فلسطینیوں کی جبرًا جلا وطنی کا منصوبہ ایجنڈے سے خارج نہیں ہوا: اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز کا متنازع اور اشتعال انگیز دعویٰ

محمود احمد, September 02,2026

تل ابیب (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

اسرائیل کے انتہائی متنازع اور صیہونی انتہا پسند وزیرِ دفاع یسرائیل کاٹز نے ایک بار پھر عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی دھجیاں اڑاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ کی پٹی سے فلسطینی شہریوں کی جبرًا جلا وطنی اور نقل مکانی کا منصوبہ اسرائیل کے قومی ایجنڈے سے خارج نہیں کیا گیا ہے۔

عرب نشریاتی اداروں اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، یسرائیل کاٹز نے اپنے ایک بیان میں انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے شدید سفارتی دباؤ کی وجہ سے فلسطینیوں کو غزہ سے جلا وطن کرنے کے منصوبے کو فی الوقت صرف منجمد کیا گیا ہے۔

اسرائیلی وزیرِ دفاع نے اپنے بیان میں ایک عجیب اور بے بنیاد دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کے تقریباً 80 فیصد فلسطینی خود وہاں سے دوسرے ممالک منتقل ہونا چاہتے ہیں، تاہم حماس غزہ کے عام شہریوں کی نقل مکانی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ کاٹز نے مزید کہا کہ جو ممالک فلسطینیوں کی اپنے ہاں آباد کاری پر رضامند ہوئے ہیں، انہوں نے اس عمل کو امریکہ کی مالی و سفارتی مدد سے مشروط کر رکھا ہے اور ان کا ماننا ہے کہ واشنگٹن فلسطینیوں کی جلاوطنی میں مکمل تعاون فراہم کرے گا۔

دوسری جانب، خطے میں جاری ایران اور امریکہ-اسرائیل کشیدگی پر بات کرتے ہوئے یسرائیل کاٹز نے خبردار کیا کہ ان کا ملک آنے والے یہودی تہواروں کے دوران ایران کی جانب سے کسی بھی ممکنہ فوجی یا میزائل حملے کا سخت اور بڑے پیمانے پر جواب دینے کے لیے پوری طرح سے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل اس وقت آبنائے ہرمز اور عالمی توانائی کی سیکیورٹی سے جڑے واشنگٹن کے مفادات کے پیشِ نظر امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کی قیادت کرنے کا موقع دے رہا ہے، تاہم اگر ایران نے اسرائیل کو براہِ راست نشانہ بنانے کی کوشش کی تو ان کا ملک کسی بھی امریکی یا بین الاقوامی فریق پر انحصار کیے بغیر آزادانہ طور پر انتہائی مہلک فورس کے ساتھ سخت جواب دے گا۔

سابقہ عسکری پیش رفت پر بات کرتے ہوئے کاٹز نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے ‘آپریشن رائزنگ لائن’ کے دوران ایرانی جوہری بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا تھا اور تہران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے اور جنگ بندی کے باوجود غزہ میں تباہی برقرار: بی بی سی ویریفائی کی تحقیقاتی رپورٹ میں 1300 سے زائد فلسطینیوں کی ہلاکت کی تصدیق

محمود احمد, September 02,2026

غزہ/یروشلم (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کے تحت اسرائیل اور حماس کے درمیان تاریخی جنگ بندی کا معاہدہ طے پانے کے باوجود غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی ہلاکت خیز کارروائیاں اور فضائی بمباری کا سلسلہ مکمل طور پر نہ تھم سکا، جس کے نتیجے میں رواں سال میں ہی 900 سے زائد فلسطینی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے بی بی سی کی خصوصی تحقیقاتی شاخ ‘بی بی سی ویریفائی’ نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں اس تلخ حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے کہ 10 اکتوبر کو امریکی ثالثی میں جنگ بندی کے باضابطہ اعلان کے بعد سے اب تک غزہ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 1300 سے بھی تجاوز کر چکی ہے، جن میں نا قابلِ یقین حد تک 301 معصوم بچے بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ حماس اور اسرائیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ 20 نکاتی امن فارمولے کو تسلیم کرتے ہوئے تمام تر جنگی کارروائیوں، بشمول فضائی حملوں اور توپ خانے کی شدید بمباری کو فوری طور پر روکنے پر اتفاق کیا تھا۔ تاہم بی بی سی ویریفائی کی جانب سے کیے گئے درجنوں مستند ویڈیوز اور سیٹلائٹ مناظر کے باریک بینی سے تجزیے نے ثابت کیا ہے کہ جنگ بندی کے معاہدو ں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ساحلِ سمندر پر قائم ایک معروف کیفے، بے گھر افراد کی عارضی خیمہ گاہوں اور وسطی غزہ میں ایک جنازے کے جلوس پر مہلک حملے کیے گئے۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار، جن کا بی بی سی نے اپنے آزادانہ تجزیے میں جائزہ لیا ہے، ظاہر کرتے ہیں کہ حالیہ مہینے ہلاکتوں کے لحاظ سے خوفناک ترین رہے ہیں اور رواں سال اپریل سے اگست کے درمیان ہر ماہ 100 سے زائد افراد کی شہادت ریکارڈ کی گئی۔ اگرچہ وزارتِ صحت تمام ہلاکتوں کا ذمہ دار اسرائیلی فوجی آپریشنز کو قرار دیتی ہے اور ہلاک شدگان میں عام شہریوں اور عسکریت پسندوں کی الگ سے درجہ بندی نہیں کرتی، تاہم اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی ماہرین نے بی بی سی ویریفائی کو بتایا کہ وزارتِ صحت کے یہ ارقام بالکل قابلِ اعتماد اور حقیقت پر مبنی ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی دفاعی افواج نے بی بی سی ویریفائی کو دیے گئے اپنے باضابطہ موقف میں ان ارقام کو سرے سے مسترد کر دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ ماننے کی کوئی منطقی بنیاد نہیں کہ تمام ہلاک شدہ افراد صرف آئی ڈی ایف کی کارروائیوں سے مارے گئے۔ اسرائیلی فوج کا مؤقف ہے کہ وہ اپنے اہلکاروں اور شہریوں کے تحفظ کے لیے صرف ہنگامی خطرات کے خاتمے کی خاطر معاہدے کے دائرہ کار میں انتہائی درست کارروائیاں کرتی ہے۔

