پمز ہسپتال آتشزدگی کیس: وزیراعظم شہباز شریف کی نومولود بچی کی جان بچانے والی نرس رضیہ نورین سے ملاقات، ‘تمغۂ خدمت’ اور 1 کروڑ روپے انعام کا اعلان

منصور احمد, September 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) ہسپتال میں آتشزدگی کے دلخراش واقعے کے دوران اپنی جان پر کھیل کر ایک نومولود بچی کی جان بچانے والی بہادر نرس رضیہ نورین سے جمعرات کے روز یہاں وزیراعظم ہاؤس میں خصوصی ملاقات کی اور ان کی بے مثال ہمت، بہادری اور انسانیت کے جذبے کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ نرس رضیہ نورین نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر جس عظمت اور ہمت کے ساتھ نومولود بچی آصفہ کو آگ کی لپیٹ سے محفوظ باہر نکالا، وہ ایک عظیم انسانی عمل ہے جس پر پوری قوم کو ان پر بے حد فخر ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ قوم کی اس بیٹی کا کارنامہ ملکی تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھا جائے گا اور بچی کی والدہ زندگی بھر انہیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں گی۔

وزیراعظم نے رضیہ نورین کی اس اعلیٰ ترین کارکردگی اور قربانی کے اعتراف میں اعلان کیا کہ آنے والے قومی دن یعنی 23 مارچ کو انہیں باضابطہ طور پر “تمغۂ خدمت” سے نوازا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی وزیراعظم نے نرس کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک کروڑ روپے کے خصوصی مالی انعام کا اعلان کیا اور چیک بھی ان کے حوالے کیا۔

ملاقات کے دوران نرس رضیہ نورین نے وزیراعظم کو واقعے کی دلدوز تفصیلات بتاتے ہوئے بتایا کہ جیسے ہی انہوں نے ہسپتال کے شعبے میں اچانک آگ کی خوفناک لپٹیں اور دھواں دیکھا تو اپنی جان کا خطرہ مول لے کر اندر داخل ہو گئیں اور چھوٹی بچی آصفہ کو محفوظ نکال کر ڈاکٹر عبدالرحمٰن کے حوالے کیا تا کہ بھگدڑ میں بچی محفوظ رہے۔ انہوں نے بتایا کہ دیگر بچوں کو بچانے کی بھی کوشش کی گئی تاہم آگ اور سیاہ دھوئیں کے تیزی سے پھیلنے کے باعث ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی تھی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے پمز آتشزدگی کے واقعے کو انتہائی دلخراش قرار دیتے ہوئے عزم ظاہر کیا کہ اس غفلت اور حادثے کے ذمہ دار افراد کے خلاف بلا امتیاز سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے وزارتِ صحت کو پمز ہسپتال میں مریضوں اور عملے کے تحفظ کے لیے سہولیات اور حفاظتی اقدامات فوری بہتر بنانے کی سخت ہدایات جاری کیں۔ تقریب میں وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال اور وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ بھی موجود تھے۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا گندم کے ذخائر کا جائزہ اجلاس: 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کے فیصلے کا اعادہ

منصور احمد, September 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

ملک میں گندم کی وافر دستیابی اور آٹے کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطح کا اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم کی درآمد کے فیصلے کا اعادہ کیا گیا۔

نائب وزیراعظم کے آفس کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق، اسحاق ڈار نے اجلاس میں صوبوں، وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق اور وزارتِ تجارت کے باہمی رابطہ اور گندم کی ذخیرہ اندوزی کی روک تھام کے لیے کی جانے والی مشترکہ کاوشوں کو سراہا۔

اجلاس کے دوران اقتصادی رابطہ کمیٹی اور اسٹیئرنگ کمیٹی کے فیصلوں کی روشنی میں فیصلہ کیا گیا کہ پاسکو تمام صوبوں کو ان کے منظور شدہ کوٹے کے مطابق فوری گندم کی ترسیل شروع کرے۔ اس کے ساتھ ہی نائب وزیراعظم نے صوبائی حکومتوں کو بھی ہدایات جاری کیں کہ وہ پاسکو کو بروقت ادائیگیاں یقینی بنائیں تاکہ گندم کا اپنا مقررہ حصہ بلا تاخیر اٹھایا جا سکے۔

ملک میں مستقبل کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اجلاس میں 1 ملین (10 لاکھ) میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کے فیصلے پر مکمل عملدرآمد کا حکم دیا گیا، جس کے لیے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کو فوری طور پر تمام ضروری کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

منصوبہ بندی کے مطابق پہلے مرحلے میں 2 لاکھ 50 ہزار (250,000) میٹرک ٹن گندم درآمد کی جائے گی جس کی پہلی کھیپ رواں سال نومبر کے مہینے میں پاکستان کی بندرگاہوں پر پہنچ جائے گی۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے تمام وفاقی و صوبائی اداروں کو قریبی رابطہ برقرار رکھنے کی ہدایت کی تاکہ ملک بھر میں گندم کا وافر ذخیرہ موجود رہے اور عوام کو سستے آٹے کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ، وزیر تجارت، وزیراعظم کے معاونِ خصوصی طارق باجوہ، اور چاروں صوبوں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔

ایچ ای سی کے سمارٹ کلاس روم نیٹ ورک کے ذریعے اسلام آباد، راولپنڈی اور دیگر اضلاع کے 330 سے زائد اساتذہ کی آن لائن اور آن سائیٹ تربیت؛ ایم ڈی ‘ناہے’ ڈاکٹر نور آمنہ ملک کا اختتامی تقریب سے خطاب


روزینہ اسماعیل, September 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے معیار کو جدید ترین ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے، نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن اور ہائر ایجوکیشن کمیشن نے سرکاری شعبے کی یونیورسٹیوں اور کالجوں کے اساتذہ کے لیے چار روزہ جامع تربیتی پروگرام کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا ہے۔

“اساتذہ کے لیے مصنوعی ذہانت کی آگاہی: مصنوعی ذہانت کے لیے تیار اداروں کی تعمیر” کے عنوان سے منعقدہ اس تربیتی پروگرام کا بنیادی مقصد سرکاری جامعات کے لیکچررز اور اسسٹنٹ پروفیسرز کو تعلیمی شعبے میں مصنوعی ذہانت کے مؤثر اور اخلاقی استعمال کے قابل بنانا تھا۔

