پمز ہسپتال آتشزدگی کیس: وزیراعظم شہباز شریف کی نومولود بچی کی جان بچانے والی نرس رضیہ نورین سے ملاقات، ‘تمغۂ خدمت’ اور 1 کروڑ روپے انعام کا اعلان

منصور احمد, September 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) ہسپتال میں آتشزدگی کے دلخراش واقعے کے دوران اپنی جان پر کھیل کر ایک نومولود بچی کی جان بچانے والی بہادر نرس رضیہ نورین سے جمعرات کے روز یہاں وزیراعظم ہاؤس میں خصوصی ملاقات کی اور ان کی بے مثال ہمت، بہادری اور انسانیت کے جذبے کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ نرس رضیہ نورین نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر جس عظمت اور ہمت کے ساتھ نومولود بچی آصفہ کو آگ کی لپیٹ سے محفوظ باہر نکالا، وہ ایک عظیم انسانی عمل ہے جس پر پوری قوم کو ان پر بے حد فخر ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ قوم کی اس بیٹی کا کارنامہ ملکی تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھا جائے گا اور بچی کی والدہ زندگی بھر انہیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں گی۔

وزیراعظم نے رضیہ نورین کی اس اعلیٰ ترین کارکردگی اور قربانی کے اعتراف میں اعلان کیا کہ آنے والے قومی دن یعنی 23 مارچ کو انہیں باضابطہ طور پر “تمغۂ خدمت” سے نوازا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی وزیراعظم نے نرس کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک کروڑ روپے کے خصوصی مالی انعام کا اعلان کیا اور چیک بھی ان کے حوالے کیا۔

ملاقات کے دوران نرس رضیہ نورین نے وزیراعظم کو واقعے کی دلدوز تفصیلات بتاتے ہوئے بتایا کہ جیسے ہی انہوں نے ہسپتال کے شعبے میں اچانک آگ کی خوفناک لپٹیں اور دھواں دیکھا تو اپنی جان کا خطرہ مول لے کر اندر داخل ہو گئیں اور چھوٹی بچی آصفہ کو محفوظ نکال کر ڈاکٹر عبدالرحمٰن کے حوالے کیا تا کہ بھگدڑ میں بچی محفوظ رہے۔ انہوں نے بتایا کہ دیگر بچوں کو بچانے کی بھی کوشش کی گئی تاہم آگ اور سیاہ دھوئیں کے تیزی سے پھیلنے کے باعث ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی تھی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے پمز آتشزدگی کے واقعے کو انتہائی دلخراش قرار دیتے ہوئے عزم ظاہر کیا کہ اس غفلت اور حادثے کے ذمہ دار افراد کے خلاف بلا امتیاز سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے وزارتِ صحت کو پمز ہسپتال میں مریضوں اور عملے کے تحفظ کے لیے سہولیات اور حفاظتی اقدامات فوری بہتر بنانے کی سخت ہدایات جاری کیں۔ تقریب میں وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال اور وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ بھی موجود تھے۔

پاکستانی نوجوانوں کی ڈیجیٹل و کاروباری ترقی کے لیے بڑا قدم: وزیراعظم یوتھ پروگرام، ایزمر اور کاروٹ سسٹمز کے درمیان معاہدے پر دستخط

کاشف عباسی , September 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

پاکستان کے نوجوانوں کو جدید ترین ڈیجیٹل مہارتوں، پیشہ ورانہ تربیت اور روزگار کے بہترین مواقع سے آراستہ کرنے کے لیے ایک اہم پیشرفت کے تحت وزیراعظم یوتھ پروگرام اور معروف اداروں ایزمر و کاروٹ سسٹمز کے کنسورشیم کے درمیان ‘لیٹر آف انٹینٹ’ پر باضابطہ دستخط کر دیے گئے ہیں۔

وزیراعظم یوتھ پروگرام کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق، اس شراکت داری کا باضابطہ معاہدہ وزیراعظم آفس میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران ہوا، جس میں وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان اور کنسورشیم کے سینئر نمائندگان نے شرکت کی۔

اس سٹریٹجک شراکت داری کا بنیادی مقصد ملک بھر کے نوجوانوں کے لیے تعلیمی ترقی، آئی ٹی لٹریسی، تکنیکی ہنرمندی، کاروباری صلاحیتوں ، اور اخلاقی و کردار سازی کے جدید اور وسیع تر مواقع پیدا کرنا ہے تاکہ انہیں مستقبل کے عالمی و قومی تقاضوں کے مطابق تیار کیا جا سکے۔

معاہدے میں شامل ادارہ ‘ایزمر’ تنظیمی اخلاقیات، کیپیسٹی بلڈنگ، ہنرمندی کی ترقی اور اینٹراپرینیورشپ ٹریننگ میں مہارت رکھتا ہے، جبکہ ‘کاروٹ سسٹمز’ آئی ٹی کنسلٹنگ، ڈیجیٹل ایجوکیشن، اور کمپیوٹر لٹریسی کے میدان میں معروف ادارہ ہے۔ یہ دونوں ادارے مل کر پاکستانی نوجوانوں کی بااختیاری کے لیے وزیراعظم یوتھ پروگرام کے ساتھ مل کر مختلف منصوبے شروع کریں گے۔

اس مشترکہ فریم ورک کے تحت اساتذہ اور طلبہ کی جدید ترین تربیت، کیریئر کونسلنگ، ڈیجیٹل لرننگ، صحت و ماحولیاتی آگاہی اور تعلیم میں جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے لیے جدید ترین ٹریننگ سیشنز اور پروگرامز کا انعقاد کیا جائے گا۔

تقریب کے دوران چیئرمین رانا مشہود احمد خان اور کنسورشیم کے عہدیداروں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تمام فریقین مل کر ایسے بامقصد اور نتیجہ خیز اقدامات کو فروغ دیں گے جو پاکستان کی یوتھ کو ہنرمند، باصلاحیت، ذمہ دار اور روزگار کے قابل بنانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا گندم کے ذخائر کا جائزہ اجلاس: 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کے فیصلے کا اعادہ

منصور احمد, September 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

ملک میں گندم کی وافر دستیابی اور آٹے کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطح کا اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم کی درآمد کے فیصلے کا اعادہ کیا گیا۔

نائب وزیراعظم کے آفس کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق، اسحاق ڈار نے اجلاس میں صوبوں، وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق اور وزارتِ تجارت کے باہمی رابطہ اور گندم کی ذخیرہ اندوزی کی روک تھام کے لیے کی جانے والی مشترکہ کاوشوں کو سراہا۔

