پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، قطر، انڈونیشیا اور ملائیشیا سمیت 12 مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے شمال مغربی شام میں ابو الظہور فوجی اڈے پر اسرائیلی فضائی حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے شام کی خودمختاری و علاقائی سالمیت پر براہِ راست حملہ قرار دیا ہے۔
دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ اعلامیے کے مطابق، پاکستان، ترکیہ، الجزائر، انڈونیشیا، اردن، لبنان، ملائیشیا، موریطانیہ، فلسطین، قطر، سعودی عرب اور صومالیہ کے وزرائے خارجہ نے شام کے بنیادی ڈھانچے کو مسلسل نشانہ بنانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کا یہ عمل خطے میں امن و استحکام کو تباہ کرنے، بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑانے اور شام میں انسانی بحران سے نمٹنے کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کا باعث بن رہا ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری اور اقوامِ متحدہ پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف فوری اور مضبوط موقف اپنائیں۔ تمام وزرائے خارجہ نے 1974ء کے معاہدے کے مکمل احترام اور مقبوضہ علاقوں سے اسرائیلی افواج کے فوری انخلا کا مطالبہ کرتے ہوئے شام کی سیاسی وحدت اور آزادی کا ہر قیمت پر تحفظ کرنے پر زور دیا۔
نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے وزارتِ خارجہ میں ملائیشیا کے وزیرِ داخلہ سیف الدین ناسوتیون اسماعیل نے اہم ملاقات کی، جس میں پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور دوطرفہ تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا۔
دفترِ خارجہ کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے بالخصوص تجارت و معیشت، باہمی قانونی معاونت، اور عوامی سطح پر روابط بڑھانے پر تفصیلی گفتگو کی۔ اس موقع پر علاقائی و بین الاقوامی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے مشترکہ اہداف حاصل کرنے کے لیے قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
اس اہم ملاقات میں وفاقی وزیرِ قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیرِ داخلہ سینیٹر محسن نقوی، وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان، اور وزیرِ مملکت طلال چوہدری سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی، جس سے دونوں ممالک کے درمیان کثیر الجہتی شراکت داری پر زور دیا گیا۔
پنجاب بھر میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران پیش آنے والے 1305 ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 16 افراد جاں بحق جبکہ 1514 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
ایمرجنسی سروسز ڈیپارٹمنٹ (ریسکیو 1122) کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ریسکیو ٹیموں نے صوبے بھر میں 1305 حادثات پر بروقت ریسپانس کیا۔ حادثات میں شدید زخمی ہونے والے 690 افراد کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے مختلف ضلعی و تحصیل ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا، جبکہ معمولی زخمیوں کو موقع پر ہی فرسٹ ایڈ فراہم کی گئی۔
اعداد و شمار کے مطابق صوبائی دارالحکومت لاہور میں سب سے زیادہ 231 حادثات پیش آئے جن میں 282 افراد متاثر ہوئے اور لاہور فہرست میں پہلے نمبر پر رہا۔ ملتان 83 حادثات اور 89 متاثرین کے ساتھ دوسرے، جبکہ فیصل آباد 74 حادثات اور 84 متاثرین کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔
پاکستان میں ڈیجیٹل تبدیلی کو تیز کرنے، ڈیجیٹل مہارتوں کو فروغ دینے اور مصنوعی ذہانت کا استعمال بڑھانے کے لیے حکومتِ پاکستان اور عالمی ٹیکنالوجی ادارے گوگل کے درمیان ایک اہم مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط ہو گئے ہیں۔ اس تعاون کا بنیادی مقصد 2030ء تک پاکستان کی آئی ٹی برآمدات اور ڈیجیٹل معیشت کو 30 ارب ڈالر کے حجم تک پہنچانا ہے۔
