خیبر پختونخوا میں امن و امان کے قیام کے لیے پولیس کی قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں؛ شہدا کے اہل خانہ کی فلاح و بہبود اور فورس کی استعداد کار کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رہے گا

کاشف عباسی , August 04,2026

سوات (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر و گلگت بلتستان اور پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا کے صدر انجینئر امیر مقام نے یومِ شہدائے پولیس کے موقع پر پولیس لائن سوات میں واقع یادگارِ شہدا کا خاص دورہ کیا، جہاں انہوں نے وطنِ عزیز کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شجاع شہدا کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا، یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور ان کے بلندیِ درجات کے لیے فاتحہ خوانی کی۔

اس موقع پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) سوات سمیت پولیس کے دیگر اعلیٰ و سینئر افسران بھی موجود تھے۔ ڈی پی او سوات نے وفاقی وزیر کو ضلع سوات میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، سیکیورٹی انتظامات اور پولیس فورس کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔

وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے پولیس کے شہدا کی بے مثال قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک میں امن و استحکام اور قانون کی حاکمیت کے قیام کے لیے پولیس فورس کی خدمات اور عظیم قربانیاں تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی اور انہیں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت شہدا کے غمیزدہ اہل خانہ کی فلاح و بہبود اور پولیس فورس کی پیشہ ورانہ استعداد کار میں اضافے کے لیے ہر ممکن تعاون اور وسائل کی فراہمی جاری رکھے گی۔

تقریب میں سابق صوبائی وزیر و ن لیگ سوات ڈویژن کے صدر واجد علی خان، سابق صوبائی وزیر و سیکرٹری جنرل محمد علی شاہ خان، ضلعی صدر قوی خان، سٹی مینگورہ صدر حاجی عمران خان، سیکرٹری جنرل نور خان، وزیراعظم یوتھ کوآرڈینیٹر سید صادق عزیز باچا، سابق رکن صوبائی اسمبلی فضل اللہ خان سمیت مسلم لیگ (ن) کے متعدد مرکزی و مقامی عہدیداران اور ذمہ داران بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن نے لاء ایڈمیشن ٹیسٹ کے نتائج کا اعلان کر دیا

روزینہ اسماعیل, August 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے لاء ایڈمیشن ٹیسٹ کے نتائج کا باضابطہ طور پر اعلان کر دیا ہے۔ ملک بھر سے ٹیسٹ میں شریک ہونے والے امیدوار اب ایچ ای سی کی ایجوکیشن ٹیسٹنگ کونسل (ای ٹی سی) کے آن لائن پورٹل کے ذریعے اپنے نتائج کا جائزہ لے سکتے ہیں۔

ایچ ای سی کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق تمام امیدوار اپنے رجسٹرڈ اکاؤنٹ کے ذریعے ای ٹی سی پورٹل پر لاگ ان کر کے اپنا نتیجہ اور اسکور کارڈ حاصل کر سکتے ہیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے تمام متعلقہ امیدواروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ نتائج اور دیگر تمام ضروری تفصیلات کے لیے محض ای ٹی سی کے آفیشل پورٹل پر رجوع کریں اور وہاں فراہم کردہ ہدایات کے مطابق اگلا مرحلہ مکمل کریں۔

پی ایس ڈی پی کے تحت پاکستان ٹیلی ویژن کی ری ویمپنگ اور ماسٹر کنٹرول رومز کو جدید بنانے پر اتفاق؛ گلگت بلتستان میں عالمی کھیلوں کے مقابلوں کی لائیو کوریج کے لیے مقامی براڈکاسٹنگ انفراسٹرکچر قائم کیا جائے گا

محمود احمد, August 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی، جس میں پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کی ری ویمپنگ اور اسے جدید تکنیکی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے منصوبے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پی ٹی وی کی اصلاحات اور ری ویمپنگ کے اس اہم منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے پی ایس ڈی پی کے تحت وزارتِ منصوبہ بندی کے مکمل تعاون کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ گلگت بلتستان جیسے اہمیت کے حامل خطے میں بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں کی براہِ راست (لائیو) نشریات کے لیے مقامی براڈکاسٹنگ انفراسٹرکچر کی اشد ضرورت ہے۔ اس وقت وہاں او بی وینز اسلام آباد سے بھیجنا پڑتی ہیں، جس کے باعث نہ صرف مالی اخراجات بڑھتے ہیں بلکہ شدید انتظامی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ پی ٹی وی کے ماسٹر کنٹرول رومز کو جدید ترین ٹیکنالوجی پر منتقل کرنا وقت کا تقاضا ہے تاکہ ہمارا قومی نشریاتی ادارہ عالمی معیار کے مطابق براڈکاسٹنگ کی سہولیات مہیا کر سکے۔

اس موقع پر وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال نے اپنے مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ پاکستان ٹیلی وژن ہمارا عظیم قومی اثاثہ ہے اور وفاقی حکومت اس ادارے کی بحالی اور اسے جدید سہولتوں سے آراستہ کرنے کے لیے تمام ممکنہ وسائل فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی وی نے ہمیشہ قومی شناخت، ثقافتی اقدار اور قومی وحدت و یکجہتی کے فروغ میں تاریخی اور کلیدی کردار ادا کیا ہے، لہٰذا اس ادارے کو جدید خطوط پر استوار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ملاقات کے اختتام پر پی ٹی وی کی مجموعی استعداد کار بڑھانے، براڈکاسٹنگ انفراسٹرکچر کی ڈرامائی بہتری اور قومی نشریاتی نظام کو جدید ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے کے لیے وزارتِ منصوبہ بندی اور وزارتِ اطلاعات کے درمیان قریبی باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے پر کامل اتفاق کیا گیا۔

بھارت میں اقلیتوں کی صورتحال پر تشویش: انتہا پسندانہ اقدامات اور مذہبی آزادی پر سوالات