اجلاس کے دوران اقتصادی رابطہ کمیٹی اور اسٹیئرنگ کمیٹی کے فیصلوں کی روشنی میں فیصلہ کیا گیا کہ پاسکو تمام صوبوں کو ان کے منظور شدہ کوٹے کے مطابق فوری گندم کی ترسیل شروع کرے۔ اس کے ساتھ ہی نائب وزیراعظم نے صوبائی حکومتوں کو بھی ہدایات جاری کیں کہ وہ پاسکو کو بروقت ادائیگیاں یقینی بنائیں تاکہ گندم کا اپنا مقررہ حصہ بلا تاخیر اٹھایا جا سکے۔

ملک میں مستقبل کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اجلاس میں 1 ملین (10 لاکھ) میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کے فیصلے پر مکمل عملدرآمد کا حکم دیا گیا، جس کے لیے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کو فوری طور پر تمام ضروری کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

منصوبہ بندی کے مطابق پہلے مرحلے میں 2 لاکھ 50 ہزار (250,000) میٹرک ٹن گندم درآمد کی جائے گی جس کی پہلی کھیپ رواں سال نومبر کے مہینے میں پاکستان کی بندرگاہوں پر پہنچ جائے گی۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے تمام وفاقی و صوبائی اداروں کو قریبی رابطہ برقرار رکھنے کی ہدایت کی تاکہ ملک بھر میں گندم کا وافر ذخیرہ موجود رہے اور عوام کو سستے آٹے کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ، وزیر تجارت، وزیراعظم کے معاونِ خصوصی طارق باجوہ، اور چاروں صوبوں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔

ایچ ای سی کے سمارٹ کلاس روم نیٹ ورک کے ذریعے اسلام آباد، راولپنڈی اور دیگر اضلاع کے 330 سے زائد اساتذہ کی آن لائن اور آن سائیٹ تربیت؛ ایم ڈی ‘ناہے’ ڈاکٹر نور آمنہ ملک کا اختتامی تقریب سے خطاب


روزینہ اسماعیل, September 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے معیار کو جدید ترین ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے، نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن اور ہائر ایجوکیشن کمیشن نے سرکاری شعبے کی یونیورسٹیوں اور کالجوں کے اساتذہ کے لیے چار روزہ جامع تربیتی پروگرام کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا ہے۔

“اساتذہ کے لیے مصنوعی ذہانت کی آگاہی: مصنوعی ذہانت کے لیے تیار اداروں کی تعمیر” کے عنوان سے منعقدہ اس تربیتی پروگرام کا بنیادی مقصد سرکاری جامعات کے لیکچررز اور اسسٹنٹ پروفیسرز کو تعلیمی شعبے میں مصنوعی ذہانت کے مؤثر اور اخلاقی استعمال کے قابل بنانا تھا۔

ایچ ای سی کے جدید ‘سمارٹ کلاس روم نیٹ ورک’ کے تحت منعقدہ اس چار روزہ کورس میں اسلام آباد اور راولپنڈی کی جامعات سے تعلق رکھنے والے 32 اساتذہ نے ایچ ای سی ہیڈکوارٹر کے سمارٹ کلاس روم میں براہِ راست (آن سائیٹ) شرکت کی، جبکہ ملک بھر کی مختلف یونیورسٹیوں میں قائم سمارٹ کلاس رومز اور ویڈیو کانفرنس رومز کے ذریعے 300 سے زائد اساتذہ نے آن لائن اس تربیتی سیشن میں حصہ لیا اور ماہرین کے ساتھ سوال و جواب کیے اور فوری تفاعل گفتگو کی۔

اس اختراعی ٹریننگ کے دوران پروفیسروں اور لیکچررز کو نصاب کی جدید تشکیل، دروس کی منصوبہ بندی تدریسی مواد کی تیاری، سائنسی و تعلیمی تحریر، تحقیقی معاونت، طلبہ کی کارکردگی پر ڈیٹا اینالیٹکس، اور امتحانی جائزے جیسے مختلف شعبوں میں AI ٹولز کے عملی اطلاق اور “انسان اور کے باہمی تعامل” کے اصولوں کی تربیت فراہم کی گئی۔

اختتامی تقریب میں نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن کی منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر نور آمنہ ملک نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اور شرکاء میں اسناد تقسیم کیں۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اعلیٰ تعلیم، ریسرچ اور علم کی تخلیق کے روایتی طریقوں کو تیزی سے بدل رہی ہے۔

ڈاکٹر نور آمنہ ملک نے زور دیا کہ جامعات کو اپنے اساتذہ اور طلبہ کو ای آئی سے لیس ماحول کے لیے فوری طور پر تیار کرنا ہو گا، تاہم انہوں نے انبہانہ انداز میں کہا کہ ٹیکنالوجی کے استعمال کے دوران تعلیمی معیار، اخلاقی تحفظات، انسانی بصیرت اور ادارہ جاتی ذمہ داری کو ہر صورت برقرار رکھنا ہو گا۔

ایران پر امریکی فضائی حملوں میں تین انتہائی ہنر مند فوجی پائلٹس سمیت متعدد عسکری اہلکار شہید: تسنیم نیوز ایجنسی کی تصدیق

محمود احمد, September 03,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

ایران پر امریکی فورسز کے حالیہ شدید ترین فضائی و میزائل حملوں کے نتیجے میں اہم ایرانی عسکری اثاثوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو پہنچنے والے شدید نقصان کی پردہ کشائی ہوئی ہے، جہاں ایرانی کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘تسنیم نیوز’ نے تین اعلیٰ ایرانی فوجی پائلٹس کی شہادت کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔

بی بی سی فارسی کی رپورٹ کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب اسلامی کے قریب سمجھے جانے والے ابلاغی ادارے تسنیم نیوز نے بتایا کہ دو رات قبل ایران کے مختلف حساس عسکری مراکز پر ہونے والی امریکی فضائی بمباری میں تین ایرانی فوجی پائلٹس ہلاک ہوئے، تاہم ایجنسی کی جانب سے فی الوقت سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں کہ پائلٹس کو کس مخصوص مقام پر ہدف بنایا گیا۔

تسنیم نیوز کے جاری کردہ ناموں کے مطابق ہلاک ہونے والے پائلٹس میں مجتبیٰ باقری، ایرانی بحریہ کے پائلٹ حامد اوکاٹی اور ایرانی فضائیہ کے پائلٹ حسین مہدویان شامل ہیں۔ ایک علیحدہ مفصل رپورٹ میں تسنیم نیوز نے ایرانی آرمی فورسز (ارتش) کے مزید چھ ارکان کی ہلاکت کے نام بھی جاری کیے جو ملک کے جنوبی حصوں میں امریکی حملوں کا نشانہ بنے۔

یاد رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 31 اگست اور یکم ستمبر کی درمیانی شب ایک طویل وقفے کے بعد جنوبی ایران کے متعدد شہروں، پورٹس اور عسکری سائٹس پر خوفناک بمباری کی تھی۔

ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق، سرک کے علاقے کوہستک پر حملے کے علاوہ خوزستان کے اہم صنعتی اور شہری علاقوں اہواز اور آغاجاری میں کیے گئے امریکی حملوں میں سات افراد ہلاک اور آٹھ شدید زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں کم از کم ایک شخص کی شناخت ‘عوامی سکیورٹی فورسز’ کے رکن کے طور پر کی گئی ہے۔

علاوہ ازیں، پاسدارانِ انقلاب نے بھی باضابطہ تصدیق کی تھی کہ صوبہ کرمانشاہ میں آئی آر جی سی کی ایرو سپیس فورس کے چار سینئر ارکان شہید ہوئے ہیں، جبکہ خلیج فارس میں واقع تزویراتی لاوان جزیرے پر امریکی بمباری کے نتیجے میں رضاکار بسیج فورس کے بھی تین اہلکار مارے گئے ہیں۔

آبنائے ہرمز ایران کی مرضی کے بغیر کبھی نہیں کھلے گا: ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی کا دبنگ اعلان

محمود احمد, September 03,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

ایران اور امریکہ کے درمیان مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید عسکری محاذ آرائی اور سمندری ناکہ بندی کے تناظر میں ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے امریکہ کو سخت خبردار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ دنیا کی سب سے اہم بحری گزرگاہ ‘آبنائے ہرمز’ ایران کی منشا اور مرضی کے بغیر کبھی نہیں کھولی جائے گی۔

بی بی سی فارسی کی رپورٹ کے مطابق ایرانی پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے اپنے ایک اہم اور تند و تیز بیان میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ حالیہ خوفناک جنگ کے برپا ہونے کے بعد امریکی افواج اور بحری بیڑے خوف کے باعث ایرانی سرحدوں سے تقریباً 500 میل دور پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرانے میں ناکامی کے باعث اب بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر جارحانہ اقدامات کر رہا ہے۔

ابراہیم عزیزی کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران امریکہ کی ہر قسم کی گیدڑ بھبکیوں اور عسکری دھمکیوں کا بھرپور اور مؤثر جواب دینے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر اپنی بے پناہ عسکری طاقت کا مظاہرہ کر رہا ہے اور سمندری سرحدوں کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں امریکی فضائیہ اور بحریہ نے ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں اور بندرگاہوں پر کئی ہلاکت خیز حملے کیے ہیں۔ امریکی پینٹاگون اور سنٹرل کمانڈ نے ان کارروائیوں کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے اور بین الاقوامی تجارتی و تیل بردار بحری جہازوں پر ڈرون و میزائل حملے کرنے کی ایرانی عسکری صلاحیت کو محدود کرنا تھا۔

دوسری جانب، ایران نے امریکی فضائی حملوں کا سخت جوابی ردِعمل دیتے ہوئے اردن، کویت، بحرین اور متحدہ عرب امارات میں واقع متعدد امریکی عسکری اڈوں اور ایئر بیسز پر پے در پے بیلسٹک میزائلوں اور انتحاری ڈرونز سے تابڑ توڑ حملے کیے ہیں، جس کے باعث پورے خلیجی خطے میں عالمی توانائی اور بحری تجارت کا نظام شدید بحران کا شکار ہو گیا ہے۔

واشنگٹن کو کسی ملک کے دوطرفہ تعلقات پر اجارہ داری کا کوئی حق نہیں: امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ کا مطالبات پر مبنی خطبہ روس اور چین نے مسترد کر دیا

محمود احمد, September 03,2026

ماسکو/واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

روسی فیڈریشن نے امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ کی جانب سے دنیا بھر کے ممالک کو ایران کے ساتھ اپنے تمام تر تعلقات، معاشی روابط اور سفارتی حمایت فوری طور پر ختم کرنے کی کھلی اپیل کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے حال ہی میں واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران دھمکی آمیز انداز میں کہا تھا کہ امریکہ تہران پر تاریخی اور غیر معمولی سطح کی اقتصادی پابندیاں عائد کر رہا ہے اور جاری عسکری تنازع کو ختم کرنے کا سب سے تیز ترین طریقہ یہی ہے کہ کوئی بھی ملک یا غیر ملکی حکومت ایرانی حکومت کی کسی قسم کی مدد نہ کرے۔

امریکہ کے اس یکطرفہ مؤقف اور تسلط پسندانہ حکمتِ عملی پر روس اور چین سمیت متعدد عالمی طاقتوں نے انتہائی سخت اور برہم ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔

روسی نیوز ایجنسی ’انٹرفیکس‘ کے مطابق کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے جمعرات کے روز ماسکو میں صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ ایران جیسے ممالک روس کے قابلِ اعتماد شراکت دار اور دیرینہ دوست ہیں، اور ماسکو ان کے ساتھ اپنے دوستانہ، تجارتی اور سٹریٹجک تعلقات کو نہ صرف برقرار رکھے گا بلکہ انہیں مزید گہرا اور مضبوط بنائے گا۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے امریکی دھمکیوں کو آئندہ کے لیے بے اثر قرار دیتے ہوئے صراحت کے ساتھ کہا کہ امریکہ اب اس پوزیشن یا دنیا کے اس مقام پر بالکل قائم نہیں رہا کہ وہ دوسرے آزاد اور خودمختار ممالک کے دوطرفہ اور عالمی تعلقات پر اپنی ‘اجارہ داری’ اور مرضی قائم کر سکے۔

شادی کی تقریب پر حملے کی تردید کر کے امریکہ اپنی ذمہ داری سے بھاگ نہیں سکتا: پاسدارانِ انقلاب کا انتباہ اور سخت انتقامی کارروائی کا اعلان

محمود احمد, September 03,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور نے ایک باضابطہ عسکری بیان جاری کرتے ہوئے امریکہ پر شدید الزام عائد کیا ہے کہ وہ سرک کاؤنٹی کے ساحلی علاقے کوہستک میں ایک شادی کی تقریب پر ‘دانستہ’ اور بزدلانہ فضائی حملے کی تردید کر کے اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری سے بچنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔

بی بی سی فارسی کی رپورٹ کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں امریکہ کے ماضی کے عسکری ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان، عراق اور یمن میں بھی امریکی افواج کی جانب سے اسی طرح شادی کی پرمسرت تقریبات اور عام شہریوں کے اجتماعات پر ہلاکت خیز حملے کیے گئے تھے، اور اب وہی بھیانک تاریخ ایران کے اندر دہرائی جا رہی ہے۔

پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے امریکہ کو براہِ راست سخت ترین سٹریٹجک دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ امریکی فورسز کی اس جارحیت اور بے گناہ شہریوں کے خون کا حساب ہر صورت لیا جائے گا اور اس کا ایسا دندان شکن جواب دیا جائے گا جسے واشنگٹن مدتوں یاد رکھے گا۔

