لاہور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ؛ والدین کے خلاف مقدمہ درج کرانے کی بیٹی کی درخواست ناقابلِ سماعت قرار دے کر مسترد

کاشف عباسی , JULY 06,026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

لاہور ہائیکورٹ نے والدین کے خلاف مقدمہ درج کرانے کی ایک بیٹی کی درخواست کو قانونی طور پر ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے مستقل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ عدالتِ عالیہ کے معزز جج جسٹس جواد ظفر نے درخواست گزار ایمان فاطمہ کی جانب سے دائر کردہ اپیل پر تفصیلی سماعت کی، جس میں تحفظِ امن کے عہدیدار (جسٹس آف پیس) کی جانب سے والدین پر مقدمے کے اندراج کی درخواست مسترد کیے جانے کے پرانے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔

مقتدر عدالتی کارروائی کے دوران درخواست گزار ایمان فاطمہ نے موقف اختیار کیا تھا کہ اپنے خاوند سے شدید ناچاقی اور لڑائی جھگڑے کے بعد وہ عارضی طور پر اپنے والدین کے گھر منتقل ہو گئی تھی اور اس کٹھن دورانئے میں اس نے اپنے شوہر سے جہیز اور قیمتی زیورات کی واپسی کے لیے فیملی کورٹ میں ایک مقدمہ بھی دائر کیا تھا۔ تاہم، بعد ازاں دونوں فریقین اور میاں بیوی میں باقاعدہ صلح ہو گئی، جس کے بعد وہ دوبارہ اپنے خاوند کے گھر جا کر ہنسی خوشی رہنے لگی۔ درخواست گزار کے مطابق اس صلح کے بعد جب وہ اپنے والدین کے گھر سے اپنے زیورات واپس لینے گئی تو انہوں نے زیورات لوٹانے سے صاف انکار کر دیا۔ اسی تنازع پر تحفظِ امن کے عہدیدار نے دس جون دو ہزار چھبیس کو والدین کے خلاف مقدمہ درج کرانے کی بیٹی کی پہلی درخواست کو خارج کر دیا تھا۔ ہائیکورٹ میں دائر اس نئی درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ نچلی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر والدین کے خلاف چوری یا امانت میں خیانت کا مقدمہ درج کرنے کا مقتدر حکم جاری کیا جائے۔

لاہور ہائیکورٹ کے معزز جج نے وکلاء کے تفصیلی دلائل سننے اور قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد درخواست گزار ایمان فاطمہ کی اپنے ہی والدین کے خلاف مقدمہ درج کرانے کی اس استدعا کو قانون کے مقتدر اصولوں کے منافی اور ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے یکسر مسترد کر دیا اور نچلی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا۔

چین اور روس کی مشترکہ بحری مشق ’’جوائنٹ سی-2026‘‘ کا باضابطہ آغاز

کاشف عباسی , JULY 06,026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

چین اور روس نے پیر کے روز مشرقی چین کے صوبہ شینڈونگ کے ساحلی شہر چنگ ڈاؤ میں واقع ایک تزویراتی فوجی بندرگاہ پر اپنی مشترکہ بحری مشق ’’جوائنٹ سی-2026‘‘ کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ چینی خبر رساں ادارے کے مطابق، اس اہم فوجی اقدام کے تحت دونوں ممالک کی بحری افواج پر مشتمل ایک مشترکہ کمان بھی تشکیل دی گئی ہے، جس میں دونوں دوست ممالک کی بحریہ کی مقتدر ٹاسک فورسز شامل ہیں۔ یہ مشترکہ مشقیں مجموعی طور پر تین مختلف اور اہم مراحل میں منعقد کی جائیں گی، جن میں افواج کی تزویراتی تعیناتی، بندرگاہ کے اندر جنگی منصوبہ بندی اور سمندر کی لہروں پر عملی حربی مشقیں شامل ہیں۔

افتتاحی تقریب کے فوراً بعد دونوں ممالک کی بحری افواج نے کمانڈ اور حربی ہم آہنگی کو بڑھانے سے متعلق مشترکہ مشقوں کا آغاز کیا، جبکہ نئی قائم شدہ مشترکہ کمان کے اعلیٰ حکام نے کھلے سمندر میں ہونے والی مشقوں کے اہم تزویراتی نکات پر تفصیلی تبادلہ خیال بھی کیا۔ طے شدہ مقتدر منصوبے کے مطابق، اگلے مرحلے میں مشقوں میں شریک دونوں ممالک کے جدید جنگی بحری جہاز چنگ ڈاؤ کے قریبی سمندری علاقے میں مشترکہ نگرانی، فضائی اور میزائل دفاع سمیت جدید ترین اسلحے کے عملی استعمال سے متعلق انتہائی اہم اور حساس مشقیں کریں گے، جس کا مقصد خطے میں مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

ٹور ڈی فرانس سائیکل ریس؛ میکسیکو کے آئزک ڈیل ٹورو نے دوسرا مرحلہ اپنے نام کر لیا

منصور احمد, JULY 06,2026

میڈرڈ (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

میکسیکو کے مایہ ناز سائیکل سوار آئزک ڈیل ٹورو نے دنیا کی سب سے بڑی اور مشہور ٹور ڈی فرانس سائیکل ریس کا دوسرا مرحلہ شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جیت لیا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق، اسپین کے تاریخی شہر بارسلونا سے ٹور ڈی فرانس سائیکل ریس کے 113 ویں ایڈیشن کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے، جس میں دنیا بھر سے سائیکلنگ کی 23 مقتدر ٹیموں کے نامور کھلاڑی ٹائٹل کے حصول کے لیے سڑکوں پر ایکشن میں دکھائی دے رہے ہیں۔ ریس کے دوسرے مرحلے میں تمام سائیکل سواروں نے اسپین کے علاقے تاراگونا سے بارسلونا تک کا 168.5 کلومیٹر طویل اور مشکل فاصلہ طے کرنا تھا۔

اس اہم مرحلے میں 22 سالہ میکسیکن سائیکل سوار آئزک ڈیل ٹورو نے انتہائی عمدہ اور تیز رفتار سائیکلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ فاصلہ محض 3 گھنٹے 40 منٹ اور 1 سیکنڈ میں طے کر کے پہلی پوزیشن اپنے نام کی اور اپنی ٹیم کے لیے قیمتی برتری حاصل کی۔ اسی مقابلے میں سلوسینیا سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ سائیکلسٹ تڈیج پوگاآر نے دوسری پوزیشن حاصل کی، جبکہ بیلجیئم کے 26 سالہ سائیکل سوار ریمکو ایوینیپول تیسرے نمبر پر رہے۔ دوسری جانب، دفاعی چیمپئن اور ڈنمارک کے 29 سالہ مقتدر سائیکل سوار جوناس ونگگارڈ کی ریس کی سب سے معتبر پیلی جرسی پر حکمرانی اب بھی برقرار ہے۔

ٹور ڈی فرانس سائیکل ریس مجموعی طور پر 21 مختلف اور کٹھن مرحلوں پر محیط ہے، جس کے دوران دنیا کے یہ بہترین سائیکل سوار کل 3320.7 کلومیٹر کا انتہائی طویل سفر طے کریں گے۔ چوبیس روز تک جاری رہنے والا یہ عالمی میلہ مختلف شہروں اور پہاڑی راستوں سے گزرتا ہوا 26 جولائی کو اپنے انجام کو پہنچے گا۔ امسال متحدہ عرب امارات کی ایمرٹس ٹیم کی نمائندگی کرنے والے سلوسینیا کے تڈیج پوگاآر اپنے عالمی اعزاز کے دفاع کے لیے سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ اس تاریخی ریس کا پہلا ایڈیشن پہلی مرتبہ سال 1903ء میں منعقد ہوا تھا، جس میں فرانسیسی سائیکل سوار مورس فرانسس گارین نے پہلی تاریخی فتح حاصل کی تھی۔

