وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی جانب سے ‘سیالکوٹ میڈیکل سٹی لمیٹڈ’ کے قیام کا فیصلہ اور صحت کا نیا منصوبہ شہر میں جدید طبی سہولیات کی دیرینہ ضرورت کو پورا کرنے میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ سیالکوٹ کینٹ میں منعقدہ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے اس کاوش کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ اس منصوبے سے مقامی اور گردونواح کے عوام کو لاہور یا بیرونِ ملک جائے بغیر اپنے ہی شہر میں معیاری علاج میسر آ سکے گا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے بھی جلد پانچ سو بستروں پر مشتمل جنرل ہسپتال اور کارڈیک ہسپتال کا سنگِ بنیاد رکھا جائے گا۔
وزیرِ دفاع نے ریاض الدین شیخ اور کاروباری برادری کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ سیالکوٹ چیمبر نے ماضی میں بھی ایئرپورٹ اور ایئر سیال جیسے تاریخی منصوبے نجی شعبے کی مدد سے مکمل کیے ہیں۔ خواجہ آصف نے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ دو سو پانچ ارب روپے کی لاگت سے تیار ہونے والے کھاریاں-اسلام آباد موٹروے منصوبے کا پہلا مرحلہ اگلے سال تک مکمل ہو جائے گا۔ انہوں نے برآمدات اور بالخصوص عالمی سطح پر فٹ بال کی صنعت میں سیالکوٹ کے بین الاقوامی مقام کو سراہا اور کہا کہ نیا طبی منصوبہ شہر کو ایک اقتصادی اور خدماتی مرکز بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کی چیئرپرسن سینیٹر شیری رحمان نے پلاسٹک کی بڑھتی ہوئی آلودگی کے خلاف حکومت، تعلیمی اداروں اور عام عوام کی جانب سے فوری اور اجتماعی اقدامات اٹھانے پر زور دیا ہے۔ ایک گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ ملک بھر کی جامعات اور کالجوں میں پلاسٹک کے مضمرات اور آلودگی کے حوالے سے خصوصی آگاہی سیمینارز منعقد کیے جانے چاہئیں تاکہ نوجوان نسل کو اس کے ماحولیاتی نقصان سے بروقت آراستہ کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایاکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پلاسٹک مخالف قانون پہلے ہی باقاعدہ طور پر متعارف کرایا جا چکا ہے۔
سینیٹر شیری رحمان نے واضح کیا کہ پلاسٹک کی بوتلیں اور شاپنگ بیگز ماحولیاتی آلودگی میں اضافے کے سب سے بڑے عوامل میں سے ہیں، جن میں موجود مضر صحت کیمیکلز انسانی صحت اور قدرتی ماحول کے لیے شدید خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ اب پلاسٹک کے فضلے کو ٹھکانے لگانے اور استعمال کے بعد دوبارہ کارآمد بنانے کے لیے نئی اور جدید اختراعی کوششیں سامنے آ رہی ہیں۔ سینیٹر شیری رحمان نے اس موقع پر یونیورسٹی آف بلوچستان کے طلبہ کی جانب سے پلاسٹک آلودگی سے نمٹنے کے لیے پیش کردہ جدید خیالات اور عملی حل کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے دیگر تعلیمی اداروں کو بھی ان کی پیروی کرنے کی ہدایت کی۔
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد نے پاکستان کی یومِ آزادی کی تقریبات کے موقع پر اپنے “ریسرچ ایکسیلنس انسینٹو فریم ورک” کے تحت ایک بڑی علمی و تحقیقی کامیابی کا اعلان کیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق فریم ورک کے باقاعدہ اجرا کے صرف ایک سال کے اندر 105 پی ایچ ڈی اساتذہ نے سال دو ہزار پچیس کے دوران 331 اعلیٰ معیار اور عالمی رینکنگ سے متعلق تحقیقی مقالے تحریر کیے، جن سے قومی و بین الاقوامی سطح پر یونیورسٹی کی علمی ساکھ کو بے پناہ تقویت ملی ہے۔ اس منصوبے کا آغاز اگست دو ہزار پچیس میں صدرِ جامعہ پروفیسر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد کے وژن کے تحت ہوا تھا، جس کے لیے مملکتِ سعودی عرب کے تعاون سے اڑتالیس لاکھ تیس ہزار روپے کے وسائل حاصل کیے گئے۔
فریم ورک کے تحت معیار کے مطابق تیار کیے گئے مقالوں کے لیے ایک سو امریکی ڈالر اور اسی امریکی ڈالر کے مساوی رقم بطور اعزازیہ مقرر کی گئی، جبکہ بہترین کارکردگی دکھانے والے محققین کے لیے ایک لاکھ پچاس ہزار روپے فی کس کا خصوصی انعام بھی مختص کیا گیا۔ یونیورسٹی کے 501 پی ایچ ڈی اساتذہ میں سے تقریباً 21 فیصد نے اس عالمی رینکنگ منصوبے میں حصہ لیا، جس میں فیکلٹی آف سائنسز 221 مقالوں کے ساتھ سرِفہرست رہی۔ جبکہ فیکلٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی اور فیکلٹی آف سوشل سائنسز نے بھی نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ صدرِ جامعہ پروفیسر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد نے تمام کامیاب اساتذہ پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ خود ایک تقریب میں ان میں انعامات اور اعزازیے تقسیم کریں گے۔
خیبر پختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور میں آخری امریکی قونصل جنرل تھامس ایکرٹ نے کہا ہے کہ پشاور میں امریکی قونصل خانہ بند کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ امریکہ کی خیبر پختونخوا کے خطے میں دلچسپی ختم ہو گئی ہے۔ اسلام آباد میں پاکستان انٹرنیشنل ہیومن رائٹس آرگنائزیشن اور انٹرنیشنل ریسرچ کونسل فار ریلیجئس افیئرز کی جانب سے منعقدہ ایک الوداعی تقریب اور ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قونصلر خدمات، تجارتی و کاروباری روابط کے فروغ، سیکیورٹی تعاون کی مضبوطی اور خیبر پختونخوا اور پورے پاکستان کے عوام کے ساتھ شراکت داری استوار کرنے کی سفارتی کوششیں مستقبل میں بھی بدستور جاری رہیں گی۔
