے برآمدات (ایکسپورٹس) میں غیر معمولی اور ریکارڈ اضافہ ناگزیر ہے، اور یہ موضوع اس وقت ریاست کی اہم ترین قومی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارتِ منصوبہ بندی کی یہ بنیادی آئینی و انتظامی ذمہ داری ہے کہ وہ وزیراعظم کی رہنمائی میں ایک جامع اور قابلِ عمل قومی ترقیاتی منصوبہ تیار کر کے تمام متعلقہ وزارتوں کو فراہم کرے اور اس کے ایک ایک نقطے پر موثر عملدرآمد یقینی بنائے۔
وفاقی وزیر نے وزارتِ منصوبہ بندی کی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وزارت کی تجزیاتی اور تحقیقی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے تمام اہم صنعتی شعبوں کے لیے برآمدات کے واضح، جرات مندانہ اور معین اہداف مقرر کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ جلد از جلد یہ طے کیا جائے کہ کن مخصوص شعبوں سے کتنی برآمدات حاصل کی جا سکتی ہیں اور ان مطلوبہ اہداف کے حصول کے لیے کون سے عملی و تکنیکی اقدامات فوری طور پر ضروری ہیں، کیونکہ پاکستان کا مستقبل صرف اور صرف ٹیکنالوجی، شفافیت اور برآمدات پر مبنی معیشت سے وابستہ ہے۔
چین کی حکومت نے عالمی برادری پر واضح کیا ہے کہ وہ دوسرے ممالک کی اقتصادی اور تکنیکی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے یا انہیں پیچھے دھکیلنے کے بجائے معاشی، صنعتی، بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں شفاف تعاون اور معاونت فراہم کرنے کی مستقل پالیسی پر گامزن ہے۔ چین کی جانب سے زور دے کر کہا گیا ہے کہ بیجنگ نے تاریخ میں کبھی کسی ملک کی ترقی کی ’’سیڑھی‘‘ نہیں کھینچی، بلکہ ہمیشہ دنیا کے ترقی پذیر اور ابھرتے ہوئے ممالک کے لیے معاشی ترقی کی نئی راہ ہموار کی ہے اور ان کی صنعتی صلاحیتیں بہتر بنانے میں عملی مدد فراہم کی ہے۔
چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے یہ تمام تر تفصیلات گزشتہ روز دارالحکومت بیجنگ میں معمول کی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ایک بین الاقوامی صحافی کے سوال کا تفصیلی جواب دیتے ہوئے بیان کیں۔
چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے بیجنگ کی عالمی معاشی حکمت عملی پر روشنی ڈالتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ چین نے نہ تو کبھی کسی ملک کی ترقی کی ’’سیڑھی‘‘ کھینچی ہے اور نہ کبھی ایسا کرے گا، بلکہ اس کے برعکس چین دنیا کے تمام شراکت دار اور کمزور ممالک کے لیے معاشی و صنعتی ترقی کی نئی ’’سیڑھی بنانے‘‘ کے اپنے عزم پر سختی سے قائم ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چین اعلیٰ معیار اور عالمی معیار کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (بی آر آئی) تعاون کے مضبوط فریم ورک کے ذریعے اپنے تمام شراکت دار ممالک میں بنیادی ڈھانچے کی شدید کمی کو دور کرنے کے لیے مسلسل اور فعال مدد فراہم کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چین اعلیٰ ترین معیار اور مناسب ترین قیمت کے صنعتی آلات، جدید سائنسی و تکنیکی مصنوعات کی فراہمی کے ساتھ اپنے کئی دہائیوں پر محیط معاشی تجربات اور ڈجیٹل ٹیکنالوجی کو بھی شراکت دار ممالک کے ساتھ بلا جھجھک شیئر کر رہا ہے۔
