قطری وزیرِ خارجہ کی تہران میں ایرانی ہم منصب سے ملاقات: پاکستان کے بعد قطر کا سفارتی تحرک تیز

کاشف عباسی , August 27,2026

تہران/دوحہ (نیوز اینڈ نیوز) — 27 اگست 2026ء

قطر کے وزیرِ خارجہ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے جمعرات کے روز ایران کے دارالحکومت تہران میں اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ایک اہم اور اعلیٰ سطحی ملاقات کی ہے۔ اگرچہ اس ملاقات کی باضابطہ اور تفصیلی جزیات فوری طور پر عام نہیں کی گئیں، تاہم خطے میں جاری کشیدگی اور سفارتی تحرک کے تناظر میں اسے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ قطری وزیرِ خارجہ کا یہ اہم دورہ پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورۂ تہران کے تمام تر مثبت نتائج اور دو روز بعد سامنے آیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں امن قائم کرنے کے لیے اہم مسلم ممالک متحرک ہو چکے ہیں۔ واضح رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کرنے اور ثالثی کا کردار ادا کرنے والے مرکزی ممالک میں قطر اور پاکستان سرفہرست شامل ہیں۔

اس دورے کے حوالے سے ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے گزشتہ روز اعلان کرتے ہوئے بتایا تھا کہ قطری وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اپنے دورۂ ایران کے دوران تہران کے اعلیٰ حکام کے ساتھ قطر کی جانب سے جاری ثالثی کی کوششوں، سیکیورٹی امور، کشیدگی میں کمی اور خطے میں ہونے والی حالیہ اہم سیاسی و سفارتی پیش رفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔ سفارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان اور قطر کا یکے بعد دیگرے تہران کے ساتھ یہ اعلیٰ سطحی رابطہ امریکہ اور ایران کے مابین درپیش جیو پولیٹیکل مسائل اور مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے جاری کوششوں کو آگے بڑھانے میں انتہائی کلیدی پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔

نیپال میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی دوسری لہر کا خطرہ، ہلاکتیں 332 ہو گئیں: ماہرین کی شدید تشویش

محمود احمد, August 27,2026

کھٹمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 27 اگست 2026ء

نیپال میں گلیشیئر انہدام سے آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد ماہرینِ ماحولیات نے مزید سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے شدید خطرات سے خبردار کیا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اس قدرتی آفت میں جاں بحق ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد بڑھ کر 332 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ متاثرہ علاقوں میں نیپالی فوج، پولیس اور مقامی امدادی ٹیموں کا سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ تریبھوون یونیورسٹی کے ‘سینٹر فار ڈیزاسٹر اسٹڈیز’ کے ڈائریکٹر بسنت راج ادھیکاری نے عالمی ذرائع ابلاغ کو انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ہمالیہ کے بالائی علاقوں کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر آنے والے 24 سے 48 گھنٹوں میں سیلاب کی دوسری اور تیسری تباہ کن لہروں کا خدشہ موجود ہے، جو نچلے علاقوں کو دوبارہ لپیٹ میں لے سکتی ہیں۔

ڈائریکٹر بسنت راج ادھیکاری نے بتایا کہ اگرچہ فی الوقت میدانی علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ رکا ہوا ہے، تاہم پہاڑی تودے اور چٹانیں کھسکنے (لینڈ سلائیڈنگ) کے شدید خطرات بدستور برقرار ہیں جس سے ندی نالوں کے راستے مسدود ہو کر مزید تباہی پھیلا سکتے ہیں۔ نیپالی ماہرین چین میں موجود سائنسدانوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ ہمالیہ کے خطے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کی مانیٹرنگ کی جا سکے۔ سائنسدانوں کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور گلوبل وارمنگ کے باعث پہاڑی خطوں کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے جس سے برف اور چٹانیں غیر مستحکم ہو کر اتنی بڑی تباہی کا سبب بنیں۔ دوسری جانب تباہ شدہ پلوں اور سڑکوں کے باعث امدادی ٹیموں کو متاثرین تک پہنچنے میں دشواری کا سامنا ہے۔

نیپال سیلاب پر پاکستان دفترِ خارجہ کا اظہارِ افسوس: صدر، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم کی جانب سے تعزیتی پیغامات

NEPAL-WEATHER-LANDSLIDE-FLOOD

منصور احمد, August 27,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 اگست 2026ء

پاکستان کے دفتر خارجہ نے نیپال اور تبت کے سرحدی علاقوں میں آنے والے حالیہ ہولناک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں ہونے والے قیمتی جانوں کے ضیاع، بڑے پیمانے پر ہلاکتوں اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی پر شدید رنج و غم اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرابی نے اسلام آباد میں اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران نیپالی عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نیپال میں بدھ کے روز آنے والے تباہ کن سیلاب کی وجہ سے جنم لینے والی انسانی صورتحال، ہلاکتوں اور مالی نقصان پر پاکستان کی حکومت اور عوام کو گہرا دکھ پہنچا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے صدر، وزیرِ اعظم اور نائب وزیرِ اعظم نے اپنے علیحدہ تعزیتی پیغامات کے ذریعے نیپالی حکومت، لواحقین اور متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس کٹھن اور مشکل وقت میں پوری پاکستانی قوم نیپال میں موجود اپنے بھائیوں اور بہنوں کے غم اور مشکلات میں برابر کی شریک ہے۔ پاکستان کی جانب سے اس قدرتی آفت کے تناظر میں نیپال کے ساتھ ہر ممکن تعزیت اور یکجہتی کے عزم کو دہرایا گیا ہے اور ریسکیو و ریلیف کی کوششوں کی کامرانی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا گیا ہے۔

چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی کمبوڈیا کے صدرِ سینیٹ سے ملاقات، دوسری آئی ایس سی کانفرنس میں عالمی امن پر زور

محمود احمد, August 27,2026

اسلام آباد/نوم پنہہ (نیوز اینڈ نیوز) — 27 اگست 2026ء

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے دوسری بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس کے موقع پر تمام شریک سپیکرز اور بین الاقوامی وفود کے ہمراہ کمبوڈیا کے سینیٹ کے صدر سامدیک موہا بورور تھپادی ہن سین سے اہم خیرسگالی ملاقات کی ہے۔ سینیٹ سیکرٹریٹ کے مطابق، ملاقات کے دوران چیئرمین سینیٹ نے کانفرنس کی شاندار میزبانی پر کمبوڈیا کی پارلیمنٹ اور سینیٹ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بین الپارلیمانی مکالمے اور پارلیمانی سفارت کاری کے فروغ کے لیے سامدیک ہن سین کی قیادت کو بھرپور سراہا۔ کانفرنس کے شرکاء اور عالمی پارلیمانی نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ موجودہ دور میں عالمی امن کی بحالی، مسلح تنازعات، معاشی غیر یقینی، دہشت گردی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے تبا ہ کن چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر پارلیمانی سفارت کاری اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری ناگزیر ہو چکی ہے۔