پشاور میں امریکی قونصل خانے کی باقاعدہ بندش کے بعد اب خیبر پختونخوا کے ساتھ تمام سفارتی اور عوامی روابط کی ذمہ داریاں باقاعدہ طور پر اسلام آباد میں واقع امریکی سفارت خانے کو منتقل کر دی گئی ہیں۔ تھامس ایکرٹ امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سینئر اور تجربہ کار سفارت کار ہیں جو اپریل دو ہزار تین سے امریکی وزارتِ خارجہ سے وابستہ ہیں۔ اپنے بائیس سالہ سفارتی کیریئر کے دوران انہوں نے گبون، ویتنام، برما اور قبرص میں اہم خدمات انجام دی ہیں، جبکہ وہ دو مرتبہ بغداد (عراق) میں سیکیورٹی آپریشنز کی نگرانی اور بغداد ایمبیسی سیکیورٹی فورسز کی قیادت بھی کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے کابل (افغانستان) میں عارضی ڈیوٹی کے دوران اس وقت کے افغان صدر حامد کرزئی کی سیکیورٹی کی ذمہ داریاں بھی ادا کی تھیں۔
ہنگری میں پولینڈ کے سیاحوں سے بھری ایک مسافر بس کے کھائی میں گرنے سے بارہ افراد ہلاک اور درجنوں شدید زخمی ہو گئے۔ مقامی پولیس کے مطابق یہ دلخراش حادثہ اتوار کے روز اس وقت پیش آیا جب مسافر بس دارالحکومت بوداپیسٹ کو شمال مشرقی شہر نیریگ ہازا سے ملانے والی ایم تھری موٹروے پر جا رہی تھی کہ اچانک سڑک سے اتر کر گہری کھائی میں جا گری۔ بس میں سوار تمام مسافروں کا تعلق پولینڈ سے تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حادثہ ڈرائیور کو دورانِ ڈرائیونگ نیند کا جھونکا آنے کے باعث پیش آیا، تاہم پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے بس ڈرائیور کو حراست میں لے کر باقاعدہ تحریری تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔ سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق ستائیس ٹن وزنی بس میں ستاؤن مسافر اور دو ڈرائیور سوار تھے۔ حادثے کے فوراً بعد امدادی ٹیموں نے کرینوں کی مدد سے بس کو اٹھا کر نیچے دبے افراد کو نکالا اور پینتیس مسافروں کو بحفاظت باہر نکال لیا۔
ہنگری کی ایمبولینس سروس کے مطابق دس شدید زخمی افراد کو فوری طبی امداد دیتے ہوئے قریب ترین ہسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز میں منتقل کیا گیا، جبکہ مزید سڑتیس افراد کو معمولی چوٹیں آئیں۔ ہنگری کے وزیراعظم پیٹر میگیار نے اس دردناک حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور زخمی مسافروں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔
اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل یاسمین فواد نے چائنا میڈیا گروپ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں ماحول اور معیشت کے باہمی تعلق پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ “سرسبز پہاڑ اور شفاف پانی” ہی دنیا کے لیے سب سے مستحکم اور پائیدار معاشی سرمایہ کاری ہیں۔ انہوں نے چین کے صدر شی جن پنگ کے پیش کردہ ماحولیاتی و معاشی تصور کی اہمیت کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ نظریہ کہ “سرسبز پہاڑ اور شفاف پانی انمول اثاثے ہیں”، دنیا کے تمام ترقیاتی شعبوں میں ایک نمایاں اور جدید سمت فراہم کرتا ہے۔
انٹرویو کے دوران یاسمین فواد نے خبردار کیا کہ ایک طرف قدرتی وسائل اور ماحول کو مسلسل تباہ کرنا اور دوسری طرف یہ توقع رکھنا کہ معاشی ترقی سے لازوال فائدے حاصل ہوں گے، بالکل ناممکن اور غیر منطقی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ معاشی ترقی کا یہ پرانا اور فرسودہ طریقہ صرف قلیل مدتی فوائد دے سکتا ہے، جبکہ طویل مدت میں دنیا کو اس کی انتہائی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی بحرانوں کا حل ہمارے سامنے موجود ہے اور دنیا کو اب بحران پیدا ہونے کے بعد کارروائی کا انتظار کرنے کے بجائے مضبوط عزم کے ساتھ فوری اور فعال اقدامات اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔
پاکستان کے قومی اخبارات میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے باعث آنے والے سیلاب اور اس کے تباہ کن اثرات کی کوریج زیادہ تر واقعاتی اور محدود نوعیت کی رہی ہے، جبکہ تقریباً ستتر فیصد خبریں صرف مسئلے کی نشاندہی تک محدود رہیں اور قبل از وقت تیاری، ابتدائی انتباہی نظام، موسمیاتی موافقت اور طویل المدتی لچک جیسے اہم حل پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔ یہ اہم انکشافات علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغِ عامہ کے ریسرچ اسکالر محمد سلیم شیخ کی نئی تحقیقی رپورٹ میں سامنے آئے ہیں، جو انہوں نے پروفیسر ڈاکٹر ثاقب ریاض کی نگرانی میں مکمل کی۔ اس تحقیق میں سال دو ہزار تئیس اور دو ہزار چوبیس کے دوران شائع ہونے والے دو سو سات مضامین، خبروں اور اداریوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔
تحقیق کے مطابق انگریزی اخبارات نے اردو اخبارات کے مقابلے میں زیادہ تفصیلی کوریج دی، تاہم یہ خبریں شاذ و نادر ہی صفحہ اول پر نمایاں ہوئیں۔ کوریج میں فوری نقصانات اور معاشی اثرات کو زیادہ ترجیح دی گئی جبکہ پالیسی اقدامات اور طویل المدتی حکمت عملی کو نظر انداز کیا گیا۔ وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے ڈائریکٹر جنرل محمد آصف صاحبزادہ کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے تقریباً بیس لاکھ افراد کو اس مسئلے سے مسلسل خطرات درپیش ہیں، جس کے لیے میڈیا کا باقاعدہ اور باخبر نقشِ راہ انتہائی ضروری ہے۔ ماہرین نے سفارش کی ہے کہ صحافیوں کی خصوصی تربیت اور موسمیاتی ماہرین کے ساتھ میڈیا کے قریبی تعاون کے ذریعے حل پر مبنی کوریج کو یقینی بنایا جائے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ سزائے موت کے حساس مقدمات میں انصاف کی فراہمی کے دوران معمول سے بڑھ کر “سپر ڈیو پراسس” کے تمام آئینی اور قانونی تقاضے پورے کرنا انتہائی لازمی ہیں۔ عدالتِ عظمیٰ نے واضح کیا کہ کسی بھی ملزم کو سنے بغیر سزا دینا یا اس کی نظرثانی درخواست مسترد کرنا اصولِ فطری انصاف، منصفانہ ٹرائل اور آئینی ضمانتوں کی صریح خلاف ورزی ہے، جبکہ انتظامی ہدایات یا فل کورٹ کے انتظامی فیصلے آئین اور قانون سے بالاتر نہیں ہو سکتے۔
