یومِ استحصالِ کشمیر: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا سلامتی کونسل کی صدر کو خط، 5 اگست 2019ء کے اقدامات واپس لینے کا مطالبہ

محمود احمد, August 06,2026

اقوامِ متحدہ / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 اگست 2026ء

پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے 5 اگست 2019ء کو بھارت کی جانب سے کیے گئے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کی ساتویں برسی کے موقع پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدر اور ڈنمارک کی مستقل مندوب عزت مآب کرسٹینا مارکس لاسن کو ایک اہم اور تفصیلی خط ارسال کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے یہ خط رسمی طور پر سلامتی کونسل کی صدر کے حوالے کیا۔ خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ بھارت کے 5 اگست 2019ء کے اقدامات سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں، بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے منشور کی کھلی خلاف ورزی ہیں، جن کے ذریعے مقبوضہ جموں و کشمیر کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو ختم کرنے کی ناکام کوشش کی گئی۔

نائب وزیراعظم نے خط میں سلامتی کونسل کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ بھارت مقبوضہ وادی کی آبادیاتی (ڈیموگرافک)، سیاسی اور ثقافتی شناخت کو مسخ کرنے کی منظم سازش کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے ڈومیسائل قوانین اور اراضی کی ملکیت کے ضوابط بدل کر تقریباً 34 لاکھ غیر مقامی افراد کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔

خط میں مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی زبوں حالی پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا، جس میں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، من مانی گرفتاریوں اور پبلک سیفٹی ایکٹ ، آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون جیسے کاالے قوانین کے نفاذ کا حوالہ دیا گیا۔ علاوہ ازیں، شبیر احمد شاہ، یاسین ملک اور آسیہ اندرابی سمیت ممتاز حریت قیادت کی قید اور 16 سیاسی تنظیموں پر عائد پابندیوں کو اجاگر کیا گیا۔

مذہبی آزادی کی پامالی کا ذکر کرتے ہوئے خط میں جامع مسجد سری نگر میں نماز پر پابندی، دینی مدارس کی بندش، کمیونٹی کے 215 اسکولوں کی سرکاری تحویل اور وقف (ترمیمی) قانون کے منفی اثرات کا بھی احاطہ کیا گیا۔

نائب وزیراعظم نے متنبہ کیا کہ مقبوضہ وادی میں 7 سے 9 لاکھ بھارتی فوجیوں کی موجودگی، بھارتی قیادت کے اشتعال انگیز بیانات اور سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی سے جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔

پاکستان نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت پر 5 اگست 2019ء کے اقدامات کی واپسی، ڈیموگرافی کی تبدیلی کی روک تھام اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق مذاکراتی عمل شروع کرنے کے لیے دباؤ ڈالے۔ ساتھ ہی اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مساعیٔ جمیلہ کو بروئے کار لاتے ہوئے تنازع کشمیر کے پائیدار حل میں اپنا مرکزی کردار ادا کریں۔

عمان میں پاک صومالیہ وزرائے خارجہ ملاقات: اسحاق ڈار اور عبدالسلام عبدی علی کا دوطرفہ تعاون و مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلۂ خیال

محمود احمد, August 05,2026

عمان / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء

نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اردن کے دارالحکومت عمان میں مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق منعقدہ اہم وزارتی اجلاس کے موقع پر صومالیہ کے وزیرِ خارجہ و بین الاقوامی تعاون عبدالسلام عبدی علی سے ایک اہم ملاقات کی۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق بدھ کے روز ہونے والی اس ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور صومالیہ کے درمیان قائم دیرینہ، تاریخی اور برادرانہ تعلقات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر سیاسی، اقتصادی، دفاعی، تعلیمی اور مختلف شعبوں میں استعداد کار میں اضافے (کیپیسٹی بلڈنگ) کے لیے دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کے امکانات پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔

دونوں وزرائے خارجہ نے اقوامِ متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم جیسے کثیر الجہتی بین الاقوامی فورمز پر قریبی رابطہ، ہم آہنگی اور باہمی تعاون کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

ملاقات کے دوران علاقائی صورتحال بالخصوص مشرقِ وسطیٰ کے تازہ ترین حالات اور مشرقی بیت المقدس میں تیزی سے بگڑتی ہوئی سیکیورٹی و انسانی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا اور اس حوالے سے یکساں موقف اپنانے پر زور دیا گیا۔

انقرہ: پاکستانی سفارت خانے میں یومِ استحصالِ کشمیر کی پُرتقار تقریب، مسئلہ کشمیر کے قانونی و انسانی پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی

منصور احمد, August 05,2026

انقرہ (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء

انقرہ میں قائم پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر ایک خصوصی اور وقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں مسئلۂ کشمیر کے تاریخی، قانونی اور انسانی پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ علاقائی امن اور بین الاقوامی قوانین پر اس کے اثرات کا احاطہ کیا گیا۔

پاکستان کے انقرہ میں قائم سفارتخانے اور ترکیہ کے معروف ادارے ‘اکنامک اینڈ سوشل ریسرچ سینٹر’ کے باہمی اشتراک سے منعقد کی گئی اس تقریب میں ترک سول سوسائٹی کے نمائندوں، ممتاز ماہرینِ تعلیم، محققین اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انقرہ میں پاکستان کے سفارت خانے کے قونصلر عمار امین نے بھارت کے 5 اگست 2019ء کے یکطرفہ اور غاصبانہ اقدامات کو مکمل طور پر غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا بنیادی مقصد مقبوضہ کشمیر کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو تبدیل کرنا تھا۔ انہوں نے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق کی پاسداری اور آزادیٔ اظہار کے احترام پر زور دیا۔

اس موقع پر ڈپٹی ہیڈ آف مشن شائق احمد بھٹو نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ اور پائیدار حل ہی خطے میں دیرپا امن کی ضمانت دے سکتا ہے۔