منصور احمد, August 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

بھارت میں اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے انتہا پسندانہ اقدامات اور مذہبی آزادی کی مجموعی صورتحال پر ایک بار پھر عالمی و علاقائی سطح پر شدید سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔ ہندوتوا نظریے کو فروغ دینے والے متعدد عناصر کی جانب سے مسلمانوں کے مذہبی تشخص، تاریخی عبادت گاہوں اور مقدسات کو مسلسل نشانہ بنانے کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی متعدد ویڈیوز اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی ریاست اتراکھنڈ میں انتہا پسند ہندو تنظیم ‘بجرنگ دل’ کے کارکنوں نے مسلمانوں کی قدیم قبروں اور ایک تاریخی مزار کو شدید نقصان پہنچایا۔ اس کارروائی کے بعد متعدد انتہا پسندوں کی جانب سے جشن منانے کی مناظر بھی سامنے آئے، جبکہ اس مجرمانہ اقدام کو مبینہ طور پر ‘لینڈ جہاد’ کا بے بنیاد نام دے کر جواز فراہم کرنے کی کوشش کی گئی۔

اسی طرح کا ایک اور افسوسناک واقعہ بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے علاقے منڈاولی میں بھی سامنے آیا، جہاں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز کے مطابق ایک انتہا پسند گروپ کے سواروں نے مقامی مسلمانوں کو ان کی باقاعدہ نمازِ باجماعت کی ادائیگی سے زبردستی روکنے کی کوشش کی اور اشتعال انگیزی پھیلائی۔

تجزیہ کاروں اور معاشی و سیاسی مبصرین کے مطابق بھارت میں اقلیتوں، بالخصوص مسلم برادری کے خلاف تواتر کے ساتھ رونما ہونے والے یہ واقعات خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور سیکولر ریاست قرار دینے والے بھارتی دعوؤں اور بنیادی مذہبی آزادی کے اصولوں کا پول کھول رہے ہیں۔ انسانی حقوق کے عالمی و مقامی فعال کارکنوں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ تمام اقلیتوں کے مذہبی مقامات، عبادت کے بنیادی حق اور جان و مال کا تحفظ ہر مہذب ریاست کی آئینی و قانونی ذمہ داری ہے، جس میں بھارتی حکومت مکمل طور پر ناکام دکھائی دے رہی ہے۔

مظفرآباد انتخابی بے ضابطگیاں: سینیٹر شیری رحمان کا سخت ردعمل، الیکشن کمیشن سے فوری نوٹس کا مطالبہ

منصور احمد, August 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر اور سینیٹر شیری رحمان نے آزاد کشمیر انتخابات کے دوران مظفرآباد کے حلقہ ایل اے 27 اور یونین کونسل بھیری میں ہونے والی مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں اور دھاندلی پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان اور آزاد کشمیر کے الیکشن حکام سے فوری اور سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اپنے ایک باضابطہ اور اہم مذمتی بیان میں سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے روایتی اور مضبوط حلقوں میں مسلم لیگ (ن) ایک بار پھر انتخابی عمل کو متنازع، غیر شفاف اور مجروح کرنے کی مذموم کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ حلقہ ایل اے 27 میں سرکاری پولنگ عملہ بیلٹ پیپرز اور دیگر انتخابی مواد سمیت مسلم لیگ (ن) کے ایک مقامی حامی کے گھر سے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ہے، جو کہ انتخابی اصولوں کی شدید ترین خلاف ورزی ہے۔

شیری رحمان کا کہنا تھا کہ سرکاری انتخابی عملے کی کسی نجی گھر میں موجودگی اور وہاں بیلٹ پیپرز پر زبردستی ٹھپے لگانے کی موصول ہونے والی اطلاعات انتہائی تشویشناک اور قابلِ مذمت ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے کی جانے والی اس ننگی دھاندلی اور بے ضابطگیوں سے متعلق تمام تر ویڈیو شواہد اور ثبوت الیکشن حکام اور متعلقہ اداروں کے حوالے کر دیے گئے ہیں تاکہ حقیقت سچائی کے ساتھ سامنے آ سکے۔

انہوں نے مزید زور دے کر کہا کہ الیکشن کمیشن فوری طور پر انتظامی اور قانونی کارروائی عمل میں لاتے ہوئے عوام کا انتخابی عمل پر متزلزل ہوتا اعتماد بحال کرے۔ شیری رحمان کے مطابق اس نوعیت کے افسوسناک واقعات انتخابی شفافیت، الیکشن کی غیر جانبداری اور تمام متعلقہ اداروں کی ساکھ پر سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کا فوری ازخود نوٹس لیں اور ایک آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور اعلیٰ سطحی شفاف تحقیقات کو یقینی بنائیں۔

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں مصنوعی ذہانت پر تربیتی نشست کا انعقاد: طلبہ کی غیر معمولی دلچسپی

روزینہ اسماعیل, August 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اگست 2026ء

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے طلبہ ترقی و تقرری مرکز (اسٹوڈنٹ ڈویلپمنٹ اینڈ پلیسمنٹ سینٹر) کے زیرِ اہتمام مصنوعی ذہانت (AI) کے جدید تقاضوں پر مبنی آن لائن تربیتی نشست کا انعقاد کیا گیا، جس میں یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات نے غیر معمولی اور والہانہ دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ اس خصوصی ورکشاپ کے لیے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے 293 طلبہ نے رجسٹریشن کروائی، جبکہ 116 طلبہ نے براہِ راست آن لائن سیشن میں مکمل طور پر شرکت کی۔

ورکشاپ کے دوران معروف کمپنی گوگل کے ماہر محمد عمر نذیر نے کلیدی سپیکر کے طور پر شرکت کی۔ انہوں نے شرکاء کو ‘گوگل ڈویلپر گروپس’ اور یونیورسٹی کیمپس میں قائم ‘گوگل ڈویلپر گروپس آن کیمپس’ کے آپریشنز اور فوائد کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ ان عالمی سطح کے پلیٹ فارمز سے متحرک طور پر وابستہ ہو کر اپنی فنی صلاحیتوں کو جلا بخشیں، مشترکہ طور پر جدید ٹیکنالوجی پروژیکٹس پر کام کریں، اپنے پیشہ ورانہ نیٹ ورک کو وسعت دیں اور موجودہ صنعتی تقاضوں سے خود کو ہم آہنگ کریں۔

