یمن پر 120 سے زائد سعودی فضائی حملوں کے بعد حوثیوں کا شدید جوابی ردِعمل: سعودی عرب پر درجنوں میزائل اور ڈرونز داغنے کا دعویٰ

روزینہ اسماعیل, September 08,2026

صنعاء (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

یمن کے حوثی عسکری گروپ نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے گزشتہ تین روز کے دوران یمنی سرزمین پر 120 سے زائد سعودی فضائی و بحری حملوں کے ردِعمل میں سعودی عرب کے اہم اقتصادی اور عسکری اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے درجنوں بیلسٹک میزائل اور بارود سے لیس ڈرونز داغے ہیں۔

حوثی مسلح افواج کے ترجمان یحییٰ سریع نے اپنے باضابطہ بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ یمنی عسکری دستوں نے طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت رکھنے والی ایک انتہائی بڑے پیمانے کی ملٹری آپریشنل کارروائی مکمل کی ہے۔ ان کے بقول اس جامع حملے میں درجنوں جدید بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا مربوط استعمال کیا گیا، جن کا بنیادی ہدف سعودی عرب کے اندر قائم مختلف عسکری اڈوں اور حساس معاشی تنصیبات کو بنانا تھا تاکہ حالیہ سعودی بمباری کا منہ توڑ جواب دیا جا سکے۔

یہ سنسنی خیز پیش رفت ایک ایسے نازک موڑ پر سامنے آئی ہے جب سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے منگل کی صبح باضابطہ آگاہ کیا گیا تھا کہ ابہا، خمیس مشیط، جیزان اور نجران میں حوثی حملوں کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 73 شہری زخمی ہوئے ہیں۔ ریاض حکومت نے خبردار کیا تھا کہ بے گناہ شہریوں اور عام انفراسٹرکچر پر متواتر بمباری کے انتہائی سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

اس عسکری ٹکراؤ سے قبل یمن کے حوثی ابلاغی ادارے ‘المسیرہ’ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سعودی جنگی طیاروں نے گزشتہ شب صوبہ الجوف کے شہر الحزم میں واقع ‘سینٹرل کریکشنل فیسلٹی’ یعنی مرکزی جیل کو شدید فضائی بمباری کا نشانہ بنایا۔ حوثی حکام کے مطابق تباہ شدہ جیل کے ملبے سے ایک خاتون سمیت 11 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ مزید 20 سے زائد افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ حوثیوں کا یہ بھی الزام ہے کہ الجوف کے علاوہ البیضا، مارب، تعز اور الحدیدہ پر بھی کروز میزائلوں سے شدید حملے کیے گئے ہیں۔

علاوہ ازیں حوثی عسکری ترجمان نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سعودی فورسز کے چار جدید ترین جاسوس ڈرونز، جن میں ایک طاقتور سی ایچ-4 ڈرون بھی شامل ہے، کو فضا میں ہی تباہ کرنے کا نیا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم سعودی عسکری حکام یا سرکاری ذرائع کی جانب سے حوثیوں کے تازہ ترین فضائی و میزائل حملوں، ڈرونز کی تباہی اور جیل پر بمباری کے ان دعوؤں پر فی الوقت کوئی باضابطہ تبصرہ جاری نہیں کیا گیا ہے۔

ٹروتھ سوشل پر آئس لینڈ سمیت گرین لینڈ اور کینیڈا کو امریکی پرچم میں لپٹا دکھانے کا معاملہ؛ ریکیاوک انتظامیہ نے پوسٹ کو مکمل طور پر نامناسب قرار دے دیا

محمود احمد, September 08,2026

کوپن ہیگن (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

یورپی ملک آئس لینڈ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک متنازع اور اشتعال انگیز نقشہ شیئر کیے جانے کے بعد ریکیاوک میں تعینات امریکی سفیر کو وزارتِ خارجہ طلب کر کے سخت احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے جاری کردہ نقشے میں آئس لینڈ سمیت خطے کے کئی آزاد اور خود مختار ممالک کو امریکی پرچم کے نیچے دکھایا گیا تھا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کی شائع کردہ تفصیلی رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ذاتی سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر بغیر کسی تحریری وضاحت کے ایک نقشہ شائع کیا، جس میں امریکہ، کینیڈا، گرین لینڈ، آئس لینڈ، میکسیکو، وسطی امریکہ اور کیریبین کے تمام تر جغرافیائی علاقوں کو امریکی پرچم کے اندر ڈھکا ہوا دکھایا گیا تھا، جبکہ اس پورے خطے کو مجموعی طور پر “یونائیٹڈ اسٹیٹس آف امریکہ” کا لیبل دیا گیا تھا۔

اس غیر معمولی واقعے کے بعد آئس لینڈ کی وزیر خارجہ تھورگیرڈور کترین گُنّارسڈوتیر نے نو تعینات شدہ امریکی سفیر بلی لانگ کو ہنگامی بنیادوں پر وزارتِ خارجہ طلب کیا۔ واضح رہے کہ سفیر بلی لانگ نے گزشتہ ماہ ہی آئس لینڈ میں بحیثیت امریکی سفیر اپنی باضابطہ سفارتی ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔

آئس لینڈ کی وزارتِ خارجہ نے مقامی میڈیا اور نشریاتی اداروں کو تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ملاقات کے دوران امریکی سفیر پر واضح کیا گیا کہ آئس لینڈ جیسے خود مختار ملک کو امریکہ کے نقشے اور پرچم میں دکھانا اور صدر ٹرمپ کی جانب سے کی جانے والی یہ پوسٹ سفارتی آداب کے منافی اور “مکمل طور پر نامناسب” تھی۔

دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ، کوپن ہیگن اور ریکیاوک میں قائم امریکی سفارت خانوں، نیز نوک میں واقع امریکی قونصل خانے نے آئس لینڈ کے اس احتجاج اور طلبی پر فی الوقت کوئی باضابطہ تبصرہ جاری کرنے سے گریز کیا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شیئر کی گئی یہ تنازع سے بھرپور تصویر ایک ایسے نازک موڑ پر سامنے آئی ہے جب گرین لینڈ اور شمالی بحرِ اوقیانوس کے حساس معاشی و تزویراتی خطے سے متعلق امریکی صدر کے سابقہ بیانات اور علاقائی خودمختاری کو چیلنج کرنے والے خدشات پر پہلے ہی یورپی و سفارتی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک کا عالمی قوانین، آزادانہ نگرانی اور اے آئی کی سخت ریگولیشن کا فوری مطالبات کے ساتھ زور

روزینہ اسماعیل, September 08,2026

اقوام متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ٹیکنالوجی کو موثر کنٹرول میں لانے کے بڑھتے ہوئے عالمی مطالبات کی پرزور حمایت کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر اس ٹیکنالوجی کو بغیر کسی ضابطے کے بے قابو چھوڑ دیا گیا تو یہ بالآخر “انسانیت کے وجود کے لیے تباہ کن خطرہ” ثابت ہو سکتی ہے۔

