امن، آزادی اور انسانی حقوق کا استعارہ؛ پاکستان سمیت دنیا بھر میں نیلسن منڈیلا کا عالمی دن منایا گیا


Nelson Mandela, 1918-2013 - Saving Lives

    منصور احمد, JULY 18,2026

    اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 18 جولائی 2026ء

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام نسلی امتیاز کے خلاف تاریخی جدوجہد کرنے والے عظیم عالمی رہنما اور جنوبی افریقہ کے سابق صدر نیلسن منڈیلا کا عالمی دن عقیدت و احترام اور مقتدر عزم کے ساتھ منایا گیا۔ اس عالمی دن کو منانے کا بنیادی مقصد انسانی حقوق کے فروغ اور قیامِ امن کے لیے اپنی زندگی وقف کرنے والے عظیم انقلابی رہنما کی سالگرہ کے موقع پر ان کی بے مثال خدمات، قربانیوں اور نظریات کو بھرپور انداز میں خراجِ تحسین پیش کرنا ہے۔

    واضح رہے کہ نیلسن منڈیلا نے جنوبی افریقہ میں رنگ و نسل کی بنیاد پر قائم ظالمانہ نظام (اپارتھائیڈ) کے خاتمے، انسانی حقوق کی بحالی اور مظلوموں کو ان کا حق دلانے کے لیے طویل قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، اور بعد ازاں آزاد جنوبی افریقہ کے پہلے منتخب جمہوری صدر کی حیثیت سے دنیا بھر میں امن و آشتی کا پیغام عام کیا۔ نیلسن منڈیلا کے اس عالمی دن کے موقع پر دنیا بھر کے شہریوں اور نوجوانوں کو ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ اپنے اپنے معاشروں میں مثبت تبدیلی لانے، نسلی و طبقاتی تفریق کو مٹانے اور اس کرہ ارض کو آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ، پُرآمن اور رہنے کے قابل بہتر جگہ بنانے کے لیے انفرادی و اجتماعی سطح پر عملی اقدامات اٹھائیں۔

    اس مقتدر عالمی دن کی مناسبت سے پاکستان اور دنیا بھر کے مختلف دارالحکومتوں میں سیمینارز، واکس اور خصوصی مذاکروں کا اہتمام کیا گیا، جہاں مقررین نے نیلسن منڈیلا کی جمہوریت، رواداری اور انسانی وقار کی بلندی کے لیے کی جانے والی تزویراتی کوششوں کو اجاگر کیا۔ بین الاقوامی دانشوروں اور رہنماؤں نے اپنے پیغامات میں اس بات پر زور دیا کہ موجودہ دور میں عالمی تنازعات اور بڑھتی ہوئی تلخیوں کے خاتمے کے لیے نیلسن منڈیلا کے صلح جویانہ اور عدم تشدد کے فلسفے پر عمل کرنا پہلے سے کہیں زیادہ ناگزیر ہو چکا ہے۔

    ایف آئی اے امیگریشن کی ائیرپورٹ پر بڑی کارروائی؛ بین الاقوامی آن لائن اسکامنگ نیٹ ورک کا حصہ بننے والے 2 مسافر آف لوڈ، گرفتار

    کاشف عباسی , JULY 17,026

    اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 جولائی 2026ء

    فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) امیگریشن نے وفاقی دارالحکومت کے ائیرپورٹ پر ایک کامیاب اور تزویراتی کارروائی کرتے ہوئے دو ایسے خطرناک مسافروں کو پرواز سے آف لوڈ کر کے گرفتار کر لیا ہے جو ملائیشیا کے وزٹ ویزے کا غلط استعمال کرتے ہوئے ایک بین الاقوامی آن لائن اسکامنگ نیٹ ورک کا حصہ بننے کے لیے بیرونِ ملک فرار ہو رہے تھے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق، گرفتار کیے گئے مسافروں کی شناخت ولید الغنی اور محمد یار کے ناموں سے ہوئی ہے، جنہیں ائیرپورٹ پر تعینات امیگریشن کاؤنٹر کے عملے نے شک گزرنے پر روک کر حراست میں لیا۔

    حکام کی جانب سے کی جانے والی ابتدائی تفتیش اور مسافروں کی تادیبی پروفائلنگ کے دوران یہ سنسنی خیز انکشاف ہوا کہ مذکورہ مسافر اس سے قبل کمبوڈیا کا مشکوک سفر بھی کر چکے ہیں، جبکہ ماضی میں بھی غیر واضح سفری دستاویزات اور حالات کی بنا پر انہیں آف لوڈ کیا گیا تھا۔ دوبارہ باریک بینی سے کی گئی پروفائلنگ کے دوران جب مسافروں کے موبائل فونز کی تلاشی لی گئی تو ان سے انتہائی اہم اور ناقابلِ تردید ڈیجیٹل شواہد موصول ہوئے۔ موبائل فونز میں موجود واٹس ایپ و دیگر مبینہ چیٹس اور ریکارڈ شدہ رابطوں سے یہ بات واضح طور پر سامنے آئی کہ دونوں مسافروں کے روابط بین الاقوامی آن لائن اسکامنگ سلیپر سیلز اور منظم نیٹ ورکس سے ہیں، اور وہ دیگر معصوم پاکستانی شہریوں کو بھی خطیر رقوم کے عوض اس قسم کی غیر قانونی سائبر سرگرمیوں کے لیے سہولیات فراہم کرنے میں ملوث تھے۔

    دستیاب ڈیجیٹل شواہد کی روشنی میں ایف آئی اے حکام کو قوی شبہ ہے کہ یہ مسافر ملائیشیا کے وزٹ ویزے کی آڑ میں وہاں جا کر بین الاقوامی سطح پر سائبر کرائم اور مالیاتی فراڈ (آن لائن اسکامنگ) کے ذریعے غیر قانونی طور پر بھاری رقوم کمانا چاہتے تھے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق، ملزمان کے موبائل فونز کو حتمی فرانزک آڈٹ کے لیے سرکاری قبضے میں لے لیا گیا ہے جبکہ دونوں ملزمان کو نیٹ ورک کے دیگر ملوث کرداروں کی گرفتاری، مزید تفتیش اور سخت قانونی کارروائی کے لیے ایف آئی اے کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل ملتان کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ترجمان نے مقتدر عزم کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ ایف آئی اے ملک کا وقار بین الاقوامی سطح پر برقرار رکھنے، سرحد پار سائبر کرائمز، غیر قانونی ہجرت اور سفری دستاویزات کے کسی بھی قسم کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے پوری طرح متحرک اور پرعزم ہے۔

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا اب روزانہ کی بنیاد پر تعین ہوگا؛ نظام میں مکمل شفافیت اور پرائسنگ فارمولا عوام کے سامنے لانے کا مقتدر فیصلہ

    کاشف عباسی , JULY 17,026

    اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 جولائی 2026ء

    وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے پٹرولیم مصنوعات کے حوالے سے ایک بڑے تزویراتی فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے مروجہ نظام کو ہفتہ وار سے بدل کر روزانہ کی بنیاد پر لانے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کے ہمراہ ایک مقتدر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ اس تاریخی اقدام کا بنیادی مقصد قیمتوں میں ہونے والے عالمی اتار چڑھاؤ کے ثمرات کو بلا تاخیر اور بروقت عوام تک منتقل کرنا ہے، جس سے نظام میں نہ صرف شفافیت بڑھے گی بلکہ پورا پرائسنگ فارمولا بھی پبلک کر دیا جائے گا۔

