سابق وفاقی وزیر حماد اظہر کی گرفتاری کی باضابطہ تصدیق: 18 مقدمات میں مطلوب اور روپوش تھے، لاہور پولیس

کاشف عباسی , September 07,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

لاہور پولیس نے پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اور سابق وفاقی وزیر حماد اظہر کی ملتان سے گرفتاری کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ مختلف قانونی کیسز میں پولیس کو اشتہاری ملزم کے طور پر 18 مقدمات میں درکار تھے۔

ترجمان لاہور پولیس کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، حماد اظہر گزشتہ تقریباً تین سال سے روپوش اور روپوشی کی حالت میں تھے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تمام تر ضروری سیکیورٹی و قانونی ضوابط کی تکمیل کے بعد انہیں جلد از جلد مجاز عدالت میں پیش کیا جائے گا، جہاں تفتیشی ٹیمیں باقاعدہ تفتیش کی غرض سے ان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کی استدعا کریں گی۔

سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ حماد اظہر کو گزشتہ روز ایک کارروائی کے دوران ملتان سے حراست میں لیا گیا تھا، جس کے بعد انہیں فوری طور پر لاہور پولیس کی تحویل میں منتقل کر دیا گیا۔ ان کے خلاف 9 مئی 2023ء کے پرتشدد واقعات، امن و امان کی خرابی اور دیگر سنگین دفعات کے تحت قانونی کارروائیاں زیرِ التواء ہیں۔

دوسری جانب، پاکستان تحریک انصاف نے اس ہائی پروفائل گرفتاری کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے محض “سیاسی انتقام” کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔ پارٹی کے پہلے دعوے پر ابتدائی طور پر پولیس حکام کی جانب سے فوری ردِعمل سامنے نہیں آیا تھا، تاہم بعد ازاں لاہور پولیس نے ان کی گرفتاری کا باقاعدہ اعلان کر دیا۔

عدالتی ذرائع کے مطابق، مختلف احتساب و انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں کی جانب سے عدم پیشی پر ان کے دائمی وارنٹِ گرفتاری جاری کیے جا چکے تھے۔ ادھر، حماد اظہر کی والدہ نے ان کی بازیابی اور تحفظ کی ضمانت کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے بھی رجوع کر رکھا ہے۔

یو ایس اوپن ٹینس: ٹاپ سیڈ ہیلیواارا اور ہنری پیٹن کی جوڑی مینز ڈبلز کے پری کوارٹر فائنل میں داخل

محمود احمد, September 07,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

فن لینڈ کے نامور ٹینس سٹار ہیری ہیلیواارا اور انگلینڈ کے ہنری پیٹن پر مشتمل ٹاپ سیڈ جوڑی نے سال کے چوتھے اور آخری گرینڈ سلام یو ایس اوپن ٹینس ٹورنامنٹ کے مینز ڈبلز مقابلوں کے پری کوارٹر فائنل (ٹاپ 16 مرحلے) میں باآسانی جگہ بنا لی ہے۔

امریکی شہر نیویارک میں جاری عالمی ایونٹ کے دوسرے راؤنڈ کے اہم میچ میں فن لینڈ اور انگلینڈ کی جوڑی نے شاندار فنکارانہ کھیل اور اعلیٰ ہم آہنگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اٹلی کے میتھیو آرنلڈی اور جرمنی کے جان لینارڈ سٹرف کی جوڑی کو سیدھے سیٹوں میں 5-7 اور 2-6 سے مات دے کر ایونٹ سے باہر کر دیا۔

ٹورنامنٹ کے باضابطہ ریکارڈ کے مطابق ہیری ہیلیواارا اور ہنری پیٹن کو اس میگا ایونٹ کے مینز ڈبلز زمرے میں پہلی سیڈ حاصل ہے۔ رواں سال دونوں کھلاڑی انتہائی شاندار فارم میں ہیں اور حال ہی میں ومبلڈن ٹائٹل اپنے نام کرنے کے بعد اب مسلسل دوسری گرینڈ سلام ٹرافی اٹھانے کے لیے پرعزم ہیں۔

نیویارک کے ہارڈ کورٹس پر کھیلے جا رہے اس عالمی میگا ایونٹ میں دنیا بھر کے نامور کھلاڑی ٹائٹل کی جنگ لڑ رہے ہیں، جہاں ہیلیواارا اور پیٹن کی پیش قدمی سے ایونٹ میں ان کی پوزیشن مزید مضبوط ہو گئی ہے۔

انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان تیسرا اور آخری ٹیسٹ 9 ستمبر سے برمنگھم میں ہوگا

محمود احمد, September 07,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

انگلینڈ اور پاکستان کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان جاری تین ٹیسٹ میچوں پر مشتمل تاریخی سیریز کا تیسرا اور آخری میچ 9 سے 13 ستمبر تک ایجبسٹن، برمنگھم میں کھیلا جائے گا۔

میزبان انگلینڈ نے ابتدائی دونوں ٹیسٹ میچوں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیریز میں 2-0 کی فیصلہ کن اور ناقابلِ شکست برتری حاصل کر رکھی ہے۔ انگلینڈ نے لیڈز میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں پاکستان کو ایک اننگز اور 103 رنز کے بھاری مارجن سے شکست دی تھی، جبکہ لارڈز کے تاریخی میدان پر کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میں بھی میزبان ٹیم نے 194 رنز سے کامیابی حاصل کی۔

پاکستانی ٹیم نے اس ٹیسٹ سیریز کے باقاعدہ آغاز سے قبل انگلینڈ کی کاؤنٹی کرکٹرز پر مشتمل سلیکٹ الیون کے خلاف تین روزہ مشقی میچ میں 7 وکٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی، تاہم وہ اس فارم کو اہم ٹیسٹ میچوں میں برقرار رکھنے میں ناکام رہی۔

سلسلے کا آخری معرکہ بدھ 9 ستمبر سے ایجبسٹن میں شروع ہو رہا ہے جو 13 ستمبر تک جاری رہے گا۔ یہ اہم میچ مقامي وقت کے مطابق صبح 11 بجے شروع ہوگا۔ انگلش ٹیم کی قیادت جو روٹ کر رہے ہیں اور میزبان کرکٹ بورڈ نے آخری معرکے کے لیے 15 رکنی حتمی ڈریسنگ روم کا اعلان کر دیا ہے جہاں ان کی نظریں مکمل کلین سویپ پر مرکوز ہیں۔

دوسری جانب مسلسل دو شکستوں کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے قومی ٹیم کی کوچنگ کی کمان سرفراز احمد سے لے کر مائیک ہیسن کے سپرد کر دی ہے، جبکہ ٹیم میں بھی متعدد تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ قومی ٹیم اخری میچ میں فتح حاصل کر کے سیریز کا اختتام مثبت انداز میں کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

پوری قوم کو پاک فضائیہ پر فخر ہے، شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی: یومِ فضائیہ پر وزیراعظم شہباز شریف کا پیغام

کاشف عباسی , September 07,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے یومِ فضائیہ کے موقع پر پاک فضائیہ کے بہادر اور جری شاہینوں کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوری قوم کو پاک فضائیہ پر بے پناہ فخر ہے اور ملکی دفاع کی خاطر اپنے پران نچھاور کرنے والے شہداء کی عظیم قربانیاں ہمیشہ قومی یادوں میں نقش رہیں گی۔

سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری کیے گئے اپنے خصوصی اور اہم پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ یومِ فضائیہ کے پروقار موقع پر وہ پاک فضائیہ کے تمام جانبازوں کی غیر معمولی جرات، اعلیٰ ترین پیشہ ورانہ مہارت اور ناقابلِ تسخیر جذبے کو سلام پیش کرتے ہیں۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے تاریخی حقائق کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ ستمبر 1965ء کی جنگ میں پاکستانی فضائی حدود کے بہادرانہ دفاع سے لے کر مئی 2025ء کے معرکۂ حق کے دوران دشمن کو دیے گئے فیصلہ کن اور دندان شکن جواب تک، پاک فضائیہ نے شجاعت، فنی مہارت، درست نشانے اور ایثار و قربانی کی اپنی سدا بہار اور قابلِ فخر روایت کو پوری شان سے برقرار رکھا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ غیر معمولی عملیاتی تیاری، جدید ترین ٹیکنالوجی اور سائنسی علوم میں مکمل مہارت، اور پاک فوج کی دیگر دفاعی شاخوں کے ساتھ بہترین عملیاتی ہم آہنگی کے ذریعے پاک فضائیہ نے بارہا دنیا پر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ہر آنے والے درپیش چیلنج کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہوئے پاکستان کی جغرافیائی حدود اور خودمختاری کے دفاع کی مکمل اور بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

قومی شہداء کو عقیدت و احترام سے خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وطن کے لیے جان دینے والے سرفروشوں کی لازوال داستانیں قوم کا اصل اثاثہ ہیں۔ پوری قوم اپنے شاہینوں کی ناقابلِ تسخیر جرات، بے مثال صلاحیتوں اور سرحدوں کے تحفظ کے لیے فراہم کی جانے والی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور ان پر ہمیشہ فخر محسوس کرتی رہے گی۔

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں جدید تدریسی مواد کی تیاری کے لیے 3 روزہ کنٹینٹ ڈویلپمنٹ ورکشاپ کا آغاز

روزینہ اسماعیل, September 07,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے سنٹر فار لائف لانگ لرننگ کے زیرِ اہتمام یونیورسٹی فیکلٹی کی پیشہ ورانہ استعدادِ کار، یونٹ رائٹنگ اور جدید ترین معیاری تدریسی مواد کی تیاری کے لیے 3 روزہ ‘کنٹینٹ ڈویلپمنٹ ورکشاپ’ کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔

اس اہم اور عملی تربیتی ورکشاپ کا بنیادی مقصد یونیورسٹی کے لاکھوں طلبہ و طالبات کے لیے اوپن اینڈ ڈسٹنس لرننگ کے جدید تقاضوں کے مطابق مؤثر، آسان اور جامع تعلیمی کورسز تیار کرنا اور اساتذہ کی فنی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے۔

ورکشاپ کی پروقار افتتاحی تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے کہا کہ اوپن یونیورسٹی کے فاصلاتی تعلیمی نظام میں معیاری تعلیمی مواد ہی استاد اور طالب علم کے درمیان بنیادی پل کا کردار ادا کرتا ہے۔ اس لیے طلبہ کی علمی ضروریات، بین الاقوامی ترجیحات اور جدید ہائبرڈ تدریسی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سائنسی بنیادوں پر مواد تیار کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اساتذہ کی مسلسل تربیت اور جدید طریقوں سے آگاہی یونیورسٹی کے تعلیمی گراف کو مزید بلند کرے گی۔

سنٹر فار لائف لانگ لرننگ کی ڈائریکٹر طوبیٰ سلیم نے ورکشاپ کے اغراض و مقاصد اور طریقہ کار پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ تربیتی سرگرمی کے دوران فیکلٹی ممبران کو یونٹ ڈویلپمنٹ، تعلیمی تحریر، اور کورس اسٹرکچرنگ کے جدید عملی و فنی پہلوؤں سے روشناس کرایا جا رہا ہے۔

تقریب میں جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی کے نمائندے عابد گل نے بھی شرکت کی اور کہا کہ معیاری تعلیمی مواد کسی بھی فاصلاتی تعلیمی ادارے کی کامیابی کی بنیادی بنیاد ہوتا ہے۔ انہوں نے اے آئی او یو کی اس انتظامی کاوش کو سراہا اور جائیکا کے تعاون کا اعادہ کیا۔

ورکشاپ کے پہلے روز نامور تعلیمی ماہرین کی جانب سے شرکاء کو کورس آؤٹ لائنز، یونٹ اسائنمنٹس اور گائیڈ لائنز کے حوالے سے عملی مشقیں کرائی گئیں تاکہ معیاری تعلیمی مواد کو حتمی شکل دی جا سکے۔

قائداعظم یونیورسٹی میں جدید زبان لیبارٹری کا قیام: شعبہ انگریزی اور ایس آئی ایل انٹرنیشنل کے درمیان اعلیٰ سطح کا اجلاس

روزینہ اسماعیل, September 07,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

پاکستان کی اعلیٰ ترین تعلیمی درسگاہ قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ انگریزی اور بین الاقوامی لسانی ادارے ‘ایس آئی ایل انٹرنیشنل’ کے درمیان یونیورسٹی میں اپنی نوعیت کی پہلی جدید ترین لینگویج لیبارٹری کے قیام کے حوالے سے ایک انتہائی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

اسی سلسلے میں قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ انگریزی میں ایک اعلیٰ سطحی مشترکہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایس آئی ایل انٹرنیشنل کے علاقائی ڈائریکٹر وین لونسفورڈ، پاکستان کی کنٹری ڈائریکٹر ایمی سنیل اور یونیورسٹی میں ایس آئی ایل کے نمائندے نکولس ہائڈاک نے شرکت کی۔ اجلاس میں شعبہ انگریزی کی چیئرپرسن پروفیسر عروسہ کنول، ڈاکٹر عمیما کامران اور ڈاکٹر یاسر حسین بھی موجود تھے۔

اجلاس کے دوران مجوزہ زبان لیبارٹری کے تکنیکی ڈیزائن، جدید ترین ساؤنڈ و لینگویج سافٹ ویئرز، ضروری آلات اور اس کے مستقبل کے تعلیمی و تحقیقی استعمال سے متعلق مختلف انتظامی و سائنسی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

شعبہ انگریزی کی چیئرپرسن پروفیسر عروسہ کنول نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایس آئی ایل انٹرنیشنل کے عالمی تعاون سے قائم ہونے والی یہ لینگویج لیبارٹری شعبے کے تعلیمی و تحقیقی ڈھانچے کو جدید ترین عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے میں سنگِ میل ثابت ہوگی۔ جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال سے نہ صرف زبان کی تدریس اور سیکھنے کے عمل کو بہتر بنایا جا سکے گا بلکہ طلبہ کی عملی مہارتوں میں بھی اضافہ ہوگا۔

اجلاس میں اس بات پر خصوصی تمرکز کیا گیا کہ اس لیبارٹری کے قیام سے انگریزی زبان، ڈسکورس اینالسز، ترجمہ نگاری اور بالخصوص پاکستان میں معدومیت کے خطرے سے دوچار علاقائی زبانوں پر سائنسی تحقیق کرنے والے اساتذہ، محققین اور طلبہ کو عالمی سطح کی تکنیکی سہولیات میسر آئیں گی۔