جسٹس ملک شہزاد احمد خان کی سربراہی میں جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل تین رکنی بینچ نے ملزم شیر اعظم کی فوجداری نظرثانی درخواست کا تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کیا۔ سپریم کورٹ نے 26 اپریل 2012 کا وہ سابقہ حکم کالعدم قرار دے دیا جس کے ذریعے شیر اعظم کی پہلی نظرثانی درخواست ملزم اور اس کے وکیل کا موقف سنے بغیر چیمبر میں مسترد کی گئی تھی۔ عدالت نے قرار دیا کہ رولز میں ایسی کوئی شق موجود نہیں کہ سزائے موت پانے والے کی درخواست سنے بغیر مسترد کی جائے، لہٰذا سابقہ غیر قانونی حکم کے بعد دائر درخواست کو دوسری نظرثانی قرار دے کر ناقابلِ سماعت نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔
جسٹس شکیل احمد نے اپنے اضافی نوٹ میں تحریر کیا کہ سزائے موت ایک ناقابلِ واپسی سزا ہے، اس لیے ایسے مقدمات میں آئین کے آرٹیکل 4، 9 اور 10 کے تحت طریقہ کار کی شفافیت محض رسمی معاملہ نہیں بلکہ بنیادی آئینی حق ہے۔ مقدمے کے حقائق کا جائزہ لیتے ہوئے عدالت نے قرار دیا کہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302(ب) کے تحت تھانہ غازی (ہری پور) کے مقدمے میں قتل کا واضح محرک ثابت نہیں ہوا تھا اور نہ ہی کوئی چشم دید گواہ موجود تھا۔ سپریم کورٹ نے نظرثانی درخواست جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے شیر اعظم کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا جبکہ دو لاکھ روپے معاوضے اور دیگر سزاؤں کے احکامات برقرار رکھے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ڈی پی ورلڈ ویمنز ایشیا کپ اور 20ویں ایشین گیمز کے ویمنز کرکٹ ایونٹ کے لیے الگ الگ 15،15 رکنی قومی اسکواڈز کا اعلان کر دیا ہے، جن کی قیادت اسٹار آل راؤنڈر فاطمہ ثنا کریں گی۔ فاطمہ ثنا دی ہنڈرڈ لیگ میں مصروفیت کے باعث سری لنکا کے خلاف حالیہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کا حصہ نہیں تھیں، تاہم وہ دونوں آئندہ بڑے ایونٹس میں قومی ٹیم کی کپتانی کی ذمہ داریاں دوبارہ سنبھالیں گی۔ ایشیا کپ سے قبل قومی کھلاڑیوں کی تیاریوں اور فٹنس کے لیے تربیتی کیمپ 16 سے 25 اگست تک نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں جاری رہے گا۔
ویمنز ایشیا کپ 28 اگست سے 13 ستمبر تک متحدہ عرب امارات کے تاریخی دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا، جس کے تمام 15 مقابلے پاکستانی وقت کے مطابق شام ساڑھے سات بجے شروع ہوں گے۔ آٹھ ٹیموں کے اس اہم ایونٹ میں پاکستان کو بھارت، تھائی لینڈ اور ہانگ کانگ کے ساتھ گروپ اے میں رکھا گیا ہے، جبکہ پاکستان اپنی مہم کا باقاعدہ آغاز یکم ستمبر کو تھائی لینڈ کے خلاف کرے گا۔ روایتی حریف بھارت کے خلاف قومی ٹیم کا مقابلہ 5 ستمبر کو ہوگا، جبکہ ہانگ کانگ کے خلاف میچ 7 ستمبر کو کھیلا جائے گا۔ ایونٹ کے سیمی فائنلز 10 اور 11 ستمبر کو جبکہ فائنل 13 ستمبر کو دبئی میں منعقد ہوگا۔
ایشیا کپ کے فوراً بعد قومی ویمنز کرکٹ ٹیم متحدہ عرب امارات سے جاپان روانہ ہوگی جہاں 17 سے 22 ستمبر تک ایچی ناگویا کے کوروگی ایتھلیٹک پارک میں 20ویں ایشین گیمز کا ویمنز کرکٹ ٹورنامنٹ کھیلا جائے گا۔ ایشین گیمز میں پاکستان قومی ٹیم کا پہلا کوارٹر فائنل میچ 17 ستمبر کو تھائی لینڈ کے خلاف ہوگا۔ پاکستان ٹیم نے اس سے قبل 2010 اور 2014 کے ایشین گیمز میں دو بار طلائی تمغے جیتے ہیں، اور اس بار بھی قومی ٹیم کی نظریں سونے کا تمغہ حاصل کرنے پر مرکوز ہیں۔ چیف کوچ اور مینٹور وہاب ریاض اور منیجر عائشہ اشعر کی زیرِ نگرانی ٹیم کا مضبوط سپورٹ اسٹاف ایونٹ میں کھلاڑیوں کی رہنمائی کرے گا۔
افغانستان کی طالبان عبوری حکومت کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کابل میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولے اور افغانستان کی معیشت و بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کرے۔ امریکی جریدے ‘دی نیویارک ٹائمز’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں افغان وزیرِ خارجہ نے کہا کہ طالبان حکومت امریکہ کے ساتھ جنگ کے باب کو ختم سمجھتی ہے اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات اور مثبت روابط کے ایک نئے باب کی خواہش مند ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی افغان اپنی سرزمین پر کسی غیر ملکی فوج کی موجودگی برداشت نہیں کر سکتا، جبکہ طالبان انتظامیہ امریکہ میں بھی اپنا سفارتی مشن دوبارہ فعال کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے واضح کیا کہ افغان انتظامیہ کو غیر ملکی سرمائے کی اشد ضرورت ہے، اس لیے امریکہ سمیت دنیا کا کوئی بھی ملک افغانستان کے معدنی ذخائر اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں آزادانہ سرمایہ کاری کر سکتا ہے۔ تاہم انٹرویو کے دوران انہوں نے اس سوال کا براہِ راست جواب دینے سے گریز کیا کہ آیا خواتین کی تعلیم اور حقوق پر پابندیاں عالمی سطح پر طالبان حکومت کو تسلیم کرنے میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے تحریری ردِعمل میں واضح کیا ہے کہ طالبان اپنے انسدادِ دہشت گردی کے وعدوں میں ناکام رہے ہیں اور افغانستان کو دہشت گرد گروہوں کے لیے لانچ پیڈ بننے سے نہیں روک سکے، لہٰذا فی الحال تعلقات کی بحالی کا کوئی امکان نہیں اور امریکہ صرف اپنے قومی مفاد کے تحت ہی طالبان سے رابطہ قائم رکھتا ہے۔
وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے نیدرلینڈز کا جعلی وزٹ ویزا استعمال کر کے یورپ جانے کی کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق سوات سے تعلق رکھنے والے ایک مسافر کو سعودی عرب جانے والی پرواز سے آف لوڈ کر کے حراست میں لے لیا گیا ہے، جو سعودیہ کو یورپ پہنچنے کے لیے بطور ٹرانزٹ پوائنٹ استعمال کرنے کی مشتبہ کوشش کر رہا تھا۔