ایچ ای سی کے جدید ‘سمارٹ کلاس روم نیٹ ورک’ کے تحت منعقدہ اس چار روزہ کورس میں اسلام آباد اور راولپنڈی کی جامعات سے تعلق رکھنے والے 32 اساتذہ نے ایچ ای سی ہیڈکوارٹر کے سمارٹ کلاس روم میں براہِ راست (آن سائیٹ) شرکت کی، جبکہ ملک بھر کی مختلف یونیورسٹیوں میں قائم سمارٹ کلاس رومز اور ویڈیو کانفرنس رومز کے ذریعے 300 سے زائد اساتذہ نے آن لائن اس تربیتی سیشن میں حصہ لیا اور ماہرین کے ساتھ سوال و جواب کیے اور فوری تفاعل گفتگو کی۔

اس اختراعی ٹریننگ کے دوران پروفیسروں اور لیکچررز کو نصاب کی جدید تشکیل، دروس کی منصوبہ بندی تدریسی مواد کی تیاری، سائنسی و تعلیمی تحریر، تحقیقی معاونت، طلبہ کی کارکردگی پر ڈیٹا اینالیٹکس، اور امتحانی جائزے جیسے مختلف شعبوں میں AI ٹولز کے عملی اطلاق اور “انسان اور کے باہمی تعامل” کے اصولوں کی تربیت فراہم کی گئی۔

اختتامی تقریب میں نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن کی منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر نور آمنہ ملک نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اور شرکاء میں اسناد تقسیم کیں۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اعلیٰ تعلیم، ریسرچ اور علم کی تخلیق کے روایتی طریقوں کو تیزی سے بدل رہی ہے۔

ڈاکٹر نور آمنہ ملک نے زور دیا کہ جامعات کو اپنے اساتذہ اور طلبہ کو ای آئی سے لیس ماحول کے لیے فوری طور پر تیار کرنا ہو گا، تاہم انہوں نے انبہانہ انداز میں کہا کہ ٹیکنالوجی کے استعمال کے دوران تعلیمی معیار، اخلاقی تحفظات، انسانی بصیرت اور ادارہ جاتی ذمہ داری کو ہر صورت برقرار رکھنا ہو گا۔

پاکستان اور ایتھوپیا کا موسمیاتی تبدیلی کے خلاف مشترکہ اقدامات اور تجربات کے تبادلے پر زور

منصور احمد, August 25,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے عالمی اثرات کے پیشِ نظر پائیدار ترقی پالیسی ادارے کے زیرِ اہتمام اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطح کے سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں پاکستان اور ایتھوپیا کے مابین موسمیاتی لچک، شجرکاری، پانی کے تحفظ، اور سبز معیشت میں باہمی تعاون کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا گیا۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں ایتھوپیا کے سفیر عمر حسین اوبا نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی انسانی سرگرمیوں کا نتیجہ ہے اور اب دنیا کو محض خطرات کی نشاندہی کرنے کے بجائے عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ انہوں نے ایتھوپیا کے ‘گرین لیگیسی انیشی ایٹو’ کو پاکستان کے لیے ایک بہترین مثال قرار دیتے ہوئے بتایا کہ ان کے ملک نے شجرکاری اور زمین کی بحالی کو عوامی روزگار سے جوڑا جس سے لاکھوں افراد مستفید ہوئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایتھوپیا حکومت، تحقیق، جامعات اور عوام کے اشتراک سے حاصل ہونے والے اس کامیاب تجربے کو پاکستان کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور ایتھوپیا جیسے ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی خطرات کا محض شکار بننے کے بجائے عالمی سطح پر عملی حل پیش کرنے والے ممالک کے طور پر ابھرنا ہو گا تا کہ قدرتی ماحولیاتی حل اور گرین فنانسنگ کے ذریعے پائیدار ترقی حاصل کی جا سکے۔

اقلیتوں کے حقوق اور کرسچن پرسنل لاء پر پیش رفت جاری رہے گی: وفاقی وزیر سینیٹر اعظم نذیر تارڑ

منصور احمد, August 25,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے متعلقہ برادریوں کے نمائندگان کے ساتھ مشاورت سے تمام قانونی و پالیسی امور پر عملدرآمد جاری رکھے گی۔

نیشنل لابنگ ڈیلیگیشن برائے اقلیتی حقوق کے وفد سے ملاقات کے دوران کرسچن میرج اینڈ ڈیوورس بل، کرسچن پرسنل لاء، تعلیمی و روزگار کے مساوی مواقع، اور اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے خاتمے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد نے مسیحی خواتین کے شادی و طلاق سے متعلق حقوق کے تحفظ کے لیے موثر قانونی فریم ورک کی ضرورت پر زور دیا جس پر وفاقی وزیر نے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے وفد کو ‘نیشنل کمیشن فار مائنارٹیز رائٹس’ کے قیام سے متعلق جاری قانون سازی اور پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ حکومت کی ترجیح ہے اور اس سلسلے میں تمام نمائندگان کی تجاویز پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔

پاکستان اور قطر کے درمیان مضبوط اور برادرانہ تعلقات ہیں: قطری وفد سے ملاقات میں وزیراعظم شہباز شریف کی گفتگو

کاشف عباسی , August 24,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور قطر کے درمیان دیرینہ، مضبوط اور لازوال برادرانہ تعلقات قائم ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار چیئرمین رطاج گروپ و تمیم ہولڈنگز شیخ نائف بن عید آل ثانی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، جنہوں نے اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ ان سے ملاقات کی۔

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری اعلامیے کے مطابق، اس اہم اجلاس میں وفاقی وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک، مشیرِ وزیراعظم ہارون اختر، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، معاونِ خصوصی طارق فاطمی اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ وزیراعظم نے قطری وفد کا گرمجوشی سے خیرمقدم کیا اور امیرِ قطر کے والد کے انتقال پر اپنے تعزیتی دورۂ قطر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان، امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے متوقع دورۂ پاکستان کا شدت سے منتظر ہے۔

