ہارون اختر خان وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار مقرر، وفاقی وزیر کا درجہ دیا گیا: باضابطہ نوٹیفکیشن جاری

کاشف عباسی , August 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اگست 2026ء

حکومتِ پاکستان نے ممتاز ماہرِ اقتصادیات اور کاروباری رہنما ہارون اختر خان کی بطور وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار تقرری کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے تحت انہیں وفاقی وزیر کا منصب اور درجہ حاصل ہوگا۔

وزارتِ صنعت و پیداوار کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ہارون اختر خان کی یہ تقرری صدرِ پاکستان کی منظوری کے بعد عمل میں آئی ہے جس کا نوٹیفکیشن کابینہ ڈویژن نے جاری کیا۔ وہ سینیئر مشیر کے طور پر فوری طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے اور صنعت و پیداوار کا اہم قلمدان ان کی دیکھ بھال میں رہے گا۔

ہارون اختر خان عوامی خدمت، مقننہ اور کاروباری دنیا کا ایک شاندار اور وسیع پس منظر رکھتے ہیں۔ وہ ماضی میں دو مرتبہ سینیٹر اور دو مرتبہ پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہو چکے ہیں۔ تعلیمی لحاظ سے انہوں نے کینیڈا کی معروف یونیورسٹی آف مینی ٹوبا سے ایکچوریل سائنس اور بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹر آف سائنس کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ اس کے علاوہ وہ سوسائٹی آف ایکچوریز (امریکہ) اور کینیڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایکچوریز کے فیلو بھی ہیں، اور اپنی پیشہ ورانہ سند حاصل کرتے وقت وہ اس شعبے کی تاریخ کے سب سے کم عمر ایکچوری بنے تھے۔

پاکستان واپس آ کر ملکی خدمات انجام دینے سے قبل انہوں نے امریکہ اور کینیڈا کی معروف کمپنیوں میں کارپوریٹ گورننس، اقتصادی منصوبہ بندی، مالیاتی ماڈلنگ اور سرمایہ کاری کے میدانوں میں گراں قدر تجربہ حاصل کیا۔ بعد ازاں سال 2015ء سے 2018ء کے دوران انہوں نے وفاقی وزیر کے درجے کے ساتھ معاونِ خصوصی برائے محصولات کے طور پر بھی کامیابی سے فرائض انجام دیے، جہاں انہوں نے ٹیکس اصلاحات میں اہم کردار ادا کیا۔

بطور سینیٹر انہوں نے 2006ء سے 2012ء کے دوران خزانہ، تجارتی و اقتصادی امور، منصوبہ بندی، صنعت و پیداوار، اور پٹرولیم سمیت سینیٹ کی متعدد اہم ترین قائمہ کمیٹیوں میں سینیئر رکن کی حیثیت سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ تین دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط کاروباری اور سیاسی کیریئر کے دوران انہوں نے بزنس ٹو بزنس اور حکومت و صنعت کے درمیان قریبی روابط استوار کرنے، سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی اور صنعتی ترقی کی راہ ہموار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

ہیلتھ سروسز اکیڈمی اسلام آباد میں بی ایس آپٹومیٹری ڈگری پروگرام (خزاں 2026ء) کے داخلوں کا اعلان

روزینہ اسماعیل, August 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اگست 2026ء

ہیلتھ سروسز اکیڈمی اسلام آباد نے تعلیمی سیشن خزاں 2026ء کے لیے اپنے چار سالہ بی ایس آپٹومیٹری ڈگری پروگرام میں نئے داخلوں کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔

ہیلتھ سروسز اکیڈمی انتظامیہ کی جانب سے جاری کی گئی تفصیلات کے مطابق اس پروگرام میں داخلے کے لیے وہ تمام امیدوار اپلائی کرنے کے اہل ہوں گے جنہوں نے ایف ایس سی پری میڈیکل یا اس کے مساوی امتحان میں کم از کم 50 فیصد نمبر حاصل کیے ہوں۔ یہ چار سالہ ڈگری پروگرام ہائر ایجوکیشن کمیشن سے مکمل منظور شدہ ہے، جبکہ ہیلتھ سروسز اکیڈمی ایچ ای سی کی تسلیم شدہ یونیورسٹی کا درجہ رکھتی ہے۔ مزید برآں، یہ کورس الائیڈ ہیلتھ پروفیشنل کونسل کے تحت باقاعدہ رجسٹرڈ اور ریگولیٹڈ ہے، جبکہ اس ڈگری کو ‘ورلڈ کونسل آف آپٹومیٹری’ سے بھی عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔

اکیڈمی حکام کا کہنا ہے کہ چار سالہ ڈگری کامیابی سے مکمل کرنے والے گریجویٹس کے لیے ملک و بیرونِ ملک روزگار کی وسیع تر مارکیٹ موجود رہے گی۔ فراغت حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات سرکاری و نجی ہسپتالوں، آئی کلینکس، طبی تدریس و سائنسی تحقیق کے شعبوں، آپٹیکل انڈسٹری، بزنس مینجمنٹ، اور ماہرینِ امراضِ چشم کے ساتھ کلینیکل پریکٹس سمیت مختلف معتبر شعبوں میں بطور پیشہ ور ماہرِ بصریات اپنی خدمات انجام دے سکیں گے۔

اس ڈگری پروگرام کی فی سمسٹر ٹیوشن فیس 70 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ تمام خواہشمند امیدوار اپنی درخواستیں ہیلتھ سروسز اکیڈمی کی سرکاری ویب سائٹ کے ذریعے آن لائن جمع کرا سکتے ہیں۔ داخلہ فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 اگست 2026ء مقرر کی گئی ہے۔ ہیلتھ سروسز اکیڈمی کا کیمپس پارک روڈ، پی ایم ہیلتھ کمپلیکس، چک شہزاد اسلام آباد میں واقع ہے۔

پاکستان اور امریکہ کے درمیان 5 سالہ فل برائٹ ایچ ای سی معاہدے کی تجدید: اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے لیے 6.4 ارب روپے سے زائد مختص

روزینہ اسماعیل, August 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اگست 2026ء

پاکستان اور امریکہ نے اعلیٰ تعلیم، سائنسی تحقیق اور انسانی وسائل کی پیشہ ورانہ ترقی کو وسعت دینے کے لیے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اور یونائیٹڈ سٹیٹس ایجوکیشنل فاؤنڈیشن ان پاکستان (یو ایس ای ایف پی) کے درمیان تاریخی پانچ سالہ فل برائٹ-ایچ ای سی معاہدے کی باقاعدہ تجدید کر دی ہے۔

وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق تجدید شدہ معاہدہ مالی سال 2026-27ء سے مالی سال 2031-32ء تک اگلے پانچ برسوں کے لیے نافذ العمل رہے گا۔ اس معاہدے کے تحت فل برائٹ ماسٹرز اور پی ایچ ڈی پروگرامز، پوسٹ ڈاکٹریٹ وزٹنگ اسکالر پروگرام، فارن لینگوئج ٹیچنگ اسسٹنٹ پروگرام اور ہیوبرٹ ایچ ہمفری فیلوشپ پروگرام کے ذریعے پاکستانی طلبہ اور محققین کو امریکی جامعات میں اعلیٰ تعلیم و تحقیق کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

معاہدے کے تحت آئندہ پانچ سالوں کے دوران 66 پاکستانی پی ایچ ڈی اسکارلرز کو خصوصی مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ اس فنڈنگ کے لیے ایچ ای سی سالانہ کم از کم 4.54 ملین ڈالر فراہم کرے گا جبکہ پانچ سال کی مدت میں مجموعی مالیاتی حجم 6.48 ارب روپے تک ہوگا۔ مزید برآں، یو ایس ای ایف پی کے پاس موجود فنڈز سے حاصل ہونے والے منافع کو بھی مزید اسکالرشپس کی فراہمی کے لیے استعمال کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق طلبہ اس سہولت سے مستفید ہو سکیں۔

معاہدے کی اہم شرط کے مطابق اسکارلرز کا انتخاب مکمل طور پر شفاف میرٹ کی بنیاد پر کیا جائے گا اور کسی خطے یا شعبے کے لیے کوئی مخصوص کوٹہ نہیں ہوگا، جبکہ انتخابی کمیٹی میں ایچ ای سی کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔ پروگرام کی کارکردگی اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ جائزہ کمیٹی سال میں دو بار اجلاس منعقد کرے گی اور تمام مالیاتی معاملات کا سالانہ آڈٹ کرایا جائے گا۔

یہ معاہدہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلیمی شراکت داری کے تیسرے مرحلے کا آغاز ہے جو کہ فروری 2016ء کے ابتدائی معاہدے کے تسلسل کے طور پر سامنے آیا ہے۔ وفاقی حکومت نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اس اقدام سے ملک میں معیاری اعلیٰ تعلیم، جدت اور بین الاقوامی تعلیمی و تحقیقی روابط کو بے حد فروغ حاصل ہوگا۔

راولپنڈی واقعہ نے پی ٹی آئی کے مذموم عزائم بے نقاب کر دیے، تشدد کی سیاست ان کا وطیرہ ہے: وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ

منصور احمد, August 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اگست 2026ء

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ تشدد اور انارکی کی سیاست پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا دیرینہ وطیرہ بن چکی ہے اور وہ کبھی پرامن احتجاج پر یقین نہیں رکھتی۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا بنیادی مقصد ملک میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنا اور قومی ترقی کے جاری سفر کو روکنا ہے، جبکہ راولپنڈی میں ہونے والے تازہ فائرنگ کے واقعے نے ان کے مذموم ایجنڈے کو پوری قوم کے سامنے واضح کر دیا ہے۔

منگل کے روز راولپنڈی مال روڈ پر پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے پر اپنے خصوصی ردِعمل میں وفاقی وزیر اطلاعات نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ مسلح ہو کر آنا اور سیکیورٹی اہلکاروں پر دن دیہاڑے فائرنگ کرنا ناقابلِ برداشت اور شدید قابلِ مذمت عمل ہے جس کا کوئی قانونی یا سیاسی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ ماضی میں بھی پی ٹی آئی کے مسلح احتجاجوں کے دوران پولیس اور رینجرز کے اہلکار جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں اور آج کے واقعے سے بھی ملزم کے قبضے سے پارٹی کا پرچم اور دیگر اہم دستاویزات برآمد ہوئی ہیں، جو ان کے نظریے کی عکاسی کرتی ہیں۔

عطاء اللہ تارڑ نے پی ٹی آئی کی جانب سے کی جانے والی لانگ مارچ کی کال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر کوئی اہم سفارتی و معاشی کامیابی ملتی ہے یا اہم معاہدے طے پاتے ہیں، پی ٹی آئی فوری طور پر ملک میں انارکی پھیلانے کے لیے احتجاج کا راستہ اختیار کر لیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے جیسی عظیم بین الاقوامی کامیابی اور پاکستان کی بڑھتی ہوئی عالمی عزّت ان سے ہضم نہیں ہو رہی۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے اپنے بیان کے اختتام پر عزم ظاہر کیا کہ تمام تر رکاوٹوں کے باوجود پاکستان ترقی، خوشحالی اور استحکام کے راستے پر کامیابی سے گامزن رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی قیادت عوام کی بہتری کے لیے دن رات کوشاں ہے اور امن و امان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے والے عناصر کو ہر محاذ پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں “پودے لگاؤ، ملک سنوارو” مون سون شجرکاری مہم کا آغاز: کیمپس کو سرسبز بنانے اور مصنوعی جنگل کے قیام کے عزم کا اعادہ

روزینہ اسماعیل, August 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اگست 2026ء

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت، ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کے سنگین چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی کیمپس کو ماحول دوست بنانے کے لیے ”پودے لگاؤ، ملک سنوارو“ کے عنوان سے مون سون شجرکاری مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔

یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے کوالٹی انہانسمنٹ سیل کی عمارت کے سامنے واقع مرکزی پارک میں ”کوریزیا“ کا پودا لگا کر اس مہم کا افتتاح کیا۔ افتتاح کے پروقار موقع پر یونیورسٹی کے تمام ڈینز، رجسٹرار، تمام پرنسپل افسران اور شعبہ ہارٹیکلچر کے حکام بھی موجود تھے۔ وائس چانسلر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ درخت لگانا صرف خوبصورتی کی سرگرمی نہیں بلکہ ہماری اجتماعی بقا اور صحت مند مستقبل کا ضامن ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے شجرکاری کو ہر شہری کے لیے قومی فرض کا درجہ دینا ہوگا۔

پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے شعبہ ہارٹیکلچر کو ہدایت جاری کی کہ یونیورسٹی کیمپس کے اندر ایک مصنوعی جنگل کے قیام کے لیے تمام ضروری انتظامات کو فوری طور پر حتمی شکل دی جائے تاکہ کیمپس کو جدید اور پائیدار ماحولیاتی ماڈل میں ڈھالا جا سکے۔

شعبہ زرعی سائنس کے ہارٹیکلچر آفیسر وجیح الحسن نے مہم کی تفصیلات بتاتے ہوئے آگاہ کیا کہ پہلے مرحلے میں کیمپس کے اندر ستر خوبصورت پھول دار پودے لگائے جا رہے ہیں، جبکہ اس پوری مون سون مہم کے لیے کل دو سو پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اسی دوران پروفیسر ڈاکٹر ارشاد احمد ارشد نے بتایا کہ اس مہم میں استعمال ہونے والے ستر فیصد پودے کسی باہر کی نرسری سے خریدنے کی بجائے یونیورسٹی میں پہلے سے موجود پودوں ہی سے تیار کیے گئے ہیں، جو کہ حکومتی و ادارے کے مالی وسائل کے انتہائی موثر اور پائیدار استعمال کا بہترین ثبوت ہے۔

تقریب کے اختتام پر تمام ڈینز اور سینئر افسران نے بھی پودے لگائے اور یونیورسٹی میں سبزہ زاروں کو وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس مہم کا بنیادی مقصد کیمپس کو خوبصورت بنانے کے ساتھ ساتھ اساتذہ، طلبہ اور ملازمین میں ماحولیاتی تحفظ اور شجرکاری کی اہمیت کا شعور بیدار کرنا ہے۔

خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری کا اقلیتوں کے قومی دن پر پیغام: ملک کی ترقی میں اقلیتی برادریوں کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں

کاشف عباسی , August 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اگست 2026ء

خاتونِ اول اور رکنِ قومی اسمبلی بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے ‘اقلیتوں کے قومی دن’ کے موقع پر پاکستان بھر کی تمام اقلیتی برادریوں کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی تعمیر، ترقی اور خوشحالی میں تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی خدمات اور بنیادی کردار انتہائی قابلِ قدر ہیں۔ اپنے ایک خصوصی پیغام میں انہوں نے واضح کیا کہ یہ دن ملک کے لیے اقلیتی برادریوں کی گراں قدر کاوشوں کو تسلیم کرنے اور اس قومی عزم کی تجدید کا موقع ہے کہ ہر شہری اس وطنِ عزیز کا مساوی اور برابر کا رکن ہے۔

خاتونِ اول نے اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان شخصیات نے تعلیم، صحت، قانون، عوامی خدمت، تجارت، مسلح افواج، فنون اور کھیل سمیت تمام شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ ان کی حاصل کردہ کامیابیوں اور محنت نے پاکستان کی پیش رفت اور خوشحالی کی داستان کو مضبوط بنایا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مساوات کا حقیقی اور عملی اظہار ہر شہری کو حاصل یکساں حقوق اور بلا امتیاز مواقع میں نظر آنا چاہیے، جبکہ قانون ریاست کے تمام باشندوں کو یکساں تحفظ فراہم کرنے کا پابند ہے۔

بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے بالخصوص اقلیتی نوجوانوں اور خواتین کے بااختیار ہونے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایک جامع اور خوشحال پاکستان کی تعمیر میں ان کا نقش کلیدی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے لیے اعلیٰ تعلیم، ہنر مندی اور روزگار کے یکساں راستے ہموار کیے جانے چاہئیں تاکہ وہ ملک کے بہتر مستقبل میں اپنا مؤثر کردار ادا کر سکیں۔ اسی طرح اقلیتی خواتین کو بھی تعلیمی، معاشی اور عوامی زندگی میں بھرپور انداز میں حصہ لینے کے پورے مواقع ملنے چاہئیں۔

اپنے پیغام کے اختتام پر خاتونِ اول نے تمام تعلیمی اداروں، خاندانوں اور عوامی طبقات پر زور دیا کہ وہ نوجوان نسل میں باہمی احترام، برداشت اور مساوات کی اقدار کو فروغ دیں۔ انہوں نے دعا کی کہ پاکستان اپنے تمام شہریوں کے لیے مساوی حقوق، انصاف اور عزتِ نفس کی ضمانت بن کر مسلسل ترقی اور خوشحالی کے سفر پر گامزن رہے۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت 14ویں ساؤتھ ایشین گیمز کی تیاریوں کا جائزہ اجلاس: پاکستان مارچ 2027ء میں کھیلوں کے عالمی مقابلے کی میزبانی کرے گا

منصور احمد, August 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اگست 2026ء

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے پاکستان میں منعقد ہونے والے 14ویں ساؤتھ ایشین گیمز کی تیاریوں اور انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے منگل کے روز ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق پاکستان مارچ 2027ء میں ان تاریخی علاقائی کھیلوں کے مقابلوں کی میزبانی کا فریضہ انجام دے گا، جس کے لیے تمام سفارتی اور انتظامی سطح پر تیاریاں تیز کر دی گئی ہیں۔

اجلاس کے دوران نائب وزیراعظم نے کھیلوں کی بین الاقوامی معیار کے مطابق بلا تعطل اور بہترین تیاریوں کو یقینی بنانے کے لیے مختلف ذیلی کمیٹیاں تشکیل دینے کی ہدایت جاری کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کمیٹیوں کی ذمہ داریوں میں مالیاتی امور کی دیکھ بھال، اسپورٹس انفراسٹرکچر کی جدید بنیادوں پر تعمیر و اپ گریڈیشن، قومی کھلاڑیوں کی پیشہ ورانہ تربیت و تیاری اور ایونٹ سے منسلک تمام لاجسٹک انتظامات کی باقاعدہ نگرانی شامل ہوگی۔ سینیٹر اسحاق ڈار نے تمام متعلقہ اداروں، صوبائی حکومتوں اور وزارتوں کے درمیان بروقت منصوبہ بندی اور باہمی قریبی رابطے کی اہمیت پر خصوصی زور دیا تاکہ کسی بھی شعبے میں تاخیر کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ 14ویں ساؤتھ ایشین گیمز کی میزبانی پاکستان کے لیے اپنے کھیلوں کے میدان میں موجود صلاحیتوں، شاندار مہمان نوازی اور اعلیٰ انتظامی استعداد کو دنیا بھر کے سامنے بہترین طریقے سے اجاگر کرنے کا ایک سنہری موقع ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس بین الاقوامی کھیلوں کے انعقاد کے ذریعے خطے اور دنیا کو پاکستان کی طرف سے امن، باہمی دوستی، خیر سگالی اور ہم آہنگی کا مثبت اور واضح پیغام پہنچایا جائے گا۔