    عطاء اللہ تارڑ نے عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ اضافہ بین الاقوامی کشیدگی کا نتیجہ ہے، تاہم پاکستان اس کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں کر رہا ہے جنہیں عالمی برادری نے بھی سراہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب دنیا بھر میں کشیدگی کے باعث کئی ترقی یافتہ ممالک میں تیل کے حصول کے لیے طویل قطاریں لگی ہوئی تھیں اور راشننگ کا نظام چل رہا تھا، اس وقت وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے تیل کے اضافی کارگوز منگوائے، جس کی بدولت پاکستان کے کسی شہر میں ایک دن کے لیے بھی پٹرول یا ڈیزل کی قلت پیدا نہیں ہوئی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ جب عالمی منڈی میں قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی تھیں، تب وفاقی حکومت نے اپنے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کر کے 129 ارب روپے کی خطیر مقتدر سبسڈی فراہم کی تاکہ عوام پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات نے ہفتہ وار قیمتوں کے طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک گزشتہ چھ دنوں کی اوسط قیمت نکال کر ساتویں دن فیصلہ کیا جاتا تھا، جس کے باعث عالمی منڈی میں فوری کمی کا فائدہ عوام تک پہنچنے میں تاخیر ہوتی تھی، مگر اب روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین سے یہ دیرینہ شکایت ہمیشہ کے لیے دور ہو جائے گی۔ انہوں نے پٹرولیم لیوی میں بے پناہ اضافے کے تاثر کو سراسر غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ لیوی جنگ سے پہلے کے مقابلے میں بھی کم رکھی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ملکی بقا کے لیے ماحول دوست ٹیکنالوجی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ درآمدی بل کو کم کرنے کے لیے پاکستان کا الیکٹرک بائیکس اور الیکٹرک وہیکلز کی طرف بڑھنا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔

    آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے حوالے سے مقتدر ریگولیشن کا ذکر کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ نے واضح کیا کہ کمپنیوں کی جانب سے اندھا دھند منافع کمانے کا تاثر بالکل بے بنیاد ہے، کیونکہ وزیراعظم کی ہدایت پر ایف آئی اے اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) ان کی سخت ترین نگرانی کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار اضافی منافع کمانے والی کمپنیوں سے رقم واپس وصول کی گئی ہے اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔ انہوں نے عوام کو مطلع کیا کہ اوگرا کے موجودہ چیئرمین کی سربراہی میں ایک جدید آئی ٹی بیسڈ شفاف نظام متعارف کرایا جا چکا ہے اور شہری کسی بھی شکایت کی صورت میں اوگرا کی ویب سائٹ پر براہِ راست رجوع کر سکتے ہیں۔ انہوں نے تمام سیاسی حلقوں سے اپیل کی کہ عوامی مفاد کے اس حساس معاشی معاملے پر سیاست چمکانے سے گریز کیا جائے۔

    شہری ترقی کے لیے پاکستان کا بڑا عزم؛ رانا مشہود احمد خان کا اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پائیدار اور موسمیاتی لچک پر مبنی وژن کا اعادہ

    محمود احمد, JULY 17,2026

    اقوامِ متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 17 جولائی 2026ء

    وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں نیو اربن ایجنڈا کے وسط مدتی جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پائیدار، جامع اور موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ شہروں کی تعمیر کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تیز رفتار شہری آبادی میں اضافے کے باعث رہائش، ٹرانسپورٹ اور ماحولیات پر دباؤ بڑھ رہا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری کو مشترکہ اور پائیدار حل تلاش کرنے ہوں گے۔

    چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام نے 2025ء میں آنے والے تباہ کن شہری اور دریائی سیلابوں کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان اب اقوامِ متحدہ کے ادارے ‘یو این ہیبی ٹیٹ’ کے تعاون سے ایک جامع قومی شہری حکمتِ عملی تشکیل دے رہا ہے تاکہ موسمیاتی لچک کو ابتدا ہی سے شہری منصوبہ بندی کا لازمی حصہ بنایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ سیلاب کے بعد بحالی کے قومی پروگرام کے تحت اب تک بے گھر ہونے والے خاندانوں کے لیے 4 لاکھ سے زائد گھر تعمیر کیے جا چکے ہیں، جبکہ حکومت کم لاگت اور کم کاربن اخراج والی پبلک ٹرانسپورٹ، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے 9 ملین سے زائد خاندانوں کو سماجی تحفظ اور سیف سٹی منصوبوں کے دائرہ کار کو وسعت دینے کے لیے مقتدر اقدامات کر رہی ہے۔

    رانا مشہود احمد خان نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ پاکستان کا مستقبل اس کے نوجوانوں سے وابستہ ہے، جو ملک کی تقریباً 67 فیصد آبادی پر مشتمل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی شہروں کی جانب منتقلی کے پیشِ نظر انہیں معیاری تعلیم اور روزگار فراہم کرنا ناگزیر ہے، جس کے لیے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں “پُرعزم پاکستان” پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے تاکہ نوجوانوں کو ہنر مندی اور کاروباری مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے تیز رفتار شہری آبادی سے نمٹنے کے اپنے تجربات دیگر رکن ممالک کے ساتھ شیئر کرنے اور پائیدار شہری ترقی کے لیے عالمی تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    پاک چین فارماسیوٹیکل کانفرنس کے افتتاحی روز 446 ملین ڈالر مالیت کے تاریخی تجارتی معاہدوں پر دستخط

    محمود احمد, JULY 17,2026

    اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 جولائی 2026ء

    پاکستان اور چین کے مابین صحت اور دواسازی کے شعبے میں ایک بڑی تزویراتی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں وفاقی دارالحکومت میں دو روزہ “پاکستان چین فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس” کا باضابطہ آغاز ہو گیا ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس مقتدر کانفرنس کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ یہ اہم ترین انویسٹمنٹ کانفرنس وزارتِ قومی صحت، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ)، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور بورڈ آف انویسٹمنٹ کے مشترکہ اشتراک سے منعقد کی جا رہی ہے، جس میں تین سو سے زائد پاکستانی اور ایک سو پچاس معروف چینی صنعتی اداروں سمیت ساڑھے چار سو سے زائد نامور کمپنیاں حصہ لے رہی ہیں۔ افتتاحی تقریب سے قبل وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے معزز مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کانفرنس کے خدوخال اور تیاریوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔

    کانفرنس کے پہلے ہی روز دونوں ممالک کی مقتدر کمپنیوں کے مابین مجموعی طور پر 446 ملین امریکی ڈالر مالیت کے نو تاریخی تجارتی و سرمایہ کاری معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جن میں مقامی مینوفیکچرنگ، جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی، مشترکہ سرمایہ کاری اور برآمدی استعداد میں اضافے کے انقلابی منصوبے شامل ہیں۔ ان تزویراتی معاہدوں کے تحت ایل ڈی ایس اور سائنوویک ہولڈنگ گروپ کے درمیان ویکسینز کی رجسٹریشن، تجارتی فروغ اور مرحلہ وار مقامی تیاری کے لیے دو سو ملین ڈالر کا سب سے بڑا تزویراتی منصوبہ طے پایا۔ اس کے ساتھ ہی او بی ایس اور کین سائنو بائیولاجکس کے مابین پاکستان میں نمونیا ویکسین کی مقامی تیاری کے لیے پچاس ملین ڈالر، جبکہ اے جی پی اور شنگھائی یونائیٹڈ سیل بائیو ٹیکنالوجی کے مابین گروتھ ہارمون اور اورل ہیضہ ویکسین کی تیاری کا پچاس ملین ڈالر کا مشترکہ منصوبہ دستخط کیا گیا۔

