ایران کے رہبرِ اعلٰی آیت اللہ علی خامنہ ای کے سینئر عسکری مشیر میجر جنرل یحییٰ رحیم صفوی نے بین الاقوامی و علاقائی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی دائمی جنگ پسندی، بین الاقوامی طاقت کے توازن اور عالمی اقتصادی جغرافیے کی مغربی خطے سے مشرق کی جانب تیزی سے منتقلی کے لیے سب سے بہترین اور طاقتور محرک ثابت ہوئی ہے۔
ایرانی افواج کے سابق کمانڈر انچیف اور رہبرِ اعلیٰ کے دفاعی امور کے خصوصی مشیر میجر جنرل یحییٰ رحیم صفوی نے عالمی سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کردہ ایک پیغام میں مغرب اور امریکہ کی جیو پولیٹیکل پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ دشمن کی جانب سے محض فتح کا مصنوعی تاثر دینے کی تمام تر کوششیں، درحقیقت اس کی عملی شکست کی واضح علامت ہیں اور یہ بین الاقوامی طاقت، توازن اور عالمی سلامتی کے ایک جدید کثیر قطبی (ملٹی پولر) نظام کے ناگزیر وجود کو تسلیم کرنے کے بالکل مترادف ہے۔
ایرانی حکام اور عسکری کمانڈروں کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ ایران کی سلامتی اور خودمختاری کے خلاف حالیہ مسلط کردہ جنگ و عسکری مہم جوئی میں امریکہ اور اسرائیل کو تاریخی اور واضح ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ایرانی انتظامیہ کا مزید کہنا ہے کہ مغرب اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے شروع کی گئی اس جنگ کا بنیادی اور حتمی مقصد اسلامک ریپبلک آف ایران کا کامل خاتمہ تھا، تاہم ایرانی قوم کی مزاحمت اور عسکری حکمتِ عملی نے واشنگٹن اور تل ابیب کے تمام تر اہداف کو خاک میں ملا دیا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی منظر نامے پر مشرق کا اثر و رسوخ اور کثیر قطبی دنیا کا قیام پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو کر ابھرا ہے۔
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے گزشتہ شب ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان سے ٹیلی فون پر تفصیلی گفتگو کی، جس کے دوران دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات، باہمی دلچسپی کے امور اور مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال کا احاطہ کیا۔
جمعرات کے روز دفتر خارجہ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے پاکستان اور ترکیہ کے مابین موجودہ باہمی تعلقات کی پیش رفت اور علاقائی سیکیورٹی کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ گفتگو کے دوران سینیٹر اسحاق ڈار اور حاقان فیدان نے مسئلہ فلسطین پر دونوں برادر اسلامی ممالک کے تاریخی و مشترکہ مؤقف کا اعادہ کیا اور مظلوم فلسطینیوں کی سفارتی تائید کا عزم دہرایا۔
اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماؤں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے درآمدات پر پابندی اور ایسی بستیوں سے منسلک خدمات و کمپنیوں پر قدغنیں عائد کرنے کے برطانوی فیصلے کی تحسین کی اور اس ضمن میں آٹھ عرب و اسلامی ممالک کی جانب سے جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے کی مکمل حمایت کی۔ اس کے علاوہ دونوں وزرائے خارجہ نے برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک کی جانب سے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور دو ریاستی حل سے متعلق سامنے آنے والے مشترکہ اعلانات کا خیرمقدم کیا۔
ٹیلی فونک گفتگو کے دوران دونوں سفارتی رہنماؤں نے خطے کے دیگر اہم ممالک بالخصوص سعودی عرب اور مصر کے ساتھ اہم علاقائی مسائل پر مسلسل اور قریبی سیاسی و سفارتی مشاورت جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے چار ملکی ‘ریجنل فور’ (R4) فریم ورک کے ذریعے باہمی مشاورت اور مربوط حکمت عملی کو مزید آگے بڑھانے کا عزم ظاہر کیا۔
بیان کے اختتام پر بتایا گیا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان نے امریکی شہر نیویارک میں منعقد ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے آئندہ سالانہ اجلاس کے موقع پر آمنے سامنے تفصیلی ملاقات کرنے اور باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کو تیز رفتار، پائیدار اور مستحکم معاشی ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے کے لیے روایتی طرزِ حکمرانی اور پرانے معاشی طریقہ کار سے نکل کر جدید ڈیجیٹل معیشت کی جانب تیزی سے منتقل ہونا پڑے گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ بنیادی ٹیکس اصلاحات، قومی وسائل میں خاطر خواہ اضافہ اور معیشت کی کامل ڈیجیٹلائزیشن ‘اڑان پاکستان’ کے طے شدہ اہداف کے حصول کے لیے بنیادی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
قومی اقتصادی مشن، ٹیکس اصلاحات اور معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن سے متعلق منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ ٹیکس اصلاحات اور وسائل میں اضافہ کا اہم مشن ‘اڑان پاکستان’ کے تحت قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کی جانب سے منظور کیے گئے 11 قومی اقتصادی مشنز میں کلیدی مقام رکھتا ہے، اور یہی مشن درحقیقت پورے معاشی اصلاحاتی پروگرام کے لیے بنیادی مالیاتی انجن کی حیثیت رکھتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ قابلِ اعتماد اور پائیدار ذرائع سے ملکی آمدن میں اضافہ کیے بغیر دیگر 10 قومی اقتصادی مشنز کو کامیابی سے چلانے کے لیے درکار مالی وسائل کی فراہمی ممکن نہیں بنائی جا سکتی۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ قومی اقتصادی کونسل نے جن 11 قومی اقتصادی مشنز کی منظوری دی ہے، ان کا بنیادی اور حتمی مقصد پاکستان کو سال 2035ء تک 1 ٹریلین (ایک کھرب) ڈالر کی دیوہیکل معیشت بنانا ہے۔
احسن اقبال نے اپنے خطاب میں کہا کہ ‘اڑان پاکستان’ کے تمام تر معاشی اہداف مکمل طور پر قابلِ حصول ہیں، تاہم ان کو حاصل کرنے کے لیے معیشت کے ہر چھوٹے بڑے شعبے میں بنیادی تبدیلی، کڑی اصلاحات اور نفاذ درکار ہے۔ موجودہ روایتی نظام کو برقرار رکھتے ہوئے 1 ٹریلین ڈالر کی معیشت کا ہدف حاصل کرنا انتہائی مشکل ہوگا، اسی لیے معمول کے سست روی والے طریقہ کار سے ہٹ کر تیز رفتار معاشی و ساختار تبدیلی لانا پڑے گی۔
انہوں نے واضح الفاظ میں ہدایت کی کہ پاکستان کو اب معاشی میدان میں ’’کچھوے کی رفتار‘‘ کے بجائے ’’ڈیجیٹل رفتار‘‘ سے آگے بڑھنا ہوگا۔ پائیدار معاشی ترقی کے لیے ملک کو پرانے تکنیکی طریقہ کار سے مکمل طور پر نکل کر ایک تیز رفتار، جدید ترین ٹیکنالوجی پر مبنی اور شفاف ڈیجیٹل معیشت کی طرف منتقل ہونا پڑے گا۔
وفاقی وزیر نے معاشی صورتحال کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ حکومت نے ملک میں بنیادی معاشی استحکام حاصل کر لیا ہے، لیکن صرف اس موجودہ سطح کا استحکام طویل المیعاد پائیدار ترقی کے لیے ہرگز کافی نہیں ہے۔ معاشی ترقی کی رفتار کو عالمی سطح پر معتبر بنانے کے لیے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں اضافہ اور عوامی ترقیاتی سرگرمیوں (پی ایس ڈی پی) کے لیے مطلوبہ مالی وسائل کی فراہمی بلاشبہ سب سے لازمی جزو ہے۔
انہوں نے ماضی سے موازنہ کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ سال 2018ء میں پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار کے مقابلے میں ترقیاتی بجٹ کا تناسب کافی زیادہ تھا، جبکہ موجودہ صورتحال میں ترقیاتی بجٹ کی سطح نمایاں طور پر سکڑ کر کم ہو چکی ہے۔ تقریباً دو ہزار ارب روپے کے محدود ترقیاتی بجٹ کے ذریعے حاصل ہونے والے ظاہری استحکام کو ہم کبھی بھی مکمل یا حتمی معاشی استحکام قرار نہیں دے سکتے۔
