پاکستان اور بیلاروس کے درمیان تجارتی اور صنعتی تعاون کے فروغ کے لیے 9 ویں مشترکہ وزارتی کمیشن کا اجلاس: خدمات کے شعبے میں تجارتی معاہدے اور میڈیا شراکت داری پر اتفاق

کاشف عباسی , August 12,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اگست 2026ء

پاکستان اور بیلاروس نے دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری، صنعتی تعاون، زراعت، سائنس و ٹیکنالوجی اور افرادی قوت کے شعبوں میں باہمی شراکت داری کو مزید وسعت دینے پر مکمل اتفاق کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں دونوں ممالک نے خدمات کے شعبے میں دوطرفہ تجارتی معاہدے کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے ایک مشترکہ فزیبلٹی سٹڈی گروپ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ دونوں ملکوں کے قومی میڈیا اداروں کے درمیان نشریاتی تعاون اور مواد کے تبادلے کے لیے ایک اہم مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے ہیں۔

وزارت اقتصادی امور ڈویژن سے جاری اعلامیے کے مطابق پاکستان اور بیلاروس کے درمیان تجارت اور اقتصادی تعاون کے مشترکہ وزارتی کمیشن کا دو روزہ 9 واں اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس کی مشترکہ صدارت وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور بیلاروس کے وزیر توانائی ڈزیانس ماروز نے کی۔ اجلاس میں دونوں جانب سے تجارت اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے اور بدلتے ہوئے عالمی حالات میں نئے تجارتی مواقع تلاش کرنے پر زور دیا گیا۔ اس موقع پر مشترکہ وزارتی کمیشن کے متفقہ پروٹوکول پر دستخط کیے گئے جبکہ پاکستان ٹیلی ویژن اور بیلاروس کے نیشنل سٹیٹ ٹیلی ویژن اینڈ ریڈیو کے درمیان باہمی تعاون کی یادداشت پر بھی دستخط عمل میں آئے۔

صنعتی اور زرعی شعبوں میں ٹیکنالوجی کی منتقلی اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے درمیان اشتراکِ عمل کو بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ زراعت کے شعبے میں سی فوڈ، پھلوں، بیجوں اور ڈیری پروڈکٹس کے لیے آن لائن بزنس ٹو بزنس اجلاسوں اور نمائشوں کے انعقاد پر فیصلہ ہوا۔ اس کے علاوہ سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں کوالٹی کنٹرول معیارات کو باہمی طور پر تسلیم کرنے کے طریقہ کار پر کام شروع کرنے کی تجویز دی گئی، جبکہ بیلاروس نے پانی کے تحفظ اور فضلے کے انتظام کی جدید ٹیکنالوجی میں تعاون کی پیشکش کی۔

پاکستانی جانب سے بیلاروس کی معیشت کے لیے ماہر اور غیر ماہر افرادی قوت کی منظم فراہمی کا طریقہ کار وضع کرنے کی آمادگی ظاہر کی گئی، جس سے پاکستانی نوجوانوں کے لیے بیرون ملک روزگار کے بہترین مواقع پیدا ہوں گے۔ دونوں ممالک کے چیئرمینوں نے اجلاس کے نتائج اور فیصلوں کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ اقدامات دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط کو ایک نئی بلندی پر لے جائیں گے۔

چین کے سابق وزیراعظم ژو رونگ جی کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار: آئرن برادر چین کے غم میں برابر کے شریک ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

منصور احمد, August 12,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اگست 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے چین کے سابق وزیراعظم ژو رونگ جی کے انتقال پر گہرے دکھ اور انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں پاکستان کا مخلص دوست اور عظیم رہنما قرار دیا ہے۔

بدھ کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے تعزیتی بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ سابق چینی وزیراعظم ژو رونگ جی کی رحلت کی خبر سن کر انہیں شدید صدمہ پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم نے چین کی ترقی اور پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کے فروغ میں ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا، وہ ایک عظیم مدبر، بصیرت افروز رہنما اور پاکستان کے بے لوث دوست تھے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے حکومتِ پاکستان اور تمام پاکستانی عوام کی جانب سے چینی صدر شی جن پنگ، وزیراعظم لی چیانگ، چین کے عوام اور مرحوم کے سوگوار خاندان سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دکھ اور غم کی اس گھڑی میں اپنے لازوال اور آزمودہ آئرن برادر چین کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے اور ان کے غم میں برابر کا شریک ہے۔

جی ایس پی پلس کا درجہ پاکستان کے لیے زبردست موقع، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی ترجیح ہے: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ

محمود احمد, August 12,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اگست 2026ء

وفاقی وزیر قانون، انصاف و انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ جی ایس پی پلس کا درجہ پاکستان کے لیے ایک زبردست اور اہم موقع ہے، پاکستان میں انسانی حقوق کے تحفظ اور قانون کی حکمرانی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے جبکہ اس سلسلے میں تمام ضروری قانونی و ادارہ جاتی اصلاحات پر کام تیزی سے جاری ہے۔

بدھ کے روز یورپی یونین کے سفیر رائمونڈاس کاروبلس سے وفد کے ہمراہ ہونے والی اہم ملاقات کے دوران وفاقی وزیر اعظم نذیر تارڑ نے ان خیالات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک اور سیکریٹری وزارت انسانی حقوق بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران پاکستان اور یورپی یونین کے باہمی تعلقات، جی ایس پی پلس اسٹیٹس، انسانی حقوق سے متعلق ترجیحات، قومی ایکشن پلان 2026ء پر عملدرآمد اور دیگر متعلقہ اداروں کی استعداد کار بڑھانے سے متعلق تفصیلی گفتگو کی گئی۔

وفاقی وزیر نے یورپی یونین کے وفد کو بچوں اور اقلیتوں کے حقوق اور تحفظ سے متعلق حکومتی اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ملک میں چائلڈ لیبر، کم عمری کی شادی اور اقلیتوں کے حقوق کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے، جبکہ اقلیتوں سے متعلق قومی کمیشن کو بھی جلد مکمل طور پر فعال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں پر تشدد، زیادتی کے کیسز اور صنفی امتیاز کے خاتمے کے لیے حکومت انتہائی سنجیدہ اور عملی اقدامات اٹھا رہی ہے۔

سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ مل کر جمہوری اقدار اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے پرعزم ہے اور جی ایس پی پلس کی ترجیحات پر مزید مؤثر پیش رفت کی جائے گی۔ اس موقع پر یورپی یونین کے سفیر رائمونڈاس کاروبلس نے انسانی حقوق کی شقوں پر عملدرآمد میں پاکستان کی پیش رفت کی تعریف کی جبکہ دونوں جانب سے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔

بانی پی ٹی آئی عمران خان کا جیل سے اکبر ایس بابر کو اہم پیغام: ناراض ارکان کو متحد کرنے کی خواہش اور اکبر ایس بابر کے گھر جانے کا اعلان

کاشف عباسی , August 12,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اگست 2026ء

