نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی استنبول میں ترک ہم منصب حاقان فیدان سے اہم ملاقات: دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال

محمود احمد, August 30,2026

استنبول/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے استنبول میں ترکی کے وزیر خارجہ حاقان فیدان سے ایک اعلیٰ سطحی اور اہم ملاقات کی ہے۔ دونوں رہنماؤں کے مابین ہونے والی اس ملاقات میں پاک ترکی دوطرفہ برادرانہ تعلقات کو مزید وسعت دینے، خطے کی تازہ ترین جیو پولیٹیکل صورتحال اور باہمی دلچسپی کے متعدد اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترکی کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک سرکاری بیان کے مطابق اس ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دفاعی، سفارتی اور معاشی شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر کامل اتفاق کیا گیا۔ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اس وقت ترکی کے اعلیٰ سطحی سرکاری دورے پر موجود ہیں، جہاں وہ تاریخی ‘مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے’ کے تحت تشکیل دی جانے والی سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے پہلے افتتاحی اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

اس اہم سٹریٹجک اجلاس کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے دفاعی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کے فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی اس اعلیٰ سطحی سیاسی و دفاعی اجلاس میں شرکت کے لیے ترکی پہنچ چکے ہیں۔ اس کمیٹی کے انعقاد کو پاکستان، ترکی اور دیگر اتحادی ممالک کے درمیان سیکیورٹی، مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے اور خطے میں امن و امان کے قیام کے لیے ایک غیر معمولی اور سنگِ میل پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکی سٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر کو وینزویلا کے تیل سے بھرنے کا اعلان: تیل کو امریکی عوام کے لیے ‘تحفہ’ قرار دے دیا

محمود احمد, August 30,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم پالیسی بیان میں اعلان کیا ہے کہ وینزویلا سے حاصل ہونے والے خام تیل کو امریکہ کے خالی ہوتے ہوئے سٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو کو دوبارہ بھرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری کردہ ایک پیغام میں وینزویلا کے تیل کو امریکی عوام کے لیے ایک “تحفہ” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قومی سٹریٹجک تیل کے ذخائر کو ہنگامی بنیادوں پر دوبارہ بھرنے کا باقاعدہ عمل بہت جلد شروع کر دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ امریکہ کے سٹریٹجک تیل کے ذخائر حالیہ برسوں کے دوران عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی میں آنے والی شدید رکاوٹوں، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور ایندھن کی عالمی قیمتوں میں اضافے سے نمٹنے کے لیے ریکارڈ سطح پر استعمال کیے گئے ہیں، جس کے باعث ان کی مجموعی مقدار میں تاریخی کمی واقع ہوئی ہے۔ تازہ ترین سرکاری اعدادوشمار کے مطابق امریکی سٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو میں 21 اگست تک تیل کا ذخیرہ تقریباً 290 ملین بیرل تک گر گیا تھا، جو کہ گزشتہ 44 برسوں کی کم ترین سطحوں میں شمار ہوتا ہے۔ امریکہ نے یوکرین پر روس کے حملے اور ایران سے متعلق علاقائی کشیدگی کے دوران، جو بائیڈن اور ڈونلڈ ٹرمپ دونوں کے ادوارِ حکومت میں تجارتی اور معاشی استحکام کے لیے ذخائر سے بڑے پیمانے پر خام تیل مارکیٹ میں جاری کیا تھا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ جمعے کو یہ رسمی اعلان کیا تھا کہ وینزویلا کی طویل عرصے سے تباہ حال اور معاشی دباؤ کا شکار تیل کی صنعت کی بحالی و پیداوار کے لیے ایک تاریخی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ تاہم، توانائی کے بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے تحت وینزویلا سے امریکہ تک تیل کی فوری اور بڑی مقدار میں سپلائی اتنی آسان نہیں ہوگی۔ ماہرین کے مطابق وینزویلا میں تیل کی پیداوار کو مؤثر اور نمایاں سطح تک بڑھانے کے لیے جدید بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کی بحالی، ڈرلنگ ریگز اور وسیع مالیاتی سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہوگی۔

فی الوقت معاشی اور ایندھن کی مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بات مکمل طور پر واضح نہیں ہے کہ وینزویلا کے ساتھ طے پانے والا یہ نیا توانائی معاہدہ امریکی تیل کے ذخائر کو کتنی تیزی سے بھرنے میں مدد دے سکے گا اور آیا قلیل مدت کے دوران امریکی عوام کے لیے ایندھن اور پیٹرولیم مصنوعات کی مقامی قیمتوں پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان کا لاہور میں مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں سے خطاب: نوجوانوں کو ہنر مند بنانے اور روزگار کی فراہمی کے لیے بڑے اقدامات کا اعلان

کاشف عباسی , August 30,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما رانا مشہود احمد خان نے کہا ہے کہ پارٹی کے مخلص اور محنتی کارکنان ہماری جماعت کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کے روشن وژن کے تحت ملک بھر کے نوجوانوں کو معیارِ تعلیم، جدید فنی تربیت ، کاروبار، نجی سٹارٹ اپس اور روزگار کے وسیع مواقع فراہم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اپنے حلقے کے عوامی مسائل سے ہرگز غافل نہیں ہیں اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے دن رات کوشاں ہیں۔

اتوار کے روز لاہور کے صوبائی حلقہ پی پی 172 میں مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے رانا مشہود احمد خان نے بتایا کہ ہر یونین کونسل کی سطح پر پارٹی تنظیم، یوتھ ونگ، لیبر ونگ، لائرز ونگ، تاجر ونگ اور خواتین ونگ کو مکمل طور پر بااختیار بنایا گیا ہے، جبکہ مختلف سرکاری محکموں کے لیے مقرر کیے گئے کوآرڈینیٹرز کے ذریعے شہریوں کے مسائل کی نشاندہی اور ان کے فوری حل کے لیے مسلسل رابطہ کاری کا نظام قائم کر دیا گیا ہے۔

اپنے خطاب کے دوران انہوں نے عالمی اور علاقائی ماحولیاتی بحران کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تغیر اب پورے خطے کے لیے ایک سنگین اور حقیقی خطرہ بن چکا ہے۔ حالیہ شدید گرمی کی لہر، ہمالیائی گلیشیئرز کے پگھلنے، کلاڈ برسٹ اور غیر معمولی بارشوں نے عالمی سطح پر نئے اور درپیش چیلنجز پیدا کر دیے ہیں، جس کی حالیہ مثال چین اور نیپال کی سرحد پر آنے والے تباہ کن سیلابی ریلے ہیں۔ انہوں نے بجلی کی لوڈشیڈنگ اور ٹرانسفارمرز کی خرابی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گرمی میں اضافے سے سسٹم پر اضافی دباؤ آتا ہے، تاہم پی پی 172 میں تبدیل کیے جانے والے ٹرانسفارمرز کا مکمل ریکارڈ مرتب کیا جا رہا ہے اور بجلی سے متعلق مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جا رہا ہے۔

عوامی سہولیات اور بنیادی انفراسٹرکچر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یو سی 93 میں 146 سڑکوں کے سیوریج سسٹم کا کام مکمل ہونے کے بعد باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا ہے، جبکہ سڑکوں، گلیوں، بجلی اور سوئی گیس کی فراہمی کے منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ نوجوانوں کو جدید ہنر سکھانے کے لیے سبزہ زار میں قائم ٹیکنیکل ایجوکیشن کا ادارہ رواں سال دسمبر یا جنوری تک مکمل طور پر فعال کر دیا جائے گا۔ اس ادارے کے ذریعے وہ اپنے حلقے کے کم از کم 2,000 نوجوانوں کو چھ ماہ کے اندر مفت ٹریننگ دلا کر بیرونی ممالک میں روزگار کے مواقع فراہم کریں گے، جبکہ نجی تعاون سے کل 10,000 طلبہ و طالبات کو تربیت فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

صحت کے شعبے میں بڑے ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے رانا مشہود احمد خان نے سوڈیوال کے رانا عبدالرحیم ہسپتال میں 7 جبکہ حاجی ابراہیم ہسپتال میں مزید 4 ڈائیلاسز مشینیں فراہم کرنے کا اعادہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان ہسپتالوں میں نایاب ادویات کی فراہمی اور آئندہ دو ماہ کے اندر مریضوں کے تمام طبی ٹیسٹ بالکل مفت کرانے کا انتظام مکمل کر لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ گلشن راوی میں لاہور کے جدید ترین فلٹریشن پلانٹس میں سے ایک کا افتتاح آئندہ ہفتے کیا جائے گا۔