نشست کے آخری مرحلے میں ایک فکر انگیز سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا جس میں طلبہ نے اپنے اپنے مخصوص تعلیمی شعبہ جات میں مصنوعی ذہانت کے عملی اطلاق سے متعلق سوالات کیے۔ محمد عمر نذیر نے ان کے جوابات دیتے ہوئے اس بات پر روشنی ڈالی کہ مصنوعی ذہانت اب صرف کمپیوٹر سائنس کے شعبے تک محدود نہیں رہی بلکہ نفسیات کے طلبہ اسے طبی و روئیاتی تحقیق میں، شعبہ صحت کے ماہرین بیماریاں کی تشخیص میں اور لاجسٹکس کے ادارے اپنے انتظامی امور کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کلیدی، اسٹریٹجک اور اہم فیصلوں میں انسانی سوچ اور نگرانی ہمیشہ ناگزیر رہے گی۔

ورکشاپ کے اختتام پر اسٹوڈنٹ ڈویلپمنٹ اینڈ پلیسمنٹ سینٹر کے انچارج ڈاکٹر عارف سلیم نے مہمانِ خصوصی محمد عمر نذیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس سیشن نے طلبہ کو مصنوعی ذہانت کے عملی فوائد اور ڈیجیٹل مہارتوں سے مستفید ہونے کا شاندار موقع فراہم کیا ہے۔ انہوں نے مستقبل میں گوگل کے ساتھ آن کیمپس مزید تربیتی پروگرامز کے انعقاد کی خواہش ظاہر کی اور کہا کہ ایسی سرگرمیاں طلبہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو عالمی منڈی کے معائیر کے مطابق ڈھالنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

آزاد کشمیر انتخابات: میرپور کے بعد مظفرآباد اور پنجاب کی تمام مہاجرین نشستوں پر ن لیگ کی فتح، مریم اورنگزیب کا کشمیری عوام کا شکریہ

منصور احمد, August 03,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اگست 2026ء

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات اور پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں میرپور ڈویژن کے بعد مظفرآباد ڈویژن اور پنجاب میں مقیم مہاجرین کی نشستوں پر پارٹی کی شاندار کامیابی پر کشمیری عوام کا تہِ دل سے شکریہ ادا کیا ہے۔ اپنے ایک خصصی بیان میں انہوں نے کہا کہ عوام نے ووٹ کی طاقت کے ذریعے قائد مسلم لیگ (ن) محمد نواز شریف کے بیانیے اور جماعت کی بے مثال کارکردگی پر اپنے کامل اعتماد کا اظہار کر دیا ہے۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ وہ میرپور کے بعد مظفرآباد ڈویژن کے عوام کی بے حد شکر گزار ہیں جنہوں نے کسی قسم کے دباؤ، دھمکی یا جھوٹے پروپیگنڈے میں آئے بغیر اپنے ووٹ کے آئینی اور جمہوری حق کو استعمال کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے حق میں اپنا فیصلہ سنایا ہے۔ انہوں نے بالخصوص نشاندہی کی کہ پنجاب میں آزاد کشمیر کے مہاجرین کی تمام کی تمام 10 نشستوں پر مسلم لیگ (ن) کی تاریخی کامیابی وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی انتھک محنت، بہترین کارکردگی اور روز مرہ عوامی خدمت کے مشن پر کشمیری ووٹرز کے غیر متزلزل اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پنجاب میں مقیم کشمیریوں نے اپنے ووٹ کے ذریعے مریم نواز کی قیادت اور ان کے ترقیاتی ماڈل کے حق میں اپنا واضح فیصلہ دیا ہے۔

سیکرٹری اطلاعات نے ان تمام کشمیری مہاجرین اور کارکنان کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے قائد مسلم لیگ (ن) محمد نواز شریف، وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کی اکثریت سے حکومت قائم ہوتے ہی وہاں بھی پاکستان اور پنجاب کی طرز پر ترقی، خوشحالی اور حقیقی عوامی خدمت کے ایک نئے اور مثالی دور کا آغاز کیا جائے گا۔

مریم اورنگزیب نے آئندہ مرحلے کا ذکر کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پونچھ ڈویژن میں بھی مسلم لیگ (ن) ایسی ہی شاندار کامیابی حاصل کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی پونچھ ڈویژن میں ہونے والے انتخابات کے لیے مکمل طور پر فعال اور تیار ہے اور انہیں پورا یقین ہے کہ وہاں کے غیور عوام بھی ترقی کے نشان شیر پر مہر لگا کر مسلم لیگ (ن) کو ہی اپنا نمائندہ منتخب کریں گے۔

سوات خودکش حملے کے خلاف علماء و مشائخ کا مشترکہ اعلامیہ: پیغامِ امن کمیٹی نے واقعے کو اسلامی تعلیمات کے منافی اور حرام قرار دے دیا

منصور احمد, August 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اگست 2026ء

قومی پیغامِ امن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے تمام مکاتبِ فکر کے جید علماء کرام اور مشائخ عظام نے سوات میں ہونے والے خودکش حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے اسلامی تعلیمات کے سراسر منافی اور گھناؤنا فعل قرار دیا ہے۔

علماء کرام نے اپنے مشترکہ بیان میں اس افسوسناک اور دل خراش واقعے پر شدید رنج و غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے شہدا کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی عاجلانہ صحت یابی اور غم زدہ خاندانوں کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔ یہ مشترکہ بیان حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر راغب حسین نعیمی، مفتی عبدالرحیم، علامہ عارف واحدی، علامہ سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، پیر نقیب الرحمن، ڈاکٹر آصف میر، مفتی محمد کریم خان، علامہ توفیق عباس، علامہ محمد حسین اکبر، مولانا مفتی نعمان نعیم، مولانا حافظ مقبول احمد، مولانا زبیر فہیم، مولانا مفتی عبداللطیف، مولانا محمد یوسف کشمیری، مولانا زاہد منصور، مولانا انوار الحق اور مولانا حافظ محمد طارق محمود کی جانب سے جاری کیا گیا۔