اماراتی نیوز ایجنسی (وام) کے مطابق جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر وولکر ترک نے کہا کہ پابند قوانین، آزادانہ نگرانی اور واضح بین الاقوامی حدود کے بغیر مصنوعی ذہانت کا نظام انسانوں کے قابو سے باہر نکل سکتا ہے۔ انہوں نے اس سنگین خدشے کا اظہار کیا کہ اے آئی سسٹمز اتنے زیادہ طاقتور ہو سکتے ہیں کہ ان کے اپنے بنانے والے (ڈویلپرز) بھی ان پر کنٹرول برقرار نہ رکھ سکیں۔

وولکر ترک نے سائنسی امکانات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ایسی ای آئی ٹیکنالوجی جو اپنے تجرباتی اور آزمائشی ماحول سے باہر نکل جائے یا بند کیے جانے سے بچنے کے لیے اپنے ہی ڈویلپرز کو بلیک میل کرنے لگے، انتہائی خطرناک اور حد سے زیادہ طاقتور صورتحال کی نشاندہی کرتی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، مصنوعی ذہانت کی حفاظت اور سلامتی کے لیے عالمی سطح پر جامع اور موثر حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔

انہوں نے اے آئی کی ہوسٹنگ کرنے والے اور اس کی عالمی سپلائی چین سے منسلک تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ مل کر واضح اور سخت حدود مقرر کریں۔ اس کے علاوہ انہوں نے انکشاف کیا کہ اس وقت دنیا بھر میں مٹھی بھر افراد اور بڑی ٹیک کمپنیوں کے پاس مصنوعی ذہانت پر تقریباً لامحدود طاقت اور وسیع ڈیٹا جمع ہو چکا ہے، جو کہ طاقت کا خطرناک ارتکاز ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹیکنالوجی کو انسانوں کی خدمت کرنی چاہیے، نہ کہ انسان ٹیکنالوجی کے غلام بنیں۔ انہوں نے اے آئی کے روزگار، جمہوریت، ماحولیات اور انسانی حقوق پر پڑنے والے منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے متفقہ عالمی اصولوں پر کاربند رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔

عالمی یومِ خواندگی پر اہم پیغام؛ بلوچستان کے باصلاحیت اور مستحق طلبہ کے لیے 23 ہزار سے زائد اسکالرشپس کی فراہمی مکمل

روزینہ اسماعیل, September 08,2026

کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ (بی ای ای ایف) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر خالد ماندائی نے عالمی یومِ خواندگی کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ خواندگی اور معیاری تعلیم کسی بھی معاشرے کی پائیدار ترقی، معاشی خوشحالی اور سماجی استحکام کی بنیاد ہیں۔

خالد ماندائی نے واضح کیا کہ بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کا بنیادی مقصد صوبے کے باصلاحیت اور مستحق طلبہ و طالبات کو مالی مشکلات سے بالاتر ہو کر تعلیم کے حصول اور اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو نکھارنے کے مساوی مواقع فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی ای ای ایف حکومتِ بلوچستان کے تعلیم دوست وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مختلف اسکالرشپ پروگرامز کے ذریعے طلبہ و طالبات کی تعلیمی معاونت کا ایک انتہائی مؤثر، شفاف اور جامع نظام فراہم کر رہا ہے۔ میرٹ، شفافیت اور مساوی مواقع کے اصولوں کے تحت فراہم کی جانے والی ان اسکالرشپس کا مقصد نوجوان نسل کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع دینا اور انہیں مستقبل کا خودمختار و ذمہ دار شہری بنانا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کے تعلیم دوست وژن کے تحت صوبے میں تعلیم کو ترقی کے بنیادی محرک کے طور پر خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ صوبائی حکومت کی ترجیحات میں یہ امر نمایاں ہے کہ صوبے کا کوئی بھی باصلاحیت بچہ محض مالی وسائل کی کمی کے باعث تعلیم کے اپنے بنیادی حق سے محروم نہ رہے۔ ادارہ اسی وژن کے تحت اسکول سے لے کر اعلیٰ ترین تعلیمی سطح تک اسکالرشپ اسکیمز کے دائرہ کار کو مسلسل وسعت دے رہا ہے۔

دستیاب سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے سی ای او بی ای ای ایف نے بتایا کہ ادارے کے مختلف پروگرامز کے تحت اب تک 23 ہزار 520 اسکالرشپس طلبہ و طالبات کو فراہم کی جا چکی ہیں۔ ان میں بی ایس، یونیورسٹی و کالج کی جزوی اسکالرشپس، اے ڈی پی، اے ڈی ای، انٹرمیڈیٹ، ڈی اے ای، میٹرک ڈسٹرکٹ ٹاپرز، کیڈٹ ایکسیلنس اسکالرشپ پروگرام، خصوصی طبقات کے لیے اسکالرشپس، بیرونِ صوبہ تعلیم، آکسفرڈ پاکستان پروگرام اور فارن پی ایچ ڈی پروگرامز شامل ہیں۔

خالد ماندائی نے زور دے کر کہا کہ اسکالرشپ محض مالی معاونت نہیں بلکہ بلوچستان کے انسانی سرمائے میں ایک طویل المدتی سرمایہ کاری ہے۔ ایک طالب علم کو تعلیم مکمل کرنے کا موقع فراہم کرنا دراصل ایک پورے خاندان کو مضبوط بنانے اور صوبے کے مستقبل کو روشن کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے عالمی یومِ خواندگی کے موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ ادارہ مستقبل میں بھی میرٹ اور شفافیت کے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے خدمات کا دائرہ مزید وسیع کرے گا تاکہ کوئی بھی طالب علم مالی مجبوری کے باعث تعلیم سے دور نہ رہے۔

واپڈا کی جانب سے ملک کے اہم دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کی روزانہ رپورٹ جاری

روزینہ اسماعیل, September 08,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے منگل کے روز ملک بھر کے تمام اہم دریاؤں، بیراجوں اور ڈیموں میں پانی کی مجموعی آمد، اخراج اور ریزروائر میں ذخیرہ شدہ پانی کے تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔

واپڈا کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر پانی کی آمد 1 لاکھ 25 ہزار 600 کیوسک اور اخراج بھی 1 لاکھ 25 ہزار 600 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر آمد اور اخراج 23 ہزار 300 کیوسک رہا، جبکہ خیرآباد پل پر پانی کی آمد اور اخراج 1 لاکھ 37 ہزار 400 کیوسک درج کیا گیا ہے۔ دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر پانی کی آمد 12 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 9 ہزار کیوسک رہا، جبکہ دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر آمد 42 ہزار 100 کیوسک اور اخراج 16 ہزار 100 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔

ملک کے اہم بیراجوں کے اعداد و شمار کے مطابق جناح بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 14 ہزار 800 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 6 ہزار 700 کیوسک، چشمہ بیراج میں آمد 1 لاکھ 93 ہزار 300 کیوسک اور اخراج 1 لاکھ 80 ہزار کیوسک، اور تونسہ بیراج میں آمد 2 لاکھ 16 ہزار 500 کیوسک جبکہ اخراج 1 لاکھ 95 ہزار 800 کیوسک رہا۔ جنوبی حصوں میں گدو بیراج کے مقام پر آمد 2 لاکھ 65 ہزار 400 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 34 ہزار 500 کیوسک، سکھر بیراج پر آمد 2 لاکھ 3 ہزار 200 کیوسک اور اخراج 1 لاکھ 50 ہزار 500 کیوسک، جبکہ کوٹری بیراج میں آمد 87 ہزار 200 کیوسک اور اخراج 44 ہزار 700 کیوسک درج کیا گیا۔ اس کے علاوہ تریموں بیراج پر آمد 27 ہزار 300 کیوسک اور اخراج 16 ہزار 200 کیوسک، اور پنجند بیراج پر آمد 27 ہزار 400 کیوسک اور اخراج 13 ہزار 200 کیوسک رہا۔

آبی ذخائر اور ڈیموں کی صورتحال سے متعلق بتایا گیا ہے کہ تربیلا ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح اپنی انتہائی گنجائش یعنی 1550 فٹ تک پہنچ چکی ہے، جہاں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح بھی 1550 فٹ ہی ہے اور اس کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1402 فٹ ہے، جبکہ تربیلا میں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 5.580 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ منگلا ڈیم کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1050 فٹ، پانی کی موجودہ سطح 1222.35 فٹ، انتہائی گنجائش 1242 فٹ اور قابلِ استعمال ذخیرہ 5.755 ملین ایکڑ فٹ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح چشمہ میں کم از کم آپریٹنگ لیول 638.15 فٹ، پانی کی موجودہ سطح 648.30 فٹ، انتہائی گنجائش 649 فٹ اور قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.274 ملین ایکڑ فٹ موجود ہے۔

پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں کی ایک روزہ سروس ڈلیوری رپورٹ جاری: ایک دن میں تقریباً دو لاکھ مریضوں کو طبی سہولیات فراہم

کاشف عباسی , September 08,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن پنجاب نے صوبے کے تمام اہم سرکاری ہسپتالوں اور ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز کی ایک روزہ شاندار سروس ڈلیوری رپورٹ باقاعدہ طور پر جاری کر دی ہے۔

رسمی رپورٹ میں فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، 7 ستمبر کو صوبہ پنجاب کے مجموعی طور پر 57 مختلف سرکاری ہسپتالوں میں مجموعی طور پر 1 لاکھ 98 ہزار 637 مریضوں کو بہترین اور مفت طبی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ ان میں سے 1 لاکھ 37 ہزار 997 مریضوں کا آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی) کے اندر علاج معالجہ کیا گیا، جبکہ 60 ہزار 640 انتہائی تشویشناک اور ہنگامی نوعیت کے مریضوں کو مختلف ہسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز میں فوری اور بروقت طبی خدمات مہیا کی گئیں۔

رپورٹ کے تفصیلی خاکہ میں مزید بتایا گیا ہے کہ صوبائی دارالحکومت سمیت تمام اضلاع میں قائم سرکاری ٹیچنگ ہسپتالوں میں محض ایک دن کے دوران 2 ہزار 221 مریضوں کی مختلف ہنگامی و معطل شدہ سرجریز کامیابی سے انجام دی گئیں، 693 سی ٹی سکینز اور 1 ہزار 959 ایم آر آئی ٹیسٹ کیے گئے، جبکہ دل کے عارضے میں مبتلا 454 مریضوں کی انتہائی پیچیدہ انجیوگرافیز کے عمل کو مکمل کیا گیا۔

صوبائی محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ اس کارکردگی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صوبائی ہسپتالوں میں مجموعی طور پر 77 ہزار 800 مریضوں کے تفصیلی تشخیصی و لیبارٹری ٹیسٹ بھی انجام دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومتی پالیسی کے تحت ہسپتالوں میں آنے والے مستحق اور عام شہریوں کو 59.8 ملین روپے کی خطیر رقم کی مالیت کی ادویات بالکل مفت فراہم کی گئی ہیں تاکہ عوامی سطح پر صحت کے معیار کو بہتر اور آسان بنایا جا سکے۔

تہران میں ہنگامی پناہ گاہوں اور میٹرو اسٹیشنز کی نشاندہی کے لیے سائن بورڈز نصب کرنے کا بڑا فیصلہ

محمود احمد, September 08,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

تہران سٹی کونسل کے سربراہ مہدی چمران نے اعلان کیا ہے کہ دارالحکومت کے مختلف حساس علاقوں اور بالخصوص معینہ میٹرو اسٹیشنز میں قائم ہنگامی پناہ گاہوں کی واضح نشاندہی کے لیے باقاعدہ سائن بورڈز نصب کیے جائیں گے۔

مہدی چمران نے سٹی کونسل کے اجلاس کے بعد تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کونسل کی حالیہ منظوریوں کی روشنی میں ان تمام تر مقامات پر نمایاں بورڈز لگانے کا حتمی فیصلہ کیا گیا ہے جنہیں کسی بھی ہنگامی یا جنگی صورتحال میں عوام کی حفاظت کے لیے پناہ گاہوں کے طور پر مختص کیا گیا ہے، تاکہ شہریوں کو بلا تاخیر معلوم ہو سکے کہ قریب ترین محفوظ ترین مقامات کہاں واقع ہیں۔

سٹی کونسل کے سربراہ نے مزید بتایا کہ پناہ گاہوں کی صلاحیت رکھنے والے تمام میٹرو اسٹیشنز کی فہرست اور تفصیلات سے بھی عوام کو جامع انداز میں آگاہ کیا جائے گا اور وہاں معلوماتی سائن بورڈز اور رہنمائی کے واضح انتظامات مکمل کیے جائیں گے۔

ایرانی دارالحکومت کی انتظامیہ کا یہ اہم اور تحفظاتی اقدام ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب ماضی کی جنگوں اور پرتشدد کشیدگی کے دوران تہران کے رہائشیوں نے شہر میں بم پناہ گاہوں کی شدید کمی اور موجودہ محفوظ مقامات تک رسائی کے لیے گائیڈ لائنز یا سائن بورڈز کے نہ ہونے پر گہرے تحفظات اور شکایات کا اظہار کیا تھا۔

مہدی چمران نے اس امر پر زور دیا کہ شہریوں کو ممکنہ خطرات کے دوران اپنی جانوں کے تحفظ کے لیے بروقت اور درست معلومات کی فراہمی انتہائی ضروری ہے تاکہ کسی بھی ناگہانی آفت یا فضائی حملوں کی صورت میں وہ کم سے کم وقت میں ان محفوظ پناہ گاہوں تک پہنچ سکیں۔ تہران انتظامیہ کے اس قدم سے دارالحکومت کے باشندوں کے تحفظ اور کسی بھی ہنگامی حالت میں فوری ردِعمل کی صلاحیت کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

برطانیہ کا مقبوضہ مغربی کنارے کی غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات پر پابندیاں عائد کرنے کا قومی امکان