بین الاقوامی تعلیمی اور سفارتی کامیابیوں کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ چین کے حالیہ دورے کے دوران 50 چینی یونیورسٹیوں اور 70 ٹیکنیکل و میڈیکل اداروں کے ساتھ مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے، جبکہ امریکہ کے دورے میں 25 امریکی اور 13 میڈیکل یونیورسٹیوں کے ساتھ اہم معاہدے طے پائے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ روز لاہور میں منعقدہ بین الاقوامی ہیلتھ کانفرنس اور ایکسپو میں 21 ممالک کے سفیروں کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر مضبوط روابط قائم کر رہا ہے۔ رانا مشہود احمد خان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنے حلقے اور ملک کے نوجوانوں کی ترقی، تعلیم اور صحت کے لیے اپنے تمام سرکاری اور ذاتی وسائل کا استعمال جاری رکھیں گے۔

راسووا سیلاب کے بعد ملکی انفراسٹرکچر کی سب سے بڑی تباہی: 19 پل متاثر، 40 کلو میٹر طویل سڑک کو نقصان اور متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت

محمود احمد, August 30,2026

کاٹھمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

نیپال میں آنے والے تباہ کن اور اچانک سیلاب کے بعد شدید کٹاؤ کے باعث ملک کی انتہائی اہم اور مرکزی شاہراہ ‘پرتھوی ہائی وے’ کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے، جس سے اہم مواصلاتی رابطے منقطع ہو گئے ہیں۔ نیپال کے شعبہ روڈز (محکمہ سڑک جات) کے سربراہ و ڈائریکٹر جنرل وجے جائسی نے باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ راسووا کے علاقے میں آنے والے ہولناک سیلاب کے بعد یہ ملک کے سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے (شاہراہیں اور پل) کو پہنچنے والا سب سے بڑا اور سنگین ترین نقصان ہے۔

محکمے کے ڈائریکٹر جنرل وجے جائسی کے مطابق گذشتہ بدھ کے روز آنے والے تباہ کن سیلاب کے فوراً بعد دھاڈنگ ضلع کے علاقے ‘کرشنابھیر’ میں زمین اور سڑک کے کٹاؤ کا سلسلہ شروع ہوا تھا، جبکہ اتوار کی صبح پہاڑوں سے آنے والے ایک اور شدید سیلابی ریلے نے تباہی پھیلاتے ہوئے صورتحال کو مزید تشویشناک اور سنگین بنا دیا ہے۔ شدید کٹاؤ کے باعث مرکزی شاہراہ کا بڑا حصہ دریا میں بہہ چکا ہے اور گاڑیوں کی آمد و رفت مکمل طور پر معطل ہو گئی ہے۔

حالات کی سنگینی کو مدِنظر رکھتے ہوئے وجے جائسی نے مسافروں، ڈرائیورز اور ٹرانسپورٹ آپریٹرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ سفر کے لیے فوری طور پر متبادل راستے اختیار کریں۔ محکمہ سڑک جات کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے محکمے کے 19 اہم پل متاثر یا تباہ ہوئے ہیں، جبکہ نواکوٹ سے سیافروبیسی اور رسووا گڑھی تک تقریباً 40 کلومیٹر طویل سڑک کا بنیادی ڈھانچہ بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ محکمے نے ہنگامی ٹیمیں تشکیل دے کر بحالی کا کام شروع کر دیا ہے تاہم مسلسل بارشوں کے باعث سڑک کھودنے اور بحال کرنے میں شدید دشواری پیش آ رہی ہے۔

ملکی ڈیموں میں قابلِ استعمال پانی کا مجموعی ذخیرہ 11.39 ملین ایکڑ فٹ سے تجاوز کر گیا، سکھر بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 98 ہزار کیوسک سے زائد ریکارڈ

روزینہ اسماعیل, August 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے ملک کے مختلف دریاؤں، اہم بیراجوں اور بنیادی آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج اور واٹر لیول سے متعلق تازہ ترین ہنگامی اعدادوشمار جاری کر دیے ہیں۔ واپڈا کی جانب سے جاری کردہ ڈیٹا کے مطابق ملک کے اہم ڈیموں میں پانی کی سطح میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ تربیلا ڈیم اپنی انتہائی ذخیرہ اندوزی کی حد کو چھو چکا ہے۔

واپڈا کے مطابق، دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر پانی کی آمد اور اخراج دونوں ایک لاکھ 82 ہزار 100 کیوسک ریکارڈ کیے گئے۔ دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانی کی آمد اور اخراج 22 ہزار 400 کیوسک رہا، جبکہ خیرآباد پل پر پانی کی آمد اور اخراج ایک لاکھ 95 ہزار 600 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے علاوہ دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر پانی کی آمد 19 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 7 ہزار 400 کیوسک رہا، جبکہ دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد 72 ہزار 100 کیوسک اور اخراج 50 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔

ملک کے اہم بیراجوں کی صورتحال کے مطابق جناح بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 37 ہزار 800 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 29 ہزار 500 کیوسک رہا۔ چشمہ بیراج پر آمد ایک لاکھ 98 ہزار 700 کیوسک اور اخراج ایک لاکھ 80 ہزار کیوسک، جبکہ تونسہ بیراج پر آمد ایک لاکھ 79 ہزار 700 کیوسک اور اخراج ایک لاکھ 58 ہزار 800 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ سندھ کے بیراجوں میں گدو بیراج پر آمد 2 لاکھ 44 ہزار 800 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 8 ہزار 800 کیوسک، سکھر بیراج پر آمد 2 لاکھ 98 ہزار 600 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 46 ہزار 200 کیوسک، اور کوٹری بیراج پر آمد ایک لاکھ 58 ہزار 400 کیوسک جبکہ اخراج ایک لاکھ 15 ہزار 700 کیوسک رہا۔ پنجاب میں تریموں بیراج پر آمد 28 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 17 ہزار 600 کیوسک، جبکہ پنجند بیراج پر آمد 46 ہزار کیوسک اور اخراج 31 ہزار 800 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔

آبی ذخائر کے اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ تربیلا ڈیم کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1402 فٹ ہے، جبکہ ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح اپنی انتہائی گنجائش یعنی 1550 فٹ تک پہنچ چکی ہے اور یہاں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 5.580 ملین ایکڑ فٹ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ منگلا ڈیم میں (جس کا کم از کم لیول 1050 فٹ اور انتہائی سطح 1242 فٹ ہے) پانی کی موجودہ سطح 1219.30 فٹ تک پہنچ گئی ہے جہاں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 5.534 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ اسی طرح چشمہ بیراج کے ذخیرے میں پانی کی موجودہ سطح 648.50 فٹ (انتہائی سطح 649 فٹ) ریکارڈ کی گئی ہے اور وہاں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.285 ملین ایکڑ فٹ موجود ہے۔

خواتین مسافروں کی طویل قطار پر اضافی سرچ کاؤنٹر کھولنے کا حکم، ڈراپ آف لین پر ٹریفک رش پر تشویش کا اظہار، توسیعی کام جلد مکمل کرنے کی ہدایت

منصور احمد, August 30,2026

اسلام آباد/لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے دفاع خواجہ محمد آصف نے لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا ایک اعلیٰ سطحی دورہ کیا، جہاں انہوں نے بین الاقوامی و اندرونِ ملک سفر کرنے والے مسافروں کے لیے کیے گئے سفری انتظامات کا باریک بینی سے معائنہ کیا اور ایئرپورٹ پر جاری اہم انفراسٹرکچر ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا موقع پر جائزہ لیا۔ ایئرپورٹ آمد پر قائم مقام چیف آپریٹنگ آفیسر و ایئرپورٹ منیجر اور دیگر اعلیٰ سول ایوی ایشن حکام نے وفاقی وزیر دفاع کا گرمجوشی سے استقبال کیا۔

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (PAA) کی جانب سے جاری کردہ ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق، دورے کے دوران وزیر دفاع نے ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس (ASF) کے سیکنڈ ہولڈ (انٹرنیشنل) ایریا کی چیکنگ کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر خواتین مسافروں کی طویل قطار کا فوری نوٹس لیتے ہوئے خواجہ آصف نے متعلقہ حکام کو کلیئرنس کے عمل کو تیز تر بنانے اور مسافروں کی سہولت کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اضافی سرچ کاؤنٹرز فوری طور پر کھول کر آپریشنل کرنے کی سخت ہدایت کی۔