تقریب سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے ترک رہنما اور ای ایس اے ایم کے صدر مصطفیٰ کایا نے کہا کہ کشمیر اور فلسطین 21ویں صدی کے اہم ترین حل طلب انسانی اور سیاسی مسائل ہیں۔ تقریب کے تمام مقررین نے اس بات پر مکمل اتفاق کیا کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی پاس کردہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حقِ خودارادیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

ججز تقرری کی سمری پر صدارتی منظوری کا تنازع: اسلام آباد ہائی کورٹ میں صدرِ مملکت کو منظوری کی ہدایت کے لیے آئینی درخواست دائر

منصور احمد, August 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء

مختلف ہائی کورٹس میں ججز کی تقرری کی سمری پر صدرِ مملکت کی جانب سے تاحال منظوری نہ دینے کے معاملے پر قانونی و آئینی تنازع شدید تر ہو گیا ہے، جس کے بعد اس اہم معاملے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے صدر کو سمری فوری منظور کرنے کی ہدایت جاری کرنے کی استدعا کر دی گئی ہے۔

ایڈووکیٹ لقمان ظفر نے ایڈووکیٹ زاہد آصف چوہدری کی وساطت سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک آئینی درخواست دائر کی، جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالتِ عالیہ صدرِ مملکت کو بذریعہ سیکرٹری ہدایت جاری کرے کہ وہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (JCP) کی جانب سے بھیجی گئی ججز کی تقرری سے متعلق سمری کو بلاتاخیر منظور کریں۔

درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے رواں سال 20 اور 21 جولائی کو منعقدہ اپنے اجلاسوں میں ملک کی مختلف ہائی کورٹس کے لیے 19 ججز کی تقرری کی سفارشات کی منظوری دے کر سمری ایوانِ صدر ارسال کی تھی، تاہم کافی دن گزر جانے کے باوجود صدرِ مملکت کی جانب سے اس کی منظوری نہیں دی گئی۔

درخواست گزار نے استدعا کی ہے کہ ججوں کی تقرری کے آئینی عمل کو مکمل کرنا ریاست کے اہم ستونوں کی کارکردگی اور سائلین کو انصاف کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہے، لہٰذا عدالت صدرِ مملکت کو آئین اور قانون کی روشنی میں فوری طور پر تقرری کی سمری پر صحافتی اور قانونی کارروائی مکمل کرنے کے احکامات صادر فرمائے۔

یومِ استحصالِ کشمیر: اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد کا پیغام، حقِ خودارادیت کی غیر مشروط حمایت کا اعادہ

محمود احمد, August 05,2026

نیویارک / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ان کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کے لیے پاکستان کی غیر مشروط اور مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019ء کے یکطرفہ اور غیر قانونی بھارتی اقدامات کو سات برس مکمل ہونے کے باوجود بھارتی غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال بدستور شدید تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے نشاندہی کی کہ بنیادی انسانی حقوق اور آزادیوں کی مسلسل پامالی، طویل پابندیاں، آبادی کے تناسب (ڈیموگرافی) میں تبدیلی کی غیر قانونی کوششیں اور زمینی حقائق کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کے بھارتی اقدامات نہ تو جموں و کشمیر کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو ختم کر سکتے ہیں اور نہ ہی کشمیری عوام کی بھارتی تسلط سے آزادی کی جائز خواہش کو دبا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے منشور، سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پُرامن حل کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری اور بالخصوص اقوامِ متحدہ پر پرزور انداز میں زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کے احترام کو یقینی بنانے، مقبوضہ وادی کے عوام کے انسانی حقوق کے تحفظ اور سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کے لیے اپنے تمام مؤثر اور عملی اقدامات کو آگے بڑھائے۔

پاکستانی مندوب نے کشمیری عوام کی استقامت، بہادری اور بے مثال قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہائیوں پر محیط مظالم کے باوجود ان کی جدوجہدِ آزادی ثابت قدمی سے جاری ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ پاکستان اپنے کشمیری بہن بھائیوں کی مکمل حمایت اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک انہیں ان کا حقِ خودارادیت نہیں مل جاتا۔

وفاقی وزیر احسن اقبال کی زیرِ صدارت سی پیک کی 91ویں جائزہ کمیٹی کا اجلاس: ‘سی پیک 2.0’ کے تحت 5 نئے راہداری منصوبوں پر عملدرآمد کی ہدایت

کاشف عباسی , August 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال کی زیرِ صدارت سی پیک منصوبہ جات جائزہ کمیٹی اور قومی سٹیئرنگ کمیٹی کا 91واں اہم اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سی پیک کے تحت بنیادی ڈھانچے، توانائی، پیٹرولیم، آبی وسائل، خوراک و زراعت، مشترکہ ورکنگ گروپس (جے ڈبلیو جیز) اور خصوصی اقتصادی زونز پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ ‘سی پیک 2.0’ پاکستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے امکانات کے نئے باب کھول رہا ہے، جس سے پہلے مرحلے میں توانائی اور بنیادی ڈھانچے میں ہونے والی بھاری سرمایہ کاری کے ثمرات حاصل کیے جائیں گے۔ انہوں نے تمام وزارتوں کو ہدایت کی کہ وہ سی پیک 2.0 کی پانچ مرکزی راہداریوں—ترقی، روزگار، انوویشن، ماحول دوست ترقی اور علاقائی روابط—پر مبنی منصوبوں کو تیز رفتار اور مؤثر انداز میں نافذ کریں۔

اجلاس کے دوران بیجنگ میں پاکستان مشن اور مختلف ورکنگ گروپس کے کنوینرز نے 15ویں جوائنٹ کواپریشن کمیٹی کے آنے والے اجلاس کی تیاریوں سے آگاہ کیا۔

وفاقی وزیر نے کراچی کوسٹل کمپری ہینسو ڈویلپمنٹ زون منصوبے میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزارتِ بحری امور، حکومتِ سندھ اور بورڈ آف انویسٹمنٹ کو ہدایت کی کہ چینی کمپنی کے ساتھ مل کر ایک ہفتے کے اندر تمام زیرِ التوا تکنیکی مسائل حل کریں تاکہ معاہدے صرف کاغذی حد تک نہ رہیں۔