پروفیسر احسن اقبال نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا قومی ترقیاتی بجٹ مسلسل سکڑ رہا ہے، اور بجٹ کا موجودہ روایتی ڈھانچہ نئے ترقیاتی اخراجات کے لیے گنجائش پیدا کرنے میں بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر زیرِ التوا اور جاری ترقیاتی منصوبوں کو وقت پر فنڈز فراہم کر کے مکمل نہیں کیا جا سکتا تو نئے مفادِ عامہ کے منصوبوں کا آغاز کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ اس تشویشناک صورتحال سے نمٹنے کے لیے معیشت میں نئے وسائل پیدا کرنے اور موجودہ وسائل کو زیادہ موثر اور شفاف انداز میں متحرک کرنے کی اشد ضرورت ہے، جس کے لیے ملک کے ٹیکس نظام میں انقلابی اور بنیادی اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی ذاتی کاوشوں اور خصوصی دلچسپی سے گزشتہ دو برس کے دوران ملک میں ٹیکس وصولیوں اور ریونیو کی جمع آوری میں نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے، لیکن اب اصل چیلنج عوام اور صنعتوں پر ٹیکس کی شرح میں کمی لاتے ہوئے ٹیکس نیٹ کا دائرہ کار وسیع کرنا اور مجموعی وصولیوں میں اضافہ کرنا ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ عام شہری اور تاجر پر سے ٹیکس کا اضافی بوجھ کم کرنا اور باقاعدہ ٹیکس ادا کرنے والوں کی تعداد بڑھانا ہماری ملکی معاشی پالیسی کی پہلی اور اہم ترین ترجیح ہونی چاہیے۔ ٹیکس اصلاحات اور معیشت کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے ملکی وسائل بڑھانے کے ساتھ ساتھ غیر رسمی معیشت کو زیادہ سے زیادہ دستاویزات کے دائرے میں لانا ہوگا۔
احسن اقبال نے برآمدات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تیز رفتار معاشی بحالی اور ترقی کے لیے برآمدات (ایکسپورٹس) میں غیر معمولی اور ریکارڈ اضافہ ناگزیر ہے، اور یہ موضوع اس وقت ریاست کی اہم ترین قومی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارتِ منصوبہ بندی کی یہ بنیادی آئینی و انتظامی ذمہ داری ہے کہ وہ وزیراعظم کی رہنمائی میں ایک جامع اور قابلِ عمل قومی ترقیاتی منصوبہ تیار کر کے تمام متعلقہ وزارتوں کو فراہم کرے اور اس کے ایک ایک نقطے پر موثر عملدرآمد یقینی بنائے۔
وفاقی وزیر نے وزارتِ منصوبہ بندی کی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وزارت کی تجزیاتی اور تحقیقی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے تمام اہم صنعتی شعبوں کے لیے برآمدات کے واضح، جرات مندانہ اور معین اہداف مقرر کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ جلد از جلد یہ طے کیا جائے کہ کن مخصوص شعبوں سے کتنی برآمدات حاصل کی جا سکتی ہیں اور ان مطلوبہ اہداف کے حصول کے لیے کون سے عملی و تکنیکی اقدامات فوری طور پر ضروری ہیں، کیونکہ پاکستان کا مستقبل صرف اور صرف ٹیکنالوجی، شفافیت اور برآمدات پر مبنی معیشت سے وابستہ ہے۔
چین کی حکومت نے عالمی برادری پر واضح کیا ہے کہ وہ دوسرے ممالک کی اقتصادی اور تکنیکی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے یا انہیں پیچھے دھکیلنے کے بجائے معاشی، صنعتی، بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں شفاف تعاون اور معاونت فراہم کرنے کی مستقل پالیسی پر گامزن ہے۔ چین کی جانب سے زور دے کر کہا گیا ہے کہ بیجنگ نے تاریخ میں کبھی کسی ملک کی ترقی کی ’’سیڑھی‘‘ نہیں کھینچی، بلکہ ہمیشہ دنیا کے ترقی پذیر اور ابھرتے ہوئے ممالک کے لیے معاشی ترقی کی نئی راہ ہموار کی ہے اور ان کی صنعتی صلاحیتیں بہتر بنانے میں عملی مدد فراہم کی ہے۔
چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے یہ تمام تر تفصیلات گزشتہ روز دارالحکومت بیجنگ میں معمول کی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ایک بین الاقوامی صحافی کے سوال کا تفصیلی جواب دیتے ہوئے بیان کیں۔
چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے بیجنگ کی عالمی معاشی حکمت عملی پر روشنی ڈالتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ چین نے نہ تو کبھی کسی ملک کی ترقی کی ’’سیڑھی‘‘ کھینچی ہے اور نہ کبھی ایسا کرے گا، بلکہ اس کے برعکس چین دنیا کے تمام شراکت دار اور کمزور ممالک کے لیے معاشی و صنعتی ترقی کی نئی ’’سیڑھی بنانے‘‘ کے اپنے عزم پر سختی سے قائم ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چین اعلیٰ معیار اور عالمی معیار کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (بی آر آئی) تعاون کے مضبوط فریم ورک کے ذریعے اپنے تمام شراکت دار ممالک میں بنیادی ڈھانچے کی شدید کمی کو دور کرنے کے لیے مسلسل اور فعال مدد فراہم کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چین اعلیٰ ترین معیار اور مناسب ترین قیمت کے صنعتی آلات، جدید سائنسی و تکنیکی مصنوعات کی فراہمی کے ساتھ اپنے کئی دہائیوں پر محیط معاشی تجربات اور ڈجیٹل ٹیکنالوجی کو بھی شراکت دار ممالک کے ساتھ بلا جھجھک شیئر کر رہا ہے۔
ترجمان نے چین کی اس عالمی پالیسی کے مثبت اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بیجنگ کے ان مخلصانہ اور شفاف اقدامات سے گلوبل ساؤتھ کے تمام ممالک کو اپنی صنعتی و پیداواری لاگت نمایاں حد تک کم کرنے، قومی پیداواری صلاحیت کو تیزی سے بڑھانے اور اپنی آزادی کے ساتھ صنعتی ترقی کو آگے بڑھانے میں زبردست اور پائیدار مدد مل رہی ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کے باضابطہ ترجمان سجاد حیدر نے واضح کیا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ تاریخی “مکہ دفاعی معاہدے” کے تحت باقاعدگی سے باہمی مشاورت اور رابطے میں ہیں، تاہم فی الوقت اس عسکری و دفاعی معاہدے میں کسی بھی نئے ملک کو شامل کرنے کے حوالے سے کوئی تجویز زیرِ غور نہیں ہے اور نہ ہی اس سلسلے میں کسی سطح پر کوئی بات چیت ہو رہی ہے۔
جمعرات کے روز اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران صحافیوں کے مختلف سوالات کا جواب دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ مختلف اعلیٰ انتظامی و عسکری سطحوں پر باقاعدگی سے ملاقاتیں اور تفصیلی مشاورت کر رہے ہیں اور تینوں برادر ممالک مسلسل ایک دوسرے کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر نے دفاعی اتحاد کے مستقبل اور ترجیحات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت تینوں ممالک کی بنیادی ترجیح مکہ دفاعی معاہدے کے تحت طے پانے والے موجودہ تعاونی فریم ورک اور تنظیمی ڈھانچے کو مزید فعال، منظم اور مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں ایسے دیگر ممالک کے لیے اس اہم دفاعی اتحاد میں شمولیت کا راستہ کھولا جا سکتا ہے جو اس معاہدے کے بنیادی اصولوں، سیکورٹی نقطہ نظر اور علاقائی ضرورتوں سے مکمل ہم آہنگی رکھتے ہوں۔
سجاد حیدر کے مطابق دفاعی اتحاد میں نئے ممالک کی ممکنہ شمولیت سے متعلق تمام تر اہم فیصلے مستقبل کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی باہمی مشاورت اور متفقہ رائے سے ہی کیے جائیں گے۔
ترجمان نے جاری گفتگو کے دوران افواہوں کا خاتمہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ فی الحال اس حساس معاملے پر کوئی باضابطہ گفتگو یا بات چیت نہیں ہو رہی، اس لیے اس جاری ابتدائی مرحلے پر مکہ دفاعی معاہدے میں کسی بھی نئے ملک کی شمولیت کا سوال بالکل قبل از وقت اور غیر متعلقہ ہے۔
واضح رہے کہ سہ فریقی تاریخی مکہ دفاعی معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین رواں برس 7 اگست 2026ء کو سعودی عرب کے مقدس شہر مکہ مکرمہ میں طے پایا تھا، جس کا بنيادی مقصد ان تینوں اہم اسلامی ممالک کے درمیان اجتماعی دفاع، سیکیورٹی، عسکری ٹیکنالوجی کے تبادلے اور دفاعی تعاون کو ایک نئے جدید اور ناقابلِ تسخیر موڑ پر لانا ہے۔
امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ڈلاس میں ریپبلکن پارٹی کا پہلا وسط مدتی (مڈ ٹرم) انتخابی کنونشن منعقد ہوا جس میں روایتی صدارتی انتخابی سال کے بڑے اجتماعات جیسا شاندار اور جوشیلا ماحول دیکھنے میں آیا۔ چمکدار اور رنگ برنگے ملبوسات میں ملبوس جذباتی حامی، اہم امیدواروں کی تقاریر کا مسلسل سلسلہ، اور انتخابی مہم سے متعلق یادگاری اشیا فروخت کرنے والے دکاندار اس بڑے اجتماع کا نمایاں حصہ تھے۔
تاہم کسی بھی روایتی حزبی کنونشن کے برعکس ڈلاس میں منعقد ہونے والی اس دو روزہ تقریب میں پارٹی کا کوئی باضابطہ یا قانونی کاروبار انجام نہیں دیا گیا۔ اس کے بجائے یہ تمام تر اجتماع ریپبلکن رہنماؤں کے لیے ایک زبردست پاور شو اور انتخابی جلسے کی حیثیت رکھتا تھا، جو رواں سال نومبر میں ہونے والے مڈ ٹرم انتخابات کے دوران امریکی کانگریس کا کنٹرول مکمل طور پر برقرار رکھنے اور اپنے ووٹ بینک و ووٹرز کی شرکت کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کی انتھک کوششیں کر رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جن کا ریپبلکن پارٹی کی قیادت اور ووٹرز پر اثر و رسوخ آج بھی بدستور مکمل طور پر قائم و دائم ہے، نے دو روزہ تقریب کی افتتاحی شام ایک انتہائی طویل اور جذباتی کلیدی خطاب کیا۔ انہوں نے اپنے اس خطاب میں ان تمام اہم موضوعات اور پالیسیوں پر کھل کر بات کی جن پر وہ رواں سال انتخابی جلسوں میں بار بار اظہارِ خیال کرتے رہے ہیں، تاہم اس تقریب کے دوران ان کی جانب سے چند انتہائی غیر متوقع اور سنسنی خیز اعلانات بھی کیے گئے۔
ڈونلڈ ٹرمپ طویل عرصے سے اپنے سیاسی جلسوں اور تقریروں میں غیر روایتی اور چونکا دینے والی تجاویز پیش کرنے کے لیے مشہور ہیں۔ اپنے اسی انداز کو برقرار رکھتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ اگر ریپبلکن پارٹی نومبر کے مڈ ٹرم انتخابات میں امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں یعنی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں کامیابی حاصل کر لیتی ہے تو وہ ہر بالغ امریکی شہری کو 5,000 ڈالر (تقریباً 3,700 برطانوی پاؤنڈ) کا بڑا کیش ریلیف دینے کی باقاعدہ قانون سازی کریں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اس معاشی منصوبے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس رقم کی فراہمی کی صرف اور صرف ایک بنیادی شرط ہوگی، اور وہ یہ کہ ہر شہری کو یہ رقم لازمی طور پر امریکہ کی حدود ہی کے اندر مختلف اشیاء اور خدمات پر خرچ کرنا ہوگی تاکہ ملکی معیشت کو تقویت مل سکے۔
تاہم صدر ٹرمپ نے اپنے پورے خطاب میں یہ بالکل نہیں بتایا کہ اس دیوہیکل منصوبے پر عملی طور پر کیسے عمل درآمد کیا جائے گا، اس کھربوں ڈالر کی خطیر رقم کا انتظام کہاں سے ہوگا، یا امریکی حکومت اور اس کے محکمے یہ کیسے چیک اور جانچ سکیں گے کہ یہ رقم واقعی امریکہ کے اندر ہی خرچ کی گئی ہے۔
ریاستی مخالف جماعت ڈیموکریٹس کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس غیر متوقع اعلان پر شدید ردِعمل سامنے آیا اور انہوں نے اسے فوری طور پر ایک سیاسی اور “کھوکھلا وعدہ” قرار دے کر مسترد کر دیا، جبکہ متعدد معاشی اور قانونی ناقدین نے یہ سنجیدہ سوالات بھی اٹھائے ہیں کہ آیا امریکی آئین اور قانونی فریم ورک کے تحت ایسا معاشی وعدہ عملی طور پر ممکن بھی ہے یا نہیں۔
حساب کتاب کے مطابق اس وقت امریکہ میں تقریباً 27 کروڑ بالغ افراد موجود ہیں، جس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ اگر فی کس 5,000 ڈالر کی رقم تقسیم کی جائے تو امریکی حکومت کے خزانے پر اس کا مجموعی بوجھ تقریباً 1.3 کھرب (1.3 ٹریلین) ڈالر پڑے گا۔
امریکی معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تجویز عملی طور پر قابلِ عمل ہے یا نہیں، بظاہر اس سے کہیں زیادہ اہم بات یہ تھی کہ اس بڑے اعلان کا کنونشن میں موجود ٹرمپ کے حامیوں اور حاضرین پر کیا تاثر قائم ہوا۔ پورے ہال میں اس تجویز کا اعلان ہوتے ہی پرجوش شرکاء نے کھڑے ہو کر منٹوں تک زوردار تالیاں بجائیں اور ڈونلڈ ٹرمپ بھی اپنے حامیوں کے اس والہانہ ردِعمل سے بے حد محظوظ اور خوش دکھائی دیے۔
پاکستان نے برطانیہ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے درآمد کی جانے والی تمام مصنوعات اور اشیائے صرف پر مکمل پابندی عائد کرنے کے جرات مندانہ فیصلے کا پرجوش اور غیر مشروط خیرمقدم کیا ہے۔
ترجمان وزارتِ دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان میں دوٹوک الفاظ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی سرزمین پر غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کا مسلسل اور متنازع پھیلاؤ بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق کے چارٹر اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی سراسر کھلی خلاف ورزی ہے۔ بیان میں مزید واضح کیا گیا کہ اس قسم کے غاصبانہ اقدامات نہ صرف آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے دو ریاستی حل کے حصول کی راہ میں رکاوٹ ہیں بلکہ خطے کے امن اور استحکام کو بھی شدید ترین خطرات سے دوچار کر رہے ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ پاکستان نے برطانیہ کے اس اقدام کے ساتھ ساتھ کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، آئس لینڈ، آئرلینڈ، ناروے، پولینڈ، پرتگال، اسپین اور سویڈن سمیت دنیا کے دیگر متعدد باوقار ممالک کے ان اعلانات کا بھی پرتپاک خیرمقدم کیا ہے جن میں انہوں نے غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے خلاف بالکل اسی نوعیت کے سخت تجارتی و معاشی اقدامات پر غور کرنے اور بھرپور حمایت کا اظہار کیا ہے۔
دفترِ خارجہ کی جانب سے امید ظاہر کی گئی ہے کہ عالمی برادری کے یہ اجتماعی اور مربوط اقدامات مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں جاری تمام غاصبانہ اور غیر قانونی سرگرمیوں کو سرسری طور پر مسترد کرنے کا ایک انتہائی واضح، دوٹوک اور سخت ترین پیغام ثابت ہوں گے۔
یاد رہے کہ برطانیہ کی حکومت نے 8 ستمبر کو باضابطہ اعلان کیا تھا کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے کی غیر قانونی اسرائیلی بستیوں میں تیار یا پیدا ہونے والی تمام اشیا کی برطانیہ درآمد پر پابندی عائد کرے گی۔ برطانوی حکومت کے مطابق یہ فیصلہ فرانس اور کینیڈا کے ساتھ مل کر کی گئی ایک مشترکہ سفارتی و اقتصادی کوشش کا حصہ ہے، جبکہ بستیوں کی توسیع، مالی معاونت اور انفراسٹرکچر میں براہِ راست مدد فراہم کرنے والی مخصوص کمپنیوں اور افراد کے خلاف بھی پابندیوں کے دائرہ کار کو وسیع کیا جائے گا۔ برطانوی انتظامیہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ اقدامات براہِ راست اسرائیل کے ساتھ مجموعی دوطرفہ تجارت کو نشانہ نہیں بناتے بلکہ ان کا ہدف صرف غیر قانونی بستیوں اور ان کی توسیع سے جڑی مالی و تجارتی سرگرمیاں ہیں۔
بیان کے اختتام پر پاکستان نے ایک بار پھر مظلوم فلسطینی عوام کے ناقابلِ تسخیر حقِ خودارادیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان ایک آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے اپنی تمام تر سفارتی کوششیں جاری رکھے گا، جو 1967 سے قبل کی سرحدوں پر قائم ہو اور جس کا بابرکت دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے شہر بھر میں شیشہ کیفے چلانے پر تاحکمِ ثانی مکمل اور سخت ترین پابندی عائد کر دی ہے، جس کا بلاامتیاز اطلاق سابقہ این او سی رکھنے والے کیفیز اور تمام چھوٹے بڑے تجارتی مراکز پر یکساں طور پر ہوگا۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے تمام اسسٹنٹ کمشنرز کو اس پابندی پر بلاامتیاز اور سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے شیشہ کیفیز کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر گرینڈ آپریشنز اور کارروائیاں کرنے کا حکم دیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ فیصلے میں صراحت کی گئی ہے کہ اس مکمل قدغن کا اطلاق ان ڈور اور آؤٹ ڈور، دونوں طرح کی سائٹس پر قائم شیشہ کیفیز پر ہوگا۔ ضلعی انتظامیہ نے واضح اور سخت الفاظ میں انتباہ جاری کیا ہے کہ اس سرکاری پابندی کی ذرہ برابر بھی خلاف ورزی کرنے والے شیشہ کیفے کو موقع پر فوری سیل کر دیا جائے گا، جبکہ کیفے کے مالک اور انتظامیہ کے خلاف سخت ترین تعزیراتی دفعات کے تحت باقاعدہ مقدمہ درج کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں تمام اسسٹنٹ کمشنرز کو اپنے اپنے علاقائی دائرہ کار میں باقاعدگی سے ہنگامی انسپکشن کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
