ملک کے بالائی علاقوں میں گرمی کی شدت بڑھنے کے باعث گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور حالیہ بارشوں کے نتیجے میں تربیلا ڈیم میں پانی کی آمد میں غیر معمولی اضافہ درج کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیم انتظامیہ نے حفاظتی اقدامات کے تحت سپل ویز کو باقاعدہ طور پر کھول دیا ہے۔ سپل ویز کھولے جانے کے باعث دریائے سندھ کے نشیبی علاقوں میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، جس کے پیشِ نظر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ہنگامی ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے دریائے سندھ اور اس کے ملحقہ علاقوں میں ہر قسم کی سیاحتی سرگرمیوں سے فوری اور مکمل گریز کرنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔
تربیلا ڈیم انتظامیہ نے اس حوالے سے باقاعدہ الرٹ جاری کرتے ہوئے مقامی آبادی اور سیاحوں پر زور دیا ہے کہ وہ تیز بہاؤ کے دوران آبی گزرگاہوں اور دریا کے کناروں سے دور رہیں۔ انتظامیہ کے مطابق بالخصوص لیہ، بھکر اور میانوالی کے نشیبی علاقوں میں پانی کا انتہائی تیز بہاؤ متوقع ہے جس سے دریا کے قریبی علاقوں اور کچے کی آبادیوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اس نازک صورتحال کے پیشِ نظر این ڈی ایم اے ممکنہ خطرات کی مسلسل مانیٹرنگ اور پیشگی تشخیص کر رہا ہے تاکہ متعلقہ ضلعی انتظامی اداروں، ریسکیو ٹیموں اور عام عوام کو بروقت ضروری معلومات فراہم کر کے کسی بھی ممکنہ جانی و مالی نقصان سے محفوظ رکھا جا سکے۔
پاکستان کی بحری تجارت کی تاریخ میں ایک نیا اور انقلابی تزویراتی باب رقم ہو گیا ہے، جہاں ملک کی پہلی رورو (رول آن/رول آف) شپمنٹ کے ذریعے 2 ہزار سے زائد جدید الیکٹرک گاڑیاں کامیابی کے ساتھ کراچی پہنچ گئی ہیں۔ وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انوار چوہدری نے اس مقتدر کامیابی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کو لے کر آنے والا وشال تجارتی بحری جہاز “ایم وی گرینڈے شنگھائی” کراچی پورٹ کے کے جی ٹی ایم ایل ٹرمینل پر کامیابی سے لنگرانداز ہو گیا ہے۔
وفاقی وزیر نے اس اہم پیش رفت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ رورو جہاز کے ذریعے پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں الیکٹرک گاڑیوں کی محفوظ درآمد پاکستان کی بحری تجارت اور معیشت میں ایک تاریخی سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے رورو ٹیکنالوجی کے فوائد کا تذکرہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ ان مخصوص جہازوں میں تمام گاڑیوں کو روایتی کرینوں کے بجائے براہِ راست چلا کر لوڈ اور اَن لوڈ کیا جاتا ہے، جس کی بدولت قیمتی وقت کی بچت کے ساتھ ساتھ بندرگاہی اخراجات میں بھی نمایاں کمی واقع ہوتی ہے۔
وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری نے پختہ عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ ان جدید بندرگاہی سہولیات کے باعث ملک کی مجموعی تجارتی صلاحیت پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور مستحکم ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کراچی پورٹ اب روایتی طریقوں سے نکل کر عالمی معیار کی جدید ترین شپنگ خدمات اور ماحول دوست ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کی جانب تیزی سے گامزن ہے، جس کے دور رس نتائج ملکی معیشت پر مرتب ہوں گے۔
وزیراعظم یوتھ پروگرام نے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کے اشتراک سے نیویارک میں واقع پاکستان مشن میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران انقلابی “پیووٹ” پروگرام کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ “کنکشن ٹو کنٹری بیوشن پاکستانی یوتھ ڈائسپورا کنیکٹ” کے عنوان سے منعقدہ اس مقتدر تقریب میں امریکہ بھر سے تعلق رکھنے والے ممتاز پاکستانی نوجوان پیشہ ور افراد، نامور کاروباری شخصیات، محققین، طلبہ اور کمیونٹی رہنماؤں نے شرکت کی اور پاکستان کے نوجوانوں کی رہنمائی اور علمی شراکت داری میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ اس جدید پروگرام کا بنیادی مقصد دنیا بھر میں مقیم پاکستانی نوجوانوں کو وطنِ عزیز کے نوجوان طبقے کے ساتھ مینٹورشپ، علم و تجربے کے تبادلے، پیشہ ورانہ روابط، ٹیکنالوجی اور تعلیم کے شعبوں میں باقاعدہ طور پر منسلک کرنا ہے۔
تقریب سے اپنے کلیدی خطاب میں چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے کہا کہ “پیووٹ” کا آغاز پاکستان اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانی نوجوانوں کے مابین ایک شاندار تزویراتی باب کا آغاز ہے۔ انہوں نے اوورسیز نوجوانوں کو “پاکستان اور مستقبل کے درمیان ایک زندہ پل” قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ پلیٹ فارم خیرات کا نہیں بلکہ باہمی شراکت داری کا ایک فعال تصور ہے جس کا مقصد بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے عالمی تجربات سے فائدہ اٹھا کر ملک میں جدت طرازی کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں یوتھ پروگرام تعلیم، روزگار، شمولیت اور ماحولیات جیسے بنیادی ستونوں پر کام کر رہا ہے اور پاکستانی نوجوانوں کو اقوامِ متحدہ سمیت عالمی اداروں میں نمائندگی کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے استقبالیہ خطاب میں پاکستان کے نوجوانوں اور تارکینِ وطن کو قومی ترقی کے دو سب سے اہم ستون قرار دیا۔ انہوں نے “پیووٹ” کے آغاز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ تزویراتی شراکت داری قومی معیشت کو نئی رفتار دے گی اور پاکستان کا مستقل مشن نوجوانوں کی عالمی سفارت کاری میں بااعتماد شرکت کو یقینی بناتا رہے گا۔ تقریب کے دوران وزیراعظم یوتھ پروگرام کی فوکل پرسن برائے یو این امور محترمہ بسمہ قمر نے “پیووٹ” کا تعارفی خاکہ پیش کیا جبکہ فوکل پرسن برائے تعلیم محترمہ سدرا قمر نے پروگرام کا جامع جائزہ پیش کیا اور کونسلر صائمہ سلیم نے تقریب کی نظامت کے فرائض انجام دیے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو آئندہ ہفتے شیڈول اپنا دورہِ امریکہ نہیں کریں گے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے باضابطہ تصدیق کی ہے کہ امریکی سینیٹر لنزے گراہم کی یاد میں ہونے والی تعزیتی تقریب کے ملتوی ہونے کے باعث بنجمن نیتن یاہو نے اپنا دورہِ امریکہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے قبل توقع کی جا رہی تھی کہ اسرائیلی وزیر اعظم ہفتے کے روز امریکہ روانہ ہوں گے اور آخری رسومات و یادگاری تقریب میں شرکت کے لیے منگل تک وہاں قیام کریں گے، تاہم تقریب مؤخر ہونے کے بعد اب وہ تل ابیب میں ہی قیام کریں گے۔