ملاقات کے دوران قطری وفد کے سربراہ شیخ نائف بن عید آل ثانی نے پاکستان کی جانب سے بہترین اور شاندار مہمان نوازی پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے پاکستان کے معاشی و تجارتی شعبوں، خصوصاً انرژی اور ریئل اسٹیٹ میں قطری سرمایہ کاری کو مزید وسعت دینے اور دوطرفہ اقتصادی شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جانے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔

ایچ ای سی بیسٹ یونیورسٹی ٹیچر ایوارڈ 2026: ایچ ای سی نے ملک بھر سے نامزدگیاں طلب کر لیں

روزینہ اسماعیل, August 24,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں تدریس، تحریری و تحقیقی جدت، طلبہ کے تعلیمی نتائج اور علمی ترقی میں نمایاں خدمات سرانجام دینے والے اساتذہ کی پذیرائی کے لیے “ایچ ای سی بیسٹ یونیورسٹی ٹیچر ایوارڈ 2026” کے لیے نامزدگیاں طلب کر لی ہیں۔

ایچ ای سی کی جانب سے جاری کردہ اعلان کے مطابق پاکستان کی تمام سرکاری و نجی جامعات کے پاس موقع ہے کہ وہ یونیورسٹی سطح پر قائم کمیٹی کے منظور شدہ طریقہ کار کے تحت اپنے بہترین فیکلٹی ممبر کی نامزدگی بھیجیں۔ نامزدگی کا عمل مکمل کرنے کے لیے جامعہ کی کمیٹی کے اجلاس کی کارروائی اور مکمل سپورٹنگ دستاویزات کی ہارڈ کاپی کے ساتھ سافٹ کاپی بھی جمع کرانا ضروری قرار دیا گیا ہے۔

تمام نامزدگی برائے ایوارڈ ڈائریکٹر جنرل (اکیڈمکس)، ایچ ای سی، سیکٹر ایچ ایٹ ون اسلام آباد کے دفتر میں جمع کرائی جا سکتی ہیں۔ ایچ ای سی حکام کے مطابق نامزدگیوں کی کاغذی و ڈیجیٹل اسناد جمع کرانے کی آخری تاریخ 7 اکتوبر 2026ء مقرر کی گئی ہے، جبکہ مقررہ تاریخ کے بعد موصول ہونے والی کسی بھی درخواست پر غور نہیں کیا جائے گا۔

کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ: انتظامی تاخیر ملازمین کا قانونی حق ختم نہیں کر سکتی

منصور احمد, August 24,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی سے متعلق ایک اہم اور تاریخی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اگر کسی قانون میں “تصور کیے جانے کی شق موجود ہو، تو مقررہ شرائط پوری کرنے والے تمام کنٹریکٹ ملازمین قانون کے عمل سے خود بخود مستقل ملازم کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ عدالتِ عظمیٰ نے واضح کیا کہ متعلقہ سرکاری یا خود مختار محکمہ مستقلی کے عمل میں انتظامی تاخیر کر کے ملازمین کا قانونی حق متاثر نہیں کر سکتا۔

جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف کمیونٹی آف اوپتھلمولوجی (پیکو) پشاور کے ڈین کی جانب سے دائر کردہ سول پٹیشن کو خارج کرتے ہوئے خیبر پختونخوا میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز اپیلیٹ ٹربیونل کے فیصلے کو مکمل طور پر برقرار رکھا۔ تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سال 2006ء کی ترمیمی قانون سازی کا مقصد اصلاحی اور فائدہ مند تھا، اور فائدہ مند قانون کی تشریح بھی اس انداز میں ہونی چاہیے جس سے ملازمین کو سہولت ملے، نہ کہ محدود تشریح سے ان کا حق ختم کر دیا جائے۔

عدالت نے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 4، 3 اور 38 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئین قانون کی حکمرانی، ہر قسم کے استحصال کے خاتمے اور آجر و ملازم کے حقوق میں منصفانہ توازن قائم کرنے کی ضمانت دیتا ہے۔ اعلیٰ ترین عدالت نے قرار دیا کہ سال 2001ء سے مسلسل فرائض انجام دینے والے ملازمین کو 2006ء کی ترمیم کے تحت قانون کی رو سے مستقل تصور کیا جا چکا تھا، اور محکمے کی جانب سے مستقلی کا عمل مصنوعی طور پر مؤخر کرنا آئین و قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی ملاقات: صوبائی ترقیاتی منصوبوں اور سیاسی امور پر اہم مشاورت

کاشف عباسی , August 24,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف سے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے وفاقی دارالحکومت میں اہم ملاقات کی، جس میں صوبہ سندھ کے عمومی امور اور وفاق کے زیرِ اہتمام جاری اہم ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ، وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر احد خان چیمہ، شزہ فاطمہ خواجہ اور علی پرویز ملک بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران صوبے کی معاشی و انتظامی صورتحال، وفاق اور صوبے کے باہمی تعلقات اور ملک کی مجموعی سیاسی فضا پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔

اجلاس میں دونوں رہنماؤ ں کی جانب سے ملک میں سیاسی رواداری کو فروغ دینے اور باہمی افہام و تفہیم کے ساتھ وفاقی و صوبائی معاملوں کو آگے بڑھانے پر کامل اتفاق کیا گیا۔ رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سندھ میں عوامی فلاح کے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ صوبے کی معاشی ترقی کو مزید رفتار مل سکے۔

تمام میڈیکل و ڈینٹل ڈاکٹرز کے لیے پی ایم ڈی سی کی اہم ہدایت: رجسٹریشن سرٹیفکیٹس کی تجدید کے لیے 6 ماہ کی حتمی مہلت جاری

روزینہ اسماعیل, August 24,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے ملک بھر کے تمام میڈیکل اور ڈینٹل پریکٹیشنرز سمیت سپیشلسٹس کو ہدایت کی ہے کہ وہ پی ایم ڈی سی ایکٹ 2022ء اور متعلقہ قواعد و ضوابط کے تحت اپنے رجسٹریشن سرٹیفکیٹس کی باقاعدہ تجدید کرائیں۔ پی ایم ڈی سی کے جاری کردہ اہم اعلان کے مطابق تمام ڈاکٹرز کو اپنے لائسنس کی تجدید کے لیے چھ ماہ کی مہلت دی گئی ہے تاکہ قانونی، اخلاقی اور پیشہ ورانہ تقاضوں کی مسلسل پابندی کو یقینی بنایا جا سکے۔