اس اہم جائزاتی اجلاس میں وزیراعظم کے معاونِ خصوصی طارق باجوہ، پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر عارف سعید، سیکرٹری بین الصوبائی رابطہ، ڈائریکٹر جنرل پاکستان اسپورٹس بورڈ، وزارتِ خزانہ کے اعلیٰ حکام کے علاوہ پنجاب اور خیبر پختونخوا حکومتوں کے نمائندگان نے بھی شرکت کی اور کھیلوں کے کامیاب انعقاد کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کیں۔

سندھ میں شاہراہوں اور موٹرویز کی بہتری کے لیے 49 ارب 30 کروڑ روپے مختص: حیدرآباد سکھر موٹروے اور این-5 کی بحالی ترجیحات میں شامل

محمود احمد, August 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اگست 2026ء

سندھ میں قومی شاہراہوں اور موٹرویز کے بنیادی ڈھانچے کو جدید ترین خطوط پر استوار کرنے، تجارتی سرگرمیوں کو تیز کرنے اور سفر کو محفوظ بنانے کے لیے رواں مالی سال کے دوران 49 ارب 30 کروڑ 50 لاکھ روپے کے بھاری فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ ان فنڈز کی مدد سے حیدرآباد سکھر موٹروے اور سیلاب سے شدید متاثر ہونے والی اہم قومی شاہراہ این-5 کی تعمیر و بحالی سمیت متعدد اہم ترین مواصلاتی منصوبوں پر کام تیزی سے جاری رکھا جائے گا۔

سندھ کے مواصلاتی انفراسٹرکچر کے حوالے سے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی 2026-27) کے سرکاری دستاویزات سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق، نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے زیرِ انتظام سندھ میں موٹرویز اور قومی شاہراہوں کے کل 9 بڑے اور اہم ترین منصوبے شامل ہیں، جن کی مجموعی منظور شدہ پی سی-ون لاگت 594 ارب 97 کروڑ 70 لاکھ روپے بنتی ہے۔ ان تمام منصوبوں پر جون 2026 تک مجموعی طور پر 122 ارب 50 کروڑ 80 لاکھ روپے کی رقوم خرچ کی جا چکی تھیں، جبکہ یکم جولائی 2026 کے بعد باقی ماندہ مالی ضروریات کا تخمینہ 472 ارب 46 کروڑ 90 لاکھ روپے لگایا گیا ہے۔ رواں مالی سال 2026-27 کے لیے مختص کیے گئے 49 ارب 30 کروڑ 50 لاکھ روپے میں 8 ارب 5 کروڑ 50 لاکھ روپے کے مقامی وسائل شامل ہیں، جبکہ 41 ارب 25 کروڑ روپے کی رقم غیر ملکی معاونت پر مشتمل ہے۔

دستاویزات کے مطابق منصوبوں میں سب سے بڑی اور اہم رقم، یعنی 30 ارب روپے، 306 کلومیٹر طویل حیدرآباد۔سکھر موٹروے کی تعمیر کے لیے مختص کی گئی ہے۔ چھ لین پر مشتمل یہ جدید اور باڑ سے محفوظ موٹروے بلڈ، آپریٹ اینڈ ٹرانسفر (BOT) کی بنیاد پر تعمیر کرنے کا عظیم الشان منصوبہ ہے جس کی مجموعی منظور شدہ لاگت 363 ارب 70 کروڑ روپے ہے، اور اس کی باقی ماندہ مالی ضرورت 363 ارب 69 کروڑ 10 لاکھ روپے رکھی گئی ہے۔ اس منصوبے کے لیے رواں مالی سال کے 30 ارب روپے میں سے 2 ارب روپے مقامی ذرائع اور 28 ارب روپے غیر ملکی مالی معاونت سے حاصل ہوں گے۔ حکام کے مطابق اس میگا پروجیکٹ کی خریدی و ٹینڈرنگ کا عمل نومبر 2026ء تک مکمل ہونے کی قوی توقع ہے۔

اس کے علاوہ سال 2022 کے تباہ کن سیلاب سے متاثر ہونے والی قومی شاہراہ این-5 کے مورو سے رانی پور تک (کلومیٹر 318 سے 404 کے درمیانی) شمالی اور جنوبی دونوں حصوں کی تعمیرِ نو اور 32 متاثرہ پلوں کی مکمل بحالی کے لیے 9 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ 57 ارب 24 کروڑ 50 لاکھ روپے کی مجموعی لاگت والے اس منصوبے پر جون 2026 تک 13 ارب 22 کروڑ 40 لاکھ روپے خرچ کیے جا چکے تھے۔ اس منصوبے کے لاٹ-1 پر 23 فیصد اور لاٹ-2 پر 19 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور اسے 30 جون 2027 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

دیگر اہم بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے تحت انڈس ہائی وے (این-55) پر شکارپور سے راجن پور کے درمیان 221.9 کلومیٹر طویل اضافی کیریج وے کی تعمیر کے لیے 5 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ 44 ارب 70 کروڑ روپے سے زائد لاگت کے اس منصوبے پر اب تک 32 ارب روپے سے زائد خرچ ہو چکے ہیں اور اس کے مختلف حصوں پر 21 فیصد سے 79 فیصد تک کام مکمل ہو چکا ہے، جسے اکتوبر 2026 تک مکمل کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔ دوسری جانب چین کے تعاون سے این-5 کے ہالا۔مورو سیکشن کے 66 کلومیٹر حصے کی بحالی کے لیے 2 ارب 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جس کی مجموعی لاگت 27 ارب 97 کروڑ روپے ہے اور اس کی خریداری کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔

اسی طرح سکھر میں این-5 اور این-65 کے سنگم پر چار لین فلائی اوور اور رابطہ سڑکوں کے لیے 1 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جس پر 62 فیصد کام مکمل ہے اور اسے اپریل 2027 تک مکمل کیا جائے گا۔ کراچی۔لاہور موٹروے کے لیے زمین کے حصول، معاوضوں کی ادائیگی اور یوٹیلٹی سروسز کی منتقلی کی مد میں 80 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جس پر 68 فیصد کام مکمل ہے اور دسمبر 2026 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔ مزید برآں سکھر۔ملتان موٹروے پر بھونگ انٹرچینج کی 31 اگست 2026 تک مکمل تیاری کے لیے 10 کروڑ روپے، کیریک کوریڈور کے منصوبوں کے لیے 83 کروڑ روپے، جبکہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مجوزہ نئی کراچی۔حیدرآباد موٹروے کی کمرشل فزیبلٹی کی تیاری کے لیے 7 کروڑ 50 لاکھ روپے کے فنڈز فراہم کیے گئے ہیں۔ ان تمام ترقیاتی اور مواصلاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل سے سندھ بھر میں نہ صرف سفری سہولیات اور تجارتی مال برداری کے نظام میں واضح بہتری آئے گی بلکہ ملک گیر سطح پر معاشی سرگرمیوں کو بھی زبردست فروغ حاصل ہوگا۔

پاکستان اور سوئٹزرلینڈ کا توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے اور نئی سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق

محمود احمد, August 10,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 اگست 2026ء

پاکستان اور سوئٹزرلینڈ نے توانائی کے شعبے میں باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے اور نئی سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کے لیے رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ پیش رفت سوئس عالمی توانائی تجارتی کمپنی ‘گنور گروپ’ کے وفد کی وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک سے ملاقات کے دوران سامنے آئی۔

ملاقات میں گنور گروپ کے وفد نے پاکستان کی انرجی مارکیٹ میں ڈی ریگولیشن اور نئی ریفائنری پالیسی کے حکومتی اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ڈاؤن سٹریم مارکیٹ کو کھولنے سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ وفد نے مجوزہ ‘بانڈڈ سٹوریج پالیسی’ اور ایل پی جی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے امکانات میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور پاکستان کو سرمایہ کاری کے لیے ایک موزوں و پرکشش مارکیٹ قرار دیا۔

وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے وفد کو بتایا کہ حکومت توانائی کے شعبے میں شفاف، مسابقتی اور سرمایہ کار دوست ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے گنور گروپ کو ایل پی جی اور دیگر جاری اصلاحاتی منصوبوں میں موجود نئے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی دعوت دی۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ دفاعی معاہدے پر وفاقی کابینہ کی متفقہ تحسینی قرارداد منظور، نیشنل ہاؤسنگ پالیسی 2026ء کی بھی منظوری

کاشف عباسی , August 10,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 اگست 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کو اہم سفارتی و دفاعی پیش رفت قرار دیتے ہوئے متفقہ قرارداد منظور کی گئی۔ قرارداد میں وزیراعظم، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

اجلاس کے دوران نیشنل ہاؤسنگ پالیسی 2026ء اور اس کے ایکشن پلان کی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے ہدایت کی کہ عمودی رہائش ) اور انرجی ایفیشنسی کوڈز کو ترجیح دی جائے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ‘اپنا گھر’ سکیم کے تحت بینکوں نے 220 ارب روپے کے قرضے منظور کیے ہیں جبکہ 32 ارب روپے سے زائد کی رقوم جاری کی جا چکی ہیں۔

وفاقی کابینہ نے پاکستان انفارمیشن سکورٹی فریم ورک کی منظوری دی جو ملک میں سائبر سکورٹی کے بنیادی معیارات کے لیے اہم دستاویز ثابت ہوگا۔ علاوہ ازیں، پاکستان اور سویڈن کے درمیان 1981ء کے دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدے کے خاتمے کا نوٹس واپس لینے اور پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023 میں ترامیم کی توثیق بھی کی گئی۔

اجلاس کے اختتام پر کابینہ کمیٹی برائے توانائی، اقتصادی رابطہ کمیٹی ) اور کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کے گزشتہ اجلاسوں میں کیے گئے فیصلوں کی باضابطہ توثیق کر دی گئی۔

قومی اقلیتی دن پر گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا خطاب: اقلیتیں پاکستان کی برابر کی شہری ہیں

کاشف عباسی , August 10,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 اگست 2026ء

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ اقلیتیں پاکستان کی برابر کی شہری ہیں اور ملکی ترقی و خوشحالی میں ان کا کردار انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہمیشہ آواز بلند کی، جبکہ صدر مملکت آصف علی زرداری اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری بھی اقلیتی برادریوں کے حقوق کے لیے مکمل پرعزم ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس میں قومی اقلیتی دن کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی، سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، سینیٹر دنیش کمار، سینیٹر مولانا عطاء الرحمن، وزیر مملکت برائے مذہبی امور کھیل داس کوہستانی، سینیٹر طاہر خلیل سندھو، بشریٰ انجم بٹ، فیصل سلیم رحمان، شہادت اعوان، ناصر بٹ، کامران مرتضیٰ، رکن قومی اسمبلی سید عبدالقادر گیلانی اور سیکرٹری سینیٹ سید حسنین حیدر سمیت اراکینِ پارلیمنٹ اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

گورنر فیصل کریم کنڈی نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ قومی اقلیتی دن بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کے وژن اور آئینِ پاکستان میں درج مساوات، آزادی، انسانی وقار اور شمولیت کے بنیادی اصولوں سے تجدیدِ عہد کا ایک اہم موقع ہے۔

آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا، چند مقامات پر بارش کا امکان: محکمہ موسمیات

روزینہ اسماعیل, August 10,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 اگست 2026ء

محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا، تاہم شمال مشرقی پنجاب، بالائی خیبرپختونخوا، کشمیر، اسلام آباد اور خطہ پوٹھوہار میں چند مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی توقع ہے۔

ترجمان محکمہ موسمیات کے مطابق اس وقت ہوا کا سیزنل کم دباؤ شمال مشرقی بلوچستان پر موجود ہے جبکہ ملک کے بالائی حصوں میں کمزور مون سون ہوائیں داخل ہو رہی ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھی ملک کے اکثر حصوں میں موسم گرم اور مرطوب رہا، تاہم قصور کے علاقے میں 1 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق پیر کے روز ملک میں شدید گرمی ریکارڈ کی گئی جہاں سب سے زیادہ درجہ حرارت دادو میں 45 ڈگری سینٹی گریڈ رہا، جبکہ سبی، دالبندین، سکھر، روہڑی اور خیرپور میں درجہ حرارت 43 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔

مکہ معاہدہ دفاعی اور امن و ترقی کے لیے ہے، کسی خلاف جارحانہ مقاصد نہیں: وفاقی کابینہ کے اجلاس سے وزیراعظم شہباز شریف کا خطاب

منصور احمد, August 10,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 اگست 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے تاریخی ‘مکہ معاہدے’ کے کوئی جارحانہ مقاصد نہیں، بلکہ یہ صرف دفاعی مقاصد اور خطے میں امن، ترقی و خوشحالی کے فروغ کے لیے ہے۔ انہوں نے اس معاہدے کو مسلم امہ کے لیے باعثِ تقویت قرار دیتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں کو سراہا۔

وزیراعظم نے ہنگو اور سوات سمیت دیگر علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جامِ شہادت نوش کرنے والے میجر حافظ احسان الٰہی، کیپٹن حمزہ اکرم اور ڈی ایس پی دیار خان سمیت تمام شہداء کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔ اجلاس کے دوران مسلم لیگ (ن) کے دیرینہ رہنما اقبال چنڑ کے انتقال پر بھی گہرے دکھ کا اظہار اور ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) وہاں اکثریتی جماعت بن کر ابھری ہے، جو قائد نواز شریف کی قیادت پر عوام کے اعتماد کا مظہر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آزاد کشمیر میں کسی کو لاقانونیت یا انارکی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، تاہم امن اور تحمل کے ساتھ بات چیت کرنے والوں کے لیے نئی حکومت کے قیام کے بعد مذاکرات کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

خطاب کے اختتام پر وزیراعظم نے قوم کو 14 اگست کا جشنِ آزادی بھرپور شان و شوکت اور ملی جوش و جذبے کے ساتھ منانے کی ہدایت کی اور عزم ظاہر کیا کہ پاکستان کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرکے قائد اعظم کا واقعی پاکستان بنایا جائے گا۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات: باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال

کاشف عباسی , August 10,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 اگست 2026ء

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب سے پاکستان میں امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر نے وزارتِ خزانہ میں اہم ملاقات کی، جس میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان معاشی تعلقات، دوطرفہ تجارت، اور مالیاتی تعاون کو وسعت دینے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔

وزیر خزانہ نے امریکی ناظم الامور کو اپنے حالیہ دورۂ واشنگٹن کی تفصیلات سے آگاہ کیا، جہاں انہوں نے امریکی وزیر خزانہ، آئی ایم ایف کی اعلیٰ انتظامیہ، امریکی انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن اور ایگزم بینک کے حکام سے ملاقاتیں کی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اداروں کے ساتھ تعمیری گفتگو ہوئی ہے اور پاکستان تجارتی بنیادوں پر قابلِ عمل منصوبوں کے لیے امریکی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرتا ہے۔

ملاقات میں امریکی تجارتی نمائندہ دفتر کے ساتھ باہمی تجارت کے فریم ورک پر ہونے والی پیش رفت پر بھی گفتگو کی گئی۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ ان مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے، جس سے مارکیٹ تک رسائی اور پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت زرمبادلہ کے ذخائر اور کریڈٹ پروفائل کو مستحکم بنانے کے لیے مالی معاونت کے ذرائع کو متنوع بنا رہی ہے۔

گفتگو کے دوران بندرگاہوں، لاجسٹکس، توانائی، ٹیلی کمیونیکیشن، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، اور مصنوعی ذہانت جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون کے امکانات پر غور کیا گیا۔ وزیر خزانہ نے علاقائی صورتحال کے پیش نظر پٹرولیم مصنوعات کی عالمی قیمتوں سے ہم آہنگی کے لیے یومیہ قیمتوں کی نظرثانی کے نظام کا بھی ذکر کیا۔

امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر نے مشکل عالمی معاشی حالات اور توانائی کی بڑھتی قیمتوں کے باوجود معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے پاکستان کے اصلاحاتی ایجنڈے کو سراہا۔ انہوں نے امریکی حکومت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت اور خصوصی شعبوں میں امریکی کمپنیوں کی سرمایہ کاری بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

پاکستان اور فلپائن کی باہمی تجارت 500 ملین ڈالر تک بڑھانے کا عزم، ویزا عمل آسان بنایا جا رہا ہے: فلپائنی سفیر

منصور احمد, August 10,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 اگست 2026ء

پاکستان میں فلپائن کے سفیر ڈاکٹر ایمانوئل آر فرننڈیز نے دونوں ممالک کے مابین باہمی تجارت کو 500 ملین امریکی ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تجارتی و معاشی تعلقات کے فروغ میں دونوں ممالک کے نجی شعبے اور چیمبرز آف کامرس کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔

قومی خبر رساں ادارے (اے پی پی) کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں فلپائنی سفیر نے بتایا کہ اس وقت پاکستان اور فلپائن کے درمیان باہمی تجارت 197 ملین ڈالر ہے جو کہ دونوں ممالک کی حقیقی صلاحیت سے کافی کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلپائن آبادی کے لحاظ سے آسیان کی دوسری بڑی مارکیٹ ہے اور پاکستان کے لیے اس خطے کا گیٹ وے ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آسیان کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کی صورت میں پاکستان 4 ٹریلین ڈالر کی وسیع مارکیٹ سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

سفیر نے بتایا کہ اسلام آباد میں فلپائن کا سفارتخانہ پاکستانیوں کے لیے ویزا عمل کو آسان بنا رہا ہے اور اس وقت ماہانہ تقریباً 320 ویزے جاری کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال 5 ہزار سے زائد پاکستانی سیاحت کے لیے فلپائن کا رخ کرتے ہیں جبکہ فلپائنی شہری بھی پاکستان کے شمالی علاقوں کی سیر میں دلچسپی رکھتے ہیں، اس لیے آنے والے وقت میں دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست پروازوں کی شروعات کے امکانی راستے موجود ہیں۔

ڈاکٹر ایمانوئل آر فرننڈیز نے ادویات، آٹوموبائل، الیکٹرانکس، حلال مصنوعات، سیاحت، زراعت، ای کامرس اور بلیو و گرین اکانومی کو باہمی سرمایہ کاری کے لیے اہم ترین شعبے قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے نوجوان اور جامعات بھی اسکالرشپ معاہدوں کے ذریعے ڈیجیٹل اکانومی اور تعلیمی میدان میں مضبوط شراکت داری قائم کر سکتے ہیں۔

قومی اقلیتی دن پر سپیکر و ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کے پیغامات: اقلیتوں کا کردار قابلِ فخر اور آئینی حقوق محفوظ ہیں