قائداعظم یونیورسٹی کی انتظامیہ اور شعبہ انگریزی نے ایس آئی ایل انٹرنیشنل کی جانب سے تعلیمی و سائنسی تعاون کو زبردست الفاظ میں سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ باہمی اشتراک ملک میں زبانوں کی فروغ اور تعلیمی تحصیلاسی و تحقیقی سرگرمیوں کو ایک نیا موڑ دے گا۔

١٩٦٥ء سے ٢٠٢٦ء تک دنیا کے دفاعی تصورات تبدیل ہو چکے؛ اب جنگیں صرف روایتی ہتھیاروں سے نہیں بلکہ سائبر، سپیس اور اے آئی سے جیتی جائیں گی

منصور احمد,September 07,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے یومِ فضائیہ کے تاریخی موقع پر کہا ہے کہ 1965ء سے لے کر 2026ء تک گزرنے والے ان دہائیوں میں دنیا کے دفاعی تصورات اور جنگی تزویرات میں بنیادی اور انقلابی تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں۔ ان کے مطابق آج کے دور میں کسی بھی ملک کے دفاع کا تصور صرف روایتی ہتھیاروں جیسے ٹینکوں، توپوں اور جیٹ طیاروں تک محدود نہیں رہا بلکہ مصنوعی ذہانت ، جدت اور جدید ترین ٹیکنالوجی نئے اور انتہائی طاقتور دفاعی محاذ بن چکے ہیں۔

7 ستمبر یومِ فضائیہ کی مناسبت سے جاری اپنے خصوصی اور فکر انگیز قومی پیغام میں پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کی خودمختاری، جغرافیائی سلامتی اور خودمختارانہ وجود کو یقینی بنانے کے لیے ملک کی تمام دفاعی صلاحیتوں کو ٹیکنالوجی کے ان نئے اور ابھرتے ہوئے افق سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔

وفاقی وزیر نے پاکستان کے نوجوانوں، سائنسدانوں اور اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقے پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آنے والے وقت میں سائنسی علوم اور جدید ترین ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز میں پاکستان کے نوجوان ہی ملکی سلامتی اور خودمختاری کے حقیقی اور مضبوط ترین محافظ ثابت ہوں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ تیزی سے بدلتی ہوئی عالمی جیو پولیٹیکل صورتحال اور ہائبرڈ وارفیئر کے چیلنجز کے پیشِ نظر پاکستان کو علم، تحقیق، ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ اور اختراع کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کو گراس روٹ لیول سے مضبوط بنانا ہوگا۔

پروفیسر احسن اقبال نے آئندہ دہائیوں کے دفاعی تقاضوں کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل کی قومی سلامتی میں مصنوعی ذہانت ، سائبر سیکیورٹی ، بغیر پائلٹ کے آپریشنل سسٹمز، خلائی ٹیکنالوجی اور دیگر ابھرتے ہوئے سائنسی شعبے کلیدی کردار ادا کریں گے۔ ان کے مطابق پاکستان کو ان شعبوں میں محض غیر ملکی ٹیکنالوجی استعمال کرنے والے گاہک کے بجائے خود تحقیق اور مقامی اختراع کے ذریعے نئی ٹیکنالوجیز تیار کرنے والا خودکفیل ملک بننے کے لیے طویل المدتی حکمتِ عملی اختیار کرنی ہوگی۔

انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر واضح کیا کہ 2026ء کی جدید دنیا میں قومی سلامتی اب صرف عسکری یا روایتی طاقت تک محدود نہیں رہی، بلکہ مستحکم و پائیدار معیشت، باصلاحیت اور ہنر مند انسانی وسائل ، بین الاقوامی معیار کی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور ناقابلِ تسخیر قومی یکجہتی بھی کسی بھی ملک کی خودمختاری کے بنیادی ستون ہیں۔

1965ء کی جنگ میں پاک فضائیہ کے شاہینوں نے دشمن کا غرور خاک میں ملا دیا: یومِ فضائیہ پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا زبردست خراجِ تحسین

منصور احمد,September 07,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

وفاقی وزیر برائے داخلہ محسن نقوی نے 7 ستمبر ‘یومِ فضائیہ’ کے موقع پر پاک فضائیہ کے شجاع شہداء اور غازیوں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ 7 ستمبر 1965ء کا دن پاک فضائیہ کی غیر معمولی شجاعت، بے مثال جرات اور اعلیٰ ترین پیشہ ورانہ مہارت کا ایک سنہری اور تاریخی دن ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ کے مطابق، یومِ فضائیہ کی مناسبت سے جاری کردہ اپنے خصوصی قومی پیغام میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران پاک فضائیہ کے شاہینوں نے جرات و بہادری کی ایسی تاریخ رقم کی جس نے دشمن کی تمام تر عددی اور تکنیکی برتری کا غرور خاک میں ملا دیا۔

وفاقی وزیر داخلہ نے فضائی معرکے کے عظیم قومی ہیرو سکواڈرن لیڈر ایم ایم عالم (مرحوم) کو خصوصاً زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایم عالم کی شجاعت اور پیشہ ورانہ مہارت پاکستان کی عسکری تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش اور روشن باب ہے۔ ایم ایم عالم نے محض ایک منٹ کے قلیل وقت میں دشمن بھارت کے 5 جدید جیٹ جنگی طیارے مار گرائے، جو کہ ایک ایسا عالمی اور تاریخی کارنامہ ہے جس کی دنیا کی ہوا بازی میں کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔

محسن نقوی نے اپنے پیغام میں زور دیتے ہوئے کہا کہ یومِ فضائیہ ہمارے تمام غازیوں اور شہداء کی لازوال قربانیوں کی یاد تازہ کرتا ہے اور پوری پاکستانی قوم اپنے ان سرفروش ہیروز کی قربانیوں کو ہمیشہ احترام کے ساتھ یاد رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ وطنِ عزیز کی فضائی سرحدوں کے پاسبان ہمہ وقت بیدار، پرعزم اور مستعد ہیں، جبکہ شہداء اور غازیوں نے اپنے مقدس خون سے پاکستان کے دفاع کو ہمیشہ کے لیے ناقابلِ تسخیر بنا دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاک فضائیہ کے تمام افسران، انجینئرز اور جوانوں کا جذبۂ حب الوطنی اور پیشہ ورانہ صلاحیتیں پورِی قوم کے لیے قابلِ تقلید ہیں۔ قوم کو پاکستان ایئر فورس کی اعلیٰ تزویراتی و عملیاتی صلاحیتوں پر ہمیشہ کی طرح آج بھی بے پناہ فخر ہے۔

نوشکی میں ٹارگٹ کلنگ کا افسوسناک واقعہ: بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے ضلعی صدر عبدالرحمان لانگو فائرنگ سے جاں بحق

منصور احمد,September 06,2026

نوشکی / کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

بلوچستان کے ضلع نوشکی میں ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے ایک افسوسناک واقعے میں بلوچستان عوامی پارٹی کے ضلعی صدر اور معروف سیاسی و سماجی شخصیت عبدالرحمان لانگو نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