واضح رہے کہ امریکی سینیٹر لنزے گراہم، جو عالمی سطح پر اسرائیل کے کٹر حامی اور ایران کے سخت ترین مخالف سمجھے جاتے تھے، مختصر علالت کے بعد گزشتہ ہفتے انتقال کر گئے تھے۔ سینیٹر لنزے گراہم کی وفات پر تعزیت کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے انہیں اپنا انتہائی قریبی دوست اور امریکہ اسرائیل تزویراتی اتحاد کا زبردست حامی قرار دیا تھا، جبکہ اسرائیل کی سلامتی اور دفاع کے لیے ان کے غیر متزلزل عزم اور خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا تھا۔ یادگاری تقریب کی نئی تاریخ سامنے نہ آنے کے باعث نیتن یاہو کے دورے کا نیا شیڈول فی الحال جاری نہیں کیا گیا۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے اپنے دورہ بوسٹن کے دوران امریکی تعلیمی اداروں، ممتاز محققین اور جدت طراز اداروں کے سربراہان سے اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد ہائی ٹیک تعلیم، موسمیاتی لچک، معاشی ترقی، پبلک پالیسی اور اختراع کے شعبوں میں پاک امریکہ ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دینا تھا۔ وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ پاکستان معیاری تعلیم، تحقیق اور جدید ایجادات میں سرمایہ کاری کے ذریعے علم پر مبنی معیشت کی بنیاد رکھ رہا ہے اور اس تزویراتی ہدف کے حصول کے لیے حکومت عالمی معیار کے اداروں کے ساتھ شراکت داری کو مزید وسعت دے گی۔
وزارتِ منصوبہ بندی کی جانب سے جمعرات کو جاری پریس ریلیز کے مطابق، پروفیسر احسن اقبال نے بوسٹن یونیورسٹی کا دورہ کیا جہاں انہوں نے عادل نجم اور ڈاکٹر کین لچن سے ملاقات کی۔ وفاقی وزیر نے حکومت کے فلیگ شپ منصوبے ‘امریکا پاکستان نالج کاریڈور’ پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ اس کے تحت 10 ہزار پاکستانی طلبہ کو دنیا کی بہترین جامعات سے پی ایچ ڈی کروانے کا ہدف ہے۔ انہوں نے ایک ایسے اشتراکی ماڈل کی تجویز پیش کی جس کے تحت پاکستانی محققین پاکستان کے ترقیاتی چیلنجز پر امریکی جامعات میں تحقیق کریں، جس میں تعلیمی اخراجات امریکی جامعات اور سفری و انتظامی اخراجات حکومتِ پاکستان برداشت کرے، جسے امریکی حکام نے بے حد سراہا۔ انہوں نے وفاقی سطح پر اعلیٰ تعلیم کے نصاب اور تدریس میں مصنوعی ذہانت کو مؤثر انداز میں شامل کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔ بعد ازاں، انہوں نے پائیدار ترقیاتی پالیسی مرکز کا دورہ کیا اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ تحقیق پر اتفاق کیا۔
پروفیسر احسن اقبال نے ہارورڈ کینیڈی اسکول کے ‘گروتھ لیب’ کا بھی دورہ کیا، جہاں ‘اڑان پاکستان’ کے تحت ملک کی طویل المدتی معاشی حکمتِ عملی اور ایک کھرب ڈالر کی معیشت کے ہدف پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ وفاقی وزیر نے گروتھ لیب کو پاکستان کی برآمدات کو 100 ارب ڈالر تک لے جانے، صنعتی ترقی اور پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے قابلِ عمل سفارشات فراہم کرنے اور قومی ترقیاتی حکمتِ عملی کی تشکیل میں شراکت داری کی دعوت دی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی آئندہ معاشی ترقی کی بنیاد صرف پیداواریت، اختراع اور برآمدات میں اضافہ پر ہوگی۔
وفاقی وزیر نے ہارورڈ یونیورسٹی اور میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے مشترکہ تحقیقی ادارے ‘جے پال’ کا بھی دورہ کیا اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر اقبال دھالیوال سے غربت میں کمی اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی پر تبادلہ خیال کیا۔ احسن اقبال نے یہاں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا آزادانہ جائزہ لینے کی تجویز پیش کی تاکہ اس کی افادیت کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ دورے کے آخری مرحلے میں انہوں نے کیمبرج انوویشن سینٹر اور وینچر کیفے کا دورہ کیا اور جامعات، صنعت اور سرمایہ کاروں کے مابین روابط کو پاکستانی معیشت کے لیے رول ماڈل بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
پاکستان نے سوڈان کے شورش زدہ علاقے دارفور میں ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کی جانب سے نہتے شہریوں پر وحشیانہ حملوں، نسلی بنیادوں پر قتلِ عام، جنسی تشدد، جبری بے دخلی اور سویلین تنصیبات کی دانستہ تباہی سمیت دیگر سنگین مظالم کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں دارفور کی سنگین صورتحال سے متعلق بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی رپورٹ پر ہونے والی بریفنگ کے دوران پاکستان کے کونسلر اور پولیٹیکل کوآرڈینیٹر گل قیصر سَرْوانی نے وہاں کی بگڑتی ہوئی انسانی و سیکیورٹی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے عالمی برادری کو سخت خبردار کیا کہ اگر آر ایس ایف نے العبید کے علاقے پر حملہ کیا تو اس سے مزید سنگین نوعیت کے بین الاقوامی انسانی جرائم کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
گل قیصر سَرْوانی نے تزویراتی نکتہ اجاگر کرتے ہوئے زور دیا کہ انسانیت کے خلاف ان سنگین جرائم کے اصل ذمہ دار عناصر کے ساتھ ساتھ ایسے جرائم کی مالی معاونت، سہولت کاری یا کسی بھی دوسرے طریقے سے مدد کرنے والے کرداروں کا بھی بلاتفریق اور مؤثر احتساب ہونا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ احتساب کا کوئی بھی عمل تکمیلیت، قومی خودمختاری اور سوڈانی قیادت کی اپنی ملکیت کے اصولوں کے عین مطابق ہونا چاہیے، جبکہ پائیدار اور قابلِ اعتماد انصاف کے حصول کے لیے سوڈان کے اپنے قومی عدالتی اداروں کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔
انہوں نے سوڈان کی خودمختاری، قومی اتحاد اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی غیرمتزلزل سفارتی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ سوڈان کے برادر عوام امن، انصاف اور ایک باوقار زندگی گزارنے کے مستحق ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی سخت زور دیا کہ بین الاقوامی انصاف کو ہر معاملے میں بلاامتیاز، مکمل طور پر غیرجانبدارانہ اور دوہرے معیار کے بغیر نافذ کیا جانا چاہیے، کیونکہ کسی بھی قانون کی ساکھ اس کے مساوی اور یکساں اطلاق پر ہی منحصر ہوتی ہے۔