انتظامیہ کا یہ حتمی اور سخت فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں شیشہ کیفے کی سرگرمیوں اور قانونی حیثیت سے متعلق دائر کی گئی اہم درخواستوں کی سماعت کے بعد سامنے آیا ہے۔ بدھ کے روز چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر نے کیس کی اعلیٰ سطحی سماعت کی، جس میں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) اسلام آباد، ڈپٹی کمشنر، ایڈووکیٹ جنرل اور قائم مقام پراسیکیوٹر جنرل ذاتی طور پر عدالتِ عالیہ کے سامنے پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران اسلام آباد پولیس کے حکام نے عدالت کو باضابطہ آگاہ کیا کہ سابقہ عدالتی احکامات کی روشنی میں شیشہ کیفیز کے خلاف گرینڈ ایکشن لیا گیا ہے اور خلاف ورزی کرنے والے متعدد افراد کے خلاف ایف آئی آرز بھی درج کی گئی ہیں، تاہم ان کارروائیوں کے دوران انتظامیہ اور پولیس کو کیفے مالکان کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔
کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے اپنے اہم ریمارکس میں واضح کیا کہ ملک میں شیشہ کیفے کے حوالے سے فی الوقت کوئی قانونی یا باقاعدہ قواعد و ضوابط (رولز) موجود نہیں ہیں۔ عدالتِ عالیہ نے دوٹوک فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ باقاعدہ رولز اور قانونی فریم ورک وضع کیے بغیر شیشہ کیفے کے اس کاروبار کو اس طرح بے لگام جاری رکھنے کی بالکل اجازت نہیں دی جا سکتی۔ عدالت نے اسلام آباد کی مقامی ضلعی انتظامیہ کو شیشہ کیفے کی قانونی تنظیم سازی اور باقاعدہ قواعد و ضوابط کی تیاری کے لیے ایک ماہ کی مہلت فراہم کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کر دی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین باضابطہ حکم کے تحت فی الحال شہر کا کوئی بھی شیشہ کیفے، خواہ وہ کسی قسم کا این او سی رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو، یا ان ڈور و آؤٹ ڈور لوکیشن پر قائم ہو، صارفین کو شیشہ فراہم کرنے کا مجاز نہیں ہوگا۔ یہ سخت پابندی قانون سازی اور نئے قواعد و ضوابط کی تشکیل تک تاحکمِ ثانی نافذ العمل رہے گی۔
پاک بحریہ کے شعبہ تعلقات عامہ (ڈی جی پی آر نیوی) کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق سمندری حدود میں معمول کے گشت اور سکیورٹی ڈیوٹی انجام دینے کے دوران پاک بحریہ کے دو جوان ہلاک ہو گئے ہیں۔
پاک بحریہ کے ترجمان کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق سمندر میں پیٹرولنگ اور وطنِ عزیز کی آبی سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی شناخت شعیب الرحمان اور غفران نثار کے ناموں سے ہوئی ہے۔
پاک بحریہ کے شعبہ تعلقات عامہ نے بدھ کے روز سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک مختصر بیان میں دونوں جوانوں کی ہلاکت کا باضابطہ اعلان کیا، تاہم اس المناک واقعے کے پیچھے پیش آنے والے حالات اور حتمی وجوہات کے حوالے سے فی الوقت مزید تفصیلی معلومات جاری نہیں کی گئی ہیں۔
ترجمان پاک بحریہ کی جانب سے جاری کی گئی باضابطہ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پاک بحریہ کے انتہائی سینئر بحری افسران اور جوانوں نے دونوں اہلکاروں کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔ ہلاک ہونے والے اہلکار شعیب الرحمان کی نمازِ جنازہ ان کے آبائی علاقے تلہ گنگ میں ادا کی گئی جبکہ غفران نثار کی نمازِ جنازہ ضلع بھمبر میں ادا کی گئی۔
نمازِ جنازہ کے ان روح پرور اجتماعات میں پاک بحریہ کے اعلیٰ افسران، جوانوں، شہداء کے لواحقین اور مقامی شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ بعد ازاں دونوں جوانوں کے جسدِ خاکی کو مکمل فوجی اعزاز، سلامی اور عقیدت کے ساتھ ان کے آبائی قبرستانوں میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے چیئرمین ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے مرکزی اکیڈمک کمپلیکس میں علم و ادب، ثقافتی اقدار اور تخلیقی سرگرمیوں کے ہمہ گیر فروغ کے لیے تمام جدید ترین سہولیات سے آراستہ ایک وسیع تھیٹر ہال کا باضابطہ افتتاح کر دیا ہے۔
افتتاح کیا جانے والا یہ جدید تھیٹر ہال یونیورسٹی کے لاکھوں طلبہ کو روایتی نصابی تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنے آزادانہ اظہارِ خیال، پوشیدہ تخلیقی صلاحیتوں، فنونِ لطیفہ اور متنوع ثقافتی سرگرمیوں کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایک بلاشبہ موثر اور جدید ترین قومی پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔ اس پروقار افتتاحی تقریب میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود، یونیورسٹی کے سرکردہ اساتذہ، اور شعبہ جات کے پرنسپل افسران کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
اس نو تعمیر شدہ تھیٹر ہال میں پہلی علمی و ادبی تقریب کے طور پر پنجاب یونیورسٹی کی پروفیسر ایمریٹس اور ممتاز ترین ماہرِ تعلیم پروفیسر ڈاکٹر منور سلطانہ مرزا کی شہرہ آفاق کتاب “ٹیچر ایجوکیشن ان پاکستان” کی باقاعدہ رونمائی کی گئی، جس کی صدارت کا اعزاز چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے سنبھالا۔
تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے کہا کہ پاکستان کے اندر معیاری اور عالمی سطح کی تعلیم کا خواب شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے باصلاحیت، جدید تربیت یافتہ اور بلند کردار استاد کا ہونا بنیادی طور پر ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ استاد صرف کتابی معلومات کا امین یا ناقل نہیں ہوتا بلکہ اسے اپنے طلبہ، ان کے والدین اور پورے معاشرے کے لیے ایک عملی نمونہ اور حقیقی رول ماڈل ہونا چاہیے۔ دورِ حاضر کے بدلتے ہوئے عالمی اور تعلیمی تقاضوں کے پیشِ نظر انہوں نے اساتذہ کی علمی، تدریسی اور جدید پیشہ ورانہ تربیت پر بلا تعطل مسلسل توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ چیئرمین ایچ ای سی نے کہا کہ “ٹیچر ایجوکیشن ان پاکستان” ایک بلاشبہ معرکہ الآرا کتاب ہے جو اساتذہ کی جدید تعلیم و تربیت، ان کے معاشرتی کردار اور پیشہ ورانہ ترقی کے بنیادی پہلوؤں کو باریک بینی سے سمجھنے میں مشعلِ راہ ثابت ہوگی، جس کا تمام اساتذہ کو لازمی مطالعہ کرنا چاہیے۔
یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے مصنفہ پروفیسر ڈاکٹر منور سلطانہ مرزا کی دہائیوں پر محیط علمی و تدریسی خدمات کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر منور سلطانہ مرزا ملکی تعلیم و تدریس کے میدان میں ایک نہایت معتبر، صاحبِ بصیرت اور قابلِ فخر شخصیت ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تحریر کردہ کتاب ان کی سالہا سال کی فکری کاوش، عمیق تجربے اور سائنسی بصیرت کا بہترین مظہر ہے جو تعلیم کے شعبے سے وابستہ تمام افراد کے لیے ایک انمول تحفہ ہے۔
