کامن ویلتھ گیمز میں کانسی کا تمغہ جیتنے والی پہلی پاکستانی خاتون باکسر فاطمہ زہرہ کو وزیراعلیٰ مریم نواز کی مبارکباد

محمود احمد, August 01,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کے لیے کانسی کا تمغہ حاصل کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون باکسر فاطمہ زہرہ کو ان کی اس تاریخی کامیابی پر زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

ہفتہ کے روز لاہور سے جاری کردہ اپنے ایک خصوصی پریس بیانیے میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے قومی باکسر فاطمہ زہرہ کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ کامن ویلتھ گیمز جیسے عالمی سطح کے بین الاقوامی ایونٹ میں میڈل جیت کر ملک کا نام روشن کرنا ایک شاندار اور تاریخی کارنامہ ہے جس پر پوری قوم کو فخر ہے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “مجھے یہ دیکھ کر بے حد خوشی اور فخر محسوس ہو رہا ہے کہ پاکستان کی بیٹیاں زندگی کے ہر شعبے بالخصوص کھیل کے میدانوں میں آگے بڑھ کر اپنی خداداد صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ فاطمہ زہرہ کامن ویلتھ گیمز کی تاریخ میں باکسنگ کے کھیل میں پاکستان کے لیے میڈل جیتنے والی پہلی خاتون باکسر بن چکی ہیں، جو کہ پاکستان کی تمام نوجوان خواتین اور ابھرتی ہوئی کھلاڑیوں کے لیے مشعلِ راہ اور ایک بے مثال تحریک کا باعث ہے۔

مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور اختراعی ادویات چین کی برآمدات کے نئے تین نمایاں شعبے بن گئے: عالمی سروے میں 93 فیصد سے زائد افراد کا چینی ٹیکنالوجی پر اعتماد

محمود احمد, August 01,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

مصنوعی ذہانت ، روبوٹکس اور اختراعی ادویات اب عالمی سطح پر چین کی برآمدات کے “نئے تین نمایاں شعبے” بن کر ابھرے ہیں۔ چائنا میڈیا گروپ کے معروف بین الاقوامی نیٹ ورک ‘سی جی ٹی این’ کی جانب سے دنیا بھر کے صارفین کے لیے کیے گئے ایک جامع عالمی سروے میں 93.1 فیصد جواب دہندگان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان تین نئے شعبوں کی عالمی مقبولیت اس امر کا روشن ثبوت ہے کہ چینی مصنوعات اب بین الاقوامی مارکیٹ میں محض خام سامان نہیں بلکہ اصل ٹیکنالوجی، انٹیلیجنٹ سسٹمز اور جدید حل فراہم کر رہی ہیں۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق سال 2026ء کی پہلی ششماہی کے دوران چین کی صنعتی روبوٹکس برآمدات میں سالانہ بنیادوں پر 18.6 فیصد کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس عرصے میں انٹیلیجنٹ بائیونک روبوٹس کی برآمدات 10 ہزار یونٹس سے تجاوز کر گئیں، جبکہ ان جدید روبوٹس کی رسائی دنیا کے 90 سے زائد ممالک اور خطوں تک ہو چکی ہے۔ دوسری جانب، چین کی اختراعی ادویات کی بیرونی لائسنسنگ ٹرانزیکشنز کا مجموعی حجم تقریباً 110 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

سی جی ٹی این کے سروے میں 87.7 فیصد افراد نے رائے دی کہ یہ “نئے تین نمایاں شعبے” چین کی جدید اور مضبوط مینوفیکچرنگ صلاحیت کو اجاگر کرتے ہیں، جبکہ 83.8 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ چینی مینوفیکچرنگ اب تیزی سے ماحول دوست اور ہائی ٹیک طرزِ پیداوار کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ 91.3 فیصد افراد نے اس بات کی توثیق کی کہ عالمگیر مارکیٹ میں چینی مینوفیکچرنگ کا مقابلہ اب صرف بڑے پیمانے پر پیداوار کا نہیں رہا، بلکہ یہ معیار، اعلیٰ ٹیکنالوجی، برانڈ ویلیو اور بہترین سروسز کے مجموعی فوائد میں تبدیل ہو چکا ہے۔

سروے میں شامل 89.5 فیصد سے زائد عالمی صارفین کا کہنا تھا کہ چین کے یہ “نئے تین نمایاں شعبے” عالمی مینوفیکچرنگ انڈسٹری کی جدت اور اپ گریڈیشن کے لیے نئے اور بہترین مواقع فراہم کریں گے۔ یہ عالمی سروے سی جی ٹی این کے انگریزی، ہسپانوی، فرانسیسی، عربی اور روسی پلیٹ فارمز پر شائع کیا گیا، جس میں محض 24 گھنٹوں کے مختصر دورانیے میں دنیا بھر سے 3,339 افراد نے حصہ لے کر اپنی رائے کا اظہار کیا۔

وفاقی حکومت کا کوہلو ترقیاتی پیکیج: 10 منصوبوں پر 7 ارب 91 کروڑ روپے سے زائد کی رقم خرچ

منصور احمد, August 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

وفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان کے ضلع کوہلو کی سماجی و معاشی حالت بدلنے کے لیے جاری کردہ ‘کوہلو ترقیاتی پیکیج’ کے تحت 10 اہم ترقیاتی منصوبوں پر مجموعی طور پر 7 ارب 91 کروڑ 50 لاکھ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، جبکہ ان تمام منصوبوں کی مجموعی منظور شدہ لاگت 7 ارب 95 کروڑ 80 لاکھ روپے ریکارڈ کی گئی ہے۔

‘ویلتھ پاکستان’ کو موصول ہونے والی باضابطہ سرکاری دستاویزات کے مطابق اس خصوصی ترقیاتی پیکیج میں سڑکوں کا نیٹ ورک، تعلیم، صحت، بجلی، پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور آبپاشی کے بنیادی شعبوں سے متعلق اہم منصوبے شامل ہیں۔

دستاویزات کے مطابق پیکیج کا سب سے بڑا اور اہم ترین منصوبہ سبی۔رکھنی روڈ کی تعمیر ہے، جو مائیوند کے راستے ٹلی۔کوہلو سیکشن (کلومیٹر 24 تا 164) پر مشتمل ہے۔ اس روڈ کے منصوبے کی منظور شدہ لاگت 6 ارب 54 کروڑ 50 لاکھ روپے ہے اور اس کی تمام تر رقم استعمال کی جا چکی ہے۔ اس کے علاوہ مختلف دیہات کو کوہلو شہر سے جوڑنے والی بلیک ٹاپ سڑکوں پر 22 کروڑ 22 لاکھ 45 ہزار روپے اور کوہلو بائی پاس روڈ کی تعمیر پر 19 کروڑ 78 لاکھ 60 ہزار روپے کی منظور شدہ رقم مکمل طور پر خرچ کی گئی ہے۔

