پاکستان ریلوے کی بحالی اور جدید کاری کے لیے 2033ء تک کے 10 سالہ سٹریٹجک روڈ میپ پر کام کا آغاز؛ ایم ایل-1 اور ایم ایل-3 شامل

کاشف عباسی , JULY 23,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 23 جولائی 2026ء

حکومتِ پاکستان نے ملک میں ریلوے کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے، محفوظ بنانے اور ادارے کو مالی طور پر خودمختار و مستحکم کرنے کے لیے 2033ء تک کے 10 سالہ جامع سٹریٹجک روڈ میپ پر باقاعدہ کام شروع کر دیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر برائے ریلوے محمد حنیف عباسی نے اسلام آباد میں ‘اُڑان پاکستان’ پروگرام کے تحت پاکستان ریلوے کی بحالی و اصلاحات سے متعلق منعقدہ خصوصی اعلیٰ سطحی گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

وفاقی وزیر نے کانفرنس کے شرکاء کو بتایا کہ 10 سالہ روڈ میپ کے تحت مین لائن 1 (ML-1) اور مین لائن 3 (ML-3) کی اپ گریڈیشن، علاقائی مواصلاتی رابطوں کا فروغ اور ادارے کے تمام شعبوں کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن جیسے اہم منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے۔

محمد حنیف عباسی نے ریلوے کی شاندار مالیاتی پیش رفت پر روشنی ڈالتے ہوئے انکشاف کیا کہ مالی سال 2025-26ء کے دوران پاکستان ریلوے نے 115 ارب روپے کی تاریخ ساز اور ریکارڈ آمدنی حاصل کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ادارے کی مجموعی آمدن میں 24.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، مال برداری (فرائیٹ) کی آمدن 32 ارب سے بڑھ کر 41 ارب روپے تک پہنچ گئی، جبکہ پراپرٹی و لینڈ ریونیو میں 113 فیصد کی تاریخی ترقی ہوئی۔ اس کے علاوہ آپریٹنگ ریشو 96 فیصد سے بہتر ہو کر 84 فیصد پر آ گئی ہے۔

وزیر ریلوے نے فورم کے انعقاد پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ریلوے کی بحالی محض ٹرانسپورٹ کا ایک ذریعہ نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی ترقی کا بنیادی ستون ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ‘تھر کول ریلوے کنیکٹیوٹی’ منصوبے پر 60 فیصد سے زائد کام مکمل ہو چکا ہے اور اسے دسمبر 2026ء تک مکمل کر لیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ای آر پی سسٹمز، ڈیجیٹل ٹکٹنگ، سمارٹ ریلوے سٹیشنز اور نجی شعبےکی شراکت داری سے پاکستان ریلوے کو جلد ہی قومی ترسیل و لاجسٹکس کی اصل ریڑھ کی ہڈی بنا دیا جائے گا۔

گلیشیئرز پگھلنے اور سیلابی ریلوں سے متاثرہ علاقوں میں فوری امداد و بحالی کے کام تیز کیے جائیں؛ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ہدایت

روزینہ اسماعیل, JULY 23,2026

گلگت (نیوز اینڈ نیوز) — 23 جولائی 2026ء

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے خطے میں جاری شدید بارشوں، گلیشیئرز کے پگھلنے اور سیلابی ریلوں کے باعث متاثرہ علاقوں میں ہنگامی امدادی اور بحالی کی سرگرمیوں کو مزید تیز کرنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔

اپنے ایک اہم بیان میں وزیراعلیٰ نے تمام متعلقہ محکموں، جی بی ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ کو چوبیس گھنٹے ہائی الرٹ پر رہنے کا حکم دیا تاکہ شہریوں کے جان و مال کا مؤثر تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

وزیراعلیٰ امجد حسین نے محکمہ خوراک اور صحت کو خصوصی ہدایات دیں کہ متاثرہ اضلاع میں راشن، پینے کے صاف پانی، خیموں، ادویات اور دیگر اشیائے ضروریہ کی فوری و بلا تعطل فراہمی ممکن بنائی جائے۔ اس کے علاوہ، سیلابی ریلوں سے متاثر ہونے والے بنیادی ڈھانچے، پلوں، مرکزی شاہراہوں اور ذیلی رابطہ سڑکوں کی ہنگامی بنیادوں پر مرمت اور آمد و رفت کی بحالی کے لیے بھاری مشینری کو فیلڈ میں متحرک کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

انہوں نے گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (جی بی ڈی ایم اے) کو نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے ساتھ مسلسل اور مکمل رابطے میں رہنے کی تاکید کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے عزم ظاہر کیا کہ حکومت اس مشکل گھڑی میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور تمام دستیاب وسائل متاثرین کی بحالی پر صرف کیے جائیں گے۔ تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو خود فیلڈ میں جا کر امدادی کاموں کی نگرانی کرنے اور روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ چیف منسٹر سیکرٹریٹ کو ارسال کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔

واشنگٹن میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی اہم ملاقاتیں؛ امریکی ایگزم بینک کے صدر اور آئی ایم ایف کے فرسٹ ڈپٹی ایم ڈی سے گفتگو

منصور احمد, JULY 23,2026

واشنگٹن / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 23 جولائی 2026ء

وفاقی وزیرِ خزانہ و سنٹرل بینکنگ کے اہم امور کے نگران محمد اورنگزیب نے اپنے دورۂ واشنگٹن ڈی سی کے دوران امریکہ کے برآمدی و در آمدی بینک کے صدر و چیئرمین جان جووانووچ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے فرسٹ ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر ڈین کاٹز سے الگ الگ اور اہم ملاقاتیں کی ہیں۔

