اسلام آباد ویمن چیمبر کے اشتراک سے خواتین کاروباری افراد کی معاونت کے لیے مزید عملی اقدامات کیے جائیں گے: چیئرمین سی ڈی اے

منصور احمد june 28,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے چیئرمین لیفٹیننٹ (ر) سہیل اشرف نے خواتین کی معاشی خودمختاری اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ادارے کے بھرپور تعاون کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی ڈبلیو سی سی آئی) کے اشتراک سے خواتین کاروباری افراد کی معاونت کے لیے مزید عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ یہ یقین دہانی انہوں نے آئی ڈبلیو سی سی آئی کی صدر ثمینہ فاضل کی قیادت میں ایک مقتدر وفد سے ملاقات کے دوران کرائی، جس میں اسلام آباد کے پہلے خصوصی ویمن انٹرپرائز مارکیٹ کے کامیاب آغاز، خواتین کے لیے کاروباری مواقع میں اضافے اور مستقبل میں باہمی تعاون کے مختلف تزویراتی پہلوؤں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں شریک کاروباری خواتین نے ویمن انٹرپرائز مارکیٹ کے قیام میں چیئرمین سی ڈی اے لیفٹیننٹ (ر) سہیل اشرف اور میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد (ایم سی آئی) کی ڈائریکٹر ڈاکٹر انعم فاطمہ کے کلیدی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ مخصوص تجارتی جگہ کی فراہمی اس منصوبے کی کامیابی میں بنیادی عنصر ثابت ہوئی۔ آئی ڈبلیو سی سی آئی کی صدر ثمینہ فاضل نے منصوبے کی کامیابی میں سی ڈی اے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، ایم سی آئی اور جاز کیش کے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جی-11 میں قائم ویمن انٹرپرائز مارکیٹ اسلام آباد کی تاریخ کا پہلا خصوصی تجارتی مرکز ہے جو خواتین کی زیرِ قیادت کاروباری اداروں کے لیے مختص کیا گیا ہے اور یہ خواتین کی معاشی شمولیت کے فروغ کی جانب ایک تاریخی پیش رفت ہے۔

چیئرمین سی ڈی اے نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کی معاشی ترقی میں خواتین کا فعال کردار ناگزیر ہے اور سی ڈی اے خواتین کاروباری افراد کے لیے مزید منظم اور مؤثر پروگرام متعارف کرانے کے لیے آئی ڈبلیو سی سی آئی کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دے گا۔ دوسری جانب، ڈاکٹر انعم فاطمہ نے واضح کیا کہ شہری انتظامیہ خواتین کے لیے محفوظ، آسان رسائی والی اور کاروبار دوست جگہیں فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے، جبکہ کم لاگت کاروباری ماڈلز کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے تاکہ انہیں دارالحکومت کے دیگر مقتدر علاقوں میں بھی کامیابی سے دہرایا جا سکے۔

ملاقات کے دوران آئی ڈبلیو سی سی آئی کی نمائندہ نعیمہ انصاری نے اہم ترین معاشی اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں موجود 50 لاکھ سے زائد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) میں خواتین کی ملکیت صرف تقریباً 8 فیصد ہے، جبکہ ایس ایم ای سیکٹر کے لیے فراہم کی جانے والی مجموعی مالی معاونت میں خواتین کی زیرِ قیادت کاروباروں کا حصہ محض 3.2 فیصد ہے۔ انہوں نے اصرار کیا کہ خواتین کی کاروباری سرگرمیوں میں یہ کم شمولیت قومی اقتصادی ترقی میں ان کے ممکنہ کردار کو محدود کر رہی ہے۔ ملاقات کے اختتام پر شہری اداروں اور نجی شعبے کے درمیان تعاون کے نئے امکانات پر بھی غور کیا گیا اور صدر آئی ڈبلیو سی سی آئی نے ملک بھر کی بلدیاتی انتظامیہ اور چیمبرز آف کامرس پر زور دیا کہ وہ خواتین کی قیادت میں کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے عملی اقدامات اور مخصوص کاروباری مقامات کی فراہمی کو ہر قیمت پر یقینی بنائیں۔

اسلام آباد ایئرپورٹ پر ایف آئی اے کی بڑی کارروائی: متعدد شناختوں پر روس جانے کی کوشش کرنے والے دو مسافر آف لوڈ، موبائل فونز سے پاکستانی شناختی کارڈ اور افغان پاسپورٹ برآمد

منصور احمد june 28,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) امیگریشن اسلام آباد زون نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک مہم جوئی اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے امیگریشن کلیئرنس کے دوران متعدد جعلی شناختوں اور مشکوک سفری دستاویزات کا پتہ لگا کر روس جانے کی کوشش کرنے والے دو مسافروں کو آف لوڈ کر دیا ہے۔ ایف آئی اے حکام کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، یہ مسافر ازبکستان ایئرویز کی پرواز کے ذریعے روس جانے کے لیے ایئرپورٹ پہنچے تھے، جہاں کاؤنٹر پر موجود امیگریشن حکام نے سفری دستاویزات کو مشکوک قرار دیتے ہوئے انہیں سیکنڈری اسکریننگ کے لیے روک لیا۔

حکام نے بتایا کہ جب ان مشکوک مسافروں کی تفصیلی اور تکنیکی جانچ پڑتال کی گئی تو ان کی شناخت اور سفری دستاویزات میں واضح تضادات کا انکشاف ہوا۔ شک کی بنیاد پر جب ملزمان کے موبائل فونز کی فرانزک جانچ کی گئی تو اس کے نتیجے میں متعدد افغان پاسپورٹ، ایک افغانی تذکرہ (شناختی کارڈ)، ایک پاکستانی کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ اور ایک روسی سفری دستاویز برآمد ہوئی۔ ایف آئی اے کے مطابق، برآمد ہونے والی ان متعدد دستاویزات میں مختلف نام اور شناختیں درج تھیں، لیکن حیران کن طور پر ان سب پر تصویر ایک ہی فرد کی لگی ہوئی تھی، جس سے یہ واضح ہو گیا کہ ملزمان غیر قانونی طور پر بیرونِ ملک امیگریشن کے لیے متعدد شناختوں کا منظم استعمال کر رہے تھے۔

ابتدائی تفتيش کے دوران یہ سنسنی خیز انکشاف بھی ہوا ہے کہ ملنے والا ایک افغان تذکرہ دوسرے مسافر کے نام پر جاری کیا گیا تھا، جبکہ بقیہ تمام دستاویزات کو مبینہ طور پر دھوکہ دہی اور جعل سازی کے ذریعے بیرونِ ملک فرار ہونے کی کوشش میں استعمال کیا جا رہا تھا۔ ایف آئی اے امیگریشن حکام نے دونوں مسافروں کو فوری طور پر طیارے سے آف لوڈ کر دیا اور ایئرپورٹ پر ہی تحویل میں لے کر مزید گہری قانونی کارروائی اور پسِ پردہ نیٹ ورک کی تفتیش کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل اسلام آباد کے حوالے کر دیا ہے، جہاں ان سے انسانی اسمگلنگ کے پہلو پر گہرائی سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

شمالی علاقوں، گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر کے ندی نالوں میں پانی کی سطح تیز رفتاری سے بڑھنے کا خدشہ؛ سیاحوں اور مقامی آبادی کو دریاؤں اور پہاڑی راستوں پر غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی سخت تاکید، پی ڈی ایم ایز ہائی الرٹ.