تعلیم کے شعبے میں کوہلو کیڈٹ کالج کا قیام 21 کروڑ 87 لاکھ 54 ہزار روپے کی رقم سے مکمل کیا گیا، جبکہ گورنمنٹ انٹر گرلز کالج کوہلو کے 12 کروڑ 50 لاکھ روپے کے منصوبے پر اب تک 10 کروڑ 20 لاکھ 96 ہزار روپے صرف ہو چکے ہیں۔ صحت کے شعبے میں کوہلو میں 50 بستروں پر مشتمل جدید اسپتال کے قیام پر 22 کروڑ 57 لاکھ 4 ہزار روپے کی لاگت میں سے 20 کروڑ 50 لاکھ 94 ہزار روپے خرچ کیے گئے ہیں۔

انرجی کے شعبے میں کوہلو کے لیے 132 کے وی (kV) گرڈ اسٹیشن کی تعمیر پر 33 کروڑ 4 لاکھ 30 ہزار روپے اور مست توالکی تک 11 کے وی ٹمبو فیڈر کی تنصیب پر 1 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔ واٹر سپلائی اور زراعت کے لیے کوہلو واٹر سپلائی اسکیم پر 6 کروڑ 75 لاکھ 84 ہزار روپے جبکہ کہان آبپاشی اسکیم پر 1 کروڑ 64 لاکھ 34 ہزار روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔

سرکاری ریکارڈ کے مطابق پیکیج کے 10 میں سے 8 اہم ترین منصوبوں کی تمام رقم صد فیصد خرچ کی جا چکی ہے، جبکہ صرف اسپتال اور گرلز کالج کی دو اسکیموں میں مجموعی طور پر 4 کروڑ 35 لاکھ 14 ہزار روپے کی رقم کی بچت یا بقایا اخراجات باقی ہیں۔

دفترِ خارجہ: پاکستان کا غزہ امن منصوبے اور ‘بورڈ آف پیس’ کے تحت پیش رفت کا خیرمقدم

محمود احمد, August 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

پاکستان نے غزہ امن منصوبے پر عملدرآمد کی جانب ہونے والی مثبت اور اہم پیش رفت کا گرم جوشی سے خیرمقدم کیا ہے۔

دفترِ خارجہ کی جانب سے ہفتہ کے روز جاری کردہ باضابطہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان غزہ امن منصوبے پر موثر عملدرآمد کے سلسلے میں ‘بورڈ آف پیس’ کے تحت ہونے والی پیش رفت کو ایک خوش آئند اور مثبت قدم سمجھتا ہے۔ اعلامیے کے مطابق پاکستان اس خطے میں پائیدار امن کے لیے امریکہ، مصر، قطر اور ترکیہ سمیت تمام ثالثی کرنے والے ممالک کی مسلسل اور انتھک سفارتی کاوشوں کو شاندار الفاظ میں سراہتا ہے اور امید ظاہر کرتا ہے کہ یہ پیش رفت غزہ امن منصوبے کے تحت طے پانے والے تمام معاہدوں اور وعدوں پر مکمل عملدرآمد کی راہ ہموار کرے گی۔

ترجمان دفترِ خارجہ نے اپنے بیان میں اس یقین کا اظہار کیا کہ یہ بین الاقوامی کوششیں بین الاقوامی قانون، عالمی جواز اور اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے عین مطابق ایک قابلِ اعتماد اور مقررہ مدت پر مبنی سیاسی عمل کے ذریعے مظلوم فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کے ناقابلِ تنسیخ حق کے حصول میں انتہائی معاون ثابت ہوں گی۔

بیان کے اختتام پر پاکستان کے دیرینہ اور اصولی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ سیاسی عمل بالآخر 1967ء سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک ایسی آزاد، خودمختار، جغرافیائی طور پر متصل اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام پر منتج ہونا چاہیے جس کا دارالحکومت ‘القدس الشریف’ ہو۔

جی ایچ کیو راولپنڈی میں پیپلز لبریشن آرمی کی 99ویں سالگرہ کی تقریب: پاکستان اور چین کی دوستی ہر آزمائش پر پوری اتری ہے، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر

منصور احمد, August 01,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

پاک فوج کے سپہ سالار، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر نے پاکستان اور چین کے دیرینہ و مضبوط تذویراتی تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں دوست ممالک کی باہمی دوستی انتہائی منفرد، وقت کی ہر کسوٹی پر پرکھی ہوئی اور بدلتے ہوئے علاقائی و عالمی چیلنجز کے باوجود مضبوطی سے قائم و دائم ہے۔

ہفتہ کے روز پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، چین کی عوامی جمہوریہ کی پیپلز لبریشن آرمی کے قیام کی 99ویں سالگرہ کی پروقار تقریب جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں منعقد کی گئی۔ چین کے پاکستان میں سفیر جیانگ زائی ڈونگ اس موقع پر مہمانِ خصوصی تھے۔ تقریب میں چین کے دفاعی اتاشی میجر جنرل وانگ ژونگ، چینی سفارت خانے کے اعلیٰ عہدیداران اور پاکستان کی تینوں مسلح افواج کے سینئر افسران نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر نے جی ایچ کیو آمد پر تمام معزز مہمانوں کا گرم جوشی سے استقبال کیا اور پیپلز لبریشن آرمی کو اس کی 99ویں سالگرہ پر دلی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے چین کے دفاع، قومی ترقی اور بین الاقوامی سطح پر امن و سلامتی کے قیام میں پی ایل اے کی نمایاں خدمات کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔

پاکستان اور چین کے تعلقات کی پائیدار مضبوطی پر بات کرتے ہوئے آرمی چیف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاک فوج اور پی ایل اے حقیقی اور غیر متزلزل شرکاء ہیں، جو باہمی اعتماد، سچی حمایت اور علاقائی امن و استحکام کے تحفظ کے مشترکہ عزم سے جڑے ہوئے ہیں۔

