ایچ ای سی کے سمارٹ کلاس روم نیٹ ورک کے ذریعے اسلام آباد، راولپنڈی اور دیگر اضلاع کے 330 سے زائد اساتذہ کی آن لائن اور آن سائیٹ تربیت؛ ایم ڈی ‘ناہے’ ڈاکٹر نور آمنہ ملک کا اختتامی تقریب سے خطاب


روزینہ اسماعیل, September 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے معیار کو جدید ترین ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے، نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن اور ہائر ایجوکیشن کمیشن نے سرکاری شعبے کی یونیورسٹیوں اور کالجوں کے اساتذہ کے لیے چار روزہ جامع تربیتی پروگرام کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا ہے۔

“اساتذہ کے لیے مصنوعی ذہانت کی آگاہی: مصنوعی ذہانت کے لیے تیار اداروں کی تعمیر” کے عنوان سے منعقدہ اس تربیتی پروگرام کا بنیادی مقصد سرکاری جامعات کے لیکچررز اور اسسٹنٹ پروفیسرز کو تعلیمی شعبے میں مصنوعی ذہانت کے مؤثر اور اخلاقی استعمال کے قابل بنانا تھا۔

ایچ ای سی کے جدید ‘سمارٹ کلاس روم نیٹ ورک’ کے تحت منعقدہ اس چار روزہ کورس میں اسلام آباد اور راولپنڈی کی جامعات سے تعلق رکھنے والے 32 اساتذہ نے ایچ ای سی ہیڈکوارٹر کے سمارٹ کلاس روم میں براہِ راست (آن سائیٹ) شرکت کی، جبکہ ملک بھر کی مختلف یونیورسٹیوں میں قائم سمارٹ کلاس رومز اور ویڈیو کانفرنس رومز کے ذریعے 300 سے زائد اساتذہ نے آن لائن اس تربیتی سیشن میں حصہ لیا اور ماہرین کے ساتھ سوال و جواب کیے اور فوری تفاعل گفتگو کی۔

اس اختراعی ٹریننگ کے دوران پروفیسروں اور لیکچررز کو نصاب کی جدید تشکیل، دروس کی منصوبہ بندی تدریسی مواد کی تیاری، سائنسی و تعلیمی تحریر، تحقیقی معاونت، طلبہ کی کارکردگی پر ڈیٹا اینالیٹکس، اور امتحانی جائزے جیسے مختلف شعبوں میں AI ٹولز کے عملی اطلاق اور “انسان اور کے باہمی تعامل” کے اصولوں کی تربیت فراہم کی گئی۔

اختتامی تقریب میں نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن کی منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر نور آمنہ ملک نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اور شرکاء میں اسناد تقسیم کیں۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اعلیٰ تعلیم، ریسرچ اور علم کی تخلیق کے روایتی طریقوں کو تیزی سے بدل رہی ہے۔

ڈاکٹر نور آمنہ ملک نے زور دیا کہ جامعات کو اپنے اساتذہ اور طلبہ کو ای آئی سے لیس ماحول کے لیے فوری طور پر تیار کرنا ہو گا، تاہم انہوں نے انبہانہ انداز میں کہا کہ ٹیکنالوجی کے استعمال کے دوران تعلیمی معیار، اخلاقی تحفظات، انسانی بصیرت اور ادارہ جاتی ذمہ داری کو ہر صورت برقرار رکھنا ہو گا۔

آبنائے ہرمز ایران کی مرضی کے بغیر کبھی نہیں کھلے گا: ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی کا دبنگ اعلان

محمود احمد, September 03,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

ایران اور امریکہ کے درمیان مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید عسکری محاذ آرائی اور سمندری ناکہ بندی کے تناظر میں ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے امریکہ کو سخت خبردار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ دنیا کی سب سے اہم بحری گزرگاہ ‘آبنائے ہرمز’ ایران کی منشا اور مرضی کے بغیر کبھی نہیں کھولی جائے گی۔

بی بی سی فارسی کی رپورٹ کے مطابق ایرانی پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے اپنے ایک اہم اور تند و تیز بیان میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ حالیہ خوفناک جنگ کے برپا ہونے کے بعد امریکی افواج اور بحری بیڑے خوف کے باعث ایرانی سرحدوں سے تقریباً 500 میل دور پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرانے میں ناکامی کے باعث اب بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر جارحانہ اقدامات کر رہا ہے۔

ابراہیم عزیزی کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران امریکہ کی ہر قسم کی گیدڑ بھبکیوں اور عسکری دھمکیوں کا بھرپور اور مؤثر جواب دینے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر اپنی بے پناہ عسکری طاقت کا مظاہرہ کر رہا ہے اور سمندری سرحدوں کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں امریکی فضائیہ اور بحریہ نے ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں اور بندرگاہوں پر کئی ہلاکت خیز حملے کیے ہیں۔ امریکی پینٹاگون اور سنٹرل کمانڈ نے ان کارروائیوں کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے اور بین الاقوامی تجارتی و تیل بردار بحری جہازوں پر ڈرون و میزائل حملے کرنے کی ایرانی عسکری صلاحیت کو محدود کرنا تھا۔

دوسری جانب، ایران نے امریکی فضائی حملوں کا سخت جوابی ردِعمل دیتے ہوئے اردن، کویت، بحرین اور متحدہ عرب امارات میں واقع متعدد امریکی عسکری اڈوں اور ایئر بیسز پر پے در پے بیلسٹک میزائلوں اور انتحاری ڈرونز سے تابڑ توڑ حملے کیے ہیں، جس کے باعث پورے خلیجی خطے میں عالمی توانائی اور بحری تجارت کا نظام شدید بحران کا شکار ہو گیا ہے۔

واشنگٹن کو کسی ملک کے دوطرفہ تعلقات پر اجارہ داری کا کوئی حق نہیں: امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ کا مطالبات پر مبنی خطبہ روس اور چین نے مسترد کر دیا

محمود احمد, September 03,2026

ماسکو/واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

روسی فیڈریشن نے امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ کی جانب سے دنیا بھر کے ممالک کو ایران کے ساتھ اپنے تمام تر تعلقات، معاشی روابط اور سفارتی حمایت فوری طور پر ختم کرنے کی کھلی اپیل کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے حال ہی میں واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران دھمکی آمیز انداز میں کہا تھا کہ امریکہ تہران پر تاریخی اور غیر معمولی سطح کی اقتصادی پابندیاں عائد کر رہا ہے اور جاری عسکری تنازع کو ختم کرنے کا سب سے تیز ترین طریقہ یہی ہے کہ کوئی بھی ملک یا غیر ملکی حکومت ایرانی حکومت کی کسی قسم کی مدد نہ کرے۔