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی جانب سے جیل سے پارٹی کے بانی رہنما اور دیرینہ ساتھی اکبر ایس بابر کو اہم پیغام بھیجے جانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ اکبر ایس بابر نے اس معاملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ عمران خان کے ایک مشترکہ دوست، جو خود بھی جیل میں ہیں، کے ذریعے یہ پیغام ان تک پہنچایا گیا ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اکبر ایس بابر نے انکشاف کیا کہ عمران خان نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ وہ جیل سے رہائی کے فوراً بعد سب سے پہلے اکبر ایس بابر کے گھر جائیں گے۔ اس کے علاوہ بانی پی ٹی آئی نے خواہش ظاہر کی ہے کہ پارٹی کے ابتدائی دور سے وابستہ، ناراض رہنماؤں اور کارکنوں کو دوبارہ ایک ہی سیاسی پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جائے۔ عمران خان نے اپنے ابتدائی ساتھیوں کو پارٹی کا حقیقی اثاثہ قرار دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ جدوجہد کے دور کے مخلص ارکان کی کمی ہمیشہ محسوس کی گئی اور اب ان تمام لوگوں کو دوبارہ قریب لانے کی شدید ضرورت ہے۔

عمران خان کا پیغام موصول ہونے کے بعد اکبر ایس بابر نے ناراض ارکان اور بانی رہنماؤں کو متحد کرنے کے لیے عملی کاوشیں شروع کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں پی ٹی آئی پنجاب کے سابق سینئر نائب صدر رانا سہیل کی سربراہی میں ایک چار رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، جس میں امین ذکی، فیصل پیرزادہ اور آصف احمد شامل ہیں۔ کمیٹی نے ان تمام ساتھیوں سے رابطہ مہم کا آغاز کر دیا ہے جو مختلف وجوہات کی بنا پر پارٹی سے دور یا ناراض ہو گئے تھے۔

اکبر ایس بابر کے مطابق عمران خان کے اس پیغام پر ناراض ارکان کا ردعمل انتہائی مثبت رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے ساتھ ان کے کبھی ذاتی نہیں بلکہ محض سیاسی اختلافات رہے ہیں اور اگر بانی پی ٹی آئی ان کے گھر آئیں گے تو وہ ان کا گرمجوشی سے استقبال کریں گے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ تمام بانی ارکان اور کارکنوں کو دوبارہ متحرک کرنے کے بعد اگلے ماہ لاہور میں ایک بڑا کنونشن منعقد کیا جائے گا تاکہ نظریاتی ساتھیوں کو دوبارہ ایک پیج پر لایا جا سکے۔

پاکستان کی 65 فیصد نوجوان آبادی قیمتی اثاثہ ہے: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا یوتھ ڈے پر نوجوانوں کو بااختیار بنانے کا عزم

کاشف عباسی , August 12,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اگست 2026ء

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے نوجوانوں کے عالمی دن کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان کی 65 فیصد نوجوان آبادی ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے اور انہیں جدید تعلیم و ہنر سے آراستہ کر کے عالمی سطح پر ان کا مثبت کردار یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پنجاب حکومت نوجوانوں کو درپیش تمام درپیش مسائل کے حل اور انہیں معاشی و سیاسی طور پر بااختیار بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔

وزیراعلیٰ نے اپنے پیغام میں کہا کہ اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد ملکی تعمیر و ترقی میں یوتھ کے تعمیری کردار کو اجاگر کرنا اور ان کی صحیح سمت میں سرپرستی کرنا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ملک و قوم سے محبت کو اپنا شعار بنائیں اور گالی گلوچ کی سیاست اور نشے جیسے زہر سے خود کو دور رکھتے ہوئے اپنی جسمانی اور ذہنی صحت پر توجہ دیں۔ مریم نواز شریف نے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار پنجاب حکومت نوجوانوں کے لیے ایک مضبوط سہارا بن کر سامنے آئی ہے۔

حکومتی کاوشوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایگریکلچر انٹرن شپ، لیپ ٹاپ سکیم، ای ٹیکسیز، آسان فنانس اور آسان کاروبار سکیموں میں نوجوانوں کو شامل کیا گیا ہے۔ پرواز کارڈ کے ذریعے ہنرمند اور غیر ہنرمند افراد کو بیرونِ ملک روزگار کے لیے بلاسود قرضے دیے جا رہے ہیں جس کے تحت پہلے ہی 10 ہزار ہنرمند نوجوان خلیجی ممالک میں روزگار حاصل کر چکے ہیں۔ مزید برآں، اپنے کاروبار کے قیام کے لیے 3 کروڑ روپے تک کے بلاسود قرضے اور نئے بزنس آئیڈیاز کی حوصلہ افزائی کے لیے انکیوبیشن سنٹرز بھی قائم کیے جا رہے ہیں۔

تعلیمی شعبے میں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب نے بتایا کہ اسکولوں اور کالجوں کے ہزاروں طلبہ کے لیے ہونہار سکالرشپ پروگرام جاری ہے جبکہ نصاب میں پہلی بار آئی ٹی، ای روزگار اور فری لانسنگ جیسے جدید مضامین شامل کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل اسکلز کی تربیت کے ساتھ فنی تربیتی اداروں کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔ مریم نواز نے نوجوانوں کو ہدایت کی کہ وہ صرف نوکری تلاش کرنے کے بجائے نوکری دینے والے بنیں اور اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے آگے بڑھیں، پنجاب حکومت ان کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔

پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے انگلینڈ میں وارم اپ میچ کے دورانیے میں کمی: چار روزہ میچ اب تین روز میں کھیلا جائے گا

محمود احمد, August 12,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اگست 2026ء

انگلینڈ کے دورے پر موجود پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے وارم اپ میچ کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کی باہمی رضامندی سے پریکٹس میچ کا دورانیہ چار دن سے کم کر کے تین دن کر دیا گیا ہے۔

کینٹ کرکٹ کے جاری کردہ بیان کے مطابق پاکستان اور پی سی سی سلیکٹ الیون کے درمیان یہ وارم اپ میچ اب 13 اگست سے دی کاؤنٹی گراؤنڈ، بیکنہم میں کھیلا جائے گا۔ ابتدائی شیڈول کے تحت یہ میچ چار روز پر محیط تھا تاہم دونوں کرکٹ بورڈز کی باہمی موافقت کے بعد اسے تین روز تک محدود کر دیا گیا ہے۔

میچ کے شیڈول میں اس تبدیلی کے بعد کینٹ کرکٹ نے شائقینِ کرکٹ کے ٹکٹوں سے متعلق تفصیلی ہدایت نامہ جاری کر دیا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جن شائقین نے 12 اگست کے کھیل کے لیے ٹکٹ خریدے تھے، ان کی تمام تر رقم مکمل طور پر واپس کر دی جائے گی، جبکہ 13، 14 اور 15 اگست کے لیے خریدے گئے پہلے سے تمام ٹکٹس برقرار رہیں گے اور گراؤنڈ میں داخلے کے لیے قابلِ قبول ہوں گے۔