اس موقع پر چینی سفیر جیانگ زائی ڈونگ نے جی ایچ کیو میں یادگاری تقریب کی میزبانی پر آرمی چیف کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی بے مثال خدمات اور قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے پاکستان کے لیے چین کی غیر متزلزل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان ہر موسم میں آزمودہ تذویراتی شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

وضاحتی نوٹ: متن میں پیش کردہ عہدے کی تصحیح کے ساتھ آرمی چیف کا باضابطہ اور درست رینک ‘جنرل’ ہی تحریر کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کا دورۂ ترکیہ: ‘ٹراسا’ اور ‘اسیلسن’ کا دورہ، ریلوے کی جدید کاری اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر اتفاق

منصور احمد, August 01,2026

انقرہ/ترکیہ (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے ریلوے محمد حنیف عباسی نے ترکیہ کے اپنے دو روزہ سرکاری دورے کے دوسرے روز ترکیہ کی معروف ریلوے مینوفیکچرنگ کمپنی ‘ٹراسا’ اور عالمی شہرت یافتہ دفاعی و ہائی ٹیکنالوجی کمپنی ‘اسیلسن’ کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر پاکستان ریلوے کی جامع جدید کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی، مشترکہ مینوفیکچرنگ اور ڈیجیٹل ریلوے نظام کے فروغ پر دونوں ممالک کے حکام کے درمیان اہم اور تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزارتِ ریلوے کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق وفاقی وزیر نے اعلیٰ سطحی پاکستانی وفد کے ہمراہ جدید ریلوے ٹیکنالوجی، مسافر کوچز، ریلوے انجن، الیکٹرک اور ڈیزل ملٹی پل یونٹس فریٹ ویگنز، جدید پیداواری نظام، ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ اور کوالٹی کنٹرول کے مختلف شعبوں کا بچشمِ خود معائنہ کیا۔ دورے کے دوران ترک نائب وزیر ٹرانسپورٹ عثمان بویراز، ٹراسا کے ڈائریکٹر جنرل سلیم کوچبائے، ٹی سی ڈی ڈی تاشیماجیلک کے ڈائریکٹر جنرل اوفوک یالچن، ڈپٹی گورنر ساکاریا اور اسیلسن کے اعلیٰ حکام نے پاکستانی وفد کو ترکیہ کے جدید ریلوے آپریشنز، سگنلنگ، مواصلاتی نظام، سائبر سکیورٹی اور اسمارٹ ٹرانسپورٹ ٹیکنالوجیز پر تفصیلی بریفنگ دی۔

مذاکرات کے دوران پاکستان ریلوے، ٹراسا اور اسیلسن کے درمیان ٹیکنالوجی ٹرانسفر، مشترکہ مینوفیکچرنگ، رولنگ اسٹاک کی جدید کاری، جدید سگنلنگ، ٹیلی کمیونیکیشن، خودکار ٹرین کنٹرول ، سائبر سکیورٹی اور ذہین ریلوے نظام میں آئندہ کے لیے وسیع تعاون کے امکانات کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ مزید برآں، کیرج فیکٹری اسلام آباد اور پاکستان ریلوے کی دیگر مرکزی ورکشاپس کو جدید ترک ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے اور مقامی سطح پر ریلوے آلات کی تیاری کے امکانات پر بھی فریقین کے مابین کامل اتفاقِ رائے پایا گیا۔

وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ریلوے کی مکمل ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن، جدید ٹریفک مینجمنٹ، فائبر آپٹک مواصلاتی نظام اور محفوظ ریلوے آپریشنز موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایم ایل-1 (ML-1)، ایم ایل-3 (ML-3) اور اہم ترین ‘اسلام آباد-تہران-استنبول’ فریٹ کوریڈور کی کامیابی کے لیے جدید ریلوے ٹیکنالوجی کو اپنانا نہایت ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی معیار کے سگنلنگ اور مواصلاتی نظام کی بدولت علاقائی روابط اور فریٹ آپریشنز مزید مستحکم اور منافع بخش ہوں گے۔

رکنِ قومی اسمبلی ملک محمد اقبال چنڑ کے انتقال پر چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار

کاشف عباسی , August 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے رکنِ قومی اسمبلی ملک محمد اقبال چنڑ کے ناگہانی انتقال پر گہرے دکھ، رنج اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کی طویل پارلیمانی، سیاسی اور عوامی خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

سینیٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے ہفتہ کے روز جاری کردہ ایک رسمی تعزیتی بیانیے میں چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ملک محمد اقبال چنڑ کے انتقال سے ملک و قوم ایک مخلص، دردِ دل رکھنے والے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے کوشاں سچے نمائندے سے محروم ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم نے اپنے پورے سیاسی و پارلیمانی کیریئر میں جمہوری اقدار کے فروغ، پارلیمنٹ کی توقیر اور عوام کی خدمت کے لیے گراں قدر اور ناقابلِ فراموش خدمات سرانجام دیں۔

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر ملک ظہیر اقبال چنڑ سے ان کے والدِ گرامی کے انتقال پر دلی تعزیت اور سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے غم اور مشکل کی اس گھڑی میں سوگواران کے ساتھ کامل یکجہتی کا یقین دلایا۔

چیئرمین سینیٹ نے بارگاہِ الٰہی میں دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی روح کو جوارِ رحمت میں جگہ دے، ان کے درجات بلند فرمائے اور سوگوار خاندان کو یہ ناقابلِ تلافی نقصان اور عظیم صدمہ صبرِ جمیل کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

ریٹائر ہونے والے ملازمین کو پنشنری مراعات ریٹائرمنٹ کے وقت ہی فراہم کی جائیں: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحیٰ آفریدی کی سخت ہدایت

منصور احمد, August 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحیٰ آفریدی نے سپریم کورٹ سمیت تمام متعلقہ شعبوں کو بروقت پنشنری مراعات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ریٹائر ہونے والے ملازمین کو ان کے تمام تر پنشنی حقوق ریٹائرمنٹ کے دن ہی فراہم کر دیے جانے چاہئیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ اپنی تمام تر زندگی ادارے کے لیے وقف کرنے والے افسران و ملازمین کو ان کے قانونی و آئینی حقوق بلا تاخیر اور بغیر کسی دشواری کے ملنے چاہئیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سپریم کورٹ کے ریٹائر ہونے والے سینئر اسسٹنٹ رجسٹرار حفظ الرحمٰن کے اعزاز میں منعقدہ ایک پروقار الوداعی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