ترجمان نے چین کی اس عالمی پالیسی کے مثبت اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بیجنگ کے ان مخلصانہ اور شفاف اقدامات سے گلوبل ساؤتھ کے تمام ممالک کو اپنی صنعتی و پیداواری لاگت نمایاں حد تک کم کرنے، قومی پیداواری صلاحیت کو تیزی سے بڑھانے اور اپنی آزادی کے ساتھ صنعتی ترقی کو آگے بڑھانے میں زبردست اور پائیدار مدد مل رہی ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کے باضابطہ ترجمان سجاد حیدر نے واضح کیا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ تاریخی “مکہ دفاعی معاہدے” کے تحت باقاعدگی سے باہمی مشاورت اور رابطے میں ہیں، تاہم فی الوقت اس عسکری و دفاعی معاہدے میں کسی بھی نئے ملک کو شامل کرنے کے حوالے سے کوئی تجویز زیرِ غور نہیں ہے اور نہ ہی اس سلسلے میں کسی سطح پر کوئی بات چیت ہو رہی ہے۔
جمعرات کے روز اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران صحافیوں کے مختلف سوالات کا جواب دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ مختلف اعلیٰ انتظامی و عسکری سطحوں پر باقاعدگی سے ملاقاتیں اور تفصیلی مشاورت کر رہے ہیں اور تینوں برادر ممالک مسلسل ایک دوسرے کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر نے دفاعی اتحاد کے مستقبل اور ترجیحات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت تینوں ممالک کی بنیادی ترجیح مکہ دفاعی معاہدے کے تحت طے پانے والے موجودہ تعاونی فریم ورک اور تنظیمی ڈھانچے کو مزید فعال، منظم اور مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں ایسے دیگر ممالک کے لیے اس اہم دفاعی اتحاد میں شمولیت کا راستہ کھولا جا سکتا ہے جو اس معاہدے کے بنیادی اصولوں، سیکورٹی نقطہ نظر اور علاقائی ضرورتوں سے مکمل ہم آہنگی رکھتے ہوں۔
سجاد حیدر کے مطابق دفاعی اتحاد میں نئے ممالک کی ممکنہ شمولیت سے متعلق تمام تر اہم فیصلے مستقبل کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی باہمی مشاورت اور متفقہ رائے سے ہی کیے جائیں گے۔
ترجمان نے جاری گفتگو کے دوران افواہوں کا خاتمہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ فی الحال اس حساس معاملے پر کوئی باضابطہ گفتگو یا بات چیت نہیں ہو رہی، اس لیے اس جاری ابتدائی مرحلے پر مکہ دفاعی معاہدے میں کسی بھی نئے ملک کی شمولیت کا سوال بالکل قبل از وقت اور غیر متعلقہ ہے۔
واضح رہے کہ سہ فریقی تاریخی مکہ دفاعی معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین رواں برس 7 اگست 2026ء کو سعودی عرب کے مقدس شہر مکہ مکرمہ میں طے پایا تھا، جس کا بنيادی مقصد ان تینوں اہم اسلامی ممالک کے درمیان اجتماعی دفاع، سیکیورٹی، عسکری ٹیکنالوجی کے تبادلے اور دفاعی تعاون کو ایک نئے جدید اور ناقابلِ تسخیر موڑ پر لانا ہے۔
امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ڈلاس میں ریپبلکن پارٹی کا پہلا وسط مدتی (مڈ ٹرم) انتخابی کنونشن منعقد ہوا جس میں روایتی صدارتی انتخابی سال کے بڑے اجتماعات جیسا شاندار اور جوشیلا ماحول دیکھنے میں آیا۔ چمکدار اور رنگ برنگے ملبوسات میں ملبوس جذباتی حامی، اہم امیدواروں کی تقاریر کا مسلسل سلسلہ، اور انتخابی مہم سے متعلق یادگاری اشیا فروخت کرنے والے دکاندار اس بڑے اجتماع کا نمایاں حصہ تھے۔
