وزیراعظم شہباز شریف کی ضلع ہنگو میں پولیس چیک پوسٹ پر فتنہ الخوارج کے دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت: ڈی ایس پی دیار خان سمیت 9 اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار

منصور احمد, JULY 30,2026

اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں پولیس چیک پوسٹ پر فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کی جانب سے کیے جانے والے مذموم اور بزدلانہ حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ وزیراعظم نے اس ناخوشگوار واقعے کے نتیجے میں فرض کی راہ میں جامِ شہادت نوش کرنے والے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) دیار خان سمیت تمام 9 پولیس اہلکاروں کی عظیم قربانی پر گہرے دکھ، صدمے اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے پنجشنبہ (جمعرات) کے روز جاری ہونے والے باضابطہ بیانیے کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف نے شہدائے پولیس کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا کی اور ان کے سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ان کے لیے صبرِ جمیل کی التجا کی ہے۔ وزیراعظم نے اس حملے میں شدید زخمی ہونے والے دیگر پولیس اہلکاروں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے ان کی جلد اور مکمل صحت یابی کی بھی دعا کی ہے۔

حملے کے فوری بعد پولیس کی بروقت اور جرات مندانہ جوابی کارروائی پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے خیبر پختونخوا پولیس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور بہادری کو شدید سراہا، جس کے نتیجے میں فتنہ الخوارج کے 15 سفاک دہشت گرد موقع پر ہی ہلاک کر دیے گئے۔ وزیراعظم نے خیبر پختونخوا پولیس کے جوانوں کی شجاعت کی پذیرائی کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کی لعنت کے خلاف جنگ میں ہماری پولیس فورس نے ہمیشہ ہراول دستے کا تاریخی اور بے مثال کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تمام تر چیلنجز کے باوجود حکومت اور تمام قومی ادارے ملک عزیز سے ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل، حتمی اور جذری خاتمے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں اور شہدا کی یہ عظیم قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی۔

چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد کا پیپلز پارٹی ہری پور کے سینئر نائب صدر گل حبیب خان کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار

کاشف عباسی , JULY 30,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے پاکستان پیپلز پارٹی ضلع ہری پور کے سینئر نائب صدر گل حبیب خان کے ناگہانی انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ سینیٹر روبینہ خالد نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ گل حبیب خان کی وفات پارٹی کے لیے ایک بہت بڑا اور ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔

پنجشنبہ (جمعرات) کو جاری کردہ اپنے باضابطہ تعزیتی پیغام میں سینیٹر روبینہ خالد نے مرحوم کی سیاسی و عوامی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ گل حبیب خان ایک مخلص، نظریاتی اور انتہائی وفادار جیالے تھے۔ انہوں نے اپنی تمام تر سیاسی زندگی پاکستان پیپلز پارٹی کے منشور، نظریے اور کارکنوں کی خدمت کے لیے وقف کر رکھی تھی اور ان کی یہ شاندار خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

سینیٹر روبینہ خالد نے گل حبیب خان کی وفات پر ان کے غمزدہ اہلِ خانہ، عزیز و اقارب اور پاکستان پیپلز پارٹی کے تمام کارکنان سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور لواحقین کو یہ صدمہ صبر و حوصلے کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق دے اور مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔

پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی میں انسٹیٹیوشنل کوالٹی سرکل بورڈ کے پہلے اجلاس کا انعقاد: اعلیٰ تعلیمی معیار، شفافیت اور تحقیقی اختراع پر زور

روزینہ اسماعیل, JULY 30,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی کے ڈائریکٹوریٹ آف کوالٹی انہانسمنٹ کے زیرِ اہتمام ‘انسٹیٹیوشنل کوالٹی سرکل بورڈ’ کا پہلا باضابطہ اجلاس وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قمر الزمان کی زیرِ صدارت انعقاد پذیر ہوا۔ اس اہم انتظامی و تدریسی اجلاس میں یونیورسٹی کے تمام ڈینز، ڈائریکٹرز، مختلف شعبہ جات کے چیئرمینز، انتظامی سربراہان اور اکیڈمک و ایڈوانسڈ سٹڈیز کے نمائندگان نے شرکت کی۔

اجلاس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قمر الزمان نے کہا کہ اعلیٰ تعلیمی معیار کے فروغ کے لیے مسلسل بہتری، شفافیت، کلیدی کارکردگی اشاریوں کے ذریعے کارکردگی کا مؤثر جائزہ، تحقیق، اختراع اور ادارہ جاتی اشتراک کا فروغ ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ یونیورسٹی کو قومی و بین الاقوامی معیار کے مطابق ایک مثالی اعلیٰ تعلیمی ادارہ بنانے کے لیے معیار کی بہتری کے تمام ضروری اقدامات کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جائے گا۔

اجلاس کے دوران تعلیمی و معیاری یقین دہانی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے، تدریسی و انتظامی کارکردگی میں بہتری، تدریس و تعلیم کے نتائج کو مؤثر بنانے اور ہائر ایجوکیشن کمیشن سمیت دیگر منظور شدہ ایکریڈیٹیشن اداروں کے مقرر کردہ معیارات پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنانے کے حوالے سے مختلف حکمت عملیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈائریکٹر کوالٹی انہانسمنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد جاوید اسد نے شرکاء کو اجلاس کے ایجنڈے پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس کے اختتام پر متعدد قابلِ عمل سفارشات کی منظوری دی گئی اور اقدامات کی مسلسل نگرانی کے لیے فالو اپ میکنزم بھی منظور کیا گیا۔

153 کلومیٹر طویل چترال-بونی-مستوج-شندور (این-140) شاہراہ کے چاروں پیکیجز دسمبر 2026ء تک مکمل کرنے کا نیا ہدف مقرر؛ منصوبے کے لیے مالی سال 2026-27 میں 4.2 ارب روپے درکار

کاشف عباسی , JULY 30,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے درمیان مواصلاتی روابط اور سیاحت کو اہم فروغ دینے والی 153 کلومیٹر طویل چترال-بونی-مستوج-شندور شاہراہ (قومی شاہراہ N-140) کے تمام چاروں تعمیراتی پیکیجز کو دسمبر 2026ء تک مکمل کرنے کا نیا ہدف مقرر کر دیا گیا ہے۔ ‘ویلتھ پاکستان’ کو دستیاب ہونے والی اہم سرکاری دستاویزات کے مطابق، منصوبے کی بر وقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے مالی سال 2026-27 کے لیے مزید 4 ارب 20 کروڑ (4.2 ارب) روپے کی فنڈنگ درکار ہوگی۔ یاد رہے کہ مئی 2020ء میں اس سڑک کو وفاقی تحویل میں لے کر قومی شاہراہ این-140 کا درجہ دیا گیا تھا، جس کے بعد اس اہم شاہراہ کو چار مختلف تعمیراتی پیکیجز میں تقسیم کر کے باقاعدہ کام شروع کیا گیا۔ دستاویزات کے مطابق، اب تک اس بڑے ترقیاتی منصوبے پر مجموعی طور پر 6 ارب 59 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، جبکہ مالی سال 2025-26 کے دوران 1.5 ارب روپے مختص کیے گئے تھے اور اسی سال 5.5 ارب روپے کی اضافی ضرورت بھی پیش آئی تھی۔

منصوبے کی انتظامی اور جسمانی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے تو ضلع لوئر چترال میں پریت سے بونی تک کا پیکیج 1 (38.965 کلومیٹر) چاروں حصوں میں سب سے آگے ہے، جس پر اب تک 47.54 فیصد تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے۔ نومبر 2021ء میں شروع ہونے والے اس حصے کی لاگت 2.67 ارب سے بڑھا کر 2.74 ارب روپے کر دی گئی ہے اور اس کا ہدف بھی اب دسمبر 2026ء ہے۔ اسی ضلع میں واقع پیکیج 2 (پریت تا بونی، 39.723 کلومیٹر) پر 34.77 فیصد کام مکمل ہوا ہے اور اس کی تعدیل شدہ لاگت 2.81 ارب روپے رکھی گئی ہے۔ دونوں پیکیجز کی ابتدائی تکمیل کی تاریخ نومبر 2023ء تھی، جسے فنڈز اور انتظامی توازن کی خاطر بڑھایا گیا ہے۔

ضلع اپر چترال کے پیکیجز کا احوال بھی دستاویزات میں واضح کیا گیا ہے۔ پیکیج 3 (بونی تا شیداس، 36.14 کلومیٹر) پر نومبر 2021ء سے جاری کام میں 38.16 فیصد جسمانی پیش رفت حاصل کی جا چکی ہے اور اس کی لاگت 2.61 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔ جبکہ آخری اور چوتھا پیکیج (شیداس تا شندور، 37.782 کلومیٹر) اگست 2022ء میں شروع ہوا تھا، جس پر اب تک 29.78 فیصد کام ہوا ہے اور اس کی لاگت 2.93 ارب روپے طے کی گئی ہے۔ شاہراہ این-140 کی دسمبر 2026ء تک حتمی تکمیل سے ناصرف چترال اور شندور کے دشوار گزار علاقوں میں سفر آسان اور محفوظ ہوگا بلکہ خطے میں سیاحت اور مقامی معیشت کو نئی جلا ملے گی۔