کاشف عباسی ,june 28,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے ملک بھر میں موسمِ سرما اور گرمی کے بعد پری مون سون بارشوں کے باقاعدہ آغاز کے پیشِ نظر ایک مقتدر اور ہائی پروفائل ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے شہریوں اور سیاحوں کو انتہائی محتاط رہنے کی سخت ہدایت کی ہے۔ این ڈی ایم اے کے مقتدر حکام کی جانب سے اتوار کو جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، ملک بھر میں 28 جون سے 3 جولائی تک وقفے وقفے سے گرج چمک کے ساتھ پری مون سون بارشیں متوقع ہیں، جس کے باعث شمالی و پہاڑی علاقوں میں گلیشیئر پگھلنے کی رفتار تیز ہونے، اچانک سیلاب اور خطرناک لینڈ سلائیڈنگ کے شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

این ڈی ایم اے کے حکام نے میڈیا چینلز سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ حالیہ شدید گرمی اور متوقع مقتدر بارشوں کے خطرناک امتزاج کی وجہ سے گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور آزاد جموں و کشمیر کے دریاؤں، ندی نالوں اور مقامی آبشاروں میں پانی کے بہاؤ میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر متنبہ کیا کہ پہاڑی خطوں کے غیر مستحکم اور تیزی سے بدلتے ہوئے موسم کی وجہ سے برفانی جھیلیں پھٹنے کے واقعات اور تودے گرنے کے مقتدر خطرات لاحق ہیں۔ اتھارٹی نے ہنزہ، نگر، غذر، اسکردو، شگر، گھانچے، کھرمنگ، استور، دیامر، بالائی و زیریں چترال اور سوات سمیت ہائی رسک والے اضلاع کے مکینوں، مسافروں اور بالخصوص عید و موسمِ گرما کی تعطیلات کے سیاحوں کو انتہائی احتیاط کا مشورہ دیا ہے، کیونکہ موسم کی یہ اچانک تبدیلی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔

ایڈوائزری میں عوام پر زور دیا گیا ہے کہ وہ دریاؤں، ندی نالوں اور خطرناک پہاڑی راستوں کے قریب غیر ضروری نقل و حرکت سے مکمل طور پر گریز کریں اور کسی بھی ہنگامی یا غیر معمولی صورتحال کی صورت میں مقامی انتظامیہ کو فوراً مقتدر اطلاع دیں۔ کسی بھی ممکنہ آفت یا نقصان سے نمٹنے کے لیے تمام صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز ) کو سخت ترین ہدایات کے ساتھ ہائی الرٹ پر رکھ دیا گیا ہے تاکہ ہر سطح پر ہنگامی تیاریوں، تیز رفتار ردِعمل کی صلاحیت اور مربوط مقتدر کارروائی کو یقینی بنایا جا سکے۔ این ڈی ایم اے نے اصرار کیا ہے کہ انسانی جانوں کے تحفظ اور املاک کے نقصان کو کم سے کم کرنے کے لیے بروقت احتیاط اور سرکاری حفاظتی مشوروں پر سختی سے عمل درآمد ناگزیر ہے۔

مشعال ملک کی کراچی رینجرز کیمپ پر دہشت گرد حملے کی شدید مذمت، جامِ شہادت نوش کرنے والے جوانوں کو شاندار خراجِ عقیدت

منصور احمد june 28,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ اور ممتاز سماجی و سیاسی رہنما مشعال ملک نے کراچی میں پاکستان رینجرز (سندھ) کے کیمپ پر ہونے والے بزدلانہ دہشت گرد حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اسلام آباد سے جاری کردہ اپنے ایک مقتدر بیان میں انہوں نے رینجرز کیمپ کے مین گیٹ پر ہونے والے دھماکے اور فائرنگ کے شدید تبادلے کے دوران دہشت گردوں کا جوانمردی سے مقابلہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرنے والے دھرتی کے 3 بہادر بیٹوں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا ہے اور کہا ہے کہ پوری پاکستانی قوم اپنے ان جان نثاروں کی قربانی کو سلام پیش کرتی ہے۔

مشعال ملک نے اپنے مقتدر بیان میں سیکیورٹی فورسز کے فوری ہنگامی ردِعمل کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان رینجرز سندھ کے چوکس دستوں نے انتہائی پیشہ ورانہ اور بروقت تزویراتی کارروائی عمل میں لا کر بزدل حملہ آوروں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچایا اور ملک دشمن عناصر کے مذموم عزائم کو مٹی میں ملا دیا۔ انہوں نے اصرار کیا کہ وطنِ عزیز کے امن و استحکام کی خاطر اپنی جانیں نچھاور کرنے والے یہ مقتدر شہداء پوری قوم کا فخر اور پاکستان کے حقیقی ہیرو ہیں، جن کی یہ عظیم اور لازوال قربانیاں تاریخ کے سنہری حروف میں لکھی جائیں گی اور انہیں کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے حملے میں زخمی ہونے والے رینجرز کے دیگر جوانوں کی جلد اور مکمل صحتیابی کے لیے بھی خصوصی دعا کی اور شہداء کے سوگوار خاندانوں سے گہری ہمدردی اور مقتدر یکجہتی کا اظہار کیا۔

کراچی میں رینجرز کیمپ پر حملے کی شدید مذمت: چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو شاندار خراجِ تحسین، شہداء کے لواحقین سے دلی تعزیت

محمود احمد june 28,2026

اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں پاکستان رینجرز (سندھ) کے کیمپ پر بھارتی اسپانسرڈ خوارج دہشت گردوں کے بزدلانہ اور ناکام حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اسلام آباد میں میڈیا ونگ سے جاری کردہ اپنے ایک مقتدر اور اہم پالیسی بیان میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے رینجرز کیمپ پر حملہ کرنے والے بزدل دہشت گردوں کو فوری طور پر جہنم واصل کرنے اور ان کے تزویراتی عزائم کو مٹی میں ملانے پر سیکیورٹی فورسز کی اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور فوری ہنگامی ردِعمل کو زبردست الفاظ میں سراہا ہے۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کراچی رینجرز کیمپ کے گیٹ پر ہونے والے دھماکے اور فائرنگ کے شدید تبادلے کے دوران دھرتی کے 3 بہادر رینجرز اہلکاروں کی فرض کی راہ میں لازوال شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے وطنِ عزیز کے امن و امان کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے ان مقتدر شہداء کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے سوگوار لواحقین سے دلی تعزیت اور یکجہتی کا اظہار کیا، اور حملے میں زخمی ہونے والے جوانوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا بھی کی۔

دہشت گردی کے خلاف برسرِپیکار سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے مقتدر اداروں کے ساتھ اپنی پارٹی کی جانب سے مکمل اور غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے تزویراتی نقطہ نظر سے واضح کیا کہ دشمن کا یہ بزدلانہ فعل اس امر کا کھلا ثبوت ہے کہ عالمی سطح پر، اور خصوصاً حالیہ سفارتی محاذ پر پاکستان کو جو تاریخی پذیرائی اور کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں، وہ ملک دشمن عناصر اور غیر ملکی آقاوں سے ہضم نہیں ہو رہیں۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ پوری پاکستانی قوم اپنے وطن کی جغرافیائی و نظریاتی سرحدوں کی حفاظت، اور دشمن کے تمام تر مذموم و تزویراتی عزائم کو خاک میں ملانے کے لیے سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور انتہا پسندی کے مکمل خاتمے تک یہ عزم برقرار رہے گا۔

ایم ٹو موٹروے پر افسوسناک ٹریفک حادثہ: تیز رفتاری اور غفلت کے باعث کار الٹ گئی، ایک شخص جاں بحق جبکہ خاتون اور دو معصوم بچے زخمی

کاشف عباسی ,june 28,026

لاہور (کرائم رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

موٹروے ایم-2 پر حافظ آباد کے مقتدر علاقے کے قریب ایک المناک اور افسوسناک ٹریفک حادثہ پیش آیا ہے، جہاں ایک تیز رفتار کار ڈرائیور کی مبینہ غفلت اور لاپرواہی کے باعث کنٹرول سے باہر ہو کر الٹ گئی۔ اس دلخراش واقعے کے نتیجے میں ایک شخص موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا جبکہ کار میں سوار ایک خاتون اور دو معصوم بچے شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ موٹروے پولیس کے مقتدر ترجمان کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، حادثے کی اطلاع ملتے ہی پٹرولنگ افسران نے مقتدر ہنگامی ردِعمل کا مظاہرہ کیا۔

تفصیلات کے مطابق، حادثے کی ہنگامی اطلاع موصول ہوتے ہی موٹروے پولیس کے مقتدر دستے ریسکیو الیون ٹو ٹو (1122) کی ٹیموں کے ہمراہ فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے۔ امدادی ٹیموں نے کار کے ملبے سے لاش اور زخمیوں کو نکال کر فوری طبی امداد کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ٹراما سینٹر حافظ آباد منتقل کیا۔ ترجمان نے طبی حکام کے حوالے سے بتایا کہ حادثے میں خاتون کو شدید مقتدر چوٹیں آئی ہیں اور ان کی حالت نازک بتائی جاتی ہے، جبکہ خوش قسمتی سے دونوں بچوں کو معمولی چوٹیں آئیں جنہیں فوری ابتدائی طبی امداد فراہم کر دی گئی ہے۔