تاہم کسی بھی روایتی حزبی کنونشن کے برعکس ڈلاس میں منعقد ہونے والی اس دو روزہ تقریب میں پارٹی کا کوئی باضابطہ یا قانونی کاروبار انجام نہیں دیا گیا۔ اس کے بجائے یہ تمام تر اجتماع ریپبلکن رہنماؤں کے لیے ایک زبردست پاور شو اور انتخابی جلسے کی حیثیت رکھتا تھا، جو رواں سال نومبر میں ہونے والے مڈ ٹرم انتخابات کے دوران امریکی کانگریس کا کنٹرول مکمل طور پر برقرار رکھنے اور اپنے ووٹ بینک و ووٹرز کی شرکت کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کی انتھک کوششیں کر رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جن کا ریپبلکن پارٹی کی قیادت اور ووٹرز پر اثر و رسوخ آج بھی بدستور مکمل طور پر قائم و دائم ہے، نے دو روزہ تقریب کی افتتاحی شام ایک انتہائی طویل اور جذباتی کلیدی خطاب کیا۔ انہوں نے اپنے اس خطاب میں ان تمام اہم موضوعات اور پالیسیوں پر کھل کر بات کی جن پر وہ رواں سال انتخابی جلسوں میں بار بار اظہارِ خیال کرتے رہے ہیں، تاہم اس تقریب کے دوران ان کی جانب سے چند انتہائی غیر متوقع اور سنسنی خیز اعلانات بھی کیے گئے۔
ڈونلڈ ٹرمپ طویل عرصے سے اپنے سیاسی جلسوں اور تقریروں میں غیر روایتی اور چونکا دینے والی تجاویز پیش کرنے کے لیے مشہور ہیں۔ اپنے اسی انداز کو برقرار رکھتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ اگر ریپبلکن پارٹی نومبر کے مڈ ٹرم انتخابات میں امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں یعنی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں کامیابی حاصل کر لیتی ہے تو وہ ہر بالغ امریکی شہری کو 5,000 ڈالر (تقریباً 3,700 برطانوی پاؤنڈ) کا بڑا کیش ریلیف دینے کی باقاعدہ قانون سازی کریں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اس معاشی منصوبے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس رقم کی فراہمی کی صرف اور صرف ایک بنیادی شرط ہوگی، اور وہ یہ کہ ہر شہری کو یہ رقم لازمی طور پر امریکہ کی حدود ہی کے اندر مختلف اشیاء اور خدمات پر خرچ کرنا ہوگی تاکہ ملکی معیشت کو تقویت مل سکے۔
تاہم صدر ٹرمپ نے اپنے پورے خطاب میں یہ بالکل نہیں بتایا کہ اس دیوہیکل منصوبے پر عملی طور پر کیسے عمل درآمد کیا جائے گا، اس کھربوں ڈالر کی خطیر رقم کا انتظام کہاں سے ہوگا، یا امریکی حکومت اور اس کے محکمے یہ کیسے چیک اور جانچ سکیں گے کہ یہ رقم واقعی امریکہ کے اندر ہی خرچ کی گئی ہے۔
ریاستی مخالف جماعت ڈیموکریٹس کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس غیر متوقع اعلان پر شدید ردِعمل سامنے آیا اور انہوں نے اسے فوری طور پر ایک سیاسی اور “کھوکھلا وعدہ” قرار دے کر مسترد کر دیا، جبکہ متعدد معاشی اور قانونی ناقدین نے یہ سنجیدہ سوالات بھی اٹھائے ہیں کہ آیا امریکی آئین اور قانونی فریم ورک کے تحت ایسا معاشی وعدہ عملی طور پر ممکن بھی ہے یا نہیں۔
حساب کتاب کے مطابق اس وقت امریکہ میں تقریباً 27 کروڑ بالغ افراد موجود ہیں، جس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ اگر فی کس 5,000 ڈالر کی رقم تقسیم کی جائے تو امریکی حکومت کے خزانے پر اس کا مجموعی بوجھ تقریباً 1.3 کھرب (1.3 ٹریلین) ڈالر پڑے گا۔
امریکی معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تجویز عملی طور پر قابلِ عمل ہے یا نہیں، بظاہر اس سے کہیں زیادہ اہم بات یہ تھی کہ اس بڑے اعلان کا کنونشن میں موجود ٹرمپ کے حامیوں اور حاضرین پر کیا تاثر قائم ہوا۔ پورے ہال میں اس تجویز کا اعلان ہوتے ہی پرجوش شرکاء نے کھڑے ہو کر منٹوں تک زوردار تالیاں بجائیں اور ڈونلڈ ٹرمپ بھی اپنے حامیوں کے اس والہانہ ردِعمل سے بے حد محظوظ اور خوش دکھائی دیے۔
