سی پیک زرعی تعاون: چین کی جانب سے پاکستان کو جدید زرعی مشینری کے 258 یونٹس موصول

منصور احمد, August 07,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 07 اگست 2026ء

چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت زرعی تعاون پروگرام میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر چین سے جدید زرعی مشینری اور آبپاشی کے آلات کے 258 یونٹس پاکستان پہنچ گئے ہیں۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ملک کے زرعی شعبے کو جدید اور سائنسی بنیادوں پر استوار کرنا ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ تمام جدید آلات پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل (پارک) کے ایگریکلچرل انجینئرنگ انسٹی ٹیوٹ نے نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر (نارک) اسلام آباد میں موصول اور اسمبل کیے۔ باضابطہ افتتاح کے بعد اس مشینری کو پارک اور تمام صوبوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ صوبہ پنجاب کو 75، سندھ کو 45، خیبرپختونخوا کو 38، بلوچستان کو 36 جبکہ پارک کو 64 یونٹس فراہم کیے گئے ہیں۔

موصول ہونے والے 258 یونٹس میں 9 مختلف اقسام کی مشینری شامل ہے، جن میں 40 ٹریکٹر، 20 روٹری ٹلرز، 30 روٹری ٹلج فرٹیلائزر ڈرلز، 40 کرالر ٹائپ رائس-ویٹ کمبائن ہارویسٹرز، 8 کارن ہارویسٹرز، 40 انٹر ٹلج ویڈرز، 40 ٹرمرز، 20 ہوز ریل آبپاشی نظام اور 20 شمسی توانائی سے چلنے والے واٹر پمپنگ سسٹمز شامل ہیں۔

یہ تمام معاونت وزیراعظم کے زرعی جدیدکاری اقدام کا حصہ ہے جسے حال ہی میں منظور ہونے والی قومی زرعی بائیوٹیکنالوجی پالیسی 2026ء اور قومی سیڈ پالیسی 2026ء کی مکمل حاصل ہے۔ ان پالیسیوں کے تحت اعلیٰ کوالٹی کے بیج، جینیاتی تحقیق اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے تجارتی فروغ کے لیے فریم ورک فراہم کیا گیا ہے۔

اس منصوبے کا ایک اہم ترین پہلو پارک اور چائنیز اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز (سی اے اے ایس) کے درمیان سٹریٹجک شراکت داری ہے۔ حکومت نے پارک کو سی اے اے ایس کی طرز پر ازسرِنو منظم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور نارک اسلام آباد میں پانچ جدید ‘سینٹرز آف ایکسی لینس’ قائم کیے جا رہے ہیں جو جینوم تحقیق، آرٹیفیشل انٹیلی جنس، ڈرونز، روبوٹکس اور زرعی مصنوعات کی پروسیسنگ پر کام کریں گے۔

علاوہ ازیں، وزیراعظم کے ایک ہزار پاکستانی زرعی گریجویٹس کو چین بھیجنے کے تربیتی پروگرام کے تحت اب تک 885 گریجویٹس اپنی تربیت مکمل کر چکے ہیں جبکہ باقی 115 گریجویٹس جلد چین روانہ ہوں گے۔ یہ تمام تربیت یافتہ ماسٹر ٹرینرز ملک بھر کے کسانوں، محققین اور زرعی اداروں کو جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کرائیں گے۔

ایرانی ویمن فٹبالرز فاطمہ پسندیدہ اور عاطفہ رمضانی زادہ کو آسٹریلیا کی شہریت مل گئی

محمود احمد, August 07,2026

تہران / برسبین (نیوز اینڈ نیوز) — 07 اگست 2026ء

ایرانی ویمن فٹبال ٹیم کی دو اہم کھلاڑیوں فاطمہ پسندیدہ اور عاطفہ رمضانی زادہ نے باضابطہ طور پر آسٹریلیا کی شہریت حاصل کر لی ہے۔ دونوں کھلاڑیوں نے رواں برس کے آغاز میں ایرانی حکومت پر شدید تنقید کی تھی جس کے بعد سے وہ غیر یقینی صورتحال کا شکار تھیں۔

22 سالہ فاطمہ پسندیدہ اور 34 سالہ عاطفہ رمضانی زادہ نے ریاست کوئنزلینڈ کے شہر برسبین میں منعقدہ ایک سرکاری تقریب کے دوران آسٹریلیا کے وزیرِ امیگریشن ٹونی برک کے ہاتھوں شہریت کا حلف اٹھایا۔ اس موقع پر ان کے دوست احباب اور برسبین میں مقیم ایرانی برادری کے افراد نے بھی شرکت کی اور انہیں مبارکباد پیش کی۔

شہریت کا حلف اٹھانے کے بعد گفتگو کرتے ہوئے عاطفہ رمضانی زادہ کا کہنا تھا کہ یہ دن ان کی زندگی کا ایک یادگار اور ناقابلِ فراموش لمحات میں سے ایک ہے، آسٹریلیا نے انہیں ایک نئی زندگی شروع کرنے کا بہترین موقع فراہم کیا ہے، تاہم ان کی ایرانی شناخت ہمیشہ ان کے وجود کا حصہ رہے گی۔ اسی طرح فاطمہ پسندیدہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کئی ماہ کی مشکلات اور تشویش کے بعد یہ دن ان کے لیے بے حد خوش آئند ہے اور وہ خود کو بے حد خوش نصیب محسوس کر رہی ہیں۔

واضح رہے کہ یہ دونوں کھلاڑی ان سات ایرانی فٹبالرز کے گروپ میں شامل تھیں جنہیں رواں برس مارچ میں ویمنز ایشین کپ کے دوران آسٹریلوی حکومت کی جانب سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ویزے جاری کیے گئے تھے۔ تاہم، دیگر پانچ خواتین کھلاڑیوں نے بعد ازاں اپنا ارادہ تبدیل کر کے ایران واپس جانے کا فیصلہ کیا تھا۔