ایف آئی اے کے ترجمان نے بتایا کہ مسافر کو نجی ایئر لائن کی پرواز سے سعودی عرب روانگی کے وقت ثانوی پروفائلنگ اور چیکنگ کے عمل کے دوران روکا گیا۔ تفصیلی اور فنی جانچ پڑتال کے دوران معلوم ہوا کہ مسافر کے پاسپورٹ کے صفحہ نمبر اٹھارہ پر چسپاں ہالینڈ (نیدرلینڈز) کا وزٹ ویزا مکمل طور پر جعلی اور بوگس تھا۔ اس انکشاف کے بعد انسانی سمگلنگ اور جعل سازی کرنے والے منظم نیٹ ورک سے مسافر کے براہِ راست روابط کا شدید شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔
مسافر کی ماضی کی سفری تاریخ کا جائزہ لینے پر معلوم ہوا کہ وہ اس سے قبل ملائیشیا، تھائی لینڈ اور سعودی عرب سمیت مختلف ممالک کے متعدد اسفار کر چکا ہے۔ ایف آئی اے انتظامیہ نے مسافر کو پرواز سے اتار کر اس کا موبائل فون قبضہ میں لے لیا ہے اور مزید قانونی کارروائی اور تفتیش کے لیے اسے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل اسلام آباد منتقل کر دیا گیا ہے۔ تفتیش کار موبائل فون کے ڈیجیٹل شواہد کا فرانزک معائنہ کر رہے ہیں تاکہ اس جعل سازی میں ملوث ٹوئٹ، ایجنٹوں اور سہولت کاروں کی نشاندہی کر کے انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین پر سنگین تجارتی دھوکہ دہی کا الزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی ٹیرف اور ٹیکسوں سے بچنے کے لیے چینی مصنوعات کو بھارت، اسرائیل، کینیڈا، میکسیکو، اور یورپی یونین سمیت چالیس سے زائد مختلف ممالک کے ذریعے امریکہ منتقل کیا جا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر اپنے ایک معاون کی تیار کردہ خصوصی رپورٹ شیئر کی ہے جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ اس مبینہ غیر قانونی ترسیل اور ری برانڈنگ کے ذریعے سالانہ چالیس ارب سے لے کر تین سو تین ارب ڈالر تک کی ٹیکس چوری کی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ سلسلہ سال دو ہزار اٹھارہ میں چین پر اضافی ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد سے تیزی سے بڑھا ہے، جس کے تحت چینی سامان پر دوبارہ لیبل لگائے جاتے ہیں، ان کی نئی پیکنگ اور تھوڑی بہت پروسیسنگ کی جاتی ہے، اور رسیدوں میں تبدیلی کر کے سامان کا اصل ماخذ چین کے بجائے کسی اور ملک کو ظاہر کر دیا جاتا ہے۔
امریکی انتظامیہ کی اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس غیر قانونی اور مبینہ تجارتی ہیر پھیر کی وجہ سے امریکہ میں اب تک تقریباً ساڑھے چار لاکھ روزگار کے مواقع اور ملازمتیں ختم ہو چکی ہیں، جبکہ وفاقی ٹیکس اور سالانہ قومی مجموعی ملکی پیداوار کی مد میں امریکی معیشت کو اربوں ڈالر کا شدید نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ رپورٹ کے مطابق چین جن دیگر ملکوں کی سرحدوں اور تجارتی راستوں کو استعمال کر رہا ہے ان میں جاپان، جنوبی کوریا، برازیل، انڈونیشیا، ملائیشیا، تھائی لینڈ، ترکیہ، کمبوڈیا، لاؤس اور میانمار جیسے ممالک شامل ہیں۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے اب مختلف ممالک پر براہِ راست ٹیرف لگانے کے ساتھ ساتھ ان تمام قانونی اور انتظامی خامیوں کو بند کرنے پر اپنی توجہ مرکوز کر دی ہے جن کا فائدہ اٹھا کر غیر ملکی درآمد کنندگان امریکی ملازمین، مقامی صنعت کاروں اور ٹیکس دہندگان کو نقصان پہنچا کر اپنا سامان مارکیٹ میں کھپا رہے ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر کے اس بیان اور جاری کردہ رپورٹ پر شدید تنقید بھی سامنے آ رہی ہے۔ ناقدین اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اپنی خارجہ پالیسی اور ایران سے متعلق کشیدگی کی ناکامیوں اور معاشی دباؤ سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے ٹیرف جنگ کا پرانا موقف دوبارہ استعمال کر رہے ہیں۔ عالمی امور اور معاشی مسائل کے نامور امریکی ماہر پروفیسر جیفری سیکس نے صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ امریکی انتظامیہ معاشی بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کی مصنوعات اور ان کی عالمی سپلائی چین کے بغیر موجودہ دور میں دنیا کا نظام چلانا ممکن نہیں رہا، اور اگر امریکی یا بین الاقوامی تاجر سستی مصنوعات کے لیے کسی تیسرے ملک میں پروسیسنگ کرتے ہیں تو اس کا تمام تر ملبہ بیجنگ پر ڈالنا نامناسب ہے۔
معاشی ماہرین نے مزید کہا کہ غلط معاشی پالیسیوں اور تجارتی جنگوں کی وجہ سے آج عام امریکی شہری کے لیے خوراک، بنیادی ضروریات، رہائش اور نقل و حرکت کی قیمتیں پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔ ناقدین کا الزام ہے کہ حکومت کا تمام تر فوکس معاشی اصلاحات کے بجائے سیاسی مقاصد اور ٹیرف پالیسیوں کے ذریعے نجی فوائد حاصل کرنے پر مرثوز ہے، جس کی قیمت امریکی عوام کو مہنگائی اور بیروزگاری کی صورت میں چکانی پڑ رہی ہے۔ تاھم چین اور دیگر نامزد کردہ چالیس سے زائد ممالک کی حکومتوں کی جانب سے فی الحال اس امریکی رپورٹ اور صدر ٹرمپ کے ٹوئٹ پر کوئی باقاعدہ یا حتمی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
گلگت بلتستان کے دلکش اور خوبصورت سیاحتی مقامات کا رخ کرنے والے ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں گزشتہ دس سال کے دوران چار سو فیصد کا بے مثال اور نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ نامور تجزیہ کار رؤف ظفر نے اپنی ایک خصوصی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ سال دو ہزار پندرہ میں گلگت بلتستان جانے والے سیاحوں کی کل تعداد محض دو لاکھ کے قریب تھی، جبکہ سال دو ہزار پچیس کے دوران تقریباً دس لاکھ سے زائد سیاحوں نے گلگت بلتستان کی حسین وادیوں کا رخ کیا۔ ان میں سولہ ہزار پانچ سو سے زائد غیر ملکی سیاح بھی شامل تھے، جو عالمی سطح پر پاکستان کی مثبت شناخت اور پرامن ماحول کی واضح عکاسی کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے عرصے میں گلگت بلتستان آنے والے سیاحوں کی تعداد میں آٹھ لاکھ کا شاندار اضافہ ہوا ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ صرف گلگت بلتستان ہی نہیں بلکہ خیبر پختونخوا کے مشہور سیاحتی مقامات جیسے سوات، کاغان، ناران اور کمراٹ کی خوبصورت وادیوں میں بھی آنے والے سیاحوں کی تعداد مسلسل لاکھوں میں رہی ہے۔ رؤف ظفر کا کہنا ہے کہ ذرائع آمد و رفت تک آسان رسائی، سڑکوں کی بہتری، مؤثر حفاظتی اقدامات اور عوامی سطح پر آگاہی اور شعور اجاگر کر کے نہ صرف سیاحوں کی اس تعداد میں مزید خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے بلکہ شمالی علاقہ جات کے دشوار گزار راستوں پر پیش آنے والے ناخوشگوار حادثات میں بھی نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ پاکستان اپنے قدرتی اور حسین سیاحتی شعبے کے ذریعے سالانہ اربوں ڈالر کا زرِ مبادلہ کما سکتا ہے، جس سے نہ صرف علاقائی معیشت کو استحکام ملے گا اور مقامی آبادی کے معیارِ زندگی میں بہتری آئے گی، بلکہ قومی سطح پر بھی معاشی اہداف کے حصول کو یقینی بنایا جا سکے گا۔
تحقیقاتی رپورٹ میں شمالی علاقہ جات کے تمام سیاحتی مقامات کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور جدید طرز پر ترقی کی اشد ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اب بھی کئی خوبصورت اور اہم مقامات ایسے ہیں جہاں تک پہنچنے کے لیے صرف کچے ٹریکس موجود ہیں، جس کے باعث سفر کے دوران بارش، لینڈ سلائیڈنگ اور شدید برف باری کی وجہ سے سیاحوں کو سخت مشکلات، خطرات اور تعطل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان تمام قدرتی وادیوں تک بہتر، کشادہ اور محفوظ سڑکوں کے نیٹ ورک کی تعمیر وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، جبکہ ان دور دراز علاقوں میں طبی سہولیات، ہنگامی امداد اور دیگر بنیادی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنا کر سیاحت کے فروغ کو مزید تیز کیا جا سکتا ہے۔
پہاڑی اور برفانی علاقوں میں گاڑی چلانے اور سفر کرنے کے حوالے سے سیاحوں اور بالخصوص ڈرائیوروں کو تربیت اور ضروری معلومات کی فراہمی سے بھی حادثات کی شرح میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ جب ڈرائیوروں اور مسافروں کو پہاڑی راستوں کے خطرات، موسم کی سختی اور احتیاطی تدابیر سے متعلق مکمل آراستہ کیا جائے گا تو اس سے سفر نہ صرف آرام دہ اور محفوظ بنے گا بلکہ سیاحوں کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوگا۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ ان علاقوں میں ٹرانسپورٹ کے نظام کو جدید بنائیں اور مقامی سطح پر سیاحت سے وابستہ افراد کی تربیت کے لیے خصوصی اقدامات کریں تاکہ پاکستان دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے پہلی ترجیح بن سکے۔
اگر حکومت اور نجی شعبہ مل کر شمالی علاقہ جات میں ہوٹل سازی، مواصلات اور ریسکیو کے نظام کو مزید مضبوط بنائیں تو آنے والے سالوں میں سیاحوں کی یہ تعداد دوگنی ہو سکتی ہے۔ مقامی سطح پر گائیڈز کی تیاری، قدرتی ماحول کے تحفظ اور صفائی کے نظام کو بہتر بنانا بھی سیاحت کے پائیدار فروغ کے لیے لازمی اجزاء ہیں۔ اس شعبے کی ترقی سے ملک میں روزگار کے بے شمار نئے مواقع پیدا ہوں گے اور پاکستان کی معیشت کو ایک نیا اور مضبوط سہارا میسر آئے گا، جو پورے خطے کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کی خصوصی معاونت اور سہولت کاری کے نتیجے میں پاکستان کے معدنی شعبے میں ایک نیا اور تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا گیا ہے، جس کے تحت بلوچستان کا اہم خضدار بارائٹ، لیڈ اور زنک منصوبہ باقاعدہ طور پر فعال کر دیا گیا ہے۔ پاکستان کا معدنی شعبہ اپنے وسیع اور غیر معمولی قدرتی وسائل کے باعث ملک کی معاشی بحالی، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں انتہائی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ بارائٹ، لیڈ اور زنک کا شمار ملک کے ان اہم ترین اور بڑے معدنی منصوبوں میں ہوتا ہے جو طویل عرصے سے انتظامی پیچیدگیوں، قانونی رکاوٹوں اور نامساعد حالات کے باعث زیرِ التوا چلے آ رہے تھے۔
خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل نے اس اہم منصوبے کو درپیش تمام دیرینہ مسائل بالخصوص کان کنی کی لیز سے متعلق پیچیدگیوں کو احسن طریقے سے حل کراتے ہوئے دو سو ملین ڈالر، یعنی تقریباً پچپن ارب روپے کی خطیر سرمایہ کاری کی راہ ہموار کی ہے۔ یہ اہم اور فائدہ مند منصوبہ پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ اور بولان مائننگ انٹرپرائزز کے باہمی اشتراک اور باہم تعاون سے بلوچستان کے اہم ضلع خضدار میں تیار اور فعال کیا جا رہا ہے۔ کان کنی کی لیز سے متعلق تمام قانونی اور انتظامی مسائل کے خاتمے کے بعد آپریشنل معاہدے کی حتمی تکمیل اس منصوبے کی عملی شروعات اور کان کنی کے آغاز میں سب سے اہم ترین پیش رفت ثابت ہوئی ہے۔
تخمینے اور فنی رپورٹس کے مطابق خضدار کا یہ اہم منصوبہ تقریباً انہتر ملین ٹن کے وسیع اور انتہائی قیمتی معدنی ذخائر پر مشتمل ہے، جبکہ اس منصوبے سے معدنیات نکالنے کی متوقع مدت چوتھیس سال مقرر کی گئی ہے۔ اس منصوبے کے باقاعدہ فعال ہونے اور تجارتی پیداوار کے آغاز سے پاکستان کو سالانہ ایک سو پچاس ملین ڈالر سے لے کر دو سو تیس ملین ڈالر تک کی کثیر آمدن اور زرمبادلہ حاصل ہونے کی قوی توقع ہے، جس سے نا صرف وفاقی اور صوبائی خزانے کو درکار معاشی تقویت ملے گی بلکہ بلوچستان بالخصوص خضدار اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں میں مقامی افراد کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ علاقے میں سڑکوں، اسکولوں اور ہسپتالوں کی تعمیر سے بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور مقامی معاشی سرگرمیوں میں بھی بے پناہ اضافہ ہوگا۔