واضح رہے کہ ایران کے صوبہ ہرمزگان کے امدادی حکام اور ریڈ کریسنٹ کے مطابق کوہستک میں شادی کے گھر پر امریکی فضائی بمباری کے اثرات پڑنے سے ایک معصوم بچے سمیت چار افراد موقع پر ہی ہلاک جبکہ 60 سے زائد افراد شدید زخمی ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب، پینٹاگون اور امریکی عسکری حکام نے شہریوں کو دانستہ نشانہ بنانے کے تمام تر ایرانی الزامات کو سختی سے رد کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ منگل کی شب کیے گئے فضائی آپریشنز کا اصل ہدف صرف اور صرف پاسدارانِ انقلاب اسلامی کی فوجی تنصیبات، کمانڈ سینٹرز اور عسکری اڈے تھے۔

کویت کی ‘احمد الجابر’ اور امارات کی ‘المنہاد’ ایئر بیسز پر ایران کے تباہ کن میزائل و ڈرون حملے: امریکی سیکیورٹی و مواصلاتی نظام مفلوج کرنے کا دعویٰ

محمود احمد, September 03,2026

تہران/کویت سٹی (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

خلیجی خطے میں برپا تباہ کن عسکری محاذ آرائی میں ایران نے پے در پے کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کویت میں قائم معروف امریکی عسکری مرکز ‘احمد الجابر ایئر بیس’ اور متحدہ عرب امارات کی ‘المنہاد ایئر بیس’ پر سنگین اور تباہ کن میزائل و ڈرون حملے کیے ہیں۔

ایرانی افواج کے شعبہ دفاع و تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جمعرات کی صبح جاری کردہ باضابطہ عسکری اعلامیے کے مطابق، ایرانی سپاہ اور بری فورسز نے جدید بیلسٹک و کروز میزائلوں اور بارود سے لیس ’انتحاری‘ ڈرونز کی مدد سے کویت میں واقع ‘احمد الجابر ایئر بیس’ پر قائم اہم امریکی سیٹلائٹ مواصلاتی نظام، عسکری آلات کے گوداموں اور امریکی لڑاکا طیاروں کے بم پروف ہینگروں کو براہِ راست اور کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایا ہے۔

ایرانی افواج کے بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان اچانک اور جرات مندانہ حملوں کے نتیجے میں امریکی فوج کے حساس ترین سیٹلائٹ مواصلاتی نظام، ڈیٹا سنٹرز اور متعدد جدید لڑاکا طیاروں کی بیرکس اور ہینگرز کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

اسی تسلسل میں ایرانی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس نے متحدہ عرب امارات میں واقع ‘المنہاد ایئر بیس’ کو بھی دوبارہ نشانہ بنایا، جہاں امریکی عسکری اہلکاروں کی رہائش گاہوں، بیرکس اور الرٹ پر موجود اعلیٰ طاقت والے ریڈار سسٹمز کو یک مشت تباہ کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب، ان ایرانی دعووں سے چند ہی لمحے قبل کویتی افواج کے کمانڈر انچیف اور وزارتِ دفاع نے اپنے بیان میں تصدیق کی تھی کہ ایران کی سمت سے آنے والے درجنوں مشتبہ ڈرونز اور کروز میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کرنے کے لیے کویت کا قومی فضائی دفاعی نظام مکمل طور پر فعال اور آپریشنل کر دیا گیا ہے جبکہ شہریوں کو محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔

ایران کا اقوامِ متحدہ میں امریکی حملوں کے خلاف شدید احتجاج: ‘عام شہریوں اور سکولوں پر بزدلانہ حملے کھلم کھلا جنگی جرم ہیں’

محمود احمد, September 03,2026

نیویارک/تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

اقوامِ متحدہ میں جمہوریہ اسلامی ایران کے دائمی مشن نے امریکہ پر ایران کے متعدد گنجان آباد شہروں میں عام شہریوں پر دانستہ حملے کرنے کا سنگین الزام عائد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ بے گناہ شہریوں اور معصوم بچوں کو گولا باری کا نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں کی سنگین ورزی اور ایک صریح ‘جنگی جرم’ ہے۔

اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفیر اور ڈپٹی ہیڈ آف مشن غلام حسین درزی نے عالمی ادارے کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس کو ارسال کردہ اپنے ہنگامی اور باضابطہ خط میں یکم ستمبر کو ہونے والے بھیانک امریکی فضائی حملوں کا تفصیل سے حوالہ دیا ہے۔ انہوں نے اپنے مکتوب میں مؤقف اختیار کیا کہ جنوبی ایران کے سرحدی و ساحلی شہروں میں رہائشی علاقوں اور شہری اہداف کو دانستہ اور حکمتِ عملی کے تحت تباہ کیا گیا۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ مارچ 1404 (شمسی ہجری تقویم) میں حالیہ خونریز جنگ کے برپا ہونے کے بعد سے واشنگٹن انتظامیہ نے مسلسل سویلین آبادی، عوامی مقامات اور قومی بنیادی ڈھانچے کو ہدف بنایا ہے۔ ان حملوں میں سکول، ہسپتال، ایئرپورٹس، رہائشی کالونیاں، پل، سڑکیں اور ریلوے کی حساس تنصیبات شدید متاثر ہوئی ہیں۔

ایران کے ہرمزگان صوبے میں امدادی ٹیموں اور ایرانی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے حکام کے مطابق کوہستک کی بندرگاہ کے قریب ہونے والے تازہ حملے میں ایک معصوم بچے سمیت چار افراد ہلاک جبکہ 60 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

دوسری جانب امریکی عسکری حکام اور پینٹاگون نے سویلینز کو دانستہ نشانہ بنانے کے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ منگل کی شب کیے گئے فضائی حملوں میں صرف پاسدارانِ انقلاب اسلامی کی عسکری تنصیبات اور کمانڈ سنٹرز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

تاہم، کوہستک میں شادی ہال کے وقوعہ کا باریک بینی سے جائزہ لینے پر بی بی سی فارسی کے ‘فیکٹ فائنڈنگ ڈیپارٹمنٹ’ نے مشاہدہ کیا کہ تباہ شدہ شادی ہال قریبی ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور سے کم از کم 110 میٹر کی دوری پر واقع تھا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ممکنہ طور پر امریکی حملے کا اصل ہدف وہ مواصلاتی ٹاور تھا جو غلط نشانہ دہی یا ضمنی تباہی کے باعث قریبی آبادی پر اثر انداز ہوا۔

40 روزہ جنگ کا شديد ترین امریکہ حملہ: ایران کے مختلف صوبوں پر بمباری سے 18 افراد ہلاک اور 108 زخمی