واقعے کی حساسیت کے پیشِ نظر، موٹروے پولیس کے مقتدر سیکٹر کمانڈر فیصل اکرم نے خود ہنگامی طور پر موقع پر پہنچ کر تمام تر امدادی کارروائیوں کی براہِ راست نگرانی کی اور ریسکیو آپریشن کو تیز ترین اور مؤثر انداز میں مکمل کروایا۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ تمام مقتدر امدادی کارروائیاں مکمل ہونے اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے کے فوراً بعد، موٹروے پولیس نے بھاری کرینوں کی مدد سے متاثرہ گاڑی کو شاہراہ سے ہٹا کر سڑک کے کنارے کیا، جس کے بعد موٹروے پر ٹریفک کی روانی کو مقتدر طور پر مکمل بحال کر دیا گیا۔ موٹروے پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سفر کے دوران رفتار کی حدود کا مقتدر خیال رکھیں تاکہ ایسے جان لیوا حادثات سے بچا جا سکے۔

پاکستانی بحری معیشت میں تاریخی سنگِ میل: کراچی پورٹ ٹرسٹ کا 138 سالہ تاریخ میں کارگو ہینڈلنگ کا نیا ریکارڈ، بحری شعبے کی بے مثال ترقی کا منہ بولتا ثبوت ہے، وفاقی وزیر محمد جنید انوار چوہدری

محمود احمد june 28,2026

اسلام آباد (بحرینی و اقتصادی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے ملک کی بحری معیشت کے حوالے سے ایک مقتدر اور تاریخی کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ نے رواں مالی سال کے دوران اپنی 138 سالہ طویل تاریخ میں کارگو ہینڈلنگ کا ایک بالکل نیا اور ریکارڈ ساز سنگِ میل عبور کر لیا ہے، جو پاکستان کے بحری شعبے کی پائیدار ترقی اور معاشی استحکام کا واضح ثبوت ہے۔ وزارتِ بحری امور کی جانب سے جاری کردہ مقتدر پریس ریلیز کے مطابق، وفاقی وزیر نے اس کامیابی کو ملکی تجارتی حجم میں اضافے کے لیے ایک تزویراتی سنگِ میل قرار دیا ہے۔

وفاقی وزیر محمد جنید انوار چوہدری نے تفصیلی حقائق شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ نے رواں برس انتہائی تندہی سے کام کرتے ہوئے 5 کروڑ 46 لاکھ 85 ہزار ٹن کارگو ہینڈلنگ کا اپنا ہی سابقہ ریکارڈ کامیابی سے عبور کر لیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ غیر معمولی کارکردگی بندرگاہ کی بڑھتی ہوئی تزویراتی استعداد، وزارت کی مؤثر اصلاحاتی پالیسیوں، بہترین انتظامی اقدامات اور عالمی معیار کی آپریشنل کارکردگی کا منہ بولتا مظہر ہے۔ وفاقی وزیر نے اصرار کیا کہ یہ شاندار کامیابی پاکستان کی بحری معیشت، بندرگاہی نظام اور قومی و بین الاقوامی تجارت کے فروغ میں ایک مقتدر پیش رفت ہے، جو ادارے کی پیشہ ورانہ صلاحیت کی عکاسی کرتی ہے۔

اس مقتدر اور تاریخی کامیابی کے مقتدر موقع پر وفاقی وزیر نے چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ ریئر ایڈمرل (ر) شاہد احمد، تمام افسران، بندرگاہ کے محنتی ملازمین اور دیگر معاون اسٹیک ہولڈرز کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ شاندار نتیجہ مشترکہ محنت، دور اندیش منصوبہ بندی اور بہترین ٹیم ورک کا مرہونِ منت ہے۔ انہوں نے عزم دہرایا کہ حکومت ملکی بندرگاہوں کو جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس کرنے، لاجسٹکس نظام کو مزید مربوط بنانے اور عالمی تجارتی برادری کو مسابقتی سہولیات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ پاکستان خطے میں ایک مضبوط بحری و تجارتی مرکز کے طور پر ابھر سکے۔

اس موقع پر چیئرمین کے پی ٹی ریئر ایڈمرل (ر) شاہد احمد نے بھی اپنے مقتدر پیغام میں تمام ملازمین کی انتھک خدمات کو سراہتے ہوئے مبارکباد دی اور کہا کہ یہ ریکارڈ ادارے کی مؤثر حکمتِ عملی کا ثمر ہے، اور مستقبل میں بھی کراچی پورٹ کی مسابقتی صلاحیت کو بین الاقوامی معیار کے مطابق برقرار رکھنے کے لیے تزویراتی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ قومی خزانے کو مزید مقتدر استحکام حاصل ہو۔

موٹروے پولیس سنٹرل زون کی بروقت اور مقتدر کارروائی: اغوا ہونے والے معصوم بہن بھائی بحفاظت بازیاب، قانونی کارروائی کے بعد مقامی پولیس کے حوالے

منصور احمد june 28,2026

لاہور (کرائم رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس سنٹرل زون نے ہائی وے پر گشت کے دوران انتہائی تزویراتی اور مقتدر پیشہ ورانہ صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اغوا ہونے والے دو معصوم بہن بھائیوں کو بحفاظت بازیاب کروا لیا ہے۔ موٹروے پولیس کے مقتدر ترجمان کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، بازیاب ہونے والے بچوں میں 12 سالہ علی رضا اور اس کی 8 سالہ بہن مریم شامل ہیں، جو گزشتہ دو روز یعنی 26 جون سے لاپتہ تھے اور ان کے اغوا کا باقاعدہ مقدمہ پہلے ہی متعلقہ تھانے میں درج تھا۔

تفصیلات کے مطابق، موٹروے پولیس کی پٹرولنگ ٹیم نے قومی شاہراہ پر ساہیوال کے مقتدر علاقے کے قریب ان دونوں بچوں کو سڑک کے کنارے شدید پریشانی کی حالت میں روتے ہوئے پایا۔ فرنٹ لائن افسران نے فوری تلافی کرتے ہوئے بچوں کو اپنی تزویراتی تحویل میں لیا، انہیں تسلی دی اور ضروری دیکھ بھال فراہم کی۔ موٹروے پولیس سنٹرل زون کے سیکٹر کمانڈر عاطف شہزاد کو واقعے کی فوری رپورٹ دی گئی، جن کی مقتدر ہدایات پر وائرلیس نیٹ ورک کے ذریعے مقامی پولیس سے فوری رابطہ قائم کیا گیا اور بچوں کے کوائف کا موازنہ کر کے ان کے اغوا شدہ ہونے کی تصدیق کی گئی۔

تمام ضروری قانونی اور محکمانہ کارروائی مکمل کرنے کے بعد، موٹروے پولیس نے دونوں معصوم بچوں کو باقاعدہ طور پر مقامی تفتیشی پولیس کے حوالے کر دیا تاکہ انہیں والدین تک منتقل کیا جا سکے۔ ترجمان نے بتایا کہ بچوں کی غمزدہ والدہ نے اپنے جگر گوشوں کی بحفاظت اور معجزاتی بازیابی پر موٹروے پولیس کے افسران کا روتے ہوئے والہانہ شکریہ ادا کیا اور ان کی فرض شناسی کو دعائیں دیں۔ موٹروے پولیس انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شاہراہوں پر شہریوں کے جان و مال کے مقتدر تحفظ کے ساتھ ساتھ کسی بھی آفت یا جرم کا شکار بننے والی انسانی جانوں کی حفاظت اور مدد کرنا ان کی اولین تزویراتی ترجیح ہے۔

پاک بحرین سفارتی روابط: نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کی بحرین کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی سے ٹیلیفونک گفتگو، ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ کے بعد خطے کی صورتحال پر تبادلہ

محمود احمد june 28,2026

اسلام آباد (سفارتی و قومی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور بحرین کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی کے مابین ایک اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔ وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے تزویراتی اہمیت کی حامل “اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” پر دستخط کے بعد خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال اور سفارتی پیش رفت پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔

بحرین کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے گفتگو کے دوران نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہونے کے تاریخی سنگِ میل پر دلی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے علاقائی تنازعات کے حل اور باہمی مفاہمت کے حصول میں پاکستان کے تعمیری و کلیدی کردار کی تعریف کرتے ہوئے پختہ امید ظاہر کی کہ یہ بڑی پیش رفت خطے میں پائیدار امن، سلامتی اور پائیدار استحکام کے قیام میں انتہائی معاون ثابت ہوگی۔ بحرینی وزیرِ خارجہ نے مزید کہا کہ وہ بہت جلد پاکستان کا باقاعدہ دورہ کریں گے تاکہ خطے میں جنگ بندی کے کامیاب حصول کے لیے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف، نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی اسٹاف و کمانڈر ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی غیر معمولی اور انتھک کاوشوں پر ذاتی طور پر ان کا شکریہ ادا کر سکیں۔

نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے بحرینی ہم منصب کے تعریفی کلمات اور نیک جذبات پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے خطے سمیت دنیا بھر میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے اصولی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان ہمیشہ کی طرح خطے کے نازک مسائل کو مکالمے اور فعال سفارت کاری کے ذریعے پرامن طور پر حل کرنے کی پالیسی پر گامزن رہے گا اور اس ضمن میں برادر اسلامی ممالک کے ساتھ مل کر تعمیری کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

کراچی میں رینجرز کیمپ پر بھارتی پراکسی ‘جماعت الاحرار’ کا بزدلانہ حملہ ناکام: 3 خوارج جہنم واصل، افغان باشندہ زخمی حالت میں گرفتار، وطن کے 3 سپوتوں کی شہادت

منصور احمد june 28,2026

راولپنڈی/کراچی (عسکری و دفاعی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

کراچی میں پاکستان رینجرز (سندھ) کے کیمپ پر بھارتی انٹیلیجنس ایجنسیوں کی پراکسی تنظیم ‘جماعت الاحرار’ سے تعلق رکھنے والے خوارج دہشت گردوں کا ایک اور بزدلانہ حملہ رینجرز کے دستوں نے فوری اور پرعزم جوابی کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ مقتدر پریس ریلیز کے مطابق، یہ افسوسناک واقعہ 27 جون 2026ء کو پیش آیا جب خودکش حملے کی نیت سے آنے والے دہشت گردوں نے رینجرز کیمپ کے مین گیٹ پر زوردار دھماکہ کیا اور پھر اندرونی حفاظتی حصار کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کی، تاہم وہاں موجود الرٹ فورس نے اپنی جانوں پر کھیل کر ان کے مذموم عزائم کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا۔

آئی ایس پی آر نے تفصیلی حقائق شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ فیلڈ میں موجود فورس کی دلیرانہ کارروائی کے نتیجے میں 3 بدنامِ زمانہ خوارج موقع پر ہی جہنم واصل کر دیے گئے، جبکہ ان کا ایک مقتدر ساتھی جو کہ افغان شہری ہے، شدید زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ فائرنگ کے اس شدید تبادلے اور دھماکے کے دوران دھرتی کے 3 بہادر بیٹوں نے فرض کی راہ میں لازوال قربانی دیتے ہوئے شہادت کا عظیم رتبہ پایا، جبکہ 4 جوان شدید زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق، کراچی کے اس مخصوص علاقے میں کسی بھی دوسرے ہندوستانی اسپانسرڈ خارجی یا ان کے ممکنہ سہولت کاروں کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے ہائی پروفائل سرچ اور تلاشی کی کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔

عسکری ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور تمام قانون نافذ کرنے والے مقتدر اداروں کے تزویراتی وژن ’’عزمِ استحکام‘‘ کے تحت جاری انسدادِ دہشت گردی کی قومی مہم ملک سے غیر ملکی اسپانسرڈ اور پڑوسی ممالک سے حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پوری رفتار سے جاری رہے گی۔ پریس ریلیز میں اس مقتدر عزم کا اعادہ بھی کیا گیا ہے کہ پاکستان اپنے معصوم جوانوں کی شہادت کا بدلہ لینے کے لیے اس بزدلانہ حملے کے پسِ پردہ ماسٹر مائنڈز اور مرتکب افراد کے خلاف سخت ترین انتقامی کارروائیاں کرے گا۔ چیف آف آرمی اسٹاف اور کمانڈر ڈیفنس فورسز نے بہادر اور غازی فوجیوں کے سوگوار اہل خانہ سے گہری تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ لازوال قربانیاں ہر قیمت پر اپنی مقتدر قوم کی حفاظت کے لیے ہمارے اٹل عزم کو مزید مضبوط اور ناقابلِ تسخیر بناتی ہیں۔

پاک چین اقتصادی شراکت داری میں تاریخی سنگِ میل: چینی سرمایہ کاری سے قائم کمپنی ‘سروس لانگ مارچ ٹائرز’ کی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پہلی لسٹنگ، نجی شعبے کی تاریخ کا سب سے بڑا آئی پی او

کاشف عباسی ,june 28,026۔

اسلام آباد (اقتصادی و تجارتی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

پاکستان اور چین کے درمیان کیپیٹل مارکیٹ تعاون میں ایک تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت دونوں برادر ممالک کی کیپیٹل مارکیٹس میں براہِ راست روابط بڑھنے سے دوطرفہ معاشی و تزویراتی شراکت داری مزید مضبوط اور پائیدار بنیادوں پر استوار ہو گئی ہے۔ اس سلسلے میں پاک-چین مشترکہ ٹائر کمپنی “سروس لانگ مارچ ٹائرز” نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اپنی تاریخی لسٹنگ کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، جسے ملکی مالیاتی تاریخ میں ایک مقتدر موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔

سروس لانگ مارچ ٹائرز دراصل پاکستان کے معروف ’’سروسز گروپ‘‘ اور چین کی مقتدر ’’چاؤیانگ لانگ مارچ ٹائر کمپنی‘‘ کا ایک مشترکہ تزویراتی منصوبہ ہے۔ یہ پاکستان کی مالیاتی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ چینی سرمایہ کاری اور اشتراک سے قائم کسی صنعتی کمپنی نے پاکستانی اسٹاک مارکیٹ میں اپنی باقاعدہ عوامی لسٹنگ کی ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان مالیاتی اور کارپوریٹ تعاون میں ایک مقتدر سنگِ میل ہے۔ کمپنی نے اس پبلک لسٹنگ کے ذریعے مارکیٹ سے ریکارڈ 28 ملین امریکی ڈالر حاصل کیے ہیں، جو پاکستان کے نجی شعبے کی تاریخ کا سب سے بڑا انیشل پبلک آفرنگ ثابت ہوا ہے۔ اس بھاری کثیر الجہتی سرمایہ کاری سے ملک میں مقامی سطح پر ٹائر سازی کی صنعتی صلاحیت میں گراں قدر اضافہ ہوگا، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ بچانے اور درآمدات پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی بلکہ ملکی برآمدات کو بھی بھرپور فروغ حاصل ہوگا۔

اس مقتدر تزویراتی کامیابی کے بعد دونوں ممالک کی مالیاتی انتظامیہ نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ کیپیٹل مارکیٹ کے دائرہ کار کو مزید وسعت دیں گے۔ اس سلسلے میں پاکستان اور چین ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز کی بنیاد پر مارکیٹ انفراسٹرکچر کو جدید بنانے اور مشترکہ سرمایہ کاری کی نئی مصنوعات، بالخصوص “اسلامی فنانس” کے شعبے میں تعاون کو مقتدر خطوط پر آگے بڑھائیں گے۔ معاشی ماہرین اور تجارتی حلقوں نے اس پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اس نوعیت کی لسٹنگ دونوں ممالک کے درمیان طویل المدتی سرمایہ کاری، صنعتی ترقی اور مالیاتی تعاون کے روشن مستقبل کی عکاس ہے، جو آنے والے دنوں میں مزید چینی کمپنیوں کو پاکستانی مارکیٹ کا رخ کرنے کی مقتدر ترغیب دے گی۔

قومی کھیل کی بحالی کے لیے پی ایچ ایف کا بڑا فیصلہ: ایف آئی ایچ پرو لیگ میں ناقص کارکردگی پر شدید مایوسی کا اظہار، کھلاڑیوں، سلیکٹرز اور انتظامیہ کے لیے ‘زیرو ٹالرینس’ اور سخت احتساب کی پالیسی نافذ

