ملتان یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں ‘اسکول آف نرسنگ’ کا افتتاح: وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال کی عالمی معیار کی سہولیات کی فراہمی پر انتظامیہ کو مبارکباد

روزینہ اسماعیل, JULY 31,2026

ملتان (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ملتان یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں عالمی معیار کی سہولیات، جدید ٹیکنالوجی اور تحقیق پر مبنی بہترین تعلیمی ماحول انتہائی قابلِ تحسین ہے، ایسے ہی معیاری ادارے ملک میں مایوسی کے خاتمے اور نوجوان نسل میں امید کی نئی کرن پیدا کرنے کا بنیادی ذریعہ بنتے ہیں۔

یہ بات انہوں نے ملتان یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں ‘اسکول آف نرسنگ اینڈ الائیڈ ہیلتھ سائنسز’ کی پروقار افتتاحی تقریب سے بحیثیتِ مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وفاقی وزیر صحت نے یونیورسٹی انتظامیہ کو جدید شعبے کا کامیاب آغاز کرنے پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ اپنے منصب کی بدولت انہیں ملک بھر سے روزانہ مختلف معلومات موصول ہوتی رہتی ہیں، مگر جب کبھی ملک میں مایوسی کا تاثر ابھرے تو اس یونیورسٹی جیسے اداروں کا رخ کرنا چاہیے جہاں مثبت سوچ، محنت اور روشن مستقبل کا وژن صاف نظر آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی معیار کا ایسا شاندار انسٹیٹیوٹ قائم کرنے کے لیے غیر معمولی جنون اور نیت کی سچائی درکار ہوتی ہے۔

سید مصطفیٰ کمال نے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ ہیلتھ کیئر کا حقیقی مقصد صرف ہسپتالوں کی عمارتیں بنانا نہیں بلکہ انسانوں کو بیمار ہونے سے بچانا اور پیشگی علاج یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے ملک میں صحت کی تشویشناک صورتحال پر اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 6.7 ملین (67 لاکھ) بچوں کی پیدائش ہوتی ہے، جبکہ زچگی اور دورانِ حمل کی پیچیدگیوں کے باعث سالانہ تقریباً 11 ہزار خواتین جان کی بازی ہار جاتی ہیں، اور پانچ سال سے کم عمر بچوں کی اموات بھی ہمارے لیے بڑا چیلنج ہیں۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ ان کا محکمہ ایسی حکمتِ عملی پر کاربند ہے جس سے بیماریوں کی بروقت تشخیص اور بہتر طبی سہولیات عام شہری تک پہنچ سکیں۔

وفاقی وزیر صحت نے طلبہ و طالبات پر زور دیا کہ وہ یہاں سے محض کاغذی ڈگری لے کر نہ نکلیں بلکہ اپنے شعبے کے باصلاحیت اور ماہر پروفیشنل بن کر ملک کی خدمت کریں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دیگر متعلقہ حکام اور اعلیٰ شخصیات کو بھی ملتان یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے دورے کی ترغیب دیں گے تاکہ ملک بھر کی دیگر جامعات بھی اس ماڈل کو اپناتے ہوئے اپنے تعلیمی اور طبی معیار کو بلند کر سکیں۔

مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کے 133ویں یومِ پیدائش پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا شاندار خراجِ عقیدت

کاشف عباسی , JULY 31,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کو ان کے 133ویں یومِ پیدائش کے پروقار موقع پر شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ صدرِ مملکت نے اپنے پیغام میں انہیں تحریکِ آزادی کی عظیم رہنما اور بانیِ پاکستان کی انتہائی بااعتماد ساتھی قرار دیا ہے۔

ایوانِ صدر کی جانب سے جمعہ کے روز جاری ہونے والے باضابطہ اعلامیے کے مطابق، صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح قائدِاعظم محمد علی جناح کی نہ صرف بااعتماد رفیقِ کار تھیں بلکہ وہ تحریکِ پاکستان کی ایک ممتاز رہنما اور عظیم جمہوری اقدار کی توانا علمبردار بھی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ مادرِ ملت نے برصغیر کی خواتین کو قومی زندگی اور تحریکِ آزادی کی جدوجہد میں اپنا مؤثر اور بھرپور کردار ادا کرنے کی ترغیب دی، جس کی بدولت ان کی یہ عظیم جدوجہد آج بھی پوری پاکستانی قوم بالخصوص خواتین کے لیے ایک روشن مشعلِ راہ ہے۔

صدرِ مملکت نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ پوری قوم مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کی عظیم قومی، سیاسی، جمہوری اور بے لوث سماجی خدمات کو ہمیشہ انتہائی قدر اور گہرے احترام کی نگاہ سے یاد رکھے گی۔ انہوں نے اپنے پیغام کے اختتام پر خصوصی دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کے درجات بلند فرمائے اور انہیں اپنے جوارِ رحمت میں اعلیٰ و ارفع مقام عطا فرمائے۔

چاروں صوبوں کو نارتھ ، سینٹرل اور ساؤتھ کے نام سے مزید 3، 3 انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنے کی تجویز: عبدالعلیم خان کی انتظامی اصلاحات کی پرزور حمایت

منصور احمد, JULY 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے مواصلات اور استحکامِ پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے صدر عبدالعلیم خان نے ملک میں وسیع پیمانے پر انتظامی اصلاحات کی پرزور حمایت کرتے ہوئے پاکستان کے چاروں صوبوں کو مزید تین تین نئے صوبائی و انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنے کی ایک بڑی اور اہم تجویز پیش کر دی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کردہ اپنے اہم بیانیے میں عبدالعلیم خان نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے انتظامی اصلاحات سے متعلق کی گئی باتیں انتہائی غور طلب اور وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور جدید انتظامی ضروریات کے پیشِ نظر اب چاروں صوبوں—پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان—کو ‘نارتھ’ (شمالی)، ‘سینٹرل’ (مرکزی) اور ‘ساؤتھ’ (جنوبی) کے نام سے تین تین حصوں میں تقسیم کر دینا چاہیے تاکہ کل 12 انتظامی یونٹس قائم ہو سکیں۔