ان دونوں کھلاڑیوں کو شہریت ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب آسٹریلوی حکومت اپنے ویزا قوانین سخت کرنے اور امیگریشن کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ آسٹریلیا میں مقیم یہ دونوں ایرانی فٹبالرز اس وقت اے لیگ ویمنز کلب ‘برسبین روار’ کے ساتھ اپنی تربیت جاری رکھے ہوئے ہیں اور وہ آسٹریلیا میں ہی اپنے پیشہ ورانہ فٹبال کیریئر کو آگے بڑھانے کا عزم رکھتی ہیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کی پہلی پختون خاتون جج جسٹس مسرت ہلالی عہدے سے ریٹائر، فل کورٹ ریفرنس کا انعقاد

کاشف عباسی , August 07,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 07 اگست 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان کی ممتاز اور خیبرپختونخوا سے تعاق رکھنے والی پہلی خاتون جج جسٹس مسرت ہلالی اپنی آئینی مدت پوری ہونے کے بعد عہدے سے ریٹائر ہو گئی ہیں۔ ان کے اعزاز میں سپریم کورٹ کے پرنسپل سیٹ اسلام آباد میں چیف جسٹس پاکستان کی زیرِ صدارت فل کورٹ ریفرنس کا انعقاد کیا گیا۔

اس تاریخی و وقار تقریب میں سپریم کورٹ کے ججز، لاء افسران اور وکلا کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ریفرنس میں سپریم کورٹ کے 9 ججز نے اسلام آباد سے بالمشافہ شرکت کی جبکہ 4 ججز نے کراچی اور 3 ججز نے لاہور رجسٹری سے ویڈیو لنک کے ذریعے حصہ لیا۔

اپنے اعزاز میں منعقدہ فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس مسرت ہلالی جذبات سے مغلوب ہو گئیں اور اپنے مرحوم والدین کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے والدین کی بے حد مشکور ہیں جن کی تربیت، دعاؤں اور رہنمائی کی بدولت وہ اس اعلیٰ مقام تک پہنچیں۔ اپنے والد کا ذکر کرتے ہوئے ان کی آنکھیں نم ہو گئیں اور انہوں نے کہا کہ والد کے ساتھ کم وقت گزارنے کا موقع ملا لیکن زندگی کے اہم اسباق انہی سے سیکھے۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ جج مقرر ہوئیں تو اسی دوران ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا جس کا دکھ انہیں آج بھی ہے کہ وہ اپنی والدہ کو اس منصب پر فائز نہ دیکھ سکیں۔

جسٹس مسرت ہلالی نے چیف جسٹس پاکستان اور تمام ساتھی ججز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ججز کی دوستی، اعتماد اور تعاون نے ہر مرحلے پر ان کو حوصلہ دیا۔ اپنے عدالتی سفر کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ خیبرپختونخوا کی پہلی خاتون تھیں جنہوں نے بار کا انتخاب جیتا، جس کے بعد وہ پشاور ہائیکورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس اور پھر صوبے سے سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج بننے کے تاریخی اعزاز کی حامل رہیں۔

انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ ججز آتے جاتے رہتے ہیں لیکن آئین اور انصاف کی حکمرانی ہمیشہ قائم رہنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مکمل اطمینان کے ساتھ ریٹائر ہو رہی ہیں کیونکہ جو کچھ بھی انہوں نے حاصل کیا وہ والدین کی دعاؤں، محنت اور ساتھی ججز کی حمایت سے ممکن ہوا۔

فل کورٹ ریفرنس کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کا خصوصی پیغام پڑھ کر سنایا جس میں جسٹس مسرت ہلالی کی قانون، عدالتی خدمات، اعلیٰ پیشہ ورانہ دیانت اور انصاف کی فراہمی کے لیے ان کے کلیدی کردار کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

وزیر اعظم کی ہدایت: ایم ڈی کیٹ کا 16 اگست کو ہونے والا ٹیسٹ 20 ستمبر تک ملتوی

روزینہ اسماعیل, August 07,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 07 اگست 2026ء

وزیراعظم پاکستان کی خصوصی ہدایت کی روشنی میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے ملک بھر میں 16 اگست کو منعقد ہونے والا میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ (ایم ڈی کیٹ) ملتوی کرتے ہوئے امتحان کی نئی تاریخ کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

پی ایم ڈی سی کے شعبہ امتحانات کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق تمام والدین، امیدواروں، تعلیمی اداروں اور دیگر متعلقہ فریقین کو مطلع کیا جاتا ہے کہ وزیراعظم کی ہدایات کے تحت 16 اگست کو طے شدہ ایم ڈی کیٹ کا امتحان اب 20 ستمبر 2026ء کو منعقد ہوگا۔

کونسل کے مطابق امتحانی تاریخ میں اس تبدیلی کا بنیادی مقصد تمام طلبہ و طالبات کو داخلہ ٹیسٹ کی تیاری کے لیے مناسب اور اضافی وقت فراہم کرنا ہے تاکہ وہ بہتر طریقے سے اپنے امتحان کی تیاری مکمل کر سکیں۔

بھارت میں سنسنی خیز واقعہ: گجرات کے ضلع موربی میں کنویں کے اندر پانی میں بے تحاشا ہلچل، سائنسدان اور زلزلے کے ماہرین بھی حیران