محمود احمد june 28,2026

لاہور (کھیل رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) نے ایف آئی ایچ پرو لیگ کے آخری مرحلے میں قومی مینز ہاکی ٹیم کی مایوس کن کارکردگی اور پوائنٹس ٹیبل پر سب سے آخری نمبر پر آنے پر شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے ملکی ہاکی کے پورے ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے مقتدر اور انقلابی اقدامات کا اعلان کر دیا ہے۔ ترجمان پی ایچ ایف کی جانب سے جاری کردہ ایک اہم ترین تزویراتی اور پالیسی بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ حالیہ نتائج ٹیم کی جسمانی فٹنس، جدید کھیل کی سمجھ بوجھ اور تزویراتی حکمتِ عملی کی شدید کمی کو ظاہر کرتے ہیں، جس کے بعد اب کھلاڑیوں، انتظامیہ اور سلیکٹرز کے لیے ‘زیرو ٹالرینس’ اور کڑے احتساب کی سخت ترین پالیسی نافذ العمل کر دی گئی ہے۔

فیڈریشن کے صدر محی الدین احمد وانی نے اپنے مقتدر بیان میں حقیقتِ حال کو سامنے لاتے ہوئے کہا کہ موجودہ مینجمنٹ نے محض چند ماہ قبل ہی فیڈریشن کا چارج سنبھالا تھا، جب کہ پرو لیگ کے پہلے دو مراحل گزشتہ برس کھیلے جا چکے تھے۔ نئی انتظامیہ نے آتے ہی تمام تر انتظامی اور لاجسٹک مسائل کو ہنگامی بنیادوں پر حل کر کے ٹیم کی پرو لیگ کے آخری مرحلے میں شرکت کو یقینی بنایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ چیلنجز کے باوجود اسی اسکواڈ نے حال ہی میں ایف آئی ایچ ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کر کے اپنی بنیادی صلاحیتوں کو ثابت کیا ہے۔ اس کے علاوہ، پاکستان کے جونیئر سیٹ اپ کی کارکردگی بھی نمایاں رہی ہے، جہاں انڈر-18 قومی ہاکی ٹیم نے جاپان میں شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے برانز میڈل (تیسری پوزیشن) اپنے نام کر کے ملک کا نام روشن کیا۔

صدر پی ایچ ایف نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ اب وقتی حل یا عارضی فیصلوں کا وقت ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا ہے۔ ہاکی کی کھوئی ہوئی عالمی ساکھ بحال کرنے کے لیے 3 سے 4 سالہ جامع اسٹریٹجک پلان نافذ کیا جا رہا ہے، جس کے تحت اب سے قومی ٹیم میں سلیکشن اور سینٹرل کانٹریکٹس کو خالصتاً کارکردگی، فٹنس اور ڈسپلن کے سخت ترین معیار سے جوڑ دیا گیا ہے اور غیر معیاری فٹنس یا نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ آسٹریلیا، ہالینڈ (ڈچ) اور جرمنی جیسے ہاکی کے مقتدر مضبوط گڑھ سے تعلق رکھنے والے عالمی معیار کے بین الاقوامی کوچز اور ہائی پرفارمنس فٹنس ٹرینرز پر مشتمل پینل کو طویل المدتی بنیادوں پر پاکستان لایا جا رہا ہے تاکہ وہ ہمارے جونیئر اور سینئر سیٹ اپ کو جدید سائنسی اصولوں پر تیار کر سکیں۔

صدر محی الدین احمد وانی نے اپنے مقتدر عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اس چار سالہ تزویراتی پلان کے تحت مردوں کے ساتھ ساتھ گرلز ہاکی کی ترقی پر بھی برابر مالی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ ملک بھر میں خواتین ایتھلیٹس کے لیے مخصوص جدید ٹریننگ کیمپس، لوکلائزڈ پاتھ ویز اور بین الاقوامی معیار کی کوچنگ کا انتظام کیا جائے گا تاکہ عالمی سطح کے لیے خواتین کا مضبوط اور مقتدر ٹیلنٹ تیار کیا جا سکے۔ ملکی شائقینِ ہاکی کے لیے ایک اور بڑی خوشخبری کا اعلان کرتے ہوئے صدر پی ایچ ایف نے بتایا کہ رواں سال جولائی میں جنوبی کوریا کی قومی ہاکی ٹیم ایک تاریخی دوطرفہ سیریز کے لیے پاکستان کا دورہ کرے گی، جس کے بعد ستمبر میں پاکستان ٹیم جنوبی کوریا کا جوابی دورہ کرے گی اور وہاں سے قومی ٹیم براہِ راست اپنی ایشین گیمز مہم کا آغاز کرے گی۔ انہوں نے سچائی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ عالمی ہاکی میں اپنا کھویا ہوا مقام واپس حاصل کرنے کے لیے وقت اور صبر درکار ہے، اور پی ایچ ایف اس 4 سالہ سائیکل کا بھرپور فائدہ اٹھا کر آنے والی نسلوں کے لیے ایک پائیدار، شفاف اور ناقابلِ شکست نظام وضع کرے گی۔

پاکستان فٹبال فیڈریشن کا بڑا فیصلہ: عدیل رزکی یکم جولائی سے پی ایف ایف کے نئے ٹیکنیکل ڈائریکٹر مقرر، ملک میں فٹبال کی طویل المدتی ترقی کی حکمتِ عملی تیار کی جائے گی

محمود احمد june 27,2026

اسلام آباد (کھیل رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 27 جون 2026ء

پاکستان فٹبال فیڈریشن (پی ایف ایف) نے ملک میں فٹبال کے تکنیکی معیار کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور کھلاڑیوں کی استعداد کار کو بہتر بنانے کے لیے عدیل رزکی کو باقاعدہ طور پر نیا ٹیکنیکل ڈائریکٹر مقرر کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جو یکم جولائی سے اپنے مقتدر عہدے کا چارج سنبھالیں گے۔ پاکستان فٹبال فیڈریشن کی جانب سے جاری کردہ آفیشل اعلامیے کے مطابق، عدیل رزکی ملکی سطح پر فٹبال کے تمام تر تکنیکی ترقیاتی پروگراموں کی فرنٹ لائن سے قیادت کریں گے۔

عدیل رزکی فٹبال کی دنیا کا ایک مقتدر نام اور یوئیفا اے لائسنس ہولڈر ہیں، جو اس سے قبل پاکستان ویمنز نیشنل فٹبال ٹیم کے ہیڈ کوچ کی حیثیت سے گراں قدر خدمات سرانجام دے چکے ہیں، جبکہ حال ہی میں انہوں نے مالدیپ میں منعقدہ ڈائمنڈ جوبلی انٹرنیشنل فٹبال ٹورنامنٹ میں پاکستان مینز نیشنل ٹیم کے اسسٹنٹ کوچ کے طور پر بھی خدمات انجام دیں جہاں قومی ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹائٹل اپنے نام کیا۔ وہ سال 2019ء کے بعد پی ایف ایف کے پہلے مستقل ٹیکنیکل ڈائریکٹر ہوں گے۔ اپنی اس نئی اور مقتدر ذمہ داری کے تحت وہ گراس روٹ فٹبال، ویمنز کرکٹ کی طرز پر ویمنز فٹبال، یوتھ ڈویلپمنٹ، کوچز کی جدید ایجوکیشن اور کھلاڑیوں کی طویل المدتی ترقی کے لیے تزویراتی حکمتِ عملی مرتب کرنے کے ساتھ ساتھ کوچنگ اور تکنیکی امور پر پی ایف ایف کی ایگزیکٹو کمیٹی کو بھی اہم مشاورت فراہم کریں گے۔