پولیس و سیکیورٹی حکام کے مطابق، یہ ٹارگٹڈ حملہ اتوار کی شب نوشکی شہر کے جنوب مغرب میں واقع علاقے کلی بٹو میں پیش آیا، جہاں مسلح ملزمان نے عبدالرحمان لانگو کو ان کی رہائش گاہ کے بالکل باہر اندھا دھند فائرنگ کا نشانہ بنایا۔ فائرنگ اتنی شدید تھی کہ وہ موقع پر ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے، جبکہ حملہ آور رات کے اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

نوشکی پولیس کے ایس ایچ او عبدالحئی پرکانی نے واقعے کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش کو ضروری قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے ٹارگٹ کلنگ کے اس واقعے کے مختلف پہلوؤں اور ممکنہ محرکات کو سامنے رکھتے ہوئے وسیع پیمانے پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور فرار ملزمان کی گرفتاری کے لیے علاقے کی ناکہ بندی کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ عبدالرحمان لانگو کا شمار نوشکی کی بااثر اور متحرک سیاسی و سماجی شخصیات میں ہوتا تھا۔ وہ بلوچستان عوامی پارٹی کے ضلعی صدر کی حیثیت سے ذمہ داریاں ادا کرنے کے علاوہ ماضی میں یونین کونسل باغک کے منتخب چیئرمین بھی رہ چکے تھے۔

واقعے کی خبر پھیلتے ہی نوشکی شہر اور گردونواح میں شدید تشویش، غم و غصے اور خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی ہے۔ فی الوقت کسی بھی کالعدم عسکریت پسند تنظیم یا کالعدم گروپ نے اس ہائی پروفائل قتل کی ذمہ داری قبول کرنے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے۔

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں سنسنی خیز واقعہ: کوئٹہ کراچی شاہراہ کے قریب سے 6 نامعلوم افراد کی لاشیں برآمد

کاشف عباسی , September 06,2026

مستونگ / کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

بلوچستان کے حساس اور مرکزی ضلع مستونگ سے اتوار کے روز 6 نامعلوم افراد کی گولیوں سے چھلنی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جس کے بعد علاقے میں شدید سنسنی، خوف اور تحفظات کی لہر دوڑ گئی ہے۔

حکومتی و سرکاری ذرائع نے واقعے کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ لاشیں کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ کے قریب دو الگ الگ مقامات سے ملی ہیں۔ محکمہ داخلہ حکومتِ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی سے رابطہ کرنے پر انہوں نے لاشوں کی برآمدگی کی تصدیق کی اور بتایا کہ اس سلسلے میں مستونگ پولیس نے باقاعدہ بیان جاری کیا ہے۔

مستونگ پولیس کے باضابطہ اعلامیے کے مطابق، کوئٹہ کراچی شاہراہ پر ڈی سی ہاؤس کے قریب سے 1 لاش جبکہ دتو موڑ کے مقام سے 5 افراد کی لاشیں ملیں۔ ایس ایچ او سٹی عبدالرؤف بلوچ کی نگرانی میں پولیس کی نگران ٹیم نے لاشوں کو ضروری قانونی کارروائی اور شناخت کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا ہے۔

تاہم، اس دردناک واقعے کے بعد مقامی رہائشیوں نے شدید تحفظات اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مستونگ کے مقامی رہائشی مالک بلوچ نے بتایا کہ لاشیں علی الصبح سڑک کے کنارے پھینکی گئی تھیں اور کافی دیر تک کھلے آسمان تلے سڑک کنارے پڑی رہیں۔

مقامی ذرائع نے یہ حیران کن انکشاف بھی کیا کہ پولیس اور ریسکیو اہلکار لاشوں کو اٹھا کر کوئٹہ منتقل کرنے کے لیے لے گئے تھے، لیکن پراسرار طور پر کچھ ہی دیر بعد انہیں دوبارہ لا کر مستونگ کی شاہراہ کے کنارے رکھ کر چھوڑ دیا گیا۔ شہریوں کے مطابق بعد ازاں ان لاشوں کو کسی سرکاری یا فلاحی ایمبولینس کے بجائے ایک زمیاد (Zamyad) گاڑی میں لاڈ کر کے نامعلوم جگہ منتقل کیا گیا۔

واقعے کے حقائق جاننے اور لاشوں کی منتقلی کے حوالے سے پیدا ہونے والے سوالات پر مستونگ پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں سے متعدد بار رابطے کی کوشش کی گئی، تاہم انہوں نے نہ تو فون کالز کا جواب دیا اور نہ ہی پیغامات کا کوئی ردِعمل سامنے آیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔

جرمنی میں یومِ دفاع و شہداءِ پاکستان کا شاندار انعقاد: برلن اور ہیمبرگ میں دیس سے دور پاکستانی کمیونٹی کی زبردست تقاریب

منصور احمد,September 06,2026

برلن / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

یومِ دفاع و شہداءِ پاکستان کے عظیم قومی موقع پر جرمنی کے اہم ترین شہروں برلن اور ہیمبرگ میں دیارِ غیر میں مقیم پاکستانی برادری کی جانب سے پروقار اور پرجوش خصوص تقاریب کا انعقاد کیا گیا۔ ان تقاریب میں جرمنی بھر سے پاکستانی تارکینِ وطن کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور 6 ستمبر 1965ء کی معرکہ آرائی میں سرحدوں کی حفاظت کرنے والے افواجِ پاکستان کے جری شہداء اور غازیوں کو عقیدت کے پھول پیش کیے۔

سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ کے مطابق، جرمنی کے دارالحکومت برلن میں مرکزی تقریب کا اہتمام پاکستان مسلم لیگ (ن) جرمنی کے جنرل سیکرٹری اور پی او ای ایف یورپ کے چیف آرگنائزر محمد انصر بٹ کی جانب سے کیا گیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے 6 ستمبر 1965ء کی تاریخی اور تزویراتی اہمیت پر روشنی ڈالی اور بھارتی جارحیت کے سامنے پاک افواج اور قوم کی بے مثال جرات اور استقامت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی کل بھی اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑے تھے اور آج بھی ملک کے تمام ریاستی اداروں کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔

دوسری جانب، جرمنی کے صنعتی شہر ہیمبرگ میں پاکستان جرمن سوسائٹی کے نائب صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی جرمنی کے سیکرٹری اطلاعات فرید شاہ نے ایک الگ باوقار تقریب کا انعقاد کیا۔ اپنے خطاب میں فرید شاہ نے 1965ء کی جنگ کو قومی تاریخ کا ایک سدا بہار اور سنہری باب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معرکے نے قوم کے غیر متزلزل اتحاد کو ثابت کیا۔ انہوں نے عسکری و سیاسی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے شہداء کی عظیم قربانیوں کو سلام پیش کیا۔

علاوہ ازیں، سینٹرل ملٹی کلچرل مسجد کے بانی صدر غضنفر الدین احمد کے زیراہتمام منعقدہ خصوصی تقریب میں شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے بالخصوص قرآنی خوانی اور دعائیں کی گئیں۔ غضنفر الدین احمد نے 1965ء کی جنگ کے دوران سابق صدر ایوب خان کے تاریخی قومی خطاب کا حوالہ دیا جس نے قوم میں دفاع کا بے مثال جذبہ بیدار کیا تھا۔ تقریب میں لاہور سے تعلق رکھنے والے معروف وی لاگر اور کالم نگار شاہ رخ محمود نے بھی شرکت کی اور 1965ء کے معرکے میں لاہور کے شہریوں کے تاریخی اور جری کردار کا احاطہ کیا۔

