سابق وزیراعظم عمران خان کے صاحبزادوں قاسم اور سلیمان خان کی آن لائن پریس کانفرنس: والد سے رابطے پر پابندی اور صحت پر شدید تشویش کا اظہار

کاشف عباسی , August 25,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے صاحبزادے سلیمان خان اور قاسم خان نے ایک بین الاقوامی آن لائن نیوز کانفرنس کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ اُنھیں اپنے والد سے ملے ہوئے کئی برس بیت چکے ہیں جبکہ گذشتہ چھ ماہ سے اُن کی فون پر بھی کوئی بات نہیں کروائی گئی۔ آن لائن نیوز کانفرنس کے دوران عمران خان کے دونوں صاحبزادوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے والد اس وقت جن کٹھن اور سخت حالات سے گزر رہے ہیں وہ بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ سلیمان خان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے واضح احکامات جاری کیے جا چکے ہیں کہ عمران خان کی ان کے بچوں سے ٹیلی فون پر بات کروائی جائے لیکن اس کے باوجود حکام نے تاحال ان کے اس بنیادی حق کی اجازت نہیں دی اور مسلسل لعل و گوہر سے کام لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستانی حکام انہیں اپنے والد سے ملنے کے لیے ویزے جاری کرنے سے بھی مسلسل گریز کر رہے ہیں۔ نیوز کانفرنس کے دوران قاسم خان کا کہنا تھا کہ ان کے والد بے حد مضبوط اعصاب کے مالک شخص ہیں لیکن 73 سال کی عمر میں ان کے ساتھ جیل میں جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے اس کے ان کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ قاسم خان نے مزید بتایا کہ ان کے والد گزشتہ تین برسوں سے عملاً قیدِ تنہائی کا سامنا کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کے سیاسی موقف اور نظریے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ یاد رہے کہ عمران خان کے بیٹوں کی جانب سے یہ ہنگامی پریس کانفرنس ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سابق وزیرِ اعظم کو 20 اگست کی شب راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے پمز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں ان کے طبی معائنے کے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔ اس سے قبل سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ سابق وزیرِ اعظم کو علاج کے لیے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے لیکن حکومت نے سکیورٹی خدشات کا عذر پیش کرتے ہوئے انہیں پمز منتقل کیا تھا اور یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ معائنے کے بعد وہ بالکل صحت مند پائے گئے ہیں۔ تاہم پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے اس عمل کو عدالتی حکم کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے توہینِ عدالت کی درخواست دائر کر دی گئی ہے جبکہ دوسری جانب حکومت نے بھی سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر نظرثانی درخواست جمع کروائی ہوئی ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سٹریٹجک اقتصادی شراکت داری کا نیا دور، وزیراعظم شہباز شریف سے اعلیٰ سطح کے سعودی کاروباری وفد کی اہم ملاقات

کاشف عباسی , August 25,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کے اہم اور ترجیحی شعبوں میں سعودی عرب کی جانب سے بڑی سرمایہ کاری کی گہری دلچسپی کا پرجوش اور گرمجوش خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں برادر ممالک کے درمیان حکومت سے حکومت اور کاروبار سے کاروبار کے شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے اور وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کے لیے یہ بہترین، موزوں اور تاریخ کا سب سے مناسب وقت ہے۔ اسلام آباد میں وزیراعظم ہاؤس میں سعودی پاک مشترکہ بزنس کونسل کے چیئرمین شہزادہ منصور بن محمد آل سعود کی قیادت میں آنے والے اعلیٰ سطح کے سعودی کاروباری اور تجارتی وفد سے تفصیلی اور اہم ملاقات کے دوران وزیراعظم محمد شہباز شریف نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے اپنے دلی احترام، عقیدت اور نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دہائیوں پر محیط دیرینہ، دینی اور تاریخی برادرانہ تعلقات قائم ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ ان تعلقات کو باہمی مفادات پر مبنی ایک پائیدار اور مضبوط سٹریٹجک اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کیا جائے تاکہ دونوں ممالک کی معیشت کو استحکام اور پائیدار ترقی حاصل ہو سکے۔

ملاقات کے دوران سعودی وفد کے سربراہ شہزادہ منصور بن محمد آل سعود نے پاکستان کے مختلف اہم اقتصادی اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں جن میں زراعت، بندرگاہوں کی جدید کاری، شاہراہوں کی تعمیر و توسیع، بین الاقوامی ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ، رئیل اسٹیٹ، جدید توانائی کے منصوبوں، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی بہتری اور انفارمیشن ٹیکنالوجی شامل ہیں، میں بڑی سرمایہ کاری اور تجارتی شراکت داری قائم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد کے وژن 2030 کی بھرپور تعریف کرتے ہوئے اور شہزادہ منصور بن محمد آل سعود کے سابقہ دوروں کا حوالہ دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کا موجودہ دورہ گزشتہ بات چیت اور دوطرفہ مذاکرات کو آگے بڑھانے میں انتہائی مددگار ثابت ہو گا اور مختلف شعبوں میں اربوں ڈالر مالیت کے تجارتی معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر پیش رفت کی راہ ہموار کرے گا۔ انہوں نے سعودی وفد کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے ہر ممکن سہولیات، شفاف ماحول اور حکومتی سطح پر کامل تعاون فراہم کرنے کا یقین دلایا۔

اس موقع پر شہزادہ منصور بن محمد آل سعود نے پاکستانی قیادت اور حکومت کے پرتپاک استقبال پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سعودی حکومت اور وہاں کی تجارتی برادری پاکستان کے نجی اور سرکاری شعبے کے ساتھ تجارتی و کاروباری روابط کو مزید گہرا اور مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ وفد اپنے دورۂ پاکستان کے دوران مختلف وزراء، اعلیٰ حکومتی نمائندوں اور نجی شعبے کے اہم سٹیک ہولڈرز سے بھی تفصیلی ملاقاتیں کرے گا تاکہ آئندہ کے منصوبوں کو حتمی شکل دی جا سکے۔ اس اعلیٰ سطح اور اہم ملاقات میں وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، ڈاکٹر مصدق ملک، جام کمال خان، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، جنید انوار چوہدری، علی پرویز ملک، سردار اویس احمد خان لغاری، محمد حنیف عباسی، وزیراعظم کے مشیران محمد علی، ہارون اختر خان، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی طارق فاطمی اور دیگر سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔

بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی التواء اور پانی کا بطور ہتھیار استعمال پاکستان کے لیے نیا سیکیورٹی چیلنج: وفاقی وزیر احسن اقبال