پی ایف ایف کے مقتدر صدر سید محسن گیلانی نے اس تقرری پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی فٹبال فیڈریشن کی بنیاد اس کا ٹیکنیکل ڈویلپمنٹ ونگ ہوتا ہے اور ٹیکنیکل ڈائریکٹر اس پورے تانے بانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ عدیل رزکی کی تقرری پاکستان میں فٹبال کی مقتدر ترقی کے ایک بالکل نئے اور جدید مرحلے کا آغاز ثابت ہوگی۔ دوسری جانب، اپنی تقرری پر گہرے فخر کا اظہار کرتے ہوئے عدیل رزکی نے صدر محسن گیلانی کے اعتماد پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ پاکستان میں ایک پائیدار، مربوط اور موثر فٹبال نظام کے قیام کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز، کلبوں اور اکیڈمیوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس اہم ترین تزویراتی منصب پر مکمل توجہ مرکوز کرنے کے لیے وہ ویمنز نیشنل ٹیم کے ہیڈ کوچ اور پی ایف ایف کانگریس کی رکنیت سے دستبردار ہو جائیں گے تاکہ ملکی فٹبال کے روشن مستقبل کے مشن کو پوری یکسوئی سے آگے بڑھایا جا سکے۔

بلوچستان زلزلہ: وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا موسیٰ خیل میں جانی و مالی نقصانات پر گہرے دکھ کا اظہار، این ڈی ایم اے اور صوبائی حکومت کو فوری ریلیف اور ریسکیو آپریشن تیز کرنے کی ہدایت

کاشف عباسی ,june 27,2026

اسلام آباد (قومی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 27 جون 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل اور گردونواح میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر گہرے دکھ، افسوس اور مقتدر ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور حکومتِ بلوچستان کو متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف سرگرمیاں ہنگامی بنیادوں پر تیز کرنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔ وزیرِ اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، وزیرِ اعظم نے تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے اور زلزلہ متاثرہ خاندانوں کو فوری طور پر ہر ممکن امداد فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے زلزلے کے مرکز اور شدید متاثرہ علاقے “کنگری” میں زخمی ہونے والے تمام افراد کو فی الفور بہترین اور مقتدر طبی سہولیات فراہم کرنے کی خصوصی ہدایت کی ہے اور زخمیوں کی جلد و کامل صحتیابی کے لیے دعا بھی کی ہے۔ انہوں نے انتظامیہ کو پابند کیا ہے کہ ملبے تلے دبے افراد یا زخمیوں کو اسپتالوں تک منتقل کرنے کے عمل میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔ اس کے ساتھ ہی وزیرِ اعظم نے زلزلے کے باعث گرنے والے یا جزوی طور پر متاثرہ گھروں کے مکینوں کو فوری طور پر عارضی پناہ گاہیں، راشن اور خیمے فراہم کرنے کے احکامات صادر کیے ہیں۔

اپنے مقتدر پیغام میں وزیرِ اعظم نے این ڈی ایم اے کے حکام کو واضح گائیڈ لائنز دیں کہ وہ موسیٰ خیل کے دور افتادہ علاقوں میں جاری ریسکیو و ریلیف آپریشن میں بلوچستان کی صوبائی حکومت اور مقامی انتظامیہ کی بھرپور تزویراتی معاونت کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وفاقی اور صوبائی اداروں کا مشترکہ اور مؤثر ردِعمل ہی متاثرین کی تکالیف کو جلد از جلد کم کر سکتا ہے، لہٰذا ریلیف کے سامان کی ترسیل میں کسی قسم کی تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

عالمی فورم پر پاکستان کا اہم موقف: سوڈان میں شہریوں پر حملوں کی شدید مذمت، شہریوں کے فوری تحفظ اور سوڈانی قیادت میں سیاسی عمل پر زور

محمود احمد june 27,2026

اقوامِ متحدہ/نیویارک (بین الاقوامی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 27 جون 2026ء

پاکستان نے سوڈان میں جاری شدید خانہ جنگی پر عالمی فورم پر اپنا واضح تزویراتی موقف پیش کرتے ہوئے ریپڈ سپورٹ فورسز کی جانب سے نہتے شہریوں اور شہری تنصیبات پر کیے جانے والے حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے اور بڑے پیمانے پر انسانی مظالم کے فوری خطرے سے خبردار کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں سوڈان کی صورتحال پر منعقدہ اہم اجلاس سے پاکستان کا مقتدر قومی بیان دیتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے بگڑتی ہوئی سلامتی اور مقتدر انسانی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ تین برس سے زائد عرصے سے جاری اس بھیانک تنازعے کا سب سے زیادہ خمیازہ عام شہریوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اسکولوں، ہسپتالوں، بازاروں اور عبادت گاہوں جیسی شہری زندگی کے لیے ناگزیر تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے خاص طور پر “الابیض” کی صورتحال کو انتہائی نازک قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ریپڈ سپورٹ فورسز کی بڑی تعداد میں عسکری کمک، زمینی حملے کے خدشات، اور دارفور سمیت سوڈان کے دیگر علاقوں میں اندھا دھند قتل، نسلی بنیادوں پر تشدد، جنسی جرائم اور جبری نقل مکانی جیسے سنگین مظالم کا ریکارڈ شدید تشویش کا باعث ہے، جو بڑے پیمانے پر انسانی المیے کی نشاندہی کرتا ہے۔ انہوں نے آر ایس ایف پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر الابیض پر حملے بند کرے، بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری کرے اور ڈرونز و جدید ہتھیاروں کا استعمال روکے جس سے شہری ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے پورے سوڈان میں ضرورت مند افراد تک محفوظ اور بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ امدادی کارکنوں اور سامان پر حملے کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہیں۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے پاکستان کے اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے اصرار کیا کہ سوڈان کی خودمختاری، وحدت، علاقائی سالمیت اور قومی اداروں کا تحفظ ہر صورت ناگزیر ہے۔ انہوں نے سلامتی کونسل اور بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ ایسے کسی بھی اقدام یا بیان سے گریز کریں جو سوڈان کے قومی اداروں کو کمزور کرے یا متوازی عسکری یا سیاسی ڈھانچوں کے قیام کی راہ ہموار کرے، کیونکہ ایسے اقدامات سے مسلح گروہوں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور تنازع طول پکڑے گا۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ سوڈان کے تنازعے کا کوئی فوجی حل موجود نہیں اور چونکہ سوڈان کے امن و استحکام کا افریقی اور عرب خطوں کی سلامتی سے گہرا تعلق ہے، اس لیے یہاں استحکام کی بحالی عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ذاتی نمائندے کی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے عزم دہرایا کہ پاکستان سوڈان کو دوبارہ آئینی نظام کی جانب واپس لانے کے لیے اقوامِ متحدہ، افریقی یونین، عرب لیگ اور دیگر علاقائی شراکت داروں کی مقتدر کوششوں کی اخلاقی و سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔

انسانی اعضاء کی غیر قانونی اسمگلنگ کا بڑا نیٹ ورک بے نقاب: 3 غیر ملکیوں سمیت 5 ملزمان عدالت میں پیش، 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے

منصور احمد june 26,2026

اسلام آباد (کرائم رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی اور ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی نے ایک مشترکہ اور بڑی تزویراتی کارروائی کے دوران انسانی اعضاء کی مبینہ اسمگلنگ میں ملوث ایک بین الاقوامی منظم گروہ کو بے نقاب کر دیا ہے۔ نیٹ ورک کے خلاف درج مقدمے کی ابتدائی کارروائی کے طور پر، تین غیر ملکی شہریوں اور دو پاکستانی ملزمان کو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت کے سامنے پیش کیا گیا، جہاں معزز عدالت نے ملزمان کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں مزید تفتیش کے لیے ایف آئی اے کے مقتدر حکام کے حوالے کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، کیس کی مقتدر سماعت کے دوران ملزمان کو ڈیوٹی جج میاں اظہر ندیم کے سامنے پیش کیا گیا۔ ان ملزمان کو ایف آئی اے اور ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی کی ٹیموں نے ایک خفیہ اطلاع پر اسلام آباد کے مقتدر سیکٹر ایف سیون میں مشترکہ چھاپہ مار کارروائی کے دوران حراست میں لیا تھا۔ تفتیش کاروں نے عدالت کو بتایا کہ گرفتار افراد میں تین غیر ملکی اور دو مقامی سہولت کار شامل ہیں۔ حکام کے مطابق، چھاپے کے دوران جائے وقوعہ سے مختلف شکلوں میں محفوظ کی گئی انسانی پلاسنٹا (آنول) کی ایک بہت بڑی مقدار برآمد ہوئی ہے، جس میں تازہ، کیمیکل زدہ، خشک اور باقاعدہ پروسیس شدہ مواد شامل تھا۔ حکام نے برآمد شدہ تمام اسٹاک کو مزید لیبارٹری معائنے اور قانونی شواہد کے لیے اپنی مقتدر تحویل میں لے لیا ہے۔