پاکستان کے قدرتی اور معدنی وسائل میں مقامی اور غير ملکی سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے مواقع عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کے پاکستان کی پالیسیوں پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی واضع اور واضح عکاسی کرتے ہیں۔ ماہرینِ معیشت اور معدنیات کے مطابق خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے زیرِ اہتمام معدنی شعبے میں کی جانے والی یہ مسلسل اصلاحات، شفافیت اور عملی اقدامات پاکستان کی معدنی معیشت کو دنیا کے سامنے ایک نئی اور باوقار شناخت دے رہے ہیں۔ اس منصوبے کے ذریعے نہ صرف خام مال کی برآمد ممکن ہوگی بلکہ ملک کے اندر صنعتی ترقی کا ایک نیا دور شروع ہوگا جو آنے والے دنوں میں ملکی معیشت کا رخ موڑنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوگا۔
خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کا بنیادی مقصد ملک میں موجود معاشی تعطل کو ختم کرنا اور مختلف شعبوں بالخصوص زراعت، معدنیات، معلومات عامہ اور توانائی میں سرمایہ کاری کے عمل کو تیز بنانا ہے۔ خضدار منصوبے کی بحالی سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جب ریاست کے تمام ادارے ایک نقطے پر متفق ہو کر رکاوٹیں دور کرتے ہیں تو سالہا سال سے اٹکے ہوئے معاشی منصوبے بھی ریکارڈ مدت میں فعال ہو جاتے ہیں۔ اس منصوبے کی کامیابی سے بلوچستان میں موجود دیگر معدنی ذخائر سے فائدہ اٹھانے کے لیے بھی راستے کھلیں گے اور عالمی کمپنیوں کا پاکستان کی طرف میلان مزید بڑھے گا۔
حکومت کا یہ اقدام بلوچستان کے عوام کو قومی دھارے میں شامل کرنے اور ان کے معاشی حقوق کی فراہمی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ خضدار کا یہ منصوبہ ان تمام افواہوں اور منفی تاثرات کا عمل جواب ہے جو بلوچستان میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے پھیلائے جاتے ہیں۔ جب مقامی آبادی کو روزگار کے باعزت مواقع ملیں گے اور ان کے خطے میں اربوں روپے کے منصوبے مکمل ہوں گے تو اس سے نہ صرف علاقے کی حالت بدلے گی بلکہ ملک میں امن و امان اور پائیدار معاشی استحکام کو بھی تقویب ملے گی۔ آنے والے وقت میں اس منصوبے سے حاصل ہونے والی آمدن کو بلوچستان کی مزید فلاح و بہبود کے لیے بھی استعمال کیا جا سکے گا۔
پاکستان نے روایت اور سنسنی سے بھرپور کھیل “ہارس بیک آرچری” (گھوڑے پر تیر اندازی) میں ایک اور بڑا اعزاز اپنے نام کر لیا ہے۔ قومی ایتھلیٹ علی فواد نے عالمی رینکنگ میں پہلی پوزیشن حاصل کر کے پاکستان کا پرچم دنیا بھر میں بلند کر دیا ہے۔
علی فواد کا شمار پاکستان کے ان ممتاز اور واحد کھلاڑیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے ہارس بیک آرچری کے تمام بین الاقوامی فارمیٹس میں ملک کی نمائندگی کا اعزاز حاصل کیا ہے۔ وہ اس سے قبل امریکہ، روس اور انڈونیشیا میں منعقد ہونے والے عالمی مقابلوں میں پاکستانی ٹیم کی قیادت کر چکے ہیں، جہاں انہوں نے اپنی بہترین قیادت اور صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
قومی ریکارڈز اور عالمی سطح پر شاندار کارکردگی
علی فواد تمام فارمیٹس میں پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ اسکور کرنے والے کھلاڑی ہیں، جبکہ انٹرنیشنل چیمپئن شپ میں بھی پاکستان کی طرف سے بہترین انفرادی اسکور کا ریکارڈ انہی کے پاس ہے۔ وہ اپنے ساتھی ایتھلیٹس کے ہمراہ مختلف بین الاقوامی ٹورنامنٹس میں پاکستان کے لیے متعدد تمغے بھی جیت چکے ہیں۔
حال ہی میں ان کی کاوشوں سے پاکستان میں پہلی “دو ستارہ عالمی ریکارڈ اور رینکنگ بین الاقوامی ہارس بیک آرچری چیمپئن شپ” کا کامیاب انعقاد ممکن ہوا، جس کے ذریعے پاکستان کے 15 مقامی کھلاڑیوں کو پہلی بار عالمی رینکنگ کا حصہ بننے اور بین الاقوامی سطح پر ابھرنے کا موقع ملا۔
ایشیا میں کھیل کا فروغ
علی فواد نا صرف ایک بہترین کھلاڑی ہیں بلکہ وہ انٹرنیشنل ہارس بیک آرچری الائنس میں ایشیا کے ترقیاتی امور کے سربراہ کی حیثیت سے بھی اہم خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس حیثیت میں انہوں نے ایشیائی ممالک میں ہارس بیک آرچری کے فروغ اور عالمی سطح کے مقابلوں کے انعقاد میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
ان کی اس تاریخی کامیابی پر کھیلوں کے حلقوں کی جانب سے انہیں مبارکباد پیش کی جا رہی ہے، اور اس کامیابی کو پاکستان میں روایتی و جدید کھیلوں کی ترقی کے لیے ایک بہترین پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر میں اکثریتی جماعت نہیں ہے، لیکن افسوس کی بات ہے کہ اس کے باوجود مسلم لیگ (ن) پر دھاندلی کے بے بنیاد الزامات عائد کیے گئے۔ مری میں آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں دنگا فساد اور منفی سیاست کرنے والوں کو عوام نے اپنے ووٹ کی طاقت سے رد کر دیا ہے۔ شرپسند عناصر پاکستان اور آزاد کشمیر کے عوام کے درمیان دراڑیں ڈالنا چاہتے ہیں، لیکن ایسے عناصر کے لیے صرف شکست فاش ہے۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا مزید کہنا تھا کہ کشمیری عوام بخوبی جانتے ہیں کہ وفاق اور پنجاب میں عوامی فلاح و بہبود کے لیے کیا کام ہو رہا ہے۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی آزاد کشمیر میں سڑکوں اور بسوں کی سہولیات کا وعدہ تک نہیں کر سکی، کیونکہ جہاں ان کی 17 سال سے حکومت ہے وہاں وہ کچھ نچلا کام نہیں کر سکے۔
سیاسی مخالفت کو دشمنی میں تبدیل نہ کیا جائے: میاں نواز شریف
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ سیاست میں نظریاتی مخالفت ہوتی ہے، لیکن اس مخالفت کو اتنی حد تک نہیں بڑھنا چاہیے کہ وہ ذاتی دشمنی میں تبدیل ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ اچھا سلوک کیا ہے۔ آزاد کشمیر کا سیاسی ماحول ہمیشہ افہام و تفہیم، رواداری اور باہمی احترام پر مبنی رہا ہے، اور اگر اس کے اندر دشمنی کے جراثیم داخل ہو جائیں تو یہ کسی صورت اچھی بات نہیں ہے۔