محمود احمد, September 02,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

ایران اور امریکی فورسز کے درمیان جاری 40 روزہ ہلاکت خیز جنگ کے دوران امریکی فضائیہ نے پیر اور منگل کی درمیانی شب مختلف ایرانی صوبوں پر شدید ترین بمباری کی ہے، جس کے نتیجے میں ایک خاتون، بچے، سیکیورٹی اہلکاروں اور پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈوز سمیت 18 افراد ہلاک جبکہ 108 سے زائد شدید زخمی ہو گئے ہیں۔

ایران کے وزیرِ صحت محمد رضا ظفرقندی نے میڈیا کو جاری کردہ ایک اہم ہنگامی اعلان میں امریکی حملوں کی ہلاکتوں کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ رواں 40 روزہ جنگ کے دوران ہونے والے خطرناک اور شديد ترین امریکی حملوں میں سے ایک تھا جس نے مختلف صوبوں کے کئی رہائشی و عسکری سائٹس کو نشانہ بنایا۔

رپورٹس کے مطابق امریکی بمباری کے دوران سیرِک کے پہاڑی علاقے کو بھی ہدف بنایا گیا، جہاں ایک گھر میں جاری شادی کی پرمسرت تقریب پر حملہ آور بمباری کے اثرات پڑے اور ایک بچے و خاتون سمیت چار افراد جان بحق اور 65 افراد زخمی ہو گئے۔ ہرمزگان یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کے صدر پژمان شاہروخی نے بتایا کہ سیرِک کے اس واقعے کے 6 زخمی انتہائی نگہداشت کے وارڈ اور 26 سرجیکل وارڈز میں شدید حالت میں زیرِ علاج ہیں۔

بی بی سی فارسی کی جانب سے رابطہ کرنے پر امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے ان ہلاکت خیز حملوں کی تردید نہیں کی اور موقف اپنایا کہ امریکی فوج ان رپورٹس سے مکمل طور پر ‘آگاہ’ ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکی افواج کبھی شہریوں کو نشانہ نہیں بناتیں۔

امریکی ایئر سٹرائیکس کے مزید اثرات خوزستان صوبے میں اہواز اور آغاجاری کے مختلف مقامات پر دیکھنے کو ملے جہاں بمباری سے سات افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں ‘عوامی سکیورٹی فورسز’ کا اہم رکن بھی شامل ہے۔

اس کے علاوہ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی نے باضابطہ تصدیق کی ہے کہ صوبہ کرمانشاہ میں آئی آر جی سی کی ایرو سپیس فورس کے چار اعلیٰ اہلکار امریکی حملے میں شہید ہو گئے ہیں، جبکہ لاوان جزیرے پر ہونے والے امریکی حملے کے نتیجے میں بسیج فورسز کے بھی تین اہلکار مارے گئے ہیں۔

فلسطینیوں کی جبرًا جلا وطنی کا منصوبہ ایجنڈے سے خارج نہیں ہوا: اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز کا متنازع اور اشتعال انگیز دعویٰ

محمود احمد, September 02,2026

تل ابیب (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

اسرائیل کے انتہائی متنازع اور صیہونی انتہا پسند وزیرِ دفاع یسرائیل کاٹز نے ایک بار پھر عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی دھجیاں اڑاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ کی پٹی سے فلسطینی شہریوں کی جبرًا جلا وطنی اور نقل مکانی کا منصوبہ اسرائیل کے قومی ایجنڈے سے خارج نہیں کیا گیا ہے۔

عرب نشریاتی اداروں اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، یسرائیل کاٹز نے اپنے ایک بیان میں انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے شدید سفارتی دباؤ کی وجہ سے فلسطینیوں کو غزہ سے جلا وطن کرنے کے منصوبے کو فی الوقت صرف منجمد کیا گیا ہے۔

اسرائیلی وزیرِ دفاع نے اپنے بیان میں ایک عجیب اور بے بنیاد دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کے تقریباً 80 فیصد فلسطینی خود وہاں سے دوسرے ممالک منتقل ہونا چاہتے ہیں، تاہم حماس غزہ کے عام شہریوں کی نقل مکانی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ کاٹز نے مزید کہا کہ جو ممالک فلسطینیوں کی اپنے ہاں آباد کاری پر رضامند ہوئے ہیں، انہوں نے اس عمل کو امریکہ کی مالی و سفارتی مدد سے مشروط کر رکھا ہے اور ان کا ماننا ہے کہ واشنگٹن فلسطینیوں کی جلاوطنی میں مکمل تعاون فراہم کرے گا۔

دوسری جانب، خطے میں جاری ایران اور امریکہ-اسرائیل کشیدگی پر بات کرتے ہوئے یسرائیل کاٹز نے خبردار کیا کہ ان کا ملک آنے والے یہودی تہواروں کے دوران ایران کی جانب سے کسی بھی ممکنہ فوجی یا میزائل حملے کا سخت اور بڑے پیمانے پر جواب دینے کے لیے پوری طرح سے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل اس وقت آبنائے ہرمز اور عالمی توانائی کی سیکیورٹی سے جڑے واشنگٹن کے مفادات کے پیشِ نظر امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کی قیادت کرنے کا موقع دے رہا ہے، تاہم اگر ایران نے اسرائیل کو براہِ راست نشانہ بنانے کی کوشش کی تو ان کا ملک کسی بھی امریکی یا بین الاقوامی فریق پر انحصار کیے بغیر آزادانہ طور پر انتہائی مہلک فورس کے ساتھ سخت جواب دے گا۔

سابقہ عسکری پیش رفت پر بات کرتے ہوئے کاٹز نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے ‘آپریشن رائزنگ لائن’ کے دوران ایرانی جوہری بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا تھا اور تہران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے اور جنگ بندی کے باوجود غزہ میں تباہی برقرار: بی بی سی ویریفائی کی تحقیقاتی رپورٹ میں 1300 سے زائد فلسطینیوں کی ہلاکت کی تصدیق