ایف آئی اے کے تفتیشی افسر نے عدالت کو مقتدر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ گروہ مبینہ طور پر پشاور، راولپنڈی اور لاہور کے مختلف سرکاری و نجی اسپتالوں اور میٹرنٹی ہومز سے غیر قانونی طور پر انسانی پلاسنٹا حاصل کرنے کے مکروہ دھندے میں ملوث تھا۔ تفتیش کاروں کا پختہ یقین ہے کہ یہ قیمتی بائیولوجیکل مواد ایک باقاعدہ منظم نیٹ ورک کے ذریعے اکٹھا کیا جاتا تھا اور بعد میں اسے خفیہ مقامات پر پروسیس کر کے بین الاقوامی مارکیٹ میں برآمدگی کے لیے تیار کیا جاتا تھا۔ حکام نے عدالت کے سامنے سنگین الزام عائد کیا کہ ملزمان اس پروسیس شدہ انسانی پلاسنٹا کے کارگو کو کسٹم دستاویزات میں جعلی طور پر “بھیڑ کے اعضاء” قرار دے کر بیرونِ ملک اسمگل کر رہے تھے۔

ایف آئی اے کی جانب سے عدالت سے استدعا کی گئی کہ اس گھناؤنے جرم کے پسِ پردہ موجود دیگر مقامی سہولت کاروں، اسپتال انتظامیہ کے ملوث عناصر کی نشاندہی اور بیرونِ ملک برآمدگی کے اصل مطلوبہ مقامات کا سراغ لگانے کے لیے ملزمان سے تفصیلی پوچھ گچھ ناگزیر ہے۔ عدالت نے ایف آئی اے کی درخواست کا مقتدر جائزہ لینے کے بعد پانچوں ملزمان کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔ عدالت نے تفتیشی ٹیم کو سخت ہدایت جاری کی کہ ریمانڈ کی مدت مکمل ہونے کے بعد تمام ملزمان کو ٹھوس پیش رفت رپورٹ کے ہمراہ دوبارہ عدالت کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ آئندہ کی مقتدر قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

قومی اتحاد کی فتح: قومی پیغامِ امن کمیٹی کا عاشورۂ محرم کے پرامن اختتام پر حکومت، مقتدر علماء اور سیکیورٹی اداروں کو شاندار خراجِ تحسین

کاشف عباسی ,june 26,2026

اسلام آباد (مذہبی و قومی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

قومی پیغامِ امن کمیٹی نے عاشورۂ محرم کے موقع پر ملک بھر میں مثالی امن و امان، رواداری اور بین المسالک ہم آہنگی کی فضا کو برقرار رکھنے پر تمام مکاتبِ فکر کے جید علماء، مشائخ، ذاکرین، مجالس کے منتظمین، پاک افواج، قانون نافذ کرنے والے مقتدر اداروں اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ کمیٹی کے مقتدر رہنماؤں نے کہا ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشترکہ تزویراتی کاوشوں کے نتیجے میں محرم الحرام کے حساس ایام پرامن اور باہمی احترام کے ساتھ اختتام پذیر ہوئے، جو قومی یکجہتی کا عملی مظہر ہے۔

وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے قومی پیغامِ امن کمیٹی اور چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی سمیت پیر سید نقیب الرحمن، مفتی عبد الرحیم، مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، مفتی کریم خان، ڈاکٹر آصف میر، علامہ عارف علوی، علامہ محمد حسین اکبر، علامہ توقیر عباس، مولانا عادل عطاری، حافظ محمد امجد، مولانا رمضان سیالوی، مولانا سمیع اللہ آغا، مولانا نعمان نعیم، حافظ مقبول احمد اور مولانا زاہد منصور نے ایک مشترکہ اور مقتدر بیان جاری کیا ہے۔ اس بیان میں پاک فوج اور چاروں صوبوں بشمول گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کی پولیس اور انتظامیہ کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان کی انتھک کوششیں قابلِ ستائش ہیں، اور کمیٹی انتہا پسندی و فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے حکومت اور سلامتی کے اداروں کے ساتھ اپنا مقتدر کردار جاری رکھے گی۔

اپنے خصوصی پیغام میں حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور تمام مکاتبِ فکر کی ذمہ دارانہ قیادت کی بدولت یہ ایام محبت اور امن کے ماحول میں مکمل ہوئے۔ انہوں نے تزویراتی نقطہ نظر سے اہم انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ خطے کی حالیہ صورتحال اور ایران اسرائیل تنازع کے تناظر میں دشمن عناصر نے پاکستان میں فرقہ وارانہ انتشار پیدا کرنے کی مقتدر کوشش کی تھی، تاہم علماء، مذہبی جماعتوں، حکومت اور سیکیورٹی اداروں کی مشترکہ حکمتِ عملی نے ان مذموم عزائم کو ناکام بنا دیا۔ انہوں نے اس کامیابی کو وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایات اور آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کے وژن کا ثمر قرار دیا۔

حافظ طاہر محمود اشرفی نے ضابطۂ اخلاق “پیغامِ پاکستان” کی خلاف ورزی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ ملک بھر سے موصول ہونے والی شکایات کی تعداد مجموعی سرگرمیوں کے مقابلے میں ایک فیصد سے بھی کم ہے، جن پر قانون کے مطابق مقتدر کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ مقتدر جذبۂ اخوت پورے سال برقرار رہے گا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور دیگر وزراء کا خصوصی شکریہ ادا کیا جن کے مؤثر تعاون نے ثابت کر دیا کہ پاکستان کے تمام مسالک قومی سلامتی اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے ایک پیج پر متحد ہیں۔

صرف تشدد کا خاتمہ پائیدار امن کی ضمانت نہیں ہوتا، پائیدار امن باہر سے مسلط نہیں کیا جا سکتا بلکہ اسے مقامی قیادت کی سربراہی میں ہی تعمیر کرنا ہوتا ہے، اقوامِ متحدہ کے امن سازی کمیشن کے سالانہ اجلاس میں سفیر عثمان جدون کا کثیرالجہتی عزم اور پاکستان کا قومی بیان،

محمود احمد june 26,2026

اقوامِ متحدہ/نیویارک (بین الاقوامی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

پاکستان نے عالمی سطح پر امن و امان کے قیام کے لیے اپنا تزویراتی موقف پیش کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دنیا بھر میں تنازعات کی روک تھام، امن قائم کرنا، امن برقرار رکھنا، امن سازی اور معاشی و سماجی ترقی ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں بلکہ پائیدار امن اور خوشحالی کے لیے ایک جامع اور باہم مربوط عمل کے لازمی اجزاء ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے امن سازی کمیشن کے بیسویں سالانہ اجلاس، جس کا مقتدر موضوع “امن سازی @20: جدت، شمولیت اور مؤثر نتائج کے لیے شراکت داریاں” تھا، میں پاکستان کا مقتدر قومی بیان پیش کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے بین الاقوامی مندوبین کو بتایا کہ عالمی تجربہ یہ ثابت کرتا ہے کہ صرف تشدد کا خاتمہ ہی مستقل اور پائیدار امن کی ضمانت نہیں ہوتا۔

نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے تنازعات کے بعد کی مقتدر صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امن اسی وقت دیرپا اور مستحکم ثابت ہو سکتا ہے جب متعلقہ معاشرے اس کے عملی اور معاشی ثمرات خود محسوس کریں، جب ریاستی اداروں پر عام عوام کا اعتماد بحال ہو، سماجی اعتماد فروغ پائے، روزگار اور ترقی کے مواقع میں اضافہ ہو اور لوگوں کی روزمرہ زندگی میں مثبت تبدیلی نمایاں طور پر نظر آئے۔ انہوں نے اصرار کیا کہ پائیدار امن کے لیے مضبوط ریاستی اداروں، سماجی ہم آہنگی، تزویراتی اقتصادی مواقع اور بحالی کے ایک ایسے جامع عمل کی ضرورت ہے جس کی قیادت اور مکمل ملکیت خود متعلقہ ممالک اور وہاں کے مقامی شراکت داروں کے پاس ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ پائیدار امن کبھی بھی باہر سے مسلط نہیں کیا جا سکتا بلکہ اسے قومی قیادت کی سربراہی میں، بین الاقوامی برادری کے بھرپور تزویراتی تعاون کے ساتھ ہی تعمیر کرنا ہوتا ہے۔