صدر آئی پی پی عبدالعلیم خان نے وضاحت کی کہ اس جغرافیائی و انتظامی فریم ورک کی بدولت کسی بھی صوبے کا نام تبدیل کرنے کی ضرورت پیش آئے گی اور نہ ہی علاقوں کی تاریخی یا ثقافتی شناخت متاثر ہوگی، بلکہ تمام خطوں کی ثقافتی پہچان مکمل طور پر برقرار رہے گی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ موجودہ نظام کے تحت عام شہریوں کو اپنے بنیادی مسائل اور چھوٹے کاموں کے لیے بھی سینکڑوں کلومیٹر کا طویل و دشوار سفر طے کر کے صوبائی دارالحکومتوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر مسائل عوام کی دہلیز پر حل ہوں اور نئے صوبے بن جائیں تو اس سے براہِ راست عوام کا فائدہ ہوگا، تاہم اگر اس اقدام سے کسی کی ذاتی یا سیاسی ‘بادشاہت’ پر حرف آتا ہے تو وہ الگ بات ہے، کیونکہ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے جہاں بادشاہت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ کئی دہائیوں سے نئے صوبوں کی تشکیل کی باتیں محض سیاسی نعروں اور بیانات تک محدود رہیں لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ تمام سیاسی قیادت بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک پیج پر آئے اور اس وژن کو عملی شکل دے۔ انہوں نے زور دیا کہ نئے صوبوں کی تشکیل سے ملک میں چیف سیکرٹریز، آئی جیز اور ہائی کورٹس عوام کو زیادہ مؤثر اور فوری خدمات فراہم کر سکیں گے جس سے معیشت مستحکم، ترقی متوازن اور قومی یکجہتی مزید مضبوط ہوگی۔

کوئٹہ کے علاقے سورنج میں کوئلہ کان حادثہ: صدر آصف علی زرداری کا قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار

کاشف عباسی , JULY 31,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کوئٹہ کے نواحی علاقے سورنج میں کوئلے کی کان میں پیش آنے والے افسوسناک حادثے پر گہرے رنج و غم اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ صدر مملکت نے حادثے کے نتیجے میں ہونے والے قیمتی جانی ضیاع پر سوگوار خاندانوں کے ساتھ دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

ایوانِ صدر کے پریس ونگ کی جانب سے جمعہ کے روز جاری ہونے والے باضابطہ بیانیے کے مطابق، صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے مرحومین کی مغفرت، ان کے درجات کی بلندی اور غمزدہ لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی خصوصی دعا کی۔ انہوں نے متعلقہ اداروں اور ریسکیو حکام کو ہدایت کی کہ کان میں پھنسے تمام مزدوروں تک جلد از جلد رسائی کو یقینی بنایا جائے اور تمام زخمیوں کو فوری طور پر بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔

صدرِ مملکت نے اس بات پر شدید زور دیا کہ کوئلہ کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی جانوں کے تحفظ کے لیے مقررہ حفاظتی ضوابط پر بلاامتیاز اور سختی سے عمل درآمد کروایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے دلخراش اور افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔ انہوں نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ وطنِ عزیز کی تعمیر و ترقی میں محنت کش طبقے کا کردار بے حد قابلِ قدر ہے اور ان کی جان و مال کی مکمل حفاظت کرنا ریاست کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

این سی سی آئی اے کا پنجاب بھر میں اوڈ گینگ کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن: مالیاتی سائبر فراڈ میں ملوث 27 ملزمان گرفتار

محمود احمد, JULY 31,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے پنجاب بھر میں مالیاتی سائبر فراڈ، آن لائن ڈکیتیوں اور جعلی شناختی بھیس بدل کر شہریوں کو لوٹنے والے خطرناک ‘اوڈ گینگ’ کے خلاف وسیع پیمانے پر بڑا کریک ڈاؤن کیا ہے۔ اس کامیابی کے دوران ایجنسی نے لاہور، ملتان اور فیصل آباد سے مجموعی طور پر 27 ملزمان کو گرفتار کر کے ان کے پاس سے بھاری تعداد میں سمارٹ فونز، غیر قانونی فعال سمیں اور دیگر ڈیجیٹل شواہد برآمد کر لیے ہیں۔

ترجمان این سی سی آئی اے کے مطابق گرفتار ملزمان انتہائی منظم انداز میں خود کو بینک افسران، کسٹمز، پولیس اہلکار، خیراتی اداروں کے نمائندے، ٹی سی ایس رائیڈر اور جعلی سرمایہ کاری کمپنیوں کے نمائندے ظاہر کر کے شہریوں کو چکمہ دیتے تھے۔ ملزمان سادہ لوح شہریوں سے ون ٹائم پاس ورڈ بینکنگ تفصیلات اور پاس ورڈز حاصل کر کے ان کے تمام جمع شدہ سرمائے کا صفایا کر دیتے تھے۔

تفصیلات کے مطابق لاہور میں این سی سی آئی اے کی ٹیموں نے دو مختلف تابڑ توڑ کارروائیوں کے دوران 13 ملزمان کو گرفتار کیا جن میں محمد عرفان، محمد دانش، نبیل اختر، بدر الرحمن، محمد عدنان، ندیم عباس، اللہ رکھا، محمد عاطف اور محمد وسیم شامل ہیں۔ ملزمان کے قبضہ سے 13 موبائل فونز، 25 جعلی ایکٹیو سمیں اور اہم ترین ڈیجیٹل ثبوت ملے۔ اسی طرح ملتان میں چار مختلف آپریشنز کے دوران گینگ کے مزید 13 ملزمان گرفتار کیے گئے جن میں محمد عاصم بلوچ، محمد عثمان، خالد بلوچ، عبدالغفار اور اوڈ برادری سے تعلق رکھنے والے محمد جبران، محمد شان، محمد وقاص، محمد الیاس، محمد اقبال، محمد شفیق، محمد یوسف اور محمد نعیم اوڈ شامل ہیں۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ملتان گینگ جعلی واٹس ایپ اور فرضی ویب سائٹس کے ذریعے لاکھوں روپے بٹور رہا تھا۔

فیصل آباد میں ایجنسی نے ایک اور اہم کارروائی کرتے ہوئے ملزم ناصر علی کو گرفتار کیا جو شہریوں کے بینک اکاؤنٹس ہیک کر کے رقوم کو جعلی جاز کیش اور ایزی پیسہ اکاؤنٹس میں منتقل کرتا تھا، جس کے قبضے سے 1 اینڈرائیڈ فون، 6 کی پیڈ فونز اور 23 جعلی سمیں برآمد کی گئیں۔ این سی سی آئی اے کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ سائبر کرائمز اور منظم گینگز کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائیاں جاری رہیں گی، جبکہ عوام الناس کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ اپنا او ٹی پی، شناختی کوائف یا بینکاری معلومات کسی بھی غیر متعلقہ فرد کے ساتھ ہرگز شیئر نہ کریں۔

کوئٹہ کے علاقے سورنج میں کوئلے کی کان میں المناک حادثہ: وزیراعظم شہباز شریف کا مزدوروں کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار

منصور احمد, JULY 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کوئٹہ کے نواحی علاقے سورنج میں کوئلے کی کان میں پیش آنے والے دلخراش اور المناک حادثے میں محنت کش مزدوروں کی اموات پر گہرے دکھ، صدمے اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم نے سورنج کی کان میں خطرناک گیس بھر جانے کے باعث ہونے والے اس حادثے کو انتہائی دردناک قرار دیتے ہوئے جاں بحق ہونے والے محنت کشوں کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا کی ہے۔

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جمعہ کے روز جاری ہونے والے باضابطہ بیانیے کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف نے پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) اور بلوچستان کے تمام متعلقہ امدادی اداروں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ ریسکیو اور ریلیف کارروائیوں کو بلا تعطل اور انتہائی مستعد انداز میں جاری رکھیں۔ انہوں نے کان میں پھنسے اور زخمی ہونے والے تمام مزدوروں کو بحفاظت نکالنے اور انہیں فوری بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے تمام تر وسائل بکارِ لانے کی بھی تاکید کی۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے غمزدہ خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی تعمیر و ترقی میں حصہ لینے والے محنت کش ہمارا انتہائی قیمتی اثاثہ ہیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام اور انتظامیہ کو سخت ہدایت جاری کی کہ کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی قیمتی جانوں کو محفوظ بنانے کے لیے مستقل اور فول پروف حفاظتی اقدامات فوری طور پر نافذ کیے جائیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے دلخراش واقعات کا سدِباب ممکن ہو سکے۔

پنجاب کے دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق، دریائے سندھ میں کالاباغ و چشمہ پر نچلے جبکہ نالہ پلکھو میں درمیانے درجے کا سیلاب

روزینہ اسماعیل, JULY 31,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے صوبے کے دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی موجودہ صورتحال سے متعلق تازہ ترین رپورٹ جاری کر دی ہے۔ ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق صوبے کے بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق قائم ہے، تاہم دریائے سندھ میں کالاباغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب جبکہ وزیر آباد کے مقام پر نالہ پلکھو میں درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق دریائے چناب، جہلم، راوی اور ستلج میں پانی کا بہاؤ فی الوقت نارمل سطح پر برقرار ہے۔ دریائے سندھ میں کالاباغ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 63 ہزار کیوسک اور چشمہ کے مقام پر 2 لاکھ 94 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ ڈیرہ غازی خان کی رودکوہیوں میں صورتحال بالکل معمول کے مطابق ہے۔ اس کے علاوہ وزیر آباد کے نالہ پلکھو میں پانی کا بہاؤ 3 ہزار 600 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ نارووال کے نالہ بسنتر میں نچلے درجے کی سیلابی صورتحال پیش نظر ہے۔

ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا (یا سیف انور جپہ) نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مون سون بارشوں کا چوتھا طاقتور سلسلہ 5 اگست تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ بالائی کیچمنٹ ایریاز میں متوقع شدید بارشوں کے سبب مشرقی دریاؤں اور ان سے منسلک ندی نالوں میں طغیانی اور پانی کے بہاؤ میں اچانک اضافے کا خطرہ ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ لاہور، راولپنڈی، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، فیصل آباد اور ملتان میں شدید اربن فلڈنگ (شہری سیلاب) جبکہ مری، گلیات اور دیگر پہاڑی سلسلوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا شدید خطرہ موجود ہے۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے نے دریاؤں اور ندی نالوں کے پاٹ میں مقیم تمام شہریوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی سخت ہدایت جاری کی ہے اور بتایا ہے کہ حکومتِ پنجاب نے متاثرہ تمام علاقوں میں فلڈ ریلیف کیمپس قائم کر دیے ہیں جہاں خوراک، ادویات اور پینے کا صاف پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے تمام شہریوں سے اپیل کی کہ وہ سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں، دریاؤں اور ندی نالوں کے قریب غیر ضروری سیر و تفریح سے گریز کریں اور بچوں کو ہرگز پانی میں نہانے نہ دیں تاکہ کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار حادثے سے بچا جا سکے۔

بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی کی درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات کالعدم: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے چیمبر اپیل منظور کر لی

کاشف عباسی , JULY 31,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے بانی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی ہسپتال منتقلی سے متعلق درخواست پر رجسٹرار آفس کی جانب سے عائد کردہ تمام اعتراضات کے خلاف دائر کی گئی چیمبر اپیل منظور کر لی ہے۔ اعلیٰ عدالت نے رجسٹرار آفس کے ابتدائی اعتراضات کو مکمل طور پر کالعدم قرار دیتے ہوئے درخواست کو باضابطہ کیس نمبر الاٹ کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے جمعہ کے روز اپنے چیمبر میں اس اہم اپیل کی باقاعدہ سماعت کی، جس کے دوران بانی پی ٹی آئی کے وکیل عذیر کرامت بھنڈاری عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے بانی پی ٹی آئی کے وکیل کو موکل کا دستخط شدہ قانونی وکالت نامہ جمع کرانے کی ہدایت جاری کی۔

سپریم کورٹ نے رجسٹرار آفس کو باضابطہ حکم دیا کہ بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی سے متعلق اس اپیل کو فوری طور پر نمبر الاٹ کیا جائے اور اسے پہلے سے زیرِ سماعت ‘عظمیٰ خان’ کے مقدمے کے ساتھ یکجا یعنی منسلک کر دیا جائے۔ مزید برآں، چیف جسٹس نے بانی پی ٹی آئی اور عظمیٰ خان کی درخواستوں کو اعلیٰ عدلیہ میں جلد از جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کی استدعا بھی منظور کر لی ہے۔

فیفا کے تجارتی حصص پرائیویٹ انویسٹرز کو بیچنے کا متنازع منصوبہ: یورپی ممالک کا آنے والے ورلڈ کپ ٹورنامنٹس کے بائیکاٹ پر اتفاق

محمود احمد, JULY 31,2026

زیورخ (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

بین الاقوامی فٹ بال کی گورننگ باڈی (فیفا) کی جانب سے اپنے عالمی کپ اور دیگر اہم ترین ٹورنامنٹس کے تجارتی حصص نجی سرمایہ کاروں کو فروخت کرنے کی تجویز کے ردِعمل میں بڑا عالمی بحران پیدا ہو گیا ہے۔ یورپی ممالک نے اس منصوبے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے آنے والے فیفا عالمی کپ مقابلوں کا مکمل بائیکاٹ کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ تاریخی اور حتمی فیصلہ یورپی فٹ بال تنظیم کی 55 رکن ایسوسی ایشنز کے ایک ہنگامی آن لائن اجلاس کے دوران کیا گیا۔ واضح رہے کہ آنے والے بڑے مقابلوں میں اگلے سال برازیل میں منعقد ہونے والا خواتین کا عالمی کپ اور 2030ء میں اسپین، پرتگال اور مراکش میں طے شدہ مردوں کا عالمی کپ شامل ہیں، جن پر اب بائیکاٹ کے گہرے بادل منڈلانے لگے ہیں۔