امریکہ کے اس یکطرفہ مؤقف اور تسلط پسندانہ حکمتِ عملی پر روس اور چین سمیت متعدد عالمی طاقتوں نے انتہائی سخت اور برہم ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔

روسی نیوز ایجنسی ’انٹرفیکس‘ کے مطابق کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے جمعرات کے روز ماسکو میں صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ ایران جیسے ممالک روس کے قابلِ اعتماد شراکت دار اور دیرینہ دوست ہیں، اور ماسکو ان کے ساتھ اپنے دوستانہ، تجارتی اور سٹریٹجک تعلقات کو نہ صرف برقرار رکھے گا بلکہ انہیں مزید گہرا اور مضبوط بنائے گا۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے امریکی دھمکیوں کو آئندہ کے لیے بے اثر قرار دیتے ہوئے صراحت کے ساتھ کہا کہ امریکہ اب اس پوزیشن یا دنیا کے اس مقام پر بالکل قائم نہیں رہا کہ وہ دوسرے آزاد اور خودمختار ممالک کے دوطرفہ اور عالمی تعلقات پر اپنی ‘اجارہ داری’ اور مرضی قائم کر سکے۔

شادی کی تقریب پر حملے کی تردید کر کے امریکہ اپنی ذمہ داری سے بھاگ نہیں سکتا: پاسدارانِ انقلاب کا انتباہ اور سخت انتقامی کارروائی کا اعلان

محمود احمد, September 03,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور نے ایک باضابطہ عسکری بیان جاری کرتے ہوئے امریکہ پر شدید الزام عائد کیا ہے کہ وہ سرک کاؤنٹی کے ساحلی علاقے کوہستک میں ایک شادی کی تقریب پر ‘دانستہ’ اور بزدلانہ فضائی حملے کی تردید کر کے اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری سے بچنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔

بی بی سی فارسی کی رپورٹ کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں امریکہ کے ماضی کے عسکری ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان، عراق اور یمن میں بھی امریکی افواج کی جانب سے اسی طرح شادی کی پرمسرت تقریبات اور عام شہریوں کے اجتماعات پر ہلاکت خیز حملے کیے گئے تھے، اور اب وہی بھیانک تاریخ ایران کے اندر دہرائی جا رہی ہے۔

پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے امریکہ کو براہِ راست سخت ترین سٹریٹجک دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ امریکی فورسز کی اس جارحیت اور بے گناہ شہریوں کے خون کا حساب ہر صورت لیا جائے گا اور اس کا ایسا دندان شکن جواب دیا جائے گا جسے واشنگٹن مدتوں یاد رکھے گا۔

واضح رہے کہ ایران کے صوبہ ہرمزگان کے امدادی حکام اور ریڈ کریسنٹ کے مطابق کوہستک میں شادی کے گھر پر امریکی فضائی بمباری کے اثرات پڑنے سے ایک معصوم بچے سمیت چار افراد موقع پر ہی ہلاک جبکہ 60 سے زائد افراد شدید زخمی ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب، پینٹاگون اور امریکی عسکری حکام نے شہریوں کو دانستہ نشانہ بنانے کے تمام تر ایرانی الزامات کو سختی سے رد کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ منگل کی شب کیے گئے فضائی آپریشنز کا اصل ہدف صرف اور صرف پاسدارانِ انقلاب اسلامی کی فوجی تنصیبات، کمانڈ سینٹرز اور عسکری اڈے تھے۔

کویت کی ‘احمد الجابر’ اور امارات کی ‘المنہاد’ ایئر بیسز پر ایران کے تباہ کن میزائل و ڈرون حملے: امریکی سیکیورٹی و مواصلاتی نظام مفلوج کرنے کا دعویٰ

محمود احمد, September 03,2026

تہران/کویت سٹی (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

خلیجی خطے میں برپا تباہ کن عسکری محاذ آرائی میں ایران نے پے در پے کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کویت میں قائم معروف امریکی عسکری مرکز ‘احمد الجابر ایئر بیس’ اور متحدہ عرب امارات کی ‘المنہاد ایئر بیس’ پر سنگین اور تباہ کن میزائل و ڈرون حملے کیے ہیں۔

ایرانی افواج کے شعبہ دفاع و تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جمعرات کی صبح جاری کردہ باضابطہ عسکری اعلامیے کے مطابق، ایرانی سپاہ اور بری فورسز نے جدید بیلسٹک و کروز میزائلوں اور بارود سے لیس ’انتحاری‘ ڈرونز کی مدد سے کویت میں واقع ‘احمد الجابر ایئر بیس’ پر قائم اہم امریکی سیٹلائٹ مواصلاتی نظام، عسکری آلات کے گوداموں اور امریکی لڑاکا طیاروں کے بم پروف ہینگروں کو براہِ راست اور کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایا ہے۔

ایرانی افواج کے بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان اچانک اور جرات مندانہ حملوں کے نتیجے میں امریکی فوج کے حساس ترین سیٹلائٹ مواصلاتی نظام، ڈیٹا سنٹرز اور متعدد جدید لڑاکا طیاروں کی بیرکس اور ہینگرز کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

اسی تسلسل میں ایرانی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس نے متحدہ عرب امارات میں واقع ‘المنہاد ایئر بیس’ کو بھی دوبارہ نشانہ بنایا، جہاں امریکی عسکری اہلکاروں کی رہائش گاہوں، بیرکس اور الرٹ پر موجود اعلیٰ طاقت والے ریڈار سسٹمز کو یک مشت تباہ کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب، ان ایرانی دعووں سے چند ہی لمحے قبل کویتی افواج کے کمانڈر انچیف اور وزارتِ دفاع نے اپنے بیان میں تصدیق کی تھی کہ ایران کی سمت سے آنے والے درجنوں مشتبہ ڈرونز اور کروز میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کرنے کے لیے کویت کا قومی فضائی دفاعی نظام مکمل طور پر فعال اور آپریشنل کر دیا گیا ہے جبکہ شہریوں کو محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔

ایران کا اقوامِ متحدہ میں امریکی حملوں کے خلاف شدید احتجاج: ‘عام شہریوں اور سکولوں پر بزدلانہ حملے کھلم کھلا جنگی جرم ہیں’

محمود احمد, September 03,2026

نیویارک/تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

اقوامِ متحدہ میں جمہوریہ اسلامی ایران کے دائمی مشن نے امریکہ پر ایران کے متعدد گنجان آباد شہروں میں عام شہریوں پر دانستہ حملے کرنے کا سنگین الزام عائد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ بے گناہ شہریوں اور معصوم بچوں کو گولا باری کا نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں کی سنگین ورزی اور ایک صریح ‘جنگی جرم’ ہے۔

اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفیر اور ڈپٹی ہیڈ آف مشن غلام حسین درزی نے عالمی ادارے کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس کو ارسال کردہ اپنے ہنگامی اور باضابطہ خط میں یکم ستمبر کو ہونے والے بھیانک امریکی فضائی حملوں کا تفصیل سے حوالہ دیا ہے۔ انہوں نے اپنے مکتوب میں مؤقف اختیار کیا کہ جنوبی ایران کے سرحدی و ساحلی شہروں میں رہائشی علاقوں اور شہری اہداف کو دانستہ اور حکمتِ عملی کے تحت تباہ کیا گیا۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ مارچ 1404 (شمسی ہجری تقویم) میں حالیہ خونریز جنگ کے برپا ہونے کے بعد سے واشنگٹن انتظامیہ نے مسلسل سویلین آبادی، عوامی مقامات اور قومی بنیادی ڈھانچے کو ہدف بنایا ہے۔ ان حملوں میں سکول، ہسپتال، ایئرپورٹس، رہائشی کالونیاں، پل، سڑکیں اور ریلوے کی حساس تنصیبات شدید متاثر ہوئی ہیں۔

ایران کے ہرمزگان صوبے میں امدادی ٹیموں اور ایرانی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے حکام کے مطابق کوہستک کی بندرگاہ کے قریب ہونے والے تازہ حملے میں ایک معصوم بچے سمیت چار افراد ہلاک جبکہ 60 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

دوسری جانب امریکی عسکری حکام اور پینٹاگون نے سویلینز کو دانستہ نشانہ بنانے کے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ منگل کی شب کیے گئے فضائی حملوں میں صرف پاسدارانِ انقلاب اسلامی کی عسکری تنصیبات اور کمانڈ سنٹرز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

تاہم، کوہستک میں شادی ہال کے وقوعہ کا باریک بینی سے جائزہ لینے پر بی بی سی فارسی کے ‘فیکٹ فائنڈنگ ڈیپارٹمنٹ’ نے مشاہدہ کیا کہ تباہ شدہ شادی ہال قریبی ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور سے کم از کم 110 میٹر کی دوری پر واقع تھا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ممکنہ طور پر امریکی حملے کا اصل ہدف وہ مواصلاتی ٹاور تھا جو غلط نشانہ دہی یا ضمنی تباہی کے باعث قریبی آبادی پر اثر انداز ہوا۔

40 روزہ جنگ کا شديد ترین امریکہ حملہ: ایران کے مختلف صوبوں پر بمباری سے 18 افراد ہلاک اور 108 زخمی

محمود احمد, September 02,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

ایران اور امریکی فورسز کے درمیان جاری 40 روزہ ہلاکت خیز جنگ کے دوران امریکی فضائیہ نے پیر اور منگل کی درمیانی شب مختلف ایرانی صوبوں پر شدید ترین بمباری کی ہے، جس کے نتیجے میں ایک خاتون، بچے، سیکیورٹی اہلکاروں اور پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈوز سمیت 18 افراد ہلاک جبکہ 108 سے زائد شدید زخمی ہو گئے ہیں۔

ایران کے وزیرِ صحت محمد رضا ظفرقندی نے میڈیا کو جاری کردہ ایک اہم ہنگامی اعلان میں امریکی حملوں کی ہلاکتوں کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ رواں 40 روزہ جنگ کے دوران ہونے والے خطرناک اور شديد ترین امریکی حملوں میں سے ایک تھا جس نے مختلف صوبوں کے کئی رہائشی و عسکری سائٹس کو نشانہ بنایا۔

رپورٹس کے مطابق امریکی بمباری کے دوران سیرِک کے پہاڑی علاقے کو بھی ہدف بنایا گیا، جہاں ایک گھر میں جاری شادی کی پرمسرت تقریب پر حملہ آور بمباری کے اثرات پڑے اور ایک بچے و خاتون سمیت چار افراد جان بحق اور 65 افراد زخمی ہو گئے۔ ہرمزگان یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کے صدر پژمان شاہروخی نے بتایا کہ سیرِک کے اس واقعے کے 6 زخمی انتہائی نگہداشت کے وارڈ اور 26 سرجیکل وارڈز میں شدید حالت میں زیرِ علاج ہیں۔

بی بی سی فارسی کی جانب سے رابطہ کرنے پر امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے ان ہلاکت خیز حملوں کی تردید نہیں کی اور موقف اپنایا کہ امریکی فوج ان رپورٹس سے مکمل طور پر ‘آگاہ’ ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکی افواج کبھی شہریوں کو نشانہ نہیں بناتیں۔

امریکی ایئر سٹرائیکس کے مزید اثرات خوزستان صوبے میں اہواز اور آغاجاری کے مختلف مقامات پر دیکھنے کو ملے جہاں بمباری سے سات افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں ‘عوامی سکیورٹی فورسز’ کا اہم رکن بھی شامل ہے۔

اس کے علاوہ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی نے باضابطہ تصدیق کی ہے کہ صوبہ کرمانشاہ میں آئی آر جی سی کی ایرو سپیس فورس کے چار اعلیٰ اہلکار امریکی حملے میں شہید ہو گئے ہیں، جبکہ لاوان جزیرے پر ہونے والے امریکی حملے کے نتیجے میں بسیج فورسز کے بھی تین اہلکار مارے گئے ہیں۔

فلسطینیوں کی جبرًا جلا وطنی کا منصوبہ ایجنڈے سے خارج نہیں ہوا: اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز کا متنازع اور اشتعال انگیز دعویٰ

محمود احمد, September 02,2026

تل ابیب (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

اسرائیل کے انتہائی متنازع اور صیہونی انتہا پسند وزیرِ دفاع یسرائیل کاٹز نے ایک بار پھر عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی دھجیاں اڑاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ کی پٹی سے فلسطینی شہریوں کی جبرًا جلا وطنی اور نقل مکانی کا منصوبہ اسرائیل کے قومی ایجنڈے سے خارج نہیں کیا گیا ہے۔

عرب نشریاتی اداروں اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، یسرائیل کاٹز نے اپنے ایک بیان میں انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے شدید سفارتی دباؤ کی وجہ سے فلسطینیوں کو غزہ سے جلا وطن کرنے کے منصوبے کو فی الوقت صرف منجمد کیا گیا ہے۔