پی ایم ڈی سی حکام کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد ملک بھر میں لائسنس یافتہ ڈاکٹروں کے قومی رجسٹر کو اپ ڈیٹ اور قابلِ تصدیق بنانا ہے تاکہ جعلی پریکٹس، اتائی پن ، اور رجسٹریشن سرٹیفکیٹس کے فراڈ پر مبنی استعمال کا خاتمہ کیا جا سکے۔ ایک جدید اور مستند ڈیٹا بیس کے ذریعے مرحوم یا غیر فعال ڈاکٹروں کی پیشہ ورانہ اسناد کے غلط استعمال کو روکا جا سکے گا، جس سے صحت عامہ کے نظام پر عوام کے اعتماد کو مزید تقویت ملے گی۔

کونسل نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بروقت تجدید نہ صرف پاکستان میں قانونی پریکٹس کے لیے ضروری ہے بلکہ بیرونِ ملک ملازمت، پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ اور عالمی لائسنسنگ کے لیے بھی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ پی ایم ڈی سی نے تمام ڈاکٹروں اور ڈینٹسٹس سے اپیل کی ہے کہ وہ چھ ماہ کی درکار مدت ختم ہونے کا انتظار کیے بغیر جلد از جلد اپنی رجسٹریشن کی تجدید کا عمل مکمل کریں۔

سی ڈی اے کا بڑا اقدام: دارالحکومت میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے 23 کمرشل بلڈنگ پلانز کی منظوری، بائی لاز میں آسانیاں لانے کی تیاری

منصور احمد, August 23,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 23 اگست 2026ء

کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی ڈیزائن ویٹنگ کمیٹی کے گزشتہ چار اجلاسوں میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور سرمایہ کاری کو آسان بنانے کے سلسلے میں کمرشل بلڈنگ پلانز کے مجموعی طور پر 23 کیسز کی باقاعدہ منظوری دے دی گئی ہے۔ سی ڈی اے حکام کے مطابق، وزیراعظم، وزیرِ داخلہ اور چیئرمین سی ڈی اے کی خصوصی ہدایات پر کاروبار اور تعمیراتی عمل میں حائل رکاوٹوں کو ختم کیا جا رہا ہے تاکہ وفاقی دارالحکومت میں تجارتی و معاشی مواقع میں اضافہ ممکن ہو سکے۔

سی ڈی اے کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی بیان کے مطابق، 4 جون، 16 جون، 30 جولائی اور 20 اگست 2026ء کو منعقد ہونے والے ڈیزائن ویٹنگ کمیٹی کے گزشتہ چاروں اجلاسوں میں مجموعی طور پر 40 کمرشل بلڈنگ پلانز کے مختلف کیسز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ان 40 کیسز میں سے 8 کیسز ضروری دستاویزات اور تکنیکی تقاضے پورے نہ ہونے کے باعث متعلقہ آرکیٹیکٹس اور سپانسرز نے اجلاس سے قبل ازخود واپس لے لیے تھے۔ بعد ازاں کمیٹی کے سامنے پیش کیے گئے 32 کیسز میں سے تمام ریگولیٹری تقاضے پورے کرنے والے 23 کیسز کی منظوری دی گئی، جبکہ بنیادی پارکنگ، ڈیزائننگ اور دیگر ضروری پیرامیٹرز کی کمی کے سبب باقی کیسز کو وقت طور پر ملتوی کر دیا گیا، جنہیں ضروری اصلاحات کے بعد دوبارہ پیش کیا جائے گا۔

تعمیراتی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے سی ڈی اے نے آرکیٹیکٹس، کنسلٹنٹس اور عمارتوں کے مالکان کے لیے نئی اور سخت ذمہ داریاں بھی عائد کر دی ہیں۔ اب ڈی وی سی کی حتمی منظوری کے خط پر مالک اور آرکیٹیکٹ کا نام درج ہونے کے ساتھ ساتھ زیرِ تعمیر سائٹس پر بھی تمام ذمہ داران کے نام بورڈز پر آویزاں کرنا لازمی ہوگا۔ منظور شدہ ڈیزائن میں کسی بھی قسم کی غیر قانونی تبدیلی یا بائی لاز کی خلاف ورزی کی صورت میں مالکان اور کنسلٹنٹس دونوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ موجودہ بائی لاز میں موجود پیچیدگیوں کو ختم کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی افسران پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے تاکہ پارکنگ اور کمرشل قوانین کا جائزہ لے کر مزید آسانیاں پیدا کی جا سکیں۔ شہری اور سرمایہ کار اپنے کیسز کا جائزہ آن لائن پورٹل کے ذریعے بھی لے سکتے ہیں۔

عمران خان کی شفاء ہسپتال منتقلی کا کیس: چیف کمشنر اسلام آباد کی سپریم کورٹ میں نظرثانی درخواست کی جلد سماعت کی اپیل

کاشف عباسی , August 23,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 23 اگست 2026ء

چیف کمشنر اسلام آباد نے بانی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفاء ہسپتال منتقل کرنے اور مخصوص میڈیکل بورڈ کے ذریعے معائنے سے متعلق اعلیٰ ترین عدالت کے 18 اگست کے حکم کے خلاف دائر کردہ ریویو پٹیشن کی جلد از جلد اور بلا تاخیر سماعت کے لیے سپریم کورٹ میں باقاعدہ متفرق درخواست دائر کر دی ہے۔ دائر کی گئی اس ہنگامی درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ سپریم کورٹ 18 اگست کے اپنے عدالتی حکم پر نظرثانی کرے، اس میں مناسب قانونی ترامیم لائے یا پھر اس فیصلے کو مکمل طور پر واپس لے۔

چیف کمشنر اسلام آباد کی جانب سے ریویو پٹیشن میں یہ موقف اپنایا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کا یہ معاملہ صرف قیدی کو طبی سہولیات کی فراہمی تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ متعلقہ قانونی، انتظامی اور آئینی دائرہ اختیار سے بھی براہِ راست منسلک ہے۔ پٹیشن میں آئین کی 27ویں ترمیم کے بعد اعلیٰ عدلیہ کے دائرہ اختیار، آرٹیکل 175 (2) اور جیل قوانین سے متعلق کئی اہم اور پیچیدہ قانونی و آئینی سوالات اٹھائے گئے ہیں، جن پر باریک بینی سے غور کرنا ناگزیر ہے۔