منصور احمد,September 08,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

برطانوی حکومت مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی طور پر قائم اسرائیلی بستیوں میں تیار ہونے والی تجارتی اشیا کی خرید و فروخت اور درامد پر سخت نئی پابندیاں عائد کرنے کا باقاعدہ اعلان کرنے جا رہی ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق، برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ آج پارلیمان کے ایوانِ زیریں میں مقبوضہ علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں سے متعلق حکومت کی جانب سے تیار کردہ مجوزہ اقدامات کی تفصیلی خاکہ پیش کریں گے۔ ذرائع کے مطابق ان ممکنہ پابندیوں میں بالخصوص غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی زرعی مصنوعات کی برطانیہ میں تجارت پر مکمل بندش بھی شامل ہو سکتی ہے۔

ایڈ ملی بینڈ نے گزشتہ ہفتے اپنے اہم بیان میں کہا تھا کہ برطانوی حکومت اسرائیل کے ساتھ اپنے دوطرفہ تعلقات اور تجارتی پالیسی میں ایک جامع تبدیلی لانے کا اعلان کرے گی۔ برطانوی حکومت اس سے قبل بھی مقبوضہ بستیوں کی مسلسل توسیع کی شدید مخالفت کرتی آئی ہے، جبکہ اگست میں برطانوی وزیر خارجہ نے اسرائیل کے متنازع ای 1 سیٹلمنٹ منصوبے کو قطعی طور پر ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے متنبہ کیا تھا کہ ایسی آبادکاری دو ریاستی حل کے تمام امکانات کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔

حکومت کے اس موقف کو اس وقت مزید تقویت ملی جب 7 ستمبر کو برطانوی وزیراعظم نے امیرِ قطر سے اہم گفتگو کے دوران بھی مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی غصب شدہ زمینوں پر آبادکاری کے منصوبوں کو ناقابلِ قبول قرار دیا تھا۔

دوسری طرف اسرائیلی حکومت نے لندن کو خبردار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر برطانیہ نے اسرائیلی بستیوں کی تجارتی مصنوعات پر کسی بھی قسم کی پابندیاں لاگو کیں تو تل ابیب کی جانب سے فوری اور سخت جوابی کارروائی کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ کی جانب سے بھی ممکنہ برطانوی اقدامات کی شدید مخالفت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اسرائیل میں متعین امریکی سفیر مائیک ہکابی نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پورا یقین ہے کہ اس حساس معاملے پر واشنگٹن کی طرف سے سخت اور واضح ردِعمل سامنے آئے گا۔

برطانیہ کی جانب سے اٹھایا جانے والا یہ بڑا اقدام ایک ایسے موقع پر سامنے آ رہا ہے جب لندن کی حکومت اسرائیلی آبادکاری کی نئی پالیسی کو خطے میں پائیدار اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم پر بستیوں کی توسیع روکنے کے لیے سفارتی و معاشی دباؤ بڑھا رہی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ کا نئے سیکریٹری جنرل حسین ابراہیم طٰہٰ سے ٹیلیفونک رابطہ؛ امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کے خلاف اسلامی دنیا کے متحد ہونے پر زور

محمود احمد, September 08,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اسلامی تعاون تنظیم کے نئے سیکریٹری جنرل حسین ابراہیم طٰہٰ سے ایک اہم ٹیلیفونک گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی ممالک کو ایران کی جغرافیائی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی پر فوری اور انتہائی ذمہ دارانہ ردِعمل دینا چاہیے۔

ایرانی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق عباس عراقچی نے حسین ابراہیم طٰہٰ کو اسلامی تعاون تنظیم کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز ہونے اور سیکریٹری جنرل کی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور ان کی مستقبل کی سفارتی کاوشوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے گفتگو کے دوران اس امید کا اظہار کیا کہ نئے سیکریٹری جنرل موجودہ دباؤ اور درپیش عالمی چیلنجز سے نبٹنے کے لیے تنظیم کے پلیٹ فارم اور اسلامی دنیا کی اجتماعی صلاحیتوں کو مکمل اور مؤثر انداز میں بروئے کار لائیں گے اور تمام رکن ممالک کے مابین باہمی اتحاد، سفارتی رابطے اور کثیر الجہتی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے۔

اس اہم رابطے میں عباس عراقچی نے او آئی سی کے سیکریٹری جنرل کو خطے میں امریکی اور اسرائیلی فورسز کی جانب سے ایران کے خلاف ہونے والی مبینہ عسکری جارحیت اور اس کے بعد کی انتہائی حساس علاقائی صورتحال سے تفصیل کے ساتھ آگاہ کیا۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ کسی بھی ملک کی خودمختاری کی پامالی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال کو روکنے کے لیے اسلامی دنیا کی جانب سے ایک مربوط، متفقہ اور جرات مندانہ لائحہ عمل ناگزیر ہے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ نے موجودہ سنگین بحران کے تناظر میں اسلامی ممالک پر باہمی مشاورت کو تیز کرنے اور یکجہتی کے پیغام کو عالمی سطح پر عام کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ خطے کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔

ایران کا خلیج فارس میں ‘ممنوعہ بحری زون’ قائم کرنے کا بڑا اعلان: امریکی جنگی جہازوں اور فوجی اڈوں کے خلاف عسکری حکمتِ عملی تبدیل

محمود احمد, September 08,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری اور پاسدارانِ انقلاب کے سینئر کمانڈر میجر جنرل محسن رضائی نے خلیج فارس میں ایک بڑا عسکری و معاشی قدم اٹھاتے ہوئے سمندری ‘ممنوعہ زون’ قائم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ امریکی انتظامیہ کو حالیہ دنوں میں ایران کے جدید اور موثر میزائل تجربات کے ذریعے واضح اور دوٹوک پیغام پہنچایا جا چکا ہے، جس کے بعد تہران نے امریکی جنگی بحری جہازوں اور خطے میں قائم امریکی عسکری اڈوں کے خلاف اپنی تمام تر آپریشنل حکمتِ عملی اور پوزیشن کو بنیادی طور پر یکسر تبدیل کر دیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک خاص اور اہم بیان میں میجر جنرل محسن رضائی نے کہا کہ واشنگٹن کی جانب سے مسلط کردہ معاشی جنگ اور بحری ناکہ بندی کا موثر جواب دینے کے لیے ایران خلیج فارس کے حساس پانیوں میں ایک خصوصی ‘سمندری ممنوعہ زون’ قائم کر رہا ہے جو امریکی بحری ناکہ بندی کی آخری حدود تک پھیلا ہوا ہوگا۔

ایرانی حکام کے باضابطہ موقف کے مطابق تہران آنے والے چند دنوں کے اندر آبنائے ہرمز کے باہر اس نئے ممنوعہ اور محدود بحری زون کے حتمی جغرافیائی حدود کا باقاعدہ اعلان کرے گا۔ یہ زون امریکی بحری ناکہ بندی کی قائم کردہ لائن سے شروع ہو کر خلیج فارس کے انتہائی اہم حصوں تک محیط ہوگا، جبکہ تہران نے متنبہ کیا ہے کہ اس زون میں پیشگی اجازت کے بغیر داخل ہونے والے تمام تر تجارتی و عسکری بحری جہازوں کو ایرانی بلیک لسٹ اور سخت ترین پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا جائے گا۔