اسرائیلی وزیرِ دفاع نے اپنے بیان میں ایک عجیب اور بے بنیاد دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کے تقریباً 80 فیصد فلسطینی خود وہاں سے دوسرے ممالک منتقل ہونا چاہتے ہیں، تاہم حماس غزہ کے عام شہریوں کی نقل مکانی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ کاٹز نے مزید کہا کہ جو ممالک فلسطینیوں کی اپنے ہاں آباد کاری پر رضامند ہوئے ہیں، انہوں نے اس عمل کو امریکہ کی مالی و سفارتی مدد سے مشروط کر رکھا ہے اور ان کا ماننا ہے کہ واشنگٹن فلسطینیوں کی جلاوطنی میں مکمل تعاون فراہم کرے گا۔

دوسری جانب، خطے میں جاری ایران اور امریکہ-اسرائیل کشیدگی پر بات کرتے ہوئے یسرائیل کاٹز نے خبردار کیا کہ ان کا ملک آنے والے یہودی تہواروں کے دوران ایران کی جانب سے کسی بھی ممکنہ فوجی یا میزائل حملے کا سخت اور بڑے پیمانے پر جواب دینے کے لیے پوری طرح سے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل اس وقت آبنائے ہرمز اور عالمی توانائی کی سیکیورٹی سے جڑے واشنگٹن کے مفادات کے پیشِ نظر امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کی قیادت کرنے کا موقع دے رہا ہے، تاہم اگر ایران نے اسرائیل کو براہِ راست نشانہ بنانے کی کوشش کی تو ان کا ملک کسی بھی امریکی یا بین الاقوامی فریق پر انحصار کیے بغیر آزادانہ طور پر انتہائی مہلک فورس کے ساتھ سخت جواب دے گا۔

سابقہ عسکری پیش رفت پر بات کرتے ہوئے کاٹز نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے ‘آپریشن رائزنگ لائن’ کے دوران ایرانی جوہری بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا تھا اور تہران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

وزیراعظم شہباز شریف اور کرغز صدر صادر ژاپاروف کی موجودگی میں مشترکہ اعلامیہ اور دستاویزات کا تبادلہ؛ لاہور اور ’اوش‘ سسٹر سٹیز قرار، ٹرانزٹ ٹریڈ اور حوالگیِ ملزمان کا معاہدہ بھی شامل

کاشف عباسی , September 02,2026

بشکیک/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

پاکستان اور کرغزستان نے باہمی سٹریٹجک تعلقات کو نئی بلندیوں پر پہنچاتے ہوئے تعلیم، صحت، ٹرانزٹ ٹریڈ، ماحولیاتی تبدیلی، سائنس و ٹیکنالوجی، ورچوئل اثاثوں اور سیکیورٹی سمیت متعدد اہم شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ کے لیے متعدد معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر باضابطہ دستخط کر دیے ہیں۔

ان تاریخی معاہدوں اور ایم او یوز کی دستاویزات کے تبادلے کی پروقار تقریب بدھ کے روز کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں واقع صدارتی محل میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور جمہوریہ کرغزستان کے صدر صادر ژاپاروف کی خصوصی موجودگی شامل تھی، جہاں دونوں رہنماؤں نے باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے مشترکہ اعلامیے پر بھی دستخط کیے۔

دستاویزات کے تبادلے میں پاکستان اور کرغزستان کی حکومتوں کے درمیان انتہائی اہم ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ، ملزمان کی باہمی حوالگی کا معاہدہ اور فوجداری معاملات میں قانونی معاونت کا مسودہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کی وزارتِ داخلہ کے درمیان منشیات، نشہ آور اشیاء اور کیمیکلز کی غیر قانونی سمگلنگ کی روک تھام میں تعاون کا ایم او یو طے پایا۔

تجارتی و معاشی روابط کو مضبوط بنانے کے لیے ‘کرغز پوسٹ’ اور ‘پاکستان پوسٹ’ کے درمیان پوسٹل سروسز اور ای کامرس کے شعبے میں باہمی تعاون، نیز فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور کرغزستان کے چیمبر آف کامرس کے درمیان شراکت داری کا معاہدہ شامل ہے۔ ایک اور اہم پیش رفت میں پاکستان کے تاریخی شہر لاہور اور کرغزستان کے اہم شہر ‘اوش’ کے درمیان ‘سسٹر سٹی’ تعلقات قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی اور کرغزستان کی قومی ایجنسی برائے ورچوئل ایسٹس و بلاک چین ٹیکنالوجیز کے درمیان ایم او یو پر دستخط کیے گئے۔ تعلیمی اور تحقیقی شعبے میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل اور کرغزستان کی وزارتِ صحت کے درمیان طبی تعلیم، اور وزارتِ وفاقی تعلیم پاکستان اور کرغزستان کی وزارتِ تعلیم کے درمیان تعاون کے معاہدے کیے گئے۔ علاوہ ازیں این ڈی یو پاکستان، آئی ایس ایس آئی اور کرغزستان کے سٹریٹجک انیشی ایٹو کے اداروں کے درمیان علمی ریسرچ کے ایم او یوز بھی شامل ہیں۔

پاکستان کی جانب سے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان، وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی نے اپنے کرغز ہم منصبوں کے ساتھ دستخط شدہ دستاویزات کا تبادلہ کیا۔

انٹرپول کے ریڈ نوٹس پر بڑی کامیابی: اقدامِ قتل کے مقدمے میں 3 سال سے مطلوب خطرناک اشتہاری ملزم محمد سجاول ایئرپورٹ سے گرفتار

منصور احمد, September 02,2026

اسلام آباد/ملتان (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی امیگریشن نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے اقدامِ قتل کے سنگین مقدمے میں پنجاب پولیس کو گزشتہ 3 سال سے مطلوب خطرناک اشتہاری ملزم محمد سجاول کو ملک پہنچتے ہی ایئرپورٹ سے گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار ملزم کی بین الاقوامی سطح پر گرفتاری کے لیے انٹرپول کی جانب سے ریڈ نوٹس جاری کیا گیا تھا۔

ایف آئی اے ملتان کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق گرفتار ملزم محمد سجاول سنگین فوجداری الزامات کے تحت سال 2023 سے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے تھانہ رجانہ کو مطلوب تھا، جہاں اس کے خلاف اقدامِ قتل اور دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج تھے۔

ترجمان نے بتایا کہ فرار ہونے کی کوششوں کے پیشِ نظر ملزم کا نام سٹاپ لسٹ میں شامل کیا گیا تھا جبکہ ایف آئی اے نیشنل سینٹرل بیورو انٹرپول نے اس کی گرفتاری یقینی بنانے کے لیے باضابطہ ریڈ نوٹس جاری کر رکھا تھا۔

