سمر کیمپ 2026ء؛ ڈی جی آئی ایس پی آر کی ملک بھر کے طلبہ و طالبات کے ساتھ خصوصی نشست، قومی سلامتی اور چیلنجز پر تفصیلی روشنی

منصور احمد, JULY 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے زیرِ اہتمام نوجوانوں میں قومی شعور کی بیداری اور ان کی پوشیدہ صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے ایک مقتدر اور اہم ترین پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) آئی ایس پی آر نے سمر کیمپ 2026ء میں شریک ملک بھر کے طلبہ و طالبات کے ساتھ ایک خصوصی تزویراتی نشست کا انعقاد کیا ہے۔ اتوار کے روز موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق، اس منفرد تعلیمی و تربیتی نشست میں پاکستان بھر کے 18 سے زائد مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے نویں سے بارہویں جماعت کے 4 ہزار سے زائد طالب علموں نے بھرپور شرکت کی۔ اس خصوصی گفتگو کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے ملک کی مجموعی قومی سلامتی، دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ اور پاکستان کو درپیش داخلی و بیرونی چیلنجز پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

سمر کیمپ 2026ء میں شریک طلبہ و طالبات نے سیشن کے اختتام پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نشست کی بدولت انہیں پاکستان کو درپیش پیچیدہ داخلی و بیرونی سیکیورٹی چیلنجز سے متعلق انتہائی مؤثر اور گہری آگہی حاصل ہوئی ہے۔ طلبا کا کہنا تھا کہ انہیں بلوچستان میں سرگرم بھارتی پراکسی “فتنہ الہندوستان” اور ملک بھر میں امن کو سبوتاژ کرنے والے “فتنہ الخوارج” کے دہشت گردانہ اور ناپاک کردار کے بارے میں بھی تادیبی حقائق سے آگاہ کیا گیا، جس سے دشمن کے پاکستان مخالف پروپیگنڈے کو سمجھنے میں مدد ملی ہے۔

نشست کے دوران مقتدر طلبہ و طالبات نے اس بات پر سخت زور دیا کہ موجودہ ڈیجیٹل دور میں غلط معلومات (ففتھ جنریشن وارفیئر) اور منفی پروپیگنڈا سوشل میڈیا کے ذریعے انتہائی تیزی سے پھیلایا جا رہا ہے، جس کے خلاف نوجوان نسل میں شعور اور آگاہی پیدا کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ سمر کیمپ میں شریک پاکستان کے مستقبل کے معماروں نے اس پختہ عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی اور ملک دشمن عناصر کے خلاف پوری پاکستانی قوم اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور وطنِ عزیز کے دفاع کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔

بلوچستان کے چیلنجز کا آئینی دائرہ کار میں حل؛ نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار سے نیشنل پارٹی کے صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی اہم ملاقات

کاشف عباسی , JULY 19,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

ملک کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کو درپیش مختلف نوعیت کے چیلنجز سے نمٹنے اور وہاں کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے وفاقی دارالحکومت میں ایک اہم ترین تزویراتی سیاسی بیٹھک ہوئی ہے۔ نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے نیشنل پارٹی کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اپنے ایک اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفد کے ہمراہ ملاقات کی، جس کے دوران بلوچستان کے موجودہ سیاسی و معاشی چیلنجز اور دیگر اہم قومی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اتوار کے روز ڈپٹی پی ایم آفس سے جاری کردہ مقتدر پریس ریلیز کے مطابق، اس اہم ملاقات میں وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ رانا ثناء اللہ خان اور وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی طارق باجوہ بھی خصوصی طور پر شریک تھے۔

ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیرِ اعظم محمد اسحاق ڈار نے وفاقی حکومت کے مقتدر عزم کا اعادہ کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا کہ وفاقی حکومت آئینِ پاکستان کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے بلوچستان کے غیور عوام کو درپیش تمام جائز چیلنجز اور دیرینہ مسائل حل کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت صوبے میں اقتصادی خوشحالی، روزگار کے مواقع اور پائیدار ترقی کے لیے وہاں کے شہریوں کی جائز امنگوں کو ہر صورت پورا کرنے کے لیے پرعزم ہے اور اس سلسلے میں تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

نیشنل پارٹی کے صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے وفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان کے مسائل میں گہری دلچسپی لینے پر محمد اسحاق ڈار کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل پارٹی صوبے کے عوام کی زندگیوں میں بہتری اور ان کی سماجی و معاشی فلاح و بہبود کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کرنے کا مضبوط تزویراتی جذبہ رکھتی ہے۔ انہوں نے صوبے کی سیکیورٹی صورتحال پر دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے اس بات پر سخت زور دیا کہ بلوچستان میں سرگرم اور امن کو سبوتاژ کرنے والے شرپسند عناصر کو بلوچستان کے غیور عوام کی کوئی حمایت یا ہمدردی حاصل نہیں ہے اور نہ ہی ان کی پرتشدد کارروائیوں کا کوئی اخلاقی یا قانونی جواز پیش کیا جا سکتا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے صوبے کی پائیدار ترقی کے لیے باہمی روابط جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

پاکستان میں 10 لاکھ سے زائد افراد ہیپاٹائٹس ڈیلٹا سے متاثر ہونے کا اندازہ؛ دوا کی جلد دستیابی کے لیے ڈریپ کو ترجیحی بنیادوں پر ریگولیٹری تقاضے پورے کرنے کی ہدایت

روزینہ اسماعیل, JULY 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

پاکستان میں ہیپاٹائٹس ڈیلٹا وائرس کے مریضوں کے لیے جدید ترین اور سستے علاج کی مقامی سطح پر فراہمی کے لیے مقتدر پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں وزیرِ اعظم کی ہدایت پر منعقدہ فارماسیوٹیکل کانفرنس کے تسلسل میں وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال سے چین کی نامور بائیوٹیک کمپنی “ہواہوائی ہیلتھ” کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) نے ایک اعلیٰ سطحی تزویراتی ملاقات کی ہے۔ وزارتِ قومی صحت کی جانب سے جاری کردہ آفیشل اعلامیہ کے مطابق، اس اہم بیٹھک میں وفاقی سیکرٹری ہیلتھ اسلم غوری، چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈریپ ڈاکٹر عبید ممتاز، ملک کے نامور ہیماٹولوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر سعید ایس حامد اور کلینیکل ریسرچ کے ممتاز ماہر سید منور علی بھی موجود تھے۔

ملاقات کے دوران پاکستان میں ہیپاٹائٹس ڈیلٹا وائرس کے غریب مریضوں کے علاج معالجے کے لیے جاری پیش رفت اور دونوں ممالک کی کمپنیوں کے مابین اشتراک کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ گزشتہ روز ہیپاٹائٹس ڈیلٹا کے علاج سے متعلق دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان تجارتی معاہدے پر کامیابی سے دستخط کیے گئے ہیں، جو پاکستان میں جدید اور مقامی سطح پر لائف سیونگ ادویات کی دستیابی کی جانب ایک اہم تاریخی سنگ میل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اور چین کے درمیان یہ مقتدر عسکری و معاشی تعاون ہیپاٹائٹس ڈیلٹا کے لاچار مریضوں کو نئی زندگی دینے کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگا۔