ایگزم بینک کے صدر کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان دوطرفہ تجارتی روابط کو وسعت دینے، اقتصادی شراکت داری کو مضبوط بنانے اور طویل المدتی ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالی وسائل کی فراہمی پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔

ملاقات کے دوران ایگزم بینک کے صدر نے پاکستان کے ترجیحی منصوبوں کے لیے ایک جامع اسٹریٹجک فریم ورک تیار کرنے کی تجویز پیش کی، جس کے تحت امریکی مالی معاونت، جدید ٹیکنالوجی، آلات اور خدمات کی پاکستان کو فراہمی کو ممکن بنایا جائے گا۔ وزیرِ خزانہ نے اس تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ملک کی معاشی ترقی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ایک سنگِ میل قرار دیا۔

طرفین نے قریبی مدت کے مالیاتی منصوبوں کی نشاندہی، فوکل پرسنز کی نامزدگی اور اس اسٹریٹجک فریم ورک کو ستمبر 2026ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر حتمی شکل دینے کے ہدف پر اتفاق کیا۔

بعد ازاں، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے آئی ایم ایف کے فرسٹ ڈپٹی ایم ڈی ڈین کاٹز سے بھی ملاقات کی، جس میں پاکستان کے جاری اقتصادی اصلاحاتی پروگرام، مالیاتی استحکام اور باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

اقوام متحدہ میں بھارت کی سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کی غیر قانونی کوشش مسترد؛ پاکستان کا پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے خلاف شدید انتباہ

محمود احمد, JULY 22,2026

اقوام متحدہ/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 23 جولائی 2026ء

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ اور غیر قانونی طور پر معطل کرنے کی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا ہے۔

جمہوریہ کانگو کی صدارت میں منعقدہ اعلیٰ سطحی مباحثے “قدرتی وسائل کی حکمرانی: امن، سلامتی اور خوشحالی کی بنیاد” میں پاکستان کا قومی بیان دیتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے خبردار کیا کہ مشترکہ آبی وسائل کو بطورِ سیاسی ہتھیار استعمال کرنا علاقائی و عالمی امن اور 24 کروڑ سے زائد پاکستانیوں کی زندگیوں کے لیے شدید خطرہ ہے، بالخصوص جب یہ اقدامات جموں و کشمیر کے متنازع پس منظر میں کیے جا رہے ہوں۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگست 2025ء میں ثالثی عدالت ) کے فیصلے کی روشنی میں سندھ طاس معاہدہ بدستور مکمل طور پر فعال، قانونی اور دونوں فریقین پر نافذ العمل ہے۔ سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ قدرتی وسائل پر اقوام کی خودمختاری کے احترام، تحفظ اور مشترکہ وسائل کو ہتھیار بنانے کی کوششوں پر کڑی نظر رکھے اور پیشگی سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے پرامن حل کے لیے اپنے اختیارات بروئے کار لائے۔

پاکستان کے مندوب نے افریقی ممالک اور بالخصوص جمہوریہ کانگو میں قدرتی وسائل کی غیر قانونی لوٹ مار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو عالمی سپلائی چینز میں محض خام مال کا فراہم کنندہ بنانے کے بجائے مقامی سطح پر ویلیو ایڈیشن، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور منصفانہ آمدنی میں برابر کا حصہ دار بنایا جانا چاہیے۔

قدرتی وسائل کو ہتھیار بنانے کی کوششوں کی سخت مخالفت؛ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد کا خطاب

محمود احمد, JULY 22,2026

نیویارک/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 23 جولائی 2026ء

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطحی کھلے مباحثے میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے قومی بیان دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ قدرتی وسائل کو تنازعات، جبر اور استحصال کے بجائے پائیدار ترقی اور مشترکہ خوشحالی کا وسیلہ بننا چاہیے۔

اپنے خطاب میں سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ صاف توانائی اور مصنوعی ذہانت کی جانب عالمی منتقلی کے باعث اہم معدنیات پر مقابلہ ایک نئی جیو پولیٹیکل حقیقت بن چکا ہے۔ کمزور طرزِ حکمرانی، قدرتی وسائل کی غیر قانونی لوٹ مار اور بیرونی مداخلت دنیا کے مختلف خطوں میں بدامنی اور انسانی بحرانوں کو ہوا دے رہی ہے۔ انہوں نے جمہوریہ کانگو اور افریقہ کی مثالیں دیتے ہوئے زور دیا کہ ترقی پذیر ممالک کو عالمی سپلائی چینز میں محض خام مال کے فراہم کنندہ کے بجائے ویلیو ایڈیشن اور منصفانہ آمدنی کا برابر کا شریک بنایا جائے اور بین الاقوامی قانون کے تحت قدرتی وسائل پر اقوام کی خودمختاری کو یقینی بنایا جائے۔