تنازع اس وقت شروع ہوا جب فیفا نے ایک نئی قائم کردہ تجارتی کمپنی میں اپنے اقلیتی حصص بیچنے کے منصوبے کی باضابطہ تصدیق کی۔ اس منصوبے کے تحت فیفا کا مقصد اپنے بڑے مقابلوں بشمول عالمی کپ اور کلب عالمی کپ کے تجارتی امور کو اس نئی کمپنی کے ذریعے چلانا اور 21 فیصد حصص کی فروخت کے ذریعے 4.2 ارب امریکی ڈالر اکٹھا کرنا ہے تاکہ یہ رقم رکن تنظیموں کو دستیاب کی جا سکے۔ اگرچہ فیفا نے واضح کیا کہ گورننگ باڈی کی حیثیت اور اکثریت کے حصص اسی کے پاس رہیں گے، تاہم اس تجویز کو شدید ترین عالمی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یورپی فٹ بال تنظیم نے موقف اپنایا ہے کہ یہ قدم اس سرخ لکیر کو عبور کرنے کے مترادف ہے جسے کھیل کے منتظم اداروں کو کبھی پار نہیں کرنا چاہیے۔

دیگر عالمی تنظیموں نے بھی فیفا کے طریقہ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ شمالی و وسطی امریکہ کی فٹ بال تنظیم نے قانونی اور شفاف طریقہ کار کی عدم موجودگی پر تشویش جتائی ہے جبکہ ایشیائی فٹ بال کنفیڈریشن نے مناسب مشاورت کے بغیر معاملے کے عام ہونے پر مایوسی ظاہر کی ہے۔ دوسری جانب افریقی فٹ بال کنفیڈریشن نے تجاویز کے مطالعے کی بات کی ہے۔ ان تمام تر اعتراضات کے باوجود فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو نے منصوبے کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے اسے جمہوری عمل اور تجارتی ترقی کا اگلا قدرتی قدم قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ یورپی ٹیمیں عالمی فٹ بال کی بڑی قوت ہیں، جنہوں نے 23 میں سے 13 عالمی کپ ٹائٹل جیتے ہیں جن میں حالیہ 19 جولائی 2026ء کو فائنل میں ارجنٹائن کو شکست دے کر چیمپئن بننے والی اسپین کی ٹیم بھی شامل ہے، جس کے بعد اس ممکنہ بائیکاٹ نے فیفا پر شدید معاشی و انتظامی دباؤ بڑھا دیا ہے۔

اوگرا کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری

منصور احمد, JULY 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پیٹرولیم مصنوعات کی جدید قیمتوں کا تعین کرتے ہوئے جمعہ (31 جولائی) کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب اضافے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ اور معاشی اشاریوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جزوی ترمیم کی گئی ہے۔

پٹرولیم ڈویژن اور اوگرا کے جاری کردہ نئے نرخوں کے مطابق، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 42 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 393 روپے 04 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ اسی طرح موٹر اسپرٹ (پیٹرول) کی قیمت میں 1 روپے 09 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے تحت پیٹرول کی نئی قیمت 336 روپے 15 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔

نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ ان نئی اور ترمیم شدہ قیمتوں کا اطلاق آج یعنی جمعرات (30 اور 31 جولائی کی درمیانی شب) رات 12 بجے سے ملک بھر میں یکساں طور پر نافذ العمل ہو جائے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف کا خضدار میں کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین

منصور احمد, JULY 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بلوچستان کے ضلع خضدار میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے کیے جانے والے کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن پر پاک فوج اور تمام متعلقہ اداروں کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ وزیراعظم نے بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد تنظیم ‘فتنہ الہندوستان’ کے خلاف فوری اور فیصلہ کن کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ فورسز نے ایک بار پھر اپنی بے مثال صلاحیتوں اور دلیری سے ملک کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا ہے۔

پنجشنبہ (جمعرات) کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف نے آپریشن کے دوران 4 خطرناک دہشت گردوں کو جہنم واصل کرنے اور بارودی مواد سے لدی 2 گاڑیوں کو بروقت تباہ کر کے دشمن کا بڑا دہشت گردانہ منصوبہ ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کی اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت، جرات اور بروقت اقدام کی شدید پذیرائی کی۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ بیرونی ایما پر پاکستان کا امن و امان تباہ کرنے اور دہشت گردی پھیلانے کی ہر مذموم کوشش کو اسی طرح خاک میں ملا دیا جائے گا۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے پیغام میں پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ جب تک ارضِ پاک سے دہشت گردی اور غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی شرپسندی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا، سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا یہ بلاامتیاز آپریشن اور یکسو کارروائیاں پوری قوت سے جاری رہیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پوری پاکستانی قوم اپنی بہادر سکیورٹی فورسز کے پیچھے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے اور وطنِ عزیز کے امن، استحکام، خودمختاری اور سلامتی کے لیے ان کے افسران و جوانوں کی لازوال قربانیوں کو بے حد قدر اور احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

سکیورٹی فورسز کا ضلع خضدار میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن: بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان کی بارود سے بھری دو گاڑیاں تباہ، 4 دہشت گرد ہلاک