یہ تین روزہ وارم اپ میچ انگلینڈ کے خلاف آنے والی اہم ٹیسٹ سیریز سے قبل قومی کرکٹ ٹیم کے لیے تیاریوں کا ایک سنہری اور حتمی موقع فراہم کرے گا۔ دورانیہ کم ہونے کے باوجود قومی اسکاڈ کو انگلش پچز کی کنڈیشنز، موسم اور ماحول سے آہنگ ہونے میں مدد ملے گی، جبکہ ٹیم مینجمنٹ کو بھی ٹیسٹ سیریز سے قبل تمام کھلاڑیوں کی موجودہ فارم، تکنیک اور کارکردگی کا جائزہ لینے کا بھرپور موقع ملے گا۔

بھارتی کرکٹر اور دہلی کیپیٹلز کے بلے باز ابھشیک پورل گرفتار: میڈیکل طالبہ کی شکایت پر مبینہ زیادتی اور دھمکیوں کا مقدمہ درج

منصور احمد, August 12,2026

ممبئی (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اگست 2026ء

انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں دہلی کیپیٹلز کی نمائندگی کرنے والے 27 سالہ بھارتی کرکٹر ابھشیک پورل کو ایک میڈیکل طالبہ کی مدعیت میں درج ہونے والے سنگین مقدمے کے تحت گرفتار کر لیا گیا ہے۔ بھارتی پولیس نے کرکٹر کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے خلاف مبینہ زیادتی، مجرمانہ دھمکیوں اور تشدد کے الزامات کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق یہ مقدمہ رواں سال جون کے مہینے میں ایک میڈیکل طالبہ کی درخواست پر درج کیا گیا تھا۔ متاثرہ خاتون نے اپنے بیان میں مؤقف اختیار کیا کہ وہ گزشتہ تین سال سے کرکٹر کے ساتھ تعلقات میں تھیں اور ابھشیک پورل نے ان سے شادی کا وعدہ کر رکھا تھا۔ خاتون کا الزام ہے کہ شادی کی اسی یقین دہانی پر ان کے درمیان جنسی تعلقات قائم ہوئے، تاہم بعد میں کرکٹر اپنے وعدے سے مکر گئے اور ان سے دوری اختیار کرنا شروع کر دی۔

متاثرہ خاتون نے پولیس کو دی گئی شکایت میں یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ تعلقات کے دوران ابھشیک پورل نے انہیں جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا اور سنگین نتائج کی مجرمانہ دھمکیاں بھی دیں۔ معاملے کی ابتدائی تفتیش کے بعد کلکتہ ہائی کورٹ نے پولیس کو مقدمے میں نامزد کرکٹر کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کیا، جس کی تعمیل کرتے ہوئے پولیس نے فوری کارروائی کر کے ابھشیک پورل کو حراست میں لے لیا۔

دوسری جانب رپورٹس کے مطابق ابھشیک پورل ماضی میں اپنے خلاف عائد کیے جانے والے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر تردید کر چکے ہیں۔ بائیں ہاتھ کے 27 سالہ بلے باز ابھشیک پورل سال 2023ء سے آئی پی ایل میں دہلی کیپیٹلز کی نمائندگی کر رہے ہیں اور گزشتہ سیزن میں انہوں نے اپنی ٹیم کی جانب سے چار اننگز میں 108 رنز بنائے تھے۔ مقدمے میں عائد تمام الزامات کی قانونی اور واقعی تصدیق کے لیے پولیس کی مزید تفتیش جاری ہے۔

ڈاکٹر نگہت شاہ کی ریٹائرمنٹ سے ایک روز قبل 3 سالہ تقرری کا فیصلہ: صوبائی کابینہ کی ہدایت پر قانونی اور انتظامی سوالات اٹھ گئے

روزینہ اسماعیل, August 12,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اگست 2026ء

سابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کی صاحبزادی اور جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی (جے ایس ایم یو) کی پروفیسر ڈاکٹر نگہت شاہ کو ریٹائرمنٹ سے محض ایک روز قبل صوبائی کابینہ کے فیصلے کی روشنی میں مزید 3 سال کے لیے بطور پروفیسر مقرر کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ اس تقرری کے سامنے آنے پر پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم اینڈ ڈی سی) کے قواعد و ضوابط اور صوبائی حکومت کی ہدایت کے درمیان واضح فرق پر سنگین انتظامی و قانونی سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

سیکریٹری بورڈز و جامعات عباس بلوچ کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ نوٹیفکیشن میں صوبائی کابینہ کے 5 اگست کے اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے وائس چانسلر جے ایس ایم یو کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ڈاکٹر نگہت شاہ کی 3 سال کے لیے بطور پروفیسر تقرری پر غور کریں۔ نوٹیفکیشن میں وائس چانسلر کو مزید کارروائی بلا تاخیر اور من و عن مکمل کر کے ترجیحی بنیادوں پر رپورٹ محکمہ بورڈز و جامعات کو فراہم کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔

اس تقرری کے لیے پی ایم اینڈ ڈی سی کے جس نوٹیفکیشن کا سہارا لیا گیا ہے، اس میں واضح لکھا گیا ہے کہ ریٹائرڈ فیکلٹی کو کنٹریکٹ پر رکھنے کا فیصلہ محض ایک سہولت کے طور پر ہے اور کوئی ادارہ اس کا پابند نہیں، بلکہ متعلقہ یونیورسٹی اپنی ضرورت اور قواعد کے مطابق فیصلہ کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ پی ایم اینڈ ڈی سی پالیسی کے مطابق ریٹائرڈ فیکلٹی کی تعیناتی سے جونیئر فیکلٹی کی سنیارٹی یا ترقیاں متاثر نہیں ہونی چاہئیں۔

اس تمام صورتحال میں یہ سوالات شد و مد سے اٹھ رہے ہیں کہ جب اختلافی اختیارات یونیورسٹی کے پاس تھے تو ایک مخصوص فرد کا کیس صوبائی کابینہ کے سامنے کیوں لایا گیا اور اس پر ہنگامی بنیادوں پر عمل درآمد کا حکم کیوں دیا گیا۔ دوسری جانب جے ایس ایم یو کی سینئر ایسوسی ایٹ پروفیسرز ڈاکٹر شازیہ نصیب، ڈاکٹر نسرین فاطمہ، ڈاکٹر صبا خان، ڈاکٹر ارم ماجد اور ڈاکٹر میمونہ رحمان کی سنیارٹی اور ترقی کے امکانات متاثر ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں، جس سے یونیورسٹی انتظامیہ اور اساتذہ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

انگلش پریمیئر لیگ کے 35 ویں سیزن کا 22 اگست سے شاندار آغاز: دفاعی چیمپئن آرسنل اور کووینٹری سٹی کے درمیان افتتاح ہوگا

محمود احمد, August 12,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اگست 2026ء

دنیا کی مشہور ترین انگلش پریمیئر فٹ بال لیگ کے 35 ویں سیزن کا باقاعدہ آغاز 22 اگست سے ہونے جا رہا ہے۔ ٹاپ فلائٹ انگلش فٹ بال کا یہ مجموعی طور پر 128واں ایڈیشن ہوگا، جس کے مکمل شیڈول کا باضابطہ اعلان پہلے ہی کیا جا چکا ہے۔ اس میگا ایونٹ کی تیاریاں انتہائی عروج پر پہنچ چکی ہیں جبکہ سیزن کا باضابطہ اختتام 30 مئی 2027ء کو ہوگا۔ اس بار آرسنل کی ٹیم میدان میں اپنے اعزاز کا دفاع کرے گی، جس نے گزشتہ سیزن میں شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے مجموعی طور پر اپنا 14واں ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔

پریمیئر لیگ کے افتتاحی روز یعنی 22 اگست کو شائقین کو 6 سنسنی خیز مقابلے دیکھنے کو ملیں گے، جبکہ اس لیگ میں کل 20 بہترین ٹیمیں چیمپئن بننے کے لیے ایک دوسرے سے پنجہ آزمائی کریں گی۔ اس بار انگلش چیمپئن شپ سے ترقی پا کر پریمیئر لیگ میں جگہ بنانے والی ٹیموں میں کووینٹری سٹی، اپسوچ ٹاؤن اور ہل سٹی شامل ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ کووینٹری سٹی نے 25 سال کے ایک طویل عرصے کے بعد پریمیئر لیگ میں تاریخی واپسی کی ہے جو کہ ایک نیا ریکارڈ ہے، جبکہ دوسری جانب خراب کارکردگی کی بنیاد پر ویسٹ ہیم یونائیٹڈ، برنلے اور وولور ہیمپٹن وانڈررز لیگ سے باہر ہو چکی ہیں۔

رواں سیزن میں پریمیئر لیگ انتظامہ نے ایک انتہائی اہم اور تاریخی فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت میچ ڈے شرٹس کے سامنے والی مرکزی جگہ پر جوئے کی کمپنیوں کی اسپانسرشپ پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس انقلابی قدم کا بنیادی مقصد جوئے کی تشہیر کو کم سے کم کرنا ہے، تاہم جوئے کی کمپنیاں فی الحال شرٹس کی آستینوں اور ٹریننگ کٹس پر اپنی سپانسرشپ محدود پیمانے پر جاری رکھ سکیں گی۔

ای پی ایل کے آئندہ سیزن میں حصہ لینے والی 20 ٹیموں میں دفاعی چیمپئن آرسنل، ایسٹن ولا، بورن مائوتھ، برینٹ فورڈ، برائٹن، چیلسی، کووینٹری سٹی، کرسٹل پیلس، ایورٹن، فلہم، ہل سٹی، اپسوچ ٹاؤن، لیدز یونائیٹڈ، لیورپول، مانچسٹر سٹی، مانچسٹر یونائیٹڈ، نیو کیسل یونائیٹڈ، ناٹنگھم فارسٹ، ٹوٹنہام ہاٹ پور اور سنڈر لینڈ شامل ہیں۔ انگلش پریمیئر لیگ کا افتتاحی اور پہلا میچ 22 اگست کو دفاعی چیمپئن آرسنل اور نووارد کووینٹری سٹی کے درمیان ایمرٹس سٹیڈیم لندن میں کھیلا جائے گا۔

کولمبیا کی جانب سے مقبوضہ شامی گولان ہائٹس پر اسرائیلی تسلط تسلیم کرنے کی شدید مذمت: سعودی عرب نے فیصلے کو بین الاقوامی قوانین اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے منافی قرار دے دیا

محمود احمد, August 12,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اگست 2026ء

سعودی عرب نے کولمبیا کی جانب سے مقبوضہ شامی گولان ہائٹس پر غاصب اسرائیلی خودمختاری و تسلط کو باقاعدہ تسلیم کرنے کے یکطرفہ فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے بین الاقوامی قوانین، عالمی اصولوں اور اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سعودی وزارتِ خارجہ نے اپنے جاری کردہ ایک انتہائی اہم سرکاری بیان میں واضح کیا کہ کولمبیا کا یہ غیر قانونی اقدام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی سال 1981ء میں منظور کی جانے والی تاریخی قرارداد 497 کی مکمل اور صریح خلاف ورزی ہے۔ اس سلامتی کونسل کی قرارداد کے تحت مقبوضہ گولان ہائٹس کے علاقے پر اسرائیل کے اپنے ظالمانہ قوانین، دائرہ اختیار اور انتظامیہ نافذ کرنے کا اقدام مکمل طور پر کالعدم اور قانونی اثرات کے بغیر ٹھہرایا گیا ہے۔

سعودی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اس قسم کے بلاجواز اور غیر قانونی سیاسی موقف خطے میں منصفانہ اور پائیدار امن کے حصول میں کسی قسم کی مدد فراہم نہیں کرتے بلکہ اس سے خطے میں قیامِ امن کی بین الاقوامی کاوشوں کو شدید نقصان پہنچنے اور معاملات کو سبوتاژ کرنے کا اندیشہ ہے۔

سعودی عرب نے اپنے دیرینہ اور اصولی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے زور دیا کہ گولان ہائٹس بلا شبہ شام کی ایک مقبوضہ سرزمین ہے اور اس کی تاریخی، جغرافیائی یا قانونی حیثیت کو کسی صورت تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے یکطرفہ فیصلے يا اقدامات اس ناانصافی کو کوئی قانونی جواز فراہم نہیں کر سکتے۔ اپنے بیان کے اختتام پر مملکت نے کولمبیا کی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اپنے اس فیصلے اور موقف پر نظرثانی کرے، عالمی قوانین اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری کو یقینی بنائے اور خطے میں منصفانہ اور پائیدار امن کے قیام کے لیے کوششوں کی حمایت کرے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کا مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر دبنگ مؤقف: سلامتی کونسل سے غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی مظالم اور غیر قانونی بستیوں کی توسیع کے خلاف فوری اور عملی اقدامات کا مطالبہ

محمود احمد, August 12,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اگست 2026ء

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے مشرقِ وسطیٰ کی تشویشناک اور نازک صورتِ حال پر سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بڑھتے ہوئے اسرائیلی مظالم، غیر قانونی بستیوں کی توسیع اور شدت اختیار کرتے ہوئے انسانی بحران پر عالمی برادری اور سلامتی کونسل سے فوری و سخت عملی اقدامات کا مطالبات کیا ہے۔ سلامتی کونسل کے اس اہم اور ہنگامی اجلاس کے دوران اپنے مفصل اور جامع خطاب میں پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ کے نمائندوں کی جانب سے کونسل کو فراہم کی گئی بریفنگز محض لفظی کارروائی یا کارروائی کا حصہ نہیں بلکہ فوری اور عملی اقدامات کا بین الاقوامی تقاضا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ مغربی کنارے اور غزة میں پیش آنے والے واقعات کو الگ تھلگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا، بلکہ یہ ایک طے شدہ، باہم مربوط اور دہائیوں پر محیط غاصبانہ قبضے کا نتیجہ ہیں جس کا بنیادی مقصد دو ریاستی حل کے تمام امکانات کو یکسر اور ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے مغربی کنارے میں بستیوں کی مسلسل توسیع بالخصوص ‘کرمسن تھریڈ’ منصوبے اور ای ون علاقے میں آبادکاری پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کے نتیجے میں 1967ء کے بعد سے فلسطین میں بے دخلی کا سب سے بڑا بحران جنم لے چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکام کی جانب سے زمینوں کی رجسٹریشن اور انتظامی اختیارات پر ناجائز قبضہ درحقیقت عملاً الحاق کے عمل کو آگے بڑھا رہا ہے جو سلامتی کونسل کی منظور شدہ قراردادوں اور عالمی عدالتِ انصاف کی واضح مشاورتی آراء کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینیوں کے ٹیکس اور ریونیو کے اربوں روپے کی مسلسل روک تھام فلسطینی اداروں کو معاشی طور پر مفلوج کرنے کی ایک منظم سازش ہے، لہٰذا یہ رقم بغیر کسی تاخیر کے فوری اور مکمل طور پر جاری کی جانی چاہیے۔

