یمن میں عسکری تصادم کے بعد ہولناک انسانی بحران: 76 ہزار سے زائد افراد گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے

محمود احمد, September 12,2026

صنعاء (نیوز اینڈ نیوز) — 12 ستمبر 2026ء

یمن میں حوثی فورسز، بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت اور سعودی عرب کی حمایت یافتہ اتحادی افواج کے درمیان جاری خونریز اور شدید تازہ جھڑپوں کے نتیجے میں کم از کم 76 ہزار افراد اپنے گھروں کو چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے بین الاقوامی ادارہ برائے پناہ گزین (آئی او ایم -) کی جانب سے جاری کردہ ہنگامی رپورٹ میں یمن میں پیدا ہونے والی اس سنگین معاشی و عسکری صورتحال کو ایک ایسے بگڑتے ہوئے انسانی بحران سے تعبیر کیا گیا ہے جو ہر گزرتے لمحے کے ساتھ انتہائی خوفناک اور وسیع تر ہوتا جا رہا ہے۔

آئی او ایم کی تازہ ترین رپورٹ کی تفصیلا ت کے مطابق چند روز قبل تک یمن میں جنگ کی وجہ سے بے گھر ہونے والے شہریوں کی مجموعی تعداد 46 ہزار تھی، جو اب برق رفتاری سے بڑھ کر 76 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار انتہائی مختصر عرصے میں دوگنے ہو چکے ہیں، جبکہ جنگی محاذوں پر عسکری شدت آنے کے باعث یہ تعداد گزشتہ ہفتے کے ریکارڈ کے مقابلے میں چار گنا تک بڑھ گئی ہے۔

آئی او ایم کی سربراہ ایمی پوپ نے خطے کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ یمن کے مغربی ساحلی پٹی کے خطوں اور جنوبی تعز کے اہم محاذوں پر فریقین کے درمیان تصادم کی شدت لمحہ بہ لمحہ تیز ہو رہی ہے۔

ایمی پوپ کے مطابق جنوبی صوبہ تعز اس تازہ ترین لہر سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا علاقہ ہے، جہاں سے 8 ہزار 300 سے زائد خاندان، یعنی تقریباً 50 ہزار افراد، اپنے گھر بار، جائداد اور معیشت کو چھوڑ کر کھلے آسمان تلے یا عارضی کیمپوں میں پناہ گزین ہونے پر مجبور ہوئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ادارے کی رپورٹ کے مطابق اس تباہ کن لڑائی کے باعث نقل مکانی کرنے والے مظلوم خاندانوں کی غالب اکثریت تعز کے مختلف علاقوں جبل حبشی، المعافر، مقبنہ، موزع اور الوزعیہ سے تعلق رکھتی ہے، جہاں شیلنگ اور زمینی پیش قدمی جاری ہے۔

طبی و امدادی تنظیموں نے انکشاف کیا ہے کہ اگر لڑائی کی اس خوفناک لہر کو فوری طور پر نہ روکا گیا تو آئندہ دنوں میں خوراک، صاف پانی اور ادویات کی شدید قلت کے باعث یمن میں مزید لاکھوں انسان متاثر ہو سکتے ہیں۔

برکس سمٹ 2026: نئی دہلی میں ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کی یو اے ای کے ولی عہد سے اہم ملاقات

محمود احمد, September 12,2026

نئی دہلی (نیوز اینڈ نیوز) — 12 ستمبر 2026ء

ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے ہفتے کے روز بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں منعقد ہونے والے برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان سے ایک اہم اور تزویراتی ملاقات کی ہے۔

نئی دہلی دورے کے پہلے روز ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کی مصروفیت انتہائی اہم رہی، جہاں انہوں نے برکس کے مرکزی اجلاس، اقتصادی سربراہی اجلاس اور برکس رہنماؤں کے اہم بند کمرہ اجلاس سے تفصیلی خطاب کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے بھارت کے ممتاز مذہبی رہنماؤں، دانشوروں اور نامور بھارتی کاروباری شخصیات سے بھی الگ الگ ملاقاتیں کی تھیں۔

ایرانی صدر اور اماراتی ولی عہد کی یہ اعلیٰ سطحی ملاقات ایک ایسے حساس وقت میں ہوئی ہے جب ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان جاری شدید جنگی صورتحال کے دوران تہران کی جانب سے خطے میں متحدہ عرب امارات سب سے زیادہ ایرانی عسکری کارروائیوں اور حملوں کی زد میں رہا ہے۔

ایرانی صدارتی دفتر کے مطابق صدر مسعود پیزشکیان نئی دہلی میں برکس اجلاس کے موقع پر دیگر عالمی رہنماؤں، وزرائے اعظم اور بین الاقوامی حکام سے بھی تفصیلی ملاقاتیں اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔

واضح رہے کہ نئی دہلی میں جاری اس تاریخی برکس سربراہی اجلاس 2026ء میں روسی صدر ولادیمیر پوتن اور چینی صدر شی جن پنگ سمیت دنیا کے اہم ترین اور اثر و رسوخ رکھنے والے ممالک کے سربراہانِ مملکت اور نمائندے شریک ہیں۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد پاکستانیوں کی قربانی؛ ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور جدید ٹیکنالوجی سے ابھرتے خطرات پر سفیر عاصم افتخار کی سلامتی کونسل کو وارننگ

روزینہ اسماعیل, September 12,2026

اقوام متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 12 ستمبر 2026ء

پاکستان نے عالمی سطح پر دہشت گردی کے بدلتے ہوئے خطرناک رجحانات اور جدید ٹیکنالوجی کے تزویراتی استعمال کے پیشِ نظر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ انسدادِ دہشت گردی کی اپنی بین الاقوامی حکمتِ عملی کو زیادہ مؤثر، جامع اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنائے اور موجودہ پابندیوں کے نظام میں موجود خلا کو فوری طور پر پر کرے۔

سلامتی کونسل میں “دہشت گرد کارروائیوں سے بین الاقوامی امن و سلامتی کو لاحق خطرات: 9/11 کے پچیس برس بعد، سلامتی کونسل کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کی تجدید” کے عنوان سے منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے 9/11 کے خوفناک حملوں میں جاں بحق ہونے والے تمام افراد، جن میں سات پاکستانی شہری بھی شامل تھے، کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور حکومت و عوامِ امریکہ کے ساتھ کامل یکجہتی کا اظہار کیا۔

پاکستانی مندوب نے 9/11 کے بعد قائم ہونے والے بین الاقوامی فریم ورک کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں کے فوری بعد سلامتی کونسل کی تاریخی قرارداد 1373 کی منظوری نے عالمی انسدادِ دہشت گردی کے ڈھانچے کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے القاعدہ کے خلاف آپریشنز، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور عالمی سیکیورٹی شراکت داری میں پاکستان کے تاریخی و کلیدی کردار کو نمایاں کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے فعال اقدامات نے القاعدہ کے نیٹ ورک کو تباہ کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کو یاد دہانی کرائی کہ اس طویل عالمی جنگ میں پاکستان نے بے پناہ اور سنگین قیمت ادا کی ہے۔ رواں صدی کے آغاز سے اب تک 90 ہزار سے زائد پاکستانی شہری، جن میں سیکیورٹی و قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہزاروں بہادر اہلکار شامل ہیں، دہشت گردی کا شکار ہو کر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں، جبکہ ملکی معیشت کو بھی اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ 25 برس قبل قائم کیا گیا سیکیورٹی ڈھانچہ اب جدید خطرات کے سامنے ناکافی ثابت ہو رہا ہے کیونکہ دہشت گردی کے خدشات نے دائیں بازو کی انتہاپسندی، افریقہ، مشرقِ وسطیٰ اور افغانستان سے ابھرنے والے بحرانوں کی شکل اختیار کر لی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ تین برس کے دوران افغانستان سے آپریٹ ہونے والے کالعدم گروہوں کے حملوں میں 4,700 سے زائد پاکستانی شہری اور جوان شہید ہو چکے ہیں۔ اس تناظر میں انہوں نے ٹی ٹی پی بی ایل اے ای ٹی آئی ایم اور داعش جیسے عسکریت پسند گروہوں کے خلاف ٹھوس بین الاقوامی کارروائی کا مطالبہ کیا۔