اپنے خطاب میں چیئرمین سینیٹ نے زور دیا کہ بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس کو ایک ایسا متحرک پلیٹ فارم بننا چاہیے جہاں دنیا بھر کی پارلیمانیں اتفاقِ رائے سے تنازعات کا پرامن حل تلاش کر سکیں۔ انہوں نے سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ پاکستان کے تزویراتی و دفاعی تعاون اور مشرقِ وسطیٰ کے بحران میں پاکستان کے تعمیری سفارتی کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب روایتی سفارت کاری محدود ہو جائے تو پارلیمانی رابطے بریک تھرو فراہم کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کمبوڈیا کے ماضی کے تنازعات سے امن و ترقی کی طرف سفر کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ مصالحت اور قومی یکجہتی ہی پائیدار ترقی کی واحد ضامن ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے عالمی برادری اور پارلیمانوں سے اپیل کی کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم “عزم سے عمل کی طرف، مکالمے سے عملی پیش رفت کی طرف اور وعدوں سے نتائج کی طرف” قدم بڑھائیں۔

نیپال اور تبت میں گلیشیئر پھٹنے سے خوفناک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ: ہلاکتیں 165 ہو گئیں، 826 افراد لاپتا

محمود احمد, August 27,2026

کھٹمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 27 اگست 2026ء

نیپال اور تبت کے سرحدی خطے میں گلیشیئر پھٹنے اور ملبے کا زبردست بہاؤ آنے کے باعث تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے قیامت خیز تباہی مچا دی ہے۔ نیپال کی ‘نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی’ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، اس قدرتی آفت کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 165 ہو گئی ہے، جبکہ 529 غیر ملکی سیاحوں سمیت مجموعی طور پر 826 افراد تاحال لاپتا ہیں جن کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر ہنگامی زمینی و فضائی ریسکیو آپریشنز جاری ہیں۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق یہ ہولناک سیلاب ایک گلیشیئر کے اچانک انہدام اور اس کے بعد تیزی سے بہنے والے ملبے کے باعث آیا، جس نے نشیبی علاقوں کی عمارتوں، پلوں اور راستوں کو تہس نہس کر کے رکھ دیا۔

تبت کی جانب بھی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ چین کے سرکاری نشریاتی ادارے ‘سی سی ٹی وی’ کے مطابق تبت کی گیرونگ کاؤنٹی میں لاپتا افراد کی تعداد 558 تک پہنچ گئی ہے جن میں 260 غیر ملکی شہری شامل ہیں، جبکہ وہاں 3 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ دوسری جانب ایک سیاحتی گروپ نے بتایا ہے کہ متاثرہ علاقے میں موجود 47 افراد، جن میں گائیڈز اور سیاح شامل ہیں، کا بھی کچھ پتہ نہیں چل رہا۔ نیپالی فوج نے ریسکیو اور ریلیف آپریشن کو تیز کرنے کے لیے 2,000 سے زائد مسلح اہلکار تعینات کر دیے ہیں جو ہیلی کاپٹروں اور جدید آلات کی مدد سے محصورین کو نکالنے میں مصروف ہیں۔ تاہم، مسلسل بارشوں، راستوں کی بندش اور پہاڑی تودے گرنے سے امدادی ٹیموں کو دور دراز کے تباہ شدہ علاقوں تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

جنوبی لبنان پر اسرائیلی جیٹس کی بمباری، علی طاہر کی پہاڑیوں اور نبطیہ کے علاقوں میں شدید دھماکے

محمود احمد, August 27,2026

بیروت (نیوز اینڈ نیوز) — 27 اگست 2026ء

جنوبی لبنان میں جاری سنگین کشیدگی کے دوران اسرائیلی جنگی طیاروں نے ایک بار پھر مختلف علاقوں پر شدید بمباری کی ہے، جس سے پورے خطے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی جیٹس نے جنوبی لبنان کے اہم اور حساس علاقے نبطیہ کے مشرقی نواح میں واقع علی طاہر کی پہاڑیوں کو دو مرحلوں میں ہدف بناتے ہوئے فضائی حملے کیے ہیں۔ بمباری کے نتیجے میں منٹوں میں علاقے میں مسلسل اور شدید ترین دھماکے ہوئے، جن کی گونج دور دور تک سنی گئی جبکہ نشانہ بننے والی پہاڑیوں اور آبادیوں سے دھوئیں کے سیاہ اور گہرے بادل فضا میں بلند ہوتے دیکھے گئے۔

سرکاری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے رات کی تاریکی میں بھی کارروائیاں جاری رکھیں اور مشرقی زوتار اور مفدون کے درمیان واقع علاقوں میں شدید شیلنگ اور بمباری کی۔ واضح رہے کہ علی طاہر کی پہاڑیاں جنوبی لبنان اور نبطیہ شہر کے قریب دفاعی و جیو سٹریٹجک لحاظ سے اہم علاقہ تصور کی جاتی ہیں، جہاں حالیہ عرصے میں اسرائیلی عسکری کارروائیوں اور حزب اللہ کی دفاعی سرگرمیوں میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ خطے میں جاری صورتحال انتہائی کشیدہ اور تشویشناک ہے، جبکہ تازہ فضائی حملوں سے مزید ہلاکتوں اور تباہی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

کاسا-1000 پاور پراجیکٹ: پاکستان میں کنورٹر اور الیکٹرو اسٹیشنز کا کام 99 فیصد مکمل، تجارتی آپریشنز مئی 2028ء میں شروع ہونے کا امکان

کاشف عباسی , August 27,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 اگست 2026ء

پاکستان نے انتہائی اہم اور بین الاقوامی علاقائی توانائی منصوبے ‘کاسا-1000’ کے تحت بجلی کی ترسیل اور تجارت کے بنیادی ڈھانچے پر پیش رفت بڑی حد تک مکمل کر لی ہے، جس کے تحت کنورٹر اسٹیشن پر مجموعی کام 99.7 فیصد جبکہ اس سے منسلک گراؤنڈنگ الیکٹرو اسٹیشن پر 99.5 فیصد تک کام کامیابی سے مکمل ہو چکا ہے۔ دستیاب سرکاری دستاویزات اور منصوبے کی تازہ ترین صورتِ حال کے مطابق پاکستان میں 500 کلو وولٹ بائی پول ہائی وولٹیج ڈائریکٹ کرنٹ کنورٹر اسٹیشن کے ساتھ 66 کلو وولٹ گراؤنڈنگ الیکٹرو اسٹیشن تعمیر کیا جا رہا ہے۔ کنورٹر اسٹیشن پر انجینئرنگ اور ڈیزائن کا 97 فیصد، خریداری کا 100 فیصد، سول ورکس اور تنصیب کا 99.9 فیصد، جبکہ ٹیسٹنگ و کمیشننگ کا 99 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ دوسری جانب الیکٹرو اسٹیشن کی تنصیب اور سول ورکس 99 فیصد جبکہ ٹیسٹنگ اور کمیشننگ 98 فیصد تک مکمل ہے۔