ومبلڈن اوپن ٹینس؛ کیٹرینا سینیاکووا اور ٹیلر ٹاؤن سینڈ پر مشتمل ٹاپ سیڈڈ جوڑی خواتین کے ڈبلز مقابلوں کے پری کوارٹر فائنل میں داخل

محمود احمد, JULY 06,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

جمہوریہ چیک کی مایہ ناز ٹینس کھلاڑی کیٹرینا سینیاکووا اور ان کی امریکی جوڑی دار ٹیلر ٹاؤن سینڈ پر مشتمل ٹاپ سیڈڈ جوڑی نے رواں سال کے تیسرے گرینڈ سلام ومبلڈن اوپن ٹینس ٹورنامنٹ کے خواتین کے ڈبلز مقابلوں میں اپنی فتوحات کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے کامیابی کے ساتھ پری کوارٹر فائنل راؤنڈ کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے۔ کھیلوں کے عالمی نشریاتی ادارے کے مطابق، اس عالمی نمبر ون جوڑی نے دوسرے راؤنڈ کے یکطرفہ مقابلے میں جمہوریہ چیک کی میری بوزکووا اور اسپین کی سارہ سوریبس ٹورمو پر مشتمل جوڑی کو اسٹریٹ سیٹس میں عبرتناک شکست سے دوچار کیا۔

انگلینڈ کے دارالحکومت لندن میں جاری ومبلڈن اوپن ٹینس ٹورنامنٹ کے ویمنز ڈبلز کے دوسرے راؤنڈ میچ میں کیٹرینا سینیاکووا اور ٹیلر ٹاؤن سینڈ نے انتہائی جارحانہ اور شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا۔ ٹاپ سیڈڈ جوڑی نے اپنے بہترین تال میل اور زبردست سروسز کی بدولت حریف جوڑی کو کورٹ پر سنبھلنے کا کوئی موقع نہ دیا اور یہ اہم میچ محض دو سیٹس میں آسانی سے 2-6 اور 1-6 سے اپنے نام کر لیا۔ اس شاندار اور یکطرفہ فتح کے بعد دونوں کھلاڑیوں نے میگا ایونٹ کے اگلے مرحلے یعنی پری کوارٹر فائنل میں جگہ پکی کر لی ہے، جہاں ان کا مقابلہ مزید سخت حریفوں سے متوقع ہے۔

آئی سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026ء؛ آسٹریلیا کی کپتان سوفی مولینو نے عالمی ٹائٹل جیتنے کے بعد اندرونی شکوک و شبہات کا اعتراف کر لیا

کاشف عباسی , JULY 06,026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

آسٹریلیا کی ویمنز کرکٹ ٹیم کی کپتان سوفی مولینو نے اعتراف کیا ہے کہ کپتانی سنبھالنے کے بعد انہیں اندرونی اور بیرونی دونوں طرح کے شدید شکوک و شبہات کا سامنا تھا، لیکن انہوں نے خود پر اور اپنی ٹیم پر پختہ اعتماد برقرار رکھا، جس کا شاندار نتیجہ آئی سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ دو ہزار چھبیس کا عالمی ٹائٹل جیتنے کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے ترجمان کے مطابق، 28 سالہ آل راؤنڈر سوفی مولینو کو سال 2026ء کے آغاز میں مایہ ناز کھلاڑی ایلیسا ہیلی کی ریٹائرمنٹ کے بعد آسٹریلوی ٹیم کی قیادت سونپی گئی تھی، تاہم کپتانی سنبھالتے ہی کمر کی شدید انجری کے باعث وہ بھارت کے خلاف سیریز کے آخری میچوں اور بعد ازاں ویسٹ انڈیز کے دورے کے کچھ اہم مقابلوں سے باہر ہو گئی تھیں۔

ان کی اس انجری اور غیر موجودگی کے باعث آسٹریلوی سلیکٹر شان فلیگلر نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ سوفی مولینو کو کپتان برقرار رکھنے کے فیصلے پر دوبارہ غور کیا جا سکتا ہے، جس سے ان کی قیادت پر سوالیہ نشان لگ گیا تھا۔ تاہم، سوفی مولینو نے ہمت نہ ہاری اور نہ صرف میدان میں بھرپور واپسی کی بلکہ بطور کپتان اور بہترین بالر کے طور پر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو ایک بار پھر عالمی چیمپئن بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ لارڈز کے تاریخی میدان پر تقریباً 30 ہزار تماشائیوں کے سامنے سنسنی خیز فائنل میچ جیتنے کے بعد سوفی مولینو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاریخی فتح ان کی زندگی کا یادگار ترین دن ہے۔

انہوں نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ کپتانی کے آغاز میں وہ خود کو شدید غیر یقینی صورتحال میں محسوس کر رہی تھیں، جبکہ کمر کی انجری نے انہیں ذہنی طور پر مزید مایوس کیا اور ایک وقت ایسا بھی آ گیا تھا جب انہیں لگا کہ شاید یہ بھاری ذمہ داری ان کے لیے کامیاب ثابت نہ ہو سکے۔ تاہم، انہوں نے کٹھن وقت میں خود پر یقین رکھا اور آسٹریلوی ٹیم کے تمام کھلاڑیوں کے بھرپور تعاون نے انہیں بحالی اور میدان میں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا، جس کی بدولت آج وہ ورلڈ کپ کی ٹرافی اٹھانے میں کامیاب ہوئیں۔

پاکستان ریلوے نے دو بڑے ٹرین حادثات کی تحقیقاتی رپورٹ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں پیش کر دی؛ نو ملازمین کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز

منصور احمد, JULY 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

پاکستان ریلوے نے مارچ دو ہزار چھبیس میں ہونے والے دو بڑے ٹرین حادثات کی حتمی انکوائری رپورٹ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کے سامنے پیش کر دی ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ میں دونوں ہائی پروفائل حادثات کی بنیادی وجوہات انسانی غفلت اور تکنیکی خرابیوں کو قرار دیتے ہوئے مجموعی طور پر 9 ذمہ دار ملازمین کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق، ملک بھر میں ایک سال کے دوران مجموعی طور پر 135 چھوٹے بڑے ٹرین حادثات رپورٹ ہوئے، جن میں سے 34 حادثات ریلوے ٹریک کی سنگین خرابی کی وجہ سے پیش آئے جبکہ کل حادثات کا 35 فیصد حصہ بغیر عملے کے ریلوے کراسنگز پر ہونے والے حادثات پر مشتمل ہے۔