وزیرِ اعظم آفس میں منعقدہ اس پروقار تقریب کی صدارت وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے کی، جبکہ وفاقی وزیرِ آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، اور گوگل کی اعلیٰ قیادت کے وفد نے بھی شرکت کی۔ معاہدے پر سیکرٹری آئی ٹی ضرار ہاشم خان اور گوگل سائوتھ و سائوتھ ایسٹ ایشیا پبلک پالیسی کے سربراہ ڈیوڈ ویلر نے دستخط کیے۔ اس موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی سے نوجوانوں کو بااختیار بنانا حکومت کی ترجیح ہے اور نوجوان نسل ملک کی تقدیر بدلنے میں بنیادی کردار ادا کر سکتی ہے۔
معاہدے کے تحت گوگل 2026ء میں پاکستانی نوجوانوں کو 150,000 گوگل کیریئر سرٹیفکیٹس فراہم کرے گا تاکہ وہ جدید ترین تکنیکی مہارتیں حاصل کر سکیں۔ اس کے علاوہ طلبا کے لیے گوگل پلس اور جیمینائی نوٹ بک تک ایک سال کی مفت رسائی کے امکانات پر کام کیا جائے گا۔ اسلام آباد میں ایک خصوصی “اے آئی سینٹر آف ایکسی لینس” بھی قائم کیا جائے گا، جبکہ کی اصلاحات، زراعت کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، گیمنگ اسٹوڈیوز اور چھوٹے کاروباروں کو عالمی منڈی سے جوڑنے کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں گے۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی مانیٹرنگ ٹیم نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد (آئی آئی یو آئی) کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے یونیورسٹی میں انسدادِ منشیات پالیسی پر عملدرآمد اور طلبہ کے تحفظ کے لیے کیے گئے حفاظتی و انسدادی اقدامات کا جامع جائزہ لیا۔
یونیورسٹی حکام کی جانب سے دی گئی تفصیلی بریفنگ کے بعد ایچ ای سی مانیٹرنگ ٹیم نے مرد اور خواتین کے مختلف کیمپسز اور سیکیورٹی مانیٹرنگ کے تمام پوائنٹس کا عملی معائنہ کیا۔ اس موقع پر ٹیم نے کیمپس میں نگرانی کے جدید آلات اور مانیٹرنگ کے بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط اور فعال بنانے سے متعلق مختلف تجاویز پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ ایچ ای سی ٹیم نے آئی آئی یو آئی کی انتظامیہ کی جانب سے کیمپس کو منشیات اور تمباکو سے پاک رکھنے، اساتذہ و طلبہ میں مسلسل آگاہی کی مہمات چلانے اور ایچ ای سی کی قومی پالیسی پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے مکمل اطمینان کا اظہار کیا۔
محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، خطہ پوٹھوہار، بالائی پنجاب، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ مزید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے، جبکہ بعض مقامات پر شدید موسلادھار بارش کا بھی امکانی خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے جاری کردہ انتباہ کے مطابق ویک اینڈ کے دوران متوقع شدید بارشوں کے باعث اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، مردان اور صوابی کے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا اندیشہ ہے۔ اس کے علاوہ مری، گلیات، کشمیر اور اسلام آباد و راولپنڈی کے ندی نالوں میں طغیانی جبکہ خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں، مری، گلیات اور گلگت بلتستان میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق مون سون ہوائیں اور مغربی ہواؤں کا سلسلہ ملک کے بالائی علاقوں پر اثر انداز ہو رہا ہے جو اگلے دو روز تک برقرار رہے گا۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سب سے زیادہ بارش اسلام آباد کے علاقے گولڑہ میں 61 ملی میٹر اور راولپنڈی کے شمس آباد میں 51 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی، جبکہ گرم ترین مقامات میں نوکنڈی اور دالبندین رہے جہاں درجہ حرارت 46 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب سے اسلامی چیمبر آف کامرس اینڈ ڈویلپمنٹ (آئی سی سی ڈی) کے سیکرٹری جنرل شیخ یوسف حسن خلوّی نے اہم ملاقات کی ہے، جس میں اسلامی فنانس، حلال معیشت، اقتصادی تعاون اور نجی شعبے کے بین الاقوامی روابط پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق ملاقات میں پاکستانی کاروباری برادری کو عالمی بزنس نیٹ ورکس سے منسلک کرنے اور حلال فوڈ، حلال سیاحت، فیشن اور سروسز کی بین الاقوامی مارکیٹوں میں پاکستانی مصنوعات کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے پر گفتگو کی گئی۔ وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے زور دیا کہ پاکستان کو حلال معیشت کی مخصوص مصنوعات اور عالمی منڈیوں کی نشاندہی کرنی چاہیے تاکہ ملکی کاروبار ابھرتے ہوئے عالمی مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔
آئی سی سی ڈی کے سیکرٹری جنرل نے مسلم کاروباری برادریوں کو نجی اور ادارہ جاتی شراکت داروں سے جوڑنے کی کوششوں سے آگاہ کیا۔ ملاقات میں پاکستان کے اسلامی مالیاتی نظام کو مزید مستحکم کرنے اور تجارتی طور پر قابلِ عمل مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی کانفرنسوں اور بزنس فورمز کے ذریعے پاکستانی تاجروں کو عالمی نیٹ ورکس سے جوڑنے پر اتفاق کیا گیا۔
سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے ملائیشیا کے وزیر داخلہ سیف الدین ناسوٹین بن اسماعیل کی سربراہی میں چھ رکنی پارلیمانی وفد نے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری، پارلیمانی تعاون اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری بھی موجود تھے۔
سپیکر ایاز صادق نے ملائیشین وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے پارلیمانی فرینڈشپ گروپس کے قیام اور تجارتی و تعلیمی شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ امتِ مسلمہ کا اتحاد مشترکہ مفادات اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے ہمیشہ امن اور سفارت کاری کو ترجیح دی ہے، جبکہ ملکی سلامتی اور خودمختاری کا دفاع ہر قیمت پر کیا جائے گا۔ انہوں نے افغان سرزمین کے پاکستان خلاف استعمال ہونے پر تشویش کا اظہار کیا اور موسمیاتی تبدیلی کے عالمی چیلنج سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات پر زور دیا۔
ملائیشین وزیر داخلہ سیف الدین ناسوٹین نے گرمجوش استقبال پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اسلام آباد کی خوبصورتی اور پاکستان کے سفارتی کردار کی تعریف کی۔ انہوں نے پاک ایران اور امریکا کی کشیدگی کے دوران امن کے فروغ کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے پاک ملائیشیا عوام، پارلیمانی اور معاشی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ ڈاکٹر عظمیٰ خان نے بھائی سے ملاقات کا احوال بتاتے ہوئے ایک پریس کانفرنس کے دوران آبدیدہ ہو گئیں اور دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان کی حالت ٹھیک نہیں ہے۔
ڈاکٹر عظمیٰ خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ملاقات کے دوران عمران خان نے جیل میں اپنے ساتھ ہونے والے مبینہ نا روا اور غیر انسانی سلوک کے بارے میں آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان بار بار اس بات پر زور دے رہے تھے کہ قوم کو بتایا جائے کہ انہیں شدید ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور جیل انتظامیہ ان کی کوئی بات نہیں سن رہی۔ انہوں نے کہا کہ جب عمران خان مشکلات بیان کرتے ہیں تو حکام کی جانب سے کوئی پرواہ نہیں کی جاتی۔
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنے بھائی کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے اور ان پر ہونے والے مظالم پر خاموش نہیں رہا جائے گا۔ ڈاکٹر عظمیٰ خان نے واضح کیا کہ انہوں نے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیے جانے کا بتایا تھا جس پر وہ خوش تھے، نیز انہوں نے ان خبروں کی بھی تردید کی کہ عمران خان شفا ہسپتال نہیں گئے تھے۔
جرمنی میں شائع ہونے والی ایک جدید بین الاقوامی تحقیق کے نتائج سے یہ تشویشناک بات سامنے آئی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتی ہوئی عالمی حرارت کی وجہ سے روان صدی کے اختتام تک یورپ میں جنگلاتی آگ کے متاثرہ رقبے میں نمایاں اور ہولناک اضافہ ہو سکتا ہے۔