دستاویز کے مطابق اگرچہ پاکستان کی جانب کا ڈھانچہ تکمیل کے اخری مراحل میں ہے، تاہم اس کی حتمی کمیشننگ افغانستان میں ٹرانسمیشن لائن کی تعمیر مکمل ہونے تک معطل اور زیرِ التوا رہے گی، جس کے ستمبر 2027ء تک مکمل ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس دوران یہ اسٹیشنز یکم اپریل 2026ء سے 29 فروری 2028ء تک بین الاقوامی کمپنی میسرز ہٹاچی کی دیکھ بھال اور تحویل میں رہیں گے، جبکہ اس منصوبے کے باقاعدہ تجارتی آپریشنز یکم مئی 2028ء سے شروع ہونے کی توقع ہے۔ مالیاتی تفصیلا ت کے مطابق پاکستانی حصے کے لیے عالمی بینک کے دو قرضوں کی سہولت حاصل ہے، جس میں 12 کروڑ ڈالر والے پہلے قرضے سے 82.86 فیصد رقم جبکہ 6 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے دوسرے قرضے سے 87.41 فیصد رقم استعمال کی جا چکی ہے، اور دونوں معاہدوں کی حتمی اختتامی تاریخ 31 دسمبر 2028ء مقرر ہے۔

پاکستان ریلوے کے 10 ویٹ اِن موشن پلوں کی ڈیجیٹلائزیشن: پرومِس سسٹم سے منسلک کرنے کا کام 15 ستمبر تک مکمل ہوگا

منصور احمد, August 27,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 اگست 2026ء

پاکستان ریلوے نے نظام کو جدید تر بنانے کے لیے اپنے اہم ترین انفراسٹرکچر کی ڈیجیٹلائزیشن کا ایک بڑا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت ملک بھر کے 10 ویٹ اِن موشن پلوں کو ڈیجیٹلائز کر کے پاکستان ریلوے آپریشنل اینڈ مینجمنٹ انٹیگریٹڈ سروسز ایکوسسٹم (پرومِس) کے مرکزی ڈیش بورڈ کے ساتھ منسلک کیا جا رہا ہے۔ دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق اس اہم منصوبے پر عمل درآمد سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کی ویٹ اِن موشن پلوں کی کمپیوٹرائزیشن اور عمل درآمد کی صورتحال سے متعلق دی گئی سفارشات کے جواب میں کیا جا رہا ہے۔ اس جدید مربوط نظام کے عملی طور پر فعال ہونے کے بعد ریلوے حکام کو ریئل ٹائم یعنی حقیقی وقت میں مانیٹرنگ، تیز رفتار رپورٹنگ اور دقیق اعداد و شمار کی بنیاد پر اہم ترین آپریشنل فیصلے کرنے کی مکمل سہولت اور صلاحیت میسر آئے گی۔

منصوبے کی پیش رفت سے متعلق دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ آزمائشی بنیادوں پر پہلے ہی ایک ویٹ اِن موشن پل کو کامیابی کے ساتھ ڈیجیٹلائز کر کے پرومِس ڈیش بورڈ کے ساتھ جوڑا جا چکا ہے، جس کا آپریشنل ڈیٹا کامیابی کے ساتھ لائیو اور ریئل ٹائم میں ڈیش بورڈ پر موصول اور ظاہر ہو رہا ہے۔ اس پہلے کامیاب تجربے نے ریلوے کے بنیادی ڈیجیٹل فریم ورک کی توثیق کر دی ہے اور باقی نو پلوں پر اس ٹیکنالوجی کی تنصیب کے لیے راہ ہموار کر دی ہے۔ اس وقت باقی تمام نو نامزد ویٹ اِن موشن پلوں کی ڈیجیٹلائزیشن کا کام تیزی سے جاری ہے اور اس پراجیکٹ کو مکمل کرنے کی حتمی مقررہ تاریخ 15 ستمبر 2026ء طے کی گئی ہے۔ مقررہ وقت پر کام مکمل ہونے سے تمام ویٹ اِن موشن پل مرکزی پلیٹ فارم سے منسلک ہو جائیں گے جس سے ریلوے میں شفافیت، حادثات کی روک تھام اور مرکزی سطح پر نگرانی کا ایک جدید باب شروع ہو گا۔

پمز ہسپتال میں آتشزدگی عمران خان کے خلاف سازش ہو سکتی ہے: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا شدید خدشات اور الزامات کا اظہار

کاشف عباسی , August 27,2026

پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 27 اگست 2026ء

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سرکاری ہسپتال پمز (پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز) کے نرسری وارڈ میں پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے واقعے اور معصوم نومولود بچوں کی شہادت پر انتہائی گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے ایک سنسنی خیز اور سنگین ادعا پیش کیا ہے۔ پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پمز ہسپتال میں ہونے والا یہ آتشزدگی کا واقعہ پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کو نشانہ بنانے یا ان کے خلاف بچھایا گیا کوئی خفیا جال بھی ہو سکتا تھا۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ پمز ہسپتال کی نرسری میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھونے والے معصوم نوزائیدہ بچوں کا کسی سیاسی احتجاج یا اقتدار کی کشمکش سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا اور وہ بے زبان بچے اپنے حق میں بول بھی نہیں سکتے تھے، اس لیے اس دل دوز واقعے کے پیچھے مجرمانہ غفلت اور سازش شامل ہے جس کی شفاف، اعلیٰ سطحی اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا ہونا نہایت ضروری ہے۔

بقايا خطاب کے دوران عمران خان کے حالیہ طبی معائنے اور ہسپتال منتقلی کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے سنگین الزامات عائد کیے کہ ابھی چند دن قبل بانی پی ٹی آئی عمران خان کو بھی طبی معائنے اور علاج کی غرض سے اسی پمز ہسپتال لایا گیا تھا، جس سے یہ شک پختہ ہوتا ہے کہ شاید ان کے لیے بھی وہاں کوئی خطرناک جال بچھایا گیا تھا تاکہ مستقبل میں کسی حادثے یا آتشزدگی کی آڑ میں ان کی جان لی جا سکے، باقی واللہ اعلم، یہ لوگ اپنے مقاصد کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں اور بعد میں کسی بھی حادثے کا بہانہ تراش سکتے ہیں۔ اس المناک واقعے کے تناظر میں سہیل آفریدی نے صوبائی محکمہ صحت کو فوری ہدایات جاری کی ہیں کہ خیبر پختونخوا کے تمام سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں آتشزدگی سے بچاؤ، ایمرجنسی ایگزٹ اور ہنگامی سیفٹی انتظامات کا تفصیلی آڈٹ کیا جائے اور ہسپتالوں کے حفاظتی ضوابط کا ازسرِنو جائزہ لے کر عملے کو فائر فائٹنگ کی تربیتی مشقیں کروائی جائیں تاکہ مریضوں کی مکمل حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔

اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل میں پاکستان کا دبنگ بیان: اسرائیل کی غـزہ میں جنگ بندی پامالیاں اور الحاق سازشیں بے نقاب، سفیر عاصم افتخار کا خطاب

محمود احمد, August 27,2026

اقوام متحدہ/نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 26 اگست 2026ء

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے زیرِ اہتمام مشرقِ وسطیٰ اور بالخصوص مقبوضہ فلسـطینی علاقے کی بگڑتی ہوئی انتہائی حساس صورتحال پر منعقدہ اہم ماہانہ بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ مقبوضہ فلسـطینی خطہ اس وقت تاریخ کے سب سے نازک اور خطرناک ترین موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں قابض اسرائیلی حکومت کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی سنگین پامالیاں، غیر قانونی الحاق کی کوششیں اور مظلوم فلسـطینیوں پر مظالم کی انتہا کر دی گئی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اس بیانیے میں قائم مقام خصوصی رابطہ کار رامز الاکبروف، اعلیٰ نمائندے نکولائی ملاڈینوف اور محترمہ رے برن کی بریفنگز کا خصوصی حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ زمینی حقائق کو دانستہ تبدیل کرنے کے تمام اسرائیلی اقدامات دراصل ایک خودمختار فلسـطینی ریاست کی جغرافیائی و سیاسی بنیادوں کو تباه کرنے کی ناپاک کوشش ہیں۔

پاکستانی مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے تفصیلی خطاب کے دوران سلامتی کونسل اور عالمی ضمیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے غير قانونی آبادکاری کی سرگرمیاں بلا خوف و خطر اور بلا روک ٹوک جاری ہیں جبکہ متنازع علاقوں میں پیش رفت عملاً مغربی کنارے کو منقسم کر کے ہزاروں فلسـطینیوں کو جبری بے دخلی کے شدید خطرے سے دوچار کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان سمیت آٹھ عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے گروپ نے اسرائیلی آبادکاری کی ان توسیع پسندانہ پالیسیوں اور الحاق کے منصوبوں کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے اسے خطے کے امن کے خلاف ایک تبا ہ کن اور خطرناک اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ قابض یہودیوں اور آبادکاروں کی جانب سے عام شہریوں پر تشدد اور دہشت گردی کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے جن میں سے سینکڑوں حملے ریکارڈ پر آ چکے ہیں لیکن عالمی سطح پر ان مظالم کو روکنے کے لیے تاحال کوئی مضبوط عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا جو کہ انتہائی افسوسناک اور ناقابلِ قبول ہے۔

مالیاتی جارحیت اور معاشی تسلط کا ذکر کرتے ہوئے پاکستانی سفیر نے نشاندہی کی کہ قابض اسرائیلی انتظامیہ کی جانب سے اربوں ڈالر کے فلسـطینی کلیئرنس ریونیو اور رقوم کی مسلسل اور غیر قانونی روک تھام نے فلسـطینی کو معاشی بحران اور شدید مالیاتی تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے جس کے باعث وہاں کے معصوم شہریوں کے لیے بنیادی زندگی کی سہولیات اور طبی خدمات کی فراہمی بھی ناممکن ہوتی جا رہی ہے، لہٰذا یہ روک رکاوٹیں فوری طور پر ختم کر کے رقوم کی بلا تاخیر منتقلی یقینی بنائی جائے۔ غزہ کی صورتحال کا نقشہ کھینچتے ہوئے انہوں نے سلامتی کونسل کے ارکان پر سخت سوال اٹھایا کہ اگر جنگ بندی کے اعلانات اور سفارتی دعوے موجود ہیں تو پھر غـزہ میں ہر روز معصوم شہری، خواتین اور بچے کیسے شہید کیے جا رہے ہیں، ہلاکتیں اور تباہی کا سلسلہ کیوں نہیں تھما اور جنگ بندی کے بعد سے اب تک بارہ سو سے زائد فلسـطینی کس بنیاد پر جاں بحق ہوئے ہیں، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ قابض قوتیں عالمی مطالبات اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کو مکمل طور پر ہوا میں اڑا رہی ہیں۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے مزید کہا کہ امریکہ، مصر، قطر اور ترکیہ کی جانب سے امن کے لیے کی جانے والی تمام تر سفارتی کوششوں اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی امن قراردادوں کے باوجود اسرائیل کی طرف سے مسلسل فوجی کشیدگی، بمباری اور روڈ میپ کی کھلی خلاف ورزیاں پورے سفارتی عمل کو پٹڑی سے اتارنے کی سازش ہیں تاکہ خطے کو مزید تباہی کی طرف دھکیلا جا سکے۔ پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے ریلیف ادارے اور اس کی تنصیبات پر اسرائیلی حملوں اور غیر قانونی جبری مداخلت پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت اقوامِ متحدہ کے تمام دفاتر، سکولوں، تربیتی مراکزی اور سفارتی عملے کے تحفظ کی ضمانت دی جائے اور اسرائیل کو بین الاقوامی ضوابط کا پابند بنایا جائے کیونکہ کسی بھی ملک کو اقوامِ متحدہ کے منشور پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

عالمی برادری اور سلامتی کونسل کے سامنے پاکستان نے اپنا چار نکاتی ہنگامی حل پیش کرتے ہوئے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ قابض طاقت اسرائیل کو مقبوضہ فلسـطینی علاقے کی قانونی، جغرافیائی اور آبادیاتی ہیئت کو تبدیل کرنے کے تمام غیر قانونی اقدامات، الحاق کی سازشوں اور جبری بے دخلی سے فوری طور پر روکا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ غزہ امن منصوبے پر سچے دل اور مکمل شفافیت کے ساتھ عمل درآمد کا آغاز کیا جائے جبکہ جن طاقتور عالمی ممالک کا اس خطے میں اثر و رسوخ ہے وہ اپنے سفارتی اور معاشی ذرائع کو استعمال میں لا کر اسرائیل کو عالمی قوانین کی پاسداری پر مجبور کریں اور فلسـطینیوں پر ڈھائے جانے والے جنگی جرائم کے تمام ذمہ داران کا عالمی عدالتوں میں سخت محاسبہ کیا جائے۔ پاکستانی مندوب نے اپنے بیان کے اختتام پر دوٹوک الفاظ میں کہا کہ فلسـطین کے مظلوم عوام کے ساتھ پاکستان کی مکمل نظریاتی، اخلاقی اور سفارتی یکجہتی ہمیشہ کی طرح غیر متزلزل ہے اور ہم ان کے حقِ خودارادیت کی جدوجہد میں ان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے رہیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خطے میں دائمی اور حقیقی امن کی واحد راہ یہی ہے کہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں انیس سو سرسٹھ سے قبل کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد، خود مختار اور پائیدار فلسـطینی ریاست قائم کی جائے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