رپورٹ کے مقتدر مندرجات کے مطابق، مہراب پور کے مقام پر شالیمار ایکسپریس اور مال گاڑی میں ہونے والا ہولناک تصادم ڈرائیور کی سنگین غفلت اور سگنل توڑنے کے باعث ہوا، جس میں ایک ملازم جاں بحق اور متعدد بوگیاں الٹ گئیں۔ ریلوے حکام نے اس حادثے میں ڈرائیور فیاض محمد، اسسٹنٹ ڈرائیور آصف سعید، سینئر ٹرین ایگزامنرز آصف حسین اور ولی اللہ خان سمیت ہیڈ ٹرین ایگزامنر عمران نثار کو براہِ راست، جبکہ سٹیشن ماسٹر اسد اللہ کو بالواسطہ طور پر ذمہ دار نامزد کیا ہے۔ دوسری جانب، لودھراں-بہاولپور سیکشن پر تیزگام ایکسپریس کو پیش آنے والا دوسرا بڑا حادثہ تکنیکی مانیٹرنگ میں کوتاہی کا نتیجہ تھا، جہاں ڈائننگ کار کی فرنٹ ٹرالی میں نقص کے باعث ٹرین کی 8 کوچز پٹری سے اتریں اور متعدد مسافر زخمی ہوئے۔ اس فٹنس غفلت پر ثاقب غفور اور منہاس انور کو براہِ راست، جبکہ ہیڈ عمران شریف کو بالواسطہ ذمہ دار قرار دے کر ایکشن شروع کر دیا گیا ہے۔

قائمہ کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ کے دوران چیئرمین ریلوے مظہر علی شاہ نے بتایا کہ ملک میں سالانہ 35 سے 38 ہزار ٹرینوں کی آمدورفت ہوتی ہے جس سے حادثات کی شرح محض 0.02 فیصد بنتی ہے، اور ریلوے انتظامیہ محدود وسائل کے باوجود اپنے محنتی عملے کی مدد سے انجنوں، بوگیوں اور ٹریکس کی بحالی کا کام انجام دے رہی ہے۔ انہوں نے کمیٹی کو فراہم کردہ سالانہ اعداد و شمار کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ ٹریک کی خرابی اور بغیر عملے کے پھاٹکوں کے علاوہ، ریلوے سٹاف کی غفلت کے باعث 32 حادثات، رولنگ اسٹاک کی خرابیوں کی وجہ سے 30، تخریب کاری کے نتیجے میں 10، جبکہ باقی حادثات قدرتی آفات و دیگر وجوہات کے باعث پیش آئے۔ ریلوے انتظامیہ نے قائمہ کمیٹی کو پختہ یقین دہانی کرائی ہے کہ ان تمام حادثات پر قابو پانے اور مسافروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر تزویراتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

تربیلا اور منگلا ڈیموں میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ؛ بیراجوں پر پانی کے بہاؤ کی صورتحال مستحکم، مجموعی قابلِ استعمال ذخیرہ تسلی بخش

روزینہ اسماعیل, JULY 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے ملک کے مختلف دریاؤں، بیراجوں اور بڑے آبی ذخائر میں پانی کی آمد، اخراج اور ذخیرے کے تازہ ترین اعدادوشمار جاری کر دیے ہیں۔ پیر کے روز جاری کردہ سرکاری رپورٹ کے مطابق، دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر پانی کی آمد 2 لاکھ 49 ہزار 700 کیوسک اور اخراج ایک لاکھ 57 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسی طرح دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانی کی آمد اور اخراج 54 ہزار 600 کیوسک، جبکہ خیرآباد پل پر پانی کی آمد اور اخراج 2 لاکھ 18 ہزار کیوسک رہا۔ دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر پانی کی آمد 39 ہزار 800 کیوسک اور اخراج 20 ہزار کیوسک جبکہ دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد 70 ہزار 800 کیوسک اور اخراج 41 ہزار 300 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ملک کے اہم بیراجوں کے اعدادوشمار کے مطابق، جناح بیراج میں پانی کی آمد 2 لاکھ 33 ہزار 900 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 26 ہزار 400 کیوسک، چشمہ بیراج میں پانی کی آمد 2 لاکھ 33 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 3 ہزار کیوسک رہا۔ تونسہ بیراج میں پانی کی آمد ایک لاکھ 92 ہزار 900 کیوسک اور اخراج ایک لاکھ 70 ہزار 600 کیوسک، گدو بیراج میں پانی کی آمد ایک لاکھ 55 ہزار 400 کیوسک اور اخراج ایک لاکھ 14 ہزار 200 کیوسک، سکھر بیراج میں پانی کی آمد ایک لاکھ 6 ہزار 800 کیوسک اور اخراج 53 ہزار 400 کیوسک، جبکہ کوٹری بیراج میں پانی کی آمد 38 ہزار کیوسک اور اخراج صفر ریکارڈ کیا گیا۔ تریموں بیراج میں پانی کی آمد 35 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 20 ہزار کیوسک جبکہ پنجند بیراج میں پانی کی آمد 14 ہزار 600 کیوسک اور اخراج صفر رہا۔

آبی ذخائر کی صورتحال کے مطابق، تربیلا ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح 1480.52 فٹ ہے، جبکہ اس کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1402 فٹ اور انتہائی سطح 1550 فٹ ہے؛ یہاں آج قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 2.101 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ منگلا ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح 1166.05 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ اس کا کم از کم لیول 1050 فٹ اور انتہائی سطح 1242 فٹ ہے؛ یہاں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 2.391 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ اسی طرح چشمہ بیراج کے ذخیرے میں پانی کی موجودہ سطح 646.40 فٹ ہے، جبکہ اس کا کم از کم لیول 638.15 فٹ اور انتہائی سطح 649 فٹ ہے؛ یہاں آج قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.189 ملین ایکڑ فٹ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو زراعتی مقاصد کے لیے انتہائی معاون ہے۔

وینزویلا میں تباہ کن زلزلے؛ اموات کی ہولناک تعداد 3 ہزار 342 تک پہنچ گئی، زخمیوں کی تعداد 16 ہزار 740 سے تجاوز

منصور احمد, JULY 06,2026

کراکس (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

وینزویلا میں گزشتہ ماہ چوبیس جون کو آنے والے 7.2 اور 7.5 شدت کے دو انتہائی شدید اور تباہ کن زلزلوں کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال مزید مخدوش ہو گئی ہے، جہاں ملبے سے مزید لاشیں نکلنے کے بعد اموات کی مجموعی تعداد بڑھ کر 3 ہزار 342 ہو گئی ہے، جبکہ اس قدرتی آفت میں زخمی ہونے والے افراد کی تعداد 16 ہزار 740 تک جا پہنچی ہے۔ چینی خبر رساں ادارے کے مطابق، وینزویلا کی قومی اسمبلی کے صدر جارج روڈریگیز نے سماجی رابطے کے مقتدر پلیٹ فارم پر جاری کردہ اپنے ایک ہنگامی بیان میں تفصیلات بتاتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ امدادی ٹیموں نے دن رات کام کرتے ہوئے اب تک ملبے تلے دبے اور متاثرہ علاقوں میں پھنسے ہوئے 6 ہزار 462 افراد کو بحفاظت نکال لیا ہے۔

سرکاری سطح پر جاری کردہ مقتدر ترین رپورٹ کے مطابق، ان ہولناک زلزلوں کے نتیجے میں ہزاروں عمارات اور رہائشی مکانات زمین بوس ہو چکے ہیں، جس کے باعث 17 ہزار 345 افراد مکمل طور پر بے گھر ہو کر کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ چوبیس جون کو آنے والے ان دو بڑے زلزلوں کے بعد سے لے کر اب تک ملک کے مختلف علاقوں میں 995 زلزلے کے بعد کے شدید جھٹکے محسوس کیے جا چکے ہیں، جس کی وجہ سے تباہ حال عمارتوں کے مزید گرنے کا خطرہ برقرار ہے اور شہریوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ متاثرہ شہروں میں ہنگامی حالت نافذ ہے اور بڑے پیمانے پر امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جورجیا میلونی پر ایک بار پھر تنقید؛ سوشل میڈیا پر اطالوی وزیراعظم کی ترمیم شدہ تصویر شیئر کر دی