جرمنی میں منعقدہ ان تمام تقاریب کا مرکزی پیغام یہ تھا کہ تارکینِ وطن اپنے دیس اور پاک سرزمین سے ہزاروں میل دور ہونے کے باوجود جذباتی، سیاسی اور دفاعی طور پر پاکستان کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور افواجِ پاکستان کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

پنجاب کے بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق، جبکہ دریائے سندھ میں کالاباغ اور تونسہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب

روزینہ اسماعیل, September 06,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

پنجاب کے زیادہ تر اہم دریاؤں میں پانی کی آمد و رفت اور بہاؤ اس وقت معمول کے مطابق ریکارڈ کیا جا رہا ہے، تاہم بالائی علاقوں میں بارشوں کے باعث دریائے سندھ میں دو مقامات پر نچلے درجے کی سیلابی صورتحال برقرار ہے۔

پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی پنجاب کے ترجمان کی جانب سے یکم اور 6 ستمبر کو جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، دریائے چناب، جہلم، راوی اور ستلج میں پانی کا بہاؤ بالکل نارمل ہے اور تمام تمام کنٹرول سٹرکچرز محفوظ ہیں۔ اس کے علاوہ ڈیرہ غازی خان کی مختلف پہاڑی روڈ کوہیوں میں بھی فی الوقت پانی کی آمد اور بہاؤ معمول کے مطابق دیکھا جا رہا ہے۔

ترجمان پی ڈی ایم اے نے انکشاف کیا کہ دریائے سندھ میں کالاباغ اور تونسہ کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ کالاباغ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 72 ہزار کیوسک جبکہ تونسہ بیراج پر 3 لاکھ 6 ہزار کیوسک درج کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیالکوٹ اور نارووال کے قریب واقع برسات نالہ ڈیک (کنگرا کے مقام پر) بھی اس وقت نچلے درجے کی سیلابی کیفیت میں ہے۔ پانی کے ذخائر کی صورتحال کے مطابق تربیلا ڈیم اپنی مکمل صلاحیت کے مطابق 100 فیصد جبکہ منگلا ڈیم 79 فیصد تک بھر چکا ہے۔

محکمہ موسمیات اور پی ڈی ایم اے کے ڈیٹا کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب کے بیشتر اضلاع بشمول لاہور، سرگودھا، شیخوپورہ، فیصل آباد، چکوال، راولپنڈی، حافظ آباد، جھنگ، سیالکوٹ، ساہیوال، قصور، گوجرانوالہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، جوہر آباد، منڈی بہاؤالدین، گجرات، مری، نورپور تھل اور اٹک میں مون سون کی شدید بارشیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔

ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے پنجاب، محمد سیف انور جپہ نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایت پر سیلابی خطرے سے دوچار علاقوں میں فوری طور پر تمام سہولیات سے لیس فلڈ ریلیف کیمپس قائم کر دیے گئے ہیں۔ ان کیمپس میں ممکنہ متاثرین کے لیے عارضی رہائش، پکا ہوا کھانا، پینے کا صاف پانی، ادویات، طبی ٹیمیں اور دیگر بنیادی ضروریات فراہم کی جا رہی ہیں۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ موسم کی بدلتی صورتحال اور سیلابی خدشات کے پیشِ نظر مکمل احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ انہوں نے شہریوں کو خبردار کیا کہ وہ غیر ضروری طور پر دریاؤں، نہروں، برسات نالوں اور پانی کی گزرگاہوں پر سیر و تفریح یا پکنک سے سخت گریز کریں۔ خاص طور پر والدین پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی سخت نگرانی کریں اور انہیں ہرگز ڈوبنے کے خطرے والی نہروں یا سیلابی نالوں میں نہانے کی اجازت نہ دیں۔ کسی بھی ہنگامی کیفیت میں ضلاعی انتظامیہ اور ریسکیو 1122 کی ہدایات پر فوری عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

نیپال میں تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ: وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر پاکستان کی جانب سے 100 ٹن انسانی امداد کی ایمرجنسی کھیپ روانہ

کاشف عباسی , September 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر حکومتِ پاکستان نے حالیہ موصلادھار بارشوں، شدید سیلاب اور تباہ کن لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ دوست ملک نیپال کی امدادی و بحالی کی سرگرمیوں میں فوری معاونت کے لیے 100 ٹن سے زائد وزنی انسانی امدادی سامان کی بڑی کھیپ کھٹمنڈو روانہ کر دی ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ اور وزارتِ خارجہ کی جانب سے اتوار کے روز جاری کردہ باضابطہ ہنگامی بیان کے مطابق، قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے کے اعلیٰ زیرِ اہتمام تیار کی گئی اس امدادی کھیپ کو خصوصی چارٹرڈ طیارے کے ذریعے اسلام آباد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو منتقل کیا گیا۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان نے امدادی سامان کی تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ اس ایمرجنسی ریلیف پیکج میں نیپال کے شدید متاثرہ علاقوں اور بے گھر ہونے والے لینڈ سلائیڈنگ و سیلاب متاثرین کے لیے واٹر پروف خیمے، گرم کمبل، فلور چٹائیاں، حفظانِ صحت کی ضروری کٹس، ایمرجنسی ادویات اور فرسٹ ایڈ کا ضروری سامان شامل کیا گیا ہے تاکہ متاثرین کی بنیادی ضروریات کو فوری طور پر پورا کیا جا سکے۔

اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر امدادی سامان کی روانگی اور خصوصی چارٹرڈ فلائٹ کی منتقلی کے حوالے سے ایک وقار تقریب کا بھی انعقاد کیا گیا، جس میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے حکومتِ پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر پاکستان میں تعیّنات نیپال کے سفیر، وزارتِ خارجہ، این ڈی ایم اے اور سول ایوی ایشن کے اعلیٰ ترین عسکری و سول حکام بھی موجود تھے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری اور حکام نے کہا کہ پاکستان اور نیپال کے درمیان گہرے دوستانہ اور تاریخی تعلقات قائم ہیں۔ مشکل اور آزمائش کی اس گھڑی میں 100 ٹن امدادی سامان کی فراہمی حکومت اور عوامِ پاکستان کی جانب سے نیپال کی حکومت اور اس کے مصیبت زدہ عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی، خیر سگالی اور انسانی ہمدردی کے غیر متزلزل عزم کا واضح ثبوت ہے۔

خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کے تجارتی خسارے میں تاریخی کمی: درآمدات میں 44 فیصد کی ڈرامائی کیپنگ

منصور احمد, September 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

پاکستان کا مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی تعاون کونسل کے ممالک کے ساتھ تجارتی خسارہ رواں مالی سال 2026-27 کے پہلے ماہ جولائی میں ڈرامائی اور نمایاں حد تک کم ہو گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ خلیجی ممالک سے پٹرولیم، گیس اور توانائی کی درآمدات میں ہونی والی بڑی کمی اور برآمدات میں معمولی بہتری ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعداد و شمار کے مطابق، جولائی 2026 کے دوران مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے لیے پاکستان کی مجموعی برآمدات 5.6 فیصد اضافے کے ساتھ 271.60 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئیں، جو گزشتہ مالی سال کے اسی ماہ (جولائی 2025) میں 257.16 ملین ڈالر تھیں۔ دوسری جانب، خطے کے ممالک سے پاکستان کی برآمدات (درآمدی حجم) میں 44.3 فیصد کی نمایاں اور حیران کن کمی دیکھی گئی اور یہ حجم 1.578 ارب ڈالر سے گھٹ کر صرف 879.98 ملین ڈالر پر آ گیا۔