چینی یونیورسٹیوں میں ایک ہزار زرعی گریجویٹس کی تربیت کے پروگرام کے حوالے سے وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ حاصل کردہ مہارتوں کو پاکستان کے زرعی شعبے کی جدید کاری، مصنوعی ذہانت پر مبنی زراعت، ڈیجیٹل ایکسٹینشن سروسز اور بائیو ٹیکنالوجی کے لیے استعمال کیا جائے اور اس کے لیے آئندہ 5 برسوں کا جامع روڈ میپ پیش کیا جائے۔

اجلاس میں گوادر پورٹ اور فری زون کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی کے منصوبوں پر بھی غور کیا گیا۔ علاوہ ازیں، نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے قراقرم ہائی وے فیز II کے مالیاتی امور پر بریفنگ دی۔ احسن اقبال نے واضح کیا کہ 2028ء کی مقررہ مدت اہم ہے، اگر چین کی طرف سے مالیاتی منظوری میں تاخیر ہوئی تو دیامر بھاشا ڈیم کی جھیل کے باعث سڑک زیرِ آب آنے سے بچانے کے لیے پاکستان اپنے ملکی وسائل سے تعمیراتی کام کا آغاز کر دے گا۔

اجلاس میں وزارتِ خارجہ، داخلہ، مواصلات، پاور ڈویژن، پیٹرولیم ڈویژن، بورڈ آف انویسٹمنٹ، گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور سی پیک سیکریٹریٹ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

یومِ استحصالِ کشمیر, 5 اگست تاریخ کا سیاہ ترین دن، بھارت کشمیریوں کی شناخت کبھی نہیں مٹا سکتا، مشعال حسین ملک

محمود احمد, August 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء

حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ اور چیئرپرسن پیس اینڈ کلچر آرگنائزیشن مشعال حسین ملک نے کہا ہے کہ 5 اگست 2019ء کے یک طرفہ اور غیر قانونی اقدامات کی آڑ میں بھارت نے اپنے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر کی جغرافیائی اور آبادیاتی (ڈیموگرافک) حیثیت کو تبدیل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے، مگر کشمیریوں کی منفرد شناخت، تاریخ اور ان کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو کسی طاقت سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر اپنے جاری کردہ خصوص پیغام میں مشعال حسین ملک نے کہا کہ 5 اگست کشمیریوں کی تاریخ کا ایک سیاہ ترین دن ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ تہار اور دیگر بھارتی جیلوں میں محصور حریت قیادت بدترین مظالم برداشت کر رہی ہے، لیکن اس کے باوجود آزادی کی تحریک اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹی اور یہ جدوجہد اپنی منزل کے حصول تک مکمل تندہی سے جاری رہے گی۔

انہوں نے عالمی برادری اور بین الاقوامی اداروں سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ وادی کے غیور عوام کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی پاس کردہ قراردادوں کے مطابق ان کا بنیادی اور پیدائشی حقِ خودارادیت دلانے کے لیے اپنا اثر و رسوخ اور عالمی کردار ادا کریں۔

مشعال حسین ملک نے بھارتی غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر کے غیر متزلزل عوام کو یقین دہانی کرائی کہ پاکستان، آزاد کشمیر اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری تارکینِ وطن ہر مشکل گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہمیشہ بین الاقوامی سطح پر ان کی مظلوم آواز بنتے رہیں گے۔ انہوں نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ لاکھوں قربانیوں کی بدولت لکھی گئی تحریکِ آزادی کو کوئی جابرانہ طاقت ختم نہیں کر سکتی اور مقبوضہ وادی کے عوام کے ساتھ پاکستان کا رشتہ لازوال ہے۔

لاس اینجلس: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ کی ایک اور مبینہ سازش ناکام، مسلح ملزم گرفتار

محمود احمد, August 05,2026

لاس اینجلس (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء

امریکی سیکورٹی اداروں نے سابق صدر اور ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ پر ایک اور مبینہ قاتلانہ سازش کو بروقت ناکام بنانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کیلیفورنیا میں ایک مسلح شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزم کو لاس اینجلس کے علاقے میں واقع صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملکیت کے گالف کورس کے قریب سے حراست میں لیا گیا جہاں صدر ٹرمپ کو ریپبلکن پارٹی کے ایک چندہ جمع کرنے والے عشائیے میں شرکت کرنا تھی۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں تفتیش کاروں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ 38 سالہ جینین جان ٹائیلے کو رانچو پالوس وردیس میں واقع ٹرمپ نیشنل گالف کورس کے احاطے سے ایک پستول اور غیر قانونی ممنوعہ گولہ بارود کے ساتھ پایا گیا۔ لاس اینجلس شیرف ڈیپارٹمنٹ کے مطابق ملزم کو گالف کورس کے ارد گرد گھومتے ہوئے، تصاویر اور ویڈیوز بناتے ہوئے اور سیکورٹی پلاننگ کی باریک بینی سے نگرانی کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

حکام کے مطابق گرفتاری اتوار کی دوپہر کو عمل میں آئی۔ ڈونلڈ ٹرمپ ان دنوں ریاست کیلیفورنیا کے دورے پر ہیں تاکہ اسی گالف کورس میں منعقدہ پارٹی کے فنڈ ریزنگ ایونٹ میں شرکت کر سکیں۔ ملزم ٹائیلے کو آتشیں اسلحہ چھپا کر رکھنے اور بکتر شکن و ممنوعہ گولہ بارود پاس رکھنے کے سنگین الزامات میں حراست میں رکھا گیا ہے۔

شیرف ڈیپارٹمنٹ کے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹائیلے کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب سادہ لباس میں ملبوس وفاقی اہلکاروں نے مقامی حکام کو گالف کورس کے قریب ایک مشکوک شخص کی موجودگی کی اطلاع دی۔ پولیس کی جانب سے سامنا کرنے پر انکشاف ہوا کہ ملزم ایل سیگونڈو پولیس ڈیپارٹمنٹ کو ڈکیتی کے ایک مقدمے میں بھی مطلوب تھا۔ ایل سیگونڈو کا علاقہ رانچو پالوس وردیس سے تقریباً 25 کلومیٹر شمال میں واقع ایک خوشحال ساحلی علاقہ ہے۔