پاکستان کے مستقل مندوب نے مشترکہ آبی وسائل کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے ) کو غیر قانونی طور پر معطل کرنے کی کوششوں کو دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا یہ رویہ 24 کروڑ سے زائد پاکستانیوں کی زندگیوں اور روزگار کے لیے مستقیم خطرہ ہے۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ اگست 2025ء میں ثالثی عدالت کے فیصلے نے واضح کر دیا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر فعال، قانونی اور دونوں ممالک پر نافذ العمل ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے خبردار کیا کہ جموں و کشمیر کے متنازع پس منظر میں بھارت کی جانب سے پانی کو بطورِ سیاسی ہتھیار استعمال کرنے کی کوششیں جنوبی ایشیا میں امن و سلامتی کے لیے شدید خطرات پیدا کر رہی ہیں۔ انہوں نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ قدرتی وسائل کے استحصال اور انہیں ہتھیار بنانے کے اقدامات پر کڑی نظر رکھے اور پرامن حل کے لیے پیشگی سفارت کاری کا مؤثر استعمال کرے۔

سندھ میں پی پی پی یونٹ کو پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی بنانے کا فیصلہ؛ وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں اہم اجلاس

کاشف عباسی , JULY 22,026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے میں بنیادی ڈھانچے اور سرمایاکاری کی پیش رفت کو نئے مرحلے میں داخل کرنے کے لیے ‘پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ’یونٹ کو باقاعدہ طور پر ایک تجارتی اور خود مختار ‘پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی’ میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ اہم فیصلہ وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران کیا گیا، جس میں معاونِ خصوصی برائے سرمایہ کاری سید قاسم نوید، چیف سیکرٹری آصف حیدر شاہ، پرنسپل سیکرٹری آغا واصف، چیئرمین پی اینڈ ڈی بورڈ نجم شاہ، سیکرٹری خزانہ فیاض جتوئی، سیکرٹری ٹرانسپورٹ اسد زمین اور دیگر سینیئر حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ سندھ کا پی پی پی پروگرام ملک بھر میں ذیلی قومی سطح پر سب سے نمایاں پلیٹ فارم بن چکا ہے، جس کے تحت ٹرانسپورٹ، سڑکیں، اقتصادی زونز، آئی ٹی، صحت، تعلیم اور ماحولیات کے متعدد عالمی معیار کے منصوبے جاری ہیں۔ ‘دی اکانومسٹ’ کی رپورٹ کے مطابق سندھ کا پی پی پی ماڈل ایشیا میں چھٹے نمبر پر رہ چکا ہے۔ تاہم ماہر عملے کو برقرار رکھنے اور تجارتی لچک حاصل کرنے کے لیے اس ادارے کی پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کے طور پر تنظیمِ نو انتہائی ضروری تھی۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ہدایت کی کہ مجوزہ ادارہ جاتی تبدیلی کے ذریعے آپریشنل رکاوٹیں دور کی جائیں اور ماہرین کی خدمات سے استفادہ یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس تبدیلی سے کمپنی کو مالیاتی ذرائع حاصل کرنے، ضرورت کے مطابق ایکویٹی سرمایہ کاری کرنے اور آزادانہ تجارتی فیصلے کرنے کی لچک میسر آئے گی۔

وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ احتساب پر سمجھوتہ کیے بغیر مضبوط طرزِ حکمرانی، شفافیت اور واضح قانونی نگرانی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ سرمایاکاروں کا اعتماد مزید مستحکم ہو اور صوبے میں عمومی و سماجی ترقی کا عمل مزید تیز ہو سکے۔

اوگرا کا 23 جولائی کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا اعلان؛ پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہو گیا

منصور احمد, JULY 22,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

وفاقی حکومت کے نظرثانی شدہ پٹرولیم پرائسنگ میکنزم کے تحت آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے 23 جولائی 2026ء سے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں میں ردوبدل کا رسمی نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 375 روپے 04 پیسے فی لیٹر مقرر ہو گئی ہے۔

اسی طرح عوام کے لیے موٹر اسپرٹ (پٹرول) کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔

پٹرولیم ڈویژن کے مطابق نئی مقرر کردہ قیمتوں کا باقاعدہ اطلاق آج رات 12 بجے (23 جولائی) سے ملک بھر میں ہو جائے گا۔

اڑان پاکستان کے تحت اصلاحات کے لیے تجاویز کی تیاری جاری؛ معاشی استحکام سے پائیدار ترقی کے سفر کی جانب اہم پیش رفت

منصور احمد, JULY 22,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ‘اڑان پاکستان’ فریم ورک کے تحت مختلف اہم شعبوں کی اصلاح اور ٹرانسفارمیشن کے لیے وسیع المشورہ عمل کے ذریعے جامع تجاویز مرتب کر کے متعلقہ اداروں کو بھیجی جا رہی ہیں، تاکہ ملک میں جاری اصلاحاتی کوششوں کو زیادہ نتیجہ خیز اور مؤثر بنایا جا سکے۔

سرکاری گفتگو کے دوران بتایا گیا کہ پاکستان گزشتہ چار برسوں کے شدید اور مشکل معاشی دور سے نکل کر اب باقاعدہ معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو چکا ہے۔ تاہم، حکومت کا اصل اور حتمی ہدف ملک میں پائیدار اور مستحکم معاشی ترقی کا حصول ہے۔

بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ برآمدات میں اضافہ کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کا بنیادی انجن ہوتا ہے، جبکہ کسی بھی ملک کی برآمدی صلاحیت کا براہِ راست تعلق ایک مؤثر، تیز رفتار اور کم لاگت لاجسٹکس نظام سے جڑا ہوتا ہے۔