درخواست گزار نے سپریم کورٹ کے سامنے یہ نقطہ بھی رکھا ہے کہ چونکہ 18 اگست کا عدالتی حکم وقت کی پابندی اور مخصوص ڈیڈ لائن پر مبنی تھا، اس لیے آئینی، قانونی اور انتظامی تنازعات کے فوری حل کے لیے اس ریویو پٹیشن کو بلا تاخیر اور ہنگامی بنیادوں پر سماعت کے لیے مقرر کیا جائے تاکہ تمام متعلقہ اداروں کے تحفظات کو قانونی دائرہ کار میں لایا جا سکے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف کا پمز ہسپتال میں سی ٹی کورونری اینجیوگرافی کی سہولت غیر فعال ہونے پر سخت نوٹس، اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی قائم

کاشف عباسی , August 22,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 اگست 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں انتہائی اہم طبی سہولت ‘سی ٹی کورونری اینجیوگرافی’ کی عدم دستیابی اور مشین کے طویل عرصے سے غیر فعال ہونے کے شدید معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی قائم کر دی ہے۔ وزیرِ اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری کردہ رسمی بیان کے مطابق وزیرِ اعظم نے سخت ہدایت جاری کی ہے کہ کمیٹی معاملے کے تمام فنی، انتظامی اور مالیاتی پہلوؤں کا بلاامتیاز جائزہ لے کر حقائق پر مبنی رپورٹ، ذمہ داران کا تعین اور اپنی سفارشات جلد از جلد ان کے سامنے پیش کرے۔

وزیرِ اعظم کے حکم پر تشکیل دی گئی اس بااختیار انکوائری کمیٹی کے چیئرمین سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن ہوں گے، جبکہ دیگر اراکین میں سیکرٹری نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن ڈویژن کے علاوہ مسلح افواج کے نامور طبی ماہرین اور سینئر ڈاکٹرز کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ کمیٹی کے اراکین میں آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (AFIC) سے بریگیڈیئر ڈاکٹر جہانزیب علی، ڈاکٹر نصرت اللہ چوہدری، پروفیسر ڈاکٹر ندیم حیات ملک، پمز سے بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) ڈاکٹر عظمت حیات اور اے ایف آئی سی سے ہی سی ٹی اینجیو ٹیکنیشن عمر فاروق شامل ہیں۔ انکوائری کمیٹی کو یہ مکمل اختیار اور آزادی دی گئی ہے کہ وہ اپنی تحقیقاتی ضرورت کے مطابق کسی بھی دوسرے فنی و انتظامی ماہر یا افسر کو بحیثیت رکن کمیٹی میں شامل کر سکتی ہے۔

یہ انکوائری کمیٹی بنیادی طور پر اس امر کا تفصیلی تکنیکی جائزہ لے گی کہ آیا پمز ہسپتال میں سال 2022ء سے سی ٹی کورونری اینجیوگرام کرنے کی فنی صلاحیت موجود تھی یا نہیں، اور اگر تکنیکی صلاحیت موجود تھی تو اس کے لیے ضروری و مطلوبہ انسانی وسائل، اینجیوگرافی سافٹ ویئر، اور دیگر متعلقہ طبی سہولیات کس حد تک دستیاب تھیں۔ اس کے ساتھ ہی کمیٹی 2022ء سے لے کر اب تک پمز میں کیے گئے سی ٹی کورونری اینجیوگرام کے کل طریقہ کار، ان کے کیسز کی کل تعداد، ٹیسٹ کی تاریخوں اور اس کی نوعیت کا بھی گہرائی سے معائنہ کرے گی، جس کے لیے ہسپتال انتظامیہ کے مکمل آن ریکارڈ شواہد اور دستاویزی ثبوتوں کو بھی جانچا جائے گا۔

علاوہ ازیں، کمیٹی کا ایک اہم مقصد ہسپتال کے اندر کارڈیالوجی (امراضِ قلب) اور ریڈیالوجی کے شعبوں کے درمیان سی ٹی کورونری اینجیوگرافی کے ٹیسٹس کے لیے کسی باقاعدہ ریفرل میکنزم، دونوں شعبوں کے درمیان باہمی رابطے اور انتظامیہ کے مجموعی کردار کا جائزہ لینا بھی ہے۔ کمیٹی اس خاص پہلو کی بھی مکمل چھان بین کرے گی کہ آیا کارڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ میں آنے والے دل کے مریضوں کو معمول کے مطابق اور دیدہ و دانستہ طور پر سی ٹی کورونری اینجیوگرام کے لیے نجی لیبارٹریوں یا پرائیویٹ طبی مراکز میں ریفر کیا جاتا رہا، اور اگر ایسا کیا گیا تو کیا کسی خاص نجی ادارے کو فائدہ پہنچانے کے لیے ترجیح دی گئی؟ اس عمل کے نتیجے میں سرکاری ہسپتال سے کتنے مالیاتی کاروبار اور کروڑوں روپے کے مالي وسائل کا رخ نجی شعبے کی جانب موڑا گیا، اس کا تخمینہ بھی لگایا جائے گا۔

وزیرِ اعظم نے کمیٹی کو واضح ہدایت دی ہے کہ وہ پمز کے کارڈیالوجی اور ریڈیالوجی شعبوں کے درمیان کسی بھی قسم کے عدم تعاون، انتظامی بدنظمی، باہمی غلط فہمی یا مفادات کے ٹکراؤ کے باعث عوامی مفاد اور غریب مریضوں کو پہنچنے والے مالی و طبی نقصان کا بھی باریک بینی سے تعین کرے اور اس غفلت میں ملوث ذمہ دار افسران یا دفاتر کی نشان دہی کرے۔ نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن ڈویژن اس انکوائری کے تمام مرحلوں میں کمیٹی کو درکار ہر قسم کی انتظامی و دستاویزی معاونت فراہم کرے گا تاکہ تمام حقائق شفاف انداز میں سامنے لائے جا سکیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے۔