وفاقی وزیر نے تشویشناک اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں اس وقت اندازاً 10 لاکھ سے زائد افراد ہیپاٹائٹس ڈیلٹا کے موذی مرض سے متاثر ہو سکتے ہیں، جنہیں اس اقدام کے ذریعے اب انتہائی جدید، بین الاقوامی معیار کے اور مؤثر علاج تک براہِ راست رسائی حاصل ہوگی۔ اس تزویراتی تعاون سے جہاں پاکستانیوں کی جانیں بچیں گی، وہاں ملک کے دواسازی (فارماسیوٹیکل) کے شعبے میں جدید مینوفیکچرنگ کی استعداد کار اور بین الاقوامی ساکھ کو بھی زبردست فروغ ملے گا۔ مصطفیٰ کمال نے مریضوں کو خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) تمام قانونی اور ریگولیٹری تقاضے ہنگامی و ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنا رہی ہے تاکہ یہ انقلابی دوا جلد از جلد عام پاکستانی مریضوں کے لیے مارکیٹ میں دستیاب ہو سکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ہیپاٹائٹس ڈیلٹا وائرس کی اس دوا کی فیز ٹو کلینیکل اسٹڈی کے دوران انسانی صحت پر اس کی حفاظت اور بیماری کے خلاف مؤثریت کے انتہائی شاندار اور مثبت نتائج سامنے آ چکے ہیں۔

ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ؛ جیٹ فیول 40 روپے اور لائٹ ڈیزل آئل 25 روپے سے زائد مہنگا

منصور احمد, JULY 18,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 18 جولائی 2026ء

عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ اور ملکی پرائسنگ میکانزم کے تحت حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک اور بڑے اضافے کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت ہوائی جہازوں میں استعمال ہونے والے ایندھن (جیٹ فیول) اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمتوں کو یکمشت تیز ترین مہنگا کر دیا گیا ہے۔ حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق، جیٹ فیول کی فی لیٹر قیمت میں 40 روپے 35 پیسے جبکہ لائٹ ڈیزل آئل کی فی لیٹر قیمت میں 25 روپے 45 پیسے کا بھاری اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کا ملک بھر میں فوری اطلاق کر دیا گیا ہے۔

اس تزویراتی اضافے کے بعد جہازوں میں استعمال ہونے والے جیٹ فیول کی نئی قیمت 251 روپے 20 پیسے سے بڑھ کر 291 روپے 55 پیسے فی لیٹر کی مقتدر سطح پر پہنچ گئی ہے۔ دوسری جانب، صنعتوں اور زرعی مقاصد میں استعمال ہونے والے لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت بھی 205 روپے 22 پیسے سے بڑھا کر 230 روپے 67 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ پٹرولیم ڈویژن کے مطابق، ان دونوں مصنوعات کی نئی قیمتوں کا نفاذ کر دیا گیا ہے جس سے ہوائی سفر اور صنعتی و زرعی لاگت پر براہِ راست اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا یہ تسلسل گزشتہ ہفتے سے جاری ہے۔ گزشتہ ہفتے بھی حکومت کی جانب سے جیٹ فیول کی قیمت میں فی لیٹر 13 روپے 23 پیسے اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 9 روپے 74 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا تھا۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں مسلسل اضافے سے جہاں ایئرلائنز کے کرایوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے، وہاں لائٹ ڈیزل کی قیمت بڑھنے سے زرعی ٹیوب ویلوں اور چھوٹی صنعتوں کا پیداواری بل بھی متاثر ہوگا۔

کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پروازیں عارضی معطل؛ کویت ایئرویز نے بیشتر کمرشل پروازوں کا شیڈول تبدیل کر دیا

محمود احمد, JULY 18,2026

کویت سٹی (نیوز اینڈ نیوز) — 18 جولائی 2026ء

کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر طیاروں کی آمد و رفت عارضی طور پر معطل ہونے کے بعد کویت کی قومی فضائی کمپنی “کویت ایئرویز” نے اپنی بیشتر کمرشل پروازوں کا شیڈول ہنگامی طور پر دوبارہ ترتیب دینے کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔ اماراتی نیوز ایجنسی ‘وام’ نے کویت نیوز ایجنسی (کونا) کے مقتدر حوالے سے بتایا کہ ایئرپورٹ پر فلائٹ آپریشنز کے عارضی تعطل کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کے پیشِ نظر، قومی فضائی کمپنی نے تمام مسافروں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ سفر پر روانگی سے قبل اپنی متعلقہ پروازوں کی موجودہ صورتحال پر مسلسل اور گہری نظر رکھیں۔

کویت ایئرویز کی انتظامیہ نے تزویراتی تفصیلات جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ فلائٹ آپریشنز میں اچانک پیدا ہونے والے اس تعطل سے مسافروں کو لاحق ہونے والی پریشانی کا مکمل احساس ہے، اسی لیے مسافروں کی سہولت کے لیے ایک خودکار نظام فعال کر دیا گیا ہے۔ ایئرلائن کے مطابق، بکنگ ریکارڈ اور ٹکٹ خریدتے وقت فراہم کیے گئے موبائل نمبروں پر خودکار ڈیجیٹل اپ ڈیٹس اور ایس ایم ایس الرٹس کے ذریعے پروازوں کے شیڈول میں ہونے والی تمام تر تادیبی تبدیلیوں سے مسافروں کو لمحہ بہ لمحہ اور بروقت آگاہ کیا جا رہا ہے۔ مسافروں کو مزید ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی ابہام کی صورت میں ایئرلائن کے آفیشل ہیلپ لائن اور کسٹمر کیئر سینٹرز سے بھی براہِ راست رجوع کر سکتے ہیں۔

سکیورٹی فورسز کی وانا میں بڑی تزویراتی کارروائی؛ بارود سے بھری خودکش گاڑی تباہ، شہری آبادی بڑی تباہی سے محفوظ

کاشف عباسی , JULY 18,026

وانا/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 18 جولائی 2026ء

سکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک اور بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے انٹیلیجنس پر مبنی انتہائی حساس آپریشن کے ذریعے وانا اور اس کے گردونواح کی شہری آبادی کو ایک ہولناک اور بڑی ممکنہ تباہی سے بچا لیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق، فورسز نے جنوبی وزیرستان لوئر کے اہم علاقے وانا (غواخوا) میں بارودی مواد سے بھری ایک مشکوک گاڑی کو خودکش حملے سے پہلے ہی مؤثر کارروائی کرتے ہوئے تباہ کر دیا۔

سکیورٹی ذرائع کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، دہشت گردوں کی اس گاڑی میں بھاری مقدار میں دھماکا خیز مواد نصب تھا، جسے کسی بڑے شہر یا اہم تزویراتی ہدف پر خودکش حملے کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔ سکیورٹی فورسز نے معصوم شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنانے کے لیے انتہائی اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔ فورسز نے بارود اور موٹر سائیکل سے لیس اس خودکش گاڑی کی مسلسل تین روز تک انتہائی خفیہ نگرانی کی، اور جیسے ہی یہ گاڑی شہری آبادی اور رہائشی علاقے سے دور ایک الگ تھلگ مقام پر پہنچی، تو فورسز نے اسے نشانہ بنا کر اڑا دیا۔

سکیورٹی فورسز کی اس کامیاب اور بروقت کارروائی کے نتیجے میں بارود سے بھری خودکش گاڑی اور سیکیورٹی میں شامل موٹر سائیکل مکمل طور پر تباہ ہو گئی، جبکہ ایک خارجی موقع پر ہی جہنم واصل ہوا اور 5 دہشت گرد شدید زخمی ہو گئے۔ قبائلی عوام نے سکیورٹی فورسز کے اس دلیرانہ اقدام کو بھرپور انداز میں سراہا ہے جس نے وانا کو ایک خونی حادثے سے محفوظ رکھا۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے نیٹ ورکس کے خلاف یہ کامیاب آپریشن اس بات کا واضح اور ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ ہماری فورسز ملکی امن کے دشمن عناصر کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں اور وطنِ عزیز سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گی۔

کیپٹل ایمرجنسی سروس کی فرضی مشق؛ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا رات گئے اچانک معائنہ، 8 منٹ کا رسپانس ٹائم سراہا

منصور احمد, JULY 18,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 18 جولائی 2026ء

وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے ہفتے کی رات دیر گئے اسلام آباد میں کیپٹل ایمرجنسی سروس کی جانب سے منعقد کی گئی ایک ہنگامی فرضی فائر مشق کا موقع پر پہنچ کر تفصیلی جائزہ لیا۔ اس تادیبی مشق کا آغاز اس وقت ہوا جب قائم مقام ڈپٹی کمشنر صاحبزادہ یوسف نے ریسکیو 1122 کنٹرول روم پر فرضی آگ لگنے کی اطلاع دی، جس کے جواب میں فائر بریگیڈ اور ایمبولینس کی ٹیمیں الرٹ موصول ہونے کے ریکارڈ صرف 8 منٹ کے اندر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ وزیرِ داخلہ نے اس تیز ترین اور بروقت رسپانس کو سراہتے ہوئے اسے کیپٹل ایمرجنسی سروس کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور بہترین آپریشنل تیاری کا منہ بولتا ثبوت قرار دیا۔

فرضی مشق کے اختتام پر محسن نقوی نے فائر فائٹرز اور ایمرجنسی اہلکاروں سے ذاتی طور پر ملاقات کر کے ان کے عزم کو خراجِ تحسین پیش کیا اور دورانِ ڈیوٹی درپیش مسائل سنے۔ وزیرِ داخلہ نے محدود وسائل اور پرانے آلات کے باوجود عملے کی کارکردگی کو قابلِ ستائش قرار دیا، تاہم معائنے کے دوران اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ کیپٹل ایمرجنسی سروس کی گاڑیاں اور آپریشنل آلات 2009ء کے بعد سے تبدیل ہی نہیں کیے گئے۔ بریفنگ کے دوران انہیں بتایا گیا کہ موجودہ فلیٹ کو محنت سے فعال تو رکھا گیا ہے، لیکن بعض فائر ٹینڈرز 1993ء کے ماڈل کے ہیں جو اب بھی استعمال ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ افسوسناک انکشاف بھی ہوا کہ ایمرجنسی اہلکاروں کو کئی برسوں سے کوئی جدید ریفریشر کورس یا باقاعدہ تربیت فراہم نہیں کی گئی۔

وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے صورتحال کا فوری نوٹس لیتے ہوئے چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) سہیل اشرف کو سخت ہدایت جاری کی کہ وہ 7 روز کے اندر کیپٹل ایمرجنسی سروس کی مکمل اپ گریڈیشن کا ایک تزویراتی و جامع منصوبہ پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس منصوبے میں نئی فائر بریگیڈ گاڑیوں، جدید ایمبولینسز، جدید ترین ریسکیو آلات کی خریداری اور اہلکاروں کے لیے عالمی معیار کے تربیتی کورسز کو لازمی شامل کیا جائے تاکہ وفاقی دارالحکومت کے شہریوں کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی حقیقی حادثے میں فوری ردعمل ہی انسانی جانوں کو بچانے کا ضامن ہوتا ہے، اس لیے حکومت وسائل کی فراہمی میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔ اس موقع پر چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف اور قائم مقام ڈپٹی کمشنر صاحبزادہ یوسف بھی وزیرِ داخلہ کے ہمراہ موجود تھے۔

امن، آزادی اور انسانی حقوق کا استعارہ؛ پاکستان سمیت دنیا بھر میں نیلسن منڈیلا کا عالمی دن منایا گیا


Nelson Mandela, 1918-2013 - Saving Lives

    منصور احمد, JULY 18,2026

    اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 18 جولائی 2026ء

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام نسلی امتیاز کے خلاف تاریخی جدوجہد کرنے والے عظیم عالمی رہنما اور جنوبی افریقہ کے سابق صدر نیلسن منڈیلا کا عالمی دن عقیدت و احترام اور مقتدر عزم کے ساتھ منایا گیا۔ اس عالمی دن کو منانے کا بنیادی مقصد انسانی حقوق کے فروغ اور قیامِ امن کے لیے اپنی زندگی وقف کرنے والے عظیم انقلابی رہنما کی سالگرہ کے موقع پر ان کی بے مثال خدمات، قربانیوں اور نظریات کو بھرپور انداز میں خراجِ تحسین پیش کرنا ہے۔

    واضح رہے کہ نیلسن منڈیلا نے جنوبی افریقہ میں رنگ و نسل کی بنیاد پر قائم ظالمانہ نظام (اپارتھائیڈ) کے خاتمے، انسانی حقوق کی بحالی اور مظلوموں کو ان کا حق دلانے کے لیے طویل قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، اور بعد ازاں آزاد جنوبی افریقہ کے پہلے منتخب جمہوری صدر کی حیثیت سے دنیا بھر میں امن و آشتی کا پیغام عام کیا۔ نیلسن منڈیلا کے اس عالمی دن کے موقع پر دنیا بھر کے شہریوں اور نوجوانوں کو ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ اپنے اپنے معاشروں میں مثبت تبدیلی لانے، نسلی و طبقاتی تفریق کو مٹانے اور اس کرہ ارض کو آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ، پُرآمن اور رہنے کے قابل بہتر جگہ بنانے کے لیے انفرادی و اجتماعی سطح پر عملی اقدامات اٹھائیں۔

    اس مقتدر عالمی دن کی مناسبت سے پاکستان اور دنیا بھر کے مختلف دارالحکومتوں میں سیمینارز، واکس اور خصوصی مذاکروں کا اہتمام کیا گیا، جہاں مقررین نے نیلسن منڈیلا کی جمہوریت، رواداری اور انسانی وقار کی بلندی کے لیے کی جانے والی تزویراتی کوششوں کو اجاگر کیا۔ بین الاقوامی دانشوروں اور رہنماؤں نے اپنے پیغامات میں اس بات پر زور دیا کہ موجودہ دور میں عالمی تنازعات اور بڑھتی ہوئی تلخیوں کے خاتمے کے لیے نیلسن منڈیلا کے صلح جویانہ اور عدم تشدد کے فلسفے پر عمل کرنا پہلے سے کہیں زیادہ ناگزیر ہو چکا ہے۔

    ایف آئی اے امیگریشن کی ائیرپورٹ پر بڑی کارروائی؛ بین الاقوامی آن لائن اسکامنگ نیٹ ورک کا حصہ بننے والے 2 مسافر آف لوڈ، گرفتار

    کاشف عباسی , JULY 17,026

    اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 جولائی 2026ء

    فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) امیگریشن نے وفاقی دارالحکومت کے ائیرپورٹ پر ایک کامیاب اور تزویراتی کارروائی کرتے ہوئے دو ایسے خطرناک مسافروں کو پرواز سے آف لوڈ کر کے گرفتار کر لیا ہے جو ملائیشیا کے وزٹ ویزے کا غلط استعمال کرتے ہوئے ایک بین الاقوامی آن لائن اسکامنگ نیٹ ورک کا حصہ بننے کے لیے بیرونِ ملک فرار ہو رہے تھے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق، گرفتار کیے گئے مسافروں کی شناخت ولید الغنی اور محمد یار کے ناموں سے ہوئی ہے، جنہیں ائیرپورٹ پر تعینات امیگریشن کاؤنٹر کے عملے نے شک گزرنے پر روک کر حراست میں لیا۔

    حکام کی جانب سے کی جانے والی ابتدائی تفتیش اور مسافروں کی تادیبی پروفائلنگ کے دوران یہ سنسنی خیز انکشاف ہوا کہ مذکورہ مسافر اس سے قبل کمبوڈیا کا مشکوک سفر بھی کر چکے ہیں، جبکہ ماضی میں بھی غیر واضح سفری دستاویزات اور حالات کی بنا پر انہیں آف لوڈ کیا گیا تھا۔ دوبارہ باریک بینی سے کی گئی پروفائلنگ کے دوران جب مسافروں کے موبائل فونز کی تلاشی لی گئی تو ان سے انتہائی اہم اور ناقابلِ تردید ڈیجیٹل شواہد موصول ہوئے۔ موبائل فونز میں موجود واٹس ایپ و دیگر مبینہ چیٹس اور ریکارڈ شدہ رابطوں سے یہ بات واضح طور پر سامنے آئی کہ دونوں مسافروں کے روابط بین الاقوامی آن لائن اسکامنگ سلیپر سیلز اور منظم نیٹ ورکس سے ہیں، اور وہ دیگر معصوم پاکستانی شہریوں کو بھی خطیر رقوم کے عوض اس قسم کی غیر قانونی سائبر سرگرمیوں کے لیے سہولیات فراہم کرنے میں ملوث تھے۔