سعودی عرب میں بازوں (فالکنز) کی نیلامی کے نئے اور جدید قواعد کا باقاعدہ اعلان: صرف نیلامی سے خریدے گئے پرندے 13.33 ملین ڈالر انعامی رقم والے مقابلوں میں حصہ لینے کے اہل ہوں گے

محمود احمد, JULY 30,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

سعودی عرب میں باز پروری، روایتی کھیل اور فالکنری کی اعلیٰ ترین بین الاقوامی مارکیٹ کو مزید وسعت دینے کے لیے سعودی حکام اور ‘انٹرنیشنل فالکن بریڈرز آکشن’ نے اپنے 2026ء ایڈیشن کے لیے ایک جدید اور انقلابی پالیسی فریم ورک کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ نئے اور باضابطہ قواعد و ضوابط کے تحت، آئندہ صرف انہی بازوں (فالکنز) کو سعودی عرب میں منعقد ہونے والی مقامی اور بین الاقوامی فالکن چِک ریسنگ اور مختلف دیگر مقابلوں میں حصہ لینے کا قانونی اہل قرار دیا جائے گا جو اس رسمی نیلامی کے ذریعے خریدے گئے ہوں گے۔ اس دور رس اور منفرد اقدام کا بنیادی مقصد باز پالنے والوں (بریڈرز)، بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور خواہش مند خریداروں کے لیے مارکیٹ میں نئے معاشی مواقع پیدا کرنا اور خریداروں کی دلچسپی کو مزید بڑھا کر تجارتی سرگرمیوں کو تاریخی اوج پر پہنچانا ہے۔

نئے قوانین و قواعد کے طریقہ کار کے مطابق، انٹرنیشنل فالکن بریڈرز آکشن کی نیلامی کے ذریعے خریدا جانے والا ہر نیا پرندہ لاگو قوانین کے تحت تمام ریسنگ کیٹیگریز میں حصہ لینے کی سند اور اہلیت خود بخود حاصل کر لے گا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں اب شاہی مملکت کے اندر خرید و فروخت کے تمام معاشی فیصلے ‘نیشنل سینٹر فار فالکنز’ کے زیرِ اہتمام یا مشترکہ طور پر منعقد ہونے والے مقابلے اور ریسنگز کے ساتھ براہِ راست منسلک ہو چکے ہیں۔ واضح رہے کہ ان تمام اعلیٰ سطحی اور معتبر مقابلوں میں کل انعامی رقم کو تقریباً 13.33 ملین امریکی ڈالر تک بڑھا دیا گیا ہے، جو کہ دنیا بھر کے شائقین کے لیے ایک بے نظیر اور کشش کا باعث رقم ہے۔

اس نئی ترغیبی پالیسی کے نفاذ سے نیلامی میں سرمایہ کاروں اور خریداروں کا حجم اور تجارتی کشش انتہائی تیز رفتاری سے بڑھنے کی توقع ہے۔ صنعت کے ماہرین کا ماننا ہے کہ محض نسل، جینیاتی افزائش کے معیار اور پرندے کی ابتدائی قیمت کے علاوہ، اب ممکنہ خریدار فالکن کی بہترین ریسنگ صلاحیت، پرواز کی استعداد اور اس کی مخصوص نسل کی عمومی کارکردگی کا بھی گہرا جائزہ لیں گے۔ اس اقدام سے خصوصی طور پر ‘میلواہ ریسنگ’ کیٹیگری کے لیے موزوں اور سستے و معیاری فالکنز کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ ہوگا۔ دوسری جانب اعلیٰ نسل اور تیز ترین رفتار کے حامل پرندوں کی افزائشِ نسل کو بین الاقوامی سطح پر فروغ ملے گا جو خطے میں فالکنری کی معاشی و ثقافتی صنعت کو ایک نیا نکتہِ عروج عطا کرے گا

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سلامتی کونسل اصلاحاتی مذاکرات 81 ویں اجلاس تک جاری رکھنے کا اہم فیصلہ: پاکستان نے اختلافات مٹانے اور سب کے لیے برابر نمائندگی پر زور دے دیا

محمود احمد, JULY 30,2026

اقوامِ متحدہ/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے سلامتی کونسل میں بنیادی و ادارہ جاتی اصلاحات سے متعلق جاری بین الحکومتی مذاکرات کے عمل کو آئندہ ستمبر میں شروع ہونے والے 81 ویں اجلاس کے دوران بھی تسلسل کے ساتھ جاری رکھنے کا اہم، متفقہ اور حتمی فیصلہ صادر کر لیا ہے۔ پاکستان نے جنرل اسمبلی کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس اصلاحاتی عمل اور بین الحکومتی مذاکرات کو 15 رکنی سلامتی کونسل کو دنیا بھر کی زیادہ سے زیادہ اقوام کے لیے مؤثر، جمہوری اور حقیقی معنوں میں نمائندہ بنانے کے لیے “واحد بااعتماد اور جائز فورم” قرار دیا ہے اور تمام ارکان پر اپنے شدید ترین سیاسی اختلافات کو کم سے کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نو تعینات یا مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے 193 رکنی جنرل اسمبلی سے اپنا اہم خطاب پیش کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کا اصلاحاتی عمل اقوامِ متحدہ کے سامنے درپیش انتہائی اہم ترین اور حساس ادارہ جاتی اقدامات میں سے ایک ہے۔

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بغیر کسی ووٹنگ کے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ ستمبر 2026ء سے شروع ہونے والے 81 ویں اجلاس کے دوران اصلاحاتی بات چیت کا یہ عمل باقاعدگی سے جاری رہے گا۔ یاد رہے کہ اصلاحات اور مذاکرات کا یہ عمل اب اپنے 18 ویں سال میں باقاعدہ داخل ہو چکا ہے، جس کے دوران 17 طویل ادوار مکمل ہونے کے باوجود اصلاحات سے متعلق کئی بنیادی پہلوؤں پر تاحال کامل اتفاقِ رائے حاصل نہیں کیا جا سکا ہے۔ سلامتی کونسل کے تمام پانچ بنیادی شعبوں بشمول رکنیت کے زمرے، ویٹو کا طریقہ کار و استعمال، علاقائی متناسب نمائندگی، توسیع شدہ سلامتی کونسل کا حتمی سائز اور جنرل اسمبلی کے ساتھ کونسل کے تعلقات پر گہرا تبادلہِ خیال جاری ہے۔ اس وقت سلامتی کونسل 5 مستقل اور 10 غیر مستقل ارکان پر مشتمل ہے، جن میں تبدیلی اور توسیع پر مختلف ممالک کے واضح اور برعکس گروپس بنے ہوئے ہیں۔

اصلاحات کے اس عمل میں بھارت، برازیل، جرمنی اور جاپان پر مشتمل ‘گروپ آف فور’ سلامتی کونسل میں اپنے لیے نئی مستقل نشستوں کے حصول کا مطالبہ کرتے ہوئے کل 10 نئی نشستیں چاہتے ہیں۔ تاہم دوسری جانب اٹلی اور پاکستان کی بھرپور قیادت میں فعال ‘یونائٹنگ فار کنسنسس’ گروپ نے کسی بھی ملک کو اضافی مستقل نشستیں دینے کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے اور طویل المدت کے لیے منتخب ہونے والی ایسی نئی غیر مستقل نشستوں کا حل تجویز کیا ہے جن پر جمہوری طریقے سے دوبارہ انتخاب ممکن بنایا جا سکے۔ پاکستانی مندوب عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ اصلاحات کا مقصد خودمختار مساوات، جمہوریت اور احتساب ہونا چاہیے، نہ کہ ایک قسم کی اجارہ داری کو ختم کر کے دوسری قسم کی خصوصی مراعات پر مبنی اجارہ داری قائم کرنا۔ انہوں نے مذاکراتی شریک سربراہان (کویت اور نیدرلینڈز) کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے حتمی عزم دہرایا کہ پاکستان “سب کے لیے اصلاحات، کسی کے لیے خصوصی مراعات نہیں” کے رہنما اصول پر قائم رہے گا۔

سینئر وزیر مریم اورنگزیب کی قیادت میں محکمہ تحفظِ جنگلی حیات کا صوبائی کریک ڈاؤن: سوئے آصل کے نجی فارم سے چیتے کا بچہ بحفاظت بازیاب، طوطوں کی غیر قانونی تجارت میں ملوث ملزمان گرفتار