افتتاحی تقریب سے وفاقی وزارتِ تعلیم کے ایڈیشنل سیکرٹری حسن ثقلین، پارلیمانی سیکرٹری رابعہ نسیم، سابق وائس چانسلر و پروفیسر ایمریٹس پروفیسر ڈاکٹر محمود الحسن بٹ اور معروف ماہرِ تعلیم ڈاکٹر افشاں ہما نے بھی خطاب کیا۔ تمام مقررین نے اس کتاب کو ملک میں اساتذہ کی تربیت کے موضوع پر ایک انتہائی جامع اور بروقت تحقیقی کاوش قرار دیتے ہوئے مصنفہ کی گرانقدر خدمات کو سراہا۔
وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا ہے کہ بیرون ملک مقیم تمام پاکستانی ملک کا انتہائی قیمتی معاشی و قومی اثاثہ ہیں، اور موجودہ حکومت ان کی سفری دستاویزات اور پاسپورٹ سے متعلق مسائل کے فوری حل اور سہولیات کی فراہمی کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔
ترجمان وزارتِ قانون و انصاف کی طرف سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کی صدارت میں پاسپورٹ رولز کمیٹی کا ایک اہم اور اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ خارجہ، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پاسپورٹ اینڈ امیگریشن اور دیگر متعلقہ اداروں کے سینئر حکام اور نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران وفاقی وزیر قانون نے سفری دستاویزات اور دیگر ضروری کاغذات کی بروقت، شفاف اور بغیر کسی تاخیر کے تصدیق کو یقینی بنانے کے لیے ایک مربوط، جدید اور تیز رفتار ڈیجیٹل نظام وضع کرنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔ اعظم نذیر تارڑ نے حکام کو احکامات دیے کہ نادرست ریکارڈ کی تصدیق اور پاسپورٹس کے اجراء کے عمل کو سائلین کے لیے انتہائی آسان اور تیز بنایا جائے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ تمام انتظامی تصدیقی مراحل کے لیے ایک واضح اور محدود ٹائم لائن مقرر کی جائے تاکہ اوورسیز پاکستانیوں کو سفارت خانوں یا پاسپورٹ دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں اور نہ ہی غیر ضروری تاخیر کا سامنا کرنا پڑے۔
سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے وزارتِ داخلہ کی سطح پر فوری الیکٹرانک طریقہ کار مرتب کرنے اور تمام ضروری تصدیقی کارروائیوں کو آن لائن پلیٹ فارم پر منتقل کرنے کی تاکید کی۔ انہوں نے بیرون ملک مقیم شہریوں کے تمام مسائل اور کاغذات کی ایک ہی جگہ پر تصدیق کے لیے جدید ون ونڈو پورٹل متعارف کرانے کی تجویز پیش کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ پاسپورٹ قوانین اور قواعد و ضوابط میں مزید بہتری لانے کے لیے فوری سفارشات اور تجاویز تیار کریں۔
وفاقی وزیر قانون نے تمام متعلقہ اداروں کو احکامات دیے کہ وہ پاسپورٹ رولز کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں اس پورٹل اور آن لائن نظام کے حوالے سے ایک واضح اور قابلِ عمل لائحہ عمل پیش کریں تاکہ تمام تر کارروائی کو مکمل طور پر شفاف، موثر اور عوام دوست بنایا جا سکے۔
وفاقی آئینی عدالت نے اپنے ایک اہم اور تفصیلی تحریری فیصلے میں واضح کیا ہے کہ قانونی داد رسی اور چارہ جوئی کے لیے متعین کردہ مقررہ مدت پر عمل کرنا قانون کا بنیادی اور اہم ترین اصول ہے، اس لیے محض کسی معاملے کو بنیادی حقوق کا مسئلہ قرار دے کر غیر معمولی تاخیر سے دائر کی گئی آئینی درخواست کے ذریعے قانون میں طے شدہ مدت کو نظر انداز یا بائی پاس نہیں کیا جا سکتا۔
وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی تحریری فیصلے میں مذہبی لٹریچر، کتب اور مواد پر پابندی اور ان کی ضبطگی کے خلاف دائر کی گئی متعدد اپیلیں اور درخواستیں بلاجواز تاخیر کی بنیاد پر خارج کر دی گئی ہیں۔ عدالتِ عالیہ نے قرار دیا ہے کہ درخواستوں کی دائرگی میں بغیر کسی ٹھوس وجہ کے غیر معمولی تاخیر قانونی اصطلاح میں “لیشز” کا باعث بنتی ہے، اور آئینی درخواست کے ذریعے قانونی مدت سے بچنے کی ایسی تمام کاوشیں دراصل آئین اور قانون کے جائز عمل کا غلط استعمال ہیں۔
تفصیلی فیصلے میں عدالت نے نشاندہی کی کہ درخواست گزاروں کے پاس صوبائی حکومت کی جانب سے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 99 اے کے تحت کی گئی انتظامی کارروائی کے خلاف دفعہ 99 بی کے تحت ہائی کورٹ سے باضابطہ رجوع کرنے کا مؤثر اور متبادل قانونی راستہ موجود تھا۔ اس کے علاوہ متعلقہ آرڈیننس کے تحت بھی متفقہ طور پر اپیل کا حق میسر تھا، تاہم تمام تر درخواست گزاروں نے مقررہ قانونی مدت کے اندر یہ لازمی قانونی راستہ اختیار کرنے کے بجائے انتہائی تاخیر کا مظاہرہ کیا۔
وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں بنیادی قانونی نقطہ واضح کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی اختیارات کا ہر قسم کا استعمال قانون کے اندر موجود باضابطہ ماخذ سے منسلک ہونا ضروری ہے۔ محض یہ حقیقت کہ کوئی فیصلہ انتظامی افسر کی جانب سے ہوا ہے، اسے ازخود غیر قانونی یا محض صوابدیدی اختیار نہیں بنا دیتی، بلکہ بنیادی سوال یہ ہے کہ وہ اختیار کس بنیادی قانون کے تحت حاصل کیا گیا تھا اور اس کا ماخذ کیا ہے۔
عدالتی فیصلے میں مزید لکھا گیا ہے کہ بنیادی حقوق بلاشبہ آئین پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ اہم ترین ضمانتیں ہیں، تاہم ان حقوق کا استعمال ملکی قانون، عمومی پالیسی اور اخلاقیات کے واضح تابع ہوتا ہے۔ مذہبی آزادی سمیت آئین میں درج تمام بنیادی حقوق کو ہمیشہ وسیع تر عوامی مفاد، بین المذاہب ہم آہنگی اور امنِ عامہ کے ساتھ متوازن بنانا قانون کے لیے بے حد ضروری ہے۔
مقدمے کے پس منظر کے مطابق درخواست گزار محمد عبد القدوس نے پنجاب حکومت کے محکمہ داخلہ کی جانب سے 25 جون 2014 کو جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا تھا، جس کے تحت “روحانی خزائن” کی جلد اول سے 23 پر باضابطہ پابندی عائد کی گئی تھی اور تمام دستیاب نقول کو ضبط کرنے کے احکامات دیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ دیگر تمام درخواست گزاروں نے بھی مختلف دینی و دیگر لٹریچر اور متنازع مواد کے خلاف کی جانے والی حکومتی و انتظامی کارروائیوں کو عدالت عالیہ میں چیلنج کر رکھا تھا۔
عدالت نے حتمی طور پر قرار دیا کہ درخواست گزاروں نے وقت پر متبادل قانونی چارہ جوئی کا فورم اختیار کرنے کے بجائے برسوں کی تاخیر کے بعد براہِ راست آئینی درخواستیں دائر کی ہیں اور عدالت کے سامنے تاخیر کی کوئی معقول یا قابلِ قبول وجہ بھی پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ وفاقی آئینی عدالت نے ہائی کورٹ کے فیصلوں کو بحال رکھتے ہوئے قرار دیا کہ زیرِ نظر فیصلے میں کوئی قانونی یا دائرہ اختیار کی خامی موجود نہیں جس کی بنیاد پر مداخلت کی جائے، اور اسی بنا پر تمام درخواستیں خارج کرتے ہوئے زیر التوا متفرق متفرقات کو نمٹا دیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں بلوچستان ایوی ایشن کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چوتھے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی، جس میں کمپنی کے انتظامی، مالی، اور عملی (آپریشنل) امور کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے متعدد بنیادی فیصلوں اور تجاویز کی منظوری دی گئی، جبکہ گزشتہ بورڈ اجلاس کے فیصلے توثیق کر کے نافذ العمل بنا دیے گئے۔
اجلاس کے دوران بلوچستان ایوی ایشن کمپنی کی مجموعی کارکردگی، ادارے کے انتظامی ڈھانچے، ہوابازی کے عملی امور اور مستقبل کی جامع اسٹریٹجی پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر کمپنی کی کارکردگی کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے، انتظامی امور کو زیادہ منظم و فعال کرنے، اور کمپنی کی آپریشنل استعداد کار میں خاطر خواہ اضافے کے لیے مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔
وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے بورڈ حکام کو سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان ایوی ایشن کمپنی کو جدید دور کے تقاضوں سے مکمل طور پر ہم آہنگ کیا جائے اور اس کی انتظامی و آپریشنل صلاحیتوں میں ہر ممکن بہتری لائی جائے تاکہ یہ ادارہ وسیع الرقبہ صوبہ بلوچستان کے اندر اور باہر فضائی سفری سہولیات کی فراہمی میں اپنا کلیدی اور مثبت کردار ادا کر سکے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے متعلقہ حکام کو واضح احکامات دیے کہ کمپنی کے تمام مالی و انتظامی امور میں مکمل شفافیت، اعلیٰ درجے کے پیشہ ورانہ نظم و نسق، اور کڑی نگرانی کے نظام کو یقینی بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ہدایت کی کہ اجلاس میں منظور کیے گئے تمام اہم فیصلوں پر بلا تاخیر اور بروقت عمل درآمد کے لیے ایک موثر اور شفاف عملدرآمد میکنزم تیار کیا جائے۔
بورڈ کے اس اہم اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، سیکرٹری خزانہ جہانگیر خان، ڈائریکٹر جنرل بلوچستان ایوی ایشن کمپنی کیپٹن علی آزاد، اور کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے تمام اراکین سمیت متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور ادارے کی ترقی کے لیے تجاویز پیش کیں۔
قائم مقام صدر مملکت اور چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں پائیدار قومی، معاشی اور جمہوری ترقی اس وقت تک مکمل اور مستحکم نہیں ہو سکتی جب تک ملک کی نیمی آبادی یعنی خواتین کو تمام ریاستی اداروں، معیشت اور پالیسی سازی میں مساوی نمائندگی اور قیادت کے مکمل مواقع فراہم نہ کیے جائیں۔
اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے زیرِ اہتمام منعقدہ “پاکستان ویمن لیڈرشپ اینڈ پالیسی سمٹ 2026” کے عظیم الشان اور پروقار اجلاس سے بطور مہمانِ خصوصیہ خطاب کرتے ہوئے قائم مقام صدر نے چیمبر آف کامرس اور تمام دیگر شراکت داروں کی کاوشوں کو شاندار الفاظ میں سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کانفرنس دو انتہائی اہم اور ناگزیر قومی ترجیحات یعنی خواتین کی قائدانہ صلاحیتوں کی آبیاری اور موثر و عملی پالیسی سازی کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کرنے کا سبب بنی ہے۔
سید یوسف رضا گیلانی نے سمٹ میں موجود معاشی ماہرین، صنعتکاروں اور پالیسی سازوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی حقیقی معاشی طاقت کو بیدار کرنے کے لیے یہ یقینی بنانا ہوگا کہ خواتین صرف ترقی اور فوائد سے مستفید ہونے والی محض صارفین نہ ہوں، بلکہ وہ معاشی میدان میں بحیثیت کامیاب تاجر، صنعتکار، پیش ور ماہر، ڈیجیٹل جدت کار اور قائدانہ کردار ادا کرنے والی رہنما کے طور پر معیشت کی بنیادی محرک بنیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چاہے کسی بھی دور دراز علاقے یا پس منظر سے تعلق رکھنے والی خاتون ہو، اسے معیاری تعلیم، مالی وسائل، جدید ترین ٹیکنالوجی، بین الاقوامی مارکیٹوں اور اعلیٰ سطح کی فیصلہ سازی تک بلاامتیاز مساوی اور آسان رسائی میسر ہونی چاہیے۔
قائم مقام صدر مملکت نے اپنے خطاب میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے انقلابی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس عالمی سطح پر تسلیم شدہ پروگرام کے ذریعے مالی معاونت کی رقم براہِ راست مستحق خواتین کے ہاتھوں میں پہنچانے سے گھریلو نظام کے اندر معاشی فیصلہ سازوں کے طور پر ان کے وجود کو بے پناہ تقویت ملی ہے۔ ان کے مطابق یہ محض عارضی امداد نہیں بلکہ مالی انحصار سے خود مختاری اور باوقار بااختیاری کی جانب ایک اہم تاریخی تبدیلی کی علامت ہے۔
سید یوسف رضا گیلانی نے تمام بینکوں اور مالیاتی اداروں پر زور دیا کہ وہ خواتین کی زیرِ قیادت کام کرنے والے کاروباروں اور نئے اسٹارٹ اپس کے لیے مالی سرمائے اور قرضوں کی فراہمی کے عمل کو انتہائی آسان اور سہل بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں قومی سطح پر ایک ایسا شفاف ماحولیاتی نظام قائم کرنا ہوگا جہاں جب کسی خاتون کے پاس کوئی بھی تخلیقی یا تجارتی تصور ہو تو اسے سستے اور آسان مالی وسائل، منڈیوں تک رسائی، اور میرٹ کی بنیاد پر آگے بڑھنے کی تمام تر سہولیات بغیر کسی صنفی رکاوٹ کے فراہم کی جائیں۔
قائم مقام صدر نے پاکستان کی تاریخ کی ان عظیم اور جرات مند خواتین کو خراجِ عقیدت پیش کیا جنہوں نے تمام روایتی رکاوٹوں کو توڑ کر ملکی تاریخ کو نئی سمت دی۔ انہوں نے محترمہ فاطمہ جناح، بیگم رعنا لیاقت علی خان، بیگم شائستہ اکرام اللہ اور بالخصوص سابق وزیراعظم شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے ایک مسلم اکثریتی ملک کی پہلی منتخب خاتون وزیراعظم بن کر ایسی چٹانوں کو توڑا جنہیں تسخیر کرنا طویل عرصے تک ناممکن سمجھا جاتا تھا، اور ان کا وہ تاریخی سفر آج بھی خواتین کو عوامی زندگی میں آگے آنے اور قیادت سنبھالنے کی مسلسل ترغیب دیتا ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر قائم مقام صدر نے اعلان کیا کہ جب خواتین کی قیادت مضبوط ہوتی ہے تو خاندان خوشحال ہوتے ہیں، خواتین کی معاشی شمولیت سے قومیں ترقی کرتی ہیں اور جب خواتین پالیسی سازی میں شریک ہوتی ہیں تو جمہوریت زیادہ شفاف، منصفانہ اور پائیدار بنتی ہے۔ تقریب کے اختتام پر قائم مقام صدر نے اسلام آباد چیمبر کے نمایاں ارکان میں شیلڈز اور اسناد بھی تقسیم کیں، جبکہ چیمبرز کی قیادت کی جانب سے قائم مقام صدر کو یادگاری شیلڈ پیش کی گئی۔
پاکستان نے برطانیہ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں میں تیار ہونے والی یا وہاں سے صادر کی جانے والی تمام مصنوعات کی درآمد پر باضابطہ پابندی عائد کرنے کے تاریخی اور جرات مندانہ اعلان کا پرجوش خیرمقدم کیا ہے۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک اہم پریس ریلیز اور باضابطہ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی سرزمین پر غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی مسلسل اور متنازع توسیع بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق کے چارٹر اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی پاس کردہ قراردادوں کی کھلی اور سنگین خلاف ورزی ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے ایسے تمام تر غیر قانونی اور غاصبانہ اقدامات نہ صرف آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور دو ریاستی حل کے حصول کے لیے جاری عالمی سفارتی کاوشوں کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں، بلکہ پوری مشرقِ وسطیٰ کے دائم امن، توازن اور استحکام کو بھی سخت خطرات سے دوچار کر رہے ہیں۔
وزارتِ خارجہ کا اپنے بیان میں مزید کہنا ہے کہ پاکستان برطانیہ کے اس اقدام کے ساتھ ساتھ کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، آئس لینڈ، آئرلینڈ، ناروے، پولینڈ، پرتگال، اسپین اور سویڈن سمیت دنیا کے دیگر متعدد اہم ممالک کے اس اہم اعلان کی بھی مکمل تائید اور خیرمقدم کرتا ہے، جس میں انہوں نے غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات کے بائیکاٹ اور اسی نوعیت کے سخت تجارتی و سفارتی قدغنوں پر غور کرنے اور عملی اقدامات کی حمایت کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
ترجمان نے امید ظاہر کی کہ ان بین الاقوامی اقدامات، تجارتی پابندیوں اور مشترکہ فیصلوں سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں جاری تمام تر غاصبانہ و غیر قانونی سرگرمیوں کو عالمی برادری کی جانب سے یکسر مسترد کیے جانے کا ایک انتہائی واضح، دوٹوک اور سخت پیغام پہنچے گا۔