سفیر نے دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے کرپٹو کرنسیوں، ورچوئل اثاثوں، ڈارک ویب اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مالی معاونت اور بھرتیوں کے خطرے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ضابطہ کاری کے بغیر یہ مسائل اور زیادہ پیچیدہ ہو جائیں گے۔

پاکستانی مندوب نے اپنے خطاب کے اختتام پر زور دیا کہ بین الاقوامی برادری غیر ملکی مقبوضہ علاقوں میں جاری ‘ریاستی دہشت گردی’ سے آنکھیں نہ چرا لے۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کو چاہیے کہ وہ غاصب اور قابض قوتوں کو جواب دہ ٹھہرائے تاکہ وہ حقِ خودارادیت کی جائز اور قانونی جدوجہد کرنے والی اقوام کو تشدد کے ذریعے نہ دبا سکیں۔

عوامی اعتماد وراثت میں نہیں، دیانت داری سے ملتا ہے: سپریم کورٹ میں قومی کانفرنس سے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا تاریخی خطاب

منصور احمد,September 12,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 12 ستمبر 2026ء

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ عدلیہ کے لیے عوام کا اعتماد کسی وراثت کا نام نہیں بلکہ یہ محض دیانت داری اور شفافیت سے حاصل ہوتا ہے، اور انصاف کی بروقت فراہمی کے لیے اصلاحات کرتے وقت زمینی حقائق کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔

ہفتے کے روز جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے زیرِ اہتمام سپریم کورٹ اسلام آباد میں “عدالتی نظام میں اصلاحات اور عوام کو فوری انصاف کی فراہمی” کے موضوع پر منعقدہ قومی کانفرنس (جوڈیشل ویل بیئنگ) سے بطور مہمانِ گرامی خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے واضح کیا کہ ماتحت عدلیہ پورے نظامِ انصاف کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سخت مشکلات کے باوجود کام کرنے والے ماتحت عدلیہ کے ججوں کو بااختیار بنانا عدلیہ کی اولین ترجیح ہے اور انہیں اپنی ضلعی عدلیہ پر فخر ہے۔

چیف جسٹس نے ماضی میں ضلعی عدلیہ اور پالیسی ساز اداروں کے درمیان رابطے کے فقدان کا اعتراف کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اب ضلعی عدالتوں اور ہائی کورٹس کے درمیان رابطہ کاری کو جدید اور مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی افسران کی سہولیات، شرائطِ ملازمت اور تحفظ کے لیے خاص کمیٹی قائم کی گئی ہے جبکہ پاکستان بھر کے عدالتی افسران کے لیے ‘ہیلتھ انشورنس’ کی سہولت کا حتمی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

خطاب کے دوران چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ایک بڑا اور اہم اعلان کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی افسران پر کسی بھی قسم کے بیرونی، سیاسی یا انتہا پسند عناصر کے دباؤ کے خلاف باقاعدہ حفاظتی طریقہ کار یقینی بنایا گیا ہے، اور ججز کے ضابطۂ اخلاق میں بھی اس حوالے سے ضروری تبدیلیاں لا کر پوری عدلیہ کو ججوں کے پیچھے کھڑا کر دیا گیا ہے۔

مالی و بنیادی سہولیات پر بات کرتے ہوئے چیف جسٹس نے بتایا کہ عدلیہ کی بہتری اور عوامی رسائی کے پروگرام کے تحت رواں سال ۳ ارب روپے سے زائد کے فنڈز جاری کیے گئے ہیں، جبکہ ماضی کے ۲۰ سالوں میں اس مقصد کے لیے صرف ۹۰ کروڑ روپے دیے گئے تھے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ بلوچستان کے ۱۸ اضلاع سمیت تھرپارکر کی تحصیل ننگرپارکر اور دیگر دور دراز علاقوں میں عدالتوں کو شمسی توانائی، تیز ترین انٹرنیٹ، ای لائبریریوں اور صاف پانی کی سہولیات فراہم کی جا چکی ہیں اور تمام تحصیلوں کو سولر انرجی پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

چیف جسٹس نے انصاف کی راہ میں جانوں کی قربانیاں دینے والے ججوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ خطاب کے دوران جب شرکاء نے تالیاں بجائیں تو چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے انہیں روکتے ہوئے یاد دہانی کرائی کہ اس چھت کے نیچے ہم سب جج ہیں اور ہمیں مکمل طور پر ججوں جیسا ہی و قار برقرار رکھنا چاہیے۔

عصر حاضر کے مسائل کا حل سیرتِ طیبہ میں پوشیدہ ہے: سیرت سنٹر میں سیرت کانفرنس سے وفاقی وزیر احسن اقبال کا اہم خطاب

کاشف عباسی , September 12,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 12 ستمبر 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ جدید دور میں امتِ مسلمہ کو درپیش تمام مسائل اور زوال کا واحد حل حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی سیرتِ طیبہ کی پیروی اور آفاقی تعلیمات میں پوشیدہ ہے، جبکہ تعلیم اور تحقیق کے میدان سے دوری مسلمانوں کے زوال کا سب سے بڑا سبب بنی ہے۔

ہفتے کے روز سیرت سنٹر لاہور میں منعقدہ ایک باوقار سیرت کانفرنس سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے واضح کیا کہ سیرت سنٹر کے قیام کا بنیادی مقصد نئی نسل کو رسولِ پاک ﷺ کی مبارک تعلیمات کے ساتھ جوڑنا اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے نوجوانوں کی جدید علوم کی فلاح کے ساتھ کردار سازی کرنا ہے۔ تقریب میں مختلف جامعات کے اساتذہ، طلبہ، مذہبی سکالرز، سول سوسائٹی کے افراد اور صحافیوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔

وفاقی وزیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ نبی کریم ﷺ کی حیاتِ طیبہ تمام انسانیت کے لیے کامل مشعلِ راہ ہے اور حقیقی امن، عدل اور باہمی احترام پر مبنی معاشرے کی بنیاد اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہونے میں ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ہم نے سیرتِ طیبہ کو محض تقریبات تک محدود کر دیا ہے جبکہ اسے انفرادی و اجتماعی زندگی میں عملی طور پر نافذ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

پروفیسر احسن اقبال نے دنیا بھر میں مسلمانوں کو درپیش چیلنجز بالخصوص غزہ اور دیگر خطوں میں جاری مظالم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً دو ارب کی آبادی پر مشتمل امتِ مسلمہ کا ایک کم آبادی والی ریاست کے سامنے پسپائی کا شکار ہونا ایک بڑا لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جذباتی نعرے بازی کے بجائے مسلمانوں کو اپنی کمزوریوں کا جائزہ لیتے ہوئے سخت اجتماعی خود احتسابی کا عمل شروع کرنا ہوگا۔

خواتین کے مقام پر روشنی ڈالتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ اسلام نے 1400 سال پہلے عورت کو جو عزت، حقوق اور احترام کا مقام دیا، جدید دنیا نے اسے بہت بعد میں تسلیم کیا۔ انہوں نے کہا کہ بیٹی اللہ کی رحمت ہے اور اسلام نے خواتین کی تعلیم و تربیت اور معاشرتی خدمات پر زور دیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی قومی معاشی و سماجی ترقی کے لیے خواتین کا تعلیم، تحقیق اور قیادت کے شعبوں میں فعال کردار ناگزیر ہے۔

پروفیسر احسن اقبال نے کانفرنس کے انعقاد کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک کو مضبوط اور ترقی یافتہ بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کو انسانیت کی فلاح کے لیے استعمال کرنا ہوگا اور نوجوانوں میں علم، دیانت اور خدمتِ خلق کا شعور اجاگر کرنے کی جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

سعودی عرب کی پائپ لائن پر ڈرون حملوں کی پاکستان کی شدید مذمت: دفترِ خارجہ کا سعودی خودمختاری کی کامل حمایت کا اعادہ

منصور احمد,September 12,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 12 ستمبر 2026ء

پاکستان نے برادر اسلامی ملک سعودی عرب کے تزویراتی و شہری بنیادی ڈھانچے پر ہونے والے حالیہ ڈرون حملوں کی سخت ترین الفاظ میں پرزور مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سویلین تنصیبات کو نشانہ بنانا خطے کے امن، سلامتی اور پائیدار استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔

ہفتے کے روز ترجمان دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک اہم سرکاری بیان کے مطابق، پاکستان نے سعودی عرب کے علاقوں ریاض اور مدینہ کے درمیان واقع تزویراتی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر ہونے والے قابلِ مذمت ڈرون حملوں پر گہری تشویش اور غصے کا اظہار کیا ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں پائپ لائن کو نقصان پہنچا جبکہ عام شہری بھی زخمی ہوئے۔

ترجمان دفترِ خارجہ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ شہری بنیادی ڈھانچے اور اقتصادی تنصیبات کو بزدلانہ انداز میں نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین اور انسانی اقدار کی کھلی خلاف ورزی ہے، جبکہ یہ عمل برادر ملک سعودی عرب کی خودمختاری، جغرافیائی سرحدوں اور علاقائی سالمیت پر صریح حملے کے مترادف ہے۔

ترجمان نے کہا کہ اس نوعیت کے یکطرفہ اور جارحانہ حملے پورے مشرقِ وسطیٰ کے امن، امن و امان کی صورتحال اور علاقائی توازن کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ترجمان نے اعادہ کیا کہ پاکستان، مملکتِ سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، امن، سلامتی اور خوشحالی کے لیے اپنی غیر متزلزل اور تاریخی حمایت کو دہراتا ہے۔ پاکستان اس مشکل گھڑی میں سعودی قیادت، حکومت اور اپنے برادر سعودی عوام کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑا ہے۔

ترجمان دفترِ خارجہ نے اپنے بیان کے اختتام پر اس عزم کو دہرایا کہ پاکستان ماضی کی طرح خطے میں پائیدار امن، کشیدگی کے خاتمے اور پُرامن بقائے باہمی کے حصول کے لیے تمام مخلصانہ سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔

بحیرۂ احمر میں حوثیوں کی پیش قدمی: سعودی میڈیا نے عالمی و علاقائی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ قرار دے دیا

محمود احمد, September 12,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 12 ستمبر 2026ء

ایران کی حمایت یافتہ حوثی تحریک کی یمن کے بحیرۂ احمر سے متصل ساحلی علاقوں اور عالمی جہاز رانی کی اہم شاہراہ کی جانب تیز رفتار پیش قدمی نے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی، علاقائی توازن اور بین الاقوامی بحری تجارت سے متعلق سنگین ترین خدشات کو جنم دیا ہے، جس پر سعودی ذرائع ابلاغ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے آبنائے باب المندب کے لیے براہِ راست خطرہ قرار دیا ہے۔

سعودی عرب کے سرکاری ٹی وی چینل ‘الاخباریہ’ نے اپنے خصوصی تجزیئے میں کہا ہے کہ تہران انتظامیہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والے شدید سفارتی و عسکری دباؤ کو حکمتِ عملی کے تحت باب المندب کی جانب منتقل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

حوثی فورسز نے حال ہی میں بحیرۂ احمر کے تاریخی اور تزویراتی ساحلی شہر المخا (موچا) پر قبضہ جمانے کے بعد باب المندب کے قریبی علاقوں میں اپنی پوزیشنز کو انتہائی مضبوط کر لیا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اس عسکری پیش قدمی کے نتیجے میں حوثی جنگجوؤں کو آبنائے کے دہانے، قریبی ساحلی پٹی اور متصل جزائر تک مکمل اور بلاشرکتِ غیرے رسائی حاصل ہو گئی ہے۔

یہ تمام تر ساحلی اور سمندری علاقے اس سے قبل بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی اتحادی فورسز کی سیکیورٹی تحویل میں تھے۔ تاہم، حالیہ برق رفتار پیش قدمی نے حوثیوں کو بحیرۂ احمر اور باب المندب کے انتہائی حساس بحری حصوں کے بکلل قریب پہنچا دیا ہے۔

سعودی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز میں جاری مسلسل کشیدگی کے باعث خلیجی ممالک کی بحری برآمدات پہلے ہی متاثر ہو رہی تھیں، جس کی وجہ سے بحیرۂ احمر کا راستہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کی خام تیل اور تجارتی اشیاء کی برآمد کے لیے متبادل کے طور پر انتہائی اہم ہو چکا تھا۔ الاخباریہ نے حوثیوں کے اس اقدام کو ایران کی وسیع تر علاقائی عسکری حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تہران کا بنیادی مقصد دونوں بڑی عالمی بحری گزرگاہوں کو ایک وقت میں یرغمال بنانا ہے۔

دوسری جانب، سعودی نشریاتی ادارے ‘العربیہ’ نے بھی انکشاف کیا ہے کہ ایرانی عسکری ماہرین حوثیوں کی ان تمام تر ساحلی کارروائیوں کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، پاکستان نے تہران حکومت تک سعودی عرب کا ایک انتہائی سخت اور واضح پیغام پہنچایا ہے، جس میں حوثیوں کو لگام دینے اور سعودی عرب کی سرحدی سلامتی کے خلاف ان کی کارروائیوں کو فوراً روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ رائٹرز نے بھی تصدیق کی ہے کہ اسلام آباد نے تہران کو حوثیوں کے متوقع حملوں سے خبردار کیا ہے۔

ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق، ان سفارتی تحرکات کے تناظر میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے خطے کی تازہ ترین کشیدہ صورتحال پر سعودی وزیرِ خارجہ اور پاکستان کے سپہ سالار (آرمی چیف) سے الگ الگ اہم ٹیلیفونک رابطے بھی کیے ہیں۔

واضح رہے کہ آبنائے باب المندب بحیرۂ احمر کو خلیجِ عدن اور بحرِ ہند سے ملانے والی انتہائی حساس آبی گزرگاہ ہے۔ عالمی دفاعی ماہرین کے مطابق حوثیوں کے اس علاقے پر مؤثر کنٹرول سے عالمی منڈیوں کے لیے خام تیل اور برآمدی سامان کی ترسیل کا وہ متبادل راستہ بھی بند ہونے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے جو آبنائے ہرمز کے دباؤ کے باعث استعمال کیا جا رہا تھا، جس سے یمن کی جنگ ایک نئی اور خوفناک دلدل میں داخل ہو گئی ہے۔

گوادر کے سرحدی علاقے جیوانی میں نامعلوم افراد کا ہولناک حملہ: گاڑی کو آگ لگا دی گئی، 4 افراد ہلاک

منصور احمد,September 12,2026

گوادر (نیوز اینڈ نیوز) — 12 ستمبر 2026ء

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر کی تحصیل جیوانی میں نامعلوم مسلح افراد کے ایک سنگین حملے میں کم از کم چار افراد گولی لگنے سے ہلاک ہو گئے ہیں۔

سرکاری حکام اور سیکیورٹی ذرائع نے اس افسوسناک واقعے کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ واقعہ پاک ایران سرحد کے قریب واقع گوادر کے حساس ترین ساحلی علاقے جیوانی میں پیش آیا۔

بی بی سی کی جانب سے اس واقعے کی تصدیق کے لیے رابطہ کرنے پر تین سینیئر سرکاری اہلکاروں نے الگ الگ گفتگو کرتے ہوئے چاروں افراد کی ہلاکت کی باقاعدہ تصدیق کی ہے۔

ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مقامی پولیس کو سب سے پہلے یہ اطلاع موصول ہوئی تھی کہ ایران کے ساتھ سرحد کے قریب سڑک سے نیچے ایک جلی ہوئی گاڑی اور ایک موٹر سائیکل گرگئے ہیں۔

اہلکار کے مطابق جب پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچیں تو وہاں چار افراد کی لاشیں پڑی ہوئی ملیں، جبکہ قریب ہی ایک مکمل طور پر جلی ہوئی گاڑی اور ایک تباہ شدہ موٹر سائیکل بھی موجود تھی۔

ابتدائی طبی اور قانونی معا ئنے کے بعد سرکاری اہلکار نے تصدیق کی کہ تمام چاروں افراد کی موت جسم کے مختلف حصوں پر گولیاں لگنے کی وجہ سے واقع ہوئی ہے۔

سیکیورٹی حکام کے مطابق ابتدائی موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق مارے جانے والے تمام افراد کا تعلق ایک اہم سرکاری محکمے سے تھا۔ واقعے کی وجوہات اور محرکات کو سامنے لانے کے لیے تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے، جبکہ تاحال کسی بھی کالعدم گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