محمود احمد, JULY 06,2026

واشنگٹن/روم (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اٹلی کی وزیراعظم جورجیا میلونی کو شدید سیاسی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوشل میڈیا پر ان کی ایک بدلی ہوئی تصویر شیئر کی ہے، جس میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ اطالوی وزیراعظم ان میں غیر معمولی دلچسپی رکھتی ہیں۔ چینی خبر رساں ادارے کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ذاتی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک تصویر پوسٹ کی، جس میں جورجیا میلونی کو ٹرمپ کی جانب اوپر دیکھتے ہوئے دکھایا گیا تھا، جبکہ اس تصویر کے ساتھ تحریری عبارت درج تھی کہ ’’پابندی کا حکم درکار ہے‘‘۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ بھی یہ دعویٰ کیا تھا کہ فرانس میں ہونے والے سات بڑے صنعتی ممالک کے سربراہ اجلاس کے دوران جورجیا میلونی بار بار ان کے ساتھ تصاویر بنوانے کی شدید خواہاں تھیں اور امریکہ کے بارے میں ان کے سخت موقف کے باعث خود اٹلی کے اندر ان کی مقبولیت بری طرح متاثر ہوئی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اطالوی نشریاتی ادارے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ “وہ میرے ساتھ تصویر بنوانے کی شدید خواہش مند تھیں؛ مجھے ان کے ساتھ بات کرنے کی کوئی خاص ضرورت نہیں تھی، لیکن مجھے ان کی حالت پر ترس آ گیا”۔

دوسری جانب، اطالوی وزیراعظم جورجیا میلونی نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ان بیانات پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے انہیں مکمل طور پر من گھڑت اور مضحکہ خیز قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ٹرمپ کی اس ذہنیت پر شدید حیران ہیں۔ وزیراعظم جورجیا میلونی نے امریکی صدر کو کرارا جواب دیتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا کہ “ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ نہ میں ذاتی طور پر اور نہ ہی اٹلی بحیثیت قوم کبھی کسی کے سامنے درخواست کرتا ہے”۔ دونوں عالمی رہنماؤں کے درمیان اس لفظی جنگ کے باعث امریکہ اور اٹلی کے سفارتی حلقوں میں شدید تناؤ دیکھا جا رہا ہے۔

بنگلہ دیش کے شہر کاکس بازار میں شدید مون سون بارشیں؛ روہنگیا مہاجر کیمپوں میں لینڈ سلائیڈنگ سے بچوں سمیت 8 افراد جاں بحق، متعدد زخمی

محمود احمد, JULY 06,2026

ڈھاکہ/کاکس بازار (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

بنگلہ دیش کے ساحلی شہر کاکس بازار میں شدید ترین مون سون بارشوں کی تباہ کاریوں کے باعث مختلف مقامات پر قائم روہنگیا مہاجر کیمپوں میں مقتدر لینڈ سلائیڈنگ کے دلدوز واقعات پیش آئے ہیں، جن کے نتیجے میں معصوم بچوں سمیت 8 روہنگیا مسلمان جاں بحق اور متعدد افراد شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، مقتدر سرکاری حکام نے تصدیق کی ہے کہ کاکس بازار کے چار مختلف کیمپوں میں لینڈ سلائیڈنگ اس وقت ہوئی جب لوگ رات کے وقت گہری نیند سو رہے تھے اور پہاڑی مٹی کا بھاری ملبہ اچانک ان کی عارضی رہائشی جھونپڑیوں پر آ گرا۔ کاکس بازار پولیس کی مقتدر اہلکار تمپا داس نے میڈیا کو بتایا کہ ان افسوسناک واقعات میں اب تک 8 روہنگیا مہاجرین کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ اسی دوران ایک الگ واقعے میں کاکس بازار ہی کے ایک مقامی علاقے میں پہاڑی کا ایک بڑا حصہ رہائشی مکان پر گرنے سے ایک بنگلہ دیشی شہری بھی جاں بحق جبکہ اس کے خاندان کے 2 افراد شدید زخمی ہوئے۔

روہنگیا مہاجرین کی امداد اور وطن واپسی کے امور کے مقتدر بنگلہ دیشی کمشنر محمد میزان الرحمٰن نے ہنگامی صورتحال کے حوالے سے بتایا کہ مسلسل اور طوفانی بارشوں کے باعث خطے میں مزید لینڈ سلائیڈنگ کا سنگین تزویراتی خطرہ برقرار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مزید جانی نقصان سے بچنے کے لیے انتظامیہ کی جانب سے ہزاروں روہنگیا مہاجرین کو انتہائی خطرناک اور ڈھلوان علاقوں سے ہٹا کر فوری طور پر محفوظ مقامات اور عارضی کیمپوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، بنگلہ دیش کے محکمہ موسمیات نے آئندہ چند روز کے دوران ملک کے مختلف حصوں بالخصوص ساحلی پٹی پر مزید موسلا دھار بارشوں کی پیشنگوئی کی ہے۔ محکمہ موسمیات نے نئی لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی ریلوں کے مقتدر خطرات کے پیش نظر تمام متعلقہ ریلیف اداروں اور مقامی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کی سخت تزویراتی ہدایت جاری کر دی ہے۔

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے زیرِ اہتمام 51 ویں انٹرنیشنل نتھیا گلی سمر کالج کا باضابطہ آغاز؛ پانچ براعظموں کے 20 ممالک سے ممتاز سائنسدان پاکستان پہنچ گئے

منصور احمد, JULY 06,2026

نتھیا گلی/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (پی اے ای سی) کے زیرِ اہتمام 51 ویں سالانہ بین الاقوامی نتھیا گلی سمر کالج 2026 کا باضابطہ اور مقتدر آغاز ہو گیا ہے، جس کے باعث پاکستان ایک بار پھر عالمی سائنسی برادری کی توجہ کا محور بن چکا ہے۔ اس تاریخی سائنسی میلے میں شرکت کے لیے دنیا کے پانچ براعظموں کے 20 ممالک سے ممتاز اور مایہ ناز سائنسدان پاکستان پہنچ چکے ہیں۔ نوبل انعام یافتہ پاکستانی سائنسدان پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام کی قائم کردہ یہ مقتدر عالمی سائنسی روایت گزشتہ پانچ دہائیوں سے مسلسل جاری ہے، جو پاکستان کے تزویراتی اور سائنسی وقار کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس سال سمر کالج میں 45 عالمی شہرت یافتہ سائنسدان مصنوعی ذہانت ، جدید صنعت، صحت، زراعت، کوانٹم ٹیکنالوجی اور توانائی جیسے جدید ترین سائنسی موضوعات پر خصوصی نشستوں میں سیر حاصل گفتگو کریں گے۔

انٹرنیشنل سمر کالج کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پی اے ای سی ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے کہا کہ نتھیا گلی سمر کالج نصف صدی سے سائنسی تعاون کا عالمی مرکز بنا ہوا ہے اور پروفیسر عبدالسلام کا وژن آج بھی دنیا بھر کے سائنسدانوں کی رہنمائی کر رہا ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی ماہرین کی بھرپور شرکت کو پاکستان پر عالمی سائنسی اعتماد کا مقتدر اظہار قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی ہی کسی بھی ملک کی قومی ترقی کی بنیادی طاقت ہوتی ہیں، جبکہ مصنوعی ذہانت اور کوانٹم ٹیکنالوجی جیسی جدید ایجادات اب مستقبل کا رخ بدل رہی ہیں۔ ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے زور دیا کہ پاکستان کو عالمی صف میں شامل رہنے کے لیے سائنسی تحقیق کے میدان میں اپنی سرمایہ کاری کو مزید بڑھانا ہوگا، کیونکہ ہمارے نوجوان سائنسدان ہی پاکستان کے روشن مستقبل کی اصل ضمانت ہیں۔