کاشف عباسی , JULY 30,026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب کی خصوصی ہدایات اور قیادت میں محکمہ تحفظِ جنگلی حیات و پارکس پنجاب نے صوبہ بھر میں تحویل اور تحفظ شدہ جنگلی جانوروں و پرندوں کی غیر قانونی خرید و فروخت اور ان کے ناجائز استعمال کے خلاف بلاامتیاز کریک ڈاؤن تیز کر دیا ہے۔ اس صوبائی کریک ڈاؤن کے دوران مختلف اضلاع میں کامیاب اور تیز رفتار عملی کارروائیاں انجام دی گئی ہیں، جن کے نتیجے میں لاہور کے علاقے سوئے آصل کے ایک نجی بریڈنگ فارم سے چیتے کا بچہ بحفاظت بازیاب کرایا گیا جبکہ نایاب پرندوں کی غیر قانونی تجارت اور شکار میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات درج کر کے متعدد ملزمان کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

ترجمان کے مطابق، پہلی بڑی اور اہم کارروائی لاہور کی تحصیل ماڈل ٹاؤن کے علاقے سوئے آصل میں کی گئی۔ ایک نجی بریڈنگ فارم میں چیتے کا کم سن بچہ غیر قانونی طور پر رکھنے کی باوثوق اطلاع ملنے پر ایڈیشنل چیف وائلڈ لائف رینجر سنٹرل زون مدثر حسن کی ہدایت پر کارروائی کا آغاز کیا گیا۔ ڈپٹی چیف وائلڈ لائف رینجر لاہور ریجن سخی محمد جوئیہ کی سربراہی میں اسسٹنٹ چیف وائلڈ لائف رینجر لاہور محمد وسیم نے سفاری زو لاہور کی خصوصی ویٹرنری ٹیم کے ساتھ سرچ وارنٹ حاصل کرنے کے بعد نجی فارم پر چھاپہ مارا۔ چھاپے کے دوران غیر قانونی طور پر رکھا گیا چیتے کا بچہ بحفاظت تحویل میں لے کر فوری طبی نگہداشت کے لیے سفاری زو لاہور منتقل کر دیا گیا، جبکہ قانون کی خلاف ورزی پر ملزم کے خلاف تھانہ کاہنہ میں باقاعدہ ایف آئی آر درج کروا کر قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

محکمہ وائلڈ لائف نے دوسری کامیاب کارروائی ضلع سیالکوٹ میں انجام دی، جہاں اسسٹنٹ چیف وائلڈ لائف رینجر سیالکوٹ عقیل امجد نے اپنی ٹیم کے ہمراہ گانیدار طوطوں کی غیر قانونی تجارت اور بلیک مارکیٹنگ میں ملوث ایک ملزم کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔ کارروائی کے دوران ملزم کے قبضے سے 5 عدد نایاب گانیدار طوطے برآمد کیے گئے۔ ملزم کے خلاف مقالمی تھانے میں مقدمہ درج کراتے ہوئے برآمد شدہ تمام طوطوں کو فوراً قدرتی ماحول میں آزاد کر دیا گیا۔ اسی طرح وہاڑی میں اسسٹنٹ چیف وائلڈ لائف رینجر کلیم سرفراز نے اپنی ٹیم کے ساتھ سائفن کے علاقے میں چھاپہ مار کر بٹیر کے غیر قانونی شکار کے لیے استعمال ہونے والے 2 عدد نیٹنگ گئیرز برآمد کر کے قبضے میں لے لیے اور قانونی چارہ جوئی کا آغاز کر دیا ہے۔ سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے تمام ٹیموں کی بروقت کارروائیوں کو سراہتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پنجاب میں جنگلی حیات کے ساتھ کھلواڑ کرنے والوں سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال کا جولائی 2026ء کی ماہانہ ترقیاتی رپورٹ جاری کرتے ہوئے اہم خطاب: “اڑان پاکستان” کے تحت ملکی معاشی استحکام کو پائیدار ترقی، روزگار اور عوامی خوشحالی میں بدلا جائے گا

منصور احمد, JULY 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی، اصلاحات و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے وزارتِ منصوبہ بندی کی ماہانہ ترقیاتی رپورٹ برائے جولائی 2026ء کے باضابطہ اجرا اور نئے مالی سال 2026-27 کے لیے اہداف و حکمتِ عملی کے آغاز پر میڈیا سے تفصیلی گفتگو کی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ غیر یقینی عالمی حالات، جغرافیائی کشیدگی، توانائی کی عالمی رسد میں رکاوٹوں اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود پاکستان معاشی استحکام کے سفر کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی اولین ترجیح مشکل فیصلوں سے حاصل ہونے والے معاشی استحکام کو ہر قیمت پر برقرار رکھتے ہوئے اسے پائیدار ترقی، سرمایہ کاری، روزگار اور عوامی خوشحالی میں تبدیل کرنا ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ موجودہ معاشی استحکام عوام کی قربانیوں، بہتر مالی نظم و ضبط اور مؤثر معاشی فیصلوں کا نتیجہ ہے، اور “اڑان پاکستان” کے تحت اس معاشی استحکام کو مشترکہ خوشحالی میں تبدیل کرنے کی رفتار مزید تیز کی جائے گی۔

وفاقی وزیر نے معاشی حقائق پیش کرتے ہوئے بتایا کہ مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی معیشت نے مضبوط بحالی کا مظاہرہ کیا اور شرحِ نمو 3.2 فیصد سے بڑھ کر 3.7 فیصد تک پہنچ گئی۔ اس دوران زرعی شعبے کی شرحِ نمو 2.9 فیصد، صنعتی شعبے کی 3.5 فیصد جبکہ خدمات کے شعبے کی شرحِ نمو 4.1 فیصد رہی، جس سے مجموعی معاشی سرگرمیوں میں نمایاں بہتری آئی۔ جولائی تا مئی لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں 5.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ 22 میں سے 16 بڑے صنعتی شعبوں نے مثبت ترقی دکھائی اور گاڑیوں کی صنعت میں 58.8 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی قیمتوں کے دباؤ کے باوجود مہنگائی کی شرح مقررہ ہدف سے کم رہی، جبکہ ترسیلاتِ زر 8.6 فیصد اضافے کے ساتھ 41.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ اشیا و خدمات کی مجموعی برآمدات 40.9 ارب ڈالر رہیں اور جاری کھاتوں کا خسارہ صرف 139 ملین ڈالر تک محدود رہا۔ بین الاقوامی اداروں نے بھی پاکستان کی معاشی اصلاحات اور زرمبادلہ ذخائر میں بہتری کا اعتراف کیا ہے۔ مالی سال 2026-27 کے لیے شرحِ نمو کا ہدف 4 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ آئندہ معاشی ترقی کا انحصار پیداواری صلاحیت، برآمدات، سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی اور نجی شعبے کے فعال کردار پر ہوگا۔ حکومت قوتِ خرید کے تحفظ، غربت میں کمی، کمزور طبقات کی معاونت اور نوجوانوں کے لیے روزگار کی فراہمی کو اولیت دے رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اوگرا کی مقررہ قیمتوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا اور ناجائز منافع خوری و ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ مالیاتی محاذ پر ایف بی آر کی محصولات 11.7 کھرب روپے سے بڑھ کر 13 کھرب روپے ہو گئیں، جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے 15.2 کھرب روپے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران سی ڈی ڈبلیو پی کے 21 اجلاسوں میں 192 منصوبوں کی منظوری دی گئی جبکہ 96 ایکنک کو بھیجے گئے، جن سے تقریباً 2 لاکھ 89 ہزار براہِ راست اور 4 لاکھ 24 ہزار بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور جائزہ کاری سے قومی خزانے کو 12.6 ارب روپے کی بچت ہوئی۔

تعلیم، نوجوانوں اور بین الاقوامی تعاون پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کو صنعتی انقلابات 4.0 اور 5.0 کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے نصاب کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور “یو ایس-پاکستان نالج کوریڈور” کو دوبارہ فعال کیا جا رہا ہے۔ حالیہ دورۂ امریکہ کے دوران یونیورسٹی آف الینوائے نے پاکستان میں اپنا کیمپس قائم کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “اڑان پاکستان” کے تحت 2029ء تک قومی برآمدات کو 63 ارب ڈالر تک لے جانے کے ہدف پر کام جاری ہے، جبکہ پاکستان نے ترکیہ، ازبکستان اور ڈنمارک کے ساتھ زراعت، تعلیم، تجارت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے اختتام پر کہا کہ جو معیشت چند برس قبل دیوالیہ پن کے دہانے پر تھی، وہ آج پائیدار بحالی اور استحکام کی راہ پر گامزن ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف سے وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال کی اہم ملاقات: وزارت صحت کے جاری منصوبوں، وبائی امراض کی روک تھام اور مجموعی سیاسی صورتِ حال پر مفصل تبادلہِ خیال