وفاقی وزیر دفاع نے ایئرپورٹ پر نئے تعمیر شدہ امیگریشن ایریا کا بھی تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے امیگریشن کاؤنٹرز پر تعینات عملے کی کارکردگی اور وہاں جاری بقیہ تعمیراتی کام کی رفتار کا جائزہ لیا۔ دورے کے دوران قائم مقام چیف آپریٹنگ آفیسر و ایئرپورٹ منیجر نے وزیر دفاع کو جاری توسیعی و ترقیاتی کاموں، اور اس دوران مسافروں کی جلد پراسیسنگ اور دیگر سفری سہولیات کے لیے کیے گئے متبادل انتظامات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

خواجہ آصف نے انٹرنیشنل ڈپارچر کے جوائنٹ سرچ ایریا سمیت دیگر مسافر سہولیات کا بھی معائنہ کیا اور مجموعی انتظامات پر اپنے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ بین الاقوامی مسافروں کے لیے خدمات کے اعلیٰ معیار کو ہر صورت برقرار رکھا جائے۔

بعد ازاں، وفاقی وزیر دفاع نے زیرِ تعمیر ڈومیسٹک ڈپارچر ایریا کا بھی دورہ کیا، جہاں انہیں جاری سول ورکس، مجوزہ جدید سہولیات اور منصوبے کی مجموعی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ایئرپورٹ کے بیرونی حصے میں ڈپارچر ڈراپ آف لین پر گاڑیوں اور ٹریفک کے شدید رش پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خواجہ آصف نے ہدایت کی کہ مسافروں کی آسان اور محفوظ رسائی کو یقینی بنانے کے لیے اس لین کی نمایاں توسیع کا کام ترجیحی بنیادوں پر اور بلا تاخیر مکمل کیا جائے۔

کے پی ٹی کے تحت بھٹ آئی لینڈ کراچی میں 35 واں مفت میڈیکل کیمپ: 513 ساحلی رہائشیوں کو مفت طبی سہولیات، ادویات اور لیبارٹری ٹیسٹس کی فراہمی

روزینہ اسماعیل, August 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے ملک کی بین الاقوامی بندرگاہوں کو روزگار کے مواقع، ٹیکس محصولات کی جمع آوری، لاجسٹکس سپلائی چین، صنعتی و تجارتی سرگرمیوں، اور واٹر فرنٹ کی جدید تخلیقِ نو کے ذریعے بندرگاہی شہروں کی پائیدار ترقی میں فعال کردار ادا کرنے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بندرگاہیں اور ساحلی شہر تاریخی و معاشی طور پر ایک دوسرے کے لازمی جزو ہیں، اور اس باہمی رشتے کو مزید مضبوط کرنے کی شدید ضرورت ہے۔

وزارتِ بحری امور کی جانب سے جاری کردہ ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق، وفاقی وزیر نے اس بات کی نشاندہی کی کہ بندرگاہی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والے اقتصادی فوائد کا دائرہ کار اکثر پورٹ کی حدوں سے نکل کر پورے ملک تک پھیل جاتا ہے، جبکہ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ماحولیاتی اور سماجی اثرات عموماً پورٹ کے قریبی شہروں اور آبادیوں پر ہی مرتکز رہتے ہیں۔ شہری اقتصادی ترقی میں بندرگاہوں کے کلیدی کردار پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے آس پاس کی مقامی ساحلی کمیونٹیز کو صحت، تعلیم اور بنیادی سہولیات کی فراہمی میں پورٹ اتھارٹیز کے روایتی کردار کو فعال طریقے سے بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری کے “ہیلتھ کیئر بیونڈ باؤنڈریز” (حدود سے پار صحت کی سہولیات) کے وژن پر عملدرآمد کرتے ہوئے، کراچی پورٹ ٹرسٹ نے کراچی کے سمندری جزیرے ‘بھٹ آئی لینڈ’ میں اپنے 35 ویں مفت طبی کیمپ کا انعقاد کیا۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ساحلی و جزیراتی آبادیوں تک معیاری طبی علاج کی رسائی کو ممکن بنانا تھا۔ کیمپ کے دوران کی ماہر طبی ٹیم نے جزیرے کے 513 غریب رہائشیوں کا تفصیلی معائنہ کیا اور انہیں مفت ادویات کے ساتھ ساتھ لیبارٹری ٹیسٹس کی سہولیات بھی فراہم کیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ بھٹ آئی لینڈ کا میڈیکل کیمپ حکومتِ پاکستان کے اس جامع وژن کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کے جوار میں مقیم کمزور آبادیوں کو پائیدار قومی ترقی کے فوائد میں برابر کا حصہ دار بنایا جا رہا ہے۔ پورٹ حکام کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، طبی کیمپ سے مستفید ہونے والوں میں 202 مرد، 201 خواتین اور 110 بچے شامل تھے، جبکہ موقع پر ہی 70 کے قریب ضروری لیبارٹری ٹیسٹ بھی سرانجام دیے گئے۔

طبی معائنے کے دوران ہیپاٹائٹس بی اور سی کی بروقت تشخیص کے لیے ایک خصوصی سکریننگ ڈرائیو بھی چلائی گئی تاکہ جزیرے کی پسماندہ آبادی میں متعدی بیماریوں کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔ کیمپ کے اعداد و شمار کے مطابق، رپورٹ ہونے والے تقریباً 70 فیصد کیسز جلد سے متعلق بیماریوں سے متعلق تھے، جبکہ سانس کی تکالیف، معدے کی شکایات، ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس کے دائمی مریض بھی پائے گئے۔ اس کے علاوہ کے سپیچ تھراپسٹ نے ماؤں کے لیے بچوں میں اعصابی عوارض اور بولنے کی تاخیر پر شعور بیدار کرنے کے سیشنز منعقد کیے، جس میں ابتدائی تشخیص اور تھراپی کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے کے پی ٹی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ ساحلی جزائر کے رہائشیوں کو ان کے گھر کی دہلیز پر صحت کی سہولیات فراہم کرنے کی مہم کو بلاتعطل جاری رکھے۔

نیپال سیلاب کے 2 روز بعد ملبے تلے دبے رہنے والی 5 سالہ بچی کے معجزانہ ریسکیو کی کہانی: ہسپتال میں والدین سے ملاقات، منیشا کی حالت اب مستحکم

محمود احمد, August 30,2026

کھٹمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

نیپال میں آنے والے قیامت خیز اور اچانک سیلاب و لینڈ سلائیڈنگ کے دو روز بعد ملبے کے نیچے سے معجزانہ طور پر زندہ نکالی جانے والی پانچ سالہ بچی بالآخر دارالحکومت کے ہسپتال میں اپنے والدین سے جا ملی ہے۔ ہسپتال کے ڈاکٹروں اور انتظامیہ کے مطابق ‘منیشا’ نامی بچی کی جسمانی و طبی حالت اب بالکل مستحکم ہے اور وہ کھٹمنڈو کے معروف ‘ٹیچنگ ہسپتال’ کے شعبۂ اطفال میں زیرِ علاج رہتے ہوئے تیزی سے صحت یاب ہو رہی ہے۔

سنسنی خیز اور معجزانہ ریسکیو آپریشن کے حوالے سے نیپال کی آرمڈ پولیس فورس کے اہلکار سنجو کھتری نے بتایا کہ ان کی ٹیم ضلع راسووا کے دشوار گزار علاقے ‘سیابروبیسی’ کے قریب سیلاب اور مٹی کے تودوں کی زد میں آنے والے تباہ شدہ مکانات کے ملبے میں زندہ بچ جانے والے شہریوں کی تلاش میں مصروف تھی۔ اس دوران سرچ ٹیم کو ملبے کے گہرے حصے سے کسی بلی کے پھنسے ہونے کی باریک اور مدہم آواز سنائی دی۔ امدادی ٹیموں نے جب شک کی بنیاد پر اس خاص حصے کی باریک بینی سے تلاشی لی اور وزنی ملبہ ہٹانا شروع کیا تو وہ وہاں معصوم منیشا کو ملبے تلے دبا دیکھ کر حیران رہ گئے۔ بچی کو محفوظ طریقے سے باہر نکالنے کی اس نازک کارروائی میں مسلسل دو گھنٹے لگے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو کے وقت منیشا شدید نڈھال تھی اور بمشکل ہی کسی سوال کا جواب دے پا رہی تھی۔ امدادی کارکنوں نے فوراً اسے ہیلی کاپٹر سے منتقل کرنے کی کوشش کی، تاہم خطے میں بادلوں اور خراب موسم کے باعث ہیلی کاپٹر کی اڑان ممکن نہ ہو سکی۔ جس کے بعد اسے قریبی ریسکیو کیمپ منتقل کر کے ابتدائی طبی امداد اور پانی دیا گیا۔ کچھ دیر بعد ہوش سنبھالنے پر اس کی نقاہت دور کرنے کے لیے چاول کا ابلا ہوا پانی پلایا گیا۔ شدید ذہنی صدمے کا شکار ہونے کے باوجود سنیچر کی دوپہر موسم بہتر ہوتے ہی اسے ایئر لفٹ کر کے کھٹمنڈو کے ٹیچنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ہسپتال کی جانب سے اتوار کو جاری کردہ تازہ ترین طبی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ منیشا کی صحت میں واضح بہتری آ رہی ہے اور وہ خطرے سے باہر ہے۔