    تقریب میں او بی ایس فارما اور لیائوننگ لڈان فارماسیوٹیکل کے مابین مانع حمل امپلانٹس کی مقامی پیداوار کے لیے پچاس ملین ڈالر کا معاہدہ ہوا، جبکہ جنیکس فارما اور چینی بائیوٹیک کمپنیوں کے اشتراک سے تئیس ملین ڈالر کی لاگت سے پاکستان کا پہلا جدید بائیوفارماسیوٹیکل مینوفیکچرنگ پلیٹ فارم قائم کرنے کی منظوری دی گئی جہاں مونوکلونل اینٹی باڈیز اور انسولین تیار کی جائے گی۔ علاوہ ازیں کانگچنگ لیان شن زی کانگ بائیو ٹیکنالوجی کے ساتھ پچیس ملین ڈالر کی لاگت سے گلوکوز مانیٹرنگ مصنوعات کی اسمبلنگ، تیان یوآن فارماسیوٹیکل کے ساتھ پچیس ملین ڈالر کی سرمایہ کاری سے ملک میں پہلی مرتبہ جدید ترین ذیابیطس ادویات کی مقامی پیداوار، لکی کور انڈسٹریز کا تیرہ ملین ڈالر کا معاہدہ برائے ہیپاٹائٹس ڈیلٹا ادویات اور سٹی فارما کا ینگتزی ریور فارماسیوٹیکل گروپ کے ساتھ دس ملین ڈالر کا ٹیکنالوجی منتقلی کا معاہدہ بھی حتمی شکل پا گیا۔

    پنڈال میں ڈریپ، بورڈ آف انویسٹمنٹ اور خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے خصوصی سہولت مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں سرمایہ کاروں کو ریگولیٹری رہنمائی، لائسنسنگ اور دیگر امور میں فوری حکومتی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ کانفرنس کے دوسرے اور آخری روز ڈریپ کی جانب سے عالمی ادارہ صحت کے معیارات اور پاکستان سنگل ونڈو کے ساتھ انضمام پر خصوصی تکنیکی سیشن منعقد کیا جائے گا، جس کے بعد مزید کئی کارپوریٹ مفاہمتی یادداشتوں کو حتمی شکل دیے جانے کا قوی امکان ہے۔

    مون سون 2026ء؛ این ڈی ایم اے میں ایمرجنسی رسپانس کمیٹی کا اہم اجلاس، وفاقی وزیر احسن اقبال کی صدارت

    روزینہ اسماعیل, JULY 17,2026

    اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 جولائی 2026ء

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں مون سون 2026ء کے دوران ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے اور ادارہ جاتی تیاریوں کو حتمی شکل دینے کے لیے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) میں ایمرجنسی رسپانس کمیٹی کا تیسرا اہم ترین اجلاس منعقد ہوا ہے۔ جمعہ کے روز این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، اس اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کی، جبکہ اجلاس میں چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک، مختلف وفاقی وزارتوں کے سیکرٹریز اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ نمائندگان نے شرکت کی۔

    اجلاس کے دوران ملک بھر کی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (پی ڈی ایم ایز) کی آپریشنل تیاریوں، ہنگامی ریلیف کی منصوبہ بندی، ریسکیو کے لیے ضروری وسائل کی دستیابی اور ضلعی انتظامیہ کو متحرک کرنے پر خصوصی زور دیا گیا۔ اس تزویراتی بیٹھک میں عوام کے لیے آگاہی مہمات چلانے، متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان کی بروقت ترسیل، محفوظ مقامات پر انخلاء کے ہنگامی منصوبوں اور تمام اداروں کے مابین بہترین ورکنگ ریلیشن شپ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے وفاقی وزیر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ این ای او سی کا مانیٹرنگ سیل 24 گھنٹے موسمیاتی تبدیلیوں کی نگرانی کر رہا ہے اور تمام صوبوں کو ابتدائی انتباہی نظام (ارلی وارننگ سسٹم) کے ذریعے الرٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔

    اجلاس میں وزارتِ مواصلات، وزارتِ توانائی اور واپڈا کے حکام نے بھی مون سون کے دوران اپنے اپنے محکموں کے اقدامات پر بریفنگ دی۔ کمیٹی نے بارشوں کے دوران اہم شاہراہوں کی فوری بحالی، بجلی کی بلاتعطل فراہمی کے تسلسل، ڈیموں کے پانی کے انتظام اور دریاؤں میں آبی صورتحال کی نگرانی کے تزویراتی منصوبوں کی منظوری دی۔ وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ انسانی جانوں، عوام کے روزگار اور قومی انفراسٹرکچر کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے، اس لیے تمام محکمے کاغذی کارروائی کے بجائے زمین پر مربوط اور موثر ترین ردعمل کو یقینی بنائیں۔

    غزہ کے متاثرین کے لیے متحدہ عرب امارات کی بڑی انسانی کاوش؛ 100 ٹن امدادی سامان لے کر خصوصی طیارہ روانہ

    محمود احمد, JULY 17,2026

    ابوظہبی (نیوز اینڈ نیوز) — 17 جولائی 2026ء

    متحدہ عرب امارات کی قیادت کی خصوصی ہدایات اور دیرینہ انسانی عزم کے تحت غزہ میں محصور فلسطینی عوام کی ہنگامی مدد کے لیے راس الخیمہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے 100 ٹن وزنی امدادی سامان پر مشتمل ایک بڑا مال بردار طیارہ جمعہ کے روز روانہ کر دیا گیا ہے۔ اماراتی نیوز ایجنسی ’وام‘ کے مطابق، یہ اہم امدادی پرواز آپریشن ’’الفارس الشہم۔ 3‘‘ کے تحت ہلالِ احمر امارات، اماراتی۔فلسطینی فرینڈشپ کلب اور دار البر سوسائٹی کے باہمی اشتراک و تعاون سے ترتیب دی گئی ہے، جس کا واحد مقصد غزہ کی پٹی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنے والے مظلوم فلسطینی بہن بھائیوں کی تکالیف کو کم کرنا اور ان کی فوری انسانی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔

    اس مقتدر امدادی طیارے میں خاص طور پر معصوم بچوں کے لیے پاؤڈر کا دودھ، ضروری و ہنگامی ادویات، طبی آلات اور مختلف اقسام کے ملبوسات شامل کیے گئے ہیں تاکہ جاری بحران اور جنگی حالات سے شدید متاثرہ خاندانوں اور بے گھر افراد کی بنیادی لاجسٹک ضروریات کو موقع پر پورا کر کے ان کی بحالی میں مدد کی جا سکے۔ آپریشن الفارس الشہم۔ 3 کے ریلیف آپریشنز کے مرکزی کوآرڈینیٹر حمود العفاری نے اس موقع پر اپنے ایک خصوصی بیان میں واضح کیا کہ متحدہ عرب امارات اپنی اعلیٰ قیادت کے وژن کے مطابق اپنے تمام شراکت دار انسانی اداروں کے تعاون سے فلسطینی عوام کی امداد کے لیے اپنی تمام تر لاجسٹک، مالی اور امدادی صلاحیتوں کو بروئے کار لا رہا ہے اور اس کارِ خیر میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی۔

    حمود العفاری نے مزید تزویراتی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ امارات کے اس فلاحی اقدام کا بنیادی مقصد غزہ تک انسانی، غذائی اور طبی امداد کی بلا تعطل و مسلسل فراہمی کو ہر صورت یقینی بنانا ہے، تاکہ شہریوں کی روزمرہ کی بنیادی ضروریات پوری کی جا سکیں، ان کی مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو مضبوط کیا جائے اور وہاں جنم لینے والے شدید انسانی بحران کے سنگین اثرات میں ممکنہ حد تک کمی لائی جا سکے۔ واضح رہے کہ یہ حالیہ امدادی پرواز آپریشن الفارس الشہم 3 کے مقتدر فریم ورک کے تحت غزہ کے غیور فلسطینیوں تک مسلسل سامان پہنچانے کی اماراتی کوششوں کا ایک تسلسل ہے، جو دنیا بھر میں کسی بھی انسانی یا قدرتی بحران سے متاثرہ بے سہارا افراد کی مدد کے لیے متحدہ عرب امارات کے تاریخی اور غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