ملزم بیرونِ ملک سے پاکستان پہنچا تو ملتان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر قائم ایف آئی اے امیگریشن کاؤنٹر نے اسے فوری طور پر حراست میں لے لیا۔ یہ اہم گرفتاری انٹرپول اسلام آباد اور ایف آئی اے امیگریشن ملتان کے مابین بہترین حکمتِ عملی اور قریبی رابطے کے نتیجے میں ممکن ہوئی۔ ابتدائی عمل درآمد اور امیگریشن کی کارروائی کے بعد ملزم کو مزید قانونی کارروائی اور تفتیش کے لیے پنجاب پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

پاک بحریہ کی کراچی میں عظیم الشان بحری جنگی مشق ‘سی سپارک-2026’ کا باضابطہ آغاز، آپریشنل صلاحیتوں اور جنگی تیاریوں کا بھرپور مظاہرہ

کاشف عباسی , September 02,2026

راولپنڈی/کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

پاکستان کے سیکیورٹی ماحول اور سمندری سرحدوں کے دفاع کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پاک بحریہ کی کراچی میں تاریخی اور میجر میری ٹائم ایکسرسائز ‘سی سپارک-2026’ کا شاندار و باضابطہ آغاز ہو گیا ہے، جس میں پاک بحریہ اپنی مکمل جنگی تیاریوں، حربی حکمتِ عملی اور آپریشنل صلاحیتوں کا بھرپور عملی مظاہرہ کر رہی ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے اس اہم جنگی مشق کی افتتاحی بریفنگ کی صدارت کی۔ اس موقع پر پاک مسلح افواج کے مختلف اہم شعبوں کے اعلیٰ اور سینئر عسکری افسران بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

اس وسیع المیعاد مشق کے دوران پاکستان نیوی کی روایتی چیلنجز اور ابھرتے ہوئے تمام تر بحری خطرات کے خلاف جنگی صلاحیت کو سخت اور کٹھن جانچ کے عمل سے گزارا جا رہا ہے۔ مشق میں جدید ترین بحری جہازوں، آبدوزوں، جنگی طیاروں، بغیر پائلٹ ڈرون نظام (UAVs)، میرینز، کمانڈوز اور سپیشل فورسز کے ساتھ ساتھ پاک فوج اور پاک فضائیہ کے مشترکہ جنگی وسائل کو مکمل طور پر مربوط کیا گیا ہے۔

افتتاحی بریفنگ سے قبل چیف آف دی نیول سٹاف نے پاک بحریہ کے فلیٹ یونٹس کا تفصیلی دورہ کیا اور سمندر میں جاری آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا۔

تربیت میں مصروف افسران اور جوانوں سے اپنے جوشیلے خطاب میں نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف نے زور دے کر کہا کہ خطے کے تیزی سے بدلتے ہوئے سیکیورٹی ماحول میں غیر متزلزل جنگی تیاری، تینوں مسلح افواج کے درمیان مزید مؤثر انضمام، حالات کے مطابق خود کو فوری ڈھالنے کی صلاحیت اور زمینی و معلوماتی شعبوں میں اعلیٰ مؤثریت ہر صورت ناگزیر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مشق ‘سی اسپارک-2026’ کا بنیادی مقصد ملٹی ڈومین آپریشنز کی مشق کرنا ہے، جس میں سمندری، فضائی، زمینی، سائبر اور خلائی معاون صلاحیتوں کو ایک جگہ مربوط کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انفارمیشن انوائرنمنٹ میں آپریشنز پر خصوصی توجہ مرکوز کی جا رہی ہے تاکہ سمندر میں فعال کارروائیوں کے ساتھ ہم آہنگی برقرار رکھتے ہوئے معلوماتی جنگ میں دشمن پر فیصلہ کن برتری حاصل کی جا سکے۔

’تعاون کا مطلب جھکنا نہیں‘: میکسیکو کی صدر کلاؤڈیا شین بام کا ملک کی خودمختاری، وقار اور حریت کے دفاع کا سخت عزم

محمود احمد, September 02,2026

میکسیکو سٹی (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

میکسیکو کی صدر کلاؤڈیا شین بام نے اپنی قوم کی خودمختاری، قومی وقار اور آزادی کے تحفظ کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے دنیا بھر کو واضح پیغام دیا ہے کہ ان کا ملک تمام ممالک کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعاون، مذاکرات اور مفاہمت کا خواش مند ہے، تاہم تعاون کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ میکسیکو کسی کے سامنے جھکے اور نہ ہی دوستی کا مقصد اپنے بنیادی اصولوں سے دستبردار ہونا ہے۔

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، صدر کلاؤڈیا شین بام نے تاریخی ‘نیشنل پیلس’ میں اپنی حکومت کی دوسری باضابطہ سٹیٹ آف دی یونین تقریر کے دوران عالمی برادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک انہیں میکسیکو کی صدر کے طور پر عوام کی خدمت کرنے کا اعزاز حاصل ہے، وہ ملک کی جغرافیائی و سیاسی خودمختاری، وقار اور حریت کا ثابت قدمی سے دفاع کرتی رہیں گی۔

اپنے اس اہم خطاب میں انہوں نے میکسیکو اور ہمسایہ ملک امریکہ کے سٹریٹجک تعلقات میں حائل شدو مد اور مشکلات، خصوصاً امریکہ کے اندر میکسیکن تارکینِ وطن کے ساتھ روا رکھے جانے والے نا روا سلوک کا کھلے عام اعتراف اور سخت الفاظ میں احاطہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی امیگریشن حراستی مراکز کی خراب صورتحال اور ناروا رویے کے باعث اب تک 17 میکسیکن شہری ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ امریکہ بھر میں امیگریشن کارروائیوں اور چھاپوں کے دوران ہزاروں بے گناہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میکسیکو کی حکومت نے ان المناک واقعات پر واشنگٹن انتظامیہ کے سامنے رسمی شکایات درج کرائی ہیں اور تارکینِ وطن کے عالمی و انسانی حقوق کا مکمل احترام کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔

امریکہ کی جانب سے میکسیکن شہریوں کی بڑے پیمانے پر جبری ملک بدری کے جواب میں صدر نے بتایا کہ ان کی حکومت نے (میکسیکو آپ کو گلے لگاتا ہے) کے نام سے ایک خاص ہنگامی پروگرام شروع کر رکھا ہے۔ اس اسکیم کے تحت اب تک 2 لاکھ 81 ہزار سے زائد ملک بدر یا واپس بھیجے گئے میکسیکن باشندوں کی بحالی کے لیے مدد فراہم کی جا چکی ہے، جنہیں فوری گرم کھانا، آبائی علاقوں تک محفوظ نقل و حمل، بہترین طبی و نفسیاتی نگہداشت اور شناختی دستاویزات کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے۔