آئی بی ایف ہیوی ویٹ عالمی ٹائٹل فائٹ: فلپ ہرگووچ نے موسس اٹاؤما کو شکست دے کر ورلڈ چیمپئن شپ جیت لی

محمود احمد, August 30,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

کروشیا کے 34 سالہ تجربہ کار باکسر فلپ ہرگووچ نے دنیا کے ابھرتے ہوئے برطانوی ہیوی ویٹ باکسر موسس اٹاؤما کو ایک سنسنی خیز اور سخت مقابلے کے بعد 9ویں راؤنڈ میں شکست دے کر آئی بی ایف ہیوی ویٹ عالمی ٹائٹل اپنے نام کر لیا ہے۔ لندن کے مشہور او ٹو ایرینا میں کھیلے گئے اس عالمی مقابلے میں فلپ ہرگووچ نے اپنے تجربے کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے حریف کو ہرایا، جس کے ساتھ ہی 21 سالہ برطانوی فائٹر موسس اٹاؤما کے مسلسل 14 فتح مند مقابلوں کا سلسلہ ٹوٹ گیا اور انہیں اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کی پہلی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

میچ کے آغاز میں 21 سالہ موسس اٹاؤما نے انتہائی تیز رفتار اور پراعتماد باکسنگ کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے ابتدائی راؤنڈز میں اپنے بائیں ہاتھ کے طاقتور اور درست وار سے فلپ ہرگووچ کو مسلسل دباؤ میں رکھا اور متعدد ابتدائی راؤنڈز میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ تاہم جیسے جیسے فائٹ آگے بڑھتی گئی، موسس اٹاؤما کی جسمانی رفتار میں کمی آتی گئی، ان کی سانسیں پھولنے لگیں اور رنگ میں ان کی ٹانگوں کی پھرتی برقرار نہ رہ سکی۔

دوسری جانب 34 سالہ کروشین فائٹر فلپ ہرگووچ نے مسلسل صبر اور تجربے کا مظاہرہ کرتے ہوئے حریف پر دباؤ بنائے رکھا اور ان کی تھکن کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ مقابلے کے 9ویں راؤنڈ میں جب اٹاؤما شدید تھکن اور دباؤ کا شکار تھے، ان کے کونے (کارنر) کی ٹیم نے رنگ میں تولیہ پھینک دیا، جس پر ریفری نے فوری طور پر فائٹ روک کر فلپ ہرگووچ کو ٹیکنیکل ناک آؤٹ کی بنیاد پر فاتح قرار دے دیا۔

فائٹ کے اختتام پر شدید تھکن اور ٹانگ پر چوٹ لگنے کے باعث موسس اٹاؤما کو سٹریچر پر رنگ سے باہر لے جایا گیا اور احتیاطی تدابیر کے طور پر طبی معائنے کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ان کے معروف پروموٹر فرینک وارن نے تصدیق کی کہ اٹاؤما کی صحت کو یقینی بنانے اور ٹانگ کی چوٹ کے معائنے کے لیے انہیں ہسپتال پہنچایا گیا ہے۔

باکسنگ کے ماہرین کے مطابق اس شکست کے باوجود موسس اٹاؤما کی صلاحیتوں پر کوئی سوالیہ نشان نہیں لگا ہے، بلکہ اس مقابلے نے یہ واضح کر دیا کہ ایک باصلاحیت فائٹر ہونے اور 12 راؤنڈز کی عالمی ٹائٹل فائٹ کے لیے درکار جسمانی فٹنس، تجربے اور حکمتِ عملی کے درمیان کتنا بڑا فرق ہوتا ہے۔ موسس اٹاؤما نے اپنی رفتار اور تکنیک سے ثابت کیا کہ وہ مستقبل کے ہیوی ویٹ ڈویژن کے سپر سٹار ہیں، تاہم فلپ ہرگووچ کے خلاف یہ فائٹ ان کے کیریئر کے لیے ایک انتہائی اہم اور سبق آموز پیش رفت ثابت ہوگی۔

نیپال میں سیلاب سے ہلاکتیں 734 ہو گئیں: 2,400 سے زائد افراد لاپتہ، 2,498 شہریوں کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا

محمود احمد, August 30,2026

کھٹمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

جنوبی ایشیائی ملک نیپال میں تباہ کن سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے (لینڈ سلائیڈنگ) کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ نیپال کے ‘نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی’ کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، اس قدرتی آفت کے باعث جاں بحق ہونے والے شہریوں کی کل تعداد بڑھ کر 734 ہو گئی ہے، جبکہ 2,400 سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن جاری ہے۔

ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام نے بتایا کہ شدید متاثرہ اور کٹے ہوئے علاقوں سے ریسکیو ٹیموں نے اب تک 2,498 افراد کو بحفاظت نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ، سیلابی ریلوں اور ملبے کی زد میں آ کر 219 افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں مختلف فیلڈ ہسپتالوں اور طبی مراکز میں علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

نیپال کی دفاعی و پولیس فورسز اور امدادی ادارے متاثرہ علاقوں میں لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق، تباہ شدہ سڑکوں اور پلوں کے باعث دور دراز دیہات تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، تاہم ریسکیو ٹیمیں ہیلی کاپٹرز اور سائنسی آلات کی مدد سے آپریشن کو تیز تر بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

سعودی عرب کے صوبے نجران سے 18 لاکھ برس قدیم انسانی آبادی کے تاریخی آثار دریافت

کاشف عباسی , August 30,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

سعودی عرب کے جنوبی صوبے نجران کے تاریخی علاقے ‘شعب دحضہ’ سے تقریباً 18 لاکھ (1.8 ملین) برس قدیم انسانی آبادی کے نادر اور انتہائی اہم آثارِ قدیمہ دریافت ہوئے ہیں۔ سعودی ہیریٹیج کمیشن نے ان دریافت ہونے والے آثار کو جنوبی عرب کے خطے میں انسانوں کی ابتدائی آبادی اور براعظموں کے درمیان ان کی تاریخی ہجرت کے ابتدائی ادوار کا ایک نہایت اہم اور مستند سائنسی ثبوت قرار دیا ہے۔ کمیشن کے مطابق یہاں سے ملنے والے پتھر کے اوزار اور دیگر شواہد ابتدائی حجری دور کے ہیں، جن کی قدامت 12 لاکھ سے 18 لاکھ سال پرانی بتائی گئی ہے۔

سعودی ہیریٹیج کمیشن اور ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی تفصیلات کے مطابق، سنہ 1980ء میں وادی کے علاقے میں کیے جانے والے ایک ابتدائي سروے کے دوران ایک بلند سطح سے چکم دار اور سخت ‘کوارٹزائٹ’ کے پتھروں سے بنے 34 اوزاروں کا ایک قدیم مجموعہ حاصل ہوا تھا۔ ان اوزاروں میں مختلف نوعیت کے کٹر، کھرچنی، تیز دھار بلیڈ اور ہتھوڑے شامل ہیں، جنہیں اس دور کا قدیم انسان شکار کیے گئے جانوروں کا گوشت کاٹنے، ان کی ہڈیاں توڑنے، اور کھال اتار کر لباس یا عارضی پناہ گاہ بنانے جیسے روزمرہ کاموں کے لیے انتہائی مہارت سے استعمال کرتا تھا۔

سعودی ہیریٹیج کمیشن کے شعبہ آثارِ قدیمہ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر العتیبی نے اس غیر معمولی دریافت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شعب دحضہ کا یہ مقام جزیرہ نمائے عرب میں انسانی موجودگی، آبادی کی ابتدا اور اس کے ارتقائی دور کے بارے میں تاریخ دانوں کو اہم اور نئی سائنسی معلومات فراہم کرتا ہے۔ اسی حوالے سے ‘نجران سوسائٹی فار ہسٹری اینڈ آرکیالوجی’ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ دریافت ہونے والے اوزار اور ہتھیار اس بات کا روشن ثبوت ہیں کہ لاکھوں سال پہلے اس خطے میں رہنے والا قدیم انسان مقامی قدرتی وسائل کو اپنے مقصد کے لیے ڈھالنے میں بے پناہ مہارت، بصیرت اور ذہانت رکھتا تھا۔