یہ سنگین اور پیش رفت سے بھرپور بیان ایک ایسے موڑ پر سامنے آیا ہے جب خطے کے سمندری محاذ پر امریکہ اور ایران کی افواج کے مابین براہِ راست اور خونریز تصادم کے خطرات ڈرامائی حد تک بڑھ چکے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا دعویٰ ہے کہ پاسدارانِ انقلاب نے حالیہ دنوں میں ایک امریکی طیارہ بردار بحری جہاز اور گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر کو نشانہ بنانے کے لیے بیلسٹک میزائل داغے تھے، تاہم پینٹاگون کے مطابق دونوں امریکی عسکری جہاز ان حملوں سے محفوظ رہے اور ان کا کوئی اہلکار زخمی نہیں ہوا، جب کہ اس کے برعکس تہران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے پہلی بار کامیابی کے ساتھ مقامی طور پر تیار کردہ اینٹی شپ میزائلوں سے امریکی بحری ہدف کو نشانہ بنایا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے ایرانی اقدامات کے جواب میں اعلان کیا ہے کہ امریکی فورسز نے ایرانی حملوں کا بدلہ لینے کے لیے تین ایرانی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا ہے اور امریکی فوج ایران کو ہر امریکی جہاز پر حملے کے بدلے تین گنا معاشی قیمت چکانے پر مجبور کرے گی۔ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز جیسے بین الاقوامی توانائی کی ترسیل کے اہم ترین راستے پر بننے والی اس شدید جنگی صورتحال، املاک کی تباہی اور ممکنہ ناکہ بندی نے عالمی منڈیوں میں تیل کی سپلائی اور بحری آمدورفت کی سلامتی پر شدید خطرات کے بادل منڈلا دیے ہیں۔

حوثی حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 73 افراد زخمی: سعودی عرب کا سخت ردِعمل، شدید مذمت

محمود احمد, September 08,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے جنوبی مملکت کے اہم شہروں ابہا، خمیس مشیط، جیزان اور نجران میں شہری آبادی اور حساس اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے سنگین واقعات کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ سعودی حکام کے مطابق ان پرتشدد اور بزدلانہ حملوں کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 73 شہری زخمی ہو گئے ہیں۔

سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اور اہم اعلامیے کے مطابق، حوثی ڈرون اور میزائل حملوں کی زد میں آ کر جنوبی سعودی عرب کے مختلف اور اہم حصوں میں واقع توانائی اور دیگر بنیادی انفراسٹرکچر کی عمارتیں متاثر ہوئی ہیں۔ سعودی حکام نے ان کارروائیوں کو خطے کے امن کے لیے ایک انتہائی خطرناک عسکری کشیدگی قرار دیتے ہوئے اپنے شہریوں، مقیم غیر ملکیوں اور قومی مفادات کی ہمہ وقت حفاظت کو یقینی بنانے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔

وزارتِ خارجہ نے اپنے تفصیلی بیان میں واضح کیا کہ حوثی ملیشیا نہ صرف زمینی اہداف بلکہ بحیرۂ احمر جیسے اہم ترین تجارتی راستے پر بھی تجارتی بحری جہازوں کو مسلسل اور منصوبہ بند طریقے سے نشانہ بنا رہی ہے، جس سے بین الاقوامی بحری آمدورفت اور آزادانہ سمندری تجارت کی سلامتی کو کھلے خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ سعودی عرب نے حوثیوں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ان مخالفانہ کارروائیوں کا سلسلہ بند کریں اور تجارت کو مفلوج کرنے سے باز رہیں۔

اعلامیے کے مطابق، ریاض حکومت یمن کے ساتھ ساتھ اپنے تمام عرب اور اسلامی ہمسایہ ممالک کی سلامتی اور پائیدار استحکام کو داؤ پر لگانے والے حوثی گروپ کے کسی بھی جارحانہ قدم کو یکسر مسترد کرتی ہے۔ بیان میں حوثیوں کی طرف سے خطے میں امن کی مسلسل کوششوں کو ناکام بنانے اور بات چیت کو معطل کرنے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔

سعودی حکومت نے عالمی برادری کو خبردار کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ مملکت کو اپنی جغرافیائی خودمختاری کے تحفظ، قومی وسائل کی سلامتی اور ملک میں موجود تمام شہریوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اور تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا پورا آئینی و بین الاقوامی حق حاصل ہے۔ ریاض نے باور کرایا کہ اپنی سرزمین پر حملوں کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس طرح کی کارروائیوں کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے بھی فوری طور پر اپنی ذمہ داریاں نبھانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

وفاقی حکومت میں بھرتیوں کا نظام جدید اور شفاف بنانے کی منظوری: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اصلاحاتی رپورٹ منظور کر لی

کاشف عباسی , September 07,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وفاقی حکومت میں سرکاری ملازمین کی بھرتی کے موجودہ نظام میں اصلاحات لانے اور ‘نیشنل جاب پورٹل’ کو مزید جامع و مؤثر بنانے کے لیے قائم کردہ اعلیٰ سطحی کمیٹی کا دوسرا اور حتمی اجلاس منعقد ہوا ہے۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق، اس اہم اجلاس میں کمیٹی کی طرف سے وفاقی وزارتی و انتظامی محکموں میں بھرتیوں کے نظام کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور پورٹل کی تکنیکی صلاحیت کو مضبوط بنانے پر مبنی تفصیلی کام کا جائزہ لیا گیا۔ نائب وزیراعظم نے کمیٹی کی کارکردگی اور تجاویز کو سراہتے ہوئے حتمی رپورٹ کی منظوری دے دی۔

اس موقع پر اسحاق ڈار نے ہدایت کی کہ اجلاس کے دوران جن اہم تکنیکی و انتظامی امور پر غور و خوض کیا گیا، ان تمام قیمتی تجاویز کو بھی رپورٹ کا حصہ بنایا جائے تاکہ منظوری کے لیے حتمی مسودہ فوری طور پر وزیراعظم پاکستان کو پیش کیا جا سکے۔

نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان مجوزہ اصلاحات کا بنیادی مقصد وفاقی حکومت میں بھرتی کے عمل کو مکمل شفاف، میرٹ پر مبنی، تیز رفتار اور جدید ترین ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ بنانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان تمام تر اصلاحات کے باوجود بھرتیوں کا حتمی اختیار حکومت کے پاس ہی برقرار رہے گا، تاہم تمام تر نظام کو جدید ڈیجیٹل سہولیات سے لیس کر کے زیادہ باصلاحیت اور فعال بنایا جائے گا۔

اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق باجوہ، وفاقی سیکرٹری کابینہ، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے اعلیٰ حکام اور دیگر متعلقہ وزراتوں و اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

پاکستان اور کویت کا دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے کا عزم: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی کویتی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو

منصور احمد,September 07,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح سے ایک انتہائی اہم اور تفصیلی ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے، جس میں دونوں برادر ممالک کے مابین مختلف شعبوں میں کثیر الجہتی تعاون کو وسعت دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترجمان دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق، دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی اس اہم گفتگو میں پاکستان اور کویت کے تاریخی دوطرفہ تعلقات، تجارتی و معاشی شراکت داری، اور باہمی دلچسپی کے دیگر اہم شعبوں میں جاری پیش رفت کا جامع جائزہ لیا گیا۔

گفتگو کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سیکیورٹی، خطے کی تازہ ترین صورتحال اور عالمی سطح پر ہونے والی اہم سیاسی و سفارتی پیش رفتوں کے حوالے سے اپنے خیالات اور مواقف کا تبادلہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں پائیدار امن، استحکام اور سلامتی کے فروغ کے لیے باہمی مشاورت کے عمل کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

اس موقع پر اسحاق ڈار اور شیخ جراح جابر الاحمد الصباح نے اعلیٰ سطح پر سفارتی رابطوں اور تعمیری مشاورت کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا، جبکہ رواں ماہ نیویارک میں منعقد ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر ایک باقاعدہ دوطرفہ تفصیلی ملاقات کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان یہ حالیہ رابطہ پاکستان اور کویت کے درمیان دہائیوں پر محیط قریبی برادرانہ تعلقات، پائیدار اعتماد اور دوطرفہ تعاون کو ایک نئی بلندی پر لے جانے کے مشترکہ عزم کا واضح مظہر ہے۔

جنوبی لبنان پر اسرائیلی فضائی حملے: بچوں اور طبی عملے کے اہلکار سمیت 12 افراد ہلاک، متعدد زخمی

محمود احمد, September 07,2026

بیروت (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

جنوبی لبنان کے تاریخی اور گنجان آباد قصبے کفر رمان پر اسرائیلی جیٹ طیاروں کی شدید بمباری کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جن میں دو بچے، چار خواتین اور امدادی کاموں میں مصروف ایک طبی اہلکار بھی شامل ہے۔

لبنان کی وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق نبطیہ کے قریب کفر رمان میں ایک کثیر المنزلہ رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 11 افراد موقع پر دم توڑ گئے جبکہ 8 شدید زخمی ہوئے، جن میں تین معصوم بچے اور ایک طبی امدادی کارکن شامل ہے۔ اس حملے کے فوراً بعد ایک اور کارروائی کے دوران سڑک پر جاتی ہوئی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس میں مزید ایک طبی اہلکار ہلاک اور دو افراد زخمی ہو گئے۔

اسرائیلی عسکری حکام نے فضائی کارروائیوں کی تصدیق کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے متعدد خفیہ اور متحرک ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسرائیلی عسکری ترجمان کے مطابق یہ شدید کارروائیاں اسرائیلی فوجیوں پر حزب اللہ کی جانب سے بارود سے لدے دو ڈرون بھیجے جانے کے فوری جواب میں کی گئیں تاکہ درپیش خطرات کا خاتمہ کیا جا سکے۔

یہ خونریز فضائی حملے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب جنوبی لبنان میں رواں سال جون میں طے پانے والے نازک جنگ بندی معاہدے کے باوجود سرحدی کشیدگی روز بروز سنگین صورتحال اختیار کرتی جا رہی ہے۔ لبنانی صدر جوزف عون نے اسرائیلی بمباری کو خطرناک ترین عسکری پیش رفت قرار دیتے ہوئے امریکہ اور بین الاقوامی برادری سے فوری مداخلت اور سفارتی اقدامات کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔

لبنانی حکومت نے اسرائیل پر جنگ بندی کے معاہدے کی متواتر خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ اسرائیل ان کارروائیوں کو اپنا دفاعی حق قرار دے رہا ہے۔ سرحد پر بڑھتی ہوئی مسلسل پرتشدد کارروائیوں نے خطے میں ایک نئی، مکمل اور وسیع تر جنگ کے خدشات کو انتہائی شدید کر دیا ہے۔

امریکہ اور ایران جنگ کے اثرات سے معیشت کو بچانے کے لیے اقدامات جاری؛ آبنائے ہرمز پر انحصار ختم کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے پر کام تیز

محمود احمد, September 07,2026

ابوظہبی (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انور قرقاش نے کہا ہے کہ ان کا ملک توانائی کی برآمدات، عالمی تجارت اور ملکی معاشی سرگرمیوں کو امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے منفی اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر متبادل راستے اور جدید بنیادی ڈھانچہ تیار کر رہا ہے۔

انور قرقاش نے ابوظہبی میں انعقاد پذیر ہِلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے انتہائی واضح اور سخت الفاظ میں کہا کہ متحدہ عرب امارات کی توانائی کی عالمی برآمدات اور بنیادی تجارتی و معاشی سرگرمیوں کو علاقائی کشیدگی، بدامنی یا جنگی حالات کے باعث کسی بھی صورت یرغمال نہیں بنایا جا سکتا۔

صدارتی مشیر نے اپنے خطاب میں تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ متحدہ عرب امارات اپنی مشرقی ساحلی پٹی پر واقع بندرگاہوں کی مجموعی استعداد کار میں غیر معمولی اضافہ کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پائپ لائنز، ریلوے نیٹ ورک اور نئے تجارتی راستوں کو بھی تیزی سے وسعت دی جا رہی ہے تاکہ توانائی کی منتقلی اور عالمی تجارت کے لیے ہر وقت آبنائے ہرمز کے متبادل راستے باآسانی دستیاب رہیں۔

ایران کے ساتھ مستقبل کے سفارتی تعلقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انور قرقاش نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک فعال تعلق دوبارہ قائم تو کیا جا سکتا ہے، تاہم حالیہ عسکری حملوں اور پرتشدد واقعات کے بعد باہمی اعتماد کی مکمل بحالی میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔

انہوں نے خلیجی عرب ریاستوں کی مجموعی پالیسی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے درپیش سلامتی کے خطرے کے بارے میں اگرچہ خلیجی ممالک کے مابین عمومی اتفاقِ رائے موجود تھا، لیکن اس کے باوجود ایک مشترکہ، مضبوط اور مربوط عسکری و معاشی حکمتِ عملی اختیار کرنے میں خلیجی ریاستیں مطلوبہ حد تک کامیاب نہیں ہو سکیں۔

انور قرقاش کے مطابق موجودہ نازک صورتحال نے خلیجی ممالک کو اپنی سلامتی، بقا اور معاشی سرگرمیوں کے تحفظ کے لیے مزید خود انحصاری اور متبادل ذرائع پیدا کرنے کا شدید احساس دلایا ہے۔ واضح رہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری شدید کشیدگی نے پہلے ہی عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل اور تیل کی بین الاقوامی منڈیوں پر گہرا دباؤ بڑھا رکھا ہے۔

یمن میں لڑائی میں ایک بار پھر شدید تپش: حوثیوں کا سعودی عرب پر فضائی حملوں اور کروز میزائل کارروائیوں کا بڑا الزام