امریکہ کے ساتھ دوطرفہ تجارت اور سرحد پر سیکیورٹی کے حساس معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے صدر کلاؤڈیا شین بام نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات اور گفت و شنید کا سلسلہ مسلسل جاری ہے اور انہیں امید ہے کہ جلد ہی باہمی مفاہمت پر مبنی پائیدار معاہدے طے پا جائیں گے۔ سیکیورٹی تعاون کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ان کے ملک نے امریکہ کے ساتھ ایسے تمام تر معاہدے مشترکہ ذمہ داری، خودمختاری کے احترام اور بغیر کسی ماتحتی کے باہمی اعتماد کی بنیاد پر کیے ہیں۔

سعودی عرب کے سفارتی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی: ڈاکٹر منال بنت حسن رضوان وزیرِ خارجہ کی مشیر اور خصوصی ایلچی مقرر

روزینہ اسماعیل, September 02,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ایک اہم اور اعلیٰ سطحی سفارتی فیصلہ کرتے ہوئے سینئر ڈپلومیٹ ڈاکٹر منال بنت حسن رضوان کو مذاکرات اور بین الاقوامی امن کوششوں کے لیے وزیرِ خارجہ کی خاص مشیر اور خصوصی ایلچی مقرر کر دیا ہے۔

سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق یہ اہم تقرری مملکت کی خارجہ پالیسی کے تحت عالمی سفارتی امور کو مزید مضبوط بنانے، مختلف خطوں میں باہمی مذاکرات کو فروغ دینے اور عالمی امن عمل کی حمایت کی مسلسل کوششوں کے حصے کے طور پر کی گئی ہے۔

خصوصی ایلچی مقرر کیے جانے کے بعد ڈاکٹر منال بنت حسن رضوان کے دائرہ اختیار میں بین الاقوامی مذاکرات، تنازعات کی تسویہ کاری، عالمی امن کی کوششوں میں معاونت اور بین الاقوامی برادری میں سعودی عرب کی موثر سفارتی موجودگی و اثر و رسوخ کو مزید مستحکم کرنا شامل ہو گا۔

ڈاکٹر منال بنت حسن رضوان کو عالمی سفارت کاری، بین الاقوامی مذاکراتی عمل، پیچیدہ تنازعات کے حل اور کثیر الجہتی امور کا کثیر اور طویل تجربہ حاصل ہے۔ وہ اس سے قبل بھی سعودی وزارتِ خارجہ میں متعدد اعلیٰ اور ذمہ دارانہ عہدوں پر فائز رہ چکی ہیں اور اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر سعودی عرب کی نمائندگی کا اعزاز رکھتی ہیں۔

حالیہ نئی تقرری سے قبل وہ وزارتِ خارجہ میں بطور وزیر کام کر رہی تھیں۔ انہوں نے سال 2017 سے وزارتِ خارجہ میں اعلیٰ مشیر اور بعد ازاں افریقی امور کے وزیرِ مملکت کے دفتر میں بطور مشیر خدمات انجام دیں۔ اس سے قبل سال 2012 میں بھی وہ وزیرِ خارجہ کے دفتر میں بطور مشیر اہم فرائض سرانجام دے چکی ہیں۔

ان کے شاندار سفارتی کیریئر میں سال 2012 سے 2017 کے درمیان نیویارک میں اقوامِ متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مشن کے ساتھ کام کرنے کا پانچ سالہ اہم تجربہ شامل ہے۔ علاوہ ازیں انہوں نے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں عرب لیگ کے لیے سعودی مشن اور واشنگٹن ڈی سی میں سعودی سفارت خانے میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں، جہاں ان کی بنیادی ذمہ داریوں میں امریکی کانگریس سے روابط اور سیاسی امور شامل تھے۔ انہوں نے مظلوم فلسطینیوں کے حقوق اور مسئلہ فلسطین کے پائیدار حل کے لیے سعودی عرب کی سفارتی پیش رفت میں بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

بھارت میں تاریخی گرمی کی لہر: اگست 1901 کے بعد سے اب تک کا گرم ترین مہینہ ریکارڈ

منصور احمد, September 02,2026

نئی دہلی (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

پڑوسی ملک بھارت میں موسمیاتی تبدیلی کے مہلک اثرات شدت اختیار کر گئے ہیں، جہاں رواں سال کا اگست 1901 کے بعد سے لے کر اب تک کی 125 سالہ ریکارڈ شدہ تاریخ کا سب سے گرم ترین مہینہ ثابت ہوا ہے اور ملک کا اوسط درجہ حرارت 28.01 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا ہے۔

بھارتی محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعداد و شمار کے مطابق اگست میں بھارت کا اوسط درجہ حرارت طویل مدتی اوسط سے 0.67 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی اگست کے سب سے زیادہ اوسط درجہ حرارت کا سال 2023 میں قائم ہونے والا 28.0 ڈگری سینٹی گریڈ کا سابقہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا ہے۔

محکمہ موسمیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگست کے دوران پورے بھارت میں مون سون کی بارشیں معمول سے 16 فیصد کم رہیں، جس کے باعث درجہ حرارت میں غیر معمولی اور مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا۔ بارشوں میں اس کمی اور حدت میں اضافے کی بنیادی وجہ سمندری و فضائی مظہر ’ال نینو‘ کا متحرک ہونا بتایا جا رہا ہے، جو دنیا بھر میں ہوا کے دباؤ اور بارش کے قدرتی نظام میں شدید تبدیلیاں لانے کا سبب بنتا ہے۔

جنوبی ایشیا اور خاص طور پر بھارت میں ال نینو کے اثرات کے باعث شدید خشک سالی اور حدت سے بھرپور موسم پیدا ہوتا ہے۔ ماحولیاتی سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ فوسل ایندھن (گیس، تیل اور کوئلے) کے کثرت سے استعمال سے پیدا ہونے والی گلوبل وارمنگ اور ال نینو کے ملاپ نے پہلے سے گرم ہوتی ہوئی زمین کے درجہ حرارت میں تباہ کن اضافہ کر دیا ہے، جس سے مستقبل میں مزید شدید ترین اور غیر معمولی موسمی حالات پیدا ہونے کا خطرہ موجود ہے۔

دنیا کی سب سے بڑی آبادی کا حامل ملک بھارت ان شدید موسمیاتی تبدیلیوں اور گرمی کی لہروں کی زدمیں ہے، جہاں حالیہ برسوں کے دوران کئی ریاستوں اور اضلاع میں درجہ حرارت خطرناک اور نا قابلِ برداشت حد تک بڑھتا ہوا دیکھا گیا ہے۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے اور عالمی سطح پر پائیدار امن کے حصول میں معاون ثابت ہوگا: بشکیک میں ترک صدر رجب طیب اردوان کا تاریخی اعلان