واپڈا کی جانب سے دریاؤں اور اہم آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کی جامع رپورٹ جاری، تربیلا ڈیم اپنی آخری سطح پر پہنچ گیا

منصور احمد, August 22,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 اگست 2026ء

واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے پاکستان کے تمام اہم دریاؤں، بیراجوں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد، اخراج اور ذخیرہ شدہ سطح سے متعلق اپنے ہفتہ وار اور روزانہ کے اہم اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔ اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح اپنی آخری یعنی 1550 فٹ کی بلند ترین سطح تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ڈیم میں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 5.580 ملین ایکڑ فٹ ہو چکا ہے۔ تربیلا کے مقام پر دریائے سندھ میں پانی کی آمد 2 لاکھ 70 ہزار 800 کیوسک جبکہ اخراج 2 لاکھ 59 ہزار 900 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

دیگر اہم دریاؤں کی صورتحال پر نظر ڈالی جائے تو دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانی کی آمد 40 ہزار 600 کیوسک اور اخراج 40 ہزار 600 کیوسک درج کیا گیا، جبکہ خیرآباد پل پر آمد اور اخراج دونوں 2 لاکھ 93 ہزار 400 کیوسک کی سطح پر ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ اسی طرح دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر پانی کی آمد 31 ہزار 600 کیوسک اور اخراج 7 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا ہے، جہاں ڈیم میں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 5.283 ملین ایکڑ فٹ ہو گیا ہے۔ دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد 67 ہزار 800 کیوسک جبکہ اخراج 53 ہزار 200 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔

صوبائی و قومی بیراجوں کے سیکیورٹی اور آمد و اخراج کے ڈیش بورڈ کے مطابق جناح بیراج پر پانی کی آمد 4 لاکھ 33 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 4 لاکھ 25 ہزار 400 کیوسک رہا۔ چشمہ بیراج میں 3 لاکھ 60 ہزار 900 کیوسک کی آمد کے مقابل 3 لاکھ 51 ہزار 900 کیوسک کا اخراج ریکارڈ کیا گیا۔ تونسہ بیراج میں آمد 3 لاکھ 38 ہزار 900 کیوسک اور اخراج 3 لاکھ 18 ہزار کیوسک، گدو بیراج میں آمد 3 لاکھ 12 ہزار 500 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 79 ہزار 300 کیوسک، اور سکھر بیراج میں پانی کی آمد 2 لاکھ 67 ہزار 200 کیوسک جبکہ اخراج 2 لاکھ 13 ہزار 400 کیوسک ریکارڈ ہوا۔ علاوہ ازیں کوٹری بیراج پر 1 لاکھ 27 ہزار 700 کیوسک آمد، تریموں بیراج پر 89 ہزار 600 کیوسک آمد اور پنجند بیراج پر 38 ہزار 500 کیوسک کی آمد ریکارڈ کی گئی۔

آبی ذخائر کے مجموعی مانیٹرنگ انڈیکس کو دیکھا جائے تو منگلا ڈیم کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1050 فٹ کے مقابلے میں فی الوقت پانی کی موجودہ سطح 1215.70 فٹ پر موجود ہے، جبکہ اس ڈیم کے ذخیرہ کرنے کی انتہائی حد 1242 فٹ مقرر ہے۔ اسی طرح چشمہ بیراج کا کم از کم آپریٹنگ لیول 638.15 فٹ، موجودہ سطح 647.00 فٹ اور انتہائی سطح 649 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے، جہاں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.212 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ واپڈا حکام کا کہنا ہے کہ تمام آبی ذخائر اور بیراجوں پر پانی کے بہاؤ کی ہمہ وقت مانیٹرنگ کی جا رہی ہے تاکہ ملک میں زرعی ضرورتوں اور فلڈ مینجمنٹ کے اقدامات کو مزید موثر انداز میں کنٹرول کیا جا سکے۔

اینٹی نارکوٹکس فورس کا ملک گیر کریک ڈاؤن: 3 کروڑ 83 لاکھ سے زائد مالیت کی منشیات برآمد، 7 ملزمان گرفتار

منصور احمد, August 22,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 اگست 2026ء

اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے ملک کے مختلف شہروں اور رابطہ سڑکوں پر منشیات اسمگلنگ کے خلاف وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے متعدد کامیا ب کارروائیاں کی ہیں، جن کے نتیجے میں کروڑوں روپے مالیت کی بھاری مقدار میں منشیات برآمد کر کے 7 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ترجمان اے این ایف کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، ملک بھر میں کی جانے والی ان مختلف کارروائیاں کے دوران مجموعی طور پر 174.82 کلوگرام منشیات برآمد کی گئی، جس کی عالمی و مقامی مارکیٹ میں تخمینہ مالیت 3 کروڑ 83 لاکھ روپے سے زائد بتائی جاتی ہے۔ فیصل آباد کے ایک مقامی کوریئر آفس میں کی گئی کارروائی کے دوران بحرین بھیجے جانے والے پارسل کو شک کی بنیاد پر چیک کیا گیا تو کپڑوں کے اندر مہارت سے چھپائی گئی 228 گرام اعلیٰ کوالٹی آئس برآمد ہوئی۔ بلوچستان میں تربت کے ضلع کیچ کے قریب ایک اور بڑی کارروائی کرتے ہوئے اے این ایف نے ایک مشکوک ٹرک کو روک کر تلاشی لی تو اس سے 125 کلوگرام آئس برآمد ہوئی، جس پر موقع سے دو ملزمان کو گرفتار کر کے ٹرک تحویل میں لے لیا گیا۔