الجیریا کے دارالحکومت الجزائر میں واقع ایک یتیم خانے میں اچانک ہولناک آگ بھڑک اٹھے کے نتیجے میں 11 معصوم بچے جھلس کر جاں بحق جبکہ 19 دیگر افراد شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ چینی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق، مقامی امدادی حکام نے سانحے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ آگ اس قدر تیزی سے پھیلی کہ عمارت میں موجود بچوں کو باہر نکلنے کا موقع نہ مل سکا۔
ابتدائی رپورٹ کے مطابق، حادثے میں زخمی ہونے والے 19 افراد میں سے 10 افراد شدید طور پر جھلس گئے ہیں، 2 افراد کو دھویں کی وجہ سے سانس لینے میں سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑا جبکہ 7 افراد اس اچانک آفت کے باعث شدید صدمے (شاک) کی حالت میں مبتلا ہو گئے۔ فائر فائٹرز اور ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا اور لاشوں و زخمیوں کو عمارت سے باہر نکالا۔
امدادی اداروں نے شدید زخمی ہونے والے 10 افراد کو جائے وقوعہ پر ہی ہنگامی ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا ہے، جہاں ڈاکٹروں کے مطابق بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یتیم خانے میں آگ لگنے کی حتمی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی ہے، تاہم پولیس اور متعلقہ سیکیورٹی اداروں نے واقعے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
عالمی سطح پر تجارتی اور بحری گزرگاہوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کے پیشِ نظر، بھارت نے جہازوں کے مالکان اور آپریٹرز کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ حساس ترین سمندری راستے ‘آبنائے ہرمز’ سے گزرنے والے بحری جہازوں پر بھارتی عملے (سیلرز) کو تعینات کرنے سے مکمل گریز کریں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، بھارت کے جہاز رانی کے ڈائریکٹوریٹ جنرل نے بحری جہازوں کے مالکان، مینیجرز اور بھرتی کرنے والی ایجنسیوں کو ہنگامی مراسلہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آئندہ احکامات تک آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی بحری جہاز پر بھارتی عملے کی تعیناتی کو روک دیا جائے۔
تزویراتی تفصیلات کے مطابق، بھارتی حکومت کی جانب سے یہ ہنگامی فیصلہ اس ہفتے آبنائے ہرمز اور اس کے آس پاس کے سمندری علاقے میں دو تجارتی بحری جہازوں پر ہونے والے حملوں کے بعد سامنے آیا ہے، جن میں افسوسناک طور پر دو بھارتی شہری ہلاک ہو گئے تھے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل کے آفیشل حکم نامے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ خلیجِ فارس کے خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر، یہ انتہائی ضروری ہو گیا ہے کہ اس خطرناک زون میں کام کرنے والے بین الاقوامی بحری جہازوں پر اپنی خدمات انجام دینے والے بھارتی شہریوں کی زندگیوں اور مفادات کے تحفظ کے لیے غیر معمولی احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔
اقوامِ متحدہ کی جانب سے گزشتہ ماہ جاری کردہ اعداد و شمار میں بتایا گیا تھا کہ 28 فروری سے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے مابین جاری کشیدگی اور فوجی کارروائیوں کے دوران، آبنائے ہرمز اور اس کے قریبی علاقوں میں ہونے والے مختلف حملوں کے نتیجے میں اب تک بحری جہازوں کے عملے کے کم از کم 14 ارکان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں وہ تین افراد بھی شامل ہیں جو رواں سال 9 جون کو عمان کے ساحل کے قریب سیٹبیلو آئل ٹینکر پر امریکی حملے کے دوران مارے گئے تھے۔ بھارتی وزارتِ جہاز رانی نے واضح کیا ہے کہ جب تک خطے میں بحری سلامتی کے حالات بہتر نہیں ہو جاتے، تب تک بھارتی عملے کی اس روٹ پر تعیناتی پر پابندی برقرار رہے گی۔
وفاقی آئینی عدالت نے خیبرپختونخوا میں اعلیٰ تعلیم یافتہ (ایم اے پاس) شخص کو سوئیپر کی حیثیت سے ملازمت پر برقرار رکھنے کے خلاف صوبائی حکومت کی جانب سے دائر اپیل کو مسترد کرتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے کیس کی سماعت کے دوران صوبائی حکومت کو سخت مقتدر ہدایات جاری کی ہیں کہ شکایت کنندہ کو اس کی تعلیمی قابلیت کے مطابق کسی دوسری مناسب جگہ پر فوری ملازمت فراہم کی جائے۔
تزویراتی تفصیلات کے مطابق، جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی معزز بینچ نے جمعرات کے روز اس حساس کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران فاضل جج نے ملک میں تعلیم اور روزگار کے گرتے ہوئے معیار پر گہرے دکھ اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ کیا اب ہمارے ملک میں ایم اے پاس کرنے والا شخص سوئیپر کا کام کرے گا؟ انہوں نے واضح کیا کہ چونکہ مذکورہ ملازم گزشتہ دس سال سے فرائض انجام دے رہا ہے، اس لیے اب اس مرحلے پر اسے ملازمت سے نکالنا سراسر ناانصافی ہوگی، لہٰذا صوبائی حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ اسے کسی دوسری باوقار آسامی پر تعینات کرے۔
دورانِ سماعت جب ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس وقت صوبے میں سوئیپر کی کوئی آسامی خالی نہیں ہے، تو جسٹس حسن اظہر رضوی نے طنزیہ استفسار کیا کہ کیا خیبرپختونخوا اب اتنا صاف ستھرا ہو گیا ہے کہ وہاں سوئیپر کی ضرورت ہی باقی نہیں رہی؟ انہوں نے مزید ریمارکس دیئے کہ صاف ستھرا ہونے کا شہرہ تو ہم نے کسی اور صوبے کا سنا تھا۔ عدالت نے ایم اے پاس شہری سے صفائی ستھرائی کا کام لینے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے نظام کو تو شاباش دینی چاہیے جو پڑھے لکھے نوجوانوں سے یہ کام کروا رہا ہے، اور ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص کا سوئیپر کی نوکری کرنا ہمارے پورے معاشرے کے لیے ایک المیہ ہے۔
کیس کی کارروائی کے دوران ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (ڈی ای او) بھی ذاتی حیثیت میں عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ معزز عدالت کے پوچھنے پر انہوں نے تصدیق کی کہ متعلقہ ملازم کی بنیادی ذمہ داری اسکول میں جھاڑو لگانا اور صفائی کرنا ہے۔ اس پر ریمارکس دیتے ہوئے جسٹس حسن اظہر رضوی نے انتہائی دردمندی سے پوچھا کہ کیا ایک ایم اے پاس نوجوان کے ہاتھوں میں جھاڑو دیکھ کر کسی کو شرم نہیں آتی؟ بعد ازاں، وفاقی آئینی عدالت نے خیبرپختونخوا حکومت کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل کو خارج کر دیا اور نوجوان ملازم کو دوسری مناسب جگہ ایڈجسٹ کرنے کا حکم دے دیا۔