    دستیاب ڈیجیٹل شواہد کی روشنی میں ایف آئی اے حکام کو قوی شبہ ہے کہ یہ مسافر ملائیشیا کے وزٹ ویزے کی آڑ میں وہاں جا کر بین الاقوامی سطح پر سائبر کرائم اور مالیاتی فراڈ (آن لائن اسکامنگ) کے ذریعے غیر قانونی طور پر بھاری رقوم کمانا چاہتے تھے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق، ملزمان کے موبائل فونز کو حتمی فرانزک آڈٹ کے لیے سرکاری قبضے میں لے لیا گیا ہے جبکہ دونوں ملزمان کو نیٹ ورک کے دیگر ملوث کرداروں کی گرفتاری، مزید تفتیش اور سخت قانونی کارروائی کے لیے ایف آئی اے کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل ملتان کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ترجمان نے مقتدر عزم کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ ایف آئی اے ملک کا وقار بین الاقوامی سطح پر برقرار رکھنے، سرحد پار سائبر کرائمز، غیر قانونی ہجرت اور سفری دستاویزات کے کسی بھی قسم کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے پوری طرح متحرک اور پرعزم ہے۔

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا اب روزانہ کی بنیاد پر تعین ہوگا؛ نظام میں مکمل شفافیت اور پرائسنگ فارمولا عوام کے سامنے لانے کا مقتدر فیصلہ

    کاشف عباسی , JULY 17,026

    اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 جولائی 2026ء

    وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے پٹرولیم مصنوعات کے حوالے سے ایک بڑے تزویراتی فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے مروجہ نظام کو ہفتہ وار سے بدل کر روزانہ کی بنیاد پر لانے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کے ہمراہ ایک مقتدر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ اس تاریخی اقدام کا بنیادی مقصد قیمتوں میں ہونے والے عالمی اتار چڑھاؤ کے ثمرات کو بلا تاخیر اور بروقت عوام تک منتقل کرنا ہے، جس سے نظام میں نہ صرف شفافیت بڑھے گی بلکہ پورا پرائسنگ فارمولا بھی پبلک کر دیا جائے گا۔

    عطاء اللہ تارڑ نے عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ اضافہ بین الاقوامی کشیدگی کا نتیجہ ہے، تاہم پاکستان اس کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں کر رہا ہے جنہیں عالمی برادری نے بھی سراہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب دنیا بھر میں کشیدگی کے باعث کئی ترقی یافتہ ممالک میں تیل کے حصول کے لیے طویل قطاریں لگی ہوئی تھیں اور راشننگ کا نظام چل رہا تھا، اس وقت وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے تیل کے اضافی کارگوز منگوائے، جس کی بدولت پاکستان کے کسی شہر میں ایک دن کے لیے بھی پٹرول یا ڈیزل کی قلت پیدا نہیں ہوئی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ جب عالمی منڈی میں قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی تھیں، تب وفاقی حکومت نے اپنے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کر کے 129 ارب روپے کی خطیر مقتدر سبسڈی فراہم کی تاکہ عوام پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات نے ہفتہ وار قیمتوں کے طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک گزشتہ چھ دنوں کی اوسط قیمت نکال کر ساتویں دن فیصلہ کیا جاتا تھا، جس کے باعث عالمی منڈی میں فوری کمی کا فائدہ عوام تک پہنچنے میں تاخیر ہوتی تھی، مگر اب روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین سے یہ دیرینہ شکایت ہمیشہ کے لیے دور ہو جائے گی۔ انہوں نے پٹرولیم لیوی میں بے پناہ اضافے کے تاثر کو سراسر غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ لیوی جنگ سے پہلے کے مقابلے میں بھی کم رکھی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ملکی بقا کے لیے ماحول دوست ٹیکنالوجی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ درآمدی بل کو کم کرنے کے لیے پاکستان کا الیکٹرک بائیکس اور الیکٹرک وہیکلز کی طرف بڑھنا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔

    آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے حوالے سے مقتدر ریگولیشن کا ذکر کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ نے واضح کیا کہ کمپنیوں کی جانب سے اندھا دھند منافع کمانے کا تاثر بالکل بے بنیاد ہے، کیونکہ وزیراعظم کی ہدایت پر ایف آئی اے اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) ان کی سخت ترین نگرانی کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار اضافی منافع کمانے والی کمپنیوں سے رقم واپس وصول کی گئی ہے اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔ انہوں نے عوام کو مطلع کیا کہ اوگرا کے موجودہ چیئرمین کی سربراہی میں ایک جدید آئی ٹی بیسڈ شفاف نظام متعارف کرایا جا چکا ہے اور شہری کسی بھی شکایت کی صورت میں اوگرا کی ویب سائٹ پر براہِ راست رجوع کر سکتے ہیں۔ انہوں نے تمام سیاسی حلقوں سے اپیل کی کہ عوامی مفاد کے اس حساس معاشی معاملے پر سیاست چمکانے سے گریز کیا جائے۔

    شہری ترقی کے لیے پاکستان کا بڑا عزم؛ رانا مشہود احمد خان کا اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پائیدار اور موسمیاتی لچک پر مبنی وژن کا اعادہ

    محمود احمد, JULY 17,2026

    اقوامِ متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 17 جولائی 2026ء

    وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں نیو اربن ایجنڈا کے وسط مدتی جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پائیدار، جامع اور موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ شہروں کی تعمیر کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تیز رفتار شہری آبادی میں اضافے کے باعث رہائش، ٹرانسپورٹ اور ماحولیات پر دباؤ بڑھ رہا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری کو مشترکہ اور پائیدار حل تلاش کرنے ہوں گے۔

    چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام نے 2025ء میں آنے والے تباہ کن شہری اور دریائی سیلابوں کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان اب اقوامِ متحدہ کے ادارے ‘یو این ہیبی ٹیٹ’ کے تعاون سے ایک جامع قومی شہری حکمتِ عملی تشکیل دے رہا ہے تاکہ موسمیاتی لچک کو ابتدا ہی سے شہری منصوبہ بندی کا لازمی حصہ بنایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ سیلاب کے بعد بحالی کے قومی پروگرام کے تحت اب تک بے گھر ہونے والے خاندانوں کے لیے 4 لاکھ سے زائد گھر تعمیر کیے جا چکے ہیں، جبکہ حکومت کم لاگت اور کم کاربن اخراج والی پبلک ٹرانسپورٹ، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے 9 ملین سے زائد خاندانوں کو سماجی تحفظ اور سیف سٹی منصوبوں کے دائرہ کار کو وسعت دینے کے لیے مقتدر اقدامات کر رہی ہے۔

    رانا مشہود احمد خان نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ پاکستان کا مستقبل اس کے نوجوانوں سے وابستہ ہے، جو ملک کی تقریباً 67 فیصد آبادی پر مشتمل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی شہروں کی جانب منتقلی کے پیشِ نظر انہیں معیاری تعلیم اور روزگار فراہم کرنا ناگزیر ہے، جس کے لیے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں “پُرعزم پاکستان” پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے تاکہ نوجوانوں کو ہنر مندی اور کاروباری مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے تیز رفتار شہری آبادی سے نمٹنے کے اپنے تجربات دیگر رکن ممالک کے ساتھ شیئر کرنے اور پائیدار شہری ترقی کے لیے عالمی تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    پاک چین فارماسیوٹیکل کانفرنس کے افتتاحی روز 446 ملین ڈالر مالیت کے تاریخی تجارتی معاہدوں پر دستخط