    صنعتی انقلاب 5.0 کے چیلنجز؛ ایچ ای سی کی ملک بھر کی جامعات کو ڈگری پروگراموں اور نصاب پر نظرثانی کی ہدایت

    روزینہ اسماعیل, JULY 17,2026

    اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 جولائی 2026ء

    ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے عالمی صنعتی انقلاب 5.0 کے ابھرتے ہوئے تقاضوں سے ہم آہنگ اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے ملک بھر کی جامعات کو باقاعدہ ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اپنے تمام ڈگری پروگراموں اور نصاب کا ازسرِ نو جامع جائزہ لے کر انہیں جدید ترین خطوط پر ڈھالیں۔ ایچ ای سی کی جانب سے جاری کردہ آفیشل اعلامیہ کے مطابق، اس تزویراتی اقدام کا بنیادی مقصد ملکی اعلیٰ تعلیمی نظام کو مستقبل کی ضروریات کے مطابق بنانا، طلبہ کو جدید ترین ٹیکنالوجیکل مہارتوں سے آراستہ کرنا اور پاکستان کو گرین، ڈیجیٹل اور ایک جامع علمی معیشت کی جانب منتقلی میں بھرپور معاونت فراہم کرنا ہے۔

    اعلامیہ میں ملک بھر کے وائس چانسلرز اور تعلیمی سربراہان پر زور دیا گیا ہے کہ جامعات اپنے نصاب کو مستقبل کی افرادی قوت کی حقیقی ضروریات کے مطابق ترتیب دیں، جبکہ مصنوعی ذہانت ، ڈیجیٹل اسکلز اور دیگر ابھرتی ہوئی جدید ٹیکنالوجیز کو تمام مروجہ تعلیمی پروگراموں کا لازمی حصہ بنائیں۔ اس کے ساتھ ہی، صنعتی شعبوں اور جامعات کے مابین روابط کو پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط کرنے اور طلبہ کے لیے عملی تعلیم کے مواقع بڑھانے پر بھی زور دیا گیا ہے تاکہ مارکیٹ کے مطابق افرادی قوت پیدا کی جا سکے۔ ایچ ای سی نے واضح کیا ہے کہ اس تعلیمی اصلاحات کے عمل میں طلبہ کے اندر تنقیدی سوچ، اختراع اور کاروباری صلاحیتوں کے فروغ پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی۔

    ہائر ایجوکیشن کمیشن کے مطابق، اس بڑے پیمانے پر شروع کیے جانے والے قومی تبدیلی کے عمل میں جامعات، قومی نصاب جائزہ کمیٹیاں، ڈگریوں کی منظوری دینے والے مقتدر ادارے، صنعتی شعبے کے نمائندے اور مختلف مضامین کے نامور ماہرین مشترکہ طور پر حصہ لے رہے ہیں، جبکہ یہ تمام سرگرمیاں ایک خصوصی قومی ٹاسک فورس کی براہِ راست نگرانی اور رہنمائی میں انجام دی جا رہی ہیں۔ اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ جامعات کو نئے اور ابھرتے ہوئے تعلیمی شعبہ جات کی فوری نشاندہی کرنے، موجودہ پروگراموں کو اپ گریڈ کرنے اور ایسے قابلِ فخر فارغ التحصیل نوجوان تیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جو صنعتی انقلاب 5.0 کے مواقع سے ملکی معیشت کے لیے بھرپور فائدہ اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ایچ ای سی کا کہنا ہے کہ یہ تزویراتی اقدام پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی شعبے کو عالمی رجحانات کے مطابق بنانے اور قومی اقتصادی ترقی میں جامعات کے تعمیری کردار کو مزید مؤثر اور فعال بنانے کی جانب ایک اہم ترین پیشرفت ثابت ہوگا۔

    پاک چین فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر کانفرنس کا تاریخی آغاز؛ 446 ملین ڈالر مالیت کے 9 بڑے تجارتی معاہدوں پر دستخط

    کاشف عباسی , JULY 17,026

    اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 جولائی 2026ء

    پاکستان اور چین کے مابین معاشی و تزویراتی تعلقات میں ایک اور تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں وفاقی دارالحکومت میں “پاکستان چین فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس” کا باضابطہ آغاز ہو گیا ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس مقتدر دو روزہ کانفرنس کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ یہ اہم ترین کانفرنس وزارتِ قومی صحت، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ)، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور بورڈ آف انویسٹمنٹ کے مشترکہ اشتراک سے منعقد کی جا رہی ہے، جس میں تین سو سے زائد پاکستانی اور ایک سو پچاس معروف چینی صنعتی اداروں سمیت ساڑھے چار سو سے زائد کمپنیاں حصہ لے رہی ہیں۔ افتتاحی تقریب سے قبل وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے معزز مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کانفرنس کے تزویراتی خدوخال پر تفصیلی بریفنگ دی۔

    وفاقی وزیرِ صحت نے چینی وفد کو آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ پاکستان آپ کا دوسرا گھر ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ پاک چین ‘آہنی بھائی چارے’ کو مشترکہ صنعتوں، کارخانوں کے قیام اور ٹیکنالوجی کی باقاعدہ منتقلی کے ذریعے زمین پر حقیقت کا روپ دیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو ماہ کی مشترکہ کوششوں کے بعد سرمایہ کاری کے لیے سات اہم شعبوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں ایکٹو فارماسیوٹیکل اجزاء، جدید طبی آلات، ویکسین اور بائیولوجکس شامل ہیں۔ تقریب کے دوران دونوں ممالک کی مقتدر کمپنیوں کے مابین مجموعی طور پر 446 ملین امریکی ڈالر مالیت کے نو تاریخی تجارتی معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جو مقامی مینوفیکچرنگ اور برآمدی استعداد میں انسدادِ تفاوت کا باعث بنیں گے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چین کے سفیر جیانگ زیڈونگ نے کہا کہ چین اور پاکستان کی ہر موسم کی تزویراتی شراکت داری ناقابلِ شکست ہے اور چین سی پیک فیز 2.0 کے تحت اپنی جدید ترین ہیلتھ ٹیکنالوجی پاکستان کو منتقل کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

    ان تزویراتی معاہدوں کے تحت لائب ڈائیگنوسٹک سسٹمز اور سائنو ویک ہولڈنگ گروپ کے درمیان ویکسینز کی رجسٹریشن اور مرحلہ وار مقامی مینوفیکچرنگ کے لیے دوسو ملین ڈالر کا سب سے بڑا منصوبہ طے پایا۔ اس کے ساتھ ہی او بی ایس اور کین سائنو بائیولوجکس کے مابین پاکستان میں نمونیا ویکسین کی مقامی تیاری کے لیے پچاس ملین ڈالر جبکہ اے جی پی اور شنگھائی یونائیٹڈ سیل بائیوٹیک کے درمیان گروتھ ہارمون اور ہیضہ ویکسین کی تیاری کا پچاس ملین ڈالر کا مشترکہ منصوبہ دستخط کیا گیا۔ تقریب میں او بی ایس فارما اور لیاؤننگ لوڈان فارما کے مابین مانع حمل امپلانٹس کی مقامی پیداوار کے لیے پچاس ملین ڈالر اور جینکسا فارما کا چینی بائیوٹیک اداروں کے ساتھ بائیو فارماسیوٹیکل مینوفیکچرنگ پلیٹ فارم کے لیے تئیس ملین ڈالر کا معاہدہ بھی ہوا جہاں انسولین اور دیگر حیاتیاتی ادویات تیار ہوں گی۔ علاوہ ازیں چونگ چنگ لیان نکسن کے ساتھ پچیس ملین ڈالر کی لاگت سے گلوکوز مانیٹرنگ مصنوعات کی اسمبلنگ، تیان یوآن فارما کے ساتھ پچیس ملین ڈالر سے جدید ترین ذیابیطس ادویات کی مینوفیکچرنگ، لکی کور انڈسٹریز کا تیرہ ملین ڈالر کا معاہدہ برائے ہیپاٹائٹس ڈیلٹا ادویات اور سٹی فارما کا یانگسی ریور فارماسیوٹیکل کے ساتھ دس ملین ڈالر کا ٹیکنالوجی منتقلی کا معاہدہ بھی حتمی شکل پا گیا۔