واضح رہے کہ تحصیل جیوانی ایرانی سرحد کے بالکل قریب واقع ساحلی علاقہ ہے، جہاں ماضی میں بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سرکاری ملازمین پر سنگین بدامنی اور دہشت گردی کے متعدد واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

توانائی کے شعبے میں سنگین معاشی بحران: گیس سیکٹر کا گردشی قرضہ 3 ہزار 600 ارب روپے کی بلندی کو چھو گیا

منصور احمد,September 12,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 12 ستمبر 2026ء

پاکستان کا توانائی کا شعبہ شدید معاشی بحران کی لپیٹ میں آ گیا ہے جہاں گیس سیکٹر کا مجموعی گردشی قرضہ بڑھ کر 3 ہزار 600 ارب روپے کی تاریخی اور سنگین ترین سطح تک جا پہنچا ہے۔

وزارتِ خزانہ کے دستیاب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ۳۶۰۰ ارب روپے کے اس مجموعی گردشی قرضے میں 2 ہزار 100 ارب روپے کی بھاری رقم محض تاخیری ادائیگیوں اور سود (مارک اپ) پر مشتمل ہے، جبکہ اصل قرضہ جات کا حجم 1 ہزار 500 ارب روپے ہے۔

ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ پاکستان کے اہم ورچوئل اقتصادی جائزہ مذاکرات ستمبر کے آخری ہفتے میں طے پا چکے ہیں، جس کے دوران وزارتِ خزانہ اور پیٹرولیم ڈویژن کے حکام گیس سیکٹر کے اس خطیر گردشی قرضے کی مرحلہ وار تسویے (سیٹلمنٹ پلان) کی مکمل خاکہ بندی عالمی مالیاتی ادارے کے سامنے رکھیں گے۔

گیس سیکٹر کے ۳۶۰۰ ارب روپے کے گردشی قرض کو آئندہ 3 برسوں کے دوران تدریجاً ختم کرنے کا حتمی پلان تیار کر لیا گیا ہے۔ مجوزہ خاکہ عمل کے تحت پہلے سال گردشی قرضے کے حجم میں 528 ارب روپے، دوسرے سال 473 ارب روپے جبکہ تیسرے سال 433 ارب روپے کی نمایاں کمی لانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

پلان کی تکنیکی تفصیلا ت کے مطابق سرکاری گیس کمپنیوں کے 840 ارب روپے کے ڈیویڈنڈ کو گردشی قرضے کی رقم کم کرنے کے لیے استعمال میں لایا جائے گا۔ علاوہ ازیں، پیٹرولیم لیوی کی مد سے 270 ارب روپے، جبکہ قطر سے درآمد شدہ ایل این جی کے اضافی کارگوز کی منسوخی و التوا سے 310 ارب روپے بچا کر قرضے کے حجم میں کمی لائی جائے گی۔

پلان میں پاور سیکٹر کے ‘ٹیک اینڈ پے’ میکانزم سے 15 ارب روپے اور ایل این جی کی صارفین سے مکمل لاگت وصولی سے 60 ارب روپے کا گردشی قرضہ صاف کرنے کا ہدف شامل کیا گیا ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ سیٹلمنٹ پلان کے تحت گیس سیکٹر کے بقایاجات پر سالانہ عائد ہونے والے بھاری مارک اپ اور سود کے پیچیدہ معاملے کو بھی مستقل بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔ تاہم، اقتصادی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایل این جی کی مکمل پیداواری و برآمدی لاگت براہِ راست صارفین سے وصول کرنے کے اس منصوبے کے نتیجے میں آنے والے دنوں میں ملک کے اندر گیس کی قیمتوں میں شدید اضافے کا خدشہ ہے۔

دشمن کے خلاف متحد اور سخت ردِعمل کا عزم: ایرانی فوج اور پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ کمانڈروں کا تہران میں اہم اجلاس

محمود احمد, September 12,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 12 ستمبر 2026ء

ایران کی مسلح افواج (آرمی) اور پاسدارانِ انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) کے اعلیٰ ترین اور سینیئر کمانڈروں کا ایک انتہائی اہم اور تزویراتی اجلاس دارالحکومت تہران میں منعقد ہوا، جس میں دونوں اہم ترین عسکری اداروں کے درمیان آپریشنل تعاون، دفاعی اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو مزید نا قابلِ تسخیر بنانے پر زور دیا گیا۔

ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ نے اس اعلیٰ سطحی عسکری ملاقات کو بیرونی دشمنوں کے معاندانہ منصوبوں، علاقائی کشیدگی اور ممکنہ سیکیورٹی خطرات کا مؤثر مقابلہ کرنے کے لیے ایرانی مسلح افواج کے درمیان مضبوط اور لازوال اتحاد کی اعلیٰ ترین علامت قرار دیا ہے۔

بی بی سی فارسی کی رپورٹ کے مطابق پاسدارانِ انقلاب اسلامی کے ممتاز کمانڈر احمد واحدی نے اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران کی حقیقی فوجی طاقت اور دفاعی صلاحیتیں دشمن کے تمام تر تخمینوں اور اندازوں سے کہیں زیادہ بڑھ کر ہیں، اور حالیہ عسکری و کشیدہ صورتحال کے دوران دشمن نے ایران کی بلاجواز تباہ کن صلاحیتوں کا عملی مشاہدہ کر لیا ہے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی فوج کے کمانڈر اِن چیف جنرل امیر حاتمی نے کہا کہ سرزمینِ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی غیر ملکی جارحیت یا مس ایڈونچر کی صورت میں ملکی فوج اور پاسدارانِ انقلاب نے ہمیشہ ایک مشت ہو کر فوری، تیز رفتار، مربوط اور نپا تلا سخت ردِعمل دیا ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ جمہوریہ اسلامی ایران اپنے اعلیٰ قومی مفادات، دفاعی پالیسی اور جغرافیائی حدود پر کسی بھی سطح کا کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

ایرانی عسکری و سیاسی حکام حالیہ مہینوں کے دوران ملکی فوج اور آئی آر جی سی کے درمیان آپریشنل رابطے، ڈرون و میزائل ٹیکنالوجی کی مشترکہ منتقلی اور مربوط دفاعی تیاریوں پر مسلسل اور حکمتِ عملی کے تحت زور دیتے رہے ہیں۔ اس سے قبل ستمبر کے اوائل میں بھی جنرل امیر حاتمی نے مسلح افواج کی آپریشنل تیاریوں اور جنگی صلاحیتوں کو متوقع خطرات کے مطابق اپ گریڈ کرنے پر زور دیا تھا۔

بین الاقوامی دفاعی ماہرین کے مطابق ایران کی باقاعدہ فوج اور پاسدارانِ انقلاب کے درمیان اس اعلیٰ ترین اور قریبی رابطے کو تہران کی جانب سے شدید بیرونی عسکری دباؤ، مغربی پابندیوں اور خطے میں ممکنہ نئے حملوں کے سدِباب کے لیے ایک انتہائی اہم اور منظم دفاعی حکمتِ عملی قرار دیا جا رہا ہے۔

لندن کے تاریخی لیمبتھ پیلس میں بین الاقوامی تقریب؛ ایوارڈ پاکستان اور عالمِ اسلام کی امن و رواداری کی مشترکہ کوششوں کا ثمر ہے: چیئرمین پاکستان علماء کونسل

کاشف عباسی , September 12,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 12 ستمبر 2026ء

پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین اور قومی پیغامِ امن کمیٹی کے مرکزی کوآرڈینیٹر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ لندن کے تاریخی و عالمی مذہبی مرکز لیمبتھ پیلس میں انہیں پیش کیا جانے والا “ہیوبَرٹ والٹر ایوارڈ فار ریکنسیلی ایشن اینڈ انٹرفیتھ کوآپریشن 2026” صرف ان کی ذات تک محدود نہیں بلکہ دنیا بھر میں امن، بین المسالک مفاہمت، بین المذاہب ہم آہنگی اور پائیدار رواداری کے لیے عملی جدوجہد کرنے والے ہر فرد کے لیے ایک عظیم اعزاز ہے۔

پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی کو یہ عالمی ایوارڈ جمعہ کے روز لیمبتھ پیلس لندن میں منعقدہ ایک باوقار تقریب کے دوران آرچ بشپ آف کینٹربری سارہ مُلالی نے باضابطہ پیش کیا۔ یہ ایوارڈ ان کی ملک و بیرونِ ملک امن، مفاہمت، مذہبی اعتدال، اقلیتوں کے قانونی حقوق کے تحفظ اور پُرامن بقائے باہمی کے لیے دہائیوں پر محیط لازوال خدمات کے اعتراف میں دیا گیا۔