مسجدِ اقصیٰ اور الحرم الشریف کی مقدس صورتحال پر بات کرتے ہوئے پاکستانی سفیر نے کہا کہ اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے مسلمانوں کی مقدس ترین جگہ پر مسلسل دھاوے اور اشتعال انگیز کارروائیاں پورے خطے کی سلامتی کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔ انہوں نے 24 جولائی اور 6 اگست کو پاکستان سمیت آٹھ اہم عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غزہ پر اسرائیلی حملوں اور مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد کو الگ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ تمام تر اقدامات طاقت کے زور پر ایک نئی جغرافیائی صورتحال مسلط کرنے کی پالیسی کا حصہ ہیں۔

غزہ کی انسانی صورتِ حال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ جامع منصوبے اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 نے انسانی تکالیف کو کم کرنے اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ایک سنہری موقع فراہم کیا تھا، تاہم اسرائیل کی جانب سے مسلسل فوجی کشیدگی اور روڈ میپ کو مسترد کرنا عالمی سفارتی کاوشوں کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس سلسلے میں امریکہ، مصر، قطر اور ترکیہ کی جانب سے جاری مسلسل سفارتی کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے واضح مطالبات پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قابض طاقت اسرائیل تمام تر غیر قانونی آبادکاری کی سرگرمیاں فوری طور پر روکے اور بین الاقوامی قوانین بالخصوص سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 پر مکمل عمل پیرا ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد کو فی الفور بند کرایا جائے اور جرم کے مرتکب افراد کا کڑا احتساب کیا جائے۔ انہوں نے فلسطینی صدر کے مطالبے کے مطابق فلسطینی عوام کو عالمی تحفظ فراہم کرنے اور بچوں کی حفاظت سے متعلق یونیسیف کی سفارشات پر فوراً عمل درآمد کرنے پر بھی زور دیا۔

پاکستانی مندوب نے مطالبہ کیا کہ مسجدِ اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنایا جائے اور تمام اشتعال انگیز اقدامات کو فوری روکا جائے۔ انہوں نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ قرارداد 2803 اور جامع امن منصوبے پر بغیر کسی حیل و حجت کے مکمل اور نیک نیتی سے عمل درآمد کرایا جائے اور اس کے راستے میں حائل رکاوٹوں کا سختی سے سدباب کیا جائے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نے انتباہ جاری کیا کہ اگر اسرائیل کی ان جارحانہ پالیسیوں کی سمت کو فوری نہ بدلا گیا تو پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے اس کے نتائج انتہائی تباہ کن ہوں گے۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا واحد راستہ 1967ء سے قبل کی سرحدوں پر مبنی ایک خودمختار، آزاد اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کا قیام ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

نوجوانوں کے عالمی دن پر وزیراعظم شہباز شریف کا پیغام: باصلاحیت یوتھ قوم کا انمول سرمایہ، بااختیار بنانا ترجیح ہے

منصور احمد, August 12,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اگست 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے “نوجوانوں کے عالمی دن” کے بین الاقوامی موقع پر پوری قوم اور خاص طور پر ملک کے کروڑوں باصلاحیت نوجوانوں کے نام ایک نہایت اہم، فکر انگیز اور مفصل پیغام جاری کیا ہے۔ اپنے پیغام میں وزیراعظم نے واضح اور قطعیت کے ساتھ اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان کے تمام تر دستیاب قومی وسائل کو نوجوانوں کی بہترین ذہنی، جسمانی، فکری اور علمی نشوونما کے لیے وقف کرنا موجودہ حکومت کی پالیسی کا مرکزی نقطہ اور سب سے اہم ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوم کی پائیدار ترقی اور تابناک مستقبل کا راز نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو درست سمت فراہم کرنے میں پنہاں ہے۔

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری ہونے والے اس خصوصی اور تفصیل سے بھرپور پیغام میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان آج دنیا کے تمام دیگر اقوام کے ساتھ ہم آواز ہو کر اپنے نوجوانوں کو ان کی بے پناہ قدرتی صلاحیتوں، پرجوش توانائی، مثبت جذبے اور ان داتا خدمات پر خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے کسی بھی ملک یا معاشرے کی حقیقی ترقی کا دارومدار وہاں کی یوتھ کی تعلیمی اور اخلاقی تربیت پر ہوتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس سال نوجوانوں کا عالمی دن جس عنوان سے منایا جا رہا ہے، یعنی “مختلف حالات، مشترکہ امنگیں”، وہ ایک بہت بڑی سچائی کا مظہر ہے۔ یہ موضوع دنیا بھر کی یہ حقیقت کھول کر سامنے لاتا ہے کہ دنیا کے مختلف حصوں میں رہنے والے نوجوانوں کے سیاسی، معاشی، جغرافیائی اور سماجی حالات بے شک ایک دوسرے سے بالکل مختلف اور گوناگوں ہو سکتے ہیں، لیکن ایک محفوظ، پرامن، خوشحال اور تابناک مستقبل کی خواب اور خواہشات سبھی کی یکساں ہیں۔

وزیراعظم نے اپنے بیان میں انتہائی گرمجوشی کے ساتھ اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی مجموعی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے جو ہماری قوم کے لیے اللہ تعالیٰ کا ایک انمول تحفہ اور عظیم ترین سرمایہ ہیں۔ ہمارے یہی نوجوان آئندہ کل کے روشن اور پرامید پاکستان کے حقیقی معمار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیت، نئے خیالات، سچی لگن اور پرعزم محنت ہر شعبہ ہائے زندگی میں امید افزاء اور مثبت تبدیلیوں کا باعث بن رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا کھل کر اظہار ہی ایک پائیدار، مضبوط اور خودکفیل پاکستان کی بنیاد قائم کر سکتا ہے۔ پاکستان کی نوجوان نسل نے تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی، کھیل، فنون، اور سماجی خدمت جیسے متعدد شعبوں میں نہ صرف قومی بلکہ عالمی سطح پر بھی ملک کا نام اور پرچم بلند کیا ہے، جبکہ مقامي سطح پر بھی ایک ذمہ دار اور فعال شہری کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

حکومتی اصلاحات، پالیسیوں اور عملی اقدامات کی مفصل وضاحت کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ حکومتِ پاکستان نوجوانوں کو جدید دور کے جدید ترین تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے عملی بنیادوں پر کام کر رہی ہے۔ نوجوانوں کو معیاری اور اثر انگیز تعلیم، فنی و پیشہ ورانہ مہارتوں، خود روزگار کے مواقع، کاروباری اور صنعتی ترقی، ڈیجیٹل جدت اور سماجی و قومی فیصلوں میں شمولیت کے ذریعے مضبوط سے مضبوط تر بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایسے عملی راستے ہموار کیے ہیں تاکہ ہمارے ہونہار طلباء عالمی منڈیوں کے معیار پر پورا اتر سکیں اور اپنی فنی استعداد کو عالمی سطح پر منوا سکیں۔