چیئرمین پی اے ای سی نے ادارے کی مقتدر خدمات اور قومی دھارے میں اس کے کلیدی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ اس وقت پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے چھ نیوکلیئر پاور پلانٹس قومی گرڈ کو بلا تعطل صاف اور سستی توانائی فراہم کر رہے ہیں، جو ملکی ترقی میں اہم سنگِ میل ہے۔ اس کے علاوہ، انسانی صحت کے شعبے میں پی اے ای سی کے زیرِ انتظام چلنے والے 21 جدید کینسر ہسپتال اور مراکز ملک بھر کے 80 فیصد کینسر کے مریضوں کو علاج معالجے کی مقتدر سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کمیشن اپنی جدید زرعی تحقیق کے ذریعے ملک میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانے اور موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے میں مصروفِ عمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی اے ای سی بنیادی سائنس اور جدید تحقیق میں مسلسل آگے بڑھ رہا ہے اور بین الاقوامی سائنسی تعاون ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے، کیونکہ علم، تحقیق اور جدت ہی پاکستان کے روشن مستقبل کی واحد ضمانت ہیں۔

لاہور ڈیفنس غیر ملکی خاتون زیادتی کیس؛ تین مرکزی ملزمان کا ڈی این اے متاثرہ خاتون سے میچ کر گیا، تفتیش میں اہم پیشرفت

کاشف عباسی , JULY 06,026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کے مقتدر علاقے ڈیفنس (ڈی ایچ اے) میں غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور اجتماعی زیادتی کے ہائی پروفائل کیس میں تفتیش کے دوران ایک بہت بڑی اور مقتدر پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں واقعے میں ملوث تین مرکزی ملزمان کا ڈی این اے متاثرہ خاتون سے مکمل طور پر میچ کر گیا ہے۔ پنجاب فارنزک سائنس لیبارٹری کی جانب سے جاری کردہ مقتدر رپورٹ کے مطابق، پولیس کے ہاتھوں گرفتار تین مرکزی ملزمان کے حاصل کردہ ڈی این اے نمونے متاثرہ غیر ملکی خاتون کے نمونوں سے بالکل مطابقت رکھ چکے ہیں، جس سے ملزمان کے خلاف سائنسی شواہد پختہ ہو گئے ہیں۔

تفتیشی ذرائع کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق، اس دلدوز اور گھناؤنے واقعے میں ’نواز‘ نامی شخص کا مرکزی اور کلیدی کردار سامنے آیا ہے۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم نواز نے ہی سب سے پہلے مذکورہ غیر ملکی خاتون کو زبردستی اپنی ہوس کا نشانہ بنایا اور ناصرف خود یہ سنگین جرم کیا، بلکہ اس نے جائے وقوعہ پر موجود اپنے دیگر جرائم پیشہ ساتھی ملزمان کو بھی اس قبیح فعل کے لیے باقاعدہ اکسایا۔ تفتیشی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ملزم نواز کے اکسانے پر ہی وہاں موجود دیگر دو مقتدر ملزمان ساجد اور سکندر نے بھی باری باری غیر ملکی خاتون کو اپنی درندگی کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے مقدمے کی شفافیت کے لیے مجموعی طور پر آٹھ گرفتار ملزمان کے ڈی این اے سیمپلز کراس میچنگ کے لیے فارنزک لیبارٹری بھجوائے تھے، جن میں سے تین کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ دیگر ملزمان کے سیمپلز کا مزید تزویراتی تجزیہ کیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ اس ہائی پروفائل کیس کے حوالے سے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران کے مطابق، اب تک پولیس کی مقتدر ٹیموں نے کارروائی کرتے ہوئے مجموعی طور پر آٹھ ملزمان کو حراست میں لے لیا ہے۔ واقعے کے روز گاڑی کے ایکسیڈنٹ کے بعد غیر ملکی لڑکیاں خوفزدہ ہو کر ایک قریبی اسٹور میں چھپ گئی تھیں، جہاں سے پولیس نے انہیں فوری طور پر اپنی حفاظتی تحویل میں لیا تھا۔ تفتیشی حکام نے پُرعزم الفاظ میں واضح کیا ہے کہ فارنزک لیبارٹری سے ڈی این اے رپورٹ مثبت آنے اور متاثرہ خاتون کا دفعہ 164 کے تحت مجسٹریٹ کے سامنے مقتدر بیان پہلے ہی ریکارڈ ہونے کے بعد، اب تمام ملزمان کے خلاف ٹھوس سائنسی و قانونی چالان مکمل کر کے سخت سزا کے لیے فوری طور پر متعلقہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

میگا ایونٹ کی تاریخ میں ناروے پہلی بار کوارٹر فائنل میں داخل؛ میچ میں ایرلنگ ہالینڈ کے دو شاندار گول، ورلڈ کپ جیتنے کا خواب ٹوٹنے پر نیمار جونیئر آبدیدہ

محمود احمد, JULY 06,2026

نیو جرسی (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

فیفا ورلڈ کپ دو ہزار چھبیس کے ایک انتہائی سنسنی خیز اور حیران کن پری کوارٹر فائنل میچ میں ناروے کے ہاتھوں شکست کے بعد پانچ بار کی عالمی چیمپئن برازیل ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی ہے، جس کے فوراً بعد برازیل کے مقتدر اور عالمی شہرت یافتہ اسٹار فٹبالر نیمار جونیئر نے بین الاقوامی فٹبال سے ہمیشہ کے لیے ریٹائرمنٹ کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ نیو جرسی کے اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس تاریخی معرکے میں ناروے نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے برازیل کو ایک کے مقابلے میں دو گول سے شکست دے کر میگا ایونٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کوارٹر فائنل میں جگہ پکی کر لی۔

میچ میں ناروے کی فتح کے ہیرو مقتدر اسٹرائیکر ایرلنگ ہالینڈ رہے، جنہوں نے کھیل کے آخری لمحات میں برازیلی دفاع کو تہس نہس کرتے ہوئے دو شاندار گول داغے۔ ایرلنگ ہالینڈ نے پہلا گول 79 ویں منٹ میں اسکور کیا، جبکہ دوسرا اور فیصلہ کن گول کھیل کے بالکل اختتام یعنی 90 ویں منٹ میں کر کے اپنی ٹیم کی جیت یقینی بنائی۔ دوسری جانب، برازیل کی طرف سے واحد اور تسلی بخش گول میچ کے آخری لمحات میں نیمار جونیئر نے پنالٹی کک پر اسکور کیا، تاہم وہ اپنی ٹیم کو ٹورنامنٹ سے باہر ہونے سے نہ بچا سکے۔