تاہم بی بی سی کی اس خبر میں اس اہم پہلو کو بھی نمایاں کیا گیا ہے کہ رواں سال کے آغاز میں خود اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ ایک سینیئر اسرائیلی سیکیورٹی اہلکار نے اعتراف کیا ہے کہ غزہ کی اس طویل اور بھیانک جنگ میں اب تک 70 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے صرف 20 ہزار سے زائد جنگجو شامل تھے۔

شادی کی تقریب پر امریکی میزائل گرنے سے معصوم بچے سمیت 4 افراد ہلاک: ایرانی وزارتِ خارجہ نے حملے کو ‘جنگی جرم کا حقیقی چہرہ’ قرار دے دیا

محمود احمد, September 02,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

جنوبی ایران میں ایک شادی کی تقریب پر امریکی میزائل کے ٹکڑے گرنے سے معصوم بچے سمیت چار افراد کی دردناک ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے، جس کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سٹریٹجک جنگ میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے تنازع نے جنم لے لیا ہے۔

ایرانی ریڈ کریسنٹ (ہلالِ احمر) کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق یہ المناک واقعہ جنوبی ایران کے ایک رہائشی علاقے میں اس وقت پیش آیا جب ایک گھر میں شادی کی پرمسرت تقریب جاری تھی۔ اس دوران پاس کے علاقے میں ہونے والے امریکی فضائی حملے کے نتیجے میں میزائل کے وزنی ٹکڑے شادی والے گھر پر جا گرے، جس کے نتیجے میں بچے سمیت چار افراد موقع پر ہی ہلاک جبکہ متعدد افراد شدید زخمی ہو گئے۔

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر اس حملے کے بعد کی دل دہلا دینے والی ویڈیو شیئر کی ہے، جس میں تباہ شدہ گھر اور خوشیوں کے ماتم میں تبدیل ہونے کے اثرات کو دیکھا جا سکتا ہے۔

ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی نے ویڈیو کے ساتھ جاری کردہ پیغام میں امریکی کارروائی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف امریکہ کی غیر قانونی، غیر اخلاقی اور ظالمانہ جنگ کی بھیانک حقیقت گزشتہ رات پوری دنیا کے سامنے بالکل آشکار ہو گئی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ ویڈیو امریکی فوج کے ہاتھوں کیے جانے والے ‘جنگی جرم کا حقیقی چہرہ’ دکھاتی ہے۔

دوسری جانب امریکی عسکری حکام اور پینٹاگون کا کہنا ہے کہ وہ جنوبی ایران میں شادی کی تقریب پر میزائل کے ٹکڑے گرنے اور شہریوں کی ہلاکت سے متعلق سامنے آنے والی متعدد میڈیا اطلاعات سے مکمل طور پر آگاہ ہیں، تاہم امریکی فوج نے واضح موقف اپنایا ہے کہ اس کی کارروائیاں صرف عسکری اہداف کے خلاف ہیں اور اس نے شہریوں یا غیر نظامی آبادی کو دانستہ طور پر نشانہ نہیں بنایا ہے۔

کویت سٹی کے رہائشی کمپلیکس پر ایرانی ڈرون گر گیا، شدید آگ بھڑک اٹھی: کویتی فائر بریگیڈ کا بلڈنگ پر قابو پانے کا اعلان

محمود احمد, September 02,2026

کویت سٹی/تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

ایران اور امریکی اتحاد کے درمیان خطے میں جاری عسکری محاذ آرائی کے تباہ کن اثرات اب خلیجی ممالک کے شہری آبادیوں تک پہنچنا شروع ہو گئے ہیں، جہاں کویت کے دارالحکومت میں ایک رہائشی کمپلیکس پر ایرانی ڈرون گرنے کے نتیجے میں ہولناک آگ بھڑک اٹھی۔

کویت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے محکمہ فائر بریگیڈ کے ترجمان کا حوالہ دیتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ ایرانی ڈرون نے دارالحکومت کویت سٹی میں واقع ایک بڑے رہائشی کمپلیکس کو نشانہ بنایا جس سے ساہت میں شدید آگ لگ گئی۔ تاہم فائر فائٹرز اور امدادی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر مکمل طور پر قابو پا لیا ہے۔

دوسری جانب ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی نے باقاعدہ اعلان کیا ہے کہ بدھ کی صبح جنوبی ایران کی حدود میں امریکی جنگی طیاروں کی شدید بمباری اور فضائی حملوں کے ردِعمل میں اس نے خطے کے مختلف ممالک میں قائم امریکی فوجی تنصیبات کو ایک ساتھ نشانہ بنایا ہے۔

پاسدارانِ انقلاب کے بیان کے مطابق ایرانی عسکری فورسز نے اردن، بحرین، کویت اور شمالی عراق کے خود مختار کردی خطے کے دارالحکومت اربیل میں قائم امریکی عسکری اڈوں اور اڈوں پر ایک ہی وقت میں درجنوں بیلسٹک میزائلوں اور جدید ڈرونز سے حملے کیے ہیں۔

عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق خطے کی چار ریاستوں میں قائم امریکی تنصیبات پر ایک ساتھ اتنے بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے اور خلیجی شہروں کی آبادیوں پر اس کے اثرات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ اب ایک نا قابلِ کنٹرول اور ہمہ گیر جنگ کے دھانے پر پہنچ چکا ہے۔

ایران کا بحرین اور متحدہ عرب امارات میں امریکی فوجی اڈوں پر ڈرون حملوں کا دعویٰ

محمود احمد, September 02,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری براہِ راست عسکری تصادم میں انتہائی سنسنی خیز اور خطرناک موڑ سامنے آیا ہے، جہاں ایرانی فوج نے متحدہ عرب امارات اور بحرین میں واقع متعدد امریکی عسکری اڈوں اور ریڈار تنصیبات پر بڑے پیمانے پر ڈرون حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ایرانی افواج کے شعبہ نشر و اشاعت کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق، مسلح افواج کے درجنوں خودکش اور جنگی ڈرونز نے متحدہ عرب امارات میں قائم امریکی عسکری اڈوں ’الظفرہ اور ’المنہاد‘کو نشانہ بنایا ہے۔ دعوے میں کہا گیا ہے کہ ان حملوں کا بنیادی ہدف امریکی افواج کے جدید ترین ریڈار سسٹمز اور وہ حساس مقامات تھے جہاں یہ آلات نصب تھے۔

اس کے ساتھ ہی ایرانی فوج نے مزید بتایا کہ مملکتِ بحرین میں قائم ’شیخ عیسیٰ‘ امریکی ایئر بیس پر بھی کامیابی کے ساتھ دوبارہ ڈرون حملہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس کارروائی میں ایران کے جدید ’آرش‘ ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے امریکی افواج کی ریڈار تنصیبات اور ان کے اجتماع کے مراکز کو کامیابی سے ہدف بنایا گیا ہے۔

