وفاقی دارالحکومت میں موسلادھار بارشیں: پانی کی سطح 1748.30 فٹ تک پہنچنے پر راول ڈیم کے سپل ویز کھول دیے گئے

منصور احمد, August 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور ملحقہ علاقوں میں جاری موسلادھار بارشوں کے بعد راول ڈیم میں پانی کی آمد میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے پیشِ نظر ڈیم کی انتظامیہ نے راول ڈیم کے سپل ویز باقاعدہ طور پر کھول دیے ہیں۔ ڈیم میں پانی کی سطح خطرناک حد کے قریب یعنی 1748.30 فٹ تک پہنچنے کے بعد یہ اقدام اٹھایا گیا۔

تفصیلات کے مطابق آج صبح 6 بجے راول ڈیم اسلام آباد کے سپل ویز کھولے گئے تاکہ ڈیم میں پانی کی سطح کو کنٹرول کرتے ہوئے 1748.30 فٹ سے کم کر کے محفوظ سطح یعنی 1747 فٹ پر لایا جا سکے۔ سپل ویز کھولنے سے قبل باقاعدہ سائرن بجا کر ڈیم کے اطراف اور نچلی آبادیوں کو الرٹ کیا گیا۔ ڈیم کے سب ڈویژنل آفیسر اعجاز احمد کھٹانہ کے مطابق سپل ویز کے ذریعے 6 ہزار 283 کیوسک پانی ڈیم سے خارج کیا گیا ہے، جس سے پانی کی سطح میں 2 فٹ تک کمی لائی گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سپل ویز کھولنے کے اس آپریشن سے پہلے ہی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے تمام متعلقہ اداروں اور انتظامیہ کو پیشگی اطلاع فراہم کر دی تھی۔

کورنگ نالے میں پانی کے تیز بہاؤ اور طغیانی کے خدشے کے پیشِ نظر ملحقہ آبادیوں کے مکینوں کو انتہائی محتاط رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ انتظامیہ نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ کورنگ نالے اور اس پر بنے عارضی پلوں کو پار کرنے سے مکمل گریز کریں۔

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور ضلعی انتظامیہ نے تمام متعلقہ اداروں اور ریسکیو سروسز کو 24 گھنٹے ہائی الرٹ رہنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت رسپانس یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔ ڈی سی اسلام آباد نے شہریوں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ بارشوں کے دوران ندی نالوں، برساتی نالوں اور پانی کے تیز بہاؤ والی جگہوں سے دور رہیں اور غیر ضروری طور پر ڈیم یا نالوں کے قریب جانے سے گریز کریں۔ ضلعی انتظامیہ نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے یا ہنگامی مدد کی صورت میں فوری طور پر ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن یا ریسکیو اداروں سے رابطہ قائم کریں۔

اقوامِ متحدہ: پاکستان کا نوجوانوں پر امن اور کثیرالجہتی نظام کے فروغ میں قائدانہ کردار ادا کرنے پر زور

محمود احمد, August 01,2026

اقوامِ متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

پاکستان نے دنیا بھر کے نوجوانوں پر زور دیا ہے کہ وہ عالمی امن کے فروغ، کثیرالجہتی نظام کے استحکام اور عالمی چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے میں اپنا متحرک اور قائدانہ کردار ادا کریں۔

اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں “فیوچر وی وانٹ: گلوبل انیشی ایٹو فار ینگ لیڈرز” کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، جو “نوجوانوں کو کثیرالجہتی نظام کے استحکام کے لیے بااختیار بنانا” کے عنوان کے تحت منعقد ہوا، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ پاکستان کی تقریباً 65 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس امر پر پختہ یقین رکھتا ہے کہ نوجوان زیادہ پُرامن، منصفانہ اور جامع مستقبل کی تعمیر میں سب سے اہم شراکت دار ہیں۔ انہوں نے دنیا بھر سے نوجوان رہنماؤں کو یکجا کرنے پر اٹلی کے مستقل مشن اور اطالوی ڈپلومیٹک اکیڈمی کا شکریہ ادا کیا۔

مستقل مندوب نے اپنے خطاب میں کہا کہ اقوامِ متحدہ کا قیام آنے والی نسلوں کو جنگ کی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے عمل میں آیا تھا، اور امن، انسانی حقوق اور پائیدار ترقی آج بھی اقوامِ متحدہ کے نظام کے تین بنیادی اور باہم مربوط ستون ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امن صرف جنگ یا تنازع کے نہ ہونے کا نام نہیں، بلکہ یہ انصاف، مکالمے، باہمی احترام اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے مقاصد اور اصولوں کی پاسداری پر استوار ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج کی دنیا مسلح تنازعات، غیر ملکی قبضے اور بڑھتی ہوئی تقسیم کا سامنا کر رہی ہے، جس کے باعث مؤثر کثیرالجہتی تعاون کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے کیونکہ کوئی بھی ملک تنہا ان باہم مربوط عالمی چیلنجز سے نہیں نمٹ سکتا۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے پاکستان کی بین الاقوامی سفارت کاری میں خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے یاد دلایا کہ سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 (2025) متفقہ طور پر منظور کی گئی تھی، جس میں مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے پُرامن حل کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ انہوں نے مغربی ایشیا میں حالیہ تنازع کے دوران تحمل، مکالمے اور کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کے مضبوط موقف اور ان سفارتی کوششوں کا بھی ذکر کیا جو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی صورت میں نتیجہ خیز ثابت ہوئیں۔

نوجوان شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امن کا قیام صرف کانفرنس ہالوں یا مذاکراتی کمروں تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ اس کی بنیاد تعلیمی اداروں، جامعات، مقامی برادریوں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر رکھی جاتی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو تلقین کی کہ وہ باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دیں، تنوع کو اپنائیں، عدم برداشت اور گمراہ کن معلومات کا مقابلہ کریں، اور مختلف ثقافتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کریں۔ اپنے خطاب کے اختتام پر سفیر عاصم افتخار احمد نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ تقسیم کے بجائے تعاون، محاذ آرائی کے بجائے مکالمے اور خوف کے بجائے امید کا راستہ اختیار کریں۔

اقوامِ متحدہ کی بریفنگ: پاکستان کا جامع، انسان دوست اور شمولیتی عالمی مصنوعی ذہانت حکمرانی کے عزم کا اعادہ