محمود احمد, August 25,2026

نیویارک/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ بھارت نے یکطرفہ طور پر تاریخی سندھ طاس معاہدے کو التواء میں رکھ کر جدید تاریخ میں پہلی بار پانی کو بطور ہتھیار استعمال کیا ہے، جو پاکستان کی سلامتی اور معیشت کے لیے ایک سنگین اور نیا چیلنج بن چکا ہے۔ نیویارک میں ایشیا سوسائٹی پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی ڈائریکٹر برائے جنوبی ایشیائی اقدامات فروا امین سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے خبردار کیا کہ 70 سال پرانا یہ اہم معاہدہ دونوں ممالک کے مابین سخت ترین جنگوں اور کشیدگی کے باوجود ہمیشہ ناقابلِ دست اندازی سمجھا جاتا رہا، تاہم موجودہ بھارتی حکومت کا یکطرفہ اقدام خطے کے امن اور واٹر سیکیورٹی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس اقدام سے بھارت کے پاس یہ صلاحیت آ جاتی ہے کہ وہ فصلوں کی اشد ضرورت کے وقت پاکستان کا پانی روک لے یا پھر غیر متوقع طور پر سیلابی پانی چھوڑ کر تباہی مچائے، جس سے مشترکہ آبی وسائل کو دباؤ کا ہتھکنڈہ بنایا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیر احسن اقبال نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اس سنگین چیلنج سے نمٹنے کے لیے دوہری حکمتِ عملی پر پوری قوت سے کام کر رہا ہے۔ پہلی سطح پر ملک کے اندر پانی ذخیرہ کرنے کے لیے سٹریٹجک بفر کا قیام تیز کر دیا گیا ہے۔ پاکستان نے گزشتہ چار سے پانچ دہائیوں میں کوئی بڑا ڈیم تعمیر نہیں کیا، لیکن اب دیامر بھاشا اور مہمند ڈیمز پر کام کی رفتار کو تیز کر کے تقریباً 60 لاکھ ایکڑ فٹ اضافی پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش پیدا کی جا رہی ہے تا کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور بالائی علاقوں سے پانی کے ممکنہ اخراج کے اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔ دوسری سطح پر، پاکستان اس تنازع کو کسی عسکری تصادم یا جنگ کی طرف جانے سے روکنے کے لیے تمام بین الاقوامی اور سفارتی ذرائع کا مؤثر استعمال کر رہا ہے، کیونکہ جنوبی ایشیا کو اس وقت جنگوں کے بجائے غربت، بیماریوں کے خاتمے، اور اپنی نوجوان آبادی کو معیاری تعلیم و روزگار دینے پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔

گفتگو کے دوران انہوں نے حکومتِ پاکستان کے ‘اڑان پاکستان’ فریم ورک اور 5E حکمتِ عملی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جیو اکنامکس کو ملکی خارجہ پالیسی کا مرکزی ستون بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے پاس 7 ٹریلین ڈالر سے زائد مالیت کے معدنی ذخائر موجود ہیں، اور معاشی استحکام کی بحالی کے بعد امریکی کمپنیوں، ایکسپورٹ امپورٹ بنک، اور دیگر بین الاقوامی اداروں کو سرمایہ کاری کی طرف راغب کیا جا رہا ہے۔ احسن اقبال نے واضح کیا کہ امریکہ کے ساتھ تجارتی اور صنعتی تعاون کسی صورت بھی چین کے ساتھ پاکستان کے آئرن کلیڈ تعلقات کی قیمت پر نہیں ہوگا۔ چین نے توانائی بحران کے وقت سی پیک کے ذریعے 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی، اور اب سی پیک 2.0 کے تحت بی ٹو بی ماڈل میں گرین انرجی، زراعت، ٹیکنالوجی اور کان کنی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

اس کے علاوہ وفاقی وزیر نے پاکستان کی نئی قومی مصنوعی ذہانت پالیسی، سائبر سیکیورٹی، ڈیٹا سینٹرز اور یونیورسٹیوں میں تحقیقی اصلاحات کا ذکر بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان میں اضافی توانائی اور باصلاحیت نوجوان آبادی کی صورت میں ڈیٹا سینٹرز کے لیے پرکشش ماحول موجود ہے، لیکن پانی کے وسائل کا تحفظ ہی ملکی بقا اور غذائی تحفظ کی اصل ضامن ہے۔ پاکستان دنیا کی تمام بڑی طاقتوں کے ساتھ مساوی اور متوازن تعلقات قائم رکھتے ہوئے اپنی معاشی و آبی خودمختاری کا ہر قیمت پر دفاع جاری رکھے گا۔

پاکستان اور ایتھوپیا کا موسمیاتی تبدیلی کے خلاف مشترکہ اقدامات اور تجربات کے تبادلے پر زور

منصور احمد, August 25,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے عالمی اثرات کے پیشِ نظر پائیدار ترقی پالیسی ادارے کے زیرِ اہتمام اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطح کے سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں پاکستان اور ایتھوپیا کے مابین موسمیاتی لچک، شجرکاری، پانی کے تحفظ، اور سبز معیشت میں باہمی تعاون کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا گیا۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں ایتھوپیا کے سفیر عمر حسین اوبا نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی انسانی سرگرمیوں کا نتیجہ ہے اور اب دنیا کو محض خطرات کی نشاندہی کرنے کے بجائے عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ انہوں نے ایتھوپیا کے ‘گرین لیگیسی انیشی ایٹو’ کو پاکستان کے لیے ایک بہترین مثال قرار دیتے ہوئے بتایا کہ ان کے ملک نے شجرکاری اور زمین کی بحالی کو عوامی روزگار سے جوڑا جس سے لاکھوں افراد مستفید ہوئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایتھوپیا حکومت، تحقیق، جامعات اور عوام کے اشتراک سے حاصل ہونے والے اس کامیاب تجربے کو پاکستان کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور ایتھوپیا جیسے ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی خطرات کا محض شکار بننے کے بجائے عالمی سطح پر عملی حل پیش کرنے والے ممالک کے طور پر ابھرنا ہو گا تا کہ قدرتی ماحولیاتی حل اور گرین فنانسنگ کے ذریعے پائیدار ترقی حاصل کی جا سکے۔

موڈیز ریٹنگ میں بہتری پر جرمن سفیر کی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کو مبارکباد: دوطرفہ اقتصادی تعاؤن بڑھانے پر اتفاق

کاشف عباسی , August 25,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب سے پاکستان میں جرمنی کی سفیر انا لیپل نے اہم ملاقات کی، جس میں انہوں نے بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی ‘موڈیز’ کی جانب سے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری پر وزیرِ خزانہ کو مبارکباد پیش کی۔ جرمن سفیر نے علاقائی و تزویراتی چیلنجز کے باوجود پاکستان کے معاشی استحکام اور اصلاحاتی اقدامات پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے حکومتی کاوشوں کو سراہا۔

ملاقات کے دوران وزیرِ خزانہ نے زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری، مالیاتی نظم و ضبط اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ڈیجیٹلائزیشن پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی پر مبنی ٹیکس اصلاحات اور پالیسیوں کے تسلسل سے شفافیت بڑھے گی اور جرمن کثیر القومی کمپنیوں سمیت تمام غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سازگار ماحول میسر آئے گا۔