ایرانی عسکری حکام نے صراحت کی ہے کہ خلیجی ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر یہ شدید اور پے در پے حملے منگل کے روز امریکہ کی جانب سے پاسدارانِ انقلاب اور ایرانی علاقوں پر کی جانے والی حالیہ بمباری کا براہِ راست اور فوری ردِعمل ہیں۔

واضح رہے کہ خلیج کے ان اہم اڈوں پر حملوں سے چند ہی گھنٹے قبل ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی نے کویت اور اردن میں قائم متعدد امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات پر بھی بھاری راکٹوں اور ڈرونز سے حملے کرنے کی باضابطہ اطلاع فراہم کی تھی۔ عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق ان حملوں نے پورے خلیجی خطے کو ایک ہمہ گیر اور تباہ کن جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

آبنائے ہرمز میں شدید پیش رفت: بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر دو تیل بردار بحری جہاز دھماکے سے تباہ، آگ کی لپیٹ میں

محمود احمد, September 02,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں جاری انتہائی سنگین اور پیچیدہ عسکری کشیدگی کے دوران ایران کے پاسدارانِ انقلاب اسلامی نے نیا اور چونکا دینے والا دعویٰ کیا ہے کہ سمندری حدود میں دو تیل بردار بحری جہاز بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر شدید دھماکے کے بعد مکمل طور پر آگ کی لپیٹ میں آ گئے ہیں۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چند گھنٹے قبل ان دو آئل ٹینکرز کے عملے کو امریکی فوج کی ایماء پر اتار دیا گیا تھا اور ان جہازوں کو غیر قانونی راستہ عبور کرنے کے لیے امریکی عسکری عناصر کے اختیار میں دیا گیا تھا۔

پاسدارانِ انقلاب کے عسکری ترجمان کا کہنا تھا کہ اس واقعہ سے قبل ایرانی بحریہ نے بین الاقوامی بحری نقل و حرکت کو بارودی سرنگوں سے آلودہ اس مخصوص سمندری گزرگاہ کو عبور کرنے کے شدید خطرات سے باضابطہ اور واضح طور پر خبردار کیا تھا۔

بیان میں امریکی اتحاد اور تجارتی اداروں کو شدید تنبیہ کرتے ہوئے مزید کہا گیا ہے کہ جو بین الاقوامی بحری کمپنیاں قانونی اور محفوظ بین الاقوامی راستہ اختیار کرنے کے بجائے امریکی جھانسے میں آتی ہیں اور اپنے تجارتی جہاز دشمن کے حوالے کرتی ہیں، ان کے لیے مزید سخت سزائیں تجویز کر لی گئی ہیں جن پر جلد اور مکمل عمل درآمد کیا جائے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف اور کرغز صدر صادر ژاپاروف کی موجودگی میں مشترکہ اعلامیہ اور دستاویزات کا تبادلہ؛ لاہور اور ’اوش‘ سسٹر سٹیز قرار، ٹرانزٹ ٹریڈ اور حوالگیِ ملزمان کا معاہدہ بھی شامل

کاشف عباسی , September 02,2026

بشکیک/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

پاکستان اور کرغزستان نے باہمی سٹریٹجک تعلقات کو نئی بلندیوں پر پہنچاتے ہوئے تعلیم، صحت، ٹرانزٹ ٹریڈ، ماحولیاتی تبدیلی، سائنس و ٹیکنالوجی، ورچوئل اثاثوں اور سیکیورٹی سمیت متعدد اہم شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ کے لیے متعدد معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر باضابطہ دستخط کر دیے ہیں۔

ان تاریخی معاہدوں اور ایم او یوز کی دستاویزات کے تبادلے کی پروقار تقریب بدھ کے روز کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں واقع صدارتی محل میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور جمہوریہ کرغزستان کے صدر صادر ژاپاروف کی خصوصی موجودگی شامل تھی، جہاں دونوں رہنماؤں نے باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے مشترکہ اعلامیے پر بھی دستخط کیے۔

دستاویزات کے تبادلے میں پاکستان اور کرغزستان کی حکومتوں کے درمیان انتہائی اہم ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ، ملزمان کی باہمی حوالگی کا معاہدہ اور فوجداری معاملات میں قانونی معاونت کا مسودہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کی وزارتِ داخلہ کے درمیان منشیات، نشہ آور اشیاء اور کیمیکلز کی غیر قانونی سمگلنگ کی روک تھام میں تعاون کا ایم او یو طے پایا۔

تجارتی و معاشی روابط کو مضبوط بنانے کے لیے ‘کرغز پوسٹ’ اور ‘پاکستان پوسٹ’ کے درمیان پوسٹل سروسز اور ای کامرس کے شعبے میں باہمی تعاون، نیز فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور کرغزستان کے چیمبر آف کامرس کے درمیان شراکت داری کا معاہدہ شامل ہے۔ ایک اور اہم پیش رفت میں پاکستان کے تاریخی شہر لاہور اور کرغزستان کے اہم شہر ‘اوش’ کے درمیان ‘سسٹر سٹی’ تعلقات قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی اور کرغزستان کی قومی ایجنسی برائے ورچوئل ایسٹس و بلاک چین ٹیکنالوجیز کے درمیان ایم او یو پر دستخط کیے گئے۔ تعلیمی اور تحقیقی شعبے میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل اور کرغزستان کی وزارتِ صحت کے درمیان طبی تعلیم، اور وزارتِ وفاقی تعلیم پاکستان اور کرغزستان کی وزارتِ تعلیم کے درمیان تعاون کے معاہدے کیے گئے۔ علاوہ ازیں این ڈی یو پاکستان، آئی ایس ایس آئی اور کرغزستان کے سٹریٹجک انیشی ایٹو کے اداروں کے درمیان علمی ریسرچ کے ایم او یوز بھی شامل ہیں۔

پاکستان کی جانب سے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان، وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی نے اپنے کرغز ہم منصبوں کے ساتھ دستخط شدہ دستاویزات کا تبادلہ کیا۔

انٹرپول کے ریڈ نوٹس پر بڑی کامیابی: اقدامِ قتل کے مقدمے میں 3 سال سے مطلوب خطرناک اشتہاری ملزم محمد سجاول ایئرپورٹ سے گرفتار