مزید کہا گیا کہ توانائی اور ٹرانسپورٹیشن پیداواری لاگت کے دو سب سے اہم عوامل ہیں۔ تاہم، بدقسمتی سے ماضی میں پاکستان ریلوے جیسے اہم قومی ادارے کو مطلوبہ وسائل اور ضروری سرمایہ کاری سے محروم رکھا گیا، جس کے منفی اثرات اس کی مجموعی کارکردگی اور لاجسٹکس کی لاگت پر مرتب ہوئے۔ حکومت اب ریلوے اور ٹرانسپورٹیشن کے شعبے کی بحالی اور جدید کاری پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔

شدید مون سون بارشوں اور مغربی ہوائوں کے باعث ملک بھر میں سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری؛ این ڈی ایم اے نے انتباہ جاری کر دیا

روزینہ اسماعیل, JULY 22,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے 22 سے 24 جولائی کے دوران ملک میں شدید مون سون بارشوں اور مغربی ہوائوں کے سلسلے کے پیشِ نظر مختلف دریاؤں، ندی نالوں اور شہری علاقوں میں سیلابی صورتحال کے لیے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔

این ڈی ایم اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا، آزاد جموں و کشمیر، بلوچستان اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں تیز اور موسلادھار بارشوں کے باعث پہاڑی ندی نالوں میں طغیانی، آبشاروں کے تیز بہاؤ اور شہری علاقوں میں سیلابی صورت حال پیدا ہونے کا شدید خدشہ ہے۔

ہائیڈرولوجیکل پیشن گوئی کے مطابق دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب جبکہ دریائے جہلم میں منگلا کے بالائی علاقوں میں درمیانے درجے کے سیلاب کا امکان ہے۔ علاوہ ازیں، دریائے راوی میں بلوکی کے مقام پر آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران کم درجے کی سیلابی صورتحال جبکہ سوات، کابل، پنجکوڑہ اور چترال کے دریاؤں میں پانی کی سطح میں نمایاں اضافے کی توقع ہے۔

این ڈی ایم اے نے راولپنڈی، جہلم، فیصل آباد، پشاور، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ کے نشیبی علاقوں کے رہائشیوں کو اربن فلڈنگ کے پیشِ نظر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ تمام متعلقہ صوبائی و ضلعی اداروں کو ایمرجنسی ٹیمیں الرٹ رکھنے، شاہراہوں کی بحالی کے لیے مشینری تیار رکھنے اور پانی کے بہاؤ پر مسلسل نظر رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

شہریوں کو حساس و پہاڑی علاقوں کا غیر ضروری سفر نہ کرنے اور بروقت آگاہی کے لیے ‘پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ’ موبائل ایپ سے رہنمائی حاصل کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

تاریخی اصول پر اُردو لغت کے نظرثانی شدہ ایڈیشن کی پہلی 3 جلدوں کی رونمائی؛ تمام 22 جلدوں کی اشاعت کے لیے ایم او یو پر دستخط

منصور احمد, JULY 22,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے ‘تاریخی اصول پر اُردو لغت’ کے نظرثانی شدہ ایڈیشن کی پہلی تین جلدوں کی باقاعدہ رونمائی کرتے ہوئے اُردو زبان کے فروغ اور پاکستان کے لسانی و ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے حکومت کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا ہے۔

وزارت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، نیشنل لینگویج پروموشن ڈیپارٹمنٹ (این ایل پی ڈی) کے زیرِ اہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ خوبصورت نستعلیق رسم الخط میں شائع ہونے والا یہ جدید ایڈیشن اُردو زبان کی ارتقاء کا مظہر اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی علمی سرمایہ ہے۔ اس موقع پر انہوں نے ممتاز ماہرِ لسانیات اور برکاتی فاؤنڈیشن کے بانی ڈاکٹر حاجی محمد رفیق پردیسی کی مالی و علمی کاوشوں کو سراہتے ہوئے انہیں پاکستان کے اعلیٰ ترین سول اعزاز کے لیے نامزد کرنے کا باضابطہ اعلان کیا۔

تقریب کے دوران لغت کی تمام 22 جلدوں کی مکمل اشاعت کے لیے وفاقی حکومت اور برکاتی فاؤنڈیشن کے درمیان ایک اہم مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط بھی کیے گئے۔ وفاقی سیکرٹری برائے قومی ورثہ و ثقافت اسد رحمان گیلانی اور ڈی جی این ایل پی ڈی پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ تحقیقی معیار کے اعتبار سے یہ تاریخی لغت عالمی سطح کی ممتاز لغات کے ہم پلہ ہے، جس کی باقی ماندہ جلدوں پر کام اب مزید تیز رفتاری سے مکمل کیا جائے گا۔

تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر حاجی محمد رفیق پردیسی نے وفاقی وزیر کو لغت کی شائع شدہ جلدیں اور تبرکات پیش کیے، جبکہ وفاقی وزیر نے انہیں گراں قدر لسانی خدمات کے اعتراف میں تعریفی سند سے نوازا۔

المیزان فاؤنڈیشن میں مالیاتی نظم و ضبط اور ڈیجیٹل تبدیلی میں نمایاں پیش رفت؛ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی ایڈوائزری بورڈ کے اجلاس کی صدارت