کاشف عباسی , JULY 30,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف سے وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے ایک اعلیٰ سطحی اور اہم ملاقات کی، جس میں وزارتِ قومی صحت کے زیرِ انتظام چلنے والے مختلف ترقیاتی امور، عوامی بہتری کے پالیسی اقدامات اور درپیش چیلنجز پر تفصیل کے ساتھ گفتگو کی گئی۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے پنجشنبہ (جمعرات) کو جاری کردہ باضابطہ اور انتظامی اعلامیے کے مطابق، اس اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران وفاقی وزیر برائے قومی صحت نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کو وزارت کے تحت ملک بھر میں جاری صحت کے فلاحی و بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں اور عام شہریوں کو موثر طبی امداد کی فراہمی سے متعلق آگاہ کیا۔ ملاقات کے ماحول میں جہاں شعبہ صحت کی کارکردگی مرکزی نقطہ رہی، وہیں ملک کی مجموعی اور موجودہ سیاسی صورتِ حال اور حکومتی پالیسیوں پر بھی سیر حاصل گفتگو کی گئی۔

ملاقات کے دوران وفاقی وزیر سید مصطفیٰ کمال نے وزیراعظم کو وزارتِ قومی صحت کی جانب سے ملک بھر میں مختلف وبائی و شدید بیماریوں کی روک تھام اور ان کے تدارک کے لیے اٹھائے گئے خصوصی اور ہنگامی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ پیش کی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ وفاقی سطح پر صحت کے نظام میں جدید ٹیکنالوجی کی شمولیت، ہسپتالوں میں ادویات کی بلا تعطل فراہمی اور بنیادی مراکزی صحت کو بہتر بنانے کے لیے حکمتِ عملی پر کام جاری ہے۔ وزیراعظم نے ہیلتھ سیکٹر کی کارکردگی میں بہتری لانے اور بیماریوں کے کنٹرول کے لیے جاری اقدامات کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ عوام الناس کو معیاری، ارزاں اور جدید ترین طبی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی کسر نہ چھوڑی جائے اور تمام جاری منصوبوں کو وقتِ مقررہ پر مکمل کیا جائے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم قانونی و آئینی اصول طے: بغیر پیشگی دشمنی اور اچانک اشتعال میں پیش آنے والے قتل کے واقعات پر دفعہ 302(بی) کے بجائے 302(سی) لاگو ہو گی

منصور احمد, JULY 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ملک کے فوجداری نظامِ عدل، تعزیراتِ پاکستان کی تشریح اور قتلِ عمد کے مقدمات کی درجہ بندی کے حوالے سے ایک انتہائی اہم، دور رس اور جامع قانونی اصول قائم کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے سنگِ میل فیصلے میں صراحت کے ساتھ قرار دیا ہے کہ اگر کسی بھی قتل کا ناخوشگوار واقعہ فریقین کے درمیان کسی دیرینہ و طویل دشمنی، سابقہ منصوبہ بندی یا ثابت شدہ قانونی و حتمی محرک کے بغیر محض موقع پر اچانک پیدا ہونے والی شدید اشتعال انگیزی یا کشیدگی کی کیفیت میں پیش آئے، تو ایسے مقدمے میں تعزیراتِ پاکستان کی سخت ترین دفعہ 302(بی) کے تحت سزا دینے کے بجائے نسبتاً معتدل اور حالات کی مطابقت رکھنے والی دفعہ 302(سی) کا قانونی اطلاق کیا جانا بالکل جائز اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس اہم طے شدہ قانونی اصول کا اطلاق کرتے ہوئے ایک نوعمر ملزم محمد ناصر حسین کی جانب سے دائر کردہ جیل پٹیشن کو باقاعدہ اپیل میں تبدیل کیا اور اسے جزوی طور پر منظور کر لیا۔ عدالتِ عظمیٰ نے لاہور ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ کی جانب سے ملزم کو سنائی گئی عمر قید کی سزا کو باضابطہ طور پر منسوخ اور ختم کرتے ہوئے اسے 14 سال قید با مشقت کی سزا میں تبدیل کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ سپریم کورٹ کے فاضل جج جسٹس ملک شہزاد احمد خان کی جانب سے تحریر کردہ اس اہم اور تفصیلی فیصلے میں کیس کے تمام شواہد، قانونی پہلوؤں اور استغاثہ کے دلائل کا نہایت باریک بینی سے جائزہ لیا گیا ہے۔

مقدمے کے باقاعدہ ریکارڈ اور استغاثہ کے مطابق یہ ناخوشگوار واقعہ سال 2018ء میں خانیوال کی تحصیل میان چنوں کی حدود میں پیش آیا تھا، جہاں ایک شدید گھریلو تنازع اور تکرار کے دوران اس وقت کے نوعمر و نابالغ ملزم نے چاقو کے دو پے در پے وار کر کے مقتول ظہور احمد کو شدید زخمی کر دیا تھا جو بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گیا تھا۔ واقعے کے بعد مقامی ٹرائل کورٹ نے تمام تر سماعت کے بعد ملزم محمد ناصر حسین کو تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302(بی) کے تحت قصوروار ٹھہراتے ہوئے عمر قید اور دو لاکھ روپے بطور ہرجانہ ادا کرنے کی سزا سنائی تھی۔ بعد ازاں اپیل دائر کیے جانے پر لاہور ہائیکورٹ نے بھی ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو بالکل درست قرار دیتے ہوئے عمر قید کی اس سزا کو برقرار رکھا تھا، جس کے خلاف ملزم نے جیل کے ذریعے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے فیصلے میں تفصیلی تجزیہ پیش کرتے ہوئے قرار دیا کہ اگرچہ عینی شاہدین کی گواہی اور طبی معائنے کی رپورٹس سے ملزم کی جانب سے چاقو کے مہلک وار کا ارتکاب ثابت ہوتا ہے، تاہم کیس کے مجموعی عدالتی ریکارڈ کا بغور مطالعہ کرنے سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں اور واضح ہے کہ فریقین کے مابین کوئی پرانی یا دیرینہ دشمنی سرے سے موجود ہی نہیں تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ استغاثہ اپنے پیش کردہ مبینہ محرک کو بھی معقول اور ٹھوس شواہد کے ذریعے ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے اور یہ واضح ہوتا ہے کہ پورا واقعہ اچانک پیدا ہونے والی شدید کشیدگی کے نتیجے میں رونما ہوا۔

عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلہ کن مشاہدے میں لکھا کہ ملزم، جو کہ جرم کے ارتکاب کے وقت قانونی طور پر نابالغ اور کم عمر تھا، اپنی والدہ کو مقتول کے ساتھ تلخ کلامی اور جھگڑتے ہوئے دیکھ کر شدید جذباتی و نفسیاتی صدمے اور اچانک اشتعال کا شکار ہو گیا۔ ملزم نے اس لمحے اپنا آپے سے باہر ہو کر ذہنی توازن کھو دیا اور کسی سابقہ سوچ یا منصوبہ بندی کے بغیر فوراً چاقو سے حملہ کر دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ یہ محض ایک اچانک حادثاتی کشیدگی کا نتیجہ ہے، لہٰذا یہ ‘قتلِ عمد’ کی وہ سخت ترین قانونی صورت نہیں بنتی جس پر دفعہ 302(بی) کا اطلاق کیا جا سکے۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ یہ مقدمہ قانوناً دفعہ 302(سی) کی تمام تر چاروں حدود و قیود میں پورا اترتا ہے، اسی بنا پر ملزم کی عمر قید کی سزا ختم کر کے 14 سال قید بامشقت تجویز کی جاتی ہے، جبکہ دو لاکھ روپے ہرجانہ، عدم ادائیگی پر اضافی قید اور ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 382-بی (جس کے تحت جیل میں گزاری گئی سابقہ مدت سزا میں شمار ہوتی ہے) کا فائد بحال رکھا گیا ہے۔

پنجاب میں مون سون کا چوتھا سلسلہ جاری: گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران نورپور تھل، لاہور اور سیالکوٹ سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں شدید بارشیں ریکارڈ

روزینہ اسماعیل, JULY 30,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے صوبے بھر میں مون سون کے جاری نئے سلسلے سے متعلق تازہ ترین اطلاعات و احصائی اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں، جن کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبہ پنجاب کے بیشتر اضلاع میں تیز اور متعدل مون سون بارشیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق صوبے بھر میں سب سے زیادہ بارش ضلع خوشاب کے علاقے نورپور تھل میں 52 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔ دوسری جانب صوبائی دارالحکومت لاہور کے مختلف علاقوں میں بھی گرج چمک کے ساتھ مائل بہ کرم بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا، جس کے تحت تاج پورہ میں 28 ملی میٹر، جوہر ٹاؤن میں 24 ملی میٹر، پانی والا تالاب کے علاقے میں 20 ملی میٹر، لکشمی چوک میں 16 ملی میٹر جبکہ مناواں میں 12 ملی میٹر تک بارش باضابطہ طور پر ریکارڈ کی گئی، جس سے درجہ حرارت میں نمایاں کمی دیکھنے کو ملی ہے۔