بیان میں جید علماء نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اسلام امن، اعتدال اور سلامتی کا دین ہے۔ انہوں نے قرآنِ کریم کی آیات اور احادیثِ مبارکہ کے حوالہ جات پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ انسان کی جان کا تحفظ دینِ اسلام کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے۔ متفقہ طور پر منظور شدہ ‘پیغامِ پاکستان’ کے فتویٰ کی روشنی میں کمیٹی نے ایک بار پھر واضح کیا کہ خودکش حملے، دہشت گردی اور بے گناہ انسانوں کا قتل اسلامی شریعت کی رو سے قطعی طور پر حرام ہے۔

قومی پیغامِ امن کمیٹی نے زور دے کر کہا کہ ایسے مظالم میں ملوث عناصر فتنۂ خوارج کے نظریات پر عمل پیرا ہیں اور دشمن قوتوں کے آلے کے طور پر ملک میں عدم استحکام اور بدامنی پھیلا رہے ہیں۔ علماء نے کہا کہ شریعت کے اصولوں کے تحت دہشت گردی کے خاتمے، امن عامہ کے قیام اور شہریوں کی حفاظت کے لیے مسلح افواج، خیبر پختونخوا پولیس اور تمام سیکیورٹی اداروں کا ساتھ دینا قومی اور شرعی فریضہ ہے۔

کمیٹی نے دہشت گردی کے خلاف برسرِ پیکار مسلح افواج اور پولیس کی قربانیوں، شجاعت اور عزم کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پوری قوم اپنے سیکیورٹی اداروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن نے سال 27-2026ء کے ایونٹس کیلنڈر کا باضابطہ اعلان کر دیا

محمود احمد, August 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اگست 2026ء

پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن (پی سی ایف) نے مالی سال 27-2026ء کے لیے اپنا تفصیلی ایونٹس کیلنڈر جاری کر دیا ہے، جس کے تحت جولائی 2026ء سے جون 2027ء تک متعدد قومی و بین الاقوامی سائیکلنگ مقابلے، کورسز اور چیمپئن شپس منعقد کی جائیں گی۔

فیڈریشن کی جانب سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق، جولائی 2026ء میں اسلام آباد کے اندر کمیسائر کورس اور 14 اگست کو تمام صوبائی ہیڈکوارٹرز میں یومِ آزادی کے حوالے سے سائیکل ریسز منعقد ہوں گی۔ اگست میں اسلام آباد میں کوچنگ کورس کے بعد، 19 تا 27 ستمبر کو کینیڈا کے شہر مونٹریال میں یو سی آئی روڈ ورلڈ چیمپئن شپ منعقد ہوگی۔ اکتوبر میں لاہور کے اندر دسویں روڈ سائیکلنگ چیمپئن شپ، جبکہ 6 تا 8 نومبر کو لاہور ہی میں 71ویں ٹریک چیمپئن شپ (سینئر و جونیئر) طے کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں، کراچی تا حیدرآباد سائیکل ریس نومبر میں اور دسمبر میں ‘ٹور آف اسلام آباد’ اور قائد اعظم ڈے ریسز ہوں گی۔

سال 2027ء کی شروعات میں جنوری میں ‘ٹور دے پشاور’ اور ایم ٹی بی چیمپئن شپ، فروری میں پشاور کے مقام پر 11ویں روڈ سائیکلنگ چیمپئن شپ اور مارچ میں لاہور میں انٹر پروونشل ٹریک چیمپئن شپ سمیت اسلام آباد میں ساؤتھ ایشین روڈ سائیکلنگ چیمپئن شپ کا انعقاد کیا جائے گا۔ اپریل 2027ء میں ‘ٹور دے گلیات’ اور ایشین کانٹینینٹل چیمپئن شپ کا انعقاد ہوگا جبکہ مئی و جون 2027ء میں اورڈوس (چین) میں ایشین روڈ سائیکلنگ چیمپئن شپ، گلگت میں ‘ٹور دی خنجراب’ اور جون 2027ء میں ناران ایم ٹی بی ریس طے کی گئی ہے۔

پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن کے صدر سید اظہر علی شاہ نے نمائندے کو بتایا کہ ایونٹس کی حتمی منظوری فنڈز کی دستیابی سے مشروط ہوگی، جبکہ قومی ٹیم کا انتخاب میرٹ کی بنیاد پر طے شدہ چیمپئن شپس میں کھلاڑیوں کی کارکردگی کو مدنظر رکھ کر کیا جائے گا۔ منتخب سائیکلسٹس کی جدید بنیادوں پر تربیت کے لیے خصوصی قومی کیمپ بھی لگائے جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے سائیکلسٹس میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے، اور پچھلی دو سے تین ایشین چیمپئن شپس میں میڈلز جیت کر پاکستانی ایتھلیٹس نے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر انہیں معیاری سهولیات اور بین الاقوامی ایکسپوژر ملتا رہے تو وہ عالمی سطح پر ملک کا نام مزید روشن کر سکتے ہیں۔

ایچ ای سی کوالٹی اشورنس ایجنسی اور پی این کیو اے ایچ ای کے درمیان معاہدہ طے پا گیا: اعلیٰ تعلیم کے معیار کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق

روزینہ اسماعیل, August 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اگست 2026ء

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی کوالٹی اشورنس ایجنسی اور پاکستان نیٹ ورک آف کوالٹی اشورنس اِن ہائر ایجوکیشن کے درمیان پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی شعبے میں تعلیمی معیار کو مزید مستحکم بنانے اور جدید بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے ایک اہم مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔

اس مفاہمتی یادداشت کا بنیادی مقصد پاکستان بھر کی جامعات میں کوالٹی اشورنس کے موجودہ نظام کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنا، دونوں اداروں کے درمیان ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دینا اور اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں بہترین بین الاقوامی طریقہ کار کو رائج کرنا ہے۔

دستخط کی اس تقریب کے موقع پر دونوں اداروں کے اعلیٰ نمائندوں نے اپنے عزائم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس شراکت داری کے تحت اساتذہ اور انتظامی عملے کے لیے مشترکہ تربیتی پروگرامز، استعداد کار میں اضافے کی ورکشاپس، علمی و تحقیقی تعاون اور معیارِ تعلیم کی مسلسل بہتری کے لیے جامع اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