واضح رہے کہ برطانیہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیوں کے خلاف تاریخی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ انتہا پسند آبادکاروں کی جانب سے مظلوم فلسطینیوں کی ‘نسل کشی’ اور تشدد پر مجرمانہ چشم پوشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
گزشتہ روز برطانوی پارلیمان کے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے کہا تھا کہ یہ اقدام اسرائیل فلسطین تنازع کے حوالے سے برطانیہ کے ‘ایک نئے اور عملی طرزِ عمل کی شروعات’ ہے، جو صرف زبانی زبانی ناانصافی کی نشاندہی ہی نہیں کرتا بلکہ بین الاقوامی سطح پر عملی پیش رفت بھی کرتا ہے۔ برطانوی پابندیوں کے تحت بستیوں کی مصنوعات پر کامل پابندی عائد رہے گی جبکہ بستیوں کی توسیع میں مددگار کمپنیوں اور افراد پر بھی سخت ایکشن لیا جائے گا۔
یہ جدید پابندیاں فرانس اور کینیڈا کے ساتھ مل کر نافذ کی گئی ہیں، جنہوں نے ایک مشترکہ بین الاقوامی اعلامیے میں کہا ہے کہ یہ قدم دو ریاستی حل کے تحفظ کے لیے طرزِ عمل میں اہم موڑ ثابت ہوگا۔ بین الاقوامی قانون کے تحت یہ تمام تر بستیاں مکمل طور پر غیر قانونی ہیں اور حالیہ مہینوں کے دوران ان علاقوں میں فلسطینیوں پر تشدد کے بزدلانہ واقعات میں تشویشناک اضافہ دیکھا گیا ہے۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے خلیج فارس اور بحیرہ عرب میں جاری شدید عسکری کشیدگی کے دوران بڑا دعویٰ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایران کی جانب سے طے کردہ ‘ممنوعہ سمندری علاقے’ کی جغرافیائی حدود کو مزید وسیع کر دیا گیا ہے، جس میں اب خلیجِ عمان اور بحیرۂ عرب کے انتہائی اہم اور حساس حصے بھی شامل ہوں گے۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے باضابطہ ترجمان حسین محبی نے تہران میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس نئے اور جدید توسیع شدہ ممنوعہ علاقے سے ایرانی حکومت یا بحریہ کی پیشگی اجازت کے بغیر گزرنے والے تمام ملکی و غیر ملکی تجارتی اور آئل ٹینکرز کے خلاف سخت ترین تعزیری ‘پابندیاں’ نافذ کی جائیں گی۔
ایرانی عسکری ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس توسیع شدہ ممنوعہ علاقے کی دقیق جغرافیائی حدود اور اس سے متعلقہ بین الاقوامی کوآرڈینیٹس کا باقاعدہ نقشہ اور تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی، تاہم ابتدائی طور پر یہ سمندری حد بندرگاہ چابہار کے علاقے سے شروع ہوتی ہے۔
حسین محبی نے انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ جو بحری جہاز ایران کی جانب سے مقررہ اور واضح کی گئی ممنوعہ حدود میں غیر قانونی طور پر داخل ہوں گے، انہیں بعد میں عالمی توانائی کی شاہ رگ سمجھی جانے والی آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی ایسے خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو بین الاقوامی قانونی، لاجسٹک، تکنیکی اور انشورنس کی خدمات کی فراہمی بھی روک دی جائے گی تاکہ ان کی آزادانہ آمدورفت ناممکن بنائی جا سکے۔
ایران کی جانب سے یہ غیر معمولی اور خطرناک اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے مابین خلیج فارس، بحیرہ عمان اور آبنائے ہرمز کے ارد گرد عسکری و بحری محاذ آرائی میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے، جس کے باعث خطے میں بین الاقوامی تجارتی جہازرانی اور خام تیل و ایل این جی کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے محدود سمندری زونز کی توسیع کا یہ اقدام حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز کے قریب کئی آئل ٹینکرز پر ہونے والے حملوں اور جوابی کارروائیوں کے تسلسل میں دیکھا جا رہا ہے۔
ایران اس سے قبل بھی آبنائے ہرمز کے باہر بحری حدود میں ایک نیا ‘محدود سمندری زون’ قائم کرنے کا باضابطہ اعلان کر چکا ہے، جس کا حتمی مقصد ان بین الاقوامی جہازوں کو روکنا اور تحویل میں لینا تھا جو ایرانی نگرانی، جانچ اور تجارتی پابندیوں کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ تہران کے اس تازہ ترین اعلان کے بعد خلیجِ عمان اور بحیرۂ عرب سے گزرنے والی بین الاقوامی بحری تجارت اور خصوصاً خلیجی ممالک سے عالمی منڈیوں کو ہونے والی توانائی کی فراہمی پر بلاواسطہ منفی اثرات اور معاشی خطرات کے شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
ایواجی الائنس اور عورت فاؤنڈیشن نے بلوچستان میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران خواتین اور کمسن بچیوں کے خلاف مبینہ تشدد، بدترین قتل، تیزاب گردی، اور جنسی زیادتی کے واقعات میں اچانک ہونے والے خطرناک اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت اور تمام متعلقہ سیکیورٹی و قانون نافذ کرنے والے اداروں سے فوری، شفاف اور مؤثر اقدامات کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔
جاری کردہ مشترکہ پریس ریلیز میں دونوں معتبر حقوقِ نسواں کی تنظیموں نے کچلاک میں 15 سالہ کمسن لڑکی کے مبینہ قتل، مستونگ کے علاقے کلی ببری میں ایک خاتون پر تیزاب پھینکنے اور شدید تشدد، تربت کے علاقے سے ایک خاتون کی لاوارث لاش ملنے، اور ضلع نوشکی کے علاقے احمد وال میں 9 سالہ معصوم بچی کے مبینہ جنسی استحصال، بے دردی سے قتل اور لاش چھپانے کے دلخراش واقعات کو معاشرے اور ریاست کے لیے انتہائی تشویشناک اور شرمناک قرار دیا ہے۔
تنظیموں کے نمائندوں نے واضح کیا کہ خواتین اور بچوں کے خلاف ایسے سفاکانہ مظالم کا بڑھنا پورے معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے سنگین جرائم کے سدباب کے لیے صرف ابتدائی اطلاع یعنی مقدمات (ایف آئی آر) کا درج کر لینا ہی کافی نہیں ہوتا، بلکہ ملزمان کی فوری گرفتاری، سائنسی و جدید بنیادوں پر تفتیش، تیز ترین عدالت انصاف اور متاثرین کے تحفظ کے لیے ایک مضبوط اور قائم بالذات نظام تشکیل دینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ تنظیموں نے صوبائی حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان تمام واقعات کا سخت نوٹس لے کر ملزمان کو فوری کٹہرے میں لایا جائے۔
طبی اور فرانزک سہولیات کی عدم دستیابی پر گہری تشویش
ایواجی الائنس اور عورت فاؤنڈیشن نے صوبے بھر میں بنیادی طبی اور فرانزک سہولیات کی ناگفتہ بہ صورتحال پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ جاری کردہ رپورٹ کے مطابق سول ہسپتال نوشکی میں ضروری پوسٹ مارٹم کے لیے لیڈی سرجن یا ماہر ڈاکٹروں کی غیر موجودگی اور بلوچستان کے تمام دیگر اضلاع میں پولیس سرجنز کی شدید قلت ایسے حساس ترین اور سنگین مقدمات کی سائنسی تحقیقات اور مظلوموں کو انصاف کی فراہمی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ حقوقِ نسواں کی تنظیموں نے حکومتِ بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ تمام اضلاع، خصوصاً دور دراز علاقوں میں مناسب طبی، فرانزک، نفسیاتی اور قانونی سہولیات کی فراہمی فوری یقینی بنائی جائے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو بلا تاخیر انصاف مل سکے۔
متاثرین کے تحفظ اور بحالی کے لیے مربوط نظام کی ضرورت
مشترکہ اعلامیے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ خواتین اور بچیوں پر تشدد کے خلاف ایک ایسا جامع قانونی و انتظامی ردِعمل وقت کی اہم ضرورت ہے، جس میں متاثرین کا مکمل تحفظ، ان کی رازداری، مفت طبی علاج، نفسیاتی علاج، اور مکمل قانونی امداد شامل ہو۔ دونوں تنظیموں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان پولیس، محکمہ صحت، پراسیکیوشن، محکمہ سماجی بہبود، اور محکمہ حقوقِ نسواں کے درمیان ایک ایسا مضبوط آن لائن اور عملی رابطہ نظام قائم کیا جائے تاکہ حساس مقدمات کی کارروائی میں حائل رکاوٹیں ختم کی جا سکیں۔ پریس ریلیز کے اختتام میں واضح کیا گیا کہ خواتین اور بچوں کی حفاظت کے لیے نئی قانون سازی کے ساتھ ساتھ پہلے سے موجود قوانین پر بغیر کسی سیاسی و قبائلی مراعات کے، بلاامتیاز عمل درآمد یقینی بنانا ہو گا۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے پیش کردہ مطالبات اور احتجاجی تحریک کو مسلسل تین ماہ مکمل ہو گئے ہیں۔ تحریک کے نوے دن پورے ہونے پر خطے کے مختلف شہروں میں ایک بار پھر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی ہے جس سے عوامی و تجارتی زندگی شدید متاثر ہوئی ہے۔