محمود احمد, August 01,2026

اقوامِ متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں منعقدہ 2026ء ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کانفرنس اور عالمی مصنوعی ذہانت حکمرانی پر اعلیٰ سطحی اجلاس سے متعلق بریفنگ کے دوران ایک جامع، انسان دوست اور ترقی پر مبنی مصنوعی ذہانت کے فروغ کے لیے اپنے مکمل عزم کا اعادہ کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے پاکستان کا باضابطہ موقف پیش کرتے ہوئے اس بین الاقوامی کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر چین کو مبارکباد پیش کی اور ‘ورلڈ اے آئی کوآپریشن آرگنائزیشن’ کے تاریخی قیام کا پرزور خیرمقدم کیا۔ انہوں نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اس کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کی، جبکہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے مئی 2026ء میں اپنے دورۂ چین کے دوران اس اہم بین الاقوامی اقدام کی مکمل حمایت کا اعلان کیا تھا۔ سفیر عاصم افتخار احمد نے اس بات پر فخر کا اظہار کیا کہ پاکستان اس نئی عالمی تنظیم کے بانی ارکان میں شامل ہے۔

پاکستان کے مستقل مندوب نے زور دے کر کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو عالمی مصنوعی ذہانت کی جدید معیشت میں مؤثر اور بامعنی شرکت کے لیے ڈیٹا، کمپیوٹنگ صلاحیت، ماڈلز، ضروری آلات اور جدید تکنیکی مہارت تک مساوی و منصفانہ رسائی حاصل ہونی چاہیے۔ انہوں نے کانفرنس کے نتائج کو عالمی ٹیکنالوجی تعاون کے فروغ کے لیے ایک عملی اور مؤثر لائحۂ عمل قرار دیا۔

انہوں نے مستقبل کے تکنیکی تعاون کے لیے تین اہم ترجیحات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ترقی پذیر ممالک میں مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے اور صلاحیتوں کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ صحت، تعلیم، زراعت اور موسمیاتی تبدیلی جیسے پائیدار ترقی کے شعبوں میں مصنوعی ذہانت کا عملی استعمال بڑھایا جائے اور بین الاقوامی معیارات، ڈیجیٹل تحفظ اور ضوابط کے حوالے سے بین الاقوامی تعاون کے ذریعے ذمہ دارانہ عالمی حکمرانی کو فروغ دیا جائے۔ سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان، چین اور دیگر عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گا تاکہ مصنوعی ذہانت کو تمام انسانیت کی مشترکہ خوشحالی اور پائیدار ترقی کا ضامن بنایا جا سکے۔

مون سون بارشوں کے پیشِ نظر راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ میں ہائی الرٹ جاری: ایمرجنسی اسٹاف کی تمام چھٹیاں منسوخ

کاشف عباسی , JULY 31,026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

مون سون کی متوقع شدید بارشوں اور ندی نالوں میں طغیانی کے ممکنہ خطرات کو مدِنظر رکھتے ہوئے راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ نے کنٹونمنٹ کے تمام علاقوں میں ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ ایگزیکٹو آفیسر عامر رشید کی خصوصی ہدایت پر ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے ایمرجنسی اسٹاف اور صفائی کے عملے کی تمام تعطیلات فوری طور پر منسوخ کر دی گئی ہیں، جبکہ نالوں کے قریب اور نشیبی علاقوں میں مقیم شہریوں کو بھی آگاہی اور الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

ترجمان راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کے مطابق بارشوں کے دوران پانی کی فوری اور موثر نکاسی کو یقینی بنانے کے لیے فیلڈ افسران، آپریشنل مشینری اور عملہ مکمل طور پر مستعد ہے۔ مون سون سیزن کے آغاز سے قبل شروع کی گئی خصوصی صفائی مہم کے تحت ٹینچ بھاٹہ، جان کالونی، اسلم مارکیٹ، حبیب کالونی، فرینڈز کالونی، شالے ویلی، رینج روڈ، رینج روڈ کالونی، ڈھوک بنارس، غازی آباد، کامران مارکیٹ، فیصل کالونی اور آڈرا 22 نمبر جیسے تمام حساس اور اہم نالوں کی صفائی کا کام تقریباً مکمل کیا جا چکا ہے اور ان مقامات کی چوبیس گھنٹے نگرانی کی جا رہی ہے۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری اور موثر انداز میں نمٹنے کے لیے بھاری اور ہلکی مشینری (بشمول سیکشن پمپنگ مشینری) کو ہائی الرٹ اور فیلڈ کے لیے تیار رکھا گیا ہے۔ کنٹونمنٹ انتظامیہ نے شہریوں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ نالوں اور نالیوں میں کچرا، ملبہ یا دیگر فضلا ہرگز نہ پھینکیں کیونکہ اس سے پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ شہریوں سے انتظامیہ کے ساتھ تعاون کرنے اور کسی بھی شکایت یا ہنگامی مدد کی صورت میں فوری متعلقہ حکام سے رابطے کی استدعا کی گئی ہے۔

آرٹیکل 370 اور 35 کی منسوخی کے 7 سال: مقبوضہ کشمیر میں امن و ترقی کے بھارتی دعوے زمینی حقائق کے برعکس نکلے

منصور احمد, JULY 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

غیر قانونی زیرِ تسلط مقبوضہ جموں و کشمیر میں اگست 2019ء کے دوران بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35کی یکطرفہ و غیر قانونی منسوخی کے بعد سے اب تک وادی میں امن، ترقی اور خوشحالی سے متعلق بھارتی حکومت کے تمام تر ادعا اور دعوے مکمل طور پر کھوکھلے ثابت ہوئے ہیں۔ سیاسی اور دفاعی تجزیہ کاروں کی جانب سے پیش کردہ ایک جامع رپورٹ کے مطابق، گزشتہ سات سال کے دوران مقبوضہ خطے کو معاشی تباہی، سیاسی بے چینی اور انسانی حقوق کے شدید ترین چیلنجز کا سامنا رہا ہے جو نئی دہلی کے سرکاری بیانیے کو بے نقاب کرتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت نے آئینی حیثیت کے خاتمے کو وادی کے انضمام اور ترقی کے منصوبے کے طور پر پیش کیا تھا، تاہم سات سال کے بعد بھی بے روزگاری، شدید عسکریت، جبری نظر بندیاں اور آبادی کی تناسب کو بدلنے کی ناپاک کوششیں عروج پر ہیں۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ بھارتی حکومت سیاحوں کی تعداد کو معمول کی زندگی کا ثبوت بنا کر پیش کرتی ہے، تاہم 2019ء کی پابندیوں اور 2025ء کے پہلگام حملے کے بعد وادی کا شعبۂ سیاحت مکمل طور پر سیکورٹی فورسز کے رحم و کرم پر ہے جس سے مقامی ہاتھ کے کاریگر، تاجر اور سیاحت سے وابستہ ہزاروں کشمیری شدید معاشی بحران کا شکار ہیں۔ اس کے علاوہ سیب کی صنعت، باغبانی اور درمیانے درجے کے تمام کاروبار نئے ٹیکسوں، متنازعہ زمینی پالیسیوں اور کاروباری بندشوں کی وجہ سے تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق تعلیم کا شعبہ مسلسل انٹرنیٹ کی بندش، طویل سیکورٹی پابندیوں اور اساتذہ کی شدید کمی سے متاثر ہے، جس سے پوری وادی کے نوجوان خوف، شدید ذہنی دباؤ اور غیر یقینی صورتحال میں مبتلا ہیں۔ دوسری جانب زمین، ڈومیسائل اور انتظامی قوانین میں جابرانہ ترمیم کے ذریعے مقبوضہ وادی کی مسلم اکثریتی آبادیاتی ساخت کو ہندو اکثریت میں بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی ورزی ہے۔ مذہبی قیادت پر پابندیوں اور اسلامی اداروں میں مداخلت نے کشمیریوں میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔

جولائی 2026ء میں وادی کے اندر ‘ریاستی حیثیت کی بحالی’ کی تحریک نے مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور مذہبی قیادت کو ایک بار پھر ایک پیج پر متحد کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئینی حقوق کی بحالی، تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی اور سچی جمہوریت کا قیام ہی حل ہے۔ رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ وادی میں پائیدار امن تبھی ممکن ہے جب جموں و کشمیر کے تنازع کو بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات و امنگوں کے مطابق حل کیا جائے۔

ایک لاکھ کشمیری پاک فوج کا حصہ ہیں، قربانی دینے والوں کو قابض کہنا زیادتی ہے؛ 25 کروڑ آبادی کی ضروریات کے لیے انتظامی ری سیٹ پر عوام اور حکومت غور کریں، اہم پریس کانفرنس

منصور احمد, JULY 31,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے راولپنڈی میں اہم ترین میڈیا بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر اور پاکستان کی سلامتی و انتظامی ڈھانچے پر پاک فوج کا موقف بالکل واضح اور قطعی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے زور دے کر کہا کہ “پاکستان کا سب سے لاڈلہ بچہ کشمیر ہے، کشمیر پاکستان کی شہ رگ تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا، ہمارے بچے بڑے ہوں گے تو ان کی بھی یہی ایک آواز رہے گی کہ کشمیر بنے گا پاکستان۔”

ترجمان پاک فوج نے مقبوضہ و آزاد کشمیر کی صورتحال اور پاک فوج پر بلاجواز تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ “ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے اور کشمیر بھی ہمارا ہے، مگر دوسری جانب تقاریر میں پاکستان کی فوج کو قابض کہا جا رہا ہے۔ یہ بتائیں کہ اسی پاک فوج میں کم از کم ایک لاکھ کشمیری جوان شامل ہیں، اور کتنے ہی پاکستانی مجاہدین و افواج کے افسران نے کشمیر کی آزادی کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں۔ انہیں قابض کہنا کسی صورت درست نہیں۔” انہوں نے واضح کیا کہ فوج کا سیاسی یا مقامی انتظامی امور سے کوئی لینا دینا نہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے ملک میں قومی سلامتی، گڈ گورننس اور انتظامی اصلاحات کے باہمی تعلق پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی قومی سلامتی، گڈ گورننس اور عوامی فلاح و بہبود ایک دوسرے سے گہرے جڑے ہوئے ہیں۔ اس لیے بدلتے ہوئے عالمی و علاقائی حالات کے مطابق ملک کے انتظامی ڈھانچے اور حکمرانی کے نظام پر سنجیدگی سے غور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اچھی حکمرانی کے بغیر درپیش چیلنجز کا موثر حل ممکن نہیں۔

ترجمان پاک فوج نے مزید اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ 1972ء میں پاکستان کی کل آبادی محض 7 سے 8 کروڑ تھی جو آج بڑھ کر تقریباً 25 کروڑ تک جا پہنچی ہے، جس کی وجہ سے عوامی ضروریات اور مسائل کا حجم بھی یکسر تبدیل ہو چکا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا کہ اگر ملک میں بہتر حکمرانی اور عوام کی سہولت کے لیے کسی ‘انتظامی ری سیٹ’ کی ضرورت ہے تو اس پر ضرور غور ہونا چاہیے، تاہم چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام یا نیا فریم ورک بنانے کا حتمی اختیارات صرف عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کے پاس ہے۔

ملتان یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں ‘اسکول آف نرسنگ’ کا افتتاح: وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال کی عالمی معیار کی سہولیات کی فراہمی پر انتظامیہ کو مبارکباد

روزینہ اسماعیل, JULY 31,2026

ملتان (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ملتان یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں عالمی معیار کی سہولیات، جدید ٹیکنالوجی اور تحقیق پر مبنی بہترین تعلیمی ماحول انتہائی قابلِ تحسین ہے، ایسے ہی معیاری ادارے ملک میں مایوسی کے خاتمے اور نوجوان نسل میں امید کی نئی کرن پیدا کرنے کا بنیادی ذریعہ بنتے ہیں۔

یہ بات انہوں نے ملتان یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں ‘اسکول آف نرسنگ اینڈ الائیڈ ہیلتھ سائنسز’ کی پروقار افتتاحی تقریب سے بحیثیتِ مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وفاقی وزیر صحت نے یونیورسٹی انتظامیہ کو جدید شعبے کا کامیاب آغاز کرنے پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ اپنے منصب کی بدولت انہیں ملک بھر سے روزانہ مختلف معلومات موصول ہوتی رہتی ہیں، مگر جب کبھی ملک میں مایوسی کا تاثر ابھرے تو اس یونیورسٹی جیسے اداروں کا رخ کرنا چاہیے جہاں مثبت سوچ، محنت اور روشن مستقبل کا وژن صاف نظر آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی معیار کا ایسا شاندار انسٹیٹیوٹ قائم کرنے کے لیے غیر معمولی جنون اور نیت کی سچائی درکار ہوتی ہے۔

سید مصطفیٰ کمال نے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ ہیلتھ کیئر کا حقیقی مقصد صرف ہسپتالوں کی عمارتیں بنانا نہیں بلکہ انسانوں کو بیمار ہونے سے بچانا اور پیشگی علاج یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے ملک میں صحت کی تشویشناک صورتحال پر اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 6.7 ملین (67 لاکھ) بچوں کی پیدائش ہوتی ہے، جبکہ زچگی اور دورانِ حمل کی پیچیدگیوں کے باعث سالانہ تقریباً 11 ہزار خواتین جان کی بازی ہار جاتی ہیں، اور پانچ سال سے کم عمر بچوں کی اموات بھی ہمارے لیے بڑا چیلنج ہیں۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ ان کا محکمہ ایسی حکمتِ عملی پر کاربند ہے جس سے بیماریوں کی بروقت تشخیص اور بہتر طبی سہولیات عام شہری تک پہنچ سکیں۔