منصور احمد, September 02,2026

اسلام آباد/ملتان (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی امیگریشن نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے اقدامِ قتل کے سنگین مقدمے میں پنجاب پولیس کو گزشتہ 3 سال سے مطلوب خطرناک اشتہاری ملزم محمد سجاول کو ملک پہنچتے ہی ایئرپورٹ سے گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار ملزم کی بین الاقوامی سطح پر گرفتاری کے لیے انٹرپول کی جانب سے ریڈ نوٹس جاری کیا گیا تھا۔

ایف آئی اے ملتان کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق گرفتار ملزم محمد سجاول سنگین فوجداری الزامات کے تحت سال 2023 سے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے تھانہ رجانہ کو مطلوب تھا، جہاں اس کے خلاف اقدامِ قتل اور دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج تھے۔

ترجمان نے بتایا کہ فرار ہونے کی کوششوں کے پیشِ نظر ملزم کا نام سٹاپ لسٹ میں شامل کیا گیا تھا جبکہ ایف آئی اے نیشنل سینٹرل بیورو انٹرپول نے اس کی گرفتاری یقینی بنانے کے لیے باضابطہ ریڈ نوٹس جاری کر رکھا تھا۔

ملزم بیرونِ ملک سے پاکستان پہنچا تو ملتان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر قائم ایف آئی اے امیگریشن کاؤنٹر نے اسے فوری طور پر حراست میں لے لیا۔ یہ اہم گرفتاری انٹرپول اسلام آباد اور ایف آئی اے امیگریشن ملتان کے مابین بہترین حکمتِ عملی اور قریبی رابطے کے نتیجے میں ممکن ہوئی۔ ابتدائی عمل درآمد اور امیگریشن کی کارروائی کے بعد ملزم کو مزید قانونی کارروائی اور تفتیش کے لیے پنجاب پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

درخت ہمارا قومی اثاثہ اور نئی نسل کی بہترین آبیاری ہیں: سبی میں مون سون شجرکاری مہم کا باضابطہ آغاز، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج طاہر ہمایوں کا پیغام

روزینہ اسماعیل, September 02,2026

سبی/کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سبی طاہر ہمایوں نے شجرکاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ درخت ہمارا قومی اثاثہ ہیں اور ان کی آبیاری کرنا درحقیقت ہماری آنے والی نئی نسل کے محفوظ مستقبل کی آبیاری کے مترادف ہے۔ انہوں نے سبی کے تمام شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ جاری مون سون شجرکاری مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں تاکہ شہر کو آلودگی سے بچا کر ایک پرفضا ماحول قائم کیا جا سکے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر میں مون سون شجر کاری مہم کے باضابطہ افتتاح کے موقع پر میڈیا اور حاضرین سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سبی طاہر ہمایوں نے خود پودا لگا کر اس مہم کا باقاعدہ آغاز کیا۔

افتتاحی تقریب میں عدلیہ اور قانون سے وابستہ متعدد اہم شخصیات نے شرکت کی۔ ایڈیشنل سیشن جج سبی عزیز احمد مینگل، جوڈیشل مجسٹریٹ شکیل احمد لاشاری، سپرنٹنڈنٹ سید فرید شاہ، شیر دل مرغزانی، سبی بار کے جنرل سیکرٹری ایڈووکیٹ سید نوید شاہ، عبدالواحد درانی ایڈووکیٹ، محمد انیس ایڈووکیٹ اور سبی پریس کلب کے صدر سعید الدین طارق نے بھی اپنے ہاتھوں سے پودے لگا کر اس قومی مہم میں اپنا حصہ ڈالا۔ اس موقع پر ناظم جنگلات سبی ڈویژن سید طارق شاہ اور محکمہ جنگلات کے دیگر اعلیٰ آفیسران بھی موجود تھے۔

میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سبی طاہر ہمایوں کا مزید کہنا تھا کہ درخت لگانا ایک صدقہ جاریہ اور اخلاقی فریضہ ہے۔ درخت نہ صرف ماحول میں مثبت تبدیلی اور درجہ حرارت میں بہتری کا باعث بنتے ہیں بلکہ سخت گرمی میں سایہ اور آکسیجن بھی فراہم کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شجرکاری صرف ماحولیاتی تحفظ تک محدود نہیں بلکہ یہ آئندہ نسلوں کی صحت اور بہتر مستقبل کی ضامن ہے۔ شہر کے مختلف شاہراہوں اور مقامات پر درخت لگانے سے نہ صرف سبی کی قدرتی خوبصورتی میں اضافہ ہوگا بلکہ شدید موسمیاتی چیلنجز کا مقابلہ کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

پاک بحریہ کی کراچی میں عظیم الشان بحری جنگی مشق ‘سی سپارک-2026’ کا باضابطہ آغاز، آپریشنل صلاحیتوں اور جنگی تیاریوں کا بھرپور مظاہرہ

کاشف عباسی , September 02,2026

راولپنڈی/کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

پاکستان کے سیکیورٹی ماحول اور سمندری سرحدوں کے دفاع کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پاک بحریہ کی کراچی میں تاریخی اور میجر میری ٹائم ایکسرسائز ‘سی سپارک-2026’ کا شاندار و باضابطہ آغاز ہو گیا ہے، جس میں پاک بحریہ اپنی مکمل جنگی تیاریوں، حربی حکمتِ عملی اور آپریشنل صلاحیتوں کا بھرپور عملی مظاہرہ کر رہی ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے اس اہم جنگی مشق کی افتتاحی بریفنگ کی صدارت کی۔ اس موقع پر پاک مسلح افواج کے مختلف اہم شعبوں کے اعلیٰ اور سینئر عسکری افسران بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

اس وسیع المیعاد مشق کے دوران پاکستان نیوی کی روایتی چیلنجز اور ابھرتے ہوئے تمام تر بحری خطرات کے خلاف جنگی صلاحیت کو سخت اور کٹھن جانچ کے عمل سے گزارا جا رہا ہے۔ مشق میں جدید ترین بحری جہازوں، آبدوزوں، جنگی طیاروں، بغیر پائلٹ ڈرون نظام (UAVs)، میرینز، کمانڈوز اور سپیشل فورسز کے ساتھ ساتھ پاک فوج اور پاک فضائیہ کے مشترکہ جنگی وسائل کو مکمل طور پر مربوط کیا گیا ہے۔

افتتاحی بریفنگ سے قبل چیف آف دی نیول سٹاف نے پاک بحریہ کے فلیٹ یونٹس کا تفصیلی دورہ کیا اور سمندر میں جاری آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا۔