اس غیر متوقع شکست کے بعد ورلڈ کپ جیتنے کا تزویراتی خواب چکنا چور ہونے پر نیمار جونیئر میدان میں ہی رو پڑے اور بعد ازاں بین الاقوامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا۔ 34 سالہ نیمار نے برازیلین صحافی سے انتہائی جذباتی گفتگو میں کہا کہ “میں نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی، میرا بین الاقوامی کیریئر سال 2010ء میں اسی اسٹیڈیم میں شروع ہوا تھا اور آج میں نے یہیں اس کا اختتام کیا ہے؛ اب یہ سب ختم ہو چکا ہے”۔ واضح رہے کہ نیمار نے برازیل کے لیے اپنا پہلا بین الاقوامی میچ 10 اگست 2010ء کو نیو جرسی میں ہی امریکہ کے خلاف کھیلا تھا۔ نیمار اپنے شاندار بین الاقوامی کیریئر کا اختتام برازیل کی تاریخ میں سب سے زیادہ 80 بین الاقوامی گول کرنے والے مقتدر کھلاڑی کے طور پر کر رہے ہیں، جو فٹبال کے عظیم لیجنڈ پیلے سے 3 گول زیادہ ہیں۔

پنجاب پولیس کا سنگین جرائم میں مطلوب عناصر کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن؛ رواں سال لاہور سمیت صوبہ بھر سے 87 ہزار سے زائد اشتہاری مجرمان گرفتار

منصور احمد, JULY 06,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

پنجاب پولیس نے صوبے بھر میں امن و امان کی صورتحال کو مستحکم رکھنے اور سنگین جرائم میں مطلوب مقتدر اشتہاریوں، عادی مجرمان اور عدالتی مفروروں کے خلاف تزویراتی کریک ڈاؤن جاری رکھتے ہوئے ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ پنجاب پولیس کے ترجمان کی جانب سے پیر کے روز جاری کردہ مقتدر اعداد و شمار کے مطابق، پولیس ٹیموں نے رواں سال لاہور سمیت صوبہ بھر کے مختلف اضلاع میں کارروائیاں کرتے ہوئے اب تک پچاسی ہزار سے زائد کی ریکارڈ سطح کو عبور کرتے ہوئے مجموعی طور پر ستاسی ہزار سے زائد مقتدر اشتہاری مجرمان کو قانون کے شکنجے میں جکڑ لیا ہے۔

ترجمان پنجاب پولیس نے گرفتاریوں کی مقتدر تفصیلات فراہم کرتے ہوئے واضح کیا کہ گرفتار ہونے والے خطرناک اشتہاری مجرمان میں انتہائی سنگین جرائم میں مطلوب ’اے کیٹگری‘ کے 23 ہزار 583 اور ’بی کیٹگری‘ کے 63 ہزار 881 اشتہاری شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، صوبہ بھر سے مختلف عدالتوں کو مطلوب 27 ہزار سے زائد عدالتی مفروروں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے، جن میں ’اے کیٹگری‘ کے 4 ہزار 331 اور ’بی کیٹگری‘ کے 23 ہزار سے زائد مفرور شامل ہیں جنہوں نے قانون سے بچنے کے لیے روپوشی اختیار کر رکھی تھی۔

سرکاری رپورٹ کے مطابق، معاشرے کے امن کو تہہ و بالا کرنے والے 10 عادی مجرمان کے خلاف بھی گھیرا تنگ کیا گیا اور رواں سال 10 ہزار 632 عادی مجرم گرفتار کیے گئے، جن میں ’اے کیٹگری‘ کے 3 ہزار 832 اور ’بی کیٹگری‘ کے 6 800 مجرم شامل ہیں۔ ترجمان نے صوبائی دارالحکومت کی کارکردگی کا مقتدر حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ صرف لاہور میں پولیس نے بہترین کارروائی کرتے ہوئے 19 ہزار 103 اشتہاری مجرمان، 8 ہزار 938 عدالتی مفرور اور 4 ہزار 214 عادی مجرموں کو گرفتار کر کے جیل منتقل کیا ہے، جس سے شہر میں جرائم کی شرح میں واضح کمی واقع ہوئی ہے۔

افغان رجیم کا اندرونی خلفشار اور بگڑتی سکیورٹی صورتحال بے نقاب؛ ننگرہار میں طالبان کے مقامی کمانڈر کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا

محمود احمد, JULY 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

افغان رجیم کے اندرونی شدید خلفشار اور روز بروز بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال نے طالبان کے نام نہاد امن و استحکام کے جھوٹے بیانیے کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ مقتدر ذرائع اور موصولہ تفصیلات کے مطابق، افغان طالبان رجیم جہاں ایک طرف عام افغان عوام کو بنیادی تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہے، وہیں دوسری طرف وہ اپنے ہی اہم افغان کمانڈرز کی حفاظت کو یقینی بنانے سے بھی قاصر نظر آتی ہے۔ معروف بین الاقوامی افغان جریدے ’دی افغانستان انٹرنیشنل‘ کے مطابق، ننگرہار کے ضلع چپرحار میں جمعہ کے روز افغان طالبان کے ایک مقتدر مقامی کمانڈر کو نامعلوم افراد نے اندھا دھند فائرنگ کر کے بے دردی سے قتل کر دیا۔ حیرت انگیز طور پر، افغان طالبان نے اس کمانڈر کے قتل کے مبینہ شبہ میں اس کے سگے بھائی کو ہی گرفتار کر کے جیل منتقل کر دیا ہے۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق، مقتول افغان کمانڈر کی شناخت ‘مسافر’ کے نام سے ہوئی ہے۔ جریدے کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ مقتول کمانڈر چند روز کی چھٹی گزارنے کے لیے اپنے آبائی گھر گیا ہوا تھا، جہاں اسے نشانہ بنایا گیا۔ دفاعی و سیاسی ماہرین کے مطابق، حالیہ چند مہینوں میں افغان طالبان کمانڈرز پر ہونے والے ان قاتلانہ حملوں کے بڑھتے ہوئے مقتدر واقعات دراصل افغانستان کے داخلی شدید اختلافات، مقامی مسلح مزاحمت اور مجموعی طور پر سکیورٹی کی بدترین و ناگفتہ بہ صورتحال کے کھلے عکاس ہیں۔

ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ اس وقت افغان طالبان رجیم کو بیک وقت اندرونی بغاوت، بڑھتے ہوئے گوریلا حملوں اور سنگین ترین داخلی سکیورٹی بحران جیسے تزویراتی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ننگرہار میں طالبان کمانڈر مسافر کی یہ ہلاکت اس بات کا واضح اور پختہ ثبوت ہے کہ موجودہ طالبان رجیم کے خلاف دبی دبی نفرت اب افغان عوامی سطح پر شدید ترین اختیار کر چکی ہے، جس سے خطے کے امن کو نئے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کی ایمانداری؛ سوات ایکسپریس وے پر شہری کا گمشدہ بٹوا نقد رقم اور اہم دستاویزات سمیت واپس لوٹا دیا

منصور احمد, JULY 06,2026

سوات/چکدرہ (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس نے سوات ایکسپریس وے پر فرض شناسی اور دیانتداری کی ایک اعلیٰ مثال قائم کرتے ہوئے ایک شہری کا سڑک پر گم ہونے والا قیمتی بٹوا، جس میں ہزاروں روپے نقد اور اہم ترین دستاویزات موجود تھیں، بحفاظت اصل مالک کو تلاش کر کے واپس لوٹا دیا ہے۔ ترجمان موٹروے پولیس کی جانب سے پیر کے روز جاری کردہ مقتدر اعلامیے کے مطابق، سوات ایکسپریس وے پر چکدرہ کے مقام کے قریب معمول کی پیٹرولنگ کے دوران موٹروے پولیس کے الرٹ افسران کو سڑک پر ایک لاوارث بٹوا ملا۔