کاشف عباسی , JULY 22,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ المیزان فاؤنڈیشن میں ادارہ جاتی اصلاحات، مالیاتی نظم و ضبط، ڈیجیٹل تبدیلی اور فلاحی خدمات کی فراہمی کے شعبوں میں نمایاں اور مثبت پیش رفت حاصل ہوئی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز سپریم کورٹ آف پاکستان میں المیزان فاؤنڈیشن کے ایڈوائزری بورڈ کے سالانہ جنرل اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اعلیٰ سطحی اجلاس میں ملک بھر کی تمام ہائی کورٹس کے معزز چیف جسٹس صاحبان نے شرکت کی۔ بورڈ نے سابقہ فیصلوں پر عمل درآمد، واجبات کی وصولی، ریکارڈ مینجمنٹ اور جدید طرزِ حکمرانی کے اقدامات کا جائزہ لیا اور ان کی کارکردگی کو سراہا۔

اجلاس کے دوران المیزان فاؤنڈیشن کے 2025ء تا 2030ء کے پانچ سالہ اسٹریٹجک اہداف اور مالی سال 2026-27ء کے سالانہ بجٹ کی باقاعدہ منظوری دی گئی۔ اس کے علاوہ فاؤنڈیشن کے قواعد و ضوابط، مالی اختیارات کے شیڈول، اینڈومنٹ و انویسٹمنٹ فنڈ رولز، ویلفیئر پالیسی اور گورننس اینڈ ایڈمنسٹریشن پالیسی 2026ء کا جدید ترین اصلاحاتی پیکیج بھی منظور کر لیا گیا۔

بورڈ نے اسلامی انٹرنیشنل میڈیکل کالج ٹرسٹ کے ساتھ مزید 25 سالہ تعاون کے معاہدے کی توثیق کا خیرمقدم کیا، جس کے تحت فاؤنڈیشن کو 148 فیصد زائد رائلٹی، میڈیکل پروگراموں میں سالانہ 43 وظائف اور جدید طبی سہولیات میسر آئیں گی۔ علاوہ ازیں المیزان فاؤنڈیشن کی حدود میں مجوزہ میڈیکل کمپلیکس کے قیام اور گزشتہ سالوں کے بیرونی مالیاتی آڈٹ کی منظوری دیتے ہوئے شفافیت کو مزید یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

راول ڈیم کو آلودگی سے بچانے کے لیے ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ نصب کیا جا رہا ہے؛ چیف آفیسر ایم سی آئی ڈاکٹر انعم کی شہریوں سے نالوں میں کچرا نہ پھینکنے کی اپیل، پریس ریلیز

منصور احمد, JULY 22,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

چیئرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام آباد کی خصوصی ہدایات پر کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد (ایم سی آئی) نے معروف ادارے ‘جاز ورلڈ’ کے اشتراک سے راول ڈیم میں ایک کامیاب صفائی مہم کا انعقاد کیا۔

اس خصوصی صفائی مہم کا بنیادی مقصد ماحول کے تحفظ کو یقینی بنانا اور شہریوں میں صفائی ستھرائی سے متعلق شعور اجاگر کرنا تھا۔ مہم کی قیادت چیف آفیسر ایم سی آئی ڈاکٹر انعم نے کی، جبکہ جاز ورلڈ کے نمائندوں، سی ڈی اے، ایم سی آئی، مختلف غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز)، تعلیمی اداروں کے طلبہ اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے 200 سے زائد رضاکاروں نے اس میں بھرپور حصہ لیا۔ آپریشن کے دوران رضاکاروں نے 80 سے زائد تھیلے کوڑا کرکٹ جمع کر کے راول ڈیم کے اطراف سے تقریباً 2 ٹن ٹھوس کچرا ہٹایا۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چیف آفیسر ایم سی آئی ڈاکٹر انعم نے کہا کہ ماحول کا تحفظ اور کچرے کی ذمہ دارانہ تلفی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سی ڈی اے اور ایم سی آئی، حکومتِ پنجاب اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر راول ڈیم کو آلودگی سے پاک رکھنے کے لیے جامع اقدامات کر رہے ہیں، جن میں آلودہ پانی کو ڈیم میں گرنے سے روکنے کے لیے ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ (ایس ٹی پی) کی تنصیب بھی شامل ہے۔

انہوں نے بالخصوص بھارہ کہو اور مری کی جانب سے آنے والے نالوں کے قریب رہنے والے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ نالوں میں کچرا پھینکنے سے مکمل گریز کریں، کیونکہ یہ نالے ڈیم کی آلودگی کا بڑا ذریعہ بن رہے ہیں۔ تقریب کے اختتام پر جاز ورلڈ اور تمام رضاکاروں کا شکریہ ادا کیا گیا اور اسلام آباد کو مزید صاف اور سرسبز بنانے کے لیے نجی و سرکاری شراکت داری کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

پاکستان اور مصر کا تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق؛ اسحاق ڈار کی مصری ہم منصب ڈاکٹر بدر عبدالعاطی سے ملاقات

کاشف عباسی , JULY 22,026

منیلا/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں منعقدہ ‘آسیان ریجنل فورم’ (اے آر ایف) کے موقع پر مصر کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی کی جانب سے دیے گئے خصوصی عشائیے میں شرکت کے دوران ان سے اہم ملاقات کی ہے۔

وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق، دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان پاکستان اور مصر کے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔ اس گفتگو میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت، دوطرفہ سرمایہ کاری، اقتصادی تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے اور کثیر الجہتی بین الاقوامی فورمز پر باہمی اشتراک کو فروغ دینے کے امور شامل تھے۔