جرمن سفیر نے دوطرفہ تجارتی روابط مزید مضبوط بنانے میں جرمنی کی مکمل دلچسپی کا اعادہ کیا اور وزیرِ خزانہ کو رواں سال جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیئول میں منعقد ہونے والی ’19ویں ایشیا پیسیفک کانفرنس آف جرمن بزنس’ میں شرکت کی باضابطہ دعوت بھی دی۔

شاہدرہ میں پنجاب فوڈ اتھارٹی کا بڑا ایکشن: معروف آئسکریم برانڈ کی ڈسٹری بیوشن سیل، 10 لاکھ روپے جرمانہ

محمود احمد, August 25,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

پنجاب فوڈ اتھارٹی (PFA) کے ڈائریکٹر جنرل راجہ منصور احمد کی ہدایت پر شاہدرہ میں ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے معروف آئسکریم برانڈ کی ڈسٹری بیوشن کو فوری طور پر بند کر دیا گیا ہے اور مالک پر 10 لاکھ روپے کا بھاری جرمانہ عائد کر دیا گیا ہے۔

کارروائی کے دوران ‘فور سٹار ڈسٹری بیوشن’ سے 3 ہزار کلو گرام ایکسپائرڈ (انقضائے المیعاد) آئسکریم برآمد کی گئی جسے موقع پر ہی تلف کر دیا گیا۔ ڈی جی فوڈ اتھارٹی کے مطابق تلف کی گئی آئسکریم گزشتہ سال نومبر میں ہی ایکسپائر ہو چکی تھی، جسے منفی 22 ڈگری سینٹی گریڈ کے درجہ حرارت پر بالکل تازہ اسٹاک کے ساتھ چھپا کر رکھا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ زہریلی اور ناقص آئسکریم تازہ اسٹاک کی آڑ میں مختلف شہروں کی مارکیٹوں میں سپلائی کی جانی تھی۔

ڈی جی فوڈ اتھارٹی راجہ منصور احمد نے اس موقع پر سخت موقف اپناتے ہوئے کہا کہ عوام خصوصاً بچوں کی صحت کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں اور ادارے کی جانب سے ان کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پنجاب بھر میں ناقص، سڑی ہوئی یا ایکسپائرڈ اشیائے خورونوش کی فروخت کو کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کیا جائے گا۔

انصاف کی تیز تر فراہمی کے لیے بنچ اور بار میں مسلسل تعاون ضروری ہے: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی

منصور احمد, August 24,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ عوام کو مؤثر اور تیز تر انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے بنچ اور بار کے درمیان مسلسل تعاون، یکجہتی اور تعمیری روابط ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء اور بار ایسوسی ایشنز ملک کے نظامِ انصاف کا اہم ترین سٹیک ہولڈر ہیں۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشنز ملتان، خانیوال، بہاولپور، اور سرگودھا کے علاوہ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشنز بنوں اور بہاولپور کے نمائندہ وفود نے سپریم کورٹ اسلام آباد میں ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران بار وفود نے عدالتی انفراسٹرکچر، بار رومز، ڈیجیٹل رابطے، صاف پینے کے پانی کی عدم دستیابی، ای فائلنگ اور وکلاء کی پیشہ ورانہ تربیت جیسے درپیش اہم مسائل اور چیلنجز سے چیف جسٹس کو تفصیل سے آگاہ کیا۔

چیف جسٹس نے جاری عدالتی اصلاحات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ اور قومی جوڈیشل پالیسی ساز کمیٹی انصاف تک رسائی آسان بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کر رہی ہیں۔ انہوں نے ‘ایکسیس ٹو جسٹس ڈویلپمنٹ فنڈ’ کے ذریعے عدالتوں کی سولرائزیشن، بلاتعطل بجلی، خواتین کے لیے خصوصی سہولتی مراکز، ای لائبریریوں کے قیام اور دور دراز علاقوں کے جوڈیشل کمپلیکسز کو جدید سہولیات فراہم کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ چیف جسٹس نے بار نمائندگان کو ان کے مطالبات کے جلد اور مربوط ازالے کی کامل یقین دہانی کروائی۔

بحیرۂ احمر میں تناؤ: سعودی بندرگاہ ینبع کے قریب آئل ٹینکر پر میزائل حملہ، عرشے پر آگ بھڑک اٹھی

محمود احمد, August 24,2026

جدہ/تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء

سعودی عرب کے مغربی ساحل پر واقع سٹریٹجک اہمیت کی حامل بندرگاہ ینبع کے قریب ایک تیل بردار جہاز (آئل ٹینکر) نا معلوم سمت سے آنے والے میزائل کا نشانہ بن گیا۔ برطانوی بحری تجارتی کارروائیوں کے ادارے ‘یو کے ایم ٹی او’ کی جانب سے جاری کردہ ہنگامی الرٹ کے مطابق، حملے کے نتیجے میں آئل ٹینکر کے عرشے (ڈیک) پر شدید آگ بھڑک اٹھی، جس پر قابو پانے کے لیے فوری کارروائی کی گئی۔

یو کے ایم ٹی او کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق، یہ حملہ ینبع پورٹ کے مغرب میں سمندر میں پیش آیا۔ تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ بحری جہاز کے عملے کے تمام ارکان مکمل طور پر محفوظ ہیں اور کسی جانی نقصان یا سمندر میں تیل کے اخراج سے ہونے والے ماحولیاتی نقصان کی فوری اطلاعات نہیں ملی ہیں۔ ادارے نے فی الحال سیکیورٹی اور تحقیقاتی وجوہات کی بناء پر متاثرہ آئل ٹینکر کی ملکیت یا اس کے پرچم کی تفصیلات عام نہیں کی ہیں۔

ینبع کی بندرگاہ سعودی عرب کی اہم ترین آئل ایکسپورٹ ٹرمینلز اور صنعتی مراکز میں شمار ہوتی ہے، جو بحیرۂ احمر کے ذریعے خام تیل کی عالمی ترسیل میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ کی جانب سے ایران پر مزید سخت اقتصادی پابندیوں کے اعلان اور ایران کی جانب سے جواباً خطے سے تیل کی ترسیل روکنے اور آبنائے ہرمز و بحیرۂ احمر کے بحری راستوں کو متاثر کرنے کی دھمکیوں کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔

اگرچہ اس حملے کی ذمہ داری فوری طور پر کسی نے قبول نہیں کی ہے، لیکن ماضی میں یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی بندرگاہوں اور بحیرۂ احمر سے گزرنے والے تجارتی و آئل ٹینکرز پر ڈرون اور میزائل حملے کیے جاتے رہے ہیں۔ حوثی گروپ کی جانب سے ماضی میں سعودی عرب کی جانب سے کی جانے والی معاشی ناکہ بندی کے جواب میں بحیرۂ احمر کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں۔