تقریب کے دوران چیف جسٹس یحیٰ آفریدی نے حفظ الرحمٰن کو ان کی تمام پنشنری مراعات کا چیک موقع پر ہی پیش کیا اور اسٹیبلشمنٹ برانچ کو آئندہ کے لیے بھی پنشن سے متعلق تمام ضروری کاغذی و انتظامی کارروائیاں ملازم کی ریٹائرمنٹ سے قبل مکمل کرنے کا حکم دیا۔ چیف جسٹس نے زور دے کر کہا کہ سپریم کورٹ اپنے ملازمین کی فلاح و بہبود، ان کے حقوق کے تحفظ اور ایک مؤثر و شفاف انتظامی نظام کے فروغ کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ انتظامیہ ریٹائر ہونے والے ملازمین کے وقار اور ان کے حقوق کے بروقت تحفظ کو ہر صورت یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ تقریب میں رجسٹرار سپریم کورٹ، دیگر اعلیٰ افسران اور عملے نے بھی شرکت کی اور ریٹائر ہونے والے سینئر اسسٹنٹ رجسٹرار حفظ الرحمٰن کی ادارے کے لیے پیش کردہ طویل و پرخلوص خدمات کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ تقریب کے اختتام پر شرکاء نے حفظ الرحمٰن کے لیے صحت مند، خوشحال اور پرسکون ریٹائرڈ زندگی کے لیے نیک خواہشات اور تمناؤں کا اظہار کیا۔

ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کا روات میں چھاپہ: غیر قانونی فارماسیوٹیکل فیکٹری اور اسٹوریج سیل

کاشف عباسی , August 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے مین جی ٹی روڈ، روات میں واقع کھوکھر پلازہ کے مقابل ایک بڑی اور غیر قانونی فارماسیوٹیکل پروڈکشن اور اسٹوریج فیکلٹی پر اچانک چھاپہ مار کر احاطے کو مکمل طور پر سیل کر دیا ہے۔

ترجمان ایف آئی اے کے مطابق یہ کارروائی خفیہ اطلاع پر عمل میں لائی گئی۔ چھاپے کے دوران موقع سے 14,961 مختلف اقسام کی گولیاں، 500 انجیکشنز، مختلف برانڈز کے 20,900 سیرپ اور 4,630 مختلف کریمز برآمد کی گئیں۔ اس کے علاوہ غیر قانونی تیاری میں استعمال ہونے والے 15 لاکھ خالی ہارڈ جیلاٹن کیپسول شیلز، 1,072 کلوگرام خام مال، 66,258 خالی بوتلیں، ایکٹو فارماسیوٹیکل انگریڈیئنٹس ، نیوٹراسیوٹیکل خام مال، پیکنگ میٹریل، فزیشن سیمپلز اور دوا سازی کی جدید مینوفیکچرنگ و پیکنگ مشینری بھی بحقِ سرکار ضبط کر لی گئی۔

تفتیشی ٹیم کے موقع پر معائنے سے انکشاف ہوا کہ اس غیر قانونی فیکٹری میں ڈرگ ریگولیٹری قواعد و ضوابط، گڈ سٹوریج پریکٹسز اور گڈ ڈسٹری بیوشن پریکٹسز کی سنگین ورزیاں کی جا رہی تھیں۔ ادویات کی معیار، حفاظت اور افادیت کے لیے قانون کے مطابق درکار درجہ حرارت اور دیگر ضروری تکنیکی شرائط کا سرے سے کوئی اہتمام نہیں کیا گیا تھا۔

کارروائی کے دوران موجود فیڈرل ڈرگ انسپکٹر نے ڈرگ ایکٹ کے تحت موقع سے ادویات اور خام مال کے نمونے حاصل کر کے لیبارٹری تجزیے کے لیے ارسال کر دیے ہیں، جس کی حتمی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ملوث ملزمان کے خلاف ایف آئی اے کے ذریعے مزید قانونی اور سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ایف آئی اے حکام نے واضح کیا ہے کہ عوام الناس کی زندگیوں اور صحت سے کھیلنے والے جعلی ادویات کے مافیا کے خلاف اینٹی کرپشن سرکل کا بلاامتیاز کریک ڈاؤن آئندہ بھی بلا تعطل جاری رہے گا۔

رکنِ قومی اسمبلی ملک محمد اقبال چنڑ کے انتقال پر وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کا گہرے دکھ کا اظہار

کاشف عباسی , August 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور رکنِ قومی اسمبلی ملک محمد اقبال چنڑ کے ناگہانی انتقال پر گہرے دکھ، رنج اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے تعزیتی بیانیے میں وفاقی وزیر نے کہا کہ مرحوم نے اپنی پوری سیاسی زندگی میں بے لوث عوامی خدمت، پاکستان مسلم لیگ (ن) سے لازوال وفاداری اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے انتہائی گراں قدر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک محمد اقبال چنڑ کا انتقال پارٹی بالخصوص ملکی سیاست کے لیے ایک بہت بڑا نا وہ پورا ہونے والا نقصان ہے۔

ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے اپنی پوسٹ کے ذریعے مرحوم کے سوگوار اہلِ خانہ، بالخصوص ان کے صاحبزادے اور ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک ظہیر اقبال چنڑ اور تمام متعلقین سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے ربّ العزت کے حضور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کے بلند درجات فرمائے، ان کی مغفرت کرے اور لواحقین کو یہ صدمہ صبر و حوصلے سے برداشت کرنے کی ہمت عطا فرمائے۔

رکنِ قومی اسمبلی ملک اقبال چنڑ کے انتقال پر گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار

منصور احمد, August 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے سینئر سیاستدان، رکنِ قومی اسمبلی ملک اقبال چنڑ کے ناگہانی انتقال پر گہرے رنج و غم اور دلی افسوس کا اظہار کیا ہے۔ مرحوم، پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر ملک ظہیر اقبال چنڑ کے والدِ گرامی تھے۔

ہفتہ کے روز جاری کردہ اپنے ایک خصوصی تعزیتی بیانیے میں گورنر خیبرپختونخوا نے مرحوم ملک اقبال چنڑ کی سیاسی، سماجی اور طویل عوامی خدمات کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ مرحوم نے جمہوری اقدار کی پاسداری اور عوامی خدمت کے میدان میں انتہائی گراں قدر خدمات انجام دیں، جنہیں سیاسی و سماجی حلقوں میں ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا اور یاد رکھا جائے گا۔