پاکستان نے ایران اور امریکہ کے مابین جاری امن کوششوں سے پیچھے ہٹنے یا دستبردار ہونے کے تمام تر تاثرات اور افواہوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ فریقین کے درمیان ثالثی اور سفارتی رابطوں کا عمل بدستور جاری ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران میڈیا کو بتایا کہ پاکستان خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور باہمی مذاکرات کے فروغ کے لیے اپنا متحرک اور اصولی کردار مستقل بنیادوں پر ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ تناؤ عارضی نوعیت کا ہے جبکہ پائیدار امن اور سنجیدہ مذاکرات ہی تمام تصفیہ طلب مسائل کا واحد حل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت آج بھی ایک مؤثر فریم ورک کے طور پر موجود ہے اور فریقین جب بھی مذاکرات کی راہ پر آئیں گے، اسی دستاویزی فریم ورک کی بنیاد پر امن کی بحالی ممکن ہو سکے گی۔
ترجمان کے مطابق پاکستان نے ہمیشہ بین الاقوامی سطح پر خودمختاری، علاقائی سالمیت اور تمام تنازعات کے پرامن سفارتی حل کی بھرپور حمایت کی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے پاکستان اور قطر کے مشترکہ اعلامیے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تکنیکی سطح پر مذاکرات کی فوری بحالی انتہائی ضروری ہے کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی توانائی کے عالمی بحران، بین الاقوامی تجارت اور غذائی تحفظ کو بری طرح متاثر کر رہی ہے، جس کے پیشِ نظر آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کی معمول کے مطابق بحالی ناگزیر ہو چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان خطے کی صورتحال کو پرامن بنانے کے لیے تمام اہم ممالک سے قریبی رابطے میں ہے، اور حال ہی میں وزیراعظم پاکستان کی امیرِ قطر اور ایرانی صدر سے ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو میں بھی سفارتی تحمل اور امن کی فوری بحالی پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔
ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے پاکستان اور امریکہ کے مابین ہونے والے تجارتی مذاکرات میں اہم اور مثبت پیش رفت کی بھی باقاعدہ تصدیق کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام دوطرفہ تجارتی حجم کو بڑھانے، عالمی مارکیٹ میں پاکستانی برآمدات میں تنوع لانے اور باہمی معاشی و تجارتی امور پر پائے جانے والے اختلافی نکات کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کے لیے مسلسل تزویراتی رابطے برقرار رکھے ہوئے ہیں جس کے جلد ہی مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔
پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی کے حوالے سے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ ہر ایسے اقدام سے مکمل گریز کریں جس سے خطے کے حالات مزید خراب ہوں۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران واضح کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سفارت کاری ہی واحد مؤثر راستہ ہے اور ‘اسلام آباد مفاہمت نامہ’ اس خطے میں امن کی حقیقی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام فریقین باہمی مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے اس سنگین تنازع کا پرامن حل تلاش کر لیں گے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ غیر یقینی صورتحال کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو رہے ہیں، اور پاکستان اس حوالے سے اہم عالمی ثالثوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم پاکستان نے ایرانی صدر سے ٹیلی فونک گفتگو میں انتہائی ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا، جس پر ایرانی صدر نے پاکستان کے اس تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے عزم کو دہرایا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 1540 پر اپنی تفصیلی عملدرآمد رپورٹ جمع کرا دی ہے، جو وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں (ڈبلیو ایم ڈی) پر سخت کنٹرول سے متعلق ہے۔ پاکستان گزشتہ 22 برسوں سے ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق اپنی تمام بین الاقوامی ذمہ داریاں نہایت سنجیدگی سے پوری کر رہا ہے اور اس سلسلے میں اوسطاً ہر 3 سال بعد باقاعدگی سے اپنی رپورٹ پیش کرتا ہے۔ اس موقع پر طاہر اندرابی نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی حریت قیادت کے خلاف دہائیوں پرانے واقعے پر دائر کی گئی حالیہ چارج شیٹ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان بھارتی ہتھکنڈوں کا واحد مقصد کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حقِ خود ارادیت سے محروم کرنا ہے، اور یہ چارج شیٹ واضح کرتی ہے کہ بھارتی ریاستی ادارے محض اپنے سیاسی ایجنڈے کو فروغ دے رہے ہیں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ بھارت کے یہ یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات مقبوضہ جموں و کشمیر کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو ہرگز تبدیل نہیں کر سکتے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بھارت کے پاکستان مخالف کردار کو بے نقاب کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ بھارت بلوچستان میں کھلم کھلا دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہا ہے، اور بلوچستان میں بے گناہ پاکستانیوں کی شہادتوں پر بھارتی میڈیا کا ہنسنا، قہقہے لگانا اور تالیاں بجانا ان کے انتہا پسندانہ عزائم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پاک افغان تعلقات کے حوالے سے ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان اور افغان طالبان رجیم کے مابین سفارتی تعلقات میں اب تک کوئی تعطل دور (آئس بریک) نہیں ہوا ہے، اور جب تک کابل حکومت پاکستان مخالف دہشت گردوں کے خلاف عملی اور مؤثر کارروائی نہیں کرتی، تب تک کوئی پیش رفت ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کا باقاعدہ رکن بننے کے لیے ضروری ہے کہ افغانستان کے تنظیم کے دیگر تمام رکن ممالک کے ساتھ خوشگوار سفارتی تعلقات قائم ہوں۔ پریس بریفنگ کے اختتام پر ترجمان نے برادر ملک سعودی عرب کے حوالے سے پاکستان کے اصولی موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان برادر اسلامی ملک سعودی عرب کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کی غیر مشروط اور مکمل حمایت کرتا ہے اور ریاض کے ساتھ طے پانے والے تمام دوطرفہ معاہدوں پر من و عن عملدرآمد کا پختہ عزم رکھتا ہے۔
واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے ملک بھر کے بڑے دریاؤں اور اہم آبی ذخائر میں پانی کی آمد اور اخراج کے تازہ ترین تزویراتی اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔ جمعرات کے روز جاری ہونے والی باقاعدہ رپورٹ کے مطابق، ملک کے سب سے بڑے پانی کے ذخیرے تربیلا ڈیم میں پانی کی آمد اور اخراج میں توازن دیکھا گیا ہے، جبکہ دیگر دریاؤں میں بھی بہاؤ معمول کے مطابق ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ملک کے اہم آبی مقامات پر پانی کی صورتحال کی تفصیلات بتاتے ہوئے رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر پانی کی آمد 1 لاکھ 88 ہزار 100 کیوسک اور اخراج 1 لاکھ 60 ہزار 300 کیوسک رہا، جبکہ دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانی کی آمد اور اخراج یکساں طور پر 33 ہزار 300 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح، خیرآباد پل کے مقام پر پانی کی آمد اور اخراج 1 لاکھ 92 ہزار 200 کیوسک رہا، دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر پانی کی آمد 24 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 17 ہزار کیوسک درج کیا گیا، اور دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد 50 ہزار 300 کیوسک اور اخراج 21 ہزار 100 کیوسک ریکارڈ ہوا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ جناح بیراج میں پانی کی آمد 2 لاکھ 14 ہزار 600 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 6 ہزار 600 کیوسک، چشمہ بیراج میں آمد 2 لاکھ 10 ہزار 500 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 25 ہزار کیوسک، جبکہ تونسہ بیراج میں آمد 2 لاکھ 1 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 1 لاکھ 79 ہزار 800 کیوسک درج کیا گیا۔ زیریں سندھ میں گدو بیراج کے مقام پر آمد 1 لاکھ 65 ہزار 600 کیوسک اور اخراج 1 لاکھ 31 ہزار 300 کیوسک، سکھر بیراج میں آمد 1 لاکھ 23 ہزار کیوسک اور اخراج 66 ہزار 300 کیوسک، جبکہ کوٹری بیراج میں آمد 41 ہزار 200 کیوسک اور اخراج صفر کیوسک ریکارڈ ہوا۔ تریموں کے مقام پر پانی کی آمد 22 ہزار 200 کیوسک اور اخراج 8 ہزار 400 کیوسک، جبکہ پنجند میں آمد 12 ہزار کیوسک اور اخراج صفر رہا۔
آبی ذخائر کی سطح کے حوالے سے بتایا گیا کہ تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح 1504.31 فٹ ہے اور یہاں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 3.166 ملین ایکڑ فٹ ہے، منگلا ڈیم میں پانی کی سطح 1173.20 فٹ اور ذخیرہ 2.736 ملین ایکڑ فٹ ہے، جبکہ چشمہ بیراج میں پانی کی موجودہ سطح 646.80 فٹ اور قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.204 ملین ایکڑ فٹ دستیاب ہے۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے کمرشل بینکنگ سرکل اسلام آباد نے ایک انتہائی مؤثر اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے ایک شہری کے بینک اکاؤنٹ سے اس کی اجازت کے بغیر نکالی گئی 28 لاکھ روپے سے زائد کی خطیر رقم واپس دلوا دی ہے۔ وفاقی ادارے نے تزویراتی تحقیقات کے بعد اس سنگین معاملے میں سیکیورٹی خامیوں کا ذمہ دار بینک انتظامیہ کو قرار دیا ہے، جس کے بعد بینک نے پوری رقم دوبارہ متاثرہ شہری کے اکاؤنٹ میں منتقل کر دی ہے۔
موقر تفصیلات کے مطابق، ایک شہری نے وفاقی تحقیقاتی ادارے کو شکایت درج کروائی تھی کہ الائیڈ بینک کی افشاں کالونی برانچ راولپنڈی میں موجود ان کے اکاؤنٹ سے گزشتہ سال 15 اور 16 نومبر کی درمیانی رات ڈیجیٹل فنڈز ٹرانسفر اور ‘راست’ کے تیز رفتار نظام کے ذریعے 28 لاکھ 39 ہزار 500 روپے ان کی مرضی اور علم کے بغیر نکال لیے گئے۔ متاثرہ شہری کا کہنا تھا کہ اتنی بڑی رقم کی منتقلی کے باوجود ان کے موبائل فون پر الرٹ کا کوئی بھی معلوماتی پیغام موصول نہیں ہوا، جس کے باعث وہ بروقت اس دھوکہ دہی سے آگاہ نہ ہو سکے۔
شکایت ملنے پر وفاقی ایجنسی کے کمرشل بینکنگ سرکل نے فوری طور پر باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کیا اور متعلقہ بینک کے حکام سے تمام تر ضروری ریکارڈ اور دستاویزات طلب کیے۔ تفصیلی شواہد اور گہری چھان بین کے بعد بینک کے حفاظتی نظام میں موجود کمزوریوں کو اس نقصان کی اصل وجہ قرار دیا گیا، جس پر بینک انتظامیہ نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے متاثرہ شہری کی پوری رقم بازیاب کروا کر ان کے اکاؤنٹ میں بحال کر دی۔ اس موقع پر وفاقی ادارے نے عام شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی بینکاری اور مالیاتی سرگرمیوں کے حوالے سے انتہائی ہوشیار رہیں اور کسی بھی مشکوک ٹرانزیکشن کی صورت میں فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطہ قائم کریں۔
چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے پاکستان کے عظیم اور تاریخی صوفیانہ ورثے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوفیائے کرام کی تعلیمات معاشرے میں رواداری، باہمی مکالمے اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عصرِ حاضر میں بڑھتی ہوئی سماجی تقسیم، عدم برداشت اور انتہاپسندی جیسے سنگین چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے صوفیانہ اقدار ہمیں بہترین اور قیمتی رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔
پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس (پی این سی اے) اسلام آباد میں ممتاز فنکاروں رومی اور ایمن کی تخلیق کردہ خصوصی آرٹ نمائش “تصوف اور ثقافت” کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے اس شاندار نمائش کے انعقاد پر انتظامیہ کو مبارکباد دی اور فنکاروں کے مقتدر کام کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم دنیا کی چند نمایاں ترین صوفیانہ روایات کا امین ہے، جنہوں نے خطے کی شاعری، موسیقی، فنِ تعمیر، زبانوں اور لوک ثقافت پر صدیوں گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ تصوف کا اصل پیغام احترام، محبت، ہمدردی اور پرامن بقائے باہمی پر مبنی ہے، جن کی آج کی دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