بلوچستان کے اضلاع خاران، چاغی، قلات اور مستونگ میں شدت پسندوں کے حملے، سیکیورٹی فورسز سے جھڑپیں اور انفراسٹرکچر کو نقصان

کاشف عباسی , August 26,2026

خاران/کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 26 اگست 2026ء

بلوچستان کے شہر خاران میں نامعلوم مسلح افراد اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی ہیں جبکہ صوبے کے دیگر تین اضلاع چاغی، قلات اور مستونگ میں مال بردار گاڑیوں کو فائرنگ سے نقصان پہنچانے اور ایک رابطہ پل کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانے کے ناخوشگوار واقعات سامنے آئے ہیں۔ محکمہ داخلہ حکومتِ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے تفصیلا ت بتاتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ شب کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے شدت پسند عناصر نے خاران شہر میں اندر آنے اور باہر جانے والے راستوں پر ناکہ بندی کی کوشش کی اور پولیس کی ایک گاڑی کو آگ لگا کر نذرِ آتش کر دیا۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی بروقت اور ہائی الرٹ جوابی کارروائی کے باعث حملہ آور اپنے مذموم مقاصد میں ناکام ہو کر فرار ہونے پر مجبور ہو گئے، جبکہ جوابی فائرنگ سے حملہ آوروں کو بھی بھاری جانی و مالی نقصان پہنچا ہے۔ خاران کے مقامی ذرائع اور پولیس اہلکار کے مطابق رات دس بجے کے بعد شہر میں سنگین فائرنگ اور دھماکوں کی آوازوں سے خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ مسلح افراد نے بیسیمہ پولیس چوکی کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کیا اور وہاں سے چار پولیس اہلکاروں کو اغوا کرنے کے بعد بلا کسی نقصان کے چھوڑ دیا۔

خاران میں ناکام حملے کے علاوہ صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی تخریب کاری کی کارروائیاں کی گئی ہیں۔ ضلع چاغی کے علاقے چہتر میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے چار مال بردار گاڑیوں کو نقصان پہنچایا، جبکہ ضلع قلات میں بھی مسلح عناصر نے سیمنٹ سے لدی دو مال بردار گاڑیوں کو فائرنگ کا نشانہ بنایا جس سے ان کے ٹائر برباد ہو گئے، تاہم قلات پولیس کے سربراہ زاہد شاہ کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی فوری کارروائی کے بعد حملہ آور پہاڑوں کی جانب فرار ہو گئے۔ دوسری جانب کوئٹہ سے متصل ضلع مستونگ میں کوئٹہ کراچی شاہراہ پر چوتو کے مقام پر قائم ایک اہم پل کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانے کی کوشش کی گئی جس سے پل کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے، مگر شاہراہ پر ٹریفک کی روانی متاثر نہیں ہوئی۔ بلوچستان بھر میں ان پے در پے واقعات کے بعد سیکیورٹی فورسز نے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے اور حساس علاقوں میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بڑا دعویٰ: ‘آبنائے ہرمز کھلی ہے، امریکہ ایران کے خلاف بہت بڑی فتح کی جانب گامزن’

محمود احمد, August 26,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 26 اگست 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم انٹرویو کے دوران دعویٰ کیا ہے کہ تناؤ کے باوجود انتہائی اہم عالمی سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز کھلی ہوئی ہے اور امریکی بحریہ نے کامیابی سے جہاز رانی کو بحال رکھا ہوا ہے۔ امریکی مبصر اور معروف سبسکرپشن سٹریمنگ نیٹ ورک ‘بلیز میڈیا’ کے بانی گلین بیک کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ ‘گزشتہ رات ہم نے 22 تجارتی کشتیاں اور جہاز وہاں سے بحفاظت نکالے ہیں’۔ انٹرویو کے دوران صدر ٹرمپ نے امریکہ اور ایران کے مابین جاری کشیدگی پر کھل کر بات کی اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران کے خلاف اس جغرافیائی اور سیاسی معرکے میں امریکی بحریہ، برّی فوج اور امریکہ کی مضبوط معاشی طاقت نے انتہائی فیصلہ کن اور کلیدی کردار ادا کیا ہے جس کے نتیجے میں امریکہ ایک ‘بہت بڑی تاریخی فتح’ کی طرف تیزی سے گامزن ہے۔ انہوں نے اس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں امریکہ نے وینزویلا کے بحران میں بھی بڑی کامیابی حاصل کی تھی اور بالکل اسی طرح ‘ایران کے معاملے میں بھی امریکہ کو بہت جلد حتمی کامیابی حاصل ہو جائے گی’۔

انٹرویو کے دوران جب امریکی صدر سے ایران کے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے حوالے سے سوال پوچھا گیا تو ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نیا اور سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ اطلاعات کے مطابق وہ ‘حملوں یا واقعے میں بہت بری طرح زخمی ہوئے تھے، لیکن میں ایسا نہیں سمجھتا کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں’۔ صدر ٹرمپ کے اس بیان کے بعد عالمی سفارتی، دفاعی اور معاشی حلقوں میں شدید تحرک پیدا ہو گیا ہے، بالخصوص تیل کی عالمی منڈیوں اور سمندری تجارتی راستوں کی حفاظت سے متعلق امریکی پیش رفت کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور ایرانی قیادت سے متعلق امریکی صدر کا یہ نیا موقف آنے والے دنوں میں مشرقِ وسطیٰ کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔

نیپال میں شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی تباہ کاری، 95 افراد جاں بحق جبکہ انڈین شہریوں سمیت سینکڑوں غیر ملکی سیاح لاپتہ

محمود احمد, August 26,2026

کاٹھمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 26 اگست 2026ء

نیپال اور تبت کی سرحد پر واقع پہاڑی سلسلوں میں اچانک آنے والے خوفناک اور شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں اب تک کم از کم 95 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ سینکڑوں ملکی اور غیر ملکی سیاح لاپتہ ہو گئے ہیں۔ سیلاب سے متاثرہ مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق طوفانی بارشوں کے بعد آنے والے پانی کے شدید اور تیز ریلوں میں کئی کثیر المنزلہ عمارتیں، رہائشی مکانات، گاڑیاں اور متعدد اہم رابطہ پل بہہ گئے ہیں۔ سفارتی ذرائع اور نیپالی حکام کے مطابق پہاڑی و سیاحتی علاقوں میں پھنسے اور لاپتہ ہونے والے غیر ملکیوں میں انڈیا کے 133، امریکہ کے 47 اور برطانیہ کے 33 شہری بھی شامل ہیں، جن سے تاحال رابطہ ممکن نہیں ہو سکا ہے۔