نمائندوں کا مزید کہنا تھا کہ یہ پائیدار شراکت داری نہ صرف اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں معیار کی یقین دہانی کے نظام کو مزید شفاف اور مؤثر بنائے گی بلکہ ملکی جامعات کی مجموعی کارکردگی اور عالمی رینکنگز کو بہتر بنانے میں بھی نچلی سطح پر اہم پیش رفت ثابت ہوگی۔

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے سابق برطانوی مشیر کبیر صابر کی ملاقات: تجارت اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال

کاشف عباسی , August 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اگست 2026ء

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے برطانیہ کے سابق مشیر اور لندن سے پارلیمانی امیدوار کبیر صابر نے ایک اہم ملاقات کی، جس میں باہمی تعاون، تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ سے متعلق تفصیلی گفتگو کی گئی۔

گورنر آفس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں کی اس ملاقات کے دوران خیبر پختونخوا میں تجارتی سرگرمیوں، غیر ملکی و مقامی سرمایہ کاری کے مواقع، انسانی وسائل کی جدید انداز میں تربیت اور صلاحیتوں کی فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا بے پناہ قدرتی وسائل، صلاحیتوں سے مالا مال نڈر اور باصلاحیت نوجوان افرادی قوت اور وسیع تجارتی و معاشی مواقع سے لیس ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ دنیا بھر میں مقیم تارکینِ وطن (اوورسیز پاکستانی) اور بین الاقوامی سرمایہ کار خیبر پختونخوا کے بنیادی ڈھانچے اور معاشی بہتری میں کلیدی اور تاریخی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اس موقع پر کبیر صابر نے بھی صوبے کی معاشی و انسانی ترقی کے لیے تجاویز پیش کیں اور بین الاقوامی سطح پر تعاون کے نئے راستے ہموار کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

آزاد کشمیر انتخابات میں ن لیگ کو سادہ اکثریت حاصل: رانا ثناء اللہ اور امیر مقام کی مشترکہ پریس کانفرنس

منصور احمد, August 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اگست 2026ء

وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ اور وفاقی وزیر امورِ کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں دو مراحل کے تحت الیکشن کا پرامن، شفاف اور منصفانہ انعقاد دراصل جمہوریت، کشمیری عوام اور ریاست کی عملداری کی بڑی کامیابی ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ دوسرے مرحلے کے دوران آزاد کشمیر اور مہاجرین کے 20 حلقوں میں انتخابی عمل کامیابی کے ساتھ مکمل ہوا، جس میں مسلم لیگ (ن) نے 23 نشستوں پر کامیابی حاصل کر کے آزاد کشمیر میں سادہ اکثریت حاصل کر لی ہے۔ میرپور ڈویژن کی 9 اور مظفرآباد ڈویژن کی 7 میں سے 4 نشستوں پر مسلم لیگ (ن) جبکہ 3 پر پیپلز پارٹی کامیا ب ہوئی، جبکہ مہاجرین کی 12 میں سے 10 نشستیں ن لیگ کے حصے میں آئیں۔

رانا ثناء اللہ نے پیپلز پارٹی کے رویے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “پیپلز پارٹی نے شکست سامنے دیکھ کر گزشتہ روز سے ہی دھاندلی کا بیانیہ بنانا شروع کر دیا تھا۔ ابتدا میں 13 حلقوں میں دھاندلی کا الزام لگایا گیا جو شواہد مانگنے پر پہلے 4 اور پھر 2 حلقوں تک محدود ہو گیا۔” انہوں نے بلاول بھٹو زرداری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کا نوٹس لیں کیونکہ عوامی مینڈیٹ کو تسلیم نہ کرنا میثاقِ جمہوریت کی روح کے منافی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سندھ سے آئے ہوئے ایک ایم این اے پولیس اہلکاروں کی معیت میں گاڑیوں کے قافلے لے کر پولنگ اسٹیشنوں پر خوف و ہراس پھیلاتے رہے۔

وفاقی وزیر امورِ کشمیر انجینئر امیر مقام نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر کی تاریخ کے اس انتہائی شفاف اور منصفانہ الیکشن کے انعقاد پر الیکشن کمیشن، مقامی انتظامیہ، پولیس اور سیکیورٹی ادارے مبارکباد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے گزشتہ دو سال سے انتخابی میدان میں مسلسل محنت کی ہے، اور پیپلز پارٹی کے مقامی رہنماؤں نے اپنی اعلیٰ قیادت کو غلط گائیڈ کیا۔

پریس کانفرنس کے دوران دونوں رہنماؤں نے دھرنا دینے والی تنظیموں اور کشمیری رہنماؤں کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دی اور کہا کہ احتجاج اور دھرنوں سے مسائل حل نہیں ہوتے، چند ہزار افراد لاکھوں ووٹرز کے مقدر کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آزاد کشمیر انتخابات کا آخری مرحلہ مکمل ہوتے ہی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلا کر حکومت سازی کا عمل مکمل کیا جائے گا اور قائد میاں محمد نواز شریف کے وعدوں کے مطابق آزاد کشمیر میں تعمیر و ترقی کا نیا دور شروع ہوگا۔

ایچ ای سی کا سری لنکا میں انڈرگریجویٹ سکالرشپ کا اعلان: پاکستانی طلبہ سے درخواستیں طلب

روزینہ اسماعیل, August 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اگست 2026ء

ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے سری لنکا کے معروف تعلیمی ادارے ‘سری لنکا انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی’ میں ستمبر اور اکتوبر 2026ء کے تعلیمی سیشن کے لیے ایک انڈرگریجویٹ سکالرشپ کا باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے اہل اور خواہش مند پاکستانی طلبہ سے درخواستیں طلب کر لی ہیں۔

ایچ ای سی حکام کے مطابق یہ سکالرشپ سری لنکا میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے خواہش مند پاکستانی طلبہ کو بین الاقوامی سطح پر جدید تعلیمی مواقع فراہم کرنے کے مقصد کے تحت پیش کی جا رہی ہے۔

کوائف اور اہلیت کے معیار کے حوالے سے ایچ ای سی نے واضح کیا ہے کہ تمام خواہشمند امیدوار مقررہ طریقہ کار کے مطابق آن لائن درخواست جمع کرا سکتے ہیں۔ پروگرام سے متعلق تمام تر بنیادی اہلیت، درخواست دینے کے مرحلہ وار طریقہ کار اور دیگر ضروری شرائط و ضوابط کی مکمل تفصیلات ایچ ای سی کی آفیشل ویب سائٹ پر آن لائن فراہم کر دی گئی ہیں۔

ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے اس بات کی بھی پیشگی وضاحت کی ہے کہ مذکورہ سکالرشپ میں صرف ٹیوشن فیس یا تعلیمی اخراجات شامل ہوں گے، جبکہ رہائش، کھانے پینے، فضائی سفر کے ٹکٹ، یومیہ جیب خرچ، طبی بیمہ، ویزا فیس، ویزا کی تجدید اور دیگر تمام شخصی اخراجات منتخب ہونے والے طلبہ کو خود برداشت کرنا ہوں گے۔

ایچ ای سی انتظامیہ نے تمام دلچسپی رکھنے والے امیدواروں کو سخت ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی درخواستیں جمع کرانے سے قبل اہلیت کے تمام معائر اور گائیڈ لائنز کا بغور مطالعہ کریں اور آخری تاریخ سے قبل اپنی درخواستوں کی مکمل اور درست فراہمی کو یقینی بنائیں۔

وفاقی حکومت کی بڑی پیش رفت: چار آکوپیشنل گروپس کے 75 فیصد سول سرونٹس کا سروس ریکارڈ ڈیجیٹلائز کر دیا گیا

کاشف عباسی , August 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اگست 2026ء

وفاقی حکومت نے سول سروس میں انسانی وسائل کے انتظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور کاغذی ریکارڈ پر انحصار ختم کرنے کے لیے چار اہم آکوپیشنل گروپس سے تعلق رکھنے والے وفاقی سرکاری افسران کا تقریباً 75 فیصد سروس ریکارڈ ڈیجیٹلائز کر دیا ہے۔

ویلتھ پاکستان کو دستیاب ہونے والی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ میں پیش کی گئی سرکاری دستاویزات کے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ہیومن ریسورس مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے نفاذ کے ذریعے اس پروسیس میں غیر معمولی اور نمایاں پیش رفت کی ہے۔ ایچ آر ایم آئی ایس ایک ویب بیسڈ اور مرکزی ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے، جس پر پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس ، پولیس سروس آف پاکستان ، آفس مینجمنٹ گروپ اور سیکریٹریٹ گروپ کے افسران کے تمام سروس ریکارڈز کو محفوظ کیا جا رہا ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو دی جانے والی بریفنگ کے مطابق، 75 فیصد ڈیٹا کی کامیاب انٹری کے بعد باقی ماندہ ریکارڈ کو بھی ہنگامی بنیادوں پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس دوران اسٹیبلشمنٹ ڈویژن ریکارڈ کی سخت جانچ، تصدیق اور درستگی کے مرحلے کو بھی جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ سسٹم میں شامل تمام تر معلومات سو فیصد مستند اور بلا غلطی رہیں۔ اس جدید پلیٹ فارم میں افسران کے ذاتی ڈیٹا، تقرریوں، ترجیحی سنیارٹی، تعلیمی اسناد، تربیت، رخصت کی تفصیلات، پرفارمنس ایویلیوایشن رپورٹس اور سروس ہسٹری کا مکمل ڈیٹا مرتب کیا گیا ہے۔

افسران کو یہ سہولت بھی دی گئی ہے کہ وہ اپنے لاگ ان کے ذریعے اپنے پورٹل کا خود جائزہ لے سکیں اور اگر کہیں غلطی ہو تو تصحیح کی درخواستیں جمع کروا سکیں، جنہیں چھان بین کے بعد نفاذ کا حصہ بنایا جاتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے سینیٹ کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ پرانے ریکارڈ کی وجہ سے کام میں کوئی التوا نہیں آ رہا اور تمام تر توجہ ڈیٹا کی مکمل اور مستند انٹری پر مرکوز کی گئی ہے۔

مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد ایچ آر ایم آئی ایس وفاقی افسران کی سروس سے متعلق تمام امور بشمول ترقیوں، تبادلوں اور تربیتی مراحل کے لیے واحد مستند اور مرکزی ذریعہ ثابت ہوگا، جس سے گڈ گورننس، شفافیت اور میرٹ کی بالادستی کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔

ادارہ شماریا ت کا دعویٰ: جولائی 2026ء میں مہنگائی کی سالانہ شرح سنگل ڈیجٹ میں آ گئی، شرح 9.2 فیصد تک محدود

منصور احمد, August 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اگست 2026ء

وفاقی ادارۂ شماریات نے نئے مالی سال کے پہلے ماہ یعنی جولائی 2026ء کے لیے مہنگائی سے متعلق سالانہ و ماہانہ اعداد و شمار کی تفصیلی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح کم ہو کر سنگل ڈیجٹ یعنی 9.2 فیصد تک آ گئی ہے۔

وفاقی ادارۂ شماریات کے ترجمان اور جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، جون 2026ء میں مہنگائی کی سالانہ شرح 11.1 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی، جبکہ اس کے برعکس گزشتہ مالی سال کے اسی پہلے مہینے یعنی جولائی 2025ء میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی 4.1 فیصد کی سطح پر تھی۔ تمام تر سالانہ کمی کے باوجود، اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ماہانہ بنیادوں پر جولائی کے دوران جون کے مقابلے میں مہنگائی میں 1.19 فیصد کا مزید اضافہ درج کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں شہری اور دیہی معیشت کے علاحدہ اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ دیہی علاقوں میں مہنگائی کی شدت نسبتاً زیادہ رہی۔ جولائی 2026ء کے دوران دیہی علاقوں میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 9.93 فیصد جبکہ شہری علاقوں میں 8.72 فیصد رہی۔

ماہانہ بنیادوں کے تقابل کے لحاظ سے دیکھا جائے تو جولائی میں دیہی علاقوں کے اندر اشیائے ضروریہ اور سروسز کی قیمتوں میں 1.23 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ دوسری جانب شہری علاقوں میں ماہانہ بنیادوں پر یہ اضافہ 1.16 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔

گرین لیگیسی انیشیٹو: ایتھوپین سفارتخانے کا اسلام آباد میں شجرکاری مہم کا انعقاد، پاکستانی شہریوں کی بھرپور شرکت