سید یوسف رضا گیلانی نے تزویراتی نکتہ اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ صوفیائے کرام نے ہمیشہ یہ درس دیا ہے کہ احترام کا جذبہ نفرت سے زیادہ طاقتور ہے، مکالمہ تصادم سے زیادہ دیرپا نتائج دیتا ہے اور بقائے باہمی تفریق سے کہیں زیادہ سودمند ہے۔ یہی وہ آفاقی اصول ہیں جو ایک پرامن، جامع اور مضبوط معاشرے کی بنیاد رکھتے ہیں۔ انہوں نے دونوں فنکاروں کے کام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کا فن نئی نسل کو اپنی روحانی اور ثقافتی اقدار سے جوڑنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ اس مقتدر تقریب میں سینیٹر مولانا عطا الرحمان، سینیٹر عبدالقادر، سینیٹر دلاور خان، سینیٹر عطاء الحق درویش سمیت فنونِ لطیفہ کے ماہرین، ممتاز سفارت کاروں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی مقتدر شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں پائیدار ترقی سے متعلق اعلیٰ سطحی سیاسی فورم کے موقع پر “مصنوعی ذہانت اور پائیدار ترقی کا مستقبل: جدت، شمولیت اور لچک” کے عنوان سے ایک مقتدر اعلیٰ سطحی مباحثے کا انعقاد کیا گیا۔ اس اہم ترین تقریب کا مشترکہ اہتمام پاکستان اور تاجکستان کے مستقل مشنز اور پاکستان کے وزیرِاعظم یوتھ پروگرام نے کیا۔ تقریب میں مختلف ممالک کے سفارت کاروں، اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ حکام، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے ممتاز ماہرین، ماہرینِ تعلیم اور نوجوانوں کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور اس امر پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کے انقلابی فوائد دنیا بھر کے تمام انسانوں کے لیے یکساں طور پر قابلِ رسائی ہونے چاہئیں۔
مباحثے سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے چیئرمین وزیرِاعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور قومی ترقی کو تیز کرنے کے لیے پاکستان کے انقلابی اقدامات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ حکومتِ پاکستان نے مالی سال 2026-27 کے دوران وزیرِاعظم یوتھ پروگرام کے لیے 40.58 ارب روپے کے خطیر فنڈز مختص کیے ہیں تاکہ نئی نسل کو جدید معاشی تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک ملک بھر کے ہونہار طلبہ میں 6 لاکھ سے زائد لیپ ٹاپ تقسیم کیے جا چکے ہیں، 73 ہزار نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت، بلاک چین اور ڈیٹا سائنس کی جدید ترین تربیت دی جا چکی ہے، جبکہ 2 لاکھ 17 ہزار سے زائد تکنیکی مہارت کے وظائف فراہم کیے گئے ہیں۔
رانا مشہود احمد خان نے پاکستان کے طویل المدتی تزویراتی وژن کا تذکرہ کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ قومی مصنوعی ذہانت پالیسی کے تحت سال 2030ء تک 10 لاکھ ماہرین اور 10 ہزار اساتذہ (ٹرینرز) تیار کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور مہارتوں کی ترقی میں سرمایہ کاری کر کے عالمی تفاوت کو ختم کرے۔ اس موقع پر جمہوریہ تاجکستان کے وزیر برائے اقتصادی ترقی و تجارت عالی جناب عبدالرحمن عبدالرحمن زادہ نے بھی خطاب کیا اور پائیدار ترقی میں مصنوعی ذہانت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ تاجکستان وسطی ایشیا کا پہلا ملک ہے جس نے 2040ء تک کے لیے قومی مصنوعی ذہانت حکمتِ عملی اختیار کی ہے۔
تقریب کے پینل مباحثے میں اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی ماہر جینیفر لوئی، گوگل کے نمائندے ہاشم سید اور یوتھ ڈیلیگیٹ بسمہ قمر نے حصہ لیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ جہاں یہ ٹیکنالوجی ترقی کے بے پناہ مواقع فراہم کرتی ہے، وہیں سائبر سیکیورٹی جیسے ابھرتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر ضابطہ کار بھی ناگزیر ہے۔
اپنے اختتامی خطاب میں اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اس بات پر سخت زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کا مستقبل محض ٹیکنالوجی کی ترقی نہیں بلکہ انسانیت کی فلاح کو تشکیل دینا ہونا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی کو یقینی نہ بنایا گیا تو یہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے مابین ڈیجیٹل خلیج کو مزید وسیع کر دے گی۔ سفیر عاصم افتخار نے کثیرالجہتی نظام کے تحت چار بنیادی ترجیحات پیش کیں، جن میں عالمی تفاوت کا خاتمہ، مواقع کو مساوی معاشی نتائج میں تبدیل کرنا، نوجوانوں کو تخلیق کار تسلیم کرنا اور مصنوعی ذہانت کو مکمل طور پر انسان دوست، اخلاقی، محفوظ اور جوابدہ بنانا شامل ہے۔
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) نے کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے رن وے کی تعمیرِ نو کا انتہائی پیچیدہ اور اہم ترین منصوبہ محض 18 ماہ کی مقررہ مدت میں کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔ اس مقتدر کامیابی اور تزویراتی مہارت کا باقاعدہ اعتراف تھائی لینڈ کے شہر بینکاک میں منعقدہ اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے ‘انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن’ (آئی سی اے او) کے تحت ایشیا پیسیفک ریجنل ایوی ایشن سیفٹی ٹیم کے پچیسویں اہم اجلاس کے دوران کیا گیا، جہاں پاکستانی وفد نے ملک کی مقتدر نمائندگی کی۔
ترجمان پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، بینکاک میں ہونے والے اس بین الاقوامی اجلاس میں شریک پاکستانی وفد میں پراجیکٹ ڈائریکٹر جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ انجینئر حافظ زاہد اسحاق، سینئر ڈپٹی ڈائریکٹر انجینئر منیب احمد خان اور سینئر ڈپٹی ڈائریکٹر سول ایوی ایشن اتھارٹی ماہ رخ ایم حسین شامل تھے۔ اجلاس کے دوران انجینئر حافظ زاہد اسحاق نے پاکستان کی ہوا بازی کی تاریخ کے اس منفرد منصوبے پر ایک تکنیکی ورکنگ پیپر پیش کیا، جس میں لائیو ایئرپورٹ آپریشنز کے دوران مکمل حفاظتی انتظامات کے ساتھ رن وے کی تعمیرِ نو کے مراحل کو تفصیلاً اجاگر کیا گیا۔