اعزاز حاصل کرنے کے بعد عالمی و ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ یہ عالمی کامیابی پاکستان اور پورے عالمِ اسلام کے علماء، مذہبی قیادت اور عام معاشروں کی جانب سے بین المذاہب مکالمے کے فروغ، انتہاپسندی و دہشت گردی کی بیخ کنی اور قیامِ امن کے لیے کی جانے والی انتھک کوششوں کا مثبت اعتراف ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ مسیحی دنیا کے انتہائی اہم اور معتبر مذہبی مرکز لیمبتھ پیلس میں اس اعلیٰ اعزاز کا ملنا پاکستان کی مذہبی قیادت کے بین المذاہب رواداری پر مبنی بیانیے کی عالمی قبولیت کا ثبوت ہے۔ طاہر اشرفی نے زور دیا کہ اس ایوارڈ کو انتہاپسندی، دہشت گردی اور فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف پاکستانی علماء کی وسیع تر اور اجتماعی جدوجہد کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے، جہاں تمام مکاتبِ فکر کے علماء اکٹھے ہو کر کام کر رہے ہیں۔

اقلیتوں کے حقوق کی فراہمی اور تحفظ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قومی پیغامِ امن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے تمام مذاہب کے رہنماؤں کو ساتھ ملا کر امن کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم، جہاں بھی کوئی بھی برادری اقلیت میں آباد ہو، اس کے خلاف کسی بھی قسم کی ناانصافی يا تشدد اسلام اور آئینِ پاکستان کے تحت مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے۔

طاہر اشرفی نے عالمی صورتحال بالخصوص فلسطین اور کشمیر کے مظلوم عوام کی سنگین مشکلات کا تذکرہ کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ تنازعات میں گھِرے مظلوموں کو فراموش نہ کرے اور فلسطین میں انسانی حقوق کے تحفظ کو ترجیح دے۔ انہوں نے یہ ایوارڈ امن و رواداری کے لیے قربانیاں دینے والے تمام شہداء، غازیوں، علماء، دانشوروں اور عام شہریوں کے نام معنون کیا۔

واضح رہے کہ ‘ہیوبَرٹ والٹر ایوارڈ’ عالمی لیمبتھ ایوارڈز کی ایک تاریخی کیٹیگری ہے، جس کے ذریعے مختلف عالمی مذاہب کے درمیان مفاہمت، ہم آہنگی اور تعمیری تعاون کے لیے نمایاں کردار ادا کرنے والی دنیا بھر کی برجستہ شخصیات کا باقاعدہ اعتراف کیا جاتا ہے۔

ایران کا معائنہ کاروں کی سلامتی کے تحفظ سے انکار: جوہری ادارے کے سربراہ محمد اسلامی آئی اے ای اے جنرل کانفرنس کے لیے ویانا روانہ

محمود احمد, September 12,2026

ویانا (نیوز اینڈ نیوز) — 12 ستمبر 2026ء

ایران کے جوہری توانائی کے ادارے کے سربراہ محمد اسلامی بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی 70ویں جنرل کانفرنس میں ایران کی نمائندگی کے لیے اہم اور انتہائی تزویراتی دورے پر آسٹریا کے دارالحکومت ویانا روانہ ہو گئے ہیں۔

ایرانی جوہری ادارے کے سربراہ محمد اسلامی کا یہ ویانا کا دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب گزشتہ ہفتے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کی مبینہ “عدم تعمیل” اور ایرانی عدم تعاون کی پاداش میں ایران کا دوسیہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیجنے کی تاریخی اور سخت قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کی تھی۔

بین الاقوامی سفارتی ذرائع کے مطابق یہ سخت ترین بین الاقوامی قرارداد مغربی طاقتوں یعنی امریکہ، فرانس، برطانیہ اور جرمنی کی جانب سے مشترکہ طور پر پیش کی گئی تھی، جس پر تفصیلی بحث کے بعد بورڈ آف گورنرز کے کل 35 رکن ممالک میں سے 23 نے واضح طور پر قرارداد کی حمایت میں ووٹ دیا تھا، جبکہ دیگر ارکان نے مخالفت يا ووٹنگ میں حصہ نہ لینے کا راستہ اختیار کیا تھا۔

اقوام متحدہ میں معاملے کے اٹھائے جانے اور بڑھتی ہوئی عالمی کشیدگی کے جواب میں ایران کی جانب سے باضابطہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ خطے میں جاری جنگی صورتحال اور اس کی قومی جوہری تنصیبات پر متوقع حملوں اور خطرات کے پیشِ نظر بین الاقوامی ایجنسی کے معائنہ کاروں کی سلامتی اور تحفظ کی حتمی ضمانت دینا اب مزید ممکن نہیں رہا ہے۔

محمد اسلامی کا ویانا میں آئی اے ای اے کی جنرل کانفرنس کے موقع پر عالمی حکام اور ڈائریکٹر جنرل سے ملاقاتوں کا امکان ہے، جہاں وہ ایران کی جوہری پالیسی، سلامتی کے خدشات اور مغربی ممالک کے اقدامات پر تہران کے شدید تحفظات اور موقف کو پیش کریں گے۔

سعودی عرب کی تیل پائپ لائن پر ڈرون حملے کا اثر: عراق نے ایران سے متصل شلمچہ اور چذابہ سرحدی گزرگاہیں ناگہانی طور پر بند کر دیں

محمود احمد, September 12,2026

اہواز (نیوز اینڈ نیوز) — 12 ستمبر 2026ء

ایران اور عراق کے سرحدی امور میں اچانک اور شدید بحران اس وقت پیدا ہو گیا جب عراقی حکام نے احتیاطی و سیکیورٹی اقدامات کے تحت ایرانی صوبے خوزستان سے متصل دو اہم ترین تجارتی و مسافر سرحدی گزرگاہوں—شلمچہ اور چذابہ—کو فوری طور پر مکمل بند کرنے کا حکم دے دیا۔

ایران کے صوبہ خوزستان کے گورنر کے سیکیورٹی امور کے نائب ولی اللہ حیاتی نے شلمچہ اور چذابہ کی سرحدی گزرگاہوں کی اچانک بندش کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ عراقی حکام کی جانب سے موصول ہونے والے احکامات کے بعد دونوں اہم تجارتی و سرحدی ٹرمینلز سے ہر قسم کی رفت و آمد روک دی گئی ہے۔

نائب گورنر ولی اللہ حیاتی کا کہنا تھا کہ عراقی حکام کے اعلان کے مطابق صوبہ خوزستان میں واقع شلمچہ اور چذابہ کی بین الاقوامی سرحدیں اگلی کسی واضح ہدایات تک مکمل بند رہیں گی۔ اس فیصلے کے نتیجے میں فی الحال ان اہم گزرگاہوں کے ذریعے نہ تو تجارتی سامان کی برآمد و درآمد ہو رہی ہے اور نہ ہی زائرین یا عام مسافروں کو سرحد پار کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

خوزستان کی صوبائی انتظامیہ اور گورنر سیکیورٹی امور نے تمام مقامی تاجروں، ٹرانسپورٹ ڈرائیوروں، اور عام مسافروں سے شدید تاکید کے ساتھ اپیل کی ہے کہ وہ ناخوشگوار حالات اور پریشانی سے بچنے کے لیے اگلے احکامات تک ان دونوں سرحدی ٹرمینلز کا رخ کرنے سے مکمل طور پر گریز کریں۔

دوسری جانب مہرآن سرحد سے متعلق صورتحال کو واضح کرتے ہوئے مہرآن کے مقامی گورنر نے بتایا کہ ایلام کے علاقے میں واقع مہرآن سرحدی گزرگاہ مکمل طور پر کھلی ہے اور وہاں سے مسافروں اور تجارتی گاڑیوں کی معمول کے مطابق آمد و رفت جاری ہے۔