ریو پارٹی کے قریب فائرنگ کے بعد سیکورٹی فورسز کا علاقے میں وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن، فوج کے ہیلی کاپٹرز اور بکتر بند گاڑیاں بھی کارروائی میں شامل

محمود احمد, August 30,2026

آؤراؤ/زیورخ (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

سوئٹزرلینڈ کے شمالی علاقے آؤراؤ میں ایک میوزک تقریب کے دوران رات گئے اچانک فائرنگ کا ہولناک واقعہ پیش آیا ہے، جس کے نتیجے میں ایک شخص موقع پر ہلاک جبکہ پانچ افراد شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ واقعہ کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ مقامی پولیس اور سیکورٹی اداروں نے فرار ہونے والے نامعلوم مسلح حملہ آور کی گرفتاری کے لیے وسیع پیمانے پر آپریشن شروع کر دیا ہے۔ آؤرگاؤ کینٹونل پولیس کی جانب سے جاری کردہ ایک ہنگامی بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ نامعلوم ملزم کی تلاش اور اس کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن تیزی سے جاری ہے۔

پولیس ترجمان کے مطابق فائرنگ کے بنیادی محرکات اور واقعے کے درست اور حتمی حالات فی الحال واضح نہیں ہو سکے ہیں اور تفتیشی ٹیمیں تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہیں۔ سوئس میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے پولیس حکام نے کہا کہ فائرنگ کا یہ ہولناک واقعہ آؤراؤ کے علاقے شاخن میں گھوڑوں کی دوڑ کے میدان کے قریب پیش آیا، جو سوئٹزرلینڈ کے معروف شہر زیورخ سے تقریباً 46 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔ اس مقام پر ہفتے کی رات سے شروع ہونے والی ایک ’ریو‘ پارٹیک منعقد کی جا رہی تھی جو اتوار کی صبح تک جاری رہنا تھی۔

واقعے کے فوراً بعد سیکورٹی فورسز نے گھوڑوں کی دوڑ کے میدان، شہر کے سوئمنگ پول اور ملحقہ کھیل کے میدان کے اطراف کے پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر سیل کر دیا ہے اور عام شہریوں کو حفاظتی تدابیر کے تحت وہاں جانے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ پولیس کے مطابق احتیاطی تدابیر اور ملزم کے فرار کو روکنے کے لیے آؤراؤ شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر بھی پولیس کی بھاری نفری اور ناظرین تعینات کر دیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی پولیس انتظامیہ نے واقعے کے وقت موجود عینی شاہدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے موبائل فونز سے بنائی گئی تصاویر اور ویڈیوز تفتیش کی پیش رفت کے لیے حکام کے ساتھ شیئر کریں۔

اتوار کی صبح سامنے آنے والی المناک تصاویر اور مناظر میں علاقے میں پولیس، ایمبولینسز اور سیکورٹی اداروں کی بھاری نفری کو پیش رفت کرتے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ ایک بکتر بند گاڑی کے ذریعے مرکزی سڑک کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ سوئس نشریاتی ادارے ایس آر ایف کے مطابق پولیس اور فائر بریگیڈ کے اہلکاروں کے ساتھ ساتھ علاقائی ڈیزاسٹر رسپانس یونٹ کو بھی ہنگامی کارروائی میں شامل کر لیا گیا ہے، جبکہ علی الصبح سوئس فوج کے ایک ہیلی کاپٹر نے بھی مفرور ملزم کی نشاندہی کے لیے علاقے کا فضائی جائزہ لیا۔

بین الاقوامی فیڈریشن کے سربراہ ڈیوڈ فشر کا متاثرہ علاقوں کا جائزہ، ریڈ کراس کا عالمی امدادی نیٹ ورک متحرک، ہنگامی صورتحال کے پیش نظر امدادی کارروائیاں تیز کرنے کا اعلان

محمود احمد, August 29,2026

کھٹمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 29 اگست 2026ء

جنوبی ایشیائی ملک نیپال میں بدھ کے روز آنے والے قیامت خیز سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد اب ایک اور ممکنہ سیلابی ریلے کے شدید اور سنگین خطرات نے جنم لے لیا ہے، جس پر بین الاقوامی امدادی اداروں اور ریسکیو تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز کی بین الاقوامی فیڈریشن کے سربراہ ڈیوڈ فشر نے نیپال کی موجودہ نازک صورتحال اور موسمیاتی خطرات پر بات کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ان کا ادارہ ملک میں کسی بھی وقت دوبارہ آنے والے دوسرے سیلاب کے خطرے کے حوالے سے انتہائی فکر مند ہے اور تمام ٹیموں کو اعلیٰ الرٹ پر رکھ دیا گیا ہے۔

جمعی کے روز دارالحکومت کھٹمنڈو میں بین الاقوامی پریس کے نمائندوں اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈیوڈ فشر نے متاثرہ علاقوں کے زمینی حقائق اور اعداد و شمار سے آگاہ کیا۔ ان کے فراہم کردہ مستند ڈیٹا کے مطابق، بدھ کے روز گلیشیئر اور شدید بارشوں کے بعد آنے والی ہولناک قدرتی تباہی سے اب تک نیپال کے مختلف اضلاع میں تقریباً 93 ہزار سے زائد افراد براہِ راست اور شدید طور پر متاثر ہو چکے ہیں۔ ان متاثرین میں سے ہزاروں خاندان بے گھر ہو چکے ہیں اور کھلے آسمان تلے بنیادی انسانی ضروریات، بشمول ادویات، خوراک اور پینے کے صاف پانی سے محروم زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

اس ایمرجنسی اور انسانی بحران سے فوری طور پر نمٹنے کے لیے ریڈ کریسنٹ اور ریڈ کراس نے ہنگامی بنیادوں پر بین الاقوامی عطیہ دہندگان، این جی اوز اور عالمی برادری سے تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ سوئس فرانک —جو کہ امریکی ڈالر میں تقریباً 3 کروڑ 10 لاکھ ڈالر بنتے ہیں—فراہم کرنے کی باقاعدہ اپیل جاری کر دی ہے۔ ریڈ کریسنٹ کا کہنا ہے کہ اس خطیر رقم کا بنیادی اور اولین مقصد متاثرین کے لیے فوری جان بچانے والی ہنگامی امدادی کارروائیاں، عارضی پناہ گاہوں کا قیام، پینے کے صاف پانی کی فراہمی، اور ممکنہ دوسرے سیلاب کے پیشِ نظر پیشگی دفاعی اقدامات کو ممکن بنانا ہے۔

ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ فیڈریشن کی جانب سے جاری کردہ ایک اہم رسمی اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ نیپال میں درپیش ہنگامی صورتحال کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے ادارے کے تمام عالمی امدادی نیٹ ورک کو فوری طور پر متحرک کر دیا گیا ہے۔ عالمی ٹیمیں سامانِ زیست اور طبی امداد کے ہمراہ نیپال کے دور دراز اور کٹے ہوئے علاقوں میں پہنچ رہی ہیں۔ اعلامیے میں زور دیا گیا ہے کہ اگر دوسرے ممکنہ سیلاب کا خطرہ حقیقت بنتا ہے تو اس کے اثرات پہلے سے شدید متاثرہ 93 ہزار سے زائد آبادی کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں، جس کے لیے دنیا کو بلا تاخیر مالی و لاجسٹک مدد فراہم کرنا ہوگی۔

وینزویلا اور امریکہ کے مابین تاریخی تیل معاہدہ: عبوری صدر ڈیلسی رودریگیز کی توثیق، 100 ارب ڈالر سے زائد کی غیر ملکی سرمایہ کاری اور 209 ارب ڈالر ٹیکس آمدن کی پیش گوئی

کاشف عباسی , August 29,2026

کاراکاس/واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 29 اگست 2026ء

وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی رودریگیز نے ریاستہائے متحدہ امریکہ کے ساتھ طے پانے والے انتہائی اہم اور کثیر ارب ڈالر کے تیل کے معاہدے کی باضابطہ توثیق کرتے ہوئے اسے اپنے ملک کے لیے ایک ’تاریخی معاہدہ‘ قرار دیا ہے۔ وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس میں میڈیا اور حکام سے گفتگو کرتے ہوئے ڈیلسی رودریگیز نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ اس پیش رفت سے طویل عرصے سے معاشی زوال، اقتصادی پابندیوں اور مشکلات کا شکار وینزویلا کی قومی معیشت کی فوری بحالی میں بے مثال اور تاریخی پیش رفت متوقع ہے۔ ان کے فراہم کردہ محتاط اعداد و شمار کے مطابق، اس بین الاقوامی منصوبے کے ذریعے وینزویلا کے توانائی کے شعبے میں 100 ارب ڈالر سے زائد کی براہِ راست غیر ملکی نجی سرمایہ کاری آئے گی، جبکہ ملکی خزانے کو آئندہ سالوں میں 209 ارب ڈالر سے زیادہ کی ٹیکس آمدن حاصل ہونے کا قوی امکان ہے۔