روزینہ اسماعیل, September 02,2026

بشکیک/انقرہ (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے اس عزم کی باضابطہ تصدیق کی ہے کہ ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان طے پانے والا تاریخی ’’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘‘ خطے سمیت عالمی سطح پر پائیدار امن اور استحکام کے حصول میں انتہائی اہم اور کلیدی کردار ادا کرے گا۔

ترک صدر نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ مملکت و حکومت کے اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ علاقائی خود مختاری، ملکیت اور اجتماعی مزاحمت کی مضبوط بنیادوں پر قائم کیا جانے والا یہ سہ فریقی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے کے امن اور دفاعی توازن کی ضمانت بنے گا۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، اس اہم معاہدے کی سیاسی اور دفاعی سٹریٹجک کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ مشترکہ اعلامیے میں اس بات کا اعادہ کیا گیا تھا کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ دفاعی صنعت، اسلحہ سازی، مشترکہ پیداوار اور جدید ترین ملٹری ٹیکنالوجی کی ترقی کے شعبوں میں ایک دوسرے سے مکمل اور مضبوط تعاون قائم کریں گے۔

اعلامیے کے مطابق اس اشتراکِ عمل اور مشترکہ سرگرمیوں کا بنیادی مقصد تینوں مسلم ممالک کی دفاعی صلاحیتوں، حربی مہارت اور مسلح افواج کے باہمی توازن و استعداد کو آئندہ چیلنجز کے مقابلے کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور جدید بنانا ہے۔

ایران کی پاسدارانِ انقلاب کا امریکہ کو ‘سخت سزا’ دینے کا عزم: ڈونلڈ ٹرمپ کے دھمکی آمیز بیان کے بعد تہران کا بھرپور جوابی کارروائی کا اعلان

محمود احمد, September 01,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری عسکری ٹکراؤ انتہائی خطرناک موڑ پر پہنچ گیا ہے، جہاں ایرانی پاسدارانِ انقلاب اسلامی نے منگل کو ہونے والی امریکی بمباری کے بعد باضابطہ اعلان کیا ہے کہ وہ اس امریکی جارحیت کا انتہائی ‘سخت’ اور دردناک جواب دیں گے۔

منگل کے روز پاسدارانِ انقلاب کے ٹھکانوں پر امریکی طیاروں کے حملوں کے فوراً بعد پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے تہران میں صحافیوں اور بین الاقوامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو اس کی اس حماقت پر ’سخت سزا‘ دی جائے گی اور واشنگٹن اپنے ان نئے حملوں کے فیصلوں پر شدید پچھتائے گا۔

پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان کے یہ تند و تیز اور جنگی بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب چند ہی لمحے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو متنبہ کیا تھا کہ اگر اس نے کوئی بھی جوابی کارروائی کی تو امریکہ کا اگلا ردِعمل پہلے سے کہیں زیادہ ‘سخت اور وسیع’ ہو گا۔

ایرانی عسکری حکام نے امریکہ کی اس تنبیہ کو مسترد کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ کسی بھی قسم کا دباؤ یا دھمکی ایران کو اپنی خودمختاری، جغرافیائی سرحدوں اور قومی مفادات کے دفاع کے حق سے پیچھے نہیں ہٹا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں قائم تمام امریکی تنصیبات اور امریکی فورسز پاسدارانِ انقلاب کے نشانوں پر ہیں اور وقت و مقام کا انتخاب ایران خود کرے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کو نیا اور سخت ترین انتباہ: دوبارہ جوابی کارروائی کی تو امریکی ردِعمل ’سخت اور وسیع‘ ہو گا

محمود احمد, September 01,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری عسکری کشیدگی میں مزید شدّت لاتے ہوئے ایک باضابطہ بیان میں متنبہ کیا ہے کہ اگر تہران حکومت نے امریکی حملوں کے جواب میں کسی بھی قسم کی کارروائی کی تو اس بار واشنگٹن کا ردِعمل پہلے سے کہیں زیادہ ’سخت اور وسیع‘ ہو گا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ تند و تیز بیان اس کے فوراً بعد سامنے آیا ہے جب امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی تھی کہ امریکی جنگی طیاروں نے ایران میں پاسدارانِ انقلاب کے تزویراتی ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔

امریکی صدر نے واضح کیا کہ منگل کی شب امریکہ کی جانب سے پاسدارانِ انقلاب کے اہم اہداف پر کیے گئے فضائی حملے مکمل طور پر قانون کے مطابق اور ‘جائز’ تھے۔ انہوں نے تہران کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر جواب میں ایران نے کوئی بھی عسکری قدم اٹھایا یا امریکی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو امریکہ دوبارہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اس سے بڑا حملہ کرے گا۔

اس سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے علانیہ اعلان کیا تھا کہ وہ اردن میں قائم امریکی عسکری اڈوں پر پاسدارانِ انقلاب کے حالیہ حملوں کا بدلہ لیں گے اور اس کا ’سخت‘ جواب دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ایران نے اردن اور امارات میں امریکی تنصیبات پر ان حملوں کو اس سے قبل خلیج فارس کے جزیرے ‘لارک’ پر ہونے والے امریکی حملوں کا فطری اور دفاعی ردِعمل قرار دیا تھا۔

سیاسی و عسکری ماہرین کا ماننا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس نئے اور انتباہی بیان کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں براہِ راست امریکی و ایرانی تصادم کا دائرہ کار مزید پھیلنے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

بشکیک میں ایس سی او اجلاس کے موقع پر پوتن کی مسعود پزشکیان سے ملاقات: مشکل وقت میں ایران کی ہر ممکن مدد جاری رکھنے کا روسی اعلان

محمود احمد, September 01,2026

بشکیک/ماسکو (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے ایران کی قیادت اور عوام کے عزم و ہمت کو سراہتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ماسکو انتظامیہ ’اس مشکل اور حساس دور‘ میں تہران کی ہر ممکن مدد کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے۔

یکم ستمبر کو کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے اہم موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ایک دباؤ سے بھرپور فضا میں ہونے والی باہمی ملاقات کے دوران صدر پوتن نے کہا کہ روس اپنے قومی مفادات، جغرافیائی سرحدوں اور خودمختاری کے دفاع میں ایرانی قوم کی جرات اور استقامت کی انتہائی قدر کرتا ہے۔