منصور احمد, August 10,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 اگست 2026ء

سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور ڈپٹی سپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ نے 11 اگست ‘اقلیتوں کے قومی دن’ کے موقع پر اپنے خصوصی پیغامات میں ملک کی تعمیر و ترقی، دفاع، تعلیم اور صحت سمیت تمام شعبوں میں اقلیتی برادری کے گراں قدر کردار کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اپنے پیغام میں کہا کہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 25 کے تحت ملک کے تمام شہری بلاامتیازِ رنگ، نسل، جنس اور مذہب برابر ہیں اور انہیں مساوی قانونی تحفظ حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ 11 اگست 1947ء کو بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے اپنے تاریخی خطاب میں تمام شہریوں کو مکمل مذہبی آزادی، مساوات اور رواداری کی ضمانت دی تھی، اور موجودہ ریاست اسی وژن پر پوری طرح عمل پیرا ہے۔

سردار ایاز صادق نے قومی تاریخ میں غیر مسلم شخصیات کی نمایاں خدمات کا ذکر کرتے ہوئے سابق ڈپٹی سپیکر سی ای گبن، ایس پی سنگھا، جسٹس اے آر کارنیلیئس، جسٹس دراب پٹیل، جسٹس رانا بھگوان داس، ڈاکٹر رتھ فاؤ، سکواڈرن لیڈر سیسل چوہدری، گروپ کیپٹن کامران بشیر اور معروف سفارتکار جمشید مارکر کی خدمات کو ناقابلِ فراموش قرار دیا۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ قومی اسمبلی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے قانون سازی کا سلسلہ جاری رکھے گی۔

ڈپٹی سپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ نے اپنے پیغام میں کہا کہ اقلیتوں کا قومی دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان کے استحکام میں تمام مذاہب کے ماننے والوں نے حصہ لیا ہے۔ رواداری، باہمی احترام اور مذہبی آزادی ہی ایک مضبوط اور پرامن معاشرے کی بنیاد ہیں، اور پارلیمان تمام شہریوں کو مساوی مواقع کی فراہمی کے لیے اپنا فعال کردار ادا کرتی رہے گی۔

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا قومی اقلیتی دن کی تقریب سے خطاب: ملکی ترقی میں اقلیتوں کا کردار ناقابلِ فراموش ہے

منصور احمد, August 10,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 اگست 2026ء

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان کی ترقی اور تعمیر میں اقلیتی برادریوں کا کردار ناقابلِ فراموش ہے، اور ہر شہری کو حقوق، تحفظ اور مساوی مواقع فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس میں ‘قومی اقلیتی دن’ کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پارلیمنٹرینز، اقلیتی کاکس کے ارکان اور سینیٹ سیکرٹریٹ کے اعلیٰ حکام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

چیئرمین سینیٹ نے یاد دہانی کرائی کہ انہوں نے 2009ء میں بطور وزیراعظم 11 اگست کو ‘قومی اقلیتی دن’ قرار دیا تھا تاکہ اقلیتوں کے مساوی مقام اور خدمات کا سرکاری سطح پر اعتراف کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ اسی دور میں اقلیتی امور کی وفاقی وزارت کا قیام، ملازمتوں میں 5 فیصد کوٹہ اور سینیٹ میں اقلیتی نمائندگی جیسے تاریخی اقدامات کیے گئے تھے۔

سید یوسف رضا گیلانی نے تحریکِ پاکستان اور ملک کی تعمیر و ترقی میں اقلیتی رہنماؤں کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے دیوان بہادر ایس پی سنگھا، جوگندر ناتھ منڈل، جسٹس اے آر کارنیلیس، جسٹس دوراب پٹیل، جسٹس رانا بھگوان داس اور ڈاکٹر رتھ فاؤ کی خدمات کا خصوصی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلح افواج، عدلیہ، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں اقلیتی شخصیات کا باب قابلِ فخر ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ میثاقِ مدینہ بین المذاہب ہم آہنگی کی روشن مثال ہے، جبکہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی ہمیشہ تمام شہریوں کے مساوی حقوق کے لیے جدوجہد کی۔ تقریب کے اختتام پر چیئرمین سینیٹ نے سینیٹر دنیش کمار اور پارلیمانی اقلیتی کاکس کی کاوشوں کو سراہا۔

سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے یورپی پارلیمنٹ کے رکن اوندرے دوستال کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات اور پارلیمانی روابط کے فروغ پر تبادلہ خیال

کاشف عباسی , August 10,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 اگست 2026ء

سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے ممبر یورپین پارلیمنٹ اوندرے دوستال نے پارلیمنٹ ہاؤس میں اہم ملاقات کی، جس میں پاکستان اور یورپی یونین کے دوطرفہ تعلقات، پارلیمانی سفارت کاری اور اہم علاقائی و عالمی امور پر تفصیل سے بات چیت کی گئی۔

ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے سپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور دونوں ایوانوں کے درمیان پارلیمانی روابط اور باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ قومی اسمبلی نے قانون سازی، پارلیمانی اصلاحات اور عوامی فلاح کے امور پر نمایاں پیشرفت کی ہے، جبکہ خواتین و بچوں کے حقوق اور پائیدار ترقی کے اہداف کے لیے خصوصی کاکس اور سیکرٹریٹ فعال طور پر کام کر رہے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلیوں پر بات کرتے ہوئے سپیکر نے کہا کہ پاکستان گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں انتہائی کم حصہ رکھنے کے باوجود عالمی موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ اس حوالے سے قومی اسمبلی کا ‘گرین پارلیمنٹ منصوبہ’ ماحولیاتی تحفظ اور قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کا عملی ثبوت ہے۔

سردار ایاز صادق نے مزید کہا کہ پنجاب میں اساتذہ کی تربیت، فنی و پیشہ ورانہ تعلیم اور دیگر شعبوں میں اصلاحات قابلِ تحسین ہیں۔ پاکستان کے پاس باصلاحیت اور ہنرمند افرادی قوت موجود ہے جس سے یورپی یونین تعلیمی اور روزگار کے شعبوں میں استفادہ کر سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان دنیا بھر میں پائیدار امن کا خواہاں ہے اور تمام تنازعات کا حل مذاکرات کے ذریعے چاہتا ہے، جیسا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کا ثالثی کا کردار اس عزم کی روشن مثال ہے۔