گورنر فیصل کریم کنڈی نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک ظہیر اقبال چنڑ، ان کے سوگوار خاندان اور تمام پسماندگان سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے مرحوم کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ ملک اقبال چنڑ کی کامل مغفرت فرمائے، انہیں جوارِ رحمت اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور تمام لواحقین کو اس ناگہانی و عظیم صدمے کو صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق دے۔

سیلاب متاثرین کی امداد کے دوران جامِ شہادت نوش کرنے والے 6 شہداء کی عظیم قربانی؛ پاک فوج عوام کی خدمت اور دفاعِ وطن کے لیے ہمیشہ پیش پیش

کاشف عباسی , August 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

پاک فوج کی عوام کے لیے کی جانے والی بے لوث خدمات سے تاریخ بھری پڑی ہے، چاہے جنگ کی صورتحال ہو یا ناگہانی آفت، مسلح افواج نے قوم کو کبھی مایوس کیا اور نہ ہی تنہا چھوڑا ہے۔ عوامی خدمت کی ایسی ہی لازوال اور بے لوث مثال 2022ء کی تباہ کن سیلابی صورتحال کے دوران قائم کی گئی تھی۔

آج یکم اگست 2026ء کو کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی شہید اور ان کے ساتھیوں کی چوتھی برسی منائی جا رہی ہے۔ یکم اگست 2022ء کو لسبیلہ میں سیلاب متاثرین کی امدادی سرگرمیوں کا خود جائزہ لینے کے لیے ریسکیو مشن کی قیادت کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی کا ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہو گیا تھا، جس میں انہوں نے اپنے دیگر 5 رفقائے کار کے ساتھ جامِ شہادت نوش کیا۔

اس المناک حادثے میں بریگیڈیئر امجد حنیف (جو حادثے سے کچھ عرصہ قبل ہی میجر جنرل کے عہدے پر ترقی پا چکے تھے)، بریگیڈیئر محمد خالد، پائلٹ میجر سعید احمد، میجر محمد طلحہ اور نائیک مدثر فیاض بھی ملک و قوم کی خدمت کرتے ہوئے شہید ہو گئے تھے۔ اس دردناک حادثے نے پوری قوم کی آنکھیں اشکبار کر دی تھیں اور ملک کی فضا کئی روز تک شدید سوگوار رہی۔

کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی شہید ایک انتہائی پیشہ ور، باصلاحیت اور نڈر آفیسر تھے جنہوں نے پاک فوج میں اہم ترین عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ انہیں نومبر 2020ء میں تھری سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی جبکہ دسمبر 2020ء میں انہیں کور کمانڈر کوئٹہ تعینات کیا گیا تھا۔ پاک فوج ہر مشکل گھڑی میں اپنے ہم وطنوں کی مدد اور ملک و قوم کے دفاع کے لیے ہمیشہ تپش و قربانی کے جذبے سے شارشار رہی ہے اور آئندہ بھی کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔

آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے دوسرے مرحلے کے انتخابات: مظفرآباد ڈویژن میں پولنگ کل ہوگی

کاشف عباسی , August 01,2026

مظفرآباد/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

آزاد جموں و کشمیر میں عام انتخابات کے دوسرے مرحلے کے تحت مظفرآباد ڈویژن میں پولنگ کا معرکہ کل، 2 اگست بروز اتوار سجنے جا رہا ہے۔ اس مرحلے کے دوران مظفرآباد ڈویژن کے تمام عام انتخابی حلقوں کے ساتھ ساتھ مقیم پاکستان مہاجرین جموں و کشمیر کی 12 مخصوص نشستوں پر بھی کل ہی ووٹنگ کے ذریعے نمائندوں کا انتخاب کیا جائے گا۔

انتخابات کے موقع پر کالعدم ایکشن کمیٹی کے کور ممبر راجہ سعید امجد نے اپنے ایک خصوصی ویڈیو پیغام کے ذریعے مظفرآباد ڈویژن کی عوام سے انتخابی عمل میں بھرپور حصہ لینے کی اپیل کی ہے۔ راجہ سعید امجد کا اپنے ویڈیو پیغام میں کہنا تھا کہ وہ مظفرآباد ڈویژن کے غیرت مند عوام سے مخاطب ہیں کہ وہ 2 اگست کو پولنگ کے عمل میں بلا خوف و خطر اور بھرپور انداز میں حصہ لے کر اس اہم جمہوری عمل کا لازمی حصہ بنیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح میرپور ڈویژن کے غیور عوام نے پہلے مرحلے میں اپنا جمہوری حق استعمال کیا، بالکل اسی طرح مظفرآباد ڈویژن کے عوام بھی باہر نکلیں اور اپنے ووٹ کی طاقت سے اپنے نمائندوں کو منتخب کریں۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے پہلے مرحلے میں عوام کی ریکارڈ اور پرجوش شرکت اس بات کی واضح عکاس ہے کہ باشعور اور غیور کشمیری اپنے حقوق کے حصول کے لیے پرامن جمہوری عمل پر کامل یقین رکھتے ہیں۔

راولپنڈی اور اسلام آباد میں موسلادھار بارش سے نشیبی علاقے زیرِ آب، بہارہ کہو ڈوب گیا؛ نالہ لئی میں پانی کی سطح بلند، راولپنڈی میں پری الرٹ نافذ

منصور احمد, August 01,2026

راولپنڈی/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد میں موسلادھار بارشوں کے بعد شدید طغیانی اور ندی نالوں میں ابال آنے سے بیشتر نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں۔ اسلام آباد کا مضافاتی علاقہ بہارہ کہو بارشی پانی میں مکمل ڈوب گیا ہے، جبکہ راولپنڈی کے متعدد تجارتی و رہائشی علاقوں میں ندی نالوں کا پانی جمع ہونے سے شہریوں اور تاجروں کو شدید مشکلات اور مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بہارہ کہو میں نکاسیِ آب کا موثر اور بروقت انتظام نہ ہونے کے باعث بارشی پانی گھروں اور دکانوں میں داخل ہو گیا جس سے شہریوں کا قیمتی سامان تباہ ہو گیا اور تمام اہم شاہراہیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگی ہیں۔ دوسری جانب راولپنڈی کی مصریال روڈ فرینڈز کالونی میں ایک انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک بچہ تیز بارشی پانی میں ڈوب گیا۔ اس کے علاوہ راولپنڈی کے مشہور راجہ بازار کے ماڈل بازار میں پانی جمع ہو گیا اور دکانوں کے اندر پانی داخل ہونے سے تاجر برادری کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