    محمود احمد, JULY 17,2026

    اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 جولائی 2026ء

    پاکستان اور چین کے مابین صحت اور دواسازی کے شعبے میں ایک بڑی تزویراتی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں وفاقی دارالحکومت میں دو روزہ “پاکستان چین فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس” کا باضابطہ آغاز ہو گیا ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس مقتدر کانفرنس کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ یہ اہم ترین انویسٹمنٹ کانفرنس وزارتِ قومی صحت، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ)، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور بورڈ آف انویسٹمنٹ کے مشترکہ اشتراک سے منعقد کی جا رہی ہے، جس میں تین سو سے زائد پاکستانی اور ایک سو پچاس معروف چینی صنعتی اداروں سمیت ساڑھے چار سو سے زائد نامور کمپنیاں حصہ لے رہی ہیں۔ افتتاحی تقریب سے قبل وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے معزز مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کانفرنس کے خدوخال اور تیاریوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔

    کانفرنس کے پہلے ہی روز دونوں ممالک کی مقتدر کمپنیوں کے مابین مجموعی طور پر 446 ملین امریکی ڈالر مالیت کے نو تاریخی تجارتی و سرمایہ کاری معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جن میں مقامی مینوفیکچرنگ، جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی، مشترکہ سرمایہ کاری اور برآمدی استعداد میں اضافے کے انقلابی منصوبے شامل ہیں۔ ان تزویراتی معاہدوں کے تحت ایل ڈی ایس اور سائنوویک ہولڈنگ گروپ کے درمیان ویکسینز کی رجسٹریشن، تجارتی فروغ اور مرحلہ وار مقامی تیاری کے لیے دو سو ملین ڈالر کا سب سے بڑا تزویراتی منصوبہ طے پایا۔ اس کے ساتھ ہی او بی ایس اور کین سائنو بائیولاجکس کے مابین پاکستان میں نمونیا ویکسین کی مقامی تیاری کے لیے پچاس ملین ڈالر، جبکہ اے جی پی اور شنگھائی یونائیٹڈ سیل بائیو ٹیکنالوجی کے مابین گروتھ ہارمون اور اورل ہیضہ ویکسین کی تیاری کا پچاس ملین ڈالر کا مشترکہ منصوبہ دستخط کیا گیا۔

    تقریب میں او بی ایس فارما اور لیائوننگ لڈان فارماسیوٹیکل کے مابین مانع حمل امپلانٹس کی مقامی پیداوار کے لیے پچاس ملین ڈالر کا معاہدہ ہوا، جبکہ جنیکس فارما اور چینی بائیوٹیک کمپنیوں کے اشتراک سے تئیس ملین ڈالر کی لاگت سے پاکستان کا پہلا جدید بائیوفارماسیوٹیکل مینوفیکچرنگ پلیٹ فارم قائم کرنے کی منظوری دی گئی جہاں مونوکلونل اینٹی باڈیز اور انسولین تیار کی جائے گی۔ علاوہ ازیں کانگچنگ لیان شن زی کانگ بائیو ٹیکنالوجی کے ساتھ پچیس ملین ڈالر کی لاگت سے گلوکوز مانیٹرنگ مصنوعات کی اسمبلنگ، تیان یوآن فارماسیوٹیکل کے ساتھ پچیس ملین ڈالر کی سرمایہ کاری سے ملک میں پہلی مرتبہ جدید ترین ذیابیطس ادویات کی مقامی پیداوار، لکی کور انڈسٹریز کا تیرہ ملین ڈالر کا معاہدہ برائے ہیپاٹائٹس ڈیلٹا ادویات اور سٹی فارما کا ینگتزی ریور فارماسیوٹیکل گروپ کے ساتھ دس ملین ڈالر کا ٹیکنالوجی منتقلی کا معاہدہ بھی حتمی شکل پا گیا۔

    پنڈال میں ڈریپ، بورڈ آف انویسٹمنٹ اور خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے خصوصی سہولت مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں سرمایہ کاروں کو ریگولیٹری رہنمائی، لائسنسنگ اور دیگر امور میں فوری حکومتی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ کانفرنس کے دوسرے اور آخری روز ڈریپ کی جانب سے عالمی ادارہ صحت کے معیارات اور پاکستان سنگل ونڈو کے ساتھ انضمام پر خصوصی تکنیکی سیشن منعقد کیا جائے گا، جس کے بعد مزید کئی کارپوریٹ مفاہمتی یادداشتوں کو حتمی شکل دیے جانے کا قوی امکان ہے۔

    مون سون 2026ء؛ این ڈی ایم اے میں ایمرجنسی رسپانس کمیٹی کا اہم اجلاس، وفاقی وزیر احسن اقبال کی صدارت

    روزینہ اسماعیل, JULY 17,2026

    اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 جولائی 2026ء

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں مون سون 2026ء کے دوران ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے اور ادارہ جاتی تیاریوں کو حتمی شکل دینے کے لیے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) میں ایمرجنسی رسپانس کمیٹی کا تیسرا اہم ترین اجلاس منعقد ہوا ہے۔ جمعہ کے روز این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، اس اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کی، جبکہ اجلاس میں چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک، مختلف وفاقی وزارتوں کے سیکرٹریز اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ نمائندگان نے شرکت کی۔

    اجلاس کے دوران ملک بھر کی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (پی ڈی ایم ایز) کی آپریشنل تیاریوں، ہنگامی ریلیف کی منصوبہ بندی، ریسکیو کے لیے ضروری وسائل کی دستیابی اور ضلعی انتظامیہ کو متحرک کرنے پر خصوصی زور دیا گیا۔ اس تزویراتی بیٹھک میں عوام کے لیے آگاہی مہمات چلانے، متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان کی بروقت ترسیل، محفوظ مقامات پر انخلاء کے ہنگامی منصوبوں اور تمام اداروں کے مابین بہترین ورکنگ ریلیشن شپ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے وفاقی وزیر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ این ای او سی کا مانیٹرنگ سیل 24 گھنٹے موسمیاتی تبدیلیوں کی نگرانی کر رہا ہے اور تمام صوبوں کو ابتدائی انتباہی نظام (ارلی وارننگ سسٹم) کے ذریعے الرٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔

    اجلاس میں وزارتِ مواصلات، وزارتِ توانائی اور واپڈا کے حکام نے بھی مون سون کے دوران اپنے اپنے محکموں کے اقدامات پر بریفنگ دی۔ کمیٹی نے بارشوں کے دوران اہم شاہراہوں کی فوری بحالی، بجلی کی بلاتعطل فراہمی کے تسلسل، ڈیموں کے پانی کے انتظام اور دریاؤں میں آبی صورتحال کی نگرانی کے تزویراتی منصوبوں کی منظوری دی۔ وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ انسانی جانوں، عوام کے روزگار اور قومی انفراسٹرکچر کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے، اس لیے تمام محکمے کاغذی کارروائی کے بجائے زمین پر مربوط اور موثر ترین ردعمل کو یقینی بنائیں۔

    غزہ کے متاثرین کے لیے متحدہ عرب امارات کی بڑی انسانی کاوش؛ 100 ٹن امدادی سامان لے کر خصوصی طیارہ روانہ