عالمی فورم کو دی جانے والی پریزنٹیشن میں تزویراتی تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ رن وے کی تعمیرِ نو کے دوران ایئرپورٹ کے آپریشنز کو ایک لمحے کے لیے بھی بند نہیں کیا گیا، بلکہ اس دوران تقریباً 60 ہزار فضائی پروازوں کو مکمل طور پر محفوظ انداز میں سہولت فراہم کی گئی اور ایک کروڑ کے قریب مسافروں کو سفری خدمات دی گئیں، جبکہ پورے منصوبے کے دوران کوئی ایک بھی ناخوشگوار واقعہ یا حادثہ پیش نہیں آیا۔ رن وے کی مکمل اور معیاری تعمیر کے بعد اسے تجارتی پروازوں کے لیے باقاعدہ طور پر فعال کر دیا گیا ہے۔ اجلاس میں موجود امریکہ اور تھائی لینڈ کی ہوا بازی کے مقتدر اداروں نے پاکستان کے اس بہترین سیفٹی فریم ورک اور مختلف اداروں کے مابین شاندار تعاون کو بے حد سراہا اور اسے پورے ایشیا پیسیفک خطے کے لیے ایک بہترین اور قابلِ تقلید مثال قرار دیا۔
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار عوامی جمہوریہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای کی خصوصی دعوت پر ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ 16 سے 17 جولائی تک شنگھائی (چین) کا تزویراتی دورہ کریں گے۔ اس دورے کے دوران دوطرفہ تزویراتی تعلقات، علاقائی تعاون کے فروغ اور باہمی دلچسپی کے دیگر اہم ترین امور پر تفصیلی بات چیت متوقع ہے۔
دفتر خارجہ کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ مقتدر تفصیلات کے مطابق، نائب وزیراعظم 16 جولائی کو ‘عالمی مصنوعی ذہانت تعاون تنظیم’ کے باقاعدہ قیام کی دستخطی تقریب میں خصوصی شرکت کریں گے اور پاکستان کی جانب سے بانی رکن کی حیثیت سے اس تاریخی بین الاقوامی معاہدے پر باقاعدہ دستخط کریں گے۔ اس کے بعد، وہ 17 جولائی کو شنگھائی میں منعقد ہونے والی ‘عالمی مصنوعی ذہانت کانفرنس’ کی افتتاحی تقریب اور مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی سے متعلق اعلیٰ سطح کے مقتدر اجلاس میں بھی شریک ہوں گے۔ اس اہم کانفرنس کے موقع پر نائب وزیراعظم کی چینی وزیر خارجہ وانگ ای سے ایک اہم دوطرفہ ملاقات طے ہے، جبکہ وہ وہاں موجود دیگر ممالک کے ہم منصبوں سے بھی باہمی تعاون بڑھانے کے لیے ملاقاتیں کریں گے۔
اپنی ان تمام اہم سفارتی مصروفیات کے دوران نائب وزیراعظم ٹیکنالوجی کے شعبے میں، بالخصوص ترقی پذیر ممالک کی ترجیحات اور ترقیاتی ضروریات پر مبنی پاکستان کا اصولی موقف پیش کریں گے۔ وہ دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں موجود تفاوت کو کم کرنے، اس جدید ٹیکنالوجی تک تمام ممالک کی منصفانہ رسائی کو فروغ دینے اور استعداد کار میں اضافے پر زور دیں گے۔ اسحاق ڈار اس مقتدر امر کو بھی اجاگر کریں گے کہ کس طرح مصنوعی ذہانت کے ثمرات کو دنیا بھر میں پائیدار ترقی، معاشی خوشحالی اور سب کے لیے مشترکہ فائدے کے لیے مؤثر طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے جنرل سیکریٹریٹ نے اسرائیلی جارحیت، مسلسل فوجی قبضے اور سنگین ترین چیلنجز کے باوجود فلسطینی ریاست کی جانب سے کی جانے والی ادارہ جاتی، انتظامی اور مالی اصلاحات کی پیش رفت کو نمایاں الفاظ میں سراہا ہے۔ فلسطینی خبر رساں ادارے کے مطابق، او آئی سی کے معاون سیکریٹری جنرل برائے فلسطین و القدس امور سمیر بکر نے برسلز میں منعقدہ ایک مقتدر اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے اس موقف کا اظہار کیا۔ اس اہم اجلاس میں فلسطینی وزیرِ اعظم محمد مصطفیٰ، یورپی کمیشن کی کمشنر ڈوبراوکا شوئیکا اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کیلس بھی موجود تھیں۔ سمیر بکر نے واضح کیا کہ خطے میں دو ریاستی حل کو محفوظ بنانے اور اس پر پائیدار عمل درآمد کے لیے فلسطینی اتھارٹی کو ادارہ جاتی اور مالی طور پر مستحکم کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
او آئی سی نے غاصب اسرائیل سے مقتدر مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے روکے گئے تمام ٹیکسوں کی آمدنی فوری طور پر اور بغیر کسی شرط کے جاری کرے۔ تنظیم نے عالمی برادری کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی اس وقت شدید ترین مالی بحران کا سامنا کر رہی ہے، جس کے باعث اس کے لیے اپنی بنیادی ذمہ داریاں پوری کرنا اور مظلوم شہریوں کو صحت، تعلیم اور سماجی بہبود جیسی بنیادی عوامی خدمات فراہم کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ تنظیم نے تمام بین الاقوامی شراکت داروں اور امداد دینے والے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ریاستِ فلسطین کو فوری مالی امداد فراہم کریں اور فلسطینی معیشت کی دانستہ ناکہ بندی کے سنگین نتائج کا فوری نوٹس لیں۔
اپنے مقتدر بیان میں او آئی سی نے اقوامِ متحدہ کے فلسطینی مہاجرین کے بہبود کے ادارے کو اسرائیل کی جانب سے مسلسل نشانہ بنانے، غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی توسیع، فلسطینی اراضی کے الحاق، جبری بے دخلیوں اور غزہ کی طویل ترین ناکہ بندی کی بھی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔ تنظیم نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل پر سفارتی و معاشی دباؤ بڑھائے تاکہ وہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے تحت امن منصوبے کے دوسرے مرحلے پر فوری عمل درآمد شروع کرے، جس میں غزہ پٹی سے اسرائیلی فورسز کا مکمل انخلا، تمام سرحدی گزرگاہوں کو کھولنا اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی شامل ہے۔ او آئی سی نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ تمام فلسطینی عوام اور فلسطینی سرزمین کی قانونی، سیاسی اور ادارہ جاتی وحدت کو ریاستِ فلسطین کی منتخب حکومت کی قیادت میں ہر قیمت پر برقرار رہنا چاہیے۔
چین نے بین الاقوامی تجارتی نظام پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ دور میں عالمی سپلائی چینز (تجارتی ترسیل کے راستے) مشترکہ مفادات کی ایک ایسی پائیدار زنجیر بن چکی ہیں جس میں تمام فریق ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ بیجنگ کے مطابق، اس مربوط نظام میں کسی ایک فریق کی ترقی سب کے لیے فائدہ مند ہے، جبکہ کسی ایک کا بھی نقصان پوری دنیا کی معیشت کو متاثر کرتا ہے۔ چینی بین الاقوامی ٹیلی ویژن نیٹ ورک کے مطابق، یہ مقتدر باتیں چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لین جیان نے بدھ کے روز روزانہ کی پریس کانفرنس کے دوران عالمی تجارت اور سپلائی چینز کے حساس مسئلے پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہیں۔