محمود احمد, September 02,2026

غزہ/یروشلم (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کے تحت اسرائیل اور حماس کے درمیان تاریخی جنگ بندی کا معاہدہ طے پانے کے باوجود غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی ہلاکت خیز کارروائیاں اور فضائی بمباری کا سلسلہ مکمل طور پر نہ تھم سکا، جس کے نتیجے میں رواں سال میں ہی 900 سے زائد فلسطینی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے بی بی سی کی خصوصی تحقیقاتی شاخ ‘بی بی سی ویریفائی’ نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں اس تلخ حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے کہ 10 اکتوبر کو امریکی ثالثی میں جنگ بندی کے باضابطہ اعلان کے بعد سے اب تک غزہ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 1300 سے بھی تجاوز کر چکی ہے، جن میں نا قابلِ یقین حد تک 301 معصوم بچے بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ حماس اور اسرائیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ 20 نکاتی امن فارمولے کو تسلیم کرتے ہوئے تمام تر جنگی کارروائیوں، بشمول فضائی حملوں اور توپ خانے کی شدید بمباری کو فوری طور پر روکنے پر اتفاق کیا تھا۔ تاہم بی بی سی ویریفائی کی جانب سے کیے گئے درجنوں مستند ویڈیوز اور سیٹلائٹ مناظر کے باریک بینی سے تجزیے نے ثابت کیا ہے کہ جنگ بندی کے معاہدو ں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ساحلِ سمندر پر قائم ایک معروف کیفے، بے گھر افراد کی عارضی خیمہ گاہوں اور وسطی غزہ میں ایک جنازے کے جلوس پر مہلک حملے کیے گئے۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار، جن کا بی بی سی نے اپنے آزادانہ تجزیے میں جائزہ لیا ہے، ظاہر کرتے ہیں کہ حالیہ مہینے ہلاکتوں کے لحاظ سے خوفناک ترین رہے ہیں اور رواں سال اپریل سے اگست کے درمیان ہر ماہ 100 سے زائد افراد کی شہادت ریکارڈ کی گئی۔ اگرچہ وزارتِ صحت تمام ہلاکتوں کا ذمہ دار اسرائیلی فوجی آپریشنز کو قرار دیتی ہے اور ہلاک شدگان میں عام شہریوں اور عسکریت پسندوں کی الگ سے درجہ بندی نہیں کرتی، تاہم اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی ماہرین نے بی بی سی ویریفائی کو بتایا کہ وزارتِ صحت کے یہ ارقام بالکل قابلِ اعتماد اور حقیقت پر مبنی ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی دفاعی افواج نے بی بی سی ویریفائی کو دیے گئے اپنے باضابطہ موقف میں ان ارقام کو سرے سے مسترد کر دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ ماننے کی کوئی منطقی بنیاد نہیں کہ تمام ہلاک شدہ افراد صرف آئی ڈی ایف کی کارروائیوں سے مارے گئے۔ اسرائیلی فوج کا مؤقف ہے کہ وہ اپنے اہلکاروں اور شہریوں کے تحفظ کے لیے صرف ہنگامی خطرات کے خاتمے کی خاطر معاہدے کے دائرہ کار میں انتہائی درست کارروائیاں کرتی ہے۔

تاہم بی بی سی کی اس خبر میں اس اہم پہلو کو بھی نمایاں کیا گیا ہے کہ رواں سال کے آغاز میں خود اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ ایک سینیئر اسرائیلی سیکیورٹی اہلکار نے اعتراف کیا ہے کہ غزہ کی اس طویل اور بھیانک جنگ میں اب تک 70 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے صرف 20 ہزار سے زائد جنگجو شامل تھے۔

شادی کی تقریب پر امریکی میزائل گرنے سے معصوم بچے سمیت 4 افراد ہلاک: ایرانی وزارتِ خارجہ نے حملے کو ‘جنگی جرم کا حقیقی چہرہ’ قرار دے دیا

محمود احمد, September 02,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

جنوبی ایران میں ایک شادی کی تقریب پر امریکی میزائل کے ٹکڑے گرنے سے معصوم بچے سمیت چار افراد کی دردناک ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے، جس کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سٹریٹجک جنگ میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے تنازع نے جنم لے لیا ہے۔

ایرانی ریڈ کریسنٹ (ہلالِ احمر) کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق یہ المناک واقعہ جنوبی ایران کے ایک رہائشی علاقے میں اس وقت پیش آیا جب ایک گھر میں شادی کی پرمسرت تقریب جاری تھی۔ اس دوران پاس کے علاقے میں ہونے والے امریکی فضائی حملے کے نتیجے میں میزائل کے وزنی ٹکڑے شادی والے گھر پر جا گرے، جس کے نتیجے میں بچے سمیت چار افراد موقع پر ہی ہلاک جبکہ متعدد افراد شدید زخمی ہو گئے۔

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر اس حملے کے بعد کی دل دہلا دینے والی ویڈیو شیئر کی ہے، جس میں تباہ شدہ گھر اور خوشیوں کے ماتم میں تبدیل ہونے کے اثرات کو دیکھا جا سکتا ہے۔

ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی نے ویڈیو کے ساتھ جاری کردہ پیغام میں امریکی کارروائی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف امریکہ کی غیر قانونی، غیر اخلاقی اور ظالمانہ جنگ کی بھیانک حقیقت گزشتہ رات پوری دنیا کے سامنے بالکل آشکار ہو گئی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ ویڈیو امریکی فوج کے ہاتھوں کیے جانے والے ‘جنگی جرم کا حقیقی چہرہ’ دکھاتی ہے۔

دوسری جانب امریکی عسکری حکام اور پینٹاگون کا کہنا ہے کہ وہ جنوبی ایران میں شادی کی تقریب پر میزائل کے ٹکڑے گرنے اور شہریوں کی ہلاکت سے متعلق سامنے آنے والی متعدد میڈیا اطلاعات سے مکمل طور پر آگاہ ہیں، تاہم امریکی فوج نے واضح موقف اپنایا ہے کہ اس کی کارروائیاں صرف عسکری اہداف کے خلاف ہیں اور اس نے شہریوں یا غیر نظامی آبادی کو دانستہ طور پر نشانہ نہیں بنایا ہے۔

کویت سٹی کے رہائشی کمپلیکس پر ایرانی ڈرون گر گیا، شدید آگ بھڑک اٹھی: کویتی فائر بریگیڈ کا بلڈنگ پر قابو پانے کا اعلان

محمود احمد, September 02,2026

کویت سٹی/تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

ایران اور امریکی اتحاد کے درمیان خطے میں جاری عسکری محاذ آرائی کے تباہ کن اثرات اب خلیجی ممالک کے شہری آبادیوں تک پہنچنا شروع ہو گئے ہیں، جہاں کویت کے دارالحکومت میں ایک رہائشی کمپلیکس پر ایرانی ڈرون گرنے کے نتیجے میں ہولناک آگ بھڑک اٹھی۔

کویت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے محکمہ فائر بریگیڈ کے ترجمان کا حوالہ دیتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ ایرانی ڈرون نے دارالحکومت کویت سٹی میں واقع ایک بڑے رہائشی کمپلیکس کو نشانہ بنایا جس سے ساہت میں شدید آگ لگ گئی۔ تاہم فائر فائٹرز اور امدادی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر مکمل طور پر قابو پا لیا ہے۔