    تقریب سے وزیراعظم کے معاونِ خصوص برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے بھی خطاب کیا۔ افتتاح کے فوراً بعد باقاعدہ بی ٹو بی میچ میکنگ سیشن شروع ہوا، جبکہ پنڈال میں ڈریپ، بورڈ آف انویسٹمنٹ اور خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے خصوصی ڈیسک قائم کیے گئے ہیں تاکہ سرمایہ کاروں کو فوری لائسنسنگ اور ریگولیٹری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ کانفرنس کے دوسرے اور آخری روز ڈریپ کی جانب سے عالمی ادارہ صحت کے معیارات اور پاکستان سنگل ونڈو کے ساتھ انضمام پر تکنیکی سیشن منعقد کیا جائے گا، جس کے بعد مزید کارپوریٹ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط متوقع ہیں۔

    وینزویلا میں دو طاقتور زلزلوں کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 4 ہزار 930 تک پہنچ گئی؛ مقتدر بحالی آپریشن جاری

    محمود احمد, JULY 17,2026

    کراکس (نیوز اینڈ نیوز) — 17 جولائی 2026ء

    جنوبی امریکی ملک وینزویلا میں آنے والے دو پے در پے انتہائی طاقتور اور تباہ کن زلزلوں کے نتیجے میں جانی نقصان کے ہولناک اعداد و شمار سامنے آئے ہیں، جہاں اموات کی مجموعی تعداد بڑھ کر 4 ہزار 930 ہو گئی ہے۔ اماراتی نیوز ایجنسی ‘وام’ کی جانب سے جاری کردہ وینزویلا کے سرکاری بیان کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملبے سے مزید لاشیں نکالنے کے بعد مزید 101 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ افسوسناک امر یہ ہے کہ طویل وقت گزرنے کے باعث اب ملبے سے مزید افراد کو زندہ نکالنے کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں اور گزشتہ 24 گھنٹوں میں محفوظ نکالے گئے افراد کی تعداد میں کوئی اضافہ نہیں ہو سکا۔

    مقتدر حکومتی مانیٹرنگ سیل اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام نے زلزلے کے بعد کی صورتحال پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ اس وقت بھی 17 ہزار 907 افراد شدید طور پر بے گھر ہیں، جبکہ 21 Client دو سو دس متاثرین کو حکومت اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے قائم کردہ 107 عارضی امدادی کیمپوں میں ہنگامی طور پر رکھا گیا ہے جہاں انہیں خوراک اور طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ حالیہ تزویراتی رپورٹ کے مطابق، ان شدید زلزلوں کے جھٹکوں سے مجموعی طور پر 856 بڑی عمارتوں اور رہائشی بلاکس کو شدید نقصان پہنچا ہے، جن میں سے 190 عمارتیں مکمل طور پر زمین بوس ہو چکی ہیں۔

    زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں لاشوں کو نکالنے، ملبہ ہٹانے اور بحالی کی کارروائیوں کو تیز کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر افرادی قوت کام کر رہی ہے۔ اس وقت جائے وقوعہ پر دنیا کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے 2 ہزار 278 غیر ملکی امدادی ماہرین اور اہلکار، مقامی سول و عسکری اداروں کے 30 ہزار 989 اہلکار اور 31 ہزار 745 مقامی و بین الاقوامی رضاکار دن رات امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔ وینزویلا کی حکومت نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اس بڑی قدرتی آفت سے نمٹنے اور انفراسٹرکچر کی تعمیرِ نو کے لیے اپنے تعاون میں مزید اضافہ کرے۔

    ڈی جی پی ایف اے راجہ منصور احمد کی ہدایت پر 22 فوڈ یونٹس کی چیکنگ، 2 یونٹس سیل اور 18 کو لاکھوں روپے جرمانہ؛ 2 مقدمات بھی درج

    کاشف عباسی , JULY 17,026

    لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 17 جولائی 2026ء

    پنجاب فوڈ اتھارٹی (پی ایف اے) نے صوبے کے مختلف اضلاع میں ملاوٹ مافیا اور مضرِ صحت خوراک فروخت کرنے والوں کے خلاف ایک بڑا تزویراتی کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 1 ہزار 550 لیٹر ناقص و بدبودار آئل، 200 کلو گرام مضرِ صحت گوشت اور بھاری مقدار میں ممنوعہ اجزاء موقع پر ہی تلف کر دیے ہیں۔ ترجمان پی ایف اے کے مطابق، ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی راجہ منصور احمد کی خصوصی اور براہِ راست ہدایات پر فوڈ سیفٹی ٹیموں نے مہم کے دوران 22 اہم فوڈ یونٹس کا تفصیلی معائنہ کیا، جن میں سے سنگین خلاف ورزیوں پر 2 یونٹس کو فوری طور پر سیل (بند) کر دیا گیا، جبکہ 18 یونٹس کو مجموعی طور پر 4 لاکھ 56 ہزار روپے کے جرمانے عائد کیے گئے اور قانون کی سخت خلاف ورزی پر 2 دکان داروں کے خلاف مقدمات بھی درج کرائے گئے۔

    کارروائیوں کی تزویراتی تفصیلات بتاتے ہوئے ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی راجہ منصور احمد نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ لاہور کی بکر منڈی میں واقع ایک حویلی پر چھاپے کے دوران بھاری مقدار میں ناقص اور بیماریوں کا سبب بننے والا گوشت برآمد ہوا، جس پر جعلسازی اور عوامی صحت سے کھیلنے کے الزام میں ملوث عناصر کے خلاف فوری ایف آئی آر درج کرا دی گئی ہے۔ اسی طرح، سمسانی روڈ پر ایک بڑے آئل گودام کی چیکنگ کے دوران صفائی کے انتہائی ناقص انتظامات اور غیر معیاری سٹوریج پر مقدمہ درج کیا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جی ٹی روڈ پر واقع ایک معروف ریسٹورنٹ اور گھوڑے شاہ کے علاقے میں ایک غیر معیاری فوڈ یونٹ کو بھی سیل کیا گیا ہے۔ ان تمام کارروائیوں کے دوران صفائی کے ابتر حالات، فوڈ سیفٹی قوانین کی کھلی خلاف ورزیوں اور انتہائی بدبودار ماحول جیسے سنگین نقائص پائے گئے۔

    راجہ منصور احمد نے صوبے بھر میں خوراک کا کاروبار کرنے والے تمام مالکان اور مینیجرز کو مقتدر تنبیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ اتھارٹی کے وضع کردہ مقررہ قوانین پر من و عن عملدرآمد کو یقینی بنائیں، کیونکہ عوامی صحت کا تحفظ اور شہریوں کو معیاری غذا کی فراہمی پنجاب فوڈ اتھارٹی کی اولین ترین ترجیح ہے۔ انہوں نے عزم دہرایا کہ صوبے بھر میں ملاوٹ اور ناقص اشیاء کی فروخت کے خلاف ‘زیرو ٹالرنس’ پالیسی کے تحت بلاامتیاز کارروائیاں آئندہ بھی پوری قوت کے ساتھ جاری رکھی جائیں گی۔