محمود احمد, August 07,2026

گجرات (نیوز اینڈ نیوز) — 07 اگست 2026ء

بھارتی ریاست گجرات کے ضلع موربی کے ایک گاؤں ویرپارڈا میں پیش آنے والے ایک عجیب و غریب اور پرسرار واقعے نے مقامی آبادی سمیت ماہرین اور انتظامیہ کو حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایک کسان پران جیون بھائی سردیا کے کھیت میں واقع 18 فٹ گہرے کنویں کے اندر گزشتہ پانچ دنوں سے پانی میں غیر معمولی تسلسل کے ساتھ لہریں اور شدید ہلچل دیکھی جا رہی ہے۔

زمین میں زلزلے کا خوف اور مقامی لوگوں کا ہجوم

واقعہ دو اگست سے شروع ہوا جب کسان نے دیکھا کہ کنویں کا پانی مسلسل اچھل رہا ہے اور کنویں کے کناروں سے باہر گر رہا ہے۔ یہ خبر پھیلتے ہی آس پاس کے دیہاتوں سے بڑی تعداد میں لوگ اس پرسرار منظر کو دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد کچھ لوگوں میں زلزلے یا پراسرار زمینی تبدیلیوں کے حوالے سے افواہیں پھیلنے لگیں۔

سائنسدانوں اور ماہرین ارضیات کی ابتدائی تحقیقات

عوام میں پھیلتی تشویش کے بعد ضلعی کلیکٹر سواپنل کھارے اور جیولوجسٹ جے ایس وادھیر کی قیادت میں ماہرین نے موقع کا معائنہ کیا۔

ماہرین ارضیات نے گاندھی نگر کے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سے مشاورت کے بعد واضح کیا ہے کہ اس علاقے میں زلزلے کا کوئی اثر یا زیرِ زمین فالٹ لائن موجود نہیں ہے۔ ماہرین کے مطابق:

علاقے میں ہونے والی شدسد بارشوں کے بعد زیرِ زمین پانی کا لیول تیزی سے بڑھا ہے، جس کی وجہ سے چٹانوں کے مساموں میں موجود ہوا پر دباؤ پڑا اور وہ کنویں کے راستے باہر نکلنے کی کوشش کر رہی ہے، جس سے پانی میں یہ ہلچل پیدا ہو رہی ہے۔

اس کے علاوہ شاہراہ کے قریب ہونے کے باعث تیز ہوا کا بہاؤ اور زیرِ زمین دباؤ بھی اس لہر جیسے اثر کا سبب بن رہا ہے۔

جامع تحقیقات کی ہدایت

ضلعی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں۔ گجرات حکومت کی خصوصی سائنسی ٹیم کو سائٹ کے تفصیلی معائنے اور حتمی رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے۔

کنگڈم ویلی فراڈ اسکینڈل: قومی احتساب بیورو کی تحقیقات شروع، متاثرین سے درخواستیں طلب

منصور احمد, August 07,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 07 اگست 2026ء

قومی احتساب بیورو (نیب) نے کنگڈم ویلی پرائیویٹ لمیٹڈ اور دیگر کے خلاف عام شہریوں سے دھوکہ دہی کے ذریعے کروڑوں روپے ہتھیانے اور سنگین خرد برد کے الزامات پر باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

نیب کے ریجنل بیورو اسلام آباد/راولپنڈی کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق اس نجی ہاؤسنگ منصوبے کے متاثرین کو کہا گیا ہے کہ وہ ایک ماہ کے اندر اپنی تمام تر تحریری درخواستیں اور ثبوت نیب دفاتر میں جمع کروائیں۔

نیب حکام کے مطابق متاثرین اپنی درخواستوں کے ساتھ اپنے قومی شناختی کارڈ کی کاپی، بیانی حلفی، سرمایہ کاری کا باقاعدہ معاہدہ، اصل الاٹمنٹ لیٹر اور بینک ادائیگیوں کی تمام تر رسیدیں و ثبوت لازمی منسلک کریں۔ اس اقدام کا مقصد عوام الناس کی محنت کی کمائی کو فراڈ سے بچانا اور متاثرین کو انصاف فراہم کرنا ہے۔

اسلام آباد میں جدید ترین آئی ٹی پارک کا باقاعدہ افتتاح جلد ہوگا: وفاقی وزیر شزہ فاطمہ خواجہ کا دورہ اور تعمیراتی کام کا جائزہ

روزینہ اسماعیل, August 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 06 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے اسلام آباد میں زیرِ تعمیر ملک کے سب سے بڑے اور جدید ترین آئی ٹی پارک کا تفصیلی دورہ کیا اور جاری تعمیراتی کام کی پیشرفت کا جائزہ لیا۔ دورے کے دوران انہوں نے عمارت کے مختلف فلورز کا معائنہ کیا، جبکہ متعلقہ حکام نے انہیں منصوبے کی تکمیل، کام کی رفتار اور مختلف شعبہ جات کے حوالے سے جامع بریفنگ دی۔

وزارت آئی ٹی و ٹیلی کام سے جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر نے کام کے معیار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تعمیراتی اور تکمیلی امور کو مزید معیاری بنانے کے لیے خصوصی ہدایات جاری کیں۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ جدید ترین سہولیات سے آراستہ یہ آئی ٹی پارک وزیراعظم پاکستان کی جانب سے ملک کے ہونہار نوجوانوں کے لیے ایک عظیم تحفہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے کے ذریعے پاکستانی جدید ٹیکنالوجی تک برابری کی رسائی حاصل کر کے عالمی سطح پر روزگار کے نئے مواقع تلاش کرے گی اور قومی معیشت کے استحکام میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

واضح رہے کہ اسلام آباد میں قائم ہونے والا یہ آئی ٹی پارک ملک میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ، بین الاقوامی معیار کے انفراسٹرکچر اور روزگار کی فراہمی میں سنگِ میل ثابت ہوگا، اور اس اہم قومی منصوبے کا باقاعدہ افتتاح بہت جلد متوقع ہے۔