محمود احمد, September 07,2026

صنعا (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

یمن کے حوثی باغی گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے یمن کے متعدد صوبوں میں شدید فضائی حملے کیے ہیں اور کروز میزائلوں سے مختلف اہم اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ حوثیوں کے زیرِ انتظام کام کرنے والی سرکاری خبر رساں ایجنسی صبا کے مطابق ان تازہ فضائی اور میزائل حملوں کے دوران صوبہ الجوف، البیضا، مأرب اور تعز کے متعدد حساس مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے جس سے علاقے میں شدید کشیدگی پھیل گئی ہے۔

حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب پر ان شدید حملوں کا یہ دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن میں زمینی جنگ ایک بار پھر انتہائی خونریز اور شدت اختیار کر گئی ہے۔ حوثی جنگجو اس وقت بین الاقوامی بحری تجارت کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل آبنائے باب المندب سے متصل اہم اور تزویراتی علاقوں کی جانب تیزی سے پیش قدمی کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں جہاں انہیں شدید مقاومت کا سامنا ہے۔

موصولہ رپورٹوں کے مطابق گزشتہ چند روز سے حوثی جنگجوؤں اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی باقاعدہ مسلح افواج کے درمیان گھمسان کا معرکہ جاری ہے۔ ان جھڑپوں میں اب تک دونوں جانب سے بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ واضح رہے کہ یمنی حکومتی فورسز کو سعودی عرب کی مکمل سفارتی و عسکری حمایت حاصل ہے جبکہ خود کو انصار اللہ کہلوانے والے حوثی گروپ کو ایران کا قریبی اتحادی تصور کیا جاتا ہے۔

اس وقت حوثی گروپ دارالحکومت صنعا سمیت شمالی یمن کے تمام وسیع و عریض علاقوں پر قابض ہے، جبکہ یمنی حکومت کے حامی دستے ملک کے جنوبی اور مشرقی حصوں سمیت اہم ساحلی اور بندرگاہی علاقوں کا کنٹرول سنبھالے ہوئے ہیں۔ حالیہ لڑائی کا مرکزی نقطہ تعز، الحدیدہ کے مغربی اضلاع اور المَخا کے اطراف کا خطہ ہے، جو باب المندب کی اہم سمندری گزرگاہ تک براہِ راست رسائی فراہم کرتا ہے۔ یمنی حکومتی فورسز نے بھی حوثی ٹھکانوں پر جوابی کارروائیاں کرتے ہوئے بعض اہم علاقوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

اس تمام تر جنگی صورتحال کے پیشِ نظر حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف جوابی سمندری ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے سعودی تیل بردار جہازوں اور ان کی نقل و حمل کو نشانہ بنانے کی کھلی دھمکیاں بھی دی ہیں۔ چونکہ آبنائے باب المندب دنیا بھر کی تیل اور تجارتی ترسیل کی اہم ترین شاہراہ ہے، اس لیے اس خطے میں جنگ کے پھیلنے سے عالمی جہاز رانی اور توانائی کے منڈیوں میں شدید بحران پیدا ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ فی الوقت سعودی حکام نے حوثیوں کے ان تازہ الزمات پر کوئی باقاعدہ تبصرہ یا آزادانہ تصدیق جاری نہیں کی ہے۔

فاسٹ بولر محمد عباس کا لارڈز کے میدان پر تاریخی کارنامہ: سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم کا 25 سالہ ریکارڈ توڑ دیا

محمود احمد, September 07,2026

ندن (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

پاکستان کے 36 سالہ تجربہ کار فاسٹ بولر محمد عباس نے کرکٹ کے قبلہ اول کہلائے جانے والے تاریخی میدان لارڈز میں اپنی جادوئی اور بے مثال سوئنگ بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک نیا قومی ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ محمد عباس نے لارڈز گراؤنڈ پر سب سے زیادہ ٹیسٹ وکٹیں حاصل کرنے والے پاکستانی بولرز کی فہرست میں سابق کپتان اور سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم کا سالوں پرانا قائم کردہ تاریخی ریکارڈ باضابطہ طور پر پاش پاش کر دیا ہے۔ اس شاندار کارکردگی نے دنیا بھر میں موجود کرکٹ کے شائقین اور ماہرین کی توجہ ایک بار پھر اپنی طرف مبذول کروا لی ہے۔

سرکاری و بین الاقوامی اعداد و شمار کے مطابق محمد عباس نے لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں اب تک مجموعی طور پر صرف 4 ٹیسٹ اننگز میں انتہائی قلیل اور حیران کن 11.41 کی بولنگ اوسط کا مظاہرہ کرتے ہوئے 17 وکٹیں اپنے نام کی ہیں۔ اس شاندار کامیابی اور وکٹوں کی مجموعی تعداد کے ساتھ ہی محمد عباس اب لارڈز کے تاریخی ہوم گراؤنڈ پر سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے پاکستانی فاسٹ بولرز کی فہرست میں اپنے دور کے عظیم بولر وقار یونس کے ساتھ مشترکہ طور پر دوسرے نمبر پر آ گئے ہیں، جو کہ پاکستان کرکٹ کی تاریخ کا ایک انتہائی اہم اور روشن باب ہے۔

اگر لارڈز کے میدان پر پاکستانی بولرز کے مجموعی اعداد و شمار اور تاریخی ریکارڈز پر نظر ڈالی جائے تو اس میدان پر پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ ٹیسٹ وکٹیں حاصل کرنے کا ریکارڈ سابق فاسٹ بولر محمد عامر کے پاس محفوظ ہے، جنہوں نے 7 ٹیسٹ اننگز میں 18 وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں۔ فہرست میں دوسرے نمبر پر سابق برق رفتار بولر وقار یونس موجود ہیں جنہوں نے 5 اننگز میں 17 وکٹیں حاصل کیں، اور اب محمد عباس نے صرف 4 اننگز میں 17 وکٹیں لے کر وقار یونس کی برابری کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔

اس فہرست میں دوسرے اور تیسرے درجے پر موجود سابق کھلاڑیوں کی بات کی جائے تو اس سے قبل سوئنگ کے سلطان اور سابق قومی کپتان وسیم اکرم نے لارڈز کی 6 اننگز میں مجموعی طور پر 12 وکٹیں حاصل کی تھیں، جنہیں اب محمد عباس نے اپنی شاندار بولنگ کے ذریعے پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ وسیم اکرم جیسے عظیم کھلاڑی کے ریکارڈ کو توڑنا کسی بھی جدید دور کے بولر کے لیے ایک ناقابلِ فراموش اور شاندار اعزاز تسلیم کیا جاتا ہے۔ مزید برآں، پاکستان کے سابق عالمی شہرت یافتہ لیگ اسپنر مشتاق احمد بھی اس فہرست میں اہم مقام رکھتے ہیں جنہوں نے 4 اننگز میں 11 وکٹیں اپنے نام کر رکھی ہیں۔