منصور احمد, August 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اگست 2026ء

ایتھوپیا کے وزیراعظم ڈاکٹر ابی احمد کے تاریخی ‘گرین لیگیسی انیشیٹو’ کے تحت ایک ہی دن میں شجرکاری کی عالمی مہم میں پاکستانی شہریوں نے بھی روایتی جوش و جذبے کے ساتھ شرکت کی ہے۔

اسلام آباد میں قائم ایتھوپین سفارتخانے نے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے تعاون سے ایک خصوصی شجرکاری مہم کا اہتمام کیا، جس میں سفارتی برادری، تاجر برادری، میڈیا نمائندگان اور سول سوسائٹی کے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

پاکستان میں اس تقریب کا بنیادی مقصد ایتھوپیا کے اس عظیم الشان قومی ہدف کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار تھا جس کے تحت ایک ہی دن میں 80 کروڑ پودے لگائے جا رہے ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد میں ایتھوپین سفارتخانے کے چارج ڈی افیئرز مسٹر میلاؤ گیٹاچو نے گرین لیگیسی انیشیٹو کے ماحولیاتی اثرات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ اس فلیگ شپ پروگرام کے تحت ایتھوپیا اب تک 48 ارب سے زائد پودے لگا چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ “آج کی اس مہم کا مقصد ایتھوپیا میں اپنے بھائیوں اور بہنوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہونا اور 80 کروڑ پودے لگانے کے ان کے عظیم ہدف کی حمایت کرنا ہے۔” انہوں نے موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف جنگ میں ایتھوپیا کی عالمی قیادت پر بھی زور دیا اور بتایا کہ ادیس ابابا جلد ہی بین الاقوامی کلائمیٹ سمٹ کی میزبانی بھی کرے گا۔

اس موقع پر کلین اینڈ گرین موومنٹ اسلام آباد کے چیئرمین اور اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے سابق صدر ظفر بختاوری نے جنگلات کی بحالی کے لیے ایتھوپیا کی ان شاندار کاوشوں کو زبردست الفاظ میں سراہا۔

انہوں نے کہا کہ “گرین لیگیسی انیشیٹو کا وژن اسلام آباد کی ہماری ‘کلین اینڈ گرین موومنٹ’ کے اہداف سے مکمل طور پر مطابقت رکھتا ہے۔” انہوں نے زور دیا کہ گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر متحد ہو کر مشترکہ اقدامات کرنا وقت کا سب سے بڑا تقاضا ہے۔

شملہ پہاڑی نادرا سینٹر لاہور میں غیر معمولی تبدیلی: طویل انتظار کے خاتمے اور تیز تر سروس پر شہریوں کی جانب سے اطمینان کا اظہار

منصور احمد, August 02,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

ماضی میں شدید رش اور طویل قطاروں کے لیے معروف شملہ پہاڑی نادرا رجسٹریشن سینٹر لاہور میں ایک غیر معمولی اورمثالی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے، جہاں اب شہریوں کو تیز تر، موثر اور باوقار انداز میں عام خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔

یہ ڈرامائی اور مثبت تبدیلی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے شملہ پہاڑی میں قائم 24/7 نادرا سینٹر کے اچانک اور غیر اعلانیہ دورے کے دوران سامنے آئی، جہاں انہوں نے اپ گریڈ شدہ جدید سہولیات اور ہموار آپریشنز کا خود جائزہ لیا اور خوشگوار حیرت کا اظہار کیا۔ جہاں پہلے گھنٹوں کا انتظار اور لمبی قطاریں اس مرکز کی شناخت ہوا کرتی تھیں، وہاں اب شہری آرام دہ، مکمل ایئر کنڈیشنڈ ماحول میں چند منٹوں کے اندر شناختی کارڈ اور دیگر سرکاری دستاویزات کا حصول ممکن بنا رہے ہیں۔

دورے کے دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے مرکز میں موجود شہریوں سے بلا واسطہ گفتگو کی، رجسٹریشن کے عمل، وقت کی بچت اور سروس کے معیار کے حوالے سے استفسار کیا۔ شہریوں نے اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا کام بلا تاخیر محض چند منٹوں میں مکمل ہوا اور عملے کی پیشہ ورانہ مہارت و خوش اخلاقی قابلِ ستائش ہے۔ ایک بزرگ خاتون اور شہریوں نے بہترین و باعزت سلوک پر وزیر داخلہ اور نادرا عملے کے لیے دعائیں اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

محسن نقوی نے فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے آئے دو شہریوں کی درپیش مشکلات کا موقع پر ہی نوٹس لیتے ہوئے فوراً ازالے کی ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ شہریوں کو درکار دستاویزات کی درست رہنمائی فراہم کی جائے تاکہ کسی کو بلاوجہ کے چکر نہ کاٹنے پڑیں۔ مزید برآں، سینٹر کے باہر پارکنگ اٹینڈنٹس کی جانب سے زائد فیس وصولی کی عوامی شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے انہوں نے متعلقہ حکام کو فوری ایکشن لینے کی ہدایت کی۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “شہریوں کا اعتماد اور اطمینان ہی کسی سرکاری ادارے کی حقیقی کامیابی کا سب سے بڑا پیمانہ ہوتا ہے۔” انہوں نے اس مثالی تبدیلی اور اصلاحات کے نتائج پر چیئرمین نادرا اور ان کی پوری ٹیم کی لگن، محنت اور بہترین عوامی خدمات کی فراہمی پر ان کی کوششوں کو زبردست الفاظ میں سراہا۔

پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب کا دعویٰ: “میرپور کے بعد مظفرآباد اور مہاجرین کی نشستوں پر بھی شیر کامیاب ہوگا”

کاشف عباسی , August 02,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

پنجاب کی سینئر وزیر اور مسلم لیگ (ن) کی مرکزی رہنما مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں میرپور ڈویژن کے بعد اب مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں پر بھی مسلم لیگ (ن) شاندار اور تاریخی کامیابی حاصل کرے گی۔