ردالفتنہ 3: واشک اور مستونگ میں سیکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، 12 دہشت گرد ہلاک؛ وزیراعظم کا خراجِ تحسین

کاشف عباسی , August 06,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 06 اگست 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ‘ردالفتنہ 3’ کے تحت بلوچستان کے اضلاع واشک اور مستونگ میں دہشت گردوں کے خلاف الگ الگ کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری کردہ سرکاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے ان اہم آپریشنز کے دوران ‘فتنہ الہندوستان’ کے 12 خطرناک دہشت گردوں کو جہنم واصل کرنے پر سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور جرات کی ستائش کی۔

اپنے پیغام میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے عزم ظاہر کیا کہ ‘عزم استحکام’ کے وژن کے تحت دہشت گردی کے خلاف ہماری سیکیورٹی فورسز شاندار اور نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اور افواجِ پاکستان ملکِ عزیز سے ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل اور حتمی خاتمے کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں۔

یومِ استحصال کی 7 ویں برسی: اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی تقریب، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کا مطالبہ

محمود احمد, August 06,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 06 اگست 2026ء

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن نے نیویارک میں پاکستان کے قونصل جنرل کے دفتر کے اشتراک سے چانسلری بلڈنگ میں یومِ استحصال کی ساتویں برسی کی مناسبت سے ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا۔ تقریب میں پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی کے اراکین، سفارت کاروں، ماہرینِ تعلیم، طلبہ اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے شرکت کی۔ مقررین نے جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عملدرآمد کا عالمی مطالبہ دہرایا جن میں کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کی ضمانت دی گئی ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کلیدی خطاب کرتے ہوئے کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خود ارادیت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے 5 اگست 2019ء کے غیر قانونی و یکطرفہ بھارتی اقدامات کو دہائیوں پر محیط جبر کو گہرا کرنے والا موڑ قرار دیا اور واضح کیا کہ تنازعے کی قانونی بنیاد اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت آج بھی برقرار ہے۔ سفیر عاصم افتخار نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے 8 اگست 2019ء کے بیان اور حالیہ موقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کی آواز اٹھائی ہے اور یہ ملک کی ایک مقدس ذمہ داری ہے۔

افتتاحی کلمات میں پاکستان کے قونصل جنرل نیویارک عامر احمد اتوزئی نے کہا کہ تنازعے کا منصفانہ اور دیرپا حل سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق ہی ممکن ہے۔ ڈاکٹر غلام نبی فائی (سیکریٹری جنرل کشمیر آگاہی فورم) نے مقبوضہ وادی میں آبادیاتی تبدیلیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ 47 لاکھ سے زائد غیر کشمیریوں کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹس کا اجرا اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ انہوں نے مرحوم سید علی گیلانی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر ماہرِ تعلیم شاہل کھوسو، کشمیری رہنما تاج خان اور سردار سوار خان نے بھی عالمی علمی اور پالیسی مباحث میں کشمیر کا مقدمہ مؤثر انداز میں پیش کرنے اور یکجہتی برقرار رکھنے پر زور دیا۔

تقریب کے دوران صدر، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ پاکستان کے یومِ استحصال کے موقع پر جاری کردہ خصوص پیغامات پڑھ کر سنائے گئے جبکہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مبنی ایک دستاویزی فلم بھی نمائش کے لیے پیش کی گئی۔

یوم استحصالِ کشمیر: مقبوضہ وادی پر بھارتی تسلط کے خلاف ملک گیر ریلیاں اور مظاہرے

کاشف عباسی , August 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 06 اگست 2026ء

یوم استحصالِ کشمیر کے موقع پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے غیر قانونی بھارتی تسلط اور 5 اگست 2019ء کے یکطرفہ اقدامات کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی ریلیوں، سیمینارز اور آگہی تقاریب کا انعقاد کیا گیا۔ ان تقاریب میں شرکا نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے غیر قانونی اور جابرانہ اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور مظلوم کشمیریوں سے کامل یکجہتی کا اظہار کیا۔

آزاد کشمیر اور چاروں صوبوں میں اس روز کے حوالے سے بھرپور جوش و خروش دیکھنے میں آیا۔ مظفر آباد میں بھارت کے غیر قانونی اقدامات کے خلاف عوام کا سمندر سڑکوں پر نکل آیا جبکہ میرپور میں چوک شہیداں تک ایک شاندار اور بڑی ریلی نکالی گئی جس میں شہریوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں بیت المکرم سے شروع ہونے والی ریلی میں نوجوانوں اور بزرگوں نے بھرپور شرکت کی، جبکہ لاہور میں بھی سیمینارز اور ریلیوں کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کیا گیا۔

پنجاب کے دیگر اضلاع بالخصوص ڈسکہ اور حافظ آباد میں سرکاری و غیر سرکاری تنظیموں کے زیراہتمام ریلیاں نکالی گئیں جن میں شرکا نے پاکستان اور کشمیر کے پرچم اٹھا رکھے تھے۔ خیبرپختونخوا کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان میں مظاہرین نے عالمی برادری سے مقبوضہ وادی میں جاری بھارتی مظالم کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔

بلوچستان بھر میں بھی کشمیری بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کا گہرا اثر دیکھا گیا۔ واشک، جعفر آباد، ڈیرہ بگٹی، کوہلو اور حب کے غیور عوام سڑکوں پر نکل آئے اور کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ان ملک گیر مظاہروں نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ پوری پاکستانی قوم اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔

گلگت بلتستان: براڈ پیک پر حادثے میں ہلاک غیر ملکی کوہ پیماؤں کی میتیں سکردو منتقل

کاشف عباسی , August 06,2026

سکردو (نیوز اینڈ نیوز) — 06 اگست 2026ء

گلگت بلتستان میں واقع دنیا کی بارہویں بلند ترین چوٹی ‘براڈ پیک’ پر پیش آنے والے افسوسناک حادثے میں ہلاک ہونے والے غیر ملکی کوہ پیماؤں کی میتیں سکردو پہنچا دی گئی ہیں۔

میتوں کی وصولی کے موقع پر اسپیکر گلگت بلتستان اسمبلی، کمشنر بلتستان، سول و عسکری حکام، الپائن کلب پاکستان، محکمہ سیاحت، ضلعی انتظامیہ اور مقامی نمائندے موجود تھے۔ تمام حاضرین نے حادثے کا شکار ہونے والے کوہ پیماؤں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

بعد ازاں میتوں کو ضروری قانونی و طبی کارروائی کی تکمیل کے لیے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (سی ایم ایچ) منتقل کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق کوہ پیماؤں کی میتوں کو تابوتوں میں رکھ کر ان کے متعلقہ ممالک کے قومی پرچموں میں لپیٹ کر باوقار انداز میں رخصت کیا گیا، جس کے بعد ان کی میتوں کو آبائی ممالک روانگی کے لیے مکمل طور پر تیار کر لیا گیا ہے۔

400 کلو گرام چاندی چوری اسکینڈل: وزیراعظم کی منظوری کے بعد کی 3 رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل

منصور احمد, August 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 اگست 2026ء

— کروڑوں روپے مالیت کی 400 کلو گرام چاندی کی چوری اور مبینہ تبدیلی کے ہائی پروفائل اسکینڈل میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وزیراعظم پاکستان کی باضابطہ منظوری کے بعد فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے واقعے کی شفاف انکوائری کے لیے تین رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

ایف بی آر کے جاری کردہ احکامات کے مطابق موٹروے پولیس کے گریڈ 21 کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل اشرف زبیر صدیقی کو اس انکوائری کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔ یہ کمیٹی سابق کلکٹر کسٹمز کوئٹہ ڈاکٹر کرم الٰہیٰ سمیت 9 کسٹمز افسران کے خلاف محکمانہ تحقیقات کرے گی اور ان کے ممکنہ کردار کا تفصیلی جائزہ لے گی۔

تحقیقات کی زد میں آنے والے دیگر افسران میں کسٹمز افسران یوسف مگسی، طارق حسین اور محمد یوسف، پریونٹیو افسران سمیع اللہ، عارف علی جمانی اور یاسر عرفات جبکہ کسٹمز انسپکٹرز علی کامران اور محمد زمان مزاری شامل ہیں۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق ڈی جی ریفارمز اینڈ آٹومیشن کسٹمز محمد عمران خان مہمند کو ہیرنگ آفیسر جبکہ چیف کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ اسلام آباد کو محکمانہ نمائندے کے فرائض سونپے گئے ہیں۔ ایف بی آر کا کہنا ہے کہ انکوائری کمیٹی 60 دنوں کے اندر اپنی مکمل رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی، جس کی روشنی میں مزید قانونی و محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔

اس سے قبل ایف بی آر نے ابتدائی جانچ کے لیے کلکٹر عائشہ وانی کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی قائم کی تھی جسے پانچ روز میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ کوئٹہ سے لاہور منتقل کی جانے والی 658 کلو گرام چاندی میں سے 400 کلو گرام کو ایک نجی گاڑی میں منتقل کیا گیا تھا۔

سوشل میڈیا اور سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق سفر کے دوران نجی گاڑی کا ایک مشکوک اسٹاپ سامنے آیا جہاں ایک ہی نمبر پلیٹ والی دوسری گاڑی کے ذریعے چاندی کی سلاخیں مبینہ طور پر تبدیل کی گئیں۔ لاہور پہنچنے پر جب سیل شدہ ڈبوں کو کھولا گیا اور پاکستان منٹ میں جانچ کروائی گئی تو فراڈ بے نقاب ہو گیا۔ جانچ کے دوران ثابت ہوا کہ 390 کلو گرام سے زائد سلاخیں چاندی کی نہیں بلکہ سیسے کی تھیں۔ اس کرپشن اور فراڈ کے کیس میں کسٹمز کے دو اہلکاروں کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے۔

وزیراعظم کی ہدایت پر ملک بھر میں امتحان کی تاریخ تبدیل: 16 اگست کے بجائے 20 ستمبر 2026ء کو منعقد ہوگا

روزینہ اسماعیل, August 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 اگست 2026ء

وزیراعظم پاکستان کی خصوصی ہدایت پر پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے ملک بھر میں منعقد ہونے والے میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ ( امتحان کی تاریخ تبدیل کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، اب یہ امتحان طے شدہ تاریخ 16 اگست کے بجائے 20 ستمبر 2026ء کو ملک بھر میں بیک وقت منعقد ہوگا۔

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے ترجمان کے مطابق امتحان کو ری شیڈول کرنے کا بنیادی مقصد امیدواروں کو تیاری کے لیے مناسب اور مزید وقت فراہم کرنا ہے، تاکہ ملک بھر کے طلبہ و طالبات مکمل سکون اور بہتر انداز میں اپنے نصاب کی تیاری مکمل کر سکیں۔ کونسل نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ طلبہ کے وسیع تر مفاد اور ان کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے اعلیٰ سطح پر کیا گیا ہے۔