عالمی توانائی بحران، ایندھن کی بلند قیمتیں اور امریکی سیاسی منظرنامہ

یہ غیر معمولی اور اہم معاہدہ ایسے نازک وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک طرف ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سنگین ملٹری کشیدگی اور جنگ کے باعث عالمی منڈیوں میں خام تیل کی رسد شدید دباؤ کا شکار ہو چکی ہے، جس سے دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ ہوا ہے۔ دوسری طرف، امریکہ میں نومبر کے وسط مدتی \ انتخابات قریب آ رہے ہیں اور پیٹرول کی بلند ہوتی ہوئی قیمتیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک بڑا سیاسی و معاشی چیلنج بنی ہوئی ہیں۔ اس تناظر میں وینزویلا جیسے وسیع ذخائر رکھنے والے ملک کا امریکی منڈیوں اور کمپنیوں کے لیے کھلنا عالمی اور امریکی دونوں سطحوں پر ایندھن کے بحران کو قابو کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

صدر ٹرمپ اور مارکو روبیو کا مؤقف: تاریخ کا سب سے بڑا تیل کا معاہدہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل اس منصوبے کے خد و خال پر بات کرتے ہوئے کھلے عام یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ یہ باہمی سمجھوتہ واشنگٹن اور امریکی کمپنیوں کو وینزویلا کے 65 ارب بیرل کے ثابت شدہ تیل ذخائر تک نمایاں اور مستقیم رسائی فراہم کرے گا۔ صدر ٹرمپ نے اس پیش رفت کو ’دنیا کی پوری تاریخ کا سب سے بڑا تیل کا معاہدہ‘ بھی قرار دیا تھا۔ اسی حوالے سے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی اپنے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ اس معاہدے کے حتمی نفاذ کے نتیجے میں وینزویلا کی ایندھن انڈسٹری میں تقریباً 100 ارب ڈالر کی نجی سرمایہ کاری متوقع ہے، جو طویل عرصے سے زوال پذیر معیشت کی دوبارہ تعمیرِ نو اور وینزویلا کی توانائی کی صنعت کو جدید بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

آئل فیلڈز کی ملکیت، قانونی سوالات اور نجی کمپنیوں کا کردار

اگرچہ دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت نے اس معاہدے کی افادیت کو اجاگر کیا ہے، تاہم وینزویلا کے تیل کے ذخائر پر کنٹرول، انتظامی اختیارات اور ملکیت کی حتمی منتقلی سے متعلق تفصیلات تاحال مکمل طور پر واضح نہیں کی گئی ہیں۔ یونیورسٹی آف ٹیکساس انرجی انسٹی ٹیوٹ کے سینیئر ریسرچ فیلو جارج پنیون کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ معاہدے پر تکنیکی نقطہ نظر سے کئی اہم اور قانونی سوالات ابھی جواب طلب ہیں، جن میں بنیادی سوال یہ ہے کہ وینزویلا کے قومی ذخائر کی ملکیت کس قانونی طریقہ کار، شرائط اور کس ٹائم فریم کے تحت امریکی یا نجی کمپنیوں کو منتقل کی جائے گی۔

امریکی نیوز ویب سائٹ ‘ایگزیوس’ کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق، امریکہ اور وینزویلا کی ٹیمیں اس وقت وینزویلا کے 12 مختلف اور اہم آئل فیلڈز سے متعلق حتمی مذاکرات کر رہی ہیں، جن میں مجموعی طور پر تقریباً 90 ارب بیرل ثابت شدہ خام تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ متعدد عالمی اور امریکی نجی کمپنیاں ان وسائل سے فائدہ اٹھانے، نئے کنویں کھودنے اور پیداوار کو چند ماہ میں گنا بڑھانے کے لیے وینزویلا میں فوری طور پر اپنا انفراسٹرکچر قائم کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا دورہ، امیگریشن عمل کا جائزہ، سسٹم میں خرابی کا فوری نوٹس اور متبادل انتظامات کا حکم

محمود احمد, August 29,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 29 اگست 2026ء

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کراچی میں واقع جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا ایک اہم اور تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے بین الاقوامی پروازوں کی روانگی اور آمد کے کاؤنٹرز پر امیگریشن کے مجموعی عمل، مسافروں کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور عملے کی کارکردگی کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ اپنے اس اچانک اور ہنگامی دورے کے دوران وزیر داخلہ نے بیرونی ممالک سفر کرنے والے عام مسافروں اور خاندانوں کے پاس جا کر ان سے خود ملاقات کی، اور ان سے امیگریشن پراسیس میں درپیش سہولیات، متوقع تاخیر اور عملے کے رویے سے متعلق تفصیلات دریافت کیں، جس پر مسافروں نے اپنے خدشات اور خیالات کا اظہار کیا۔

وزارتِ داخلہ کی جانب سے ہفتے کے روز اسلام آباد اور کراچی سے جاری ہونے والے ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے دورے کے عین دوران ایئرپورٹ کا مرکزی امیگریشن سسٹم اچانک تکنیکی خرابی کے باعث ڈاؤن ہو گیا۔ امیگریشن سسٹم بند ہوتے ہی لائنوں میں لگے مسافروں کی روانگی کا عمل سست روی کا شکار ہوا، جس پر وزیر داخلہ نے معاملے کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے تاخیر کا سخت نوٹس لیا اور فوری طور پر موقع پر سے ہی متعلقہ اعلیٰ حکام اور آئی ٹی ماہرین سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔ انہوں نے حکام کو سخت احکامات جاری کرتے ہوئے امیگریشن سسٹم میں پیدا ہونے والی اس تکنیکی خرابی اور نیٹ ورک سست روی کو فوری طور پر دور کرنے کی ہدایت کی۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے امیگریشن حکام اور ایئرپورٹ انتظامیہ کو واضح الفاظ میں ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ “سسٹم ڈاؤن ہونے یا کسی بھی غیر متوقع تکنیکی خرابی کی صورت میں ہنگامی بنیادوں پر متبادل طریقہ کار اور مینوئل پروسیسنگ کا بندوبست ہر وقت تیار رکھا جائے، کیونکہ بین الاقوامی مسافروں کی سہولت کے پیشِ نظر امیگریشن پراسیس کسی بھی صورت اور کسی بھی قیمت پر رکنا نہیں چاہیے”۔ انہوں نے انتظامیہ کو واضح کیا کہ مسافروں کا وقت اور ان کی عزتِ نفس نہایت محترم ہے اور سسٹم کی بحالی کے کام کو جنگی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔

دورے کے اختتام پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے امیگریشن کنٹرول اور فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے افسران کو ملک گیر سطح پر جعلسازی روکنے اور جعلی دستاویزات پر بیرونِ ملک سفر کرنے کی کوشش کرنے والے گینگ اور مسافروں کے خلاف فی الفور سخت ترین قانونی ایکشن لینے کا حکم دیا۔ محسن نقوی نے دو ٹوک موقف اپناتے ہوئے کہا کہ نامکمل، مشکوک اور بغیر تصدیق شدہ پاسپورٹ یا ویزا دستاویزات کے حامل کسی بھی فرد کو کسی صورت ایئرپورٹ سے سفر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اس سلسلے میں سیکیورٹی اور سکیننگ پر کوئی بھی سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔

سفیر عاصم افتخار احمد کا ہیٹی کی قیادت میں سکیورٹی کاوشوں کی حمایت اور دیرپا امن کے لیے عالمی برادری سے تعاون کا مطالبہ

محمود احمد, August 29,2026

اقوام متحدہ، نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اگست 2026ء

پاکستان نے کیریبین ملک ہیٹی کے علاقے کینسکوف میں مسلح گینگ کے حالیہ دلخراش اور سفاکانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہیٹی میں ہیٹی کی اپنی قیادت میں جاری سکیورٹی کاوشوں کی بھرپور معاونت کرے۔ پاکستان نے زور دیا ہے کہ گینگ سپریشن فورس کی بروقت، مؤثر اور مکمل تعیناتی کے لیے درپیش تمام انتظامی، مالی اور لاجسٹک رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کیا جائے تاکہ متاثرہ عوام کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