پولیس کی جانب سے ملزم کی تلاشی لیے جانے پر اس کے پاس سے 16 گولیوں والی ایک میگزین برآمد ہوئی جو انتہائی خطرناک ‘ہالو پوائنٹ’ گولیوں سے بھری ہوئی تھی، جبکہ گالف کورس کی پارکنگ میں کھڑی اس کی گاڑی سے ایک اور بھرا ہوا پستول اور ہالو پوائنٹ گولیوں سے بھری مزید میگزین برآمد کی گئی۔ واضح رہے کہ ہالو پوائنٹ گولیاں ہدف سے ٹکراتے ہی پھیل جاتی ہیں جس سے جسمانی اعضا کو شدید ترین نقصان پہنچتا ہے، جبکہ ریاست کیلیفورنیا میں 10 سے زیادہ گولیوں والی میگزین پر قانونی پابندی عائد ہے۔

ڈبلیو ایچ او کا انکشاف: جمہوریہ کانگو میں ایبولا کی تاریخ کی سب سے بڑی وبا کا پھیلاؤ، پہلی ویکسین اور علاج کے لیے تحقیق میں پیش رفت جاری

محمود احمد, August 05,2026

جنیوا (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء

عالمی ادارہ صحت نے بتایا ہے کہ جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کی انتہائی خطرناک ‘بُنڈی بُگیو’ قسم کی تاریخ کی سب سے بڑی وبا کے دوران موثر علاج کی دریافت اور دنیا کی پہلی ویکسین کی تیاری کے لیے سائنسی تحقیق میں تیز رفتار پیش رفت جاری ہے، تاہم اس کے حتمی نتائج سامنے آنے میں ابھی کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔

اماراتی نیوز ایجنسی (وام) کے مطابق جنیوا میں عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ وبا کی سنگینی کو مدِنظر رکھتے ہوئے تحقیقی آزمائشیں ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی کے ساتھ شروع کی گئیں کیونکہ جامع تحقیقاتی منصوبے وبا کے باضابطہ اعلان سے پہلے ہی تیار کر لیے گئے تھے۔

ڈبلیو ایچ او کے قائمقام سربراہ برائے تحقیق و ترقی ڈاکٹر واسی مورتی نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ایبولا وائرس کی اس مخصوص بُنڈی بُگیو قسم کے لیے فی الوقت دنیا میں کوئی بھی محفوظ اور موثر علاج یا منظور شدہ ویکسین دستیاب نہیں ہے۔ تاہم، انہوں نے انکشاف کیا کہ برطانیہ میں 24 جولائی کو پہلے مرحلے کی ویکسین آزمائش کا کامیابی سے آغاز ہو چکا ہے، جبکہ کینیڈا میں بھی آئندہ چند دنوں کے اندر ایک اور ہنگامی کلینیکل ٹرائل شروع کیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر واسی مورتی کے مطابق ابتدائی طبی آزمائشیں فیریٹس اور بندروں پر کی جا رہی ہیں، جن سے حاصل ہونے والے نتائج اور ڈیٹا کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد عالمی ادارہ صحت انسانوں پر آزمائش اور اگلے مرحلے کا باضابطہ فیصلہ کرے گا۔

عالمی ادارہ صحت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق یکم اگست تک جمہوریہ کانگو میں ایبولا کی اس جان لیوا وبا کے 3,748 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں سے 1,657 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ 708 مریض علاج کے بعد صحت یاب ہوئے ہیں۔

یومِ استحصالِ کشمیر کے 7 سال: بھارت کے 5 اگست 2019ء کے اقدامات متنازع حیثیت تبدیل کرنے کی سازش تھے، دفتر خارجہ

منصور احمد, August 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء

پاکستان نے بھارت کے 5 اگست 2019ء کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کے سات برس مکمل ہونے کے موقع پر دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ان تمام سیاہ اقدامات کا بنیادی مقصد بھارتی غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو تبدیل کرنا اور خطے کی ڈیموگرافی کو مسخ کرنا تھا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کی جانب سے یومِ استحصال کے موقع پر جاری کردہ باضابطہ بیان میں اس عزم کا بھرپور اعادہ کیا گیا ہے کہ پاکستان جموں و کشمیر کے غیور عوام کے حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے جاری ان کی منصفانہ اور تاریخی جدوجہد کی ہر سطح پر بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔ بیان میں مقبوضہ وادی کے عوام کی غیر معمولی جرات، استقامت، ثابت قدمی اور طویل ریاستی جبر کے خلاف غیر متزلزل عزم کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے مزید واضح کیا کہ پاکستان، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے عین مطابق کشمیری عوام کے پیدائشی حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے اپنی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا، اور جب تک کشمیریوں کو ان کا جائز حق نہیں مل جاتا، پاکستان عالمی فورمز پر ان کا مؤثر اور توانا ترجمان بنا رہے گا۔

5 اگست 2019ء: کشمیری شناخت اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا سیاہ ترین باب، یومِ استحصالِ کشمیر پر خصوصی رپورٹ

کاشف عباسی , August 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء

پانچ اگست 2019ء کا دن بھارتی غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر کی تاریخ میں کشمیری شناخت، حقِ خودارادیت اور عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کا ایک انتہائی سیاہ باب ہے۔ بھارت کی جانب سے 5 اگست 2019ء کو بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو یکطرفہ طور پر منسوخ کر کے مقبوضہ علاقے کی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کیا گیا، جس کے خلاف ہر سال 5 اگست کو یومِ استحصالِ کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے تاکہ عالمی برادری کی توجہ کشمیریوں کے قومی تشخص اور ان پر جاری بھارتی مظالم کی جانب مبذول کروائی جا سکے۔

یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر جاری کی گئی ایک خصوصی دستاویزی فلم میں 77 سال سے جاری بھارتی بربریت، ریاستی جبر اور کشمیری عوام کے مصائب کو تفصیل کے ساتھ عکاس کیا گیا ہے۔ انٹرنیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی فوج کی جانب سے اب تک اغوا کیے گئے 7,151 افراد میں سے 4,190 کشمیری تاحال لاپتہ ہیں، جبکہ 2025ء کے پہلے آٹھ مہینوں کے دوران بھارتی فوج کی غیر قانونی حراست میں 113 اور عدالتی حراست کے دوران 1,535 کشمیریوں کو بے دردی سے شہید کیا گیا۔

عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس کے مطابق مقبوضہ علاقے کی معیشت اور انسانی صورتحال انتہائی دباؤ کا شکار ہے۔ جموں و کشمیر چیمبر آف کامرس کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بھارتی حکومت کی جانب سے نافذ کردہ طویل کرفیو اور مواصلاتی بندش کے باعث صرف سیاحت کے شعبے سے وابستہ 44,500 کشمیری بیروزگار ہو چکے ہیں۔ علاوہ ازیں، برطانوی اخبار ‘دی گارڈین’ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی شائع کردہ رپورٹس کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں 2 ہزار سے زائد اجتماعی قبریں دریافت ہو چکی ہیں، جہاں 10 لاکھ سے زائد قابض بھارتی فوج کو خصوصی اور استثنائی اختیارات حاصل ہیں جن کے تحت وہ کسی بھی قانونی جواب دہی سے مبرا ہیں۔

خصوصی رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کوئی سادہ علاقائی تنازع نہیں بلکہ اقوامِ متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ڈیڑھ کروڑ انسانوں کے حقِ خودارادیت کا تسلیم شدہ مسئلہ ہے۔ شدید ترین بھارتی سیکیورٹی پابندیوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے باوجود کشمیری عوام اپنے بنیادی حقوق اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت کے مطالبے پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ حکومتِ پاکستان اور پاکستانی قوم ہر سال 5 اگست کو یومِ استحصالِ کشمیر منا کر 5 اگست 2019ء کے غیر قانونی بھارتی اقدامات کی شدید مذمت کرتی ہے اور کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ اپنے مکمل عزم اور یکجہتی کا اعادہ کرتی ہے۔

5 اگست 2019ء کے یکطرفہ اقدامات سے کشمیریوں کی شناخت اور حقوق کا مسئلہ مزید نمایاں ہوا؛ پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا

منصور احمد, August 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے قانون، انصاف و انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ 5 اگست 2019ء کے بھارتی یکطرفہ اقدامات نے نہ صرف خطے کی صورتحال کو ایک نئے اور حساس مرحلے میں داخل کیا بلکہ جموں و کشمیر کے عوام کے بنیادی حقوق، منفرد شناخت اور مستقبل سے متعلق اہم قانونی و انسانی پہلوؤں کو عالمی سطح پر مزید نمایاں کر دیا ہے۔ انہوں نے حکومتِ پاکستان اور پوری پاکستانی قوم کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کے غیور عوام کے ساتھ مکمل اور غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں وفاقی وزیر سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آج کا دن پوری دنیا کو یاد دلاتا ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام کئی دہائیوں سے بے پناہ مشکلات، شدید غیر یقینی صورتحال اور اپنے بنیادی انسانی حقوق سے متعلق سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کشمیریوں کی امن، انصاف اور اپنے جائز حقوق کے حصول کی مسلسل خواہشات عالمی برادری اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی سنجیدہ توجہ کی متقاضی ہیں۔

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق کی حیثیت سے انہوں نے اپنے پختہ یقین کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق آفاقی، ناقابلِ تقسیم اور ہر انسان کا بنیادی حق ہیں، اور دنیا کے ہر فرد کو بلاامتیاز عزت، مساوات، آزادی اور قانون کے مساوی تحفظ کے ساتھ زندگی گزارنے کا بنیادی حق حاصل ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان اپنے اس اصولی اور قانونی مؤقف پر قائم ہے کہ جموں و کشمیر کے مسئلے کا دائمی، منصفانہ اور پائیدار حل صرف اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی آزادانہ خواہشات کے مطابق ہی ممکن ہے۔ سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے اعادہ کیا کہ پاکستان کشمیری عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت ہر سطح پر جاری رکھے گا اور ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے تمام مناسب بین الاقوامی فورمز پر اپنا مؤثر کردار ادا کرتا رہے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یومِ استحصالِ کشمیر پر ہم انصاف، انسانی وقار، امن اور قانون کی بالادستی کے لیے اپنے عزم کی تجدید کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ وہ دن جلد آئے جب جموں و کشمیر کے عوام مکمل امن، آزادی اور وقار کے ساتھ اپنی زندگی بسر کر سکیں۔

افریقہ میں ایبولا وبا کا پھیلائو: چین کا افریقی ممالک کو ہر ممکن طبی امداد اور تعاون کی فراہمی جاری رکھنے کا اعلان

روزینہ اسماعیل, August 05,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء

چین نے اعلان کیا ہے کہ وہ افریقی ممالک کو ایبولا کی وبا کے خاتمے اور اس کے موثر انسداد کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق تمام تر طبی اور فنی تعاون کی فراہمی مسلسل جاری رکھے گا۔

سی جی ٹی این کے مطابق یہ اہم بات چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لین جیان نے جمہوریہ کانگو بھیجے گئے چین کے تیسرے طبی ماہرین کے وفد سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہی۔ چینی ترجمان نے صورتحال کی حساسیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ایبولا کی وبا افریقی خطے میں بدستور پھیل رہی ہے، اور چین اس مشکل گھڑی میں افریقی برادر ممالک کو تنہا نہیں چھوڑے گا بلکہ انسدادِ وبا کی تمام تر کوششوں میں اپنی استطاعت کے مطابق مدد فراہم کرتا رہے گا۔