درآمدات میں اس بڑی سیکیورنگ کی بدولت جولائی میں پاکستان کا مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ مجموعی تجارتی خسارہ سکڑ کر تقریباً 608.4 ملین ڈالر رہ گیا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 1.32 ارب ڈالر سے زائد کا ایک بھاری تجارتی بوجھ تھا۔

اسٹیٹ بینک کے جزوی اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات ، سعودی عرب اور اردن کے لیے پاکستانی مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ قطر، کویت اور بحرین کے لیے پاکستانی برآمدی حجم میں کچھ کمی آئی۔ دوسری جانب درآمدی محاذ پر سب سے بڑا جھٹکا توانائی کی خرید کو لگا؛ بالخصوص متحدہ عرب امارات، کویت اور قطر سے پٹرولیم مصنوعات اور مائع قدرتی گیس کی آمد میں شدید کمی دیکھی گئی، تاہم بحرین اور اردن سے معمولی اضافہ سامنے آیا۔

پاکستان اپنی قومی اور صنعتی توانائی کی طلب کو پورا کرنے کے لیے خلیجی ممالک پر بری طرح انحصار کرتا ہے جہاں سے تیل، ایل این جی اور دیگر خام کیمیکلز درآمد کیے جاتے ہیں۔ گزشتہ مالی سال 2025-26 کے کل اعداد و شمار بھی بتاتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ سے پاکستان کی کل درآمدات 4 فیصد کمی کے ساتھ 16.413 ارب ڈالر رہی تھیں۔

توانائی کے معاشی و تکنیکی ماہر فرحان محمود نے اس پیش رفت کا تجزیہ کرتے ہوئے بتایا کہ خلیجی ممالک بالخصوص قطر سے گیس کی درآمد میں اچانک اور نمایاں کمی آئی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان ماضی میں قطر سے روزانہ تقریباً 700 ملین مکعب فٹ گیس درآمد کرتا تھا، جو کہ سپلائی چین کے درپیش مسائل اور علاقائی دباؤ کے باعث اب ڈرامائی طور پر کم ہو کر صرف 450 ملین مکعب فٹ پر آ گئی ہے۔

معاشی ماہرین اور انرجی اینالسٹس کا ماننا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید جغرافیائی و سیاسی کشیدگی ، سمندری راستوں کی ناکہ بندی، اور عالمی مارکیٹ میں توانائی کی قیمتوں کا اتار چڑھاؤ براہِ راست پاکستان کے تجارتی خسارے اور درآمدی بل پر اثر انداز ہو رہا ہے۔

جنوبی لبنان میں اسرائیلی ایئر فورس کی شدید بمباری: 4 افراد جاں بحق، خواتین اور بچوں سمیت 20 زخمی

محمود احمد, September 06,2026

بیروت (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی فضائیہ کے بمبار طیاروں نے ہولناک بمباری کی ہے، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 4 افراد ہلاک جبکہ 20 سے زائد شہری شدید زخمی ہو گئے ہیں۔

لبنانی وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں کا بنیادی نشانہ جنوبی لبنان کے تاریخی شہر نباتیہ اور عرب سلیم کے رہائشی علاقے بنے۔ وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق نباتیہ الفوقہ میں فضائی بمباری کے نتیجے میں دو افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوئے جبکہ عرب سلیم کے قریب ایک مکان پر حملے سے دو خواتین ہلاک ہو گئیں۔ زخمی ہونے والے 20 سے زائد افراد میں تین کمسن بچے اور کئی خواتین شامل ہیں جنہیں فوری طور پر قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

دوسری جانب، اسرائیلی فوج کے ترجمان نے فضائی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ یہ کارروائی حزب اللہ کی جانب سے سرحد پار اسرائیلی عسکری اہلکاروں اور سیکیورٹی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے دو ہتھیار بردار ڈرون حملوں کا براہِ راست جواب ہے۔ اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے جنوبی لبنان میں بنیادی طور پر حزب اللہ کے عسکری مراکز اور زیرِ زمین ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

تاہم، لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے کارروائی سے قبل عرب سلیم کی ایک مخصوص عمارت کے آس پاس کے رہائشیوں کو ہنگامی بنیادوں پر علاقہ خالی کرنے کی تنبیہ جاری کی تھی اور دعویٰ کیا تھا کہ حزب اللہ اس عمارت کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی جنگی طیاروں نے انتباہی نوٹس میں بتائی گئی عمارت کے بجائے اس کے متصل واقع ایک اور رہائشی گھر کو بم سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہاں موجود دو بے گناہ خواتین جاں بحق ہو گئیں، جبکہ بعد ازاں وارننگ والی عمارت کو بھی تباہ کر دیا گیا۔

لبنانی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ اس بربرانہ بمباری کے دوران نباتیہ شہر میں واقع تاریخی ‘غنڈور ہسپتال’ کے ایک بڑے حصے کو بھی شدید نقصان پہنچا، اگرچہ یہ ہسپتال گزشتہ کئی برسوں سے غیر فعال تھا۔ علاوہ ازیں، نباتیہ میں ہونے والے فضائی حملوں کے باعث متعدد قدیم اور تاریخی عمارتوں سمیت سرکاری مالیاتی، ریونیو اور زرعی دفاتر کی عمارتیں تباہ ہو گئیں اور شدید مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان یہ تازہ ترین اور خطرناک فوجی تصادم ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سرحد کے دونوں اطراف کشیدگی عروج پر ہے اور فریقین کی جانب سے سابقہ سرحد پار سیکیورٹی معاہدوں اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے الزامات مسلسل عائد کیے جا رہے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں جنگی کارروائیوں کے بعد امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ‘یو ایس ایس ابراہم لنکن’ 5 روزہ قیام کے بعد تھائی لینڈ سے روانہ

محمود احمد, September 06,2026

بنکاک / واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

امریکی بحریہ کا جوہری توانائی سے چلنے والا دیوہیکل طیارہ بردار بحری جہاز ‘یو ایس ایس ابراہم لنکن’ پانچ دنوں کے مسلسل قیام، آرام اور ضروری لاجسٹک سہولیات کی فراہمی کے بعد اتوار کے روز تھائی لینڈ سے واپس روانہ ہو گیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق، یو ایس ایس ابراہم لنکن بدھ کے روز تھائی لینڈ کے مشرقی ساحل پر واقع تزویراتی لیم چابانگ بندرگاہ پر پہنچا تھا، جہاں وہ عالمی سیاحتی مقام پٹایا کے سمندری ساحل کے قریب لنگر انداز رہا۔ اس اہم ساحلی قیام کا بنیادی مقصد جہاز پر موجود تقریباً 5 ہزار امریکی عسکری اہلکاروں کو مسلسل طویل جنگی خدمات کے بعد آرام، تفریح اور لاجسٹک سسٹمز کو بہتر بنانے کا موقع فراہم کرنا تھا۔