بین الاقوامی بحری سیکیورٹی اداروں نے اس واقعے کے بعد بحیرۂ احمر اور باب المندب کی شاہراہ سے گزرنے والے تمام تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکرز کو شدید محتاط رہنے اور الرٹ کی سطح بلند رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ اس تازہ ترین واقعے سے بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی فراہمی اور بحری تجارت کی حفاظت سے متعلق تحفظات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

چین اور کویت کے دوطرفہ تعلقات کو اعلیٰ سطح پر لے جانے کا عزم: بیجنگ میں نائب صدر ہان ژینگ اور کویتی وزیرِ خارجہ کی ملاقات

محمود احمد, August 24,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء

چین کے نائب صدر ہان ژینگ سے کویت کے وزیرِ خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح نے بیجنگ میں ایک اہم ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں شراکت داری کو نئی بلندیوں پر لے جانے پر کامل اتفاق کیا گیا۔

چینی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق، ملاقات کے دوران چینی نائب صدر نے کہا کہ دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت کی سٹریٹجک رہنمائی میں چین اور کویت کے تعلقات مسلسل بہتری کی جانب گامزن ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حالیہ برسوں میں مختلف تجارتی، معاشی اور سفارتی شعبوں میں تعاؤن میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ چین کویت کے ساتھ مل کر دوطرفہ تعلقات کو مزید اعلیٰ سطح پر لے جانے کے لیے پرعزم ہے۔ نائب صدر ہان ژینگ نے مزید کہا کہ چین مشرقِ وسطیٰ میں دائمی امن و سکون کی بحالی کے لیے خطے کے تمام فریقین کے ساتھ مل کر امن مذاکرات اور سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔

کویتی وزیرِ خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح نے عالمی اور علاقائی مسائل پر چین کے مثبت اور تعمیری کردار کو سراہا اور چین کی جانب سے کویت کی مسلسل حمایت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کویت ‘ایک چین’ کے اصول پر مضبوطی سے قائم ہے۔ کویتی وزیرِ خارجہ نے عزم ظاہر کیا کہ کویت چین کے ساتھ اپنے تعلقات میں نئے اور وسیع امکانات پیدا کرنے کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھے گا۔

سفارتی و سیکیورٹی حل کی تلاش: پاکستانی وفد کا اہم دورۂ تہران، امریکہ ایران کشیدگی اور علاقائی صورتحال کا جائزہ

محمود احمد, August 24,2026

تہران/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء

امریکہ کی جانب سے ایران پر مزید سخت معاشی پابندیوں کے اعلان اور ایران کی طرف سے خلیج سے تیل کی ترسیل روکنے کی جوابی دھمکی کے بعد خطے میں پیدا ہونے والی شدید کشیدگی کے درمیان ایک اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر پاکستانی وفد کے ہمراہ ایران کے دارالحکومت تہران پہنچ گئے ہیں، جہاں ان کا پرشور استقبال ایران کے وزیرِ داخلہ سکندر مومنی نے کیا۔ وفد میں پاکستانی وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی شامل ہیں۔

ایرانی خبر رساں ادارے ‘اسنا’ کے مطابق، پاکستانی وفد اپنے اس اعلیٰ سطحی دورے کے دوران ایران کی اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت سے انتہائی اہم ملاقاتیں کرے گا۔ ان ملاقاتوں میں دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ، سرحدی سلامتی کے استحکام، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی اور خطے میں پیدا ہونے والی تاز ترین سیکیورٹی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔

یہ اہم وزٹ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ کی جانب سے ایران کی معیشت پر مزید ناکہ بندی کی جا رہی ہے اور منگل کے روز عمان کے وزیرِ خارجہ بھی ایرانی حکام سے اہم مذاکرات کے لیے تہران پہنچ رہے ہیں۔ سفارتی ماہرین کے مطابق پاکستان اور عمان کے ان یکے بعد دیگرے دوروں کا مقصد خلیج کے خطے میں مزید کسی بڑے فوجی یا معاشی تصادم کو روکنا اور بحران کا سفارتی حل تلاش کرنا ہے۔

اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی ملاقات: صوبائی ترقیاتی منصوبوں اور سیاسی امور پر اہم مشاورت

کاشف عباسی , August 24,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف سے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے وفاقی دارالحکومت میں اہم ملاقات کی، جس میں صوبہ سندھ کے عمومی امور اور وفاق کے زیرِ اہتمام جاری اہم ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ، وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر احد خان چیمہ، شزہ فاطمہ خواجہ اور علی پرویز ملک بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران صوبے کی معاشی و انتظامی صورتحال، وفاق اور صوبے کے باہمی تعلقات اور ملک کی مجموعی سیاسی فضا پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔

اجلاس میں دونوں رہنماؤ ں کی جانب سے ملک میں سیاسی رواداری کو فروغ دینے اور باہمی افہام و تفہیم کے ساتھ وفاقی و صوبائی معاملوں کو آگے بڑھانے پر کامل اتفاق کیا گیا۔ رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سندھ میں عوامی فلاح کے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ صوبے کی معاشی ترقی کو مزید رفتار مل سکے۔

تمام میڈیکل و ڈینٹل ڈاکٹرز کے لیے پی ایم ڈی سی کی اہم ہدایت: رجسٹریشن سرٹیفکیٹس کی تجدید کے لیے 6 ماہ کی حتمی مہلت جاری

روزینہ اسماعیل, August 24,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے ملک بھر کے تمام میڈیکل اور ڈینٹل پریکٹیشنرز سمیت سپیشلسٹس کو ہدایت کی ہے کہ وہ پی ایم ڈی سی ایکٹ 2022ء اور متعلقہ قواعد و ضوابط کے تحت اپنے رجسٹریشن سرٹیفکیٹس کی باقاعدہ تجدید کرائیں۔ پی ایم ڈی سی کے جاری کردہ اہم اعلان کے مطابق تمام ڈاکٹرز کو اپنے لائسنس کی تجدید کے لیے چھ ماہ کی مہلت دی گئی ہے تاکہ قانونی، اخلاقی اور پیشہ ورانہ تقاضوں کی مسلسل پابندی کو یقینی بنایا جا سکے۔

پی ایم ڈی سی حکام کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد ملک بھر میں لائسنس یافتہ ڈاکٹروں کے قومی رجسٹر کو اپ ڈیٹ اور قابلِ تصدیق بنانا ہے تاکہ جعلی پریکٹس، اتائی پن ، اور رجسٹریشن سرٹیفکیٹس کے فراڈ پر مبنی استعمال کا خاتمہ کیا جا سکے۔ ایک جدید اور مستند ڈیٹا بیس کے ذریعے مرحوم یا غیر فعال ڈاکٹروں کی پیشہ ورانہ اسناد کے غلط استعمال کو روکا جا سکے گا، جس سے صحت عامہ کے نظام پر عوام کے اعتماد کو مزید تقویت ملے گی۔