یورپی پارلیمنٹ کے رکن اوندرے دوستال نے علاقائی امن، پارلیمانی سفارت کاری اور بین الاقوامی تعاون کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین اور پاکستان کے دوستانہ تعلقات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے قدرتی حسن کی بھی تعریف کی۔

لاہور ایئرپورٹ پر بڑی کارروائی: پی آئی اے کی ایئر ہوسٹس جرابوں میں لاکھوں کی غیر ملکی کرنسی چھپا کر جدہ لے جاتے ہوئے گرفتار

محمود احمد, August 10,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 10 اگست 2026ء

لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کسٹم اور ایف آئی اے حکام نے مشترکہ اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے قومی ایئر لائن (پی آئی اے) کی جدہ جانے والی پرواز سے ایک ایئر ہوسٹس کو بھاری مقدار میں غیر ملکی کرنسی بیرونِ ملک اسمگل کرنے کی کوشش کے الزام میں پرواز سے اتار کر گرفتار کر لیا ہے۔

حکام کے مطابق پی آئی اے کی پرواز پی کے 203 کے ذریعے جدہ روانہ ہونے والی ایئر ہوسٹس پر شک گزرنے پر اس کی تفصیلی تلاشی لی گئی، جس کے دوران اس کے قبضے سے 37 ہزار 318 امریکی ڈالر اور 40 ہزار سعودی ریال برآمد ہوئے۔ ذرائع کے مطابق یہ غیر ملکی کرنسی انتہائی مہارت کے ساتھ جرابوں میں چھپائی گئی تھی تاکہ ایئرپورٹ سیکیورٹی کو چکمہ دیا جا سکے۔

کسٹم حکام نے اسمگل کی جانے والی تمام غیر ملکی کرنسی کو تحویل میں لے کر متعلقہ قوانین کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے اور ملزمہ کو مزید تفتیش کے لیے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس نیٹ ورک کے پیچھے ممکنہ طور پر ملوث دیگر افراد کا سراغ لگانے کے لیے بھی تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔

قانون دانوں اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر ملکی کرنسی کی اس طرح اسمگلنگ ملک کے لیے معاشی نقصان کا باعث بنتی ہے اور کسی بھی قومی ادارے کے ملازم کی جانب سے ایسی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر کڑا احتساب ضروری ہے، تاہم جرم کی حتمی ذمہ داری کا تعین عدالت اور قانونی کارروائی کے بعد ہی ہوگا۔

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے تاریخ رقم کر دی: داخلوں کے ساتھ ہی طلبہ کو درسی کتب کی ترسیل کا آغاز

روزینہ اسماعیل, August 10,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 اگست 2026ء

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے طلبہ کو بروقت تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے عزم کو عملی جامہ پہناتے ہوئے ایک نئی مثال قائم کر دی ہے۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود کی خصوصی ہدایات پر سمسٹر خزاں 2026ء کے داخلوں کا عمل جاری رہتے ہی داخلہ لینے والے طلبہ کو درسی کتب کی ترسیل بھی شروع کر دی گئی ہے۔ یونیورسٹی کی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ داخلے جاری ہونے کے ساتھ ہی طلبہ کو درسی کتب کی فراہمی کا عمل بھی بیک وقت شروع کیا گیا ہے۔

وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے کہا کہ طلبہ کو کتب کے انتظار سے نجات دلانا اور بروقت تعلیمی مواد فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد طلبہ کو تعلیمی سفر کے آغاز ہی پر ضروری تعلیمی مواد فراہم کرنا اور فاصلاتی نظامِ تعلیم کو مزید مؤثر بنانا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ یونیورسٹی کے سالانہ تعلیمی کیلنڈر کے مطابق کتب کی ترسیل مقررہ نظام الاوقات کے تحت مکمل کی جائے اور ہر طالب علم کو اس کے داخل شدہ کورسز کے مطابق کتب کا مکمل سیٹ بروقت فراہم کیا جائے۔

پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے گزشتہ سمسٹر کے دوران طلبہ کو کتب کے نامکمل سیٹس موصول ہونے سے متعلق شکایات کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ رواں سمسٹر میں اس نوعیت کی شکایات سامنے نہیں آنی چاہئیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ہر طالب علم کے منتخب کردہ کورسز کے مطابق کتب کا مکمل پیکٹ انتہائی احتیاط سے تیار کیا جائے اور اس کی بروقت ترسیل یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کتب کی تیاری اور ترسیل کے عمل میں دستیاب افرادی قوت، وسائل اور انتظامی صلاحیتوں کو مؤثر انداز میں بروئے کار لایا جائے تاکہ طلبہ کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

شعبہ داخلہ کے ڈائریکٹر سید ضیاء الحسنین نے وائس چانسلر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پہلے مرحلے میں ایسوسی ایٹ ڈگری اِن آرٹس اور ایسوسی ایٹ ڈگری اِن کامرس کے طلبہ کو درسی کتب ارسال کی جا رہی ہیں جبکہ دیگر پروگرامز میں داخلہ لینے والے طلبہ کو بھی مرحلہ وار مقررہ نظام الاوقات کے مطابق کتب کی ترسیل جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ سمسٹر خزاں 2026ء میں داخلہ لینے والے تمام طلبہ کو درسی کتب کی ترسیل کا عمل 15 نومبر 2026ء تک مکمل کر لیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کتب کی ترسیل کے عمل کو داخلوں کے ساتھ مربوط کرنے سے طلبہ کو تعلیمی سرگرمیوں کے آغاز ہی سے اپنے متعلقہ کورسز کے مطالعاتی مواد تک رسائی حاصل ہوگی جس سے انہیں اپنی تعلیمی سرگرمیوں کی بروقت منصوبہ بندی اور مطالعے میں آسانی ہوگی۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا یہ اقدام محض کتب کی ترسیل کے نظام میں بہتری نہیں بلکہ طلبہ کے وقت کی قدر، تعلیمی تسلسل اور بروقت خدمات کی فراہمی کے عزم کا عملی اظہار ہے۔ داخلوں کے ساتھ ہی درسی کتب کی ترسیل کا آغاز فاصلاتی تعلیم کے طلبہ کے لیے ایک اہم سہولت ہے جو یونیورسٹی کی انتظامی کارکردگی، تعلیمی خدمات میں بہتری اور طلبہ مرکز پالیسیوں کے تسلسل کی عکاسی کرتا ہے۔