نالہ لئی میں پانی کی سطح میں مسلسل اور تیز رفتاری سے اضافہ ہو رہا ہے۔ فلڈ کنٹرول روم کی رپورٹ کے مطابق راولپنڈی کٹاریاں کے مقام پر پانی کی سطح 10 فٹ جبکہ گوالمنڈی کے مقام پر 9 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے باعث گوالمنڈی کے مقام پر باقاعدہ ‘پری الرٹ’ (Pre-Alert) نافذ کر دیا گیا ہے، واضح رہے کہ کٹاریاں پر پری الرٹ لیول 11.4 فٹ مقرر ہے۔

محکمہ موسمیات اور فلڈ کنٹرول روم کے مطابق نالہ لئی بیسن میں اوسط بارش 54.51 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔ سب سے زیادہ بارش کچہری چکلالہ میں 103 ملی میٹر ریکارڈ ہوئی، جبکہ شمس آباد میں 71، سیدپور ویلیج میں 67، پی ایم ڈی (ایچ ایٹ) میں 63، پیرودھائی میں 60، نیو کٹاریاں میں 58، گولڑہ میں 51 اور بوکھڑا کے مقام پر 41 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ متعلقہ انتظامیہ اور ریسکیو ادارے نالہ لئی اور تمام حساس نشیبی علاقوں میں صورتحال کی 24 گھنٹے مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔

وفاقی دارالحکومت میں موسلادھار بارشیں: پانی کی سطح 1748.30 فٹ تک پہنچنے پر راول ڈیم کے سپل ویز کھول دیے گئے

منصور احمد, August 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور ملحقہ علاقوں میں جاری موسلادھار بارشوں کے بعد راول ڈیم میں پانی کی آمد میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے پیشِ نظر ڈیم کی انتظامیہ نے راول ڈیم کے سپل ویز باقاعدہ طور پر کھول دیے ہیں۔ ڈیم میں پانی کی سطح خطرناک حد کے قریب یعنی 1748.30 فٹ تک پہنچنے کے بعد یہ اقدام اٹھایا گیا۔

تفصیلات کے مطابق آج صبح 6 بجے راول ڈیم اسلام آباد کے سپل ویز کھولے گئے تاکہ ڈیم میں پانی کی سطح کو کنٹرول کرتے ہوئے 1748.30 فٹ سے کم کر کے محفوظ سطح یعنی 1747 فٹ پر لایا جا سکے۔ سپل ویز کھولنے سے قبل باقاعدہ سائرن بجا کر ڈیم کے اطراف اور نچلی آبادیوں کو الرٹ کیا گیا۔ ڈیم کے سب ڈویژنل آفیسر اعجاز احمد کھٹانہ کے مطابق سپل ویز کے ذریعے 6 ہزار 283 کیوسک پانی ڈیم سے خارج کیا گیا ہے، جس سے پانی کی سطح میں 2 فٹ تک کمی لائی گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سپل ویز کھولنے کے اس آپریشن سے پہلے ہی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے تمام متعلقہ اداروں اور انتظامیہ کو پیشگی اطلاع فراہم کر دی تھی۔

کورنگ نالے میں پانی کے تیز بہاؤ اور طغیانی کے خدشے کے پیشِ نظر ملحقہ آبادیوں کے مکینوں کو انتہائی محتاط رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ انتظامیہ نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ کورنگ نالے اور اس پر بنے عارضی پلوں کو پار کرنے سے مکمل گریز کریں۔

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور ضلعی انتظامیہ نے تمام متعلقہ اداروں اور ریسکیو سروسز کو 24 گھنٹے ہائی الرٹ رہنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت رسپانس یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔ ڈی سی اسلام آباد نے شہریوں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ بارشوں کے دوران ندی نالوں، برساتی نالوں اور پانی کے تیز بہاؤ والی جگہوں سے دور رہیں اور غیر ضروری طور پر ڈیم یا نالوں کے قریب جانے سے گریز کریں۔ ضلعی انتظامیہ نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے یا ہنگامی مدد کی صورت میں فوری طور پر ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن یا ریسکیو اداروں سے رابطہ قائم کریں۔

اقوامِ متحدہ: پاکستان کا نوجوانوں پر امن اور کثیرالجہتی نظام کے فروغ میں قائدانہ کردار ادا کرنے پر زور

محمود احمد, August 01,2026

اقوامِ متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

پاکستان نے دنیا بھر کے نوجوانوں پر زور دیا ہے کہ وہ عالمی امن کے فروغ، کثیرالجہتی نظام کے استحکام اور عالمی چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے میں اپنا متحرک اور قائدانہ کردار ادا کریں۔

اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں “فیوچر وی وانٹ: گلوبل انیشی ایٹو فار ینگ لیڈرز” کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، جو “نوجوانوں کو کثیرالجہتی نظام کے استحکام کے لیے بااختیار بنانا” کے عنوان کے تحت منعقد ہوا، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ پاکستان کی تقریباً 65 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس امر پر پختہ یقین رکھتا ہے کہ نوجوان زیادہ پُرامن، منصفانہ اور جامع مستقبل کی تعمیر میں سب سے اہم شراکت دار ہیں۔ انہوں نے دنیا بھر سے نوجوان رہنماؤں کو یکجا کرنے پر اٹلی کے مستقل مشن اور اطالوی ڈپلومیٹک اکیڈمی کا شکریہ ادا کیا۔

مستقل مندوب نے اپنے خطاب میں کہا کہ اقوامِ متحدہ کا قیام آنے والی نسلوں کو جنگ کی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے عمل میں آیا تھا، اور امن، انسانی حقوق اور پائیدار ترقی آج بھی اقوامِ متحدہ کے نظام کے تین بنیادی اور باہم مربوط ستون ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امن صرف جنگ یا تنازع کے نہ ہونے کا نام نہیں، بلکہ یہ انصاف، مکالمے، باہمی احترام اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے مقاصد اور اصولوں کی پاسداری پر استوار ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج کی دنیا مسلح تنازعات، غیر ملکی قبضے اور بڑھتی ہوئی تقسیم کا سامنا کر رہی ہے، جس کے باعث مؤثر کثیرالجہتی تعاون کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے کیونکہ کوئی بھی ملک تنہا ان باہم مربوط عالمی چیلنجز سے نہیں نمٹ سکتا۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے پاکستان کی بین الاقوامی سفارت کاری میں خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے یاد دلایا کہ سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 (2025) متفقہ طور پر منظور کی گئی تھی، جس میں مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے پُرامن حل کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ انہوں نے مغربی ایشیا میں حالیہ تنازع کے دوران تحمل، مکالمے اور کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کے مضبوط موقف اور ان سفارتی کوششوں کا بھی ذکر کیا جو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی صورت میں نتیجہ خیز ثابت ہوئیں۔