مشرقِ وسطیٰ کی تازہ ترین اور حساس صورتِ حال کا جائزہ لیتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے خطے میں جاری کشیدگی میں کمی لانے اور مسائل کے حل کے لیے سفارتی مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا، جبکہ تمام ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا۔ انہوں نے اس امر پر تشویش ظاہر کی کہ علاقائی عدم استحکام عالمی بحری تجارت، توانائی کے تحفظ اور مجموعی عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔

دونوں رہنماؤں نے فلسطین کی تشویشناک صورتِ حال پر بھی مفصل گفتگو کی اور شہری آبادی کے خلاف تشدد کے واقعات اور مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی آبادکاری کی سرگرمیوں کو باضابطہ مسترد کرنے کے اپنے اصولی مؤقف کا اعادہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے قاہرہ میں منعقدہ حالیہ مشاورتی اجلاس کے نتائج کا جائزہ لیتے ہوئے خطے میں پائیدار امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے مشترکہ عزم کو دہرایا۔

ای سی او ممالک موسمیاتی تبدیلی اور خوراک و توانائی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سائنسی تعاون مضبوط کریں؛ خالد حسین مگسی کا خطاب

منصور احمد, JULY 22,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی نے اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت کے شعبوں میں علاقائی تعاون کو مزید مضبوط بنائیں تاکہ موسمیاتی تبدیلی، پانی و خوراک کے عدم تحفظ، توانائی کی منتقلی، صحتِ عامہ اور نوجوانوں کی بے روزگاری جیسے مشترکہ چیلنجز سے موثر انداز میں نمٹا جا سکے۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار بدھ کو اسلام آباد میں اقتصادی تعاون تنظیم سائنس فاؤنڈیشن (ای سی او ایس ایف) کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے 6 ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر برائے سائنس، تحقیق و ٹیکنالوجی حسین سیمائی سراف، وفاقی سیکرٹری سائنس و ٹیکنالوجی شاہد اقبال بلوچ، ای سی او کے سیکرٹری جنرل سفیر اسد مجید خان، ای سی او سائنس فاؤنڈیشن کے صدر پروفیسر سید کمال طیبی اور رکن ممالک کے اعلیٰ نمائندوں نے بالمشافہ اور آن لائن شرکت کی۔

وفاقی وزیر خالد حسین مگسی نے معزز مندوبین کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اس اہم اجلاس کی میزبانی پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول اور صنعتی پیداوار میں اضافے کے لیے سائنسی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ وفاقی وزیر نے ان ممالک پر بھی زور دیا جنہوں نے تاحال فاؤنڈیشن کے چارٹر کی توثیق نہیں کی کہ وہ جلد از جلد اپنی قومی کارروائی مکمل کریں اور بروقت مالی معاونت فراہم کریں۔

اس موقع پر ایران کے وزیر برائے سائنس حسین سیمائی سراف نے سائنسی تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ایران فاؤنڈیشن کو درپیش مالی مشکلات کے حل کے لیے اپنا مالی حصہ ادا کرے گا اور ادارے کی مالی پائیداری کے لیے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

خالد حسین مگسی نے اختتامی کلمات میں امید ظاہر کی کہ فاؤنڈیشن کے فیصلے اور سفارشات خطے میں سائنسی تعاون، جدت اور پائیدار معاشی ترقی کے فروغ میں سنگِ میل ثابت ہوں گے۔

وزیرِ اعظم کی ہدایات پر خیبر پختونخوا کی جامعات میں کمپیوٹنگ پروگراموں کا کوالٹی اشورنس جائزہ مکمل؛ ایچ ای سی نے رپورٹ جاری کر دی

روزینہ اسماعیل, JULY 22,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے وزیرِ اعظم پاکستان کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں خیبر پختونخوا کی مختلف سرکاری و نجی جامعات میں کمپیوٹنگ کے تعلیمی پروگراموں کا جامع کوالٹی اشورنس جائزہ مکمل کر لیا ہے، جس کا مقصد ملک میں اعلیٰ تعلیم کے معیار، افادیت اور جدید صنعتی تقاضوں سے ہم آہنگی کو مزید بہتر بنانا ہے۔

ایچ ای سی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، اس جائزے کے دوران صوبے کی 15 سے زائد نمایاں جامعات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جن میں یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی نوشہرہ، عبدالولی خان یونیورسٹی مردان، یونیورسٹی آف بونیر، یونیورسٹی آف صوابی، سرحد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ آئی ٹی، زرعی یونیورسٹی پشاور، شہید بے نظیر بھٹو ویمن یونیورسٹی، گومل یونیورسٹی، خوشحال خان خٹک یونیورسٹی اور فاٹا یونیورسٹی سمیت دیگر ادارے شامل ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ ماہرین پر مشتمل جائزہ ٹیموں نے 8 بنیادی معیارات کا تفصیلی معائنہ کیا، جن میں نصاب کی ترتیب، تجربہ گاہوں (لیبز) اور دیگر سہولیات، تدریسی عملے کی اہلیت، انتظامی فریم ورک اور طلبہ کی رہنمائی کا نظام شامل ہے۔ اس کے علاوہ جامعات کی انتظامیہ، اساتذہ اور طلبہ سے تفصیلی ملاقاتیں بھی کی گئیں۔