حکام کے مطابق، جب بٹوے کی باقاعدہ تلاشی لی گئی تو اس میں انیس ہزار روپے سے زائد کی نقد رقم، مختلف بینکوں کے مقتدر اے ٹی ایم کارڈز، قومی شناختی کارڈ (سی این آئی سی) اور دیگر اہم سرکاری و ذاتی دستاویزات محفوظ تھیں۔ موٹروے پولیس کے پیٹرولنگ افسران نے بغیر کسی تاخیر کے فوری طور پر تزویراتی کارروائی کا آغاز کیا اور بٹوے کے اندر موجود ڈرائیونگ لائسنس پر درج موبائل نمبر کے ذریعے اصل مالک کا کامیابی سے سراغ لگایا۔ افسران نے شہری سے فوری رابطہ قائم کر کے اسے بٹوا ملنے کی خوشخبری سنائی۔

اطلاع ملتے ہی متعلقہ مقتدر شہری شدید حیرت اور خوشی کے عالم میں فوری طور پر موٹروے پولیس کے قریبی قائم دفتر پہنچا، جہاں موٹروے پولیس کے افسران نے تمام ضروری قانونی، دفتری اور شناختی تصدیق مکمل کرنے کے بعد پوری نقد رقم، کارڈز اور تمام قیمتی اشیاء سمیت بٹوا باقاعدہ طور پر شہری کے حوالے کر دیا۔ اپنا گمشدہ بٹوا تمام اثاثوں سمیت محفوظ پا کر شہری نے گہرے تشکر کا اظہار کیا اور موٹروے پولیس کی اس بے مثال دیانتدارانہ، مخلصانہ اور پیشہ ورانہ کارروائی کو دل سے سراہتے ہوئے موقع پر موجود تمام پولیس افسران کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف کا گروپ کیپٹن عاصم طارق کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار؛ خاتون کے تحفظ کے لیے جان کا نذرانہ پیش کرنا بے مثال جرأت ہے

کاشف عباسی , JULY 06,026

لاہور/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاک فضائیہ کے غیور افسر گروپ کیپٹن عاصم طارق کی شہادت پر گہرے دکھ، رنج اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ایک مظلوم خاتون کی جان اور عزت کے مقتدر تحفظ کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے بے مثال جرأت، بہادری اور اعلیٰ فرض شناسی کی ایک لازوال مثال قائم کی ہے۔ پی ایم آفس کے میڈیا ونگ سے پیر کے روز جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ پوری پاکستانی قوم اپنے ایسے بہادر سپوتوں کی قربانیوں کو ہمیشہ انتہائی قدر، فخر اور احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

وزیراعظم نے شہید گروپ کیپٹن عاصم طارق کے تمام اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور مقتدر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ دکھ کی اس گھڑی میں پوری قوم شہید کے مقتدر خاندان کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ انہوں نے عاجزانہ دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہید کے درجات بلند فرمائے، انہیں اپنے جوارِ رحمت میں اعلیٰ اور ارفع مقام عطا کرے اور لواحقین کو یہ ناقابلِ تلافی صدمہ صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کرنے کی ہمت اور توفیق دے۔ اس کے ساتھ ہی، وزیراعظم محمد شہباز شریف نے متعلقہ سیکیورٹی اور انتظامی حکام کو سخت تزویراتی ہدایت جاری کی ہے کہ اس دلدوز واقعے کی فوری، مکمل اور شفاف تحقیقات کر کے ذمہ دار ملعون عناصر کو قانون کے مطابق سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ انصاف کے مقتدر تقاضے پورے ہو سکیں۔

کرسٹیانو رونالڈو کی انسان دوستی؛ وینزویلا کے زلزلے سے متاثرہ یتیم اور معذور بچے کے لیے خصوصی ویڈیو پیغام اور میچ دیکھنے کی دعوت

محمود احمد, JULY 05,2026

میامی/کاراکاس (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جولائی 2026ء

پرتگال کے عالمی شہرت یافتہ مقتدر فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو نے انسان دوستی اور ہمدردی کی ایک اور لازوال مثال قائم کرتے ہوئے وینزویلا میں آنے والے حالیہ تباہ کن زلزلے سے متاثرہ ایک معصوم بچے کے لیے خصوصی جذباتی پیغام جاری کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق، وینزویلا میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں اندریس میلس نامی بچہ ملبے تلے دب کر اپنے والدین کو ہمیشہ کے لیے کھو بیٹھا تھا، جبکہ وہ خود بھی اس حادثے میں شدید زخمی ہوا اور اس کی جان بچانے کے لیے اطباء کو اس کی ایک ٹانگ بھی کاٹنا پڑی۔

اس وقت ہسپتال میں زیرِ علاج اور کٹھن حالات سے گزرنے والے معصوم اندریس میلس نے سوشل میڈیا کے ذریعے کرسٹیانو رونالڈو سے ان کا دستخط شدہ ٹریڈنگ کارڈ دینے کی معصومانہ درخواست کی تھی تاکہ وہ اس مشکل گھڑی میں اپنا حوصلہ برقرار رکھ سکے۔ جب یہ دل دہلا دینے والی خواہش عالمی فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو تک پہنچی تو انہوں نے فوری مقتدر ردِعمل دیتے ہوئے اندریس کے لیے ایک خصوصی ویڈیو پیغام ریکارڈ کرایا، جس میں انہوں نے نہ صرف لڑکے کی جلد مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا بلکہ اسے ذاتی طور پر اپنے ایک میچ میں شرکت کی مقتدر دعوت بھی دے دی ہے۔

کرسٹیانو رونالڈو نے اپنے پیغام کے ذریعے دنیا بھر میں انسانیت اور باہمی ہمدردی کا ایک خوبصورت تزویراتی پیغام دیتے ہوئے کہا کہ “ہیلو اندریس! امید ہے تم خیریت سے ہو۔ میں یہ ویڈیو تمہیں ایک بھرپور محبت بھرا سلام بھیجنے کے لیے بنا رہا ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ تم میرے بہت بڑے مداح ہو اور میری دعا ہے کہ تم جلد مکمل صحت یاب ہو جاؤ۔ میں دل سے چاہتا ہوں کہ تم میرے کسی لائیو میچ میں آؤ تاکہ ہم دونوں مل کر اس سے لطف اندوز ہو سکیں۔ میں تم سے ذاتی طور پر ملنے کا بے صبری سے انتظار کر رہا ہوں، ہمت مت ہارنا میرے دوست۔” پرتگالی کپتان کے اس مقتدر اور ہمدردانہ اقدام کو عالمی و سماجی میڈیا پر زبردست پذیرائی مل رہی ہے اور دنیا بھر میں ان کے مداح اسے کھیل کی دنیا سے بڑھ کر حقیقی انسانیت کی ایک بہترین اور روشن مثال قرار دے رہے ہیں۔

موجودہ گندم پالیسی وفاقی حکومت کی ناکامی کا ثبوت ہے؛ بیس ارب سے زائد کا نقصان اور بدانتظامی کرپشن کے گڑھ ہونے کی گواہی ہے، خالد نواز سدھرآئچ

منصور احمد, JULY 05,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جولائی 2026ء

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی و صوبائی کسان ونگز نے پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) سے متعلق حالیہ آڈٹ رپورٹ میں کیے گئے سنسنی خیز انکشافات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس رپورٹ کو ملکی غذائی تحفظ، زرعی معیشت اور قومی خزانے کے لیے ایک سنگین تزویراتی خطرہ قرار دیا ہے۔ کسان ونگ کے مرکزی آرگنائزر شیخ وقاص اکرم کی زیرِ صدارت منعقدہ کسان ونگ کے مرکزی و صوبائی عہدیداروں کے ایک مقتدر اجلاس میں اس رپورٹ پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا، جس میں مشترکہ طور پر واضح کیا گیا کہ یہ محض ایک ادارے کی ناکامی نہیں بلکہ وفاقی حکومت کی مجموعی گندم پالیسی کی مکمل ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