تربیت میں مصروف افسران اور جوانوں سے اپنے جوشیلے خطاب میں نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف نے زور دے کر کہا کہ خطے کے تیزی سے بدلتے ہوئے سیکیورٹی ماحول میں غیر متزلزل جنگی تیاری، تینوں مسلح افواج کے درمیان مزید مؤثر انضمام، حالات کے مطابق خود کو فوری ڈھالنے کی صلاحیت اور زمینی و معلوماتی شعبوں میں اعلیٰ مؤثریت ہر صورت ناگزیر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مشق ‘سی اسپارک-2026’ کا بنیادی مقصد ملٹی ڈومین آپریشنز کی مشق کرنا ہے، جس میں سمندری، فضائی، زمینی، سائبر اور خلائی معاون صلاحیتوں کو ایک جگہ مربوط کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انفارمیشن انوائرنمنٹ میں آپریشنز پر خصوصی توجہ مرکوز کی جا رہی ہے تاکہ سمندر میں فعال کارروائیوں کے ساتھ ہم آہنگی برقرار رکھتے ہوئے معلوماتی جنگ میں دشمن پر فیصلہ کن برتری حاصل کی جا سکے۔

عالمی مالیاتی نظام میں فوری اصلاحات اور مصنوعی ذہانت کی مساوی رسائی ناگزیر ہے: بشکیک میں ایس سی او اجلاس سے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کا خطاب

محمود احمد, September 02,2026

بشکیک (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے عالمی مالیاتی نظام میں بنیادی اور عاجلانہ اصلاحات کا پرزور مطالبہ کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ دنیا کے بیشتر ترقی پذیر ممالک بدستور نا قابلِ برداشت اور کمر توڑ غیر ملکی قرضوں کے شدید بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔

اماراتی نیوز ایجنسی کے مطابق، اقوام متحدہ کے سربراہ نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اعلیٰ سطحی سربراہی اجلاس سے اہم خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو عالمی مالیاتی و معاشی ڈھانچے میں فوری اصلاحات لانا ہوں گی تاکہ عالمی سطح پر انصاف اور مساوات کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترقی پذیر ممالک کو مفلوج کرنے والے ان بوجھل قرضوں کے سنگین مسئلے کا ایک پائیدار اور منصفانہ حل تلاش کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

اپنے خطاب کے دوران انتونیو گوتریش نے کثیرالجہتی ترقیاتی بینکوں پر زور دیا کہ وہ غریب اور درمیانی آمدنی والے ممالک کی معاشی ترقی کی کوششوں اور مالی معاونت کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ بڑا، مؤثر اور جرات مندانہ کردار ادا کریں۔

انہوں نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ اقوام متحدہ کے اپنے ڈھانچے اور ‘بریٹن ووڈز’ نظام سمیت تمام بین الاقوامی کثیرالجہتی اداروں میں انقلابی اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں تاکہ ان اداروں کو آج کی جدید اور تلخ عالمی حقیقتوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے اور بین الاقوامی فیصلے سازی میں ترقی پذیر ممالک کی متناسب نمائندگی اور اثر و رسوخ میں حقیقی اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔

ٹیکنالوجی کے شعبے اور بالخصوص مصنوعی ذہانت کے ابھرتے ہوئے خطرات و فوائد پر گفتگو کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی اور اس کے فوائد صرف چند امیر یا ٹیکنالوجی میں پیش رفتہ ممالک تک محدود نہیں رہنے چاہئیں، بلکہ اسے دنیا کے تمام ممالک اور ان کے شہریوں کے لیے یکساں طور پر کارآمد بنانا ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے عالمی سطح پر مؤثر اور محفوظ حفاظتی ضوابط اور زیادہ جامع طرزِ حکمرانی کا طریقہ کار تشکیل دینا بے حد ضروری ہے۔

’تعاون کا مطلب جھکنا نہیں‘: میکسیکو کی صدر کلاؤڈیا شین بام کا ملک کی خودمختاری، وقار اور حریت کے دفاع کا سخت عزم

محمود احمد, September 02,2026

میکسیکو سٹی (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

میکسیکو کی صدر کلاؤڈیا شین بام نے اپنی قوم کی خودمختاری، قومی وقار اور آزادی کے تحفظ کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے دنیا بھر کو واضح پیغام دیا ہے کہ ان کا ملک تمام ممالک کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعاون، مذاکرات اور مفاہمت کا خواش مند ہے، تاہم تعاون کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ میکسیکو کسی کے سامنے جھکے اور نہ ہی دوستی کا مقصد اپنے بنیادی اصولوں سے دستبردار ہونا ہے۔

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، صدر کلاؤڈیا شین بام نے تاریخی ‘نیشنل پیلس’ میں اپنی حکومت کی دوسری باضابطہ سٹیٹ آف دی یونین تقریر کے دوران عالمی برادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک انہیں میکسیکو کی صدر کے طور پر عوام کی خدمت کرنے کا اعزاز حاصل ہے، وہ ملک کی جغرافیائی و سیاسی خودمختاری، وقار اور حریت کا ثابت قدمی سے دفاع کرتی رہیں گی۔

اپنے اس اہم خطاب میں انہوں نے میکسیکو اور ہمسایہ ملک امریکہ کے سٹریٹجک تعلقات میں حائل شدو مد اور مشکلات، خصوصاً امریکہ کے اندر میکسیکن تارکینِ وطن کے ساتھ روا رکھے جانے والے نا روا سلوک کا کھلے عام اعتراف اور سخت الفاظ میں احاطہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی امیگریشن حراستی مراکز کی خراب صورتحال اور ناروا رویے کے باعث اب تک 17 میکسیکن شہری ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ امریکہ بھر میں امیگریشن کارروائیوں اور چھاپوں کے دوران ہزاروں بے گناہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میکسیکو کی حکومت نے ان المناک واقعات پر واشنگٹن انتظامیہ کے سامنے رسمی شکایات درج کرائی ہیں اور تارکینِ وطن کے عالمی و انسانی حقوق کا مکمل احترام کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔

امریکہ کی جانب سے میکسیکن شہریوں کی بڑے پیمانے پر جبری ملک بدری کے جواب میں صدر نے بتایا کہ ان کی حکومت نے (میکسیکو آپ کو گلے لگاتا ہے) کے نام سے ایک خاص ہنگامی پروگرام شروع کر رکھا ہے۔ اس اسکیم کے تحت اب تک 2 لاکھ 81 ہزار سے زائد ملک بدر یا واپس بھیجے گئے میکسیکن باشندوں کی بحالی کے لیے مدد فراہم کی جا چکی ہے، جنہیں فوری گرم کھانا، آبائی علاقوں تک محفوظ نقل و حمل، بہترین طبی و نفسیاتی نگہداشت اور شناختی دستاویزات کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے۔