ایچ ای سی نے رپورٹ میں اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کی جامعات کمپیوٹنگ تعلیم کا معیار بہتر بنانے اور اپنے پروگراموں کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مثبت پیش رفت کر رہی ہیں۔ کمیشن کے مطابق اس جائزے کی سفارشات سے نتائج پر مبنی تعلیم ، انڈسٹری لنکجز اور تعلیمی وسائل کی پائیدار ترقی میں مدد ملے گی۔

مختلف یونیورسٹیوں کے طلبہ و طالبات کا ٹریفک پولیس ہیڈکوارٹرز کا دورہ؛ ٹریفک قوانین اور پولیس آپریشنز سے متعلق آگاہی فراہم کی گئی

کاشف عباسی , JULY 22,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

مختلف یونیورسٹیوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ و طالبات کے ایک وفد نے اسلام آباد ٹریفک پولیس ہیڈکوارٹرز کا تعلیمی دورہ کیا۔

ترجمان پولیس کے مطابق دورے کے دوران اسلام آباد ٹریفک پولیس ایجوکیشن ونگ کی ٹیم نے طلبہ کو پولیس کے مختلف شعبہ جات کی کارکردگی، روڈ سیفٹی اور ٹریفک کے قوانین سے متعلق تفصیلی آگاہی فراہم کی۔

اس موقع پر چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) اسلام آباد کائنات اظہر خان نے طلبہ کو اسلام آباد ٹریفک پولیس کی جانب سے شہریوں کی سہولت اور دارالحکومت میں ٹریفک کے نظام کو جدید بنانے کے لیے شروع کیے گئے عوام دوست پولیسنگ کے منصوبوں سے متعلق جامع معلومات فراہم کیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹریفک قوانین کی پاسداری اور روڈ سیفٹی سے متعلق آگاہی کا فروغ ہماری ترجیحات میں شامل ہے اور اس حوالے سے نوجوان بالخصوص طلبہ و طالبات کا کردار انتہائی اہم ہے۔

پاسپورٹ کی فوری تیاری کے نام پر شہریوں کو لوٹنے والا ایجنٹ مافیا اور نیٹ ورک بے نقاب؛ ایف آئی اے کی جی ٹین پاسپورٹ آفس کے باہر کارروائی

منصور احمد, JULY 22,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے جی ٹین پاسپورٹ آفس کے باہر ایجنٹ مافیا کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے ایمرجنسی اور ترجیحی بنیادوں پر پاسپورٹ کی سہولت کے نام پر شہریوں کو لوٹنے والے منظم نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا ہے۔

ترجمان کے مطابق مصدقہ اطلاعات اور مجاز حکام کی منظوری کے بعد پاسپورٹ آفس کے باہر کارروائی کی گئی، جس کے دوران مرکزی ملزم محمد مزمل کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا۔ ابتدائی تفتیش سے انکشاف ہوا کہ ملزم خاص طور پر خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو اسلام آباد کے جعلی رہائشی پتے دکھا کر ترجیحی بنیادوں پر پاسپورٹ بنوانے کے عوض فی کیس 20 ہزار روپے وصول کرتا تھا۔

گرفتار ملزم کی نشان دہی پر دو مزید سہولت کاروں نصیر احمد اور محمد تصور کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔ گرفتار ملزمان کے موبائل فونز کے جائزے سے ثابت ہوا کہ ملزم نصیر احمد آن لائن پیغامات کے ذریعے شہریوں کے ٹوکن نمبرز پاسپورٹ آفس کے ایک اہلکار رضا کو بھجواتا تھا جو جواب میں خصوصی نمبرز فراہم کر کے ترجیحی کلیرنس ممکن بناتا تھا۔ تفتیش میں سامنے آیا کہ پاسپورٹ اہلکار رضا فی کیس بھاری رقوم آن لائن رقم کی منتقلی کے ذریعے حاصل کرتا رہا، جس سے اس کا مجرمانہ نیٹ ورک سے براہِ راست تعلق ثابت کرنے والے واضح ثبوت قائم ہو چکے ہیں۔

ایف آئی اے نے ملزمان کے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت مقدمہ درج کر کے انہیں عدالت میں پیش کیا، جہاں سے مزید تفتیش کے لیے ملزمان کا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا گیا ہے۔ پاسپورٹ آفس کے ملوث اہلکار اور دیگر افراد کا حتمی کردار تفتیش کے دوران متعین کیا جائے گا۔

ایف آئی اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی سرکاری خدمت کے حصول کے لیے ایجنٹوں سے رابطہ کرنے کے بجائے متعلقہ ادارے سے براہِ راست رجوع کریں اور ایسی کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر ادارے کو فراہم کریں۔

امریکہ کے ساتھ 200 ارب ڈالر کے 7 سٹریٹجک معاہدے طے پا گئے؛ ڈیزل اور مٹی کے تیل میں خود کفالت حاصل، عراقی وزیرِ تیل باسم محمد خضیر کی گفتگو، پریس ریلیز

کاشف عباسی , JULY 22,026

بغداد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

عراق کے وزیرِ تیل باسم محمد خضیر نے اعلان کیا ہے کہ ملک کی مجموعی تیل پیدا کرنے کی صلاحیت یومیہ 48 لاکھ بیرل سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ حکومت 2030ء تک قدرتی گیس کے شعبے میں مکمل خود کفالت حاصل کرنے کے ہدف پر گامزن ہے۔