وفاقی وزیر صحت نے طلبہ و طالبات پر زور دیا کہ وہ یہاں سے محض کاغذی ڈگری لے کر نہ نکلیں بلکہ اپنے شعبے کے باصلاحیت اور ماہر پروفیشنل بن کر ملک کی خدمت کریں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دیگر متعلقہ حکام اور اعلیٰ شخصیات کو بھی ملتان یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے دورے کی ترغیب دیں گے تاکہ ملک بھر کی دیگر جامعات بھی اس ماڈل کو اپناتے ہوئے اپنے تعلیمی اور طبی معیار کو بلند کر سکیں۔

مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کے 133ویں یومِ پیدائش پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا شاندار خراجِ عقیدت

کاشف عباسی , JULY 31,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کو ان کے 133ویں یومِ پیدائش کے پروقار موقع پر شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ صدرِ مملکت نے اپنے پیغام میں انہیں تحریکِ آزادی کی عظیم رہنما اور بانیِ پاکستان کی انتہائی بااعتماد ساتھی قرار دیا ہے۔

ایوانِ صدر کی جانب سے جمعہ کے روز جاری ہونے والے باضابطہ اعلامیے کے مطابق، صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح قائدِاعظم محمد علی جناح کی نہ صرف بااعتماد رفیقِ کار تھیں بلکہ وہ تحریکِ پاکستان کی ایک ممتاز رہنما اور عظیم جمہوری اقدار کی توانا علمبردار بھی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ مادرِ ملت نے برصغیر کی خواتین کو قومی زندگی اور تحریکِ آزادی کی جدوجہد میں اپنا مؤثر اور بھرپور کردار ادا کرنے کی ترغیب دی، جس کی بدولت ان کی یہ عظیم جدوجہد آج بھی پوری پاکستانی قوم بالخصوص خواتین کے لیے ایک روشن مشعلِ راہ ہے۔

صدرِ مملکت نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ پوری قوم مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کی عظیم قومی، سیاسی، جمہوری اور بے لوث سماجی خدمات کو ہمیشہ انتہائی قدر اور گہرے احترام کی نگاہ سے یاد رکھے گی۔ انہوں نے اپنے پیغام کے اختتام پر خصوصی دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کے درجات بلند فرمائے اور انہیں اپنے جوارِ رحمت میں اعلیٰ و ارفع مقام عطا فرمائے۔

چاروں صوبوں کو نارتھ ، سینٹرل اور ساؤتھ کے نام سے مزید 3، 3 انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنے کی تجویز: عبدالعلیم خان کی انتظامی اصلاحات کی پرزور حمایت

منصور احمد, JULY 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے مواصلات اور استحکامِ پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے صدر عبدالعلیم خان نے ملک میں وسیع پیمانے پر انتظامی اصلاحات کی پرزور حمایت کرتے ہوئے پاکستان کے چاروں صوبوں کو مزید تین تین نئے صوبائی و انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنے کی ایک بڑی اور اہم تجویز پیش کر دی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کردہ اپنے اہم بیانیے میں عبدالعلیم خان نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے انتظامی اصلاحات سے متعلق کی گئی باتیں انتہائی غور طلب اور وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور جدید انتظامی ضروریات کے پیشِ نظر اب چاروں صوبوں—پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان—کو ‘نارتھ’ (شمالی)، ‘سینٹرل’ (مرکزی) اور ‘ساؤتھ’ (جنوبی) کے نام سے تین تین حصوں میں تقسیم کر دینا چاہیے تاکہ کل 12 انتظامی یونٹس قائم ہو سکیں۔

صدر آئی پی پی عبدالعلیم خان نے وضاحت کی کہ اس جغرافیائی و انتظامی فریم ورک کی بدولت کسی بھی صوبے کا نام تبدیل کرنے کی ضرورت پیش آئے گی اور نہ ہی علاقوں کی تاریخی یا ثقافتی شناخت متاثر ہوگی، بلکہ تمام خطوں کی ثقافتی پہچان مکمل طور پر برقرار رہے گی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ موجودہ نظام کے تحت عام شہریوں کو اپنے بنیادی مسائل اور چھوٹے کاموں کے لیے بھی سینکڑوں کلومیٹر کا طویل و دشوار سفر طے کر کے صوبائی دارالحکومتوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر مسائل عوام کی دہلیز پر حل ہوں اور نئے صوبے بن جائیں تو اس سے براہِ راست عوام کا فائدہ ہوگا، تاہم اگر اس اقدام سے کسی کی ذاتی یا سیاسی ‘بادشاہت’ پر حرف آتا ہے تو وہ الگ بات ہے، کیونکہ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے جہاں بادشاہت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ کئی دہائیوں سے نئے صوبوں کی تشکیل کی باتیں محض سیاسی نعروں اور بیانات تک محدود رہیں لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ تمام سیاسی قیادت بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک پیج پر آئے اور اس وژن کو عملی شکل دے۔ انہوں نے زور دیا کہ نئے صوبوں کی تشکیل سے ملک میں چیف سیکرٹریز، آئی جیز اور ہائی کورٹس عوام کو زیادہ مؤثر اور فوری خدمات فراہم کر سکیں گے جس سے معیشت مستحکم، ترقی متوازن اور قومی یکجہتی مزید مضبوط ہوگی۔

کوئٹہ کے علاقے سورنج میں کوئلہ کان حادثہ: صدر آصف علی زرداری کا قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار

کاشف عباسی , JULY 31,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کوئٹہ کے نواحی علاقے سورنج میں کوئلے کی کان میں پیش آنے والے افسوسناک حادثے پر گہرے رنج و غم اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ صدر مملکت نے حادثے کے نتیجے میں ہونے والے قیمتی جانی ضیاع پر سوگوار خاندانوں کے ساتھ دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

ایوانِ صدر کے پریس ونگ کی جانب سے جمعہ کے روز جاری ہونے والے باضابطہ بیانیے کے مطابق، صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے مرحومین کی مغفرت، ان کے درجات کی بلندی اور غمزدہ لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی خصوصی دعا کی۔ انہوں نے متعلقہ اداروں اور ریسکیو حکام کو ہدایت کی کہ کان میں پھنسے تمام مزدوروں تک جلد از جلد رسائی کو یقینی بنایا جائے اور تمام زخمیوں کو فوری طور پر بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔

صدرِ مملکت نے اس بات پر شدید زور دیا کہ کوئلہ کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی جانوں کے تحفظ کے لیے مقررہ حفاظتی ضوابط پر بلاامتیاز اور سختی سے عمل درآمد کروایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے دلخراش اور افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔ انہوں نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ وطنِ عزیز کی تعمیر و ترقی میں محنت کش طبقے کا کردار بے حد قابلِ قدر ہے اور ان کی جان و مال کی مکمل حفاظت کرنا ریاست کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

این سی سی آئی اے کا پنجاب بھر میں اوڈ گینگ کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن: مالیاتی سائبر فراڈ میں ملوث 27 ملزمان گرفتار

محمود احمد, JULY 31,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے پنجاب بھر میں مالیاتی سائبر فراڈ، آن لائن ڈکیتیوں اور جعلی شناختی بھیس بدل کر شہریوں کو لوٹنے والے خطرناک ‘اوڈ گینگ’ کے خلاف وسیع پیمانے پر بڑا کریک ڈاؤن کیا ہے۔ اس کامیابی کے دوران ایجنسی نے لاہور، ملتان اور فیصل آباد سے مجموعی طور پر 27 ملزمان کو گرفتار کر کے ان کے پاس سے بھاری تعداد میں سمارٹ فونز، غیر قانونی فعال سمیں اور دیگر ڈیجیٹل شواہد برآمد کر لیے ہیں۔

ترجمان این سی سی آئی اے کے مطابق گرفتار ملزمان انتہائی منظم انداز میں خود کو بینک افسران، کسٹمز، پولیس اہلکار، خیراتی اداروں کے نمائندے، ٹی سی ایس رائیڈر اور جعلی سرمایہ کاری کمپنیوں کے نمائندے ظاہر کر کے شہریوں کو چکمہ دیتے تھے۔ ملزمان سادہ لوح شہریوں سے ون ٹائم پاس ورڈ بینکنگ تفصیلات اور پاس ورڈز حاصل کر کے ان کے تمام جمع شدہ سرمائے کا صفایا کر دیتے تھے۔

تفصیلات کے مطابق لاہور میں این سی سی آئی اے کی ٹیموں نے دو مختلف تابڑ توڑ کارروائیوں کے دوران 13 ملزمان کو گرفتار کیا جن میں محمد عرفان، محمد دانش، نبیل اختر، بدر الرحمن، محمد عدنان، ندیم عباس، اللہ رکھا، محمد عاطف اور محمد وسیم شامل ہیں۔ ملزمان کے قبضہ سے 13 موبائل فونز، 25 جعلی ایکٹیو سمیں اور اہم ترین ڈیجیٹل ثبوت ملے۔ اسی طرح ملتان میں چار مختلف آپریشنز کے دوران گینگ کے مزید 13 ملزمان گرفتار کیے گئے جن میں محمد عاصم بلوچ، محمد عثمان، خالد بلوچ، عبدالغفار اور اوڈ برادری سے تعلق رکھنے والے محمد جبران، محمد شان، محمد وقاص، محمد الیاس، محمد اقبال، محمد شفیق، محمد یوسف اور محمد نعیم اوڈ شامل ہیں۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ملتان گینگ جعلی واٹس ایپ اور فرضی ویب سائٹس کے ذریعے لاکھوں روپے بٹور رہا تھا۔

فیصل آباد میں ایجنسی نے ایک اور اہم کارروائی کرتے ہوئے ملزم ناصر علی کو گرفتار کیا جو شہریوں کے بینک اکاؤنٹس ہیک کر کے رقوم کو جعلی جاز کیش اور ایزی پیسہ اکاؤنٹس میں منتقل کرتا تھا، جس کے قبضے سے 1 اینڈرائیڈ فون، 6 کی پیڈ فونز اور 23 جعلی سمیں برآمد کی گئیں۔ این سی سی آئی اے کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ سائبر کرائمز اور منظم گینگز کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائیاں جاری رہیں گی، جبکہ عوام الناس کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ اپنا او ٹی پی، شناختی کوائف یا بینکاری معلومات کسی بھی غیر متعلقہ فرد کے ساتھ ہرگز شیئر نہ کریں۔

کوئٹہ کے علاقے سورنج میں کوئلے کی کان میں المناک حادثہ: وزیراعظم شہباز شریف کا مزدوروں کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار

منصور احمد, JULY 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کوئٹہ کے نواحی علاقے سورنج میں کوئلے کی کان میں پیش آنے والے دلخراش اور المناک حادثے میں محنت کش مزدوروں کی اموات پر گہرے دکھ، صدمے اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم نے سورنج کی کان میں خطرناک گیس بھر جانے کے باعث ہونے والے اس حادثے کو انتہائی دردناک قرار دیتے ہوئے جاں بحق ہونے والے محنت کشوں کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا کی ہے۔

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جمعہ کے روز جاری ہونے والے باضابطہ بیانیے کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف نے پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) اور بلوچستان کے تمام متعلقہ امدادی اداروں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ ریسکیو اور ریلیف کارروائیوں کو بلا تعطل اور انتہائی مستعد انداز میں جاری رکھیں۔ انہوں نے کان میں پھنسے اور زخمی ہونے والے تمام مزدوروں کو بحفاظت نکالنے اور انہیں فوری بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے تمام تر وسائل بکارِ لانے کی بھی تاکید کی۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے غمزدہ خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی تعمیر و ترقی میں حصہ لینے والے محنت کش ہمارا انتہائی قیمتی اثاثہ ہیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام اور انتظامیہ کو سخت ہدایت جاری کی کہ کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی قیمتی جانوں کو محفوظ بنانے کے لیے مستقل اور فول پروف حفاظتی اقدامات فوری طور پر نافذ کیے جائیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے دلخراش واقعات کا سدِباب ممکن ہو سکے۔

پنجاب کے دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق، دریائے سندھ میں کالاباغ و چشمہ پر نچلے جبکہ نالہ پلکھو میں درمیانے درجے کا سیلاب

روزینہ اسماعیل, JULY 31,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے صوبے کے دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی موجودہ صورتحال سے متعلق تازہ ترین رپورٹ جاری کر دی ہے۔ ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق صوبے کے بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق قائم ہے، تاہم دریائے سندھ میں کالاباغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب جبکہ وزیر آباد کے مقام پر نالہ پلکھو میں درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق دریائے چناب، جہلم، راوی اور ستلج میں پانی کا بہاؤ فی الوقت نارمل سطح پر برقرار ہے۔ دریائے سندھ میں کالاباغ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 63 ہزار کیوسک اور چشمہ کے مقام پر 2 لاکھ 94 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ ڈیرہ غازی خان کی رودکوہیوں میں صورتحال بالکل معمول کے مطابق ہے۔ اس کے علاوہ وزیر آباد کے نالہ پلکھو میں پانی کا بہاؤ 3 ہزار 600 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ نارووال کے نالہ بسنتر میں نچلے درجے کی سیلابی صورتحال پیش نظر ہے۔

ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا (یا سیف انور جپہ) نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مون سون بارشوں کا چوتھا طاقتور سلسلہ 5 اگست تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ بالائی کیچمنٹ ایریاز میں متوقع شدید بارشوں کے سبب مشرقی دریاؤں اور ان سے منسلک ندی نالوں میں طغیانی اور پانی کے بہاؤ میں اچانک اضافے کا خطرہ ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ لاہور، راولپنڈی، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، فیصل آباد اور ملتان میں شدید اربن فلڈنگ (شہری سیلاب) جبکہ مری، گلیات اور دیگر پہاڑی سلسلوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا شدید خطرہ موجود ہے۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے نے دریاؤں اور ندی نالوں کے پاٹ میں مقیم تمام شہریوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی سخت ہدایت جاری کی ہے اور بتایا ہے کہ حکومتِ پنجاب نے متاثرہ تمام علاقوں میں فلڈ ریلیف کیمپس قائم کر دیے ہیں جہاں خوراک، ادویات اور پینے کا صاف پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے تمام شہریوں سے اپیل کی کہ وہ سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں، دریاؤں اور ندی نالوں کے قریب غیر ضروری سیر و تفریح سے گریز کریں اور بچوں کو ہرگز پانی میں نہانے نہ دیں تاکہ کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار حادثے سے بچا جا سکے۔

بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی کی درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات کالعدم: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے چیمبر اپیل منظور کر لی

کاشف عباسی , JULY 31,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے بانی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی ہسپتال منتقلی سے متعلق درخواست پر رجسٹرار آفس کی جانب سے عائد کردہ تمام اعتراضات کے خلاف دائر کی گئی چیمبر اپیل منظور کر لی ہے۔ اعلیٰ عدالت نے رجسٹرار آفس کے ابتدائی اعتراضات کو مکمل طور پر کالعدم قرار دیتے ہوئے درخواست کو باضابطہ کیس نمبر الاٹ کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے جمعہ کے روز اپنے چیمبر میں اس اہم اپیل کی باقاعدہ سماعت کی، جس کے دوران بانی پی ٹی آئی کے وکیل عذیر کرامت بھنڈاری عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے بانی پی ٹی آئی کے وکیل کو موکل کا دستخط شدہ قانونی وکالت نامہ جمع کرانے کی ہدایت جاری کی۔

سپریم کورٹ نے رجسٹرار آفس کو باضابطہ حکم دیا کہ بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی سے متعلق اس اپیل کو فوری طور پر نمبر الاٹ کیا جائے اور اسے پہلے سے زیرِ سماعت ‘عظمیٰ خان’ کے مقدمے کے ساتھ یکجا یعنی منسلک کر دیا جائے۔ مزید برآں، چیف جسٹس نے بانی پی ٹی آئی اور عظمیٰ خان کی درخواستوں کو اعلیٰ عدلیہ میں جلد از جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کی استدعا بھی منظور کر لی ہے۔

فیفا کے تجارتی حصص پرائیویٹ انویسٹرز کو بیچنے کا متنازع منصوبہ: یورپی ممالک کا آنے والے ورلڈ کپ ٹورنامنٹس کے بائیکاٹ پر اتفاق

محمود احمد, JULY 31,2026

زیورخ (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

بین الاقوامی فٹ بال کی گورننگ باڈی (فیفا) کی جانب سے اپنے عالمی کپ اور دیگر اہم ترین ٹورنامنٹس کے تجارتی حصص نجی سرمایہ کاروں کو فروخت کرنے کی تجویز کے ردِعمل میں بڑا عالمی بحران پیدا ہو گیا ہے۔ یورپی ممالک نے اس منصوبے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے آنے والے فیفا عالمی کپ مقابلوں کا مکمل بائیکاٹ کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ تاریخی اور حتمی فیصلہ یورپی فٹ بال تنظیم کی 55 رکن ایسوسی ایشنز کے ایک ہنگامی آن لائن اجلاس کے دوران کیا گیا۔ واضح رہے کہ آنے والے بڑے مقابلوں میں اگلے سال برازیل میں منعقد ہونے والا خواتین کا عالمی کپ اور 2030ء میں اسپین، پرتگال اور مراکش میں طے شدہ مردوں کا عالمی کپ شامل ہیں، جن پر اب بائیکاٹ کے گہرے بادل منڈلانے لگے ہیں۔

تنازع اس وقت شروع ہوا جب فیفا نے ایک نئی قائم کردہ تجارتی کمپنی میں اپنے اقلیتی حصص بیچنے کے منصوبے کی باضابطہ تصدیق کی۔ اس منصوبے کے تحت فیفا کا مقصد اپنے بڑے مقابلوں بشمول عالمی کپ اور کلب عالمی کپ کے تجارتی امور کو اس نئی کمپنی کے ذریعے چلانا اور 21 فیصد حصص کی فروخت کے ذریعے 4.2 ارب امریکی ڈالر اکٹھا کرنا ہے تاکہ یہ رقم رکن تنظیموں کو دستیاب کی جا سکے۔ اگرچہ فیفا نے واضح کیا کہ گورننگ باڈی کی حیثیت اور اکثریت کے حصص اسی کے پاس رہیں گے، تاہم اس تجویز کو شدید ترین عالمی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یورپی فٹ بال تنظیم نے موقف اپنایا ہے کہ یہ قدم اس سرخ لکیر کو عبور کرنے کے مترادف ہے جسے کھیل کے منتظم اداروں کو کبھی پار نہیں کرنا چاہیے۔

دیگر عالمی تنظیموں نے بھی فیفا کے طریقہ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ شمالی و وسطی امریکہ کی فٹ بال تنظیم نے قانونی اور شفاف طریقہ کار کی عدم موجودگی پر تشویش جتائی ہے جبکہ ایشیائی فٹ بال کنفیڈریشن نے مناسب مشاورت کے بغیر معاملے کے عام ہونے پر مایوسی ظاہر کی ہے۔ دوسری جانب افریقی فٹ بال کنفیڈریشن نے تجاویز کے مطالعے کی بات کی ہے۔ ان تمام تر اعتراضات کے باوجود فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو نے منصوبے کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے اسے جمہوری عمل اور تجارتی ترقی کا اگلا قدرتی قدم قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ یورپی ٹیمیں عالمی فٹ بال کی بڑی قوت ہیں، جنہوں نے 23 میں سے 13 عالمی کپ ٹائٹل جیتے ہیں جن میں حالیہ 19 جولائی 2026ء کو فائنل میں ارجنٹائن کو شکست دے کر چیمپئن بننے والی اسپین کی ٹیم بھی شامل ہے، جس کے بعد اس ممکنہ بائیکاٹ نے فیفا پر شدید معاشی و انتظامی دباؤ بڑھا دیا ہے۔