امریکہ کے ساتھ دوطرفہ تجارت اور سرحد پر سیکیورٹی کے حساس معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے صدر کلاؤڈیا شین بام نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات اور گفت و شنید کا سلسلہ مسلسل جاری ہے اور انہیں امید ہے کہ جلد ہی باہمی مفاہمت پر مبنی پائیدار معاہدے طے پا جائیں گے۔ سیکیورٹی تعاون کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ان کے ملک نے امریکہ کے ساتھ ایسے تمام تر معاہدے مشترکہ ذمہ داری، خودمختاری کے احترام اور بغیر کسی ماتحتی کے باہمی اعتماد کی بنیاد پر کیے ہیں۔

آسٹریلیا کی تاریخی ‘ماؤنٹ لائل’ تانبے کی کان 15 سال بعد 2029 میں دوبارہ فعال کرنے کا اعلان، 350 ملین امریکی ڈالر کی بھاری سرمایہ کاری کی منظوری

محمود احمد, September 02,2026

کینبرا (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

آسٹریلیا کی خوبصورت جزیرہ ریاست تسمانیہ کے مغربی ساحل پر واقع تاریخی تانبے کی کان 15 سال طویل بندش کے بعد بالاخر سال 2029 میں دوبارہ اپنی پیداوار کا باقاعدہ آغاز کرے گی۔ اس تاریخی کان کو سال 2014 میں پیش آنے والے دو الگ الگ المناک حادثات میں 3 کان کنوں کی ہلاکت کے بعد مکمل طور پر سیل کر دیا گیا تھا۔

چین کے خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق، حکومتِ تسمانیہ نے بدھ کے روز جاری کردہ ایک رسمی بیان میں جنوبی افریقہ کی بین الاقوامی مائننگ کمپنی ‘سبیانے سٹل واٹر’ کے اس فیصلہ کن اقدام کا پرجوش خیرمقدم کیا ہے جس کے تحت ماؤنٹ لائل تانبے کی کان سے 2029 تک تانبے کی پیداوار کا عمل دوبارہ شروع کیا جا رہا ہے۔

تسمانیہ کے وزیر برائے کاروبار، صنعت اور قدرتی وسائل فیلکس ایلس نے اپنے باضابطہ بیان میں کہا کہ اس تاریخی کان میں پیداوار کی بحالی سے خطے میں 300 سے زائد بلاواسطہ نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس تاریخی منصوبے کا دوبارہ آغاز مغربی ساحلی خطے میں خطیر نئی سرمایہ کاری، بہترین اور پرکشش اجرت والی ملازمتیں اور ایک طویل مدتی معاشی اعتماد لے کر آئے گا۔

صنعتی منصوبے کے خدوخال کے مطابق، ماؤنٹ لائل کان کی بحالی اور جدید کاری پر عملی تعمیراتی کام 2027 کی پہلی ششماہی میں شروع ہونے کی توقع ہے، جس کے لیے جنوبی افریقی مائننگ کمپنی کی جانب سے تقریباً 490 ملین آسٹریلوی ڈالر (جو تقریباً 350 ملین امریکی ڈالر بنتے ہیں) کی بھاری سرمایہ کاری مختص کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ تانبے کی یہ مشہور کان 1890ء کی دہائی میں قائم کی گئی تھی اور اس نے آسٹریلیا کی کان کنی کی صنعت میں دہائیوں تک اہم کردار ادا کیا۔ تاہم، سال 2014 میں کان کے اندر دو الگ الگ خوفناک حادثات کے نتیجے میں 3 محنت کشوں کی ہلاکت کے بعد حفاظت کے پیشِ نظر اس میں کام مکمل طور پر معطل کر دیا گیا تھا۔

سعودی عرب کے سفارتی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی: ڈاکٹر منال بنت حسن رضوان وزیرِ خارجہ کی مشیر اور خصوصی ایلچی مقرر

روزینہ اسماعیل, September 02,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ایک اہم اور اعلیٰ سطحی سفارتی فیصلہ کرتے ہوئے سینئر ڈپلومیٹ ڈاکٹر منال بنت حسن رضوان کو مذاکرات اور بین الاقوامی امن کوششوں کے لیے وزیرِ خارجہ کی خاص مشیر اور خصوصی ایلچی مقرر کر دیا ہے۔

سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق یہ اہم تقرری مملکت کی خارجہ پالیسی کے تحت عالمی سفارتی امور کو مزید مضبوط بنانے، مختلف خطوں میں باہمی مذاکرات کو فروغ دینے اور عالمی امن عمل کی حمایت کی مسلسل کوششوں کے حصے کے طور پر کی گئی ہے۔

خصوصی ایلچی مقرر کیے جانے کے بعد ڈاکٹر منال بنت حسن رضوان کے دائرہ اختیار میں بین الاقوامی مذاکرات، تنازعات کی تسویہ کاری، عالمی امن کی کوششوں میں معاونت اور بین الاقوامی برادری میں سعودی عرب کی موثر سفارتی موجودگی و اثر و رسوخ کو مزید مستحکم کرنا شامل ہو گا۔

ڈاکٹر منال بنت حسن رضوان کو عالمی سفارت کاری، بین الاقوامی مذاکراتی عمل، پیچیدہ تنازعات کے حل اور کثیر الجہتی امور کا کثیر اور طویل تجربہ حاصل ہے۔ وہ اس سے قبل بھی سعودی وزارتِ خارجہ میں متعدد اعلیٰ اور ذمہ دارانہ عہدوں پر فائز رہ چکی ہیں اور اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر سعودی عرب کی نمائندگی کا اعزاز رکھتی ہیں۔

حالیہ نئی تقرری سے قبل وہ وزارتِ خارجہ میں بطور وزیر کام کر رہی تھیں۔ انہوں نے سال 2017 سے وزارتِ خارجہ میں اعلیٰ مشیر اور بعد ازاں افریقی امور کے وزیرِ مملکت کے دفتر میں بطور مشیر خدمات انجام دیں۔ اس سے قبل سال 2012 میں بھی وہ وزیرِ خارجہ کے دفتر میں بطور مشیر اہم فرائض سرانجام دے چکی ہیں۔