    محمود احمد, JULY 17,2026

    ابوظہبی (نیوز اینڈ نیوز) — 17 جولائی 2026ء

    متحدہ عرب امارات کی قیادت کی خصوصی ہدایات اور دیرینہ انسانی عزم کے تحت غزہ میں محصور فلسطینی عوام کی ہنگامی مدد کے لیے راس الخیمہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے 100 ٹن وزنی امدادی سامان پر مشتمل ایک بڑا مال بردار طیارہ جمعہ کے روز روانہ کر دیا گیا ہے۔ اماراتی نیوز ایجنسی ’وام‘ کے مطابق، یہ اہم امدادی پرواز آپریشن ’’الفارس الشہم۔ 3‘‘ کے تحت ہلالِ احمر امارات، اماراتی۔فلسطینی فرینڈشپ کلب اور دار البر سوسائٹی کے باہمی اشتراک و تعاون سے ترتیب دی گئی ہے، جس کا واحد مقصد غزہ کی پٹی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنے والے مظلوم فلسطینی بہن بھائیوں کی تکالیف کو کم کرنا اور ان کی فوری انسانی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔

    اس مقتدر امدادی طیارے میں خاص طور پر معصوم بچوں کے لیے پاؤڈر کا دودھ، ضروری و ہنگامی ادویات، طبی آلات اور مختلف اقسام کے ملبوسات شامل کیے گئے ہیں تاکہ جاری بحران اور جنگی حالات سے شدید متاثرہ خاندانوں اور بے گھر افراد کی بنیادی لاجسٹک ضروریات کو موقع پر پورا کر کے ان کی بحالی میں مدد کی جا سکے۔ آپریشن الفارس الشہم۔ 3 کے ریلیف آپریشنز کے مرکزی کوآرڈینیٹر حمود العفاری نے اس موقع پر اپنے ایک خصوصی بیان میں واضح کیا کہ متحدہ عرب امارات اپنی اعلیٰ قیادت کے وژن کے مطابق اپنے تمام شراکت دار انسانی اداروں کے تعاون سے فلسطینی عوام کی امداد کے لیے اپنی تمام تر لاجسٹک، مالی اور امدادی صلاحیتوں کو بروئے کار لا رہا ہے اور اس کارِ خیر میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی۔

    حمود العفاری نے مزید تزویراتی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ امارات کے اس فلاحی اقدام کا بنیادی مقصد غزہ تک انسانی، غذائی اور طبی امداد کی بلا تعطل و مسلسل فراہمی کو ہر صورت یقینی بنانا ہے، تاکہ شہریوں کی روزمرہ کی بنیادی ضروریات پوری کی جا سکیں، ان کی مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو مضبوط کیا جائے اور وہاں جنم لینے والے شدید انسانی بحران کے سنگین اثرات میں ممکنہ حد تک کمی لائی جا سکے۔ واضح رہے کہ یہ حالیہ امدادی پرواز آپریشن الفارس الشہم 3 کے مقتدر فریم ورک کے تحت غزہ کے غیور فلسطینیوں تک مسلسل سامان پہنچانے کی اماراتی کوششوں کا ایک تسلسل ہے، جو دنیا بھر میں کسی بھی انسانی یا قدرتی بحران سے متاثرہ بے سہارا افراد کی مدد کے لیے متحدہ عرب امارات کے تاریخی اور غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

    صنعتی انقلاب 5.0 کے چیلنجز؛ ایچ ای سی کی ملک بھر کی جامعات کو ڈگری پروگراموں اور نصاب پر نظرثانی کی ہدایت

    روزینہ اسماعیل, JULY 17,2026

    اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 جولائی 2026ء

    ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے عالمی صنعتی انقلاب 5.0 کے ابھرتے ہوئے تقاضوں سے ہم آہنگ اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے ملک بھر کی جامعات کو باقاعدہ ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اپنے تمام ڈگری پروگراموں اور نصاب کا ازسرِ نو جامع جائزہ لے کر انہیں جدید ترین خطوط پر ڈھالیں۔ ایچ ای سی کی جانب سے جاری کردہ آفیشل اعلامیہ کے مطابق، اس تزویراتی اقدام کا بنیادی مقصد ملکی اعلیٰ تعلیمی نظام کو مستقبل کی ضروریات کے مطابق بنانا، طلبہ کو جدید ترین ٹیکنالوجیکل مہارتوں سے آراستہ کرنا اور پاکستان کو گرین، ڈیجیٹل اور ایک جامع علمی معیشت کی جانب منتقلی میں بھرپور معاونت فراہم کرنا ہے۔

    اعلامیہ میں ملک بھر کے وائس چانسلرز اور تعلیمی سربراہان پر زور دیا گیا ہے کہ جامعات اپنے نصاب کو مستقبل کی افرادی قوت کی حقیقی ضروریات کے مطابق ترتیب دیں، جبکہ مصنوعی ذہانت ، ڈیجیٹل اسکلز اور دیگر ابھرتی ہوئی جدید ٹیکنالوجیز کو تمام مروجہ تعلیمی پروگراموں کا لازمی حصہ بنائیں۔ اس کے ساتھ ہی، صنعتی شعبوں اور جامعات کے مابین روابط کو پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط کرنے اور طلبہ کے لیے عملی تعلیم کے مواقع بڑھانے پر بھی زور دیا گیا ہے تاکہ مارکیٹ کے مطابق افرادی قوت پیدا کی جا سکے۔ ایچ ای سی نے واضح کیا ہے کہ اس تعلیمی اصلاحات کے عمل میں طلبہ کے اندر تنقیدی سوچ، اختراع اور کاروباری صلاحیتوں کے فروغ پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی۔

    ہائر ایجوکیشن کمیشن کے مطابق، اس بڑے پیمانے پر شروع کیے جانے والے قومی تبدیلی کے عمل میں جامعات، قومی نصاب جائزہ کمیٹیاں، ڈگریوں کی منظوری دینے والے مقتدر ادارے، صنعتی شعبے کے نمائندے اور مختلف مضامین کے نامور ماہرین مشترکہ طور پر حصہ لے رہے ہیں، جبکہ یہ تمام سرگرمیاں ایک خصوصی قومی ٹاسک فورس کی براہِ راست نگرانی اور رہنمائی میں انجام دی جا رہی ہیں۔ اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ جامعات کو نئے اور ابھرتے ہوئے تعلیمی شعبہ جات کی فوری نشاندہی کرنے، موجودہ پروگراموں کو اپ گریڈ کرنے اور ایسے قابلِ فخر فارغ التحصیل نوجوان تیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جو صنعتی انقلاب 5.0 کے مواقع سے ملکی معیشت کے لیے بھرپور فائدہ اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ایچ ای سی کا کہنا ہے کہ یہ تزویراتی اقدام پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی شعبے کو عالمی رجحانات کے مطابق بنانے اور قومی اقتصادی ترقی میں جامعات کے تعمیری کردار کو مزید مؤثر اور فعال بنانے کی جانب ایک اہم ترین پیشرفت ثابت ہوگا۔

    پاک چین فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر کانفرنس کا تاریخی آغاز؛ 446 ملین ڈالر مالیت کے 9 بڑے تجارتی معاہدوں پر دستخط

    کاشف عباسی , JULY 17,026

    اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 جولائی 2026ء

    پاکستان اور چین کے مابین معاشی و تزویراتی تعلقات میں ایک اور تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں وفاقی دارالحکومت میں “پاکستان چین فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس” کا باضابطہ آغاز ہو گیا ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس مقتدر دو روزہ کانفرنس کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ یہ اہم ترین کانفرنس وزارتِ قومی صحت، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ)، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور بورڈ آف انویسٹمنٹ کے مشترکہ اشتراک سے منعقد کی جا رہی ہے، جس میں تین سو سے زائد پاکستانی اور ایک سو پچاس معروف چینی صنعتی اداروں سمیت ساڑھے چار سو سے زائد کمپنیاں حصہ لے رہی ہیں۔ افتتاحی تقریب سے قبل وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے معزز مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کانفرنس کے تزویراتی خدوخال پر تفصیلی بریفنگ دی۔