اس کے علاوہ وفاقی دارالحکومت اور پنجاب کے مختلف شہروں میں بھی ناکہ بندی کے دوران اہم کامیا بیاں حاصل کی گئیں۔ موٹروے ٹول پلازہ اسلام آباد کے قریب ایک گاڑی سے 16.8 کلوگرام چرس برآمد کر کے ایک ملزم کو گرفتار کیا گیا، جبکہ جی ٹی روڈ لاہور میں ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کے قریب رکشے اور قریبی مکان پر چھاپہ مار کر مجموعی طور پر 10.8 کلوگرام چرس کی کھیپ قبضے میں لی گئی اور ایک شخص کو حراست میں لیا گیا۔ اٹک میں حضرو ٹول پلازہ کے قریب موٹر سائیکل سوار ملزم کے قبضے سے 6 کلوگرام چرس ملی، جبکہ لاہور شہر میں ایک اور آپریشن کے دوران گاڑی سے 4 کلوگرام آئس برآمد کر کے دو ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ کراچی کے علاقے نادرن بائی پاس کے قریب غیر آباد جھاڑیوں میں چھپائی گئی 12 کلوگرام چرس بھی برآمد کی گئی۔ اے این ایف حکام کا کہنا ہے کہ تمام گرفتار ملزمان کے خلاف انسدادِ منشیات ایکٹ 1997ء کے تحت مقدمات درج کر کے مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

بانی پی ٹی آئی عمران خان کی توہینِ عدالت کی درخواست: سپریم کورٹ سے الاٹ ڈائری نمبر میں 17 اور 804 کا عجیب اتفاق

کاشف عباسی , August 22,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 اگست 2026ء

پاکستان کی تعبیر و تشریح، جدید آئینی و قانونی تاریخ اور معاصر سیاسی منظر نامے میں بعض ہندسے ایسے ہوتے ہیں جو محض ریاضی یا گنتی کا عام اعداد و شمار کا حصہ نہیں رہتے بلکہ ایک مستقل اور طاقتور استعارہ، سیاسی تحریک کی علامت اور قومی شناخت کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ ملکی سیاست کے افق پر پچھلے کچھ عرصے سے دو ہندسے 17 اور 804 انتہائی کثرت کے ساتھ زبانِ زدِ عام رہے ہیں اور عوام و خواص میں یکساں مقبولیت حاصل کر چکے ہیں۔ لیکن اب قدرت کے ایک ایسے غیر معمولی اور دلچسپ اتفاق نے جنم لیا ہے جس نے سیاسی مبصرین، قانون دانوں، تجزیہ کاروں اور عام عوام کو ایک نئی حیرت اور دلچسپی میں مبتلا کر دیا ہے، جہاں یہ دونوں استعارے ایک ہی قانونی دستاویز کی زینت بن گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کی قانونی ٹیم کی جانب سے موجودہ حکومت کی بعض مبینہ پالیسیوں اور عدالتی احکامات کی عدم تعمیل کے خلاف اعلیٰ ترین عدالت میں دائر کی جانے والی توہینِ عدالت کی انتہائی اہم، حساس اور مقبول ترین پٹیشن کے ڈائری نمبر میں یہ دونوں تاریخی ہندسے ایک ساتھ نمایاں ہو کر سامنے آئے ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے متعلقہ شعبہ رجسٹری نے جب اس ہائی پروفائل پٹیشن کو وصول کیا اور اپنے باقاعدہ نظام کے تحت اسے رسمی طور پر ایک ڈائری نمبر الاٹ کیا تو اتفاقیہ طور پر اس کے عددی امتزاج میں 17 اور 804 کی ترتیب بالکل واضح، منفرد اور جگمگاتی ہوئی نمایاں نظر آئی۔

سیاسی حلقوں، قانونی ماہرین کی گفتگو اور سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر اس عجیب و غریب اور نادر اتفاق کو شدید حیرت اور تجسس کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔ ایک طرف جہاں 804 کا ہندسہ اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی قیدی شناخت اور ان کے کروڑوں حامیوں کا سب سے بڑا سیاسی نعرہ، آن لائن ٹرینڈ اور علامتی شناخت بن چکا ہے، تو دوسری طرف 17 کا ہندسہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں مبینہ طور پر حکومتی جماعت کی حقیقی نشستوں کی تعداد اور دھاندلی کے الزامات پر مبنی سیاسی بیانیے کے طور پر ملکی سیاسی بساط اور مختلف قانونی و آئینی معرکوں میں ایک خاص اہمیت اور مرکزیت کا حامل رہا ہے۔ ان دونوں انتہائی مقبول ترین اور سیاسی طور پر گرم ہندسوں کا ایک ہی کیس کے ڈائری نمبر میں یکجا ہو جانا کسی افسانوی داستان یا انمول صدف سے کم محسوس نہیں ہوتا۔

اس حوالے سے سپریم کورٹ بار اور قانونی جریدوں سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ویسے تو اعلیٰ عدالتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں کی تعداد میں آئینی و قانونی پٹیشنز جمع ہوتی ہیں اور انہیں مختلف ترتیبات کے ساتھ ڈائری نمبر الاٹ کیے جاتے ہیں، لیکن کسی مخصوص، انتہائی کوریج والے اور ہائی پروفائل سیاسی شخصیت کے مقدمے میں انہی کے سب سے مقبولِ عام سیاسی ہندسوں کا یوں یکسر باہم مل جانا ایک ناقابلِ یقین جادوئی اتفاق ہی کہا جا سکتا ہے۔ اس پیش رفت نے نہ صرف اس توہینِ عدالت کی پٹیشن کی قانونی سنجیدگی اور عوامی اہمیت کو دوبالا کر دیا ہے بلکہ اس کے ساتھ جڑے سیاسی سسپنس، صحافتی تجسس اور عوام کی توجہ کو بھی نئی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا مزید ماننا ہے کہ پاکستان کی قانون سازی اور عدالتی کارروائیوں میں علامت نگاری اور عددی اتفاقات اکثر عوامی جذباتی وابستگی کا باعث بنتے ہیں۔ اس پٹیشن پر اب تمام تر نظریں مرکوز ہو چکی ہیں کہ آیا یہ عددی امتزاج عدالتِ عظمیٰ کے اندر کیس کی پیشرفت اور قانونی سماعت کے دوران کیا اثرات مرتب کرتا ہے۔ عمران خان کی قانونی ٹیم نے اس حوالے سے اطمینان اور مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک مثبت شگون قرار دیا ہے جبکہ دوسری جانب حکومتی قانونی ماہرین کا موقف ہے کہ عدالتیں جذبات یا عددی اتفاقات سے بالاتر ہو کر محض آئین، قانون اور شواہد کی بنیاد پر فیصلے صادر کرتی ہیں۔

جسٹس سید حسن اظہر رضوی نے قائم مقام چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت کا حلف اٹھا لیا