ان کے شاندار سفارتی کیریئر میں سال 2012 سے 2017 کے درمیان نیویارک میں اقوامِ متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مشن کے ساتھ کام کرنے کا پانچ سالہ اہم تجربہ شامل ہے۔ علاوہ ازیں انہوں نے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں عرب لیگ کے لیے سعودی مشن اور واشنگٹن ڈی سی میں سعودی سفارت خانے میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں، جہاں ان کی بنیادی ذمہ داریوں میں امریکی کانگریس سے روابط اور سیاسی امور شامل تھے۔ انہوں نے مظلوم فلسطینیوں کے حقوق اور مسئلہ فلسطین کے پائیدار حل کے لیے سعودی عرب کی سفارتی پیش رفت میں بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

بھارت میں تاریخی گرمی کی لہر: اگست 1901 کے بعد سے اب تک کا گرم ترین مہینہ ریکارڈ

منصور احمد, September 02,2026

نئی دہلی (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

پڑوسی ملک بھارت میں موسمیاتی تبدیلی کے مہلک اثرات شدت اختیار کر گئے ہیں، جہاں رواں سال کا اگست 1901 کے بعد سے لے کر اب تک کی 125 سالہ ریکارڈ شدہ تاریخ کا سب سے گرم ترین مہینہ ثابت ہوا ہے اور ملک کا اوسط درجہ حرارت 28.01 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا ہے۔

بھارتی محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعداد و شمار کے مطابق اگست میں بھارت کا اوسط درجہ حرارت طویل مدتی اوسط سے 0.67 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی اگست کے سب سے زیادہ اوسط درجہ حرارت کا سال 2023 میں قائم ہونے والا 28.0 ڈگری سینٹی گریڈ کا سابقہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا ہے۔

محکمہ موسمیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگست کے دوران پورے بھارت میں مون سون کی بارشیں معمول سے 16 فیصد کم رہیں، جس کے باعث درجہ حرارت میں غیر معمولی اور مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا۔ بارشوں میں اس کمی اور حدت میں اضافے کی بنیادی وجہ سمندری و فضائی مظہر ’ال نینو‘ کا متحرک ہونا بتایا جا رہا ہے، جو دنیا بھر میں ہوا کے دباؤ اور بارش کے قدرتی نظام میں شدید تبدیلیاں لانے کا سبب بنتا ہے۔

جنوبی ایشیا اور خاص طور پر بھارت میں ال نینو کے اثرات کے باعث شدید خشک سالی اور حدت سے بھرپور موسم پیدا ہوتا ہے۔ ماحولیاتی سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ فوسل ایندھن (گیس، تیل اور کوئلے) کے کثرت سے استعمال سے پیدا ہونے والی گلوبل وارمنگ اور ال نینو کے ملاپ نے پہلے سے گرم ہوتی ہوئی زمین کے درجہ حرارت میں تباہ کن اضافہ کر دیا ہے، جس سے مستقبل میں مزید شدید ترین اور غیر معمولی موسمی حالات پیدا ہونے کا خطرہ موجود ہے۔

دنیا کی سب سے بڑی آبادی کا حامل ملک بھارت ان شدید موسمیاتی تبدیلیوں اور گرمی کی لہروں کی زدمیں ہے، جہاں حالیہ برسوں کے دوران کئی ریاستوں اور اضلاع میں درجہ حرارت خطرناک اور نا قابلِ برداشت حد تک بڑھتا ہوا دیکھا گیا ہے۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے اور عالمی سطح پر پائیدار امن کے حصول میں معاون ثابت ہوگا: بشکیک میں ترک صدر رجب طیب اردوان کا تاریخی اعلان

روزینہ اسماعیل, September 02,2026

بشکیک/انقرہ (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے اس عزم کی باضابطہ تصدیق کی ہے کہ ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان طے پانے والا تاریخی ’’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘‘ خطے سمیت عالمی سطح پر پائیدار امن اور استحکام کے حصول میں انتہائی اہم اور کلیدی کردار ادا کرے گا۔

ترک صدر نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ مملکت و حکومت کے اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ علاقائی خود مختاری، ملکیت اور اجتماعی مزاحمت کی مضبوط بنیادوں پر قائم کیا جانے والا یہ سہ فریقی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے کے امن اور دفاعی توازن کی ضمانت بنے گا۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، اس اہم معاہدے کی سیاسی اور دفاعی سٹریٹجک کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ مشترکہ اعلامیے میں اس بات کا اعادہ کیا گیا تھا کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ دفاعی صنعت، اسلحہ سازی، مشترکہ پیداوار اور جدید ترین ملٹری ٹیکنالوجی کی ترقی کے شعبوں میں ایک دوسرے سے مکمل اور مضبوط تعاون قائم کریں گے۔

اعلامیے کے مطابق اس اشتراکِ عمل اور مشترکہ سرگرمیوں کا بنیادی مقصد تینوں مسلم ممالک کی دفاعی صلاحیتوں، حربی مہارت اور مسلح افواج کے باہمی توازن و استعداد کو آئندہ چیلنجز کے مقابلے کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور جدید بنانا ہے۔

ایران کی پاسدارانِ انقلاب کا امریکہ کو ‘سخت سزا’ دینے کا عزم: ڈونلڈ ٹرمپ کے دھمکی آمیز بیان کے بعد تہران کا بھرپور جوابی کارروائی کا اعلان

محمود احمد, September 01,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری عسکری ٹکراؤ انتہائی خطرناک موڑ پر پہنچ گیا ہے، جہاں ایرانی پاسدارانِ انقلاب اسلامی نے منگل کو ہونے والی امریکی بمباری کے بعد باضابطہ اعلان کیا ہے کہ وہ اس امریکی جارحیت کا انتہائی ‘سخت’ اور دردناک جواب دیں گے۔

منگل کے روز پاسدارانِ انقلاب کے ٹھکانوں پر امریکی طیاروں کے حملوں کے فوراً بعد پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے تہران میں صحافیوں اور بین الاقوامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو اس کی اس حماقت پر ’سخت سزا‘ دی جائے گی اور واشنگٹن اپنے ان نئے حملوں کے فیصلوں پر شدید پچھتائے گا۔

پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان کے یہ تند و تیز اور جنگی بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب چند ہی لمحے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو متنبہ کیا تھا کہ اگر اس نے کوئی بھی جوابی کارروائی کی تو امریکہ کا اگلا ردِعمل پہلے سے کہیں زیادہ ‘سخت اور وسیع’ ہو گا۔