ترجمان لین جیان نے بتایا کہ افریقہ میں ایبولا کی نئی وبا پھوٹنے کے فوراً بعد چین نے اس معاملے کو انتہائی اہمیت دی اور فوری طور پر مسلسل طبی ماہرین اور وبائی امراض کے عالمی ماہرین پر مشتمل وفود جمہوریہ کانگو سمیت متاثرہ ممالک بھیجے تاکہ مقامی انتظامیہ کو وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد فراہم کی جا سکے، جسے عالمی اور علاقائی سطح پر مختلف حلقوں کی جانب سے بے حد سراہا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بیجنگ سے جمہوریہ کانگو پہنچنے والا ماہرین کا تیسرا وفد وبا کی روک تھام اور علاج معالجے کی مقامی عملی ضروریات کے مطابق جمہوریہ کانگو کے صحت کے حکام اور عالمی صحت سے متعلق بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ باہمی تبادلہ خیال اور ٹیکنیکل تعاون کو مزید گہرا کرے گا۔

فلپائنی بیان پر چین کا شدید ردِعمل: چینی وزارتِ خارجہ نے فلپائن کے الزامات کو جھوٹ اور بدنیتی پر مبنی سیاسی اشتعال انگیزی قرار دے دیا

روزینہ اسماعیل, August 05,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء

چین نے فلپائن کی وزارتِ دفاع کی جانب سے چین کے قومیتی اتحاد و ترقی کے فروغ کے قانون سے متعلق جاری کردہ بیان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے جھوٹ، بدنیتی اور سنگین سیاسی اشتعال انگیزی پر مبنی قرار دیا ہے۔

سی جی ٹی این کے مطابق چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لین جیان نے فلپائن کی جانب سے آنے والے بیان پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ مذکورہ بیان چین کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت کے مترادف ہے اور انتہائی سنگین نوعیت کی سیاسی اشتعال انگیزی ہے، جس کی بیجنگ شدید ترین الفاظ میں مخالفت کرتا ہے۔

چینی ترجمان نے واضح کیا کہ فلپائن میں چین مخالف عناصر کا ایک مخصوص اور محدود گروہ اپنے سیاسی اور شخصی مفادات کے حصول اور سمندری حدود میں فلپائن کی مسلسل خلاف ورزیوں پر پردہ ڈالنے کی خاطر سیاسی اور ابلاغی ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عناصر حقائق کو مسخ کرنے کی ناکام کوششیں کر رہے ہیں، تاہم ان کے ایسے تمام مذموم عزائم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔

ترجمان نے فلپائن کے ان عناصر کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ وہ چین کے خلاف بے بنیاد الزامات اور بلاوجہ کی اشتعال انگیزیاں فوری طور پر بند کریں، بصورتِ دیگر انہیں اپنے ان منفی اور غیر ذمہ دارانہ اقدامات کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

لین جیان نے قومیتی اتحاد و ترقی کے فروغ کے قانون کی اہمیت واضح کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کا نفاذ چین میں تمام مختلف قومیتوں کے قانونی حقوق اور مفادات کے موثر اور بہتر تحفظ کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگا، جبکہ یہ ملک میں قومیتی اتحاد اور مجموعی ترقی کے فروغ کے لیے ایک مضبوط اور مستحکم قانونی ضمانت فراہم کرے گا۔

کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکرات کا سلسلہ برقرار رکھنا ضروری ہے، سعودی عرب

محمود احمد, August 05,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء

سعودی عرب نے خطے میں جاری کشیدگی میں کمی اور پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام فریقین کے مابین مذاکرات کا سلسلہ مسلسل برقرار رکھنے کی بنیادی اہمیت پر زور دیا ہے۔

عرب نیوز اور سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق یہ اہم باضابطہ بیان جدہ میں منعقدہ وزرا کے ہفتہ وار کابینہ اجلاس کے بعد سامنے آیا، جو امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کے خاتمے اور ممکنہ معاہدے سے متعلق پیش رفت کی رپورٹس کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے علاقائی سیکیورٹی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے تمام سفارتی کوششیں تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

کابینہ اجلاس کے دوران ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اختتامِ ہفتہ پر ہونے والی اہم ٹیلی فونک گفتگو سے متعلق بھی وزرا کو تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق کابینہ نے سعودی عرب کی قیادت میں قائم ہونے والے کثیر القومی دفاعی بحری اتحاد میں دنیا بھر کے ممالک کی بڑھتی ہوئی حمایت اور شمولیت کا پرجوش خیرمقدم کیا۔ واضح رہے کہ سعودی عرب اور 13 دیگر ممالک نے جمعرات کے روز ایک مشترکہ بحری اتحاد قائم کیا تھا جس کا بنیادی مقصد مشرقِ وسطیٰ کی اہم بحری گزرگاہوں میں تجارتی جہاز رانی کو محفوظ بنانا ہے۔

سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق ‘ملٹی نیشنل میری ٹائم ڈیفنس اتحاد’ بحری سیکیورٹی کو فروغ دینے، عالمی سمندری راستوں کی حفاظت کرنے اور بحری نقل و حمل یا عالمی تجارت کے خلاف درپیش خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ یہ اقدام بحیرہ احمر، باب المندب اور خلیجِ عدن میں بحری گزرگاہوں اور توانائی کی ترسیل کے عالمی راستوں کو تحفظ فراہم کرنے کا ایک مضبوط اور کثیر الجہتی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔

اسی اثنا میں، ایک اعلیٰ امریکی اہلکار نے ایران کے ساتھ جلد ایک معاہدہ طے پانے کے واضح امکانات ظاہر کیے ہیں جس کے تحت حساس ترین آبنائے ہرمز کو دوبارہ بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے کھولا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان سابقہ التوا کی یادداشت ناکام ہونے کے بعد ایران نے اس اہم بحری گزرگاہ کو بند کر دیا تھا، جسے اب دوبارہ کھولنے کے لیے سفارتی پیش رفت جاری ہے۔

آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی انتخابات: وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام کی زیرِ صدارت مسلم لیگ (ن) پونچھ ڈویژن کا اہم اجلاس