اجلاس میں ہونے والے فیصلوں اور شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے پی ٹی آئی کسان ونگ کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات خالد نواز سدھرآئچ نے اتوار کے روز اپنے جاری کردہ مقتدر بیان میں کہا کہ اس آڈٹ رپورٹ نے پاکستان کے تمام عوام اور بالخصوص کسان کمیونٹی میں شدید غم وغصے اور اضطراب کی لہر پیدا کر دی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسان کمیونٹی اور پی ٹی آئی کسان ونگز کی یہ مشترکہ رائے ہے کہ عوام کے سامنے جوابدہی سے آزاد فارم پینتالیس کی حکومت قومی مفادات کا تحفظ کرنے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ کے مطابق پاسکو کو صرف ایک سال کے قلیل عرصے میں بیس ارب روپے سے زائد کا خطیر مالی نقصان برداشت کرنا پڑا، جبکہ گزشتہ چند برسوں میں مجموعی خسارہ اکیس ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے، اور اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ دوسو ستاون ارب روپے سے زائد کی بھاری رقم مختلف سرکاری اداروں سے تاحال وصول نہیں کی جا سکی۔

خالد نواز سدھرآئچ نے گندم کی مبینہ خرد برد، باردانہ کی غیر شفاف اور ناقص تقسیم، غیر قانونی خریداریوں اور سنگین انتظامی بے ضابطگیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات نے ثابت کر دیا ہے کہ حکومتی ادارے بدانتظامی اور کرپشن کا گڑھ بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاسکو کا بنیادی تزویراتی مقصد کسانوں کے حقوق کو تحفظ فراہم کرنا، گندم کی مارکیٹ کو مستحکم رکھنا اور ملک کے غذائی ذخائر کو محفوظ بنانا تھا، مگر ناقص حکومتی پالیسوں نے اس اہم قومی ادارے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے اور اب حکومت اس ادارے کو ہی ختم کرنے کی راہ پر گامزن ہے، جو مستقبل میں ملکی غذائی تحفظ کے لیے مزید سنگین خطرات پیدا کرے گا۔ پی ٹی آئی کسان ونگ نے حکومت سے سخت سوال کیا کہ گندم اور دیگر زرعی اجناس کو ذخیرہ کرنے والے پاسکو کے ملکیتی گودام کسانوں کا استحصال کرنے والے مخصوص نجی افراد یا اداروں کے حوالے کس منطق کے تحت کیے گئے، کیونکہ عوام کو یہ جاننے کا پورا حق ہے کہ ان مقتدر قومی اثاثوں کا نجی استعمال کن بنیادوں پر کیا جا رہا ہے۔

ترجمان کسان ونگ نے فلورملز مالکان کی جانب سے گندم کے ذخائر کی مبینہ سرکاری ضبطگی کے الزامات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر نجی شعبے کے قانونی ذخائر کو طاقت کے ذریعے قبضے میں لیا جا رہا ہے تو یہ آزاد منڈی کے دعووں کی کھلی نفی اور کاروباری اعتماد کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے، جس کی فوری اور آزادانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ گندم پالیسی نے کسان اور صارف دونوں کو بیک وقت شدید مالی نقصان پہنچایا ہے، کیونکہ فصل کٹائی کے وقت کسان اپنی محنت کا مناسب معاوضہ حاصل نہیں کر پاتا جبکہ چند ماہ بعد غریب عوام کو آٹا اور گندم مہنگے داموں خریدنا پڑتی ہے، جس کا پورا فائدہ صرف مڈل مین، ذخیرہ اندوزوں اور مخصوص مفاداتی گروہوں کو پہنچایا جا رہا ہے۔ پی ٹی آئی کسان ونگز اور کسان کمیونٹی نے مشترکہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ پاسکو آڈٹ میں سامنے آنے والی تمام بے ضابطگیوں، مالی بدعنوانیوں، گندم کی خرد برد، باردانہ اسکینڈل اور قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصانات کی فوری طور پر ایک آزاد اور شفاف مقتدر تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ دار عناصر کو بلاامتیاز قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

وزارتِ اوورسیز پاکستانیز و ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ کا بڑا فیصلہ؛ رجسٹرڈ محنت کشوں کے مزید ایک لاکھ بچوں کو مفت تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کی منظوری

روزینہ اسماعیل, JULY 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز و ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ چوہدری سالک حسین کی خصوصی ہدایت پر ورکرز ویلفیئر فنڈ کے تحت رجسٹرڈ محنت کشوں کے مزید ایک لاکھ بچوں کو بالکل مفت تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کا مقتدر فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکومتی اعلامیے کے مطابق، اس اہم ترین اور پُرعزم اقدام کا بنیادی مقصد محنت کش خاندانوں کے بچوں کو معیاری تعلیم تک مساوی و مقتدر رسائی فراہم کرنا اور انہیں مالی مشکلات یا کٹھن حالات کے باعث تعلیم کے بنیادی حق سے محروم ہونے سے ہر صورت بچانا ہے۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق، اس فلاحی منصوبے کے تحت رجسٹرڈ محنت کشوں کے تمام مستحق بچوں کو جماعتِ اول سے لے کر انٹرمیڈیٹ (بارہویں جماعت) تک تمام مقتدر تعلیمی سہولیات اور اخراجات فراہم کیے جائیں گے۔ وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین نے متعلقہ انتظامی حکام کو سخت تزویراتی ہدایت جاری کی ہے کہ ایک لاکھ بچوں کو مفت تعلیم کی فراہمی کے اس بڑے منصوبے پر فوری، شفاف اور مؤثر انداز میں عملدرآمد کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، کیونکہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی حق ہے اور اسے کسی بھی مخصوص طبقے کی مراعات نہیں سمجھا جا سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت وزیراعظم محمد شہباز شریف کے وژن کے مطابق محنت کش خاندانوں کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اور ٹھوس اقدامات کر رہی ہے، اور اس انقلابی منصوبے کے ذریعے جہاں ایک لاکھ بچوں کو علم کے زیور سے آراستہ کیا جائے گا، وہی ایک لاکھ خاندانوں کو بہتر اور محفوظ مستقبل کی ایک نئی امید فراہم ہوگی۔ وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ ورکرز ویلفیئر فنڈ کو ایک جدید، مؤثر اور مکمل طور پر عوام دوست ادارہ بنایا جا رہا ہے تاکہ ملک کے محنت کش طبقے کو زیادہ سے زیادہ ریلیف اور مقتدر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ چوہدری سالک حسین کا پُرعزم الفاظ میں کہنا تھا کہ محنت کشوں کے بچوں کی بہترین تعلیم ہی پاکستان کے روشن مستقبل کی اصل ضمانت ہے؛ جس ہاتھ نے محنت مزدوری کر کے پاکستان کو بنایا ہے، اب اسی کے بچے پڑھ لکھ کر پاکستان کا مقتدر مستقبل لکھیں گے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ اس منصوبے کے ذریعے ورکرز ویلفیئر فنڈ کی تعلیمی سہولیات کا دائرہ کار ملک بھر میں مزید وسیع کیا جائے گا، جس سے ہزاروں محنت کش خاندان براہِ راست مستفید ہوں گے۔