جریدے “گلوبل چینج بائیولوجی” میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں پوٹسمڈ انسٹی ٹیوٹ فار کلائمیٹ امپیکٹ ریسرچ کے اہم محقق مائیک بلنگ کی قیادت میں سائنسدانوں نے بتایا کہ شدید گرمی، خشکی اور تیز ہواؤں جیسے موسمی حالات بگڑنے سے یورپ بھر میں آگ کے واقعات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ تحقیق کے مطابق اگر عالمی درجہ حرارت میں 1.8 ڈگری کا اضافہ ہوتا ہے تو جلنے والے رقبے میں 39 فیصد اضافہ ہوگا، جبکہ 3.6 ڈگری درجہ حرارت بڑھنے کی صورت میں یہ اضافہ 192 فیصد تک پہنچ جائے گا جس سے متاثرہ رقبہ موجودہ حالت کے مقابلے میں تین گنا بڑھ جائے گا۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ وسطی یورپ، مغربی یورپ کے وسیع حصے اور بحیرہ روم کے علاقے اس کی سب سے شدید زد میں آئیں گے۔
تاہم ماہرین نے یہ نقطہ بھی اجاگر کیا ہے کہ آگ کے خطرات صرف موسم پر نہیں بلکہ زمین کے استعمال، بروقت نشاندہی اور روک تھام پر بھی منحصر ہیں۔ تحقیق کے مطابق اگر آگ کی بروقت نشاندہی، کنٹرول اور بہتر انتظامی اقدامات کو عمل میں لایا جائے تو شدید ترین درجہ حرارت کے منظر نامے میں بھی جنگلاتی آگ سے متاثرہ رقبے کو 72 فیصد سے 92 فیصد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے ملک کے مختلف دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کے باضابطہ اعدادوشمار جاری کر دیے ہیں۔ جمعہ کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر پانی کی آمد 2 لاکھ 59 ہزار 900 کیوسک اور اخراج بھی 2 لاکھ 59 ہزار 900 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانی کی آمد اور اخراج 43 ہزار 500 کیوسک، خیرآباد پل پر آمد و اخراج 29 ہزار 500 کیوسک، جبکہ دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر پانی کی آمد 40 ہزار 300 کیوسک اور اخراج 7 ہزار کیوسک رہا۔ مزید برآں دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد ایک لاکھ 4 ہزار 500 کیوسک اور اخراج 90 ہزار 400 کیوسک درج کیا گیا ہے۔
مختلف بیراجوں کی صورتحال بیان کرتے ہوئے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جناح بیراج میں پانی کی آمد 3 لاکھ 91 ہزار 500 کیوسک اور اخراج 3 لاکھ 83 ہزار 200 کیوسک، چشمہ بیراج میں آمد 2 لاکھ 95 ہزار 100 کیوسک اور اخراج 3 لاکھ 23 ہزار کیوسک، جبکہ تونسہ بیراج میں آمد 3 لاکھ 17 ہزار 500 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 96 ہزار 900 کیوسک رہا۔ گدو بیراج پر آمد 3 لاکھ 22 ہزار 200 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 82 ہزار 800 کیوسک، سکھر بیراج میں آمد 2 لاکھ 67 ہزار 200 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 13 ہزار 400 کیوسک، کوٹری بیراج میں آمد ایک لاکھ 29 ہزار 500 کیوسک اور اخراج 86 ہزار 600 کیوسک جبکہ تریموں بیراج پر آمد 26 ہزار 200 کیوسک اور اخراج 14 ہزار 100 کیوسک اور پنجند میں آمد 42 ہزار 300 کیوسک اور اخراج 27 ہزار 600 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔
آبی ذخائر یعنی ریزروائرز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ تربیلا ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح 1550 فٹ ہے جو اس کی انتہائی سطح کے برابر ہے اور یہاں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 5.580 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ منگلا ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح 1215 فٹ ہے جبکہ انتہائی سطح 1242 فٹ اور قابلِ استعمال ذخیرہ 5.234 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ اسی طرح چشمہ میں پانی کی موجودہ سطح 647 فٹ ریکارڈ کی گئی جہاں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.212 ملین ایکڑ فٹ موجود ہے۔
وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے بتایا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی کا ہسپتال میں تفصیلی طبی معائنہ کرایا گیا، جہاں ڈاکٹروں کی ٹیم نے انہیں مکمل طور پر صحت مند قرار دیا، جس کے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔
سماجی رابطے کے پلیٹ فارم “ایکس” (ٹوئٹر) پر جاری کردہ اپنے بیان میں وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے بتایا کہ 20 اور 21 اگست 2026ء کی درمیانی شب سخت اور مناسب سیکیورٹی انتظامات کے تحت بانی پی ٹی آئی کو پمز ہسپتال منتقل کیا گیا۔ معائنے کے لیے ماہرِ امراضِ چشم، ماہرِ امراضِ قلب اور فزیشن پر مشتمل مستند ڈاکٹروں کی ٹیم تشکیل دی گئی تھی جس میں شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے ڈاکٹرز بھی شامل تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ طبی معائنے اور علاج کے تمام تر مراحل کے دوران ان کی ہمشیرہ عظمیٰ خان بھی موقع پر موجود رہیں۔
عطاء اللہ تارڑ نے مزید بتایا کہ پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے باہر اور راستے میں سیکیورٹی کی جو صورتحال پیدا کی گئی تھی، اسی پیشِ نظر بانی پی ٹی آئی کو پمز ہسپتال لے جایا گیا جہاں تمام تر ٹیسٹس اور معائنے میں وہ بالکل صحت مند پائے گئے۔ تمام عمل مکمل ہونے کے بعد 21 اگست کی صبح تقریباً 5 بجے انہیں واپس اڈیالہ جیل پہنچا دیا گیا۔ وفاقی وزیر نے اعادہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو پہلے بھی تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کی جاتی رہی ہیں اور آئندہ بھی ضرورت پڑنے پر فراہم کی جاتی رہیں گی۔
وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے دہشت گردی کے تمام متاثرین اور شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کے حقوق، انصاف اور وقار کا تحفظ ریاست کی اولین اور اہم ذمہ داری ہے۔
ترجمان وزارتِ قانون و انصاف کے مطابق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے “دہشت گردی کے متاثرین کی یاد اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے کے عالمی دن” کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں شہدا کے اہل خانہ سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے سیکیورٹی فورسز کے بسالت مند اہلکاروں اور عام شہریوں کی قربانیوں کو قوم قدر اور احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور یہ قربانیاں ہماری قومی یادداشت کا مستقل حصہ ہیں۔
وفاقی وزیرِ قانون نے اس بات پر زور دیا کہ متاثرین کو انصاف اور قانونی معاونت کی بروقت فراہمی ایک محفوظ اور پرامن معاشرے کی بنیاد ہے، اور انتہا پسندی، عدم برداشت اور نفرت کے مکمل خاتمے کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ قانون کی حکمرانی اور متاثرین کی بحالی کا مؤثر نظام حکومت پاکستان کی ترجیحات میں شامل ہے اور پاکستان امن، انسانی حقوق اور آئین کی پاسداری کے عزم پر قائم ہے۔
چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری)، ہلالِ جرأت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دشمن کے مذموم عزائم کو قوم کے اجتماعی عزم اور ریاست کی غیر متزلزل، پُرعزم اور فیصلہ کن کارروائی کے ذریعے مکمل طور پر ناکام بنایا جائے گا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بلوچستان کی ممتاز سیاسی و سماجی شخصیات اور قیادت سے اہم ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران آرمی چیف نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان اور پاکستان کا حال اور مستقبل ایک ہے اور ہمیشہ ایک رہے گا، اور بلوچستان باصلاحیت، ثابت قدم، محب وطن اور باوقار لوگوں کی سرزمین ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ واضح قومی بیانیہ، دیرپا امن اور استحکام ہی صوبے کی حقیقی معاشی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے، سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور بلوچستان کے وافر انسانی و قدرتی وسائل کو عوام کی حقیقی خوشحالی میں تبدیل کرنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان معاشرے کا سب سے متحرک اور امید افزا طبقہ ہیں جنہیں بااختیار بنانا پائیدار ترقی کا ضامن ہے۔