صوبے کے دیگر اضلاع اور شہروں کے اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو سیالکوٹ ایئرپورٹ کے علاقے میں 26 ملی میٹر، گوجرانوالہ میں 21 ملی میٹر، ٹوبہ ٹیک سنگھ میں 15 ملی میٹر، ملک کے معروف پہاڑی تفریحی مقام مری میں 7 ملی میٹر، جڑواں شہر راولپنڈی میں 5 ملی میٹر، جبکہ صنعتی شہر فیصل آباد اور حافظ آباد میں 4, 4 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ گجرات، جھنگ، ساہیوال، بھکر، شیخوپورہ اور جہلم کے اضلاع میں بھی ہلکی اور ٹریس (Trace) بارش کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ پی ڈی ایم اے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جدید سائنسی اور موسمیاتی ماڈلز کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران بھی پنجاب کے بیشتر اضلاع میں گرج چمک اور تیز ہواؤں کے ساتھ مزید مون سون بارشوں کا قومی امکان موجود ہے، اور بارشوں کا یہ چوتھا طاقتور سلسلہ 5 اگست 2026ء تک وقفے وقفے کے ساتھ تسلسل سے جاری رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

بارشوں کے متوقع خطرات اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے پنجاب محمد سیف انور جپہ نے اپنے ایک خصوصی بیان میں آگاہ کیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی سخت اور واضح ہدایات کے پیشِ نظر تمام ڈویژنل کمشنرز، تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز، ریسکیو 1122 اور متعلقہ بلدیاتی اداروں کو چوبیس گھنٹے ہائی الرٹ رہنے کا حکم جاری کر دیا گیا ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ندی نالوں میں طغیانی اور شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے عوام الناس سے پرزور اپیل کی ہے کہ شہری کچے، پرانے اور بوسیدہ مکانات و چھتوں کے نیچے ہرگز قیام نہ کریں۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ آسمانی بجلی، تیز گرج چمک اور طوفان کے دوران محفوظ مقامات پر رہیں اور بجلی کے کھمبوں و کھلے پانی سے دور رہیں۔ کسی بھی غیر متوقع یا ہنگامی صورتِ حال، ریسکیو یا امداد کے لیے شہری پی ڈی ایم اے کی کنٹرول روم ہیلپ لائن 1129 پر فوراً رابطہ کر سکتے ہیں۔

وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان سے گوجرانوالہ سمال چیمبر آف کامرس کے نمائندہ وفد کی اعلیٰ سطحی ملاقات: چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کی ترقی، برآمدات میں اضافے اور عالمی منڈیوں تک رسائی پر تفصیلی تبادلہِ خیال

کاشف عباسی , JULY 30,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان سے گوجرانوالہ سمال چیمبر آف کامرس کے ایک اعلیٰ سطحی نمائندہ وفد نے اہم ملاقات کی، جس میں پاکستان کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے صنعتی و تجارتی اداروں قومی برآمدات کے مسلسل فروغ، مقامی صنعت کی عالمی مسابقت، سستی فنانسنگ تک رسائی اور صنعتی شعبے کو درپیش ریگولیٹری چیلنجز پر انتہائی باریک بینی کے ساتھ تفصیلی تبادلہِ خیال کیا گیا۔ ترجمان وزارتِ تجارت کی جانب سے جاری کردہ رسمی پریس ریلیز کے مطابق، وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایس ایم ایز پاکستان کے مینوفیکچرنگ اور صنعتی شعبے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ ادارے ملک میں نہ صرف لاکھوں افراد کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں بلکہ صنعتی ترقی کی رفتار بڑھانے اور بیرونی ملک برآمدات میں خاطر خواہ اضافے کے لیے بھی ایک مرکزی عنصر ثابت ہو رہے ہیں۔ وزیرِ تجارت نے اس بات پر زور دیا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو ہر ممکن سطح پر مضبوط بنانا، ان کے مسائل حل کرنا اور ان کی سرپرستی کرنا موجودہ حکومت کی بنیادی معاشی ترجیحات میں شامل ہے۔

ملاقات کے دوران گوجرانوالہ سمال چیمبر آف کامرس کے وفد نے وفاقی وزیر کے سامنے افریقی براعظم کی ابھرتی ہوئی منڈیوں میں پاکستانی تاجروں کے لیے بزنس ٹو بزنس میٹنگز، روڈ شوز اور تجارتی وفود کے بھیجنے اور ان کے انعقاد کے لیے حکومتی تعاون کی باقاعدہ درخواست پیش کی تاکہ پاکستانی تاجروں اور صنعت کاروں کو بین الاقوامی سطح پر مضبوط تجارتی روابط قائم کرنے میں مدد مل سکے۔ اس پر وفاقی وزیرِ تجارت نے مثبت ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افریقہ کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور وہاں مسابقتی قیمت والی مصنوعات کی مسلسل طلب پاکستان کے مختلف شعبوں بالخصوص انجینئرنگ، میٹل انڈسٹری، گھریلو الیکٹرانک آلات اور لائٹ مینوفیکچرنگ کے لیے سنہری اور اہم تجارتی مواقع فراہم کرتی ہے۔ اس اجلاس کے دوران تاجروں کو درپیش کاروبار کی بلند لاگت توانائی کی بھاری قیمتوں، ٹیکسز کے ڈھانچے، سستی مالیات اور ورکنگ کیپیٹل تک دشوار رسائی اور دہائیوں پرانی صنعتی مشینری کو جدید ٹیکنالوجی سے بدلنے کے چیلنجز پر بھی انتہائی تعمیری اور مفید بات چیت ہوئی۔

جام کمال خان نے گوجرانوالہ سے آئے ہوئے صنعتی وفد کو یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک میں صنعتی مسابقت کو عالمی معیارات کے مطابق بنانے، ٹیکنالوجی کی اپ گریڈیشن کو فروغ دینے اور فنانسنگ تک بہترین و آسان رسائی کے ذریعے صنعتوں کی جدید کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے جامع اصلاحات پر سرگرمی سے کام کر رہی ہے۔ ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف پاکستان کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے وزیرِ تجارت نے بتایا کہ حکومت ملکی برآمد کنندگان کی سہولت، تجارتی خطرات کو کم کرنے اور برآمدی سرگرمیوں کو بڑھانے کے لیے ایکسپورٹ فنانسنگ اور کریڈٹ گارنٹی کی سہولیات میں نمایاں تیزی لا رہی ہے۔ انہوں نے گوجرانوالہ کے تجارتی اور صنعتی اداروں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ایکسپورٹ امپورٹ بینک کی سپورٹ یافتہ فنانسنگ حاصل کرنے کے لیے تجارتی بینکوں سے فوری طور پر رجوع کریں اور انہیں یقین دہانی کرائی کہ وزارتِ تجارت ان سہولیات اور فنانسنگ کے عمل میں برآمد کنندگان کو پیش آنے والے تمام حقیقی مسائل و رکاوٹوں کو ترجیحی بنیادوں پر دور کرے گی۔

ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کا مظفرآباد سینٹر کے امیدواروں کے لیے لاء ایڈمیشن ٹیسٹ کی نئی تاریخ کا باقاعدہ اعلان: پرچہ 9 اگست 2026ء کو منعقد ہو گا

روزینہ اسماعیل, JULY 30,2026

ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) پاکستان نے آزاد جموں و کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کو اپنے امتحانی مرکز کے طور پر منتخب کرنے والے طلبہ و طالبات کے لیے لاء ایڈمیشن ٹیسٹ کے انعقاد کی نئی اور حتمی تاریخ کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ ایچ ای سی کے شعبہ امتحانات اور ایجوکیشن ٹیسٹنگ کونسل کی جانب سے جاری کردہ رسمی اعلامیے کے مطابق، مظفرآباد میں منعقد ہونے والا لاء ایڈمیشن ٹیسٹ جو کہ پہلے معقول وجوہات اور انتظامی امور کے باعث 21 جون 2026ء بروز اتوار کو منعقد نہیں ہو سکا تھا، اب اس کا انعقاد 9 اگست 2026ء بروز اتوار کو کیا جائے گا۔ اس ٹیسٹ کے انعقاد سے آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے ہزاروں قانون کے ڈگری پروگرامز میں داخلے کے خواہش مند امیدوار اپنے تعلیمی سلسلے کو آگے بڑھا سکیں گے۔

ایچ ای سی ترجمان کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق مظفرآباد سینٹر کے تمام امیدواروں کی رول نمبر سلپس کل یعنی 31 جولائی 2026ء بروز جمعہ ایچ ای سی کی ٹیسٹنگ ایجنسی ایجوکیشن ٹیسٹنگ کونسل کے رسمی آن لائن پورٹل پر اپ لوڈ کر دی جائیں گی۔ تمام متعلقہ امیدوار پورٹل پر جا کر اپنے متعلقہ آن لائن پروفائل میں لاگ ان ہو کر اپنی اپنی رول نمبر سلپس باآسانی ڈاؤن لوڈ کر سکیں گے، جن پر امتحانی مرکز کا مکمل پتہ، وقت اور دیگر ضروری ہدایات درج ہوں گی۔ ایچ ای سی نے تمام امیدواروں کو خصوصی ہدایت کی ہے کہ وہ امتحانی روز کسی بھی قسم کی زحمت اور پریشانی سے بچنے کے لیے امتحان کی مقررہ تاریخ سے قبل بروقت اپنی رول نمبر سلپس پرنٹ کر لیں اور کسی بھی نئی اطلاع، ہدایات یا جدول میں تبدیلی سے آگاہ رہنے کے لیے ای ٹی سی پورٹل کا باقاعدگی سے معائنہ کرتے رہیں۔