محمد عباس نے حال ہی میں انگلینڈ کے خلاف کھیلے گئے دوسرے لارڈز ٹیسٹ میچ میں اپنی اعلیٰ ترین بولنگ کی مہارت کا شاندار مظاہرہ کیا

سابق وفاقی وزیر حماد اظہر کی گرفتاری کی باضابطہ تصدیق: 18 مقدمات میں مطلوب اور روپوش تھے، لاہور پولیس

کاشف عباسی , September 07,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

لاہور پولیس نے پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اور سابق وفاقی وزیر حماد اظہر کی ملتان سے گرفتاری کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ مختلف قانونی کیسز میں پولیس کو اشتہاری ملزم کے طور پر 18 مقدمات میں درکار تھے۔

ترجمان لاہور پولیس کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، حماد اظہر گزشتہ تقریباً تین سال سے روپوش اور روپوشی کی حالت میں تھے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تمام تر ضروری سیکیورٹی و قانونی ضوابط کی تکمیل کے بعد انہیں جلد از جلد مجاز عدالت میں پیش کیا جائے گا، جہاں تفتیشی ٹیمیں باقاعدہ تفتیش کی غرض سے ان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کی استدعا کریں گی۔

سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ حماد اظہر کو گزشتہ روز ایک کارروائی کے دوران ملتان سے حراست میں لیا گیا تھا، جس کے بعد انہیں فوری طور پر لاہور پولیس کی تحویل میں منتقل کر دیا گیا۔ ان کے خلاف 9 مئی 2023ء کے پرتشدد واقعات، امن و امان کی خرابی اور دیگر سنگین دفعات کے تحت قانونی کارروائیاں زیرِ التواء ہیں۔

دوسری جانب، پاکستان تحریک انصاف نے اس ہائی پروفائل گرفتاری کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے محض “سیاسی انتقام” کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔ پارٹی کے پہلے دعوے پر ابتدائی طور پر پولیس حکام کی جانب سے فوری ردِعمل سامنے نہیں آیا تھا، تاہم بعد ازاں لاہور پولیس نے ان کی گرفتاری کا باقاعدہ اعلان کر دیا۔

عدالتی ذرائع کے مطابق، مختلف احتساب و انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں کی جانب سے عدم پیشی پر ان کے دائمی وارنٹِ گرفتاری جاری کیے جا چکے تھے۔ ادھر، حماد اظہر کی والدہ نے ان کی بازیابی اور تحفظ کی ضمانت کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے بھی رجوع کر رکھا ہے۔

یو ایس اوپن ٹینس: ٹاپ سیڈ ہیلیواارا اور ہنری پیٹن کی جوڑی مینز ڈبلز کے پری کوارٹر فائنل میں داخل

محمود احمد, September 07,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

فن لینڈ کے نامور ٹینس سٹار ہیری ہیلیواارا اور انگلینڈ کے ہنری پیٹن پر مشتمل ٹاپ سیڈ جوڑی نے سال کے چوتھے اور آخری گرینڈ سلام یو ایس اوپن ٹینس ٹورنامنٹ کے مینز ڈبلز مقابلوں کے پری کوارٹر فائنل (ٹاپ 16 مرحلے) میں باآسانی جگہ بنا لی ہے۔

امریکی شہر نیویارک میں جاری عالمی ایونٹ کے دوسرے راؤنڈ کے اہم میچ میں فن لینڈ اور انگلینڈ کی جوڑی نے شاندار فنکارانہ کھیل اور اعلیٰ ہم آہنگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اٹلی کے میتھیو آرنلڈی اور جرمنی کے جان لینارڈ سٹرف کی جوڑی کو سیدھے سیٹوں میں 5-7 اور 2-6 سے مات دے کر ایونٹ سے باہر کر دیا۔

ٹورنامنٹ کے باضابطہ ریکارڈ کے مطابق ہیری ہیلیواارا اور ہنری پیٹن کو اس میگا ایونٹ کے مینز ڈبلز زمرے میں پہلی سیڈ حاصل ہے۔ رواں سال دونوں کھلاڑی انتہائی شاندار فارم میں ہیں اور حال ہی میں ومبلڈن ٹائٹل اپنے نام کرنے کے بعد اب مسلسل دوسری گرینڈ سلام ٹرافی اٹھانے کے لیے پرعزم ہیں۔

نیویارک کے ہارڈ کورٹس پر کھیلے جا رہے اس عالمی میگا ایونٹ میں دنیا بھر کے نامور کھلاڑی ٹائٹل کی جنگ لڑ رہے ہیں، جہاں ہیلیواارا اور پیٹن کی پیش قدمی سے ایونٹ میں ان کی پوزیشن مزید مضبوط ہو گئی ہے۔

انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان تیسرا اور آخری ٹیسٹ 9 ستمبر سے برمنگھم میں ہوگا

محمود احمد, September 07,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

انگلینڈ اور پاکستان کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان جاری تین ٹیسٹ میچوں پر مشتمل تاریخی سیریز کا تیسرا اور آخری میچ 9 سے 13 ستمبر تک ایجبسٹن، برمنگھم میں کھیلا جائے گا۔

میزبان انگلینڈ نے ابتدائی دونوں ٹیسٹ میچوں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیریز میں 2-0 کی فیصلہ کن اور ناقابلِ شکست برتری حاصل کر رکھی ہے۔ انگلینڈ نے لیڈز میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں پاکستان کو ایک اننگز اور 103 رنز کے بھاری مارجن سے شکست دی تھی، جبکہ لارڈز کے تاریخی میدان پر کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میں بھی میزبان ٹیم نے 194 رنز سے کامیابی حاصل کی۔

پاکستانی ٹیم نے اس ٹیسٹ سیریز کے باقاعدہ آغاز سے قبل انگلینڈ کی کاؤنٹی کرکٹرز پر مشتمل سلیکٹ الیون کے خلاف تین روزہ مشقی میچ میں 7 وکٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی، تاہم وہ اس فارم کو اہم ٹیسٹ میچوں میں برقرار رکھنے میں ناکام رہی۔

سلسلے کا آخری معرکہ بدھ 9 ستمبر سے ایجبسٹن میں شروع ہو رہا ہے جو 13 ستمبر تک جاری رہے گا۔ یہ اہم میچ مقامي وقت کے مطابق صبح 11 بجے شروع ہوگا۔ انگلش ٹیم کی قیادت جو روٹ کر رہے ہیں اور میزبان کرکٹ بورڈ نے آخری معرکے کے لیے 15 رکنی حتمی ڈریسنگ روم کا اعلان کر دیا ہے جہاں ان کی نظریں مکمل کلین سویپ پر مرکوز ہیں۔

دوسری جانب مسلسل دو شکستوں کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے قومی ٹیم کی کوچنگ کی کمان سرفراز احمد سے لے کر مائیک ہیسن کے سپرد کر دی ہے، جبکہ ٹیم میں بھی متعدد تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ قومی ٹیم اخری میچ میں فتح حاصل کر کے سیریز کا اختتام مثبت انداز میں کرنے کے لیے پرعزم ہے۔