نیپال کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور سیکیورٹی فورسز نے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف کا ہنگامی آپریشن شروع کر دیا ہے، تاہم پل بہہ جانے اور سڑکوں پر لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے امدادی ٹیموں کو دور دراز کے علاقوں میں پہنچنے اور ریسکیو آپریشن میں شدید مشکلات اور دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ نیپالی حکومت نے انڈین اور دیگر بین الاقوامی اداروں سے بھی لاپتہ سیاحوں کی تلاش کے لیے مدد کی اپیل کی ہے۔ موسمیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں بارشوں کا سلسلہ آئندہ کچھ دنوں تک جاری رہ سکتا ہے جس سے دریاؤں میں طغیانی اور مزید لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود ہے۔ متاثرہ علاقوں میں ہنگامی حالت نافذ کر کے قریبی محفوظ مقامات پر امدادی کیمپ قائم کر دیے گئے ہیں۔

نائٹ کلب تنازع پر انگلش کپتان جو روٹ فاسٹ بولر برائیڈن کارس پر برہم، دوسرے ٹیسٹ سے ڈراپ

محمود احمد, August 26,2026

برمنگھم/ڈربی (نیوز اینڈ نیوز) — 26 اگست 2026ء

انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے کپتان جو روٹ نے ڈربی کے ایک نائٹ کلب کے باہر فاسٹ بولر برائیڈن کارس کے ساتھ پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے پر شدید برہم اور انتہائی مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ اس ڈسپلن کی خلاف ورزی کے بعد 31 سالہ فاسٹ بولر برائیڈن کارس کو پاکستان کے خلاف رواں ہفتے شروع ہونے والے دوسرے اہم ٹیسٹ میچ کے انگلش سکواڈ سے ڈراپ کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو اور تصاویر وائرل ہوئی تھیں جن میں برائیڈن کارس کو ہفتے کی شب ڈربی کے ایک مقامی نائٹ کلب کے باہر برطانوی پولیس کی جانب سے ہتھکڑیاں لگائے جاتے اور حراست میں لیتے ہوئے دیکھا گیا تھا، اگرچہ بعد میں انہیں پولیس کی جانب سے رہا کر دیا گیا تھا۔ منگل کو اہم ٹیسٹ میچ سے قبل پریس کانفرنس کا آغاز کرتے ہوئے انگلش قائد جو روٹ نے نہایت سخت اور صاف گو انداز میں کہا کہ اگر وہ بالکل سچ بولیں تو وہ اس نامناسب واقعے پر واقعی بہت غصے میں اور مایوس ہیں۔

انگلش کپتان جو روٹ کا کہنا تھا کہ گزشتہ ہفتے لیڈز ٹیسٹ میں پاکستان کو اننگز کی شکست دے کر سیریز میں بہترین برتری حاصل کرنے کے بعد توقع یہ تھی کہ میڈیا اور ٹیم کی توجہ کھیل پر ہوگی، لیکن بدقسمتی سے انہیں ایک ایسے واقعے پر صفائیاں دینا پڑ رہی ہیں جس کا کرکٹ اور میدان کے کھیل سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔ کپتان روٹ نے مزید کہا کہ برائیڈن کارس خود اپنے اس ناشائستہ عمل پر شدید پریشان، شرمندہ اور پشیمان ہیں اور جب بھی انہیں میڈیا کا سامنا کرنے کا موقع ملے گا وہ اپنی اس غلطی کا کھلے دل سے اعتراف کریں گے۔ جو روٹ نے واضح کیا کہ مسئلہ صرف یہ ایک واقعہ نہیں ہے بلکہ تشویشناک بات یہ ہے کہ انگلش کھلاڑی میدان کے باہر مسلسل احمقانہ غلطیاں کر رہے ہیں جن سے ٹیم کی ساکھ اور میدان میں ان کی کارکردگی پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جنہیں اب کسی صورت مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔

سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کوئٹہ سے ٹرین سروس مسلسل دوسرے روز بھی معطل، مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا

منصور احمد, August 26,2026

کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 26 اگست 2026ء

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے ملک کے دیگر صوبوں کو جانے والی ٹرین سروس سیکیورٹی کے پیشِ نظر بدھ کے روز مسلسل دوسرے دن بھی مکمل طور پر معطل رہی۔ کوئٹہ میں پاکستان ریلوے کے ایک نمائندے اور ذمہ دار اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سیکیورٹی خدشات اور امن و امان کی صورتِ حال کو مدِنظر رکھتے ہوئے ریلوے انتظامیہ نے منگل کے روز سے ٹرین آپریشنز کو دو دنوں کے لیے معطل کرنے کا ہنگامی فیصلہ کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق نواب اکبر خان بگٹی کی برسی کے موقع پر کوئٹہ شہر سمیت صوبہ بلوچستان کے مختلف اور حساس اضلاع میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔ واضح رہے کہ رواں ماہ کے دوران بھی سیکیورٹی خدشات اور خطرات کی وجہ سے کوئٹہ کی اہم ترین اور مقبول جعفر ایکسپریس کی سروس کو دو سے تین مرتبہ عارضی طور پر معطل کیا جا چکا ہے۔ جعفر ایکسپریس کوئٹہ سے پشاور تک روزانہ کی بنیاد پر چلنے والی واحد اور مرکزی ٹرین ہے جو سندھ اور پنجاب کے درجنوں بڑے اور چھوٹے شہروں سے گزرتی ہوئی پشاور پہنچتی ہے، جس کے باعث یہ غریب، کم آمدنی والے طبقے، مزدوروں اور عام شہریوں کے لیے سستے اور آسان سفر کا سب سے بڑا ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔ اچانک اور مسلسل ٹرین سروس کی معطلی کے باعث کوئٹہ ریلوے اسٹیشن اور ارد گرد کے علاقوں میں مسافروں اور ان کے اہل خانہ کو شدید پریشانی، خواری اور سفری مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

پمز ہسپتال میں آتشزدگی سانحہ: انتظامی غفلت، فائر سیفٹی اور ٹریننگ کے فقدان پر سنسنی خیز انکشافات

منصور احمد, August 26,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 26 اگست 2026ء

اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال، پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے چلڈرن وارڈ میں پیش آنے والے انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والے آتشزدگی کے واقعے کے بعد انتظامی غفلت، فائر سیفٹی اور ہنگامی حفاظتی انتظامات کے حوالے سے سنسنی خیز اور سنگین انکشافات منظرِ عام پر آ گئے ہیں۔ وفاقی دارالحکومت کے سینئر صحافتی ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق پمز ہسپتال میں گزشتہ کئی سالوں سے کسی قسم کی ایمرجنسی فائر ڈرل یا موک ایکسرسائز کی مشق ہی نہیں کروائی گئی تھی، جس کے باعث ہسپتال کا طبی و انتظامی عملہ ہنگامی صورتحال میں اپنی اور زیرِ علاج مریضوں کی جان بچانے کی بنیادی عملی تربیت سے مکمل طور پر محروم تھا۔ بین الاقوامی قوانین اور طبی ضوابط کے مطابق کسی بھی ہسپتال میں عملے کے لیے ہر چھ ماہ بعد فائر سیفٹی اور ایمرجنسی رسپانس کی باقاعدہ ٹریننگ کروانا لازمی اور فلو چارٹ کا حصہ ہوتا ہے، جس میں آگ لگنے کی صورت میں فوری ردِعمل، مریضوں کو بحفاظت نکالنے (ایویکویشن) اور آگ پر قابو پانے کی عملی مشقیں شامل ہوتی ہیں، تاہم پمز میں ان قواعد و ضوابط کی کھلی خلاف ورزی کی جا رہی تھی۔