ہیٹی کی کی تشویشناک سکیورٹی صورتحال کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک ہنگامی اور اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ حالیہ ہولناک حملے ہیٹی کے عوام کو درپیش طویل عرصے سے جاری، ابتر اور نہایت تشویشناک سکیورٹی صورتِ حال کی ایک سنگین اور تلخ یاد دہانی ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں کی بین الاقوامی کوششوں کے باوجود وہاں کے حالات میں کوئی خاطر خواہ یا پائیدار بہتری نہیں آ سکی، جس سے عام شہریوں کی روزمرہ زندگی مکمل طور پر معطل ہو کر رہ گئی ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے سامنے ہیٹی کے معصوم شہریوں کی تکالیف کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ “حالیہ واقعہ ہیٹی کے عوام کو درپیش طویل اور سنگین سکیورٹی صورتِ حال کی ایک تلخ اور واضح یاد دہانی ہے۔ گینگ کی جانب سے شہریوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنا کر کیے جانے والے یہ ہولناک اور پرتشدد حملے خواتین اور معصوم بچوں کو غیر متناسب طور پر اور سب سے زیادہ متاثر کر رہے ہیں، جس کا عالمی برادری کو فوری نوٹس لینا ہوگا”۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے گزشتہ برس ہیٹی کے حکام کی مدد کے لیے منظور کی جانے والی \ کی تعیناتی کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستانی مندوب نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ اس فورس کی بلا تاخیر اور مکمل تعیناتی کے ساتھ ساتھ ہیٹی میں غیر قانونی اسلحے، بارود اور ہتھیاروں کی ترسیل کو روکنے کے لیے عالمی سطح پر انتہائی مربوط اور مؤثر اقدامات اٹھانا بے حد ناگزیر ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ غیر قانونی اسلحے کی رسد کا خاتمہ کیے بغیر گینگ تشدد کی مؤثر روک تھام اور عوام میں سکیورٹی و تحفظ کا بنیادی احساس بحال کرنا ممکن نہیں ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے اس مشکل اور نازک وقت میں ہیٹی کے عوام اور حکومت کی معاونت کے لیے عالمی برادری کے باہمی تعاون کو مزید مضبوط اور وسیع بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہیٹی کے بحران کے ایک پائیدار، دیرپا اور جامع حل کے لیے وہاں جاری عدم استحکام کے بنیادی، کثیرالجہتی اور تاریخی اسباب سے نمٹنا انتہائی ضروری ہے، اور اس مقصد کے حصول کے لیے کوئی بھی ایسا لائحہ عمل تبھی کامیاب ہو سکتا ہے جو ‘ہیٹی کی قیادت میں اور ہیٹی کی ملکیت’ پر مبنی ہو۔

پاکستان کے مستقل مندوب نے اپنے خطاب کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ “ہم کی عملی کارروائیوں کے لیے عالمی معاونت کو متحرک کرنے اور ہیٹی میں جاری طویل المدت تشدد کی بنیادی وجوہات کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے جامع تخفیفِ اسلحہ، عدم مسلح کاری اور بحالیِ نو کی حکمتِ عملی کو آگے بڑھانے کے سلسلے میں شراکت داروں کے ‘اسٹینڈنگ گروپ’ کی کاوشوں اور اقدامات کا کھلے دل سے خیرمقدم کرتے ہیں”۔

بیان کے اختتام پر پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے ہیٹی کے مظلوم عوام کے ساتھ پاکستان کی مکمل اور غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کیا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پاکستان ہیٹی میں دیرپا امن کی بحالی، سکیورٹی کے قیام، استحکام، تعمیرِ نو، اور ترقی و خوشحالی کے اہداف کے حصول کے لیے بین الاقوامی برادری، اقوام متحدہ اور ہیٹی کی قیادت کے ساتھ مل کر اپنا مثبت، فعال اور تعمیری کردار مسلسل ادا کرتا رہے گا۔

ملک کی 5 بڑی آئل ریفائنریوں میں 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا بریک تھرو: ریفائنری اپ گریڈیشن پالیسی پر علی پرویز ملک کی اہم پیش رفت

کاشف عباسی , August 28,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک نے پاکستان کی پانچ بڑی آئل ریفائنریوں—پاک عرب ریفائنری لمیٹڈ، پاکستان ریفائنری لمیٹڈ ، نیشنل ریفائنری لمیٹڈ ، سائنرجیکو اور اٹک ریفائنری لمیٹڈ کی اعلیٰ انتظامیہ سے الگ الگ اور اہم ملاقاتیں کی ہیں۔ ان ملاقاتوں میں براؤن فیلڈ ریفائنری اپ گریڈیشن پالیسی پر عملدرآمد، ریفائنریوں کی مالی و آپریشنل کارکردگی اور ملکی توانائی کے تحفظ کو مستحکم بنانے کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ تمام پانچوں ریفائنریوں کی انتظامیہ نے پالیسی کے تحت اپ گریڈیشن معاہدوں پر دستخط کرنے کے لیے اپنی مکمل آمادگی کا اعادہ کر دیا ہے۔ ان معاہدوں پر ستمبر 2026ء کے آغاز میں باضابطہ دستخط متوقع ہیں، جس کے نتیجے میں پاکستان کے ریفائننگ سیکٹر میں تقریباً 6 ارب ڈالر کی خطیر غیر ملکی و ملکی سرمایہ کاری آئے گی۔

وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے اس پیش رفت کو ملکی توانائی کے تحفظ کے لیے میل پتھر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریفائنریوں کی جدید کاری سے پاکستان میں یورو فائیو معیار کی پٹرولیم مصنوعات کی مقامی پیداوار ممکن ہو سکے گی۔ اس اقدام سے پٹرول اور ڈیزل کی مہنگی درآمدات پر پاکستان کا انحصار نمایاں حد تک کم ہوگا اور مقامی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی کمی اور استحکام آئے گا۔ وفاقی وزیر نے پارکو اور پی آر ایل کی جانب سے حال ہی میں آبنائے ہرمز کے بحران کے دوران بلا تعطل پٹرولیم سپلائی کا سلسہ برقرار رکھنے پر ان کی آپریشنل کارکردگی کو سراہا اور حب میں مجوزہ اسٹریٹجک ‘آئل سٹی’ اور اسٹوریج کمپلیکس منصوبے کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا، جو ملک کی ایندھن کی ذخیرہ اندوزی اور سپلائی چین کو پائیدار بنائے گا۔

ملاقاتوں کے دوران اٹک ریفائنری، سائنرجیکو اور نیشنل ریفائنری کے منیجنگ ڈائریکٹرز نے پالیسی کے لیے اپنی مطلوبہ تیاریاں مکمل ہونے کی تصدیق کی اور پٹرولیم ڈویژن کی اصلاحاتی کوششوں کو سراہا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وفاقی حکومت ریفائننگ انڈسٹری کو درپیش قانونی اور آپریشنل مسائل کے حل اور 6 ارب ڈالر کے اس میگا اپ گریڈیشن پروگرام پر بروقت عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن سہولت کاری اور تعاون فراہم کرتی رہے گی۔

لاہور میں زیرِ زمین پانی کی کمی کا توڑ: 31 ارب روپے کی لاگت سے نہری پانی کو صاف کرنے کا سرفیس واٹر منصوبہ تیار

منصور احمد, August 28,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اگست 2026ء

پنجاب حکومت نے صوبائی دارالحکومت لاہور میں پانی کی شدید قلت اور زیرِ زمین آبی ذخائر میں مسلسل کمی پر قابو پانے کے لیے 31 ارب روپے کا ایک عظیم الشان سرفیس واٹر ٹریٹمنٹ منصوبہ تیار کیا ہے، جس کے تحت شہر کا پینے کے پانی کے لیے زیرِ زمین پانی پر 99 فیصد انحصار کم کر کے سطحی پانی کی طرف منتقل کیا جائے گا۔ منصوبے کے پہلے مرحلے کے تحت بی آر بی کینال سے روزانہ 54 ملین گیلن پانی حاصل کر کے اسے جدید پلانٹ کے ذریعے صاف کر کے شہریوں کو پینے کے لیے فراہم کیا جائے گا۔ واٹر اینڈ سینی ٹیشن ایجنسی (واسا) لاہور اس وقت شہر بھر میں 594 گہرے ٹیوب ویل چلا رہی ہے جن کے ذریعے روزانہ 329 ملین گیلن زیرِ زمین پانی نکال کر فراہم کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے شہر میں زیرِ زمین پانی کی سطح سالانہ تین سے پانچ فٹ تک تیزی سے گر رہی ہے۔ واسا حکام کے مطابق سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی نے منصوبے کے PC-I کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد اب حتمی منظوری کے لیے دستاویزات قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) کو پیش کی جائیں گی۔