کونسل نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بروقت تجدید نہ صرف پاکستان میں قانونی پریکٹس کے لیے ضروری ہے بلکہ بیرونِ ملک ملازمت، پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ اور عالمی لائسنسنگ کے لیے بھی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ پی ایم ڈی سی نے تمام ڈاکٹروں اور ڈینٹسٹس سے اپیل کی ہے کہ وہ چھ ماہ کی درکار مدت ختم ہونے کا انتظار کیے بغیر جلد از جلد اپنی رجسٹریشن کی تجدید کا عمل مکمل کریں۔

عراق کا بڑا فوجی قدم: سعودی سرحد کی نگرانی کے لیے نئی ’بدیہہ آپریشنز کمانڈ‘ قائم، پڑوسی ممالک کے خلاف حملے روکنے کا عزم

محمود احمد, August 23,2026

بغداد (نیوز اینڈ نیوز) — 23 اگست 2026ء

عراقی حکومت نے اپنی جنوبی و مغربی سرحدوں، بالخصوص برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ ملحقہ بارڈر پر سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کے لیے ایک نئی ملٹری کمانڈ تشکیل دے دی ہے۔ عراقی حکام کے مطابق اس اقدام کا بنیادی اور اہم مقصد عراق کی سرحدی حدود کو محفوظ بنانا اور کسی بھی غیر قانونی عنصر کی جانب سے عراقی سرزمین کو پڑوسی ممالک پر حملوں یا تخریب کاری کے لیے استعمال کرنے کی کوششوں کو مکمل طور پر ناکام بنانا ہے۔

عراقی وزارتِ دفاع کے ترجمان میجر جنرل یحییٰ رسول نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ نئی قائم کردہ ‘بدیہہ آپریشنز کمانڈ’ اپنے مشن کے پہلے ہی دن سے عملی طور پر فعال ہو کر سعودی عرب کی سرحد کے قریب طے شدہ علاقوں میں منتقل ہونا شروع ہو گئی ہے۔ ترجمان کے مطابق یہ نئی ملٹری آپریشنز کمانڈ بنیادی طور پر 10 اگست کو صوبہ مثنیٰ کے وسیع صحرائی خطے میں سیکیورٹی کو مزید مضبوط اور سخت بنانے کے لیے قائم کی گئی تھی، جس کے مستقل کام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

میجر جنرل یحییٰ رسول نے مزید تفصیلات دیتے ہوئے بتایا کہ اس نوبنیاد کمانڈ کا مرکزی ہیڈکوارٹر صوبہ مثنیٰ کے تاریخی اور سٹریٹجک علاقے ‘نقرة السلمان’ میں قائم کیا جائے گا۔ نقرة السلمان کا یہ خطہ سماوہ کے وسیع صحرا کے بالکل وسط میں اور ضلع سلمان کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے، جو سعودی عرب کی سرحد سے محض 80 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس پیش رفت کے بعد دونوں برادر ممالک کے سرحدی دفاع میں مزید بہتری اور علاقائی استحکام کی امید کی جا رہی ہے۔

سابق ایسٹونین وزیراعظم سیم کالاس کا انتقال: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کایا کالاس سے دلی تعزیت کا اظہار

منصور احمد, August 23,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 23 اگست 2026ء

پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے سابق وزیرِ اعظم ایسٹونیا اور یورپی یونین کی خارجہ امور و سلامتی پالیسی کی اعلیٰ نمائندہ کایا کالاس کے والد، سیم کالاس کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کردہ اپنے تعزیتی بیان میں نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ وہ حکومتِ پاکستان، پاکستانی عوام اور اپنی جانب سے کایا کالاس اور ان کے تمام غمزدہ اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس مشکل اور غم کی گھڑی میں ان کی تمام تر دعائیں اور ہمدردیاں مرحوم کے لواحقین اور ایسٹونیا کے عوام کے ساتھ ہیں۔

سیم کالاس ایسٹونیا کی سیاست اور یورپی یونین کے قیام و انتظامی عمل کے ایک نامور اور سینئر ترین سیاسی رہنما تھے، جنہوں نے سنہ 2002ء سے 2003ء تک ایسٹونیا کے وزیرِ اعظم کے طور پر خدمات انجام دیں اور بعد ازاں یورپی کمیشن کے نائب صدر بھی رہے۔ وہ 77 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں، جس پر عالمی اور یورپی رہنماؤں کی جانب سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی صدارت میں ‘ایکنک’ کا اہم اجلاس: تربیلا ففتھ ایکسٹینشن اور بشام ایکسپریس وے سمیت اہم قومی منصوبوں کی منظوری و جائزہ

منصور احمد, August 22,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 اگست 2026ء

نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک بھر میں بنیادی ڈھانچے، توانائی کی منتقلی اور سماجی و اقتصادی ترقی سے متعلق متعدد اربوں روپے کے قومی منصوبوں کا جامع جائزہ لیا گیا اور کئی اہم فیصلے کیے گئے۔ نائب وزیراعظم کے آفس کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں وفاقی و صوبائی سطح کے جاری اور نظرثانی شدہ منصوبوں کو ملک کی پائیدار اقتصادی ترقی کے ایجنڈے کے مطابق جلد از جلد مکمل کرنے اور فنڈز کے شفاف اور مؤثر استعمال کی حکمتِ عملی پر مفصل غور کیا گیا۔

اجلاس میں منظور اور زیرِ بحث آنے والے نمایاں منصوبوں میں خوازہ خیلہ-بشام ایکسپریس وے کی تعمیر شامل ہے، جو شمالی علاقہ جات میں باہمی ربط اور سیاحت و تجارت کی فروغ کے لیے انتہائی اہم ترین شاہراہ تصور کی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں، ملک میں بجلی کے ترسیلی نظام کو جدید بنانے کے لیے ڈسٹری بیوشن کمپنیوں لیسکو ، حیسکو اور پیسکو میں سسٹم کی استعداد کار بڑھانے اور لائن لاسز کو کم کرنے کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں قومی اہمیت کے حامل تربیلا ڈیم کے پانچویں توسیعی پن بجلی منصوبے کی پیش رفت کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا، تاکہ کم لاگت اور ماحول دوست بجلی کی پیداوار کو ملکی گرڈ میں شامل کیا جا سکے۔

ایکنک اجلاس کے دوران عوامی فلاح و بہبود اور تعلیمی میدان سے متعلق جنوبی پنجاب میں غربت میں کمی کے منصوبے سمیت اعلیٰ تعلیم کے لیے فل برائٹ اسکالرشپ سپورٹ پروگرام کی منظوری بھی شامل تھی۔ نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تمام متعلقہ وفاقی ڈویژنز اور صوبائی حکام کو واضح ہدایات جاری کیں کہ وہ ان منصوبوں کی وقت پر تکمیل کے لیے آپس میں قریبی رابطہ اور بروقت اقدامات کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت کا مقصد اقتصادی استحکام کو مضبوط کرنا اور عوامی بنیادی ڈھانچے کو جدید ترین تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا ہے۔ اس اہم اجلاس میں وفاقی وزیر برائے خزانہ، وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی، وزیراعظم کے معاونِ خصوصی طارق باجوہ اور وفاقی و صوبائی سیکرٹریز سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