    شنگھائی ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کانفرنس؛ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے اہم ملاقات

    محمود احمد, JULY 17,2026

    شنگھائی/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 جولائی 2026ء

    نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے شنگھائی میں منعقدہ عالمی نمائش ‘ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کانفرنس’ کے مقتدر موقع پر اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ایک اعلیٰ سطحی تزویراتی ملاقات کی ہے۔ نائب وزیراعظم نے اس سفارتی ملاقات پر گہرے اطمینان اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے دونوں جانب سے عالمی امور پر ہم آہنگی بڑھانے کا ایک بہترین ذریعہ قرار دیا ہے۔

    جمعہ کے روز سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹویٹر) پر جاری اپنے ایک آفیشل پیغام میں سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ شنگھائی میں ہونے والی یہ ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کانفرنس درحقیقت جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک انتہائی اہم اور نیا بین الاقوامی پلیٹ فارم بن کر ابھرا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے اقوامِ متحدہ کے فورمز پر ہونے والی اپنی حالیہ ملاقاتوں اور ٹیلیفونک رابطوں کو خوشگوار انداز میں یاد کیا، اور اس تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے خطے سمیت دنیا بھر میں ہونے والی تازہ ترین سیاسی و سیکیورٹی پیش رفت پر گہرائی سے تبادلہ خیال کیا۔

    نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ کے مطابق، ملاقات میں مشترکہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے، دنیا بھر میں پائیدار امن کے فروغ، اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کی منصفانہ حاصلات اور تمام ترقی پذیر ممالک کے لیے مساوی و جامع معاشی پیش رفت کو آگے بڑھانے کے لیے کثیرالجہتی سفارتی تعاون کی اہمیت پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ پاکستان مصنوعی ذہانت جیسی جدید ٹیکنالوجیز تک دنیا کے تمام خطوں کی یکساں رسائی کے لیے اقوامِ متحدہ کے وژن کا مکمل حامی ہے اور عالمی چیلنجز کے حل کے لیے کثیرالجہتی فورمز پر اپنا تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔

    رینجرز، سندھ پولیس اور اینٹی انکروچمنٹ فورس کا مشترکہ کریک ڈاؤن؛ سینڈز پٹ، ویسٹ وارف، گلشنِ سکندر آباد اور سستی بستی میں تجاوزات مسمار

    منصور احمد, JULY 17,2026

    کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 17 جولائی 2026ء

    وزیراعظم کی قائم کردہ خصوصی ٹاسک فورس کی براہِ راست ہدایات پر کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) نے سرکاری اراضی پر قائم غیر قانونی تجاوزات کے خلاف اب تک کا سب سے بڑا اور فیصلہ کن مشترکہ آپریشن کرتے ہوئے کروڑوں روپے مالیت کی 19 ایکڑ تزویراتی اراضی قبضہ مافیا سے واگزار کرا لی ہے۔ اس گرینڈ آپریشن کو کامیاب بنانے کے لیے پاکستان رینجرز، سندھ پولیس، اینٹی انکروچمنٹ فورس اور کے پی ٹی کے مختلف فعال شعبوں نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بھرپور تعاون اور کے پی ٹی کے عملے کی مربوط حکمتِ عملی کے تحت غیر قانونی قابضین کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی گئی، جس کے نتیجے میں نہ صرف 19 ایکڑ وسیع و عریض رقبہ آزاد کرایا گیا بلکہ دو اہم پلاٹس بھی واپس اپنے قبضے میں لے لیے گئے ہیں۔

    کے پی ٹی حکام کے مطابق، اس کثیر الجہتی انسدادِ تجاوزات مہم کے دوران کراچی کے اہم ساحلی اور صنعتی زونز، بالخصوص سینڈز پٹ، گلشنِ سکندر آباد، سستی بستی اور ویسٹ وارف میں قائم غیر قانونی تعمیرات کو مکمل طور پر زمین بوس کیا گیا۔ آپریشن کے دوران بھاری مشینری کا استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی کچی جھونپڑیاں، پکی چار دیواریاں، غیر قانونی پتھریلی بنیادیں اور قائم کیے گئے مویشی فارمز مسمار کر دیے گئے۔ اس کے ساتھ ہی، عدالتی احکامات کی روشنی میں ویسٹ وارف کے دو اہم پلاٹس کو بھی غیر قانونی تسلط سے کامیابی سے واگزار کروا کر مستقل بنیادوں پر کے پی ٹی کے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے سپرد کر دیا گیا ہے۔

    وزیراعظم کی ٹاسک فورس کے تحت کراچی میں جاری انسدادِ تجاوزات مہم کو مزید تیز اور سخت کرنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ کے ترجمان نے عزم کا اظہار کیا ہے کہ پورٹ کی حدود اور اس کے ملحقہ علاقوں میں سرکاری اراضی پر کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی یا قبضے کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا، اور قیمتی اراضی کے تحفظ اور قبضہ مافیا کے مکمل خاتمے کے لیے رینجرز اور پولیس کے اشتراک سے یہ تزویراتی مہم آئندہ بھی پوری قوت کے ساتھ جاری رکھی جائے گی۔

    تربیلا ڈیم کے حفاظتی سپل ویز کھول دیے گئے؛ دریائے سندھ کے نشیبی علاقوں میں پانی کے بہاؤ میں شدید اضافے کا الرٹ

    منصور احمد, JULY 17,2026

    تربیلا (نیوز اینڈ نیوز) — 17 جولائی 2026ء

    ملک کے بالائی علاقوں میں گرمی کی شدت بڑھنے کے باعث گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور حالیہ بارشوں کے نتیجے میں تربیلا ڈیم میں پانی کی آمد میں غیر معمولی اضافہ درج کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیم انتظامیہ نے حفاظتی اقدامات کے تحت سپل ویز کو باقاعدہ طور پر کھول دیا ہے۔ سپل ویز کھولے جانے کے باعث دریائے سندھ کے نشیبی علاقوں میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، جس کے پیشِ نظر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ہنگامی ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے دریائے سندھ اور اس کے ملحقہ علاقوں میں ہر قسم کی سیاحتی سرگرمیوں سے فوری اور مکمل گریز کرنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔

    تربیلا ڈیم انتظامیہ نے اس حوالے سے باقاعدہ الرٹ جاری کرتے ہوئے مقامی آبادی اور سیاحوں پر زور دیا ہے کہ وہ تیز بہاؤ کے دوران آبی گزرگاہوں اور دریا کے کناروں سے دور رہیں۔ انتظامیہ کے مطابق بالخصوص لیہ، بھکر اور میانوالی کے نشیبی علاقوں میں پانی کا انتہائی تیز بہاؤ متوقع ہے جس سے دریا کے قریبی علاقوں اور کچے کی آبادیوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اس نازک صورتحال کے پیشِ نظر این ڈی ایم اے ممکنہ خطرات کی مسلسل مانیٹرنگ اور پیشگی تشخیص کر رہا ہے تاکہ متعلقہ ضلعی انتظامی اداروں، ریسکیو ٹیموں اور عام عوام کو بروقت ضروری معلومات فراہم کر کے کسی بھی ممکنہ جانی و مالی نقصان سے محفوظ رکھا جا سکے۔

    جدید بحری جہاز ‘ایم وی گرینڈے شنگھائی’ کامیابی سے لنگر انداز؛ وقت اور اخراجات میں واضح کمی ہوگی، وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری کا مقتدر بیان