کاشف عباسی , JULY 30,026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع خضدار میں ایک بڑی اور تیز رفتار کارروائی انجام دیتے ہوئے بھارتی پراکسی ‘فتنہ الہندوستان’ سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے شوم منصوبے کو ناکام بنا دیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے پنجشنبہ (جمعرات) کو جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق، خضدار میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کیے گئے اس خصوص آپریشن کے دوران بارودی مواد سے لدی دو گاڑیاں کامیابی سے تباہ کر دی گئیں جبکہ 4 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے ترجمان نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز کو علاقے میں بارودی مواد سے بھری گاڑیوں کے ساتھ خطرناک خوارجی و بھارتی حمایت یافتہ عناصر کی نقل و حرکت کی مصدقہ اطلاع ملی تھی۔ فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ان گاڑیوں کو روکنے کی کوشش کی اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں گاڑیوں سمیت ان کے ڈرائیورز اور ساتھی 4 دہشت گرد موقع پر ہی مارے گئے۔ سکیورٹی فورسز نے دونوں بارودی گاڑیوں کو بروقت نشانہ بنا کر کسی بھی بڑے تباہ کن حادثے اور ممکنہ نقصان سے علاقے کو محفوظ کر لیا ہے۔ فی الوقت علاقے میں چھپے کسی بھی دوسرے ہدف یا بھارتی سرپرستی میں فعال دہشت گرد کے مکمل خاتمے کے لیے کلیئرنس اور سرچ آپریشن پوری قوت سے جاری ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے اپنے بیان میں عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وفاقی ایپکس کمیٹی برائے نیشنل ایکشن پلان کی منظوری سے شروع کیے گئے وژن ‘عزمِ استحکام’ کے تحت پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک بھر سے بلاامتیاز دہشت گردی کے خلاف برسرِ پیکار رہیں گے۔ آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ بیرونِ ملک خصوصاً بھارت کی سرپرستی، معاونت اور مالی امداد سے پاکستان میں بے گناہ شہریوں اور سکیورٹی اداروں پر حملہ کرنے والے ان تمام عناصر اور ناسور کا مکمل قلع قمع کیا جائے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف کا بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی سہولت کے لیے تاریخی ڈیجیٹل اقدامات کا اعلان: کیو آر کوڈز، موبائل ایپ اور اپوسٹائل سسٹم کے ذریعے سفارتی خدمات کی یکسر ڈیجیٹائزیشن کا حکم

منصور احمد, JULY 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بیرونِ ملک مقیم تمام پاکستانیوں کو ملک کا انتہائی قیمتی اثاثہ قرار دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ انہیں سفارتخانوں اور کونصل خانوں میں تمام ممکنہ آسانیاں اور اعلیٰ ترین سہولیات کی فراہمی حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے۔ وزیراعظم نے تاکید کی ہے کہ کیو آر کوڈ کی مدد سے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی تمام شکایات کے براہِ راست اندراج اور ڈیجیٹائزیشن کے حوالے سے وسیع پیمانے پر آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ تمام شہری اس جدید نظام سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔ وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار بیرونِ ملک پاکستانیوں کے لیے سفارتخانوں میں سہولیات کی فراہمی میں اضافے، تمام سرکاری و قانونی دستاویزات کی تصدیقی عمل کی ڈیجیٹائزیشن، شکایت کے طریقہ کار کو مزید آسان بنانے اور بیرونِ ملک سے پاکستان میں معاشی و دیگر ادائیگیوں کے لیے قائم جدید ڈیجیٹل نظام سے متعلق وزارتِ خارجہ کے ایک اعلیٰ سطحی بریفنگ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے پنجشنبہ (جمعرات) کو جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق، اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزرا احد خان چیمہ، عطا اللہ تارڑ، چوہدری سالک حسین، شزہ فاطمہ خواجہ، وزیرِ مملکت عون چوہدری، معاونِ خصوصی طارق باجوہ اور دنیا بھر میں قائم پاکستانی سفارتخانوں کے سفرائے کرام، وزارتِ داخلہ، ایف آئی اے، اور این آئی ٹی بی سمیت متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا کہ اوورسیز پاکستانیوں کی آسانی کے لیے پاور آف اٹارنی، جائیدادوں کی خرید و فروخت کے معاملات اور اہم دستاویزات کی تصدیق کو آسان بنانے کے لیے کیو آر کوڈ سسٹم مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت دی کہ سفارتخانوں میں کیو آر کوڈز کو نمایاں جگہوں پر آویزاں کیا جائے اور خصوصی مہم کے ذریعے اس کی افادیت کو اجاگر کیا جائے۔

بریفنگ کے دوران وزیراعظم کو بتایا گیا کہ عوام الناس اور بیرونِ ملک جانے والے شہریوں کی سہولت کے پیشِ نظر وزارتِ خارجہ اسلام آباد کے مرکزی دفتر میں حال ہی میں شام کی شفٹ کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ آسان خدمت مرکز اسلام آباد میں بھی دستاویزات کی تصدیق کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کوریئر سروسز کے ذریعے تصدیقی عمل متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اس نظام کو ہائر ایجوکیشن کمیشن ، انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیشن ، نادرا اور نیشنل پولیس بیورو کے مرکزی ڈیٹا بیس سے منسلک کر دیا گیا ہے جس سے تصدیقی مراحل کی رفتار میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ حکام نے بتایا کہ اپوسٹائل کنونشن کے تحت دستاویزات کی تصدیق کو ‘ون سٹیپ’ کر دیا گیا ہے اور نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے تعاون سے ایک جدید موبائل ایپلی کیشن بھی تیار کی جا رہی ہے، جس کے ذریعے برتھ، ڈیتھ، میرج اور فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹس کی گھر بیٹھے ڈیجیٹل تصدیق ممکن ہو سکے گی۔

وفاقی آئینی عدالت کا تاریخی و اہم قانونی فیصلہ: مقررہ مدت گزرنے کے بعد دائر نظرثانی درخواست کو بنیاد بنا کر حتمی عدالتی فیصلے کو بالواسطہ چیلنج نہیں کیا جا سکتا

منصور احمد, JULY 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

وفاقی آئینی عدالت نے ملک کے قانونی اور عدالتی نظام میں فیصلوں کے حتمی ہونے اور ملازمین کے بنیادی حقوق کے حوالے سے ایک انتہائی اہم، تاریخی اور سنگِ میل فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ چیف جسٹس آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان، جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ پر مشتمل اعلیٰ سطحی تین رکنی بینچ نے ‘محمد اکرم بنام نیشنل بینک آف پاکستان’ کے اہم مقدمے کا محفوظ شدہ تفصیلی فیصلہ سناتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ بہاولپور بینچ کا فیصلہ مکمل طور پر کالعدم قرار دے دیا ہے۔ وفاقی آئینی عدالت نے اپنے اس فیصلے میں صراحت کے ساتھ قرار دیا ہے کہ قانون کے تحت مقررہ مدت گزر جانے کے بعد دائر کی گئی نظرثانی درخواست کو بنیاد بنا کر کسی بھی حتمی عدالتی فیصلے کو بالواسطہ طور پر چیلنج نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ قانون کسی بھی فریق کو اس بات کی اجازت ہرگز نہیں دیتا کہ وہ مقررہ وقت گزرنے کے بعد مختلف قانونی فورمز کے ذریعے کسی حتمی فیصلے کو غیر مؤثر بنانے یا ختم کرنے کی کوشش کرے۔

عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلہ کن حکم میں واضح کیا کہ لیبر کورٹ کا 18 اپریل 2008ء کا فیصلہ حتمی قانونی حیثیت اختیار کر چکا ہے، اس لیے اس میں دی گئی تمام تر ہدایات کو دوبارہ کھولا یا چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ وفاقی آئینی عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں پنشن کے بنیادی حقوق پر انتہائی اہم قانون سازی و تشریح کرتے ہوئے قرار دیا کہ پنشن اور ریٹائرمنٹ کے تمام مالی فوائد کسی بھی ریٹائرڈ ملازم کا ایک مستحکم، باقاعدہ قابلِ نفاذ اور بنیادی قانونی حق ہیں جنہیں کسی مجاز عدالت کے واضح حکم کے بغیر ہرگز نہیں روکا جا سکتا۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ پنشن کی ادائیگی میں کسی بھی قسم کی بلاجواز تاخیر یا غیر قانونی رکاوٹ ڈالنا نہ صرف ملازم کے قانونی حقوق کی شدید خلاف ورزی ہے بلکہ یہ اعلیٰ عدلیہ کے ثابت شدہ فیصلوں سے انحراف اور صریح توہینِ عدالت کے مترادف بھی ہو سکتی ہے۔

مقدمے کے قانونی حقائق کی تفصیلات پر روشنی ڈالتے ہوئے فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار کو 2008ء میں بحالی کا حکم دیا گیا تھا، تاہم اداروں کی جانب سے مختلف پیچیدہ قانونی کارروائیوں کے باعث وہ اپنے مکمل پنشن اور دیگر جائز ریٹائرمنٹ فوائد سے محروم رہا۔ عدالت نے تمام تر ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ درخواست گزار محمد اکرم کی 1992ء سے 2017ء تک کی تقریباً 25 سالہ طویل ملازمت پنشن کے لیے مکمل طور پر قابلِ شمار ہے اور اس کی سابقہ تمام سروس کو بھی پنشن کے حساب کتاب میں لازمی شامل کیا جائے گا۔ عدالت نے اہم قانونی اصول پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قانون کا مسلمہ اصول ہے کہ جو کام براہِ راست نہیں کیا جا سکتا، وہ بالواسطہ بھی نہیں کیا جا سکتا اور مقدمات و قانونی تنازعات کا کسی نہ کسی مرحلے پر اختتام پذیر ہونا قانون کا بنیادی مقصد ہے۔ وفاقی آئینی عدالت نے درخواست کو اپیل میں تبدیل کرتے ہوئے اسے منظور کر لیا اور لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے لیبر کورٹ کے 2008ء کے فیصلے پر فوراً عملدرآمد کا حکم جاری کر دیا۔

وزیراعظم شہباز شریف کی ضلع ہنگو میں پولیس چیک پوسٹ پر فتنہ الخوارج کے دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت: ڈی ایس پی دیار خان سمیت 9 اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار

منصور احمد, JULY 30,2026

اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں پولیس چیک پوسٹ پر فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کی جانب سے کیے جانے والے مذموم اور بزدلانہ حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ وزیراعظم نے اس ناخوشگوار واقعے کے نتیجے میں فرض کی راہ میں جامِ شہادت نوش کرنے والے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) دیار خان سمیت تمام 9 پولیس اہلکاروں کی عظیم قربانی پر گہرے دکھ، صدمے اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے پنجشنبہ (جمعرات) کے روز جاری ہونے والے باضابطہ بیانیے کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف نے شہدائے پولیس کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا کی اور ان کے سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ان کے لیے صبرِ جمیل کی التجا کی ہے۔ وزیراعظم نے اس حملے میں شدید زخمی ہونے والے دیگر پولیس اہلکاروں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے ان کی جلد اور مکمل صحت یابی کی بھی دعا کی ہے۔

حملے کے فوری بعد پولیس کی بروقت اور جرات مندانہ جوابی کارروائی پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے خیبر پختونخوا پولیس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور بہادری کو شدید سراہا، جس کے نتیجے میں فتنہ الخوارج کے 15 سفاک دہشت گرد موقع پر ہی ہلاک کر دیے گئے۔ وزیراعظم نے خیبر پختونخوا پولیس کے جوانوں کی شجاعت کی پذیرائی کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کی لعنت کے خلاف جنگ میں ہماری پولیس فورس نے ہمیشہ ہراول دستے کا تاریخی اور بے مثال کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تمام تر چیلنجز کے باوجود حکومت اور تمام قومی ادارے ملک عزیز سے ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل، حتمی اور جذری خاتمے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں اور شہدا کی یہ عظیم قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی۔

چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد کا پیپلز پارٹی ہری پور کے سینئر نائب صدر گل حبیب خان کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار

کاشف عباسی , JULY 30,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے پاکستان پیپلز پارٹی ضلع ہری پور کے سینئر نائب صدر گل حبیب خان کے ناگہانی انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ سینیٹر روبینہ خالد نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ گل حبیب خان کی وفات پارٹی کے لیے ایک بہت بڑا اور ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔

پنجشنبہ (جمعرات) کو جاری کردہ اپنے باضابطہ تعزیتی پیغام میں سینیٹر روبینہ خالد نے مرحوم کی سیاسی و عوامی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ گل حبیب خان ایک مخلص، نظریاتی اور انتہائی وفادار جیالے تھے۔ انہوں نے اپنی تمام تر سیاسی زندگی پاکستان پیپلز پارٹی کے منشور، نظریے اور کارکنوں کی خدمت کے لیے وقف کر رکھی تھی اور ان کی یہ شاندار خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

سینیٹر روبینہ خالد نے گل حبیب خان کی وفات پر ان کے غمزدہ اہلِ خانہ، عزیز و اقارب اور پاکستان پیپلز پارٹی کے تمام کارکنان سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور لواحقین کو یہ صدمہ صبر و حوصلے کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق دے اور مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔

پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی میں انسٹیٹیوشنل کوالٹی سرکل بورڈ کے پہلے اجلاس کا انعقاد: اعلیٰ تعلیمی معیار، شفافیت اور تحقیقی اختراع پر زور

روزینہ اسماعیل, JULY 30,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی کے ڈائریکٹوریٹ آف کوالٹی انہانسمنٹ کے زیرِ اہتمام ‘انسٹیٹیوشنل کوالٹی سرکل بورڈ’ کا پہلا باضابطہ اجلاس وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قمر الزمان کی زیرِ صدارت انعقاد پذیر ہوا۔ اس اہم انتظامی و تدریسی اجلاس میں یونیورسٹی کے تمام ڈینز، ڈائریکٹرز، مختلف شعبہ جات کے چیئرمینز، انتظامی سربراہان اور اکیڈمک و ایڈوانسڈ سٹڈیز کے نمائندگان نے شرکت کی۔