انسدادِ صحرا زدگی میں چین کے اقدامات اور کامیابیاں عالمی برادری کے لیے بہترین نمونہ ہیں: یاسمین فواد کا بیجنگ میں اہم انٹرویو

محمود احمد, August 22,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 22 اگست 2026ء

اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل اور کنونشن برائے انسدادِ صحرا زدگی کے سیکرٹریٹ کی ایگزیکٹو سیکرٹری یاسمین فواد نے چین کے اپنے حالیہ دورے کے دوران بیجنگ میں چائنا میڈیا گروپ کو ایک خصوصی انٹرویو دیا ہے، جس میں انہوں نے زمین کو بنجر ہونے سے بچانے اور سبزہ زاروں کی بحالی کے حوالے سے چین کی عالمی سطح پر نمایاں اور شاندار کامیابیوں کو زبردست الفاظ میں سراہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر خاص زور دیا کہ ماحولیاتی تحفظ اور زمین کے تحفظ کے کسی بھی بڑے اور پائیدار منصوبے کی کامیابی کے لیے مضبوط، طویل مدتی اور اٹل سیاسی عزم بنیادی شرط ہے، جو کہ چین کی اعلیٰ قیادت میں واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔

اقوام متحدہ کی ایگزیکٹو سیکرٹری یاسمین فواد نے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حالیہ برسوں کے دوران چین میں صحرائی، بنجر اور ریتلی زمینوں کے رقبے میں مسلسل اور نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس نے چین کو دنیا بھر میں زمینی انحطاط کے منفی رجحان کو مثالی انداز میں تبدیل کرنے والی عالمی مثالوں میں ممتاز ترین مقام پر لا کھڑا کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین عالمی سطح پر صحرا زدگی کو روکنے، ماحول کو بچانے اور سبز ترقی کو فروغ دینے کی بین الاقوامی کوششوں میں ایک فعال، بااثر اور پیش پیش رہنما کا کردار ادا کر رہا ہے، اور صحرا زدگی کے خلاف اس طویل اور مسلسل جدوجہد میں سبز ترقی کا چینی ماڈل اور تجربہ دنیا کے دیگر تمام ممالک کے لیے انتہائی قابلِ تقلید اور مشعلِ راہ ثابت ہو سکتا ہے۔

ہیڈنگلے ٹیسٹ میں پاکستان کی بدترین شکست: انگلینڈ کے باؤلرز کی تباہ کن باؤلنگ، گرین شرٹس کو اننگز اور 103 رنز سے ناکامی کا سامنا

محمود احمد, August 22,2026

لیڈز (نیوز اینڈ نیوز) — 22 اگست 2026ء

ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز 1-1 سے ڈرا کرنے کے بعد انگلینڈ کے دورے پر موجود قومی کرکٹ ٹیم کو ہیڈنگلے کے تاریخی میدان پر شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انگلینڈ کی تیز رفتار باؤلنگ جوڑی اولی رابنسن اور جوش ٹونگ کی شاندار اور تباہ کن باؤلنگ کی بدولت میزبان ٹیم نے پاکستان کو اننگز اور 103 رنز کے بڑے مارجن سے شکست دے کر سیریز میں فتح اپنے نام کر لی ہے۔ میچ کی پہلی اننگز میں پاکستانی بلے باز انگلش تیز باؤلرز کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئے اور پوری ٹیم محض 171 رنز کے معمولی مجموعے پر ڈھیر ہو گئی۔ اولی رابنسن اور جوش ٹونگ نے شاندار باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلی اننگز میں 5،5 وکٹیں حاصل کیں۔

پاکستانی اننگز کے جواب میں انگلینڈ کی ٹیم نے جاندار بیٹنگ لائن کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلی اننگز میں 409 رنز کا پہاڑ جیسا مجموعہ کھڑا کر دیا۔ پاکستان کی جانب سے علی عثمان نے شاندار باؤلنگ کرتے ہوئے 5 وکٹیں حاصل کیں، لیکن انگلش بلے بازوں نے میچ پر اپنی گرفت مضبوط رکھی۔ انگلینڈ کی جانب سے جارڈن کاکس، تجربہ کار جو روٹ، ہیری بروک اور ڈین لارنس نے عمدہ نصف سنچریاں اسکور کر کے ٹیم کی پوزیشن کو مزید مستحکم بنایا اور پاکستان پر 238 رنز کی بھاری برتری حاصل کر لی۔

پاکستان کو اننگز کی ہزیمت سے بچنے کے لیے دوسری اننگز میں 238 رنز کا خسارہ ختم کرنا تھا، لیکن قومی بلے باز دوسری اننگز میں بھی انگلش باؤلنگ کے سامنے مکمل طور پر بے بس نظر ائے۔ پوری پاکستانی ٹیم صرف 37.3 اوورز میں 135 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئی، جس کے نتیجے میں انہیں اننگز اور 103 رنز سے عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ انگلینڈ کی سرزمین پر 2000ء کے بعد یہ پاکستان کا چھٹا سب سے کم ترین ٹیسٹ اسکور ہے۔ اس سے قبل 2010ء میں ایجبسٹن کے مقام پر 72 رنز پر آل آؤٹ ہونا انگلینڈ میں پاکستان کا اب تک کا سب سے کم ترین ٹیسٹ اسکور ہے، جبکہ لارڈز میں 74، ٹرینٹ برج پر 80، اولڈ ٹریفورڈ میں 119 اور ہیڈنگلے میں 134 رنز شامل ہیں۔

یہ تاریخی بیٹنگ ناکامی پاکستان کی انگلینڈ کے خلاف اننگز کے اعتبار سے چھٹی سب سے بڑی شکست ہے۔ اس سے قبل 2010ء کے لارڈز ٹیسٹ میں پاکستان کو اننگز اور 225 رنز کی سب سے بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ علاوہ ازیں 1954ء میں ٹرینٹ برج پر اننگز اور 129 رنز، 2006ء میں اولڈ ٹریفورڈ میں اننگز اور 120 رنز، 1978ء میں لارڈز کے مقام پر اننگز اور 120 رنز اور 1962ء میں ہیڈنگلے میں اننگز اور 117 رنز سے شکستیں پاکستان کی انگلینڈ کے خلاف اننگز کی بڑی ناکامیوں میں شمار ہوتی ہیں۔ اس میچ کی ہار نے ایک بار پھر بیرونِ ملک ٹیسٹ میچز میں پاکستانی بلے بازوں کی تکنیکی خامیوں اور فاسٹ باؤلنگ کے خلاف سنگین کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف کا پمز ہسپتال میں سی ٹی کورونری اینجیوگرافی کی سہولت غیر فعال ہونے پر سخت نوٹس، اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی قائم