تعلیمی اصلاحات اور یوتھ پروگرام کے عملی منصوبوں کی بابت گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ہونہار طلبہ و طالبات کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹیکنیکل ایجوکیشن اور مصنوعی ذہانت جیسے جدید ترین شعبوں میں تربیتی راستے کھولنے کے لیے بلا سود قرضوں، لیپ ٹاپس کی تقسیم، اسکالرشپ پروگرامز، اور بامعاوضہ انٹرن شپ جیسے پروگرامز کا جال بچھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ “وزیراعظم یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام” کے تحت ملک بھر کی نوجوان افرادی قوت کو جدید ترین اور معتبر ہنر سکھائے جا رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے “نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن” کو ہنگامی بنیادوں پر مزید فعال، بااختیار اور متحرک کیا گیا ہے۔ یہ قومی ادارہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ سندات اور اندرونِ ملک انڈسٹری کی ضروریات کے مطابق نوجوانوں کو بین الاقوامی معیار کی جدید ترین پیشہ ورانہ تربیت فراہم کر رہا ہے۔

اپنے پیغام کے اختتام پر وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کے تمام نوجوانوں کو ایک جذباتی اور حوصلہ افزا خصوصی پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وہ دیانتداری، سخت محنت، ذمہ داری اور جذبۂ حب الوطنی کے ساتھ اپنے سفر کو آگے بڑھاتے رہیں۔ نوجوانوں کی ترقی ہی میں پاکستان کا پائیدار اور درخشندہ مستقبل محفوظ ہے۔ انہوں نے تمام مکاتبِ فکر، تمام طبقات اور بالخصوص یوتھ پر زور دیا کہ آئیں سب مل کر یہ عہد کریں کہ ہم ایک جٹ ہو کر ملکی ترقی و خوشحالی میں اپنا تعمیری اور مثبت کردار ادا کریں گے تاکہ وطنِ عزیز پاکستان ہر نوجوان کے لیے روشن، محفوظ اور باوقار مستقبل کی حتمی ضمانت بن سکے۔

ایمریٹس ایئرلائن کی مسافروں کے لیے 4 نئی سہولیات کا اعلان: مفت تاریخ تبدیلی اور کم ریفنڈ فیس کا تحفہ

محمود احمد, August 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اگست 2026ء

عالمی ایئرلائن ایمریٹس نے اپنے مسافروں کو سفری منصوبوں میں آسانی اور لچک فراہم کرنے کے لیے چار اہم نئی سہولیات کا باقاعدہ اعلان کیا ہے۔ ان میں دبئی کے سفر کی تاریخ میں مفت تبدیلی، کم فیس کے ساتھ ریفنڈ، ایئرلائن کے پورے نیٹ ورک پر تاریخ میں ایک مرتبہ مفت تبدیلی اور اسکائی وارڈز اراکین کے لیے خصوصی بچت شامل ہیں۔

ایمریٹس کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق 10 اگست 2026ء سے دبئی جانے والے مسافروں کو اپنے سفر کی تاریخ میں بغیر کسی اضافی فیس کے جتنی بار چاہے تبدیلی ( کرنے کی سہولت دے دی گئی ہے۔ یہ سہولت اکانومی کلاس (سیور سے فلیکس) اور بزنس کلاس کے تمام کرایوں پر لاگو ہوگی۔ اس کے علاوہ دبئی کی پروازوں کے لیے ریفنڈ فیس میں بھی نمایاں کمی کی گئی ہے، جہاں اکانومی سیور اور بزنس سیور پر اب ریفنڈ فیس صرف 50 امریکی ڈالر جبکہ فلیکس کرایوں پر محض 25 امریکی ڈالر ہوگی۔

اسی طرح ایمریٹس نیٹ ورک کے تمام روٹس پر سفر کرنے والے مسافروں کو بھی ٹکٹ کی تاریخ میں ایک بار مفت تبدیلی کا موقع حاصل ہوگا۔ پروازوں میں کسی بھی غیر متوقع خلل یا فضائی حدود کی بندش کی صورت میں ایئرلائن مسافروں کی رہائش اور متبادل پروازوں کی بکنگ بلا معاوضہ خود یقینی بنائے گی۔

علاوہ ازیں، ایمریٹس اسکائی وارڈز اراکین کے لیے 31 اگست 2026ء تک خصوصی آفر دی گئی ہے، جس کے تحت سلور، گولڈ اور پلاٹینم کا درجہ حاصل کرنے کے لیے درکار ٹیر مائلز میں 20 فیصد کی رعایت شامل ہے، جبکہ کیش پلس مائلز کے استعمال پر فی 2,000 مائلز کے بدلے 30 امریکی ڈالر کی بچت کی جا سکے گی۔

برازیل سے ڈیپورٹ ہونے والے مسافر کے خلاف ایف آئی اے کی بڑی کارروائی: جعلی ویزے اور غیر قانونی قیام پر مقدمہ درج

منصور احمد, August 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اگست 2026ء

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) اسلام آباد زون کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل نے برازیل سے ڈیپورٹ ہو کر پاکستان پہنچنے والے مسافر کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کر کے اسے گرفتار کر لیا ہے۔

ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ڈیپورٹ ہونے والے مسافر علی رضا ولد محمد عارف کے خلاف پاسپورٹ ایکٹ 1974ء کی دفعات 3 اور 4 کے تحت پرچہ درج کیا گیا ہے۔ ملزم 9 اگست 2026ء کو غیر ملکی ایئر لائن کی فلائٹ کے ذریعے اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچا تھا، جس کی ڈیپورٹیشن دستاویزات میں وجہ ‘لو پروفائل ایسائلم سیکر’ درج تھی۔ مربوط نظام کے ریکارڈ سے پتہ چلا کہ ملزم روانہ 17 مئی 2026ء کو لاہور ایئرپورٹ سے وزٹ ویزے پر انڈونیشیا گیا تھا۔

ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم نے انکشاف کیا کہ اس نے انڈونیشیا سے سعودی عرب اور پھر وہاں سے میکسیکو کا ویزا حاصل کیا، جس کے بعد وہ برازیل پہنچا اور ایک دن کے ٹرانزٹ قیام کی بجائے وہاں غیر قانونی طور پر مقررہ مدت سے زائد مقیم رہا۔ قانون شکنی پر برازیلی حکام نے اسے حراست میں لے کر ایمرجنسی پاسپورٹ پر واپس ڈیپورٹ کر دیا۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق ملزم کے پاسپورٹ پر چسپاں میکسیکو کا ویزا بھی مکمل طور پر مشکوک اور جعلی پایا گیا ہے۔

ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل نے ملزم کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے، جبکہ اس انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک اور جعلی دستاویزات کی تیاری میں ملوث ایجنٹوں کا سراغ لگایا جا رہا ہے۔

آسٹریلیا سے پاکستان کو ریکارڈ 1.14 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر: قونصلیٹ جنرل سڈنی میں شاندار تقریب کا انعقاد