کاشف عباسی , August 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران اور صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا انجینئر امیر مقام کی زیرِ صدارت آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے سلسلے میں ن لیگ کی انتخابی مہم کے پونچھ ڈویژن کے کوآرڈینیٹرز کا ایک اہم اور اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں انتخابی مہم کی مجموعی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور آئندہ مرحلے کی منظم حکمتِ عملی کو حتمی شکل دی گئی۔

پارٹی کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق اجلاس میں پونچھ ڈویژن کے ریجنل کوآرڈینیٹر و وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، رکن قومی اسمبلی بابر نواز، نورالحسن تنویر، امیدوار ایل اے-14 فیصل آزاد، سہیل خان، نمائندہ امیدوار ایل اے-15 مشتاق منہاس، ایل اے 16 کے امیدوار میر اکبر کے نمائندے سردار طارق محمود، ایل اے 17 حویلی محسن عزیز، بھائی بلال، ایل اے 18 عباس پور راجہ شیر افگن، ایل اے 20 راولاکوٹ حاجی رشید، ایل اے 22 پاچھیوٹ کے امیدوار عبدالخالق سرمد، نمائندہ یعقوب سرور، نمائندہ یحییٰ پور، امیدوار نجیب نقی، نو منتخب رکن آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی انجینئر عمیر نعیم ایڈووکیٹ اور نو منتخب رکن اسمبلی چوہدری عبدالرزاق سمیت دیگر اہم عہدیداران اور نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران انتخابی مہم کی اب تک کی پیش رفت، عوامی رابطہ سرگرمیوں، جلسے جلوسوں، مختلف انتخابی پروگراموں اور آئندہ مرحلے کے لائحہ عمل پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ اس موقع پر انتخابی مہم کو مزید موثر، مربوط اور منظم بنانے کے لیے مختلف پروگراموں، عوامی اجتماعات اور تنظیمی سرگرمیوں کا شیڈول حتمی شکل میں طے کیا گیا۔

وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے میرپور ڈویژن اور مظفرآباد ڈویژن میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی شاندار انتخابی کامیابی پر تمام کوآرڈینیٹرز، تنظیمی عہدیداران اور جیالے کارکنان کو زبردست مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کی انتھک محنت، نظم و ضبط اور بھرپور عوامی رابطہ مہم کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ میرپور اور مظفرآباد ڈویژنز میں پارٹی کی شاندار کامیابی کارکنوں کے جذبے، مضبوط تنظیمی ڈھانچے، موثر حکمت عملی اور کوآرڈینیٹرز کی مسلسل کاوشوں کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے اس کامل اعتماد کا اظہار کیا کہ میرپور اور مظفرآباد کی طرح پونچھ ڈویژن میں بھی پاکستان مسلم لیگ (ن) کی انتخابی مہم بھرپور انداز میں کامیابی سے آگے بڑھے گی اور عوام کے تعاون سے پارٹی شاندار کامیابی حاصل کرے گی۔ وفاقی وزیر نے کوآرڈینیٹرز کو ہدایت کی کہ باہمی رابطے، تنظیمی ہم آہنگی اور ڈور ٹو ڈور عوامی رابطہ مہم کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ پارٹی کے منشور اور پیغام کو ہر ووٹر تک پہنچایا جا سکے۔ اجلاس کا اختتام تمام تر وسائل بروئے کار لاتے ہوئے انتخابی کامیابی یقینی بنانے کے عزم کے ساتھ ہوا۔

جام کمال خان کا بلوچستان میں ترقیاتی فنڈز کی منصفانہ تقسیم پر زور: منصوبہ بندی سیاسی ترجیحات کے بجائے ضرورت اور محرومی کی بنیاد پر ہونی چاہیے

محمود احمد, August 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان کے تمام اضلاع میں ترقیاتی فنڈز کی منصفانہ اور مساوی تقسیم کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، اور صوبے میں ترقیاتی منصوبہ بندی سیاسی ترجیحات یا پسند ناپسند کی بجائے حقیقی ضرورت، آبادی، معاشی شراکت اور محرومی کی سطح کی بنیاد پر کی جانی چاہیے۔

منگل کے روز یہاں جاری ہونے والے ایک اہم بیان میں وفاقی وزیر تجارت نے کہا کہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت مختص اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے صوبے کے تمام اضلاع میں متوازن انداز میں تقسیم ہونے چاہئیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ صوبے کے بعض علاقوں میں منتخب عوامی نمائندوں کی جانب سے تجویز کردہ عوامی فلاحی سکیموں کو بھی نظرانداز کیا گیا ہے، جنہیں فوری طور پر ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا جانا چاہیے۔

جام کمال خان نے کہا کہ پائیدار اور متوازن ترقی کے حصول کے لیے ایک شفاف اور مناسب منصوبہ بندی انتہائی ناگزیر ہے تاکہ بلوچستان کے ہر چھوٹے بڑے ضلع کو معاشی اور سماجی ترقی کے یکساں مواقع میسر آسکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وسائل کی تقسیم میں پائی جانے والی عدم مساوات ہمیشہ سے صوبے کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوئی ہے۔

وفاقی وزیر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کا وزیراعلیٰ پورے صوبے اور اتحادی حکومت کا نمائندہ ہوتا ہے، اس لیے ان کی یہ بنیادی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ تمام اضلاع اور علاقوں کے ساتھ مکمل طور پر متوازن اور غیر جانبدارانہ سلوک روا رکھا جائے۔

یومِ شہدائے پولیس: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا خراجِ تحسین، شہدا کو قوم کا عظیم سرمایہ اور ماتھے کا جھومر قرار دے دیا

منصور احمد, August 04,2026

کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پولیس کے شہدا کو قوم کا عظیم سرمایہ اور پاکستان کے ماتھے کا جھومر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وطن کے امن، قانون کی بالادستی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کی خاطر اپنی جانیں قربان کرنے والے بہادروں نے وفا، شجاعت اور فرض شناسی کی لازوال داستانیں رقم کی ہیں۔