یو ایس ایس ابراہم لنکن کے کمانڈر کیپٹن ڈین کیلر نے تھائی لینڈ کی حکومت اور عوام کی جانب سے زبردست میزبانی اور مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ تھائی لینڈ امریکی بحریہ کے لیے جنوب مشرقی ایشیاء میں ایک انتہائی اہم تزویراتی شراکت دار ہے، اور یہ حالیہ دورہ کسی مشترکہ فوجی مشق کے بجائے محض عملے کی بحالی اور ضروری لاجسٹک سہولیات کے حصول کے لیے ترتیب دیا گیا تھا۔

یہ سپر کیریئر جہاز تقریباً 286 دن کے تاریخی اور طویل ترین عرصے تک مسلسل کھلے سمندر میں رہنے کے بعد تھائی لینڈ پہنچا تھا۔ اس ریکارڈ سکیورٹی ڈیوٹی کے دوران ابراہم لنکن نے مشرقِ وسطیٰ کی سنگین صورتحال اور ایران کے خلاف جاری امریکی فوجی کارروائیوں، فضائی حملوں اور سمندری ناکہ بندی سے متعلق اہم جنگی مشنز میں بنیادی اور مرکزی کردار ادا کیا ہے۔

عام حالات میں امریکی بحریہ کے طیارہ بردار بحری جہازوں کی معمول کی سمندری تعیناتی چھ سے نو ماہ پر محیط ہوتی ہے، تاہم مشرقِ وسطیٰ میں جنگی حالت اور کشیدگی کی بنا پر اس کی مدت میں ڈرامائی اضافہ کیا گیا تھا، جس کے باعث اسے دہائیوں کی طویل ترین مسلسل سمندری تعیناتیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب، اتنی طویل جنگی تعیناتی کے دوران جہاز پر موجود ہزاروں اہلکاروں کو درپیش سنگین مسائل اور نفسیاتی دباؤ کا معاملہ بھی امریکی ایوانوں میں گونج رہا ہے۔ امریکی کانگریس کے ارکان اور آزاد ذرائع نے جہاز پر خوراک کی کمی، صفائی ستھرائی کے ناکافی انتظامات اور مسلسل جنگی تناؤ کے باعث فوجیوں کی شدید ذہنی و نفسیاتی صحت پر گہرے تشویشناک اثرات کا اظہار کیا ہے۔ تھائی لینڈ میں مختصر وقفے کے بعد اب اس بحری جہاز اور اس کے عملے کو بالآخر وطن واپسی اور باقاعدہ بحالی کے مرحلے کا انتظار ہے۔

پنجاب کو بین الاقوامی سرحد سے زیادہ ہمسایہ صوبوں سے خطرہ ہے: وزیراعلیٰ مریم نواز کا انٹیلی جنس فیوژن سنٹر کے افتتاح پر بڑا اور متنازع بیانیہ

منصور احمد, September 05,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 5 ستمبر 2026ء

پاکستان کے صوبہ پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ مریم نواز نے داخلی سیکیورٹی اور دہشت گردی کے تناظر میں ایک انتہائی اہم اور بحث طلب بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب کو بیرونی یا ہمسایہ ممالک کی نسبت اپنے ہی ہمسایہ صوبوں کی سرحدی حدود سے دہشت گردی اور امن و امان کا زیادہ بڑا خطرہ لاحق ہے۔

سنیچر کے روز صوبائی دارالحکومت لاہور میں جدید ترین ’پرووینشل انٹیلی جنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سنٹر پنجاب‘ کی باضابطہ افتتاح تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت کی سب سے بڑی ترجیح یہ ہے کہ پنجاب کے عوام کو مکمل تحفظ محسوس ہو اور وہ ایک محفوظ اور پائیدار ماحول میں زندگی بسر کریں۔

تقریب کے دوران سیکیورٹی چیلنجز پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے کے ٹرائی بارڈر علاقوں کی صورتحال سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا کہ پنجاب کو دہشت گردی اور سیکیورٹی تھریٹ کا جتنا سامنا اپنے پڑوسی ممالک سے ہے، اس سے کہیں زیادہ خطرہ ہمسایہ صوبوں سے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہی سرحدی راستوں کو استعمال کرتے ہوئے عسکریت پسند اور دہشت گرد پنجاب کی حدود میں داخل ہوتے ہیں۔ واضح رہے کہ پنجاب کی جغرافیائی سرحدیں سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے ساتھ ساتھ مشرق میں بھارت سے ملتی ہیں۔

اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ مریم نواز نے دعویٰ کیا کہ پنجاب پر ہمیشہ سب کی نظریں ہوتی ہیں، تاہم تمام تر درپیش چیلنجز کے باوجود پنجاب ایک محفوظ صوبہ بن چکا ہے جہاں سیکیورٹی فورسز کی استعداد کار بڑھانے کے لیے جدید ترین مصنوعی ذہانت اور اربوں روپے کے ٹیکنالوجی پراجیکٹس پر کام کیا گیا ہے۔

انہوں نے ماضی کا موازنہ کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ جب انہوں نے وزیراعلیٰ کا عہدہ سنبھالا تو یہ تلخ حقیقت سامنے آئی کہ امن قائم کرنے والے سیکیورٹی اہلکاروں کے مقابلے میں شدت پسندوں کے پاس زیادہ جدید ٹیکنالوجی، ڈیوائسز اور نائٹ وژن گلاسز موجود ہوتے تھے اور وہ انتہائی باقاعدہ منصوبہ بندی سے حملے کرتے تھے۔ تاہم اب حکومت نے سیکیورٹی اداروں کو جدید ترین نظام، ڈرونز اور تھرمل کیمروں سے لیس کر دیا ہے۔

وزیراعلیٰ نے مزید بتایا کہ شدت پسندوں کی جانب سے سی سی ٹی وی کیمروں کو نشانہ بنانے کی پالیسی کے پیش نظر اب کیمروں کی بلٹ پروفنگ کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پولیس اور لاء انفورسمنٹ ایجنسیز کی سرحدی چیک پوسٹوں کی کایا پلٹ دی گئی ہے؛ ماضی کی مٹی کی بوریوں کی عارضی دیواروں کی جگہ اب اونچی اور محفوظ ترین سیمنٹڈ کنکریٹ والز اور سیف رومز بنا دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی اچانک دہشت گردانہ حملے کی صورت میں اہلکار اپنی حفاظت یقینی بناتے ہوئے موثر جواب دے سکیں۔

پاک چین سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ: بیجنگ کی پیکنگ یونیورسٹی میں دو روزہ بین الاقوامی علمی سیمینار کا انعقاد

منصور احمد, September 05,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 5 ستمبر 2026ء

اسلام آباد اور بیجنگ کے درمیان قائم لازوال اور تزویراتی سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کے تاریخی اور پرمسرت موقع پر چین کے دارالحکومت بیجنگ کی قدیم و معروف پیکنگ یونیورسٹی میں دو روزہ بین الاقوامی علمی و تحقیقی سیمینار کا پروقار آغاز ہو گیا ہے۔ اس اعلیٰ سطحی کانفرنس کا بنیادی مقصد گزشتہ ساڑھے سات دہائیوں پر محیط ہمہ جہت شراکت داری کا احاطہ کرنا اور مستقبل کے تقاضوں کے مطابق دوطرفہ تعلقات کو مزید پائیدار اور مستحکم بنانا ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی اور چینی ذرائع ابلاغ کی تفصیلی رپورٹس کے مطابق “ورثہ، جدت اور مشترکہ کامیابی” کے خصوصی موضوع کے تحت منعقد ہونے والے اس سیمینار کی میزبانی پیکنگ یونیورسٹی کے مرکز برائے مطالعاتِ پاکستان اور دیگر اعلیٰ چینی و پاکستانی فکری و تحقیقی اداروں نے مشترکہ طور پر کی ہے۔ سیمینار میں دونوں ممالک کے نامور ماہرین، پالیسی سازوں، سفارت کاروں اور تعلیمی شخصیات نے شرکت کر کے پاک چین لازوال دوستی کے 75 سالہ تاریخی سفر کے تمام سیاسی، معاشی اور دفاعی پہلوؤں کا تفصیلی احاطہ کیا ہے، جبکہ بدلتے ہوئے عالمی تناظر میں باہمی عملی تعاون کو مزید وسعت دینے کی حکمتِ عملی پر گہرا غور و خوض کیا جا رہا ہے۔