    وفاقی وزیرِ صحت نے چینی وفد کو آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ پاکستان آپ کا دوسرا گھر ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ پاک چین ‘آہنی بھائی چارے’ کو مشترکہ صنعتوں، کارخانوں کے قیام اور ٹیکنالوجی کی باقاعدہ منتقلی کے ذریعے زمین پر حقیقت کا روپ دیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو ماہ کی مشترکہ کوششوں کے بعد سرمایہ کاری کے لیے سات اہم شعبوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں ایکٹو فارماسیوٹیکل اجزاء، جدید طبی آلات، ویکسین اور بائیولوجکس شامل ہیں۔ تقریب کے دوران دونوں ممالک کی مقتدر کمپنیوں کے مابین مجموعی طور پر 446 ملین امریکی ڈالر مالیت کے نو تاریخی تجارتی معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جو مقامی مینوفیکچرنگ اور برآمدی استعداد میں انسدادِ تفاوت کا باعث بنیں گے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چین کے سفیر جیانگ زیڈونگ نے کہا کہ چین اور پاکستان کی ہر موسم کی تزویراتی شراکت داری ناقابلِ شکست ہے اور چین سی پیک فیز 2.0 کے تحت اپنی جدید ترین ہیلتھ ٹیکنالوجی پاکستان کو منتقل کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

    ان تزویراتی معاہدوں کے تحت لائب ڈائیگنوسٹک سسٹمز اور سائنو ویک ہولڈنگ گروپ کے درمیان ویکسینز کی رجسٹریشن اور مرحلہ وار مقامی مینوفیکچرنگ کے لیے دوسو ملین ڈالر کا سب سے بڑا منصوبہ طے پایا۔ اس کے ساتھ ہی او بی ایس اور کین سائنو بائیولوجکس کے مابین پاکستان میں نمونیا ویکسین کی مقامی تیاری کے لیے پچاس ملین ڈالر جبکہ اے جی پی اور شنگھائی یونائیٹڈ سیل بائیوٹیک کے درمیان گروتھ ہارمون اور ہیضہ ویکسین کی تیاری کا پچاس ملین ڈالر کا مشترکہ منصوبہ دستخط کیا گیا۔ تقریب میں او بی ایس فارما اور لیاؤننگ لوڈان فارما کے مابین مانع حمل امپلانٹس کی مقامی پیداوار کے لیے پچاس ملین ڈالر اور جینکسا فارما کا چینی بائیوٹیک اداروں کے ساتھ بائیو فارماسیوٹیکل مینوفیکچرنگ پلیٹ فارم کے لیے تئیس ملین ڈالر کا معاہدہ بھی ہوا جہاں انسولین اور دیگر حیاتیاتی ادویات تیار ہوں گی۔ علاوہ ازیں چونگ چنگ لیان نکسن کے ساتھ پچیس ملین ڈالر کی لاگت سے گلوکوز مانیٹرنگ مصنوعات کی اسمبلنگ، تیان یوآن فارما کے ساتھ پچیس ملین ڈالر سے جدید ترین ذیابیطس ادویات کی مینوفیکچرنگ، لکی کور انڈسٹریز کا تیرہ ملین ڈالر کا معاہدہ برائے ہیپاٹائٹس ڈیلٹا ادویات اور سٹی فارما کا یانگسی ریور فارماسیوٹیکل کے ساتھ دس ملین ڈالر کا ٹیکنالوجی منتقلی کا معاہدہ بھی حتمی شکل پا گیا۔

    تقریب سے وزیراعظم کے معاونِ خصوص برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے بھی خطاب کیا۔ افتتاح کے فوراً بعد باقاعدہ بی ٹو بی میچ میکنگ سیشن شروع ہوا، جبکہ پنڈال میں ڈریپ، بورڈ آف انویسٹمنٹ اور خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے خصوصی ڈیسک قائم کیے گئے ہیں تاکہ سرمایہ کاروں کو فوری لائسنسنگ اور ریگولیٹری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ کانفرنس کے دوسرے اور آخری روز ڈریپ کی جانب سے عالمی ادارہ صحت کے معیارات اور پاکستان سنگل ونڈو کے ساتھ انضمام پر تکنیکی سیشن منعقد کیا جائے گا، جس کے بعد مزید کارپوریٹ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط متوقع ہیں۔

    وینزویلا میں دو طاقتور زلزلوں کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 4 ہزار 930 تک پہنچ گئی؛ مقتدر بحالی آپریشن جاری

    محمود احمد, JULY 17,2026

    کراکس (نیوز اینڈ نیوز) — 17 جولائی 2026ء

    جنوبی امریکی ملک وینزویلا میں آنے والے دو پے در پے انتہائی طاقتور اور تباہ کن زلزلوں کے نتیجے میں جانی نقصان کے ہولناک اعداد و شمار سامنے آئے ہیں، جہاں اموات کی مجموعی تعداد بڑھ کر 4 ہزار 930 ہو گئی ہے۔ اماراتی نیوز ایجنسی ‘وام’ کی جانب سے جاری کردہ وینزویلا کے سرکاری بیان کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملبے سے مزید لاشیں نکالنے کے بعد مزید 101 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ افسوسناک امر یہ ہے کہ طویل وقت گزرنے کے باعث اب ملبے سے مزید افراد کو زندہ نکالنے کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں اور گزشتہ 24 گھنٹوں میں محفوظ نکالے گئے افراد کی تعداد میں کوئی اضافہ نہیں ہو سکا۔

    مقتدر حکومتی مانیٹرنگ سیل اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام نے زلزلے کے بعد کی صورتحال پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ اس وقت بھی 17 ہزار 907 افراد شدید طور پر بے گھر ہیں، جبکہ 21 Client دو سو دس متاثرین کو حکومت اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے قائم کردہ 107 عارضی امدادی کیمپوں میں ہنگامی طور پر رکھا گیا ہے جہاں انہیں خوراک اور طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ حالیہ تزویراتی رپورٹ کے مطابق، ان شدید زلزلوں کے جھٹکوں سے مجموعی طور پر 856 بڑی عمارتوں اور رہائشی بلاکس کو شدید نقصان پہنچا ہے، جن میں سے 190 عمارتیں مکمل طور پر زمین بوس ہو چکی ہیں۔

    زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں لاشوں کو نکالنے، ملبہ ہٹانے اور بحالی کی کارروائیوں کو تیز کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر افرادی قوت کام کر رہی ہے۔ اس وقت جائے وقوعہ پر دنیا کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے 2 ہزار 278 غیر ملکی امدادی ماہرین اور اہلکار، مقامی سول و عسکری اداروں کے 30 ہزار 989 اہلکار اور 31 ہزار 745 مقامی و بین الاقوامی رضاکار دن رات امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔ وینزویلا کی حکومت نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اس بڑی قدرتی آفت سے نمٹنے اور انفراسٹرکچر کی تعمیرِ نو کے لیے اپنے تعاون میں مزید اضافہ کرے۔

    ڈی جی پی ایف اے راجہ منصور احمد کی ہدایت پر 22 فوڈ یونٹس کی چیکنگ، 2 یونٹس سیل اور 18 کو لاکھوں روپے جرمانہ؛ 2 مقدمات بھی درج