عراقی ذرائع ابلاغ اور سیکیورٹی رپورٹس کے مطابق عراق کی جانب سے ان اہم بین الاقوامی سرحدوں کو بند کرنے کا ہنگامی فیصلہ سعودی عرب کی تزویراتی مشرق-مغرب خام تیل کی پائپ لائن پر عراقی سرزمین کے اندر سے کیے جانے والے مبینہ ڈرون حملے کے فوراً بعد احتیاطی سیکیورٹی حکمتِ عملی کے طور پر سامنے آیا ہے۔

واضح رہے کہ شلمچہ اور چذابہ کی دونوں سرحدی گزرگاہیں ایرانی صوبے خوزستان اور جنوبی عراق کے درمیان نہ صرف اربوں ڈالر کی سالانہ دوطرفہ تجارت کا سب سے بڑا راستہ ہیں بلکہ یہ مذہبی سیاحت اور زائرین کی سفر کے لیے بھی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔

یمن میں حوثیوں کا سب سے بڑا عسکری و بحری کنٹرول: بحیرۂ احمر کی تقریباً پوری ساحلی پٹی پر قبضے کا دعویٰ

محمود احمد, September 11,2026

صنعاء (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

یمن میں شدید اور خونی عسکری پیش قدمی کے دوران ایران کی حمایت یافتہ حوثی تحریک نے یمن کے بحیرۂ احمر سے متصل تقریباً تمام تر مغربی ساحلی خطے اور اس سے ملحقہ اہم جزائر پر مکمل عسکری کنٹرول حاصل کرنے کا باضابطہ دعویٰ کر دیا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے ایک سینئر فوجی عہدیدار نے عالمی خبر رساں ادارے فرانس پریس (اے ایف پی) سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ یمن کے مغربی ساحل پر قائم حکومت کے تمام آخری مضبوط عسکری مراکز اب حوثیوں کے قبضے میں جا چکے ہیں۔ یمنی فوجی اہلکار نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ مغربی ساحل کے جس خطے پر بھی اب تک حکومتی فورسز اور اتحادیوں کی عملداری تھی، وہ اب مکمل طور پر ہاتھ سے نکل چکی ہے۔

فوجی ذرائع کے مطابق بحیرۂ احمر میں ساحلی علاقوں کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد حوثی جنگجوؤں نے پیش قدمی جاری رکھتے ہوئے عالمی جہاز رانی کے لیے انتہائی حساس اور تزویراتی آبنائے باب المندب کے قریبی سمندر میں واقع مزید دو اہم جزائر پر بھی اپنا عسکری قبضہ جما لیا ہے۔

یہ تشویشناک عسکری پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی خبر رساں اداروں رائٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس نے 11 ستمبر کو تصدیق کی تھی کہ حوثی عسکریت پسندوں نے باب المندب کے عین وسط میں واقع تاریخی پیریم (میون) جزیرے پر کامل تصرف حاصل کر لیا ہے۔

اس تاریخ ساز پیش قدمی سے قبل حوثی عسکری ڈویژنز نے بحیرۂ احمر کی اہم بندرگاہ اور ساحلی شہر موچا (المخا) پر مکمل قبضہ کیا تھا اور وہاں سے جنوب کی سمت برق رفتار پیش قدمی کرتے ہوئے باب المندب کے دہانے پر واقع اہم علاقے دھباب (ذباب) پر قبضہ جمایا تھا۔

واضح رہے کہ آبنائے باب المندب بحیرۂ احمر کو خلیج عدن اور بحرِ ہند سے جوڑنے والی دنیا کی سب سے مصروف اور حساس ترین سمندری شاہراہ ہے، جو عالمی تجارت اور مشرقِ وسطیٰ سے خام تیل اور توانائی کی بین الاقوامی ترسیل کے لیے اہم ترین شمار کی جاتی ہے۔ اس شاہراہ کے بالکل وسط میں واقع پیریم (میون) جزیرہ پورے خطے کا عسکری توازن برقرار رکھنے میں مرکزی اہمیت کا حامل ہے۔

دفاعی و بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حوثی فورسز اس طویل ساحلی پٹی اور آبنائے باب المندب کے گرد و پیش میں اپنا عسکری تسلط برقرار رکھنے اور دفاعی مورچے قائم کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں تو اس سے نہ صرف بین الاقوامی بحری جہاز رانی مفلوج ہو سکتی ہے بلکہ عالمی منڈیوں میں تیل کی ترسیل پر دباؤ اور بحری تحفظ کا بحران مزید شدید ہو جائے گا۔

نئی دہلی میں برکس سربراہی اجلاس کے حاشیے پر اہم ملاقات: ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی گفتگو

محمود احمد, September 11,2026

نئی دہلی (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں موجود ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ایک اہم اور اعلیٰ سطحی دوطرفہ ملاقات کی ہے، جس میں دونوں اہم ایشیائی ممالک کے درمیان کثیر الجہتی تعاون کے فروغ اور اسٹریٹجک معاہدوں پر عمل درآمد جاری رکھنے کے عزم کا دہرایا گیا۔

ایرانی سرکاری میڈیا اور سفارتی ذرائع کی رپورٹ کے مطابق جمعہ کے روز منعقد ہونے والی اس معتبر ملاقات میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایران اور بھارت کے تاریخی اور تجارتی روابط کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی طے پانے والے اسٹریٹجک معاہدوں، بالخصوص چابہار بندرگاہ اور مواصلاتی راہداریوں کی ترقی کے منصوبوں پر پیش رفت اور پیشرفت کو مسلسل برقرار رکھنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

یہ اہم ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب نئی دہلی میں برکس کا سالانہ سربراہی اجلاس مکمل شدومد اور عالمی برادری کی توجہ کے ساتھ جاری ہے۔ اس عالمی سربراہی اجلاس میں روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور چین کے صدر شی جن پنگ سمیت دنیا کے دیگر تمام اہم برکس رکن ممالک کے سربراہانِ مملکت اور حکومتی نمائندے بھرپور شرکت کر رہے ہیں۔

اس دوطرفہ ملاقات سے قبل برکس کے مرکزی اقتصادی سربراہی اجلاس سے اپنے جامع خطاب کے دوران ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے رکن ممالک کے درمیان بینکنگ، مالیاتی اور تجارتی شعبوں میں تزویراتی تعاون کو مزید مضبوط، باہمی اور موثر بنانے پر خاص زور دیا تھا۔

ایرانی صدر نے امریکہ کی جانب سے عائد کی جانے والی یکطرفہ اقتصادی پابندیوں اور مالیاتی دباؤ کے بڑھتے ہوئے عالمی رجحان کا واضح حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اقتصادی و مالیاتی ناکہ بندی اور تجارتی ہتھکنڈوں کے سیاسی استعمال سے آزاد اور خودمختار ممالک کے درمیان جائز بین الاقوامی تجارت کو سنگین نوعیت کے خطرات لاحق ہو رہے ہیں، جن کا مقابلہ صرف اور صرف برکس کے موثر معاشی اشتراک سے ہی ممکن ہے۔

برکس ممالک قومی کرنسیوں میں تجارت کو وسعت دیں اور آزاد مالیاتی نظام قائم کریں: ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا بڑا مطالبہ

محمود احمد, September 11,2026

نئی دہلی (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ابھرتی ہوئی معاشی طاقتوں کی عالمی تنظیم برکس کے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ باہمی تجارت کے فروغ کے لیے قومی کرنسیوں کے استعمال کو زیادہ سے زیادہ وسعت دیں اور عالمی مالیاتی دباؤ سے بچنے کے لیے آزاد و موثر بین الاقوامی مالیاتی و ادائیگیاں کا نظام ہنگامی بنیادوں پر تشکیل دیں۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان برکس کے سالانہ سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی پہنچے ہیں۔ برکس بزنس فورم کا اہم اور کثیر الجہتی اجلاس 11 ستمبر کو نئی دہلی میں منعقد ہو رہا ہے، جبکہ مرکزی برکس سربراہی اجلاس 12 اور 13 ستمبر کو منعقد ہوگا۔