اجلاس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قمر الزمان نے کہا کہ اعلیٰ تعلیمی معیار کے فروغ کے لیے مسلسل بہتری، شفافیت، کلیدی کارکردگی اشاریوں کے ذریعے کارکردگی کا مؤثر جائزہ، تحقیق، اختراع اور ادارہ جاتی اشتراک کا فروغ ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ یونیورسٹی کو قومی و بین الاقوامی معیار کے مطابق ایک مثالی اعلیٰ تعلیمی ادارہ بنانے کے لیے معیار کی بہتری کے تمام ضروری اقدامات کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جائے گا۔

اجلاس کے دوران تعلیمی و معیاری یقین دہانی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے، تدریسی و انتظامی کارکردگی میں بہتری، تدریس و تعلیم کے نتائج کو مؤثر بنانے اور ہائر ایجوکیشن کمیشن سمیت دیگر منظور شدہ ایکریڈیٹیشن اداروں کے مقرر کردہ معیارات پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنانے کے حوالے سے مختلف حکمت عملیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈائریکٹر کوالٹی انہانسمنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد جاوید اسد نے شرکاء کو اجلاس کے ایجنڈے پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس کے اختتام پر متعدد قابلِ عمل سفارشات کی منظوری دی گئی اور اقدامات کی مسلسل نگرانی کے لیے فالو اپ میکنزم بھی منظور کیا گیا۔

153 کلومیٹر طویل چترال-بونی-مستوج-شندور (این-140) شاہراہ کے چاروں پیکیجز دسمبر 2026ء تک مکمل کرنے کا نیا ہدف مقرر؛ منصوبے کے لیے مالی سال 2026-27 میں 4.2 ارب روپے درکار

کاشف عباسی , JULY 30,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے درمیان مواصلاتی روابط اور سیاحت کو اہم فروغ دینے والی 153 کلومیٹر طویل چترال-بونی-مستوج-شندور شاہراہ (قومی شاہراہ N-140) کے تمام چاروں تعمیراتی پیکیجز کو دسمبر 2026ء تک مکمل کرنے کا نیا ہدف مقرر کر دیا گیا ہے۔ ‘ویلتھ پاکستان’ کو دستیاب ہونے والی اہم سرکاری دستاویزات کے مطابق، منصوبے کی بر وقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے مالی سال 2026-27 کے لیے مزید 4 ارب 20 کروڑ (4.2 ارب) روپے کی فنڈنگ درکار ہوگی۔ یاد رہے کہ مئی 2020ء میں اس سڑک کو وفاقی تحویل میں لے کر قومی شاہراہ این-140 کا درجہ دیا گیا تھا، جس کے بعد اس اہم شاہراہ کو چار مختلف تعمیراتی پیکیجز میں تقسیم کر کے باقاعدہ کام شروع کیا گیا۔ دستاویزات کے مطابق، اب تک اس بڑے ترقیاتی منصوبے پر مجموعی طور پر 6 ارب 59 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، جبکہ مالی سال 2025-26 کے دوران 1.5 ارب روپے مختص کیے گئے تھے اور اسی سال 5.5 ارب روپے کی اضافی ضرورت بھی پیش آئی تھی۔

منصوبے کی انتظامی اور جسمانی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے تو ضلع لوئر چترال میں پریت سے بونی تک کا پیکیج 1 (38.965 کلومیٹر) چاروں حصوں میں سب سے آگے ہے، جس پر اب تک 47.54 فیصد تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے۔ نومبر 2021ء میں شروع ہونے والے اس حصے کی لاگت 2.67 ارب سے بڑھا کر 2.74 ارب روپے کر دی گئی ہے اور اس کا ہدف بھی اب دسمبر 2026ء ہے۔ اسی ضلع میں واقع پیکیج 2 (پریت تا بونی، 39.723 کلومیٹر) پر 34.77 فیصد کام مکمل ہوا ہے اور اس کی تعدیل شدہ لاگت 2.81 ارب روپے رکھی گئی ہے۔ دونوں پیکیجز کی ابتدائی تکمیل کی تاریخ نومبر 2023ء تھی، جسے فنڈز اور انتظامی توازن کی خاطر بڑھایا گیا ہے۔

ضلع اپر چترال کے پیکیجز کا احوال بھی دستاویزات میں واضح کیا گیا ہے۔ پیکیج 3 (بونی تا شیداس، 36.14 کلومیٹر) پر نومبر 2021ء سے جاری کام میں 38.16 فیصد جسمانی پیش رفت حاصل کی جا چکی ہے اور اس کی لاگت 2.61 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔ جبکہ آخری اور چوتھا پیکیج (شیداس تا شندور، 37.782 کلومیٹر) اگست 2022ء میں شروع ہوا تھا، جس پر اب تک 29.78 فیصد کام ہوا ہے اور اس کی لاگت 2.93 ارب روپے طے کی گئی ہے۔ شاہراہ این-140 کی دسمبر 2026ء تک حتمی تکمیل سے ناصرف چترال اور شندور کے دشوار گزار علاقوں میں سفر آسان اور محفوظ ہوگا بلکہ خطے میں سیاحت اور مقامی معیشت کو نئی جلا ملے گی۔

سعودی عرب میں بازوں (فالکنز) کی نیلامی کے نئے اور جدید قواعد کا باقاعدہ اعلان: صرف نیلامی سے خریدے گئے پرندے 13.33 ملین ڈالر انعامی رقم والے مقابلوں میں حصہ لینے کے اہل ہوں گے

محمود احمد, JULY 30,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

سعودی عرب میں باز پروری، روایتی کھیل اور فالکنری کی اعلیٰ ترین بین الاقوامی مارکیٹ کو مزید وسعت دینے کے لیے سعودی حکام اور ‘انٹرنیشنل فالکن بریڈرز آکشن’ نے اپنے 2026ء ایڈیشن کے لیے ایک جدید اور انقلابی پالیسی فریم ورک کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ نئے اور باضابطہ قواعد و ضوابط کے تحت، آئندہ صرف انہی بازوں (فالکنز) کو سعودی عرب میں منعقد ہونے والی مقامی اور بین الاقوامی فالکن چِک ریسنگ اور مختلف دیگر مقابلوں میں حصہ لینے کا قانونی اہل قرار دیا جائے گا جو اس رسمی نیلامی کے ذریعے خریدے گئے ہوں گے۔ اس دور رس اور منفرد اقدام کا بنیادی مقصد باز پالنے والوں (بریڈرز)، بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور خواہش مند خریداروں کے لیے مارکیٹ میں نئے معاشی مواقع پیدا کرنا اور خریداروں کی دلچسپی کو مزید بڑھا کر تجارتی سرگرمیوں کو تاریخی اوج پر پہنچانا ہے۔