ذرائع کے مطابق جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے حقوق اور چارٹر آف ڈیمانڈ کی منظوری کے لیے رواں برس 9 جون کو بھمبر کے مقام سے دارالحکومت مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا باقاعدہ آغاز کیا تھا، جسے آج 9 ستمبر کو پورے تین ماہ مکمل ہو چکے ہیں۔
اس طویل احتجاجی سلسلے کو مزید تیز کرنے کے لیے تنظیم کی اعلیٰ قیادت نے رواں ماہ کی 5 تاریخ کو اپنے مطالبات کے حق میں پورے خطے میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کرنے کا نیا اعلان کیا تھا۔
اس ہڑتال کی کال پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں جزوی شٹر ڈاؤن دیکھنے میں آ رہا ہے۔ شہر کے مرکزی تجارتی علاقے پلیٹ اپر اڈہ میں واقع تمام بڑی مارکیٹس اور دکانیں مکمل طور پر بند ہیں، جبکہ دوسری جانب بینک روڈ اور ٹالی منڈی کے علاقوں میں کاروباری مراکز اور دکانیں کھلی ہیں۔ اس کے برعکس ضلع باغ اور ضلع کوٹلی میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال جاری ہے جہاں تمام کاروباری سرگرمیاں معطل ہیں۔
احتجاج اور ہڑتال کے باعث خطے بھر میں سڑکوں پر عمومی ٹرانسپورٹ اور گاڑیوں کی روانی معمول کے مقابلے میں انتہائی کم ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے عام شہریوں اور مسافروں کو شديد دشواری کا سامنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ضلع باغ میں مقامی ضلعی انتظامیہ نے ہڑتال کرنے اور دکانیں بند رکھنے والے متعدد تاجروں کے خلاف سخت انتظامی کارروائی کرتے ہوئے ان کی دکانوں کو سیل کر دیا ہے، جس کے بعد علاقے میں انتظامیہ اور تاجروں کے مابین کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کے دوران پاکستان میں ایندھن کی حتمی قیمتوں کا ایک بہت بڑا حصہ مختلف ٹیکسوں، لیوی، کسٹم ڈیوٹیز اور تجارتی مارجنز پر مشتمل ہونے کی تحریری دستاویزات سامنے آئی ہیں۔
ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ میں پیش کیے گئے مستند اعداد و شمار کے مطابق ایک لیٹر پٹرول پر پاکستانی عوام مجموعی طور پر 134 روپے 60 پیسے کا بھاری ٹیکس اور اضافی اخراجات ادا کر رہے ہیں، جبکہ فی الوقت پٹرول کی اصل قیمت 229 روپے 75 پیسے فی لیٹر بتائی گئی ہے۔
دستاویزات کی تفصیلات کے مطابق پٹرول پر فی لیٹر 80 روپے پٹرولیم لیوی اور 5 روپے کاربن لیوی عائد کی گئی ہے، جبکہ 21 روپے 15 پیسے کسٹم ڈیوٹی اور تقریباً 3 روپے پریمیم بھی فی لیٹر قیمت میں پہلے سے شامل کیے گئے ہیں۔ مزید برآں پٹرول کی حتمی فروخت کی رقم میں 7 روپے 60 پیسے ریفائنری و فریٹ مارجن، 7 روپے 87 پیسے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مقررہ منافع اور 9 روپے 98 پیسے پٹرول پمپ ڈیلرز کا مارجن شامل ہوتا ہے۔
دوسری جانب معیشت کی شاہ رگ سمجھے جانے والے ڈائریکٹ ڈیزل کی بات کی جائے تو ایک لیٹر ڈیزل پر مجموعی ٹیکسز اور اخراجات کی رقم 118 روپے 55 پیسے بتائی گئی ہے، جو کہ ڈیزل کی کل فروخت کی قیمت کا تقریباً 31 فیصد بنتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مارکیٹ میں ڈیزل کی اصل بنیادی قیمت 267 روپے 40 پیسے فی لیٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔
دستاویزات کے مطابق ڈیزل پر بھی حکومت کی جانب سے 80 روپے پٹرولیم لیوی اور 5 روپے کاربن لیوی وصول کی جا رہی ہے، جبکہ 15 روپے 68 پیسے کسٹم ڈیوٹی اور ایک روپیہ پریمیم کی مد میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 4 روپے 2 پیسے فریٹ مارجن، 7 روپے 87 پیسے آئل کمپنیوں کا منافع اور 9 روپے 98 پیسے ڈیلرز کا کمیشن و مارجن بھی شامل کیا جاتا ہے۔
معاشی ماہرین اور رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر پٹرولیم مصنوعات پر عائد یہ بھاری لیوی، کسٹم ڈیوٹیز، کمپنیوں کے منافع اور دیگر اخراجات ہی عوام کے لیے ایندھن کی حتمی مہنگی قیمت اور ملک میں افراطِ زر کا بنیادی سبب بن رہے ہیں۔
وفاقی وزیر برائے صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ٹیلی میڈیسن کا قیام ایک انتہائی اہم اور انقلابی قومی منصوبہ ہے، جس کے زبردست ثمرات کے ذریعے عام شہریوں کو ان کے گھروں اور دہلیز کے بالکل قریب جدید طبی سہولیات میسر آئیں گی اور معمولی عوارض یا بیماریوں کے علاج کے لیے انہیں دور دراز بڑے ہسپتالوں کا رخ نہیں کرنا پڑے گا۔
اسلام آباد میں جدید ٹیلی میڈیسن سینٹر کی پروقار افتتاحی تقریب سے بطور مہمانِ خصوصیہ خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے صحت نے واضح کیا کہ موجودہ حکومت عوام کو صحت کی بنیادی اور معیاری سہولیات ان کے اپنے علاقوں میں فراہم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان جدید ٹیلی میڈیسن سینٹرز کے ذریعے عام شہریوں کو ماہر ترین ڈاکٹروں اور طبی معالجین کی فوری مشاورت کی سہولت فراہم کی جائے گی، جس سے نہ صرف وقت اور پیسے کی بچت ہوگی بلکہ بڑے سرکاری و نجی ہسپتالوں پر مریضوں کا غیرضروری بوجھ اور رش بھی نمایاں طور پر کم ہو سکے گا۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران مصطفیٰ کمال نے ملک بھر کے تمام والدین سے پُرزور اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو جیسی موذی بیماری سے بچانے کے لیے ہر مہم میں قطرے لازمی پلوائیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہر نونہال کو پولیو سے محفوظ بنانا ہم سب کی اجتماعی اور قومی ذمہ داری ہے۔ وفاقی وزیر نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ حکومت نے بچوں کو 13 دیگر خطرناک اور مہلک بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے باقاعدہ حفاظتی ٹیکہ جات (ویکسینیشن) کی مفت اور موثر سہولت قائم کر رکھی ہے، اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ یہ یقینی بنائیں کہ ایک سے پانچ سال کی عمر کے کسی بچے کا بھی کوئی حفاظتی ٹیکہ کورس سے چھوٹ نہ جائے۔
وفاقی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ بیماریاں پھیلنے سے قبل ہی اگر بروقت، مناسب اور سائنسی احتیاطی تدابیر اختیار کر لی جائیں تو بچوں کو بعد میں شدید بیمار ہونے، ڈسپنسریوں یا ہسپتالوں کی ایمرجنسیز کا رخ کرنے کی ضرورت کافی حد تک ختم ہو سکتی ہے۔ ایک صحتمند اور فعال معاشرے کی تعمیر کے لیے بیماریوں سے پہلے ہی بچاؤ، باقاعدہ ویکسینیشن اور بروقت تدابیر بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے ٹیلی میڈیسن منصوبے کے پہلے مرحلے کے آخری اور مرکزی ہیلتھ سینٹر کے باضابطہ افتتاح اور اس ابتدائی فیز کی کامیاب تکمیل پر ڈاکٹر سارہ، ان کی پوری تکنیکی ٹیم، ڈی ایچ او اسلام آباد ڈاکٹر راشدہ انجم اور تمام متعلقہ انتظامی افسران اور ہیلتھ ورکرز کی انتھک محنت کو سراہتے ہوئے انہیں مبارکباد پیش کی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ٹیلی میڈیسن سینٹرز سے فائدہ اٹھانے والے غریب و مستحق مریضوں کی خدمت کرنا ایک عظیم انسانی اور دینی عمل ہے، جس کا اجر دنیا اور آخرت دونوں میں ملتا ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ عوامی بہبود اور بلا معاوضہ علاج کے اس سلسلے کو مستقبل میں ملک کے دیگر حصوں تک پھیلا کر مزید موثر اور وسیع بنایا جائے گا۔