دوسری جانب ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی نے باقاعدہ اعلان کیا ہے کہ بدھ کی صبح جنوبی ایران کی حدود میں امریکی جنگی طیاروں کی شدید بمباری اور فضائی حملوں کے ردِعمل میں اس نے خطے کے مختلف ممالک میں قائم امریکی فوجی تنصیبات کو ایک ساتھ نشانہ بنایا ہے۔

پاسدارانِ انقلاب کے بیان کے مطابق ایرانی عسکری فورسز نے اردن، بحرین، کویت اور شمالی عراق کے خود مختار کردی خطے کے دارالحکومت اربیل میں قائم امریکی عسکری اڈوں اور اڈوں پر ایک ہی وقت میں درجنوں بیلسٹک میزائلوں اور جدید ڈرونز سے حملے کیے ہیں۔

عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق خطے کی چار ریاستوں میں قائم امریکی تنصیبات پر ایک ساتھ اتنے بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے اور خلیجی شہروں کی آبادیوں پر اس کے اثرات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ اب ایک نا قابلِ کنٹرول اور ہمہ گیر جنگ کے دھانے پر پہنچ چکا ہے۔

ایران کا بحرین اور متحدہ عرب امارات میں امریکی فوجی اڈوں پر ڈرون حملوں کا دعویٰ

محمود احمد, September 02,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری براہِ راست عسکری تصادم میں انتہائی سنسنی خیز اور خطرناک موڑ سامنے آیا ہے، جہاں ایرانی فوج نے متحدہ عرب امارات اور بحرین میں واقع متعدد امریکی عسکری اڈوں اور ریڈار تنصیبات پر بڑے پیمانے پر ڈرون حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ایرانی افواج کے شعبہ نشر و اشاعت کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق، مسلح افواج کے درجنوں خودکش اور جنگی ڈرونز نے متحدہ عرب امارات میں قائم امریکی عسکری اڈوں ’الظفرہ اور ’المنہاد‘کو نشانہ بنایا ہے۔ دعوے میں کہا گیا ہے کہ ان حملوں کا بنیادی ہدف امریکی افواج کے جدید ترین ریڈار سسٹمز اور وہ حساس مقامات تھے جہاں یہ آلات نصب تھے۔

اس کے ساتھ ہی ایرانی فوج نے مزید بتایا کہ مملکتِ بحرین میں قائم ’شیخ عیسیٰ‘ امریکی ایئر بیس پر بھی کامیابی کے ساتھ دوبارہ ڈرون حملہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس کارروائی میں ایران کے جدید ’آرش‘ ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے امریکی افواج کی ریڈار تنصیبات اور ان کے اجتماع کے مراکز کو کامیابی سے ہدف بنایا گیا ہے۔

ایرانی عسکری حکام نے صراحت کی ہے کہ خلیجی ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر یہ شدید اور پے در پے حملے منگل کے روز امریکہ کی جانب سے پاسدارانِ انقلاب اور ایرانی علاقوں پر کی جانے والی حالیہ بمباری کا براہِ راست اور فوری ردِعمل ہیں۔

واضح رہے کہ خلیج کے ان اہم اڈوں پر حملوں سے چند ہی گھنٹے قبل ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی نے کویت اور اردن میں قائم متعدد امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات پر بھی بھاری راکٹوں اور ڈرونز سے حملے کرنے کی باضابطہ اطلاع فراہم کی تھی۔ عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق ان حملوں نے پورے خلیجی خطے کو ایک ہمہ گیر اور تباہ کن جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

آبنائے ہرمز میں شدید پیش رفت: بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر دو تیل بردار بحری جہاز دھماکے سے تباہ، آگ کی لپیٹ میں

محمود احمد, September 02,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں جاری انتہائی سنگین اور پیچیدہ عسکری کشیدگی کے دوران ایران کے پاسدارانِ انقلاب اسلامی نے نیا اور چونکا دینے والا دعویٰ کیا ہے کہ سمندری حدود میں دو تیل بردار بحری جہاز بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر شدید دھماکے کے بعد مکمل طور پر آگ کی لپیٹ میں آ گئے ہیں۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چند گھنٹے قبل ان دو آئل ٹینکرز کے عملے کو امریکی فوج کی ایماء پر اتار دیا گیا تھا اور ان جہازوں کو غیر قانونی راستہ عبور کرنے کے لیے امریکی عسکری عناصر کے اختیار میں دیا گیا تھا۔

پاسدارانِ انقلاب کے عسکری ترجمان کا کہنا تھا کہ اس واقعہ سے قبل ایرانی بحریہ نے بین الاقوامی بحری نقل و حرکت کو بارودی سرنگوں سے آلودہ اس مخصوص سمندری گزرگاہ کو عبور کرنے کے شدید خطرات سے باضابطہ اور واضح طور پر خبردار کیا تھا۔

بیان میں امریکی اتحاد اور تجارتی اداروں کو شدید تنبیہ کرتے ہوئے مزید کہا گیا ہے کہ جو بین الاقوامی بحری کمپنیاں قانونی اور محفوظ بین الاقوامی راستہ اختیار کرنے کے بجائے امریکی جھانسے میں آتی ہیں اور اپنے تجارتی جہاز دشمن کے حوالے کرتی ہیں، ان کے لیے مزید سخت سزائیں تجویز کر لی گئی ہیں جن پر جلد اور مکمل عمل درآمد کیا جائے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف اور کرغز صدر صادر ژاپاروف کی موجودگی میں مشترکہ اعلامیہ اور دستاویزات کا تبادلہ؛ لاہور اور ’اوش‘ سسٹر سٹیز قرار، ٹرانزٹ ٹریڈ اور حوالگیِ ملزمان کا معاہدہ بھی شامل

کاشف عباسی , September 02,2026

بشکیک/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

پاکستان اور کرغزستان نے باہمی سٹریٹجک تعلقات کو نئی بلندیوں پر پہنچاتے ہوئے تعلیم، صحت، ٹرانزٹ ٹریڈ، ماحولیاتی تبدیلی، سائنس و ٹیکنالوجی، ورچوئل اثاثوں اور سیکیورٹی سمیت متعدد اہم شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ کے لیے متعدد معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر باضابطہ دستخط کر دیے ہیں۔

ان تاریخی معاہدوں اور ایم او یوز کی دستاویزات کے تبادلے کی پروقار تقریب بدھ کے روز کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں واقع صدارتی محل میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور جمہوریہ کرغزستان کے صدر صادر ژاپاروف کی خصوصی موجودگی شامل تھی، جہاں دونوں رہنماؤں نے باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے مشترکہ اعلامیے پر بھی دستخط کیے۔