روسی خبر رساں ادارے ’تاس‘ کے مطابق روسی صدر نے ایرانی ہم منصب سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس انتہائی پیچیدہ اور مشکل دور میں ہم ایران کو درکار ہر قسم کی معاونت و سامان فراہم کرنے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس موضوع پر دونوں ممالک کے حکام کے درمیان پیشگی تفصیل سے بات چیت ہو چکی ہے اور روس کی جانب سے ضروری عسکری و لاجسٹک سامان کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔

اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران صدر ولادیمیر پوتن نے روس اور ایران کے درمیان گہرے ہوتے تجارتی اور اقتصادی تعلقات کی موجودہ رفتار کو بھی سراہا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ خطے میں پھیلی موجودہ شدید ‘عسکری اور سیاسی صورتحال کے باوجود’ دونوں ممالک کے تجارتی و معاشی روابط مثبت سمت میں مسلسل پیش رفت کر رہے ہیں۔

روسی صدر کا کہنا تھا کہ باہمی تجارت میں یہ بہتری بنیادی طور پر ‘روس۔ایران بین الحکومتی کمیشن’ کی فعال اور مؤثر کارکردگی کا نتیجہ ہے، جو باقاعدگی کے ساتھ اپنے اجلاس منعقد کر رہا ہے اور جس کا تازہ ترین اور انتہائی اہم اجلاس حال ہی میں کامران ثابت ہوا ہے۔

پانی کو کبھی عسکری یا سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے: بشکیک میں ایس سی او اجلاس سے وزیراعظم شہباز شریف کا خطاب

منصور احمد, September 01,2026

بشکیک/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ مملکت کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ پانی انسانی زندگی کا بنیادی ذریعہ ہے اور اسے کبھی بھی ہتھیار، دباؤ یا سیاسی مفادات کے حصول کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

اگرچہ وزیراعظم نے اپنے خطاب کے دوران براہِ راست انڈیا کا نام نہیں لیا، تاہم ان کا اشارہ واضح طور پر نئی دہلی کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی اور عدم پاسداری کی کوششوں کی طرف تھا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پانی ہمارے پورے خطے میں انسانی زندگی اور بقا کی بنیاد ہے، جو لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کو برقرار رکھتا ہے، ہماری زراعت و زمینوں کو سیراب کرتا ہے اور ہماری آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بناتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہمارے مشترکہ آبی وسائل سے متعلق تمام تر معاہدے سنجیدہ، باہم طے شدہ اور پابند بین الاقوامی عہد ہیں، یہ کوئی ایسے معمولی سیاسی معاملات نہیں ہیں جنہیں کوئی بھی ملک اپنی مرضی یا پسند ناپسند کے مطابق نظر انداز کر دے۔

دہشت گردی اور علاقائی سیکیورٹی کے حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان علاقائی سطح پر دہشت گردی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے ہمیشہ کی طرح فعال اور کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔

افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک پُرامن، مستحکم اور معاشی طور پر خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے۔ تاہم، انہوں نے واشگاف الفاظ میں واضح کیا کہ اس حوالے سے کسی کے ذہن میں کوئی ابہام یا شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ جب تک دہشت گرد افغان سرزمین کا استعمال کرتے ہوئے بے گناہ پاکستانیوں اور دیگر ممالک کے شہریوں کا خون بہاتے رہیں گے، تب تک خطے میں پائیدار اور حقیقی امن ہماری پہنچ سے دور ہی رہے گا۔

عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جیل سہولیات کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ کا اڈیالہ جیل انتظامیہ کو قیدِ تنہائی ختم کرنے کا بڑا حکم

کاشف عباسی , September 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

اسلام آباد ہائیکورٹ کے محترم جسٹس خادم حسین سومرو نے سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی جیل سہولیات اور بنیادی حقوق سے متعلق دائر درخواستوں پر اہم اور تفصیلی فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت عالیہ نے سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو واضح حکم جاری کیا ہے کہ دونوں شخصیات کو کسی بھی صورت قیدِ تنہائی میں نہ رکھا جائے اور آئین و قانون کے مطابق تمام قانونی و بنیادی حقوق اور انسانی سہولیات بلا تاخیر فراہم کی جائیں۔

عدالتی فیصلے کے مطابق اڈیالہ جیل انتظامیہ کو باقاعدہ ہدایت کی گئی ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اپس میں باقاعدہ ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ ان کے اپنے اپنے اہل خانہ، وکلاء اور عزیز و اقارب سے جیل قوانین کے مطابق تمام ملاقاتیں یقینی بنائی جائیں۔ اس کے علاوہ مطالعے کے لیے کتابیں، روزنامچے اور ٹیلی ویژن کی سہولت فوری طور پر بحال کرنے کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔ عدالت نے یہ حکم بھی دیا کہ عمران خان کو جیل احاطے میں روزانہ کم از کم ایک گھنٹہ ایسی کھلی جگہ پر واک اور قدم زنی کی اجازت دی جائے جہاں معمول کا انسانی میل جول ممکن ہو، جبکہ ان سے ملنے والے تمام افراد کا باقاعدہ اندراج اور ریکارڈ مرتب کیا جائے گا۔

عمران خان کے لیگل کونسل خالد یوسف چوہدری نے عدالتی فیصلے کی تفصیلات ذرائع ابلاغ کو بتاتے ہوئے تصدیق کی کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کے تحت سابق وزیراعظم کو بیرونِ ملک مقیم اپنے بیٹوں سے آڈیو، ویڈیو اور واٹس ایپ کالز کے ذریعے مسلسل رابطے میں رہنے کی اجازت مل گئی ہے۔ تاہم، عدالت عالیہ نے فیصلے میں ایک اہم مشروط شق بھی شامل کی ہے کہ اگر ان ٹیلی فونک یا ویڈیو کالز کو ریکارڈ کر کے بعد میں کسی بھی قسم کے سیاسی مقاصد یا مہم جوئی کے لیے استعمال کیا گیا تو جیل حکام کے پاس یہ سہولت واپس لینے کا قانونی اختیار ہو گا۔

ہائیکورٹ نے اپنے جامع فیصلے میں اس قانونی نقطے کو بھی نمایاں کیا ہے کہ اگر جیل انتظامیہ عمران خان یا بشریٰ بی بی کو قانون یا عدالت کے تحت حاصل کسی بھی ریلیف یا سہولت سے محروم کرتی ہے، تو انتظامیہ کو اس محرومی کی باقاعدہ تحریری وجوہات اور قانونی جواز فراہم کرنا ہوں گے۔ عدالت عالیہ نے سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو پابند کیا ہے کہ وہ آئندہ 15 روز کے اندر ان تمام عدالتی احکامات پر عملدرآمد کی پیش رفت رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں۔