یومِ شہدائے پولیس کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ پولیس کے افسران اور جوانوں کی قربانیاں ہماری قومی تاریخ کا ایک روشن اور درخشندہ باب ہیں، جسے قوم ہمیشہ عزت، احترام اور فخر کے ساتھ یاد رکھے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان پولیس گزشتہ کئی سالوں سے دہشت گردی، انتہا پسندی اور جرائم کے خلاف پہلی صف میں برسرِ پیکار ہے اور پولیس کی انہی بے مثال قربانیوں کی بدولت آج صوبے میں امن و امان کی صورتحال نمایاں طور پر بہتر ہوئی ہے اور ملک دشمن عناصر کے ناپاک عزائم خاک میں ملائے جا چکے ہیں۔

میر سرفراز بگٹی نے بالخصوص زیارت کے شہدائے پولیس کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان عظیم سپوتوں نے دہشت گردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہوئے جرات، استقامت اور حب الوطنی کی ایسی نادر مثال قائم کی ہے جو ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ انہوں نے زیارت کے شہدا کے اہلِ خانہ کے صبر اور قربانیوں کو زبردست سلام پیش کیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ حکومتِ بلوچستان نے شہدا کے ورثا کی عزت، فلاح و بہبود اور مالی معاونت کو اپنی بنیادی ریاستی ذمہ داری سمجھتے ہوئے متعدد عملی اقدامات کیے ہیں اور یہ سلسلہ مزید موثر انداز میں جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ شہدا کے بچوں کی معیاری تعلیم، صحت اور دیگر تمام ضروریات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

میر سرفراز بگٹی نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت بلوچستان پولیس فورس کی استعدادِ کار میں اضافے، جدید ترین تربیت، اسلحہ، حفاظتی سازوسامان، جدید ٹیکنالوجی اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے بھرپور سرمایہ کاری کر رہی ہے تاکہ فورس ہر قسم کے سیکیورٹی چیلنجز سے نبٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار رہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان میں امن، قانون کی حکمرانی اور عوامی تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور شہدائے پولیس کے مقدس مشن کو ہر قیمت پر انجام تک پہنچایا جائے گا۔

یومِ استحصالِ کشمیر: چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا کشمیری عوام کے ساتھ غیر متزلزل حمایت کا اعادہ

کاشف عباسی , August 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے بھارتی غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر کے غیور عوام کے ساتھ پاکستان کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت کے غیر متزلزل، اصولی اور تاریخی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 5 اگست 2019ء کو بھارت کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کی صریح خلاف ورزی تھے۔

سینیٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر جاری کردہ اپنے خصوصی پیغام میں چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ یومِ استحصالِ کشمیر بھارتی تسلط میں محصور کشمیری عوام کی مسلسل قربانیوں، مصائب اور ثابت قدمی کی یاد دلاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دن عالمی برادری کے ضمیر کو بھی جھنجھوڑتا ہے کہ وہ مقبوضہ علاقے میں ڈھائے جانے والے سنگین بھارتی مظالم کا فوری نوٹس لے اور انصاف کے قیام اور خطے میں پائیدار امن کے لیے اپنی عالمی ذمہ داریاں پوری کرے۔

سید یوسف رضا گیلانی نے نشاندہی کی کہ 5 اگست 2019ء کے بعد سے بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے، اس کی منفرد شناخت کو مسخ کرنے، حقیقی سیاسی قیادت کو دبانے، بنیادی آزادیوں کو سلب کرنے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں مزید شدت پیدا کر دی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جبر، ریاستی تشدد اور ظلم کا کوئی بھی ہتھکنڈا کشمیری عوام کی آزادی، وقار اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت کے حصول کی جائز خواہش کو ہرگز ختم نہیں کر سکتا۔

چیئرمین سینیٹ نے اس عزم کو دہرایا کہ پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیری عوام کی منصفانہ جدوجہد کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کا پائیدار اور منصفانہ حل صرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہی ممکن ہے تاکہ وہ آزادانہ طور پر اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہی منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں دیرپا امن، سلامتی اور خوشحالی کی اصل ضمانت ہے۔

چیئرمین سینیٹ نے اقوام متحدہ، عالمی برادری، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور بااثر عالمی اداروں سے زوردار مطالبہ کیا کہ وہ بھارتی غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر میں جاری مظالم کا فوری نوٹس لیں اور بھارت کو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عملدرآمد کا پابند بنانے کے لیے اپنا موثر کردار ادا کریں۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اردن کے دورے پر روانہ، القدس سے متعلق اہم وزارتی اجلاس میں شرکت کریں گے

منصور احمد, August 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اردن کے نائب وزیراعظم اور وزیر برائے امورِ تارکینِ وطن ایمن الصفدی کی خصوصی دعوت پر آج رات اردن کے دورے پر روانہ ہو رہے ہیں، جہاں وہ 5 اگست کو یروشلم (القدس) سے متعلق منعقد ہونے والے اہم وزارتی اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔

دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں عرب لیگ کے رکن ممالک اور پاکستان سمیت مختلف اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ شرکت کر رہے ہیں۔ اس ہنگامی وزارتی اجلاس کا بنیادی مقصد مقبوضہ یروشلم کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال، اسرائیلی مظالم اور درپیش چیلنجز پر امتِ مسلمہ کا ایک مشترکہ، مضبوط اور متفقہ مؤقف مرتب کرنا ہے۔

دورے کے دوران اجلاس میں شریک تمام وزرائے خارجہ اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوم بن الحسین سے بھی مشترکہ ملاقات کریں گے۔ اس کے علاوہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار مختلف برادر اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے، جن میں فلسطین کی تازہ ترین صورتحال، مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والے بحران اور باہمی دلچسپی کے دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید کہا کہ یروشلم سے متعلق اس وزارتی اجلاس میں پاکستان کی شرکت مظلوم فلسطینی عوام کے ساتھ پاکستان کی تاریخی و اصولی حمایت کا آئنہ دار ہے۔ پاکستان 1967ء سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کے قیام کے اپنے غیر متزلزل عزم پر قائم ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