آرمی چیف نے واضح کیا کہ فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان غیر ملکی سرپرستی میں کام کرنے والی پراکسیز ہیں جنہیں دشمن عناصر بلوچستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے اور ریاست و عوام کے درمیان خلیج پیدا کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے دشمن کے منفی پراپیگنڈے کا جامع اور بلا جھجھک مقابلہ کرنے، جھوٹے بیانیوں کو بے نقاب کرنے اور بلوچستان کے عوام کی حقیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی تقدیر کا فیصلہ صرف اس کے اپنے عوام کے ہاتھوں میں ہے۔ ملاقات میں موجود ممبران اور رہنماؤں نے بھی امن و ترقی کی راہ میں افواجِ پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کرتے ہوئے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیہ کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 1 روپے 64 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 364 روپے 70 پیسے فی لیٹر مقرر ہو گئی ہے۔ اسی طرح موٹر اسپرٹ (پیٹرول) کی قیمت میں 27 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 337 روپے 78 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
اعلامیے کے مطابق نئی مقرر کردہ قیمتوں کا اطلاق جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات 12 بجے سے کر دیا گیا ہے اور یہ نئی قیمتیں اگلے حکم تک نافذ العمل رہیں گی۔
اسلام آباد / نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 20 اگست 2026ء
اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہِ انسانی امور (او سی ایچ اے) نے خبردار کیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے الخلیل کے نزدیک الظاہریہ میں جاری اسرائیلی ملٹری آپریشن اور نافذ کردہ کرفیو کے نتیجے میں اندازاً 40 ہزار سے زائد فلسطینی شہری اپنے ہی گھروں میں قید ہو کر رہ گئے ہیں، جس سے شدید انسانی بحران جنم لے رہا ہے۔
اقوام متحدہ کی روزانہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فورسز کی جانب سے علاقے میں عمارتوں کی چھتوں پر سنائپرز تعینات کر دیے گئے ہیں اور سڑکوں کو مٹی کے ڈھیروں سے بند کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے بچوں اور معمر افراد سمیت ہزاروں لوگ گھروں سے باہر نہیں نکل پا رہے اور نہ ہی انہیں خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی ضروریات زندگی تک رسائی مل رہی ہے۔ او سی ایچ اے کے مطابق تقریباً سات فلسطینی گھروں کو فوجی پوچھ گچھ کے مراکز میں تبدیل کر دیا گیا ہے جبکہ خاندانوں کو ایک ہی کمرے میں بند کر کے رکھا گیا ہے۔
رپورٹ میں غزہ کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ غزہ سٹی کی بندرگاہ کے قریب اسرائیلی فضائی حملے میں 7 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے، جس سے انسانی امدادی سرگرمیاں اور شہریوں کا محفوظ مقامات تک پہنچنا انتہائی دشوار ہو گیا ہے۔ اقوام متحدہ نے تمام سیکیورٹی آپریشنز میں بین الاقوامی قوانین کے احترام اور عام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں واقع کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے اپنے بین الاقوامی ٹرمینل نمبر 5 پر ’سائلنٹ ایئرپورٹ‘ پراجیکٹ کے پہلے مرحلے کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد ہوائی اڈے پر غیر ضروری پبلک اناؤنسمنٹس اور شور و غل کو کم کر کے مسافروں کو ایک پرسکون، اور آرام دہ سفر کا ماحول فراہم کرنا ہے۔
سعودی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس پراجیکٹ کے تحت اب بلند آواز میں ہونے والے اعلانات کو صرف ڈیپارچر گیٹس تک ہی محدود رکھا جائے گا۔ مسافروں کو فلائٹ سے متعلق تمام ضروری معلومات اور اپ ڈیٹس فراہم کرنے کے لیے اب جدید ڈیجیٹل ڈسپلے سکرینز اور مختلف آن لائن چینلز کا استعمال کیا جائے گا۔ مسافر ایئرپورٹ کے آفیشل واٹس ایپ نمبر، ویب سائٹ، موبائل نوٹیفیکیشنز اور ’آسک می‘ ٹیم کے ذریعے اپنی پروازوں کی صورتحال سے لمحہ بہ لمحہ باخبر رہ سکیں گے۔ ایئرپورٹ انتظامیہ نے بتایا ہے کہ اس منصوبے کے اگلے مراحل کا اعلان طے شدہ وقت پر کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ عالمی سطح پر بھی بہترین خدمات کے لیے جانا جاتا ہے۔ برطانیہ کے عالمی ادارے ‘سکائی ٹریکس’ کے انڈیکس میں اس ایئرپورٹ نے مشرقِ وسطیٰ کے بہترین ایئرپورٹس میں چوتھی جبکہ 30 سے 40 ملین مسافروں کی کیٹیگری میں نمایاں پوزیشنز حاصل کی ہیں۔
عرب جمہوریہ شام کے وزیرِ خارجہ اسد حسن الشیبانی ایک اہم سرکاری دورے پر پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔
دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق شام کے وزیرِ خارجہ یہ دورہ پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی خصوصیات اور دعوت پر کر رہے ہیں۔ اسلام آباد کے نور خان ایئرپورٹ پر آمد پر معزز شامی مہمان کا پرُتپاک استقبال وزارتِ خارجہ کے ایڈیشنل سیکرٹری برائے مشرقِ وسطیٰ اور اعلیٰ سفارتی حکام نے کیا۔
اس اہم دورے کے دوران شامی وزیرِ خارجہ کی اپنے پاکستانی ہم منصب سینیٹر اسحاق ڈار اور دیگر اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت سے اہم ملاقاتیں متوقع ہیں۔ ان ملاقاتوں میں پاکستان اور شام کے درمیان دوطرفہ سفارتی، معاشی اور تجارتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر گفتگو کی جائے گی۔ اس کے علاوہ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ جیو پولیٹیکل صورتحال، علاقائی امن و امان، اور بین الاقوامی فورمز پر باہمی تعاون کو فروغ دینے کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
صوبہ پنجاب کے شہر چکوال میں 10 اور 11 جون کی درمیانی شب پیش آنے والے الم ناک فائرنگ کے واقعے سے متعلق انکوائری رپورٹ پراسیکیوٹر کے پاس جمع کروا دی گئی ہے، جس میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) پنجاب کے ایک اہلکار کو باضابطہ طور پر قصور وار قرار دے دیا گیا ہے۔ اس المناک حادثے میں پریتھ، آسٹریلیا سے آئے ہوئے ایک پاکستانی نژاد خاندان کی 9 سالہ بچی ہانیہ احمد جاں بحق جبکہ ان کے والد عدیل احمد اور 10 سالہ بھائی عفان احمد شدید زخمی ہوئے تھے۔
واقعات کے مطابق جون کی شروعات میں آسٹریلوی نژاد پاکستانی خاندان حج کی ادائیگی کے بعد چکوال میں اپنے عزیز و اقارب سے ملنے آیا ہوا تھا۔ حادثے کی شب جب خاندان اپنی کرائے کی گاڑی میں سی سی ڈی تھانے کی دیوار کے بالکل قریب پہنچا تو دو موٹر سائیکل سوار ڈاکوؤں نے اسلحے کے زور پر انہیں روک کر لوٹنے کی کوشش کی۔ اسی اثنا میں قریب موجود سی سی ڈی کے اہلکار موقع پر پہنچے اور صورتحال کا صحیح اندازہ لگائے بغیر بے دردی سے فائرنگ کر دی۔ پولیس نے بعد میں مؤقف اپنایا تھا کہ اہلکار نے غلط فہمی میں یہ سمجھتے ہوئے گاڑی پر فائر کر دیا کہ ملزمان اس میں فرار ہو رہے ہیں۔
واقعے کے فوری بعد آئی جی پنجاب پولیس اور سی سی ڈی سربراہ ایڈیشنل آئی جی سہیل ظفر چٹھہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے شفاف تحقیقات اور ایک ہفتے کے اندر رپورٹ مکمل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ تاہم تفصیلی چالان اور رپورٹ 28 جولائی کو پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ میں جمع کروائی گئی جس میں غلط فہمی، طاقت کے بےجا اور بے دریغ استعمال اور غیر پیشہ ورانہ رویے پر متعلقہ سی سی ڈی اہلکار کو واقعے کا مرکزی ذمہ دار قرار دیتے ہوئے قانونی کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔ دوسری جانب متاثرہ والد عدیل احمد نے کارروائی پر اپنے تحفظات ظاہر کرتے ہوئے مزید غیر جانبدارانہ اور سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے اندوہناک واقعات کا سدِ باب ہو سکے۔
دنیا کی تین بڑی اور اہم مسلم طاقتوں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ‘مکہ معاہدے’ کے تحت ایک جدید اور تاریخی مشترکہ دفاعی اتحاد وجود میں آ گیا ہے جس نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا بلکہ عالمی جیو پولیٹیکل منظر نامے پر گہرے اور دور رس اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس دفاعی معاہدے کو عالمی و علاقائی سیاست کے ماہرین خطے میں طاقت کے توازن اور پائیدار امن کی جانب ایک انتہائی اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