    منصور احمد, JULY 17,2026

    کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 17 جولائی 2026ء

    پاکستان کی بحری تجارت کی تاریخ میں ایک نیا اور انقلابی تزویراتی باب رقم ہو گیا ہے، جہاں ملک کی پہلی رورو (رول آن/رول آف) شپمنٹ کے ذریعے 2 ہزار سے زائد جدید الیکٹرک گاڑیاں کامیابی کے ساتھ کراچی پہنچ گئی ہیں۔ وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انوار چوہدری نے اس مقتدر کامیابی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کو لے کر آنے والا وشال تجارتی بحری جہاز “ایم وی گرینڈے شنگھائی” کراچی پورٹ کے کے جی ٹی ایم ایل ٹرمینل پر کامیابی سے لنگرانداز ہو گیا ہے۔

    وفاقی وزیر نے اس اہم پیش رفت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ رورو جہاز کے ذریعے پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں الیکٹرک گاڑیوں کی محفوظ درآمد پاکستان کی بحری تجارت اور معیشت میں ایک تاریخی سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے رورو ٹیکنالوجی کے فوائد کا تذکرہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ ان مخصوص جہازوں میں تمام گاڑیوں کو روایتی کرینوں کے بجائے براہِ راست چلا کر لوڈ اور اَن لوڈ کیا جاتا ہے، جس کی بدولت قیمتی وقت کی بچت کے ساتھ ساتھ بندرگاہی اخراجات میں بھی نمایاں کمی واقع ہوتی ہے۔

    وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری نے پختہ عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ ان جدید بندرگاہی سہولیات کے باعث ملک کی مجموعی تجارتی صلاحیت پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور مستحکم ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کراچی پورٹ اب روایتی طریقوں سے نکل کر عالمی معیار کی جدید ترین شپنگ خدمات اور ماحول دوست ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کی جانب تیزی سے گامزن ہے، جس کے دور رس نتائج ملکی معیشت پر مرتب ہوں گے۔

    وزیراعظم یوتھ پروگرام کا ’’پیووٹ‘‘ پروگرام شروع، عالمی پاکستانی نوجوانوں کو قومی ترقی سے جوڑنے کا اقدام

    محمود احمد, JULY 17,2026

    نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 17 جولائی 2026ء

    وزیراعظم یوتھ پروگرام نے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کے اشتراک سے نیویارک میں واقع پاکستان مشن میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران انقلابی “پیووٹ” پروگرام کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ “کنکشن ٹو کنٹری بیوشن پاکستانی یوتھ ڈائسپورا کنیکٹ” کے عنوان سے منعقدہ اس مقتدر تقریب میں امریکہ بھر سے تعلق رکھنے والے ممتاز پاکستانی نوجوان پیشہ ور افراد، نامور کاروباری شخصیات، محققین، طلبہ اور کمیونٹی رہنماؤں نے شرکت کی اور پاکستان کے نوجوانوں کی رہنمائی اور علمی شراکت داری میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ اس جدید پروگرام کا بنیادی مقصد دنیا بھر میں مقیم پاکستانی نوجوانوں کو وطنِ عزیز کے نوجوان طبقے کے ساتھ مینٹورشپ، علم و تجربے کے تبادلے، پیشہ ورانہ روابط، ٹیکنالوجی اور تعلیم کے شعبوں میں باقاعدہ طور پر منسلک کرنا ہے۔

    تقریب سے اپنے کلیدی خطاب میں چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے کہا کہ “پیووٹ” کا آغاز پاکستان اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانی نوجوانوں کے مابین ایک شاندار تزویراتی باب کا آغاز ہے۔ انہوں نے اوورسیز نوجوانوں کو “پاکستان اور مستقبل کے درمیان ایک زندہ پل” قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ پلیٹ فارم خیرات کا نہیں بلکہ باہمی شراکت داری کا ایک فعال تصور ہے جس کا مقصد بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے عالمی تجربات سے فائدہ اٹھا کر ملک میں جدت طرازی کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں یوتھ پروگرام تعلیم، روزگار، شمولیت اور ماحولیات جیسے بنیادی ستونوں پر کام کر رہا ہے اور پاکستانی نوجوانوں کو اقوامِ متحدہ سمیت عالمی اداروں میں نمائندگی کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔

    اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے استقبالیہ خطاب میں پاکستان کے نوجوانوں اور تارکینِ وطن کو قومی ترقی کے دو سب سے اہم ستون قرار دیا۔ انہوں نے “پیووٹ” کے آغاز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ تزویراتی شراکت داری قومی معیشت کو نئی رفتار دے گی اور پاکستان کا مستقل مشن نوجوانوں کی عالمی سفارت کاری میں بااعتماد شرکت کو یقینی بناتا رہے گا۔ تقریب کے دوران وزیراعظم یوتھ پروگرام کی فوکل پرسن برائے یو این امور محترمہ بسمہ قمر نے “پیووٹ” کا تعارفی خاکہ پیش کیا جبکہ فوکل پرسن برائے تعلیم محترمہ سدرا قمر نے پروگرام کا جامع جائزہ پیش کیا اور کونسلر صائمہ سلیم نے تقریب کی نظامت کے فرائض انجام دیے۔

    سینیٹر لنزے گراہم کی یادگاری تقریب ملتوی؛ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کا دورہِ امریکہ منسوخ

    محمود احمد, JULY 16,2026

    تل ابیب (نیوز اینڈ نیوز) — 16 جولائی 2026ء

    اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو آئندہ ہفتے شیڈول اپنا دورہِ امریکہ نہیں کریں گے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے باضابطہ تصدیق کی ہے کہ امریکی سینیٹر لنزے گراہم کی یاد میں ہونے والی تعزیتی تقریب کے ملتوی ہونے کے باعث بنجمن نیتن یاہو نے اپنا دورہِ امریکہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے قبل توقع کی جا رہی تھی کہ اسرائیلی وزیر اعظم ہفتے کے روز امریکہ روانہ ہوں گے اور آخری رسومات و یادگاری تقریب میں شرکت کے لیے منگل تک وہاں قیام کریں گے، تاہم تقریب مؤخر ہونے کے بعد اب وہ تل ابیب میں ہی قیام کریں گے۔

    واضح رہے کہ امریکی سینیٹر لنزے گراہم، جو عالمی سطح پر اسرائیل کے کٹر حامی اور ایران کے سخت ترین مخالف سمجھے جاتے تھے، مختصر علالت کے بعد گزشتہ ہفتے انتقال کر گئے تھے۔ سینیٹر لنزے گراہم کی وفات پر تعزیت کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے انہیں اپنا انتہائی قریبی دوست اور امریکہ اسرائیل تزویراتی اتحاد کا زبردست حامی قرار دیا تھا، جبکہ اسرائیل کی سلامتی اور دفاع کے لیے ان کے غیر متزلزل عزم اور خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا تھا۔ یادگاری تقریب کی نئی تاریخ سامنے نہ آنے کے باعث نیتن یاہو کے دورے کا نیا شیڈول فی الحال جاری نہیں کیا گیا۔

    امریکہ کی حقیقی طاقت اس کی جامعات ہیں، پاکستان بھی علم پر مبنی معیشت کی بنیاد رکھ رہا ہے؛ احسن اقبال کا بوسٹن کا اہم دورہ

    روزینہ اسماعیل, JULY 16,2026

    اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 16 جولائی 2026ء

    وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے اپنے دورہ بوسٹن کے دوران امریکی تعلیمی اداروں، ممتاز محققین اور جدت طراز اداروں کے سربراہان سے اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد ہائی ٹیک تعلیم، موسمیاتی لچک، معاشی ترقی، پبلک پالیسی اور اختراع کے شعبوں میں پاک امریکہ ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دینا تھا۔ وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ پاکستان معیاری تعلیم، تحقیق اور جدید ایجادات میں سرمایہ کاری کے ذریعے علم پر مبنی معیشت کی بنیاد رکھ رہا ہے اور اس تزویراتی ہدف کے حصول کے لیے حکومت عالمی معیار کے اداروں کے ساتھ شراکت داری کو مزید وسعت دے گی۔