سرکاری ٹی وی کے ایک خصوصی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عراقی وزیرِ تیل نے بتایا کہ وزیراعظم علی الزیدی کے حالیہ دورۂ امریکہ کے دوران توانائی کے شعبے سے متعلق 7 اہم اور بڑے سٹریٹجک معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ان معاہدوں اور منصوبوں کی مجموعی مالیت تقریباً 200 ارب امریکی ڈالر ہے، جن سے عراق میں تیل و گیس کے ذخائر اور پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوگا، روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے اور طلبہ کے لیے تعلیمی وظائف جیسے سماجی منصوبے بھی شروع کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت 22 بین الاقوامی کمپنیاں عراق کے تیل کے شعبوں میں فعال انداز میں کام کر رہی ہیں۔

عراقی وزیرِ تیل نے بتایا کہ ملک نے ڈیزل اور مٹی کے تیل کی پیداوار میں مکمل خود کفالت حاصل کر لی ہے، جبکہ اس وقت ملک میں یومیہ 3 کروڑ لیٹر پٹرول پیدا کیا جا رہا ہے۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ ایندھن کی تقسیم کے نظام میں اب بھی بعض انتظامی چیلنجز موجود ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ عراقی حکومت پیٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم ‘اوپیک’ کے ساتھ مسلسل تعمیری مذاکرات کر رہی ہے تاکہ عراق کے تیل برآمد کرنے کے کوٹے میں اضافہ ممکن ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ عراق ماضی کی جنگوں اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کے بعد اپنا جائز اور منصفانہ برآمدی حصہ حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

کانگریس سے منظور شدہ فنڈز کی منتقلی نئے امریکی صدر کے منصب سنبھالنے تک معطل؛ امریکی سینیٹر ڈک ڈربن کا اپروپری ایشنز کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف

محمود احمد, JULY 22,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

امریکی انتظامیہ نے یوکرین کے لیے امریکی کانگریس کی جانب سے منظور شدہ 400 ملین ڈالر کی اضافی فوجی امداد کی فوری منتقلی روک دی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق، امریکی سینیٹر ڈک ڈربن نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی انتظامیہ نے کانگریس سے منظور شدہ 400 ملین ڈالر کے یہ فوجی فنڈز یوکرین کو فوری منتقل کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

الینوائے سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر ڈک ڈربن نے سینیٹ کی اپروپری ایشنز کمیٹی کے اہم اجلاس کے دوران اعلیٰ امریکی عسکری حکام سے سوال کیا کہ کیا انہیں اس بات کی خبر ہے کہ انتظامیہ نے فنڈز کو فی الحال روک دیا ہے اور یہ رقم اگلے امریکی صدر کے منصب سنبھالنے تک دستیاب نہیں ہوگی۔ سینیٹر ڈربن کے اس سوال پر اجلاس میں موجود عسکری قیادت نے معاملے سے لاعلمی کا اظہار کیا۔

سینیٹر ڈربن کا مزید کہنا تھا کہ اخراجات کے موجودہ منصوبے کے تحت اس رقم کے استعمال کی تیاری مالی سال 2029ء کے لیے کی جائے گی اور اس امداد کی بحالی یا منتقلی سے متعلق حتمی فیصلہ آنے والا نیا امریکی صدر ہی کرے گا۔ سینیٹ کی کمیٹی کے اس اہم اجلاس میں امریکی دفاعی حکام اور وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ بھی موجود تھے۔

اسرائیلی آبادکاروں کے زیرِ قبضہ فلسطینی علاقوں سے تمام اشیاء کی درآمدات پر پابندی کا اعلان؛ نیدرلینڈز کا 22 ستمبر سے فیصلہ نافذ کرنے کا فیصلہ

محمود احمد, JULY 22,2026

ایمسٹرڈیم (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

نیدرلینڈز کی حکومت نے باضابطہ اعلان کیا ہے کہ وہ رواں سال 22 ستمبر سے اسرائیلی آبادکاروں کے زیرِ قبضہ فلسطینی علاقوں سے ہر قسم کی سامان اور مصنوعات کی درآمد پر مکمل پابندی عائد کر دے گی۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، یورپی یونین میں شامل آئرلینڈ، بیلجیئم اور سپین کے بعد نیدرلینڈز بھی ان اہم یورپی ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جنہوں نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم غیر قانونی اسرائیلی آبادیوں سے تجارتی روابط ختم کرنے کے لیے باقاعدہ اقدامات کیے ہیں۔ غزہ پر اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور مقبوضہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد میں مسلسل اضافے کے بعد 27 رکنی یورپی یونین پر اس قسم کی سخت پابندیوں کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔

ڈچ وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ “ان اقدامات کے ذریعے نیدرلینڈز اس غیر قانونی صورتِ حال اور قبضہ داری کا حصہ نہ بننے کی اپنی بین الاقوامی اور قانونی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے عزم کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔” وزارت نے واضح کیا کہ اس نئی پابندی کا اطلاق مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم غیر قانونی اسرائیلی آبادیوں میں تیار ہونے والی تمام اشیاء کی خرید و فروخت اور درآمد پر ہو گا۔

فلسطینی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ‘گلوبل ایکو’ کے مطابق، غیر قانونی اسرائیلی آبادیوں سے کی جانے والی مجموعی زرعی برآمدات کا ایک تہائی حصہ اکیلے نیدرلینڈز کو بھیجا جاتا تھا، جبکہ کل تجارتی برآمدات کا تقریباً آدھا حصہ یورپی یونین کی مارکیٹوں میں جاتا تھا، جس پر اب شدید اثرات مرتب ہوں گے۔