سفیر عثمان جدون نے پاکستان کی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو امن سازی کے عمل کی بنیاد بننے والے کثیرالجہتی عزم کو درپیش بڑھتے ہوئے چیلنجز، خصوصاً مالی وسائل کی کمی اور معیاری و اصولی فریم ورک سے متعلق مسائل پر گہری تشویش ہے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے پیس بلڈنگ فنڈ کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا کہ یہ فنڈ سیاسی عزم کو زمینی سطح پر عملی نتائج میں تبدیل کرنے کا ایک نہایت اہم اور مقتدر ذریعہ ہے۔ اس فنڈ کی لچک، محرک کردار اور قومی ترجیحات کے مطابق فوری ردعمل کی صلاحیت اسے امن سازی کے وسیع تر بین الاقوامی ڈھانچے کا ایک ناگزیر جزو بناتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سن کر انتہائی حوصلہ افزائی ہوئی ہے کہ امن سازی کمیشن اور پیس بلڈنگ فنڈ سے مستفید ہونے والے ممالک نے خود گواہی دی ہے کہ اس فنڈ کی معاونت سے قائم شراکت داریوں نے مقامی آبادی کے لیے کس طرح مثبت اور بامعنی نتائج فراہم کیے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اپنے قیام کے بیس برس مکمل ہونے پر امن سازی کے اس نئے ڈھانچے کو اس بات پر نئے اعتماد کو فروغ دینا چاہیے کہ کثیرالجہتی تعاون آج کے دور میں بھی پائیدار امن کے حصول کا مؤثر ترین ذریعہ ہے۔

پاکستانی خواتین کے لیے تاریخی اعزاز: سلیمہ امتیاز ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں امپائرنگ کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون بن گئیں، اب تک 4 عالمی میچوں میں ذمہ داریاں نبھا چکیں

محمود احمد june 26,2026

اسلام آباد (کھیل رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

پاکستان کی مقتدر اور نامور امپائر سلیمہ امتیاز نے عالمی کرکٹ کی تاریخ میں ایک اور سنہری سنگِ میل عبور کرتے ہوئے آئی سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں امپائرنگ کے فرائض سرانجام دینے والی پہلی پاکستانی خاتون ہونے کا تاریخی اعزاز اپنے نام کر لیا ہے۔ انگلینڈ کی سرزمین پر جاری ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے مقتدر مقابلوں کے دوران سلیمہ امتیاز اپنی شاندار پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی بدولت اب تک چار ہائی پروفائل میچوں میں مختلف اہم ذمہ داریاں انتہائی کامیابی سے نبھا چکی ہیں، جس میں دو میچوں میں بطور آن فیلڈ امپائر، ایک میچ میں ٹیلی ویژن (تھرڈ) امپائر اور ایک مقابلے میں فورتھ امپائر کے مقتدر فرائض شامل ہیں۔

ورلڈ کپ کے اس بڑے تزویراتی اسٹیج پر ان کی بہترین کارکردگی کے باعث آئی سی سی نے ان کی آئندہ کی مقتدر ذمہ داریوں کا شیڈول بھی جاری کر دیا ہے۔ سلیمہ امتیاز ہفتہ کے روز لندن کے تاریخی اوول گراؤنڈ میں میزبان انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان ہونے والے سنسنی خیز میچ میں بطور ٹیلی ویژن امپائر اپنے فرائض ادا کریں گی، جبکہ اتوار کے روز دنیا کے معروف ترین لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں روایتی حریفوں بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلے جانے والے ہائی وولٹیج مقابلے میں فورتھ امپائر کی مقتدر کرسی سنبھالیں گی۔ واضح رہے کہ سلیمہ امتیاز ستمبر 2024ء میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے مقتدر انٹرنیشنل ڈیویلپمنٹ پینل میں شامل ہونے والی بھی پہلی پاکستانی خاتون بنی تھیں، جسے پاکستان میں خواتین کرکٹ آفیشلز کے لیے اب تک کا سب سے بڑا تزویراتی سنگِ میل تصور کیا جاتا ہے۔

اس تاریخی اور مقتدر کامیابی پر میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سلیمہ امتیاز نے کہا کہ آئی سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیسے بڑے عالمی ایونٹ میں بطور امپائر ڈیبیو کرنا ان کی ذات اور پورے پاکستان کے لیے ایک انتہائی بلند اور یادگار اعزاز ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان کا یہ مقتدر سفر پاکستان کی دیگر باصلاحیت خواتین اور نوجوان لڑکیوں کے لیے مشعلِ راہ بنے گا اور انہیں کھیل کے مختلف شعبوں بالخصوص امپائرنگ اور آفیشلز کی حیثیت سے عالمی سطح پر آگے بڑھنے کی بھرپور ترغیب دے گا۔ پاکستان کے مقتدر کرکٹ حلقوں، سابق کھلاڑیوں اور شائقینِ کرکٹ نے سلیمہ امتیاز کی اس بین الاقوامی کامیابی کو پاکستان کے لیے باعثِ فخر قرار دیتے ہوئے اسے عالمی کھیلوں کے افق پر پاکستانی خواتین کی بڑھتی ہوئی مقتدر نمائندگی کا ایک نہایت مثبت اور شاندار مظہر قرار دیا ہے۔

اسلام آباد، راولپنڈی، اٹک، چکوال اور جہلم سرکلز کے متعدد فیڈرز پر سپلائی معطل رہے گی؛ مقررہ وقت سے پہلے کام مکمل ہونے پر بجلی شیڈول سے قبل بھی بحال کی جا سکتی ہے، آئیسکو انتظامیہ کی معذرت،

منصور احمد june 26,2026

اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) نے ریجن کے مختلف اضلاع میں ضروری سالانہ سسٹم مینٹیننس، ڈویلپمنٹ ورکس اور جدید اے ایم آئی میٹرز کی تنصیب کے مقتدر کاموں کے باعث بجلی کی عارضی بندش کا تفصیلی شیڈول جاری کر دیا ہے۔ آئیسکو کے مقتدر ترجمان کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، کمپنی کے دائرہ اختیار میں آنے والے تمام بڑے سرکلز کے مخصوص فیڈرز اور گرڈ اسٹیشنز پر درج ذیل تزویراتی شیڈول کے مطابق بجلی کی سپلائی عارضی طور پر معطل رکھی جائے گی تاکہ تکنیکی ٹیمیں بغیر کسی تعطل کے کام سرانجام دے سکیں۔

مقتدر شیڈول کے مطابق ہفتہ 27 جون 2026ء کو راولپنڈی کینٹ سرکل میں صبح 6:00 بجے سے دن 10:00 بجے تک جاپان روڈ اور جھنڈالہ فیڈرز سے منسلک علاقوں کی بجلی بند رہے گی۔ اسی طرح جی ایس او سرکل میں صبح 8:00 بجے سے شام 4:00 بجے تک 132 کے وی نیو واہ تا پی او ایف لائن پر کام کیا جائے گا۔ مزید برآں، صبح 8:00 بجے سے شام 6:00 بجے تک 132 کے وی چکوال–بھگوال–تلہ گنگ لائن، 132 کے وی کہوٹہ سٹی–پلندری لائن، اور 132 کے وی نیو واہ–بہترموڑ لائن سمیت ان کے تمام مقتدر ملحقہ علاقوں میں بھی بجلی کی فراہمی مکمل طور پر معطل رہے گی۔

آئیسکو انتظامیہ نے اس مقتدر عارضی بندش کے باعث اپنے تمام معزز صارفین کو پہنچنے والی زحمت اور متبادل انتظامات کی ضرورت پر پیشگی معذرت کا اظہار کیا ہے۔ پریس ریلیز میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر تکنیکی ٹیموں نے ترقیاتی اور مرمتی کام مقررہ وقت سے پہلے کامیابی سے مکمل کر لیا، تو صارفین کی مقتدر سہولت کے لیے بجلی کی فراہمی شیڈول وقت سے پہلے بھی بحال کی جا سکتی ہے، لہٰذا صارفین متبادل ضروریات کے لیے وقت کا مقتدر تعین پہلے سے کر لیں۔