نواز شریف نے زور دے کر کہا کہ آزاد کشمیر کی ترقی کے لیے زیادہ سے زیادہ فنڈز فراہم کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے ابتدائی دو مرحلوں میں ن لیگ کو کامیابی ملی ہے اور عوام نے ایک بار پھر پارٹی کی قیادت اور کارکردگی پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے، تاہم ہمیں اپنے اچھے امیدواروں کی شکست کے عوامل کا بھی باریک بینی سے جائزہ لینا ہوگا۔
قائد ن لیگ نے کہا کہ اگر پارٹی نے عوام کی توقعات کے مطابق کام نہ کیا تو یہاں کے لوگ ناراض ہوں گے۔ آزاد کشمیر میں معياری سڑکیں، جدید ہسپتال اور تعلیمی سہولیات فراہم ہونی چاہئیں، کیونکہ آزاد کشمیر کا ہر بچہ بھی چاہتا ہے کہ اس کے ہاتھ میں جدید لیپ ٹاپ ہو۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی دن رات کی محنت سے ملک معاشی اور انتظامی طور پر آگے بڑھ رہا ہے۔
کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا میں واقع پاکستان کے ہائی کمیشن سمیت مونٹریال، ٹورنٹو اور وینکوور میں قائم پاکستان کے تینوں قونصل جنرلز کے زیرِ اہتمام پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی کی انتہائی پروقار، عظمت والی اور روح پرور تقریبات منعقد کی گئیں۔ ان تاریخی تقریبات کا ایک اور نہایت اہم اور دلکش پہلو بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یومِ پیدائش کی سال بھر جاری رہنے والی خصوصی تقریبات کا باقاعدہ آغاز تھا، جس نے کینیڈا میں مقیم پاکستانی برادری کے ملی جوش و جذبے کو دوبالا کر دیا۔
اوٹاوا میں پاکستان ہائی کمیشن کی چانسری میں مرکزی اور پُرجوش پرچم کشائی کی تقریب کا اہتمام کیا گیا، جس میں کینیڈا بالخصوص گریٹر اوٹاوا کے علاقے سے تعلق رکھنے والی پاکستانی کمیونٹی کی معزز شخصیات، خواتین، بچوں، مقامی کینیڈین شہریوں اور پاکستان کے دوستوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے فوراً بعد پاکستان کے قومی ترانے کی دلکش اور باوقار دھن کے ساتھ ہی قومی پرچم فضا میں لہرایا گیا اور پورا احاطہ “پاکستان زندہ باد” کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھا۔
صدر، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم کے خصوصی پیغامات
تقریب کے ابتدائی مرحلے میں سفارتی مشن کے اعلیٰ حکام نے پاکستان کی اعلیٰ ترین القيادت کے یومِ آزادی کی مناسبت سے بھیجے گئے خصوصی اور فکر انگیز پیغامات تمام حاضرین کو پڑھ کر سنائے۔ جن میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم محمد شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کے پیغامات شامل تھے۔ پیغامات میں ملکی آزادی کی تاریخ، بانیانِ پاکستان کی لائقِ تحسین قربانیوں، اوورسیز پاکستانیوں کے بے مثال معاشی و سفارتی کردار اور ملک و قوم کو درپیش چیلنجز پر قابو پانے کے لیے اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط کے اصولوں پر کاربند رہنے کی اہمیت پر زور دیا گیا تھا۔
قائداعظم کے 150ویں یومِ پیدائش کی تقریبات، تصویری نمائش اور ڈاکیومنٹری
اس مبارک موقع پر بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یومِ پیدائش کی مناسبت سے سال بھر جاری رہنے والی خصوصی تقریبات کی افتتاحی مہم کا باقاعدہ آغاز بھی کیا گیا۔ اس سلسلے میں ہائی کمیشن کے احاطے میں قائداعظم محمد علی جناح کی بے مثال زندگی، قیادت اور قیامِ پاکستان کی تاریخی و بے باک جدوجہد پر مبنی ایک اعلیٰ معیار کی دستاویزی فلم پیش کی گئی، جسے حاضرین نے انتہائی دلچسپی سے دیکھا۔
علاوہ ازیں، بانیٔ پاکستان کی زندگی کے یادگار و تاریخی لمحات، تحریکِ پاکستان کے اہم موڑ اور پاکستان کے قائم ہونے سے لے کر اب تک کے تاریخی سنگِ میل پر مبنی ایک شاندار ڈیجیٹل تصویری نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا۔ تصویری نمائش نے نوجوان نسل اور بچوں کو اپنے آباؤ اجداد کی قربانیوں اور قائد کی بے مثال قیادت سے آگاہی حاصل کرنے کا نایاب اور بہترین موقع فراہم کیا۔
ہائی کمشنر محمد سلیم کا تقریب سے بصیرت افروز خطاب
تقریب کے مرکزی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کینیڈا میں پاکستان کے ہائی کمشنر محمد سلیم نے کینیڈا میں مقیم تمام پاکستانیوں اور پوری قوم کو یومِ آزادی کے پرمسرت موقع پر دلی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح اور ان کے رفقائے کار کی ناقابلِ فراموش خدمات اور لازوال ورثے کو زبردست الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔
ہائی کمشنر نے اپنے خطاب میں اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومتِ پاکستان قائداعظم کے متعین کردہ وژن کے مطابق ایک پُرامن، جمہوریت پسند، ترقی یافتہ اور خوشحال پاکستان کی تعمیر و تشکیل کے لیے اپنے عزم پر پوری طرح قائم و دائم ہے۔ ہائی کمشنر محمد سلیم کا کہنا تھا:
“پاکستان نے ہمیشہ بین الاقوامی سطح پر امن، بات چیت، باہمی احترام اور ریاستوں کے درمیان تعاون کو فروغ دیا ہے اور مستقبل میں بھی دنیا بھر میں امن و استحکام کے لیے اپنا مثبت اور مؤثر سفارتی کردار جاری رکھے گا۔”
انہوں نے کینیڈا اور پاکستان کے دوطرفہ تعلقات کی مظبوطی پر بات کرتے ہوئے کینیڈا میں مقیم اوورسیز پاکستانی کمیونٹی کی خدمات کو شاندار الفاظ میں سراہا۔ ہائی کمشنر نے کہا کہ کینیڈا میں آباد پاکستانی اپنے اخلاق، محنت، پیشے اور علمی صلاحیتوں کی بدولت نہ صرف کینیڈین معاشرے کی ترقی میں اپنا اہم ترین حصہ ڈال رہے ہیں بلکہ عوامی سطح کے روابط کو مضبوط بناتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان ایک پائیدار اور مضبوط پل کا کام بھی انجام دے رہے ہیں۔
پاک مساوات، مسلح افواج کو خراجِ تحسین اور جوانوں کا جذبہ