نوجوان شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امن کا قیام صرف کانفرنس ہالوں یا مذاکراتی کمروں تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ اس کی بنیاد تعلیمی اداروں، جامعات، مقامی برادریوں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر رکھی جاتی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو تلقین کی کہ وہ باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دیں، تنوع کو اپنائیں، عدم برداشت اور گمراہ کن معلومات کا مقابلہ کریں، اور مختلف ثقافتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کریں۔ اپنے خطاب کے اختتام پر سفیر عاصم افتخار احمد نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ تقسیم کے بجائے تعاون، محاذ آرائی کے بجائے مکالمے اور خوف کے بجائے امید کا راستہ اختیار کریں۔

اقوامِ متحدہ کی بریفنگ: پاکستان کا جامع، انسان دوست اور شمولیتی عالمی مصنوعی ذہانت حکمرانی کے عزم کا اعادہ

محمود احمد, August 01,2026

اقوامِ متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں منعقدہ 2026ء ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کانفرنس اور عالمی مصنوعی ذہانت حکمرانی پر اعلیٰ سطحی اجلاس سے متعلق بریفنگ کے دوران ایک جامع، انسان دوست اور ترقی پر مبنی مصنوعی ذہانت کے فروغ کے لیے اپنے مکمل عزم کا اعادہ کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے پاکستان کا باضابطہ موقف پیش کرتے ہوئے اس بین الاقوامی کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر چین کو مبارکباد پیش کی اور ‘ورلڈ اے آئی کوآپریشن آرگنائزیشن’ کے تاریخی قیام کا پرزور خیرمقدم کیا۔ انہوں نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اس کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کی، جبکہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے مئی 2026ء میں اپنے دورۂ چین کے دوران اس اہم بین الاقوامی اقدام کی مکمل حمایت کا اعلان کیا تھا۔ سفیر عاصم افتخار احمد نے اس بات پر فخر کا اظہار کیا کہ پاکستان اس نئی عالمی تنظیم کے بانی ارکان میں شامل ہے۔

پاکستان کے مستقل مندوب نے زور دے کر کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو عالمی مصنوعی ذہانت کی جدید معیشت میں مؤثر اور بامعنی شرکت کے لیے ڈیٹا، کمپیوٹنگ صلاحیت، ماڈلز، ضروری آلات اور جدید تکنیکی مہارت تک مساوی و منصفانہ رسائی حاصل ہونی چاہیے۔ انہوں نے کانفرنس کے نتائج کو عالمی ٹیکنالوجی تعاون کے فروغ کے لیے ایک عملی اور مؤثر لائحۂ عمل قرار دیا۔

انہوں نے مستقبل کے تکنیکی تعاون کے لیے تین اہم ترجیحات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ترقی پذیر ممالک میں مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے اور صلاحیتوں کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ صحت، تعلیم، زراعت اور موسمیاتی تبدیلی جیسے پائیدار ترقی کے شعبوں میں مصنوعی ذہانت کا عملی استعمال بڑھایا جائے اور بین الاقوامی معیارات، ڈیجیٹل تحفظ اور ضوابط کے حوالے سے بین الاقوامی تعاون کے ذریعے ذمہ دارانہ عالمی حکمرانی کو فروغ دیا جائے۔ سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان، چین اور دیگر عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گا تاکہ مصنوعی ذہانت کو تمام انسانیت کی مشترکہ خوشحالی اور پائیدار ترقی کا ضامن بنایا جا سکے۔

مون سون بارشوں کے پیشِ نظر راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ میں ہائی الرٹ جاری: ایمرجنسی اسٹاف کی تمام چھٹیاں منسوخ

کاشف عباسی , JULY 31,026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

مون سون کی متوقع شدید بارشوں اور ندی نالوں میں طغیانی کے ممکنہ خطرات کو مدِنظر رکھتے ہوئے راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ نے کنٹونمنٹ کے تمام علاقوں میں ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ ایگزیکٹو آفیسر عامر رشید کی خصوصی ہدایت پر ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے ایمرجنسی اسٹاف اور صفائی کے عملے کی تمام تعطیلات فوری طور پر منسوخ کر دی گئی ہیں، جبکہ نالوں کے قریب اور نشیبی علاقوں میں مقیم شہریوں کو بھی آگاہی اور الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

ترجمان راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کے مطابق بارشوں کے دوران پانی کی فوری اور موثر نکاسی کو یقینی بنانے کے لیے فیلڈ افسران، آپریشنل مشینری اور عملہ مکمل طور پر مستعد ہے۔ مون سون سیزن کے آغاز سے قبل شروع کی گئی خصوصی صفائی مہم کے تحت ٹینچ بھاٹہ، جان کالونی، اسلم مارکیٹ، حبیب کالونی، فرینڈز کالونی، شالے ویلی، رینج روڈ، رینج روڈ کالونی، ڈھوک بنارس، غازی آباد، کامران مارکیٹ، فیصل کالونی اور آڈرا 22 نمبر جیسے تمام حساس اور اہم نالوں کی صفائی کا کام تقریباً مکمل کیا جا چکا ہے اور ان مقامات کی چوبیس گھنٹے نگرانی کی جا رہی ہے۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری اور موثر انداز میں نمٹنے کے لیے بھاری اور ہلکی مشینری (بشمول سیکشن پمپنگ مشینری) کو ہائی الرٹ اور فیلڈ کے لیے تیار رکھا گیا ہے۔ کنٹونمنٹ انتظامیہ نے شہریوں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ نالوں اور نالیوں میں کچرا، ملبہ یا دیگر فضلا ہرگز نہ پھینکیں کیونکہ اس سے پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ شہریوں سے انتظامیہ کے ساتھ تعاون کرنے اور کسی بھی شکایت یا ہنگامی مدد کی صورت میں فوری متعلقہ حکام سے رابطے کی استدعا کی گئی ہے۔