پی ایم ڈی سی کا مزید کہنا تھا کہ امتحان کی تاریخ میں اس توسیع کا ایک اہم مقصد ایم ڈی کیٹ کے امتحان کو سو فیصد شفاف، محفوظ، غیر جانبدارانہ اور انتہائی منظم انداز میں یقینی بنانا بھی ہے۔ کونسل نے اس بات کی صراحت کی ہے کہ امتحان کی تاریخ کے علاوہ دیگر تمام شرائط، رجسٹریشن کے قواعد و ضوابط، امتحان کا پیٹرن اور انتظامی انتظامات پہلے کی طرح بدستور برقرار رہیں گے۔

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے ایم ڈی کیٹ امتحان کے تمام امیدواروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ رول نمبر سلپس، ایڈمٹ کارڈز، امتحانی مراکزی کی تفصیلات اور آئندہ کی تمام تر مصدقہ معلومات و اپ ڈیٹس کے لیے صرف پی ایم ڈی سی کی آفیشل ویب سائٹ سے رجوع کریں۔ نئے اور حتمی شیڈول کے مطابق ایم ڈی کیٹ امتحان اب 20 ستمبر 2026ء بروز اتوار ملک بھر میں ایک ساتھ منعقد کیا جائے گا۔

یومِ استحصالِ کشمیر: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا سلامتی کونسل کی صدر کو خط، 5 اگست 2019ء کے اقدامات واپس لینے کا مطالبہ

محمود احمد, August 06,2026

اقوامِ متحدہ / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 اگست 2026ء

پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے 5 اگست 2019ء کو بھارت کی جانب سے کیے گئے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کی ساتویں برسی کے موقع پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدر اور ڈنمارک کی مستقل مندوب عزت مآب کرسٹینا مارکس لاسن کو ایک اہم اور تفصیلی خط ارسال کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے یہ خط رسمی طور پر سلامتی کونسل کی صدر کے حوالے کیا۔ خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ بھارت کے 5 اگست 2019ء کے اقدامات سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں، بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے منشور کی کھلی خلاف ورزی ہیں، جن کے ذریعے مقبوضہ جموں و کشمیر کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو ختم کرنے کی ناکام کوشش کی گئی۔

نائب وزیراعظم نے خط میں سلامتی کونسل کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ بھارت مقبوضہ وادی کی آبادیاتی (ڈیموگرافک)، سیاسی اور ثقافتی شناخت کو مسخ کرنے کی منظم سازش کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے ڈومیسائل قوانین اور اراضی کی ملکیت کے ضوابط بدل کر تقریباً 34 لاکھ غیر مقامی افراد کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔

خط میں مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی زبوں حالی پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا، جس میں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، من مانی گرفتاریوں اور پبلک سیفٹی ایکٹ ، آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون جیسے کاالے قوانین کے نفاذ کا حوالہ دیا گیا۔ علاوہ ازیں، شبیر احمد شاہ، یاسین ملک اور آسیہ اندرابی سمیت ممتاز حریت قیادت کی قید اور 16 سیاسی تنظیموں پر عائد پابندیوں کو اجاگر کیا گیا۔

مذہبی آزادی کی پامالی کا ذکر کرتے ہوئے خط میں جامع مسجد سری نگر میں نماز پر پابندی، دینی مدارس کی بندش، کمیونٹی کے 215 اسکولوں کی سرکاری تحویل اور وقف (ترمیمی) قانون کے منفی اثرات کا بھی احاطہ کیا گیا۔

نائب وزیراعظم نے متنبہ کیا کہ مقبوضہ وادی میں 7 سے 9 لاکھ بھارتی فوجیوں کی موجودگی، بھارتی قیادت کے اشتعال انگیز بیانات اور سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی سے جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔

پاکستان نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت پر 5 اگست 2019ء کے اقدامات کی واپسی، ڈیموگرافی کی تبدیلی کی روک تھام اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق مذاکراتی عمل شروع کرنے کے لیے دباؤ ڈالے۔ ساتھ ہی اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مساعیٔ جمیلہ کو بروئے کار لاتے ہوئے تنازع کشمیر کے پائیدار حل میں اپنا مرکزی کردار ادا کریں۔

عمان میں پاک صومالیہ وزرائے خارجہ ملاقات: اسحاق ڈار اور عبدالسلام عبدی علی کا دوطرفہ تعاون و مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلۂ خیال

محمود احمد, August 05,2026

عمان / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء

نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اردن کے دارالحکومت عمان میں مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق منعقدہ اہم وزارتی اجلاس کے موقع پر صومالیہ کے وزیرِ خارجہ و بین الاقوامی تعاون عبدالسلام عبدی علی سے ایک اہم ملاقات کی۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق بدھ کے روز ہونے والی اس ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور صومالیہ کے درمیان قائم دیرینہ، تاریخی اور برادرانہ تعلقات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر سیاسی، اقتصادی، دفاعی، تعلیمی اور مختلف شعبوں میں استعداد کار میں اضافے (کیپیسٹی بلڈنگ) کے لیے دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کے امکانات پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔

دونوں وزرائے خارجہ نے اقوامِ متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم جیسے کثیر الجہتی بین الاقوامی فورمز پر قریبی رابطہ، ہم آہنگی اور باہمی تعاون کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

ملاقات کے دوران علاقائی صورتحال بالخصوص مشرقِ وسطیٰ کے تازہ ترین حالات اور مشرقی بیت المقدس میں تیزی سے بگڑتی ہوئی سیکیورٹی و انسانی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا اور اس حوالے سے یکساں موقف اپنانے پر زور دیا گیا۔