    وزارتِ منصوبہ بندی کی جانب سے جمعرات کو جاری پریس ریلیز کے مطابق، پروفیسر احسن اقبال نے بوسٹن یونیورسٹی کا دورہ کیا جہاں انہوں نے عادل نجم اور ڈاکٹر کین لچن سے ملاقات کی۔ وفاقی وزیر نے حکومت کے فلیگ شپ منصوبے ‘امریکا پاکستان نالج کاریڈور’ پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ اس کے تحت 10 ہزار پاکستانی طلبہ کو دنیا کی بہترین جامعات سے پی ایچ ڈی کروانے کا ہدف ہے۔ انہوں نے ایک ایسے اشتراکی ماڈل کی تجویز پیش کی جس کے تحت پاکستانی محققین پاکستان کے ترقیاتی چیلنجز پر امریکی جامعات میں تحقیق کریں، جس میں تعلیمی اخراجات امریکی جامعات اور سفری و انتظامی اخراجات حکومتِ پاکستان برداشت کرے، جسے امریکی حکام نے بے حد سراہا۔ انہوں نے وفاقی سطح پر اعلیٰ تعلیم کے نصاب اور تدریس میں مصنوعی ذہانت کو مؤثر انداز میں شامل کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔ بعد ازاں، انہوں نے پائیدار ترقیاتی پالیسی مرکز کا دورہ کیا اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ تحقیق پر اتفاق کیا۔

    پروفیسر احسن اقبال نے ہارورڈ کینیڈی اسکول کے ‘گروتھ لیب’ کا بھی دورہ کیا، جہاں ‘اڑان پاکستان’ کے تحت ملک کی طویل المدتی معاشی حکمتِ عملی اور ایک کھرب ڈالر کی معیشت کے ہدف پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ وفاقی وزیر نے گروتھ لیب کو پاکستان کی برآمدات کو 100 ارب ڈالر تک لے جانے، صنعتی ترقی اور پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے قابلِ عمل سفارشات فراہم کرنے اور قومی ترقیاتی حکمتِ عملی کی تشکیل میں شراکت داری کی دعوت دی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی آئندہ معاشی ترقی کی بنیاد صرف پیداواریت، اختراع اور برآمدات میں اضافہ پر ہوگی۔

    وفاقی وزیر نے ہارورڈ یونیورسٹی اور میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے مشترکہ تحقیقی ادارے ‘جے پال’ کا بھی دورہ کیا اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر اقبال دھالیوال سے غربت میں کمی اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی پر تبادلہ خیال کیا۔ احسن اقبال نے یہاں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا آزادانہ جائزہ لینے کی تجویز پیش کی تاکہ اس کی افادیت کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ دورے کے آخری مرحلے میں انہوں نے کیمبرج انوویشن سینٹر اور وینچر کیفے کا دورہ کیا اور جامعات، صنعت اور سرمایہ کاروں کے مابین روابط کو پاکستانی معیشت کے لیے رول ماڈل بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    شہریوں پر حملوں، نسلی قتلِ عام اور جنسی تشدد پر گہری تشویش؛ سلامتی کونسل میں بریفنگ کے دوران پاکستان کے پولیٹیکل کوآرڈینیٹر گل قیصر سَرْوانی کا مقتدر خطاب

    محمود احمد, JULY 16,2026

    اقوامِ متحدہ، نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 16 جولائی 2026ء

    پاکستان نے سوڈان کے شورش زدہ علاقے دارفور میں ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کی جانب سے نہتے شہریوں پر وحشیانہ حملوں، نسلی بنیادوں پر قتلِ عام، جنسی تشدد، جبری بے دخلی اور سویلین تنصیبات کی دانستہ تباہی سمیت دیگر سنگین مظالم کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔

    اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں دارفور کی سنگین صورتحال سے متعلق بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی رپورٹ پر ہونے والی بریفنگ کے دوران پاکستان کے کونسلر اور پولیٹیکل کوآرڈینیٹر گل قیصر سَرْوانی نے وہاں کی بگڑتی ہوئی انسانی و سیکیورٹی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے عالمی برادری کو سخت خبردار کیا کہ اگر آر ایس ایف نے العبید کے علاقے پر حملہ کیا تو اس سے مزید سنگین نوعیت کے بین الاقوامی انسانی جرائم کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

    گل قیصر سَرْوانی نے تزویراتی نکتہ اجاگر کرتے ہوئے زور دیا کہ انسانیت کے خلاف ان سنگین جرائم کے اصل ذمہ دار عناصر کے ساتھ ساتھ ایسے جرائم کی مالی معاونت، سہولت کاری یا کسی بھی دوسرے طریقے سے مدد کرنے والے کرداروں کا بھی بلاتفریق اور مؤثر احتساب ہونا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ احتساب کا کوئی بھی عمل تکمیلیت، قومی خودمختاری اور سوڈانی قیادت کی اپنی ملکیت کے اصولوں کے عین مطابق ہونا چاہیے، جبکہ پائیدار اور قابلِ اعتماد انصاف کے حصول کے لیے سوڈان کے اپنے قومی عدالتی اداروں کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔

    انہوں نے سوڈان کی خودمختاری، قومی اتحاد اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی غیرمتزلزل سفارتی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ سوڈان کے برادر عوام امن، انصاف اور ایک باوقار زندگی گزارنے کے مستحق ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی سخت زور دیا کہ بین الاقوامی انصاف کو ہر معاملے میں بلاامتیاز، مکمل طور پر غیرجانبدارانہ اور دوہرے معیار کے بغیر نافذ کیا جانا چاہیے، کیونکہ کسی بھی قانون کی ساکھ اس کے مساوی اور یکساں اطلاق پر ہی منحصر ہوتی ہے۔

    الجیریا کے دارالحکومت میں یتیم خانے میں ہولناک آتشزدگی؛ دم گھٹنے اور جھلسنے سے 11 معصوم بچے جاں بحق، 19 افراد شدید زخمی

    محمود احمد, JULY 16,2026

    الجزائر (نیوز اینڈ نیوز) — 16 جولائی 2026ء

    الجیریا کے دارالحکومت الجزائر میں واقع ایک یتیم خانے میں اچانک ہولناک آگ بھڑک اٹھے کے نتیجے میں 11 معصوم بچے جھلس کر جاں بحق جبکہ 19 دیگر افراد شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ چینی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق، مقامی امدادی حکام نے سانحے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ آگ اس قدر تیزی سے پھیلی کہ عمارت میں موجود بچوں کو باہر نکلنے کا موقع نہ مل سکا۔

    ابتدائی رپورٹ کے مطابق، حادثے میں زخمی ہونے والے 19 افراد میں سے 10 افراد شدید طور پر جھلس گئے ہیں، 2 افراد کو دھویں کی وجہ سے سانس لینے میں سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑا جبکہ 7 افراد اس اچانک آفت کے باعث شدید صدمے (شاک) کی حالت میں مبتلا ہو گئے۔ فائر فائٹرز اور ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا اور لاشوں و زخمیوں کو عمارت سے باہر نکالا۔

    امدادی اداروں نے شدید زخمی ہونے والے 10 افراد کو جائے وقوعہ پر ہی ہنگامی ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا ہے، جہاں ڈاکٹروں کے مطابق بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یتیم خانے میں آگ لگنے کی حتمی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی ہے، تاہم پولیس اور متعلقہ سیکیورٹی اداروں نے واقعے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