نئے قوانین و قواعد کے طریقہ کار کے مطابق، انٹرنیشنل فالکن بریڈرز آکشن کی نیلامی کے ذریعے خریدا جانے والا ہر نیا پرندہ لاگو قوانین کے تحت تمام ریسنگ کیٹیگریز میں حصہ لینے کی سند اور اہلیت خود بخود حاصل کر لے گا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں اب شاہی مملکت کے اندر خرید و فروخت کے تمام معاشی فیصلے ‘نیشنل سینٹر فار فالکنز’ کے زیرِ اہتمام یا مشترکہ طور پر منعقد ہونے والے مقابلے اور ریسنگز کے ساتھ براہِ راست منسلک ہو چکے ہیں۔ واضح رہے کہ ان تمام اعلیٰ سطحی اور معتبر مقابلوں میں کل انعامی رقم کو تقریباً 13.33 ملین امریکی ڈالر تک بڑھا دیا گیا ہے، جو کہ دنیا بھر کے شائقین کے لیے ایک بے نظیر اور کشش کا باعث رقم ہے۔

اس نئی ترغیبی پالیسی کے نفاذ سے نیلامی میں سرمایہ کاروں اور خریداروں کا حجم اور تجارتی کشش انتہائی تیز رفتاری سے بڑھنے کی توقع ہے۔ صنعت کے ماہرین کا ماننا ہے کہ محض نسل، جینیاتی افزائش کے معیار اور پرندے کی ابتدائی قیمت کے علاوہ، اب ممکنہ خریدار فالکن کی بہترین ریسنگ صلاحیت، پرواز کی استعداد اور اس کی مخصوص نسل کی عمومی کارکردگی کا بھی گہرا جائزہ لیں گے۔ اس اقدام سے خصوصی طور پر ‘میلواہ ریسنگ’ کیٹیگری کے لیے موزوں اور سستے و معیاری فالکنز کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ ہوگا۔ دوسری جانب اعلیٰ نسل اور تیز ترین رفتار کے حامل پرندوں کی افزائشِ نسل کو بین الاقوامی سطح پر فروغ ملے گا جو خطے میں فالکنری کی معاشی و ثقافتی صنعت کو ایک نیا نکتہِ عروج عطا کرے گا

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سلامتی کونسل اصلاحاتی مذاکرات 81 ویں اجلاس تک جاری رکھنے کا اہم فیصلہ: پاکستان نے اختلافات مٹانے اور سب کے لیے برابر نمائندگی پر زور دے دیا

محمود احمد, JULY 30,2026

اقوامِ متحدہ/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے سلامتی کونسل میں بنیادی و ادارہ جاتی اصلاحات سے متعلق جاری بین الحکومتی مذاکرات کے عمل کو آئندہ ستمبر میں شروع ہونے والے 81 ویں اجلاس کے دوران بھی تسلسل کے ساتھ جاری رکھنے کا اہم، متفقہ اور حتمی فیصلہ صادر کر لیا ہے۔ پاکستان نے جنرل اسمبلی کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس اصلاحاتی عمل اور بین الحکومتی مذاکرات کو 15 رکنی سلامتی کونسل کو دنیا بھر کی زیادہ سے زیادہ اقوام کے لیے مؤثر، جمہوری اور حقیقی معنوں میں نمائندہ بنانے کے لیے “واحد بااعتماد اور جائز فورم” قرار دیا ہے اور تمام ارکان پر اپنے شدید ترین سیاسی اختلافات کو کم سے کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نو تعینات یا مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے 193 رکنی جنرل اسمبلی سے اپنا اہم خطاب پیش کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کا اصلاحاتی عمل اقوامِ متحدہ کے سامنے درپیش انتہائی اہم ترین اور حساس ادارہ جاتی اقدامات میں سے ایک ہے۔

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بغیر کسی ووٹنگ کے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ ستمبر 2026ء سے شروع ہونے والے 81 ویں اجلاس کے دوران اصلاحاتی بات چیت کا یہ عمل باقاعدگی سے جاری رہے گا۔ یاد رہے کہ اصلاحات اور مذاکرات کا یہ عمل اب اپنے 18 ویں سال میں باقاعدہ داخل ہو چکا ہے، جس کے دوران 17 طویل ادوار مکمل ہونے کے باوجود اصلاحات سے متعلق کئی بنیادی پہلوؤں پر تاحال کامل اتفاقِ رائے حاصل نہیں کیا جا سکا ہے۔ سلامتی کونسل کے تمام پانچ بنیادی شعبوں بشمول رکنیت کے زمرے، ویٹو کا طریقہ کار و استعمال، علاقائی متناسب نمائندگی، توسیع شدہ سلامتی کونسل کا حتمی سائز اور جنرل اسمبلی کے ساتھ کونسل کے تعلقات پر گہرا تبادلہِ خیال جاری ہے۔ اس وقت سلامتی کونسل 5 مستقل اور 10 غیر مستقل ارکان پر مشتمل ہے، جن میں تبدیلی اور توسیع پر مختلف ممالک کے واضح اور برعکس گروپس بنے ہوئے ہیں۔

اصلاحات کے اس عمل میں بھارت، برازیل، جرمنی اور جاپان پر مشتمل ‘گروپ آف فور’ سلامتی کونسل میں اپنے لیے نئی مستقل نشستوں کے حصول کا مطالبہ کرتے ہوئے کل 10 نئی نشستیں چاہتے ہیں۔ تاہم دوسری جانب اٹلی اور پاکستان کی بھرپور قیادت میں فعال ‘یونائٹنگ فار کنسنسس’ گروپ نے کسی بھی ملک کو اضافی مستقل نشستیں دینے کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے اور طویل المدت کے لیے منتخب ہونے والی ایسی نئی غیر مستقل نشستوں کا حل تجویز کیا ہے جن پر جمہوری طریقے سے دوبارہ انتخاب ممکن بنایا جا سکے۔ پاکستانی مندوب عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ اصلاحات کا مقصد خودمختار مساوات، جمہوریت اور احتساب ہونا چاہیے، نہ کہ ایک قسم کی اجارہ داری کو ختم کر کے دوسری قسم کی خصوصی مراعات پر مبنی اجارہ داری قائم کرنا۔ انہوں نے مذاکراتی شریک سربراہان (کویت اور نیدرلینڈز) کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے حتمی عزم دہرایا کہ پاکستان “سب کے لیے اصلاحات، کسی کے لیے خصوصی مراعات نہیں” کے رہنما اصول پر قائم رہے گا۔