انقرہ: پاکستانی سفارت خانے میں یومِ استحصالِ کشمیر کی پُرتقار تقریب، مسئلہ کشمیر کے قانونی و انسانی پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی

منصور احمد, August 05,2026

انقرہ (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء

انقرہ میں قائم پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر ایک خصوصی اور وقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں مسئلۂ کشمیر کے تاریخی، قانونی اور انسانی پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ علاقائی امن اور بین الاقوامی قوانین پر اس کے اثرات کا احاطہ کیا گیا۔

پاکستان کے انقرہ میں قائم سفارتخانے اور ترکیہ کے معروف ادارے ‘اکنامک اینڈ سوشل ریسرچ سینٹر’ کے باہمی اشتراک سے منعقد کی گئی اس تقریب میں ترک سول سوسائٹی کے نمائندوں، ممتاز ماہرینِ تعلیم، محققین اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انقرہ میں پاکستان کے سفارت خانے کے قونصلر عمار امین نے بھارت کے 5 اگست 2019ء کے یکطرفہ اور غاصبانہ اقدامات کو مکمل طور پر غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا بنیادی مقصد مقبوضہ کشمیر کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو تبدیل کرنا تھا۔ انہوں نے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق کی پاسداری اور آزادیٔ اظہار کے احترام پر زور دیا۔

اس موقع پر ڈپٹی ہیڈ آف مشن شائق احمد بھٹو نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ اور پائیدار حل ہی خطے میں دیرپا امن کی ضمانت دے سکتا ہے۔

تقریب سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے ترک رہنما اور ای ایس اے ایم کے صدر مصطفیٰ کایا نے کہا کہ کشمیر اور فلسطین 21ویں صدی کے اہم ترین حل طلب انسانی اور سیاسی مسائل ہیں۔ تقریب کے تمام مقررین نے اس بات پر مکمل اتفاق کیا کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی پاس کردہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حقِ خودارادیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

ججز تقرری کی سمری پر صدارتی منظوری کا تنازع: اسلام آباد ہائی کورٹ میں صدرِ مملکت کو منظوری کی ہدایت کے لیے آئینی درخواست دائر

منصور احمد, August 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء

مختلف ہائی کورٹس میں ججز کی تقرری کی سمری پر صدرِ مملکت کی جانب سے تاحال منظوری نہ دینے کے معاملے پر قانونی و آئینی تنازع شدید تر ہو گیا ہے، جس کے بعد اس اہم معاملے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے صدر کو سمری فوری منظور کرنے کی ہدایت جاری کرنے کی استدعا کر دی گئی ہے۔

ایڈووکیٹ لقمان ظفر نے ایڈووکیٹ زاہد آصف چوہدری کی وساطت سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک آئینی درخواست دائر کی، جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالتِ عالیہ صدرِ مملکت کو بذریعہ سیکرٹری ہدایت جاری کرے کہ وہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (JCP) کی جانب سے بھیجی گئی ججز کی تقرری سے متعلق سمری کو بلاتاخیر منظور کریں۔

درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے رواں سال 20 اور 21 جولائی کو منعقدہ اپنے اجلاسوں میں ملک کی مختلف ہائی کورٹس کے لیے 19 ججز کی تقرری کی سفارشات کی منظوری دے کر سمری ایوانِ صدر ارسال کی تھی، تاہم کافی دن گزر جانے کے باوجود صدرِ مملکت کی جانب سے اس کی منظوری نہیں دی گئی۔

درخواست گزار نے استدعا کی ہے کہ ججوں کی تقرری کے آئینی عمل کو مکمل کرنا ریاست کے اہم ستونوں کی کارکردگی اور سائلین کو انصاف کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہے، لہٰذا عدالت صدرِ مملکت کو آئین اور قانون کی روشنی میں فوری طور پر تقرری کی سمری پر صحافتی اور قانونی کارروائی مکمل کرنے کے احکامات صادر فرمائے۔

یومِ استحصالِ کشمیر: اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد کا پیغام، حقِ خودارادیت کی غیر مشروط حمایت کا اعادہ

محمود احمد, August 05,2026

نیویارک / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ان کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کے لیے پاکستان کی غیر مشروط اور مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019ء کے یکطرفہ اور غیر قانونی بھارتی اقدامات کو سات برس مکمل ہونے کے باوجود بھارتی غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال بدستور شدید تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے نشاندہی کی کہ بنیادی انسانی حقوق اور آزادیوں کی مسلسل پامالی، طویل پابندیاں، آبادی کے تناسب (ڈیموگرافی) میں تبدیلی کی غیر قانونی کوششیں اور زمینی حقائق کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کے بھارتی اقدامات نہ تو جموں و کشمیر کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو ختم کر سکتے ہیں اور نہ ہی کشمیری عوام کی بھارتی تسلط سے آزادی کی جائز خواہش کو دبا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے منشور، سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پُرامن حل کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری اور بالخصوص اقوامِ متحدہ پر پرزور انداز میں زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کے احترام کو یقینی بنانے، مقبوضہ وادی کے عوام کے انسانی حقوق کے تحفظ اور سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کے لیے اپنے تمام مؤثر اور عملی اقدامات کو آگے بڑھائے۔

پاکستانی مندوب نے کشمیری عوام کی استقامت، بہادری اور بے مثال قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہائیوں پر محیط مظالم کے باوجود ان کی جدوجہدِ آزادی ثابت قدمی سے جاری ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ پاکستان اپنے کشمیری بہن بھائیوں کی مکمل حمایت اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک انہیں ان کا حقِ خودارادیت نہیں مل جاتا۔