ایرانی عسکری حکام نے امریکہ کی اس تنبیہ کو مسترد کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ کسی بھی قسم کا دباؤ یا دھمکی ایران کو اپنی خودمختاری، جغرافیائی سرحدوں اور قومی مفادات کے دفاع کے حق سے پیچھے نہیں ہٹا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں قائم تمام امریکی تنصیبات اور امریکی فورسز پاسدارانِ انقلاب کے نشانوں پر ہیں اور وقت و مقام کا انتخاب ایران خود کرے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کو نیا اور سخت ترین انتباہ: دوبارہ جوابی کارروائی کی تو امریکی ردِعمل ’سخت اور وسیع‘ ہو گا

محمود احمد, September 01,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری عسکری کشیدگی میں مزید شدّت لاتے ہوئے ایک باضابطہ بیان میں متنبہ کیا ہے کہ اگر تہران حکومت نے امریکی حملوں کے جواب میں کسی بھی قسم کی کارروائی کی تو اس بار واشنگٹن کا ردِعمل پہلے سے کہیں زیادہ ’سخت اور وسیع‘ ہو گا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ تند و تیز بیان اس کے فوراً بعد سامنے آیا ہے جب امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی تھی کہ امریکی جنگی طیاروں نے ایران میں پاسدارانِ انقلاب کے تزویراتی ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔

امریکی صدر نے واضح کیا کہ منگل کی شب امریکہ کی جانب سے پاسدارانِ انقلاب کے اہم اہداف پر کیے گئے فضائی حملے مکمل طور پر قانون کے مطابق اور ‘جائز’ تھے۔ انہوں نے تہران کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر جواب میں ایران نے کوئی بھی عسکری قدم اٹھایا یا امریکی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو امریکہ دوبارہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اس سے بڑا حملہ کرے گا۔

اس سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے علانیہ اعلان کیا تھا کہ وہ اردن میں قائم امریکی عسکری اڈوں پر پاسدارانِ انقلاب کے حالیہ حملوں کا بدلہ لیں گے اور اس کا ’سخت‘ جواب دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ایران نے اردن اور امارات میں امریکی تنصیبات پر ان حملوں کو اس سے قبل خلیج فارس کے جزیرے ‘لارک’ پر ہونے والے امریکی حملوں کا فطری اور دفاعی ردِعمل قرار دیا تھا۔

سیاسی و عسکری ماہرین کا ماننا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس نئے اور انتباہی بیان کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں براہِ راست امریکی و ایرانی تصادم کا دائرہ کار مزید پھیلنے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ٹھکانوں پر زبردست فضائی حملے، بندر عباس اور چابہار سمیت متعدد ساحلی شہر دھماکوں سے گونج اٹھے

محمود احمد, September 01,2026

واشنگٹن/تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

مشرقِ وسطیٰ میں عسکری کشیدگی میں انتہائی سنسنی خیز اور خطرناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ امریکی جنگی طیاروں نے منگل کے روز ایران کی پاسدارانِ انقلاب اسلامی کے مختلف اہم عسکری ٹھکانوں اور تنصیبات پر بمباری کی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ شدید فضائی حملے آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت پر ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں اور خطے میں تعینات امریکی فوجیوں کو نشانہ بنانے کے ردِعمل کے طور پر کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب، ایرانی نیوز ایجنسی ’فارس نیوز‘ کی فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق ایران کے ساحلی اور تزویراتی علاقوں کونارک، چابہار، بندر عباس، سیرک اور جزیرہ قشم میں انتہائی شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان تمام مقامات پر یکے بعد دیگرے کئی انفجارات ہوئے، تاہم خبر رساں ایجنسی نے ابھی تک ان دھماکوں کے عین مقام یا ہونے والے مالی و جانی نقصانات کی حتمی وضاحت نہیں کی ہے۔

عسکری ماہرین کا ماننا ہے کہ آبنائے ہرمز کے آس پاس ایرانی ساحلی شہروں اور جزائر کو ہدف بنایا جانا اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ امریکی افواج ایران کی ساحلی دفاعی صلاحیتوں اور پاسدارانِ انقلاب کے نیول اور میزائل انفراسٹرکچر کو ناکارہ بنانے کی کوشش کر رہی ہیں، جس سے اس خطے میں باقاعدہ وسیع پیمانے کی جنگ کے خطرات شدید ہو گئے ہیں۔

بشکیک میں ایس سی او اجلاس کے موقع پر پوتن کی مسعود پزشکیان سے ملاقات: مشکل وقت میں ایران کی ہر ممکن مدد جاری رکھنے کا روسی اعلان

محمود احمد, September 01,2026

بشکیک/ماسکو (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے ایران کی قیادت اور عوام کے عزم و ہمت کو سراہتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ماسکو انتظامیہ ’اس مشکل اور حساس دور‘ میں تہران کی ہر ممکن مدد کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے۔

یکم ستمبر کو کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے اہم موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ایک دباؤ سے بھرپور فضا میں ہونے والی باہمی ملاقات کے دوران صدر پوتن نے کہا کہ روس اپنے قومی مفادات، جغرافیائی سرحدوں اور خودمختاری کے دفاع میں ایرانی قوم کی جرات اور استقامت کی انتہائی قدر کرتا ہے۔

روسی خبر رساں ادارے ’تاس‘ کے مطابق روسی صدر نے ایرانی ہم منصب سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس انتہائی پیچیدہ اور مشکل دور میں ہم ایران کو درکار ہر قسم کی معاونت و سامان فراہم کرنے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس موضوع پر دونوں ممالک کے حکام کے درمیان پیشگی تفصیل سے بات چیت ہو چکی ہے اور روس کی جانب سے ضروری عسکری و لاجسٹک سامان کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔

اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران صدر ولادیمیر پوتن نے روس اور ایران کے درمیان گہرے ہوتے تجارتی اور اقتصادی تعلقات کی موجودہ رفتار کو بھی سراہا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ خطے میں پھیلی موجودہ شدید ‘عسکری اور سیاسی صورتحال کے باوجود’ دونوں ممالک کے تجارتی و معاشی روابط مثبت سمت میں مسلسل پیش رفت کر رہے ہیں۔

روسی صدر کا کہنا تھا کہ باہمی تجارت میں یہ بہتری بنیادی طور پر ‘روس۔ایران بین الحکومتی کمیشن’ کی فعال اور مؤثر کارکردگی کا نتیجہ ہے، جو باقاعدگی کے ساتھ اپنے اجلاس منعقد کر رہا ہے اور جس کا تازہ ترین اور انتہائی اہم اجلاس حال ہی میں کامران ثابت ہوا ہے۔