دستاویزات کے تبادلے میں پاکستان اور کرغزستان کی حکومتوں کے درمیان انتہائی اہم ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ، ملزمان کی باہمی حوالگی کا معاہدہ اور فوجداری معاملات میں قانونی معاونت کا مسودہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کی وزارتِ داخلہ کے درمیان منشیات، نشہ آور اشیاء اور کیمیکلز کی غیر قانونی سمگلنگ کی روک تھام میں تعاون کا ایم او یو طے پایا۔

تجارتی و معاشی روابط کو مضبوط بنانے کے لیے ‘کرغز پوسٹ’ اور ‘پاکستان پوسٹ’ کے درمیان پوسٹل سروسز اور ای کامرس کے شعبے میں باہمی تعاون، نیز فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور کرغزستان کے چیمبر آف کامرس کے درمیان شراکت داری کا معاہدہ شامل ہے۔ ایک اور اہم پیش رفت میں پاکستان کے تاریخی شہر لاہور اور کرغزستان کے اہم شہر ‘اوش’ کے درمیان ‘سسٹر سٹی’ تعلقات قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی اور کرغزستان کی قومی ایجنسی برائے ورچوئل ایسٹس و بلاک چین ٹیکنالوجیز کے درمیان ایم او یو پر دستخط کیے گئے۔ تعلیمی اور تحقیقی شعبے میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل اور کرغزستان کی وزارتِ صحت کے درمیان طبی تعلیم، اور وزارتِ وفاقی تعلیم پاکستان اور کرغزستان کی وزارتِ تعلیم کے درمیان تعاون کے معاہدے کیے گئے۔ علاوہ ازیں این ڈی یو پاکستان، آئی ایس ایس آئی اور کرغزستان کے سٹریٹجک انیشی ایٹو کے اداروں کے درمیان علمی ریسرچ کے ایم او یوز بھی شامل ہیں۔

پاکستان کی جانب سے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان، وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی نے اپنے کرغز ہم منصبوں کے ساتھ دستخط شدہ دستاویزات کا تبادلہ کیا۔

انٹرپول کے ریڈ نوٹس پر بڑی کامیابی: اقدامِ قتل کے مقدمے میں 3 سال سے مطلوب خطرناک اشتہاری ملزم محمد سجاول ایئرپورٹ سے گرفتار

منصور احمد, September 02,2026

اسلام آباد/ملتان (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی امیگریشن نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے اقدامِ قتل کے سنگین مقدمے میں پنجاب پولیس کو گزشتہ 3 سال سے مطلوب خطرناک اشتہاری ملزم محمد سجاول کو ملک پہنچتے ہی ایئرپورٹ سے گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار ملزم کی بین الاقوامی سطح پر گرفتاری کے لیے انٹرپول کی جانب سے ریڈ نوٹس جاری کیا گیا تھا۔

ایف آئی اے ملتان کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق گرفتار ملزم محمد سجاول سنگین فوجداری الزامات کے تحت سال 2023 سے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے تھانہ رجانہ کو مطلوب تھا، جہاں اس کے خلاف اقدامِ قتل اور دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج تھے۔

ترجمان نے بتایا کہ فرار ہونے کی کوششوں کے پیشِ نظر ملزم کا نام سٹاپ لسٹ میں شامل کیا گیا تھا جبکہ ایف آئی اے نیشنل سینٹرل بیورو انٹرپول نے اس کی گرفتاری یقینی بنانے کے لیے باضابطہ ریڈ نوٹس جاری کر رکھا تھا۔

ملزم بیرونِ ملک سے پاکستان پہنچا تو ملتان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر قائم ایف آئی اے امیگریشن کاؤنٹر نے اسے فوری طور پر حراست میں لے لیا۔ یہ اہم گرفتاری انٹرپول اسلام آباد اور ایف آئی اے امیگریشن ملتان کے مابین بہترین حکمتِ عملی اور قریبی رابطے کے نتیجے میں ممکن ہوئی۔ ابتدائی عمل درآمد اور امیگریشن کی کارروائی کے بعد ملزم کو مزید قانونی کارروائی اور تفتیش کے لیے پنجاب پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

درخت ہمارا قومی اثاثہ اور نئی نسل کی بہترین آبیاری ہیں: سبی میں مون سون شجرکاری مہم کا باضابطہ آغاز، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج طاہر ہمایوں کا پیغام

روزینہ اسماعیل, September 02,2026

سبی/کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سبی طاہر ہمایوں نے شجرکاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ درخت ہمارا قومی اثاثہ ہیں اور ان کی آبیاری کرنا درحقیقت ہماری آنے والی نئی نسل کے محفوظ مستقبل کی آبیاری کے مترادف ہے۔ انہوں نے سبی کے تمام شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ جاری مون سون شجرکاری مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں تاکہ شہر کو آلودگی سے بچا کر ایک پرفضا ماحول قائم کیا جا سکے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر میں مون سون شجر کاری مہم کے باضابطہ افتتاح کے موقع پر میڈیا اور حاضرین سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سبی طاہر ہمایوں نے خود پودا لگا کر اس مہم کا باقاعدہ آغاز کیا۔

افتتاحی تقریب میں عدلیہ اور قانون سے وابستہ متعدد اہم شخصیات نے شرکت کی۔ ایڈیشنل سیشن جج سبی عزیز احمد مینگل، جوڈیشل مجسٹریٹ شکیل احمد لاشاری، سپرنٹنڈنٹ سید فرید شاہ، شیر دل مرغزانی، سبی بار کے جنرل سیکرٹری ایڈووکیٹ سید نوید شاہ، عبدالواحد درانی ایڈووکیٹ، محمد انیس ایڈووکیٹ اور سبی پریس کلب کے صدر سعید الدین طارق نے بھی اپنے ہاتھوں سے پودے لگا کر اس قومی مہم میں اپنا حصہ ڈالا۔ اس موقع پر ناظم جنگلات سبی ڈویژن سید طارق شاہ اور محکمہ جنگلات کے دیگر اعلیٰ آفیسران بھی موجود تھے۔

میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سبی طاہر ہمایوں کا مزید کہنا تھا کہ درخت لگانا ایک صدقہ جاریہ اور اخلاقی فریضہ ہے۔ درخت نہ صرف ماحول میں مثبت تبدیلی اور درجہ حرارت میں بہتری کا باعث بنتے ہیں بلکہ سخت گرمی میں سایہ اور آکسیجن بھی فراہم کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شجرکاری صرف ماحولیاتی تحفظ تک محدود نہیں بلکہ یہ آئندہ نسلوں کی صحت اور بہتر مستقبل کی ضامن ہے۔ شہر کے مختلف شاہراہوں اور مقامات پر درخت لگانے سے نہ صرف سبی کی قدرتی خوبصورتی میں اضافہ ہوگا بلکہ شدید موسمیاتی چیلنجز کا مقابلہ کرنے میں بھی مدد ملے گی۔