اسلام آباد میں جاری کردہ اپنے ایک اہم ترین سیاسی بیان میں مریم اورنگزیب نے اپوزیشن اور سیاسی مخالفین کو آڑھے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ “آج الیکٹورل میدان میں شکست سے دوچار ہونے والی جماعت محض واویلا کر رہی ہے اور رو رہی ہے، جبکہ محض رونے یا الزامات تراشی سے نہ تو ووٹ ملتا ہے اور نہ ہی ووٹر گھروں سے باہر نکلتا ہے۔”

انہوں نے کہا کہ دھمکیاں دینے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی سیاست اب ختم ہو چکی ہے؛ عوام اور ووٹرز کو میدان میں لانے کے لیے عملی کارکردگی اور خدمات کی تاریخ دکھانی پڑتی ہے۔ مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ مظفرآباد سمیت پنجاب بھر میں قائم ن لیگ کے انتخابی کیمپوں میں ووٹرز اور کارکنوں کا غیر معمولی رش اور جوش و خروش صاف دکھائی دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب اور آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کا ووٹر مکمل طور پر چارج ہے اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کر رہا ہے جسے پورا پاکستان دیکھ رہا ہے۔

سینئر صوبائی وزیر نے مخالفین کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ “رونے والوں کے لیے ہمارا پیغام ہے کہ وہ ہمت کریں اور سیاسی میدان میں آ کر الیکٹورل مقابلہ کریں۔” انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ میرپور کی شاندار فتح کے تسلسل میں آج مظفرآباد اور پنجاب میں مقیم مہاجرین کی نشستوں پر بھی “شیر” ہی کامیابی کا پرچم لہرائے گا۔

جائے وقوعہ سے خودکش حملہ آور کا سر برآمد؛ پولیس اور ریسکیو 1122 کی جانب سے ایمرجنسی آپریشن جاری، علاقہ ناکابندی کے بعد سیل،

منصور احمد, August 02,2026

سوات (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کے علاقے کبل میں پولیس اسٹیشن کے مرکزی گیٹ کے قریب ایک شدید اور زور دار دھماکہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں اور عام شہریوں سمیت متعدد افراد شدید زخمی ہو گئے ہیں جبکہ کئی ہلاکتوں کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ابتدائی اطلاعات اور عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے وقت پولیس اسٹیشن کے قریب مقامی نوجوانوں کا امن و امان کے حوالے سے ‘امن پاسون’ کا احتجاجی مظاہرہ جاری تھا، جس کے باعث موقع پر شہریوں، مظاہرین اور پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اچانک ہونے والے اس خوفناک دھماکے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس اور بھگدڑ مچ گئی۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) سوات نے واقعے کے حوالے سے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات اور شواہد کی روشنی میں دھماکہ مبینہ طور پر خودکش حملہ معلوم ہوتا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق جائے وقوعہ سے ایک انسانی سر بھی برآمد ہوا ہے، جو ممکنہ طور پر خودکش حملہ آور کا ہو سکتا ہے۔ سیکیورٹی فورسز اور کرائم سین انویسٹی گیشن ٹیموں نے فرانزک شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے اور واقعے کی تمام تر پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔

ریسکیو 1122 کے ذرائع کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی میڈیکل ٹیمیں اور متعدد ایمبولینسز فوری طور پر جائے وقوعہ کی طرف روانہ کر دی گئیں۔ امدادی اہلکاروں نے زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرتے ہوئے فوری طور پر قریبی تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال اور سیدو شریف ہسپتال منتقل کر دیا ہے۔ ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر 10 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ حتمی جانی و مالی نقصانات کا اندازہ ریسکیو آپریشن مکمل ہونے کے بعد لگایا جائے گا۔

واقعے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سنگین ترین دستوں نے کبل اور اس کے گردونواح کے تمام راستوں کو سیل کر کے علاقے کا محاصرہ کر لیا ہے اور سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

فواد چوہدری کا داؤ: “موجودہ نظام بالکل ناکام ہو چکا، سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ میں عمران خان کے بغیر مذاکرات ممکن نہیں”

منصور احمد, August 02,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ موجودہ حکومتی نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے اور حکومت عملی طور پر فارغ ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں پائیدار سیاسی و معاشی استحکام کے لیے سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ڈائیلاگ کا آغاز ہونا ضروری ہے، تاہم تحریکِ انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کے بغیر ایسا کوئی بھی مذاکراتی عمل ہرگز مکمل نہیں ہو سکتا۔

لاہور میں گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے حکومت کو آڑھے ہاتھوں لیا اور کہا کہ تین وفاقی وزراء خود وزیراعظم کی حیثیت پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیانیے اور عدم اعتماد کی تحریک کے وقت ہم نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ موجودہ سیٹ اپ ملک نہیں چلا سکتا۔

پنجاب کی ممکنہ تقسیم کے موضوع پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اصلاحات صرف پنجاب تک محدود نہیں ہونی چاہئیں کیونکہ اصل مسائل دیگر صوبوں میں ہیں۔ پاکستان چند بلوچ اور سندھی وڈیروں کی منشا کے مطابق نہیں چلایا جا سکتا اور بلوچستان کو 1970ء سے پہلے والی اصل سیاسی و انتظامی بنیادوں پر بحال کرنے کی ضرورت ہے۔

فواد چوہدری نے زور دے کر کہا کہ موجودہ نظام اپنی افادیت پوری طرح کھو چکا ہے اور اب اس میں متبادل اصلاحات پر بات ہونا وقت کا سب سے بڑا تقاضا ہے۔ نئے صوبے، بلدیاتی نظام اور ذیلی انتظامی حدود جیسے موضوعات پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے کیونکہ پرانے طرزِ حکمرانی کو زبردستی جاری رکھنا اب ممکن نہیں رہا۔

حکومتی اخراجات اور وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شاہانہ اخراجات کی ایسی مثالیں ماضی میں بھی نہیں ملتی۔ اربوں روپے کے جہاز کی خریداری، مختلف تقاریب کے بے دریغ اخراجات، وکلاء و صحافیوں میں مبینہ فنڈز کی تقسیم اور بیوروکریسی کے لیے اربوں روپے جاری کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ عوامی وسائل کا بے دردی سے زیاں کیا جا رہا ہے۔