صحافتی ذرائع کا مزید سنسنی خیز انکشاف یہ بھی ہے کہ آتشزدگی کے وقت وارڈ میں موجود آکسیجن سلنڈرز اور آکسیجن پائپ لائنز بھی آگ کی شدت میں تیزی سے اضافے کا بنیادی باعث بنے، جنہوں نے نرسری کے پورے ماحول کو منٹوں میں جہنم کا منظر بنا دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ دل دہلا دینے والی حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ حادثے کے وقت ہسپتال کے ایمرجنسی ایگزٹ (نہایت ضروری راستے) اور ہنگامی نُکاس کے دروازے بند رکھے گئے تھے، جس کی وجہ سے مریضوں، والدین اور عملے کو نکلنے میں شدید مشکلات پیش آئیں۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ جب نرسری میں آگ بھڑکی تو ہسپتال کا خودکار الارم سسٹم بھی بروقت فعال اور سائرن بجانے میں ناکام رہا، جس نے انتظامی غفلت کی حد کر دی ہے۔ اسلام آباد کے سب سے بڑے ہسپتال میں ہر وقت سینکڑوں کی تعداد میں شدید بیمار مریض زیرِ علاج رہتے ہیں، لیکن ہنگامی انخلا کے لیے کسی مربوط اور مؤثر سیفٹی پلان کا نہ ہونا مریضوں اور ان کے لواحقین کے لیے سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ اس سانحے کے بعد ماہرین نے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ تمام سرکاری ہسپتالوں کے فائر سیفٹی سسٹمز، ایمرجنسی راستوں اور عملے کی ٹریننگ کا بلا تاخیر ازسرِنو تفصیلی جائزہ لیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے کسی ہولناک سانحے کو دوہرانے سے روکا جا سکے۔

پمز ہسپتال سانحہ: متاثرہ والدین کے سنگین الزامات، عملہ غائب تھا، 9 بچوں کی میتیں حوالے کر دی گئیں

منصور احمد, August 26,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 26 اگست 2026ء

اسلام آباد کے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) ہسپتال کے چلڈرن وارڈ میں پیش آنے والے دل دہلا دینے والے آتشزدگی کے سانحے کے بعد متاثرہ والدین نے ہسپتال انتظامیہ اور طبی عملے پر مجرمانہ غفلت اور عدم موجودگی کے شدید اور سنگین الزامات عائد کر دیے ہیں۔ میڈیا اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے آتشزدگی سے متاثرہ ایک خاتون نے رقت انگیز انداز میں بتایا کہ جس وقت نرسری اور وارڈ میں آگ لگی اور دھواں پھیلا، اس وقت ہسپتال کا عملہ بالکل غائب تھا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ واقعے کے وقت صرف وہ اور چند دیگر بچوں کے والدین ہی وہاں موجود تھے جبکہ موقع پر نہ تو کوئی گائنی ڈاکٹر موجود تھی اور نہ ہی نرسنگ سٹاف کا کوئی اہلکار بچوں کی مدد کے لیے وہاں موجود تھا، جس کی وجہ سے نومولود بچوں کو بروقت باہر نکالنا ممکن نہ ہو سکا۔

دوسری جانب ہسپتال انتظامیہ کے تازہ ترین بیان کے مطابق، جاں بحق ہونے والے 14 بچوں میں سے نو نومولود بچوں کی لاشیں ابتدائی کارروائی کے بعد ان کے لواحقین اور غمزدہ خاندانوں کے حوالے کر دی گئی ہیں، جبکہ باقی بچوں کی شناخت کو یقینی بنانے کے لیے لاشوں اور والدین کا ڈی این اے (DNA) ٹیسٹ کروایا جا رہا ہے۔ ہسپتال کے باوثوق ذرائع نے واقعے کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ نرسری میں اتنی بڑی تعداد میں بچوں کی اموات کی بنیادی وجہ محض آگ سے جھلسنا نہیں بلکہ شارٹ سرکٹ کے بعد ایئر کنڈیشنر اور آکسیجن پائپ لائن کے باعث وارڈ میں تیزی سے زہریلا دھواں بھر جانا تھا، جس سے نوزائیدہ بچوں کا دم گھٹ گیا اور وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ انتظامیہ کے مطابق واقعے کی تحقیقاتی کمیٹی والدین کے الزامات کو بھی انکوائری کا حصہ بنا رہی ہے اور غفلت برتنے والے عملے کا تعین کر کے ان کے خلاف قانونی اور محکماتی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

اسلام آباد کے پمز ہسپتال کے چلڈرن وارڈ میں خوفناک آتشزدگی: 14 نومولود بچے جاں بحق، وزیراعظم کا تحقیقات کا حکم

محمود احمد, August 26,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 26 اگست 2026ء

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے چلڈرن وارڈ میں اچانک آتشزدگی کا انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے جس کے نتیجے میں وارڈ میں داخل 14 نومولود بچے مکمل طور پر جھلس کر جاں بحق ہو گئے۔ پمز ہسپتال کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر عمران سکندر نے نومولود بچوں کی ہلاکت کی باقاعدہ تصدیق کر دی ہے۔ اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق آگ پمز ہسپتال کی مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ وارڈ کی تیسری منزل پر واقع نرسری میں شام چھ بج کر 45 منٹ پر لگی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے وارڈ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ بھڑکنے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 اور فائر برگیڈ کی چھ گاڑیوں اور چار ایمبولینسوں نے موقع پر پہنچ کر امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا اور آگ پر قابو پانے کے بعد دیگر بچوں کو آئی سی یو میں منتقل کیا۔

ہسپتال انتظامیہ کے ابتدائی بیان میں ترجمان ڈاکٹر انیزہ جلیل کا کہنا تھا کہ آگ نرسری کے ایئر کنڈیشنر یونٹ میں شارٹ سرکٹ کے باعث لگی اور وارڈ میں موجود آکسیجن کی پائپ لائنز کے باعث منٹوں میں تیز رفتاری سے بھڑک اٹھی۔ حادثے کے وقت نرسری اور وارڈ میں مجموعی طور پر 15 بچے زیرِ علاج تھے۔ واقعے کی خبر ملتے ہی چیف کمشنر اسلام آباد اور آئی جی اسلام آباد پولیس نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے اور علاقے کو سیل کر دیا گیا۔ دوسری جانب وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے اس دردناک حادثے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے حکام کو فوری تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ وزیراعظم آفس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ نومولود بچوں کا یوں ہلاک ہونا ایک ناقابلِ تلافی اور انتہائی المناک صدمہ ہے، اس لیے واقعے کے تمام محرکات اور مجرمانہ غفلت کا جائزہ لے کر ذمہ داران کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے۔