محمود احمد, August 11,2026

سڈنی (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اگست 2026ء

قونصلیٹ جنرل آف پاکستان سڈنی میں مالی سال 2025-26ء کے دوران آسٹریلیا سے پاکستان کو 1 ارب امریکی ڈالر سے زائد (1.14 ارب ڈالر) کی ریکارڈ ترسیلاتِ زر کی موصولی کی خوشی میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں آسٹریلیا میں پاکستان کے ہائی کمشنر عرفان شوکت، بینکوں، ایکسچینج کمپنیوں، کاروباری تنظیموں اور پاکستانی برادری کے نمایاں نمائندوں نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہائی کمشنر عرفان شوکت نے اس تاریخی کامیابی پر آسٹریلیا میں مقیم پاکستانی برادری، بینکوں اور ریمیٹنس پرووائیڈرز کے کردار کی بھرپور تعریف کی اور قانونی ذرائع سے پیسے بھیجنے کے عمل کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ تقریب میں بتایا گیا کہ آسٹریلیا سے پاکستان بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے، جو مالی سال 2020-21ء کے 598 ملین ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2025-26ء میں 1.14 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔

آسٹریلین ریمیٹنس اینڈ کرنسی پرووائیڈرز ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر منیر محمد، اعزازی ٹیکس ایڈوائزر علی چوہان اور بینک الفلاح کے نمائندے پرویز شہباز نے خطاب کرتے ہوئے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ ، محفوظ ترسیلات اور مالیاتی آگاہی کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے نمائندے ارشد ستار اور آسٹریلیا پاکستان یوتھ ایسوسی ایشن کے سرپرستِ اعلیٰ چوہدری شکیب نے بھی پاکستانی معیشت میں اوورسیز پاکستانیوں کے کردار کو سراہا۔

تقریب کے اختتام پر قونصل جنرل قمر زمان نے تمام مہمانوں اور اسٹیک ہولڈرز کا شکریہ ادا کیا، جبکہ اس تاریخی کامیابی کی یاد میں کیک بھی کاٹا گیا۔

سی پیک 2.0 کے تحت صنعتی و کاروباری تعاون میں پیش رفت: چینی وفد کی احسن اقبال سے ملاقات، برآمدات میں اضافے اور بی ٹو بی شراکت داری پر اتفاق

محمود احمد, August 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اگست 2026ء

چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے کے تحت پاکستان اور چین کے درمیان صنعتی، زرعی اور کاروباری تعاون کو وسعت دینے کے لیے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ عوامی جمہوریہ چین کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے اقتصادی امور پریس کے سینئر ایڈوائزر سن ڈونگ شینگ کی قیادت میں سی پیک سیکرٹریٹ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال اور سینیئر پالیسی سازوں کے ساتھ تفصیلی مشاورت کی۔

ملاقات کے دوران وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے چینی وفد کو پاکستان کے قومی اقتصادی ایجنڈے ”اڑان پاکستان“ سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج برآمدات کی کمزور بنیاد ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ چین سالانہ 2.6 ٹریلین ڈالر کی درآمدات کرتا ہے جبکہ اس میں پاکستان کا حصہ صرف 3 ارب ڈالر کے قریب ہے، جسے بڑھانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سی پیک کے پہلے مرحلے میں چین نے پاکستان کو توانائی کے بحران سے نکالا اور اب سی پیک 2.0 کے ذریعے پاکستان اپنے برآمدی خسارے پر قابو پانے کے لیے پرعزم ہے۔

پروفیسر احسن اقبال نے صنعتی انقلاب 4.0 اور 5.0 کے تحت آٹومیشن، روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی میں چینی تجربات سے استفادہ کرنے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے زور دیا کہ سی پیک 2.0 کا اصل محور کاروبار سے کاروبار تعاون ہے، جس کے تحت صنعتی، زرعی اور معدنی شعبوں میں علاقائی و عالمی سطح پر نجی شعبوں کا اشتراکِ عمل ضروری ہے۔

چینی وفد کے سربراہ مسٹر سن ڈونگ شینگ نے پاک چین دوستی کی مضبوطی کا اعادہ کرتے ہوئے سی پیک فیز ون کی کامیابیوں کو سراہا۔ انہوں نے زراعت، صنعت، پیداواری صلاحیت میں اضافے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی شمولیت اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری کے فروغ پر زور دیا۔

اجلاس کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ سی پیک 2.0 کے پانچ کوریڈورز اور پاکستان کے ”اڑان پاکستان“ فریم ورک کے درمیان تزویراتی ہم آہنگی کو عملی جامہ پہنایا جائے گا تاکہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر سے آگے بڑھ کر صنعتی ترقی، مسابقت، اور کاروباری شراکت داری کے ذریعے مشترکہ خوشحالی کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔

صدر مملکت آصف علی زرداری کی 5 اہم سمریوں اور بلوں کی منظوری: ایکسپورٹ امپورٹ بینک، ایف بی آر اور مالیاتی ترمیمی بل شامل

منصور احمد, August 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اگست 2026ء

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ملک کے مالیاتی و معاشی نظام میں اصلاحات اور بین الاقوامی معاہدوں کی پیش رفت سے متعلق پانچ اہم سمریوں اور بلوں کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔

ایوانِ صدر کے پریس ونگ سے جاری کردہ سرکاری اعلامیے کے مطابق، صدر مملکت نے جن اہم آئینی و قانونی بلوں کی توثیق کی ہے ان میں ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف پاکستان (ترمیمی) بل 2026ء، مالیاتی اداروں کی مالی رقوم کی وصولی (ترمیمی) بل 2026ء اور وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) (ترمیمی) بل 2026ء شامل ہیں۔ ان بلوں کا مقصد ملکی بینکنگ نظام کو مضبوط بنانا، واجب الادا مالیاتی رقوم کی وصولی کو تیز تر کرنا اور ٹیکس دہندگان کے حوالے سے ریونیو فریم ورک میں اصلاحات لانا ہے۔

اس کے علاوہ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے نمایاں خدمات کے اعتراف میں سید علی محمود کو پاکستان سول ایوارڈ عطا کرنے کی منظوری بھی دی۔ دوسری جانب، بین الاقوامی اور اسلامی سطح پر شفافیت اور بدعنوانی کی روک تھام کے لیے صدر مملکت نے تنظیمِ اسلامی تعاون (OIC) کے رکن ممالک کے انسدادِ بدعنوانی قوانین کے نفاذ میں باہمی تعاون سے متعلق مکہ المکرمہ کنونشن کی باضابطہ توثیق کی منظوری دے دی۔

قائد اعظم کے وژن کے مطابق تمام شہریوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں، اقلیتوں کا کردار ناقابلِ فراموش ہے: وزیراعظم شہباز شریف کا قومی دن پر خطاب

منصور احمد, August 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اگست 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے قیامِ پاکستان سے لے کر تعمیرِ پاکستان تک زندگی کے ہر شعبے میں مسلمانوں کے شانہ بشانہ اقلیتی برادریوں کے مثبت اور کلیدی کردار کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں بسنے والے تمام شہری بلا تفریقِ مذہب و ملت اس ملک کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے متحد ہیں۔