وفاقی وزیر احسن اقبال کی زیرِ صدارت سی پیک کی 91ویں جائزہ کمیٹی کا اجلاس: ‘سی پیک 2.0’ کے تحت 5 نئے راہداری منصوبوں پر عملدرآمد کی ہدایت

کاشف عباسی , August 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال کی زیرِ صدارت سی پیک منصوبہ جات جائزہ کمیٹی اور قومی سٹیئرنگ کمیٹی کا 91واں اہم اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سی پیک کے تحت بنیادی ڈھانچے، توانائی، پیٹرولیم، آبی وسائل، خوراک و زراعت، مشترکہ ورکنگ گروپس (جے ڈبلیو جیز) اور خصوصی اقتصادی زونز پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ ‘سی پیک 2.0’ پاکستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے امکانات کے نئے باب کھول رہا ہے، جس سے پہلے مرحلے میں توانائی اور بنیادی ڈھانچے میں ہونے والی بھاری سرمایہ کاری کے ثمرات حاصل کیے جائیں گے۔ انہوں نے تمام وزارتوں کو ہدایت کی کہ وہ سی پیک 2.0 کی پانچ مرکزی راہداریوں—ترقی، روزگار، انوویشن، ماحول دوست ترقی اور علاقائی روابط—پر مبنی منصوبوں کو تیز رفتار اور مؤثر انداز میں نافذ کریں۔

اجلاس کے دوران بیجنگ میں پاکستان مشن اور مختلف ورکنگ گروپس کے کنوینرز نے 15ویں جوائنٹ کواپریشن کمیٹی کے آنے والے اجلاس کی تیاریوں سے آگاہ کیا۔

وفاقی وزیر نے کراچی کوسٹل کمپری ہینسو ڈویلپمنٹ زون منصوبے میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزارتِ بحری امور، حکومتِ سندھ اور بورڈ آف انویسٹمنٹ کو ہدایت کی کہ چینی کمپنی کے ساتھ مل کر ایک ہفتے کے اندر تمام زیرِ التوا تکنیکی مسائل حل کریں تاکہ معاہدے صرف کاغذی حد تک نہ رہیں۔

چینی یونیورسٹیوں میں ایک ہزار زرعی گریجویٹس کی تربیت کے پروگرام کے حوالے سے وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ حاصل کردہ مہارتوں کو پاکستان کے زرعی شعبے کی جدید کاری، مصنوعی ذہانت پر مبنی زراعت، ڈیجیٹل ایکسٹینشن سروسز اور بائیو ٹیکنالوجی کے لیے استعمال کیا جائے اور اس کے لیے آئندہ 5 برسوں کا جامع روڈ میپ پیش کیا جائے۔

اجلاس میں گوادر پورٹ اور فری زون کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی کے منصوبوں پر بھی غور کیا گیا۔ علاوہ ازیں، نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے قراقرم ہائی وے فیز II کے مالیاتی امور پر بریفنگ دی۔ احسن اقبال نے واضح کیا کہ 2028ء کی مقررہ مدت اہم ہے، اگر چین کی طرف سے مالیاتی منظوری میں تاخیر ہوئی تو دیامر بھاشا ڈیم کی جھیل کے باعث سڑک زیرِ آب آنے سے بچانے کے لیے پاکستان اپنے ملکی وسائل سے تعمیراتی کام کا آغاز کر دے گا۔

اجلاس میں وزارتِ خارجہ، داخلہ، مواصلات، پاور ڈویژن، پیٹرولیم ڈویژن، بورڈ آف انویسٹمنٹ، گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور سی پیک سیکریٹریٹ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

یومِ استحصالِ کشمیر, 5 اگست تاریخ کا سیاہ ترین دن، بھارت کشمیریوں کی شناخت کبھی نہیں مٹا سکتا، مشعال حسین ملک

محمود احمد, August 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء

حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ اور چیئرپرسن پیس اینڈ کلچر آرگنائزیشن مشعال حسین ملک نے کہا ہے کہ 5 اگست 2019ء کے یک طرفہ اور غیر قانونی اقدامات کی آڑ میں بھارت نے اپنے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر کی جغرافیائی اور آبادیاتی (ڈیموگرافک) حیثیت کو تبدیل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے، مگر کشمیریوں کی منفرد شناخت، تاریخ اور ان کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو کسی طاقت سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر اپنے جاری کردہ خصوص پیغام میں مشعال حسین ملک نے کہا کہ 5 اگست کشمیریوں کی تاریخ کا ایک سیاہ ترین دن ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ تہار اور دیگر بھارتی جیلوں میں محصور حریت قیادت بدترین مظالم برداشت کر رہی ہے، لیکن اس کے باوجود آزادی کی تحریک اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹی اور یہ جدوجہد اپنی منزل کے حصول تک مکمل تندہی سے جاری رہے گی۔

انہوں نے عالمی برادری اور بین الاقوامی اداروں سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ وادی کے غیور عوام کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی پاس کردہ قراردادوں کے مطابق ان کا بنیادی اور پیدائشی حقِ خودارادیت دلانے کے لیے اپنا اثر و رسوخ اور عالمی کردار ادا کریں۔

مشعال حسین ملک نے بھارتی غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر کے غیر متزلزل عوام کو یقین دہانی کرائی کہ پاکستان، آزاد کشمیر اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری تارکینِ وطن ہر مشکل گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہمیشہ بین الاقوامی سطح پر ان کی مظلوم آواز بنتے رہیں گے۔ انہوں نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ لاکھوں قربانیوں کی بدولت لکھی گئی تحریکِ آزادی کو کوئی جابرانہ طاقت ختم نہیں کر سکتی اور مقبوضہ وادی کے عوام کے ساتھ پاکستان کا رشتہ لازوال ہے۔