منصور احمد, August 21,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 اگست 2026ء

جسٹس سید حسن اظہر رضوی نے قائم مقام چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت پاکستان کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔

شعبہ تعلقاتِ عامہ کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان کے بیرونِ ملک دورے کے باعث جسٹس سید حسن اظہر رضوی نے قائم مقام چیف جسٹس کی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔ وفاقی آئینی عدالت پاکستان میں منعقدہ ایک پروقار تقریبِ حلف برداری کے دوران جسٹس عامر فاروق نے ان سے قائم مقام چیف جسٹس کے عہدے کا حلف لیا۔ تقریب میں وفاقی آئینی عدالت کے معزز ججز، رجسٹرار، وزارتِ قانون، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور پاکستان بار کونسل کے نمائندگان اور عہدیداران نے شرکت کی۔

اعلامیے کے مطابق اس تقرری کا بنیادی مقصد عدالتی و انتظامی امور میں تسلسل برقرار رکھنا اور آئینی انصاف کی بلا تعطل و مؤثر فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ عدالت کے ترجمان نے اعادہ کیا کہ یہ انتظام ادارہ جاتی تسلسل اور قانون کی حکمرانی کا مظہر ہے اور وفاقی آئینی عدالت آئین کی بالادستی کے لیے اپنی ذمہ داریاں بدستور ادا کرتی رہے گی۔

نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار سے ملائیشین وزیرِ داخلہ کی ملاقات: تجارت، سیکیورٹی اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کا عزم

محمود احمد, August 21,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 اگست 2026ء

نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے وزارتِ خارجہ میں ملائیشیا کے وزیرِ داخلہ سیف الدین ناسوتیون اسماعیل نے اہم ملاقات کی، جس میں پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور دوطرفہ تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا۔

دفترِ خارجہ کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے بالخصوص تجارت و معیشت، باہمی قانونی معاونت، اور عوامی سطح پر روابط بڑھانے پر تفصیلی گفتگو کی۔ اس موقع پر علاقائی و بین الاقوامی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے مشترکہ اہداف حاصل کرنے کے لیے قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

اس اہم ملاقات میں وفاقی وزیرِ قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیرِ داخلہ سینیٹر محسن نقوی، وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان، اور وزیرِ مملکت طلال چوہدری سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی، جس سے دونوں ممالک کے درمیان کثیر الجہتی شراکت داری پر زور دیا گیا۔

پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو 30 ارب ڈالر تک پہنچانے کے لیے حکومتِ پاکستان اور گوگل کے درمیان تاریخی معاہدہ طے پا گیا

منصور احمد, August 21,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 اگست 2026ء

پاکستان میں ڈیجیٹل تبدیلی کو تیز کرنے، ڈیجیٹل مہارتوں کو فروغ دینے اور مصنوعی ذہانت کا استعمال بڑھانے کے لیے حکومتِ پاکستان اور عالمی ٹیکنالوجی ادارے گوگل کے درمیان ایک اہم مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط ہو گئے ہیں۔ اس تعاون کا بنیادی مقصد 2030ء تک پاکستان کی آئی ٹی برآمدات اور ڈیجیٹل معیشت کو 30 ارب ڈالر کے حجم تک پہنچانا ہے۔

وزیرِ اعظم آفس میں منعقدہ اس پروقار تقریب کی صدارت وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے کی، جبکہ وفاقی وزیرِ آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، اور گوگل کی اعلیٰ قیادت کے وفد نے بھی شرکت کی۔ معاہدے پر سیکرٹری آئی ٹی ضرار ہاشم خان اور گوگل سائوتھ و سائوتھ ایسٹ ایشیا پبلک پالیسی کے سربراہ ڈیوڈ ویلر نے دستخط کیے۔ اس موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی سے نوجوانوں کو بااختیار بنانا حکومت کی ترجیح ہے اور نوجوان نسل ملک کی تقدیر بدلنے میں بنیادی کردار ادا کر سکتی ہے۔

معاہدے کے تحت گوگل 2026ء میں پاکستانی نوجوانوں کو 150,000 گوگل کیریئر سرٹیفکیٹس فراہم کرے گا تاکہ وہ جدید ترین تکنیکی مہارتیں حاصل کر سکیں۔ اس کے علاوہ طلبا کے لیے گوگل پلس اور جیمینائی نوٹ بک تک ایک سال کی مفت رسائی کے امکانات پر کام کیا جائے گا۔ اسلام آباد میں ایک خصوصی “اے آئی سینٹر آف ایکسی لینس” بھی قائم کیا جائے گا، جبکہ کی اصلاحات، زراعت کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، گیمنگ اسٹوڈیوز اور چھوٹے کاروباروں کو عالمی منڈی سے جوڑنے کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں گے۔

ایچ ای سی مانیٹرنگ ٹیم کا انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کا دورہ، انسداد منشیات پالیسی کے اقدامات کا جائزہ

روزینہ اسماعیل, August 21,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 اگست 2026ء

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی مانیٹرنگ ٹیم نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد (آئی آئی یو آئی) کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے یونیورسٹی میں انسدادِ منشیات پالیسی پر عملدرآمد اور طلبہ کے تحفظ کے لیے کیے گئے حفاظتی و انسدادی اقدامات کا جامع جائزہ لیا۔

یونیورسٹی حکام کی جانب سے دی گئی تفصیلی بریفنگ کے بعد ایچ ای سی مانیٹرنگ ٹیم نے مرد اور خواتین کے مختلف کیمپسز اور سیکیورٹی مانیٹرنگ کے تمام پوائنٹس کا عملی معائنہ کیا۔ اس موقع پر ٹیم نے کیمپس میں نگرانی کے جدید آلات اور مانیٹرنگ کے بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط اور فعال بنانے سے متعلق مختلف تجاویز پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ ایچ ای سی ٹیم نے آئی آئی یو آئی کی انتظامیہ کی جانب سے کیمپس کو منشیات اور تمباکو سے پاک رکھنے، اساتذہ و طلبہ میں مسلسل آگاہی کی مہمات چلانے اور ایچ ای سی کی قومی پالیسی پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے مکمل اطمینان کا اظہار کیا۔