کاشف عباسی , August 22,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 اگست 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں انتہائی اہم طبی سہولت ‘سی ٹی کورونری اینجیوگرافی’ کی عدم دستیابی اور مشین کے طویل عرصے سے غیر فعال ہونے کے شدید معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی قائم کر دی ہے۔ وزیرِ اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری کردہ رسمی بیان کے مطابق وزیرِ اعظم نے سخت ہدایت جاری کی ہے کہ کمیٹی معاملے کے تمام فنی، انتظامی اور مالیاتی پہلوؤں کا بلاامتیاز جائزہ لے کر حقائق پر مبنی رپورٹ، ذمہ داران کا تعین اور اپنی سفارشات جلد از جلد ان کے سامنے پیش کرے۔

وزیرِ اعظم کے حکم پر تشکیل دی گئی اس بااختیار انکوائری کمیٹی کے چیئرمین سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن ہوں گے، جبکہ دیگر اراکین میں سیکرٹری نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن ڈویژن کے علاوہ مسلح افواج کے نامور طبی ماہرین اور سینئر ڈاکٹرز کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ کمیٹی کے اراکین میں آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (AFIC) سے بریگیڈیئر ڈاکٹر جہانزیب علی، ڈاکٹر نصرت اللہ چوہدری، پروفیسر ڈاکٹر ندیم حیات ملک، پمز سے بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) ڈاکٹر عظمت حیات اور اے ایف آئی سی سے ہی سی ٹی اینجیو ٹیکنیشن عمر فاروق شامل ہیں۔ انکوائری کمیٹی کو یہ مکمل اختیار اور آزادی دی گئی ہے کہ وہ اپنی تحقیقاتی ضرورت کے مطابق کسی بھی دوسرے فنی و انتظامی ماہر یا افسر کو بحیثیت رکن کمیٹی میں شامل کر سکتی ہے۔

یہ انکوائری کمیٹی بنیادی طور پر اس امر کا تفصیلی تکنیکی جائزہ لے گی کہ آیا پمز ہسپتال میں سال 2022ء سے سی ٹی کورونری اینجیوگرام کرنے کی فنی صلاحیت موجود تھی یا نہیں، اور اگر تکنیکی صلاحیت موجود تھی تو اس کے لیے ضروری و مطلوبہ انسانی وسائل، اینجیوگرافی سافٹ ویئر، اور دیگر متعلقہ طبی سہولیات کس حد تک دستیاب تھیں۔ اس کے ساتھ ہی کمیٹی 2022ء سے لے کر اب تک پمز میں کیے گئے سی ٹی کورونری اینجیوگرام کے کل طریقہ کار، ان کے کیسز کی کل تعداد، ٹیسٹ کی تاریخوں اور اس کی نوعیت کا بھی گہرائی سے معائنہ کرے گی، جس کے لیے ہسپتال انتظامیہ کے مکمل آن ریکارڈ شواہد اور دستاویزی ثبوتوں کو بھی جانچا جائے گا۔

علاوہ ازیں، کمیٹی کا ایک اہم مقصد ہسپتال کے اندر کارڈیالوجی (امراضِ قلب) اور ریڈیالوجی کے شعبوں کے درمیان سی ٹی کورونری اینجیوگرافی کے ٹیسٹس کے لیے کسی باقاعدہ ریفرل میکنزم، دونوں شعبوں کے درمیان باہمی رابطے اور انتظامیہ کے مجموعی کردار کا جائزہ لینا بھی ہے۔ کمیٹی اس خاص پہلو کی بھی مکمل چھان بین کرے گی کہ آیا کارڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ میں آنے والے دل کے مریضوں کو معمول کے مطابق اور دیدہ و دانستہ طور پر سی ٹی کورونری اینجیوگرام کے لیے نجی لیبارٹریوں یا پرائیویٹ طبی مراکز میں ریفر کیا جاتا رہا، اور اگر ایسا کیا گیا تو کیا کسی خاص نجی ادارے کو فائدہ پہنچانے کے لیے ترجیح دی گئی؟ اس عمل کے نتیجے میں سرکاری ہسپتال سے کتنے مالیاتی کاروبار اور کروڑوں روپے کے مالي وسائل کا رخ نجی شعبے کی جانب موڑا گیا، اس کا تخمینہ بھی لگایا جائے گا۔

وزیرِ اعظم نے کمیٹی کو واضح ہدایت دی ہے کہ وہ پمز کے کارڈیالوجی اور ریڈیالوجی شعبوں کے درمیان کسی بھی قسم کے عدم تعاون، انتظامی بدنظمی، باہمی غلط فہمی یا مفادات کے ٹکراؤ کے باعث عوامی مفاد اور غریب مریضوں کو پہنچنے والے مالی و طبی نقصان کا بھی باریک بینی سے تعین کرے اور اس غفلت میں ملوث ذمہ دار افسران یا دفاتر کی نشان دہی کرے۔ نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن ڈویژن اس انکوائری کے تمام مرحلوں میں کمیٹی کو درکار ہر قسم کی انتظامی و دستاویزی معاونت فراہم کرے گا تاکہ تمام حقائق شفاف انداز میں سامنے لائے جا سکیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے۔

پاکستان ریلوے کی آمدن میں تاریخی اضافہ: وفاقی وزیرِ ریلوے حنیف عباسی کا ملتان میں پریس کانفرنس اور ملتان کینٹ ریلوے اسٹیشن کے دورے کے موقع پر بڑا اعلان

کاشف عباسی , August 22,2026

ملتان (نیوز اینڈ نیوز) — 22 اگست 2026ء

وفاقی وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان ریلوے میں جاری جامع اصلاحات اور سخت انتظامی اقدامات کے نتیجے میں ادارے کی مالی کارکردگی میں تاریخی اور نمایاں بہتری آئی ہے، جس کے باعث گزشتہ مالی سال کے دوران ریلوے کی مجموعی سالانہ آمدن 88 ارب روپے سے نمایاں طور پر بڑھ کر 115 ارب روپے کی حد تک پہنچ چکی ہے جبکہ مال گاڑیوں کی فریٹ آمدن میں بھی 28 فیصد کا زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ملتان میں پریس کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے اور بعد ازاں ملتان کینٹ ریلوے اسٹیشن کے دورے کے موقع پر انہوں نے بتایا کہ جب ڈیڑھ سال قبل پاکستان ریلوے کی باقاعدہ ذمہ داری سنبھالی گئی تو ادارے میں متعدد انتظامی و مالی خامیاں موجود تھیں، جنہیں دور کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کیے گئے۔ انہی کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ ریلوے کی آمدن میں 27 ارب روپے کے ریکارڈ اضافے کی سٹیٹ بینک اور اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ سے بھی باقاعدہ تصدیق ہو چکی ہے۔