چینی ترجمان لین جیان نے واضح الفاظ میں خبردار کیا کہ سیاسی یا مصنوعی طریقوں سے عالمی سپلائی چینز کو منقطع کرنے، تحفظ پسند تجارتی رکاوٹیں کھڑی کرنے اور سپلائی چینز کی زبردستی ازسرِنو تشکیل کی تمام کوششیں نہ صرف دنیا بھر میں بھاری معاشی اخراجات کا باعث بنیں گی بلکہ یہ مارکیٹ کے بنیادی اصولوں اور کاروباری اداروں کے آزادانہ انتخاب کے بھی سراسر خلاف ہیں۔ انہوں نے تزویراتی نکتہ اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ان منفی اقدامات کے نتیجے میں عالمی برادری اور تمام شراکت دار فریقین کو تجارت میں بہت زیادہ قیمت ادا کرنی پڑے گی جبکہ ان کے حاصل ہونے والے معاشی فوائد انتہائی کم رہ جائیں گے۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے بیجنگ کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ چین بین الاقوامی تجارت میں اعلیٰ معیار کے کھلے پن کی پالیسی کو مسلسل وسعت دیتا رہے گا۔ چین اپنی وسیع ترین عالمی مارکیٹ، مکمل صنعتی ڈھانچے اور دیگر نمایاں پیداواری برتریوں سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے دنیا کو مستحکم انداز میں اعلیٰ معیار کی مصنوعات کی فراہمی جاری رکھے گا اور دنیا بھر کے کاروباری اداروں کو باہمی تعاون کے مزید نئے اور مقتدر مواقع فراہم کرتا رہے گا تاکہ عالمی معیشت کو بحرانوں سے بچایا جا سکے۔
امریکہ میں مسلمانوں کے شہری حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم سب سے بڑی موقر تنظیم ‘کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز’ (کیر) نے ریاست یوٹاہ میں مبینہ مذہبی منافرت کی بنیاد پر ایک مسلمان شہری پر چاقو سے کیے گئے ہولناک حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ تنظیم نے امریکی حکام، سیاست دانوں اور سماجی رہنماؤں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسلام مخالف نفرت انگیز بیانات کی واضح اور دوٹوک مذمت کریں اور ایسی انتہا پسندانہ سوچ کو فروغ دینے والے عناصر کو معاشرے میں مکمل طور پر مسترد کریں۔
مقامی پولیس کے مطابق، گرفتار ملزم نے تفتیش کے دوران مبینہ طور پر اعتراف کیا ہے کہ اس نے متاثرہ شخص کو محض اس کے اسلامی عقیدے اور مذہبی شناخت کی بنیاد پر وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ رپورٹ کے مطابق، متاثرہ مسلم شہری پر چاقو سے یکے بعد دیگرے کئی وار کیے گئے، جس کی وجہ سے وہ شدید زخمی ہو گیا اور اسے نازک حالت میں قریبی اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ سیکیورٹی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ ملزم مبینہ طور پر مسلم برادری کو نشانہ بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر جانی نقصان پہنچانے والے مزید خوفناک حملوں کی بھی باقاعدہ منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ پولیس نے واقعے کی سنگینی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اسے باقاعدہ ‘نفرت انگیز جرم’ (ہیٹ کرائم) کے طور پر رجسٹر کر کے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نہاد عوض نے اس ہولناک واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ایک تزویراتی بیان میں کہا کہ یہ بزدلانہ حملہ ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ اسلام مخالف نفرت انگیز بیانات کے معاشرے میں کتنے خطرناک اور حقیقی نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب مسلمانوں کو مسلسل بدنام کیا جاتا ہے، انہیں ایک خطرے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، یا انہیں مساوی حقوق اور انسانی وقار سے محروم سمجھا جاتا ہے، تو بعض انتہا پسند ذہن کے حامل افراد اسی زہریلے بیانیے کو عملی تشدد کی شکل دے دیتے ہیں۔ نہاد عوض نے مطالبہ کیا کہ امریکی رہنما اسلاموفوبیا اور مذہبی تعصب کے خلاف متحد ہو کر کھڑے ہوں، اور انہوں نے زخمی شہری کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے دعا بھی کی۔
اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے ‘انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن’ (آئی ایم او) نے تجارتی لائف لائن سمجھے جانے والے اہم بحری راستے ‘آبنائے ہرمز’ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں آئل ٹینکروں پر ہونے والے حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ عالمی ادارے نے خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کو فوری طور پر ختم کرنے اور تجارتی جہاز رانی پر حملے روکنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ ادارے کے ترجمان نے ان واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ عالمی ادارہ متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر ان حملوں کی تفصیلات اور نقصانات کی تصدیق کر رہا ہے، اور اس خطرناک سلسلے کو فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔
موقر تفصیلات کے مطابق، خطے میں کشیدگی کے باعث سمندر میں پھنسے ہوئے بحری جہازوں اور ان کے عملے کو بحفاظت نکالنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر محفوظ راستے قائم کیے جا رہے ہیں۔ عالمی ادارے نے تمام متعلقہ فریقوں پر سفارتی تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مزید محاذ آرائی سے گریز کرنے پر زور دیا ہے تاکہ سمندری حدود میں کام کرنے والے کارکنوں کی جانوں اور بین الاقوامی جہاز رانی کے تحفظ کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جا سکے۔
دوسری جانب، اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے بھی اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انتباہ جاری کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کی اطلاعات انتہائی خطرناک ہیں، کیونکہ اس کے براہِ راست اثرات خطے سے باہر نکل کر دنیا بھر کے کروڑوں انسانوں کی زندگیوں پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس اہم بحری گزرگاہ سے خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی عالمی ترسیل جڑی ہوئی ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ دنیا بھر میں ایک نیا معاشی اور انسانی بحران پیدا کر دے گی۔ انہوں نے ایران اور امریکہ سے رپورٹ ہونے والے حملوں کو فوری طور پر روکنے اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق جنگ بندی بحال کرنے کا مقتدر مطالبہ کیا ہے۔