ضلعی انتظامیہ نے واقعے کی شفاف انکوائری کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو حادثے کی وجوہات اور سیکیورٹی تدابیر کا جائزہ لے گی۔ دوسری جانب جائے وقوعہ پر شدید غم و غصے کی لہر پھیلی ہوئی ہے اور جاں بحق بچوں کے غمزدہ والدین اور متاثرہ خاندان ہسپتال کے باہر احتجاج کرتے ہوئے اپنے بچوں کی میتیں حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ نرسری میں آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ تمام 14 بچے مکمل طور پر جھلس چکے ہیں جس کی وجہ سے ان کی شناخت فی الحال ممکن نہیں ہے۔ پولیس حکام نے واضح کیا ہے کہ ہلاک ہونے والے بچوں اور ان کے والدین کے ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج آنے کے بعد ہی قانونی کارروائی مکمل کر کے لاشیں ورثاء کے حوالے کی جائیں گی تا کہ شناخت میں کوئی غلطی نہ ہو۔

پاکستان کا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل پر تنازعات، جنگوں اور غذائی عدم تحفظ کی بنیادی وجوہات سے نمٹنے پر زور: سفیر عاصم افتخار احمد کا خطاب

محمود احمد, August 26,2026

اقوام متحدہ/نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 26 اگست 2026ء

پاکستان نے عالمی سطح پر جاری تنازعات، جنگوں اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے شدید غذائی عدم تحفظ کے دوہرے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی اصولوں، عالمی انسانی قوانین کی پاسداری اور پیشگی سفارتی حکمتِ عملی اپنانے پر شدید زور دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے زیرِ اہتمام ‘جنگ کی زد میں خوراک: عالمی اور مقامی غذائی بحرانوں کے تدارک میں سلامتی کونسل کا کردار’ کے موضوع پر منعقدہ اعلیٰ سطحی وزارتی مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے ‘2026 گلوبل رپورٹ آن فوڈ کرائسز’ کے اعداد و شمار پر گہری تشویش کا اظہار کیا، جس میں دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی بھوک اور غذائی قلت کی بنیادی وجہ تشدد اور عسکری تنازعات کو قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران عالمی سطح پر 266 ملین سے زائد افراد شدید ترین غذائی عدم تحفظ کا شکار رہے ہیں جبکہ پچھلی ایک دہائی میں بھوک کے واقعات دگنے ہو چکے ہیں اور شدید بھوک کا سامنا کرنے والے 70 فیصد سے زائد افراد تنازعات کی زد میں گھیرے علاقوں میں مقیم ہیں۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے خطاب میں واضح کیا کہ عالمی برادری کو بین الاقوامی انسانی قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانا ہوگا تاکہ بھوک، قحط اور شہری آبادی کو اجتماعی سزا دینے کے عمل کو کبھی بھی فوجی یا سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے بطور ہتھیار استعمال نہ کیا جا سکے۔ انہوں نے غزہ، یمن، سوڈان، جنوبی سوڈان اور ہیٹی کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غزہ میں خوراک و بنیادی ضروریات کی معطلی، امدادی سامان پر پابندیوں اور انسانی بنیادی ڈھانچے کی تباہی نے فلسطینیوں کو ناقابلِ برداشت مصائب میں مبتلا کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تنازعات کی وجہ سے عالمی معیشت، خوراک اور مال برداری کے اخراجات میں بھی ریکارڈ اضافہ ہوا ہے جس کا سب سے بڑا اور غیر متناسب بوجھ غریب اور ترقی پذیر ممالک پر پڑ رہا ہے۔ پاکستان نے مطالبات پیش کیے کہ انسانی امداد میں رکاوٹ ڈالنے والوں کا محاسبہ کیا جائے، امداد کو سیاسی و عسکری شرائط سے پاک رکھا جائے اور WFP و FAO کی رپورٹس کی روشنی میں پیشگی کارروائی کی جائے۔ سفیر عاصم افتخار نے اختتام پر کہا کہ محض انسانی امداد سیاسی حل کا متبادل نہیں ہو سکتی اور امن قائم کیے بغیر دنیا میں پائیدار غذائی تحفظ کا حصول ممکن نہیں ہے۔

سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف کا اچانک ماسکو کا اہم دورہ

محمود احمد, August 25,2026

واشنگٹن/ماسکو (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے روسی اعلیٰ حکام کے ساتھ انتہائی اہم اور اہم نوعیت کی ملاقاتوں کے لیے اچانک اور غیر متوقع طور پر ماسکو کا ہنگامی دورہ کیا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے “رائٹرز” کے مطابق امریکی انٹیلی جنس چیف کا یہ غیر معمولی دورہ ایک ایسے انتہائی حساس اور نازک وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک طرف ریاستہائے متحدہ امریکہ اور ایران کے درمیان شدید جغرافیائی و سیاسی کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے اور دوسری جانب روس اور ایران کے درمیان گہرے عسکری، دفاعی، معاشی اور سفارتی تعلقات پہلے سے قائم ہیں۔ یوکرینی انٹیلی جنس اور بین الاقوامی سفارتی ذرائع سے موصول ہونے والی تفصیلی رپورٹس کے مطابق روس اور ایران کے درمیان مسلسل بڑھتے ہوئے باہمی دفاعی نظام، ڈرون ٹیکنالوجی کی فراہمی اور عسکری تعاون کے تناظر میں اعلیٰ سطح کے امریکی حکام کا یہ غیر اعلانیہ دورہ عالمی منظر نامے پر کسی نئی اور غیر معمولی پیش رفت کا باعث بن سکتا ہے۔ اس اہم دورے اور سیکیورٹی تحرک کے حوالے سے ماسکو اور کرملین کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے ایران کو کسی بھی قسم کی ناجائز عسکری معاونت کی خبریں درست نہیں ہیں، تاہم روسی حکومت نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری سنگین بحران اور تنازع کو پرامن سفارتی راستے سے حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے اور مدد فراہم کرنے کی مکمل آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب امریکہ کے مرکزی انٹیلی جنس ادارے سی آئی اے کے ترجمان نے جان ریٹکلف کے اس ہنگامی دورۂ ماسکو کی تفصیلات، ملاقاتوں کے ایجنڈے اور مقصد سے متعلق ذرائع ابلاغ کو کسی بھی قسم کا تبصرہ یا بیان دینے سے مکمل طور پر معذرت کی ہے۔ بین الاقوامی سیاسی و دفاعی ماہرین کے مطابق نومبر 2021 میں سابق سی آئی اے چیف ولیم برنز کی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ ہونے والی تاریخی ملاقات کے بعد کسی بھی امریکی انٹیلی جنس ادارے کے اعلیٰ ترین سربراہ کا ماسکو کا یہ پہلا بڑا، اہم اور اہم ترین دورہ تصور کیا جا رہا ہے جس سے خطے کی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