اوگرا کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری

منصور احمد, JULY 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پیٹرولیم مصنوعات کی جدید قیمتوں کا تعین کرتے ہوئے جمعہ (31 جولائی) کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب اضافے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ اور معاشی اشاریوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جزوی ترمیم کی گئی ہے۔

پٹرولیم ڈویژن اور اوگرا کے جاری کردہ نئے نرخوں کے مطابق، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 42 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 393 روپے 04 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ اسی طرح موٹر اسپرٹ (پیٹرول) کی قیمت میں 1 روپے 09 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے تحت پیٹرول کی نئی قیمت 336 روپے 15 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔

نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ ان نئی اور ترمیم شدہ قیمتوں کا اطلاق آج یعنی جمعرات (30 اور 31 جولائی کی درمیانی شب) رات 12 بجے سے ملک بھر میں یکساں طور پر نافذ العمل ہو جائے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف کا خضدار میں کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین

منصور احمد, JULY 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بلوچستان کے ضلع خضدار میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے کیے جانے والے کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن پر پاک فوج اور تمام متعلقہ اداروں کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ وزیراعظم نے بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد تنظیم ‘فتنہ الہندوستان’ کے خلاف فوری اور فیصلہ کن کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ فورسز نے ایک بار پھر اپنی بے مثال صلاحیتوں اور دلیری سے ملک کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا ہے۔

پنجشنبہ (جمعرات) کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف نے آپریشن کے دوران 4 خطرناک دہشت گردوں کو جہنم واصل کرنے اور بارودی مواد سے لدی 2 گاڑیوں کو بروقت تباہ کر کے دشمن کا بڑا دہشت گردانہ منصوبہ ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کی اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت، جرات اور بروقت اقدام کی شدید پذیرائی کی۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ بیرونی ایما پر پاکستان کا امن و امان تباہ کرنے اور دہشت گردی پھیلانے کی ہر مذموم کوشش کو اسی طرح خاک میں ملا دیا جائے گا۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے پیغام میں پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ جب تک ارضِ پاک سے دہشت گردی اور غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی شرپسندی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا، سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا یہ بلاامتیاز آپریشن اور یکسو کارروائیاں پوری قوت سے جاری رہیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پوری پاکستانی قوم اپنی بہادر سکیورٹی فورسز کے پیچھے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے اور وطنِ عزیز کے امن، استحکام، خودمختاری اور سلامتی کے لیے ان کے افسران و جوانوں کی لازوال قربانیوں کو بے حد قدر اور احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

سکیورٹی فورسز کا ضلع خضدار میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن: بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان کی بارود سے بھری دو گاڑیاں تباہ، 4 دہشت گرد ہلاک

کاشف عباسی , JULY 30,026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع خضدار میں ایک بڑی اور تیز رفتار کارروائی انجام دیتے ہوئے بھارتی پراکسی ‘فتنہ الہندوستان’ سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے شوم منصوبے کو ناکام بنا دیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے پنجشنبہ (جمعرات) کو جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق، خضدار میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کیے گئے اس خصوص آپریشن کے دوران بارودی مواد سے لدی دو گاڑیاں کامیابی سے تباہ کر دی گئیں جبکہ 4 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے ترجمان نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز کو علاقے میں بارودی مواد سے بھری گاڑیوں کے ساتھ خطرناک خوارجی و بھارتی حمایت یافتہ عناصر کی نقل و حرکت کی مصدقہ اطلاع ملی تھی۔ فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ان گاڑیوں کو روکنے کی کوشش کی اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں گاڑیوں سمیت ان کے ڈرائیورز اور ساتھی 4 دہشت گرد موقع پر ہی مارے گئے۔ سکیورٹی فورسز نے دونوں بارودی گاڑیوں کو بروقت نشانہ بنا کر کسی بھی بڑے تباہ کن حادثے اور ممکنہ نقصان سے علاقے کو محفوظ کر لیا ہے۔ فی الوقت علاقے میں چھپے کسی بھی دوسرے ہدف یا بھارتی سرپرستی میں فعال دہشت گرد کے مکمل خاتمے کے لیے کلیئرنس اور سرچ آپریشن پوری قوت سے جاری ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے اپنے بیان میں عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وفاقی ایپکس کمیٹی برائے نیشنل ایکشن پلان کی منظوری سے شروع کیے گئے وژن ‘عزمِ استحکام’ کے تحت پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک بھر سے بلاامتیاز دہشت گردی کے خلاف برسرِ پیکار رہیں گے۔ آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ بیرونِ ملک خصوصاً بھارت کی سرپرستی، معاونت اور مالی امداد سے پاکستان میں بے گناہ شہریوں اور سکیورٹی اداروں پر حملہ کرنے والے ان تمام عناصر اور ناسور کا مکمل قلع قمع کیا جائے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف کا بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی سہولت کے لیے تاریخی ڈیجیٹل اقدامات کا اعلان: کیو آر کوڈز، موبائل ایپ اور اپوسٹائل سسٹم کے ذریعے سفارتی خدمات کی یکسر ڈیجیٹائزیشن کا حکم

منصور احمد, JULY 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بیرونِ ملک مقیم تمام پاکستانیوں کو ملک کا انتہائی قیمتی اثاثہ قرار دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ انہیں سفارتخانوں اور کونصل خانوں میں تمام ممکنہ آسانیاں اور اعلیٰ ترین سہولیات کی فراہمی حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے۔ وزیراعظم نے تاکید کی ہے کہ کیو آر کوڈ کی مدد سے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی تمام شکایات کے براہِ راست اندراج اور ڈیجیٹائزیشن کے حوالے سے وسیع پیمانے پر آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ تمام شہری اس جدید نظام سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔ وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار بیرونِ ملک پاکستانیوں کے لیے سفارتخانوں میں سہولیات کی فراہمی میں اضافے، تمام سرکاری و قانونی دستاویزات کی تصدیقی عمل کی ڈیجیٹائزیشن، شکایت کے طریقہ کار کو مزید آسان بنانے اور بیرونِ ملک سے پاکستان میں معاشی و دیگر ادائیگیوں کے لیے قائم جدید ڈیجیٹل نظام سے متعلق وزارتِ خارجہ کے ایک اعلیٰ سطحی بریفنگ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے پنجشنبہ (جمعرات) کو جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق، اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزرا احد خان چیمہ، عطا اللہ تارڑ، چوہدری سالک حسین، شزہ فاطمہ خواجہ، وزیرِ مملکت عون چوہدری، معاونِ خصوصی طارق باجوہ اور دنیا بھر میں قائم پاکستانی سفارتخانوں کے سفرائے کرام، وزارتِ داخلہ، ایف آئی اے، اور این آئی ٹی بی سمیت متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا کہ اوورسیز پاکستانیوں کی آسانی کے لیے پاور آف اٹارنی، جائیدادوں کی خرید و فروخت کے معاملات اور اہم دستاویزات کی تصدیق کو آسان بنانے کے لیے کیو آر کوڈ سسٹم مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت دی کہ سفارتخانوں میں کیو آر کوڈز کو نمایاں جگہوں پر آویزاں کیا جائے اور خصوصی مہم کے ذریعے اس کی افادیت کو اجاگر کیا جائے۔