وفاقی وزیرِ ریلوے نے اراضی کی لیز اور ٹرینوں کی اپ گریڈیشن سے متعلق اہم پالیسیوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعظم پاکستان کی خصوصی ہدایت پر ریلوے کی قیمتی اراضی اور دیگر جائیدادوں کو مکمل شفافیت اور اوپن آکشن کے ذریعے لیز پر دینے کی پالیسی اختیار کی گئی ہے۔ اس نئی پالیسی کے نتیجے میں ریلوے کی اراضی سے حاصل ہونے والی سالانہ آمدن 8 ارب روپے سے دوگنی ہو کر 16 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے اور آئندہ عرصے میں مجموعی آمدن میں مزید 50 سے 60 ارب روپے کے اضافے کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ طویل عرصے سے لوکوموٹیوز اور کوچز کی دیکھ بھال میں عدم توجہی کے باعث مسائل پیدا ہوئے تھے لیکن اب مرحلہ وار بنیادوں پر ٹرینوں کے ایئر کنڈیشننگ سسٹم اور کوچز کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔ عوام ایکسپریس، شالیمار ایکسپریس، ہزارہ ایکسپریس، بزنس ٹرین اور سکھر ایکسپریس کی کوچز کی بہتری کے بعد اب تیزگام، پاکستان ایکسپریس اور رحمان بابا ایکسپریس کی اپ گریڈیشن پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔

وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی نے ریلوے آپریشنز کو جدید بنانے کے سخت ڈیڈ لائنز کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 15 ستمبر کے بعد اپ گریڈ کی گئی کسی بھی ہائی پروفائل ٹرین کے ریک میں پرانی کوچز کو شامل کرنے کی بالکل اجازت نہیں ہوگی اور نہ ہی ایسی آمیزش قبول کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ریلوے میں بجلی اور ایئر کنڈیشننگ کے نظام کو ہموار بنانے کے لیے 30 ستمبر تک بیڑے میں 30 نويں پاور وینز شامل کر دی جائیں گی، جبکہ 31 دسمبر تک مزید 16 اور 23 مارچ تک باقی 40 پاور وینز کی خریداری و شمولیت کا عمل مکمل کر لیا جائے گا جس کے بعد ملک میں پاور وینز کی کمی کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ 31 دسمبر تک تمام ڈمی ویگنز کے خاتمے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور 15 ستمبر تک روزانہ کی بنیاد پر چلنے والی فریٹ ٹرینوں کی تعداد کو 9 سے بڑھا کر 12 اور پھر دسمبر تک 15 تک پہنچایا جائے گا۔

ملکی بنیادی ڈھانچے اور میگا ریل منصوبوں پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ 70 سالہ ملکی تاریخ میں پہلی بار ریلوے ٹریکس پر موجود 177 خطرناک مقامات کو ختم کرنے کا ایک بڑا منصوبہ تیار کیا گیا ہے، جس کی بہتری کے لیے وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے 10 ارب روپے کے فنڈز مختص کیے ہیں اور ایک ارب روپے کی پہلی قسط جاری کر دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ روہڑی کراچی ریلوے ٹریک کی مکمل اپ گریڈیشن کے لیے ایشین ڈویلپمنٹ بینک (ADB) کے ساتھ 2.5 ارب ڈالر کا معاہدہ طے پا چکا ہے جس کے تحت ٹریک کی بہتری کے بعد کراچی اور روہڑی کے درمیان ٹرینوں کا سفری دورانیہ تقریباً 5 گھنٹے کم ہو جائے گا۔ اس اہم منصوبے کا سنگِ بنیاد جنوری کے پہلے یا دوسرے ہفتے میں رکھا جائے گا جبکہ موجودہ حکومت کی مدت کے اختتام تک اس منصوبے کا 50 سے 60 فیصد کام مکمل کرنے کا ہدف ہے۔ اس کے علاوہ تھرکول کو ریلوے نیٹ ورک سے منسلک کرنے کے لیے 105 کلومیٹر طویل نیا ٹریک بچھانے کا منصوبہ شروع کیا گیا ہے، جس کی مکمل کے بعد مقامی کوئلے کی ترسیل سے پاکستان کو سالانہ 2 ارب ڈالر کے مبادلہ کی بچت ہوگی۔

پریس کانفرنس کے بعد وفاقی وزیرِ ریلوے نے ملتان کینٹ ریلوے اسٹیشن کا تفصیلی دورہ کیا جہاں انہوں نے پلیٹ فارمز، پولیس ہیلپ لائن ڈیسک اور مسافر سہولت مراکز کا معائنہ کیا اور شہریوں سے راست گفتگو کر کے سہولیات سے متعلق ان کے خدشات اور آراء معلوم کیں۔ انہوں نے ملتان کینٹ ریلوے اسٹیشن پر جدید کنٹرول روم کا باقاعدہ افتتاح کیا اور ریلوے آپریشنز کی نگرانی کے لیے قائم ڈیجیٹل ڈیش بورڈز کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ لاہور، راولپنڈی اور ٹیکسلا کے تاریخی ریلوے سائٹس کو محکمہ آثارِ قدیمہ کے حوالے کر دیا گیا ہے جبکہ لاہور میں شاہدرہ سے رائیونڈ تک 41 ریلوے پارکس بنائے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ گارڈز اور ڈرائیورز کے رننگ رومز کی بہتری اور ملازمین کی رہائشی کالونیوں کی چھتوں و سیوریج کا کام ترجیحی بنیادوں پر جاری ہے تاکہ عملے کو بھی بہترین ماحول فراہم کیا جا سکے۔

شام پر اسرائیلی فضائی حملوں کی شدید مذمت: پاکستان سمیت 12 مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کا مشترکہ اعلامیہ

محمود احمد, August 21,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 اگست 2026ء

پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، قطر، انڈونیشیا اور ملائیشیا سمیت 12 مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے شمال مغربی شام میں ابو الظہور فوجی اڈے پر اسرائیلی فضائی حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے شام کی خودمختاری و علاقائی سالمیت پر براہِ راست حملہ قرار دیا ہے۔

دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ اعلامیے کے مطابق، پاکستان، ترکیہ، الجزائر، انڈونیشیا، اردن، لبنان، ملائیشیا، موریطانیہ، فلسطین، قطر، سعودی عرب اور صومالیہ کے وزرائے خارجہ نے شام کے بنیادی ڈھانچے کو مسلسل نشانہ بنانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کا یہ عمل خطے میں امن و استحکام کو تباہ کرنے، بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑانے اور شام میں انسانی بحران سے نمٹنے کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کا باعث بن رہا ہے۔

مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری اور اقوامِ متحدہ پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف فوری اور مضبوط موقف اپنائیں۔ تمام وزرائے خارجہ نے 1974ء کے معاہدے کے مکمل احترام اور مقبوضہ علاقوں سے اسرائیلی افواج کے فوری انخلا کا مطالبہ کرتے ہوئے شام کی سیاسی وحدت اور آزادی کا ہر قیمت پر تحفظ کرنے پر زور دیا۔