اس تاریخی معاہدے کے تحت تینوں ممالک دفاعی اور معاشی اعتبار سے اپنی اپنی منفرد خصوصیات اور اعلیٰ صلاحیتوں کا اشتراک کریں گے۔ انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار سٹریٹیجک سٹڈیز کے تجزیے کے مطابق اس معاہدے کی بنیادی اور علامتی اہمیت یہ ہے کہ اس میں پاکستان کی مانی ہوئی جوہری و ملٹری صلاحیت، سعودی عرب کی بے پناہ توانائی، مالیاتی وسائل و معاشی طاقت اور ترکی کی جدید اور تیزی سے ابھرتی ہوئی دفاعی و ٹیکنالوجیکل صنعت ایک ساتھ مجتمع ہو گئے ہیں۔ اس سے قبل یہ تینوں مسلم ممالک مختلف بلاکس یا معاہدوں کے ذریعے ایک دوسرے سے منسلک تھے، تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ تینوں طاقتور ممالک نے ایک مشترکہ چھتری تلے جمع ہو کر دفاعی اشتراک کا اعلان کیا ہے۔
اگرچہ مکہ معاہدے کا پورا باضابطہ متن تاحال عام نہیں کیا گیا، تاہم تینوں ممالک کی سفارتی اور دفاعی قیادت کی جانب سے جاری کردہ اشاروں کے مطابق اس باہمی معاہدے کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ کسی بھی ایک رکن ملک پر غیر ملکی جارحیت یا حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ شق نیٹو یعنی نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن کے مشہور زمانہ ‘آرٹیکل 5’ سے مماثلت رکھتی ہے۔ اس اہم شق کا سیدھا اور واضح مقصد خطے میں کسی بھی ممکنہ دشمن یا جارح قوت کو حملے سے باز رکھنا اور رکن ممالک کی سلامتی کی مکمل ضمانت دینا ہے۔
دفاعی و سٹریٹیجک تجزیہ کاروں کی رائے کے مطابق اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ اگر جنوبی ایشیا میں کسی بھی قسم کے مسلح تنازع یا جنگ کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو سعودی عرب اور ترکی پاکستان کی دفاعی مدد، لاجسٹکس اور سفارتی حمایت فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔ اسی طرح اگر مشرقِ وسطیٰ، شام یا مشرقی بحیرۂ روم کے علاقوں میں اسرائیل یا کسی دوسری قوت کے ساتھ ترکی یا سعودی عرب کا سامنا ہوتا ہے تو پاکستانی مسلح افواج اور انٹیلی جنس ادارے اپنے اتحادیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔
تاہم دیگر بین الاقوامی سیاسی مبصرین اور سفارت کاروں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاہدے میں شامل کسی ایک ملک کو کسی تنازع کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو دیگر دو ممالک کا فوری اور راست طور پر جنگ میں کود پڑنا واحد راستہ نہیں ہوگا۔ اس کے بجائے معاہدے کی شرائط کے تحت متاثرہ ملک کو اعلیٰ درجے کا جدید ترین اسلحہ، دفاعی ڈرونز، مشترکہ انٹیلی جنس، سیٹلائٹ ڈیٹا اور عالمی فورمز پر بھرپور سفارتی و معاشی تعاون فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ کسی بھی جارحیت کا کامیابی کے ساتھ مقابلہ کر سکے۔
اس کے علاوہ اس معاہدے کے تحت تینوں ممالک کی برّی، بحری اور فضائی افواج کے درمیان باقاعدگی سے مشترکہ فوجی مشقوں، جنگی سامان کی باہمی تیاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور ڈرون ٹیکنالوجی کی ترقی پر بھی کام کیا جائے گا۔ اس اقدام سے دفاعی پیداوار میں خودانحصاری حاصل ہوگی اور مغربی یا بیرونی ممالک پر فوجی انحصار میں نمایاں کمی آئے گی۔
صنعتی اور معاشی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو مکہ معاہدہ صرف فوجی سطح تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے ذریعے تینوں ممالک کے درمیان تجارتی راستوں کی حفاظت، توانائی کے تحفظ اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں بھی تعاون بڑھایا جائے گا۔ پاکستان کی جیو سٹریٹیجک پوزیشن، سعودی عرب کے مالیاتی وسائل اور ترکی کی صنعتی طاقت کا یہ ملاپ ایک ایسا نیا معاشی و دفاعی بلاک تشکیل دے رہا ہے جو خطے میں پائیدار استحکام لانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
عالمی طاقتوں کی جانب سے اس نئے اتحاد کا گہرائی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ جہاں ایک طرف اسلامی دنیا میں اس پیش رفت کو انتہائی خوش آئند اور مسلم امہ کے اتحاد کی جانب بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے، وہاں دوسری جانب روایتی حریف ممالک اور عالمی سیاسی کھلاڑی اس نئے طاقت کے مرکز کی تشکیل کو باریک بینی سے دیکھ رہے ہیں۔ مکہ معاہدہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آنے والے دور میں علاقائی خود مختاری اور باہمی دفاعی تعاون ہی کسی بھی ملک کی سلامتی کی حتمی ضمانت بن کر سامنے آئے گا۔