واسا لاہور کے وائس چیئرمین اور رکن پنجاب اسمبلی چوہدری شہباز احمد نے بتایا کہ حتمی منظوری ملتے ہی منصوبے پر عملی کام کا آغاز کر دیا جائے گا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ بھینی روڈ کے قریب قائم کیے جانے والے سرفیس واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کی ابتدائی صلاحیت 100 کیوسک یعنی 54 ملین گیلن یومیہ ہوگی، جسے بعد میں مرحلہ وار بڑھا کر 1,000 کیوسک یعنی 540 ملین گیلن یومیہ تک توسیع دی جائے گی۔ یہ پراجیکٹ ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی مالی معاونت سے جاری 23 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے ‘لاہور واٹر اینڈ ویسٹ واٹر مینجمنٹ پراجیکٹ’ کا ایک بنیادی حصہ ہے، جس میں لاریچ کالونی سے گلشنِ راوی تک ٹرینچ لیس ٹیکنالوجی کے ذریعے جدید ٹرنک سیور بچھانا بھی شامل ہے تاکہ وسطی لاہور میں برساتی نالوں اور سیوریج پر بوجھ کم کیا جا سکے۔

ایریگیشن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ پنجاب کے ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام ذاکر حسن سیال نے اس منصوبے کو لاہور کے پائیدار مستقبل کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی اور اسلام آباد کی طرح لاہور کو بھی سطحی پانی کے منصوبوں پر منتقل ہونا ہوگا کیونکہ ہمارا زیرِ زمین واٹر بجٹ اس وقت منفی ہو چکا ہے جہاں ری چارجنگ کی نسبت پانی نکالنے کی شرح کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ نہری پانی کی صفائی اور سپلائی سے جہاں واٹر ٹیبل پر دباؤ کم ہوگا، وہی واسا کو بارش کا پانی ذخیرہ کرنے کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے تاکہ پارکوں اور شجرکاری کے لیے زیرِ زمین پانی کا بلاجواز استعمال روکا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ اس پر ابتدائی سرمایہ کاری بڑی ہے، تاہم لاہور کے پینے کے پانی کی پائیدار فراہمی کے لیے اس کے طویل مدتی فوائد کہیں زیادہ ہوں گے۔

شاہراہوں پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا نفاذ: ایکسل لوڈ کی خلاف ورزی پر فیکٹریوں کو جرمانے اور قوانین میں ایک ہفتے میں ترمیم کا حکم

منصور احمد, August 28,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان نے ملک بھر میں ایکسل لوڈ کنٹرول رجیم کے مستقل اور پائیدار حل کے لیے حائل تمام قانونی اور آپریشنل رکاوٹیں دور کرنے کی غرض سے این ایچ اے (نیشنل ہائی وے اتھارٹی) کے قانونی فریم ورک میں ایک ہفتے کے اندر ضروری ترامیم لانے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔ اسلام آباد میں ایکسل لوڈ کنٹرول رجیم سے متعلق ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ قومی شاہراہوں اور موٹرویز کو زیادہ وزن لادنے کی وجہ سے ہونے والی تباہی سے بچانے کے لیے فیکٹریوں پر بھاری جرمانوں کا نفاذ کیا جائے گا، جبکہ جدید ترین کیمروں اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے مکمل خودکار (آٹومیٹڈ) نظام نافذ کیا جائے گا۔ اس اجلاس میں وفاقی سیکرٹری مواصلات، چیئرمین این ایچ اے، آئی جی موٹروے پولیس، ڈی جی این ایل سی اور ڈی جی ایف ڈبلیو او سمیت تمام متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور روڈ انفراسٹرکچر کی تحفظ سے متعلق بریفنگ پیش کی۔

وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے واضح کیا کہ ٹرکوں پر حد سے زیادہ سامان اور وزن لادنے کا سبب بننے والی صنعتی فیکٹریوں کی باقاعدہ نشاندہی کر کے اب ان پر بھی سخت قانونی کارروائی اور جرمانے عائد کیے جائیں گے۔ انہوں نے ٹرانسپورٹرز کو گاڑیوں کے باڈی سٹرکچر پر واضح رہنمائی فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ٹرکوں اور مال بردار گاڑیوں پر ایسے غیر ضروری و بھاری آرائشی سامان کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کی جائے جو گاڑی کا بنیادی وزن بڑھاتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ملک بھر کے تمام وے سٹیشنز کو 100 فیصد خودکار بنانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ تمام مال بردار گاڑیوں کا ان کاٹا پوائنٹس سے گزرنا لازمی ہوگا تاکہ گاڑیوں کی قطاروں اور ٹرانسپورٹرز کے وقت کے ضیاع کو روکا جا سکے، جبکہ موٹرویز کی طرز پر جی ٹی روڈز پر بھی نئے جدید وے سٹیشنز قائم کیے جائیں گے۔

اجلاس کے دوران وفاقی وزیر نے کراچی پورٹ پر این ایچ اے، این ایل سی اور ایف ڈبلیو او کو مشترکہ حکمتِ عملی اپنانے اور خلاف ورزی کرنے والی گاڑیوں کی آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور کیمروں کے ذریعے ٹریکنگ کا نظام بنانے کا حکم دیا۔ بریفنگ میں حکام نے انکشاف کیا کہ اسلام آباد کے قریب سنگجانی کے مقام پر بین الاقوامی معیار کا جدید ماڈل وے اسٹیشن جلد مکمل کر لیا جائے گا، جبکہ گزشتہ 6 ماہ میں ایکسل لوڈ کی 30 ہزار سے زائد سنگین خلاف ورزیاں سامنے آئی ہیں جن کے باعث قومی سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کو اربوں روپے کا شدید نقصان پہنچا۔ عبدالعلیم خان نے ہدایت کی کہ ہر منصوبہ آئندہ 20 سال کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر بنایا جائے اور اعلان کیا کہ وہ ایکسل لوڈ رجیم کے عملی نفاذ کا خود معائنہ کرنے کے لیے موٹرویز کے 10 مختلف پوائنٹس کا سرپرائز ہنگامی دورہ کریں گے۔

ایران اور عمان کا آبنائے ہرمز میں عارضی بحری راہداری کھولنے پر اتفاق: تہران کا اہم اعلان

منصور احمد, August 28,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اگست 2026ء

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی نے تہران میں ایک اہم اور خوش آئند اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان عالمی تجارتی اور بحری نقطہ نظر سے انتہائی اہم اور حساس گزرگاہ آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے ایک عارضی بحری راہداری کھولنے پر حتمی اتفاق ہو گیا ہے۔ ایرانی دفاعی و سکیورٹی قیادت کی جانب سے سامنے آنے والے اس بیان کو خطے میں بحری سفر، تیل کی ترسیل اور عالمی تجارت کو درپیش مشکلات و کشیدگی میں کمی کی جانب ایک انتہائی کلیدی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

میجر جنرل محسن رضائی کے مطابق ایران اور سلطنتِ عمان کی باہمی مشاورت اور سفارتی و سکیورٹی کاوشوں کے نتیجے میں قائم کی جانے والی یہ نئی بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کے بالکل وسط میں واقع ہوگی۔ اس مخصوص راہداری کے ذریعے مختلف ممالک کے تجارتی و مال بردار بحری جہازوں کی بحفاظت آمد و رفت ممکن بنائی جا سکے گی، جس سے عالمی منڈیوں کو تجارتی سامان اور توانائی کی رسد کو بلا تعطل برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے عارضی بحری راہداری کے باقاعدہ قیام کو آبنائے ہرمز جیسے دنیا کے انتہائی اہم سمندری راستے میں تجارتی جہاز رانی کو دوبارہ معمول پر لانے کی جانب ایک غیر معمولی اور اہم پیش رفت سے تعبیر کیا۔

اگرچہ ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری نے اس مفاہمت اور عارضی راہداری کے بنیادی فریم ورک کی تصدیق کر دی ہے، تاہم اس نئی بحری گزرگاہ کے عملی آغاز کی حتمی تاریخ، بحری جہازوں کے اس راستے کو استعمال کرنے کے مخصوص طریقے اور اس عارضی منصوبے کی کل مدت سے متعلق مزید تفصیلات فوری طور پر عام نہیں کی گئی ہیں۔ سفارتی و معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ تہران اور مسقط کے درمیان یہ اتفاقِ رائے خطے کی کشیدہ صورتحال میں توازن پیدا کرنے اور عالمی بحری راستوں کی تحفظ و سلامتی کو یقینی بنانے میں اہم میل پتھر ثابت ہوگا۔