برکس بزنس فورم کے اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا کہ رکن ممالک کے درمیان تجارتی لین دین میں اپنی اپنی قومی کرنسیوں کے استعمال کو مستحکم کرنا دورِ حاضر کا اہم ترین اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ہدف کے حصول کے لیے باہمی ادائیگیوں کے ایسے جدید مالیاتی اور بینکنگ کے ذرائع تشکیل دینا ناگزیر ہیں جو رکن ممالک کے درمیان معاشی و تجارتی تعاون کو کسی بھی بیرونی دباؤ کے بغیر مضبوط بنا سکیں۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے عالمی مالیاتی ڈھانچے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی اقتصادی نظام محدود تعداد میں طاقتور کرنسیوں پر حد سے زیادہ انحصار کرتا ہے، جس کی وجہ سے یہ سیاسی دباؤ، تحکم اور یکطرفہ اقتصادی پابندیوں کے مقابلے میں شدید غیر محفوظ اور کمزور ثابت ہوتا ہے۔

مسعود پزشکیان نے اپنی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ برکس ممالک کے درمیان تجارتی تعاون کو پائیدار اور حقیقی اقتصادی سرمایہ کاری میں تبدیل کرنے کے لیے تنظیم کے نیو ڈیولپمنٹ بینک کو مرکزی کردار ادا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ بینک تمام رکن ممالک میں بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) اور توانائی کے اہم منصوبوں کے لیے مالی معاونت فراہم کرے۔

انہوں نے بینکنگ نظام کو درپیش چیلنجز سے نکالنے کے لیے مخصوص کریڈٹ لائنز کے قیام، مقامی اور قومی کرنسیوں میں فنانسنگ کے فروغ اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے مناسب اور قابلِ اعتماد ضمانتی نظام فراہم کرنے کی تجاویز پیش کیں۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا یہ موقف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تمام برکس ممالک باہمی تجارت، سرحد پار سے ہونے والی ادائیگیوں کے تحفظ اور عالمی مالیاتی اداروں میں دور رس اصلاحات کے لیے مربوط تعاون بڑھا رہے ہیں۔ اس حوالے سے برکس کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنروں نے بھی اپنے حالیہ اجلاس میں سرحد پار ادائیگیوں کے نظام کو وقت کے تقاضوں کے مطابق مزید موثر، کم لاگت، شفاف اور محفوظ بنانے کی ضرورت پر کامل اتفاق کیا ہے۔

عازمین حج کو غیر مجاز کمپنیوں کو رقم نہ دینے کی ہدایت؛ تمام ادائیگیاں صرف آفیشل پورٹل اور پاک حج ایپ کے ذریعے کرنے کی سخت تاکید

منصور احمد,September 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

وفاقی وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی نے آئندہ حج سیزن کے لیے پرائیویٹ حج سکیم کے تحت فریضہ حج ادا کرنے کے خواہش مند شہریوں کو شدید فراڈ اور گمراہ کن مہم سے بچانے کے لیے ایک اہم انتباہی اعلامیہ جاری کیا ہے۔

جمعہ کو وزارت مذہبی امور کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ (بی ایم ایچ 786) نامی ادارہ بالکل بھی رجسٹرڈ یا لائسنس یافتہ حج آرگنائزر (منظم) نہیں ہے، اور نہ ہی حکومتِ پاکستان کی طرف سے پرائیویٹ حج سکیم کے تحت اس ادارے کو کوئی حج کوٹہ الاٹ کیا گیا ہے۔

وزارت نے عام عازمینِ حج کو سخت خبردار کیا ہے کہ وہ حج انتظامات، بکنگ یا کوٹے کے نام پر اس نام نہاد ادارے یا کسی بھی دیگر غیر لائسنس یافتہ فرد، ایجنٹ یا کمپنی کو کسی قسم کی ادائیگی یا رقم کی لین دین ہرگز نہ کریں۔ حکام نے وضاحت کی کہ موجودہ حج سیزن کے لیے منظور شدہ اور تمام مجاز لائسنس یافتہ منظمین کی درست اور تازہ ترین فہرست وزارت کے سرکاری حج مینجمنٹ سسٹم کی ویب سائٹ اور “پاک حج” موبائل ایپلیکیشن پر ہر وقت دستیاب ہے۔

اعلامیے میں اس بات پر بھی شدید زور دیا گیا ہے کہ پرائیویٹ حج سکیم کے تحت تمام تر مالی ادائیگیاں — قطع نظر اس کے کہ وہ کسی تصدیق شدہ لائسنس یافتہ منظم کے ساتھ ہی کیوں نہ کی جا رہی ہوں — صرف اور صرف سرکاری ‘حج مینجمنٹ سسٹم’ یا ‘پاک حج ایپ’ کے ڈیجیٹل پورٹل کے ذریعے ہی انجام دی جائیں۔

وزارت نے خبردار کیا ہے کہ نقد رقم (کیش) کی صورت میں یا کسی فرد یا کمپنی کے ذاتی و نجی بینک اکاؤنٹ میں براہِ راست رقم منتقل کرنے کی صورت میں عازمِ حج تمام تر معاشی و قانونی نقصانات کا خود ذمہ دار ہوگا، اور ایسی صورت میں وزارتِ مذہبی امور کی جانب سے فراہم کردہ تحفظ، کسٹمر سپورٹ اور داد رسی کے قانونی طریقہ کار سے استفادہ حاصل کرنا ممکن نہیں رہے گا۔

عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیاں اور تعلیمی بحران: سال 2025 میں 171 ملین طلباء کی سکولنگ متاثر، یونیسف کی ہنگامی رپورٹ جاری

روزینہ اسماعیل, September 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسف) کی جانب سے جاری کی گئی ایک اہم اور عالمی تجزیاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ سال 2025ء کے دوران بین الاقوامی سطح پر 171 ملین (17 کروڑ 10 لاکھ) سے زائد طلباء کی پری پرائمری سے لے کر اعلیٰ ثانوی سطح تک کی تعلیم شدید موسمیاتی خطرات اور آفتوں کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے، جو دنیا بھر کے کل طلباء کی تعداد کے لحاظ سے ہر 10 میں سے ایک طالب علم بنتا ہے۔

یونیسف نے 106 ممالک اور خطوں کے تفصیلی اعداد و شمار کا احاطہ کرتے ہوئے بتایا کہ شدید طوفانوں، تباہ کن سیلابوں، غير معمولی ہیٹ ویوز، خشک سالی اور جنگلاتی آگ کی وجہ سے ہزاروں تعلیمی اداروں میں کلاسیں معطل ہوئیں، سکولوں کا بنیادی انفراسٹرکچر تباہ ہوا یا تعلیمی دورانیے کو مجبورا مختصر کرنا پڑا۔ یونیسف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے کہا کہ موسمیاتی بحران لاکھوں بچوں کے سیکھنے کے عمل کو معطل کرنے کے ساتھ ساتھ غریب خاندانوں کو تباہ کر رہا ہے اور خصوصاً لڑکیوں کو تعلیمی دھارے سے باہر دھکیل رہا ہے۔

رپورٹ کی تفصیلا ت کے مطابق گزشتہ سال کے دوران سکولوں کی بندش کا سب سے بڑا سبب شدید سمندری و میدانی طوفان بنے جس سے عالمی سطح پر 109 ملین طلباء متاثر ہوئے۔ اس کے بعد سیلاب سے کم از کم 70 ملین بچوں کی تعلیم رک گئی جبکہ شدید گرمی کی لہروں (ہیٹ ویوز) نے تقریباً 50 ملین بچوں کی سکولنگ پر منفی اثرات مرتب کیے۔ متاثرہ بچوں میں سے تین چوتھائی کا تعلق غریب اور درمیانی آمدنی والے ممالک سے ہے جن کے پاس موسمیاتی آفتوں سے بچاؤ کے تزویراتی وسائل کا فقدان ہے۔

یونیسف نے اپنی رپورٹ میں پاکستان کو موسمیاتی خطرات سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق اگست 2025ء کے دوران پاکستان میں آنے والے مون سون کے شدید سیلاب اور طغیانی کی وجہ سے 28 ملین (2 کروڑ 80 لاکھ) سے زیادہ بچوں کی سکولوں کو واپسی اور پڑھائی میں تاخیر ہوئی، جو سال 2025ء کے دوران عالمی سطح پر ریکارڈ کی گئی سب سے بڑی تعلیمی رکاوٹوں میں شمار کی گئی۔ دوسری طرف مصر میں خمسین طوفان نے ایک ہی دن میں 2 ملین طلباء کی کلاسیں معطل کیں جبکہ سپین کی ویلنسیئن کمیونٹی میں طوفانوں نے 5 لاکھ بچوں کو متاثر کیا۔