آرٹیکل 370 اور 35 کی منسوخی کے 7 سال: مقبوضہ کشمیر میں امن و ترقی کے بھارتی دعوے زمینی حقائق کے برعکس نکلے

منصور احمد, JULY 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

غیر قانونی زیرِ تسلط مقبوضہ جموں و کشمیر میں اگست 2019ء کے دوران بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35کی یکطرفہ و غیر قانونی منسوخی کے بعد سے اب تک وادی میں امن، ترقی اور خوشحالی سے متعلق بھارتی حکومت کے تمام تر ادعا اور دعوے مکمل طور پر کھوکھلے ثابت ہوئے ہیں۔ سیاسی اور دفاعی تجزیہ کاروں کی جانب سے پیش کردہ ایک جامع رپورٹ کے مطابق، گزشتہ سات سال کے دوران مقبوضہ خطے کو معاشی تباہی، سیاسی بے چینی اور انسانی حقوق کے شدید ترین چیلنجز کا سامنا رہا ہے جو نئی دہلی کے سرکاری بیانیے کو بے نقاب کرتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت نے آئینی حیثیت کے خاتمے کو وادی کے انضمام اور ترقی کے منصوبے کے طور پر پیش کیا تھا، تاہم سات سال کے بعد بھی بے روزگاری، شدید عسکریت، جبری نظر بندیاں اور آبادی کی تناسب کو بدلنے کی ناپاک کوششیں عروج پر ہیں۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ بھارتی حکومت سیاحوں کی تعداد کو معمول کی زندگی کا ثبوت بنا کر پیش کرتی ہے، تاہم 2019ء کی پابندیوں اور 2025ء کے پہلگام حملے کے بعد وادی کا شعبۂ سیاحت مکمل طور پر سیکورٹی فورسز کے رحم و کرم پر ہے جس سے مقامی ہاتھ کے کاریگر، تاجر اور سیاحت سے وابستہ ہزاروں کشمیری شدید معاشی بحران کا شکار ہیں۔ اس کے علاوہ سیب کی صنعت، باغبانی اور درمیانے درجے کے تمام کاروبار نئے ٹیکسوں، متنازعہ زمینی پالیسیوں اور کاروباری بندشوں کی وجہ سے تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق تعلیم کا شعبہ مسلسل انٹرنیٹ کی بندش، طویل سیکورٹی پابندیوں اور اساتذہ کی شدید کمی سے متاثر ہے، جس سے پوری وادی کے نوجوان خوف، شدید ذہنی دباؤ اور غیر یقینی صورتحال میں مبتلا ہیں۔ دوسری جانب زمین، ڈومیسائل اور انتظامی قوانین میں جابرانہ ترمیم کے ذریعے مقبوضہ وادی کی مسلم اکثریتی آبادیاتی ساخت کو ہندو اکثریت میں بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی ورزی ہے۔ مذہبی قیادت پر پابندیوں اور اسلامی اداروں میں مداخلت نے کشمیریوں میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔

جولائی 2026ء میں وادی کے اندر ‘ریاستی حیثیت کی بحالی’ کی تحریک نے مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور مذہبی قیادت کو ایک بار پھر ایک پیج پر متحد کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئینی حقوق کی بحالی، تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی اور سچی جمہوریت کا قیام ہی حل ہے۔ رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ وادی میں پائیدار امن تبھی ممکن ہے جب جموں و کشمیر کے تنازع کو بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات و امنگوں کے مطابق حل کیا جائے۔

ایک لاکھ کشمیری پاک فوج کا حصہ ہیں، قربانی دینے والوں کو قابض کہنا زیادتی ہے؛ 25 کروڑ آبادی کی ضروریات کے لیے انتظامی ری سیٹ پر عوام اور حکومت غور کریں، اہم پریس کانفرنس

منصور احمد, JULY 31,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے راولپنڈی میں اہم ترین میڈیا بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر اور پاکستان کی سلامتی و انتظامی ڈھانچے پر پاک فوج کا موقف بالکل واضح اور قطعی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے زور دے کر کہا کہ “پاکستان کا سب سے لاڈلہ بچہ کشمیر ہے، کشمیر پاکستان کی شہ رگ تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا، ہمارے بچے بڑے ہوں گے تو ان کی بھی یہی ایک آواز رہے گی کہ کشمیر بنے گا پاکستان۔”

ترجمان پاک فوج نے مقبوضہ و آزاد کشمیر کی صورتحال اور پاک فوج پر بلاجواز تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ “ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے اور کشمیر بھی ہمارا ہے، مگر دوسری جانب تقاریر میں پاکستان کی فوج کو قابض کہا جا رہا ہے۔ یہ بتائیں کہ اسی پاک فوج میں کم از کم ایک لاکھ کشمیری جوان شامل ہیں، اور کتنے ہی پاکستانی مجاہدین و افواج کے افسران نے کشمیر کی آزادی کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں۔ انہیں قابض کہنا کسی صورت درست نہیں۔” انہوں نے واضح کیا کہ فوج کا سیاسی یا مقامی انتظامی امور سے کوئی لینا دینا نہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے ملک میں قومی سلامتی، گڈ گورننس اور انتظامی اصلاحات کے باہمی تعلق پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی قومی سلامتی، گڈ گورننس اور عوامی فلاح و بہبود ایک دوسرے سے گہرے جڑے ہوئے ہیں۔ اس لیے بدلتے ہوئے عالمی و علاقائی حالات کے مطابق ملک کے انتظامی ڈھانچے اور حکمرانی کے نظام پر سنجیدگی سے غور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اچھی حکمرانی کے بغیر درپیش چیلنجز کا موثر حل ممکن نہیں۔

ترجمان پاک فوج نے مزید اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ 1972ء میں پاکستان کی کل آبادی محض 7 سے 8 کروڑ تھی جو آج بڑھ کر تقریباً 25 کروڑ تک جا پہنچی ہے، جس کی وجہ سے عوامی ضروریات اور مسائل کا حجم بھی یکسر تبدیل ہو چکا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا کہ اگر ملک میں بہتر حکمرانی اور عوام کی سہولت کے لیے کسی ‘انتظامی ری سیٹ’ کی ضرورت ہے تو اس پر ضرور غور ہونا چاہیے، تاہم چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام یا نیا فریم ورک بنانے کا حتمی اختیارات صرف عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کے پاس ہے۔