پاکستان نے برطانیہ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے درآمد کی جانے والی تمام مصنوعات اور اشیائے صرف پر مکمل پابندی عائد کرنے کے جرات مندانہ فیصلے کا پرجوش اور غیر مشروط خیرمقدم کیا ہے۔
ترجمان وزارتِ دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان میں دوٹوک الفاظ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی سرزمین پر غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کا مسلسل اور متنازع پھیلاؤ بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق کے چارٹر اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی سراسر کھلی خلاف ورزی ہے۔ بیان میں مزید واضح کیا گیا کہ اس قسم کے غاصبانہ اقدامات نہ صرف آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے دو ریاستی حل کے حصول کی راہ میں رکاوٹ ہیں بلکہ خطے کے امن اور استحکام کو بھی شدید ترین خطرات سے دوچار کر رہے ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ پاکستان نے برطانیہ کے اس اقدام کے ساتھ ساتھ کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، آئس لینڈ، آئرلینڈ، ناروے، پولینڈ، پرتگال، اسپین اور سویڈن سمیت دنیا کے دیگر متعدد باوقار ممالک کے ان اعلانات کا بھی پرتپاک خیرمقدم کیا ہے جن میں انہوں نے غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے خلاف بالکل اسی نوعیت کے سخت تجارتی و معاشی اقدامات پر غور کرنے اور بھرپور حمایت کا اظہار کیا ہے۔
دفترِ خارجہ کی جانب سے امید ظاہر کی گئی ہے کہ عالمی برادری کے یہ اجتماعی اور مربوط اقدامات مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں جاری تمام غاصبانہ اور غیر قانونی سرگرمیوں کو سرسری طور پر مسترد کرنے کا ایک انتہائی واضح، دوٹوک اور سخت ترین پیغام ثابت ہوں گے۔
یاد رہے کہ برطانیہ کی حکومت نے 8 ستمبر کو باضابطہ اعلان کیا تھا کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے کی غیر قانونی اسرائیلی بستیوں میں تیار یا پیدا ہونے والی تمام اشیا کی برطانیہ درآمد پر پابندی عائد کرے گی۔ برطانوی حکومت کے مطابق یہ فیصلہ فرانس اور کینیڈا کے ساتھ مل کر کی گئی ایک مشترکہ سفارتی و اقتصادی کوشش کا حصہ ہے، جبکہ بستیوں کی توسیع، مالی معاونت اور انفراسٹرکچر میں براہِ راست مدد فراہم کرنے والی مخصوص کمپنیوں اور افراد کے خلاف بھی پابندیوں کے دائرہ کار کو وسیع کیا جائے گا۔ برطانوی انتظامیہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ اقدامات براہِ راست اسرائیل کے ساتھ مجموعی دوطرفہ تجارت کو نشانہ نہیں بناتے بلکہ ان کا ہدف صرف غیر قانونی بستیوں اور ان کی توسیع سے جڑی مالی و تجارتی سرگرمیاں ہیں۔
بیان کے اختتام پر پاکستان نے ایک بار پھر مظلوم فلسطینی عوام کے ناقابلِ تسخیر حقِ خودارادیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان ایک آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے اپنی تمام تر سفارتی کوششیں جاری رکھے گا، جو 1967 سے قبل کی سرحدوں پر قائم ہو اور جس کا بابرکت دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے شہر بھر میں شیشہ کیفے چلانے پر تاحکمِ ثانی مکمل اور سخت ترین پابندی