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ کلاس رومز سے غیر حاضری اور سکول چھوڑنے (ڈراپ اؤٹ) کی بڑھتی شرح سے ممالک کی معاشی نمو سست پڑ جائے گی۔ یونیسف کے تخمینے کے مطابق 2025ء میں تعلیم میں پڑنے والے اس تعلیمی حرج کی وجہ سے متاثرہ بچوں کی آئندہ زندگی بھر کی مجموعی کمائی میں کم از کم 200 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہو سکتا ہے۔ مزید برآں، ہنگامی حالات میں لڑکیوں پر گھریلو کام اور پانی لانے کا بوجھ بڑھنے سے ان کی کم عمری کی شادی اور تعلیمی سلسلے سے ہمیشہ کے لیے محرومی کا خطرہ بھی نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔

یونیسف نے اس عالمی مسئلے کے حل کے لیے حکومتوں کو تجویز دی ہے کہ وہ تعلیمی پالیسیوں میں موسمیاتی لچک کو شامل کریں، سکولوں کو قدرتی آفات سے محفوظ بنیادوں پر تعمیر کریں، اور نصاب میں کلائمیٹ ایجوکیشن کو لازمی جزو بنائیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے نے تمام عالمی ممالک سے ہنگامی بنیادوں پر تعلیمی انفراسٹرکچر کے لیے عالمی اور ملکی مالی معاونت میں فوری اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔

موسمیاتی چیلنجز اور ذمہ دارانہ صحافت: پاکستان ریڈ کریسنٹ اور جرمن ریڈ کراس کے تعاون سے دو روزہ نیشنل کلائمیٹ جرنلزم ٹریننگ ورکشاپ اختتام پذیر

کاشف عباسی , September 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی (ہلال احمر پاکستان) کے کلائمیٹ چینج ایڈاپٹیشن اور میڈیا اینڈ کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹس کے زیر اہتمام جرمن ریڈ کراس کے خصوصی تعاون سے منعقدہ دو روزہ نیشنل کلائمیٹ جرنلزم ٹریننگ ورکشاپ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئی ہے۔

اس دو روزہ قومی تربیتی ورکشاپ میں گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر، پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر کے موسمیاتی خطرپذیری کا شکار اضلاع سے تعلق رکھنے والے 30 سے زائد نمائندہ صحافیوں اور فیلڈ رپورٹرز نے متحرک شرکت کی۔

ورکشاپ کے ابتدائی سیشنز میں پاکستان ریڈ کریسنٹ کے نمائندگان سجاد علی کندھیر اور مرتضیٰ تالپور نے تربیتی مقاصد پر بریفنگ دی، جبکہ جرمن ریڈ کراس کے آصف امان اور پروگرام کوآرڈینیٹر غلام رسول فاروقی نے شرکاء کو خوش آمدید کہتے ہوئے ماحول اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق ذمہ دارانہ اور اثر انگیز صحافت کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ مزید برآں، ادارے کے ہیڈ آف میڈیا اینڈ کمیونیکیشن شیر زمان نے ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ موومنٹ کی تاریخ، مینڈیٹ اور بالخصوص پاکستان میں جاری انسانی خدمات پر تفصیلی پریزنٹیشن دی، جس میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر ریحان علی نے معاونت فراہم کی۔

تربیتی نشستوں کے دوران ماحول اور موسمیاتی امور کی ماہر صحافی انیبہ وقار نے موسمیاتی سائنس، سٹوری ڈویلپمنٹ، کلائمیٹ پالیسی اور تحریری مشقوں پر خصوصی سیشنز کا انعقاد کیا، جبکہ براڈکاسٹ جرنلسٹ عبدالرزاق کھٹی نے جدید موبائل جرنلزم (MoJo) کے تکنیکی پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ ورکشاپ میں کلائمیٹ ڈیٹا جرنلزم، روزمرہ کی خبروں کے موسمیاتی زاویے اور انسانی مرکز کہانیوں کی تشکیل پر عملی کام کروایا گیا اور صحافیوں کو ماہرین سے براہِ راست فیڈ بیک فراہم کیا گیا۔

اس موقع پر چیئرپرسن ہلال احمر پاکستان فرزانہ نائیک نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ موسمیاتی اقدامات کی شروعات ایسے پائیدار حل سے ہونی چاہیے جو مقامی آبادیوں کی حقیقی ضروریات سے مطابقت رکھتے ہوں۔ انہوں نے صحافیوں کی کارکردگی اور Capacity Building کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ میڈیا نمائندگان متاثرہ کمیونٹیز کی آواز اعلیٰ ایوانوں تک پہنچانے کا اہم ترین ذریعہ ہیں۔

سیکرٹری جنرل ہلال احمر پاکستان محمد عبیداللہ خان نے اختتامی گفتگو میں کہا کہ موسمیاتی تبدیلیاں ملک بھر میں عام شہریوں کے روزگار، صحت اور انسانی زندگیوں کو شدید متاثر کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے درست اور حقائق پر مبنی کلائمیٹ رپورٹنگ کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صحافیوں کی استعداد کار میں اضافے سے پالیسی سازوں اور متاثرہ عوام کے درمیان مضبوط رابطہ قائم کرنے میں مدد ملے گی۔

یمنی حکومتی فورسز کے اچانک انخلا کے بعد اہم بحری گزرگاہ کا کنٹرول حوثیوں کے ہاتھ میں چلے جانے کی اطلاعات؛ المخا ایئرپورٹ پر سعودی بمباری

محمود احمد, September 11,2026

صنعاء (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

یمن میں جاری خونی عسکری پیش قدمی کے دوران ایران کے حمایت یافتہ حوثی عسکریت پسندوں نے عالمی تجارت اور سعودی عرب کی خام تیل کی برآمدات کے لیے انتہائی تزویراتی (اسٹریٹجک) اہمیت کے حامل باب المندب کے دہانے پر واقع اہم جزیرے “میون” پر باقاعدہ قبضہ کر لیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز نے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرکاری فورسز کے اعلیٰ ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ یمنی حکومتی اور اتحادی فورسز شدید عسکری دباؤ کے بعد جزیرہ میون سے مکمل طور پر پیچھے ہٹ گئی ہیں، جس کے فوراً بعد حوثی جنگجوؤں نے جزیرے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

جغرافیائی و عسکری لحاظ سے انتہائی حساس جزیرہ میون، جسے بین الاقوامی سطح پر اکثر “باب المندب جزیرہ” بھی کہا جاتا ہے، اس بین الاقوامی آبی گزرگاہ کے بالکل وسط میں واقع ہے۔ یہ جزیرہ باب المندب کی چوڑائی کو دو اہم بین الاقوامی بحری راستوں میں تقسیم کرتا ہے، جس کے باعث یہاں سے گزرنے والے ہر تجارتی و تلی ٹینکر پر براہِ راست نظر رکھی جا سکتی ہے۔

اس اہم پیش رفت سے قبل موصول ہونے والی معتبر اطلاعات کے مطابق یمن کے ساحلی شہر “ذباب” پر بھی حوثی عسکریت پسند پہلے ہی کامل کنٹرول حاصل کر چکے ہیں۔ ان دونوں اہم علاقوں پر قبضے کے بعد اب باب المندب کی اس نایاب اور اہم آبی گزرگاہ کے بیشتر اور اہم حصوں پر حوثیوں کا کنٹرول تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جو نہ صرف عالمی بحری تجارت بلکہ بالخصوص برادر ملک سعودی عرب کی خام تیل کی برآمدات کے لیے سب سے اہم تجارتی راستہ شمار کیا جاتا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے گزشتہ ہفتے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومتی فورسز اور سعودی اتحادی افواج کے خلاف متعدد محاذوں پر ایک ہی وقت میں بڑے پیمانے پر حتمی عسکری کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔

دوسری جانب حوثی گروپ سے وابستہ سرکاری ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ حوثی پیش قدمی کو روکنے کے لیے سعودی عرب کی فضائیہ نے یمن کے مختلف اضلاع میں درجنوں شدید بمبار حملے کیے ہیں، جن کے دوران المخا شہر میں واقع ہوائی اڈے (المخا ایئرپورٹ) کو دو مرتبہ شدید بمباری کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ واضح رہے کہ المخا کی اہم اور تاریخی بندرگاہ بھی حالیہ دنوں میں ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں حوثیوں کے کنٹرول میں جا چکی ہے۔