پنجاب فوڈ اتھارٹی سرگودھا کی بڑی کارروائی: ساہیوال میں قائم غیر قانونی سلاٹر ہاؤس پکڑا گیا، 800 کلو گرام انتہائی غیر معیاری اور مضرِ صحت گوشت ڈمپنگ سائٹ پر تلف

منصور احمد, JULY 30,2026

سرگودھا (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

پنجاب فوڈ اتھارٹی (پی ایف اے) سرگودھا کی ٹیموں نے عوام الناس کو مضرِ صحت، بیماریوں سے آلودہ اور غیر معیاری خوراک و گوشت کی فراہمی کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے تحت ایک بڑی اور موثر کارروائی کرتے ہوئے غیر قانونی سلاٹر ہاؤس کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ فوڈ اتھارٹی کی خصوصی تفتیشی ٹیم نے خفیہ اطلاع ملنے پر انتہائی بروقت اور تندہی سے کارروائی کرتے ہوئے پنج پیر نہانگ، ساہیوال کے علاقے میں خفیہ طور پر قائم کیے گئے اس غیر قانونی سلاٹر ہاؤس پر چھاپہ مارا جہاں بغیر کسی قانونی اجازت، بغیر کسی طبی معائنے اور حفظانِ صحت کے بنیادی اصولوں کو یکسر نظر انداز کر کے جانوروں کی ذبح کاری کی جا رہی تھی۔ اس چھاپے کے دوران فوڈ اتھارٹی نے موقع پر موجود تقریباً 800 کلو گرام غیر معیاری اور ناقص گوشت کو اپنی تحویل میں لے کر فوری طور پر باقاعدہ ڈمپنگ سائٹ پر لے جا کر تلف کر دیا تاکہ اسے شہریوں تک پہنچنے سے روکا جا سکے۔

کارروائی کے دوران پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ساتھ موجود ماہر ویٹرنری ڈاکٹر نے موقع پر ہی تمام برآمد شدہ گوشت کی سائنسی اور طبی جانچ کی، جس کے بعد انہوں نے اس گوشت کو انسانی استعمال کے لیے انتہائی مضرِ صحت، غیر معائنہ شدہ اور انسانی زندگی کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے ڈپٹی ڈائریکٹر پنجاب فوڈ اتھارٹی سرگودھا نے کہا کہ ضلع سرگودھا میں عوام کی صحت سے کھیلنے والے عناصر، غیر قانونی سلاٹرنگ میں ملوث افراد اور ملاوٹ مافیا کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا سلسلہ بلاامتیاز جاری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی شخص کو شہریوں کی زندگیوں اور صحت کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ایسے تمام عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ ڈپٹی ڈائریکٹر پی ایف اے نے عوام الناس سے اپیل کی کہ وہ اپنے ارد گرد معیاری خوراک اور گوشت کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے انتظامیہ کا ساتھ دیں اور کسی بھی قسم کی شکایت، غیر قانونی سلاٹرنگ یا ملاوٹ کی اطلاع فوری طور پر پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ٹول فری ہیلپ لائن 1223 پر درج کروائیں۔

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے معروف عالمِ دین مفتی عبدالرحیم کی اہم ملاقات: صوبے میں پائیدار امن، تعلیمی ترقی اور بین المذاہب ہم آہنگی پر تفصیلی گفتگو

کاشف عباسی , JULY 30,026

پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

خيبر پختونخوا میں امن و امان کی مجموعی صورتِ حال کو بہتر بنانے، علمائے کرام اور تعلیمی اداروں کے ذریعے معاشرتی ہم آہنگی اور تعلیمی ترقی کو فروغ دینے کے لیے اہم اقدامات اور روابط کا سلسلہ تیز تر ہو گیا ہے۔ اسی سلسلے میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے معروف ممتاز عالمِ دین، الغزالی یونیورسٹی کراچی کے چانسلر اور جامعۃ الرشید کے مہتمم مفتی عبدالرحیم نے گورنر ہاؤس پشاور میں ایک اعلیٰ سطحی اور اہم ملاقات کی ہے۔ گورنر ہاؤس پشاور کے باضابطہ ترجمان کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اس اہم اور بابرکت ملاقات کے موقع پر ممبر بورڈ آف گورنرز الغزالی یونیورسٹی انجینئر مفتی عثمان یوسف بھی مفتی عبدالرحیم کے ہمراہ موجود تھے۔ ملاقات کے دوران خیبر پختونخوا میں امن و امان کے پائیدار قیام، معاشرے میں رواداری کو فروغ دینے اور نوجوانوں کو گمراہی سے بچا کر مثبت تعلیمی و فکری سرگرمیوں میں مصروف کرنے سے متعلق عملی اور ٹھوس اقدامات پر مفصل تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے اس بات پر شدید زور دیا کہ خطے کی موجودہ جغرافیائی اور سیکیورٹی صورتِ حال کے تناظر میں خیبر پختونخوا کے اندر امن، بھائی چارے اور معاشی و سماجی استحکام کا قیام وقت کی سب سے بڑی اور عاجلانہ ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بالخصوص صوبے میں قیامِ امن کی جدوجہد میں دینی مدارس اور جید علمائے کرام کا کردار انتہائی مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ علمائے کرام اپنے جمعہ کے خطبات، دینی اجتماعات اور تعلیمی محافل کے ذریعے عوام میں اتحاد، یکجہتی، ملکی سلامتی اور قانون کی پاسداری کا شعور اجاگر کر سکتے ہیں۔ گورنر نے مفتی عبدالرحیم اور جامعۃ الرشید کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید عصری علوم کی ہم آہنگی وقت کا اہم تقاضا ہے تاکہ دینی و مذہبی اداروں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ ملک و قوم کی ترقی اور معاشی دوڑ میں مؤثر اور مثبت کردار ادا کر سکیں۔

اسی طرح الغزالی یونیورسٹی کراچی کے چانسلر اور جامعۃ الرشید کے مہتمم مفتی عبدالرحیم نے گورنر فیصل کریم کنڈی کو صوبے میں تعلیم کے فروغ اور بالخصوص بین المذاہب و بین المسلمین ہم آہنگی کی فضا قائم کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں اور مختلف عملی تجویزات سے آراستہ کیا۔ مفتی عبدالرحیم نے کہا کہ پختونخوا کی سرزمیں تاریخی اعتبار سے امن و محبت کا گہوارہ رہی ہے اور تمام مکاتبِ فکر کو مل کر اس خطے کو دہشت گردی، شدت پسندی اور بدامنی کے سایوں سے پاک کرنے کے لیے اپنا قومی و دینی فریضہ نبھانا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ تعلیمی اداروں کا بنیادی مقصد ایسا باصلاحیت اور متوازن نوجوان طبقہ تیار کرنا ہے جو معاشرے کو جوڑنے اور ملکی سلامتی میں اپنا مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہے۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں قائدین نے صوبے کی تعمیر و ترقی، اعلیٰ تعلیم کے فروغ اور پائیدار امن کے حصول کے لیے آئندہ بھی باہمی روابط اور مثبت مشاورت کے اس سلسلے کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

سپریم کورٹ کا تاریخی اور اہم قانونی فیصلہ: کوئی بھی عدالت یا ٹریبونل اپنے قانونی دائرۂ اختیار سے تجاوز کر کے ازخود (سوموٹو) کارروائی یا درخواست سے باہر کے امور پر فیصلے صادر نہیں کر سکتا

منصور احمد, JULY 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے ایک انتہائی اہم، تاریخی اور آئینی اصولوں پر مبنی فیصلے میں واضح اور حتمی طور پر قرار دیا ہے کہ ملک کی کوئی بھی عدالت یا کوئی بھی قانونی ٹریبونل اپنے عطا کردہ قانونی و آئینی دائرۂ اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے ازخود (سوموٹو) کارروائی کا آغاز نہیں کر سکتا اور نہ ہی زیرِ سماعت درخواست میں شامل نہ ہونے والے زائد معاملات پر اپنے فیصلے جاری کرنے کا مجاز ہے۔ اعلیٰ عدلیہ نے واضح کیا کہ آئین اور قانون کے دائرے سے باہر نکل کر فیصلے صادر کرنا قانون کی حکمرانی کو متاثر کرتا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ کے فاضل جج جسٹس محمد علی مظہر اور فاضل خاتون جج جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے خیبر پختونخوا میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز (ایم ٹی آئی) اپیلیٹ ٹریبونل کے ایک متنازع فیصلے کے خلاف دائر کی گئی تمام اپیلیں باقاعدہ منظور کرتے ہوئے یہ اہم اور آئینی فیصلہ صادر کیا۔ سپریم کورٹ نے اپنے جامع فیصلے میں صراحت کے ساتھ قرار دیا کہ ایم ٹی آئی اپیلیٹ ٹریبونل نے اپنے تفویض کردہ قانونی اختیارات اور حدود سے واضح تجاوز کیا ہے، کیونکہ قانون کے مطابق اس کے پاس ازخود (سوموٹو) اختیارات استعمال کرنے کا کوئی قانونی و انتظامی اختیار سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔

سپریم کورٹ نے اپنے اہم فیصلے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایم ٹی آئی اپیلیٹ ٹریبونل نے دو ڈاکٹروں کی جانب سے دائر کی گئی اپیلیں قانونی بنیادوں پر مسترد کر دینے کے باوجود ایک عجیب طریقہ اپنایا۔ ٹریبونل نے درخواستیں خارج کرنے کے ساتھ ہی 2015ء سے لے کر اب تک ہونے والی تمام تر ترقیوں (پروموشنز) کی تفصیلی جانچ پڑتال کرنے، متعدد دیرینہ ملازمین و افسران کو اچانک تنزلی (ڈیمووٹ) کرنے اور حکومت کی جانب سے ترمیم شدہ پروموشن پالیسی کو مکمل طور پر کالعدم قرار دینے جیسے انتہائی سنگین احکامات جاری کر دیے تھے۔ سپریم کورٹ نے اس پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ تمام تر معاملات اور پالیسی سے متعلقہ امور اصلاً اپیل کنندگان کی بنیادی درخواستوں کا حصہ ہی نہیں تھے اور نہ ہی متاثر ہونے والے درجنوں ملازمین کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ متاثرہ فریق کو سنے بغیر ان کے خلاف یکطرفہ فیصلہ سنانا آئین کے تحت منصفانہ ٹرائل، قدرتی انصاف اور انسان کے بنیادی حقوق کے شدید خلاف ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں آئینی شق کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 175(2) کے تحت کوئی بھی عدالت یا قانونی ٹریبونل صرف اور صرف وہی محدود اختیارات استعمال کرنے کی پابند ہے جو اسے آئین یا متعلقہ قانون و ایکٹ کے تحت فراہم کیے گئے ہوں۔ عدالت نے تشریح کی کہ پالیسی سازی، انتظامی ڈھانچہ تشکیل دینا اور اداروں کے اندرونی قواعد و ضوابط بنانا صرف اور صرف متعلقہ انتظامی اداروں اور حکومتی محکموں کا صوابدیدی اختیار ہے، جس میں ٹریبونلز کا بلا جواز مداخلا درست نہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپیلیٹ ٹریبونل کا 22 مئی 2025ء کو دیا گیا فیصلہ مکمل طور پر کالعدم قرار دیتے ہوئے کیس واپس متعلقہ حکام کو بھیج دیا اور ہدایت کی کہ ڈاکٹر یاسر رحمان خٹک اور ڈاکٹر نسرین کشور اپنی ترقی کے لیے نئے سرے سے باقاعدہ درخواست دیں، جن پر متعلقہ ادارہ تمام قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بلا تاخیر قانون کے مطابق شفاف فیصلہ صادر کرے۔

بانی پی ٹی آئی کی بہن نورین نیازی کی گرفتاری سے روکنے کی درخواست منظور: لاہور ہائیکورٹ نے این سی سی آئی اے کے مقدمے میں ایک ہفتے کی حفاظتی ضمانت دیدی

کاشف عباسی , JULY 30,026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

لاہور ہائیکورٹ نے بانی تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی بہن نورین نیازی کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے پیکا (پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز) ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں این سی سی آئی اے اور پولیس کی جانب سے حراست میں لیے جانے سے روکتے ہوئے ان کی ایک ہفتے کے لیے باضابطہ حفاظتی ضمانت منظور کر لی ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے فاضل جج جسٹس سردار اکبر ڈوگر نے نورین نیازی کی جانب سے دائر کردہ حفاظتی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔ عدالتِ عالیہ نے نورین نیازی کی استدعا کو قانونی اور آئینی حق مانتے ہوئے ان کی ضمانت قبول کی اور انہیں واضح اور سخت ہدایت جاری کی کہ وہ اس ایک ہفتے کے اندر متعلقہ متعلقہ اور مجاز عدالت سے باقاعدہ رجوع کر کے قانونی طریقہ کار مکمل کریں۔

سماعت کے دوران درخواست گزار نورین نیازی کے وکلا نے موقف اختیار کیا تھا کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے درخواست گزار کے خلاف پیکا ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر رکھا ہے اور ان کی گرفتاری کا قوی خدشہ موجود ہے۔ وکلا نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ متعلقہ قانون سازی کی روشنی میں اور متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کے لیے موقع فراہم کرتے ہوئے عبوری اور حفاظتی ضمانت دیں تاکہ وہ قانون کے مطابق اپنے دفاع کے لیے رجوع کر سکیں۔ لاہور ہائیکورٹ نے دلائل مکمل ہونے پر نورین نیازی کی درخواست کو منظور کر لیا اور انہیں گرفتاری سے تحفظ دیتے ہوئے ایک ہفتے کے لیے تحفظ فراہم کر دیا۔ عدالتی فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کے وکلا اور خاندان نے اس اقدام کو ریلیف اور قانون کی پاسداری کا اہم قدم قرار دیا ہے۔

استحکامِ پاکستان پارٹی (آئی پی پی) آزاد کشمیر میں تیسری بڑی سیاسی قوت بن کر اقتدار کا حصہ بنے گی: سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس خان

کاشف عباسی , JULY 30,026

مظفرآباد/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

سابق وزیراعظم آزاد کشمیر اور استحکامِ پاکستان پارٹی آزاد جموں و کشمیر کے مرکزی صدر سردار تنویر الیاس خان نے دعویٰ کیا ہے کہ آئی پی پی خطے کے آئندہ الیکشن اور سیاسی منظرنامے میں ریاست کی تیسری سب سے بڑی اور مضبوط قوت بن کر ابھرے گی اور اقتدار کے ایوانوں میں شامل ہو کر عوام کے گوناگوں مسائل کو حل کرے گی۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ ان کی جماعت اس وقت وفاق اور گلگت بلتستان کی حکومتوں میں بطور سیاسی اتحادی باوقار طریقے سے شامل ہے اور اب آزاد کشمیر کے اقتدار میں بھی عملی طور پر شریک ہونے جا رہی ہے۔ یہاں جاری ہونے والے ایک اہم پریس ریلیز اور باضابطہ سیاسی اعلامیے کے مطابق سردار تنویر الیاس خان نے آزاد کشمیر کے حلقہ ایل اے-25 کے آزاد امیدوارِ اسمبلی وقار انجم ایڈووکیٹ کی جانب سے یونین کونسل لوئر گریس کے خوبصورت گاؤں جندر سیری میں منعقدہ ایک بہت بڑے عوامی اور شمولیتی جلسے میں خصوصی شرکت کی، جہاں آئی پی پی کے سینئر رہنما کمانڈر شفیق الرحمٰن نے انہیں روایتی کشمیری چغہ اور ٹوپی کا تحفہ پیش کیا۔

عوامی تقریب کے دوران آزاد امیدوار وقار انجم ایڈووکیٹ نے سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان کو نیلم ویلی اور بالخصوص لوئر گریس کے عوام کو درپیش بنیادی سہولیات، سڑکوں، پانی اور صحت کے مسائل سے تفصیل کے ساتھ آراستہ کیا اور اپنی، اپنے خاندان، ہزاروں کارکنان اور حامیوں کی جانب سے سابق وزیراعظم کی قیادت اور ویژن پر کامل اور غیر متزلزل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے الیکشن سے باضابطہ طور پر دستبردار ہونے اور استحکامِ پاکستان پارٹی میں شمولیت کا حتمی اعلان کر دیا۔ سردار تنویر الیاس خان نے وقار انجم ایڈووکیٹ اور ان کے تمام ساتھیوں کو آئی پی پی کا روایتی مفلر پہنا کر جماعت میں خوش آمدید کہا اور مبارکباد پیش کی۔