منگل کے روز وزیراعظم آفس میں ‘مذہبی اقلیتوں کے قومی دن’ کی مناسبت سے منعقدہ ایک پروقار تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 11 اگست کا دن ملک کی اقلیتوں کے جذبۂ حب الوطنی اور خدمات کو سراہنے کا دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسیحی، ہندو، سکھ، پارسی اور دیگر تمام اقلیتی برادریوں کے لیے پوری قوم کے دل میں انتہائی احترام ہے۔ وزیراعظم نے قائد اعظم محمد علی جناح کے 11 اگست کے تاریخی خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دہانی کرائی کہ آئینِ پاکستان تمام شہریوں کو مساوی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔

وزیراعظم نے اپنی اور اپنے بہن بھائیوں کی ابتدائی تعلیم کا ذکر کرتے ہوئے تعلیمی شعبے میں کرسچنکمیونٹی کی دہائیوں پر محیط خدمات کی تعریف کی۔ انہوں نے گروپ کیپٹن سیسل چوہدری، جسٹس اے آر کارنیلئیس، جوگندر ناتھ منڈل، ایس ایل گبز اور ایس پی سنگھا جیسی عظیم اقلیتی شخصیات کو قومی خدمات پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دفاعِ وطن اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اقلیتوں کے جانی نذرانے تاریخ کا اہم حصہ ہیں۔ اپنے خطاب کے دوران انہوں نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے مکہ دفاعی معاہدے پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا کہ یہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ خطے میں امن، استوار معیشت اور ترقی کے فروغ کا ضامن ہے۔

تقریب سے وفاقی وزیرِ مذہبی امور سردار محمد یوسف، وزیرِ مملکت برائے مذہبی بین المذاہب ہم آہنگی کھیئل داس کوہستانی اور سینیٹر خلیل طاہر سندھو نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے اقلیتوں کو حاصل مکمل مذہبی آزادی، سکھ اور ہندو میرج ایکٹس جیسے قانون سازی کے اہم اقدامات اور عبادت گاہوں کی سیکیورٹی پر حکومتی کاوشوں کو سراہا۔ تقریب کے اختتام پر وزیراعظم شہباز شریف نے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں خدمات انجام دینے والی اقلیتی شخصیات میں ایوارڈز اور اعزازات بھی تقسیم کیے۔

نجکاری کمیشن بورڈ کا 257واں اجلاس: لاہور و کراچی ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ اور لیسکو و میپکو کی نجکاری کے لیے اہم منظوریاں

کاشف عباسی , August 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اگست 2026ء

نجکاری کمیشن بورڈ کا 257واں اہم اجلاس منگل کے روز وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری و چیئرمین نجکاری کمیشن محمد علی کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور اور جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی کی آؤٹ سورسنگ سمیت لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) اور ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو) کی نجکاری کے حوالے سے کلیدی منظوریاں دی گئیں۔

نجکاری کمیشن کے ترجمان کے مطابق بورڈ نے لاہور اور کراچی کے بین الاقوامی ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ کے لیے ‘ای وائی پارتھنون’ کی زیرِ قیادت قائم کنسورشیم کو شفاف مسابقتی عمل کے بعد مالیاتی مشیر کے طور پر منتخب کرنے کی منظوری دے دی۔ اس کے ساتھ ہی کامیاب کنسورشیم کے ساتھ مالیاتی مشاورتی خدمات کے معاہدے کے خدوخال طے کرنے اور اسے حتمی شکل دینے کے لیے ایک خصوصی مذاکراتی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔

اجلاس میں بورڈ نے پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کے شعبے میں لیسکو اور میپکو کی نجکاری کو “بڑی نجکاری” کا درجہ دینے کی منظوری بھی دی۔ اس اہم فیصلے کے بعد لاگو ضوابط کے تحت ان دونوں بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے لیے مالیاتی مشیر کی باقاعدہ تقرری کا عمل شروع کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ لیسکو اور میپکو حکومت کی جانب سے طے شدہ نجکاری کے چوتھے مرحلے میں شامل ہیں، جبکہ اس سے قبل کے تین مراحل کا عمل پہلے سے جاری ہے۔

نجکاری کمیشن بورڈ نے حکومتی نجکاری کے ایجنڈے کو کامیابی سے آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ تمام تر عمل کو مکمل شفافیت، مسابقت اور پیشہ ورانہ اصولوں کے مطابق یقینی بنایا جائے گا تاکہ عوام اور قومی خزانے کو بہترین قیمت حاصل ہو سکے۔

وزیر خزانہ سے پاکستان بزنس کونسل کی قیادت کی ملاقات: سرمایہ کاری، ڈیجیٹل تبدیلی اور معاشی اصلاحات پر تفصیلی تبادلہ خیال

منصور احمد, August 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اگست 2026ء

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب سے پاکستان بزنس کونسل کے نو منتخب چیئرمین زید بشیر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر جاوید قریشی نے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران ملک میں غیر ملکی و مقامی سرمایہ کاری کے فروغ، کاروباری مسابقت، ریگولیٹری اصلاحات اور قومی معاشی ترقی میں نجی شعبے کے نقش کو مزید فعال بنانے پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔

وزیر خزانہ نے زید بشیر کو نئی ذمہ داری سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ معاشی منظر نامے میں نجی شعبے کی قیادت میں ترقی بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی منڈیوں میں مسابقت برقرار رکھنے کے لیے کاروباری اداروں کو ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل تبدیلی کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا پڑے گا۔ سینیٹر محمد اورنگزیب نے پی بی سی پر زور دیا کہ وہ معاشی چیلنجز کے حل اور بہتر پالیسی سازی کے لیے مختصر، شعبہ جاتی اور عملی تحقیق حکومت کے سامنے پیش کرے تاکہ درپیش مسائل پر فوری اقدامات کیے جا سکیں۔

ملاقات میں بین الاقوامی فنانسنگ اور سرمایہ کاری کے مواقع پر گفتگو کرتے ہوئے امریکی انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن اور ایکسپورٹ امپورٹ بینک کے ذرائع سے فائدہ اٹھانے پر بھی غور کیا گیا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ممکنہ عالمی سرمایہ کاروں کے سامنے مکمل طور پر تیار اور تجارتی لحاظ سے منافع بخش منصوبے پیش کیے جانے چاہئیں۔ اس کے علاوہ ملک کے درمیانی مدت کے ٹیکس پالیسی فریم ورک اور اصلاحات کا جائزہ لیتے ہوئے انہوں نے ایک ایسے پائیدار ٹیکس نظام کی تشکیل پر زور دیا جو مسابقت اور سرمایہ کاری کو تحرک فراہم کرے۔

پاکستان بزنس کونسل کے نو منتخب چیئرمین زید بشیر اور سی ای او جاوید قریشی نے حکومت کی مالیاتی اور معاشی سمت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے موجودہ وفاقی بجٹ کو حالیہ برسوں کا سب سے امید افزا بجٹ قرار دیا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ بزنس کونسل نجی شعبے کی ترقی، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور سرمایہ کاری کے سازگار ماحول کے لیے حکومت کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گی۔