بریفنگ کے دوران وزیراعظم کو بتایا گیا کہ عوام الناس اور بیرونِ ملک جانے والے شہریوں کی سہولت کے پیشِ نظر وزارتِ خارجہ اسلام آباد کے مرکزی دفتر میں حال ہی میں شام کی شفٹ کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ آسان خدمت مرکز اسلام آباد میں بھی دستاویزات کی تصدیق کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کوریئر سروسز کے ذریعے تصدیقی عمل متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اس نظام کو ہائر ایجوکیشن کمیشن ، انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیشن ، نادرا اور نیشنل پولیس بیورو کے مرکزی ڈیٹا بیس سے منسلک کر دیا گیا ہے جس سے تصدیقی مراحل کی رفتار میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ حکام نے بتایا کہ اپوسٹائل کنونشن کے تحت دستاویزات کی تصدیق کو ‘ون سٹیپ’ کر دیا گیا ہے اور نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے تعاون سے ایک جدید موبائل ایپلی کیشن بھی تیار کی جا رہی ہے، جس کے ذریعے برتھ، ڈیتھ، میرج اور فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹس کی گھر بیٹھے ڈیجیٹل تصدیق ممکن ہو سکے گی۔

وفاقی آئینی عدالت کا تاریخی و اہم قانونی فیصلہ: مقررہ مدت گزرنے کے بعد دائر نظرثانی درخواست کو بنیاد بنا کر حتمی عدالتی فیصلے کو بالواسطہ چیلنج نہیں کیا جا سکتا

منصور احمد, JULY 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

وفاقی آئینی عدالت نے ملک کے قانونی اور عدالتی نظام میں فیصلوں کے حتمی ہونے اور ملازمین کے بنیادی حقوق کے حوالے سے ایک انتہائی اہم، تاریخی اور سنگِ میل فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ چیف جسٹس آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان، جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ پر مشتمل اعلیٰ سطحی تین رکنی بینچ نے ‘محمد اکرم بنام نیشنل بینک آف پاکستان’ کے اہم مقدمے کا محفوظ شدہ تفصیلی فیصلہ سناتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ بہاولپور بینچ کا فیصلہ مکمل طور پر کالعدم قرار دے دیا ہے۔ وفاقی آئینی عدالت نے اپنے اس فیصلے میں صراحت کے ساتھ قرار دیا ہے کہ قانون کے تحت مقررہ مدت گزر جانے کے بعد دائر کی گئی نظرثانی درخواست کو بنیاد بنا کر کسی بھی حتمی عدالتی فیصلے کو بالواسطہ طور پر چیلنج نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ قانون کسی بھی فریق کو اس بات کی اجازت ہرگز نہیں دیتا کہ وہ مقررہ وقت گزرنے کے بعد مختلف قانونی فورمز کے ذریعے کسی حتمی فیصلے کو غیر مؤثر بنانے یا ختم کرنے کی کوشش کرے۔

عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلہ کن حکم میں واضح کیا کہ لیبر کورٹ کا 18 اپریل 2008ء کا فیصلہ حتمی قانونی حیثیت اختیار کر چکا ہے، اس لیے اس میں دی گئی تمام تر ہدایات کو دوبارہ کھولا یا چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ وفاقی آئینی عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں پنشن کے بنیادی حقوق پر انتہائی اہم قانون سازی و تشریح کرتے ہوئے قرار دیا کہ پنشن اور ریٹائرمنٹ کے تمام مالی فوائد کسی بھی ریٹائرڈ ملازم کا ایک مستحکم، باقاعدہ قابلِ نفاذ اور بنیادی قانونی حق ہیں جنہیں کسی مجاز عدالت کے واضح حکم کے بغیر ہرگز نہیں روکا جا سکتا۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ پنشن کی ادائیگی میں کسی بھی قسم کی بلاجواز تاخیر یا غیر قانونی رکاوٹ ڈالنا نہ صرف ملازم کے قانونی حقوق کی شدید خلاف ورزی ہے بلکہ یہ اعلیٰ عدلیہ کے ثابت شدہ فیصلوں سے انحراف اور صریح توہینِ عدالت کے مترادف بھی ہو سکتی ہے۔

مقدمے کے قانونی حقائق کی تفصیلات پر روشنی ڈالتے ہوئے فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار کو 2008ء میں بحالی کا حکم دیا گیا تھا، تاہم اداروں کی جانب سے مختلف پیچیدہ قانونی کارروائیوں کے باعث وہ اپنے مکمل پنشن اور دیگر جائز ریٹائرمنٹ فوائد سے محروم رہا۔ عدالت نے تمام تر ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ درخواست گزار محمد اکرم کی 1992ء سے 2017ء تک کی تقریباً 25 سالہ طویل ملازمت پنشن کے لیے مکمل طور پر قابلِ شمار ہے اور اس کی سابقہ تمام سروس کو بھی پنشن کے حساب کتاب میں لازمی شامل کیا جائے گا۔ عدالت نے اہم قانونی اصول پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قانون کا مسلمہ اصول ہے کہ جو کام براہِ راست نہیں کیا جا سکتا، وہ بالواسطہ بھی نہیں کیا جا سکتا اور مقدمات و قانونی تنازعات کا کسی نہ کسی مرحلے پر اختتام پذیر ہونا قانون کا بنیادی مقصد ہے۔ وفاقی آئینی عدالت نے درخواست کو اپیل میں تبدیل کرتے ہوئے اسے منظور کر لیا اور لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے لیبر کورٹ کے 2008ء کے فیصلے پر فوراً عملدرآمد کا حکم جاری کر دیا۔