عائد کر دی ہے، جس کا بلاامتیاز اطلاق سابقہ این او سی رکھنے والے کیفیز اور تمام چھوٹے بڑے تجارتی مراکز پر یکساں طور پر ہوگا۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے تمام اسسٹنٹ کمشنرز کو اس پابندی پر بلاامتیاز اور سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے شیشہ کیفیز کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر گرینڈ آپریشنز اور کارروائیاں کرنے کا حکم دیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ فیصلے میں صراحت کی گئی ہے کہ اس مکمل قدغن کا اطلاق ان ڈور اور آؤٹ ڈور، دونوں طرح کی سائٹس پر قائم شیشہ کیفیز پر ہوگا۔ ضلعی انتظامیہ نے واضح اور سخت الفاظ میں انتباہ جاری کیا ہے کہ اس سرکاری پابندی کی ذرہ برابر بھی خلاف ورزی کرنے والے شیشہ کیفے کو موقع پر فوری سیل کر دیا جائے گا، جبکہ کیفے کے مالک اور انتظامیہ کے خلاف سخت ترین تعزیراتی دفعات کے تحت باقاعدہ مقدمہ درج کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں تمام اسسٹنٹ کمشنرز کو اپنے اپنے علاقائی دائرہ کار میں باقاعدگی سے ہنگامی انسپکشن کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
انتظامیہ کا یہ حتمی اور سخت فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں شیشہ کیفے کی سرگرمیوں اور قانونی حیثیت سے متعلق دائر کی گئی اہم درخواستوں کی سماعت کے بعد سامنے آیا ہے۔ بدھ کے روز چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر نے کیس کی اعلیٰ سطحی سماعت کی، جس میں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) اسلام آباد، ڈپٹی کمشنر، ایڈووکیٹ جنرل اور قائم مقام پراسیکیوٹر جنرل ذاتی طور پر عدالتِ عالیہ کے سامنے پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران اسلام آباد پولیس کے حکام نے عدالت کو باضابطہ آگاہ کیا کہ سابقہ عدالتی احکامات کی روشنی میں شیشہ کیفیز کے خلاف گرینڈ ایکشن لیا گیا ہے اور خلاف ورزی کرنے والے متعدد افراد کے خلاف ایف آئی آرز بھی درج کی گئی ہیں، تاہم ان کارروائیوں کے دوران انتظامیہ اور پولیس کو کیفے مالکان کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔
کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے اپنے اہم ریمارکس میں واضح کیا کہ ملک میں شیشہ کیفے کے حوالے سے فی الوقت کوئی قانونی یا باقاعدہ قواعد و ضوابط (رولز) موجود نہیں ہیں۔ عدالتِ عالیہ نے دوٹوک فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ باقاعدہ رولز اور قانونی فریم ورک وضع کیے بغیر شیشہ کیفے کے اس کاروبار کو اس طرح بے لگام جاری رکھنے کی بالکل اجازت نہیں دی جا سکتی۔ عدالت نے اسلام آباد کی مقامی ضلعی انتظامیہ کو شیشہ کیفے کی قانونی تنظیم سازی اور باقاعدہ قواعد و ضوابط کی تیاری کے لیے ایک ماہ کی مہلت فراہم کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کر دی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین باضابطہ حکم کے تحت فی الحال شہر کا کوئی بھی شیشہ کیفے، خواہ وہ کسی قسم کا این او سی رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو، یا ان ڈور و آؤٹ ڈور لوکیشن پر قائم ہو، صارفین کو شیشہ فراہم کرنے کا مجاز نہیں ہوگا۔ یہ سخت پابندی قانون سازی اور نئے قواعد و ضوابط کی تشکیل تک تاحکمِ ثانی نافذ العمل رہے گی۔