شمولیتی تقریب کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے افسوس کا اظہار کیا کہ وادیِ نیلم دنیا کی قدرتی ترین اور خوبصورت ترین وادی ہونے کے باوجود حکمرانوں کی مجرمانہ غفلت کے باعث آج بھی بنیادی سہولیات کے معاملے میں دیگر اضلاع سے سو سال پیچھے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ انہوں نے جندر سیری کے عوام کے لیے فرسٹ ایڈ سینٹر، بڑے واٹر ٹینک اور مقامی مدرسے کو پانی کی بلا تعطل فراہمی کے تمام اخراجات اپنی ذاتی جیب اور ذاتی حیثیت سے ادا کرنے کا فوری اعلان کیا۔ سردار تنویر الیاس خان نے کہا کہ نیلم کے قدرتی اور سیاحتی وسائل صرف نیلم کے ہی عوام پر خرچ ہوں گے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ان کی پارٹی مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مل کر مستقبل میں حکومت قائم کرے گی اور عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کیے جائیں گے۔ انہوں نے ووٹرز پر زور دیا کہ ووٹ ایک قومی اور شرعی امانت ہے جسے سوچ سمجھ کر استعمال کریں اور دعویٰ کیا کہ آنے والے دنوں میں آزاد کشمیر کے ہر ضلع اور ہر حلقے میں صرف آئی پی پی کا پرچم نظر آئے گا۔ تقریب میں پارٹی کے سینیئر رہنماؤں بشمول ڈاکٹر سردار ظفر اقبال، سردار امتیاز شاہین، چوہدری اختر ایوب، شفیق الرحمٰن، سدھیر مغل اور دیگر قائدین نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی اور کشمیری عوام کی فلاح کے لیے کام کرنے کے عزم کو دہرایا۔

نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور ترک وزیرِ خارجہ خاقان فدان کے درمیان اہم ٹیلیفونک رابطہ: غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی مظالم اور مسجدِ اقصی کی پامالی پر شدید تشویش کا اظہار

منصور احمد, JULY 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سنیر سینیٹر اسحاق ڈار اور ترکیہ کے وزیرِ خارجہ خاقان فدان کے درمیان آج ایک انتہائی اہم ٹیلیفونک رابطہ قائم ہوا، جس میں دونوں برادر اسلامی ممالک کی قیادت نے بالخصوص مشرقِ وسطیٰ کی ابتر ہوتی ہوئی سیکیورٹی، خطے کی جغرافیائی و سیاسی صورتِ حال اور بین الاقوامی و علاقائی اہمیت کے دیگر تنازعات پر تفصیلی اور گہرا تبادلہ خیال کیا۔ ترجمان دفترِ خارجہ اسلام آباد کی جانب سے جاری کردہ رسمی بیان کے مطابق، دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والی اس اہم گفتگو میں سرفہرست موضوعِ بحث مقبوضہ فلسطین بالخصوص پٹیِ غزہ اور مغربی کنارے کی خونریز صورتِ حال رہی۔ دونوں رہنماؤں نے غاصب اسرائیلی افواج کی جانب سے معصوم فلسطینی عوام، رہائشی علاقوں اور عام بنیادی ڈھانچے پر مسلسل جاری وحشیانہ فوجی کارروائیوں اور کارپٹ بمباری پر انتہائی رنج و غم، غصے اور گہری تشویش کا اظہار کیا۔

ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید آگاہ کیا کہ گفتگو کے دوران پاکستان اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ مشرقی یروشلم (القدس) میں قبلہِ اول یعنی تاریخی مسجدِ اقصی کی بار بار ہونے والی نجس پامالی، مقدس مقامات کی بے حرمتی اور مقبوضہ علاقوں میں دن بہ دن مزید تباہ کن شکل اختیار کرتی ہوئی انسانی بنیادوں پر غذائی و طبی صورتِ حال پر شدید ترین تحفظات کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے معاہدوں کی سنگین خلاف ورزیاں عالمی برادری کی جانب سے فوری عملی مداخلت کی تقاضا کرتی ہیں۔ اس موقع پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور ان کے ترک ہم منصب خاقان فدان نے مظلوم فلسطینیوں کے دیرینہ، قانونی اور ناگزیر حقوق، بشمول آزاد اور خودمختار ریاستِ فلسطین کے قیام کی مکمل، واضح اور غیر متزلزل حمایت کا دلی عزم دہرایا۔

ٹیلی فون پر ہونے والی اس اعلیٰ سطحی گفتگو میں مشرقِ وسطیٰ کے حالیہ بحران سے نمٹنے کے لیے ممکنہ سفارتی اور کثیرالجہتی اقدامات پر بھی پیش رفت کی گئی۔ ترجمان کے مطابق، پاکستان اور ترکیہ کی اعلیٰ قیادت نے فلسطین کے حوالے سے جاری بحران کا سیاسی و سفارتی حل تلاش کرنے اور صیہونی مظالم کو روکنے کے لیے عرب اور اسلامی ممالک کا ایک فوری اور ہنگامی مشترکہ اجلاس منعقد کرنے کے حوالے سے برادر ملک اردن کی جانب سے پیش کردہ تجویز کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا اور اس پر مفصل غور کیا۔ دونوں نے اتفاق کیا کہ امتِ مسلمہ اور بالخصوص مسلم اکثریتی ممالک کے وزرائے خارجہ کو ایک مشترکہ لائحہ عمل پر متفق ہو کر بین الاقوامی سطح پر اور اقوامِ متحدہ کے فورمز پر ایک موثر اور واحد آواز بن کر سامنے آنا چاہیے تاکہ مظلوم فلسطینی شہریوں کی نسل کشی کو فوری روکا جا سکے اور خطے میں پائیدار اور عادلانہ امن کا قیام ممکن ہو سکے۔

پاکستان میں آبی صورتِ حال کی تازہ ترین رپورٹ: واپڈا نے ملک کے اہم دریاؤں اور ڈیموں میں پانی کی آمد، اخراج اور مجموعی ذخائر کے اعداد و شمار جاری کر دیے

منصور احمد, JULY 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے ملک کے تمام اہم دریاؤں کی بہاؤ کی تازہ صورتِ حال اور تربیلا، منگلا اور چشمہ کے آبی ذخائر (ڈیموں) میں پانی کی موجودہ سطح کے حوالے سے روزانہ کی بنیاد پر باضابطہ اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔ ترجمان واپڈا کے مطابق ملک کے آبی بنیادی ڈھانچے اور دریاؤں میں پانی کی آمد و اخراج کے عمل کو متوازن انداز میں مانیٹر کیا جا رہا ہے تاکہ زراعت اور ایندھن کی پیداوار کی ضروریات کو احسن طریقے سے پورا کیا جا سکے۔ تازہ رپورٹ کے مطابق ملک کے سب سے بڑے ڈیم تربیلا کے مقام پر دریائے سندھ میں پانی کی آمد 2 لاکھ 43 ہزار 900 کیوسک جبکہ پانی کا اخراج 2 لاکھ 15 ہزار 200 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسی طرح دریائے سندھ پر قائم دوسرے اہم مقام یعنی چشمہ بیراج پر پانی کی مجموعی آمد 2 لاکھ 42 ہزار 900 کیوسک درج کی گئی ہے، جبکہ وہاں سے پانی کا اخراج 2 لاکھ 20 ہزار 400 کیوسک جاری ہے۔

دیگر اہم دریاؤں کے اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو منگلا کے مقام پر دریائے جہلم میں اس وقت پانی کی آمد 51 ہزار 700 کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ وہاں سے اخراج کو کنٹرول کرتے ہوئے محض 8 ہزار کیوسک رکھا گیا ہے تاکہ منگلا ریزروائر کو بھرنے کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔ سیالکوٹ کے قریب ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی آمد 95 ہزار 300 کیوسک اور اخراج 83 ہزار 300 کیوسک ریکارڈ ہوا ہے۔ مزید برآں، پختونخوا کے اہم ترین آبی گزرگاہ یعنی نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل میں پانی کی آمد اور اخراج یکساں طور پر 41 ہزار 700 کیوسک کی سطح پر برقرار ہے۔ تمام دریاؤں میں پانی کے اس مسلسل اور مستحکم بہاؤ سے ملک کے نہری نظام کو مسلسل پانی کی فراہمی ممکن بنائی جا رہی ہے، جس سے آنے والی فصلوں اور زراعت کے شعبے کو شدید فائدہ پہنچنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

واپڈا ترجمان کی جانب سے ملکی ڈیموں اور ریزروائرز میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش کے متعلق بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تربیلا ریزروائر میں اس وقت پانی کی سطح 1535 فٹ تک پہنچ چکی ہے اور اس میں پانی کا مجموعی ذخیرہ 47 لاکھ 28 ہزار ایکڑ فٹ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دوسرے بڑے ڈیم منگلا ریزروائر میں پانی کی سطح 1194.30 فٹ درج کی گئی ہے، جہاں پانی کی ذخیرہ شدہ مقدار 38 لاکھ 91 ہزار ایکڑ فٹ ہے، جبکہ چشمہ ریزروائر میں پانی کی سطح 648.50 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے اور وہاں 2 لاکھ 85 ہزار ایکڑ فٹ پانی کا ذخیرہ موجود ہے۔ ترجمان واپڈا نے واضح کیا کہ ان تینوں مرکزی آبی ذخائر میں اس وقت قابلِ استعمال پانی کا مجموعی ذخیرہ 89 لاکھ 4 ہزار ایکڑ فٹ ہو چکا ہے۔ آبی ماہرین کا ماننا ہے کہ مانسون کے موسم اور پگھلتے ہوئے گلیشیئرز کے باعث ڈیموں میں پانی کا یہ خاطر خواہ اضافہ ملک میں توانائی کی پیداوار اور زرعی پانی کے مسائل کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