سیمینار کی مختلف علمی نشستوں کے دوران شرکا نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے دوسرے اور جدید ترین فیز کے تحت زرعی اصلاحات و جدید کاری، سبز ترقی، ماحولیاتی پائیداری، صنعتی زونز و پارکس کے قیام، تیسرے فریق کے ساتھ مشترکہ مارکیٹنگ اور ہمہ گیر صنعتی تعاون جیسے اہم شعبوں میں نئی شراکت داریوں کے امکانات پر سیر حاصل گفتگو کی۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ سی پیک کا اگلا مرحلہ دونوں ممالک کے معاشی و صنعتی افق کو نئی بلندیوں پر لے جانے اور علاقائی تجارتی رابطوں کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

علاوہ ازیں، موجودہ پیچیدہ علاقائی اور عالمی جیو پولیٹیکل صورتحال، بحرانوں اور ابھرتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں اسلام آباد اور بیجنگ کے درمیان اعلیٰ ترین تزویراتی اعتماد کو برقرار رکھنے اور باہمی مفادات کے تحفظ کے لیے یکجہتی پر زور دیا گیا۔ سیمینار میں تعلیم، زبان، ادب، آرٹ اور ثقافت کے تبادلوں کے ذریعے عوامی روابط کو مزید گہرا بنانے کے راستوں کی نشان دہی بھی کی گئی۔

عصری تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، سیمینار میں مصنوعی ذہانت بگ ڈیٹا، سائبر ٹیکنالوجی اور جدید سائنسی علوم کے اس دور میں دونوں دوست ممالک کے درمیان تعلیمی و علمی اداروں کے ناطوں کو بالکل نئی جدید جہت دینے اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ دونوں اقوام اس جدید تکنیکی انقلاب کے ثمرات سے یکساں طور پر مستفید ہو سکیں۔

یومِ دفاع و شہداء کے موقع پر افواجِ پاکستان کا ملک کی سلامتی، خودمختاری اور بقا کے لیے ہر قربانی دینے کے عزم کا اعادہ

منصور احمد, September 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 ستمبر 2026ء

دفاعِ وطن، بقائے وطن اور پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ملک کی مسلح افواج ہر لمحہ اور ہر آن مکمل تیار ہیں۔ یومِ دفاع و شہداء کے تاریخی موقع پر افواجِ پاکستان نے ملک کی سلامتی، خودمختاری اور بقا کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق افواجِ پاکستان کے افسران اور جوانوں نے اپنے خصوصی اور جذباتی پغامات میں کہا ہے کہ پاک فوج کا ہر ایک جوان وطنِ عزیز کا حقیقی محافظ ہے اور ہم اس کی بقا اور سلامتی کے سچے امین ہیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ اس پاک سرزمین کی سرحدوں کی نگہبانی کے ساتھ ساتھ ملک کے حال اور روشن مستقبل کے خیرخواہ بھی ہیں۔

افواجِ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی دشمن نے اس پاک دھرتی کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا، پاک افواج کے غازیوں اور شہیدوں نے سینہ سپر ہو کر ہمیشہ پاکستان کی حفاظت اور سلامتی کو سب سے مقدم رکھا ہے۔ وطن سے عشق کے جذبے کے تحت پاک فوج نے ہر آزمائش میں اپنی قومی ذمہ داری کو احسن طریقے سے نبھایا ہے اور ایک پاکستانی ہونے پر ہمیشہ دل سے فخر کیا ہے۔

مسلح افواج کے ترجمانوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاک افواج اور ملک کی غیرت مند عوام اس دھرتی کے خوابوں اور قوم کی امیدوں کو باہم متحد ہو کر آگے بڑھائیں گے۔ 6 ستمبر یومِ دفاع کے موقع پر وطن کے ان بے باک محافظوں نے مسلسل محنت، لگن اور مکمل اتحاد کے ساتھ پاکستان کو اس کی حقیقی منزلِ مقصود تک پہنچانے کے پختہ عزم کا اعادہ بھی کیا ہے۔

یمن کے جنوب مغربی علاقوں میں حوثیوں اور حکومتی فورسز میں خونریز جھڑپیں: 60 سے زائد افراد ہلاک

محمود احمد, September 05,2026

تعز / عدن (نیوز اینڈ نیوز) — 5 ستمبر 2026ء

یمن کے جنوب مغربی اور ساحلی علاقوں میں سعودی عرب کی حمایت یافتہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومتی فورسز اور حوثی جنگجوؤں کے درمیان گھماسان کی جنگ چھڑ گئی ہے، جس کے نتیجے میں عام شہریوں سمیت 60 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ نے طبی اور عسکری ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ مسلسل کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے اس ہولناک تصادم میں یمنی حکومتی فورسز کے کم از کم 26 اہلکار ہلاک ہوئے، جبکہ انصار اللہ (حوثی) ذرائع نے اپنے 31 مسلح جنگجوؤں کی ہلاکت کا اعتراف کیا ہے۔

حکومت کے زیرِ انتظام اور محاصرے میں گھِرے شہر تعز میں طبی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ ایک مسافر بس پر ناگہانی میزائل حملے کے نتیجے میں 6 عام شہری ہلاک اور 7 افراد شدید زخمی ہو گئے۔ اگرچہ اس ہولناک حملے کی ذمہ داری کے حوالے سے آزادانہ ذرائع سے فوری طور پر کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آ سکی ہے۔

رپورٹس کے مطابق حالیہ جنگ یمن کے مغربی اور جنوب مغربی پٹی پر بیک وقت کئی اہم محاذوں پر شدت اختیار کر چکی ہے۔ حوثی فورسز اس وقت ملک کے زیادہ تر شمالی علاقوں، دارالحکومت صنعاء اور بحیرۂ احمر کے مغربی ساحلی پٹی کے بڑے حصے پر قابض ہیں، جبکہ صدارتی لیڈرشپ کونسل کے زیرِ انتظام مشرقی اضلاع اور بندرگاہی شہر عدن سمیت جنوبی ساحلی علاقے شامل ہیں۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق یمنی حکومتی فورسز نے تعز کے مغربی علاقوں میں سخت جوابی کارروائی کرتے ہوئے بعض اہم پہاڑی مقامات پر دوبارہ اپنا کنٹرول قائم کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ پہاڑی سلسلے باب المندب اور بحیرۂ احمر کی اہم عالمی بحری گزرگاہوں اور تجارتی راستوں کی نگہبانی کے حوالے سے انتہائی تزویراتی اور ملٹری اہمیت رکھتے ہیں۔