تقریب میں شرکت کرنے والے کینیڈین اور پاکستانی خاندانوں، بالخصوص نوجوانوں اور بچوں کی شمولیت نے تقریب کے ماحول کو حب الوطنی اور قومی یکجہتی کے رنگوں سے بھر دیا۔ شرکاء نے ملک کی سرحدوں کی حفاظت، ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاعِ وطن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والی پاکستان کی بہادر مسلح افواج اور غیور عوام کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔
تقریب کے شرکاء کا کہنا تھا کہ قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یومِ پیدائش کا سال بھر جاری رہنے والا سلسلہ ہماری نئی اور آنے والی نسلوں کو بانیٔ پاکستان کے بلند اصولوں، دوراندیشی اور وژن سے رہنمائی حاصل کرنے کا ایک عظیم اور تحریکی موقع فراہم کرے گا۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ وہ بیرونِ ملک رہتے ہوئے بھی اپنے وطنِ عزیز کی معاشی و سماجی ترقی کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔
اوٹاوا، ٹورنٹو، مونٹریال اور وینکوور میں یومِ آزادی کا جوش و خروش
اوٹاوا کے علاوہ مونٹریال، ٹورنٹو اور وینکوور کے قونصلیٹ جنرلز میں بھی پرچم کشائی کی علیحدہ اور پروقار تقریبات منعقد کی گئیں، جہاں قونصل جنرلز نے پاکستانی پرچم لہرائے اور اپنی اپنی تحویل کے علاقوں میں رہنے والی پاکستانی کمیونٹی کو یکجا کیا۔ ان تمام تقریبات میں قائداعظم کے 150ویں یومِ پیدائش کے حوالے سے شمعیں روشن کی گئیں اور خصوصی تقریبات منعقد کی گئیں۔
تقریب کے اختتامی مرحلے پر ہائی کمشنر محمد سلیم نے سفارتی حکام، کمیونٹی کے معززین اور بچوں کے ساتھ مل کر یومِ آزادی اور قائد کے 150ویں یومِ پیدائش کی خوشی میں خصوصی کیک کاٹا۔ تقریب کے اختتام پر وطنِ عزیز کی ترقی، سلامتی اور پائیدار امن کے لیے اجتماعی دعائیں کی گئیں اور حاضرین کی تواضع روایتی پاکستانی کھانوں اور مٹھائیوں سے کی گئی۔
چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے ماہِ ربیع الاول کی آمد کے بابرکت موقع پر پوری امتِ مسلمہ اور بالخصوص پاکستانی قوم کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ماہِ مقدس نبی کریم حضرت محمد مصطفٰے ﷺ کی ولادتِ باسعادت کا مہینہ ہے، جو پوری انسانیت کے لیے ہدایت، رحمت، امن اور رواداری کا پیغام لے کر آیا۔
ہفتے کے روز جاری کردہ اپنے خصوصی پیغام میں چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ سیرتِ طیبہ ﷺ زندگی کے ہر شعبے میں کامل رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ آپ ﷺ نے انسانیت کو عدل و انصاف، مساوات، صبر، بھائی چارے اور حقوق العباد کے احترام کا درس دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ ربیع الاول کا مہینہ ہمیں اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں کو اسوہ حسنہ کے سانچے میں ڈھالنے کے عہد کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے۔
سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ امتِ مسلمہ کو درپیش موجودہ چیلنجز کا واحد حل اتحاد، باہمی احترام، اور افہام و تفہیم پر مبنی حکمتِ عملی میں مضمر ہے۔ انہوں نے قوم پر زور دیا کہ اس مبارک مہینے میں غریب، نادار اور مستحق افراد کو اپنی خوشیوں میں شامل کریں۔ چیئرمین سینیٹ نے ملکی دفاع اور سلامتی کے لیے قربانیاں دینے والے شہدائے وطن کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے درجات کی بلندی کی دعا کی اور التجا کی کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو درپیش بحرانوں سے نجات اور پائیدار امن و خوشحالی عطا فرمائے۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اس کے خلاف مسلسل بلاجواز پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، جو ملکی جمہوریت اور سیاسی ماحول کے لیے کسی طور مناسب نہیں۔
ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر زور دیا کہ وہ بے بنیاد اور غلط معلومات پھیلانے کی سیاست ترک کر کے قومی مفاد کے اہم امور پر حکومت کے ساتھ سنجیدہ اور معنی خیز مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ منفی طرزِ عمل اور محاذ آرائی سے موجودہ سیاسی ماحول مزید پیچیدہ ہوگا، جبکہ درپیش قومی چیلنجز کے حل کے لیے سنجیدہ بات چیت ہی واحد حل ہے۔
ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے واضح کیا کہ جمہوری نظام کو غیر مستحکم کرنے یا مفلوج کرنے کی کوششوں سے کسی بھی فریق کا مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ملک کا وفاقی دارالحکومت ہے اور یہاں آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کسی کو بھی اپنی قانونی و سیاسی سرگرمیاں انجام دینے سے نہیں روکا جاتا۔ تاہم، سیاسی فائدے کے لیے معاشرے میں بے چینی، نفرت اور انارکی پھیلانا بلاشبہ ناقابلِ قبول اور ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے شور پرود کے پہاڑی سلسلے میں فتنہ الخوارج کے خلاف انتہائی کامیاب اور مؤثر آپریشن کرنے پر سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو زبردست الفاظ میں سراہتے ہوئے خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ اس کامیاب کارروائی کے دوران 10 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔
وزیرِ اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری کردہ سرکاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ انسانیت کے دشمن اور ملک کا امن تباہ کرنے والے دہشت گردوں کے خلاف یہ کامیاب آپریشن ہماری سیکیورٹی فورسز کی اعلیٰ تدبیر، جرات اور بہترین جنگی مہارت کا واضع مظہر ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم دہشت گردی کی اس لعنت کے خلاف جنگ میں اپنے باہمت اور جری سیکیورٹی اداروں کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور سیکیورٹی ادارے ملکِ پاکستان سے ہر قسم کی دہشت گردی اور انتہا پسندی کے مکمل خاتمے کے لیے پور خلوص اور عزم کے ساتھ کوشاں ہیں اور پاک دھرتی سے آخری دہشت گرد کے خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی۔