    کاشف عباسی , JULY 17,026

    لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 17 جولائی 2026ء

    پنجاب فوڈ اتھارٹی (پی ایف اے) نے صوبے کے مختلف اضلاع میں ملاوٹ مافیا اور مضرِ صحت خوراک فروخت کرنے والوں کے خلاف ایک بڑا تزویراتی کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 1 ہزار 550 لیٹر ناقص و بدبودار آئل، 200 کلو گرام مضرِ صحت گوشت اور بھاری مقدار میں ممنوعہ اجزاء موقع پر ہی تلف کر دیے ہیں۔ ترجمان پی ایف اے کے مطابق، ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی راجہ منصور احمد کی خصوصی اور براہِ راست ہدایات پر فوڈ سیفٹی ٹیموں نے مہم کے دوران 22 اہم فوڈ یونٹس کا تفصیلی معائنہ کیا، جن میں سے سنگین خلاف ورزیوں پر 2 یونٹس کو فوری طور پر سیل (بند) کر دیا گیا، جبکہ 18 یونٹس کو مجموعی طور پر 4 لاکھ 56 ہزار روپے کے جرمانے عائد کیے گئے اور قانون کی سخت خلاف ورزی پر 2 دکان داروں کے خلاف مقدمات بھی درج کرائے گئے۔

    کارروائیوں کی تزویراتی تفصیلات بتاتے ہوئے ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی راجہ منصور احمد نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ لاہور کی بکر منڈی میں واقع ایک حویلی پر چھاپے کے دوران بھاری مقدار میں ناقص اور بیماریوں کا سبب بننے والا گوشت برآمد ہوا، جس پر جعلسازی اور عوامی صحت سے کھیلنے کے الزام میں ملوث عناصر کے خلاف فوری ایف آئی آر درج کرا دی گئی ہے۔ اسی طرح، سمسانی روڈ پر ایک بڑے آئل گودام کی چیکنگ کے دوران صفائی کے انتہائی ناقص انتظامات اور غیر معیاری سٹوریج پر مقدمہ درج کیا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جی ٹی روڈ پر واقع ایک معروف ریسٹورنٹ اور گھوڑے شاہ کے علاقے میں ایک غیر معیاری فوڈ یونٹ کو بھی سیل کیا گیا ہے۔ ان تمام کارروائیوں کے دوران صفائی کے ابتر حالات، فوڈ سیفٹی قوانین کی کھلی خلاف ورزیوں اور انتہائی بدبودار ماحول جیسے سنگین نقائص پائے گئے۔

    راجہ منصور احمد نے صوبے بھر میں خوراک کا کاروبار کرنے والے تمام مالکان اور مینیجرز کو مقتدر تنبیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ اتھارٹی کے وضع کردہ مقررہ قوانین پر من و عن عملدرآمد کو یقینی بنائیں، کیونکہ عوامی صحت کا تحفظ اور شہریوں کو معیاری غذا کی فراہمی پنجاب فوڈ اتھارٹی کی اولین ترین ترجیح ہے۔ انہوں نے عزم دہرایا کہ صوبے بھر میں ملاوٹ اور ناقص اشیاء کی فروخت کے خلاف ‘زیرو ٹالرنس’ پالیسی کے تحت بلاامتیاز کارروائیاں آئندہ بھی پوری قوت کے ساتھ جاری رکھی جائیں گی۔

    شنگھائی ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کانفرنس؛ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے اہم ملاقات

    محمود احمد, JULY 17,2026

    شنگھائی/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 جولائی 2026ء

    نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے شنگھائی میں منعقدہ عالمی نمائش ‘ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کانفرنس’ کے مقتدر موقع پر اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ایک اعلیٰ سطحی تزویراتی ملاقات کی ہے۔ نائب وزیراعظم نے اس سفارتی ملاقات پر گہرے اطمینان اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے دونوں جانب سے عالمی امور پر ہم آہنگی بڑھانے کا ایک بہترین ذریعہ قرار دیا ہے۔

    جمعہ کے روز سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹویٹر) پر جاری اپنے ایک آفیشل پیغام میں سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ شنگھائی میں ہونے والی یہ ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کانفرنس درحقیقت جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک انتہائی اہم اور نیا بین الاقوامی پلیٹ فارم بن کر ابھرا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے اقوامِ متحدہ کے فورمز پر ہونے والی اپنی حالیہ ملاقاتوں اور ٹیلیفونک رابطوں کو خوشگوار انداز میں یاد کیا، اور اس تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے خطے سمیت دنیا بھر میں ہونے والی تازہ ترین سیاسی و سیکیورٹی پیش رفت پر گہرائی سے تبادلہ خیال کیا۔

    نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ کے مطابق، ملاقات میں مشترکہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے، دنیا بھر میں پائیدار امن کے فروغ، اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کی منصفانہ حاصلات اور تمام ترقی پذیر ممالک کے لیے مساوی و جامع معاشی پیش رفت کو آگے بڑھانے کے لیے کثیرالجہتی سفارتی تعاون کی اہمیت پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ پاکستان مصنوعی ذہانت جیسی جدید ٹیکنالوجیز تک دنیا کے تمام خطوں کی یکساں رسائی کے لیے اقوامِ متحدہ کے وژن کا مکمل حامی ہے اور عالمی چیلنجز کے حل کے لیے کثیرالجہتی فورمز پر اپنا تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔

    رینجرز، سندھ پولیس اور اینٹی انکروچمنٹ فورس کا مشترکہ کریک ڈاؤن؛ سینڈز پٹ، ویسٹ وارف، گلشنِ سکندر آباد اور سستی بستی میں تجاوزات مسمار

    منصور احمد, JULY 17,2026

    کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 17 جولائی 2026ء

    وزیراعظم کی قائم کردہ خصوصی ٹاسک فورس کی براہِ راست ہدایات پر کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) نے سرکاری اراضی پر قائم غیر قانونی تجاوزات کے خلاف اب تک کا سب سے بڑا اور فیصلہ کن مشترکہ آپریشن کرتے ہوئے کروڑوں روپے مالیت کی 19 ایکڑ تزویراتی اراضی قبضہ مافیا سے واگزار کرا لی ہے۔ اس گرینڈ آپریشن کو کامیاب بنانے کے لیے پاکستان رینجرز، سندھ پولیس، اینٹی انکروچمنٹ فورس اور کے پی ٹی کے مختلف فعال شعبوں نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بھرپور تعاون اور کے پی ٹی کے عملے کی مربوط حکمتِ عملی کے تحت غیر قانونی قابضین کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی گئی، جس کے نتیجے میں نہ صرف 19 ایکڑ وسیع و عریض رقبہ آزاد کرایا گیا بلکہ دو اہم پلاٹس بھی واپس اپنے قبضے میں لے لیے گئے ہیں۔

    کے پی ٹی حکام کے مطابق، اس کثیر الجہتی انسدادِ تجاوزات مہم کے دوران کراچی کے اہم ساحلی اور صنعتی زونز، بالخصوص سینڈز پٹ، گلشنِ سکندر آباد، سستی بستی اور ویسٹ وارف میں قائم غیر قانونی تعمیرات کو مکمل طور پر زمین بوس کیا گیا۔ آپریشن کے دوران بھاری مشینری کا استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی کچی جھونپڑیاں، پکی چار دیواریاں، غیر قانونی پتھریلی بنیادیں اور قائم کیے گئے مویشی فارمز مسمار کر دیے گئے۔ اس کے ساتھ ہی، عدالتی احکامات کی روشنی میں ویسٹ وارف کے دو اہم پلاٹس کو بھی غیر قانونی تسلط سے کامیابی سے واگزار کروا کر مستقل بنیادوں پر کے پی ٹی کے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے سپرد کر دیا گیا ہے۔

    وزیراعظم کی ٹاسک فورس کے تحت کراچی میں جاری انسدادِ تجاوزات مہم کو مزید تیز اور سخت کرنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ کے ترجمان نے عزم کا اظہار کیا ہے کہ پورٹ کی حدود اور اس کے ملحقہ علاقوں میں سرکاری اراضی پر کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی یا قبضے کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا، اور قیمتی اراضی کے تحفظ اور قبضہ مافیا کے مکمل خاتمے کے لیے رینجرز اور پولیس کے اشتراک سے یہ تزویراتی مہم آئندہ بھی پوری قوت کے ساتھ جاری رکھی جائے گی۔